To Download PDF click the link below

 

  ہندوستان کے عوام کا بنیادِی نظریہ ہندو ازم تھا،وہ ایک ہی نسل کے لوگ ہیں، ذ ہن ہندی،پوجا پاتِ بتاں انکا ورثہ ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد فقیرو ں، درویشوں کا ادب ، عشق رسول ﷺ ان کا نصیب بن کر ابھرا۔ جسکو مغربی جمہوریت کے ضابطہ حیات نے نگل لیا ہے ۔
عنایت اللہ
پاکستان،بنگلہ دیش اور بھارت کی بیشتر عوام مختلف رنگوں، زبانوں ، گوتو ں ، قوموں ، عقیدوں،مختلف نظریات و مذاہب پر مشتمل بنی نوع انسا ن کی ایک ہی نسل اس ملک میں رہتی چلی آرہی ہے ۔جو صدیوں سے ایک دوسرے کیساتھ وابستہ اور منسلک ہے۔ جن کی تاریخ کے کئی سنہری باب ہیں ۔ اس ملک کا رقبہ وسیع و عریض پہاڑوں، میدانوں ،دریاؤں، صحراؤں،بیا بانوں اور سمندروں پر مشتمل ہے۔گرمی،سردی ، بہار و خزاں پر مشتمل موسموں کا سلسلہ خدائی صفات کے حسین جلوے ہیں۔گھنگھور گھٹائیں روح کی تسکین اور دھیمی دھیمی پون دل و جان کی راحت کے اسباب، اس ملک کی دھرتی پر صدیوں سے بنی نوع انسان جنم لیتے اور انسانی نسلیںزندگی کے مختصر اور عارضی ایام گذ ار تی اور اس حسین و جمیل فانی جہان رنگ و بو سے یکے بعد دیگرے الوداع ہوتی چلی آٓرہی ہیں۔یہ قصہ آ مد و رفت جاری ساری ہے۔اس فناہ کے دیس کی حقیقت سے عوام الناس سے لیکر دیدہ وروں تک سب اچھی طرح آگا ہ ہیں۔ کہ انسان اور تمام مخلوق خدا جو جنم لیتی ہے اس رنگین و دل ربا جہانِ فناہ میں قلیل سے وقت کے لئے ٹھہرتی اور مختصر عرصہ گذارنے کے بعد کسی نا معلوم منزل کی طرف واپس چلی جاتی ہیں۔کسی کے کفن کو کوئی جیب نہیں ہوتی،انسان خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے۔ ادب ومحبت ،الفت و خدمت ،پیار و شفقت ،عفو و درگذر،امانت و دیانت ،اعتدال و مساوات اورعدل کی قدروںسے سینچا ہوا معاشرہ امن و سکون کی آماجگاہ بن جاتاہے۔ حرص و ہوس ،نفرت و نفاق جنگ و جدل ، اقتدار و حکومت کی خواہشا ت کا متمنی معاشرہ ،اعتدال و مساوات،امانت و دیانت،اخوت و محبت اور عدل و انصاف سے محروم معاشرہ امن و سکون،راحت و خوشی کی انمول دولت کو تباہ و برباد کرنے کا سبب بنتا ہے۔
رام چندر جی اور انکے نظریات کے ماننے والے ہندو ،ہوں یا گوتم بدھ کے ضابطہ حیات کے اصولوں کے ماننے والے بدھ مت سے منسلک بدھی ہو ں،عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب کی مسیحائی کے ماننے والے عیسائی ہوں یا محمد الر سول اللہ ﷺ رحمت العالمین کے ماننے والے مسلمان ہوں۔ بت پرست ہوں یا توحید پرست ہوں انکے پیرو کاروں میں سے عوام النا س کو آج تک کسی ایک حکمران نے بھی انکے انفرادی یا اجتماعی بنیادی حقوق، اعتدال و مساوات کی روشنی میں نہ ادا کئے نہ انکو تحفظ فراہم کیا۔ اس دھرتی کے انسان اخوت و محبت کے بھوکے،ادبِ انسا نیت اور خدمت انسانیت کے پیاسے ، حسن سلوک کو ترستے ،اعتدال و مساوات کی وادی کے متلاشی ،خلق عظیم اور خالق کی مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے والوں کی تلاش میں صدیوں سے صحرا نوردی اور سر گردانی کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہندو ازم کا نظریہ چار گوتوں پر مشتمل ہے جس میں برہمن وشودر کی نظر یا تی تقسیم نے انسانوں میں اونچ نیچ کا تصور دیکر انسانوں کے برابری کے بنیادی حقوق کو مسخ اور سلب کر کے رکھ دیا ہوا ہے۔شودروں کو اس اونچ نیچ کے نظام سے معاشرے میںانکی عزت نفس کچل کر رکھ دی گئی۔ ہندو ازم کی اس نظریا تی تقسیم نے ان سے انسان کے برابری کے حقوق چھین لئے ۔ ہندو معاشرے میں بنی نوع انسان کے اس طبقہ کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس طرح ان سے انسانی برابری کا بنیادی اور فطرتی حق چھین لیا جاتا ہے۔انکی عزت نفس کو مجروح ہی نہیں بلکہ مسخ کر دیا جاتا ہے،یہاں کا معاشرہ آج تک اسی نظریہ کی پیروی کرتا چلا آرہا ہے۔ہندو ازم کے اس بنیاد ی غیر فطرتی نظریات نے ہندوؤں کے معاشرے میں برہمن اور شودر کا نظام قائم کر کے انسا نوں میں بٹوارا ڈال دیا اور انکے بنیادی حقوق اعتدال و مساوا ت اور عدل و انصاف کو روند کر رکھ دیا ہوا ہے۔
ہندوستاں میں مسلمان محمد بن قاسم کی زیر قیادت داخل ہوئے۔کراچی کے ذریعہ ملتان تک آئے ۔محمد بن قاسم ہندوستان کی دھرتی پر قلیل سے وقت کیلئے ٹھہرے ۔ان کے ساتھ جو مسلم سپاہ اور جو مسلمان آئے وہ اپنے حسن اخلاق اور حسن کردار،ادب انسانیت اور خدمت انسانیت،اخوت و محبت اور عدل کی بنا پر ہندوستان کے ہندو ازم ، بدھ ازم اور دوسرے تمام نظریات کے ماننے والوں کے دلوں میں ایک محبت کی نورانی کرن اور دلکش خوشبو کی طرح اتر گئے۔محمد بن قاسم تھوڑے سے عرصہ میں ہندوستان کی سر زمین میں انسانی ادب کے ایسے چراغ جلا کر چلے گئے کہ انکے وطن جانے اور انکے قتل کے بعد ہندوستان کی عوام نے انکی ایک دیوتا کی طرح پرستش اور پوجا کی۔انہوں نے اسلام کے نظریات اور تعلیمات کی روشنی میں اعتدال و مساوات ، اخوت و محبت،ادب انسانیت اور خدمت انسانیت،امانت و دیانت،حسن خلق اور عدل کے چراغ روشن کئے۔علاوہ ازیںہندوستان کی سر زمین پر محمود غزنوی نے لوٹ مار یا آپنی بادشاہت قائم کرنے کیلئے سترہ حملے کےئے۔اسلام کی تبلیغ اور اسلام کی آبیاری کیلئے حضرت ابو الفضل رحمت اللہ علیہ نے حضرت داتا گنج بخش ر حمت اللہ علیہ کو غزنی سے لاہور بھیجا۔انہوں نے دریائے راوی کے کنارے کو اپنامسکن بنایا۔ وہاں بیٹھ کر عبادت و ریاضت اور اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ ہندوستان کی سر زمین پر اسلامی نظریات پر مشتمل تعلیمات کے دیپ جلائے۔ سادہ، مختصر اور قلیل ضروریات کے نظام کی تعلیمات کوعروج دیا۔زبان سے نا آ شنائی انکے راستے میں حائل نہ ہوئی۔مخلوق خدا کو ادب کے ساتھ اپنے ساتھ بیٹھاتے، کھانا کھلاتے، احترام اور عزت کی دولت ان میں تقسیم کرتے۔لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح انکے گرد اکٹھے ہو جاتے۔ عزت و ادب اور احترام انسانیت کا خاص خیال رکھتے۔اخوت ومحبت کی روشنیا ں پھیلاتے۔انسانی اونچ نیچ یعنی برہمن اور شودر کی تفریق کو ختم کرنے کا عملی درس دیتے۔ہندوستاں کی دھرتی پر کالے گورے ، اعلیٰ ادنیٰ، اونچ نیچ،ذات پات ،برہمن شودر کے نظام اور سسٹم کو ختم کرنے کے لئے نہ صرف کوشا ںرہے بلکہ برابری اور مساوات کے دینی نظریات کی تعلیما ت کی قندیلیں روشن کیں۔اعتدال کا سبق سکھایا۔مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا راستہ دکھایا ۔ انسانی عزت و احترام کے جذبوں کو مخلوق خدا میں بیدار کیا۔اس طرح اعتدال و مساوات کے دلکش نغمات کو کردار کے ساز پر الاپا اور مخلوق خدا کو مسحور کر دیا۔ دین کی اعلیٰ اور عمدہ صفات کی تعلیما ت کو مخلوق خدا میں کردار کے حسین روپ کی شکل میں متعارف کروایا ۔ انکے نہ مٹنے والے نشانات انکی نسلوں کی وراثت بنتے گئے۔انہوں نے فطرتی لا زوال صداقتوں کو انسانوں میں روشناس کروانے کے عمل کو جاری کیا۔لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہے۔ انکے بعدتاشقند سے ایک اور حسین و جمیل آقا ئے نامدار حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نام لیوا ایک غلام اور ایک عظیم سپاہی خواجہ غریب نوازؒ لاہور تشریف لائے ۔داتا گنج بخش ؒ کے مزار پر حاضری دی ۔ چالیس روز تک ان کے دربار پر چلہ کشی کی ۔اکتسابِ فیض کیا۔علمی اور روحانی فیو ض حاصل کرنے کے بعد انہوںنے ایک شعر انکی شان عظیم میں کہا۔
( گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا۔ناقصاں را پیر کامل،کاملاں را راہنما)۔
اسکے بعد وہ اجمیر شریف جو اس دور میں ہندوؤں کا مرکز اور گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں تشریف لے گئے،وہاں پر دین اسلام کی تبلیغ کا کا م شروع کیا ۔ ہندو معاشرے میں براہمن اور شودر کی تفریق کو ختم کیا۔ ہندو معاشرے میں اعتدال و مساوات کی تعلیم عام کی۔ طبقات کے نظام کو ختم کیا، اخوت و محبت کے نور کو نگر نگر پھیلایا، ایک ہی آدم کی اولاد ہونے، ایک ہی خدا کے تصور کا نظریہ پیش کیا۔ خدمت خلق کی اعلیٰ اور ارفعٰ عبادت کا شعور عطا کیا،لاکھوں ہندؤں کو دائرہ دین محمدیﷺؑ میں داخل کیا۔ شمع رسا لت ﷺکی تعلیمات کی روشنی سے دلوں کو منور کیا، اسکے بعد انہوں نے اپنا روحانی فیض بختیا ر کاکیؒ کو عطا کیا ،اس کے بعد اس روحانی فیض کا سلسلہ بابا فرید شکر گنج ؒ کے سپرد ہوا۔ انہوں نے یہ فیض جناب نظام الدین اولیا ؒ، علاؤالدین صابرؒپیا،انکے بعد یہ فیض جناب میر خسر و ؒ ، تاج الدینؒ ،خواجہ نور محمد مہاروی ؒچشتیاں شریف ، تونسہ شریف، جلال پور شریف ، مہر علی شاہ صاحب گو لڑوی ؒ اور پھر یہ سلسلہ چشتیا اور صابریا کے بزرگان دین نے فقر کے گلستان میں ہندو پاک کی سر زمین میں الہامی او ر روحانی تعلیمات کے نور کی روشنیا ں پھیلانی شروع کردیں،نسل انسانی کیلئے رشد و ہدایت اور روحانی تسلی تصفی کے چشمے جاری ساری کر دئیے ۔
