To Download PDF click the link below

 

  جمہوریت ۔ حکومتی اسمبلیوں کے آمر ممبران اور آمر حکمران پیدا کرتی ہے۔ دین محمدیﷺ! ۔ صاحب بصیرت، صاحب کردار، اعتدال و مساوات کے عارف ،ادب جہاں کے وارث،اخوت و محبت کے پیکر ، خلق عظیم کے پیامی،دنیا کی بے ثباتی کے آشنا،خوف خدا کی دولت سے مالا مال اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرنے و الے افراد مہیا کرتا ہے ۔
عنایت اللہ
الفاظ کی حرمت اور انکی پاسداری خالقِ کونین کا عطیہ ہے۔الفاظ خیال کا لباس ہے۔خیال کی دلہن کو انہی سے سجایا اور سنوارا جاتا ہے۔ دلنوازی کا پیغام انہی الفاظ سے انسانی قلب و روح تک پہنچایا جاتا ہے۔خیر کی دنیا انہی الفاظ سے تابندہ و پائندہ ہوتی ہے۔خیر اور شر ،نیکی اور بدی کی پہچان الفاظ کے دم سے ہی قائم ہے۔گلستان حیات کا حسن ،الفاظ سے ہی جلوہ آرا ہوتا ہے۔ الفاظ جمال کی روشنی اور نوع انسانی کے روح کا خامہ ء دلنواز ہوتے ہیں ۔ دلنوازی ، دلسوزی اور دلربا ئی کے میخانہ کا مست ،مستی کے جام،ہمہ دم اور دما دم جاری کرنے والا کسی صحرا و بیاباں میں تنہائی کی چادر اوڑھے بیٹھا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ الفا ظ کے میخانہ میں مستی ء کردار کی ستار خاموش کسی صاحب اعجاز کی منتظر بیٹھی ہے۔کہ وہ آئے اور خوابیدہ ملت کو جگائے۔چشم ملت اس منظر کی بڑی دیر سے منتظر کھڑی ہے۔ مسلم امہ بے بس غمگین اداس اذیتوں سے لا چارتڑپتی سسکتی ،دین محمدی ﷺ کی دوری کی سزا میں مبتلا کر دی گئی ہے۔ جمہوریت ،بادشاہت اور آمریت کے پنجرے میں بند، درد سے چور، حیات و ممات کی کشمکش میں بے جان ہوئی پڑی ہے ۔ اسکی حالت دگر گوں ہوتی جا رہی ہے،اسکی حیات جاو دا ں جمہوریت ، بادشاہت اور آمریت کی نجات اور دین محمدی ﷺ کی اطاعت میں مضمر ہے۔
اینٹی کرسچن جمہوریت کی تہذیب حاضر،اسکی تعلیمات،اسکا تعلیمی نصاب، اسکا ضابطہ حیات، اسکا پرچار ،اس کا کردار سازی کا عمل،امراض ملت کی وجہ بن چکی ہے۔ملت کا قافلہ اپنے رہنما ،اپنے ہد ی خواں،اپنے میرِکارواں سے محروم ہو چکا ہے۔عالم دین، پیرا ن طریقت اور حا کم وقت دین کی سرفرازی ، دین کی حاکمیت ،دین کی بالا دستی ، دین کے ضابطہ حیات،دین کی تعلیمات، دین کے اصول و ضوابط،دین کے اعتدال و مساوات کے نظام، دین کا شرم و حیاکا نظام،دین کے ا خلاقیات کا نظام ، دین کا حسن خلق اور دنیا کی بے ثباتی کا درس،دین کا مخلوق خدا کو کنبہ خدا سمجھنے کا شعور، دین کا صبر و تحمل کا راستہ،دین کا رشد و ہدایت کا نظام،دین کا امانت و دیانت کا ضابطہ، دین کا عفو و در گذر کا سلیقہ، دین کا سادہ اور سلیس نظام حیات کا راستہ، دین کا عدل و انصاف کا قانون جنکے بروئے کار لانے سے ملت کا اور اسکی آنیوالی نسلوں کا اسلامی تشخص اجاگر ہوتا ہے اور دین کے ان تمام ضا بطو ں کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کی جاتی ہے ۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے سیاسی علما،سیاسی مشائخ کرام،سیاسی پیران طریقت کے رہنماؤں نے جمہوریت کے باطل نظام حکومت اور انکے پیروکاروں ، ملکی جاگیر داروں،سرمایہ داروں پر مشتمل سیاستدانوں کے اقتدار کے دعا گو بن چکے ہیں۔ وہ حکمرانوں کے ایجنٹوں کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔وہ اپنی لا علمی کی جہالت سے مسلم امہ اور اسکی نسلوں کے دینی طرز حیات ، ضابطہ حیات، نظام حیات اور تعلیمات کو سرکاری سطح پر منسوخ اور ختم کر کے مسلم امہ کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے گھناؤ نے فتنہ کی تہذیب کا شکار اور ایک اذیتناک المیہ سے دو چار کئے بیٹھے ہیں۔
جمہوریت کے نظریات کی سرکاری بالا دستی اور پیروی کے بعد مسلم امہ اور ا نکے تمام فرزندان کو نبی کریمﷺ کی الہامی کتاب قرآن پاک کے عملی منکر، باغی، گستاخ، اور انکے دین سے سرکاری طور پر الگ تھلگ کر دیاہے۔ دین کے نام لیوا ، بظاہر دل و جاں سے ذکر رب جلیل کا ، عقید ت و محبت حضور نبی کریمﷺ سے،اور عملی طور پر اطاعت اینٹی کرسچن جمہوریت کے سرکاری دانشورں کے غاصب نظریات اور اسمبلی ممبران کے پاس کردہ باطل قوانین کی کرتے چلے آرہے ہیں۔ ملت جمہو ریت اور دین کے نظریات کے تضاد میں بکھر چکی ہے۔کاروان ملت کو حرم سے بد گماں کیا جا رہا ہے۔ ملت نا کردہ گناہ کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہے ۔ اس طرح منافقت ملت پر مسلط کر دی گئی ہے۔ جس سے نجات حاصل کرنا ملت کا اولین فریضہ ہے۔ ملت کے ساتھ کتنا بڑا ہولناک سانحہ ہے کہ مسلم امہ کے سولہ کروڑ نبی کریم ﷺ کے امتیوںکو اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات،اسکے ضابطہ حیات،اسکی تعلیمات، اسکے اصول و ضوابط کی سرکاری بالا دستی میں دیدیا جائے اور ان پر جمہوریت کے دینی اور دنیاوی غاصبوں کی حاکمیت مسلط کر کے ان کو اور انکی آنیوالی نسلوں کو دین محمدیﷺ ،اسکے دستور مقدس اور ملکی مال و متاع سے عملی طور پر محروم کر دیا جائے۔اس گلستان محمدیﷺ کو اجاڑنے والے، اسکی بالا دستی کومنسو خ کرنے والے،حضور نبی کریم ﷺ کی شان عظمت کو ختم کرنے والے،انکے اخوت و محبت کے رشتوں کو برباد کرنے والے،انکے اعتدال و مساوات کے نظام کو مسلنے والے،انکے خدمت و ادب کے چراغ بجھانے والے،انکے خیر اور شر کی تمیزمٹانے والے،انکے فلاح و بہبود کے نشان ختم کرنے والے، انکے صبر و توکل کی روشنی بجھانے والے،انکے خیر الامت کے کردار نایاب بنانے والے،انکے خلق عظیم کی درسگاہ کو بند کرنے والے،انکے دنیا کی بے ثباتی کے درس کو بھلانے والے،انکی ملت کی جمعیت کو ریزہ ریزہ کرنے والے،انکی عبادت و ریاضت کے آداب جھٹلانے والے،انکے ازدواجی زندگی کے نظام کو توڑنے والے،انکے شرم و حیا کے تمدن کو ختم کرنے،انکے نظریات کے خلاف مخلوط تعلیم اور مخلوط معاشرہ کی اذیتوں کو پھیلانے والے،انکے عدل و انصاف کے نصاب اور انکو بروئے کار لانے والے اداروں کو ختم کرنے والے، دین کی بنیاد کو کھوکھلا کرنے والے،آداب گلستان کو رقم کرنے والوں کو کچلنے والے، یاد رکھو!یہسیاسی عالم دین، سیاستدان اور حکمران ملت کو دین سے دور لئے جا رہے ہیں،انہوں نے ملت کو جمہوریت کے پیچ و خم میں الجھا رکھا ہے۔یہ تو ان سے پوچھ لو! جب دامن دین ہی ہاتھ میں نہ ہو گا تو ملت کہاں سے تیار ہو گی۔
۱۔کیا یہ دین کے غاصب حضور نبی کریمﷺ کے گستاخ،بے ادب اور انکی توہین کے مرتکب ہیں یا نہیں۔
۲۔ خاکے تیار کرنے والے بھی گستاخ ہیں،لیکن مسلمانوں کے روپ میں اس جمہوریت کے نظام کو مسلم امہ پر مسلط کرنے ،دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،ملکی سیاستدانوں اور حکومتی آمروں کے متعلق ملت کا کیا خیال ہے۔
۳۔ملک بھر کے علما ئے دین ،پیران طریقت جو اس المیہ پر خاموشی تانے بیٹھے،حکومتی آفادیت حاصل کرتے ہیں ، انکی سزا کیا ہے۔
۴۔ان تمام سر براہوں کے متعلق ملت کا کیا فیصلہ ہے،جنہوں نے اسلام کی روح کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ہندوستان ۹۰ سال تک انگریزوں کی محکومی میں رہا ،اس محکوم ملک کی عوام کو قابو کرنے کیلئے انہوں نے جمہوریت کے نظام حکومت کا ایسا پھندا ڈالا جس سے یہ چوں چراں نہ کر سکیں۔انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا۔اسکو چلانے والی انتظامیہ اور عدلیہ کی انگریزی زبان میں اعلیٰ اداروں میں خاص تربیت کی۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظریات کی روشنی میں ایسے قوانین ،اصول اور ضوابط مرتب کئے جس سے انکی دولت وسائل ٹیکسوں کے ذریعہ چھین لیتے۔انکو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رکھتے۔ چوں چراں کرنے والوں کا حشر نشر کر دیتے۔تھانے انکے خلاف جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر درج کرتے،عدالتیں انکے مطابق کڑی سزائیں دیتیں۔ ان سے تنگ آکر تمام ہندوستان کی اقوام ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوئیں،انہوں نے آزادی کا نعرہ لگایا اور اس جنگ کو سب نے مل کر لڑا،انگریز یہ جنگ ہار گئے اور ہندوستان کو آزادی دینے پر مجبور ہو گئے۔عوام غلامی اور محکومی کی زنجیروں سے آزاد ہوئے۔ سکھ کا سانس لیا۔تہذیب نو کی منزل کی طرف رواں ہوئے۔
