To Download PDF click the link below

 

  اے انبیا ء علیہ السلام کی امتوںکے سیاسی رہنماؤ !کیا تم ان انبیا علیہ السلام کو مانتے ہو! انکی ا لہا می کتابوں پر ایمان رکھتے ہو!کیا یہ حقیقت نہیں کہ اینٹی کرسچن جمہو ر یت کے سیاستدان ،مذہبی جما عتوں کے سیاسی رہنما ، ملک کے حکمران مذہبی نظریا ت اور تعلیمات کو ایک دجال کی طرح کچلتے جا ر ہے ہیں !
عنایت اللہ
یہ جہانِ نو،یہ جہانِ رنگ و بو،یہ دھرتی،یہ کائنات،یہ میخانہ ء حیات و ممات، یہ رات دن،یہ صبح شام،یہ نیلگوں آسماں،یہ دلکش ستارے ، یہ شمس و قمر ، یہ صحراؤ بیاباں،یہ پہاڑو دامن،یہ باد نسیم و شمیم،یہ دریاؤ سمندر، یہ قصۂ مرغ و ماہی،یہ چرند و پرند،یہ حیوانات و نباتات،یہ فضا و خلا،یہ ندی نالے،یہ میٹھی پون ، یہ کالے بادل،یہ سر سبز کھیت،یہ لہلہاتی فصلیں،یہ حسین جلوے،یہ دلربا منظر،یہ چر ند پرند، یہ نغمہ بلبل،یہ کوئل کی پکار، یہ حیوانات و نباتات، یہ باغ جہاں،یہ نظام جہاں،یہ قصہ آدم ،یہ اما ں جائے انسان،یہ نسل انسانی،یہ حسین و جمیل تخلیق ،یہ شاہکار تخلیق ، یہ آب و گلِ، یہ جسم و جاں ،یہ عقل وشعور،یہ ودیعت گویائی، یہ نور بصیرت ،یہ قوت سماعت،یہ احساس دلبری، یہ بستیاں ، یہ رونق بازار ، یہ شہر خا مو شاں،یہ ویرا نی سی ویرانی ، یہ دار الفناہ، اے سلسلہ روز و شب کے مسافرو! اے دلکش،دلربا قدیم و جدید دنیا میں رہنے والے انسانوں! یہ تو بتاؤ یہ دنیا کس کا گھر ہے! یہ نگار خانہ کس کا ہے ! اس جہاں کے نظام کو کون چلاتا ہے!اس جہاں کو کس نے پیدا کیا ہے ! یہ مخلوق کس کی ہے ! اس کا خالق کون ہے!اس کا مالک کون ہے! یہ جہاں کس کی ملکیت ہے! یہ کب سے ہے اور کب تک رہے گا!اس کا حاکم کون ہے! یہ حسین و جمیل دنیا،یہ دل کش کائنات ،یہ خوبصورت تخلیق ،یہ دلرباجہانِ رنگ و بو،یہ زمین،یہ پانی،یہ ہوا ،یہ تپش آفتاب،یہ چاند ستارے ،یہ نیلگوں آسماں،یہ سیاہ بادل ،یہ میٹھی پون ،یہ بیج،یہ فصلیں،یہ درخت،یہ پھلدار درخت،یہ میوہ جات، یہ گل و گلزار،یہ پھو ل و سبزہ زار، یہ بہار و خزاں ، یہ حیوان و نباتا ت،یہ خوراک و لباس ،یہ مخفی خزانے یہ سب پیداوار،یہ ماٹی کے روپ،یہ پانی کے جلوے ،یہ ماٹی کی مورتی ،اسکے حسین و جمیل نقش و نگار،یہ شاہکار تخلیق،یہ حضرت انساں،یہ خلیفہ ۃ الارض، یہ نائب خدا،یہ صبح و شام،یہ نظام حیات، یہ مخلوق خدا، یہ قصہ ء رو زگار، یہ پیدائش و ا موات،یہ گہوارہ طفولیت ،یہ گوشہ لحد، یہ سلسلہ ء کائنات ازل سے ایسا ہی چلا آرہا ہے۔ زمانے کا یہی دستور ہے۔ہر شے قانون ازلی کی پابند ہے ! انسان کھنکناتی ماٹی سے پیداکیا گیا ہے۔ اسی طرح ماٹی کے بطن سے ،پانی کی آبیاری سے پیدا کی ہوئی تمام اقسام کی، سبزیاں،پھل ،میوہ جات،تمام اقسام کے جانور بکری ،گائے ، بھینس، تمام اقسام کے چرند اور پرند،تمام اقسام کا گوشت ،دودھ ،مکھن، گھی ۔ تمام اقسام کی گندم، جو،چاول، دالیں اور ہر قسم کا چارہ اور تمام اشیا خوردنی ماٹی اور پانی ہی کے روپ کے جلوے ہیں۔ جو یہ دھرتی پیدا کرتی ہے ، یہ سب کچھ انسان کی بھوک و پیاس اور ضروریات حیات کا سامان ہے۔ انسا ن خوراک سے بھوک مٹاتا ہے اور پانی سے پیاس۔ انسان انہی سے پرورش پاتا ، پروان چڑھتا اور جوان ہوتا ہے ۔ ماٹی مختلف رنگ اور مختلف شکلیں اور مختلف جنسیں پیدا کرتی چلی آرہی ہے۔ ماٹی ماٹی کو کھا تی ہے،ماٹی پھر اپنے دیس کو واپس چلی جاتی ہے۔ زندگی اور موت کا سفر اسی طرح جاری رہتا ہے۔
یاد رکھو! انسان اس جہان فانی میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے۔اس کے کفن کو کوئی جیب لگی نہیںہوتی۔ یہ دنیا اور تمام مخلوق اور یہ حسین و جمیل جہان نو، دارالفناہ کی بستی ہے، یہ دنیا اللہ تعا لیٰ کا گھر ہے، یہ گھر مخلوق خدا کی ساجھی بستی ہے، زمین اسکا فرش ، آسمان اسکا چھت ہے، یہ سبزہ و گل ،یہ حسین چہرے،یہ ماٹی ہی کے جلوے ہیں ، وہ خالق مطلق ہے،تمام مخلوق اسکی تخلیق ہے،وہ رب العا لمین ہے، اس دنیا کی ہر شے فانی ہے،رب ذول جلال کی ذات اقدس ہمیشہ قائم و دائم رہتی ہے۔ اللہ جمیل و یحب الجمال۔ اے ابن آدم اللہ تعالیٰ کے جمالیات کی شان سے آشنائی تیرا نصیب ہو ۔امین۔
انسان اس کائنات کے خالق کی ایک شاہکار تخلیق ہے۔انسان کو دنیا میں خلیفہ ۃ الارض بنا کر بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بابا آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو تخلیق فرمایا۔ انسان کو ہی ذریعہ آفرینش بنایا۔اسکی رہنمائی کیلئے سلسلہ ء پیغمبران جاری فرمایا۔انسان کو علم سکھایا،انسان کو انسانی رشتوں سے متعارف کروایا ۔ ازدواجی زندگی سے آگاہی بخشی۔میاں بیوی، باپ بیٹا ،ماں بیٹی،بہن بھائی، دادی دادا، نانی نانا کے رشتوں کا شعور بخشا۔آسمان سے محبت کا انمول تحفہ ان رشتوں میں ودیعت کیا۔انسانی رشتہ کی عظمت اورعزت و احترام کا درس دیا۔ اخوت و محبت کا نور روشن کیا۔اعتدال و مساوات کا سبق سکھایا۔،مخلوق خدا کو رحم اور شفقت کے دلکش عمل کی رہنمائی فرمائی۔ مخلوق خدا کوعفو و در گذر کے حسنِعمل کی روشنی سے با خبر کیا۔مخلوق خدا کے ساتھ صبر و تحمل اور برد باری کے طریقہ کار کی شمع روشن کیں۔حیات و ممات کا فلسفہ سمجھایا۔ نیکی بدی ، خیر اور شر کا فرق ، نیکی اور خیر کی افادیت کی قندیلیں منور کیں۔ اس دارالفناہ کے فانی ہونے کی گرہ کھولی ۔مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کی راہ ہدایت عطا کی۔خدمت خلق کی عبادت سے آشنا ئی بخشی،ادب انسانیت کا سبق سکھایا۔حقوق العباد کی برتری کے سہانے چراغو ں کا نور پھیلایا۔ سادہ زندگی ،قلیل ضروریات اور اختصاری زندگی کی آفادیت سے روشناس فرمایا۔ دنیا میں محنت اور اسکے فلاحی ثمرات کی گرہ کھو لیں ۔ خوف خدا کے جذبے کو انسانی دلوں میں وارد کیا۔ عدل کو قائم رکھنے کی تلقین فرمائی۔ عدل و انصاف کی تلوار سے بدی اور شر کو معاشرے سے ختم کرنے کی افادیت سمجھائی۔دنیا کو امن و سکون کی آماجگاہ بنانے کے تما م اصول و ضوابط اور راستے بتائے۔تا کہ دنیا خیر کی نگری اور امن کا گہوارہ بن سکے۔ جب تک کسی قوم،کسی ملت،کسی ملک کے افراد ان الہامی اور روحانی دستور حیات اور اسکے اصولوں کے نصاب کی پیروی اور پابندی کرتے رہتے ہیں ۔ اس وقت تک اس دار الفناہ میں اعتدال و مساوات اور عدل کا رشتہ قائم رہتا ہے۔ مخلوق خدا میں خدمت و ادب کی بادشاہی بحال رہتی ہے۔مخلوق خدا اس فانی دنیا میں حسن عمل، حسن کردار، اخوت و محبت،ایثار و نثار،عفو در گذر کی عبادت سے شرسار رہتی ہے۔ انسانی حقوق کو تحفظ فراہم رہتا ہے۔ دنیا امن کی آماجگاہ بنی رہتی ہے۔ ان فطرتی اصولوں سے سینچا ہوا معاشرہ انسانیت کیلئے فلاح و بہبود کی شمع روشن کرتا رہتا ہے۔ تما م پیغمبران خدا اور تمام انبیا علیہ السلام مخلوق خدا کیلئے رب جلیل کا خیر اور سلامتی کا پیغام لے کر اس دنیا میں یکے بعددیگرے تشریف لاتے رہے ،بنی نوع انسان کیلئے خیر اور فلاح کی رہنمائی ہر دور میں فرماتے رہے ،جب تک ان انبیا علیہ السلام کی امتیں انکے نظریات،انکے ضابطہ حیات اور انکے تعلیمی نصاب کی پیری کرتی رہیں فلاح انکا مقدر بنا رہا ، دنیا امن کا گہوارہ اور مخلوق خدا کی عزت و تکریم کی روح بحال رہی۔ بابا آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام تک کے تمام پیغمبران اللہ تعالیٰ کی توحید،عبادت اور فلاح کے اصولوں کی تبلیغ کرتے رہے ۔ لیکن داؤد علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام سے لیکر آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ تک چار ایسے پیغمبران اس جہان میں تشریف لائے جن پر اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے چار الہامی کتابوں کا نزول فرما یا۔ توحید پرستی اور عبادت کا راستہ بتایا،ازدواجی زندگی اور انسانی رشتوں کا علم سکھایا، مخلوق خدا کی عزت و تکریم کی گرہ کھولی، قدرت کے قانون، یعنی ایک جیسی متوازن زندگی کا درس دیا ۔ تمام پیغمبران کی شریعت کے قوانین اپنے اپنے زمانوںکے تقاضوں کو پورا کرتے رہے۔بنی نوع انسان کی تربیت بتدریج جاری رہی۔اس پر کسی قسم کا اعتراض کسی فرد کیلئے مناسب نہیں!۔
یہودیوں کی شریعت کا حلقہ محدود اور قومیت کا رنگ لئے ہوئے تھا۔ یہود ی کسی غیر یہودی سے شادی نہ کرتے جسکی وجہ سے وہ ایک قومی مذہب کی بنا پر قائم ہوا ،یہ شریعت عالمی سطح پر انسانیت کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکتی تھی۔وہ ایک قومی مذہب بن کر رہ گیا۔ اس مذہب کی آفاقیت قائم نہ ہو سکی۔ عیسائیت میںشادی کا بندھن ایک بیو ی اٹل اور ابدی قرار پایا گیا۔اگر یہ ازدواجی رشتہ نبھ سکے تو قابل صد ستائش اگر نہ نبھ سکے تو ابدی عذاب۔عیسائی ملت رہبانیت پر مبنی ضابطہ حیات سے منسلک تھی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمانی بادشاہت کا اعلان کیا۔ عیسائیت نے نرم دلی،اختصاری ضروریات حیات،عفو و در گذر، ایثار و نثار، خدمت خلق اور دنیا کی بے ثباتی کی تعلیمات اورعمل کو فروزاں کیا۔ بھو کوں کو کھانا،پیاسوں کو پانی،ننگوں کو لباس،بیماروں کو شفا،مردوں کو زندہ جیسے عملی معجزوں سے بنی نوع انسان کے دلوں کو تسخیر کیا۔اس پیغمبر خدا کی نمائیاںصفات ترک دنیا یعنی رہبانیت، معجزات کی بارش اور مسیحائی پر مشتمل تھی۔ عیسائیت نے یہودی دور کی فرعونی مادہ پرستی کی تہذیب اور کلچر کو جو عروج پر پہنچ چکا تھا،اس کو روحانیت کی ضرب سے بڑی حد تک ختم کیا۔ جب تک مسیحائی کے مذہب کی تعلیمات ، نظریات اورکردار کی بالا دستی قائم رہی اس وقت تک لوگ جوک در جوک عیسائیت میں داخل ہوتے رہے ۔جن کی بدولت آج عیسائیت کے ماننے والوں کی تعداد دنیا میں دو ارب سے زیادہ ہے۔ لیکن رہبانیت کی انتہا پسندی نے انسان کی مادی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کر دیا۔ ایسا کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں تھا۔اعتدال ختم ہونے سے توازن قائم نہ رہ سکا۔عیسائیت میں مذہب کی حکومت چرچ کے پادریوں کے پاس تھی اور دنیاکی حکومت باشاہوں کے سپرد تھی۔مذہب اور بادشاہت کے نظام کا تضاد اور انکی آپس کی چپقلشیں اس ملت کے مذہبی نظریات اور کردار کا قتال کر نے میں مصروف رہیں۔ مادہ پرست، غاصب حکمرانوں نے اقتدار کی نوک پر چرچ پر بالا دستی مسلط کر لی۔ ان حالات و واقعات کی برتری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمرانوں نے مذہب کے نظریات، تعلیمات کو مسخ کر کے رکھ دیا۔نان کرسچن جمہوریت کا ایک نیا مذہب مادہ پرست دانشوروں نے تخلیق کیا۔انہوں نے عیسائیت کی نسلوں کو مذہب کے ضابطہ حیات،تعلیمات کو سرکاری سطح پر ختم کر کے ملت کو اسکی روح سے جدا اور الگ کر کے انکو عیسیٰ علیہ السلام کا گستاخ،بے ادب،منکر اور منافق بنا کر رکھ دیا ۔ابن مریم کی امت کی نسلوں کا مذہبی زوال شروع ہو گیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملت انکے نظریات،ضابطہ حیات اور تعلیمات کو ترک کر بیٹھی۔