To Download or Open PDF Click the link Below

 

  اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں سے دین محمدی ﷺ کی آزادی کو حاصل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔
عنایت اللہ
مسلم امہ کے چھپن ممالک کے سیاسی دانشوروں اور حکمرانوں اور خاص کر پاکستان کے اینٹی کرسچن جمہوریت پرست سیاستدانوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیڈر صاحبان کوسوچنا اور غور کرنا ہوگا۔ کہ مسلمانوں کے زوال کے اسباب کیا ہیں ۔ انکی وجوہات کیا ہیں،انکی اجتماعی غلطی کیا ہے،جسکی بنا پر یہ عظیم ملت پستی اور تباہ کن واقعات سے دو چار ہے ۔اسکے ذمہ دار کون ہیں۔مسلم امہ از خود آپ ہے یاحکمران ہیں یا طرزحکومت ہے،آمریت ہے، بادشاہت ہے یا اینٹی کرسچن جمہوریت ہے یا دین سے دوری کی سزا ہے ! ۔بیماری کیا ہے اور اسکا علاج کیا ہے!۔ ملت اسلامیہ کے صاحب بصیرت ملت کی رہنمائی فرماویں۔ ان سوالات کے جواب تلاش کر کے ملت کو اسکے زوال کی وجوہات سے مطلع فرماویں۔ اسکا تدارک کا راستہ بتائیں!۔ اسکی اصلاح احوال فرما کر مشکور فرما ویں، اللہ تعا لیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ منزل سے دور، بھولی بھٹکی ملت کا قبلہ درست فرمائیں۔ تما م مسلم مما لک کے حکمرانوںکو راہ راست سے آگاہی بخشیں تاکہ مسلم امہ اور اسکی آنیو ا لی نسلیں درست منزل پر گامز ن ہو سکیں ۔ بنی نوع انسان اس سے استفادہ کر سکیں۔ مسلم امہ کے پاس اس وقت دنیا میں چھپن ممالک ہیں،جہاں پر انکی حکومتیں قائم ہیں۔انکی آبادی ایک ارب پنتیس ،چالیس کروڑ افراد کے قریب ہے، دنیا کی کم و بیش بہترین باسٹھ فیصد عمدہ رقبہ انکے پاس موجود ہے،اسی طرح ان مما لک کے پاس دنیا کے کم و بیش اڑسٹھ فیصد قدرتی وسائل تیل گیس،یورینیم ، سونا اور طرح طرح کے انگنت قیمتی ذخائر فطرت کی طرف سے انہیں میسر ہیں ۔ سمندر ، ندی ، نالے، دریا، پہاڑ و دامن، جنگل و بیاباں،صحرا و میدان انکی ملکیت ہیں ۔ ہر قسم کی خوراک، پینے کیلئے ٹھنڈے میٹھے پانی کے ذخائر، لباس،ہر قسم کے پھل ، سبزیاںہر قسم کے میوہ جات انکے پاس وافر مقدار میں موجود ہیں۔
اسکے علاوہ انکے پاس انکی رہنمائی کے لئے دنیا کا بہترین الہامی دستور مقدس ، بہترین الہامی نظریات،بہترین ضابطہ حیات، بہترین تعلیمی نصاب ،بہترین اخلاق و کردار سنوارنے کے آ داب، رحمت اللعالمینﷺ کی بہترین رہنمائی انکی وراثت ہے۔پھر یہ ملت دنیا میں ذلیل وخوار کیوں! ہمیں غور کرنا ہوگا۔ ہماری اجتماعی غلطی کیا ہے۔جو ہمارے زوال اور پستی کی وجہ بنی ہوئی ہے۔تمام ممالک کے سر براہان ایک مرکز پر اکٹھے ہوں۔ آپس میں نفرت اور نفاق کو ختم کریں۔ امریکہ کی طرح یونا ئٹیڈ سٹیٹ آف مسلم قائم کریں۔ تمام ممالک کی ایک مجلس شوریٰ ترتیب دیں۔ تمام ممالک دین کی روشنی میں اتفاق رائے سے ایک امیر المومنین مقرر کریں۔ تمام ممالک میں گورنر راج قائم کریں ۔ ہر ملک میں شورائی نظام کی روشنی میں شورائی مجلس کا تعین کریں ۔ تمام ممالک کی ایک کرنسی مقرر کریں۔دین کی روشنی میں جدید بنیادو ں پر ایک تعلیمی نصاب قائم کریں۔دین کی روشنی میں اخلاق و کردار کی آبیاری کریں۔ دین کی روشنی میں محنت و تجسس کے عمل کی پیروی کریں، دنیا کی بے ثباتی کا سبق یاد کروائیں۔مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا درس عام کریں ۔ احترام انسانیت کے عمل کو اپنائیں ۔خدمت خلق کو عبادت کا اتم وسیلہ تسلیم کریں ۔طبقاتی نظام اور تصرفانہ زندگی سے نجات حاصل کریں۔ ملت کو محنت کا عادی بنائیں۔ ڈسپلن قائم کریں۔ ملت کے فرزندان کو خوف خدا کی آفادیت سے آگاہ کریں۔ حسن عمل اور حسن کردار کی شمع روشن کریں۔اعلیٰ الہامی صفات کو زندگی میں اجاگر کریں ۔ صداقت کی قندیلیں منور کریں۔ تمام پیغمبران کی امتو ں کو عزت و صد احترام دیں،امیر المومنین کی زندگی اور عام انسان کی زندگی کے فرق کو ختم کر یں،ملکی ملی امانتوںکو تحفظ فراہم کریں،اعتدال و مساوات کوملی سطح پر قائم کریں، ملی کردار کوعدل کی آبیاری سے سینچیں۔عدل و انصاف کے نور سے ظلمت کدہ کو روشن کریں۔دستور مقدس کی اطاعت کریں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قا ئم کریں۔اس میں پوری بنی نوع انسان اور اسکی آنیوالی نسلوں کیلئے ایک سراپا رحمت ہے۔اس آفاقی دستور حیات نے اقوام عالم اور دنیائے عالم کی رہنمائی کے فرائض ادا کرنے ہیں۔ پاکستان اس مشن کی تکمیل کے لئے ہمارے معزز اکا برین اور عظیم رہنماؤں نے حاصل کیا تھا۔دستور مقدس اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا انکی منزل مقصود تھی۔ اس اینٹی کرسچین جمہوریت کے نظریات اور اسکے فاسق فاجر اور منافق زندگی کے طرز حیات سے نجات حاصل کرنا ان کا بنیادی مشن تھا۔ پاکستان جیسا ملک تو ملت اسلامیہ کے فرزندان نے دین کے نام پر بہت بڑی قربانیاں دے کر حاصل کر لیا۔لاکھوں معصوم بچے بچیوں، بیگناہ نوجوانو ں ، لا تعداد بوڑھے والدین اور بزرگوں کی شہادتوں کا خون،پانچ چھ لاکھ مستورات کے چھن جانے اور بطور یرغمال ہندوؤں کے پاس چھوڑ آنے کے زخم،معصوم و بیگنا ہ مستورات کی عصمتوں کے لٹنے کی اذیتیں ،ماں باپ اور بزرگان کی قبروںکو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ آنے کے غم،وطن سے بے وطن ہونے کے دکھ، مال ومتاع اور گھروں کے لٹ جانے کی اذیتوں کی کسک اس ملک کی بنیادوں میں دین اور دین کی بالا دستی کی خاطر دفن ہیں۔ آج تک انکی روحیں حکمرانو ں کے سامنے سراپا سوال بنی کھڑی ہیں۔ان سے سوال کرتی ہیں! کہ اے اینٹی کرسچن جمہو ریت کے سیاسی دانشورو اورحکمرانوں یہ تو بتاؤ ! کیا یہ ملک مخلوط معاشرہ،فحاشی، جنسی آزادی ، زنا کاری ،شراب نوشی،حق تلفی،نا انصافی،قتل و غارت،رشوت، کمیشن ،کرپشن،طبقاتی نظام حیات،طبقاتی تعلیمی نظام ،سودی معاشی نظام،۱۸۵۷ کے ایکٹ کی انتظامیہ، عدلیہ کا بھیانک طرز حیات ،اسمبلی ممبران کے پاس کردہ قوانین و ضوابط کی اطاعت سیاستدانوں، حکمرانوں کے سرکاری جرائم پر مشتمل قوانین کے ذریعہ ملکی وسائل اور دولت کو ٹیکسوں اور مہنگائی کے ذریعہ چھیننے اور اپنی ملکیتوں میں بدلنے کا طریقہ کار، کسا نو ں ،مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس سے انکے وسائل اور دولت چھیننے کے ضوابط،انکی سرکاری اور نجی شاہانہ زندگی ، شاہانہ بود و باش اور تصرفانہ زندگی کے بے پناہ لوازمات اور اخراجات ، ٹی وی پر ناچ ،گانوں اور چند برائی ،فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والے بے ضمیر ڈرامہ نویسوں اور فنکاروں کی یلغا ر،ملک کے مخلوط طبقاتی تعلیمی ادارے انکی اس تہذیب کو تیار کرنے کی گھناؤنی فیکٹریاں بن چکی ہیں۔کیا پاکستان مسلم امہ کے دینی، معاشی اور معاشرتی قتال کے لئے بنایا گیا تھا۔