پاکستان دو قومی نظریات کی بنا پر معرض وجود میں آیا، انگریز رخصت ہوتے وقت اپنے وفادار طبقہ کے جاگیر داروں سرمایہ داروں، غاصب حکمرانوں کو اپنی حکومت کا چارج دیکر ۱۹۴۷ کو رخصت ہوا۔ پاکستان ایک آزاد مملکت کے لحاظ سے دنیا کے نقشہ پر اجاگر ہوا۔انگریز بظاہر چلا گیا لیکن وہ پاکستا ن کو اپنے ان پالتو جاگیرداروں،سرمایہ داروں، حکمرانوں اور اپنی اعلیٰ سرکاری مشینری کے سپرد کر گیا۔جنہوں نے اس مسلم امہ اور اسکی نسلوں کا حشر نشر کر دیا ۔ ان سے دنیا بھی چھین لی اور دین بھی۔اہل وطن کو انگریز سے تو آزادی نصیب ہوئی لیکن بد قسمتی سے ان حکمرانوں نے انگریز کے محکوم عوام پر مسلط کئے ہوئے جموریت کے نظام حکومت کو جوں کاتوں مسلط اور قائم رکھا۔عوام پہلے کی طرح جمہوریت کے پنجرے میں بند اور محکوم ہی رہے مگر حکمران بدلتے گئے۔حکومت کا کاروبار انگریز کے وفادار طبقہ کے حوالے ہی رہا۔حکومتی نظام کو چلانے والی سرکاری مشینری ویسے ہی سرکاری فرائض ادا کرتی ر ہی ۔ جمہوریت ۔اسکا وفادار طبقہ ،اسکی سرکاری افسر شاہی اور منصف شاہی،انگریز کے مفتوحہ ملک اور محکوم عوام پر اسی طرح مسلط رہی۔دو قومی نظریات کو کچلتی رہی ، شورائی نظام حکومت کا تصور ختم کرتی رہی۔ ملک کی اسمبلیاں دین کے نظریات کے خلاف قانون سازی کرتی رہیں،شرم و حیا اور گرہستی زندگی کو مسخ کرتی رہیں، اینٹی کرسچن جمہوریت کا انگریز کا نظام اور سسٹم اسی طرح چلتا رہا۔سیاسی علما،سیاستدان اور حکمران اعتدال و مساوات روندتے رہے،خدمت خلق کے جذبے مفقودہوتے رہے۔شاہی محلوں ، شاہی بود و باش ،شاہی گاڑیوں او ر تصرفانہ زندگی کا کلچر پھیلتا چلا گیا۔ملک ان عیاشوں اور غاصبوں کا اڈا بنتا گیا جواقتدار کی نوک پرملی خزانہ کا حشر نشر کرتے چلے آرہے ہیں۔ ملکی سیاستدان،حکمران، حکومتی نظام کو چلانے والے اعلیٰ سرکاری عہدیدار اورنکے لواحقین ملکی وسائل اور معاشیات اور خزانہ کوذاتی ملکیتوں میں بدلتے چلے آ رہے ہیں۔ملک کی ملوں ،فیکٹریوں،کارخانوں،تجارت اور ہر شعبہ ء حیات پر وہ قبضہ کرتے چلے آرہے ہیں۔بلیک مارکیٹنگ،سمگلنگ اور منافع خوری کو ذریعہ آمدن بنا چکے ہیں۔ بے حیائی کی حد تک تصرفانہ زندگی کا کھیل جاری کر چکے ہیں ۔ ملکی دولت ،وسائل اور خزانہ کو غیر ضروی،شاہ خرچیوںکے لوازمات کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ ملک میں انکے دیکھا دیکھی اعلیٰ سرکاری عملہ سفارش ،رشوت ،کمیشن اور کرپشن کے کردار میںڈھلتا چلا آرہا ہے۔ ملک کے اقتدار ،وسائل، معاشیات اور خزانہ پر انکی اجارہ داری قائم ہوچکی ہے۔ جب چاہتے ہیںمانگ اور سپلائی کا توازن بگاڑ لیتے ہیں۔ آٹا، چینی ،گھی ، گوشت،سبزیاں ،پھل، سیمنٹ اوراسی طرح ہر ضروریات حیات سے بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری کے ذریعہ عوام الناس کو لوٹتے چلے آ رہے ہیں ۔ان کا تدارک کون کرے،یہی سیاستدان حاکم بھی ہیں اور تاجر بھی ہیں۔ان میں ظالم بھی ہیں غاصب بھی ۔حکومتیں بناتے وقت ہاؤس کا کورم پورا کرنے کیلئے ہارس ٹر یڈنگ کے سیاسی طریقہ کار کے جرائم نافذالعمل ہیں۔ اپنی اپنی جما عتو ں کے غدار مل کر نئی حکومتیں بنالیتے ہیں، سیاسی جماعتوں اور ممبران کو ساتھ ملانے کیلئے وزارتوں کی رشوتیں طے ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ نئی اتحادی جماعتو ں کی خریداری پر ملکی خزانے کا منہ کھول دیا جاتا ہے۔سیاسی رہنماؤں کے بڑے بڑے غبن اور دوسرے طرح طرح کے بھیانک کیس ختم کر کے انکو حکومت میںشامل کر لیا جاتا ہے۔کیا یہ خزانہ عوام کا ہے یا چند حکمرانوں کا۔کیا عوام نے انکو ایسے قرضہ جات معاف کرنے کی اجازت دی ہے،کیا یہ از خود ایسے اربوں کے غبن معاف کرنے کے مجاز ہیں، یہاں تک کہ زکوٰۃ کے فنڈ بھی یہ وحشی دجال نگل جاتے ہیں۔ ملک کی دولت چاروں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ شہروں میں ان غاصبوں کی شاہی محلوں پر مشتمل بستیا ں الگ تھلگ قائم ودائم ہیں۔ملک ان حکمرانو ں ،غاصبوں اور آمروں کی جنت بن چکا ہے۔ ملک میں پھیلی ہوئی شاہی عمارتیںاور عالیشان بستیاں، شاہی سرکاری اور ذاتی کاریں، سرکاری پٹرول ،لا جواب سڑکیں ، بہترین جہاز اور عمدہ ائیر پورٹس ان عیاشوں کی ملکیتیں بن چکی ہیں۔ رشو ت خوری، منافع خوری، قرضوں کی معافی،جرائم پیشہ افراد کو اپنی حکومت کو قائم رکھنے کیلئے ہر قسم کی معافی اور حکومتیں پیش کرنا،یہ سب ملی مجرم ہیں، دین کے مطابق انکا احتساب کرنا ایک طیب عبادت کا حصہ ہے ۔کیا ہر قسم کی معافی اور حکومت پیش کرنا جمہوریت کی عبادت نہیںہے ۔ ملک کے تمام سیاستدان اور حکمران انہی جرائم کے شاہکار ہیں۔ اندرونی بیرونی تجارت کی لوٹ کھسوٹ انکی خوشحالی کے وسائل ہیں۔ جس سے ملک میں کسان ، محنت کش ،ہنر مند اور عوام الناس غربت ، جہالت ، تنگ دستی اور بد امنی سے بری طرح دوچار ہو چکے ہیں،انہوں نے ملکی معیشت کو کیسے لوٹا اور کیسے ملکی خزانہ کوعیاشیوں کی نذر کیا۔ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو انہوں نے کیسے کچلا،ملک کی ترقی کے اسباب کیسے تباہ کئے اسکے اختصاری نقاط کو دیکھنا، غور کرنا اور حقائق کی تہہ تک پہنچنا سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کا بنیادی حق اور طیب فریضہ ہے ۔
۱ٍ۔ ملک میںچند بلیکیوں،رشوت خوروں،کمیشن ایجنٹوں،زمین مافیہ کے سوداگروں، سمگلروں،ڈاکہ ز نوں،سیاسی مذہبی رہنماؤں، سیاسی لیڈروں،حکمرانوں اور انکے لوٹ مار مچانے والے چیلے چانٹوںنے حکومت کی نگرانی اور انکی اجازت سے اعلیٰ سے اعلیٰ گاڑیوں کی خرید و فروخت سے اربوں ، کھربوںکے زرمبادلہ کو آگ لگا رکھی ہے اور یہ عمل بڑی بے رحمی سے جاری ہے۔ یہ زر مبادلہ کسانوں،محنت کشوں ، ہنر مندوں اور عوام الناس کی ملکیت ہے۔یہ انکی خون پسینہ کی کمائی ہے ۔ انکی یہ دولت ،یہ خزانہ ، یہ وسائل ،یہ قیمتی زر مبادلہ کوئی حکمران یا راشی یا ملک کا وزیر اعظم یااسکا حکومتی ٹولہ یا اسکے لوٹ مار مچانے والے حواری ملکی دولت کو اس طرح لوٹنے کے مجاز نہیں اور نہ ہی اپنی عیش وعشرت کی خاطر اس طرح ضائع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ حکمرانوں نے اس طرح کی پالیسیاں مرتب کر کے ملک میں ات مچا رکھی ہے۔ جبکہ سفر اور آمد و رفت کا عوامی مسئلہ آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے جو آج تک با مراد نہیں ہوا۔ وافر تعداد میں لوکل او منی بسوں کو خرید کراس اجتماعی مسئلہ کو احسن طریقہ اور نہائیت کم اخراجات سے حل کیا جا سکتا ہے ۔ چند رہزنوں کو اربوں ڈالر گاڑیوں گیس ،ڈیزل اور پٹرول کو اس طرح ضائع کرنے سے بڑی حد تک محفوظ اورملک کو کروڑوں ڈالروں کی روزانہ بچت ہو سکتی ہے ۔گاڑیوںکی اس پایسی میں دوسرے ممالک کی کمپنیوں سے کتنی کتنی رشوت اور کمیشن لی گئی ہے،ان میںکون کون حصہ دار ہیں اور انکے ڈیلر کون ہیں۔ اسکا انکشاف جرم ہے ۔ گاڑیوں اور پٹرول پر روزانہ کتنا زر مبادہ خاکستر ہوتا جاتا ہے۔ملک کا مال و متاع ان گاڑیوں کی ایڈوانس بکنگ پر کتنا ادا کیا جاتا ہے،سات سال کی اقساط تک ملک کا زر مبادلہ کتنا ادا کرنا ہوگا،ان گاڑیوں کیلئے کتنا روزانہ پٹرول کا زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ملکی قرضے چالیس ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ،پچھلے چار سالوں میں ساڑھے نو ارب ان قرضہ جات پر سود ادا کیا جا چکا ہے،کشکول ہاتھ میں نہیں انہوں نے گلے میں ڈال رکھا ہے ۔ روپے کی قیمت کا اندازہ لگا لو کہ پونڈ ایک سوچوبیس روپے کا ہو چکا ہے۔اس قسم کی لا تعداد غیر ضروری اشیا پر زر مبادلہ کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔حکمران ملک کی معاشیات کو تباہ کرتے جا رہے ہیں۔انکی سزا کیا ہے،ایسے کیسوں کا فیصلہ سولہ کروڑ عوام خود کریں گے۔