انکا ملی تشخص اور کردار نان کرسچن جمہپوریت کے مادہ پرستی،خود غرضی، مہلک ہتھیاروں کی ایجادات ، ان ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال ،مخلوق خدا کا قتال، اس جہان رنگ و بو کو مسخ کرنے اور بنی نوع انسان کے قتال اور دنیا کی تباہی کا مظہر بن کر ابھری، جسکے بعد ،یہ ملت ایک عظیم ٹرجیڈی اور المیہ سے دوچار ہو تی گئی۔اس ملت پر ایسے حکمران مسلط ہوتے رہے جو روح القد س حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات ،تعلیمات اور کردار کے مسیحائی کے عمل کو ایک ایک کر کے کچلنے ،مسخ کرنے والے قوانین اور ضابطہ حیات نافذ کرتے رہے جس سے ملت مذہب سے دوری کے فیصلے طے کرتی رہی اور گرجے کے پادری صاحبان حکومتوں کے سامنے بے بس اور انکے زیر اثر ہوتے گئے ۔ حکمرانوں نے اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام حکومت متعارف اور نافذ کیا،مذہب کا عمل دخل ختم کر کے اسکو چرچ تک محدود کر دیا گیا۔ صنعتی ترقی اور مادی خوشحالی کیلئے افرادی قوت کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے اپنی مستورات کو گھروں سے نکال کر مردوںکے شانہ بشانہ کام کرنے اور مادی خوشحالی کی غرض سے مخلوط معاشرے کی ابتدا کی ، مذہب کی چادر اور چار دیواری کے نظام کو توڑا،مرد و زن کے ملاپ نے معاشرے کی مذہبی قدریں بدل کر کھ دیں، جس کی وجہ سے عیسائی اقوام مذہب کے ازدواجی طرز حیات کو ترک کر کے جنسی آزادی، فحاشی، بدکار ی، بے حیائی،زنا کاری کی زندگی سے دو چار ہوتی گئی،اینٹی کرسچن جمہوریت کے عیسائی سیاسی دانشوروں،حکمرانوں نے حکومتی سطح پر اس نظام حیات کی پذیرائی کی، انہوں نے مذہب کے ازدواجی نظام حیات کو ختم کر کے بغیر نکاح شریف کے بچے پیدا کرنے اور وکٹورین چائلڈ ہاؤسز میں پرورش کیلئے جمع کروانے شروع کر دئیے۔نوجوان جوڑے مذہبی ضابطہ حیات سے الگ تھلگ ہوتے گئے،ان سیاسی دانشورں اور حکمرانوں نے ایک ایک کر کے مذہبی ضابطہ حیات کو روند کر رکھ دیا،اس عظیم ملت کو مذہب کی مسیحائی کی تعلیمات سے الگ کر دیا گیا، دلوں کو تسخیر کرنے والی امت کے الہامی اور روحانی ضابطہ حیات کو حکومتی سطح پر ختم کر دیا گیا، یہ عظیم ملت اپنے ہی عظیم پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح القدس کی الہامی کتاب انجیل مقدس کی تعلیمات کی منکراورمنافق بنا دی گئی۔یہ ملت ان غاصب سیاستدانوں اور حکمرانوں کی زد میں آگئی۔ ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کی تعلیمات کی سرکاری بالا دستی ختم کر کے ملت کے کردار کو ظالم اور قاتل کا عملی نمونہ بنا کر دنیا میں پیش کر دیا ہے ۔ بیماروں کو شفا عطا کرنے والی ملت جراثیمی بموںسے بیماریاں پھیلانے والے کردار کی مالک بن گئی۔مردوں کو زندہ کرنے والے ملت نائٹروجن اور ایٹم بموں کی خالق اور مخلوق خدا کو نیست و نابود کرنے کے عمل کی وارث بن چکی ہے۔ مذہب کی سماجی عمارت کو یہ ملت ریزہ ریزہ کر چکی ہے۔ ملت مذہب کے نظریا ت ، تعلیمات اور مسیحائی کے کردار سے دور اور محروم ہوتی چلی گئی۔جس سے یہ ملت عملی طور پر پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باغی اور منکر بن کر رہ گئی ۔ آج یہ ملت نمرود اور فرعون کے کردار کا عملی نمونہ بن چکی ہے۔ملت کے الہامی ،روحانی پیشواؤں اور مذہب پرست اہل بصیرت افراد کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ عیسائیت اور پوری انسانیت کو ان سیاسی دانشوروںاور انکی اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس المیہ سے نجات دلائیں۔جس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے نظریات،تعلیمات ، کردار اور انکی تہذیب کو روند کرر کھ دیا ہے۔
آخری نبی الزمان حضرت محمد مصطفیﷺ اس جہان میں تشریف لائے۔ اسلام نے انسانیت کو الہامی تعلیم کا ایک نیا نظام حیات عطا کیا، عیسائیوں کیطرح چرچ کے پادری کی حکومت اور دنیا کے بادشاہ کی حکومت کو ختم کر کے انکی چپقلشوں سے انسانیت کو محفوظ کر لیا۔اسلام نے انکے برعکس خلافت کا الہامی نظام متعارف فرمایا۔دین اور سیاست ایک ہی شخصیت میں سمو دی۔ خلیفہ کوپیغمبر خدا کا نائب مقرر کیا۔عیسائی تثلیث کے نظریہ کے قائل تھے، اسکے علاوہ عیسیٰ علیہ السلام کی ملت نے عیسائیت کے راہبوں، بڑے بڑے فقیروں در و یشو ں، نامور عظیم شخصیا ت کے بت اور تصاویر بنا کر انکی پرستش شروع کر دی تھی۔ اسلام کا دین، توحید پرستی کا ایک عظیم علمبردار،شرک اور بت پرستی کا سب سے بڑا دشمن بن کر ابھرا۔راہب پرستی اور ترک دنیا کی بجائے انسان کی روحانی اور مادی ضروریا ت کو ملحوظ رکھ کر دونوں میں ایسی دلکش اور روح پرور آمیزش قائم کی کہ تمام روحانی اور مادی تشنگی دور ہو گئی۔جس سے قلبی اور روحانی سکون کے اسباب پیدا ہو گئے۔یہودیت کو فرعونیت کے مادہ پرستی،نفس پرستی اور قتل و غارت کے کرداروں کو ختم کرنے اور اسکے باطل ضابطہ حیات سے بچانے اور محفوظ کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت یعنی یہودیوں کو آپس میںرشتہ ازدواج اپنانے کیلئے پابند بنایاکہ وہ کسی غیر یہودی کیساتھ شادی نہیں کر سکتے تھے۔ تاکہ فرعونی نسل کے مادہ پرستی،نفس پرستی،اقتدار پرستی اور انسانی قتال جیسی برائیوں سے بچ سکیں۔لیکن ایک عرصہ کے بعد یہودی امت میں فرعونی قوتیں عود آئیںجو آج تک ان کی پہچان بن چکی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح القدس کو روحانی او ر الہامی ضابطہ حیات ، اس دارالفناہ کی آگاہی اور رہبانیت کے نظام حیات کا لائحہ عمل عطا ہوا،بیماروں کو شفا اور مردوں کو زندہ کرنے کے معجزات کی روحانی اور الہامی مسیحائی کی طاقتیںعطا ہوئی تھیں۔ جس نے یہودیت کی مادہ پرستی ،نفس پرستی ،قتل و غارت اور اس دور کی تمام اخلاقی،معاشی ،معاشرتی برائیوں کا بڑی حد تک تدارک کیا اور روکا، بنی نوع انسان میں اعلیٰ مذہبی اقدار کا انقلاب رو نما ہوا، عیسائیت میں درویشوں، فقیروں اور چند مخصوص شخصیات کے علاوہ رہبانیت کے عمل میں سے گذرنا عوام الناس کے بس میںنہیں تھا۔ اکثر ترک دنیا نہ کر سکنے کے سبب مذہب پر عمل پیرا ہونے کے قابل نہ تھے۔ یہ عظیم ملت اس رہبانیت کے عمل پر زیادہ دیر نہ چل سکی ،اسکے پیرو کار پھر اس جہان رنگ و بو میں بری طرح کھو گئے،وہی مادہ پرستی ،وہی نفس پرستی ،وہی ظلم ستم،وہی قتل و غارت جیسی برائیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کوگھیر لیا اور وہ اسی میں وہ گم ہوتی گئی ،اس کے بعد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے،حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی تعلیمات کے علاوہ اسلام نے ایک مکمل ضابطہ حیات ایک جامعہ نظام حیات ،ایک شورائی جمہوری نظام اور ایک مفصل حکومتی طریقہ کار پوری انسانیت کو عطا کیا،جسکے ذریعے عمدہ کردار، اعلیٰ صفات، عمدہ اخلاق ، بہترین صداقتوں پر مشتمل افراد کا چناؤ اپنے اپنے حلقہ کے عوام کی ذمہ داری بنا دی گئی۔اس نظام میں کسی سیاسی جماعت یا کسی فرقہ یا کسی آمرکا کوئی عمل دخل نہیں،اسکے ممبران کا چناؤ خیر اور شر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،بہترین اور لا جواب اوصاف اور اہلیت کے افراد جو حکومتی نظام چلانے کی صلاحیتوں کے وارث ہوتے ہیں انکے ذمہ حکومتی قلمدان سپرد کر دیا جاتا ہے۔جو دین محمدی ﷺ کے نظام حیات اور ضابطہ حیات،تعلیمات کی خود بھی پیروی کرتے ہیں اور عوام الناس سے بھی کروانے کے پابند ہوتے ہیں۔یہ نظام ازل سے لیکر ابد تک قابل تقلید ہے۔جو ہر انسان کیلئے قابل عمل اور ہر شخص کو جائزہ لینے اور تنقید کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اسلام نے رہبانیت کے عمل کو ممنوع قرار دیا۔ دین محمدی ﷺ کی روشنی میںحقوق اللہ اور حقوق العباد پر عمل پیرا ہونے کا راستہ دکھایا۔اسلام نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تعلیم دی،کردار سازی کی،ملی تشخص اجاگر کیا اور با عمل منفعت بخش معاشرہ تیار کیا ۔ مذہب اور سیاست کوایک سا تھ اکٹھا کر کے انسانی کردار میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ دین محمدی ﷺنے بنی نوع انسان کو ایک مکمل دستور مقدس عطا کیا۔ مادی اور روحانی ضرریات کو پورا کرنے کیلئے ایک عمدہ آمیزش اور حسین امتزاج پیش کیا،اخوت و محبت،اعتدال و مساوات،خدمت خلق،عبادت و ریاضت ،اخلاق حمیدہ ،اسوہ حسنہ ،دنیا کی بے ثباتی کا درس اور عدل و انصاف کا راستہ دکھایا۔ جس سے مادی اور روحانی تشنگی دور ہو گئی۔ مسلم امہ اور بنی نوع انسان کی نسلوں کیلئے دین محمدی ﷺنے ایک ایسا ضابطہ حیات ،طرز حیات اور تعلیمی نصاب ازل سے ابد تک کی رہنمائی کیلئے مقرر کیا ہے،جو انسانی نسل کی اسطرح تعلیم و تربیت کر تا جس سے ہر انسان رحمت العالمین ﷺ کے عطا کئے ہوئے نظام حیات کی اطاعت کا لباس پہن لیتا ہے اور پوری مخلوق خدا کیلئے رحمت بن کر زندگی گذارتا ہے۔خلق عظیم کا تاج اسکی ملکیت ہوتا ہے۔امانت ،دیانت اور صداقت اسکے کردار کا حصہ ہوتا ہے۔ خوش خلقی اسکے جسد سے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ حق کے نور کی روشنی اسکا چراغ ہوتا ہے ۔اسکا قلب صدا قت کی معرفت سے مالا مال ہوتا ہے۔وہ مجسم حق اور مجسم انوار کا مجسمہ ہوتا ہے۔ اسکی گفتگو جیسے پھولوں سے خوشبو نکلتی ہو۔ اسکے ہونٹوں پر تبسم ہو تو دل اسیر محبت ہو جاتے ہیں۔ اسکی محفل ادب و احترام کی درسگاہ بنی ہوتی ہے۔اسکی خاموشی میں لذت گفتار پائی جاتی ہے۔اسکی لب کشائی اسرارو رموز کے مضراب کا کام کرتی ہے۔ اسکے مسکرانے سے کائنات مسکراتی ہے۔اسکا ہر عمل باعث رحمت ہوتا ہے ۔ اسکے پاس نہ کسی کو جھڑکا دینے ، تلخ کلامی کرنے یا نفرت کرنے کا نہ کوئی وقت اور نہ کو ئی سوچ ہوتی ہے ۔اسکی شخصیت اخوت و محبت کی پیکر اور زندگی اعتدا ل و مساوا ت کا خزانہ ہوتی ہے ۔اسکی ضروریات قلیل،اسکی خواہشات مختصر،اسکی نگاہ اس دار الفناہ سے آشنا ہوتی ہے۔اسکی پہچان خیر اور شر کی آگاہی بخشتی ہے۔ اسکا خمیر صبر و تحمل سے سینچا ہوتا ہے۔اسکی زندگی کا محور عدل پر قائم ہوتا ہے۔اسکی اعلیٰ صفات اور عمدہ صداقتیں عدل و انصاف کو عروج عطا کرتی ہیں۔اسکے حسن کردار کی تجلیاں ظلمات کو روشنی عطا کرتی ہیں۔ اسکی زندگی ادب جہاں اور خدمت جہاںمیں گم ہوتی ہے۔
دین محمدی ﷺ کے اس تعلیمی نصاب اور اسکی تعلیمی درسگاہوں کے تربیت یافتہ افراد ایسے طیب فطرت، سلیم طبع ، خدمت خلق اور ایثار و نثار کے جذبوں کے پیکر،ادب انسانیت میں گم ہوتے ہیں ۔اس نظام حیات کی تعلیمات سے جو معاشرہ تیار ہوتا ہے،وہ خوف خدا کا وارث اور الہامی ، روحانی تعلیمات کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ ہر فرد نیکی ،خیر اور بھلائی کا روشن مینار ہوتا ہے۔ وہ حرص و ہوس سے فارغ اور حق پرستی کا شاہکا ر ہوتا ہے۔اوصاف حمیدہ اسکی زندگی کا لباس ہوتا ہے۔ وہ بنی نوع انسان کیلئے بے ضرر،مخلوق خدا کیلئے منفعت بخش ہوتا ہے، وہ اونچ نیچ، برا ہمن و شودر اور طبقات پرستی کی طرز حیات سے نفرت کرتا ہے۔ دنیا کی بے ثباتی اور اس جہان فانی کی اصل سے آشنا ہوتا ہے،وہ اس کائنات اور اس جہانِ رنگ و بو اور اس زمین و آسماں اور اس دنیا کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت سمجھتا ہے۔ وہ اچھی طرح سے آشنا ہوتا ہے کہ یہ دنیا اللہ تعا لیٰ کا گھر ہے۔ مخلوق خدا کیلئے یہ ایک عارضی مہما ن خانہ ہے۔انسان یہاں مختصر اور قلیل سے وقت کیلئے عارضی طور پر خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ واپس چلا جاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا آشنا اور اسے من و عن تسلیم کرتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اسی کے عطا کئے ہوئے شورائی نظام حکومت کے ارکان کا چناؤ کرتا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نظام قائم کیا جاتا ہے دینی تعلیم سے آراستہ اور نظام کائنات کی اعلیٰ اہلیت کے افراد کو شورائی نظام کے فریضہ کو ادا کرنے کیلئے چن لیا جاتا ہے۔اس طرح تمام معاشرے سے ایسے افراد کا چناؤ عمل میںلایا جاتا ہے۔جو امانت و دیانت ، عدل و انصاف،اعتدال و مساوات،اخوت و محبت ،عمدہ اخلاق بہتر ین کردار،حقوق و فر ائض اور خدمت خلق جیسے دینی ضابطوں کی تعلیمات کی حفاظت کرتے ہیں۔خود بھی انکی اطاعت کرتے ہیں اور ملت سے بھی پابندی کرواتے ہیں۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کوقائم کرتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو اس دینی نظام حیات کو بنی نوع انسان سے چھین چکے ہیں۔کون ہیںوہ جو انبیا علیہ السلام کی امتوں سے انکی تعلیمات چھین چکے ہیں۔کون ہیںوہ جو بنی نوع انسان سے دنیا کی بے ثباتی کا درس چھین چکے ہیں۔کون ہیںو ہ جو انسانوں سے اعتدال و مساوات کا حق چھین چکے ہیں۔کون ہیںوہ جو مخلوق خدا سے اخوت و محبت کی لا زوال دولت کو چھین چکے ہیں۔کون ہیںوہ جو انسانوں میں مادہ پرستی کی آگ کو ہوا دیتے چلے جا رہے ہیں۔ کون ہیں وہ معاشی دجال جو ملکوں میں اپنے ہموطنوں سے ہی معاشی طاقت چھین لیتے ہیں ۔ کون ہیں وہ جو ساری خدائی ہے کنبہ خدا کے نظام کو توڑ رہے ہیں۔ کون ہیں وہ جو انسانوں کے بنیادی حقوق کو غصب کرتے چلے جا رہے ہیں۔کون ہیں وہ جو انسانوں کو نفرت اور نفاق کی چتا میں دھکیلتے چلے جا رہے ہیں۔کون ہیںوہ جو انسانوں کو جنگوں کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں۔کون ہیں وہ جو مخلوق خدا کو تباہ کرنے کیلئے ایٹم بم،نائٹروجن بم،گیس بم،جراثیمی بم، ایٹمی پلانٹ،ایٹمی میزائل اور طرح طرح کا اسلحہ تیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔کون ہیں وہ جو کمزور ممالک پر ان تباہ کن ہتھیاروںسے حملے کرتے، معصوم و بے گناہ اور بے ضرر انسانوںکو،انکی بستیوںکو،انکے شہروں کو بلا کسی جواز کے نیست و نابود کرتے چلے جارہے ہیں۔یہ کون ہیں جو نمرود،فرعون اور یزید کے ایجنٹ ہیںجو پیغمبران کی امتوں میں مذہب پرست بن کر گھس آئے ہیں۔ کون ہیں جو پیغمبران کے شرم و حیا،پردہ کی دیواراور ازدواجی زندگی کے نظام حیات کی عمارت کو ریزہ ریزہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔کون ہیں جو مخلوق خدا میںزرپرستی،زن پرستی اور اقتدار پرستی کا دوزخ بھڑکا ئے جا رہے ہیں ۔ کون ہیں وہ جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے کے ابدی راستہ میں حائل ہو چکے ہیں۔کون ہیں وہ جو مخلوق خداسے مال و دولت،رشتوں کا تقدس ، شرم و حیا ، پردہ کی دیوار اور ازدواجی زندگی کا نظام ، اخوت و محبت کا آسمانی رشتہ، عدل و انصاف کا عمل اوردین و دنیا کو چھیننے، اسکومسخ کرتے جا رہے ہیں، دین محمدیﷺ پر اینٹی کرسچن جمہور یت کے ضابطہ حیات کو مسلط کئے بیٹھے ہیں، جابر آمرو ں، ظالم بادشاہوں اور مذہب کش اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیا سی رہنماؤں نے جمہوریت کی بالا دستی، ملکوںپر مسلط کر رکھی ہے ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کے سلامتی،نرم دلی، ایثارو نثار، اخوت و محبت، عفو در گذر، صبر و تحمل، عمدہ اخلا ق ،اعلیٰ صفات اور فطرتی صداقتوں کی تعلیمات کو ختم کر کے ملتوں کے تشخص اور کردار کا حسن مسخ کر رہے ہیں ، اینٹی کرسچن جمہوریت کے رہنما مذہب پرست امتوںسے پیغمبران کی تعلیما ت اور انکے ضابطہ حیات، نظریات کی سرکاری بالا دستی ختم کر کے متاع پیغمبراں،احکام خدا وندی کے ضابطہ حیات کی اطاعت اور انکے نظریات اور تعلیمات کو بنی نوع انسان سے چھین چکے ہیں۔تمام مذہب پرست امتوں کی نسلیں اپنے اپنے پاکیزہ و طیب پیغمبران کے نظریات ، تعلیمات اور انکی افادیت سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔
ساری دنیا کی ساری مملکتوںکے سارے آمروں، سار ے بادشاہوں اور سارے جمہو ر یت کے غاصب حکمرانوں پر مشتمل چند نفوس اور انکے نظام حکومت کو چلانے والی اعلیٰ سرکاری مشینری کے قلیل سے افراد نے مذہب پرست امتوں کو یرغمال بنا کر جمہوریت کے پنجرے میں مقید کر رکھا ہے۔ انکا مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔وہ تو نمرود ،فرعون اور یزید کے خانوادے کے لوگ ہیں ۔ انہوںنے پیغمبران انکی تعلیمات اور نظریات،اخوت و محبت،ادب و خدمت ، عفو و در گذر، اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کے فطرتی اصولوں کا دیوالیہ نکال دیا ہے،تمام پیغمبران کی امتیں جمہوریت کے جال میں پھنس چکی ہیں۔ اپنے اپنے قیمتی شاہی محلوںکی تعمیر، عمدہ سامان تعیش کی کولیکشن، جاگیروں اور کار خا نوں کی ملکیتوں کی دوڑ ، منافع خوری کی تجارت، لا تعداد مال وزر کے حصول کی لا متناہی خواہشا ت کو پورا کرنے
