To Download or Open PDF Click the link Below

 

  عدل ہی کسی ملک یاملت کے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمات کے حصول کا ثمر ہوتا ہے۔
عنایت اللہ
عدل مذہب کی تہذیبی عمارت کاایک ایسا عنصر ہے جس کے نافذ کرنے سے اسکے نظریات ، ضابطہ حیات، طرز حیات کو پروان چڑھنے میں ہر قسم کا تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ عدل سے ملتیں،اقوام اور ممالک اپنے نظریات کے ثمرات کے حصول میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔اگر کسی ملت،قوم اور ملک کے افراد پرحکمران انکے دینی نظریات ،دینی ضابطہ حیات اور دینی طرز حیات کے دینی عدل کے متضادکوئی اور نظریات ، اسکی تعلیما ت ،اسکا ضابطہ حیات اور طرزحیات کا عدل سرکاری طور پر مسلط کر دیں تو اس عدل کے نظام اور سسٹم سے نہ دینی نظریات اور نہ ہی ملت کا وجود بچتا ہے۔دین محمدیﷺ کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ مسلم امہ کو پہلے دینی تعلیمات پھر دینی طرزحیات،پھر دینی حدود قیود کا پابند بناتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس منزہ، پاکیزہ اور طیب ماحول اور حدود و قیود کو توڑتا ہے تو پھر اس شخص پر اسکی تعزیرات لاگو ہوتی اور سزا دی جاتی ہے ۔ فحاشی،بدکاری ،بے حیائی اور زناکاری سے بچنے کیلئے اسلام نے اپنے پیروکار مرد و زن میں پردہ کی دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔اگر کوئی شخص دین کی ان حدود قیود کو توڑتا ہے اور وہ فحاشی،بے حیائی، بدکاری، زنا کاری کا مرتکب ہوتا ہے تب اسکو دین کے ضابطہ عدل کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔اگر حکمران فحاشی،بدکاری،بے حیائی اور زنا کاری کو روکنے والی پردہ کی دینی دیوار کو سرکاری طور پر منہدم کر دیں،مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ،مخلوط حکومت قائم کر دیں تو ان حالات میں ملت پر دینی احکام لاگو ہو ہی نہیں سکتے۔ اس سلسلہ میںاینٹی کرسچن جمہوریت سے منسلک دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماملت کی رہنمائی فرماویں۔تا کہ ملت مغربی تہذیب کے اس تباہ کن بھنور سے نکل سکے اور نجات حاصل کر سکے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی ازدواجی زندگی کے نظام حیات کی بنیادی عمارت کو ان دین کش حکمرانوں سے بچا سکے۔
۱۔ عدل مذہبی تشخص تیا ر کرنے کا ایک بنیادی اہم عنصر ہے۔
۲۔ عدل کو قائم کرنے سے معاشرے میں صحت مند معاشی اور معاشرتی زندگی پروان چڑھتی ہے۔
۳۔ عدل سے ہی معاشرے میں اعتدال قائم کیا جا سکتا ہے۔
۴۔ اعتدال سے ہی ایک فلاحی معاشرہ اور فلاحی ریاست تشکیل پاتی ہے۔
۵۔ عدل انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی تک کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
۶۔ عدل معاشرے میں خیر اور شر کی حد بندی کی حفا ظت قائم کر تا اور خیر کو تحفظ فراہم کرتاہے
۷۔ عدل ایک جیسی زندگی کے نظامِ مساوات کو عروج بخشتا ہے۔
۸۔ عدل فطرت کا ایک شاہکار ضابطہ ہے جو معاشرے میں صداقت کے چراغوں کو منور کرتا ہے۔
۹۔ عدل ظلم کی تاریکی کو نگل جاتا ہے۔ظالموں غاصبوںاورمنافقوںکو کیفر کردار تک پہنچا دیتا ہے۔
۱۰۔ عدل فطرت کے اصولوں کی نگہبانی اور دین کے ضابطوںکی حفاظت کا محافظ ہے۔
۱۱۔ عدل مادہ پرستوں اور اقتدارپرستوںکے ظالمانہ نظام اور سسٹم پر کڑکتی بجلی بنکر گرتا ہے۔ جو انکے خرمن کو راکھ کا ڈھیر بنا کر رکھ دیتا ہے۔
۱۲۔ عدل مذہب کے نظام حیات کا ملہار راگ ہے اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے دیپک راگ کو پریم کی بانسری سے ختم کر دیتا ہے۔
۱۳۔ عدل کے فقدان کے سبب معاشرے کا ظاہر وباطن ہر قسم کی بیماریوں کا مرکز بن جاتا ہے۔
۱۴۔ عدل معاشرے کو صحت عطا کرتا ہے اور عدل کشی معاشرے کا کینسر ہے ۔
۱۵۔ عدل کا حصول آج اینٹی کرسچن جمہوریت کے طریقہ کارسے وابستہ ہے۔ جو دین محمدیﷺ کے نظریات کو کچلتا جا رہا ہے۔
۱۶۔ منصف ، وکلا اورمغربی جمہوریت سے منسلک سیاستدان ملک میں دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات کے قاتل اور ملت کے مجرم ہیں ۔ ملت اسلامیہ کے جسد پر ایک ناسور ہیں۔ تاریخ ان دانشوروں کو کبھی نہیں بخشے گی۔ عدل مذہب کا نورہے جو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ظلمات میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔
۱۷۔ عدل کش منصف خوبصورت سرکاری اور ذاتی محلوں میں عذاب کی تصرفانہ زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔یاد رکھو! عادل اور منصف ایسا نہیں کیا کرتے ۔وہ خوف خدا کے وارث اوراس جہان فانی سے آشنا ہوتے ہیں۔
۱۸۔ عدل محمدیﷺ سے دور ! ہمارا سماج اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کا ایندھن بن چکا ہے۔جو مسلم امہ کا ایمان،وقت ،پیسہ اور سکون نگلتا جا رہا ہے۔ دین کی اعلیٰ صفات اور ساتھ ہی اسلامی سماج کو کچلتا جا رہا ہے
۱۹۔ عدل کے الفاظ کے معنی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کی سرکاری بالا دستی نے بدل کر رکھ دئیے ہیں ۔ جمہوریت کی بین الاقوامی عدلیہ نے تمام پیغمبران کی امتوں کا نظریاتی راستہ روک دیا ہے ۔ تمام پیغمبران کی امتوں کا ارتقا اور بقائے حیات ان کے نظریات،تعلیمات ، طرز حیات انکے ضابطہ عدل میں مضمر ہے،اینٹی کرسچن جمہوریت میں نہیں!
۲۰۔ عدل ، اعتدال اور مساوات کو جنم دیتا ہے اور دین محمدیﷺ کی روشنی سے پروان چڑھتا ہے۔
۲۱۔ عدل کی منازل تنہائی میں طے ہوتی ہیں۔ توازن کا شعور عطا کرتی ہیں۔
۲۲۔ عدل ! انبیا علیہ السلام کے ادب و احترام کا پھل ہے۔یہ عادل کو پہلے خیال کا عادل پھر عمل کا عادل بناتا ہے۔
۲۳۔ عدل انسانی زندگی اور معاشرے میں توازن قائم رکھتا ہے۔
۲۴۔ عدل سے وابستہ انسان کے پاس خیال کی پاکیزہ لائبریری موجود ہوتی ہے
وہ خیال کی غیر پاکیزہ کتاب اپنی لائبریری میں نہیں رکھتا۔پھر وہ خیال اور عمل کا عادل کہلاتا ہے۔
۲۵۔ نگاہ کا عادل انسانی رشتوں کے تقدس کا عارف اور انکا احترام بجا لاتا ہے
۲۶۔ زبان کا عادل مخلوق خدا کیلئے بے ضرر ہوتا ہے۔
۲۷۔ عدل عادل کی زبان سے جنم لیتا ہے۔مذہب کاعدل کسی فرد،کسی ملت اورکسی ملک کی حدود قیود کا پابند نہیںہوتا،بنی نوع انسان کی میراث اور آفاقیت کا مظہر ہوتا ہے۔
۲۸۔ عدل سے محروم،مظلوم ، بے بس اور محکوم طبقہ بے زبان ضرور ہوتا ہے،لیکن اعلیٰ ایوانوں کیلئے ایک خطرناک اور عبرتناک زلزلہ سے کم نہیں ہوتا ، یہ عبرتناک گھڑی! کسی وقت بھی ایک المیہ بن کر نمود ار ہو سکتی ہے۔
۲۹۔ مسلم امہ کے پاس آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفیﷺ اور رحمت ا للعا لمین کا دین جو عدل کا منبع ہے،اسکے نظریات، ضابطہ حیات، طرز حیا ت ، اعتدال و مساوات ، عدل و انصاف ، خوف خدا ،اسکا اس دنیا کی بے ثباتی اور فانی ہونے کا شعور،اسکی خدمت خلق کی عبادت سے آشنائی ، اسکی اخوت و محبت کے سلیقہ سے آگاہی پر مشتمل آفاقی تعلیمی نصاب سے تیار کیا ہوا، اسلا می تشخص،اس کاحسن خلق،اسکا حسن کردار بنی نوع انسان کیلئے باعث رحمت اور انسانی دکھوں کا مداوا،انسانی زخموں کا علاج،انسانی وباؤںاور بلاؤں کا تدار ک ، انسانی حقوق کا محافظ، انسانی روح کی لطافتوں کا مخزن بن کر ابھرتا اور انسانی زندگی کو اعتدال و مساوات ،راحت و سکون مہیا کرتاہے۔