۲۔ ملک میں یہی سیاستدان، حکمران طبقہ اور ان سے منسلک اس نظام کے کارندے ملک میں چینی، گندم،گھی،گوشت ،سبزیاں،پھل،میوہ جات سیمنٹ ،لوہاجیسی روز مرہ کی اشیا کا بحران پیدا کر کے اربوں روپے کماتے ہیں اور اربوںروپوں کا زر مبادلہ انکی نذرہو جاتا ہے۔ اسکی خریداری میں علیحدہ کمیشن کھاتے ہیں۔یہ مانگ اور سپلائی کے نظام کو از خود درہم برہم کرتے ہیں اور منافع خوری سے تجوریاں بھرتے رہتے ہیں۔انکو ان جرائم کی کون سزا دے سکتا ہے،یہ تو تمام کارخانے انہی سیاستدانوں،حکمرانوں اور آمروںکی ملکیتیں ہیں۔چور بازاری انکے ذرائع آمدن ہیں۔
۳۔ اربوں روپوں کے غیر ملکی مشروبات جس سے عوام کے گردے ،معدے ، جگر خراب ہوتے ہیں،انکے اشتہارا ت کے اخراجات ار بو ں روپو ں کا زر مبادلہ ان معاشی دجالوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ تمام مشروبات کی ایجنسیا ں ان بختہ وروں کے پاس ہیں۔ کیا یہ تمام مشروبات ملک میں تیار نہیں ہو سکتے۔لیکن یہ ایسا کیوں کریں۔انکو غیر مناسب منافع انکے علاوہ اور طریقہ سے نہیں مل سکتا اور نہ ہی انکی اجارہ داری قائم ہو سکتی ہے۔
۴۔کیا ملک میں بیشمار کاسمیٹکس ،سگریٹ،صا بن ،شیمپواور بہت سی غیر ضروری اشیا کی ایجنسیاںانکے پاس نہیں۔انکی خریداری سے اربوں،کھربوں روپوں کا زر مبادلہ خاکستر نہیں ہوتا جاتا۔کیا اسے روکا نہیں جا سکتا۔
۵۔کیا گوشت ہماری روز مرہ کی ضروریات کا بنیادی حصہ نہیں۔چند معاشی دہشت گردوں کو مالا مال کرنے کیلئے بیرون ممالک انکو گوشت فروخت کرنے کی اجازت دے کر ملکی غاصبوں کو چار چاند نہیں لگا دئیے۔ ملک کے سولہ کروڑ عوام کے منہ سے خوراک کا لقمہ چھین نہیں لیا گیا۔ انکی بنیادی ضرورت نایاب اور ساٹھ روپے کلو سے ۲۶۰ روپے کلو تک قیمت بڑھا نہیںدی گئی۔ یہ اخراجات صرف سمگلر،رشوت خوراور معاشی دہشت گرد ہی برداشت کر سکتے ہیں، کسان ،محنت کش،ہنرمند اور عوام الناس نہیں۔ یہ پالیسی سازمعاشی دہشت گرد اور ملی مجرم کون ہیں۔ ان جرائم کا ذمہ دار کون ہے۔انکی سزا کیا ہے!
۶۔ ملکی دولت،ملکی وسائل اور ملکی خزانہ کے بہت بڑے حصہ کو اس مخصوص طبقہ نے بڑے بڑے محلوں ،شاہی پیلسوں،عالیشان بلڈنگوںکے نایاب میٹیریل ،سنگ مر مر اور قیمتی سازو سامان کی زینت بنا کر رکھ نہیں دیا ۔ اس تصرفانہ زندگی کاکلچر کون پھیلا رہا ہے جنکے پاس مال و دولت ہے۔کیا یہ ملک کا تمام سرمایہ منجمد اور بیکارنہیں ہورہا۔ کیا ان اربوں، کھربوں روپوں کا نقصان جو ہر سال ہو رہا ہے، اس سے ملک کی سڑکیں ، کارخانے اور زراعت میں انقلاب پیدا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیا انکا یہ غاصبانہ عمل جاری نہیں ۔ان بد بختوں کو کون روکے گا۔جبکہ ان جرائم کے مرتکب حکمران ہی ہیں۔ان کا یوم ا لحساب کا وقت ان کے سر پرآن پہنچا ہے۔ملک کی پائی پائی کا حساب ان سے چکایا جائیگا۔انکی تمام جائدادیں بحق سرکار ضبط ہونگی،انکو کوئی فرد روک نہیں سکے گا ۔
۷۔کیا ملک میں حکومتوں نے ضرورت سے ساٹھ ستر فیصد زیادہ فلور ملیں لگوا کر ملک کا سرمایہ ضائع نہیں کروایا ۔کیا ملوں،فیکٹریوں، کارخانوں کو ضرورت سے زیادہ انسٹال کرنیکی اجازت دینا مناسب ہے۔کیا یہ ملیں سرکاری کوٹہ حا صل کرنے اور بلیک ، رشوت ،کمیشن کے نظام کو چلانے والی ایجنسیاں نہیں ہیں۔کیا یہ حکمران جانتے نہیں ہیں۔یہ اچھی طرح جانتے ہیں ،کیونکہ یہ از خود ہی ان جرائم میں ملوث اور انکے مالک ہیں۔یہ دولت انہوں نے محنت ،مشقت سے نہیں کمائی ،یہ تو کسانوں، محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کی محنت کا ثمر ہے۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے ان جرائم پر مشتمل قوانین سے یہ اہل وطن کی دین اور دنیا لوٹے جا رہے ہیں۔
۸۔ کیا ملک کے تمام کارخانے ،ملیں ،فیکٹریاں اور اندرونی ، بیرونی تجارت اور ہر قسم کے کاروبار کے اجازت نامے ،قرضہ جات اور ہر قسم کی مراعات اسمبلیوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے تعاون سے حاصل نہیں کرتے، کیا یہی طبقہ ملکی وسائل اپنے نام منتقل کرواتا چلا نہیں آرہا۔ کیا یہ سرکاری خزانہ سے حاصل کئے ہوئے قرضے ایک دوسر ے کو معاف کرتے چلے نہیں آرہے۔کیا یہ تمام ملک میںپھیلی ہوئی ملکیتیں جمہوریت کے قانونی جرائم کی پیداوار نہیں ہیں۔کیا بنکوں میں رقم عوام کی نہیں۔کیا ملکی وسائل،دولت اور تمام خزانہ کسانوں ،محنت کشوں اور عوام کی اجتماعی ملکیت نہیں ہیں۔ کیاسولہ کروڑ عوام ان تمام ملکی وسائل ، دولت،خزانہ کے برابر کے مالک اور حصہ دار نہیں ہیں۔
۹۔کیا یہ ملک ستر فیصد کسانوں ،انتیس فیصد محنت کشوں،مزدوروں ہنر مندوں ، اور عوام الناس کا ہے یا ساڑھے سات ہزار ظالم ۔ غا صب سیاستدانوں،اسمبلی ممبران یا حکمران ٹولے کا ہے یا انکی اعلیٰ سرکاری مشینری کا۔ان غاصبوں ، سیاستدانوں، حکمرانو ں اور آمروں کو اس بات کی سمجھ کیوں نہیں آرہی۔کیا یہ ملک میں انارکی پھیلا نہیں رہے۔وقت انکے ہاتھوں سے بڑی تیزی سے نکلتا جا رہا ہے۔ انکے یہ ظالمانہ اعمال ملک کو خانہ جنگی کی منزلیں تیزی سے طے کرواتے چلے جا رہے ہیں۔ وقت ہے سنبھل جاؤ!۔ ورنہ تم کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔
۱۰۔ کیا کسان پورے ملک کو اناج، کھانے پینے پہننے کی ہر قسم کی اشیا ملک کے ہر فرد کو مہیا کرتا چلا نہیں آرہا۔اسکے علاوہ ہر قسم کا خام مال ملک کے تمام صنعتی اداروں کو انکی ضرورت کے مطابق مہیا کرتا چلا نہیں آرہا۔کیا انکی ملکیت پر چند غاصبوں کا قبضہ نہیں ہو چکا۔
۱۱۔ کیا مزدورمحنت کش،ہنر مند اور ہر قسم کے ورکر ملکی صنعتوں کو چلاتے اور معیار ی سٹاک مہیا کرتے چلے نہیں آ رہے۔ کیا دنیاانکی محنت، ہمت ،ذہانت اور صلا حیتو ں کو تسلیم نہیں کرتی،کیا انہوں نے ملک و ملت کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا نہیں کیا۔کیا یہ اعتدال کشی ان کے اس جرم کی سزاہے۔
۱۲۔کیا کسان ملک کی تمام صنعتوں کو خام مال اور ملک کے سولہ کروڑ انسانوں کو خوراک ،لباس اور ہر قسم کا پھل،سبزیاںِ،میوہ جات،ہر قسم کی مرغی،مچھلی کا گوشت،ہر قسم کی لکڑی،ہر قسم کے جانور برائے گوشت وافر مقدار میں انکے سٹاک مہیا کرتا چلا نہیں آرہا۔ کیا یہ زر مبادلہ کمانے کیلئے وافر مقدار میںٰاعلیٰ قسم کے چاول،اعلیٰ قسم کی سبزیاں، اعلیٰ قسم کے پھل،ہر قسم کا گوشت،ہر قسم کا بہترین کپڑا،اعلیٰ قسم کی روئی، اعلیٰ اقسام کے پتھراور بیشمار اشیا بیرون ممالک سے زر مبادلہ حاصل کرنے کیلئے مہیا کرتا چلا نہیںآرہا ہے۔اگر تمام وسائل یہی پیدا کرتا ہے تو ملک کی دولت اور خزانہ کس کا ہے۔اگر مالک اپنی ملکیت واپس لے لے تو،غاصبوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے!۔
