To Download PDF click the link below

 

  بادشاہت ہو یا آمریت،ملو کیت ہو یا جمہوریت یہ تمام نظام بنی نوع انسان سے اعتدال و مساوات اور مذہب کی تعلیمات چھین لیتے ہیں۔
عنایت اللہ
بادشاہت ہو یا آمریت،سرمایہ داری نظام ہو یا جمہور یت کا طرزحیات یہ سب نظام اور انکے سپر سٹار رہنما اپنے اپنے ممالک کی معاشیات پر ہر جائز و نا جائز طریقہ سے قابض ہو جاتے ہیں۔ معاشیات کی طاقت سے ملک کے اقتدار پر مسلط ہو کر،ایسے قوانین مرتب کرتے ہیں اورایسے ضابطے ترتیب دیتے ہیں۔ ایسا نظام اور سسٹم مسلط کرتے ہیں۔ جس سے وہ قلیل سا طبقہ عوام الناس کو اپنا محکوم، خادم، نوکر، قیدی اور شودر بنا کر رکھ دیتا ہے۔ اس طرح وہ غاصب ٹولہ بنی نوع انسان پر آفاقی طور پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ ملکی وسائل،ملکی دولت،ملکی تجارت ،ملکی خز ا نہ پر قبضہ کر لیتے اور اپنی وراثتوں میں بدل لیتے ہیں،اسی معاشی برتری کی بنا پر وہ ملک کے اقتدار پر قابض ہو کرملک کو اپنی ملکیت اور عوام کو محکوم بنا لیتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ کا دامن پھیلاتے اور عدل کا فقدان پیدا کرتے رہتے ہیں، اعتدا ل و مساوات کو کچل دیتے ہیں۔ جسکی وجہ سے معاشرہ میں ظلم کی تاریکی چھا جاتی ہے۔
۱۔ یہ سب نظام یا طرز حکومت بنی نوع انسان سے مساوات چھین لیتے ہیں۔
۲ ۔ یہ سب نظام اور طرز حکومت معاشرے سے اعتدال ختم کر دیتے ہیں۔
۳۔یہ سب نظام انسانوں میں تفریق پیدا کرتے اور طبقات تیار کرتے ہیں۔
۴۔یہ سب نظا م بنی نوع انسان کو اونچ نیچ،برہمن و شودر ،نوکر و مالک ،آقا اور غلام کی محکو می کی عملی طبقاتی زندگی کا ایندھن بنا دیتے ہیں۔
۵۔ یہ مادہ پرستی ، ہوس پرستی ،اقتدار پرستی کے بتوں کو تیار کرتے اور انکی پوجا کرتے چلے جاتے ہیں۔ حکومتی ایوانوں پر قبضہ کرنے کیلئے ہارس ٹریڈنگ،وزارتوںکی رشوتوں،غبن کے کیسوں میں معافیوں کی بنا پر ممبران کی عددی برتری حاصل کرنے کے بعد ہر قسم کے قانونی جرائم کا نفاذ کرتے اور وسائل پر قبضہ کرتے جاتے ہیں۔ملک کے تمام غاصب، بد کرداراقتدار پسند کریمنل اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل طریقہ کار سے اسمبلیوں میں افرادی برتری حاصل کر لیتے ہیں۔ جس سے تمام ملی رہزن اور مجرم اقتدار اور حکومت کے وارث اور مالک بن جاتے ہیں۔ ملک میںہر جرم کو قانون، اس طرح ملک کے تمام وسائل ،مال و دولت ،خزانہ کو لوٹنے کیلئے ایک منظم رہزنوں کی ٹیم ملک پر مسلط ہو جاتی ہے۔ جو ملت کا دین اور دنیا لوٹے جاتے ہیں۔ کوٹھیوں، جا گیروں، کار خانو ں ، بنکوں اور قومی خزانہ کو اپنی ملکیتوں میں بدل لیتے ہیں۔ عوام الناس کے بنیادی حقوق کا قتال کرتے ہیں اور اعتدال و مساوات کو کچلتے جاتے ہیں۔ اہل وطن کو غلام،شودر،قیدی اور محکوم بنا لیتے ہیں۔ انکے حقوق کو اقتدار کی تلوار سے انگنت ٹیکسوں ،مہنگائی ہر طریقہ کار سے چھینتے اور غصب کرتے جاتے ہیں۔ یہ تمام نظام بد دیانتی ،حق تلفی ، لوٹ کھسوٹ، بد امنی، معاشی معاشرتی قتال اور طبقات کو جنم دیتے ،عدل کا رخ نا انصافی کی چتا کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ہوس زر اور ہوس اقتدار کی آگ بجھانے کیلئے مخلوق خدا اور انسانی رشتوں کے حقوق اور تقدس کو روندتے اور مسخ کرتے رہتے ہیں ۔ بادشاہوں ، آمروں،سرمایہ داروں اور مغربی جمہوریت کے نظام اور انکے سپر سٹاروںنے تمام اہل کتاب پیغمبرا ن حضرت داؤد علیہ السلام ،حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمدالرسول اللہ ﷺ کے الہامی صحیفوں زبور شریف ، توریت شریف ،انجیل شریف اور قرآن شریف کے نظریات ،ضابطہ حیات، طرز حیات اور تعلیمات کی ملکی اور سرکاری سطح پر بالا دستی اور سرفرازی پوری دنیا میں منسوخ کر رکھی ہے۔ پیغمبران کی امتوں کے فرزندان اپنے اپنے چاند ستاروں کے انوار اور انکی روشنیوں سے محروم۔پیغمبران کی امتوں کے فرزندان اپنے اپنے حسین و جمیل اور خوبصورت اخوت کے پھولوں اور محبت کی خوشبوؤں سے محروم ۔ پیغمبران اور انکی امتوں کے فرزندان انکے نظریات اور ضابطہ حیات اور انکے تیار کئے ہوئے کرداروں اور انکے اعمال کی ر حمتوںسے محروم۔پیغمبران اور انکی امتوں کے فرزندان انکے تعلیمی نصا ب ، انکی تعلیمات کی روحانی روشنیوں سے محروم ۔ پیغمبران اور انکی امتوں کے فرزندان انکے اعتدال و مساوات کے اسباق سے محروم۔ پیغمبرا ن اور انکی امتوں کے فرزندان انکے خدمت خلق کے اصولوں سے محروم۔پیغمبران اور انکی امتوں کے فرزندان انکے ایثار و نثار کے جذبوں سے محروم،انکے اعلیٰ اخلاق و اطوار سے محروم،انکے عمدہ کردار سے محروم،انکے صبر و تحمل کے میخانوں کی مے سے محروم، انسانوں میں نفاق اور نفرت کی آگ بجھانے کے عوامل سے محروم، دنیا کی بے ثباتی کے درس سے محروم، مادیت اور روحانیت کا توازن قائم کرنے کے ضابطوں سے محروم ۔ انہوں نے پیغمبران کی امتوں کو ایک اذیتناک المیہ سے دو چار کر رکھا ہے۔
۲۔ پیغمبران کی تمام امتوں میں نمرود،فرعون،شداد اور یزید کے باطل، غاصب کلچر کے ایجنٹ ایسے داخل ہوئے کہ انہوں نے اپنے اپنے ممالک میںان تمام پیغمبران کی امتوں پر پہلے معاشی اور معاشرتی غلبہ حاصل کیا۔ تمام امتوں اور ان کے ممالک پر معاشی اور معاشرتی بالا دستی قائم کرنے کے بعد تمام امتوں کی نسلوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات سے محبوس، محکوم،نوکر اور مقید کرتے چلے جاتے ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعدوہی الہامی صحیفے،وہی کلام الہی،وہی زبور شریف،وہی توریت شریف،وہی انجیل مقدس وہی قرآن شریف جو انسانی نسلوں کو امن و سلامتی ، اخوت و محبت ، اعتدال و مساوات ، عدل و انصاف ،حسن خلق اور ادب انسانیت کی منزلوں پر گامزن فرما تے ہیں انکی سرکاری بالا دستی کو ختم کر کے انکی افادیت کو مسخ کر دیاہے۔تمام مذاہب کی اعلیٰ صفات اور فطرتی صداقتوںکو ان بادشاہت، آمریت ، ملوکیت اور جمہوریت کے دجالوں نے نگل لیا ہے۔ پیغمبران کے نظریات ،ضابطہ حیات اور تعلیمات پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے ممبران کو فوقیت دیکر مذاہب کی روح کو مسخ کر رکھ دیا ہے۔وہ پیغمبران کے ضابطہ حیات کے خلاف اینٹی کرسچن جمہوریت کا ایک نیا کلچر تیار کرنے میں مصروف ہو چکے ہیں۔ بادشاہت،آمریت، ملوکیت کے حکمرانوں کا جدید ٹیکنیکل روپ جو، اب اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے نظریات کی شکل میں تمام دنیا پر مسلط ہوچکا ہے۔ جمہوریت کے حکمران اپنے رائج الوقت جبرو تشدد،ظلم و بربریت، انسانو ں کا معاشی اور معاشرتی قتا ل ،اعتدال و مساوات کو کچلنے کے طریقہ کار ، عدل کو روندنے کے باطل ضابطہ حیات کو پیغمبرا ن کی امتوں پر مسلط کر چکے ہیں۔ پیغمبران کے عدل و انصاف کی الہامی تعلیمات ،انکے اعتدال و مساوات کے ضابطہ حیات اور تمام رشد و ہدایت اور فلاح کے اصولوں اور ہر قسم کے ا نسانی حقوق کو روندنے اور بنی نوع انسان کو کچلنے کا اذیتناک عمل جاری کیا ہوا ہے۔ جن کے ذریعہ چند بے ضمیر معاشی اور معا شر تی دجال عوام الناس کے معاشی حقوق کو روند کر ملکی دولت اور وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں۔اس دولت اور وسائل کی برتری اور انکے حصول کے عمل سے آمریت،ملوکیت اور بادشاہت کے نظام کے اطاعت کی تربیت جاری ہو جاتی ہے ۔ جو اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں سے پروان چڑھتی ہے۔ ملک کے تما م طبقہ حیات کے حلقہ انتخا ب میں، الیکشنوں کے ذریعہ ا پنی اپنی دولت ، وسائل اور معاشرتی برتری کی طا قت سے صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبران منتخب ہو تے ہیں ۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس خود کار نظام کے تحت ملک کے تمام طبقوںاور حلقو ں سے جاگیر دار،سرمایہ دار اور آمر اپنے اپنے حلقہ کا الیکشن جیت کر اپنے اپنے علاقہ کی سلطنت کے وارث بن جاتے ہیں ۔ تھانے، کچہریوں، ریوینیو اور تمام سرکاری محکموں پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس جمہوریت کے طریقہ کار سے اسمبلیوں کا جو پنڈال وجود میں آتا ہے ۔ ملک و ملت انکی ملکیت بن جاتے ہیں، ان کے ذریعہ ملک میں ملو کیت پرورش پاتی چلی جاتی ہے۔