دوسراسلسلہ جس نے ہندوستان میںاسلام کی تبلیغ کافریضہ بڑے پرتپاک انداز میں جاری کیا۔وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے تربیت یافتہ ایک عظیم قلندر حضر ت میراں بہاول شیرلال قلندرؒ اور حضرت مقیم شاہؒ صاحب ہیںجنہوں نے اپنا مسکن حجرہ شاہ مقیم میں قائم کیا اوراسی لڑی اور اسی سلسلہ کے جناب پیر امیر علی بالا حضورؒ جنہوں نے ہندوستان کی زمین میں اسلام کو رو شناس کروانے میں نمائیاں کردار ادا کیا۔ ان سے جناب حضرت سلطان العا ر فین حق باہوؒ شور کوٹ ضلع جھنگ ،شاہ عنایت قادر ی لا ہوریؒ مرشد سید بلھے شاہ صاحبؒ، پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکارؒ مرشد حضرت میاں محمد بخش صاحبؒ کھڑی شریف آزاد کشمیر،حضرت سید عبد ا لطیف قادریؒ المعروف امام بری شریف اسلام آباد نے اکتساب فیض حاصل کیا۔انکے علاوہ اسی لڑی کے شیخ عبدالقادر ثانی پیر کوٹ ضلع جھنگ، سائیں کرم الہیؒ گجرات شریف حضرت شاہ عبد ا لطیف بھٹائی ؒ قادری مقیم شاہی سندھ حضرت شہباز قلندرؒ قادری سیون شریف ضلع دادو۔ حضرت سخی سرورؒ حضور ضلع ڈی جی خان، اسی طرح سلسلہ قادریہ اور سلسلہ چشتیا کے دینی روحانی پیشواؤں نے ہندوستان کے کونے کونے میں اسلام کا پرچار کیا اور دین محمدی ﷺ کے پھیلا نے کا فریضہ بڑے احسن طریقہ سے ادا کیا۔ انہوں نے نثر و شاعری اور قلندری رنگ میں قرآن حکیم کے دنیا کی بے ثباتی کے رموز اور نقاط کو اس خوبصورت اور احسن طریقہ سے پیش کیا ۔ حسن خلق اور حسن کردار سے ظلمت کدہ کو نور ہدایت کی روشنی سے منور کیا ، جس سے قرآن فہمی کے راستے کی گرہ کھلتی جا تی اور اسکی روح سے آگاہی ہوتی جاتی ۔ لوگ مست وار دائرہ ء اسلام میں داخل ہوتے جاتے ۔ ان بزرگان دین نے دینِ اسلام کی اصل روح کو ہندوستان کی سر زمین میں متعارف کروایا اور اور اسکی مسحور کن خوشبو کو پھیلانے میں اہم رول ادا کیا۔ جیسے یہ سر زمین اپنے حسن و جمال میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔اسی طرح حسین و جمیل،دلسوزی و دلنوازی،رو ح سوزی و ر و ح سازی،الفت و محبت سے بھرپور شخصیتیں اس دھرتی نے پیدا کرنا اپنا نصیب بنا رکھا ہے۔
ان دینی اور روحانی پیشواؤں، فقیروں،درویشوں نے اپنی عملی زندگی میں دینی نظریات ،دینی ضابطہ حیات ،دینی طرز حیات ،دینی تعلیمات کے چراغ اس طرح روشن کرتے کہ عوام الناس جوک در جوک دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے جا تے ، آج بھی انکے کلام کے پڑھنے اور سننے والوں پر ایک رکعت آمیزکیفیات طاری ہو جاتی ہیں۔ انکے کلام سے اپنی اپنی مادری زبان میں انسان آسانی سے اسلام کی روح تک رسائی کر لیتا ہے ۔ وہ دنیا کی بے ثباتی اور توحید کے جام پلاتے ہیں۔وہ بارگاہ رسالتﷺ کی شان عظیم کے آداب سکھاتے ہیں۔ وہ فقر کی طیب زندگی اور پاکیزہ کردار سے آشنا ئی فرماتے ہیں ۔ وہ ذکر و فکر کی لذتوں سے متعارف کرواتے ہیں۔ وہ حیات و ممات اور فلسفہ ء حیات جاوداں، نیکی بدی،خیر و شر او ر اس جہانِ رنگ و بو کے رموز کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔وہ امانت و دیانت کے اصول و ضوا بط کی روشنی میں انسانی کردار سنوارتے ہیں۔ وہ سادہ اور سلیس زندگی کا راستے بتا تے اور اسکی افادیت سے آگاہی بخشتے ہیں۔وہ عمل اور کردار سے مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کی کردار سازی کا طیب فریضہ ادا کرتے ہیں۔وہ پردہ پوشی اور عفو و در گذر کے عمل کے چراغوں کو جلا کر نہ ختم ہونے والی روشنیاں عطا کرتے ہیں ۔ وہ اخوت و محبت کے میکدے کو لا متناہی دوام دیتے ہیں۔وہ عدل کو اپنی زندگی پر وارد کرتے ہیں اور پھر اسکی تعلیم و تربیت سے انسانیت کو مستفیض کرتے ہیں۔وہ اپنے کردار سے ایثار و قربانی کے عمل کی لا زوال قندیلیں روشن کرتے ہیں۔ خدا ترسی ، رحم دلی اور اعلیٰ ظرفی انکا شیوہ عبادت ہے۔ہندوستان کی سر زمین میں اسلام کی شمعیں انہوں نے روشن کیں۔ وہ حضور نبی کریمﷺ کے حسن خلق اور حسن کردار کے میخانے کے ساقی کا رول اداکرتے ہیں۔وہ مخلوق خدا میں عمدہ اور اعلیٰ صفات اور فطرتی صداقتوں کا لنگر تقسیم کرتے رہتے ہیں،وہ مخلوق خدا میںعزت و ادب کے لا زوال تحفے بانٹتے ر ہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا کو امانت و دیا نت ، ایثا رو نثار،عفو و در گذر کی آفادیت سمجھاتے اور خدمت خلق کے کشکول بھرتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا کواخوت و محبت کے دلربا جام پلاتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا کواعتدا ل و مساوات کے دلکش اور عمدہ اصول سمجھاتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا میں ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کا شعور بیدار کرتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا میں محنت و تجسس کی شمعیں روشن کرتے رہتے ہیں۔ وہ مخلوق خدا کو حقوق اللہ اور حقوق ا لعباد کے نظام کی عقدہ کشائی کرتے رہتے ہیں ۔وہ مخلوق خدا کو آقا ا ور غلام،برہمن اور شودر کے طبقات سے نجات دلاتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا کو نفرتوں اور نفاق سے بچنے کی تلقین فرماتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا میںخیر اور بھلائی کی دولت عام کرتے رہتے ہیں ۔وہ مخلوق خدا کو نور کاراستہ بتاتے اور ظلمات سے بچاتے رہتے ہیں۔وہ مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا درس دیتے رہتے ہیں۔وہ اولاد کو ماں کی نگاہ سے دیکھنے اور مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا عرفان عطا کرتے رہتے ہیں ،وہ ادب و محبت کی خوشبو بن کر دلوں کو معطر کئے جاتے ہیں، انہوں نے ہی ہندوستان کی دھرتی میں اسلام کا نور پھیلایا ہے۔آج پچپن کروڑ کے لگ بھگ مسلم امہ کے فرزندان پاکستان،بھارت اور بنگلہ دیش میں انکی محبت اور شفقت کا ثمر ہیں۔آج بھی انکے مزار اقدس مخلوق خدا کیلئے منبہ رشد و ہدایت کی خوشبو سے معطر، گناہ میں ڈوبے ہوئے، بھولی بھٹکی انسانیت کی رہنمائی کا طیب فریضہ ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔انکی نثر ہو یا شاعری یا قلندرانہ زندگی کی عملی کتاب وہ دین محمدی ﷺ کے نور سے پر نور اور لطف و کرم کے میخانے کے ساقی بنے بیٹھے ہیں۔
داتا گنج بخش رحمت اللہ علیہ ہوں یا شیخ عبد القادر جیلانی رحمت اللہ علیہ ہوں۔ خواجہ غریب نوازؒ ہوں یا حضرت بہاول شیر قلندر ؒ، بختیار کاکیؒ ہوںِ یا حضرت مقیم شا ہ حجرویؒ ہوں ، حضرت بابا فرید شکر گنج ؒہوں یاحضرت پیر امیر علی بالا پیرؒہوں ،حضرت نظام الدینؒیا سلطان العارفین حق باہوؒ ہوں ، حضرت صابر پیا ؒ ہوں یا بلھے شاہ قصوری ؒ، مہر علی شاہ گولڑویؒ ہوں یامیاں محمدبخش کھڑی شریفؒ ہوں،وارث شاہؒ ہوں یا شا ہ حسین ؒ ہوں، غلام فرید مٹھن کوٹی ؒ ہوں یاسر مست ؒہوں، شہباز قلندر ؒ ہوںیا امیر خسروؒ ہوں، نور محمد مہاروی ہوںیا تونسہ شریف والے ہوں۔ علامہ اقبال ؒ ہوں یا واصف علی واصف ؒ ہوں۔ انکے علاوہ ہر دور میںان سلسلہ کے درویشوں ،فقیروں اور ولیوں نے قریہ قریہ ،نگر نگر،شہر شہر، ملک ملک انسانی دلوں پر نور کی روشنیاں پہنچائیں۔ انکا کلام عشق محمدی ﷺ اور ادب محمدی ﷺ کے الہامی اور روحانی نور سے سینچا ہوا ہے۔ انسانیت کی رہنمائی اور راہ ہدایت کے وہ ایسے درخشاں ستارے ہیں جو رشد و ہدایت کے افق پر دین اسلام کی دلکش اور مسحور کن نورانی روشنیاں پھیلاتے اور ظلمات کو ختم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کی وہ عوام،وہ جنتا اور وہ مخلوق خدا جو مختلف نظریات،ہندو ازم، بدھ ازم،آتش پرست یا کسی اور نظریہ سے بھی وابسطہ تھی۔ جنکو مسلم امہ کے ان عظیم فقیروں ، درویشوں اور ولیوں نے اللہ تعالیٰ کی تو حید پرستی کا درس ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کا تعارف ،چار اہل کتاب پیغمبران اور ان پر نازل ہونے والی الہامی کتابوں کی آگاہی اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نبوت کا تعارف،ان پر نازل ہو نے والی الہامی کتاب قرآن پاک، ا سکے نظریات، دستور حیات، ضابطہ حیا ت ،طرز حیات اورانکی الہامی،روحانی تعلیمات کی روشنیوں سے متعارف فرمایا۔ انکو خالق حقیقی سے روشنا س فرمایا۔ خالق کی مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کی تعلیمات سے آگاہی بخشی ۔ذات پات،اونچ نیچ، برہمن اور شودر کے باطل نظریا ت کو ختم کیا، بت پرستی اور آتش پرستی سے نجات دلائی۔طبقات کی بالادستی کو کچل کر رکھ دیا۔بنی نوع انسان کی عزت نفس اور عظمت کو بحال کیا،اولاد کو ماں کی نگاہ اور مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کا عرفان بخشا اور سلیقہ بھی عطا کیا۔ ساری خدائی ہے کنبہ خدا کی گرہ کھولی، بنی نوع انسان میں انسانی عزت وعظمت،اخوت و محبت کا رشتہ استوار کیا، ادب انسانیت اورخدمت انسانیت کا لطف و کرم عام کیا۔ بنی نوع انسان کوقربت خدا وندی کی منزل کا مسافر بنا دیا۔خیر کی دنیا بحال کی اور شر کو ختم کرنے کا راستہ سمجھایا۔
