To Download PDF click the link below

 

  پیغمبران کے نظریات کی تعلیمات کے چراغ روشن کرو۔ انسانیت کو امن و سکون اور مہر و محبت کا لا متناہی خزانہ میسر ہو گا۔
عنایت اللہ
۱۔ امریکہ اور ان کے حواریوں نے دوسرے ممالک کا امن عامہ تباہ کرنے کے لئے مختلف تنظیمیں اور مختلف ادارے سی ۔ آئی۔اے وغیرہ بنا رکھے ہیں۔ان میں سے ایسے ادارے بھی ہیں جو حکمرانوں ان کے وزیروں ،مشیروں اور سفیروں کو خرید تے چلے آ رہے ہیں۔یہ حکومتوں میں ان کے ورکر وں کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری کو پورا کرتے اور ان کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے فرائض ادا کرتے ہیں ۔اور ان میں سے کچھ ان کی بین الاقوامی تنظیموں کے باقاعدہ رکن نامزد ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک ان ایجنسیوں کی زد میں ہوتے ہیں۔یہ ادارے ان ممالک میں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کرتے رہتے ہیں۔ ا گر کوئی حکمرا ن ان کا کہنا نہ مانے اور ان کی مرضی اور منشا کے مطابق کام نہ کرے۔ تو اس کو حکومت سے فارغ کرنا یا اس کی حکومت کو ختم کرنا ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ ان کو حکومت کا مزا بھی چکھاتے ہیں اور پھر جب چاہتے ہیں ان کو موت سے بھی واصل کروا دیتے ہیں۔ ان کو پھانسی پر لٹکوانا،ان کو بمع عملہ اور جہاز ہی تباہ کروا دینا اور ان کوملک بدر کروا دینا ان کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔پاکستان کو دولت اور اقتدارکے بھوکے ان وحشی اور غدار ایجنٹوں سے ملک کو دو لخت کروا دینا ان کے دائیں بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے ذریعہ اپنی مرضی کی حکومتیں ملکوں میں قائم کرتے ہیں۔ان کو اپنے اشاروں پر چلا تے اور اپنے مقاصد کی تکمیل ان سے کروا تے چلے آرہے ہیں۔جو ان کے مقاصد میں حائل ہو ں ۔ ان کو نیست و نابو د کرنے اور ان کو دنیا ہستی سے مٹادینے کے فرائض ان کی سیکنڈ کمانڈ کے تباہ کن دہشت گرد تنظیمو ں کے ارکان کے سپرد کر دئیے جاتے ہیں۔جو اپنے ٹارگٹ کو پورا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت نہیں کرتے۔ان کی یہ تنظیمیں جس ملک میں چاہتی ہیں۔قتل و غارت کرواتی۔فرقہ واریت کو ہوا دیتی اور دہشت گردی پھیلاتی اور پھر اس ملک کو دہشت گرد قرار دینا ان کی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔اسلامی ممالک کو انہوں نے نشانہ عبرت بنا رکھا ہے۔
۲۔ ان کے یہ ایجنٹ اور دہشت گرد نمائندے ملکی ،قومی ، ملی اور مذہبی کمزوریوں کو نوٹ کرتے ۔ ان کے مطابق یہ اپنے پروکر امو ں کو ترتیب دیتے۔ اس کا لائحہ عمل تیار کرتے جس کے تحت وہ اپنا گوہر مقصد حاصل کر سکیں۔ اور پھر اس کے مطابق کار ر وائی عمل میں لاتے چلے آرہے ہیں۔ پاکستا ن پر ان کی گہری نگاہ ہے۔یہ ملک ان کے لئے نا قابل برداشت ملک ہے۔ اس ملک کے نگہبان اللہ تعالیٰ اور ان کے حبیب حضرت محمد مصطفیﷺ ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ ملک ہر قسم کی بلائے ناگہا نی اور آفات ارض و سماوی سے بچتا چلا آرہا ہے۔برعکس اس کے کہ ہمارے اعلیٰ قسم کے سیاستدان اور حکمران ان بین الاقوامی تنظیموں اور طاقتوں کے رکن اور ایجنٹ کی حثیت اختیار کر تے چلے آرہے ہیں۔یہ بد نصیب طبقہ معاشیات کی بھوک بجھاتا اور اقتدار کی ہوس کی جنگیں لڑتا اور ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا چلا آرہا ہے۔اس کے باوجود ان کا یہ عبرتناک کھیل واصل جہنم ہونے کے قریب آچکا ہے۔ انشا اللہ تعالیٰ اس ملک سے اللہ تعالیٰ نے روحا نی اور الہامی انسانیت کی فلاح کے مر کز کا کام لینا ہے۔