۱۳۔ کیا مزدور ، محنت کش ،ہنر مند،عوام اور کسان اس ملک کے وارث،اور ملک کی ہر چیز انکی برابر کی ملکیت نہیں ہے۔کیا انکی زندگی قلیل ضروریات،مختصر اور سادہ خورا ک، سادہ لباس،بیماری کیلئے نہ دوا، نہ پیسہ، نہ ہسپتال، نہ علاج کیلئے جدید آلات، نہ ڈاکٹر، نہ علاج۔ بچوں کی تعلیم کے لئے نہ سکول ،نہ کالج ،نہ کوئی یونیورسٹی۔ نہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے اور نہ بیماری کے علاج کیلئے، نہ پائی نہ پیسہ۔ملک کے انتیس فیصد محنت کشوں ، ستر فیصد کسانوں کو ان جاگیر داروں اور سرمایہ داروںاور ان سیاستدانوںاور حکمرانو ں اور انکی اعلیٰ سرکاری مشینری نے ان کے حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ یہ آمر انکی تمام مال و متاع ،ان کے تمام وسائل،انکی تمام مال ودولت، انکا تمام اکٹھا کیا ہوا خزانہ اپنی ذاتی ملکیتوں میں بدلتے جا ر ہے ہیں۔ یہ تمام معاشی اور معاشرتی دجال اینٹی کرسچن جمہوریت کے نظام عدل کی تلوار سے انکا دین اور دنیا ایک رہزن کی طرح چھینتے اور ایک غاصب وفاجر کی طرح لوٹتے چلے آرہے ہیں۔ انکو عوامی عدالت کا فیصلہ سنا دو ۔ملک کے تمام کارخا نے ، ملیں ،فیکٹریاں، تمام رائے ونڈ ہاؤسز،سرے محل ، شاہی پیلسز،تمام شیش محل ، تمام تاج محل تمام سرکاری اور غیر سرکاری محل،تمام گاڑیاں،تمام سا ز و سا ما ن تعیش بحق سرکار ضبط ہو نا ہے۔ یہ تمام ملکیتیں کسانوں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کی ملکیت ہیں۔انکو ایک عام آدمی کی طرح زندگی گذارنی ہوگی۔ملت کے ساتھ الجھنے کا عذاب مول نہ لینا۔سول نا فرمانی سے انسانی نسلیں ختم کروا بیٹھو گے۔پانی بند،ملیں بند، بجلی بند، گیس بند،سڑکیں بند، گاڑیاں بند،جہاز بند۔ شاپس بند،یہ ملک و ملت اور حکمرانوںکیلئے نہایت مناسب ہوگا کہ وہ کسانوں ،محنت کشوں ، مزدورو ں اور عوام الناس کا معاشی اور معاشرتی قتال بند کر دیں۔ مظلوم و محکوم عوام تمہارے ظلم و جبرتم نے جنم دئیے ہیں اور وہ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تمہاری زبان میں یہ دہشت گرد اور خود کش حملہ آور ہیں جوتمہارے گھروں میں گھسے ہوئے ہونگے ۔ نہ تم بچ سکوگے ، نہ تمہاری اولادیں اور نہ ہی تمہارا مال و متاع تمہارے کسی کام آسکے گا۔ وقت سے پہلے اطلاع کر دی گئی ہے۔ اس سول نا فرمانی کی آگ اور عبرتناک المیہ سے بچ جاؤ،اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم اور اس انسانی سانحہ سے نجات عطا فرماویں۔ آمین۔
۱۴۔ مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کے تہذیبی جسد سے اسلام کی روحِ ،اسکے نظریات، ضابطہ حیات، اخوت و محبت، اعتدال و مساوات اور عدل و انصا ف کی تعلیمات اور اسکے تعلیمی اداروں، درسگاہوں کو جمہوریت کی حاکمیت کی تلوار سے ان ظالم سیاستدانوں، حکمر انوں اور آمروں نے کچل کر رکھ دیا ہے۔جمہوریت کے آمروں نے ملک کے تمام وسائل، دولت ،خزانے کو اپنی ملکیتوں میں بدلنے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔اسکے علاوہ ان تمام اسباب کو شاہی اخراجا ت اور تصرفانہ زندگی کی چتا کا ایندھن بنائے جا رہے ہیں۔ان آمروں کو اس تمام نظام کو ترک اور ختم کرنا ہوگا۔اسی میں انکی نجات ہو گی۔ پاکستان سو لہ کروڑ مسلم امہ کا ملک ہے۔دین کی روشنی میں ایک ہی تعلیمی نصاب پورے ملک میں نافذ کرنا ہے۔ اردو زبان کو سرکاری بالا دستی دینی ہو گی۔ایچی سن کالج کے پڑھے ہوئے کو اردو کیسے آئیگی۔وہ تو یہی کہے گا، اردو زبان ابھی ادھوری زبان ہے۔ ظالمو! جھوٹ نہ بولو،علامہ اقبالؒ کا کلام دنیا کی ہر زبان میں ٹرانسلیٹ ہو رہا ہے۔اردو زبان کی صلاحیت، فوقیت دنیا مان چکی ہے،ملک کے تما م ادارے ایک ہی تعلیم سے ملک کے تمام بچوں کی ایک جیسی تربیت کرنے کے پابند کرنے ہیں۔ ملک کے تمام طا لب علموں کا لبا س ایک جیسا ہونا ہے ۔ استاد گرامی کی عزت و احترام اور اسکا اعلیٰ با وقار سماجی مقام معاشرے میں متعین کرنا ہے۔ملت کی کردار سازی انکا طیب فریضہ ہے۔ ہر بچے کا پیدائشی حق اسکو مہیا کرنا ہے ۔ اس ملک میں دین کی روشنی میں مثالی عدل قائم کرنا ہے۔ طالبعلموں کو بیرون ممالک تعلیم اور ہنر سیکھنے کیلئے نہیں بھیجنابلکہ ان سکالروں کا اپنے ملک میں بند و بست کر نا ہے۔ایک کیلئے نہیں تمام طالبعلموں کیلئے ایک جیسا معیار قائم کرنا ہے، ملک کی ضرورت کے مطابق ہر شعبہ حیات کا ہنر مند تیار کرنا ہے ۔ ملک کی زراعت اور انڈ سٹری کا معیار عالمی سطح کے مطابق قائم کرنا ہے۔ ملک کی تمام انڈسٹریاں جہاں خام مال ہوگا ان دیہاتوں کے مرکز میںانسٹال کی جا نی ہیں۔ملت کا تہذیبی ڈھانچہ دین کی روشنی میں تیا ر کرنا ہے۔ میر کارواں،اسکے و زیرو ں ، مشیرو ں ، سفیروں اور سرکاری اہلکاروں،محنت کشوں اور کسانوں کا معیار زندگی ایک جیسا کرنا ہے۔کسی کوکسی پر کوئی فوقیت نہیں ہو گی۔اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کی بالا دستی ہوگی۔ جو اس نظام اور سسٹم کو توڑے گا قانون اسکا پورا پورا احتساب کرے گا،ورنہ ان غا صبو ں کو پوری امت کا سامنا کرنا ہوگا۔ ملک کے وسائل ، دولت ،خزانے کی چابیاں، کاروبا رِ حیات امین لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگا۔اگر مغربی حکومتیں اپنے ہمو طنوں کوبیروز گا ر ی الاؤنس اور روز گار اور علاج معالجہ مہیا کر سکتی ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا۔ ملت کو محنت، امانت، دیانت، محبت اور ڈسپلن کا خو گر کیوںنہیں بنایا جاسکتا۔جبکہ یہ ٹیکسی کار،گاڑی،جہاز ڈسپلن کے ساتھ چلا سکتے ہیں ۔مغرب اورساری دنیا میں اپنی محنت،مہارت اور ڈسپلن کا سکہ زندگی کے ہر شعبہ میں منو ا چکے ہیں تو پھر اپنے ملک میں کیوں نہیں۔ یہ غلطی اور بد دیانتی ہمارے نظام حکومت اور حکمرانوں کی ہے جو عظیم ملت کی رسوائی کا باعث بنے بیٹھیے ہیں ۔ اینٹی کرسچن جمہوریت کے اس ظالمانہ ،غاصبانہ نظام اور سسٹم کو ختم کرنا ہے۔
۱۵۔آج کی دنیا معاشیات و اقتصادیات کی جنگ میں مصروف ہے۔حال ہی میں روس دنیا کی عظیم طاقت ہونے کے باوجود جب اقتصادی طور پر مفلوج ہو گیا تو اسکا شیرازہ بکھر گیا۔ وہ ملک کئی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔کوئی شخص یا کوئی ادارہ یا کوئی ملک اپنی آمدنی سے بڑھ کر شاہی اخراجات کرتا ہے تو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا بلکہ تباہی اسکا مقدر بن جاتی ہے۔ہمارے حکمران اس تصرفانہ زندگی کے مجرم ہیں جو ملک کی معیشت کو ملک کے زر مبادلہ کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں اور ملک و ملت مقروض ہوتی جا رہی ہے ۔انہوں نے ملکی خزانہ کو اس چتا میں جھونک رکھا ہے۔انکے طبقاتی اور تفاوتی نظام کو روکنا اورسولہ کروڑ عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا انقلاب وقت کی پکار ہے۔ جب ملک کے چند افراد پر مشتمل سیاستدان،حکمران طبقہ ملک کی تمام دولت ،وسا ئل اور خزانہ اقتدار کی نوک پر آپس میں تقیم کر لیں ۔ لوٹا ہوا اربوں ڈالر اور تمام جرائم معاف کروانے والے ملک کے مجرم ہیں،ملک وملت ،غریب مقروض اور گروی پڑ جائے۔ یہ اقتدار کی نوک پر ملک کے تمام اندرونی ،بیرونی قرضے ہضم کر جائیں۔ ملت سود در سود قرضے ادا کر رہی ہو۔ یہ غاصب اور آمر ٹولہ اس اقتدار کی نوک پر لوٹے ہوئے مال سے اپنی ملیں، فیکٹریا ں،کارخانے اور کاروبار مستحکم بناتے جائیں۔ اسکے علاوہ شاہی محل، رائے ونڈ ہا وسز،سرے محل شاہی پیلسز، پاکستا ن کے اندر اور بیرون ممالک تعمیر کرتے جائیں۔انکا لوٹا ہوا ملکی خزانہ کروڑ وں،اربوںڈالرسوک بنکوں دوبئی، برطا نیہ، امر یکہ ، کینیڈا،اٹلی ،جر منی ، جاپان چین کے بنکوںمیں جمع پڑا ہو۔دنیا کے تمام ممالک میں انکی ملکیتیں اور انکے بنک بھرے پڑے ہوں۔انکے تمام جرائم حکومتیں ازخود اخبا ر وں،ٹی وی پر مشتہر کرتی چلی آ رہی ہوں۔ انکے خلاف کسی قسم کی کار روائی نہ کی جا رہی ہو۔ تمام حکمران ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کئے جا رہے ہوں۔