ضلعی ،صوبائی اور وفاقی سطح پر اپنی من مرضی کی قانون سازی کر کے جمہوریت کی آڑ میں ملک کی دولت، وسائل، تجارت پر تسلط قائم کرتے اور عوام الناس سے ٹیکسوں اور مہنگائی کے اندھے غاصب قوانین کے ذریعے انکی زندہ رہنے کی متاع حیات چھین لیتے ہیں۔ عوام الناس اپنے زندہ رہنے کی ضروریات حیات کے حصول کی کشمکش اور زندگی کے سانس لینے کی سزا میں بے بس اور گم ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ان جمہوریت کے قلیل سے رہزنوں کی فیکٹریوں ، کارخانوں،ملوں،انکے تجارتی اداروں میں کام کرنے والے انکے ذاتی ملازم،نوکر، خادم، محکوم اور غلام بن کر رہ جاتے ہیں، ملک کے تمام وسائل،مال و دولت اور ملی،ملکی خزانہ سولہ کروڑ انسانوں کی ملکیت ہے جنکو یہ عوام سے اقتدار کی نوک پر چھینتے،لوٹتے ، ڈاکہ ڈالتے اور اپنی ملکیتوں میں بدلتے جاتے ہیں۔ انکے جابرانہ نظام کی دستور زباں بندی ملت کی محکومی کی خا موش داستاں بنتی جاتی ہے۔ مذہب کے نظریات کے اعتدال و مساوات اور عدل و انصا ف کی ملکی سطح پر بالا دستی اور سر پرستی منسوخ اورختم کرنے کے بعد اینٹی کرسچن جمہوریت کے اسمبلی ممبران کے طبقاتی غاصب معاشی اور معاشرتی نظریات کی سرکاری طور پر حاکمیت قائم ہو جاتی ہے۔ایس پی،آئی جی،ڈی سی،کمشنر،سیکٹری ، جج،ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تمام محکمہ جات کے اعلیٰ سے ادنیٰ سرکاری ملازمین انکی اطاعت اور انکے نظام حکومت کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ عوام الناس انصاف سے محروم،مساو ت سے محروم،اعتدال سے محروم ہوتے جاتے ہیں۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدان اقتدار اور حکو مت حاصل کرنے کے بعد دنیا کی خواہشات،مال و دولت کی محبت اور اس فانی دنیا کے دلفریب حکمرانی کے شاہی لواز مات کے حصول کی جنگ میں ایک طوفان مچا دیتے ہیں۔وہ حق و باطل،خیر اور شر،نیکی اور بدی،سچ اور جھوٹ،حلال اور حرام کے ضابطوں کو روند کر رکھ دیتے ہیں۔ کہیں بنیادی ضروریات کے دلسوز حصول کے تفکرات اور کہیں عیش و عشرت کے لوازما ت کی آرزؤں کا جہنم جمہوریت کی پیداوار ہیں۔ جمہوریت کے مادہ پرستی، اقتدار پرستی کے ضابطوں کی تعلیم و تربیت ہی دنیا کی خواہشات میں انسان کو گم کر دیتی ہیں۔ جس سے انسان دنیا کے لالچ و لہب میں گم ہو جاتا ہے۔ انسانوں کے حقوق سلب کرتا ہے، خدمت کے جذبے انسانی روح میں نایاب ہوتے جاتے ہیں۔ جمہوریت کے مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرے کی طرز حیات کا نظام۔ جمہوریت کے آزاد ی ء نسواں اور ا زدواجی زندگی کے اصول و ضوابط، جمہوریت کے جنسی آزادی کے قوانین ،ضابطہ ء اخلاق کا نظام،جمہوریت کے ترقی یافتہ ممالک کے دنیا بھر کے غیر ترقی یافتہ ممالک کے وسائل،مال و دولت ، ذرائع آمدن اور بنیادی ضروریات حیات چھیننے کے تجارتی اور طاقتی طریقہ کار، جمہوریت کے رہزنوں کا ملکی دولت ، وسائل ، خزانہ اور اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے کی داستانیں ۔ جمہوریت اپنی آغوش میں سرمایہ داری کیسے پالتی ہے اور آمر کیسے پیدا کرتی ہے۔جمہوریت کا طرز حکومت! مالک و مزدور ،برہمن و شودر، حاکم ، محکوم،آقا وغلام کے طبقات تیار کرتا ہے اورانسانوں سے برابری کے حقوق چھین لیتا ہے۔ جمہوریت کا نظام عوام النا س کااعتدال و مساوات کا معاشی قاتل ہے۔جمہوریت کی طبقا تی تعلیم،طبقاتی تعلیمی نصاب،طبقاتی تعلیمی ادارے،طبقاتی معاشرہ،جمہوریت کی حکومت چلانے کا ایسانظام اربعہ ہے جو مذہب کی تہذیب کا کینسر ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے جا رہا ہے۔ امریکہ ہو یا برطانیہ،پاکستان ہو یا بھارت یا جمہوریت کا نظام حکومت جہاں کہیں بھی ہو گا۔ وہاں مزدور ،محنت کش ، ہنر مند، ملیں،فیکٹریاں،کارخانوں کی بلڈنگیں جائز و ناجائز طریقہ سے حاصل کی ہوئی دولت سے یہی لوگ ان سے تیار کرا ئینگے ، اقتدار کی نوک پر گورنمنٹ کے خزانہ سے اپنے اپنے نام قرضے جاری کروائیں گے۔ مزدور، محنت کش ،ہنر مند اس مشینری کو بنائیںگے، اینٹیں تیار کریں گے۔سیمنٹ تیار کرنے کے کارخانے دن رات چلائیں گے۔ بلڈنگ تیار کریں گے۔مشینری نصب کریں گے،اسکو چلائیں گے،عمدہ اور معیار ی پیداوار تیار کریں گے۔ انکو انکی محنت واجرت بطور خیرات کے نخشیش کریں گے۔ اس طرح جمہوریت کے نظام کے چند رہزن اور چند غاصب سپر سٹار اسمبلیوں کے ممبران ان محنت کشوں،مزدوروں کی رات دن کی محنت کا ثمرملوں،فیکٹریوں ، کارخانو ں کو اپنی ملکیتوں میں بدلتے اور انکے وارث بنتے چلے جائیں گے۔یہ مالکان کی حیثیت سے ایک آمر، بادشاہ اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے پروردہ نظام کے مالک اور حاکم بنتے جائیں گے ۔انکی اس معاشی اجارہ داری سے کسان، محنت کش، ہنر مند اور عوام الناس انکے نوکر ،خادم، محکوم اور شودر کی حیثیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں ۔ مالی فراوانی کے لحاظ سے تصرفانہ اور عیاشانہ معیار زندگی انکی شخصیت کا نمایاںخصوصیات کا حصہ بنتی جاتی ہے۔
اس طرح یہ اپنی اپنی ملکیتوں کے ذریعہ اپنی اپنی ریاست کے مالک و حا کم ،آمر ا ور بادشا ہ تیار ہوتے جاتے ہیں۔ لہذا ملک ان کا وراثت بن جاتا ہے ۔ ملک کی ہر شے انکی ملکیت ، سرمایہ انکا، ملکی وسائل انکے، دولت اورخزانہ انکا ، ملیں فیکٹریاں،کارخانے اور ہر قسم کی تجارت انکی، سامان تعیش اور محل ان کے ، ورکر، ہنر مند ، اور محنت کشں رعیت انکی، وہ مالک انکے اور وہ نوکر انکے،وہ حاکم انکے وہ محکوم انکے وہ برہمن انکے وہ شودر انکے ۔وہ آقا انکے وہ غلام انکے ۔یہ آمر ،بادشاہ،اینٹی کرسچن جمہو ریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا کردار ہے۔ جب کہ یہ ملک سولہ کروڑ مسلم امہ کے افراد کا ساجھا گھر ہے۔ مزدوروں محنت کشوں،ہنر مندوں کیلئے بے رو ز گاری کا کینسر، زندہ رہنے کیلئے بمشکل بنیادی ضروریات حیات کے چند لقمے ، جبکہ کسان ان ملوں، فیکٹریو ں، کارخانوں کیلئے خام مال پیدا کرتا ہے ۔ مزدو ر ،محنت کش اور ہنر مند ان ملوں ،فیکٹریوں اور کارخا نوں کو تیار کرتے،چلاتے اور ہرقسم کی پروڈیکشن تیار کرتے ہیں۔ملک کے لئے وسائل پیدا کرتے اور مہیا کرتے ہیں۔ دولت کماتے ہیں۔خزانہ بھرتے ہیں ۔ ملک کی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس طرح یہ دولت،یہ وسائل ،یہ خزانہ سولہ کروڑ مسلم امہ کی ملکیت ہے نہ کہ ان دھوکہ باز ، بد دیانت اینٹی کرسچن جمہوریت کے چند غاصب سیاستدانوں اور حکمرانوں کی،جنکو یہ ملی وسائل،خزانہ اور تمام ملکی امانتیں سپرد کی جاتی ہیں ۔یہ دھوکہ باز سولہ کروڑ انسانوں کے معاشی اور معاشرتی قاتل ہیں۔ان دینی اور دنیاوی غاصب رہبروں اور رہزنوں سے نجات حاصل کرنا اور اپنی پائی پائی واپس لینا ہر اہل وطن کا حق بنتا ہے۔ اسکے علاوہ تمام مزدوروں،محنت کشوں، ہنر مندوں کا کام ان جاگیر دارو ں ، سرمایہ دارو ں آمروں ،بادشاہوں اور جمہور یت کے حکمرانوں کے احکام کی پیروی کرنا ،انکے احکام کو بجا لانا،انکے قوانین کی اطاعت کرنا، انکے جبر اور ظلم کو برداشت کرنا، انکا معاشی قتال قبول کرنا ، انکے معاشرتی تشدد کوتسلیم کرنا،انکے غنڈہ ٹیکسوں کو جمع کروانا،انکی مہنگائی کی شرنجوں سے خون پیش کرنا ،انکے ملکیت اور کاروباروں کو جلا بخشنا۔مزدوروں،محنت کشوں ، ہنر مندوں اور عوام الناس کا ان کے حکومتی احکام کو بجا لانے کا ایک اہم فریضہ بن چکا ہے ۔جو انکے جمہوریت کے دستور کا حصہ ہے۔ ان سماجی دہشت گردوں نے تمام اہل وطن کی آزادی سلب کر رکھی ہے، انہوں نے اعتدال و مساوات کو کچل کر رکھ دیا ہوا ہے۔ انکے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا غداری ،انکے تاج محلوں ،سرے محلوں ، رائے ونڈ ہاؤسو ں، شاہی پیلسوں کا تذکرہ کرنا بغاوت، انکے حکمرانی نظام کے صدرہاؤس،انکے وزیر اعظم ہاؤس، انکے گورنر ہاؤسز،وزیر اعلیٰ ہاؤسز، انکے کینوینشن ہالوں، انکے اسمبلی ہالوں ، انکی اسلام آباد کلبوں، انکے اعلیٰ ہوٹلوں، انکی کاروں ، کوٹھیوں اور عیاشانہ طبقاتی زندگی کا بیان کرنا، انکے شاہی اخراجات کا ذکر کرنا ، انکے حکومتی محلوں کی شان بیان کرنا، انکی سرکاری مراعات کی وجہ پوچھنا، انکے ہضم کئے ہوئے قرضوں کی بات کرنا،انکی ظالمانہ پالیسیوں کو روکنا، انکے عدل کش نظام کی بابت سوال کرنا۔ اسلام کے نظام کے نفاذ کا ذکر کرنا انکے نزدیک دہشت گردی ہے۔ عوام الناس کیلئے یہ تمام غاصب عوامل،یہ سب گھناؤنے جرائم انکے حکمرانی کا حصہ بن چکے ہیں۔