ملک و ملت کو ان حکمرا نو ں نے اینٹی کرسچین جمہوریت کے ان قوا نین و ضوابط اور انکو چلانے والی سرکاری مشینری،انکے مخلوط طبقاتی تعلیمی ادارے،قومی اردو زبان پر چند انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کے فارغ البال افراد کی سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان پر سرکاری بالادستی۔کتنے ظلم کی بات ہے کہ مسلم امہ کو آنکھوں سے اندھا ، کانوں سے بہرہ،زبان سے گونگا،دماغ سے ماعوف،یعنی نہ وہ انگریزی پڑھ سکتے ہیں، نہ وہ سن کر سمجھ سکتے ہیں نہ وہ بول سکتے ہیں اور نہ وہ ذ ہنی طور پر اس زبان سے آشنا ہیں۔اس طرح ملک کے سولہ کروڑ انسانوں کو جاہل بے بس،لاچار ، محکوم، قیدی، شودر اور گدھے بنا کر ان انگریزی دانوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔وہ قومی زبان جس کو ہم سمجھتے،بولتے اور روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں ، ان انگریزی دانوں کی خاطراردو زبان کو ترک کر کے کتنے سالوں میںاس انگریزی زبان کو قوم کو سیکھنے میں لگیں گے۔بطور زبان انگریزی کو سیکھا جا سکتا ہے۔قومی زبان نہیں بنایا جا سکتا۔اردو ایک لشکری زبان ہے تمام زبانوں کے روز مرہ کے الفاظ اس میں سموئے جا سکتے ہیں۔ انکا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔اسکا دامن بہت وسیع ہے۔ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری حکومتی مشینری کو یہ زبان نہیں آتی۔اس لئے وہ اس زبان کی اہلیت سے آشنا ہی نہیں۔ تم مسلم امہ کے روپ میں کون ہو !۔ جو اس اسلامی ملک کو دین کشی ،عدل کشی کی چتا میں جھو نکتے جا رہے ہو۔ تمہارے ضمیر کو ہوس زر کے نشے، شہوت اور بے حیائی کے نشے،ملت کا مال و متاع چھیننے کے نشے، تصرفانہ زندگی گذار نے کے نشے ، اعتدال ومساوات کو کچلنے کے نشے،دین کی اقدار اور نظریات کومسخ کرنے کے نشے،اقتدار کی جنگ جیت کر حکمرانی کے نشے میں تم یہ سب کچھ بھول چکے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو۔ کتنے ظالم اور غاصب ہو۔وقت تیزی سے بدلتا جا رہا ہے۔ تم سمجھ نہیں پا رہے ہو ۔ دیکھنا کہیں یہ امت محمدیﷺ کے فرزند اور ملت کے یہ عظیم سپوت جو تمہارے اینٹی کرسچن جمہوریت کے پیدا کردہ اِن تمام عبرتناک حالات و واقعات اور انکے بد ترین زخموں میں نڈھال اور مدہوش ہو ئے پڑے ہیں۔وہ کہیں بیدار نہ ہو جائیں۔ کہیں وہ آپ سے ہجرت کے بے پناہ زخموں کی اذیتوںکا حساب نہ مانگ لیں کہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے کا مقصد کیا تھا۔ کہیںوہ نعرہ جس پر تمام امت ایک مرکز پر اکٹھی ہو ئی تھی،لا الٰہ الاللہ محمد الرسو ل ﷺ اللہ ۔ کے متعلق نہ پوچھ لیں کہ اسکا مقصد کیا تھا۔ کہیں وہ آپ سے آج تک ملک میں دین محمدیﷺ کے نافذنہ کرنے کی وجہ اور پس پردہ اصل حقائق و واقعات نہ پوچھ لیں کہ تم مسلم امہ اور پوری انسانیت کے ساتھ کیا کر رہے ہو۔ کہیں وہ آپ سے پانچ لاکھ بیٹیوں کے دوران ہجرت یرغما ل بنانے کے زخموں کے حسابات نہ مانگ لیں۔ کہیں وہ آپ سے وطن چھوڑنے کے اسباب و الل نہ پوچھ لیں۔ کہیں وہ آپ سے اپنے معصوم بچے بچیوں ،بے گناہ ماں باپ، بیٹے بیٹیوں، بہن بھائیوں، عزیز واقارب اور بزرگوں کی پانچ چھ لاکھ شہادتوں کی عظیم قربانی کا حساب نہ مانگ لیں۔ کہیں وہ آپ سے اس مشن کے بارے میں نہ پوچھ لیں جس کی خاطر یہ تمام قربانیاں دی گئی تھیں۔ کہیں و ہ سیاسی جماعتوں، دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے پاکستان میں اسلام یعنی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو نافذ نہ کرنے کی وجوہات دریا فت نہ کر لیں۔کہیں وہ آپ سے دین محمدیﷺ کے نظریات اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کا فرق نہ معلوم کر لیں۔ کہیں وہ آپ سے دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کا فرق نہ پوچھ لیں۔ کہیں وہ آپ سے اسلامی طرز حیات اور اینٹی کرسچن جمہوریت کی طرز حیات کے تضاد کی معلومات حاصل کرنے کیلئے سوال نہ کر دیں۔ کہیں وہ آپ سے اسلامی تعلیمی نصاب اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے طبقاتی تعلیمی مخلوط طریقہ کار کے بارے میں سوال نہ کر دیں کہ تم مسلم امہ کو کس عذاب میں ڈالے جارہئے ہو ۔ کہیں وہ آپ سے پیغمبرِخدا پر وحی کے علوم اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشورو ں کے علوم کا موازنہ نہ کروا لیں۔ کہیں وہ آپ سے پیغمبرِ خداﷺ کے شورائی جمہوری نظام اور مغرب کے دانشور و ں کے تیار کردہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کا فرق معلوم نہ کر لیں۔ کہیں وہ آپ سے مذہب کے شورائی جمہوری نظام کے شورائی ممبر کے انتخاب اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے ممبران کے چناؤ کے الیکشن کے طریقہ کار کے متعلق وضاحت طلب نہ کر لیں۔کہیں وہ آپ سے شورائی نظام کے مطابق اعلیٰ دینی صلاحیتوں، بہترین دینی صداقتو ں اور بہترین امانت و دیانت کے دینی اوصاف پر مشتمل افراد، صاحب بصیرت اور اعلیٰ اہلیت کے حامل شخصیات کے چناؤ کے طریقہ کار اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے مادی وسائل،شاہی اخراجات اور معاشرے کے با اثر،بد قماش، مادی وسائل پرقابض افراد کے الیکشن کے ذریعہ چناؤکا فرق معلوم نہ کر لیں۔ کہیں وہ آپ سے شب بیدار صاحب فہم و ادراک اور خدائی نظام کے نمائندہ، پرخود غرض، مادہ پرست،نفس پرست ،انسانی معاشی حقوق غصب کرنے والے اینٹی کرسچن جمہوریت کے طبقاتی نمائندہ کے طرز چناؤ کے نافذ کرنے کی وجہ اور اسکی فوقیت کے بارے میں پوچھ نہ لیں ۔ کہیں وہ آپ سے اسلامی معا شیات اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے سودی معاشیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی وضاحت طلب نہ کر لیں۔کہ کونسا نظامِ معاشیا ت مسلم امہ کے ایمان کا حصہ اور لازم ہے اور کس سے دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے۔ کہیں وہ آپ سے سودی معاشیات کی رائج الوقت اینٹی کرسچن جمہوریت کی پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک کی دین کش معاشی تعلیمات اور اسکے تیار کردہ معاشی دانشوروں کا حساب نہ مانگ لیں۔جو مسلم امہ کی نسلوں کو بے دین بنانے کی ایک کھلی سازش ہے۔ کہیں وہ آپ سے اسلامی نظام حکومت چلانے والی انتظامیہ، عدلیہ اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والی انتظامیہ اور عدلیہ کے قوانین و ضوابط کی وضاحت قرآن کی روشنی میں طلب نہ کر لیں ۔کہ مسلم امہ پر کونسا نظامِحکومت لا زم ہے۔