کیلئے، اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلیوں کے ذریعہ ،قانون ساز ی کر کے ملت کی دولت،خزانہ اور وسائل کو لوٹنے اور شاہانہ تصرف میں لانے کا عمل جاری کر لیتے ہیں۔ ان غاصب قوانین اور باطل سسٹم کے عمل نے دنیا میں وحشت اور دہشت پھیلا رکھی ہے۔ اعتدال و مسا و ا ت کو کچل رکھا ہے، بنی نوع انسان کو اپنی ذاتی خود غرضیوں اور اپنے اقتد ا ر کی خاطر اور اپنی سلطنتوں کے تحفظ کی خا طر جنگوں، نفرتوں اور نفاق کی آگ میں بری طرح جھونک رکھا ہے۔ملک کے کمزور اور نہتے عوام کو اقتدار کی طاقت سے اپنے ہی ملک کے غاصب حکمران چوں چراں نہیں کرنے دیتے۔ اسی طرح کمزور اور بے بس ممالک کو ترقی یافتہ مما لک کے حکمرا ن ، طاقت کی تلوار سے کچل دیتے ہیں ۔ مخلوق خدا کو نشانہ عبرت بنانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ بنی نوع انسان اسی دنیا میں زندگی کی بنیادی ضروریات یعنی خوراک،لباس، علاج اور چھت کے حصول کی خاطر سر گرداں اور مارے مارے پھرتے ہیں، حکمران سرے محلوں، رائیونڈ ہاؤسز،شاہی پلیسز میں داد عیش دینے میں مصروف رہتے ہیں،اینٹی کرسچن جمہوریت کایہ طرز حکومت اور اسکے حکمران، عبرت کی ایک انوکھی اذیتناک داستاں رقم کئے جا رہا ہیں۔یہ ظالم اور غاصب عیش و عشرت میں گم ہیں ۔ عوام انکے نظام کی چکی میں نفاق اور نفرت کی اذیتوں میں پسی جا رہی ہے۔ اسکا تدارک کون کریگا۔انکی فریاد مالک حقیقی کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ بادشاہ، آمر اور جمہوریت کے دانشور غاصب حکمرانوں نے مذہب کے الہامی نظریات ، ضابطہ حیات اور تعلیمات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا میں اعتدال و مساوات کا مذہبی نظام اینٹی کرسچن جمہوریت کی سرکاری بالا دستی اوراسکے قوا نین نے ختم کر دیاہے۔دنیا میں اینٹی کرسچن جمہوریت نے اخوت و محبت کے مذہبی پاکیزہ جذبوںکو روند کر رکھ دیا ہے۔دنیا میںاینٹی کرسچن جمہوریت نے مذہبی تعلیمات کے خلاف مخلوط تعلیم،مخلوط معاشرہ،مخلوط حکومت تیار کرنے کا عمل خاص کر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جار ی کررکھا ہے ،دنیا میں جمہوریت کے نظام نے آزادی ء نسواں کے نام پر مخلوط معاشرہ کے ذریعہ مذہبی از دواجی زندگی کے طیب نظام کو ختم کرنے کی راہ اختیار کر رکھی ہے۔ دنیا میںیہ حکمران پہلے عورت کو آزادیء نسواں کے نام پر گھر کی چار دیواری سے باہر نکالتے ہیں۔پھر مخلوط معاشرہ تیار کرتے ہیں۔پھر جنسی آزادی دیتے ہیں ۔ پھر ازدواجی زندگی کے مذہبی نظام کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی بالا دستی کی جنسی آزادی کی چتا میں بھسم کر دیتے ہیں ،دنیا میں عورت اپنے مجازی خداکو ڈھوندتی رہتی ہے۔اسکی جوانی کو نوچنے والے بدلتے رہتے ہیں، بچے وکٹورین ہاؤسز میںجمع ہو تے رہتے ہیں۔ دنیا میں عورت کو نہ مجازی خدا ملتا ہے اور نہ ہی وہ زندگی میں ماں کہلا سکتی ہے۔ اس وقت ؔ تمام پیغمبران کی تمام امتیں نان کرسچن جمہوریت کے المیہ سے دو چار ہو چکی ہیں۔دنیا میں اینٹی کرسچن جمہوریت نے مذہبی اقدار اور عدل و انصاف اور انسانی حقوق کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا میں مخلوط معاشرے کے نظام سے پردہ داری،بے حیائی،بد کاری،فحاشی اور زنا کاری کو روکنا ممکن ہی نہیں۔ اسی مخلوط نظا م حکومت کی وجہ سے امریکن صدر اپنی پرسنل سیکٹری سے نا جائز جنسی تعلق کا مرتکب ہوا۔یہ مذہب کے اصول کو توڑنے کا فطرتی نتیجہ تھا۔ ا س طرح جمہوریت کا نظامِحکومت مذہب کی الہامی تعلیمات کو زندگی کے ہر شعبہ میں نگلتا جا رہا ہے،نئی نوجوان نسل کے پاس مخلوط معاشرے کی اس بے حیائی سے بچنے کا نہ کوئی تدارک ہے اور نہ کوئی اور راستہ ہے۔ دنیا میںاینٹی کرسچن جمہوریت پسند حکمرانوں نے مذہب کے ازدو اجی زندگی کے ضابطہ حیات کو توڑ کر پیغمبر ان کی تعلیمات کو مسخ کر دیا ہے۔انہوں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کی سلامتی کی ازدواجی عمارت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ دنیا میں بسنے والے اربوںمذہب پرستوںکو اور خاص کر
پاکستان کے سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو بتانا از حد ضروری سمجھتا ہوں،کہ کوئی سیاسی آمر یا حکمران اللہ تعا لیٰ کی کتاب قرآن پاک اور حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بالا نہیں ہے، مخلوط معاشرہ دین محمدی ﷺ سے بغاوت، منافقت اور اسکی بے حر متی ہے۔ یہ نظام ملت کے جسد پر ایک لا علاج کینسر کی حثیت رکھتا ہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلی کے روشن خیال سیاسی علما، مشائخ ،پیران اورسیاسی ممبران، خدا وند قدوس اور رسول خداﷺ کے نظام حیات کو مسخ کرنے کے مجرم ہیں۔ جمہوریت کے نظام حکومت میں شامل ہو کرروشن خیال دینی سیاسی جماعتوں کے رہزنوں نے دین کے نظریات کا قتال جاری کر رکھا ہے اور نماز باقاعدگی سے با جماعت پڑھتے بھی جا رہے ہیں۔یہ کیسے اینٹی کرسچن جمہوریت کے ذریعہ دین محمدیﷺ کو کچلنے والے منافق مسلمان ہیں! اے دینی اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی جماعتوں کے دینی رہزنوں یہ تو بتاؤ! کہ جب تم مخلوط تعلیم،مخلوط معاشر ہ اور مخلوط حکومتیں جمہوریت کے مطابق ، دین کے نظریات کے خلاف ملت پر مسلط کرو گے،اسکے مطابق اپنی بہو بیٹیو ں ، ماؤں بہنوںکو لیکر اسمبلیوںمیں پہنچ بھی جاؤ گے ۔ جب تم ان قوانین کو مسلم امہ کی نسلوں پر مسلط بھی کر و گے۔تو بے پردگی ، بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کو کیسے روک سکو گے۔کیا مغربی تہذیب کا حشر تمہارے سامنے نہیں! پھرکہتے ہو کہ ملت دین سے دور ہو چکی ہے۔