آج وہ اسلام کے ہدی خواں کہاں ہیں جنہوں نے دین محمدی ﷺکے نظام حیات کے بے سرو سامانی اور قلیل سی ضروریات زندگی سے رشتہ قائم رکھا اور صبر و قناعت کا درس دیا۔آج وہ روحانی پیشوا کہاں ہیں،جنہوں نے خالق کی مخلوق کو پیار اور ادب دیا اور مخلوق خدا کو خالق کی نگاہ سے دیکھنا سکھایا۔ آج وہ دین محمدی ﷺ کے صاحب بصیرت ہدی خواںکہاں ہیں جو بنی نوع انسان کو اخوت و محبت کی پر لطف کیفیات عطا کرتے اور انکے دلوں میں خوشبو بن کر اتر جاتے۔ آج وہ خیر کے داعی کہاں ہیں جو شہد کی مکھیوں کی طرح انسانوں کو اپنے گرد جمع رکھتے اور دین کا درس دیتے اور انکے دل و دماغ کو منور کرتے۔ آج وہ فقر کہاں ہیں۔ جن کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ انسانوں کی تقدیریں بدل دیتے جو کلمہ شریف لا الٰہ الا للہ محمد الرسول للہ کا ورد قلبوں میں جاری کر دیتے ۔ آج وہ شب بیدار کہاں ہیں۔جو مخلوق خدا کی خیر ، بھلائی اور فلاح کیلئے رب العزت کے دربار میں رات کی تنہائیوں میں آنسو بہاتے اور اپنی توفیقوں اور تاثیروں کیلئے ملتجی کھڑے رہتے ۔ آج وہ صبر و توکل کے پیکر کہاں ہیں۔ جو حرص و ہوس میں ڈوبے ہوئے غافلوں کو بیداری عطا کرتے اور صبر و توکل کی منازل کا مسافر بنا دیتے ۔ آج وہ فطرت کے رازداں کہاں ہیں۔جو علم لدنی کے وارث اور دلوں کو تسخیر کرنے کی قدرت رکھتے ۔آج وہ عرفان کے عارف کہاں ہیں۔جو حیات و ممات اور اس فانی کائنات کی گرہ کھولا کرتے۔ آج وہ صحرا نورد کہاں ہیںجو دوائے درد دل بیچا کرتے ۔ آج وہ مونس انسانیت، کہاں ہیںجو بھولے بھٹکوں کوراہ راست کی منزل کی نشاندہی کیا کرتے ، کہاں گئے وہ پیکر انسانیت، جنہوںنے ہندوستان کی سر زمین میں پچپن کروڑ انسانو ں کے دلوں کی کھیتی میں رحمت العا لمین پیغمبر خدا کے عمدہ اخلاق ، اعلیٰ کردار،لا جواب الفت و محبت،انمول پیار، بے مثال الہامی صفات ،فطرتی صداقتوں کے چراغ جلائے۔انہوں نے نظریاتی نفرتوںکو محبت کا جام پلایا۔بغیر کسی تشخیص کے، کہ کون کون ہے،ہندو ہے ،برہمن ہے،شودر ہے،آتش پرست ہے،بدھی ہے یا جینی ہے عیسائی ہے یا مسلمان ہے، کالا ہے یا گورا اونچ ذات کا ہے یا نیچ کا ، انہو ں نے تمام انسانو ں کو ایک جیسی عزت دی،ایک جیسا احترام دیا،اپنے لنگر پر اپنے ساتھ بٹھایا اور اپنے ساتھ کھانا کھلایا، توحید پرستی کا درس دیا، خالق کائنا ت اور اسکے نظام کائنات کا فلسفہ سمجھایا،نیکی بدی ، خیر اور شر سے متعارف کرایا، مخلوق خدا کو کنبہ خدا کی آگاہی بخشی ۔مخلوق خدا کو اخوت و محبت کے پاکیزہ رشتے سے منسلک کیا،انسانی حقوق کو ادب و عزت سے بجا لانے کی عبادت سے آگا ہی بخشی،دنیا کی بے ثباتی کا سبق یاد کرایا ، اعتدال و مساوات کی آفادیت سمجھا ئی، برہمن اور شودر کے فرق کو ختم کیا ، غریبوں مسکینوں،بے سہاروں، بھوکوں، ننگو ں ،بیماروں ،اپاہجوں کی حاجت روائی کا حسین عمل جار ی کیا،عبادت کا سلیقہ عطا کیا،رحمت ا لعالمین ﷺ کی رحمتوں اور شفقتوں کو عام کیا،ازدواجی زندگی اور قرابت داری اور انسانی رشتوں کے تقدس کو قائم کیا۔ ہندوستان کی سر زمین میں ان درویشوں اور فقیروں نے دین کی روشنی میں اسلامی تہذیب کو جنم دیا،بنی نوع انسان کوعدل و انصاف کی اہمیت سے آشنا فرمایا، تمام بزرگان دین،دین کی تعلیمات سے آراستہ ہوتے۔ ظاہری اور باطنی علوم کو سیکھتے اور ان پر فوقیت حاصل کرتے۔بنی نوع انسان کو ظلمات کی نگری سے نکال کر الہامی روحانی روشنیوں سے ہمکنار کر د یتے ۔انہوں نے احترام انسا نیت اور ادب انسانیت کے حسین کرداروں کی تشکیل فرمائی۔ انہوں نے بنی نوع انسان کو پیار کے پریم کے ساغر پلائے۔ ایک عجمی اور عربی کا فرق مٹا یا ۔ برہمن اور شودر کو ایک ساتھ کھانا کھلایا۔طبقات کو ختم کیا،انہوں نے بنی نوع انسان کو عزت و توقیر بخشی۔آج انکے مزارات منبع و رشدو ہدایت بنے پڑے ہیں،انکی قربت میںبوئے محمدیﷺ۔انکے شیریں کلام دلوں کے مضراب، انکی کتب رشد و ہدایت اور دین محمدیﷺ کی تعلیمات کے روشن مینار،انکے ملفوظات روحوں کی مستی کے جام ۔انکی بات سچی،انکا عمل سچا،انکا کردار سچا۔ ا نکے مے خانے آباد۔ وہ خزاں سے نا آشنا،وہ صدا بہار۔وہ انسانی گلستان میںسرسبزو شاداب، وہ میٹھی پون کے سینچے ہوئے، وہ نور محمدیﷺ کے ہرے بھرے شجر۔ وہ تلخی ء دوراں کے جلے ہوئے انسانوں کیلئے سایہِ رحمت اورآسمانی الہامی نورکی روشنیو ں کی ٹھندک ،وہ رشد وہدایت کے مے خانے کے ساقی۔انکے مست نگروں میں توحید کا لنگر جاری، ساقیء کوثر ﷺ کی مستی کے جام جاری۔ مستوں کو مست الست بنانے کا عمل جاری۔خیر کی خیرات جاری، بنی نوع انسان کی بھلائی کا علم و عمل جاری،وہ بھولے بھٹکوں کے سہارے۔وہ راہ ہدایت کے ہدی خواں،وہ دین و دنیا کے خضرِراہ۔ذرا انکو پکارو، تو۔ذرا صحرائے فانی میں انکے نقش قدم کو تلاش تو کرو۔ ان کے برعکس اسلام کے نام لیوا،دین کے عملی منکر، منافق مسلمان حکمرانوں نے تقریبا نو سو سال تک برصغیر ہند پر حکمرانی کے ساز بجائے۔انہوں نے دین اور حکومت کو جدا کر رکھا،انہوں نے باد شاہت کی عیش و عشرت کے مزے لوٹے،انہوں نے دین محمدی ﷺ کے خلاف بادشاہت کے نمرودی ، فرعونی اور یزیدی نظام کو اپنی اپنی سلطنت میں رائج رکھا۔وہ تو ہمیشہ اپنی اپنی سلطنتیں قائم کرنے اور انکے تحفظ کیلئے کوشاں اور سر گرداں رہے ۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے۔کہ کربلا کا واقع کیوں پیش آیا تھا۔انہوں نے اسلام کے خلاف جبر اور ظلم کا بادشا ہت کا خود ساختہ فرعونی ، یزیدی نظام حیات ہندوستان کی سر زمین پر اپنی اپنی حکومتیں ، سلطنتیں اور اقتدار کو قائم رکھنے اور دوام بخشنے کیلئے حسب خواہش نافذ کرتے رہے ۔یہ تمام بادشاہ دین محمدیﷺ کے خلاف اپنی حاکمیت کے باطل، غاصب ضابطہ حیات کو ملک پر مسلط کرتے رہے۔وہ عیش و عشرت میں ڈوبے رہتے۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا، انکی زندگی کا مقصود ہی نہ تھا۔ اس طرح بنی نوع انسان جو ہندو تھے یا بدھ،عیسائی تھے یا مسلمان ،وہ سبھی دین محمدی ﷺکے نظریات، دستور حیات اور ضابطہ حیات کے مطابق اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت کی عملی شکل نہ دیکھ سکے ۔ انہوں نے تواسلام کو ان فقیرو ں، ولی اللہ اور درویشوں کی قرآنی ، الہامی تعلیما ت،انکے حسن عمل اور حسن کردار کی روحانی تجلیو ں کی تاثیروں کی بنا پر اسلام قبول کیا تھا۔وہ درویشوں،ولی اللہ،فقیروں اور دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات،انکی تعلیمات ، انکے حسن خلق،انکے حسن کردار، انکے ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کے طریقہ کار، انکے اعتدال مساوات کے آداب ، انکے طبقات ختم کرنے کے سلیقے ،انکے اخوت و محبت کے درس ،انکے اٹھنے بیٹھنے اور ہر عمل میں بوئے محمدی ﷺ، انکے مخلوق خدا کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے کے اعمال، انکے ر وحانی اطوار،انکی دینی تعلیمات اور کردار کے خلاف اور متضاد ان مسلمان حکمرانوں نے بادشاہت کے فرعونی نظام حیات،انکے یزیدی طریقہ کار ،انکے معاشی اور معاشرتی نظام حیات اور حکمرانی کی اذیتوںکا شکار بدھی ہوں یا جینی،ہندو ہوں یا مسلمان ہوتے گئے۔وہ تمام حکمران اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے سے گریزاں رہے۔ دین محمدی ﷺ اورروح اسلام کی سرکاری بالا دستی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم نہ کی۔ لیکن دین محمدیﷺ کی تبلیغ اورفروغ جاری رہا۔علما کرام،مسفرین قرآن، مشائخ کرام اور فقرا کرام نے انکے دوران حکرانی میں دین کی تبلیغ کا مشن جاری رکھا۔ انکے بعد انگریزوں نے ہندوستان کو فتح کیا اور ۹۰ سالوں تک انگریز ہندوستان کا حکمران رہا۔انگریز ہندوستان میں مسلم امہ کی تہذیب و تمدن کو ختم کرنے کیلئے پوری طرح کوشاں رہا۔ اس نے اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات ،نظریات پر مشتمل نظام حکومت ایک مفتوحہ ملک اور مقید اعوام پر مسلط کیا۔ انہوں نے ملک کے چند غداروں کوجاگیریںدیں اور کچھ کو دولت سے نوازا۔انکو اپنے ساتھ ملایا۔ انہوں نے اس مفتوحہ ملک کی عوام کو کنٹرول کرنے کیلئے جمہوریت کا جابرانہ نظام حکومت قائم کیا۔جمہوریت کے نظریات،ضابطہ حیات ،تعلیمات پر مشتمل نظام حکومت کا تعین کیا،اسکے ذریعے اپنے پسندیدہ جاگیر داروں،سرمایہ داروں پر مشتمل سیاستدانوں کو اپنی حکومت میں شامل کیا۔اس طرح انہوں نے جمہوریت کی سرکاری بالا دستی سے دین محمدی ﷺ کے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمات کو سرکاری سطح پر منسوخ اور مسخ کر کے رکھ دیا۔ دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات کی بجائے جمہوریت کے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمات کو مسلط کر دیا۔ جمہوریت کا تعلیمی نصاب مقرر کیا۔اس نظام اور نصاب کی تعلیم و تربیت کے لئے جمہوریت کے طبقاتی تعلیمی ادارے سکول کالجز،یونیورسٹیاں قائم کیں۔جمہوریت کے مذہب کا تعلیمی نصاب اور اسکی سرکاری زبان انگریزی مقرر کی اور اسکی تعلیمات جاری کر دیں۔اردو،عربی ،فارسی زبان کا سرکاری طور پر خاتمہ کیا۔ دین محمدیﷺ اور دینی درسگاہوں کی سرکاری بالا دستی اور آفادیت ختم کر دی گئی۔۱۹۴۷ میں ہندوستان آزاد ہوا۔دو قومی نظریات کی روشنی میں۱۹۴۷ میں بھارت اور پاکستان دو ملک دو قومی نظریات کی بنیاد پرمعرض وجود میں آئے۔مسلمانوں نے پاکستان دین محمدی ﷺکے نام پر حاصل کیا تاکہ مسلمان اپنے نظریات،ضابطہ حیات اور نظام حیات کے مطابق اپنی زندگی گذار سکیں ۔ ہندو اپنے دھرم اور نظریات کے مطابق اپنا نظام حیات رائج کر سکیں۔ ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک اہل پاکستان کے مسلمان دین محمدیﷺ کے ضابطہ حیات،نظریات اور نظام حیات کی سرکاری بالا دستی سے محروم چلے آرہے ہیں جسکی خاطر پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ اللہ تعا لیٰ کی حاکمیت کو قائم نہ کر سکے۔اہل وطن مسلم امہ کے سولہ کروڑ افراد کے ساتھ دھوکہ کیا اور مسلم امہ اور انکی نسلوں کے مجرم بن چکے ہیں۔ وہی ملک و ملت کے غدار جاگیر دار،سرمایہ دا ر ٹولہ جمہوریت کے مغربی سیاسی نظام کے پرائمری سے لیکر بی اے، ایم اے،پی ایچ ڈی تک کے حکومتی سکالر تیار کرتے چلے آرہے ہیں۔سودی معاشی نظام کے پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک ملکی معاشیات کے سرکاری سکالر وں کی گنتی نا ممکن ہے۔ انگریزی زبان کے نرسری سے لیکر ایم، اے پی ایچ ڈی تک کے مغربی زبان کے سکالر وں کی تعداد بھی لا تعداد ہے ۔۱۸۵۷ کے ایکٹ کے مطابق امر یکن لا،برٹش لا،انڈین لا اور جیوری پروڈینس کے لا گریجو ایٹ بار ایٹ لا کے مغربی تہذیب کے انتظامیہ اور عدلیہ کے دانشوروں نے ملک میں ات مچا رکھی ہے۔مسلم امہ اورانکی نسلوںکا کیا قصور ہمارا تعلیمی نصاب جمہوریت کا،اسی کا طبقاتی تعلیم و تربیت کانظام، طبقاتی تعلیمی نصاب، طبقاتی تعلیمی انگلش میڈیم ادارے، جن پر جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقہ کی اجارہ داری مسلط ہے۔جو حکمران اور سرکاری اعلیٰ عہدیدار تیار کرتے ہیں۔ جنکے ذریعے مسلم امہ اور انکی نسلوں کو سرکاری طور پر دین محمدی ﷺ سے محروم اور جمہوریت کے کفر اور منافقت کے مذہب کے نظام حکومت کا قیدی بنا کر رکھ دیا ہے۔پاکستانی مسلمان حکومتی نظام کی پابندی کے تحت طبقاتی تعلیم،طبقاتی معاشرہ،طبقاتی حکمران۔مخلوط تعلیم ،مخلوط معاشرہ،مخلوط حکومت کے حکومتی نظام کے دین کے باغی،منکر اور منافقت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔جمہوریت اسکے نظام حکومت اور اسکے حکمرانوں کے زیر اثر اہل پاکستان مغربی نمرودی ،فرعونی اور یزیدی تہذیب کا حصہ بن چکے ہیں۔جمہوریت کا مذہب ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی ازدواجی،معاشی اور معاشرتی تہذیب کو مسخ اور روند چکا ہے۔اس سے قبل مغرب میں نان کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت دو تین ارب عیسائیوں کومسیحائی کی تعلیم تربیت اور عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی تہذیب و تمدن کو کچل چکا ہے۔انکے روحانی مذہبی سکالروں، دانشوروں،شب بیدار اہل بصیرت کو بھی اس پر سوچنا ہوگا۔الہامی مسیحائی کی تعلیمات کو بحال کرنا ہوگا۔پیغمبران اور انکی امتوںکو انکے پیغمبران کی طرف رخ موڑنا ہوگا۔ تمام پیغمبران جواللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے اس کائنات میں بنی نوع انسان کی بھلائی اور فلاح کیلئے بھیجے ۔ انکی مقدس الہامی کتابوں کی تعلیمات پر غور و فکر کرنا ہوگا۔مذہبی رشتوں اور بنی نوع انسان کو خالق کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔ید بیضےٰ نے بھی اپنا کام سر انجام دینا ہے۔مسیحائی نے بھی اپنا فر یضہ ادا کرنا ہے۔رحمت العالمین کی رحمتوںکے نور نے بھی پورے ارض و سماوات کو آپنے احاطہ میں لینا ہے۔ آخری نبی الزماںﷺ کی مقدس کتاب کا فیض جاری ہونا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے پہلے سابقہ تمام جمہوریت کے نظام حکومت کے حکمرانوں کے ریکا ر ڈ توڑ دئیے ہیں۔ انہوں نے دین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔انہوں نے اپنے دور حکومت میں حقوق نسواں کے نام پر مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ اور مخلوط حکومت کا آر ڈیننس جاری کر کے مسلم امہ کی ازدواجی زندگی ،چادر اور چار دیواری کا نظام ختم کیا ہے۔ دوسری طرف ۵۱ فیصد مستورت کا کوٹہ یونین کونسل کی ممبران سے لیکر ناظم تک،ایم پی اے سے لیکر ایم این اے تک،سینیٹروں ،وزیروںِ، ایڈیشنل وزیروں۔مشیروں،وزرائے اعلیٰ سے گورنروں تک،وزیر اعظم سے لیکر صدر پاکستان تک ۵۱ فیصد یعنی پہلے ممبران سے بھی ایک فیصد زیادہ یونین کونسل کی ممبران،ناظموں،ایم پی اے ،ایم این اے۔سینیٹروں، وزیروں مشیروں،،وزرائے اعلیٰ،گورنروںِ،وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی تعداد کو بڑھا کر ایک گھناؤنا معاشی قتال کر کے رکھ دیا ہے۔انکے علاو سرکاری اعلیٰ اور ادنیٰ عہدیداروں،انکی شاہی سرکاری سہولتوں،شاہی سرکاری رہائشوں،سرکاری گاڑیو ں،پٹرول ،سرکاری ٹیلیفونوں،بیشمار دوسری سرکاری سہولتوں کے اخراجات ۹۹۰۹ فیصد عوام الناس جو انکے عدل کش نظام حکومت کے روندے ہوئے کسانوں ، محنت کشوں، ہنر مندوں ، معذوروں ، مفلسوں ،غریبوں،بیروز گاروں، بیواؤں،یتیموںکو پیس کر رکھ دیا ہے۔نہ انکے پاس ذرائع آمدن،نہ وسائل ۔نہ ممبر،ناظم،ایم پی اے،ایم این اے ،سینیٹر،نہ وزیر،مشیر،وزرائے اعلیٰ،گورنر،وزیر اعظم اور نہ ہی صدر پاکستان کے عہدے انکے پاس ہیں۔نہ ملک کے کسی گاؤں میں انگلش میڈیم ادارہ ،نہ سکول،نہ کالج نہ یونیورسٹی۔نہ مزدور ،محنت کش،ہنر مند یا عوام الناس کے پاس ان اعلیٰ اداروں کی فیسیں نہ اخراجات۔نہ انکے پاس کوئی سرکاری اعلیٰ عہدہ،نہ وہ سیکٹری، نہ ایڈیشنل سیکٹری ،نہ جائنٹ سیکٹری، نہ ڈپٹی سیکٹری، نہ سیکشن آفیسر، نہ اسٹنٹ کمشنر،نہ ایڈیشنل کمشنر،نہ ڈہپٹی کمشنر،نہ کمشنر۔نہ ڈی ایس پی،نہ ایس پی ،نہ ایس ایس پی ،نی ڈی آئی جی،نہ آئی جی۔نہ سول جج، سینئر سول جج، نہ ایڈیشنل اور نہ ہی شیشن جج،نہ کوئی ہائی کورٹ کا جج،نہ چیف جسٹس،نہ کوئی سپریم کورٹ کا جج اور نہ ہی کوئی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس۔ نہ کوئی لیفٹیننٹ ،نہ کوئی کیپٹن،نہ کوئی میجر ،نہ کوئی کرنل،نہ کوئی لیفٹیننٹ جنرل اور نہ ہی کوئی جرنیل آج تک پاکستان کی ہسٹری میں کوئی بن سکا ہے۔یہ ایک جمہوریت کا غاصب جاگیر دار،سرمایہ دار سیاسی طبقہ اور حکومتی ٹولہ ہے۔ انہوں نے سولہ کروڑ انسانوں کومہنگائی کی سرنجوں اور ٹیکسوں کی نشتروں سے انکا معاشی خون چوس لیا ہے۔وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپتے،سسکیاں لیتے اور دم توڑے جاتے ہیں۔انکا علاج فطرت کے پاس موجود ہے جو اس نے اپنے بندے کی ڈیوٹی لگا رکھی ہے۔