۳۔ اے اہل وطن غور کرو ۔مذہبی تنازعات کو کون ہوا دیتے ہیں۔یہ مذہبی تنظیمیں کیسے معرض وجود میںآتی ہیں۔ ان میں حکومتوں اور بیرونی ایجنسیوں کا کتنا رول ہوتا ہے ۔ یہ حکومتیںاور ایجنسیاں کب کاروائیاںعمل میں لاتی ہیں۔یہ بات کسی سے چھپی نہیں ۔ حکومتیں خود ہی فرقہ پرستی کی پرورش کرتی ہیںاور خود ہی انہیں پروان چڑھاتی ہیں ۔وقت کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ان دینی ،مذہبی جماعتوں کے ورکرو ں اور سربراہوںکو کیسے ایک دوسرے سے نفرت کی آگ سے دوچار کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں کتنی بیرونی ممالک کی دہشت گرد تنظیمیں شیعہ،سنی فساد کو ہوا دینے کیلئے کام کرتی ہیں۔ کونسا عمل بروئے کار لا تی ہیں۔کون کون زبان کا زہریلا زہر اگلتا ہے۔ کتنے بم بلا سٹ کرواتی ہیں۔ کتنے بے گناہ اور معصوم انسانوں کا خون بہایا جاتا ہے۔ دین میں نفاق اور ملت میں نفرت کے کون بیج بوتے ہیں۔ان میں سے مختلف فرقوں کے لوگوں کو کیسے اہم وزارتوں ،مشاورتوں اور سفا ر توں پر تعیناتیاں کن کے اشاروں پر کی جاتی ہیں۔وہ کیسے ایک دوسرے فر قے کے لوگوں کو قتل کرواتے ہیں۔سیاستدان کیسے کیسے حکومت حاصل کرنے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔یہ ملک و ملت کے مقدر کا کیسے فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ بات پوچھنے کی نہیں۔بات یہ ہے کہ اس کا تدارک کون کرے گا۔ یہ کیسے ہوگا۔ اس کار خیر کو صرف صاحب بصیرت دینی قیادت کا ایک قائد ہی سرانجام دے سکتی ہے۔یہ حکومتیں اور وزارتیں حاصل کرنے والے ہجوم لیڈراں اور ہجوم کرگساں کے بس کا روگ نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان بد اعمالیوں سے بچائے اور ہمیں انسانیت کی عزت اور احترام اور خدمت کی توفیق دے۔امین۔
۴۔ کسی ملک یا ملت کی تباہی اور بربادی کا بگل فطرت اس وقت بجاتی ہے۔ جس وقت حکمران اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کو کچل دیں۔ صدر مملکت کے مطابق ملک کی ۹۵ فیصدافسر شاہی کرپٹ ،رشوت خور اور ہر قسم کی بد دیانتی میں ملوث چلی آرہی ہے۔سیاسی لیڈران کی بات مت پوچھو۔ان کے تمام شاہی محل،سرے محل،رائیونڈہاؤسز،ملیں ،فیکٹر یا ں ، کارخانے،کاریں، کوٹھیاں اور شاہانہ خرچ اسی رشوت ، کرپشن اور بد دیانتی کی پیداوار ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت جمہوریت کی سرکاری درسگاہوں یعنی سکول سے لے کر یونیورسٹیوں اور اعلیٰ اکدمیوں میں ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا اسلامی تعلیم و تربیت سے دور کا واسطہ نہیںہوتا۔ ان کے اخلاق و کردار کی تشکیل و تکمیل ملک کا فرعونی نظام اور سسٹم سر انجام دیتا چلا آرہا ہے۔طبقاتی تعلیم سے طبقاتی معاشرہ تیار ہوتا ہے۔ ان اعلیٰ طبقے میں سے کچھ کی اہم پوسٹوں پر تقرریاں بیرونی ممالک کے اشاروں پر ہوتی ہیں۔جمہوریت کی گرفت سے ترقی یافتہ ممالک غیر ترقی یا فتہ ممالک کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں۔ نیک دل اور محب وطن حکمران کن حالات سے دوچار رہتے ہیں۔وہ کس حد تک مجبور اور بے بس ہوچکے ہوئے ہو تے ہیں۔ دیکھو ۔ ملک کن کن المیوں سے گذر رہا ہے۔