عوام ۱۹۴۷ یعنی ساٹھ سال سے یہ انسانیت سوز معاشی اور معاشرتی ڈرامے دیکھے جا رہی ہو یہ تمام سیاستدان ملکی خزانہ بیرون ملک منتقل کرنے میں مصروف ہیں ۔ انکو پتہ ہے کہ ملک میں غدر اورخونی انقلاب آنے والا ہے، اس سے قبل یہ ملکی دولت بیرون ملک منتقل اور اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادیاں بیرون ملک کئے جا رہے ہیں۔ایک حکومتی میاں فیملی جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔دوسری بی بی فیملی بچوں سمیٹ بیرون ملک بھاگ چکی ہے۔ ایک الطاف بھائی کو جگہ ٹیکس لندن میں پہنچ رہا ہے۔ وہ بھی وہاں شاہانہ زندگی گذار رہے ہیں، سوک بنک انکے بھرے ہوئے ہیں ، وہ فکر معاش سے آزاد ہیں۔ تمام حکمران اسی پالیسی پر گامزن ہیں۔ان سے نجات کا وقت آن پہنچا ہے یہ کیسا جمہوریت کا نظام حکومت ہے کہ ستر فیصد کسان اور انتیس فیصد مزدور ، محنت کش،ہنر مند اور عوام الناس ملک کے وسائل،دولت اور خزانہ اکٹھا کرتے ر ہیں ۔یہ معاشی اور معاشرتی دہشت گرد اس خزانہ کو لوٹتے رہیں۔یہ اینٹ ، سیمنٹ ، لوہا تیار کرتے رہیں۔یہ اس سے شاہی سرکاری اور ذاتی تاج محل،قلعے پیلس اور فرعون کو شرما دینے والی اندرون ملک، بیرون ملک الگ تھلگ ہاؤسزتیار کرتے رہیں،وہ دولت اکٹھی کرتے رہیں یہ اسمبلیوںمیں بیٹھ کر اپنی ملیں،فیکٹریاںاور کارخا نے اور ہر قسم کی ملکیتیںتیار کرتے رہیں۔وہ معیار زندگی نہیں بلکہ دو وقت کے کھانے،تن ڈھانپنے کو کپڑے اور سر چھپانے کو چھت کی کشمکش میں خود کشیاں،خود سوزیاں کرتے جائیں۔یہ غاصب صدر ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس،کینوینشن ہال، اسمبلی ہال،گورنر ہاؤسز ، وزیر اعلیٰ ہاؤسز،وزیر ہاؤسز،مشیرہاؤسز،چیف سیکٹری ہاؤسز،سیکٹری ہاؤسز، افسر شاہی ہاؤسز،منصف شاہی ہاؤسز،انکی طبقہ وار ڈیکوریشنز،انکی حسب مراتب قیمتی زر مبادلہ نگلنے والی سرکاری اور نجی گاڑیا ں ، انکے اربو ں ، کھربوںکے زر مبادلہ کے اخراجات،انکی خزانہ چاٹنے والی تنخواہیں،انکی بے پناہ سرکاری سہولتیں، انکے بے پناہ سرکاری اور ذاتی تصرفانہ زندگی کے اخراجات جاری رہیں ۔ ایم پی اے ، ایم این اے،سینیٹروں کی اسمبلیوں میں مستورات کے کوٹوں کے اضافے، کبھی منسٹروں کے اضافے کبھی منصف شاہی، کبھی نوکر شاہی کی تعداد میں اضافے ۔ یہ نظام اور یہ شاہی طبقہ کے مرد و زن ملک و ملت کی معیشت کو چمٹتے جائیں تو ملک کیسے بچ سکتا ہے۔ پیشتر اسکے کہ ملک دیوالیہ اور صفحہ ہستی سے مٹ جائے کسانوں ،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کو جاگنا ہو گا۔ اقتدار امین اور اہل ہاتھوں میں دینا ہوگا۔ کیا خوب نظام اور سسٹم ہے کہ انکی نسلوں کیلئے بیرون ممالک تعلیمات کے انتظامات اور شاہی اخراجات۔اگر ملک میں رہیں تو انکے بچوں کو چھوڑنے کیلئے سرکاری گاڑیاں،اور اعلیٰ لا جواب معیار کے الگ تھلگ تعلیمی ایچی سن کالجز جیسے بہترین طبقاتی ادارے۔انکے بچے جج،جرنل کمشنر تیار ہوتے رہیں۔ستر فیصدکسانوں کے پاس پورے ملک میںاس قسم کا اعلیٰ طبقاتی تعلیمی ادارہ پورے ملک کے دیہاتوںمیں موجود نہ ہو۔شہروں میں انتیس فیصد مزدو روں،محنت کشوں، ہنر مندوں اور عوام الناس کے پا س ان اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کے لئے اتنے شاہانہ اخراجات کہاں۔وہ تو دو وقت کی خوراک کو ترستے ہیں۔ اگر کسانوں،محنت کشوں کے بچے اردو میڈیم میں میٹرک کر بھی لیں تو وہ ملک میں درجہ چہارم کے ملازم یعنی فوج میں بیٹ مین، سپاہی، ڈرائیور، چوکیدار ، اردلی، مالی، باورچی اور گن مین بھرتی ہوتے رہیں گے۔یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔اسکا انجام عبرتناک ہوگا۔
سپریم کورٹ کی انمول بلڈنگ جہاں انصاف کی خیرات جاری اور تقسیم ہوتی ہے۔ جہاں دین محمدیﷺ کے خلاف کرسچن جمہوریت کے نظریات کا راج ملک میں قائم کیا جاتا ہے۔ جہاں دین محمدی ﷺ کو ترک کر کے جمہوریت کے قوانین جاری کئے جاتے ہیں۔جہاں دین محمدیﷺ پر جمہوریت کے ضابطہ حیات کی سرفرازی نافذکی جاتی ہے۔ جہاں دین محمدیﷺ کے دستور مقدس کے خلاف جمہوریت کا دستور مسلط کیا جاتا ہے۔جہاں جمہوریت کے نظام کے اسمبلی ممبران کے پاس کردہ دین کش قوانین و ضوابط کو مسلم امہ کے سولہ کروڑ افراد پر سرکاری طور پر نافذالعمل کرنے کے اجازت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔جہاں جسٹس صا حبا ن خدا اور رسول ﷺ کے دستور مقدس کو روندتے اور اسکے خلاف جمہوریت کی روشنی میں نئے قوانین نئی ترامیم کی نئی کتابیں ہرروز مرتب کرتے چلے آرہے ہیں۔ جہاں نبی کریم ﷺ کی شان عظیم کے تہذیبی خاکوں اور دینی کردار کورونداجاتا ہے۔ اس بلڈنگ کا انگ انگ ان عادلوں، منصفوں کی داستاں رقم کئے جا رہا ہے ۔جنکی زیر نگرانی دین محمدی ﷺ کے خلاف یہ قانونی جرائم جنم لیتے او ر پرور ش پاتے چلے آرہے ہیں۔کرسچن جمہوریت کے نظام کی یہ عظیم الشان اور شان و شوکت میں لا جواب شاہکار بلڈنگ انکے طبقا تی ، تفاوتی ،تصرفانہ اور شاہانہ گھناؤنے کردار کی عکاسی کرتی جا رہی ہے۔ اسی کلچر کا تیار کیا ہوا کنونشن ہال ، اسمبلی ہال،وزیر اعظم ہاؤس،پریذیڈینٹ ہاؤس اور اسی طرح اس طبقہ کے روائتی محلوں کے عجوبے پورے ملک میں سادگی ، اعتدال و مساوات اور انسانی حقوق کو کچلنے کے منہ بولتے منظر پیش کئے جا رہے ہیں۔انکے بر عکس دوسری طرف صحراؤں اور بیابانوں کو آباد کرنے والے کسانوں، مزدو رو ں ، محنت کشوں،ہنر مندو ں، اور عوام ا لناس کے سر ڈھانپنے کی مشکلات کا اندازہ ان میں سے کون کر یگا ۔ انکی غربت ،تنگدستی ،بھوک ،پیاس،بیروز گاری، اور گھروندوں کی خستہ حالی کا تدارک کون کریگا۔ اس باطل نظام اور بے دین، حیا سوز کلچر کو مسلم امہ پر مسلط کرنے ،انکے حقوق غصب کرنے اور اس نظام کی اجارہ داری قائم کرنے کا یہ جواب دینے سے پریشان اور قاصر کیوں ہیں۔ یہ کیسے عادل ہیں کہ خود ہی طبقاتی نظام قائم کر کے اعتدال و مساوات کو کچلتے،ملکی دولت وسائل اور خزانہ کی امانتوں کو بے دریغ خرچ کرتے، اپنی اور چند غاصبوں کی ملکیت بناتے،انکے محلوں میں ڈھالتے، انکے کارخانوں میںبدلتے، انکی شاہی گاڑیوں کی زینت بناتے،انکو پٹرول میں جلاتے،انکو مشروبات کی نظر کرتے،انکو شاہی اخراجات کا ایندھن بناتے ،شاہانہ زندگی گذارتے، ملکی معیشت کو بے دریغ طریقہ سے تباہ کرنے کے عمل سے فروزاںکئے جا رہے ہیں۔چور اور چوکیدار مل چکے ہیں۔ ملک اور معیشت انکی ملکیت اور سولہ کروڑ عوام انکے قیدی اور غلام بن چکے ہیں۔وہ خرکارے سولہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو اس سپریم کورٹ کے عادلوں کی عدل کشی کی چھڑی سے گدھوں کی طرح ہانکے لئے جا رہے ہیں۔کنونیشن ہال کے حکمران ٹولہ نے سپریم کورٹ کے عدل و انصاف کے ادارے کو ملک میں ملت سے اسکا دین اور دنیا لوٹنے کیلئے مسلط کر رکھا ہے۔ ججوں ، منصفوں،جسٹسوںکا یہ اولین فریضہ تھا۔کہ وہ پاکستان میں مسلم امہ کے سولہ کروڑ فرزندان کے دینی نظریات،دینی ضابطہ حیات،دینی نظام حیا ت ، دینی طرز حیات،دینی کردار اور دینی کلچر کی نگہبانی اور تحفظ کا طیب فریضہ ادا کرتے۔وہ دین کی روشنی میں اعتدال و مساوات کے عمل کو بروئے کار لاتے۔ جسکے وہ پابند تھے۔ جن کے ذریعہ اسلامی کلچر تیار ہوتا۔ انہوں نے تو جمہوریت کی اسمبلیوں کے ممبران کے پاس کردہ قوانین اور انکے دین کے خلاف ضابطوں کو روکنا اور ختم کرنا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے وہ تو انکی سر پرستی کے فرائض ادا کےئے جا رہے ہیں۔جمہوریت کے کلچر کو فروغ دینے میں انکا یہ اہم رول ملت کی کردار سوزی کا بد ترین گھناؤنا جرم ہے۔کیا وہ ان حقائق کو جانتے اور ان جرائم کا تدارک کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انکو ایسا کرنے کی توفیق دے۔امین ۔