یہ مسلم امہ کو جمہوریت کی ا گلی منزل کے عبرتناک باطل نظام حیات کا گھناؤنا اور جان لیواپھندا ڈال چکے ہیں۔اب ان غدار سیاستدانوں نے انگریز کی بجائے فوجی جرنیلوں کو اپنا آلہ کار بنا کر ملت کو یرغمال بنا لیا ہے۔ملت کے وسائل،مال و دولت،تجارت اور خزانہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ دین کے دستور مقدس کو سرکاری طور پر منسوخ اور ختم کر کے اسکی جگہ ملت کو اینٹی کرسچن جمہور یت کی اسمبلیوں کے ممبران کے تیار کردہ قوانین اور ضابطہ حیات کی اطا عت کا پابند بنا لیا ہے۔یعنی ہمارے پیغمبر اسمبلیوں کے ممبران بن چکے ہیں۔ جنکی اطاعت ہمار ا سرکاری فریضہ بن چکا ہے۔کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ بزرگان دین،ولی اللہ جنہوں نے ہندوستان کی سر زمین میں آکر دین محمدیﷺ کے چراغ جلائے اور روشن کئے ، جنہوں نے لاکھوں،کروڑوں انسانوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا شرف حاصل کیا، آج ان کے آستانوں پر انوار کی بارشیںہو رہی ہیں۔انکے وارثین ،علما کرام،مشائخ کرام مسلمانوں کے ملک پاکستان میں اس باطل، بے دین اینٹی کرسچن جمہوریت کے دین کش نظام حکومت میںشامل ہو چکے ہیں ، وہ بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائض ہیں۔بقایا دینی علما،دینی مشائخ کرامِ، گدی نشین غفلت اور بے دینی کے عذاب میں ڈوب چکے ہیںَ۔ عوام الناس ،صاحب دل ،دین کے طالب،دین محمدی ﷺ کے پروانے آج بھی ان آستانوں سے راہ راست کیلئے لپٹتے ہیں۔ وہ انکے آستانوں کے گدی نشینوں کے ہاتھ چڑ جاتے ہیں۔ وہ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کے اعلیٰ جاگیر داروں،سرمایہ داروں،سرکاری اعلیٰ عہدیداروں، سیاستدانوںکی کامیابیوں کے لئے دعا گو بنے بیٹھے ہیں۔ یہ ازخوداور انکے قربت والے پیروکار بڑے فخریہ انداز میں بیان کرتے رہتے ہیں۔ کہ فلاں فلاں وزیر مشیر ، گورنر،وزیر اعظم ،صدرپاکستان اور بڑے بڑے جرنیل انکے آستانوں کا طوائف کرتے رہتے ہیں۔ یہ پل میںحکومتیں لیتے دیتے رہتے ہیں۔انکے آباؤ اجداد تو آئے تھے، اللہ تعالیٰ ان پر کروٹ کروٹ رحمتیں فرماویں آمین۔ ثم آمین انکے پاس نہ ایسے آستانے تھے،نہ ایسے شاہی انتظام تھے۔ انکے نہ عدل کش تفاوتی لنگر تھے،نہ شاہی گاڑیاں تھیں،نہ انکے پاس وزارتیں تھیں،نہ وہ جھوٹی سچی سفارشیںکرتے تھے،نہ وہ نذرانوں کے عوض دین فروخت کرتے تھے، نہ وہ باطل حکومتوں کے سر پرستوں کو منہ لگاتے تھے ۔نہ وہ نظرانے لیتے تھے اور نہ وہ عیش و عشرت کی تفاوتی زندگی پسند کرتے تھے اور نہ ہی گذارتے تھے۔ وہ تو بے سرو سامانی کی زندگی لیکر ہندوستان کی سر زمین میں داخل ہوئے ۔ انہوں نے کروڑوں انسانوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ انہوںنے دین کی اطاعت کی ،انہوں نے دین کی درسگائیںقائم کیں، کشف المحجوب اور درالعجائب جیسے نایاب نسخے مرتب کئے،جو آج بھی رہنمائی کے روشن مینار ہیں،چشتی ، قادری ،صابری ،جعفری یا کسی بھی سلسلہ کوماننے والوں نے انکے نقش قدم کو مسخ اور روند کر رکھ دیا ہے۔ انکے آستانوں کے وارثوں نے تو مسلمانوں کے ملک میں مسلم امہ اور اسکی آنیوالی نسلوں کو دنیاوی غرض و ٖغائط کی تکمیل اور ذاتی مادی آفادیت کی خاطر اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل ،غاصب مذہب کے پیروکار اور وارث بن چکے ہیں۔انکے باطل کدے ہر دور میںاینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں،سیاسی رہنماؤں،آمروں، حکمرانوںاور سرکاری اعلیٰ ؑعہدیداروں کیلئے مرکز رشد و ہدایت بنے بیٹھے ہیں، دین کے روپ میںیہ دینی منافق مسلم امہ اور انکی نسلوں اور بنی نوع انسان کو گمراہی کے راستہ پر گامزن کرتے چلے آرہے ہیں۔ انکو انکے ان آباؤ اجداد کا واسطہ کہ وہ مسلم امہ اور بنی نوع انسان پر رحم فرما ئیں ۔
ان سیاستدانوں،سیاسی دینی جماعتوں کے رہنماؤں،آمروں ،حکمرانوں نے دین محمدی ﷺ کو کچلنے کیلئے ملک میں دین کے خلاف اسمبلیوں میں بیٹھ کرایسی ترامیم کیں، جسکی اختصاری تفصیل درج ذیل ہے، جس سے دین کی روح مسخ ہو جاتی ہے ۔ انکے روحانی وارثوں اور گدی نشینوں کا فرض تھا کہ وہ اس بد عملی اور بے دینی کو روکتے وہ تو بد بخت از خود اس جمہوریت کی حکمرانی میں شمولیت کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے دوزخ کا خود ایندھن بن چکے ہیں ، اپنے پیروکاروں کو بھی گمراہی کے جہنم میں دھکیلے جا رہے ہیں، مسلم امہ پر دین محمدی ﷺ کے دستور مقدس کی بجائے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کا دستور،ضابطہ حیات، اسکے قوانین ضوابط ،اسکا تعلیمی نصاب،اسکی تعلیمات کو ملکی سطح پر مسلط کر کے مسلم امہ اور انکی نسلوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے مذہب میں کنورٹ کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے بزرگان دین کے آستانوں، مساجد شریف، انکی درسگاہوں،انکے تعلیمی نصاب ،انکے کردار سازی کی تعلیم و تربیت کے عمل کو سرکاری طور پر منسوخ اور معطل کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے تعلیمی نصا ب کے سودی معاشی نظام کے سکالر،مغربی سیاسیات کے دانشور ،۱۸۵۷ کے ایکٹ کے مطابق برٹش لا،امریکن لا، انڈین لا،جیو ری پروڈینس کے تعلیمی نصاب کے انتظامیہ اور عدلیہ کے قوانین و ضوابط،اسی تعلیمی نصاب کے مطابق انتظامیہ اور عدلیہ کے منطقی اور فلاسفر تیار ہوتے ہیں، دینی درسگاہوں کی بجائے سکول ،کالجز، اکیڈمیوں، یونیورسٹیوں کی سرکاری بالا دستی مسلط ہو چکی ہے۔مخلوط تعلیم کا قانون نافذ کیا، مرد و زن کو اکٹھا کیا،بے حیائی فحاشی ،بدکاری اور زنا کاری کا راستہ ہموار کیا،دین محمدی ﷺ کے چادر اور چار دیواری کے نظام کو ختم کیا، مخلوط حکومت قائم کی،مخلوط معاشرہ تیار کیا،ازدواجی زندگی کے نظام کا خاتمہ کیا،نوجوان بچے بچیوں کو جنسی کینسر میں مبتلا کیا، بچیوں،بیٹیوں،بہنوںکو مغربی تعلیمات سے آراستہ کر کے انکے دفاتر میں بطور ملازمہ ،انکی تنہائیوں کو آباد کرنے اور انکی جنسی تسکین کیلئے انکو بطو ر داشتہ مہیا کرنے کا عمل جاری ہو چکا ہے۔ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت مسلط کر کے دین محمدی ﷺ کے شاہین تیار کر نے والی دینی درسگاہوں کی ملکی سطح پر بالا دستی ختم کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کی گدھیں تیار کرنے والے اینٹی کرسچن جمہوریت کے تعلیمی نصاب اور اسکے سکول کالجز، اکیڈمیوں، یونیورسٹیو ں کو سرفرازی عطا کر کے ملت اسلامیہ اور اسکی نسلوں کو جمہوریت کے باطل مذہب میں کنورٹ کیا جا رہا ہے۔ہمارے پیغمبران اسمبلیوں کے سیاسی ممبران بن چکے ہیں۔ اہل وطن کو یہ مغربی جمہوریت کے باطل کدے کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں۔ یا اللہ ہم پر رحم فرما ۔امین ۔دینی سیاسی جماعتوں کے ممبران اور لیڈران اور پیران طریقت سے گذارش ہے کیا وہ ان سوالات کی روشنی میں ملت کی رہنمائی فرماویں!۔ورنہ ایسے نشتر کیلئے تیار رہیں جو فطرت نے انکے لئے تیار کر رکھا ہے۔اے مذہبی رہبرو باز آجاؤ!ورنہ یہی جمہوووریت کا اژدہا تمہیںنگل جائیگا۔
نمبر۱۔ کیا حکمرانوں سے ملکر دین کے خلاف مخلوط تعلیم، مخلوط حکومت ،مخلوط معاشر ہ کی تلوار سے دین محمدیﷺ کی پردہ کی دیوار کو تو ڑ کر ، بے حیائی، بد کاری ، زنا کاری کا راستہ کھول نہیںدیا۔کیا وہ اس نظام حکومت میں شمولیت کے بعد مسلمان کہلا سکتے ہیں۔
نمبر ۲۔کیا حکمرانوں کے ساتھ ملکرطبقا تی تعلیمی نصا ب کے قوانین ملک و ملت پر نافذ کر کے دین کے خلاف طبقاتی معاشرہ تیار کرنے کا عمل جاری نہیں کر رکھا ہے۔ کیا ملک میں طبقاتی معاشی تقسیم کا گھناؤنا عمل جاری نہیں۔
نمبر ۳۔ کیا ملک میں اسمبلیوں کے ممبران نے اعتدال و مساوا ت کے دینی ضابطۂ حیات کو کچل کر دین کے خلاف کھلی بغاوت نہیں کر رکھی ہے، جس میں تقریبا وہ تمام سیاسی علما اور اس نظام کے تمام پیران طریقت شامل ہیں،جس سے ملک کے وسائل ، دولت اور خزانہ انکی ملکیت بن چکے ہیں۔کیا یہ زندگی یزید کی گذارتے اور عاقبت امام زماں حضرت حسین علیہ السلام کے وارث نہیں بنے بیٹھے۔
نمبر۴۔کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کے اقتدار پر مسلط سیاستدانوں، حکمرانوں کیلئے تصرفانہ اخراجات کے تمام دروازے کھل نہیںچکے۔ کیا پاکستان چند سیاستدانوں،بارہپ چودہ سو اسمبلی ممبران،وزیروں ،مشیروں، وزیر اعلیٰ،گورنروں، وزیر اعظم،صدر پاکستان اور انکی اعلیٰ سرکاری مشینری کی ملکیت بن نہیں چکا ہے۔
نمبر۵۔کیا دین کے خلاف مغربی عدل و انصاف کے ضابطہ حیات کو مسلم امہ پر نافذ کرنا اور اسکے مطابق حاکم شاہی، منصف شاہی اور سرکاری اعلیٰ عہدیداروں کے مفکر اور دانشور تیار کرنا ۔ اس باطل نظام کو مسلم امہ پر مسلط کرنا ایک سانحہ عظیم نہیں ہے۔
نمبر۶۔کیا مسلم امہ کو دین کے خلاف سودی معاشیات اور ٹیکس کلچر کی چتا میں جھونک دیناملکی سیاستدانوں کا خدا اور رسولﷺ کے خلاف کھلی بغاوت اور جنگ نہیں ہے اور اس جنگ کا ایندھن مسلم امہ کی نسلیں بنتی نہیں جا رہی ہیں۔
نمبر۶۔کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلیوں کے تیار کردہ قوانین کے ذریعہ ملک کے وسائل ، ملک کی دولت،ملک کا خزانہ، انکی ملکیتیں
بنتی نہیںجا رہی ہیں۔