۳۰۔ ایسی آفاقی صفات اور صداقتوں سے سینچے ہوئے کرداروں پر مشتمل مجلس شوریٰ کے ممبران۔ان ممبران میں سے حکومتی نظام کو چلانے والے اعلیٰ صلاحیتوں اور عمدہ اہلیت کے وارث خلیفۂ وقت کا چناؤ،جو عدل قائم کر سکے،جسکو ایک عام انسان،ایک عام شہری،ایک عام امتی کی بنیادی ضروریات کے مطابق اسکو اور اسکے لواحقین کو ضروریات حیات میسر ہوں۔تصرفانہ زندگی اسکا مقصود حیات نہ ہو، وہی اس دین اور ملت کے کردار کا ترجماں، وہی اس ملت اور پوری انسانیت کے حقوق کا محافظ،وہی کردار خلیفہ ء وقت کے فرائض ادا کرنے کا وارث ہوتا ہے اور اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت انکے ان ضابطہ حیات کی صداقتوں کو رائج الوقت کر کے قائم کرتا ہے۔وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطہ حیات کی اطاعت کرتا ہے۔ مخلوق خدا اور ملک وملت پر اسکی بالادستی قائم کرتا ہے۔
۳۱۔ اسکے برعکس اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشوروں کا طرز حکومت انکے نظریات ، انکی تعلیمات ،انکا طرز حیات، انکا ضابطہ حیات،انکی ملکی معیثت اورملکی وسائل اور ملکی خزانہ پر بالا دستی اور قبضہ، انکا اعتدال و مساوات کو کچلنے کا عمل، انکا تصرفانہ زندگی گذارنے کا طریقہ کار، انکے عدل و انصاف کو روند نے والی عدلیہ کی منصف شاہی فوج،انکے اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں سے فتح کئے ہوئے مفتوحہ ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد۔انکے انتظامیہ کے ظا لم اور غاصب نظام حکومت کو چلانیوالی سرکاری فوج، انکے اسمبلیوں میں پا س کردہ قوانین کی پابندی کروانے والی سرکاری گوریلا فوج اور بحری،بری ،ہوائی افواج جو ا س ملک کے سیاستدانو ں اور حکمرانو ں نے اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے بھرتی کی ہو تی ہیں، یہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کا غاصب ٹولہ سولہ کروڑ انسانوں سے انکی دولت انکے وسائل، ان کے مال و متاع،ان کے خوراک جیسے زندہ رہنے والے بنیادی حقوق کو چھیننے کیلئے اسمبلیوں میں بیٹھ کرقانون سازی کرتے ہیں۔ ملکی معیثت انکی ملکیت اور اور ملکی خزانہ انکی تصرفانہ زندگی کا جیب خرچ بن جاتا ہے۔ اقتدار کی تلوار سے اپنی اس انتظامیہ اور عدلیہ کی شاہی سرکاری افواج کے ذریعہ عوام سے عدل و انصاف، مال و دولت،و سائل اور تمام مال و متاع چھینتے اور اپنی ملکیتوں میں بدلتے جاتے ہیں ۔
۳۲۔ ڈیڑھ ارب ملت اسلامیہ کے فرزندان سے ملتجی ہوں کہ یہ مت سوچو ! کہ تمام سر براہ مملکت اس قسم کی اسلامی کانفرنس جس میں چھپن ممالک پر مشتمل ملت اسلامیہ کے ڈیڑھ ارب سے زائد فرزندان کے حقوق ،انکی مشکلات یا انکے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے متعلق غور و فکر یا بات چیت کریں گے ۔ یا وہ ۵۶ ممالک پر مشتمل تمام ممالک کو ایک اسلامی متحدہ ریاست کے متعلق غور کریں گے با وجود اسکے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان اور عراق کے بیگناہ انسانو ں اور معصوم و بے ضرر بچے بچیوں اور مستورات پر بے بنیاد الزامات کی بنا پر نان کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں پر مشتمل امریکہ اور انکے مغربی ممالک کے حواریوں نے جدید اسلحہ ڈیزی کڑ بموں ، نائٹروجن بموں، گیس بموں سے حملے کر کے ملکی دہشت گردی اور لاکھوں بیگناہ اور معصوم انسانی زندگیوںکو قتل کرنے اپاہج اور مفلوج کرنے کے مجرم اوران کے ممالک کو تباہ کرنے کے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان چھپن ممالک کے سر براہوں کی نیم خاموشی دنیا میںعدل کچلنے والوں کی معاونت کر رہی ہے!۔ جبکہ انہیں چاہئے تھاکہ وہ دنیا میں پھیلی ہوئی تمام مسلم امہ اور تمام مسلم امہ کے ممالک کو ایک مرکزیت عطا کرنے پر غور کرتے ، متحدہ سٹیٹ آف مسلم کا نام دیتے، اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ،ایک خلیفۂ وقت مقرر کرنے ،تمام ممالک کو، متحدہ سٹیٹ آف مسلم کی ریاستیں ڈیکلئر کرنے،ہر سٹیٹ کا گورنر مقرر کر نے کی بات کرتے،تمام قدرتی وسائل، افرادی قوت اور عسکری طاقت کو اکٹھا کرنے کی بابت سوچ بیچار کرتے، آئندہ کیلئے کوئی لائح عمل تیار کرتے، وہ تو صرف اپنے اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے پریشان تھے۔وہ تو سب بادشاہت،اینٹی کرسچن جمہوریت کے آمریت کے نظام کے تحفظ اور اپنی بقا کی فکر میں میں گم تھے۔انکا دین محمدیﷺ کے شورائی نظام حکومت کیساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔یہ سیاستدان،آمرحکمران دین محمدی ﷺ اور مسلم امہ اور اسکی نسلوںکے مجرم ہیں۔
تمام سیاستدان،آمر حکمران جو دنیا کے عدل کو کچلتے ہیں اور امن کی زندگی چاہتے ہیں۔ یاد رکھو!۔ امن اینٹی کرسچن جمہوریت یا بادشاہت،یا آمریت کے ضابطہ حیات،اسکی تعلیمات اور طرز حیات میں نہیں بلکہ ، پیغمبران خدا کے ضابطہ حیات،تعلیمات اور طرز حیات میں مضمر ہے، مغربی ممالک کے دہشت گرد ظالموں کے مظالم نے خود کش حملہ آور و ں کی لا متناہی افواج پیدا کر دی ہیں۔ اب انکی زندگی دنیا کے کسی کونے میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ مسلم امہ کے ممالک کے یہ بزدل ملی رہزن ملت کے معاملات کو حل کرنے کیلئے نہیں وہ تو اپنی اپنی حکومتوں کے تحفظ کیلئے اکٹھ کرتے ہیں۔وہ تواپنے اپنے ذاتی ذرائع آمدن بڑھانے کیلئے جمع ہوتے ہیں وہ تو اپنے خوشحالی کے راستے تلاش کرنے کیلئے غور و فکر کرتے ہیں۔وہ تو سرکاری خزانہ کے شاہانہ اور تصرفانہ اخراجات سے ذاتی ملاقاتیں اور ذاتی استفادہ کرنے کیلئے اکٹھ کرتے ہیں ۔وہ اپنی اپنی بقا کو دوام اور اپنے اپنے معاشی مسائل اور اپنے اپنے اقتدار کی رکاوٹوں کو دور کرنے یا ان کے حل اور طریقہ کار پر غور کرتے ہیں۔ وہ تو اس قسم کی اسلا می کانفرنسیں دین محمدیﷺ کے نظریات کے منافی اینٹی کرسچن جمہوریت یا بادشا ہت کے ضابطہ حیات کے اصول و ضوابط کے مطابق اپنی اپنی تقدیر بدلنے اور اس سے ضروری ثمرات کے حصول کی خاطر ایسی کانفرنسیں منعقد کرتے چلے آرہے ہیں۔
۳۴۔ مسلمانوں کے زوا ل کی وجوہات،واقعات، غلطیاں، کوتاہیاں جنکی وجہ سے مسلم امہ اور پوری انسانیت کو یہ غلیظ،اذیتناک، شرمنا ک ، تباہ کن بد ا منی ، قتل و غارت، لوٹ کھسوٹ اور دہشت گردی جیسے حالات کا سامناہے انکی وجوہا ت کیا ہیں ! انکا تدارک کیا ہے! انکے ذمہ دار کون ہیں! مسلم امہ ہے یا حکمرا ن یا طرز حاکمیت! بادشاہت ہے یا اینٹی کرسچن جمہوریت یا دین کے مطابق اللہ تعا لیٰ کی حا کمیت کو قائم نہ کرنے کی سزا ہے ۔ یہ سب خرابیاںکیا ہیں انکا علا ج کیا ہے!