کہیں وہ آپ سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کو چلانے والی انتظامیہ کی افسر شاہی اور نوکر شاہی کی بے دین تعلیمات اور اسکے تیار کردہ انتظامیہ کے بے دین سکالر اور دانشوروں کے بارے میں پوچھ نہ لیں کہ انکو کس جرم کی سزا میں دینی نظریات اور دینی تعلیمات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ کہیں وہ آپ سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کو چلانے والی عدلیہ کے ارکان، وکلا اور منصفوں کی دین کش تعلیمات اور اسکے تیار کردہ بے دین عدلیہ اور وکلا کے عظیم دانشورو ں کے بارے میں یہ وضاحت طلب نہ کر لیں کہ کس جرم کی سزا میں ان کو دینی اور دینی تعلیمات کے نظام سے محروم کیا جا رہا ہے،کسطرح ہائی جینٹری کو تفاوتی زندگی کی ضروریات دے کر ہائی جیک کر کے انکو دائرہ اسلام سے خارج اور اپنا حکومتی نظام کو ملک پر جا ری رکھا ہوا ہے۔ کہیں وہ آپ سے پیغمبر اسلامﷺ کے دین کے نظریات،اسکے ضابطہ حیات ،اسکے طرز حیات پر مشتمل تعلیمی نصاب اور مغرب کے سیاسی دانشوروں کے تیار کردہ اینٹی کرسچن جمہور یت کے نظریات،اسکے ضابطہ حیات،اسکے طرز حیات پر مشتمل تعلیمی نصاب کی بالا دستی اور پیروی کے متعلق خوفناک سوال نہ کر بیٹھیں!کہیں وہ آپ سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کو اپنانے کے بعد یہ سوال نہ پوچھ لیں کہ آپ کا اور مسلم امہ کا دین کے ساتھ کونسا رشتہ باقی رہ جاتا ہے۔اس کا کیا جواب دو گے ! زندگی یزید کی اور عاقبت حضرت امام حسین ؓ علیہ السلام کی کیسے ممکن ہے ! کہیں وہ آپ سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی لیڈران کے اسمبلیوں میں پاس کردہ قوانین و ضوابط جن کے ذریعے وہ پاکستان میں اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی مذہب کے نظام حکومت کو چلاتے ہیں کی وجوہات نہ پوچھ لیں۔ کہیں وہ دین کش سودی معاشیات کے معاشی سکالر پرائمری سے لیکر پی ا یچ ڈی تک،اور ملک کے تمام انتظامی امور کو چلانے والی دین کش افسر شاہی، نوکر شاہی کے پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک کی تعلیم و تر بیت کے متعلق پو چھ نہ لیں ۔کہیںوہ ملک کی عدلیہ کے نظام کو چلانے والے منصف شاہی اور وکلا کے پرائمری سے لیکر لا گریجوایشن اور لا گر یجو ایشن سے لیکر بار ایٹ لا، تک کا تمام غیر دینی تعلیمی نصاب اور اسکی تربیت کے متعلق سوال نہ کر لیں! ملک کے تمام معاشی ، معاشرتی ،انتظامی اور عدالتی اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے والے بے دین عظیم سکالر اور عظیم دانشور تیار کرنے والے تمام طبقاتی تعلیمی اداروں کو جو ملت پر مسلط کئے ہوئے ہیں،اس سازش کے بارے میں پوچھ نہ لیںکہ کیا تم مسلم امہ کے حکمران ہو یا ۔ ! پاکستانی مسلم امہ اور اسکی نسلوں کو پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ انکے دین ،انکے نظریات، انکے ضابطہ حیات،انکے طرز حیات، انکی تعلیمات جن کی خاطر یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا۔اسکی سرکاری برتری اور بالا دستی پس پشت ڈالنے والے تم کون ہو۔ تمہیں کس نام سے پکارا جائے ،ملت کو آپنا نام تو بتا دو! پاکستان میں دین اسلام کو سرکاری طور پر جمہوریت کے ان چند سیاستدانو ں اور حکمرانوںنے معطل اور منسوخ کر رکھا ہے آخر کیوں!ووٹ تو اسلام کے نام پر ملت سے طلب کئے جاتے ہیں اور ملت پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل ، غاصب نظام کو مسلط کئے جارہے ہیں۔ غور سے سن لو!اب ایسا الیکشن ملت پر مسلط نہیں ہوگا۔ملک میں دین محمدی ﷺکی بالا دستی کو ختم کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں نے اسکی بالا دستی قائم کر رکھی ہے آخر کیوں! کیا یہ مغربی جمہوریت کا مسلم امہ پر نفاذ، دین کے نظریات، دین کے ضابطہ حیات، دین کے طرز حیات ،دین کی تعلیمات سے مسلم امہ کو اور اسکی آنیوالی نسلوں کو ختم کرنے کی ایک گہری سازش نہیں ہے ،آخر ایسا کیوں!۔اے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں!اے دین کے منافقو!اے محمد مصطفی ﷺ کے گستاخو اور بے ادبو! تمہیں ملت کو جواب دینا ہوگاکہ تم مسلم امہ اور اسکی نسلوں کو جمہوریت کے کفر کی چتا میں کس جرم کی سزا میں دھکیلتے چلے جا رہے ہو۔تم نے مسلم امہ کے فرزندان پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے کفر کا تعلیمی نصاب کیسے مسلط کر رکھا ہے۔تم مسلم امہ کے الہامی نظریات کو کیسے بدل رہے ہو۔ بہت کچھ کر چکے ہو۔ خبردار وقت گذر چکا ہے ۔اب اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کو چلانے والے الیکشن ملت پر مسلط نہیں ہونگے۔ تم جانتے ہو کہ اس جرم کی سزا کیا ہے۔تم جانتے ہو کہ یہ تمام وسائل، دولت اور تمہارے تمام کاروبار،تمام ملکیتیں اور تمہاری تمام عیش و عشرت کی زندگی اسی اینٹی کرسچن جمہوریت کے جرائم کی پیداوار ہیں۔ یہ مشیر وزیر ہاؤسز، وزیر اعلیٰ ہاؤسز،گورنر ہاؤسز ،یہ وزیر اعظم ہاؤس یہ پر یذ یڈینٹ ہاؤس،یہ سرے محل ،یہ رائے ونڈ ہاؤس،یہ پیلس اور ایک بے گھر اہل وطن، ایک غریب کی کٹیا کا فرق اینٹی کرسچن جمہوریت کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے یا اسلام کا۔یہ ایسا کیوں ہے اوران جرائم کے مجرم کون ہیں!یہ چند غاصب کون ہیں! یہ چند دین اور دنیا کے رہزن کون ہیں !یہ چند نمروو،فرعون اور یزید کے ایجنٹ مسلم امہ کی صفوں میں کیسے گھس آئے ہیں! یہ چند دین کے منافق کون ہیں۔! کہیں وہ آپ سے پیغمبر اسلامﷺ کے دین کے مطابق ازدواجی ضابطہ حیات سے بچے پیدا کرنے کے عمل یا مغرب کے دانشوروں کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے مخلوط معاشرے کو جنسی آزادی دیکر بے دین طریقہ کار سے حرامی بچے پیدا کرنے کے عمل کو بتدریج رائج کرنے کے بارے میں پوچھ نہ لیں! کیا آپ پاکستان میںدین محمدی ﷺ کے خلاف مغربی جمہوریت کی مخلوط تعلیم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔کیا شرم و حیا کو نگلنے والے مخلوط تعلیمی نظام کو ملک میں ختم کرنے سے طا لب علموں ، طالبات کو علم سیکھنے میں کوئی مشکل یا دشواری پیش آسکتی ہے۔ ہر گز نہیں! کیا آپ دین محمدیﷺ کے ازدواجی ضابطہ حیات اور اسلامی شرم و حیا کے کلچر کو،اینٹی کرسچن جمہوریت کے مخلوط معاشرہ کے رائج کردہ قوانین سے ختم کرنا چاہتے ہیں یامذہبی ضابطہ حیات کو بحا ل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ مغرب کی طرح اینٹی کرسچن جمہوریت کے مخلوط دین کش ضابطہ حیات کو ملک میں رائج کر کے ماںبہن،بیٹی اور عورت کے چادر اور چار دیواری کے تحفظ کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا آپ مغرب کی طر ح اینٹی کرسچن جمہوریت کی روشنی میں مخلوط معاشرہ تیار کر کے زنا اور بدکاری کو عام اور ماں ،بہن ،بیٹی کی گھریلو اور خانگی زندگی کے نظام کو ختم کرنا اور تباہ کرنا چاہتے ہیں۔کیا آپ مذہب کے نکاح شریف کے نظام حیات کو توڑنا چاہتے ہیں۔ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کے دینی مقام ، ادب ، عظمت، پاکیزگی اورتقدس کو ختم کر کے اسلامی رشتوں کی عمارت کو ریزہ ریزہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ماں،بہن ،بیٹی کو فرینڈ شپ کے تحت جنسی تعلق کو استوار اورقائم کرنے کا ماحول اور گناہ آلودہ زندگی کا طریقہ کار اوراینٹی کرسچن جمہوریت کا فحاشی پھیلانے کا ضابطہ حیات مسلط کرنا چاہتے ہیں، کیا آپ عورت کی شرم وحیا اور عصمت کی پاکیزگی اور اسکے طیب کردار کو اور اسکے انمول ضمیر کواینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کی روشنی میں آزادی نسواں کے نام پر مسخ کرنا چاہتے ہیں ۔کیا تم ملت کو خدا اور رسول ﷺ کا باغی اور بے ادب بنانا چاہتے ہو۔کیا آپ مخلوط معاشرے کے ذریعے، عورت سے عورت پن،عورت سے گھریلو اور گرہستی زندگی کے تقدس کا حق چھیننا اور روندنا چاہتے ہیں ۔ کیا آپ مخلوط معاشرہ تیار کر کے عورت سے ماں کی مامتا،اولاد سے ماں کی محبت،مسلم امہ سے ماں، بہن، بیٹی ،بیوی کے فطرتی مذہبی رشتوں انکے جذبوں کو اور مذہب کے ضابطہ حیات کو پامال کرنا چاہتے ہیں ۔ مغربی عورت مخلوط معاشرے میں معاش کی تلاش میں گھر کی چاردیو ا ری سے ایسی نکلی کہ وہ گھر کا راستہ بھول گئی،وہ جنسی درندوں کے نرغے میں آگئی، اس نے انسان کے بچوں کو جنم دیا،اولاد سے محروم رہی،ماں نہ کہلا سکی ۔ اسکے جسم کو نوچنے والے مر د تو اسے کئی ملے اورخاوند یعنی جیون ساتھی کو عمر بھر تلاش کرتی رہ گئی۔ ماں،بہن،بیٹی ،بیٹا اور باپ کے ازلی رشتوں کی آسمانی محبت سے محروم ہوتی گئی۔ کیا آپ پاکستان میں ایسا مخلوط معاشرہ تیار کرنا چاہتے ہیں یا اس دین کش ضابطہ حیات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ مغرب کے مخلوط معاشرے کی طرح ماں، بہن ،بیٹی بیوی کو پبلک پراپرٹی بنانا چاہتے ہیں۔اسکے ازلی رشتے ناطے ختم کر کے حیوانوں کی طرح جنسی زندگی گزارنا کے عمل میں دھکیلنا چاہتے ہیں یا روکنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ماں، بہن ،بیٹی ،بیوی کو دین کی روشنی میں مخلوط معاشرے کے علاوہ تعلیم اور جاب فراہم نہیں کر سکتے۔کیا مستورات کے ذمہ بچے، بچیوں کی پرورش اور تعلیم کا بنیادی شعبہ انکو مہیا نہیں کیا جا سکتا۔مائیں تعمیر ملت کے شاہکار تیار کر تی ہیں۔انسان کو انسایت کی منزل پر گامزن کر تی ہیں۔وہ گھرکی پاکیزہ درسگاہ کی معلمہ کا فریضہ ادا کرتی ہیں، کیا سکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں میں طالبات کی تعلیم و تربیت مستورات کے سپرد نہیں کی جا سکتی،کیا ہسپتا لو ں میں بچے بچیوں اور مستورات کے علاج معالجے کے تما م شعبو ں کے جاب انکو مہیا نہیں کئے جا سکتے ۔ کیا مستورات کو انکی فطرتی، بدنی صلا حیتوں کے مطابق زندگی کے ہر شعبہ میں جاب مہیا نہیں کی جا سکتیں۔ ملی وسائل اور ملکی دولت لوٹنے والے رہزنو ں اور اسی مادی وسائل، طاقت سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرنے والے غاصبو ں کا اگلا خواب ملت کی ماں، بہن، بیٹیوں کو مخلوط تعلیم حاصل کرنے کے بعد انکو اعلیٰ تنخواؤں اور اعلیٰ سہو لتوں والی ملازمتوں کا لالچ دیکر انکی عصمتوںکو لوٹنے کے عمل کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ وہ تو صرف اور صرف مغربی جمہوریت کے مخلوط تعلیمی نظام اور مخلوط مرد و زن کی ملازمتوںسے ہی میسر ہو سکتا ہے۔ اسطرح دولت ،وسائل اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ عورت ذات کو پبلک پراپرٹی بنانا اور جاب کے ذریعہ خرید کر اپنی ملکیت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔ جس سے انکی جنسی بھوک کی خواہشات کی تکمیل ہو سکے۔ در اصل یہ دین محمدی ﷺ کے کلچر کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روندنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ ملک میںاس مذہبی ضابطہ حیات کو توڑ نا یا اسکا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا مخلوط معاشرہ کے مہیا کردہ مغربی ماحول کے مطابق آپ نے ملک کے سر برا ہو ں کو امریکہ کی طرح اپنی پرسنل سیکریٹر یوں کے ساتھ جنسی تعلق کی کھلی اجازت دینا چاہتے ہیں۔کیا اس طرح مذہبی کلچر اینٹی کرسچن جمہوریت کی مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ کی نظر ہوتا نہیں جا رہا۔ کیا آپ بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ خدا اور رسولﷺ کے عطا کردہ نظام اور ضابطہ حیات اور اسکے ازدو اجی زندگی کے قوانین کو ان چند بے حیا،بد نصیب اینٹی کرسچن جمہوریت پسند سیاسی سکالروں، سیاسی مذہبی دانشوروں، دین لوٹنے والے سیاسی اسمبلیوں کے ممبروں، غاصب حکمرانوں، اسلامی جماعتو ں کے دینی منافقوں اور مغربی جمہوریت کے ان تمام مغربی ایجنٹوں کے ہاتھوں سولہ کروڑ مسلم امہ اور اسکی آنیوالی نسلوں اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی تیار کی ہوئی ازدواجی زندگی کی نظریاتی عمارت اور د ینی سرحدوں کو مسخ،اپاہج اور نیست و نابود کرنا چاہتے ہیںیا فوری طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اے مسلم امہ کے فرزندو غور سے سن لو! اب ایک لمحہ کی غفلت دین کی روح کو مسخ کر دے گی۔فقیرِ وقت دور حاضر کے سامنے صبح کے بھولے کو گھر واپس بلا رہا ہے۔اب دین اور دنیا لوٹنے والوںکا وقت ختم ہو گیا ہے۔اب اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن نہیں ہونگے۔ ملت دینی طور پر شورائی نظام جمہور کی پیروی کرنے کی پابند ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے چندسیاستدانوں نے اسکے باطل نظریات پر مشتمل ضابطہ حیات کو فروغ دینا اور اسکے اصول و ضوابط کو حکومت چلانے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔کیا ملت اس طرز حیات کو مزید برداشت کر سکتی ہے۔ بھول نہ جانا وہ ایسا ہر گز نہیں چاہتی۔ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کی بالا دستی نے مذہب کو بے بس بنا کرگھروں ، مسجد وں اور عبادت گاہوں تک محدود کر ر کھا ہے ۔دونوں کو الگ الگ کر کے مسلم امہ پرمغربی جمہوریت کے باطل ، غا صب نظریات کی سرکار ی بالا دستی قائم کر کے اس کے اصول و ضوابط کی پیروی کا قانونی پابندبنالیاہے۔ملت مغربی جمہوریت کے وارثوں کو مسترد کر چکی ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے ذریعے ملک کی مکمل معاشی طاقت ان چند ہاتھوں میں مقید ہوچکی ہے ۔ ملت کی اقتصادی طاقت کا توازن بری طرح بگڑچکا ہے۔ ملت کے زوال کا سبب مال و دولت اور وسائل کی کمی نہیں بلکہ دین کے خلاف اعتدال و مساوات کے ضابطہ حیات کو کچلنے، ملی حقوق غضب کرنے کی وجہ ہے۔ بڑی بڑی سرکاری اور ذاتی قیمتی گاڑیوں کی خریداری پر اربو ں ڈالر اور اسی طرح پٹرول کا اربوں ڈالر ماہانہ ملک کے زر مبادلہ کو یہ عیاش اڑائے اور جلائے جا ر ہے ہیں۔ بڑے بڑے سرکاری دفتروں کی عمارتوں، شیش محلوں،تاج محلو ں ، ذاتی رائے ونڈہاؤسوں، سرے محلوں،شاہی پیلسوں اور انکے سامان تعیش کے کلچر کے بجٹ کا حصہ بن چکا ہے۔