نمبر۷۔کیا اینٹی کرسچن جمہوریت نے مذہب کے نظریات،تعلیمات ،مساوات، اعتدال، اخلاقیا ت، عدل و انصاف ،اخوت و محبت ، عفو در گذر، ازدواجی زندگی کا نظام اور ضابطہ حیات، کے کلچر کی عمارت کو ریزہ ریزہ نہیں کر دیا ہے۔
نمبر۸۔کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کے حکمرانوں نے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے نظام حیات کو کچل کر اسمبلیوں کے ممبران کے تیار کردہ نظام حیات کی بالا دستی کو سرکاری سطح پر نافذ العمل نہیں کرر کھا ہے۔
نمبر۹۔کیا اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشوروں نے مسلم امہ کو محکوم،بے بس اور مظلوم بنا کر رکھ نہیںدیا ہے۔ اس باطل،یزیدی نظام کو توڑنا مسلم امہ کااولین فریضہ اور عظیم جہاد لازم نہیں ہو چکا ہے۔کیا یہ حکومتی طبقہ اہل دین علما،انکے طلبا اور طالبات کو دہشت گرد کہ کر انکا قتال اور انکو ختم کرنے کا عمل جاری نہیں کئے بیٹھے۔یہ کتنا بڑا سانحہ ہے کہ ملکی فوج اور پولیس کے سپاہیوںکو جو اہل وطن کی اولادوں پر مشتمل ہیں ان سے انکا قتال کروائے جا رہے ہیں۔فوج ،پولیس کے سپاہی اور عوام الناس کو ایک دوسرے کے قتال کے راستے پر گامزن کر کے خود عیش و عشرت کی حکومتی زندگی گذارتے چلے جا رہے ہیں، لال مسجد کے معصوم و بیگناہ اور دین پرست طلبا اور طالبات کا بیدردی سے قتال کا رد عمل ملک میںجاری ہو چکا ہے۔ یادد رکھو ! وہ دن دور نہیں جب فوج ،پولیس اور عوام کی جنگ جاری کروانے والے حیرت زدہ ہونگے کہ جب یہ جنگ شکل بدل کر ان سیاستدانوں،حکمرانوں اور انکی نسلوں کو کچلنے کا عمل جاری کر دے گی ۔سیاستدانوں اور حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے!۔
یاد رکھو! آسمانی آفات ،بلیات انکی طرف رخ کئے بیٹھی ہیں۔ جو خالق کے حکم کی منتظر کھڑی ہیں۔ ملک و ملت کا کیا حشر ہوگا۔الفاظ اس المیہ کو بیان کرنیسے قاصراور عاجز ہیں۔ ملت کے عالی مرتبہ عاشق رسولﷺ،عالم دین ، مشائخ کرام ،پیران طریقت اور شب بیدار صاحب بصیرت طیب ہستیوں کا یہ فرض بن چکا ہے کہ وہ دین کے گلستان کو ان نا سمجھ اور منافق بد نصیب ماد ہ پرست سیاسی علما، سیاسی مشائخ، سیاسی پیران گدی نشینوں، سیاستدانوں اور حکمرانوں سے نجات دلا ئیں ، ورنہ یہ حسین گلستان توحید و رسا لت ﷺ کو ویران اور اجاڑ کر رکھ دیں گے۔ وہ تمام رو حیں جنہوں نے دین کی خا طر اپنا ملک ،اپنا وطن،اپنے در و بام، اپنے کھیت کھلیان،اپنے آبا و اجداد کی قبریں،اپنا تمام مال و متاع قربان کر کے ،اپنی ماں،بہنوں ، بیٹیوں کی عزتوں اور عصمتوں کی قربانیاں دیں اور اپنی جانو ںکی شہادتیں پیش کی تھیں وہ سراپا سوال بنی کھڑی ہیں!۔ خدا را انکی سسکتی ، تڑپتی، چیختی،کراہتی آوازوںکی فریاد تو سن لو۔ کیا یہ ملک دین کے نام پر حاصل کیا تھا یا اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل کدہ اور اسکے منافق سیاستدانو ں کیلئے۔ ان سے اور انکے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے یا نہیں مسلم امہ بہتر جانتی ہے۔یا اللہ انکو توفیق عطا فرما کہ وہ اس ملک اور دنیائے عالم میں دین کی بلندی اور سرفرازی کے فرائض ادا کر سکیں۔ ہندوستان میں مسلم امہ کے فقیروں ،درویشوں،ولیوں نے جس ضابطہ حیات ،طرز حیات ، تعلیمات سے یہاں کے باسیوں کو روشناس کروایا۔ ان فقیروں کے علم و عمل اور قول و فعل میں کسی قسم کا تضاد نہ پایا۔ انکے حسن اخلاق ، حسن کردار،حسن عمل، اعتدال و مساوات، اخوت و محبت اور خدمت خلق کے جادونے ہندی نسلوں کے دلوں پر ایسا اثر کیا ۔جس کے بعد وہ دنیا میں ایسے مسلمان بن کر ابھرے جن کی عشق رسولﷺ کی عظیم داستانیں پوری کائنات میں پھیلتی گئیں۔ انکا ایمان و یقین اور ولولہ عشق ایک دعا بن کر ابھرا کہ عشق محمد ﷺ کا دنیا
میں اجالا کر دے، ذہن ہندی کو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے سر فرازی عطا کر رکھی ہے ، اس دھرتی کی ہند و جنتا نے ان فقیروں ، درویشوں، ولیوں اور خاک نشینوں کے حسین و جمیل تشخص ، دین کی حکمتوں اور قول و فعل کے ہر پہلو کوتجزیاتی نگاہ سے دیکھا، کھوٹے کھرے کو پرکھا ، اسکے بعد دل و روح میں دین محمدیﷺ کے نور کو ایسا سمو لیا کہ دنیا حیرت میں گم ہو گئی ۔جب مسلمانو ں کی تعداد ایک معقول حد تک بڑھ گئی۔ دین کی عمدہ صفات اور انمول صداقتوں کے پیکروں نے بار گاۂ الہی میں ایسی صمدیت،ایسی حمدپیش کیں ۔ حضور نبی کریم ﷺ کے حضور ایسی نعتیں پیش کیں جو لا جواب اور لا زوال بن کر دنیا میں ابھرچکی ہیں۔ مسلمانوں کے نام سے منسوب ہے کہ ہندوستان کی سر زمین پر مسلمانوں نے نو سو سال تک حکومت کی۔انکے زوال کے اسباب کیا تھے۔وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ان حکمرانوں کا نہ کردار اسلامی تھا اور نہ ہی انکا تشخص اسلامی تھا۔وہ مسلمانوں کے روپ میں ایک دینی منافق،ایک یزیدی کردار کے آمر حکمران تھے۔انہوں نے اپنی سلطنتوں اور اقتدار کو کنٹرول کرنے کیلئے اپنی من پسند کے جابرانہ ،غاصبانہ بے دین قوانین کو ہندوستاں پر نافذ کررکھا تھا۔وہ ہر حالت میں ایک بادشاہ ،ایک عامر کی طرح اپنا غلبہ اوراپنی سلطنت قائم رکھنا چاہتے تھے ۔ وہ عیاشی اور عیش و عشرت میں گم اور مست رہتے تھے۔ انکی آپس میں اقتدار کی چپقلشوں،آپس کے نفاق،آپس کی نفرتوں اور قدورتو ں اور آپسکی جنگوں نے ایسا ماحول پیدا کر رکھا تھا جس سے ہر کوئی بیرونی طاقت انکو اور انکی حکومت کو آسانی سے دبوچ کر ، تباہ و برباد اور نیست و نابود کر سکتی تھی۔ انگریزوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور ہندوستاں پر قبضہ کر لیا۔ نوے سال کی تلخ غلامانہ زندگی گذار نے کے بعد ہندؤں اور مسلمانوں نے مل کر آزادی کی تحریک چلائی اور دو نظر یات کی بنا پر ہندوستان کے دو ملک پاکستان ، بھارت معرض وجود میں آئے ، بھارت اور پاکستان کی عوام صدیوں سے اکٹھے رہتے چلے آرہے ہیں۔ ایک ہی دھرتی کے پروردہ ہیں۔ایک ہی نسل سے وابسطہ ہیں۔ مغربی ممالک اگرصدیوں سے چلی ہوئی دشمنیاں، چپقلشیںاور جنگیں ختم کر سکتے ہیں توبھارت بنگلہ دیش اور پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ان ممالک کی عوام اور صاحب اقتدار لیڈران کو غور کرنا ہوگا۔اب توپاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔ان ممالک کے عوام اور لیڈران کو سمجھ سے کام لینا ہو گا ۔ اب اگر ایٹمی جنگ لڑی جاتی ہے تو بھارت،بنگلہ دیش اور پاکستان کی عوام صفحہ ہستی سے ختم ہو جائے گی۔ باقی جو بچ جائیں گے انکی جلدیں جلی ہونگی ، انسانی جسم ،پیپ ، کوڑھ،کینسر اور بیشمار بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ان ممالک کی عوام کو نفرتوں،نفاق اور قدورتوں کو ختم کر کے ادبِ انسانیت اور اخوت و محبت کا جام پینا ہوگا۔ ذرا سوچو تو ہندؤں اور مسلمانوں کی جنگ کیسی ،جبکہ اس وقت بھی مسلم امہ کے بیس پچیس کروڑ کے لگ بھگ مسلمان بھارت میں موجود ہیں۔
پاکستان کا وجود اسلئے معرض وجود میں آیا تھا۔کہ مسلمان اپنے دین محمدی ﷺ کے نظریات،ضابطہ حیات، طرز حیات اور دین کی تعلیمات کی روشنی میںللہ تعا لیٰ کی حاکمیت قائم کریں گے۔ انسانیت کو ایک خوبصورت اور دلکش اسلامی طرز حیات سے روشناس کروائیں گے ، لیکن بد قسمتی سے انگریز پاکستان کا اقتدا ر اور اسکی چابیاں اور کنٹرول اپنے ایسے ایجنٹوں کے ہاتھوں میں دے گیا ۔ جنکو انہوں نے جاگیریں اور وظیفے دے کر انکی ہمدردیاں خریدی ہوئی تھیں۔ انہوں نے وہی اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام جس کے ذریعے انگریز نے اس ملک کی عوام کو غلام اور محکوم بنا رکھا تھا انکے حوالے کر گیا۔ انہوں نے وہی جمہوریت کا نظام حکومت جس کے ذریعے وہ ہندوستا ن کی
اسمبلیوں میں رسائی حاصل کرتے تھے اسی طرح قائم رکھا۔کیونکہ اسی نظام کے ذریعہ صرف یہی چند ابن الوقت انگریز کے مقبول اور پسندیدہ جاگیر دار اور سرمایہ دار ٹولہ معاشی اور معاشرتی برتری کی بنا پر الیکشن کیلئے کھڑے ہو سکتے تھے۔ پاکستا ن بننے کے بعد وہی ملت کے غدار اور مجرم مسلم امہ کے رہنما بن کر اسمبلیو ں میں پہنچ گئے۔ ملک کی حاکمیت ان ظالم غاصبوں اور بد کردار غداروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ انہوں نے انگریز کا ایک مفتوحہ اعوام کیلئے تیار کیا ہوااینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت ملک و ملت پر اسی طرح مسلط رکھا۔ وہ ظالم اور غاصب دین محمدی ﷺ اور اسکے شورائی نظام حکومت کو نافذ کرنے میں آج تک گریزاںہیں۔