ملت دین کی دوری کی سزا میں مبتلا ہو چکی ہے۔اس کا صدقہ دینا ہوگا۔دینی قیادت ملک میں قائم کرنی ہوگی۔قائد ملت خانہ خدا میں بیٹھ کر ملک و ملت کے تمام امور کے فیصلے کرنے کا پابند ہو تاہے۔نہ وہ خود کرپشن کرتا ہے اور نہ ہی کسی اہلکار کو ایسا کرنے کی کبھی جرائت ہوتی ہے۔کرپشن اوپر سے چلتی ہے اور نیچے تک اس کی مارکیٹ تیز ہوتی جاتی ہے۔جمہوریت کا تمام سٹریکچر رشوت،سفارش، کرپشن اور عوام کی دولت کے بیجا تصرف اور عیاشی کے گرد گھومتا چلا آرہاہے۔اگر جمہوریت کا ا قتدار بیوفائی، دھوکہ ، دغا، فریب،جماعتوں سے غداری کرکے ہوس اقتدار کی آگ بجھا نے کیلئے نئی غداروں کی سیاسی جماعتیں تیار کرکے حکومتیں حاصل کرتی جائیں تو ان کی سرکاری افسر شاہی،منصف شاہی کی افواج کا کیا حال ہوگا۔وہ بھی اسی طریقہ کار کو عمل میں لائے گی۔اس دور کا قیمتی سکہ بیوفائی، دھوکہ،فریب،محسنوںسے غداری پر مشتمل ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں نے اس وقت رائج کر رکھا ہے ۔ جس کی جڑیں دنیا کے تمام ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔
۵۔ ا فغانستان اور عراق دو مسلم ممالک ہیں۔یہ دونوں ممالک ایک طویل عر صہ تک امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے اشاروں پر ناچتے رہے۔افغانستان اور روس کا آمنا سامنا انہوں نے کروا یا۔افغانستان نے روس کی یلغار کو روکا۔ اور اس کے اس جنگ میں چار پانچ لاکھ افغانی باشندے شہید ہوئے۔ان کے شہر اور بستیاں ویر انوں میںبدل گئیں ۔ طالبان کی حکومت قائم ہوئی جو امریکنوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔کیونکہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔انہوں نے ملک میں اسلامی شور ا ئی نظام قائم کیا جو جمہوریت کے متضاد ضابطہ حیات اور نظریات پر مشتمل تھا۔ امر یکہ کے حکمرانوں کو اسلامی نظریات پر مشتمل حکومت برداشت نہ تھی۔اسامہ بن لادن کا بہانہ تراشا اور وجہ حملہ بنا لیا۔اس کے خلاف الزامات تھے کہ وہ ایک عالمی دہشت گرد ہے۔اور اس کی تنظیم القائدہ نے امریکی ٹاوروں کو تباہ کیا ہے۔بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی جواز کے امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی دہشت گرد افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے از خود جدید اسلحہ ، ڈیز ی کٹر بموں، تباہ کن میزائلوں، گیس بموں،کیمیائی بموں،جراثیمی بموں، نائٹر و جن بموں اور طرح طرح کے انسا نیت کو تباہ کرنے والے بموں کے حملے جاری کردئیے ۔ درسگاہوں، سکولوں، مسجدوں ،عبادت گاہوں، ہسپتالو ںاور خوراک کے ذخیروں کو نشانہ بنایا۔معصوم بے گناہ اور بے ضرر مخلوق خدا ، جانو روں ، حیوانو ں اور انسانوں کو لقمہ اجل بنایا۔کمزور ملک کے سادہ لوح اور امن پسند باشندوں کو تباہ کن اسلحہ کی طاقت سے دبوچ لیا۔ افغانستان کی لڑائی ان بین الاقوامی دہشت گردوں نے جیت لی ۔ افغانستان کے اندر ان کی افواج داخل ہوگئیں اور افغانی قوم کے ساتھ جنگ کا آغاز کر لیا۔دنیا میں ان کی فتح رسوائی اور تباہی کا ٹیکہ بن کر ابھر رہی ہے۔ اب ہر روز ان کی فوج کے سپاہیوں اور افسروں کی لاشیں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں۔آسمانوں کی بلندیوں سے بم گرانا اور دور دراز سے میزائلوں سے تباہی پھیلانا،معصوم بچوں،مستورات اور مردوزن کا قتال اور زخموں سے نڈھال کرنا تو آسان کام ہے ۔ زمینی جنگ لڑنا بے مقصد لڑائی لڑنے والی افواج کے بس کا کام نہیں ۔امریکی حکمرا ن اس جنگ میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ دنیا کا امن تباہ کرنے کے پورے ذمہ دار ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ان ممالک کے عوام نے خود کش حملہ آوروں کی افواج تیار کر لی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں بسنے والے عوام کیلئے بین الاقوامی سطح پر ایک مستقل خود کش حملوں کا خطرہ اور خوف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دن بدن ان مجاہدین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔چھوٹے اور مؤثر قسم کے ہتھیار ان کیلئے حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ اسرائیل،افغانستان اور عراق میں ان حق پرستوں سے زمینی جنگ لڑنا دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکاہے۔ امریکی اور مغربی اتحادی مما لک کے عوام الناس کا اس بے مقصد قتل و غارت ، جبرو تشدد اور ظلم وبربر یت کے ساتھ کوئی دور کا تعلق نہ تھا اور نہ ہے۔ بلکہ امریکہ،مغربی مما لک اور دنیا بھر کے بیشترعوام ان ظالم حکمرانوں کے اس ظالمانہ قتل و غارت کے عمل کے خلاف سراپا احتجاج بنے چلے آرہے ہیں۔ دوسری طرف خود کش حملہ آوروں کے لئے بھی مناسب نہیں کہ وہ بھی معصوم اور بے گناہ عوام کا قتل عام کرتے پھریں۔وہ بھی پھر ان کا جو ان کے دکھوں میں برابر کے شریک ہوں اور ان کے لےئے حکمرانوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے کھڑے ہوں۔ان کو ایک دوسرے ممالک کی عوام کی بجائے، ان ظالموںکو ڈھونڈ نکالنا،ان کا احتساب کرنا اور ان کو نشانہ عبرت بنانا چاہئے۔جو اس کھیل کے خالق اور اصل کھلاڑی ہیں۔
۶۔ اسی طرح عراق کے حکمرا ن صدام حسین کے ساتھ امریکی سیاستد انو ں اور حکمرانوں کے تعلق بہت اچھے تھے۔ وہ اس کی پوری طرح پشت پناہی کرتے تھے اور کرتے رہے ۔ عراق کو امریکنوں نے جدید اسلحہ سے لیس کیا۔ صدام حسین سے مل کر ایران کے خلاف ایک جنگی منصوبہ بندی تیار کی۔وہ دونوں ممالک کی فوجی طاقت اور معاشی طاقت ختم کرنا چاہتے تھے۔تا کہ وہ اسرائیل کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہ ر ہ سکیں۔ عراق اور ایران کی جنگ کا آغاز کرو ا یا ۔ امریکہ ایران کوبرداشت نہ کرتا تھا۔کیونکہ ایران بھی ایک مذہبی ریاست تھی اور اسلام کے نفاذ کی حامی تھی۔ اور انقلاب ایران نے امریکا کو پریشان کر دیا تھا۔ اس کی وجہ عناد بھی ایران کا اسلامی کلچر اور نظریات کا نفاذہی تھا۔ ایرانی امریکہ کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ایرا ن دنیا میں ایک طاقت بن کر ابھر رہا تھا۔ ایران اور عراق دونوں ممالک اسرائیل کے لئے خطرہ کا باعث تھے۔ جس کیلئے امریکہ اور یہودی ہر قیمت پر عراق اور ایران کو سبق سکھانا چاہتے تھے۔ ان کی طاقت ویران اور ختم کرنا چاہتے تھے۔
وہ ایران میں اسلامی نظریات کی بجائے جمہوریت کے نظام اور نظر یات کاایرا ن میں نفاذ دیکھنا چاہتا تھا۔ جس اسلامی ملک میں دینی نظریات کی بجائے جمہوریت کے نظریات کی بالا دستی سرکاری طور پر رائج کردی جائے ۔ تو اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ اس ملک میں دین کے نظریات مساجد کے پنجروں میں مقید اور پابند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس طرح عملی طور پر ملت کے اجتما عی دینی کردار کو مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ مسلم امہ کی نسلیںخود بخود دین سے دوری اور جمہوریت کے فرعونی نظریات کی سرکاری طبقا تی تعلیم و تربیت سے فرعونی افسر شاہی ،فرعونی منصف شاہی اور فرعونی نوکر شاہی میں ڈھلتی چلی جاتی ہے۔ جو تہذیب اور تشخص جمہور یت کی آغوش میں تیار ہوتا ہے اس کا دین کیساتھ دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ جمہور یت کے نظریات کی تعلیم و تربیت اور تعلیمی نصاب سے ملک میںپھیلے ہوئے سرکا ری سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں دینی نظریات اور کردار کو نگلتی جا تی ہیں۔ اس طرح بڑی ہنرمندی سے مسلم امہ کو بے دینی ،کفر اور منافقت کے کینسر مں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے عراق کو تعاون دے کر ایران کی بہترین افواج کوامریکہ کے مہیا کردہ تباہ کن اسلحہ کے ذریعہ بری طرح کچل دیا ۔ ان مغر بی اسلحہ ساز ممالک نے دونوں ممالک کو خوب اسلحہ فروخت کیا۔ان کی دولت بھی لوٹ لی۔ان کی افواج کو بھی مفلوج اور ختم کروا دیا۔صدام حسین کو ایکبا ر پھر امر یکنوں نے اعتماد میں لیا اور اس سے کویت پر حملہ کروا دیا۔اس دفعہ بڑی ہنر مندی سے امریکہ نے عراق کو چھوڑ کر عربوں کا ساتھ دیا۔ وہ ان کی حفاظت کا خود ذمہ دار بن گیا تھا۔ جتنا پرانا اور ناکارہ اسلحہ تھا اس کو عراق کے خلاف استعمال کیا۔ عربو ں کے بنک اس کے عوض خالی کروا لئے۔ اپنے تما م ادھار اتار لئے بلکہ ان کو اپنا مقروض بنا لیا۔ ایک رہزن کی طرح ان کے خزانے لو ٹ لئے۔ ان کے تحفظ کی خاطر اپنی افوا ج ان کے ممالک میں داخل کر لیں۔جو آج تک قابض ہوئی بیٹھی ہیں ۔ اس طر یقہ سے عراق کو امریکنوں اور ان کے اتحادیوں نے مختلف جنگوں کے جال میں پھنسا کر اس کو یو این او کے ذریعہ با ضابطہ طور پر حملہ آور تسلیم کروا لیا۔اس کی ناکہ بندی کر لی گئی۔عراق کے لوگوں کو ان کے ناکردہ جرم کی سزا میں مبتلا کر د یا گیا۔ ان کو معاشی اور معاشرتی طور پر مکمل تباہ کردیا گیا۔
اس قسم کے رو ح سوز،ضمیر کش، دھوکہ،فریب اور دغا بازی کے ظلمات کے عمل کو جمہوریت کی سیا ست کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ خدا را معصوم اور بے گناہ مخلوق خدا اور انسا نیت پر رحم کھاؤ۔ مذہب اور پیغمبران کی نوری نظریاتی روشنی اور روح القدس اور حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے چراغ روشن کرو۔ مغرب و مشرق کے انسا نو ں ، قوموں، ملتو ں کے دلو ں کو نفرتوں اور منافقتوں کا مرکز نہ بناؤ۔ ان کو انسانی رشتہ کے تقدس سے آشنا کرنا سکھاؤ۔ محبت کا آسمانی تحفہ مخلوق خدا میں تقسیم کرو۔ ادبِانسانیت اور خدمتِ انسانیت کے پاکیزہ فریضہ کوشوق سے ادا کرو۔اس کائنات کیلئے خیر کے داعی بن جاؤ۔یہ نورانی شمع پیغمبران کی تعلیمات کے نور سے روشن کرو۔ جہالت کے اندھیرے روشنیوں میںبدل جا ئیں گے۔ خدا وند قدوس ہمیں اپنے اپنے ممالک میں مذا ہب کی بالا دستی دنیا میں قائم کرنے کی توفیق عطا فرماو یں ۔ آمین۔ثم آمین۔