کیا یہ ملک اسلامی نظریاتی ملک ہے۔کیا انکے یہ تمام طریقے،یہ ظلم و جبر ،یہ قتل و غارت ،یہ معصوم و بیگناہ لال مسجد کے طلبا اور طالبات کا بے رحمانہ قتال خونی انقلاب کی وجہ بنتے نہیں جا رہے۔انکو فوری طور پر دین کا ضابطہ حیات اور اسکی روشنی میں اعتدال و مساوات اور عدل وانصاف کو ملک میں نافذالعمل کرنا ہوگا۔ انکی عیاشیوں، انکے غیر متوازن معاشی نظام، صدر مملکت،انکے وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ،گورنرز،وزیر و مشیر،انکے اردلی اور بیٹ مین کی تفاوتی، طبقاتی زندگی کا بیان کرنا ایک ناقابل معافی جرم، انکی کرپشن، انکی رشوت، انکی سفارش کی نشاندہی یا انکے نظام کا خرابا بیان کرنا جمہوریت کی توہین۔ انکی مخلوط تعلیم، مخلوط معاشرہ،مخلوط حکمرانی، مخلوط نظام حیات کے ازدواجی زندگی پر بد ترین اثرات کی وضاحت دین کی روشنی میں کر نا انکی اسمبلیوں کی توہین۔ انکے طبقاتی نظام،انکے سودی نظام،انکے ازدواجی مذہبی نظام کو ختم کرنے کا سسٹم، انکی بے حیائی ،انکی بدکاری ، انکی زنا کاری ، انکی لوٹ مار،انکی رشوت کی داستانیں، کرپشن کی داستانیں، سفارش کی داستانیں، انکی فرقہ پرستی کی داستانیں،انکی اپنی جماعتو ں سے غداری اور ان غداروں کا ملکر ایک نئی حکومت قائم کرنے کی داستانیں سنانے والا، انکے ملک کو دو لخت کرنے کے دکھ کے آنسو بہانے والا، ان کی مے اور انکے میخانے کا منکر انکے نزدیک ملک و ملت کامجرم بن جاتا ہے۔ ان کی باطل جمہوریت اور انکے غاصب نظام کی بغاوت کا مجرم انکے روبرو کھڑا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے میکدے کا جام نوش کر چکا ہے، اے جمہوریت کے رکھوالو!غور سے سن لو، مکافات عمل سے نہ کوئی بچ سکا ہے اور نہ کوئی بچ سکے گا۔تمہارے ظلم کی داستانیں فطرت کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔وقت تمہارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔سرخ انقلاب تمہارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور کہ رہا ہے کہ۔ نبی کریمﷺکی امت کو جمہوریت کے نظام کی ٹکٹکی پر لٹکانے والو اس سے باز آجاؤ! انقلاب وقت سے پہلے آگاہ کر رہا ہوں۔جانتے ہو اسکی سزا کیا ہے ۔ اسکی سزا تمہاری اور تمہار ے نظام کی عبرتناک موت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ ہدایت کا مسافر بنائیں اور آنیوالی آفات سے محفوظ فرماویں۔آمین
مزدور،محنت کش،ہنر مند امریکہ کا ہو یا برطانیہ کا، پاکستان کا ہو یا بھارت کا یا کسی بھی جمہوری ملک کا ہو۔یا د رکھو! ہر فرد اس ملک کا باشندہ ،اور اس دنیا کا وسنیک اور اس جہان رنگ و بو کا برابر کا ایک عام انسان کی طرح وارث ہوتاہے ۔ملک کی دولت،ملک کے وسائل او ر ملک کا خزانہ سب کی برابر کی ملکیت ہوتے ہیں۔یہ حاکم و محکوم کا قصہ،یہ مالک و مزدور کا قصہ،یہ برہمن اور شودر کا قصہ اور اس قسم کے تمام قصے اپنی میعاد پوری کر چکے ہیں۔ اس طبقاتی تہذیب کو نبی کریم ﷺ کے نظریات ،تعلیمات،ضابطہ حیات، اور طرز حیات کی صداقتوں کی تعلیم و تربیت کے نفاذ سے ختم بلکہ ہمیشہ کیلئے نیست و نابود کرنا ہو گا۔جس سے ہر انسان رحمت العا لمین کی اطاعت کا لباس پہن لیتا ہے۔ایسا انسان پوری مخلوق خدا کیلئے رحمت بن کر زندگی گذارتا ہے، خلق عظیم کا تاج اسکی ملکیت ہوتا ہے،امانت و صداقت اسکے کردار کے روشن چراغ ہوتے ہیں۔خوش خلقی اسکے چہرہ سے جلوہ گر ہوتی ہے۔حق کے نور کی روشنی اسکا چراغ راہ ہوتا ہے۔اسکا قلب صداقت کی معرفت سے مالا مال ہوتا ہے۔وہ مجسم حق اور مجسم انوار کا مجسمہ ہوتا ہے۔اسکی گفتگو جیسے پھولوں سے خوشبو نکلتی ہو۔اسکے ہونٹوں پر تبسم ہو تو دل اسیر محبت ہو جاتے ہیں۔اسکی محفل ادب و احترام کی درسگاہ ہوتی ہے۔اسکی خاموشی میںلذت گفتار پائی جاتی ہے۔اسکی لب کشائی اسرار و رموز کے مضراب کا کام کرتی ہے۔اسکے مسکرانے سے کائنات مسکراتی ہے ۔اسکا ہر عمل باعث رحمت ہوتا ہے۔اسکے پاس کسی کو جھڑکنے،تلخ کلامی کرنے یانفرت کرنے کا وقت ہی نہیں ہو تا ۔ اسکی شخصیت اخوت و محبت کی پیکر ہوتی ہے۔اسکی زندگی اعتدال و مساوات کا خزانہ ہوتی ہے۔اسکی ضروریات قلیل،اسکی خواہشات مختصر۔اسکی نگاہ اس دار الفناہ سے آشنا ہوتی ہے۔اسکی پہچان خیر اور شر کی آگاہی بخشتی ہے۔اسکا خمیر صبر و تحمل سے سینچا ہوتا ہے۔اسکی زندگی کا محور عدل پر قائم ہوتا ہے۔اسکی اعلیٰ صفات اور عمدہ صداقتیں عدل و انصاف کو عروج عطا کرتی ہیں۔اسکے حسن کردار کی تجلیاں ظلمات کو روشنی عطا کرتی ہے۔اسکا جسد نور سے پر نور اور پوری انسانیت کیلئے باعث رحمت ہوتا ہے۔ یاد رکھو!شورائی جمہوری نظام کو دنیا میں متعارف کروانا مسلم امہ کا فرض ہے۔یہ اس پر پوری انسانیت کا قرض ہے جو اس امت نے ادا کرنا ہے۔ یہ خدائی نظام ازل سے ابد تک قابل تقلید ہے۔اسلا م نے بنی نوع انسان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تعلیم سے آشنا فرمایا۔اسلام نے مذہب اور سیاست ایک ساتھ اکٹھا کر کے انسانی کردار میں ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے، اسلام نے انسان کی مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک پر وقار دلکش قابل تقلید آمیزش اور حسین امتزاج مہیا کیا ہے۔جس کے بروئے کار لا نے سے مادی اور روحانی تشنگی دور ہو جاتی ہے۔اسلام نے بنی نوع انسانی کو ایک ایسا ضابطہ حیات،طرز حیات اور اسکا تعلیمی نصاب عطا کیا ہے۔جس سے ہر فرد کی تعلیم و تربیت کر کے اسکو نبی آخر الزماں ﷺ کے اسوہ حسنیٰ کی تعلیمات سے روشناس کروایا جا سکتا ہے۔اس روحانی ،الہامی تعلیمات کی تاثیر آفاقی ہے۔ دین محمدیﷺ کے اس تعلیمی نصاب اور اسکی تربیت گاہوں کے تربیت یافتہ افراد ایسے طیب فطرت،سلیم الطبع،خدمت خلق اور ایثار و نثار کے جذبوں کے پیکر ہوتے ہیں ۔ اس نظام تعلیم سے جو معاشرہ تیار ہوتا ہے۔وہ خوف خدا کا وارث اور الہامی،روحانی تعلیمات کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ہر فرد خیر اور بھلائی کا روشن مینار ہوتا ہے۔وہ حرص و ہوس سے پاک ہوتا ہے اور حق پرستی کا شاہکار ہوتا ہے۔اوصاف حمیدہ اسکی زندگی کا لباس ہوتے ہیں۔وہ دنیا کی بے ثباتی اور اس جہانِ فانی کی اصل سے آشنا ہوتا ہے۔ وہ اس کائنات اور اس جہانِ رنگ و بو اور اس زمین و آسماں،اس دھرتی ،اس دنیا کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت سمجھتا ہے۔یہ دنیا اللہ تعا لیٰ کا گھر ہے۔مخلوق خدا اسکی تخلیق ہے۔مخلوق خدا کیلئے یہ جہاں ایک عارضی مہمان خانہ ہے۔ انسان یہاں عارضی طور پر خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے۔وہ فلسفہ حیات و ممات کا عارف ہوتا ہے۔ خدمت خلق کی عبادت سے آشنا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ملکیت پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم رکھنے کیلئے نبی کریمﷺ نے ایک جامع ضابطہ حیات عطا کیا ہے۔ اس کائنات کا نظام اور انتظام چلانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو شورائی جمہوری نظام کا سلیقہ عطا کیا ہے۔ شورائی نظام کی روشنی میں کوئی فرد اپنا نام پیش نہیں کر سکتا۔ یہ پوری امہ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے حلقہ میں سے ایسے افراد کا چناؤ کرتے ہیں۔ جو دین اور دنیا کے نظام کوچلانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس ذمہ داری کو نبھانے کی صلا حیت کے مالک ہوتے ہیں۔انکی زندگی حضور نبی کریمﷺ کے حیات مبارکہ کے قریب تر ہوتی ہے۔ ایسے شورائی ممبروں کے نام عوام از خود تجویز کرتے ہیں۔ اس طرح خلیفۂ وقت کا چناؤ وجود میں آتا ہے۔خلیفہ ء وقت نبی کریمﷺ کے نائب ہوتے ہیں۔جو اللہ تعا لیٰ کے احکام کی خود بھی پیروی کرتے ہیں، پوری امہ سے بھی کرواتے ہیں جو انسانی حقوق فرائض اور خدمت خلق جیسے دینی ضابطوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اب اہل مذاہب اور پوری دنیا اس انقلاب کو دیکھنے کی منتظر کھڑی ہے۔