ملکی کا قیمتی زر مبادلہ اور سرمایہ ستر فیصد کسانو ں انتیس فیصد مزدوروں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام ا لناس کی ملکیت ہے۔ یہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے کیسے دانشور حکمران ہیں جوملکی خزانہ، ملی امانتوں کو بڑی بے رحمی سے شاہی محلوں، گاڑیوں،پٹرول کی چتا میں جھونکے چلے جا رہے ہیں،یہ کثیر رقم،یہ کثیر زر مبادلہ ، یہ کثیر ملکی ملی خزانہ کا ضیاع ملت کی ترقی اور عوام کی بہبود میں بری طرح حائل ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں سادگی ،شرافت ،میانہ روی،اعتدال اور کفایت شعاری کے فلاحی اصولوں کا خاتمہ ہو چکاہے۔ صحت مند معاشرے کی بنیادوں کے اصول انہوںنے مسخ کر کے رکھ دیئے ہیں ۔ ملت کو ان عیاش سیاستدا نو ں،حکمرانوں کے اس غاصب نظام کو توڑنا، اس سے نجات حاصل کرنا ہو گی ۔ عدلیہ کے منصف ہوں یا انتظامیہ کے افسر یا انکے ساتھ انکے سرکاری اہلکار وہ سبھی ان سیا سی حکمرانوں کے غلام اور شودر کی حیثیت رکھتے ہیں، انکے احکامات بجا لانے کے پابند ہوتے ہیں، ان سے انکی نجات ضروری ہے۔ یہ انگریزوں سے جاگیریں اور سرکاری اعلیٰ عہدے حاصل کرنے والے ، یہ ملک لوٹنے والے ،یہ ملک توڑنے والے،یہ ملکی وسائل لوٹنے والے ،یہ ملکی دولت لوٹنے والے ، یہ ملکی خزانہ لوٹنے والے،یہ اقتدار کی نوک پر قرضے لینے اور معاف کروانے والے ، یہ ملی خزانہ کو اپنی ملکیتوں میں بدلنے والے، یہ طبقاتی نظام حیات چلانے والے ، یہ طبقاتی تعلیمی نصاب تیارکرنے والے ،یہ طبقاتی تعلیمی ادارے چلانے والے ، یہ مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرہ تیار کرنے والے، یہ دین کے خلاف قانون سازی کرنے والے ، ٹیکسوں سے اکٹھی کی ہوئی ملی دولت کو نگلنے والے یہ چند سیاسی برہمن معاشی برتری کی بنا پر ملک کے اقتدار پر قابض ہونے والے ، یہ ہارس ٹریڈنگ کی مارکیٹ کی پیداوار،یہ ملت اسلامیہ کی دین و دنیا لوٹنے والے۔ انہوں نے ملت کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسکا نظریاتی اثاثہ ہچکیاں،سسکیاںلے رہا اور دم توڑے جا رہا ہے۔ انکا احتساب کتنا ضروری ہے ملت خود سمجھتی ہے۔ مغربی دنیا نے ٹیکس کلچر کے نظام کو اپنایا ہوا ہے۔وہ تو ان ٹیکسوں سے اکٹھی کی ہوئی دولت سے بیروز گاری الاؤنس جاری کرتے ہیں ۔ انسانوں کے حقوق احسن طریقہ سے ادا کر تے ہیں۔ بوڑھوں کیلئے اولڈ ہاؤسز تعمیر کر ر کھے ہیں اورنکے تمام اخراجات حکومتی سطح پر برداشت کئے جاتے ہیں۔ بیماروں کو ایک جیسا علاج مہیا کرتے ہیں۔ وہ انسانو ں کی بنیادی ضروریا ت ،خوراک،لباس اور بیماریوں کا علاج اسی فنڈ سے کرواتے ہیں ۔ اسکے برعکس یہ پاکستا نی سیاستدان اور حکمران اس ملی دولت سے اپنی ملکیتیں، ملیں فیکٹریاں کا ر خانے،شاہی محل تیار کرواتے ہیں۔انکا خاتمہ شورائی جمہوری نظام میں مضمر ہے۔ مغربی ممالک اہل وطن کے بنیادی حقوق ،افلاس اور غربت دور کرتے ہیں اور یہ ملک میں بسنے والے غریبوں ، مسکینوں، اپاہجوں، یتیموں، بیواؤں اور بوڑھوں سے لا متناہی ٹیکسوں سے انکا خون چوستے،اقتدار کی نوک پراسمبلیوں کے ذریعہ کالے قوانین مرتب کرتے اور ملت پر مسلط کر کے ملک کی دولت ،وسائل اور خزانہ اہل وطن سے چھینتے اور اس سے اپنی ملکیتیں تیار کرتے اور عیش و عشرت کی تصرفانہ زندگی گذارتے چلے جاتے ہیں ۔یہاں عوام غربت اور افلاس سے تنگ آ کر خود کشیاں اور خود سوزیاں کرتے ہیں یہ سیاسی حکمران عیش و عشرت کے کھیل میں مصروف سے مصروف تر ہوتے جاتے ہیں۔یہ اینٹی کرسچن جمہوریت کی عقل کے اندھے پاکستان میں بسنے والی سولہ کروڑ مسلم امہ کے حکمران بنے بیٹھے ہیں۔وہ ملک و ملت کی دین و دنیا لوٹے جا رہے ہیں۔ اس طرح یہ سیاسی برہمن ملک و ملت کی دولت سے اپنی ملکیتیں تعمیر کرتے چلے آ رہے ہیں۔یہ تما م ملکیتیں اینٹی کرسچن جمہوریت کے جر ائم کی بلیک منی کی پیداوار ہیں اور یہ ملک و ملت کی ملکیتیں ہیں۔ ان سے واپس لینا ملت کا حق ہے۔شاہانہ سرکاری تفاوتی تنخواہیں اور ملی خزانہ سے شاہی اخراجات کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔ایک جیسی تنخواہیں اور ایک جیسی سرکاری سہولتیںاور ایک جیسا اعتدال و مساوات پر مشتمل ضابطہ حیات کا نفاذ اس معاشرتی اور معاشی کینسر کا علاج ہے۔ انہوں نے اقتدار کے فرائض منصبی یعنی اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کے نظام کو قائم کرنے کی بجا ئے پاکستانی عوام کو زندہ غربت کی دہکتی ہوئی آگ میں جھونک رکھا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ نہ وہ اپنے کئے پر کبھی رنجیدہ ہوئے ہیں اور نہ ہی شرمندہ،انہوں نے انسانی حقوق کو ادا کرنے کی بجائے ملک کو ایک رہزن کی طرح لوٹنے کا رول ادا کرنے کا عمل جاری کر رکھا ہے اور بتدریج اسکی گرفت مضبوط بنائے جا رہے ہیں،مغربی پاکستان کے اسمبلی ممبران کی تعداد ۷۸ کے قریب تھی ،بارہ وزیر و مشیر حکومتی کام چلا رہے تھے،مشرقی پاکستان الگ ہو گیا ، انہوںنے ایک ملک کے چار ملک بنا دےئے،اب ۷۸ کی بجائے پانچ چھہ سو سے زیادی ممبران موجود ہیں،حقوق نسواں کے نام پر اپنی تمام مستورات کو حکومتوں میں لے آئے ہیں، انکی تعداد بارہ تیرہ سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔کیا یہ ملکی خزانہ اسمبلی ممبران ،وزیروں ، مشیروں،وزیر اعلیٰ،گورنروں، وزیر اعظم یا صدر پاکستان کا ہے۔یا کسانوں،محنت کشوںیا عوام الناس کا ہے،انکو کس نے اجازت دی کہ وہ ملکی خزانہ کو آپس میں اس طرح ڈاکہ ڈال لیں ۔اب انکو جان لینا چاہئے کہ مسلم امہ کے فرزندان انکے ان تفاوت کے ظالمانہ نظام کیخلاف جاگ پڑے ہیں ۔کیا وہ تمہاری تمام ملکیتوں کو ملی ملکیت قرار نہیں دیں گے! کیوں نہیں!ذرا ٹھہر جاؤ! تمہارے ا س اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کو اٹھا کر گہرے سمندر میں پھینک آنے کا وقت اب تمہاری شاہ رگ کے قریب آن پہنچا ہے ۔اسی ملت نے دنیا میں صداقتوں کے چراغ روشن کرنے ہیں۔اپنے ضمیر سے ہی فیصلہ کروا لو! کہ جب ملک کا خزانہ عوام کاہو۔بٹھوں پر اینٹیں تیار کرنے والے مزدور ہوں۔ کارخانوں میںسیمنٹ تیار کرنے والے مزدور ہوں۔ فیکٹریوں میں لوہا تیار کرنے والے مزدور ہوں۔فیکٹریوں میں بجری تیار کرنے والے مزدور ہوں۔ اینٹیں،سیمنٹ ،لوہا، بجری ریت لانے والے مزدور ہوں۔تمہارے سرکاری شاہی محل اور نجی تاج محل تیار کرنے والے مزدور ،محنت کش ،معمار،ہنر منداور عوام ہوں۔ملیں تیار کرنے والے مزدور ہوں ۔ کارخانوں ، ملوں ، فیکٹریوں کی مشینری تیار کرنے والے ہنر مند اور مزدور ہوں انکو چلانے والے ہنر مند اور مزدور ہوں۔ ملوں اور کارخانوں کو کامیاب بنانے والے انتیس فیصد مزدور ،محنت کش،ہنر مند اور عوا م الناس ہوں۔ملک کے ستر فیصد کسان ہر قسم کا خام مال اورتما م ملک کے انسانوں اور حیوانوں کو خوراک مہیا کرتے چلے آرہے ہیں۔ ہر قسم کی سبزیاں،پھل، میوہ جات ، لباس اور تمام کارخانوں اور شعبہ حیات کو خام مال مہیا کرنا انہی کا فرض ہے۔اسکے نفع کے وارث بھی یہی کسان،مزدور ،محنت کش اورعوام ہی ہوں گے۔ تم کیسے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی بھیڑئیے ہو! کہ صرف اقتدار کی نوک پر تم نے ملکی امانتوں کو اسمبلیوں میں بیٹھ کر اپنے نام منتقل کروانے اور ملی خزانہ کو لوٹنے کے جرائم کئے ۔ اسمبلیوں کے پنڈال میں بیٹھ کر طبقاتی معاشی نظام ملت پر مسلط کیا، ملکی خزانہ کو آپس میں سرکاری شاہی تنخواہوں،شاہی سہولتوں، تصرفانہ زندگی کے ذریعہ نوچا اور آپس میں قرضوں کا اجرا جاری رکھا۔ آپس میں ملی دولت تقسیم کی۔ یہ تمہاری ملکیتیں کیسے بنی اور معرض وجود میں آئیں۔کیا تم نے کوئی مزدوری کی،کیا تم ان کارخانوں کو تیار کرنے کے ہنر سے آشنا تھے۔ تم نے یہ تمام ملکیتیں کیسے تیار کر لیں۔کب تک اسی غاصب اینٹی کرسچن جمہوریت کی سیاست کی بالا دستی سے یہ تما م سرکاری اور نجی تاج محل اور لینڈ کروزریں تمہاری وراثت بنتی جائیں گی۔ اس عدل کش کلچر کو دوام حاصل رہے گا۔ تمام ملکی خزانہ اور مال و دولت تمہاری عیاشیوں کا ایندھن بنتا چلا جائیگا۔یہ تمام ملکی اور غیر ملکی ملکیتیں ، کسانوں،مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں اور موجودہ مالکان کی اجتماعی ملکیت ہیں۔سب کا برابر کا حصہ ہے۔سب کوایک جیسی تنخواہیں اور ایک جیسی سہولتیں مہیا کرنا ان سب کا بنیادی حق ہے۔ ملک کے تمام صوبوں میں ایک دوسرے صوبے کے حقوق سلب کرنے کی جنگیں جاری ہیں ۔ کوئی صوبہ گیس کی رائلٹی کی ڈیماند کرتا ہے۔ کوئی بجلی کی،کوئی بندر گاہ کی اور کوئی گندم مہیا کرنے کی۔اسی کشمکش میں مشرقی پاکستان انہوں نے الگ کر دیا ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں کی عوام کے وسائل،دولت،خزانہ،زرمبادلہ اور حقوق سلب کر کے ان تمام سیاستدانوں، حکمرانوں نے اپنی اپنی ملکیتوں میں بدل رکھا ہے۔ اسکا حساب کون دیگا۔اب اصل احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ احتساب کمیشن نہیں ، عوام اب از خود ان غاصبوں سے انکی اندرون اور بیرون ممالک تمام ملکیتیں واپس لیں گے۔ ملک میںمعاشی اور معاشرتی اقدارکا توازن قائم کرنا اور انکا تحفظ کرنا ا مت کے فرزندان کا فریضہ ہے، جن کے حقوق اینٹی کرسچن جمہوریت کے سائے تلے سیاستدان اور حکمران ۱۹۴۷ سے غصب کرتے چلے آرہے ہیں،ملک و ملت کا مال و دولت،وسائل اور خزانہ انکی ملکیت بن چکا ہے۔ اگر کسی
نے انکی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا تو مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں کی طرح از خود عبرتناک عاقبت سے دو چار ہو جائیں گے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے با طل کدہ کے پیروکاروں نے عدل و انصاف کے نام پر عدالتو ں کے منصفو ں ، ججوں،جسٹسوں ،وکیلوں کی شکل میں ایک ایسے نظام انصاف کاسلگتا ہوا جہنم جو انگریز نے ایک مفتوحہ ملک کیلئے تیار کر ر کھا تھا ، جس میں انصاف کے متلاشی ، جلتے ،سلگتے اور تن،من، دھن بھسم کرتے ر ہتے تھے ملک میں انہوں نے کچہریوں ، تھانوں ،پٹوار خانوں کے جہنم علیحدہ علیحدہ تیار کر رکھے تھے۔جنکی سپرداری جاگیر دا روں،سرمائے داروں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے سپرد کر گئے تھے، انہوں نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے مزید اصلاحات کر لی ہیں۔ جمہوریت کا تیار کردہ کچہریوں کا جدید جہنم۔
۱۔ مدعی اور مدعا علیہ دونوں انگریزی زبان سے آشنا نہیں ہوتے،انکے وکیل انگریزی زبان میں کیس دائر کرتے ہیں۔وہ انگریزی زبان کو پڑھ نہیں سکتے، اس لئے آنکھوں سے اندھے ۔کانوں سے بہرے،زبان سے گونگے،ذہن سے ماؤف کر دئیے جاتے ہیں۔
۲۔ اس دیس کے کسان،محنت کش، عوام اور افواج کے سپاہی پاکستان محمد الرسول اللہ ﷺ کی افواج ہیں۔ ملک کی عوام ہو یا افسر شاہی یا منصف شاہی یا نوکر شاہی،وہ سبھی ان حکمرانوںکے ملازمین ،انکے ذاتی غلام،نوکر اور قیدی بن کر انکے احکام کو بجا لانے پر مجبور ہیں۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل نظام کی پابندی کرنا اور ا س کو چلانا انکی مجبوری بن چکا ہے۔وہ بھی عوام کا حصہ ہیں ۔ اس ملک کے سولہ کروڑ مسلم امہ کے ا فراد، ان سے نجات حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔
۳۔اینٹی کرسچن جمہوریت کا عدالتی نظام بھی جرائم اور اذیتوںکی انوکھی سزا کا عبرتناک کھیل ہے جو پاکستان کی عدالتوں میں کھیلا جاتا ہے۔ اگرکوئی شخص عدالت میں کیس دائر کرتا ہے تو عدالت ایک سمن کے ذریعہ دوسرے شخص کو عدالت میں طلب کر لیتی ہے۔اسکے بعد وکیل کے ذریعہ مقدمہ کی کاپی لی جاتی ہے،مقدمہ کی ابتدا شروع ہو جاتی ہے،تاریخیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں،کئی سال تک مقدمہ کی پیروی کرنی پڑتی ہے،اگر پانچ چھ سال تک کیس کا کوئی فیصلہ ہو بھی جاتا ہے کہ کیس بوگس اور غلط دائر کیا گیا ہے،تو اپیل اگلی کورٹ میںدائر ہو جاتی ہے، دو تین سال کے بعد جو فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر ہائی کورٹ میں کیس برائے سماعت پیش کیا جاتا ہے،کئی سال کے بعد تاریخ پیشی نکل بھی آئے تو ہائی کورٹ کے جج صاحبان کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ تک ایسے کیس جاتے رہتے ہیں،جھوٹے ،بوگس اور بے بنیاد کیس کیلئے ایک بیگناہ،بے ضرر، قانون کے ہاتھوںمجبورایک عام شہری ایک عام انسان کو کم از کم ۱۵ سال سے لیکر ۲۵ سال تک عدالتوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ،اس دورا ن جائیداد زمین بوس ہو جائے یا اس شخص کی نئی نسل کو اس کی ملکیت کے وراثت ناموں کا ایک نیا کیس عدالت میں دائر کرنا ہوتا ہے اور اسکے اخراجات الگ برداشت کرنے پڑ جاتے ہیں۔ ایک سول سوٹ کو نپٹانے کیلئے سول کورٹ،ایڈیشنل سول جج،ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ کی عدالتوں سے گذرنا ہوتا ہے۔چاہے وہ کیس چالیس پچاس ہزار کی ملکیت کا ہی کیوںنہ ہو۔ایسے ہی کیسوں سے عدالتیں بھری پڑی ہیں۔ظالم اور مظلوم دونوں پارٹیوں کو وکیلوں کی فیسیں،منشیانے،عدالتوں کے اخراجات،ہر پیشی پر وقت پر عدالت میں پہنچنے کی پابندی ،صبح سے شام تک عدالت کے دروازے پر ایک چوکیدار کیطرح حاضر رہنے کی پابندی،دن بھر کھانے پینے کے اخراجات،رات گئے گھر پہنچنے کے اوقات،عدالت میں پہنچنے کیلئے ایک دو گھنٹے گھر سے پہلے چلنا ،ایک دو گھنٹے عدالتوں کے اوقات کے بعد گھر پہنچنے کی مجبوری ،