۷۔ اس وقت دنیا کا ہر ملک جمہوریت کے ان امریکی اور ان کے اتحادی سیاستدانوں کے ظلمات کے علوم اور اعمال کی گرفت میں مقید ہے۔ اور پوری گلوبل لائف ان کی مہلک اسلحہٍٍٍٍٍ ساز ی اور قتل و غارت کی رینج اور کنٹرول میں ہے۔ دنیا میں امریکی اور اس کے اتحادی دوستی کے روپ میں تعلق کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ سب سے پہلے اس ملک کی بنیادی ضروریات اور ان کی مالی امداد کرنے کا عمل جاری کر تے ہیں۔ مالی امداد مہیا کرنے سے قبل اس ملک میں ان کی ضروریات کا تخمینہ لگا نے کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ پھر تجارت کے دروازے کھولتے ہیں۔بس اتنا موقع ملنے پر ان کی تمام دہشت گرد تنظیمیں اس ملک میں ان کے ساتھ ہی دا خل ہو جاتی ہیں ۔ پھر مرحلہ وار اس ملک کی سیاست اور اس کی کمزوریوں کو پر کھتے اور اپنے پاؤں پھیلاتے اور جماتے چلے جاتے ہیں۔پھر ان کی یہ تنظیمیں اس ملک میں قتل و غارت اور دہشت گردی سے جو حشر اس ملک کا کرتی ہیں۔ وہ کسی سے چھپا نہیں رہتا۔ جس کے یہ دوست بن جاتے ہیں ان کو دشمنوں کی ضرورت نہیں رہتی ۔عربوں کا حشر دیکھ لو اسرائیل کا وجود ان کے دل میںزخم بنا کر رکھ دیا۔افغانستان کی مدد کی اور ان سے روس کے ٹکرے کروائے۔ان کی لاکھوں جانیں اور ان کی بستیاں تباہ اور نیست و نابود ہو گئیں ۔ اس کے بعد افغانستان پر ازخود اپنے اتحادیوں کے سا تھ مل کر دنیا کے جدید ترین اسلحہ سے حملہ کیا۔ اور باقی ماندہ افغانستان کو تبا ہ و برباد کر دیا اور اس پر قبضہ کر بیٹھا۔اس اسلامی ملک میں بھی اسلام کے منافی جمہوریت کے نظریات پر مشتمل حکومت قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ یہی حشر عراق کا کیا۔ عراق پر جدید اسلحہ تیار کرنے کے الزامات لگائے۔ اس ملک کو بلیک لسٹ کر دیا اور بین الاقوامی سطح پر پابندیاں عائید کر دیں۔ کئی بار انسپیکشن ٹیموں پر مشتمل اسلحہ انسپکٹر کو عراق کی فیکٹریوں کو چیک کرنے کیلئے بھیجا۔ لیکن کوئی ثبوت نہ ملا۔ دوسری طرف کویت اور دوسرے عرب ممالک میں ان کی امداد کی غرض سے ان کے ممالک میں اپنی افواج اتار کر ان پر بغیر جنگ کے قبضہ کر لیا۔ اپنی افواج کے اخراجات اور اس کے علاوہ ہر قسم کے اخراجات افواج کے نقل و حرکت اوربھاری تنخواہیں ان سے لیتا چلا آرہا ہے۔ان کی تیل ، معدنیات اور وسائل کی تمام کمائی ان سے چھینتا چلا آرہا ہے۔
۸۔ مغربی ممالک اس دور کے جدید تہذیب کے جدیدترین سیاسی فرعونی طرز کے معاشی اور معاشرتی بین ا لاقوامی دہشت گرد ہیں۔جو غیر ترقی یافتہ ممالک کی امداد کیلئے فنڈ مہیا کرتے ہیں۔ اپنے معاشی سکالر،اپنے معاشرتی دانشور ان ممالک میں داخل کرتے ہیں۔وہ ایسے ممالک کے تمام بجٹ پر نظر ڈالتے ہی اس کی ساری معیشت کی پوزیشن اور روز مرہ کی یو ٹیلٹی کا تخمینہ حاصل کر لیتے ہیں۔پھر آہستہ آہستہ اس ملک کا تمام معاشی اور معاشرتی نظم و نسق اپنے کنٹرول میں لیتے جاتے ہیں۔ وہ اس ملک کی ڈیمانڈ اور سپلائی پر کڑی نظر رکھتے ہیںاور ہر قسم کی تجارت کے دروازے ان پر کھل جاتے ہیں۔ کسی بھی وقت بحران پیدا کرنے کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ جو فنڈ یہ مہیا کرتے ہیں ان کا بیشتر حصہ اکثر ان کے مشیروں کی تنخواہوں اور سہولتوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ پھرٓآہستہ آہستہ اس ملک کی سیاست میں عمل دخل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ متعلقہ چیدہ چیدہ سرکاری اہم سیاسی لیڈرا ن صدور ، وزیر اعظموں کی حکومتوں کو بدلنا اور اپنی پسند کی حکومتیں قائم کرنا ان کی روز مرہ زندگی کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ اس کے بعد گورنروں، وزیروں،مشیروں،، انتظامیہ ، عدلیہ اور افوا ج کے اعلیٰ عہدے دارو ں کا کنٹرول خود بخود ان کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے۔ جب تک کوئی حکمران ان کی مرضی کے مطابق چلتا رہتا ہے ۔اس وقت تک اس کا ساتھ د یتے ہیں۔ تخت یا تختہ کی تلوار ہر وقت ان کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔ جیسا کہ افغا نستا ن اور عراق کی حکومتوں اور سربراہوں کو اسلحہ کی نوک پر تبدیل کرکے ان ممالک پر اپنے ایجنٹوں کو بٹھا دیاگیا ہے۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے تک لا کھوں انسانی جانوں کا قتال کیا گیا۔لاکھوں کے اعضا فضا میں بکھیرتے رہے۔ او ر اذیتنا ک زخمو ں سے چور ہوتے رہے۔ خوبصورت بستیاں نیپام بموں، ڈیز ی کٹر بمو ں اور تباہ کن میزائلوں سے خاکستر اور ویران ہوتی رہیں۔ فضائی طاقت کی برتری کی بنا پر یہ دونوں لڑائیاں جیت گئے۔ دونوں ممالک پر قبضہ کرلیا۔ پھر جمہوریت کے فرعونی نظام حکومت کے شکنجے میں عوام کو مقید کرنے میں کوشاںہیں ۔ ان دونو ں ممالک کے عوام کا مذہب اسلام ہے۔ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے ۔ جس کی سرکاری بالا دستی سے وہاں کی عوام کے نظریات خود کار طریقہ کار کے مطابق نام محمد دین باقی بچ جاتا ہے۔لیکن نظریا تی اور عملی طور پرعوام مغربی دانشورو ں کے 1857 ء کے ایکٹ کے عدل کش نظریات کی انتظامیہ اور عدلیہ کے رشوت ، کمیشن، کرپشن اور بے حیائی کے ضابطوں میں مقید ہوتے جاتے ہیں۔ سود کے لعنتی معاشی نظام کا عمل ملک میں جاری ہو جاتا ہے۔ ٹیکس کلچر کے ذریعہ عوام الناس سے انکی روز مرہ زندگی کی بنیادی ضروریات چھین لیتے ہیں۔ وہ ملک اور عوام قرضوں میں غرق ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ طبقاتی تعلیم اورطبقاتی معاشرہ جنم لینے کا عمل بھی جاری ہو جاتا ہے۔اسلامی نظریات کو عملی طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔ جمہور یت کے نظریات کی بالا دستی سے مسلم امہ پر ایک عظیم سانحہ اور بد ترین فتنہ مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ جوانسانی حقوق کے اعتدال ومساوات اور مسلم امہ کے نظریات کیلئے زہر قاتل ہے ۔ انسانیت کو طبقات کے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔مسلم امہ کی وحدت کو توڑ کر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر د یا جا تا ہے۔مادیت اور اقتدار کی بھو ک کی آگ درند گی کی حد تک بڑھاتا جاتاہے۔ انسان درندہ بن کر معاشی اور معاشر تی قتال کا عمل جاری کرلیتا ہے۔
جمہو ر یت کی تعلیم وتربیت فساد فی لارض کی بنیا د ہے ۔جو مسلم امہ کی وحدت کو سیاسی جما عتوں میں بکھیر دیتی ہے۔ دلوں اور ذہنوں میں نفرت اور منا فقت کا بیج بوتی ہے۔ حکمران اور انکی افسر شا ہی ،منصف شاہی اور نوکر شاہی کے دانشور رشوت، کمیشن، کرپشن اور بے حیائی کی آبیاری کرتے ہیں۔ جھوٹے کیسوں میں لوگ ملوث کئے جاتے ہیں۔ عدالت میں سچ بولنے کی سزا مقدمہ خارج کروا نے کے مترادف ہوتا ہے۔اس ظالم، غا صب نظام حکومت کا عوام کے پاس کوئی تدا رک نہیں رہتا، سوائے دینی نظام اور دینی قیادت کے۔ وہ یہ فرعونی اور یزیدی
غاصب حکمر ا ن اور ان کی انتظامیہ اور عدلیہ کی قوتیں ان غلام ممالک میں نافذ ہونے نہیں د یتیں ۔ ان سے نجات پانے کا واحد ذریعہ ایک دیدہ ور قائد اور دینی قیادت، وقت کی اہم ترین ضرو ر ت ہے ۔اس انقلاب کو روکنا ان کے بس میں نہیں۔ملاں اور مشائخ جمہوریت کے ہمنوا اور دین کے دشمن بن چکے ہیں۔دین کا تحفظ حاصل کرنے کی بجائے،دین کو تحفظ دینے کیلئے حکومتوں میں غرق ہوتے جا رہے ہیں۔کتنے بد نصیب یہ دینی درندے ہیں ۔جو دین کی اقدار کو حکومتی سطح پر روندنے اور مسخ کرنے کے برابر کے مجرم اور گناہگار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو راہ ہدایت نصیب کرے آمین۔