۳۵۔ ہمیں سنجیدگی،متانت،فراخدلی اور ادب انسانیت کو ملحوظ رکھ کر دین کی روشنی میں غور کرنا ہو گا کہ ہماری اجتماعی غلطی کیا ہے،جو ہمارے زوال کا سبب بنی پڑی ہے۔ دین محمدیﷺ اور حضور نبی کریم ﷺ کی امت کا فریضہ کیا ہے۔ کیا ہم مخلوق خدا اور پوری انسانیت کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔ کیا ہم سلسلہ ء انبیاء علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آخری امت نہیں ہیں۔کیاحضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نہیں ہیں۔ کیا حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام ید بیضا کے انعام یافتہ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیحائی کی صفات کے مالک اور حضرت محمد مصطفی ﷺ رحمت العالمین کی صداقتوں کے وارث ایک ہی نسل اور ایک ہی لڑی کے موتی نہیں ہیں۔کیا زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف، قرآن شریف الہامی صحیفوں کا نزول ان پیغمبران خدا پر نہیں ہوا۔
کیا ہم ان تمام پیغمبران اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان لاےٗ بغیر مسلمان کہلا سکتے ہیں۔
۱۔کیا مسلمان کی نماز درود ابراہیمی کو پڑھے بغیر بارگاہ الہی میں قبول ہو سکتی ہے۔
۲۔کیا ہم دو ارب سے زائد عیسائی مذہب پرست انسانوں سے قطع تعلقی کر کے انکے انسانی حقوق کی خدمت کا فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔
۳۔کیا ہم دنیا میں عقیدوں،مذہبوں،نظریوں سے منسلک انسانوں میں نفرت اور جنگ کی آگ جلا کر امن کے پجاری بن سکتے ہیں۔
۴۔کیا ہم بادشاہت، مغربی جمہوریت ، مذاہب اور خاص کر نظام مصطفی ﷺ کے د ین کے نظریات،ضابطہ حیات،تعلیمات سے آشنا اور انکے تضاد سے آگاہ نہیں ہیں ۔
۵۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم پیروی نمرود،فرعون اور یزید کے ضابطہ حیات، نظام حیات اور انکی تعلیمات کی کریں اورنتیجہ ہمیں انبیاء علیہ السلام کے نظریات کی تعلیمات کا ملے ۔تمام انبیاء علیہ السلام کی امتوں کو سوچنا ہوگا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ زندگی تو یزید کے نظام حیات کی گذاریں اور عاقبت عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی مانگیں۔
۶۔کیا مسلم امہ کے چھپن ممالک جہاں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات کی بالا دستی کو قائم کرنا تھا وہاں ان تمام ممالک میں دین کے نظریا ت، ضابطہ حیات، طرز حیات اور دینی تعلیمات کے خلاف بادشاہت اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات، طرز حیا ت اور انکے نظریات کی تعلیمات کی بالا دستی اور انکی حکومتیں قائم نہیں ہیں۔
۷۔کیا انکا تعلق حضرت امام حسین کے پیروکاروں سے ہے یا یزید کی نسل سے۔
۸۔کیا ہم ان ممالک کو اسلامی ممالک یا دینی ممالک کہ سکتے ہیں ۔
۹۔کیا تمام مسلم ممالک کے سر براہ ،بادشاہ یااینٹی کرسچن جمہوریت کے آمر حکمران مسلمان کہلا سکتے ہیں یا دین کے منکر یا منا فق کہلائیںگے۔
۱۰۔کیا ان چھپن اسلامی ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلم امہ کے فرزندان پر بادشاہت اور جمہوریت کے حکمرانوں کی اطا عت کے بعد ان کا دین محمدیﷺ کے ساتھ کوئی واسطہ رہ جاتا ہے۔
۱۱۔کیااللہ تعا لیٰ اور نبی کریم ﷺ کے نظام کے خلاف بادشاہت یااینٹی کرسچن جمہور یت کے حاکموں کی اطاعت کرنا اسلام سے فارغ ہونے کے مترادف نہیں۔
۱۲۔ کیااللہ تعالیٰ کے اعتدال و مساوات کے نظام کو ختم کر دینے کا نام اسلام ہے۔ کیاحاکم وقت اوراسکے چند حواریوں کی اعلیٰ بود و باش ، عیش و عشرت،خوشحالی اور رعایا کی بنیادی ضروریات کی محرومی کا نام اسلام ہے۔ یہ کیسے عدل کش اور غاصب حاکم ہیں۔
۱۳۔کیا مسلم امہ سے طبقاتی طرز حیات، مالک اور نوکر، افسر اور بیٹ مین ،برہمن اور شودرکی پیروی کروانے کا نام اسلام ہے۔
۱۴۔کیا مسلم امہ کے فرزندان کو بادشاہت اوراینٹی کرسچن جمہورریت کے دین کش نظاموں کی اطاعت کروانے کا نام اسلام ہے۔
۱۵۔کیا مسلم امہ کے فرزندان پر مغربی جمہوریت اور بادشاہت کی انتظامیہ اور عدلیہ کی تلوار سے حکمرانی کرنے کا نام اسلا م ہے۔
۱۶۔کیا مغرب کی طرح مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ،مخلوط قومی اسمبلی اور مخلوط حکمرانی اور مخلوط دفتری نظام کے سرکاری فنکشن کا نام اسلام ہے۔
۱۷۔ کیا اسلام کے بنیادی جز، پردہ کی دیوار کو حکومتی سطح پر توڑنا،مخلوط تعلیم ،مخلوط معاشرہ ، مخلوط حکومت کے قوانین ملک میں نافذ کرنا، بے حیائی،فحاشی، بدکا ری ،زنا کاری کے نظام کو متعارف کروانا ،اسکو مسلم امہ پر مسلط کرنے کا نام اسلام ہے، کیا مخلوط معاشرے سے زنا کاری کا ماحول اور حکومتی سطح پر ہر قسم کیقانونی سہولیا ت مہیا کرنے کا نام اسلام ہے۔ جب حکومت وقت ایسا معاشرہ تیار کریگی تو مسلم امہ پر حدود آرڈینینس کیسے لاگو ہو سکتا ہے۔
۱۸۔کیا امریکہ کا صدر اسی مخلوط معاشرے کی وجہ سے اپنی پرسنل سکریٹر ی سے زنا کاری کا مرتکب نہیں ہوتا رہا۔
۱۹۔کیا صدر مملکت پاکستان،انکے وزیر اعظم، وزیرو مشیر اورانکے اسمبلیوں کے ممبران اور خاص کر دینی سیاسی جماعتوں کے رہنما ملت اسلامیہ کو بتانا پسند فرماویں گے کہ اس طرز حیات کا نام اسلام ہے۔
۲۰۔ کیا آزادیء نسواں کے نام پراپنی طیب فطرت بیٹیوں،پاکیزہ دامن بہنوں اور اسلامی اقدار سے آگاہی اور آ راستگی عطا کرنے والی ماؤں کو بے پردگی،بے حیائی ،فحاشی اور انکے مقدس جسموں اور عصمتوں کے تحفظ کوختم کرنے اور دین محمدیﷺ کے نظام کو روندنے کا نام اسلام ہے ۔
۲۱۔ کیا عورت کو مغرب کی طرح مارکیٹ کا شو پیس بنا کر انکی غربت اور تنگ دستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملازمتوں ، اعلیٰ تنخواہوں کے دھوکہ میں ان آمروں ،سرمائے داروں، حکمرانوں اور عیاشوں کو داشتہ مہیا کرنے کا نام اسلام ہے۔
۲۲۔ کیامغرب کی طرح پہلے مخلوط معاشرے کا افتتاح،پھر فحاشی ،ز نا کاری کی آزادی کا افتتاح اور پھر حرامی بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وکٹورین ہاؤسز جیسے اداروں کے قوانین مسلط کرنے کا افتتاح کا عمل سرکاری سطح پر جاری رکھنا اسلام ہے۔ حکمران ایسے قوانین مسلم امہ پر نافذ کرتے اور اسمبلیوں میںممبران کی عددی برتری کی بنا پر تمام ملک میں بگل بجاتے جائیں ۔کیا ا ن باطل اسمبلیوں کے ممبران اور انکے حکمران جو ہارس ٹریڈنگ کی پیداوار ہوں انکا نام اسلام ہے۔جب ملت اسلامیہ کے فرزندان کو مغرب کی طرح پردہ ختم کرنے، فحاشی ،بد کرداری اور زنا کاری کی سہولتیں سرکاری طور پر میسر ہو جائیں تو اسلام کیسا اور حدود آرڈینینس کا مقصد کیا۔!