اسلام کا شورائی نظام اتنا سادہ، اتنا سلیس ،اتنا کم خرچ،اتنا پاکیزہ ،اتنا جامع ، اتنا مختصر اور ایما ہی اجتماعی فلاح کا ضامن ہے کہ اس کے طریقہ کار کے مطابق کوئی فرد بھی از خود شورائی ممبر شپ کی سیلیکشن کے لئے از خود کھڑا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس نظام سلیکشن میںکسی قسم کے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔حلقہ انتخاب کی تمام مساجد میں صندوقچی برائے ووٹ رکھ دیناہوتی ہیں۔اب یہ علاقہ کے عوام کا فرض بنتا ہے۔کہ انکے نزدیک کونسا آدمی حضور نبی کریمﷺ کے اصولوں کی بہتر اطاعت کرتا ہے۔ وہ ضمیر کی کھسوٹی پر پرکھتے ہیں کہ کیا وہ شخص امین ہے۔کیا وہ صالح ہے،کیا وہ طیب فطرت ہے۔ کیا وہ ایک سچا انسان ہے۔ کیا وہ اعتدال و مساوات کے ضابطے کی پیروی کرتا ہے۔کیا وہ عادل ہے ۔کیا وہ خدمت خلق کے فرائض ادا کر سکتا ہے۔ کیا وہ اس دینی ذمہ داری کو نبھانے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے نیک اور صالح فطرت انسان کا انتخاب کرنا علاقہ کے عوام کا دینی فریضہ ہوتا ہے۔یا د ر کھو! نماز دین کا ایک اہم ستون ہے جو انسان کی اصلاح کرتا ہے، ایک سجدہ سے بندے اور خدا کے درمیان دوری کی خلیج کوملا دیتا ہے۔ اسکو مسجد شریف میں پڑھتے ہیں ۔اسکو ادا کرنے کیلئے عمل کی زندگی لمحہ بہ لمحہ جاری رہتی ہے، محنت، مشقت، ایمانداری ،خلوص،پابندی اوقات اسکو عروج بخشتی ہے ،ایسی آشنائی کے افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے جسکا دل نما زکی ادائیگی نے گداز بنا رکھا ہو۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشن میںسرمایہ دار ،جاگیر دار اور وسائل والے معا شی طور پر خوشحال لوگ ہی اس نظام میں حصہ لے سکتے ہیں، ان میں سے ہی کسی ایک امیدوار کو ووٹ دینا پڑتاہے۔جسکے ووٹ سب سے زیادہ ہوں وہ امیدوار ہی ممبر بن جاتا ہے۔ جمہوریت کے الیکشن آمر پیدا کرتے ہیں، ملک و ملت پر آمریت کا سیاسی ٹولہ حکومت پر قبضہ کر لیتا ہے۔ فرض کرو جمہوریت کے ایک انتخابی حلقہ میں ایک لاکھ ووٹ ہیں، دس امیدوار اس حلقہ میں الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ایک ممبر ۱۲ ہزار ووٹ لے کر جیت جاتا ہے۔دوسرے ۹ یاسی جماعتوں کے امیدواروں کے ۸۸ ہزار ووٹ بنتے ہیں ۔وہ امیدوار بقایا ۸۸ ہزار ووٹرکا نمائندہ یا ممبر کیسے بن سکتا ہے۔وہ تو ایک جاگیر دار،سرمایہ دار دہشت گرد آمر تیار ہوتا ہے۔تمام آمر اسمبلیوں میں پہنچ کرملکی وسائل،مال و دولت،تجارت کو اپنی ملکیتیں بنا لیتے ہیں۔ملکی خزانہ انکا پاکٹ منی بن جاتا ہے۔یہ تمام وسائل،مال و دولت ، ملکی خزانہ سب کچھ نگلنے کے بعد وہ ملک کی ترقی کے نام پر حاصل کئے ہوئے غیر ملکی ۴۰ ارب ڈالرکے قرضے بھی نگل چکے ہیں۔ جمہوریت کے الیکشنوں میں کامیابی کے بعد وہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر ایک غاصب آمر،ملکی دہشت گرد کی طرح دین کے خلا ف اپنی مرضی کے قوانین پاس کر نے کا عمل جاری کر لیتے ہیں،ملک کی معیثت اور وسائل کا رخ اپنی طرف موڑ لیتے ہیں ۔ جس سے انکی ملیں، فیکٹریاں، کارخانے اور ہر قسم کے کارو بار ا نکی ملکیتیں اور انکی ذاتی سلطنتیں معرض وجود میں آتی جاتی ہیں۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت میں اسمبلی ممبران کے پاس خدا اور اسکے رسولﷺ کے ضابطہ حیات کے خلاف قانون سازی کے اختیارات موجود ہوتے ہیں ۔جنکی وجہ سے وہ دین محمدی ﷺ کے خلاف اپنی من پسند کے قوانین و ضوابط جب چا ہیں پاس کر لیں۔دین محمدیﷺ کی سرکاری بالادستی کو مسلمانوں کے ملک پاکستان میں نافذ نہ کرنا ایک ملی ناقابل معافی جرم ہے۔ جبکہ اس ملک کو اسی مقصد کے حصول کیلئے لا متناہی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا تھا۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کے پروردہ جب چاہیں قرآن کے ضابطہ حیات اور طرز حیات کو
مسخ کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے قوانین میں بدل لیں اور انکو کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ یہ کون ہیں! جو اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے اسمبلیو ں کے ممبران بن کر مسلم امہ کے پیغمبرخدا کے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ کون ہیں!جو قرآن کو بدل دیتے ہیں ۔یہ کون ہیں جو دین کا ضابطہ حیات بدل لیتے ہیں،کیا یہ مسلمان ہیں۔یہ کون ہیںجو مسلم امہ کے نظریات کو بدلتے جا رہے ہیں۔یہ کون ہیں جو مسلم امہ کی نسلوں کا ازدواجی زندگی کے نظام حیات کو بدلتے جا رہے ہیں۔ یہ کون ہیں جو مسلم امہ ، اسکی نسلوں کی جمعیت کو سیاسی جماعتوں میں تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ یہ کون ہیں! جو مسلم امہ کو دین محمدی ﷺ کے خلاف طبقات میں تقسیم کرتے چلے آ رہے ہیں ۔یہ کون ہیں جو مسلم امہ ، اسکی نسلوںکو سودی معاشیات کے نظام کے سکالروں میں بدلتے جا رہے ہیں۔یہ کون ہیں !جو مسلم امہ کے فرزندان کو دین کی تعلیمات کے خلاف پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک سودی معاشی نظام کے سکالر تیار کر تے جا رہے ہیں۔یہ کون ہیں! جو مسلم امہ کے نو نہالوں کو مغرب کی سیاسیات کا پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی کے دانشور تیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ کون ہیں۔ جو پرائمری سے لیکر لا گریجوایٹس اور بار ایٹ لا تک کے انتظامیہ اور عدلیہ کے بے دین اور باطل نظام کے منصف ، وکلا اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے لیکر نچلے طبقہ کے عہدیدار تیار کرتے جا رہے ہیں۔یہ کون ہیں! جو مسلم امہ کی نسلوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ٹیکس کلچرکے سکالر تیار کرتے ہیں۔یہ کون ہیں! جو مسلم امہ کے فرزندان کو دین محمدی ﷺ کے خلاف اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے سرکاری جبر کے تحت کلاس ایک تا چار یعنی برہمن ،کھتری ،کھشتری اور شودر کے ہندو دھرم کے پیروکار تیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ کون ہیں!جواینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کی روشنی میں ایم پی اے،ایم این اے،سینیٹر،وزیر و مشیر،وزارائے اعلیٰ،گورنرز، وزیر اعظم اور صدر پاکستان اور انکے سرکاری اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل لا متناہی شاہی افواج اور انکی شاہی طبقاتی اور تفاوتی بڑی تنخواہیں،انکے علاوہ تفاوتی رہائیشیں،سرکاری گاڑیاں، سرکاری پٹرول ، سرکاری ٹیلیفون،گن مین،چپڑاسی اور بیشمار شاہی سہولتیں اور بیشمار سرکاری اختیارات اور عیش و عشرت کی تصرفانہ زندگی کے وارث اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے ذریعہ بنتے جارہے ہیں۔یہ کیسا ڈرامہ ہے جو ملکی سیاسی علما،سیاسی گدی نشین،سیاسی پیران سیاست ، ملکی سیاستدان اور حکمران مسلم امہ کے فرزندان سے اس گھناؤنے حکومتی کھیل کے ذریعے روندتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ کون ہیں !جو دین محمدی ﷺ کے خلا ف مخلوط تعلیم، مخلوط معاشرہ ، مخلوط حکومت کی تہذیب کو تیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔جس سے مسلم امہ کو بدکاری ،بے حیائی،فحاشی اور زنا کاری کے تمام مواقع سرکاری طور پر مہیا کر دئیے گئے ہیںاور ملت کا دینی کلچر تباہ کئے جا رہے ہیں۔یہ کون ہیں! جو مسلم امہ کی نسلوں کو دین محمدی ﷺ کے خلاف زر پرستی، زن پرستی اور اقتدار پرستی کے جمہوریت کے سیاسی نظام کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں ۔یہ کون ہیں!جو ستر فیصد کسانوں، انتیس فیصد مزدوروں، محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام النا س کی دولت،وسائل،خزانہ ، علاوہ ازیں انکا پیدا کردہ خام مال، محنت کشوں،ہنر مندوںکی تیار کردہ مصنوعا ت اور تمام اسباب چھین لیتے ہیں۔ملک کا تمام مال و متاع جمہوریت کے حاکموں کی حاکم شاہی ، انکی اعلیٰ سرکاری مشینری کی وراثت اور ملکیت بنتا چلا جا رہا ہے۔یہ کون ہیں!جو ملت کا غیر دینی تشخص دنیائے عالم کے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جو ) بیج کر گندم ) حاصل کی جا سکے۔ اے صاحب بصیرت رہنماؤ۔ ذرا سوچو تو! مسلم امہ کی نسلوں پر اینٹی کرسچن جمہوریت کا کفر حکومتی سطح پر مسلط ہو تو دین محمدی ﷺ کہاں اور مسلم امہ کا کردار کہاں اور کیسے تیار کیا جاسکتا ہے۔ مسلم امہ کی نسلیں اسلامی ضابطہ حیات ،اعتدال و مساوات ،امانت و دیانت،عدل و انصاف کہاں سے ڈھونڈ ُُٓٗپائیں گی۔ یہ ملت کے تھ کتنا بڑا المیہ ہے۔ یہ ملک دین کے نام پر حاصل کیا گیا تھا۔ مسلم امہ اور یہ ملک ایک جابر ،ظالم،غاصب اینٹی کرسچن جمہوریت کے بے دین نظام حیات کے عیاش اور غاصب ٹولہ کے شکنجے کی گرفت میں بری طرح پھنس چکا ہے ۔ یا اللہ یہ کیسا دور حکومت آچکا ہے۔ کہ ملک کے سیاسی حاکمین ،ملک کے سیاسی عالم دین، ملک کے گدی نشین اور پیران طریقت مل کر دین کے ضابطہ حیا ت،اعتدال و مساوات،امانت و دیانت، عدل و انصاف اورملت کے جسد کو ایک کینسر کی طرح چمٹ چکے ہیں،طبقاتی نظام حکومت،طبقاتی تنخواہیں، طبقاتی سرکاری سہولتیں، طبقاتی نظام حیات،مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ ،مخلوط حکومت،سود کا معاشی لعنتی نظام،مغرب کا فرعونی اقتدارپرست سیاسی حکومتی نظام،۱۸۵۷ کے ایکٹ کے مطابق امریکن لا،برٹش لا،انڈین لا،جیوری پر و ڈینس کی روشنی میں انتظامیہ اور عدلیہ کا عدل کش بکاؤ نظام،لائق وکیل امرا، کمزور وکیل غرباکا کیا مقابلہ ،ہر روز پی ایل ڈی بدلتی اور ہر ماہ نئے قوانین کی نئی کتاب مرتب ہوتی جاتی ہے۔ جرائم پنپتے چلے جا رہے ہیں۔ پیغمبر خدا اور مقدس کتاب اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے نظام حیات کو ترک کر کے اسمبلیوںکے کرپٹ،رشوت خور،اقتدار پرست معاشی