دور دراز کے گاؤں اوردوسرے شہروں میں آنے جانے کی عدالتی وقت کی پابندی۔ یہ عدالتی نظام ایک معصوم، بے ضرر غریب ،مفلس، اور قانونی گرفت کے عاجز شہری کو ہر تاریخ پراپنی مزدوری،اپنے کاروبار سے محروم ہونا پڑتا ہے،بیمار ہو،شوگر کا مریض ہو،گردے خراب ہوں،کسی قسم کا مریض ہو،ضعف العمر کی بیماری میں مبتلا ہو، یہ جھوٹے عدالتی کیس یہ عدالتی طریقہ کار،یہ نظام عدل،یہ عدلیہ کے جج، انکا منسلک عملہ انصاف کی بھیک لینے والے افراد کے ساتھ کیسا اذیتناک سلوک کرتے ہیں وہ کسی سے چھپا نہیں، سو دیڑھ سو کی لسٹ عدالت کے درواز ے کے باہر چسپاں ہوتی ہے، ایک دفعہ اہلمد حاضری لگاتا ہے دوسری دفعہ جج صاحب بلاتے ہیں،کیس صرف وہی سماعت کئے جاتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔باقی لوگ اگلی پیشی کی تاریخ لیکر واپس گھر چلے جاتے ہیں۔ ان وکلا اور منشیوں کا حسن سلوک کیا ہوتا ہے بس یوں سمجھ لیں کہ مدعی اور مدعا علیہ ایک گائے کی حثیت رکھتے ہیں، ایک وکیل کے پاس اگلے دو تھن اور دوسرے کے پاس دو پچھلے تھن ہوتے ہیں ،وہ دونوں وکلا صاحبان بڑے آرام سے دودھ پیتے رہتے ہیں،نہ عدالت چاہتی ہے نہ وکلا چاہتے ہیں کہ کیس ختم ہوں۔عدالتوں میں انصاف بکتا ہے،ایک اعلیٰ وکیل جسکی فیس بھاری ہے، دوسرا کمزور وکیل جسکی فیس کم ہے، یہی اعلیٰ ،قابل وکیل ہر ماہ نئی پی ایل ڈی نئے قوانین پر مشتمل تیار کرواتے ہیں، پہلے قوانین کی ترمیم یعنی قوانین بدلوا دیتے ہیں،عدالتوں میںسفارش ، رشوت اور کرپشن کا ایک الگ ضابطہ انصاف ہے،جج عدالتوں میں آئیں تو سرکاری گاڑی میں یا ایک پرانی گاڑی میں، جب کسی فنکشن یا گھر جانا ہو تو بہترین گاڑی میں، یہ ادارہ عدل و انصاف کو کچل چکا ہے اور اپنی آفادیت ختم کر چکا ہے۔
۴۔ دونوں پارٹیاںکیس کی پیروی کرتی رہتی ہیں ہیں۔ کور ٹ عارضی حکم امتناعی جاری کرتی ہے۔ جج صاحبان کسی ایک اپنے ٹاؤٹ وکیل کو بطور کمیشن مقرر کرتے ہیں۔پارٹی ایک معقول رقم کمیشن کو ادا کرتی ہے۔ اسکے بعد جب جج صاحب کو کوئی سفارش یا رقم مل جاتی ہے تو وہ ان تمام حقائق اور اس کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کر دیتا ہے کہ کمیشن زمین کے متعلقہ واقعات سے آشنا نہیں ہے ۔ در اصل یہ جج دوسری پارٹی کو جائداد پر قبضہ کروانے کا اہم رول ادا کرتا ہے۔ اسکی معقول سفارش یا مناسب رقم لیتا ہے۔اپیل پر حکم امتناعی تو بحال ہو جاتا ہے۔دونوں ججوں میں ایک توکرپٹ ہے۔ لیکن اس دوران مخالف فریق قبضہ مکمل کر لیتا ہے۔ در اصل ہمارا جمہوری نظام،حکمران اورعدالتیں ہی جرائم کو جنم دیتی ہیں۔توہین عدالت کا کیس دائر کر دیا جائے تو اس پر عمل کب ہوگا ، کیسے ہوگا،فیصلہ حقائق پر ہو گا یا سفارش پراسکا انحصاربھی ججوں پر ہوتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے ایسے قوانین اور ضابطے مسلط کر رکھے ہیں جنکے سایہ تلے جرائم جنم لیتے پرورش پاتے اور پروان چڑھتے ہیں۔جھوٹے کیسوں سے عدالتیں بھری پڑی ہیں۔ ظالم مظلوم اور مظلوم ظالم بن کر انسانی زندگی کیلئے مقدمات کا کینسر بن کر معاشرے کو چمٹ چکے ہیں،۱۹۴۷ سے ہمارے سیاستدان، حکمرا ن ملک میں عدل وانصاف کو کچلتے اور عدلیہ کے ادارے کی آفادیت ختم کر چکے ہیں۔
۵۔ عدالتوں کو جھوٹے کیسوں کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے پٹوار خانے اپنا ایک اہم بنیادی رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ان سے عام مالک جائداد اپنی زمین کا فرد تک حاصل نہیں کر سکتا۔ پٹوار خانے مالکان کو زمین کا فرد جاری کرنے سے پہلے انکو صبح شام چکر لگواتے اور انکو اچھی طرح نڈھال کر دیتے ہیں۔ انکومجبور ہو کر پراپرٹی ڈیلران کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ یہ زمین مافیہ کے ٹاؤٹ انکے ہر علاقہ کی زمین کا ۴۵فرد جاری کرنے کارشوت کا ریٹ مقرر کرتے ہیں۔وہ انکو دفتر مہیا کرتے ہیں۔انکے اخراجات برداشت کرتے ہیں ۔ یہی زمین مافیا
کے لوگ علاقہ کے ممبر ،ناظم، ایم پی اے،ایم این اے ،وزیرو مشیر، وزیر اعلیٰ اور سرکاری اعلیٰ عہدیدار تمام جرائم کے ملی مجرم ہیں اور پٹوار خانے اس ملک کی عوام کی معاشی اور معاشرتی اذیتوں کا سبب بنے ہوئے ہیں۔پٹواری انکی مرضی کے خلاف ایک دن بھی نوکری نہیںکر سکتا، زمین مافیہ ، زمین بیچتے وقت رقبہ کسی اور جگہ پردکھاتے ہیں اور قبضہ کسی اور خسرہ سے دیدیتے ہیں ۔ موقع پر نشاندہی خسرہ اور رقبہ کی پڑتال کروانا ایک عام آدمی کے بس کا روگ نہیں۔ چھ ماہ سے لیکر ایک سال تک کا عرصہ اس کام کیلئے درکار ہوتا ہے۔ نہ پٹواری صاحب کے پاس وقت ہوتا ہے اور نہ ہی گرداور صاحب مل سکتے ہیں،جب تک ان سے مک مکا نہیں ہو جاتا۔ زمین مافیہ کے لوگ اپنا غاصب نظام اورباطل سسٹم قائم رکھے ہوئے ہیں۔ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیںٰ لائی جا سکتی کیونکہ یہ زمین مافیہ کے حکمرانوں کی ذرائع آمدن کا وسیلہ ہیں۔یہ سرکاری نظام ملت کے نصیب کا حصہ بن چکا ہے جو حکمرانوں،انتظامیہ ، عدلیہ کیلئے لعنت اور بد نصیبی کی داستان رقم کئے جا رہا ہے۔
الف۔قانون نا جائز قبضہ مجریہ ۲۰۰۵ مورخہ چھ جولائی ۲۰۰۵ سے نا فذالعمل ہے۔ ایسے مجرم دس سال قید اور جرمانہ کے سزا وار ہونگے۔ لیکن یہ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ ان کیسوں سے عدالتیں بھری پڑی ہیں۔یہ کیسا قانون ہے کہ چھ جولائی ۲۰۰۵ کے قبل کے مجرموں پر یہ قانون نافذالعمل ہی نہیں۔جسکی وجہ سے عوام ایک طویل عرصہ سے عدالتوں کا ایندھن اور مالی ،بدنی اذیتوں سے دو چار ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ان قانون ساز مجرموں سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ انہوں نے ایسا تفاوتی نظام ملک میںنافذ کیوں کر رکھا ہے۔اسی طرح اگر حکمران ایک ایسا آرڈیننس جاری کردیں کہ اگر کوئی فرد جھوٹا کیس دائر کریگا ۔ اسکو دس سال قید اور جرمانہ اور دوسرے فرد کے اخراجات ادا کرنے ہونگے تو بوگس ،جعلی اور جھوٹے کیس از خود ختم ہو جائیں گے۔ عدالتیں خالی ہو جائیں گی۔جج از خود گھروں کو پہنچ جائیں گے اور وکلا اپنے بستر لپیٹ لیں گے۔ عوام سکھ کا سانس لیںگے اور دعائیں دیں گے۔ملک کے بجٹ کا بہت بڑا حصہ بچ جائیگا۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو آدھے ملک کی نفری کو جج بنا دیا جائے تو یہ نظام اور سسٹم کرپشن تو بڑھا سکتا ہے،عدل قائم نہیںکر سکتا۔ ایسے لوگ اسمبلی کے ارکان ، متعلقہ محکمہ کے وزیر ،مشیر ،وزیر اعظم اور صدر پاکستان کیلئے باعث رسوائی بنے ہوئے ہیں یا یہ ان جرائم کو ختم ہی نہیں کرنا چاہتے۔انکے خلاف کاروائی عمل میں لانا از حد ضروری ہے لیکن یہ رول کون ادا کریگا۔