صنعتی ترقی ،سائنسی ترقی اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے عظیم سکالر جنکے بانی لارڈ میکالے اور ابراہیم لنکن ہیں۔انکے نظریات پر مغربی اقوام ہمہ وقت اپنی منزل کی طرف رواں دواںہیں۔ جنہوں نے صنعتی انقلاب اور جدید سائنسی ترقی کے نام پر روحانی صلاحیتوں کو مسخ کر دیا ہے، مخلوق خدا کو نیست نابود کرنے وا لے گیس بم،جراثیمی بم، نائٹرو جن بم، ایٹم بم اور جدید ہتھیار تیار کرنے کا راستہ دکھا د یا ہے ۔ جسکا لا متناہی سلسلہ جاری ہو چکا ہے۔ بنی نوع انسان اور تمام مخلوق خدا تباہی کی منزل کے قریب آن کھڑی ہے۔انکی بین الاقوامی دہشت گردی کی جنگ ایٹمی جہنم کو کسی وقت بھی سلگا سکتی ہے ،ایٹم بم، نائٹرو جن بم ، گیس بم،جراثیمی بم ایجاد کرنے والے عیسائیت کے ترقی یافتہ ممالک اور انکے فرعونی مادہ پرست حکمران اپنی جس کامیابی پرنازاں ہیںوہ پوری دنیا کوتباہ کرنے اور راکھ میں بدلنے کے عمل کو جاری کر چکے ہیں۔ یہ تیزی کیساتھ اس لمحے کے قریب پہنچ رہے ہیں،جب یہ بد بخت ترقی یافتہ ممالک کے حکمران طاقت کے نشے میںغرق اپنے ہاتھوں سے اس جنت ارضی کو جہنم میں بدل ڈالیں گے۔اسی طرح اینٹی کرسچن جمہوریت کے نام پر پیغمبران کے نظریا ت اور تعلیمات اور کلچر کو کچلنے کا طرز حیات،پیغمبران کی تیار کردہ تہذیب وتمدن کی عمارت کو نیست و نابود کرنے کا عمل،ترقی یافتہ اور طاقتورممالک کے اینٹی کرسچن جمہو ر یت پسند سیاسی دانشور اور حکمران غیض و غضب کی تلوار ہاتھ میں تھامے کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک کے انسانوں کے وسائل،دولت اور خزانہ کو چھینتے چلے آ رہے ہیںبے بنیاد الزاما ت اور انکے مطابق غیرفطرتی جنگی سلوک ان ممالک کے حکمرا نو ں کا طرۂ ا متیاز بن چکا ہے۔بیشمار معصوم انسانوں کا خون، مستورات کی بے حرمتی،بچے بچیوںکا بلا جواز قتال،سکولوں ، کالجوں،عبادت گاہوں، عوامی مقامات،ہسپتالوں پر ہوائی حملے،آکسیجن ، نائٹرو جن اور جراثیمی بموں کے حملے، میزائلو ں کے حملے، پیدل فوجوں کے حملے، ہوائی افواج کے حملے،ٹینکوں کے حملے ،توپوں کے حملے جاری ساری ہیں۔معاشی خوشحالی، معاشرتی برتری،جنسی بے راہ روی نے انسانی قدریں،انسانی عظمتیں، انسانی رفعتیں ، الفت و محبت کے آسمانی چشمے،اخوت و محبت کے ساز، عفو ودر گذر کے فرخ بخش اعمال غصب کر لےئے ہیں، اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات ،نظریات ،تعلیمی نصاب اور اسکی روشنی میںسائنسی ترقی،صنعتی ترقی نے مخلوق خدا سے مذہب کی الہامی اور روحانی تعلیما ت کو چھین لیا ہے۔ مذہب کی روشن قندیلیں،اسکے ضابطہ حیات کی اعلیٰ اقدار اور طرز حیات کی شمعوں سے منور گلستان کو انکے اقتدار کی بالا دستی نے بجھا دیاہے، اسطرح نسل انسانی سے امن و سکون کی لا زوال دولت چھین لی ہے۔مخلوق خدا پر کیسا مشکل دور آیاہے۔کہ حکمرانوں کی چپقلش اور نا فرمانیوں کی سزا،غیر ترقی یافتہ اور نہتے ممالک کی بے گناہ اور معصوم عوام اور لاکھوں انسانوں کاقتال ، بیشمار زخمیو ں کی چیخوں کا دلسوزسماں ، بیشمار انسانی ا عضاؤں کے فضاؤں میں بکھرنے کے واقعات ، بیشمار بھوک اور پیاس کی اذیتو ں سے اموا ت کا سلسلہ جاری ہے۔انکے علاوہ لا تعداد انسانیت سوز ،ظلم و ستم اس اینٹی کرسچن جمہوریت کے سائے تلے پروان چڑھتے جا رہے ہیں جمہور یت کی طاقت کے دانشمندوں نے پیغمبران کی تعلیمات کو معطل،منسوخ اور غیر مؤثر بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس سے آج کا عبرتناک دور ظہور پذیر ہو چکا ہے۔ آج ہم پیغمبران خدا کی تعلیمات ، انکے نظریات، انکے ضابطہ حیات،انکے اخلا ق و کردار،انکے حسن کردار،انکے مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کے آداب،انکے انسانی عزت و احترام کے نظام،ان کے خدمت خلق کے اصول،انکے عفو و در گذر کے عرفان،انکے صبر و تحمل کے خیر اور بھلائی کی تعلیم و تربیت کے انعامات سے سرکار ی طور پر مکمل منقطع ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے بنی نوع انسان بری طرح ذہنی،جسمانی اور روحانی اذیتوں کے دوزخ میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔
ا۔ینٹی کرسچن جمہوریت کے طریقہ انتخا ب میںصرف مال و دولت اور دنیاوی وسائل اور افرادی قوت کی برتری والے افراد ہی اخراجات برداشت کر سکتے اور الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔لیکن دین اسلام نے بنی نوع انسان اور مسلم امہ کو شورائی جمہوری طریقہ انتخاب سے متعارف کروایا ہے۔جس میں نہ کوئی سیاسی پارٹی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی شخص اپنا نام انتخاب کیلئے پیش کر سکتا ہے۔نہ ہی کوئی اخراجات اور نہ ہی کوئی افرادی قوت کام آتی ۔ یہ عوام کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ دینی خوبیوںکے وارث افراد کا چناؤ کرتے ہیں۔یہ انتخاب معاشرے کی اجتماعی رائے عامہ کا مظہر ہوتا ہے۔جبکہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے طریقہ انتخاب میں کئی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور کے مطابق الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ، ووٹر کئی سیاسی جماعتوں میں منقسم ہوجاتے ہیں۔ تمام جماعتوںکو ووٹ ملتے ہیں۔لیکن ان میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والا فرد منتخب ہو جاتا ہے۔وہ کیسے عوامی نمائندہ کہلا سکتا ہے۔جبکہ تمام دو سری الیکشن ہارنے والی جماعتوںکے ووٹ اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔اسکو کسی حالت میں بھی عوامی نمائندہ نہیں کہا جا سکتا۔ ان الیکشنوں میںسیاسی شاہی محلوں کے جاگیردار،سرمایہ دار طبقہ کے سیا ستدان دولت اور وسائل کی طاقت سے مختلف اقسام کی دھاندلیاں ، اخلاقی پستی کے طریقے استعمال کرتے ہیں جوانکے منتخب ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ لارڈ میکالے کے صنعتی انقلاب کے نظریات کے نام پر اسکے پیروکاروں نے ایٹمی ترقی کر کے اس جہان رنگ و بو کو بنجر، اجاڑ، بے رونق اور مایوسی کا صحر ا بنا نے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔
اگر روئے زمین کے تمام ترقی پسند لارڈمیکالے ،فرانسس بیکن اور جمہوریت پسند ابراہیم لنکن کے مکتبہ فکر اور نظریات کے ماننے والے دل، دماغ، کا ن، آنکھیں ، زبانیں رکھنے والے انکی اینٹی کرسچن جمہوریت کی تعلیم و تربیت کے با شعور دانشور، سائنسی سکالر اور بھی خطرناک ، مہلک ایٹم بموں کا ڈھیر اکٹھا کر لیں۔مغربی جمہوریت کے پیروکار نت نئے دہشت گردی کو ختم کرنے کے قوانین مرتب کرتے پھریں،و ہ تمام حکمران صنعت کار جو ایٹمی توانائی برائے امن تیار کرنے کے دعویدار ہیں۔اس صنعت میںسرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ اور انکے ملازم سائنسدان جو اذیت ناک ایٹمی جہنم تیار کر رہے ہیں ۔ وہ سب مل کر انسانیت کی تباہی ،بربادی اور اس حسین و جمیل خوبصورت کائنات کو نیست و نابود اور مسخ کرنے کی منزل کی طرف تیزی سے گامزن ہو چکے ہیں۔حالات بالا کی روشنی میںاس وقت تمام مذ اہب پرست امتوںکو حقائق سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے ۔ کہ صنعتی انقلاب اور فلسفہ ء جمہوریت کے حکمران بنی نوع انسان کوہولناک تباہی سے بچا نہیں سکتے، سوائے پیغمبران کی آغوش کے۔ انکے علاوہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشور اور اسمبلیوں کے ممبران اور دور حاضر کے ترقی یافتہ ممالک مل کر اور جدید بم بنا لیں۔ تب بھی یہ دنیا میں نہ امن قائم کر سکتے ہیں۔ نہ یہ خود کش حملوں کو روک سکتے ہیں۔ نہ یہ خود بچ سکتے ہیں اور نہ ہی انسانیت کو ہلاکت او ر تباہی سے بچا سکتے ہیں۔انہوں نے پیغمبران ،انکے مذاہب کے نظریات،انکی تعلیمات کو سرکاری سطح پر منسوخ کر کے انسانوں کی دنیا میں مادیت کو روح پر مسلط کر کے معاشرے کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ آرام و آسائش،عیش و عشرت،جنسی آزادی ،مال و دولت، وسائل کی برتری ،عش و عشرت اور تصرفانہ زندگی کے لوازمات کے حصول میںنسل انسانی کو گم کر کے اس دنیا کو ایک ایسے المیہ سے دوچار کردیا ہے۔ جس کا نتیجہ تباہی وبر بادی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔اہل بصیرت کو اس ظلمت کدہ میں حق کی بات کرنی ہو گی۔ اینٹی کرسچن جمہوریت پسند دانشوروںکی فکر ، انکے نظریا ت،انکے ضابطہ حیات،انکے جنسی آزادی کے قوانین،انکے دنیا بھر کے غیر ترقی یافتہ ممالک کے وسائل، دولت اور خزانہ لوٹنے اور اعتدال و مساوا ت کو کچلنے کے نظریات اور طریقہ کار ۔ ان کا اپنے اپنے پیغمبران کی تعلیمات،نظریات کی پیروی کرنے سے انحراف، ان کے انسانوں پر انسانوں کی حکمرانی کے باطل جمہوری نظریات نے انسا نیت کو ہلاکت اور تباہی کی چتامیں جھونک رکھا ہے۔ مادی وسائل کے حصول کی خاطر عدل و انصا ف کو روندنے کے اصول۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کی روشنی میںکمزور ، بے بس اور غیر ترقی یافتہ ممالک اور ان میں بسنے والی معصوم ،بے گناہ عوام پربلا جواز جدید اسلحہ کی تباہ کن طوفانی بارشیں۔انسانی بستیوں، شہروں اور ان میں بسنے والی مخلوق خدا کی تباہی کے نظریات، دہشتگردی کے مرتکب طاقتور ممالک کمزور ممالک پر قابض ہونے کے بعداینٹی کرسچن جمہوریت کی وہاں ڈمی حکومت بنا کر وہاں کی معصوم اور بیگناہ عوام کو دہشت گرد قرار دینے کے ظالمانہ واقعات ۔ جمہوریت کے ایسے تمام نظریات ایک جرائم کی شکل بن کر دنیا میں پھیل چکے ہیں، اصل میں مغربی ممالک کے حکمران اس جدید اسلحہ سازی کی بنا پر از خودبین الاقوا می دہشت گرد بن چکے ہیں ۔ جنہوں نے مہلک ترین خود کش حملہ آوروں کو جنم دیا ہے،نہ یہ خود محفوظ ہیں نہ انکے جوہر ی اثاثے۔یہ دنیا کے جتنے کمزور اور جدید اسلحہ سے محروم ممالک پر جنگیں مسلط کرتے جائیں گے،یہ جتنا ظلم کرتے جائیں گے،یہ جتنا بے گناہ ،معصوم انسانوںکا قتال کریں گے اتنی ہی انکی اپنی تباہی اس میںمضمر ہو گی۔ دہشت گرد نہ انکے کسی راڈار میں آتے ہیں اور نہ ہی عوام ان سے آشنا ہوتے ہیں، وہ خود کش حملہ آور انکو اور انکے حواریوں کو چن چن کر نشانہ ء عبرت بناتے ہیں، عراق اور افغانستان انکے اور انکے اتحادیوں کے مدفن خانے اور انکے ممالک انکے ماتم کدہ بن چکے ہیں۔انکی افواج دیار غیر میںاتنی گھناؤنی جنگیں لڑنے کے قابل نہیں ہیں۔ انکی عوام کو ان کا ظلم کا ہاتھ روکنا ہوگا ۔ جاپان ہو یا جرمن،ایران ہو یا عراق ہو، فلسطینی ہوں یا افغانی ۔اسی طرح دنیا کی اور مظلوم اقوام کا کوئی اذیت خردہ،کوئی دل جلا،کوئی تباہ حال انکو اور انکے ایٹمی پلانٹوںکو آگ لگانے ،تباہ کرنے اور انکو صفحہ ہستی سے مٹانے میں گریز نہیں کریگا۔وہ ایک دہشت گرد ہی انکے ظلم،انکے معصوم انسانوں کے قتال کا تمام حساب چکا دیگا۔ انہوں نے پیغمبران خدا کے نظریات،انکی مقدس کتابوں کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کراور ادب بنی نوع انسان کو ترک کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات، نظریات، تعلیمی نصاب، انتظامیہ ، عدلیہ،ٹیکس کلچر، طبقاتی تعلیمات، مخلوط تعلیمات ،مخلوط حکومت سے تیار کیا ہوا کردار،اسکے معاشی، معاشرتی، اخلاقی اقدار سے تیار کیا ہوا ملی تشخص کو ملکی سطح پر اسکی بالا دستی مسلط کر کے خدا کے خلاف ایک کھلی بغاوت اور پیغمبران کی امتوں کو انکا مرتد اور انکی توہین کا مرتکب بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے، انکے ضابطہ حیات، نظریاتی تعلیمی نصاب انتظامیہ ،عدلیہ،کے کلچر،زکوٰۃ ،عشر،خمس کے نظام حیات، اسکے معاشی معاشرتی، اخلاق حسنہ کی تعلیمات ، اس سے تیار ہونے والے ملی تشخص سے فارغ کرنے کے عمل سے دو چار کر دیا ہے۔ جمہو ریت کے علمبردار، تمام مذاہب کے سلامتی کے ضابطہ حیات، نظریات اور مذہبی تشخص کااور معصوم انسانوں کا قتال ایک دجال کی طرح کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ لارڈمیکالے کی صنعتی ترقی کے نظریات نے کمال کر دکھایا۔ایٹمی اسلحہ سازی کی مہلک صنعت،نایٹروجن بموں کی صنعت،گیس بموں کی صنعت ،نیپام بم،نیوٹران بم ، ہائیڈروجن بم، ایٹمی آبدوز وں کی صنعت ، ایٹمی میزائلوں کی صنعت،جنگی جہازوں کو تیار کرنے کی صنعت کے علاوہ لا تعدا د مختلف نوعیت کے جنگی ہتھیار بنانے کی صنعتیںان ترقی یافتہ ممالک کی ایجا دات ہیں۔یہ اسلحہ سازی کی صنعتیں انکی معاشی برتری اور خوشحالی کا اہم ذریعہ اور دنیا کے امن کو تباہ کرنے کی اصل وجہ ہیں۔ جو بنی نوع انسان کی معاشی موت اور انسانی قتال کا موجب بنتی چلی جا رہی ہیں۔ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے غاصبوں، ظالموں اور انسانیت کے قاتلوں کی یا دداشت ختم ہو چکی ہے، وہ بھول چکے ہیں کہ کوئی جاپانی ،کوئی جرمنی،کوئی افغانی ،کوئی عراقی،کوئی فلسطینی ،کوئی کورین ،کوئی مظلوم یاکوئی مظلوموں کا گروہ، یا کوئی انتقامی کینہ پرور، خود کش حملہ آور،یا فطرت کا کوئی عمل ۔ان میں سے کسی ایک ملک کے ایٹمی پلانٹوں یا ایٹم بموں کے ذ خائر تک رسائی حاصل کر گیا تو اس حسین و جمیل اور خوبصورت جہان رنگ و بو کی شکل کیسی ہوگی، کون بتائے گا ! اس دنیا کی کتنی مخلوق کا خاتمہ ہو گا،باقی کتنے انسانی جسموںکے زخم پیپ اگلیں گے، کتنے دردناک پھوڑے انسانی بدن پر ابھریں گے۔کون کون سی نسل کے کینسر انسانی جسموں میںپھوٹ پڑیںگے۔کوڑھ کے عبرتناک زخم انسانی بدنوں میں کہاں کہاں نمودار ہو ں گے۔کون کون سی بیماریاں پھوٹ پڑیں گی۔ الفاظ اس بھیانک اور دلسوز المیہ کی منظر نگاری کرنے سے عاری ہونگے۔ ابراہیم لنکن کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات،ضابطہ حیات،تعلیمی نصاب، تعلیمی ادارے، ان تعلیمی اداروں سے تیار کئے ہوئے سودی معاشیا ت کے سکالر، معاشرتی دانشو ر ۔ ان کے اداروں کے تیار کردہ عدلیہ کے منصف اور وکلا،انکے ادا ر وں کی تیار کردہ انتظامیہ کی افسر شاہی اور نوکر شاہی کا ہراول دستہ جن کے ذریعہ وہ نظام حکومت کو چلاتے، اعتدال و مساوات، عدل و انصاف کو کچلتے عدل کش نظام قائم کرتے اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کے مطابق معا شرے کی تہذیبی عمارت کو تیار کرتے ہیں،اس نظریہ کے پیروکاروں نے تما م پیغمبران کے نظریات،ضابطہ حیات،تعلیمی نصاب اور تعلیمی اداروں کو منسو خ ، معطل ا و ر سرکاری طورپرغیر مؤثر اور بے کار بنا کر رکھ دیا ہے ۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے پیروکاروں نے حکومتی سطح پر پیغمبران اور ان پر نازل ہونے والے صحیفوں کے ضابطہ حیات اور نظریات کی تعلیمی بالا دستی اسکے تعلیمی نصاب، اسکی دینی درسگاہیں اور اس سے تیار ہونے والی تہذیب کے تما م سرکاری دروازے بڑی ہنر مندی سے نہ صرف بند کر دےئے بلکہ پیغمبران کی تعلیمات ، اسکی درسگاہوں،اسکے نظریات کو سرکاری طور پر ختم کر کے انکی جگہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے
اسمبلیوں کے پاس کردہ قوانین سے تیار کیا ہوا ضابطہ حیات مسلم امہ کی نسلوں پر مسلط کر دئیے ہیں ۔ انکے ازدواجی زندگی کے مذہبی ضابطہ حیات کو مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت اور مخلوط معاشرہ کے ضابطہ حیات میں بدل کر جنسی آزادی کے دروازے کھول دئیے ہیں،مذہبی ازدواجی اور خانگی زندگی اور اسکے پاکیزہ آسمانی رشتوں کی مالا کو بکھیر اور انکے تقدس کو ختم اور روند کر رکھ دیاہے۔مذہبی تہذیب کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے سیاسی دانشور ایک دجال کی طرح نگلتے جا رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح القدس کی پیاری امت کے چند سیاسی اور حکومتی سکا لر، سیاسی دانشوروں اورحکمرانوں کے ٹولہ نے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت سے ملت کے وسائل ، ما ل و دولت،تجارت، خزانہ پر وہ قابض ہو چکے ہیں اور اسکی بندر بانٹ میں مصرو رف ر ہتے ہیں، ان سیاسی دانشوروں نے ملت کا دین بدل کر رکھ دیا ہے۔ جب ملک پر سرکاری طور پر ضابطہ حیات، تعلیمی، معاشی، معاشرتی نظام، طبقاتی نظام،مخلوط حکومتی نظام اینٹی کرسچن جمہوریت کا مسلط ہو تو اسلام کیسا اور مسلمان کیسے! تمام فقہ کی تعلیمی درسگائیں ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں اور حکمرانوں کے دل و دماغ میں ایک آخری کانٹا بن چکا ہے جو پیغمبر ا ن کے نظریہ حیات،انکی ازدواجی زندگی کے نظام اور ہر شعبہ حیات کا ڈٹ کر تحفظ اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام کا سختی سے مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔اس مذہبی نظریاتی حصار کو توڑ نے کیلئے انہوں نے ایک طویل عرصہ سے انکو طالبان اور دہشتگرد کے ناموں سے پکارنے اور انکی شہرت کو مسخ کر کے پیش کرنے،انکی زندگیوں کو روندنے اور انکی درسگاہوں کو بند کرنے کی مہم جاری کر رکھی ہے۔ اسلام کا نام لینے والوں کو طالبان اور دہشت گردکا نام دیکر ان پر اور انکی دینی درسگاہوں پر حملے کرنا اور معصوم و بیگناہ طالبعلموں اور طالبات کا بے دریغ قتال انکی روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے،لال مسجد کا واقع ایک دلسوز سانحہ ہے، کئی روز کے بعد مسجد کے ملبے سے ان معصوم ،بے گناہ طالبات اور طالبعلموں کے ہاتھ پاؤں، مختلف جسموں کے اعضا انکی جلی سڑی لا شیں اس ملبہ سے نکالنا ، ٹی وی چینلوں پر دکھانا ایک عبرتناک ملی المیہ ہے۔ ملت کو کیا کرنا چاہئے وہ بخوبی واقف ہو چکی ہے اور ان چند عناصر کا کیا حشر ہونے والا ہے وہ بھی اچھی طرح آشنا ہو چکے ہیں۔ دین محمدی ﷺ کے مطابق خلیفہ ء وقت اور عام شہری کا ملک کے وسائل،مال ودولت،تجارت اور خزانہ پر ایک جیسے حقوق،انسانی بنیادی ضروریا ت حیات کی تقسیم میں اعتدال و مساوات کے نظریات کا تحفظ ، ملک کی معاشرتی زندگی میں عدل و انصاف کے نظام کی بالا دستی، ملک میں معاشی مساوات کا نظام عدل سے سینچا ہوا معاشرہ بین الاقوامی سطح پر ایک فلاحی ملک بن کر ابھرتا ہے۔ اسلام کے ضابطہ حیات کے الہامی اصول،روحانی صفات، دینی صداقتیں، دستور مقدس کے نظریات کی تعلیمات دنیا ء عالم میں اندھیروں کو دور اور ظلمات کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ ملک دین محمدیﷺ کے نام پر قائم ہوا ، دستور مقدس کی سرکاری بالا دستی،اسکے نظریات کی سرفرازی،اسکے معاشی اصول و ضوابط،اسکے معاشر تی اعتدال و مساوات کے ضابطے اور اسکے نظام حیات کی سمت کو درست رکھنے کیلئے عدل و انصاف کا انتظامی ضابطہ عطا ہوا۔ یہ نظام حیات مخلوق خدا کے حقوق کے تحفظ اور بھلائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عطا کیا۔ اسی دین محمدی ﷺ کے نظریات، ضابطہ حیات،تعلیمات سے ملت کی نسلوں کی نشو نما اور کردار سازی اور ملی تشخص پروان چڑھتا ہے۔ اسی کی اطاعت سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کیا جاتا ہے۔ اس دینی ضابطہ حیات کا نفاذ اور اطاعت پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ اور اسکی نسلوں کا بنیادی حق ہے۔ جسکو اینٹی کرسچن جمہوریت کے مسلط کردہ ضابطہ حیات، اسکے نظریات، اسکی طبقاتی تعلیمات، اسکا
رائج الوقت مخلوط تعلیمی نظام اسکے اسمبلیوں کے طبقاتی سیاسی ممبران نے ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ صوبائی و قومی اسمبلی میں عددی برتری کی طاقت اور حکومت حاصل کی، مسلم امہ کی نسلوںکی جمعیت کو ختم کرنے کیلئے طبقاتی اور تفاوتی نظام میں بدل لیا ہے، نا ن کرسچن جمہوریت کے اسمبلیوں کے پاس کردہ قوانین جن کے تحت سیاستدانوں اورحکمرانوں نے ایم پی اے ،ایم این اے،سینٹر،وزیر و مشیر،وزرائے اعلیٰ،وزیر اعظم اور صدر پاکستان اور اعلیٰ عہدیداروں کی سرکاری شا ہی سہولتوںسرکاری تنخوا ہو ں ،سرکاری بیشمار مراعات کو اسلامی عدل و انصا ف کے خلاف تفاوتی ،طبقاتی معاشی آمرانہ نظام کو مسلط کر کے دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات، نظریات اور عملی زندگی کے نظام حیات کو کچل کر رکھ دیا ہے، دین کے اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کے نظام کو منسوخ کر کے ملت کی معاشی طاقت چھین رکھی ہے۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے طبقاتی تعلیمی اداروں سے ستر فیصد کسانوں اور انتیس فیصد مزدروں،محنت کشوں، معماروں،ہنر مندوں اور عوام الناس کی اولادوں کو محروم کر ر کھا ہے۔پورے ملک کے کسانوں کے پاس نہ کوئی تعلیمی ادارہ ہے،نہ کالج نہ یونیورسٹی اسی طرح شہروں میں بسنے والے محنت کشوں کے پاس ان اعلیٰ شا ہی تعلیمی اداروں کے اخراجا ت ہوتے ہیں۔اسی لئے نہ اس نیچ طبقہ کا کوئی بیٹا نہ جرنیل نہ جج،نہ ڈی سی نہ کمشنر،نہ ایس پی نہ آئی جی، نہ ممبر،نہ ناظم ،نہ ایم پی اے نہ ایم این اے نہ وزیر نہ مشیر ،نہ وزیر اعلیٰ نہ گورنر،نہ وزیر اعظم نہ صدر پاکستان ، اسطرح اینٹی کرسچن جمہوریت کے آمروں نے ملت اور اسکی نسلوں کے حقوق سلب کر رکھے ہیں ،اینٹی کرسچن جمہور یت کے سپر سٹاروں اور سرکاری اعلیٰ عہدیدا روں نے اقتدار کی نوک پر معا شی ، معاشرتی برتری حاصل کر کے مذہبی تہذیب کا گلہ گھونٹ کررکھ دیا ہے۔ ملک کے تمام سیاسی حکمرانوں اور انکی تمام سرکاری مشینری کو حاکم و محکوم، افسر و اردلی،براہمن اور شودر، کے نفرت پر مشتمل طبقات کا عمل جاری کر کے اسلا م کی روح کو مسخ کر رکھا ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات نے مسلم امہ کی وحدت کو توڑ کر انکی نسلوں کو طبقات کے عذاب میں مبتلاکر رکھا ہے۔ جمہوریت کے نظریات کے نظام حکومت نے مسلم امہ کو ضروریات حیات کے حصول کیلئے بد دیانت،خود غرض، رشوت خور،مادہ پرست ،کمیشن خور اور ہر قسم کی برائی اور کرپشن کے نظام میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جمہوریت کے سیاسی جماعتوں کے دانشوروں اور سیاسی دینی علما ،مشائخ اور پیران جمہوریت کے رہنماؤں نے دین محمدیﷺ کی سرفرازی کو باہمی مشاورت سے سرکاری سطح پر منسوخ کر کے اسکے ایک ایک ضابطے کو توڑتے اور بدلتے چلے جا رہے ہیں۔ پیغمبرخدا ﷺکے الہامی صحیفے کے نظام اوراسکی سزاؤں کو ختم کر کے ،دینی نظام توڑنے والے جرم کے مرتکب اعلیٰ مرتبہ افراد کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے رائج کردہ قوانین کے مطابق دین کی سزائیں کیسے دی جا سکتی ہیں۔ انہو ںنے مذہب کی دلکش صداقتوں اور اعلیٰ صفات، ازدواجی زندگی کے نظام،چادر اور چار دیواری کے نظام،خانگی زندگی کے نظام ،عدلیہ اور انتظامہ کے نظام،ا مانت و دیانت کے نظام، اخلاق حسنہ کے نظام، اعتدال و مساوات کے نظام ،عدل و انصاف کے نظام کو ختم کر کے دین محمدیﷺ کی پر کشش تہذیب کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ روشن خیال اسلام اور محمد الرسول ا للہ ﷺ کے اسلام میں اسی طرح فرق ہے جیسے کڑوے اور میٹھے سمندر کے پانیوں میں۔دین میں کمی بیشی کرنے والے کی سزا کیا ہے !۔ خاص کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں، ملکی علما صاحبان،مشائخ کرام کے سیاسی سربراہوں پر مشتمل قومی اسمبلی کے ممبران کا جس نے روشن خیال اسلام کی روشنی میں دین کے نظام میں ملکی سطح پر اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے تحت تبدیلیاں
کی ہیں،انکے لئے اس گناہ کی سزا کیا ہے جسکے حکم سے پوری ملت کا دینی نظریہ عملی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اے سیاسی علما کرام یہ تو بتاؤ کہ جب دین کا دامن ہی ہاتھ میں نہ ہو گا تو دین اور مسلم امہ کیسی ہو گی! اینٹی کرسچن جمہوریت کے ان سیاسی جماعتوں کے علما کرام اور دوسری سیاسی حکمرانوں نے مل کرملک میں جمہوریت کا مذہب مسلط کر رکھاہے۔جسکے سرکاری پیغمبر اسمبلیوں کے ممبران بن چکے ہیں ۔ خدا را خوف خدا کرو۔پاکستان میںمسلم امہ کے پاس صرف مسلمان کا نام بچا ہے۔دینی نظریات، دینی صفات ،دینی صداقتیں،حسن خلق ،خدمت خلق ،امانت و دیانت،اخوت و محبت کی تعلیمات ملک میں دینی درسگاہوں سے حاصل کی جا سکتی ہے لیکن انکے عمل کو بروئے کار لانے کیلئے ملک کے تمام سرکاری دروازے بند اور انکو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ اورمسلم امہ کا مکمل کردار اور تشخص اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاست کے دجال ایک ایک کر کے نگل چکے ہیں۔ ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو یہ تمام دینی درسگائیں ، اہل حدیث کی ہوں یا اہل تشیع کی ، اہل سنت جماعت کی ہوں یا کسی اور دینی فرقے کی۔وہ انکے دلوں میں ایک کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہیں۔یہ سب دینی درسگاہیں انکے اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل ضابطہ حیات کے نظام کی تکمیل میںبری طرح حائل ہیں۔یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ ان تمام فرقوں پر مشتمل عوام ایک دوسرے کیساتھ ہمسائیگی میں،گلی محلے ،کریہ کریہ، گوٹھ گوٹھ،دیہاتوں اور شہروں میں ایک دوسرے کیساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں۔انکی آپس میں روز مرہ کی زندگی میں نہ رنجش اور نہ کوئی جھگڑا،نہ انکے کاروبا ر میں کوئی روکاوٹ۔پھر یہ فرقوں پر مشتمل دینی درسگاہوں، مسجدوں ، امام بارگاہوں پر ریمورٹ کنترول سے بم بلاس کرنے والے کون ہیں۔ایک دوسرے فرقے کے رہنماؤں کو قتل کروانے والے کون ہیں،ذرا غور تو کرو اس فرقہ پرستی کی آگ کو لگانے والے کون ہیں،کو نسی بیرونی طاقتیں اور حکومتوں میں شا مل انکے ایجنٹ ہیں جو مسلم امہ میں نفرت و نفاق کی آگ جلانے میں مصروف ہیں۔