نمبر۱۔سپریم کورٹ کے ان جسٹسوںکے زیر نگرانی ملک میں طبقاتی تعلیمی ادارے ملت کو طبقات کی اذیتوں میں مبتلا کرتے چلے جا رہے ہیں

نمبر۲۔مسلم امہ کا کلچر ختم کرنے کیلئے مخلوط تعلیم کا نظام رائج کر رکھا ہے۔
نمبر۳۔انہوں نے ملک میں انگریزی زبان کو سرکاری درجہ دے رکھا ہے۔جس سے ملک کا اعلیٰ طبقہ، اعلیٰ طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر کے ملک کی اعلیٰ کمانڈ پر قابض ہو جاتاہے۔پندرہ کروڑ عوام کو انہوں نے آنکھوںسے اندھا،کانوں سے بہرہ ، زبان سے گونگا ،ذہنوں سے محروم کر کے پوری ملت کی اجتماعی اہلیت کو کچل کر رکھدیا ہوا ہے۔یہ پندرہ کروڑ انسانوںکی ان فطرتی ایجنسیوں کو انگریز ی زبان کی تلوار سے کاٹ کر موت کی گہری نیندسلاتے جا رہے ہیں۔ملک و ملت انگریزی کی اس سرکاری بالا دستی سے انکی محکوم اور غلام بن کرر ہ گئی ہے۔ کیا یہ جرم قابل معافی ہے۔
نمبر۴۔اردو زبان ملت کی سرکاری زبان ہے۔لیکن ملک میں انگریزی زبان کی سرکاری بالا دستی قائم ہے۔جسکی وجہ سے اعلیٰ سرکاری مشینری کے افسران اردو زبان سے نا بلد ہوتے ہیں۔ انگریزی زبان نرسری سے لیکر اعلیٰ انگلش میڈیم سکو لو ں، ایچی سن جیسے کالجوں سے سیکھ کر اس زبان میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں ۔ اعلیٰ طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی ادارے عوام الناس کیلئے شجرِ ممنوعہ بن چکے ہیں۔ انگلش زبا ن کی تعلیمی بالا دستی نے قومی سطح پر اردو زبان کی اہلیت ، فوقیت اور بین الاقوامی حثیت کو ختم کر رکھا ہے،طبقاتی تعلیمی ادارے ،طبقاتی انگریزی زبان اور طبقاتی تعلیمی نصاب اس ملت کی تباہی کا باعث بنتے چلئے آرہے ہیں۔ایک تعلیمی نظام اور ایک قسم کے معیاری ادارے ملک و ملت کی بنیادی ضرورت ہے۔کیا حکمران اور انکے نظام حکومت کو چلانے والی سرکاری مشینری کے اعلیٰ عہدیدار افسر شاہی ،منصف شاہی اور نوکر شاہی تیار کرنے والے طبقاتی تعلیمی ادارے سولہ کروڑانسانوں کو آنکھوں سے اندھا کیونکہ وہ لکھا ہو ا دیکھ سکتے ہیںپڑھ نہیں سکتے،کانوں سے بہرہ کیونکہ وہ انگریزی زبان سن سکتے ہیں سمجھ نہیں سکتے ذہنی طور پر ماؤف کیونکہ وہ دیکھ اور سن سکتے ہیںسمجھ نہیںسکتے ۔ ملت کے ساتھ کتنا بڑا ظلم اور جرم ہے کہ اسکی بنائی گویائی اور سوجھ بوجھ غصب کر رکھی ہے۔ کیا ۹۹ فیصد عوام اس زبان کے جاہل نہیں ہیں۔کیا یہ ظلم ، جرم اور ملی المیہ ان عادلوں کے زیر نگرانی پروان چڑھتا چلا نہیں آ رہا۔کیا چین،جاپان ،دنمارک،فرانس،روس اور روس سے آزاد ہونے والی بارہ ریاستیں اور دنیا کے بیشمار ممالک جہاں انگریزی زبان کا عمل دخل نہیں ہے،کیا ان تمام ممالک نے صنعتی ترقی،سائنسی ترقی نہیں کی۔کیا ان سب ممالک نے دوسری زبانوں کے علوم کو اپنی زبان میں منتقل نہیں کیا،کیا پاکستان ایسا نہیں کر سکتا!۔کیا چین، روس اور دوسرے ممالک کی زبانوں کو انگریزی کی طرح سیکھنا ضروری نہیں۔انگریزی سیکھنا اسلئے ضروری ہے کہ ہماری افسر شاہی ، منصف شاہی انگریزی زبان کے علاوہ کوئی زبان نہیں جانتی،اس انگریزی زبان کی سرکاری بالا دستی کے ظلم سے ملک و ملت کو نجات دلانا ضروری نہیں۔
نمبر۵۔اس سپریم کورٹ کی موجودگی میں ملک دو ٹکڑے ہوا۔حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کتنے سالوں تک اس شاہکار بلڈنگ کے تہہ خانو ں میں دفن رہی ۔ ایسا کیوں کیا گیا،اسکے عوامل و محرکات کیا تھے،ان مجرموں کو بے نقاب کیوں نہ کیا گیا،اس گھناؤنے جرم کا کیس کیسے التوا میں پڑارہا،اسکے مجرم کون تھے ۔ جنہوں نے اس ملک کو ٹکرے ٹکرے کر دیا۔ ان مجرموںکو کیا سزا دی گئی۔اس ملک کو توڑنے کے ملی سانحہ کی تمام ذمہ داری عوام پر ہے یا اس وقت کے حکمرانوں اور سپریم کورٹ کے جسٹسوں پر جنہوں نے اپنا فریضہ ادا نہ کیا ، یہ ادارہ ملک و ملت کا مجرم ہے
، آج بھی اس ادارے کے منصفوں کی نگرانی میں غاصبوں ،آمروں کو اسی طرح تحفظ فراہم ہوتا جارہا ہے۔ انکے خلاف مت لبکشائی کرنا، ان مجرموں کے جرائم کی نشاندہی کرنا، اسکی سزا برداشت کرنا ممکن نہیں،کیونکہ اس ملک کی تباہی میں سیاستدان ،حکمران اور عدلیہ عوام کی عدالت میں ملک توڑنے ،ملت کو دین کی دوری کی سزا میں مبتلا کرنے، ملت کو طبقات میں تقسیم کرنے،ملت کو دین کے خلاف مخلوط تعلیم،مخلوط حکومت کا قانون مسلط کرنے،معاشی طبقاتی زندگی کی اذیت میں مبتلا کرنے،ہارس ٹریڈنگ سے ملک کا خزانہ لوٹنے،مجرموں کو حکومتوں میںشامل کرنے،تجارت کے ذریعہ زر مبادلہ لوٹنے، انگریزی زبان کی بالا دستی مسلط کرنے، ملت کی بنائی ،سماعت اورذہن ماؤف کرنے اور ملک کو دو لخت کرنے کے المیہ اور اس حد تک تباہ کرنے کے یہ سب مجرم ہیں ۔ عدلیہ کا شعبہ سیاستدانوں،حکمرانوں نے اپنے تحفظ کیلئے قائم کر رکھا ہے۔ منصف انکے غلام اور قیدی کی حثیت رکھتے ہیں۔ عوام کی عدالت میں ان پر عائد کردہ الزامات درج ذیل ہیں۔
۱۔ کیا سپریم کورٹ کے منصفوں اور جسٹسوںنے مخلوط تعلیم کے نظام کو مسلم امہ پر نافذ کرنے کا کوئی تدارک کیا یا ان دینی غاصب حکمرانوں کا ساتھ دیا جنہوں نے مسلم امہ کی شرم و حیا اور ازدواجی زندگی کے دینی نظام اور اسکی تہذیب کی دیوار کو توڑا۔
۲۔ کیا انہوں نے طبقاتی انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کو ختم کرنے کا فریضہ ادا کیا یا انکے فروغ میں معاونت کر کے ملت کو طبقوں میں تقسیم کر نے کا بد ترین رول ادا کیا۔ اسکا ملت کے کردار پر کیا اثر پڑا۔ ملت کا کریکٹر اونچ نیچ،برہمن شودر، حاکم و محکوم کی معاشی اور معاشرتی چتا میں جھونک دیا گیا۔ملت کے برابری کے حقوق کو سلب کر لیا گیا۔ملت کے اعتدال و مساوات کے نظام کو روند دیا،ملت پر دین کے خلاف اینٹی کرسچن جمہور یت کا غاصب حکومتی نظا م مسلم امہ کے سولہ کروڑ افراد پر مسلط کرنے اور اسکی تقلید کروانے میں عدلیہ نے اہم رول ادا کیا۔
۳۔ کیا سپریم کورٹ نے ملت کے سولہ کروڑ فرزندان کو ،انکے دینی نظا م کو، انکی معیشت کو،انکے معاشرتی حقوق کو تحفظ فراہم کیا ہے یا اینٹی کرسچن جمہوریت کے ان چند سیاستدانوں ،چند آمروں، چندحکمرانوں اور انکے نظام حکومت کو چلا نے والی اعلیٰ مشینری کے چند دانشوروں کے تیار کئے ہوئے جمہوریت کے نظام کے غاصب قوانین و ضوابط کے پنجرے میں سولہ کروڑ مسلم امہ کے فر زندان کو مقید کر نے کا ظالمانہ رول ادا کیا ہے۔ملت یہ کس جرم کی سزا پا رہی ہے ۔ عدلیہ کو ان گھناؤنے جرائم کا جواب ملت کو دینا ہوگا۔
۴۔ کیاسپریم کورٹ کے جسٹسوں نے مسلم امہ پر دین کے خلاف سودی معاشیا ت کا نظام تعلیم ختم کرنے ،اسکا تدارک کرنے کا کوئی رول ادا کیا یا اسکی آبیاری کا حکومتی فریضہ ادا کیا۔جس سے ملک کی معاشیات کا سودی نظام ملت پر مسلط ہے۔
۵۔ کیاسپریم کورٹ کے منصفوں نے کرسچن جمہوریت کی روشنی میں پورے ملک میں بیگناہ ،معصوم انسانوں کے خلاف جھوٹے کیسوں کی ایف آئی آر درج کرنے کی روایا ت کا کوئی سد باب کیا ہے۔ کیا اس ظالمانہ طریقہ کار سے ہمارے منصف اعلیٰ آگاہ نہیں ہیں۔ان جھوٹے کیسوں کی سماعت ،بڑی بڑی فیسوںوالے وکیلوں کی بحثیں،اس عدل کش سسٹم پر مسلط منصفوں کے فیصلے۔ یہ عادل کیسے ملی عدل کے جسد پر ناسور بن کرچمٹے ہو ئے ہیں۔ کیا ایسا نظام اور سسٹم عدل و انصاف کا قاتل نہیں ہے۔آج تک جتنے معصوم بیگناہ،مجبور، بے بس، انسانوں کو ایسے نا کردہ جرائم کی قید و بند کی سزائیںیا انکو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا چکا ہے کیایہ انکے مجرم نہیں۔ایسے نظام اور سسٹم میں انصاف کہاں! عوامی عدالت انکو ان الزامات پر مشتمل کیس کی سماعت کا پورا موقع دے۔ کہ ملک میں انہوں نے اسکا تدارک کیوں نہیں کیا !