۲۳۔کیایہ ملت اسلامیہ کے ازدواجی نظریات کی عمارت کوزمین بوس کرنے اور ملت کے کردار کو نیست و نابود کرنے کا نام اسلام ہے۔
۲۴۔کیا یہودی عیسائی مذہب کے مطابق ایک بیوی ،ایک شادی، ایک رفیقہ حیات کے مذہبی نظریہ حیات کے پابند نہیںہیں۔کیا دین محمدیﷺ کے مطابق مسلم امہ کے فرزندان چار بیویاں،چار شادیاں، چار رفیقہ حیات ایک وقت میں رکھنے کے ضابطہ حیات سے آشنا نہیں ہیں۔کیا دین اسلا م نے مسلم امہ کے فرزندان کو ان بیویوں کے سا تھ ایک جیسا حسن عمل،حسن سلوک اور ایک جیسا اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو قائم کرنے کا پابند نہیں بنا رکھا۔
۲۵۔کیا دین اسلام نے بیوہ کو دوسری شادی اور بیوی کو طلاق لینے اوردینے کا حق مختص نہیں کر رکھا۔
۲۶۔کیا اسلام نے مسلم امہ کے مرد و زن کے جنسی ،جسمی اورروحانی حقوق کا تحفظ اور ہر قسم کی بے حیائی کا تدارک کا نظام عطا نہیں کر رکھا۔
۲۷۔کیا دین اسلام نے مسلم امہ اور پوری انسانیت کوبے حیائی اور زنا کاری سے بچنے، پاکیزہ اور طیب زندگی گذارنے کا آفاقی دستور حیات عطا کر نہیں رکھا۔
۲۸۔کیا پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔
۳۰۔کیا پاکستان سولہ کروڑ مسلم امہ کا ملک نہیں ہے۔
۳۱۔کیا اسلام میں خلیفہ وقت یا امیرا لمو منین اور ایک عام شہری کی بودو باش،روز مرہ کے اخراجات اور ضروریات حیات میں کسی قسم کا کوئی فرق ہوتا ہے۔
۳۲۔کیا پاکستان میںسولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان جو غربت تنگ دستی ، بے روزگاری کی چتا میں جل رہے ہیںانکی زندگی اور شاہی محلوں میںرہنے والے صدر پاکستان، وزیر اعظم،وزرائے اعلیٰ ،گورنرز،وزیروں، مشیروں،سفیروں،سیاستدانوں اور انکے چند سرکاری اعلیٰ انتظامیہ اور عدلیہ سے منسلک حواریوں کی زندگی اور انکی ملکیتوں کا معاشی اور معاشرتی فرق اسلامی ہے یا فرعونی یا یزیدی۔
۳۳۔کیا یہ سولہ کروڑ امت محمدیﷺ کے فرزندان برے،بدکار،بد کردار یا غاصب ہیں یا یہ اینٹی کرسچن جمہوریت، بادشاہت کا طبقاتی نظام حکومت ،اسکا بے دین طبقاتی تعلیمی نظام جس سے یہ معاشرے کی غیر اسلامی طبقاتی تعلیم و تربیت ہوتی ہے ۔ تمام معاشی ،معاشرتی برائیا ں جنم لیتی ہیں۔ زندگی کا معاشی اور معاشرتی تضاد پیدا کرتی ہیں۔فحاشی ،بے حیائی،بدکاری،زنا کاری کا ماحول مہیا کرتی ہیں۔
کیاسولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان پراینٹی کرسچن جمہوریت کا یہ کلچر مسلط کرنے والے حکمران مسلمان ہیں۔ جنہوں نے مسلم امہ کی تہذیب کی عمارت کو جمہوریت کے ملبے میں دبا دیا ہے۔ نہ ملت کے پاس انہوں نے دین چھوڑا ہے اور نہ ہی دنیا۔ کیا ملت انکا تدارک اور علاج نہیں چاہتی۔
۳۴۔کیاپاکستان کی تمام پیداوار،تمام وسائل، تمام دولت، تمام ملکی خزانہ اللہ تعا لیٰ کی ملکیت اور عوام کی ا ما نت نہیں ہیں۔
۳۵۔کیا پاکستان کے سولہ کروڑمسلم امہ کے فرزندان اسی خالق کی تخلیق نہیں ہیں۔
۳۶۔ کیایہ دھرتی،یہ پہاڑ، یہ میدان ،یہ ریگستان،یہ صحرا،یہ بارش، یہ پانی،یہ دریا، یہ سمندریہ تمام مخفی اور ظا ہری خزانے،تمام وسائل،تمام پیداوار، یہ تمام دولت، اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور عوام کی امانتیں نہیں ہیں۔
۳۷۔ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو مانتے ہیں،محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی الزماں مانتے ہیں، قرآن کو اللہ تعالیٰ کا مقدس رشد و ہدایت کا ضابطہ حیات تسلیم کرتے ہیں، خالق کی تمام تخلیق پر خالق کی حاکمیت کا نظریہ تسلیم کرتے ہیں ۔کیا یہ ملک دین کے نام پر قائم نہیں ہوا تھا۔
۳۸۔ٓاگر ہم اللہ تعالیٰ کی توحیدپر، اللہ کے نبی ﷺ پر ،اللہ کی کتاب پر،اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر اور اسکے مالک ہونے پر اور اسکی حاکمیت پر ایمان رکھتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطہ حیات کو اسکی مخلوق پر ،اسکے ملک پر نافذ کرنے سے گریزاں کیوں ہیں۔
۳۹۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے ضابطہ حیات کے علاوہ کسی آمر ،کسی بادشاہ،کسی جمہوریت کے سیاسی دانشور کے ضابطہ حیات کی بالا دستی یا حاکمیت مسلم امہ کے سو لہ کروڑ فرزندان پر ملکی سطح پرملی سطح پر نافذ کرتے ہیں۔ اسکی اطاعت سرکاری طور پر تمام امت محمدیﷺ کے فرزندان پر مسلط کرتے ہیں۔تو سچ بتاؤ ! اے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشورو، ملکی حکمرانوں، وقت کے آمرو،اس باطل نظریہ حیات اور ضابطہ حیات کی سرکاری طور پر اطاعت کرنے،اسکے نظامِتعلیم کی پیروی کرنے کے بعد تما م امت محمدی ﷺ کا دین کیا ہوگا اور انکا کردار کیا ہوگا۔کتنے ظالم، غاصب اور پسِ پردہ دین کے نظریات اور ضابطہ حیات اور امت محمدیﷺ کے دستور حیات کے قاتل چھپے بیٹھے ہیں۔
۴۰۔یہ کیسے منکر دیں ہیں،یہ کیسے دھوکہ باز ہیں،جو مسلمانوں کے روپ میں مسلم امہ کے حکمران بن کر اسلام کے نظریات کو کھلم کھلا حکومتی سطح پرروندتے،کرش کرتے اور ختم کرتے جا رہے ہیں۔
۴۱۔کیا یہ ملک سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا نہیں۔کیا دین کے دستور حیات کا نفاذ مسلم امہ پر لازم اور اسکی پیروی کرنا انکا فرض نہیں۔
۴۲۔ کیا ستر فیصد کسان دیہاتوں میں کھیتی باڑی کا فریضہ ادا کرتے چلے نہیں آرہے۔
۴۳۔کیا وہ سولہ کروڑ انسانوں کوخوراک ،لباس اور ہر قسم کا خام مال مہیا کرتے چلے نہیں آرہے۔
۴۴۔کیا وہ پاکستان کی صنعتی ترقی کو آج تک بام عروج تک پہنچانے کی ریڑھ کی ہڈی کا فریضہ ادا نہیں کر رہے۔
۴۵۔کیا وہ دنیا کا ہر قسم کا پھل،میوہ جات،سبزیاں اور گوشت ملک کے عوام کے علاوہ بیرونی دنیا سے زر مبادلہ کمانے کیلئے وافر مقدار میں مہیا کرتے چلے نہیں آرہے۔
۴۶۔کیا اس ملک کا کسان ایک پاکیزہ زندگی اور طیب روزی نہیں کماتااور اپنے کھیتوں میں محنت کی عبادت نہیں کرتا۔
۴۷۔کیا انتیس فیصد مزدور ،محنت کش،ہنر مند طبقہ ملک کی فیکٹریوں، کارخانوں، ملوں ، سرکاری اور نیم سرکاری اداروں اور تجارت کے ہر قسم کے فرائض ہمت، محنت اور ہر قسم کی مشقت برداشت کر کے چلا تے نہیں جا رہے۔
۴۸۔کیا اس ملک کے ستر فیصد کسان اور شہروں میںبسنے والے انتیس فیصد مزدور ، محنت کش ،ہنر مند افراد غربت ، تنگدستی، بیروزگاری اور ضروریات حیات کی بنیادی ضروریات کے حصول میںمجبور اور بے بس اور خود کشیوں، خود سوزیوں کے عمل سے گذرتے چلے نہیں آرہے۔
۴۹۔کیا ملک کی تما م پیداوار، تمام وسائل، تمام دولت، تمام ملکی خزانہ، تمام ملکی اور غیر ملکی تجارت ملکی سیاستدانوں،ملکی حکمرانوں ، اور انکی اعلیٰ سرکاری عہدیداران کی ذاتی ملکیتوں میںبدلتا چلا نہیں آرہا۔
۵۰۔کیا جمہوریت کے پرستاروں نے کبھی سوچا ہے کہ تمام پیداوار،تمام ملکی وسائل، تمام ملکی دولت،تمام ملکی خزانہ سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کی محنت و مشقت اور خون پسینے کی کمائی ہے۔ کیا ملک کے سب افراد اس کے برابر کے حصہ دار نہیں ہیں۔پھر یہ طبقاتی اور تفاوتی معاشی اور معاشرتی نظام حیات ملت پر مسلط کیوں!
۵۱۔کیا ملک کی تمام، سڑکیں اور سرکاری غیر سرکاری نجی گاڑیاں،ملک کے تمام ہوائی اڈے، جہاز،بندرگاہیں، بحری جہاز،ملیں اور فیکٹریا ں ، کارخانے اور تجارتی ادارے،جاگیریں اور ملک کی تما م املاک ا ن سولہ کروڑ اہل وطن کے پسینہ کی کمائی سے تیار نہیں ہو رہے۔
۵۲۔کیا تمام اہل وطن مغرب کے ممالک کی طرح تمام ٹیکس اور سرکاری واجبات ،بجلی کے بل۔پانی کے بل،گیس کے بل،منگائی کے اضافی بل ۔مکانوں کے ٹیکس اور ملک کی تمام اشیاکی خرید و فروخت پر ٹیکس، کرایوں پر پچاس فیصد ایندھن کے ٹیکس،جینے پر ٹیکس، مرنے پر ٹیکس، بے شمار ٹیکس،بے حساب ٹیکس ادا کرتے چلے نہیں آ ر ہے ۔
۵۳۔ کیا ان سے اکٹھا کیا ہوا یہ ملی خزانہ سب کی ملکیت نہیں۔جواینٹی کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں، ممبروں ، وزیر و ں ، مشیروں اور انکے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کی ملکیت اور شاہانہ تصرفانہ نظام کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔
۵۴۔کیا انہوں نے ملک میں ٹیکس کلچر کی وصولی کیلئے ایک گھناؤنا نظام و سسٹم ایک اذیتناک طریقہ کار، اور قانونی شکنجامسلط کر نہیں رکھا ۔ جس سے ملک میںکوئی غریب، مسکین، محتاج ، اپا ہج ، بیو ہ ،یتیم،بھوکا ،ننگا،بیمار، عمر رسیدہ ،بیروز گار کوئی بھی ہو انکے ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچ نہیںسکتا ۔ سوائے ان آمروں،حکمرانوں، جاگیر داروں اور کارخانوں کے مالکان کے جنہوں نے دو نمبر کھاتے اور ناجائز طریقہ کار تیارکر رکھے ہیں۔ کسی کی جراٗت نہیں ہوتی کہ کوئی ان سے پوچھ سکے۔جبکہ یہ تاجر بھی ہیں اور حکمران بھی !