ب۔وکلا صاحبان عدلیہ کے فنکشن میں بری طرح حائل اور انصاف کے قاتل بن چکے ہیں۔انکو پتہ ہوتا ہے کہ کونسا کیس جھوٹا اور کونسا کیس سچا ہے۔یہ از خودکلائنٹ کو جھوٹے کیس تیار کرنے دائر کرنے اور بے گناہ لوگوں کو سبق سکھانے کا راستہ بتاتے ہیں،گر سکھاتے ہیں، اس باطل نظام کا گیان دیتے ہیں۔جھوٹے حلفیہ تحریری بیان ان سے تیار کرواتے ہیں۔ ان سے عدالت کے رو برو جھوٹی قسمیں اٹھواتے ہیں۔ عدلیہ ان جھوٹے کیسوں کی سماعت کیلئے مجبور ہوتی ہے۔نہ کوئی اسکا تدارک ہے اور نہ ہی کوئی حل۔یہی انکا ذرائع آمدن کا بد ترین پیشہ بن چکا ہے۔ انہوں نے اہل وطن کواس عدلیہ کے روائتی طریقہ کار کے کینسر میں مبتلا کر رکھا ہے۔اسکا ایک حل یہ بھی ہے، وکلا صاحبان کو عدالت کے رو برو از خودحلف نامہ پیش کرنا ہوگا اور عدالت کے رو برو یہ بیان دینا ہو گا ، کہ انکے علم کے مطابق کیس سچا ہے اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور ان پر خدا کا عذاب نازل ہو۔ اس طریقہ کار سے عدالتو ںسے جھوٹے کیس بڑی حد تک ختم ہو جائیں
گے۔اسی طرح عدلیہ کو بھی ہر کیس کے فیصلہ سنانے سے قبل ایسی ہی قسم اٹھانی ہو گی۔مدعی ،وکیل اور جج ایک سے نظام عدل کی اطاعت کر کے عوام الناس کوانصاف مہیا کر سکتے ہیں۔ حکمر ا نو ں کو ایسے قوانین کا نفاذ کرنا ہوگا تاکہ ملک میں عدل و انصاف قائم ہو سکے، تمام ایف آئی آر اور پرچہ درج کرنے سے قبل ایس ایچ او تھانہ کو ایک تحریری اوتھ دینا ہوگا کہ انہوں نے تمام حا لا ت و واقعات کو چیک کرنے کے بعد پرچہ درج کیا ہے۔اگر انہوں نے غلط پرچہ دیا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اور خدا اس پر عذاب نازل فرماویں۔اگر کوئی مدعی ، وکیل ، ایس ایچ او تھانہ اور جج جھوٹی قسم اٹھاتا ہے اور یہ ثابت ہو جاتا ہے تو اسکو ملازمت سے فوری طور پر برخواست اور مقرر کردہ سخت سزا دینا ہو گی۔تا کہ انصاف کا حصول ممکن ہو سکے۔
ُُپ۔ انگریز نے جمہوریت کی روشنی میں ایک مفتوحہ ملک کو قابو رکھنے کیلئے ایسا کالانظام ایسے کالے قوانین اور ایک ایسا سیاہ طریقہ کار ہندوستا ن پر مسلط کر رکھا تھا۔عوام اور ہر آزادی پسند انسان کو مغلوب اور کرش کرنے کیلئے انہوں نے دو ڈیپارٹمنٹ انتظامیہ اور عدلیہ قائم کر رکھے تھے۔جن سے وہ معصوم لوگوں کو جھوٹے کیسوں میں ملوث کر کے تھانوں میں تذلیل کرتے اور عدالتوں سے سخت سزائیں دیتے۔
ت۔ انتظامیہ کے ذریعہ انکے خلاف جھوٹی ،بے بنیاد ایف آئی آر اور مختلف نوعیت کے کیس درج کرواتے۔انکو باغی،قاتل،دہشت گرد، چور ،رہزن اور طرح طرح کے الزامات لگا کر پکڑتے ،انکو تھانوں میں بھوکا،پیاسا رکھتے ، مارتے پیٹتے،الٹا لٹکاتے،انکی نسوںکو مسل دیتے، انکے جسموں کو داغتے اور جسمانی طور پر بیکار بنا دیتے۔جس قسم کا جی چاہتے قانونی تعزیرات لگا دیتے ۔ کیس عدالت میں بھیج دیتے اور بے قصور ملزم کوجیل ارسال کر دیتے،جیل میں جسمانی سخت سزائیں دیتے،مونج کی رسی بنواتے،چکی پسواتے اور جو انسانیت سوز ظلم ایک باغی ،گستاخ اور سرکش کے خلاف سوچا جا سکتا ہے وہ انکے خلاف بروئے کار لاتے۔ انکو قید تنہائی اور کالی کوٹھریوں میںڈال دیتے، انکی زندگی کو اجیرن بنا دیتے۔ان تمام عظیم ہستیوں کو سلام جنہوں نے انگریز کی یہ تمام اذیتیں برداشت کیں اور ملک کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کیا۔
ٹ۔ انکا دوسرا شعبہ عدلیہ کا تھا۔جو ان جھوٹے،بے بنیاد اور مختلف نو عیت کے گھناؤنے جرائم پر مشتمل بوگس کیسوں کی سماعت کرتے۔ان بے ضمیر ججوں کو انگریزوں نے ملزمان کے خلاف ان تعزیرات کی روشنی میں کیسوں کی سماعت کرنے اور سزائیں دینے کیلئے متعین اور پابند بنا رکھا تھا۔وہ تو ایک جلاد کی طرح معصوم ،بیگناہ اور حق گوسچے انسانوں کو صرف قید و بند اور موت کی سزائیں سناتے،وکلا ججوں کے سامنے اپنا روائتی رول ادا کرتے رہتے، اس ضابطہ انصاف نے عدلیہ کے شعبہ کو ظالم ،غاصب اور ناپا ک بنا کر رکھ دیا تھا ۔ انتظامیہ ، عدلیہ ،وکلا اور عوام حقائق کو اچھی طرح جانتے کہ انصاف کا حصول اس انگریز کی مسلط کی ہوئی اینٹی کرسچن جمہوریت کی طرز حکومت کی عدلیہ اور انتظامیہ کے پاس نہیں۔ پاکستان انکی قربانیوں کا چراغ بن کر ابھرا۔ انگریز اپنی آمری سلطنت اور اینٹی کرسچن جمہوریت کا طرز حکومت،اپنی انتظامیہ اور عدلیہ کے تمام ارکان اور انکو تیار کرنے والے تعلیمی ادارے اپنے پالتو جاگیرداروں اور سرمائے داروں کے سپرد کر گیا۔ انگریز کے پالتو جاگیر داروں اور سرمایہ داروں نے انگریز کا مسلط کیا ہوا جمہوریت کا الیکشن کا سسٹم اور نظام حکومت اسی طرح مسلم امہ پر مسلط رکھا ۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن میں تمام سیاسی جماعتیں حصہ لیتی ہیں جو جماعت سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے وہ ملک میں اپنی حکومت قائم کرتی ہے ۔ جبکہ دوسری تمام جماعتوں کے ووٹوں کو اکٹھا کیا جائے تو جیتنے والی جماعت سے کئی گناہ زیادہ ووٹ ان تمام سیاسی
جماعتوں کے ہوتے ہیں۔عوام کی کثرت اس جیتنے والی جماعت کے خلاف ہوتی ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کا یہ طریقہ کارعدل و انصاف کے منافی ہی نہیں بلکہ نہائیت مہلک اور عوام الناس کی رائے کے خلاف ہوتا ہے ۔ انگریز نے جمہوریت کا یہ طریقہ کار نافذ کر کے اپنے پسند کے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو کامیاب اور اسمبلیوں تک پہنچانے کا وسیلہ بنا رکھا تھا۔ ان اسمبلیوں کے ذریعہ اپنے من مانی کے قوانین مرتب کرنے اور عوام الناس کو ان قوا نین کے شکنجوں سے اپنی گرفت میں لینے اور زیر کرنے کا طریقہ کار مسلط کر رکھا تھا۔ آج بھی انکے پالتو سیاستدان ، حکمران اور سرکاری اعلیٰ عہدیدار انکے نقش قدم پر چل کر عوام کے بنیادی حقوق کرش کر رہے ہیں۔آج بھی سیاستدانو ں،فوجی حکمرانوں اور سرکاری اعلیٰ عہدیداروں کے زیر سایہ تھانوں میں جعلی ، بوگس، بے بنیاد کیس تیار کرنے کی پالیسی جوں کی توں جاری ہے، مجرم قانون کی گرفت سے باہر معصوم،بیگناہ اور غیر متعلقہ انسان قانو ن کی سلاخوں میں پابند۔ سفارش ، رشوت کے طریقہ کار سے مجرم معاشرے میں دندناتے پھرتے ہیں، بے گناہ افراد جیلوں میں سڑتے ،سلگتے اور دار پر لٹکتے رہتے ہیں۔ یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ انتظامیہ بھی جانتی ہو کہ کیس بنیادی طور پر غلط ہے، وکیل بھی حقائق سے آشنا ہوں،جج بھی اصل واقعات سے واقف ہوں۔مدعی جھوٹے تحریری حلف نامے اور عدالت کے روبرو جھوٹی قسمیں کھانے کی روائت پر وکیلوں نے گامزن کر رکھے ہوں، پھر یہ ایسے جعلی کیسوں میں گواہوں کے حلفیہ بیان، گوا ہوں پر جرح، وکیلوں کی بحث، ججوں کا حقائق کے خلاف یہ تمام اذیتناک ڈرا مے کا رول اسکے بعدججوں کے فیصلے ،پھر ہائی کور ٹ میں ان کیسوں کی اپیلیں ، سالہا سال کا انتظار،سپریم کورٹ میں اپیل،یہ تمام نظام انصاف اعوا م الناس کیلئے ، انصا ف کی مقتل گاہ بن چکا ہے۔ تھانے بکتے ہیں اور جج خریدے جاتے ہیں۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے بد بو دار مردے کو دفن ہونا ہے ،بیداریء امت کے عمل سے ان اندھیروں کو اجالوںکی روشنی کے تجسس سے ہمکنار کرنا وقت کے درویش کو عطائے رحمت العالمینﷺ ہے اورسجدہ و شکر پیش از بندہ پر نم بارگاہ رب جلیل ہے۔یا اللہ اس توفیق کو تاثیر بھی عطا فرما۔امین