۶۔ کیا ان واقعات کی روشنی میں ججوں،منصفوںاور جسٹسوں اور وکلا کا رول ملت کے جسد کو کینسر بن کر چمٹ نہیں چکا۔قانون کا پیٹ بھرنے اور کیس مضبوط اور جیتنے کیلئے وکلا صاحبان جھوٹ پر مشتمل اضافی بیان اور حقائق کے خلاف کیس تیار کرنے کیلئے مدعی کو راستہ پر گامزن نہیں کرتے۔وکیل جھوٹے کیس لیتے ۔ جھوٹے کیس تیار کر تے ۔ جھوٹے حلف نامے ساتھ لگاتے اور عدالت کے رو برو جھوٹی قسمیں اٹھوانے کا اہم رول ادا نہیںکرتے ہیں۔کیا عدلیہ اور اس کا تمام نظام مسلم امہ پر ایک عبرتناک ناسور بن کر ابھر نہیں چکا۔
۷۔کیا عدلیہ ان حقائق سے واقف نہیں ہے!کیا وہ انصاف کے نام پر مسلم امہ کے دین،دنیا اور عدل کو کچلتے چلے نہیںآرہے! ایک حسین و جمیل داشتہ اپنا خوبصورت نازک و نرم جسم کو فروخت کرتی ہے اور لذ ت نفس دیتی ہے۔ ایک ذہین و فطین وکیل اپنا انمول ضمیر اور ذاتی تشخص کو فروخت کرتا ہے۔ داشتہ لذت نفس دینے کا گناہ کرتی ہے۔اور وکلا بیگناہ انسانوں کو انسانی اذیتوں میں مبتلا کرنے اور معصوم انسانوں کو اذیتیں دینے اور انکی زندگیوں سے کھیلنے کے گھناؤ نے جرائم کے مجرم کا رول ادا کرتے ہیں۔نہ جج قسم اٹھا کر فیصلہ سناتا ہے کہ وہ حقا ئق کی روشنی میں درست فیصلہ دے رہاہے،نہ وکیل قسم اٹھاتا ہے کہ وہ جھوٹا کیس دائر نہیں کر رہا۔ وہ تو مدعی سے ہی ایسی عبرتناک قسمیں اٹھوانے کے عذا ب میں برابر کے شریک ہیں۔ ایسے واقعات،ایسا ماحول ،ایسا میزان عدل یہ تمام ظلم و جرائم جمہوریت کے نظام حکومت اور اس نظام حکومت کے اعلیٰ منصفوں کے ہیں۔جنکا تدارک آج تک نہ حکمرانوں اور نہ ہی ان عدلیہ کے مجرموں نے کیا ہے۔ مسلم امہ کواس نظام عدل کو توڑنا اور دینی نظام عدل کو قائم کرنا ہو گا۔
۸۔ رشوت ،کرپشن،سفارش اور ہر قسم کی برائی اور ظلم کے زخم اس نظام عدل کی پیداوار ہیں۔اسکے منصف اس فتنہ کے ذمہ دار ہیں۔ یہ نظام اور سسٹم ملت کے کردار کی تباہی کا باعث بنتا جا رہا ہے۔انصاف کے متلاشیوں کے یہ زخم ناسور میں بدل کرزندگی بھر لا علاج بن کر انسانوں کی زندگیوں میں شامل ہوتے ہیں اور موت کی دہلیز تک پہنچاتے جاتے ہیں۔
۹۔ کیا ملک میں کسی شخص کو جرا ت ہے کہ وہ ان سیاستدانوں،حکمرانوں، وزیر و مشیر،وزیر اعلیٰ و گورنر،وزیر اعظم اور صدر پاکستان اور انکے اعلیٰ سرکاری عہدیداروںسے پوچھ سکے کہ تمہارا حصہ تو ملک کے سولہ کروڑ افراد میں ایک ہی تو ہے۔ محنت کش ، ہنر مند،کسان اور عوام اس ملک کے وسائل،دولت اور خزانہ پیدا کرتے ہیں اور وہ اسکے وارث ہیں۔ تم سب انکے ملازم،نوکر اور خادم ہو۔ مالکوں اور وارثوںکے پاس نہ خوراک نہ لباس،نہ گھر نہ گھروندا،نہ بچوں کی تعلیم کیلئے پائی نہ پیسہ،نہ علاج کیلئے کوئی رقم،اسکے بر عکس ملک کے نظام کو چلانے والی حکومت کا طبقاتی نظام۔اعلیٰ طبقہ کی شاہی تنخوا ہیں، شاہی سرکاری سہولتیں، شاہی سرکاری اور ذاتی رہائشیں ، سرکاری شاہی اور ذاتی گاڑیاں، سرکاری پٹرول ، انکے گن مین، ڈرائیو ر ،اردلی،مالی ، چوکید ا ر کے اضافی اخراجات اور تعیش کی ز ند گی ۔ اس باطل اور غاصب بے حیا نظام کو عدل کا غسل کس نے دینا تھا۔کیا انہوں نے یہ سوچا ہے کہ یہ خزانہ،وسائل ، مال و دولت ، سولہ کروڑ کسانوں، محنت کشوں،ایک مفلس،ایک اپا ہج، ایک بیروز گار،ایک بوڑھے ایک یتیم،ایک بیوہ کی ملکیت ہے،جنہوں نے،بجلی،گیس،پانی کی ادائیگیوں ،انگنت ٹیکسوں،مہنگائی کی سرنجو ں سے یہ خزانہ جمع کیا ہوا ہے۔کیا یہ تمام سیاستدان ، ملت کے خادم ہیں یا معاشی اور معاشرتی رہزن،ڈاکو ،لٹیرے،غاصب ، ظالم ملکی کارندے
ہیں۔ یہ ایسا کیوں ہے عدلیہ اسکا جواب دے۔کیونکہ سولہ کروڑ اہل وطن نے نظام عدل انکے سپرد کر رکھا ہے۔
۱۰۔ ملک کی تمام ملیں،فیکٹریاں،کارخانے، تمام تجارت اور اندرون ،بیرون ملک ان چند سیاسی غاصبوں کے کارو بار اور ملک انکی ذاتی ملکیت بن چکا ہے۔ کیا اسلام اسکی اجازت دیتا ہے۔یہ کو نسے نظام عدل کا قرینہ ہے۔کیاسپریم کورٹ کے جسٹس ان حقائق کو جھٹلا سکتے ہیںکہ یہ تمام جرائم انکے زیر قیادت پنپ نہیں رہے ۔
۱۱۔کیاملت سرکاری طور پر حکومت شاہی کے وزیروںمشیروں،وزیر اعلیٰ،گورنر،وزیر اعظم ،صدر پاکستان افسر وماتحت کے طبقات میں تقسیم نہیںکی گئی۔کیا یہ تمام طبقاتی معاشی اور معاشرتی نظام ملک میں اس سپریم کورٹ کے ادارے کے زیر سایہ چلایا نہیں جا رہا۔کیا عدلیہ نے ان تمام ظالموں ، غاصبو ں ، معاشی اور معاشرتی قاتلوں کے جرائم کو ختم نہیں کرنا تھا۔ملک میںدین مقدس پر اینٹی کرسچن جمہوریت کی بالا دستی قائم کرنے والے کون ہیں۔
۱۲۔ عوامی عدالت سے جمہوریت کے حکمرانوں ان سپریم کورٹ کے جسٹسوں کے بارے میں ان الزامات پر مشتمل ان جرائم کا فیصلہ لے لو۔ان سب کی سزا کیا ہے۔یہ کیسے بے حس سیاستدان اور حکمران ہیں جن کے قلوب سوز سے خالی اور روحیں احساس سے محروم ہو چکی ہیں ۔ ملک و ملت معاشیات کے مرض میں مبتلا کر دی گئی ہے،بے زری اسکی بیماری ہی نہیں۔یہ تو بے دینی، عدل کشی اور اعتدال و مساوات کے فقدان کی اذیتوںمیںدم توڑ رہی ہے۔ انہوں نے مل کر دین کونایاب اور ملت کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا ہے۔فطرت اقوام عالم کے اعمال پر نظر رکھتی ہے۔کڑکتی بجلیاں اس نظام اور اسکے چلانے والوں پر کوند رہی ہیں۔
۱۳۔ ہارس ٹریڈنگ کا نظام ایک ایسا نظام حکومت ہے کہ ہر ملی رہزن،ملکی خزانہ اور مال و دولت اور وسائل پر ڈاکہ ڈالنے والا مجرم،حکمران اور اسکی جماعت سے سودا بازی کرتا ہے،کیس معاف کرواتا ہے اور حکومت میں شامل ہو جاتا ہے۔پھران مجرموںکی عددی برتری سے نئی حکومت قائم ہو جاتی ہے۔تمام جماعتوں کے غداروں پر مشتمل حکمران اپنی عددی برتری سے ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن جاتے ہیں۔ اسی عددی برتری سے ملک کیخلاف،ملت کے خلاف، دین کے خلاف قانون بنائے جاتے ہیں ۔کیا ان جرائم کو روکنے کا کوئی حل ہے ۔ ہاں ملک میں دین محمدی ﷺکو نافذ کر دو ،گھوڑا بھی بچ جائیگا اور سوار بھی۔ورنہ فطرت کے عمل کیلئے تیار رہو۔ انقلاب وقت ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یا اللہ ہمیں اس عبرتناک گھڑی سے بچا۔آمین۔
۱۴۔ دین کے علم و عمل کو فقط علم کلام بنا نے والو،مسلم امہ کے کردار کو اینٹی کرسچن جمہوریت کے ظلمات میں ڈبونے والو،اعتدال و مساوات کو کچلنے والو،اخوت و محبت کے حسین گلستان کو نفرت اور نفاق کی چتا میں جھونکنے والو ، ایثار و نثار کے جذبوں کو خود غرضی،نفس پرستی کی آگ میں دھکیلنے والو،دین کی شرم و حیا کی تہذیب کو مخلوط تعلیم سے روندنے والو، مسلم امہ کو طبقاتی نظام کی تقلید کروانیوالو، نبی کریمﷺ کی امت کو اینٹی کرسچن جمہوریت کی تہذیب کے صحرا میں گم کرنے والو، عشرت منزل کے مسافرو، عشرت کدوں کی تباہی سے بچ جاؤ۔نوشتہ ء دیوار تو پڑھ لو، توبہ کا وقت ہے۔ ورنہ یہ حقائق تمہاری داستاں لکھ جائیں گے۔تلاش کرو تمہارا علاج سیاسی ملاؤں و مشائخ یا جمہوریت کے دانشوروں کے پاس نہیں دین محمدی ﷺکی آغوش میں مضمر ہے ۔

۱۵۔ ہم نے تو یہ ملک دین کی روشنی میں اسلامی تہذیب و تمدن کامرکز بنانا تھا ، ہم نے تو دین کی روشنی میں ملی تشخص تیار کرنا تھا،ہم نے تو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنا تھا، ہم نے تو شورائی جمہوری نظام کا بنی نوع انسان کو راستہ دکھانا تھا،ہم نے تو شورائی جمہوری نظام جو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرتا ہے اور اینٹی کرسچن جمہوریت کا نظام جو نمرود فرعون اور یزید کی حاکمیت کو قائم کرتا ہے کے حقائق سے تمام پیغمبران کی امتوں اور بنی نوع انسان کو روشناس کروانا تھا۔