۵۵۔کیا ان ٹیکسوں کے علاوہ مسلمانوں سے زکٰوۃ ،عشر کے مذہبی نظام کی کٹو ٹی بھی اینٹی کرسچن جمہوریت کے قانون کی نوک پر نہیں کی جاتی ۔ عوام انکے غاصبانہ، ظالمانہ نظام حیات کی اذیتوں غربت اورتنگدستی سے تنگ آکر خود کشیاں اور خود سوزیاں کر تے نہیں جاتے۔کیاملت کو ان آمروں،غاصبوںسے نجات درکار ہے یا نہیں۔
۵۶۔کیا ملک مغربی جمہوریت کے نظام کی معاشی اور معاشرتی مقتل گاہ نہیں بن چکا ۔ کیا یہ سیاستدان ،حکمران مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کے گلوں میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے بے دین نظام کا طوق ڈال کر گھسیٹتے چلے نہیںجا تے ۔کیا یہ تمام عدل کشی انکا جمہوری حق بن نہیں چکا
۵۷۔کیا ملت اسلامیہ کے چھپن ممالک میں بسنے والی امت کے جسد سے دین کی رو ح پرواز کر نہیں چکی۔ کیا ان ممالک میں دین کی بالادستی اور سرفرازی سرکاری طور پر ختم نہیں ہو چکی۔
۵۸۔ اے فقیر بے نوا، تو دین محمدیﷺ کے گلستان میں ڈھونڈ، رات کے سناٹے اورتنہائی میں اس اجڑی ہوئی امت کی حیات نو کی منزل کو۔اللہ تعالیٰ جل شان ھو تیرا حامی و ناصر ہے۔
۵۹۔ کیا مغرب کے ممالک صرف صاحب حیثیت افراد سے ٹیکسوں سے اکٹھی کی ہوئی دولت سے بیروز گاروں کو بیروزگاری الاؤنس دے کر انسانی حقوق کا تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ کیا وہ اپاہجوں،بوڑھوں اور مستحق عوام کیلئے اولڈہاؤسزبنا کر انکی انسانی ضروریات خوراک ، لباس اور علاج کی طبی سہولتیں مہیا نہیں کرتے۔کیا وہ ان کی کفالت کا فریضہ ادا نہیںکرتے۔ کیااسکے علاوہ دنیا بھر سے آئے ہوئے محنت کشوں کو جن کو وہاںکی شہریت مل جاتی ہے، انکو بھی اسی طرح معاشرے کی تمام سہولتیں مہیا نہیں کرتے ۔
۶۰۔ہمارے حکمران کیسا اسلام پیش کر رہے ہیں۔ یہ کیسے مسلمان ہیں کہ وہ اس خزانہ سے اپنی ملکیتیں بنائیں،کارخانے بنائیں ، ملیںبنائیں ، فیکٹریاں بنائیں،بنک بنائیں، گاڑیاں بنائیں،جہاز بنائیں، شیش محل بنائیں،تاج محل بنائیں،رائے ونڈ ہاؤسز بنائیں ،سرے محل بنائیں، کنوینشن ہال بنائیں ،اسمبلی ہال بنائیں،وزرائے اعلیٰ ہاؤسز بنائیں،گورنرز ہاؤسز بنائیں،وزیر اعظم ہاؤس بنائیں،صدر ہاؤس بنائیں، عدل کش سپریم کورٹ،ہائی کورٹبلڈنگیں بنائیں ،پنجاب ہاؤس بنائیں سندھ ہاؤس بنائیں،اسلام آباد کلبیں بنائیں یا ریسٹ ہاؤسز بنائیں ، کالج بنوائیں،یونیورسٹیاں بنوائیں،۱۹۴۷ سے لیکر آج تک انہوں نے اینٹی کرسچن جمہوریت کی تلوار سے ملک کے تمام بجٹ ،ملک کے تمام وسائل ملک کی تمام پیداوار،ملک کی تمام مال و دولت کو اپنی ملکیتوں میں بدلنے کا کام جاری کر رکھا ہے۔ قرضے حاصل کئے اور اپنی ملکیتیں بنائیں ، کارخانے بنائے اور اپنے کاروبار چلائے۔اقتدار میں آئے سرکاری خزانہ کو عیش و عشرت کی چتا میں جلاتے اور جھونکتے چلے آرہے ہیں۔حکومتوں کو خطرہ ہواسمبلیوں کے ممبران کی منڈی لگ جاتی ہے۔سودے طے ہوتے ہیں، وزارتیں رشوت میں دی جاتی ہیں۔ قرضے معاف کئے جاتے ہیں،کیس ختم کئے جاتے ہیں۔طرح طرح کی سہولتیںبانٹی جاتی ہیں،ملکی وسائل،دولت اور خزانہ کا منہ انکے لئے کھول دیا جاتا ہے۔یہ کیسی اینٹی کرسچن جمہوریت ہے کہ تمام جماعتوں کے غدار مل کر ہار س ٹریڈنگ کے ذریعے ایک نئی غداروں کی جماعت بنا کر ملک کے حکمران بنتے چلے آرہے ہیں۔ان سے کوئی اہل وطن یا انکی جماعت کا ووٹر ان سے پوچھ نہیں سکتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
۶۱۔ مشرقی پاکستان انہی سیاست دانوں کے کردار کی بھینٹ چڑھا۔اب وہ مزید کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ان سے پوچھ تو لو۔ انکو بد نصیب اور بد کردار کہنا کوئی بری بات نہیں۔ انہوں نے تو دین محمدیﷺ کی بجائے اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت مسلم امہ کا دین و دنیا لوٹنے کے لئے مسلط کر رکھا ہے۔جو ملت کے زوال اور پستی ء کردار کاسبب بنتا جا رہا ہے۔
۶۲۔یاد رکھو ! جس ملت کے نظریات ختم ہو جائیں، جسکا ضابطہ حیات ختم ہو جائے،جسکی تعلیمات ختم ہو جائیں،جسکا ازدواجی زندگی کا نظام ختم ہو جائے،جسکا کلچر ختم ہو جائے نہ وہ ملت بچتی ہے اور نہ ہی وہ تہذیب بچتی ہے اور نہ ہی ملک قائم رہ سکتا ہے۔ملک چند جاگیرداروں، سرمائے داروں،آمروں ،حکمرانوں اور انکے چند اعلیٰ عہدوں پر فائض سرکاری حواریوں کا نہیں۔
۶۳۔اینٹی کرسچن جمہوریت ،اسکا نظام حکومت،اسکا طرزحیات ،اسکا ضابطہ حیات انگریز نے ایک مفتوحہ ملک کی عوام کو غلام اور قیدی بنانے ، انکے نظریات کو کچلنے کیلئے بنایا اور اسکو نافذ کیا ہوا تھا، بطور ایک فاتح قوم کے انکا حق فائز ہو چکا تھا کہ جو انکا جی چاہتا ، مفتوحہ عوام کے ساتھ کرتے ۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھی ہمارے حکمرانوں نے آج تک اپنی حکومتوں اورقتدار کو دوام دینے کیلئے اسی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کی گرفت کومضبوط کرنے میں مصروف رہے۔ یہ ظالم آدھا ملک مشرقی پاکستان اسی جمہوریت کے نظام کے اقتدار کی کشمکش کی بھینٹ چڑھا بیٹھے۔ اب وقت تیور بدل چکا ہے۔ رائج الوقت اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان اورحکمران ایک سے ایک بڑھ کر غاصب ہیں حکومتوں کو بدلنا یا حکمرانوں کو بدلنا کوئی عقلمندی نہیں ۔ ان حکمرانوں کو موقع مہیا ہے۔کہ وہ از خود بھی ا س باطل جمہوریت کے بے دین نظام کو بدل کر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے دینی نظام کو نا فذ کر کے ملت کو اسکی کھوئی ہوئی روحانی ، الہامی دینی، دنیاوی دولت واپس لٹا دیں۔تو یہ عمل انکے لئے خسارے کا سبب ہر گز نہیں بنے گا۔بلکہ اس سے انکی دنیا اور آخرت سنور جائیگی۔ورنہ عبرتناک انقلابِ وقت کی داستاں شروع ہو چکی ہے۔کوئی جاگیر دار ، سرمایا دار،کوئی آمر انکی اولادیں،انکی جائدایں بچ نہیںسکیںگی۔اس ملک میں اسلام کا نفاذ ہو کر رہے گا۔
۶۴۔ تمام اہل وطن بزرگوں، صا حب بصیرت احباب،قابل قدر عالم دین اور دیدور طیب ہستیوں اور ہونہار طالبعلموں سے درخواست کر تا ہوں کہ وہ ایک مرکز پر اکٹھے ہوں۔ملت کے جسدکو اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس کینسر سے نجات د لائیں۔
الف۔ ایسے لطیف قلوب کے وارثو ں کوجو ملت کے شعور سے نفاق اور نفرت کی آگ کو بجھانے والے ہوں۔
ب۔ایسے دیدہ وروں کو جو ملت کو قوت برداشت سے اصلاح احوال تک کی منزل تک پہنچانے والے ہوں۔
پ۔ایسے رہنماؤں کو جوشورائی نظام کی روشنی پھیلانے والے ہوں ۔
ت۔ایسے حق پرستوں کو جووحدت ملت کے نظام کو بحال کرنے والے ہوں۔
ث۔ ایسے عارفوں کو جو ایک مرکز پر اکٹھا ہو کر ایک لائحہ عمل تیار کرنے والے ہوں۔
ج ۔ایسے دانشوروں کو جو باہمی رضا مندی،باہمی مشاورت اور اجتہاد کی روشنی میں راہ ہدایت کی منزل کو تلاش کرنے والے ہوں۔
چ۔ملت ان طیب ہستیوں کی رہنمائی اور ان کے احکام کی منتظر کھڑی ہے ۔کہ وہ آگے بڑھیںاور اس ملت کے قافلے کی رہنمائی فرمائیں۔ یا اللہ اس ملت کے رہنماؤں کواس طیب فریضہ کو ادا کرنے اور دین محمدی ﷺ کی حاکمیت کو بحال کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین۔
۶۵۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظر یہ حیات،اسکا ضابطہ حیات،اسکی تعلیمات کاتعلق کسی مذہب کا نعم البدل نہیں اور نہ ہی اسکا تعلق کسی پیغمبر کے ساتھ ہے۔ مذہب کا نظام تو شورائی طریقہ کار سے متعارف کرواتا ہے،اس نظام میں ملت کی جمعیت کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا،یہ نظام اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا راہ دکھاتا ہے،دین کی روشنی میں خیر اور شر کی پہچان کرواتا ہے،دین کی صفات ، دین کی صداقتوں اور اعلیٰ اہلیت کے وارثوں کو منتخب کرنے کا راستہ بتاتا ہے۔انکو تو دستور مقدس کی پیروی کرنی ہوتی ہے۔اس دستور کے مطابق انکو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرنی ہوتی ہے ۔انکو تو ملی امانتوں،ملی مال و دولت،ملکی وسائل، ملکی خزانہ اور بنی نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔انکو اعتدال و مساوات قائم کرنا ہوتا ہے۔انکے اخراجات قلیل ایک عام انسان کی ضروریات سے بھی کم ہوتے ہیں۔ جمہوریت کا نظام ما دہ پرست ، اقتدار پرست سیا سی دانشوروں کے عقلی شعور کی پیداوار ہے جو خود غرضی ،نفس پرستی،اقتدار پرستی کی چتا جلاتا اور اس جہان رنگ و بو میں بنی نوع انسان کو نفاق اور نفرت کا ایندھن بناتا ہے۔!