تم کیسے بد نصیب دین کے محافظ ہو جو حکومتی سطح پر تم دین محمدی ﷺ کے ضابطہ حیات، نظریات ، اعتدال و مساوات، معاشی اور معاشرتی قتال اور عدل و انصاف کے روندتے جا رہے ہو۔انقلاب وقت کو پڑھ لو۔یقینا دین محمدی ﷺ تمہیں تحفظ فراہم کریگا۔ اے دینی سیاسی جماعتوں کے دینی رہزنوں یہ تو بتاؤ!کہ جب تم دینی معاشی نظام کو ترک کر کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے سو دی معاشی نظام اور اسکے سیاسیات ،اسکے انتظامیہ اور عدلیہ کے تعلیمی نصاب کو ملت اسلامیہ پر نافذ کرو گے اور ملت کے فرزندان کی پرائمری سے لیکر پی ایچ ڈی تک اسی تعلیمی نصاب کی تعلیم و تربیت جاری رکھو گے۔تومسلم امہ کی نسلیں دینی معاشی نظام،اسکی عدلیہ اور انتظامیہ کی تعلیم و تربیت کہاں سے حاصل کریں گی اور کہاں بروئے کار لائیںگی۔کیا تم نے تمام ملت کو دین محمدیﷺ سے الگ اور منافقت کے عذاب میں مبتلا نہیں کر رکھا۔ اسکا ذمہ دار کون ہے! کیا دینی جماعتوں کے یہ دینی سیاسی رہنما یہ بتانا مناسب سمجھیں گے! کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے زیر سایہ طبقاتی تعلیم ، طبقاتی تعلیمی نصاب، طبقاتی تعلیمی ادارے مالک اور نوکر، افسر اور اردلی،آقا اور خادم، برہمن اور شودر ، حاکم اور محکوم کے طبقات اور معاشی فرق کو تیار کرنے والے صاحب اختیار کون لوگ ہیں۔انگریز نے تو ایک محکوم قوم کو قابو رکھنے اور نظام حکومت چلانے کیلئے یہ طبقاتی تعلیمی نصا ب مقرر کیا تھا۔ پاکستان میں بسنے والی مسلم امہ کی نسلوں پر دین کے خلاف اب یہ طبقاتی تعلیمی نصاب اور طبقاتی تعلیمی ادارے کون چلا رہا ہے۔ دین کے نظام کو ختم اور ملت کو بے دین بنانے کا ذمہ دار کون ہے۔ کیا دینی جماعتوں کے جمہوریت پسند رہنما یہ بتانا مناسب سمجھیں گے!اینٹی کرسچن جمہوریت کے زیر سایہ جمہوریت کے نظام حکومت کے نظام عدل کی تعلیم اور اس کا تعلیمی نصاب پرائمری سے لے کر با رایٹ لا تک جس میں برٹش لا ، امریکن لا ،انڈین لا اور ۱۸۵۷ کے ایکٹ کے قوانین کی تعلیم جاری ہے ۔ جس سے عدل و انصاف مہیا کرنے والے منصف تیار ہوتے ہیں ۔ جس ملک کی انتظا میہ کے اہلکار ایک اپنے مخصوص طریقہ کار سے ایف آئی آر کے مطا بق معصوم اور بے گناہ انسانوں کے خلاف حکومتوں اور با اثر سیاستدا نوں ، حکمرانوںکی سفارشو ں ، رشوتوں کے مطابق بے بنیاد پرچے درج کرتے ہوں۔ جج حقیقت کو سمجھنے کے باوجود انکے مطابق کاروائی کرنے پر مجبور ہوں، پھر اعلیٰ اور کمتر وکیلوں کے دلائل،سفارشوں اور
حکمرانوں کا دباؤ ، رشوتوں کے الگ نظام ، انصاف کے متلاشی تھانے کچہریوں کے اخراجات کا ایندھن بنائے جاتے ہوں۔ اس نظام سے سولہ کروڑ مظلوم اور محکوم طبقہ اورانکی نسلوں کو کیسے انصاف مہیا کیا جا سکتا ہے اینٹی کرسچن جمہوریت کے تعلیمی اداروں کے سائے تلے پروان چڑھنے والی عدلیہ،اس عدلیہ اور انتظامیہ کے ارکان، سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو کیسے اسلامی ضابطہ حیات ، طرز حیات کی زندگی مہیا کر سکتے ہیں ۔اس یزیدی نظامِ حکومت کو چلا نے والے اور ان میں شامل دینی رہنما کون ہیں! آؤ اس اینٹی کرسچن جمہوریت کی گتھی سلجھانے کیلئے ان تمام جمہوریت پسند دینی سیاسی جماعتوں کے رہنما ؤں کو منصف ہی تسلیم کر لیتے ہیں ۔ مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان اور انکی آنیوالی نسلوں کا کیس ان کے خلاف انکے رو برو،ان کو ہی جج مان کر،ان ہی کی عدالت میں پیش کرتے ہیں۔ملت کی طرف سے انکو ہی وکیل بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔انکو ہی گواہ مان لیتے ہیں۔خدا را ،ان سے جمہوریت کی روشنی ہی میںفیصلہ کروا لیں۔کہ قرآن پاک پڑھنے پڑھانے کانام اسلام ہے ۔ قرآن پاک کے ترجمہ اور اسکی تشریح و توضیح کرنے کا نام اسلام ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ بیان کرنے کانام اسلام ہے ۔ شہیدین کربلا کے سانحہ کو بیان کرنے کا نام اسلام ہے۔ عالموں کے خطاب یا ذاکروں کے ذکر ،ماتمی جلوسوں اور عزا داری کرنے کا نام اسلام ہے۔ کیا سیاسی دینی رہنماؤںاور سٹیجوں پر کھڑے ہو کر سانحہ کربلا کو بیان کرنے والوں کا نام اسلام ہے۔کیاان طیب ہستیوں کی شہادت کے پس پردہ جو حق و باطل کا نظریہ کار فرماتھا ان سے انکا کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔ ان میں سے حضرت امام حسینؓ پاک عالی مقام کے نظریات اور عمل و کردار کی بیعت کن نے کی ہے۔ کون انکی پیروی کر رہا ہے۔ اور کتنوں نے حضرت امام حسین عالی مقام کے خلاف یزید کے باطل جمہوریت کے نظام کی بیعت کر رکھی ہے، زندگی یزید کے نظام حیات کے کردار میں گم کردی جائے اور مدح سرائی عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور انکے قافلے کے شہدا کی کرتے جائیں۔ ان سے پوچھ تو لو! کفر اور منافقت کس کو کہتے ہیں۔ ملت کے روبرو تمام عقائد کے عالم دین اور تمام مدح خواں سے ا نکی علمی، عملی بد عملی کی وضاحت طلب کرنا ان مذہبی مفکروں سے نا گزیر ہو چکا ہے۔ کیا شہیدین کربلا کا دین انہوں نے روایات میں گم نہیںکر رکھا۔ ان سے پوچھ تو لیں، کہ انکی علمی بحث کی جہالت نے ملک میں فساد اور ملک و ملت میں فرقہ پرستی،نفرت اور نفاق اور ایک دوسرے کے قتال کا عمل شروع نہیں کر رکھا۔ کیا اس عبرتناک طرز حیات کا نام اسلام ہے! کیا حضور نبی کریم ﷺ کے ماننے والے درویشوں ، ولیوں اور فقیروںکے تذکروں،انکی عظمتوں اور انکے کلام کو ترنم سے سنانے کا نام اسلام ہے!۔ کیا حضور نبی کریم ﷺ کی نعت شریف سننے اور اس پر کیف و سرور کے اظہار کا نام اسلام ہے!