کونسی بیرونی ایجنسیاں ہیںجو مسلم امہ کے دین اور اسکی امت کی جمعیت کو تباہ کرنے اور روندنے پرتلی ہوئی ہیں ، عیسائیت کے پادری ہوں یا بشپ انکے چرچ ہوں یا کلیسا ،حضرت عیسیٰ روح القدس علیہ السلام ہوں یا بی بی پاکداماںمریم پاک جیسی طیب اور منزہ ہستی ہوں،انکی الہامی کتاب انجیل مقدس ہو یا یوحنا کی مقدس آسمانی کتاب، انکی ازدواجی زندگی ہو یا خانگی زندگی کا الہامی نظام ،انکے خدمت خلق کے آداب ہوںیا حسن خلق کی بات،انکی بھوکوں پیاسوں کی حاجت روائی کا قصہ ہو یا بیماروں،معذوروں یا کوڑھوںکی شفا کا تذکرہ ہو،بانجھوں کو اولادیں عطا کرنے کی داستانیں ہوں یامردوںکو زندہ کرنے کے معجزوں کا ذکر،آسمانی صفات ہوں یا الہامی صداقتیں،خوف خدا کا روح پرور عمل ہویاعفو و در گذر کے واقعات،ادب انسانیت کی بات ہو یا خدمت انسانیت کی عبادت کا سلیقہ،دنیا کی بے ثباتی کا سبق ہو یا رہبانیت کے فقر کی گوڈری کا نور، مخلوق خدا کیلئے بے ضرر ہونے کا سلیقہ ہو یا منفعت بخش ہونے کافلاحی راستہ ہو، اس فناہ کے دیس میںسکون دو جہاں کی را حت کے اسباب کی بات ہو یا ابر رحمت کے سایہ کی تسکین کا تذکرہ۔یاد رکھو! اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں نے پہلے مذہب کے ضابطہ حیات کو نظام حکومت سے الگ کر دیا، مذہبی تعلیمات ، عبادات اور مسیحائی کے نظام حیات کو گرجا اور کلیسا تک محدود کر دیا ۔ عیسیٰ علیہ السلام کی امت اور اسکی نسلوںکو گرجا اور کلیسا میں پابند سلاسل کردیا۔ وہ انکی تعلیمات کو سیکھ سکتے ہیں، معجزات کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں،وہ مذہب کے فلسفہ اور حکمت کی باتوں کو سمجھ سکتے ہیں،وہ انکے ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کے طریقہ کو جان سکتے ہیں،وہ زخمیوںکو مرہم،بیماروں کو دوا اور مریضوں کو شفا اور مردوں کو
زندہ کرنے کے معجزوں سے آشنائی کر سکتے ہیں،ملکی اور حکومتی سطح پر مذہب کا عمل دخل ختم اور انکی ملت کو اسکی آفادیت سے محروم کر دیا گیاہے،مذہب کے اخلاقیات،اسکے حسن خلق،اسکی اعلیٰ صفات اوربہترین صداقتوں کو ملکی اور سرکاری سطح پر مفقود اور انکی سرکاری بالادستی کو ختم کر دیا گیا۔ملکی نظام حکومت اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کی سپرداری میںدیدیا گیا۔ان کا تیار کیا ہوا ضابطہ حیات، انکا دستور حیات،انکا تعلیمی نصاب،انکے تعلیمی ادارے،سکول کالجز، اکیڈمیاں،یونیورسٹیاں انکے سیاسی دانشوروں کے تیار کئے ہوئے سلیبس کی تعلیمات سے عیسیٰ علیہ السلام کی امت کی نسلوں کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ایک نئے سیاسی مذہب میں کنورٹ کرنے کا عمل جاری کر لیا گیا ہے۔ جس سے ایک نیانمرودی مذہب ،ایک نیا فرعونی معاشرہ،ایک نئی نمرودی اور فرعونی تہذیب نے جنم لے لیا ہے۔جس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی از دواجی زندگی کے نظام کو روند کر رکھ دیا ہے،جنسی آزادی سے ازدواجی زندگی کی عمارت کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔میاںبیوی کے آصمانی تقدس کو ختم کیا، اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں نے آزادی ء نسواں کے نام پر فحاشی ،بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کی پذیرائی کا عمل جاری کر لیا،جنسی آزادی سے میاں بیوی کے مذہبی ازدواجی رشتہ کو نا پید کر دیا۔مغربی تہذیب ازدواجی رشتہ کے مذہبی بندھن سے آزاد ہو گئی، دنیا کی بے ثباتی کی عارف اوررہبانیت کی حد تک ترک دنیا کرنے والی ملت کو ایسے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشور ملے، جنہوں نے ملت اور اسکی نسلوںکو مذہب سے الگ کر کے مال و دولت،عیش و عشرت اور مادی دنیا کے حصول کے صحرامیں گم کر دیا۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کو چلانے کیلئے اسکے ممبران کا چناؤبذریعہ الیکشن ہوتا ہے، یونین کونسل کے ممبر سے لیکر ناظم تک،ایم پی اے سے لیکر ایم این اے تک، سینٹ کے ممبران سے لیکر چئیر مین تک،مشیر سے لیکر وزیر تک ، وزیر اعلیٰ سے لیکر گورنر تک،وزیر اعظم سے لیکر صدر پاکستان تک کے تمام لوگ اپنے اپنے طبقہ کے معاشی طاقت اور معاشرتی قوت کے مالک ہی اپنے اپنے علاقہ سے اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں کے اخراجات ،افرادی قوت اسکے علاوہ ہر قسم کے وسائل جو انکو کامیابی کے حصول کیلئے درکار ہوتے ہیں وہ سبھی بروئے کار لا کر جمہوریت کے الیکشن جیت سکتے اور اپنے اپنے طبقہ کے معاشی معاشرتی اعلیٰ آمر کامیاب ہو کر اپنے اپنے علاقہ کے ممبر بن جاتے ہیں ۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں کا کمال یہ ہے کہ اگر کسی الیکشن زون میں ایک لاکھ ووٹ موجود ہیں، اس الیکشن زون سے دس امیدوار الیکشن میں حصہ لیتے ہیں ، اگر ایک امیدار بارہ ہزار ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو جاتا ہے تو بقایا اٹھاسی ہزار دوسری سیاسی جماعتوں کے ووٹر کا نمائندہ کیسے کہلا سکتا ہے۔اسطریقہ کار سے جو نمائندہ کامیابی حاصل کر لیتا ہے وہ ایک اپنے علاقہ کا آمر تیار ہوجاتا ہے، اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام میں صرف معاشی اور معاشرتی آمرہی ایسی اسمبلیوں کے ممبر سلیکٹ ہو سکتے ہے،اینٹی کرسچن جمہور یت کے الیکشن ایک آمری نظام حکومت کی ایک بد ترین شکل ہے،دنیا کے چند جمہوریت کے سیاسی آمروں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبرا ن کی امتوں کے ضابطہ حیات ،انکی الہامی کتا بو ں کی تعلیمات، ازدواجی زندگی کے نظام،ساری خدائی ہے کنبہ خدا کا تصور، اعتدال و مساوات کا عرفان، اخوت و محبت کا روح پرور درس، عفو در گذر کے اسباق، زخمیوںکی مرہم پٹی،مریضوںکو دوا،بیماروں کو شفا،بھوکوں کو غذا،پیاسوں کو پانی اور مردوں کو آب حیات کا گھونٹ، مخلوق خدا کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہونے کی تعلیمات اور ان سے تیار ہونے والے مذہبی تہذیبی
کلچر کی عمارت اور مسیحائی کے پورے نظام حیات کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔ یاد رکھو کسی ریاست،ملک یا معاشرہ کے افراد کو اسکے مذہب کے ضابطہ حیات،نظریات،عقیدہ کے تعلیمی نصاب،اسکے قانو نی ، عدلی، اخلاقی اقدار سے الگ یا محروم کر دیا جائے،تو پھر اس معاشرہ کی شکل اور تشخص متضاد تیار ہوتا ہے۔ جب کسی قوم،ملت یا نظریاتی ریاست کے عوام کی تعلیم و تربیت مختلف ضابطہ حیات کے اصول و ضوابط کے مطابق ہوگی، تو لا محالہ وہ نظریاتی ریاست ،نظریاتی ملت،متضاد انداز فکرمیں مسخ ہو کر ختم ہو جائیگی۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے صنعتی ترقی کے پس پردہ مادی ترقی، خوشحالی ،عیش و عشرت کی حسین و جمیل،دلفریب سائنسی ایجادات کی قیمتی دلہن چھپی پڑی ہے۔ جو ایٹم بم،نائٹروجن بم،ایٹمی میزائل ، ڈیزی کٹر بم،انکے علاوہ مہلک اسلحہ پر مشتمل انگنت ہتھیار، جو مخلوق خدا کو تباہ کرنے اور اس جہان رنگ و بو کو نیست و نابود کرنے والے ہتھیار اسی معاشیات کے عظیم مقصد کے حصول کیلئے تیار کےئے جا رہے ہیں، انہوں نے انکی خرید و فروخت کو ذریعہ آمدن بنا لیا، غیر ترقی یافتہ ممالک کی عوام کو جنگوں میں الجھانا، انکو ہتھیار مہیا کرنا،آگ لگانے والے بموں سے مخلوق خدا کو جلا دینے والے ہتھیار ، ڈیزی کٹر بموں سے مخلوق خدا کا قتال کرنا انکے اعضا فضا میں بکھیرنے ، انسانی جسموں کو زخموں سے چور کرنے،جراثیمی بموں سے بیماریاں پھیلانے، مخلوق خدا کے ز خمو ں پر مرہم لگانے والی، مریضوں کو دوا ، بیماروں کو شفا ،مردوں کو زندہ کرنے والی امت مسیحائی کے نظام و سسٹم اور تعلیمات کو ختم کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے نرغے میں آگئی۔انہوں نے اسی نان کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کے حکومتی نظام اور سسٹم میں ایسی مقید کر لی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ضابط حیات، نظریات، اخلاق و کردار، ازدواجی زندگی کا نظام،تعلیمی نصاب، مذہبی درس و تدریس کے اداروں کو جمہوریت کے اداروں سکول کالجز،یونیور سٹیوں میں بدل کر ابن مریم کی امت کوانکا باغی،گستاخ ،منکراور بے ادب بنا کر رکھ دیا۔