۶۶۔کئی سیاسی جماعتوں کے ممبران اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں،جو ممبر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے وہ الیکشن جیت جاتا ہے۔تمام ممبران جو علاقہ میں الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور الیکشن ہار جاتے ہیں،انکے ووٹوں کی تعداد اس جیتنے والے ممبر سے کہیں زیادہ ہوتی ہے،ان حقائق کی روشنی میں وہ اس علاقہ کا نمائندہ کہلا نہیں سکتا،اسی طرح وہ جماعت جو ایسے الیکشن جیت کر اسمبلی تک پہنچ جاتی ہے وہ بھی عوامی نمائندہ جماعت نہیں ہو سکتی ،یہ جاگیر دارو ں،سرمایہ داروں پر مشتمل ایک غاصب سیاسی ٹولہ کا گھناؤنا کھیل ہے جو
ایک آمرانہ نظام حکومت مسلط کر لیتا ہے اور ملک میں عدل کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔جنکا تعلق عوام سے یا انکے حقوق کے تحفظ کرنے سے نہیں ہوتا،اس نظام حکومت سے تو استحصالی طبقہ پیدا ہوتا ہے۔
۶۷۔ یہ غاصب ممبران،اسمبلیوں میں بیٹھ کر بڑی بڑی تنخواہوں،سرکاری شاہی سہولتوں، تصرفانہ شاہی زندگی کا نظام قائم کرلیتے ہیں، اپنی ذاتی منفعتوں اور عیاشیو ں کیلئے ملکی وسائل، ملکی دولت، ملکی خزانہ کو اکٹھاکرنے اور اس پر قابو پانے اور عیش و عشرت لوٹنے کیلئے۔،تجارت کے نام پر لوٹ مار مچانے کیلئے ۔ بجلی ،گیس،تیل کی قیمتوں میں اضافوںسے لوٹنے کیلئے۔ مہنگائی کے قوانین سے پورے ملک کی عوام کا خون چوسنے کیلئے۔ طبقاتی تعلیم کے نظام سے ستر فیصد کسانوں اور انتیس فیصد محنت کشوں اور عوام الناس کی نسلوں کو تعلیم سے محروم اور ملکی نظام حکومت سے الگ رکھنے کیلئے ۔ قومی زبان اردو پر انگریزی زبان کو فوقیت دینے کیلئے ،سو لہ کروڑ اہل وطن سے انکی بینائی ،سماعت ،گویائی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کیلئے ۔ایک ملک کے چار ملک بنانے کیلئے۔ممبران کی تعداد بڑھانے کیلئے،۵۱ فیصد مستورات کے حقوق نسواں کے نام پر ۹۹۰۹ فیصد مستورات کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے۔جس سے۹۹۰۹ فیصد کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں ، معماروں اور عوام الناس کی مستورات کے بنیادی معاشی حقوق غصب کر نے کیلئے ۔ملک کے سرکاری نظام کو چلانے کیلئے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تربیت حاصل کرنے کے بعد انکی نسلیں سرکاری اہم عہدوں پر فائز کرنے کیلئے۔یہ غاصب ٹولہ اسمبلیوں میں بیٹھ کرایسے مجرمانہ اور غاصبانہ قوانین مرتب کرتے رہتے ہیں۔ عوام الناس کو بیروز گاری کا ایندھن بنانے ۔انکی پاکیزہ محنت و مشقت کی روزی کو لوٹنے۔انکو زندہ رہنے کیلئے معا شیا ت کے حصول کے کینسر میں مبتلا کرنے۔ انکے حاصل کئے ہوئے وسائل اور انکی پیدا کی ہوئی پیداوار اور دولت کو ٹیکس کلچر کے ذریعے چھین لینے۔ اقتدار کی نوک پر ان جرائم پر مشتمل غاصبا نہ قوانین و ضوابط کو تیار اور لاگوکر کے عوام الناس سے ملکی وسائل اور مال و دولت چھینتے رہتے ہیں۔ ملک کے حکمران اور انکے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کا ٹولہ اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ کر تصرفانہ زندگی اور شاہانہ اخراجا ت سے ملکی خزانہ کو بڑی بے دردی سے آگ لگاتے اور جلاتے رہتے ہیں۔عوام محکوم اور یہ ٹولہ حاکم بن جاتا ہے۔
۶۸۔ اسکے بعد ملک کے تمام وسائل،ملکی دولت، ملکی خزانہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے قانونی جرائم سے اپنی ملکیتو ں، فیکٹریوں ، کارخانو ں ، رہائشوں ، گاڑیوں ، شاہی بود و باش اور بنک بیلنسوںمیں بدلتے رہتے ہیں،ملکی ، غیر ملکی اخبارا ت انکے جرائم کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں ۔۔:۔
۱۔ انکے خلاف اندرون، بیرون ممالک بین ا؛لاقوامی عدالتوں اور ملکی محتسبوںکے پاس بھی کیس دائر ہوتے رہتے ہیں جو بنیادی طور پر اسی ٹولہ کے لوگ ہوتے ہیں۔محتسبوں کو اور انکے عملہ کو بڑی بڑی تنخواہیںشاہی سہولتیں سرکاری خزانہ سے ادا ہوتی یعنی لوٹ مار ہوتی رہتی ہے ، ملک میںغبن در غبن کا عمل جاری رہتا ہے۔
۲۔یہ آمر و غاصب حکمران ٹولہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے اربوں،کھربوں کے اندرون اور بیرون ممالک ایک دوسرے کے خلاف لوٹ مار کے کیسوں کو ختم کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔انکالوٹا ہوا مال ان کیلئے مال غنیمت بن جاتا ہے ۔اسکے علاوہ حکمرانی میں بھی حصہ دار بن جاتے ہیں۔یہ ٹولہ رہزن بھی ہے اور حکمران بھی ہے۔

۳۔ہر قسم کی بد عنوانی انکی زندگی کا معمول بن چکا ہے۔سیاستدان،حکمران اور محتسب ایک ہی ہتھیلی کے باٹ ہیں۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کا کیسا نظام حکومت ہے کہ ملک کی تمام عدالتیںاس ٹولہ کے جرائم کا کوئی تدارک کرنے کی بجائے انکو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔انکی تمام ملیں ،فیکٹریاں،کارخانے، تجارتی ادارے،سرے محل،رائیونڈ ہاؤسز،شاہی پیلس تمام جائدادیں، ہر قسم کی ملکیتیںسو لہ کروڑ اہل وطن کی وراثت ہیں جو عوام سے اقتدار کی نوک اور انتظامیہ اور عدلیہ کی طاقت سے چھینی جاتی ہیں۔ انتظامیہ اورعدلیہ کے ادارے انہوں نے اپنے اقتدار اور ۹۹۰۹ فیصد عوام الناس کے ہر قسم کے دینی اور دنیاوی حقوق غصب کرنے کیلئے مسلط کر رکھے ہیں۔
۴۔کوئی ملکی عدالت ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک انکے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لا سکی۔ورنہ ان تمام سیاستدانوںحکمرانوں،غاصب اور رہزن ٹولہ کے جرائم کی سزائیں بڑی اذیتناک، عبرتنا ک ہیں، جس سے یہ ٹولہ،انکی نسلیں اور انکا مال و متاع بچ نہیں سکتا،جو حقیقت میں ۹۹۰۹ کسانوں ،محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس کی ملکیت ہیں۔
۵۔ انہوں نے ملک میں عدل و انصاف و اعتدال و مساوات اور امانت و دیانت کے نظام حیات کو کچل دیا ہے ۔انکی عیش وعشرتاور تصرفانہ طبقاتی زندگی کا نظام حیات اس ملک و ملت کی تباہی کا باعث بن چکا ہے۔ان سے نجات حاصل کرناسولہ کروڑ اہل وطن اور انکی نسلوں کی بنیادی ضرورت ہے۔