۱۶۔ ہم نے تو بنی نوع انسان کو آگاہ کرنا تھا کہ اسلام میں کسی سیاسی جماعت کی گنجائش نہیں،وہ تو حلقہ انتخاب میں صرف ایسے شخص یا فرد کومنتخب کر نے کاحکم دیتا ہے جو دین کے حسن خلق،حسن کردار ، حسن عمل ادب انسانیت خدمت انسانیت کی اعلیٰ صفات، ا مانت و دیانت اور عد ل و انصاف،جیسی عمدہ صداقتوں کا مرقع ہو۔وہ اللہ تعالیٰ کے ضابطہ حیات اور دستور حیات کی خود بھی اطاعت کرتا ہو اور مخلوق خدا سے بھی کرواتا ہو، ایسے شورائی جمہوری نظام کے ممبران نبی کریم ﷺکے اسوہ حسنیٰ کے جمیل خصائل کی صفات کی خوشبو سے بنی نوع انسان کے دل ودماغ کو مادی اور روحانی خوشیوں سے معطر اور محظوظ کرنے والا ہو ۔ وہ مخلوق خدا کے دلوں میں اترتے اور انکو تسخیر کر نے کے عمل کا عامل ہو ۔
۱۷۔ دین محمدیﷺ کسی سیاسی جماعت یا نمائندہ کو حلقہ انتخاب میں ازخود کھڑا ہونے کا تصور نہیں دیتا۔یہ حلقہ کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ حلقہ انتخاب میں خیر کے داعی اور حکومتی ذمہ داری ادا کرنے کی اہلیت کے وارث کا انتخاب کریں اس طرح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کواس دنیا میںقائم کیا جاتاہے۔
۱۸۔ اسکے بر عکس کرسچن جمہوریت کے نظریات اور ضابطہ حیات کے مطابق سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور پیش کرتی ہیں اور الیکشن کیلئے اپنے نمائندے کھڑے کرتی ہیں،الیکشن میں کئی سیاسی جماعتیں حصہ لیتی ہیں ،قوم یا ملت سیاست کی جماعتو ں کے کئی منشوروں میں تقسیم یا مذہب کی طرح کئی فرقوں میں منقسم ہو جاتی ہے، کرسچن جمہوریت وحدت ملت اور جمعیت ملت کا تصور ختم کرتی ہے۔
۱۹۔ تمام جماعتوں کے امیداروں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا نمائندہ اپنے حلقہ انتخاب میں منتخب ہو کرصوبائی یا قومی اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے، غور سے سن لو! وہ ہر گز اپنے حلقہ کا حقیقی نمائندہ نہیں کہلا سکتا، فرض کرو ایک حلقہ انتخاب میں ایک لاکھ ووٹ ہے ، دس مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے الیکشن کیلئے کھڑے ہیں ،ایک نمائندہ بارہ ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہو جاتا ہے ،جبکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں کے امید واروں کا ووٹ بنک اس کے حاصل کردہ ووٹوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔وہ کیسے اس حلقہ کا نمائندہ کہلا سکتا ہے۔ اسطرح اینٹی کرسچن جمہوریت کے الیکشنوں کے ذریعہ ایک معاشی اور معاشرتی آمر اور دہشت گرد تیار ہوتا ہے ۔اسکو ایک لاکھ ووٹر کا نمائندہ نہیں کہ سکتے۔
۱۹۔ کرسچن جمہوریت ملک کے سازشی ٹولہ کے چند جاگیرداروںسرمایہ داروں آمروں کے محلوںکی پیداوار ہے۔ جو مسلم امہ کے سولہ کروڑ افراد سے قرآ ن پاک کے نظریات،اسکی تعلیمات، اسکے سادہ و سلیس اور عتدال و مساوات کی زندگی کے اصول،اسکی امانت و دیا نت اور افکار و کردار کے ضابطے،اسکے حسن خلق اور اخلاق حمیدہ کی تعلیم و تربیت کے ادارے، اس کے عفو و در گذر اور محبت و شفقت کے آداب، اسکا
شرم و حیا اور چادر و چار دیوار ی کا نظام حیات،اسکے اخوت و محبت کے سلیقے،اسکے بنی نوع انسان کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہونے کا علم و عمل،اسکے ادب انسانیت اور خدمت انسانیت کو تیار کرنے والے دینی ادارے، اسکاعدل و انصاف کو قائم کرنے والا نظام حکومت۔حضور نبی کریمﷺ کی اعلیٰ صفات،عمدہ صداقتوں کا نور جوحرص و ہوس کی آگ کو بجھاتا،دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتا،خوف خدا کا لباس عطا کرتا ، معاشی معاشرتی زندگی کے عدل کے آداب سکھاتا،حاکم وقت اور عام آدمی کی زندگی کا تضاد ختم کرتا،دین محمدیﷺ کی روشنیوں کو پھیلا نے والے دینی نور کو، ان دینی دنیاوی جمہوریت کے چند غاصبوں نے پاکستان کے سولہ کروڑ امت محمدی ﷺ کے فرزندان سے چھین رکھا ہے۔
۲۰۔ نوے سالوں کی انگریزوں کی غلامی اور ساٹھ سالوں سے انکے پروردہ جاگیردار اور سرمایہ دار آمروں کے اینٹی کرسچن جمہوریت کے طرز حکومت کی سرکاری بالا دستی،اس کے نظریات،اسکے ضابطہ حیات،اسکا مخلوط طبقاتی تعلیمی نظا م، اسکے مخلوط تعلیمی طبقاتی ادارے،اسکا مخلوط حکومتی نظام،اسکا مخلوط معاشرتی طرزحیات،اسکا چادرچار دیواری کے خاتمے کا قانون، جس کے ذریعہ آمر حکمرانوں نے پردہ کی دیوار کو توڑ کر مغرب کی طرح فحاشی،بے حیائی،بدکاری اور زنا کاری کو عام کرنے اور ازدواجی زندگی کی طرز حیات کو ختم کرنے کی مسلم امہ کے مرد و زن کے ساتھ ایک گھناؤنی سازش سے ملت کو دو چار کر دیا ہے۔
۲۱۔ کیا ملت اسلامیہ کے مردو زن کو علیحدہ علیحدہ جاب مہیا کئے نہیں جا سکتے،کیا دین کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب تیار اورنافذ نہیں کیا جا سکتا، کیا مستورات کو پرائمری تک بچے بچیوں کی تعلیم ،ہائی کلاسز کالجز اور یونیورسٹیوں تک کے لڑکیوںکے تعلیمی ادارے مستورات نہیں چلا سکیتں،کیا ہسپتالوں میں بچے بچیوں اور مستورات کا علاج معالجہ مستورات ہی نہیں کر سکتیں، انکے علاوہ اسی طرح بہت سے شعبے انکے سپرد کئے نہیں جا سکتے جہاںوہ اپنا اہم رول ادا کر سکتی ہیں۔یہ جان بوجھ کر دین کو ختم کرنے فحاشی ،بیحیائی ،بدکاری اور زناکاری کو عام کرنے کے مخلوط نظام کو مغرب کی طرح پھیلانا چاہتے ہیں۔در اصل یہ مرد و زن سے ازدواجی زندگی کو چھیننا اور مخلوط کلچر پھیلانا چاہتے ہیں ۔ اسکے علاوہ اینٹی کرسچن جمہوریت کے پجاریوں نے پاکستان میں سودی معاشی نظام جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے وہ ملت پران آمر حکمرانوں نے مسلط کر رکھا ہے ۔ اسی طرح اینٹی کرسچن جمہوریت کے تیار کردہ ۱۸۵۷ کے ایکٹ کے تحت انتظامیہ اور عدلیہ کے قوانین و ضوابط جو عدل و انصاف کو کچلتے، ان غاصبوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ،جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہے، ملت اچھی طرح جانتی ہے، کہ ملک میں انتظامیہ اور عدلیہ سے حکومتیں کیا کام لیتی چلی آ رہی ہیںوہ کسی سے چھپا نہیں۔ یہ ملت کے نظریات اور اسکی تعلیمات اور اسکے تعلیمی اداروں کو ختم کئے جا رہی ہیں۔ وہ مسلم امہ کے فرزندان کو سودی معاشیات ،مغربی سیاسیات ، ۱۸۵۷ کے ایک کے مطابق انتظامیہ اور عدلیہ کے پی ایچ ڈی سکالر ،انگریزی زبان اور مغربی تعلیم کی پروردہ انتظامیہ اور عدلیہ، اسی طرح انگریزی زبان اور مغربی قوانین و ضوابط کے نظام کے بار ایٹ لا،انگریزی زبان کی بالادستی،قومی زبان اردو کا خاتمہ انکا مشن بن چکا ہے۔ کیا فرانس، جاپان،جرمنی،ڈنمارک،چین،روس اور بارہ ریاستیںجنہوں نے حال ہی میں آزادی حاصل کی ہے۔کیا انہوں نے انگریزی زبان کیوجہ سے ترقی کی ہے۔دراصل ہمارے ملک کی عدلیہ اور انتظامیہ اور اسکے اعلیٰ عہدیدار اعلیٰ انگلش میڈیم سکولوں اور ٰٓؑؒاعلیٰ ایچی سن کالجوں سے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے وہ اردو زبان سے نا بلد ہوتے ہیں،لہذاان چند شاہی خاندان کے افراد کیلئے ملت پر انگریزی بطور قومی زبان نافذ کےئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ انگریزی زبان اینٹی
کرسچن جمہوریت کی حکومت کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انکو راہ راست سے آگاہی بخشیں۔ انکومعاف فرمائیں اور راہ ہدایت کا مسافر بنائیں۔ آمین۔