کیا ان روایات کو دین کی اطاعت کہا جا سکتا ہے! جب عملی زندگی یزید کے نظام حیات کی پیروی بن چکی ہو۔ کیادین کے نام پر جمہور یت کے باطل کدہ کے نظام کے ایم پی اے۔ایم این اے ،سینٹروں، وزارتو ں ، مشاورتوں،وزیر اعلیٰ، گورنر،وزیر اعظم یا صدر پاکستان کے حصول کا نام اسلام ہے !۔ صدر ہاؤس ، وزیر اعظم ہاؤس،گورنر ہاؤسز،وزیر اعلیٰ ہاؤسز، کینوینشن ہالوں،اسلام آباد کلبوں،پنجاب ہاؤسوں،سندھ ہاؤسوں اور تمام سرکاری شاہی محلوں کی تعمیرات اور ان تک رسائی کا نام اسلام ہے!۔ کیا طبقاتی نظا م حیات قائم کرنے اور طبقاتی شاہی سہولتوںکی زندگی گذارنے کا نام اسلام ہے!۔کیا مسلم امہ کے سیاسی دینی جماعتوں کے رہنماؤں کو اقوام عالم کے رو برو اس طرح کا غیر دینی اور غیر اسلا می کلچر پیش کرنے کا نام اسلام ہے!۔ کیا یہ عالم دین،مشائخ اور تمام اس باطل نظام کے پیران دعا ملت کے اور صاحب مزار ہستیوں کے نظام حیات کے باغی
،منکر اور جمہوریت کے ایجنٹوں کے فرائض ادا نہیں کر رہے!۔کیا یہ انکی سادہ و سلیس زندگی،قلیل ضروریات،دین کی تبلیغ،دینی صفات اور دینی صداقتوں کے وارث ہو سکتے ہیں ۔ہر گز نہیں! ان سے خدا اور رسولﷺ کے نظریات اور تعلیمات کو کچلنے کے جرم کی تعزیرات اور سزا تو پوچھ لو ۔ ملت کے جسد کو جمہوریت کے کینسر میں مبتلا کرنے کے جرم کا فیصلہ ان سے ہی کروا لو۔ اگلے جملے میں انکے فیصلہ کی سزا کا ا ندراج ان ہی سے کروا لو۔ کیا یہ تمام جمہوریت پسند علما،مشائخ اور باطل جمہوریت کے نظام حکومت کے پیران دعا،تمامنان کرسچن جمہوریت کے سیاستدان اور حکمران مسلم امہ کے کلچر اور تہذیب کو ختم کرنے کے مجرم اورواجب القتل ہیں یا نہیں!۔
دینی عالموں،مشائخ کراماور پیران دعا نے ملک و ملت پر قرآن فہمی کا درس دینے،خدا اور رسولﷺ کی قربت اختیار کرنے کے راستوں کی نشان دہی کرنے،انکے نظام حیات کی اطاعت کا سبق سکھانے ،دین کی خوشبو کو کریہ کریہ،بستی بستی، نگر نگر، کو بکو پھیلانے کے عمل کو ترک کر کے انہوں نے ملت کو فرقوں جمہوریت کی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔مشائخ کرام نے الگ اپنے اپنے سلسلہ میں مسلم امہ کومقید کر رکھا ہے۔ علما نے دینی مدارس اور مشائخ کرام نے آستانو ں اور سیاستدا نوں نے حکومتی ایوانوں پر قبضہ کر رکھا ہے ،ملت کی وحدت کا شیرازہ علما کرام،مشائخ کرام اور سیاستدانوں نے بکھیر کر رکھ دیا ہواہے۔ نہ یہ دین کے راہی ہیں اور نہ راستہ آشنا ،لیکن دور حاضر کے پکے رہنما ہیں۔ یہ مادیت اور اقتدار کے گمراہی کے صحرا میں گم ہیں۔ علما تو اٹھارہ ہزار علماکا ھصہ بن چکے ہیں۔صاحب مزاربزرگان دین کی اولادوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ انکا منصب اور مقصد حیات کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں۔ اپنے آباؤ اجداد کی توہین،گستاخی ،بے ادبی از خود نہ کریں۔انکی صاحب مزار ہستیوں سے لا تعلقی مستند ہو چکی ہے۔وہ ان سے علمی اور عملی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔مخلوق خدا کوخالق کی نگاہ سے دیکھنے کی لا تعلقی،حصول اقتدار،مال و دولت کی خواہشات ، شہرت کی چتا اور حکمرانوں کے ایجنٹوں کے فرائض ادا کرنے اور انکی حکومتوںکومضبوط کرنے کے عمل سے باز آجائیں ۔ایسے اعمال انکے اور انکی اولادوں کی گمراہی کا سبب بن چکی ہیں۔یا اللہ ملت کو دین کے دین کش رہنماؤں کے عذاب سے نجات عطا فرما ۔امین ۔ؒٓ دوں کی زندگیوں وہ تو کم از کم ا س اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام حکومت میں شامل نہ ہوں اور نہ ہی اپنے ایسے مریدین سے روحانی تعلق کا دعویٰ قائم رکھیں چاہے وہ جمہوریت کے صدر پاکستان ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے یزیدی نظام کی بیعت کے بعد اگر وہ حکومت میں شامل ہوتے ہیں توانکااپنے بزرگوں کے سا تھ کوئی تعلق نہیںہے۔اینٹی کرسچن جمہوریت مغرب کے دانشوروں کا مذہب ہے جو وہ پاکستان پر مسلط کر گئے۔ جمہوریت کی سیا ست سے منسلک علما کرام ،مشائخ کرام اور سیاسی رہنماؤں نے مل کر ملک و ملت کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام ،سسٹم اور نظریات کے شکنجوں میں جکڑکر ملکی وسائل ، دولت ،خزانہ،اقتدار اور حکومت پرقبضہ کر رکھا ہے۔جمہوریت کے نظام کی سرکاری بالا دستی نے دین محمدیﷺ کے نظام ،سسٹم اور نظریات کو منسوخ کر کے دین کی آفادیت ،دین کی حکمت ،دین کے کردار کی لذت سے ملت کو محروم کر رکھا ہے۔ دین کا ارتقائی عمل رک چکا ہے بلکہ تنزلی کے اندھیروں میں گم ہو چکا ہے۔ ملت سے دین کی منزل کا راستہ چھین لیا گیا ہے۔روشن خیال اسلام کے منکر اینٹی کرسچن جمہوریت کی اسمبلیاں کے ذریعہ قرآن کو بدلنے میں کوشاں ہیں۔جمہوریت کی تقلید اور اسکی محکومی میں دین کی تحقیق زوال پذیر ہو چکی ہے۔ اس وقت ملت کے پاس صرف دین کا نام باقی ہے۔ دین کی بقا اور دین کی بالادستی قائم کرنا
ہوگی۔اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں کو توفیق عطا فرما کہ وہ اس منافقت سے انسانیت کونجات دلا سکیں۔ عدلیہ کے سر براہ کیلئے غور فکر اور فیصلے کا وقت ہے۔اپنے عدلیہ کے ممبران کو اکٹھا کرے اور ملت کو اس سانحہ سے نجات دلائے۔ اے پیغمبرانِ خدا،اے خاتم لا نبیا ﷺ ہم سب کو آواز حق اٹھانے کی صلاحیت اور طاقت عطا فرماؤ ۔ سوچ کو درست اور الفاظ کو تاثیر کی خوشبو سے مالا مال فرماؤ ۔ اے اللہ تعالیٰ جی مسلم امہ اور تمام انبیاء علیہ السلام کو ماننے والوں اور بنی نوع انسان پر رحم فرماؤ۔
آمین۔ عنایت اللہ۔