۶۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے بے دین نظریات ،باطل ضابطہ حیات، غاصب نظام حیات کی تعلیم و تربیت سے ملت کے فرزندان کو پروان چڑھاتے اور ملک و ملت پر مسلط کر دیتے ہیں۔ جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والا غاصب طبقاتی تعلیمی نصاب ،اسکے تعلیمی ادارے اور ان اداروں کے تربیت یافتہ غاصب سیاستدان اور رہزن حکمران تیارہوتے ہیں۔ جمہوریت کے نظام حکومت کے نظام کو چلانے کیلئے یہی تعلیمی ادارے عدلیہ انتظامیہ کے سکالر بھی مہیا کرتے ہیں۔ جمہوریت کے ضابطہ حیات کا تیار کیا ہواتعلیمی نصاب جس کو اسمبلیوں کے ممبران تیار کرتے اور عوام الناس پر متعین کرتے ہیں۔ انکے تیار کردہ قوانین و ضوابط کو انتظامیہ اور عدلیہ کے ارکان من و عن عوام الناس پر مسلط کر نے کا عمل بجا لاتے ہیں۔جس سے ملک و ملت پر جبر و ظلم اور قتل و غارت کا معاشی ،معاشرتی عمل شروع ہو جاتا ہے۔اسکے برعکس سائنسی ترقی اورجدید علوم کی تعلیمات اور ملکی ترقی ایک الگ شعبہ ہے ۔ دین محمدی ﷺ اور دینی تعلیمات ، اسوہ حسنہ ۔ حسن خلق،اخوت و محبت اور ازدواجی زندگی کا نظام عطا کرتا ہے۔ دینی تعلیمات کی روشنی میں عدل و انصاف، اعتدال و مساوات اور امانت و دیانت کا ضابطہ حیات پروان چڑھتا ہے۔اس کے روشن چراغوں سے جو تہذیب تیار ہوتی ہے وہ لاجواب ہوتی ہے۔ وہ سائنس کی ترقی اور جدید علوم کی تعلیمات میں روکاوٹ نہیں بلکہ وہ تو اسکو چار چاند لگا دیتی ہے۔
۷۔ در اصل انتظامیہ اور عدلیہ کے روپ میں انہوں نے ایک ایسی ذاتی ملکی فوج تعلیمی اداروں کے ذریعہ تیار کی ہوتی ہے جن کو انہوں نے بطور جلادملک میںسو لہ کروڑ انسانو ں کا معاشی و معاشرتی قتال کرنے کیلئے سرکار ی ملازمتیں مہیا کی ہوتی ہیں۔
۸۔حکمرانوں کی طاقت کا اس سے اندازہ کر لو کہ اگر کوئی چیف جسٹس سپریم کورٹ سٹیل مل کی اونے پونے داموں فروخت میں حائل ہو۔اگر
کوئی جج گندم کو بیرون ممالک فروخت کرنے اور اسکے بعد ڈبل ریٹ سے بھی زیادہ دوبارہ ملک کی ضرورت کے مطابق گندم خرید کرنے اور کمیشنیں کھانے کے بارے میں پوچھ لے ۔
۹۔اگر کوئی جج حکومتی ایجنسیوں کے اٹھائے ہوئے افراد کا اتہ پتہ پوچھ لے۔
۱۰۔اگر کوئی جج لال مسجد اور حفصہ کے طلبا اور طالبات کے بیگناہ قتال کی وجہ اور سیاق و سباق پوچھ لے۔
۱۱۔اگر کوئی جج حکومت کی پاور آف شو کے سلسلہ میںکراچی میں لاشوں کے دھیر لگانے کے بارے میں پوچھ لے۔
۱۲۔اگر کوئی جج کارگل کی پہاڑیوں پر افواج کی تباہی کے متعلق پوچھ لے۔
۱۳۔اگر کوئی جج ۹۰ ہزار افواج کا مشرقی پاکستان میں ہتھیار پھینکنے اور قیدی بن جانے کے ملی سانحہ کے بارے پوچھ لے۔
۱۴۔اگر کوئی جج مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے بارے میں ان غداروں سے پوچھ لے۔
۱۵۔اگر کوئی جج مغربی پاکستان کو پاکستان بنانے،اسکے چار صوبوں کو الگ ملک بنانے، چار نئے مشرقی پاکستان بنانے کی بابت پوچھ لے ۔
۱۶۔اگر کوئی جج چاروں صوبوں کو الگ کرنے،چار نئی حکومتیں قائم کرنے ایم پی اے ، مشیر و وزیر،وزرائے اعلیٰ ،گورنرز انکے سرکاری اعلیٰ عہدید ا روںکی افواج کے بجٹ کا حساب پوچھ لے۔
۱۷۔انکے شاہی محلوںپر مشتمل وزرائے اعلیٰ کے دفاتر،انکی شاہی انمول رہائشیں،انکی سرکاری گاڑیاں،ان کے پٹرول،انکی شاہی تنخواہیں، شاہی سرکاری انگنت سہولتوںکے بارے میں پوچھ لے۔
۱۸۔ اس غاصب،رہزن ٹولہ کے شاہی اخراجات کس نے ادا کرنے ہیں۔ وزیروں ، مشیروں، وزرائے اعلیٰ،گورنرز،وزیر اعظم یا صدر پاکستان نے یا بے بس و مجبور، غریب و مسکین ، بیوہ و یتیم،اپاہج ومحتاجوں،بوڑھوں و بیروزگاروں،یا زندہ رہنے کیلئے ضرویات حیات کی نایابی سے تنگ آکر خود کشیاںو خود سوزیاں کرنے والی عوام الناس نے۔
۱۹۔پہلے یہ ملکی غدار، انگریز کے کندھے پر بندوق رکھ کر یہ ظلم کرتے تھے اب انہوں نے جرنیلوں کی گن پوائنٹ پر اس ملت پر ہر قسم کا جبر،ہر قسم کا ظلم،ہر قسم کا معاشی اور معاشرتی قتال کا عمل جاری کر رکھا ہے۔
۲۰۔ انکا سرکاری خزانہ پر ہر روز شب خون مارنہ،انکی ملیں ، فیکٹریاں،کارخانے،اندرون ،بیرون ممالک تمام تجارتی ادارے اسی گن پوائنٹ پر انکی ملکیتیںبنتی ،پھلتی پھولتی جا رہی ہیں۔
۲۱۔ملک کا کوئی تجارتی ادارہ یا ٹھیکہ ایسا نہیں جن میںانکی حصہ داری نہ ہو ۔کوئی ایسا بنک یا ہاؤسنگ سوسائٹی ایسی نہیں جن کے غبن کے کیسوں میں یہ شامل نہ ہوں۔
۲۲۔ہارس ٹریڈنگ کے سیاسی جمہوری نظام سے اربوں کے کیس معاف، تمام سیاستدانوںِ، حکمرانوں کے تمام جرائم معاف۔ ملکی وسائل ، مال و دولت،تجارت اور تمام ذرائع آمدن انکی ملکیتیں اور ملکی خزانہ انکی جیب خرچ بن چکا ہے۔
۲۳۔ صدر مملکت کا کمال یہ ہے کہ جو جج انکی مرضی کیخلاف چلے ،جو انکے غیر آئینی صدر ہونے پر دستخط نہ کرے، چاہے وہ چیف جسٹس
پاکستان ہی کیوںنہ ہو اسکو کان سے پکڑ کر اسکے دفتر سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ان نئے من پسند ججوں کو متعین کیا جاتا ہے جو انکے تمام دین کش ،آئین کش اور صدر پاکستان کا غیر آئینی حلف لینے پر رضا مند ہو۔
۲۴۔جب عدلیہ اور وکلا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں،عدلیہ کے جج نئے سرے سے آئین کے خلاف اوتھ دینے سے انکار کر دیں انکی ملازمتیںختم کر کے انکی جگہ اپنی پسند کے نئے جج مقرر کر کے تمام آرڈیننس جو آئین پاکستان کے خلاف تھے انکو منظور کروا لیا جائے۔
۲۵۔ کس کی مجال کہ کوئی جج اگلے پانچ سالوں کے لئے اس جنرل پرویز مشرف کو صدر پاکستان نام زد نہ کریں۔
۲۶۔ملک کی تما م پاور صدر پاکستان اپنے ہاتھ میں لے لیں۔دوسرے جرنیل برائے نام جرنیل بنے رہیں،یہ جمہوریت کا کیسا مظاہرہ ہے
۲۷۔ پاکستان کے اس جرنیل کو ہائی جیک کر کے مسلم لیگ ق نے اپنی جماعت میں شامل کر لیا۔
۲۸۔انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو صدر پاکستان تسلیم کیا۔ اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے اسکو تا حیات صدر پاکستان بنانے کا لالچ دیا۔اس کے نعرے لگائے ۔تمام سیاسی جماعتیں صدر پاکستان کے اس عمل سے نالاں ہو گئیں۔اس طرح افواج پاکستان کو انہوں نے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر دیا۔