ابن مریم پاک کی شرم حیا کی تعلیمات سے سینچی ہوئی امت کو مخلوط تعلیمی اداروں کے سپرد کر دیا،جس میں مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ ،مخلوط حکومتی نظام کو رائج کیا،جس سے مرد و زن کے ملاپ کے قوانین سے فحاشی،بے حیائی،بدکاری،زنا کاری کی جنسی آزادی کے کینسر میں مبتلا کر دیا۔ اس امت نے ما ں، بہن،بیوی ،خاوند،بیٹا، بیٹی اور مذہبی رشتوں پر مشتمل خانگی زندگی کے الفت و محبت کے پاکیزہ نظام حیات کو تباہ ازدواجی اور گھر یلوزندگی سے فرار کا راستہ اختیار کر لیا۔ خاندان کی مذہبی عمارت کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ مردوں نے کنبہ کی سر پرستی اور ماں،باپ، بہن ،بیوی ،بیٹی،بیٹا کی معاشی کفالت کی ذمہ دار ی سے دست برداری اختیار کر لی،اینٹی کرسچن جمہوریت کی جنسی آزادی، معاشی خوشحالی اور عیش و عشرت کی مادر پدر آزاد مہلک تہذیب نے پیغمبران کی امت کو خود غرضی ، نفس پرستی،مادہ پرستی ،بیحیائی ،بدکاری، انفرادی خوشحالی اور نفس و نفسی کی چتا میں دھکیل کر مخلوق خدا کے حقوق و فرائض کے تصور سے محروم کر دیا ۔ انہوں نے کلیسا کے مذہبی انسٹیٹیوشن اور اسکی سرپرستی کو حکومتی سطح پرمحروم کر دیا، مذہب کے ضابطہ حیات، نظریات ، تعلیمات اور مذہبی درسگاہوں گرجا اور کلیسا کی سرکاری بالا دستی کو ختم کر دیا گیا۔ اس طرح مذہب ، اسکے معز ز پادری اور بشپ کو مذہب اور کلیساکی سرکاری بالا دستی اور سرفرازی سے محروم کر دیا گیا، ملت مادر پدر آزاد ہو گئی ،ابن مریم کی امت اور اسکی نسلوں کواینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی مدبروں اور دانشوروں کے تیار کردہ ضابطہ حیات، نظریات،اسکے تعلیمی نصاب ، اسکے تعلیمی اداروں سے انکی تعلیم و تربیت جاری کر دی گئی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مذہبی ضابطہ حیات نظریات تعلیمات کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے تیار کردہ سیاسی دانشوروں کے ضابطہ حیات،نظریات،تعلیمات کے تضاد
میں پھنسا اورالجھا لیا۔یہ ملت مذہب کے نظام حیات سے دور ہوتی گئی۔جب ملت کی انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کی تعلیم و تربیت،علم ،عمل، کردار،نظام اور سسٹم سرکاری طور پر تا بع فرمان اینٹی کرسچن جمہوریت ہو تو ابن مریم علیہ السلام کی امت اور اسکا مذہب کیسا !۔ اس طرح یہ امت پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دور اور جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کی حکومتی گرفت میںانکے نئے مذہب اینٹی کرسچن جمہوریت میں کنورٹ ہوتی چلی گئی۔
اسی طرح مسلمانوں کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت کے سیاسی عالم دین ہوں یا مشائخ کرام یا گدی نشین یا پیر صاحبان ہوں یا انکے پیروکار وہ سب اپنے اپنے مذہب کے فرائض کی ذمہ داری اور اسکو سر انجام دینے میں بری طرح ناکام اور عملی طور پر دین محمدی ﷺ کے باغی ،نا فرمان ،بے ادب اور گستاخ بن چکے ہیں۔ وہ دیدہ دانستہ مادہ پرستی، غفلت اور گمراہی کی نیند سو رہے ہیں۔ وہ دین محمدی ﷺ سے دور ہو چکے ہیں،وہ تو خود اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل ضابطہ حیات، نظریات اور نظام حکومت کے پیروکار اور حکمران بن چکے ہیں۔وہ حرص و ہوس میں ڈوب گئے ہیں۔وہ مادی آفادیت اور اقتدار کے حصول کی خاطر جمہوریت کے بے دین سیاستدانو ں اور انکے دانشور حکمرانوں کے ساتھ مل کر کلام الہی کے امن اور سلامتی کے راستہ کو ترک کر کے جمہوریت کے نظام کی پیروی کے برابر کے مجرم بن چکے ہیں ، انہوں نے پاکیزہ اور طیب پیغمبران کے الہامی نظریات اور انکی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے ،اور بنی نوع انسا ن کو اس پر عمل پیرا کرنے کیلئے وہ خود جمہوریت کے نظام حکومت میں شمولیت کر کے بنی نوع انسان اور مسلم امہ اور اسکی نسلوں کے دینی نظام حکومت، معاشی اور معاشرتی قتال کے مجرم بن چکے ہیں ۔ انہوں نے دوسرے سیاسی دانشوروں سے مل کر ملت کو جمہوریت کے نظام اور سسٹم میں مقید کرنے کے برابر کے مجرم اور اللہ تعالیٰ کی بے بس مخلوق کو معاشی اور معاشرتی حکومتی ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کے مجرم ہیں، اللہ تعالیٰ کے قہر اور غیض و غضب کو پکارتے چلے جا رہے ہیں۔وہ سیاستدانوں سے ملکر بنی نو ع انسان کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کرتے اور انکے حصول کے تفکرات کا ایندھن بناتے اورخود دین کے خلاف اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں اور حکمرانوں سے مل کر اقتدار اور حکومت کی شاہی سہولتوں کے مزے ، عیش و عشرت کی مادی دنیا میں غرق ہوتے جا رہے ہیں ۔ روشن خیال اسلام کے سیاسی مدبروں،حکمرانوں کی اینٹی کرسچن جمہوریت کے باطل نظام حکومت کی اسمبلیوں میں بیٹھ کر دین محمدی ﷺ کے معاشی نظام حیات، اعتدال و مساوات،معاشرتی عدل و انصاف کے طریقہ کار،دینی تعلیمات، دینی تعلیمی نصاب ، دینی درسگا ہو ں دینی ضابطہ حیات،دینی ازدواجی نظام حیات،دینی اخلاق حسنہ،دینی حقوق نسواں،دینی شورائی جمہوری نظام کے تمام تعلیمی نصاب اور اس سے تیار ہونے والے کردار اور ملی تشخص کو پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ اور اسکی نسلوں سے کیسے ظالمانہ طریقہ کار سے غصب کئے جا رہے ہیں۔دینی درسگاہوں سے تیار ہونے والے کردار،اینٹی کرسچن جمہوریت کے ضابطہ حیات کے روشن خیال حکمران سکول، کالجز ، یونیورسٹیوں کے تعلیمی نصاب اور مخلوط تعلیم کے ذریعے کیسے نگلتے جا رہے ہیں۔ یہ حکمرانی کے مزے لوٹے جا رہے ہیں۔
یا اللہ! ان دین کش سیاسی عالموں،ان سیاسی مشائخ کرائم،ان گد ی نشین پیران اور بد نصیب کرسچن جمہوری نظام کے اقتدار میں شامل دینی سیاسی دانشوروں اور روشن خیال حکمرانوں کو پھر سے وہ ولولہ،وہ شوق،وہ جنوں،وہ حق پرستی،وہ بیباکی،وہ حق گوئی کا الہامی دینی
روشن و منور پرچم عطا فرما۔ یا اللہ انکو دین و ایماں کی فراموشی سے بچا اور اپنے خالق سے رابطہ بحال کرنے کی پھر سے توفیق عطا فرما۔ امین ۔یا اللہ ان ہوس پرست حکمرانوںمیں اعتدال و مساوات قناعت کی دولت عام کر،قناعت قلیل ضروریات پر بھی ہو سکتی ہے اور ہوس کی آگ پوری دنیا کے حصول سے بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ یا ا للہ ان اقتدار پسند سیاستدانوں،حکمرانوں اور انکے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو فلسفہ ء حیات و ممات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔یا اللہ انکو اس فانی دنیا کی فانی حیثیت سے آشنائی عطا فرما۔ یا اللہ انکے لئے یہ آسانی عطا فرما کہ وہ سمجھ سکیں۔کہ یہ دنیا خدا کا بسایا ہوا گھرہے اور اسی کی ملکیت ہے۔ انسان اس دنیا میں ایک مسافر کی طرح آتا اور نا معلوم منزل کی طرف چلا جاتا ہے۔نہ وہ کچھ ساتھ لاتا ہے اور نہ ہی کچھ ساتھ لے جاتا ہے۔وہ ماٹی کی مورتی ہے اور ماٹی ہی اسکا دیس ہے۔ یا اللہ ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے روشن خیال سیاستدانوں اور حکمرانوںکو آگاہی بخش کہ کامیا بی اور ناکامی کے تمام دلسوز تصورات،مادی حصول کے تمام دکھ درد اورسکھ چین ،ہر قسم کی مادی اور جسمانی بیماری اور شفا کے تمام واقعات ، خیر اور شر کے تمام قصے ، نیکی اور بدی کے تمام اعمال موت کے ساتھ ہی رک جاتے ہیں۔عارضی زندگی کی اکٹھی کی ہوئی تمام ملکیتیں اسی دنیا میںجمع ہو جاتی ہیں۔[L:8] اسکے ساتھ اسکے صرف اعمال ہی جاتے ہیں۔ یا اللہ اس ظلمت کدہ کے نگر میں پیغمبرخدا حضرت محمد ﷺ کی امت پر مسلط روشن خیال اینٹی کرسچن جمہوریت کے دانشوروں کو دین کی روشنی میں خیر کا دیپ جلانے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ درس دیں اور اطاعت دیںملت اسلامیہ اور تمام مخلوق کا نصیب بنا۔ یا اللہ امت محمدی ﷺ کو تمام کائنات کیلئے راہ راست کا سفیر بنااور دین محمدی ﷺ کے الہامی شورائی جمہوری نظام،اسکے تعلیمی نصاب،اسکی دینی درسگاہوں کی آفادیت اور اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے جمہوری نظام،اسکے تعلیمی نصاب،اسکے سکول کالجز کی تعلیمات کے منفی حقائق اور تضاد سے آگاہ کرنا مسلم امہ کا مقدس فرض ہے، اسکو نبھانے کی استطاعت عطا فرما۔تا کہ تمام امتیں اور مخلوق خدا اس سے استفادہ کر سکے ، یا اللہ مسلم امہ کو خیر اور بھلائی کے چراغ روشن کرنے کی توفیق میںاضافہ فرما۔ آمین۔