دجال پیغمبران پر مشتمل اسمبلیاں ۔ یا اللہ اس ملک و ملت کے سیاسی علما،سیاسی گدی نشینوں، سیاسی پیران اورملت کے دینی رہنماؤں نے دین محمدی ﷺ کو ترک کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کی معاشی ،معاشرتی آفادیت میں گم ہو چکے ہیں۔یہ باطل ،غاصب دینی رہنما مسلم امہ اور اسکی نسلوںکو دین محمدی ﷺ کی منزل کی بجائے جمہوریت کے فرعونی نظام حکومت کے پنجرے میں مقید کر چکے ہیں۔ دین محمدی ﷺکی بالا دستی قائم کرنے کا وقت آچکا ہے ۔انکی اجارہ داری انکی حاکمیت ،انکی دین کش طرز حیات سے نجات اور رہائی کا وقت ملت کا نصیب بن چکا ہے۔یا اللہ ہمیں اپنے غضب سے بچا ، ہم پر رحم فرما اور ہمیںدستور مقدس کے نفاذ کی توفیق عطا فرما۔امین۔
جمہوریت کے برعکس شورائی نظام حکومت کے ممبران اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات کی پیروی اور قوانین کی اطاعت خود بھی کر تے ہیں اور فرزندان ملت سے بھی کرواتے ہیں ۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات کی حاکمیت کی سرکاری بالا دستی قائم کرتے ہیں۔انکے روز مرہ کے اخراجات نہ ہونے اور ایک عام شہری کے برابر ،انکی بود و باش ایک عام آدمی کی طرح نہایت مختصر۔ملکی خزانہ محفوظ۔ملک میں اعتدال و مساوا ت کا عمل جاری ۔تعلیمی نصاب ایک اور جدید تقاضوں کے عین مطابق اور تعلیمی ادارے اسلامی تشخص کے کارخانے۔ اعتدال و مساوات، امانت و دیانت، علم و عمل، ادب و خدمت،اخوت و محبت،عفو در گذر،عدل و انصاف اور اخلاق و کردار دین کی نوری روشنیوں سے منور ہوتا جاتا ہے۔ عدل و انصاف کچہریوں،تھانوں اور عدالتوں میں نہیں ، مسجد کی حدود کے اندرنامزد شورائی ممبران یہ فریضہ ادا کرتے ہیں۔ تمام حلقہ انتخاب کے عوام انکے فیصلوں کو چیک کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ ر ہا ئش گاہیں سادہ اور مختصر۔ خلیفہ ء وقت اور عوام الناس کی زندگی کی ضروریات کا تضاد ختم، سرکاری ملازمین کی تنخوا ہیں اور سرکاری سہولتیں ایک جیسی ، ملکی وسائل،دولت اور خزانہ امین ہاتھوں میں محفوظ ، اعتدال و مساوات کے چراغ روشن،معاشرے میں حقوق العباد اور حقو ق اللہ کی عبادت کے لطائف جاری، نفرت و نفاق کا خاتمہ،خالق کی مخلوق میں اخوت و محبت کا رشتہ قائم اور دائم ہو جاتا ہے۔
ملک میں تعلیمی معیار ایک جیسا۔ تعلیمی نصاب ایک اور تعلیمی ادارے آبادی کے قریب اور ان کادین کی روشنی میں تعلیمی نظام اورمعیار ایک جیسا۔اسطرح بچوں کو تعلیمی اداروں تک پہنچانے اور واپس لانے کے گاڑیوں کے اخراجات کی تلخیاں ختم ہو ۔ نہ ایچی سن کالج جیسے طبقاتی اعلیٰ اخراجات والے تعلیمی ادارے اعلیٰ سرکاری عہدیدار تیار کریں گے۔ نہ ہی انگلش میڈ یم طبقاتی تعلیمی نصاب کو چلانے والے تعلیمی اداروں کا طبقاتی تعلیمی کینسر ہوگا اور نہ ہی ۹۹ فیصد عوام تعلیم سے محروم ہوگی۔ جبکہ یہ شاہی تعلیمی ادارے ۷۰ فیصد کسانوں،انتیس فیصد محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کیلئے شجرے ممنوعہ بن چکے ہیں۔نہ ہی انگر یزی زبان کی تمام زبانوں پر سرکاری بالا دستی ہوگی ۔نہ ہی انگریزی سرکاری زبان ہوگی۔ کار سرکار چلانے اور سمجھنے کیلئے قومی زبان اردو کو عمل میںلانا یعنی عوام کو گویائی ،سماعت،بینائی اور دل و دماغ کوجو ان سے انگریزی زبان نے چھین رکھے ہیں انکو واپس دلوانے کے مترادف ہے۔ اسطرح چند جاگیر داروںِچند سرمایہ داروں، چند آمروں اور چند حکمرانوںکا طبقاتی تعلیم اور طبقاتی تعلیمی اداروںکا خاتمہ ہوگا۔اس ناقص عدل کش تعلیمی طریقہ کار،طبقاتی تعلیم نظام،طبقاتی تعلیمی اداروں مخلوط تعلیم ،مخلوط تعلیمی اداروں اوراعلیٰ شاہی اخراجات والے تعلیمی اداروں کا خاتمہ اور ملت کی نجات کا سبب بنے گا۔تعلیم پر اس شاہی سیاسی طبقہ اور حکمران ٹولہ اور انکے اعلیٰ ؑعہدیداروں کی اجارہ داری خود بخود ختم ہوگی۔اس عمل سے نہ اس شاہی معاشی دہشت گرد ٹولہ کے کسی فرد کا احتساب ہوگا اور نہ ہی قتال ہو گا۔یہ دہشت گرد جاگیردار،سرمایہ دار،سیاسی ،حکمران ٹولہ ملک و ملت کی تعلیمی ترقی میں روکاوٹ اور بری طرح حائل ہو چکا ہے۔ اس شاہی نظام تعلیم اور شاہی ٹولہ کی اجارہ داری ختم کرنے سے سائنسی ترقی چند غاصب ہاتھوں
سے نکل کر۷۰ فیصد کسانوں اور ۲۹ فئصد محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کی تعلیمی شرکت سے ملک میں ایک حقیقی انقلاب پیدا ہو سکے گا۔ملک و ملت کا غلامانہ مفتوحہ قوم والا کلچر ختم ہوگا ۔ مالی وسائل،ملکی دولت اور ملکی خزانہ کا تحفظ ہوگا۔ کوئی آمر،کوئی وڈیرا،کوئی سیاسی ممبر ، کوئی سرکاری عہدیدار یا کوئی حکمرا ن اس اجتماعی تعلیمی ترقی،سائنسی ترقی،اقتصادی ترقی کو میلی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکے گا۔یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک فوجی حکمران گن پوائنٹ پر سیاسی مجرمو ں پر مشتمل ایک سیاسی جماعت ملک پر مسلط کر دے ۔مجرموں کے جرائم معاف کر کے ایک تمام جماعتوں کے غداروں اور اقتدار پسندوں کو اکٹھا کر لے۔اقتدار کی نوک پر عددی برتری حاصل کر لے۔ہر جرم کو قانون اور ججز اور پھر سپریم کورٹ کے جج کو پابند سلا سل کر دے۔
کارخانوں،ملوں،فیکٹریوں کی تعمیرات یا انسٹالیشن کے اخراجات کے لون یا قرضہ جات آمروں یا با اثر سیاسی شخصیات کو نہیںبلکہ ہنر مندوں اور محنت کشو ں کو جاری ہونگے۔انکو مناسب ایک جیسی تنخوائیں،ایک جیسی سہولتیں، منافع میں مناسب حصہ اور بچت سے جدید نئی فیکٹریوں کے اجرا کا عمل ملک میں از خود جار ی ہوتاجائیگا۔ملک کے وسائل،دولت اور خزانہ چند شاہی محلوں کی تعمیرات اینٹ اور پتھروں کی زینت نہیں بنے گا۔ چند غاصبوں کے شاہانہ تصرف کی نظر نہیں ہوگا۔یہ ظالمانہ کلچر اپنے ایام پورے کر چکا ہے۔
زراعت کو جدید اوزار اور جدیدنظام کی روشنی میں خاص توجہ دینی ہوگی۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے دیہاتوں کو شہروں کی طرح جدید زراعت اور زراعت کے عملی سکالروں کی تربیت کی جائیگی۔زراعت کے متعلق تعلیم ، جدید نظا م حیات ،سڑکوں،بجلی سے آراستہ کرنا ایک اہم ملی فریضہ ہوگا۔زراعت اور اس سے متعلقہ تمام فیکٹریاں ، ملیں، کارخانے جہاں خام مال موجود ہو گا وہاں تعمیر کرنا ہونگے ، ہمار ے خام مال ، تمام وسائل اور تمام ذرائع آمدن دیہاتوں سے منسلک ہیں انشا اللہ عوام شہروں سے دیہاتوں کی طرف رجوع کریں گے۔ آقا اور غلام ، برہمن اور شود ر،مالک اور نوکر،حاکم اور محکوم کے طبقات اور تصورکو او ر غاصب اور جابر کلچر کو ختم کرنا مسلم امہ کے پیروکاروںکا بنیادی طیب فریضہ اور عبادت ہے۔ چند عیاشوں کے سرے محلوں، رائے ونڈہاؤسزاور شاہی پیلسز اور شاہی گاڑیوں اور سامان تعیش اور شاہانہ اخراجات اور جمہوریت کے نظام کے سرکاری آمروں،بادشاہو ں ، وزیر اعظموں ،گورنروں،وزیروں،مشیروں کے تاج محلوں اور انکے ملک کی دولت،وسائل اور خزانہ نگلنے کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ملک اور ملک کے وسائل دولت اور خزانہ چند بلیک میلر سیاستدانوں،سمگلروں،سرمایہ داروں، جاگیر داروں،آمروں اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے چند ہارس ٹریڈنگ کے معاشی ، معاشرتی قاتلوں کی ملکیت بنائے رکھنا اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔ان مذہب کش باطل جمہوریت کے جابر اور غاصب نظام حیات اوراینٹی کرسچن جمہوریت کے دجالوں سے امت محمدیﷺ کو نجات دلانا ایک عظیم انسانی نیکی اور فرض ہے۔یہی ملت کی سرفرازی کا واحدراستہ ہے۔یا اللہ ایسا کرنے اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس باطل نظام کو ختم کرنے کی تو فیق عطا فرما۔امین