۲۹۔ صدر پاکستان، انکے فوجی مشیر کتنے دانائے وقت ہیں کہ ملت نے تو انکو پاکستان کا جھنڈا دیا تھا انہوں نے مسلم لیگ ق کا جھنڈا ہاتھ میں تھام لیا۔پاکستانی سپاہ کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا۔ اسی طرح افواج کا سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہونا ایک فطرتی عمل ہے۔ ۳۰۔پاکستان مسلم لیگ ق کے تعاون سے صدر مملکت نے حقوق نسواں کے نام پر ۵۱ فیصد مستورا ت کی ایم پی اے،ایم این اے، سینیٹرز کے ممبران کی تعداد بڑھا کر ملک کے تمام وسائل ،مال و دولت اور ذرائع آمدن اور ملکی خزانہ کی لوٹ مچا دی ہے۔
۳۱۔ سیاستدان اور حکمران طبقہ کی مستورات کو حکومت پاکستان کے حکومتی ٹولہ میں شامل کر کے ملک میں غربت ،تنگدستی،افلاسِسے تنگ آکر ملت کے نوجوان خود کشیوں ، خود سوزیوںکے ایک ہولناک سانحہ سے دو چار ہو چکے ہیں۔
۳۲۔ مہنگائی سو فیصد سے بھی ایک فیصد مزید بڑھ چکی ہے۔عوام چیخیںمار رہے ہیں،ملکی معیثت کو دو گناہ سے بھی ایک فیصد زیادہ انکی مستورات کامادر پدر آزاد ٹولہ حکومت اور سرکاری مشینری اور اعلیٰ عہدوں میں لوٹ مارمچا چکا ہے۔
۳۳۔ دوسر ی طرف دین محمدی ﷺ کے بنیادی رکن ازدواجی زندگی کے نظام حیات کو بھی جمہوریت کے ممبران کی عددی برتری سے ختم کر دیا ہے۔اب پاکدامن ،با حیا،عصمت و عفت کی پاکیزہ، غیر محرم مرد و زن کے ملاپ سے پاک ماں ،بیٹی ، بہن کی تلاش کرنا ممکن نہیںرہا ۔
۳۴۔انہوں نے دین محمدسی مﷺ کے ازدواجی نظام ،چادر اور چار دیواری کو حکومتی سطح پر ختم اور مسخ کر دیا ہے۔پاکستان میںمسلم امہ اور انکی نسلو ں کو مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت، مخلوط معاشرہ کی بے حیائی ،فحاشی ،بدکاری، زناکاری کی نان کرسچن جمہوریت کے معاشرتی زندگی کے نظام حیات کے کلچر میں سرکاری طور پر مقید کر دیا ہے۔
۳۵۔پاکستانی جرنیل نے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ جرائم میں ملوث ممبران کی عددی برتری گن پوائنٹ پر اکٹھی کی ۔خود مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بنا اور بعد میں صدر پاکستان کا عہدہ سنبھال لیا۔ فوج کو سول حکومت میں شامل کیا اور اسکو کرپشن کا راستہ دکھایا۔

۳۶۔فوجی ہنر،مہارت اور اہلیت کو ختم کیا۔اسکے افسران اعلیٰ کو ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی لوٹ سیل میں شامل کیا۔ ملک کے محافظ ملک کے بد دیانت تاجر اور رہزن بنا دئیے گئے۔ فوج کا کرداراور اسکا نام رسوائے زمانہ کیا۔اصلاح کرنے والے شتر بے مہار ہو گئے۔
۳۷۔جو کام جاگیر دار،سرمایہ دار اور ملکی غدار ٹولہ از خود نہ کر سکا وہ فوج کے جنر ل مشرف پرویز سے لے لیا۔ مسلم امہ کے نظریات کو کچل دیا۔ ۳۸۔یہ حکمرا ن ٹولہ اپنے پلاٹوں،ملوں اور بنک بیلنسوں کو ملک کی ترقی سمجھتا ہے۔ملک میںگاڑیوں کی بہتات کر دی،بیرون ممالک سے بیشمار گاڑیاںاقساط پر خرید کیں۔ کرپٹ ٹولہ کے حکمرانوں نے دو تین لاکھ روپے کی پہلی قسط وصول کی ملک کا تمام حاضر سرمایہ باہر بھجوا دیا۔ سات سال تک گاڑیوں کی اقساط ادا ہوتی رہیں گی۔انکو چلانے کیلئے اربوں،کھربوں کا پٹرول بھی جلایا جائیگا۔اس میں اس حکمران ٹولہ نے خوب کمیشن کھائی اور رشوت لے کر ان گاڑیوں کی ایجنسیاں ملک میںجاری کیں۔ اگر آج ان تمام گاڑیوں کی قیمت کی ادائیگی کی جائے تو ملکی زر مبادلہ منفی زیرو ہو جاتا ہے۔یہ لٹیروں کا حکومتی ٹولہ ہے جو ہر حکومت میںموجود ہوتا ہے۔۹۹۰۹ فیصد عوام الناس چالیس اربوں کی مقروض،یہ شاہی ٹولہ ملکی وسائل،مال ودولت،خزانہ اور ملکی چالیس ارب ڈالر کا قرضہ نگل چکا ہے۔ ملک کی ترقی کو اپنے عیش و عشرت کے پیمانہ ،اپنے شاہی تصرفانہ اخراجات کی بد عملی ، اپنی اس شاہانہ بود و باش کی نسبت سے ناپتا اور تولتا جاتا ہے۔۹۹۰۹ فیصد محکوم عوام الناس کی سسکتی زندگی سے نہیں۔یہ کتنے ظالم اور غاصب معاشی اور معاشرتی درند ے ہیں۔
۶۹۔ ملک میں رائج الوقت نان کرسچن جمہوریت کی جیتی ہوئی جنگ کے فاتحین یعنی سیاسی سکالر اور دانشور حکمران ٹولہ نے اس ملت کے سولہ کروڑ ۹۹۰۹ فیصد کسانوں ، مزدوروں ، محنت کشوں،معماروں،ہنر مندوں، عوام النا س اور انکی نسلوںکو محکومی کی زنجیریں پہنا رکھی ہیں۔ ملکی انتظامیہ اور عدلیہ کے پنجرے میں پابند سلاسل کر کے بے بس بنا دیتے ہیں۔اہل وطن انکے احکام کو ایک مجبور قیدی کی طرح من و عن تسلیم کرتے۔ انکی معاشی اور معاشرتی اذیتں برداشت کرتے رہتے ہیں۔ عوام ان کے تیار کردہ قوانین پر عمل درآمد کرنے پر مجبور اور حکمران انکو گدھوں کی طرح ہانکتے جاتے ہیں۔ ان سیاسی حکمرانوں کے غاصبانہ ،ظالمانہ طرز حیات،طرز حکومت اور جمہوریت پر انگلی اٹھانے والا ملک کا دہشت گرد ،باغی اور غدارقرار دیا جاتا ہے۔یہ ظالمانہ طرز حکومت اس ملک پر کب تک مسلط رہے گا۔انکے ایام پورے ہو چکے ہیں۔اگر یہ اس جمہوریت کے ظالمانہ ضابطہ حیات کو ترک نہیں کرتے انکا انجام کیا ہوگا۔وقت سے پہلے اس کی تصویر کشی نہیں کی جا سکتی۔
۷۰۔ مغربی جمہوریت کے طرز حکومت میں مذہب کے خلاف بچے بغیر باپ کے پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ ماں،باپ ،بہن، بھائی اور تمام ازلی اور ابدی رشتے نایاب اور ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ان رشتوں کاا دب اور تقدس ختم ہو چکا ہے۔محبت جیسا پاکیزہ، مقدس اور فطر ت کا عظیم آسمانی تحفہ ان رشتوں کے روپ میں نایاب ہو تاجا رہا ہے۔عیسا ئیت کے ممالک کے حکمران عیسیٰ علیہ السلام کے ازدواجی نظام حیات کو توڑنے کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو سوچنا ہوگا۔ اہل مذہب ،صاحب بصیرت انسانوں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں کی حکومتی بالا دستی نے تمام مذہبی ممالک میں پیغمبران کے نظریات کو روند کر رکھ دیا ہے۔ وہ عملی طور پر اپنے اپنے پیغمبران کے نظریات،تعلیمات اور ضابطہ حیات کے منکر گستاخ اور بے ادب ہو چکے
ہیں۔انہوں نے انکی شکل مسخ کر رکھ دی ہے ۔ ازدواجی زندگی کی عمارت کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے، انہوں نے پیغمبران کی امتوں سے انکی الہا می قدریں ،انکادین اور دنیا چھین لی ہے۔اسکے عوض انہوں نے تمام امتوں کو جنسی آزادی،بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کے راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ دنیا کی خواہشات کی آگ جلا کر نفرت ،نفاق اور جنگ و جدال کی چتا میں جھونک رکھا ہے۔یا اللہ بنی نوع انسان پر رحم فرما، ان بد اعمالیوں کے تدارک کی توفیق عطا فرما اور اپنے فضل سے نواز۔آمین