۹۔ واقع کربلا کیوں پیش آیا۔اس کے سیاق و اسباق کیا تھے۔اس کی کیا وجوحات تھیں ۔ اس کے اسباب کیا تھے۔جن کی خاطرنواسۂ رسولﷺ حضرت امام حسینؓ نے اپنے پورے خانوادے اور اپنے پورے عزیز و اقارب،ان کے علاوہ اپنے مقبول و محبوب پیروکاروںجن میں مستورات،بچے،نوجوان اور بوڑھے شامل تھے۔جنہوں نے جام شہادت نوش کرنے سے پہلے بڑے دکھ،بڑے صدمات اور بڑی اذیتیں برداشت کیں۔ایک ایک کرکے 72 تن جام شہادت بڑی ہمت و جرائت سے پیتے گئے۔بچے ،بوڑھے پیاس سے تڑپتے اور بھوک سے بلکتے رہے۔اپنے عزیز و اقارب کو ایک ایک کرکے جام شہادت نوش کرنے کا المیہ اور صدمہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے اوربڑے دکھ اور صبر کیساتھ بردا شت کر تے رہے۔ لیکن کوئی اذیت بھی ان کی استقامت کے راستہ میں حائل نہ ہوسکی۔ انہو ں نے خدا اور رسولﷺکی خوشنودی اور دین محمدیﷺ کے نفاذ کی خاطر ایک ایسی عظیم قربانی اور شہادت کی مثال قائم کی۔جو انسانی تاریخ میں روز روشن کی طرح چمکتی اور روشنی پھیلاتی نظر آتی ہے۔ جو صداقت کے کارواں کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ کون لوگ ہیں جو ذکر اذکار ان طیب ہستیوں کی شہادتوں کا مساجد اور امام بار گاہوں میں کرتے رہتے ہیں اور عملی زندگی یزید اور اس کے جمہوریت کے اصول و ضوابط کی گذارتے چلے جا رہے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ زندگی یزید کی گذاریں اور عاقبت عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی وصول کریں ۔خدا را اپنے اعمال پر ذرا غور کر لو۔ اہل دل،اہل درد اور اہل بصیرت علما کرام،مشائخ کرام اور ان طیب ہستیوںکے پرستاروں سے ملتجی ہوں کہ وہ حقائق کو سمجھیں،پرکھیں اور منزل کا تعین حقائق کی روشنی میں متعین کریں۔تاکہ مسلم امہ اور تمام انسانیت کی رہنمائی ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ کے مشن کی تکمیل کی توفیق عطا فرماویں۔امین ۔
َِ ۱۰۔ ویسے تو راہ حق کے مسافروں نے ہر دور میں حق کی بالاد ستی کیلئے قربانیاں پیش کیں۔دنیا میں سب سے پہلے جناب ہابیل نے سچائی اور راستگی کی خاطراپنی جان کی قربانی پیش کی۔حضرت نوح علیہ السلام نے حق و صداقت کی خاطر اپنے بیوی بیٹے اور ظا لم اور بے رحم لوگوں کے بے پناہ ظلم اور اذیتیں ایک طویل عرصہ تک برداشت کئے۔حضرت ایوب علیہ السلام ایک کڑی اور اذیتناک آزمائش میں سے گذرے۔ حضرت شعیب علیہ السلام بھی اپنی قوم کی سختیاںجھیلتے رہے۔ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر قائم رہنے کی بنا پرتند تیز آگ کے شعلوں میں پھینکا گیا۔اس کے بعد ان کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون اور ہامان جیسے ظالم اور بے رحم قاتلوں سے واسطہ پڑا رہا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی روح القدس طیب ہستی کو قوم فرعون و یہود کے بد ترین روح سوز نقادوں کے طعنوں کا نشانہ بننا پڑا۔ یہودی قوم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کے خدائی عمل کا بڑی
بری طرح تمسخر اڑاتے اور ان کا جینا حرام کر دیتے۔ اس کے بعد خاتم الانبیا حضرت محمد الرسول اللہﷺ کو ایسی قوم سے واسطہ پڑا جو ظلم و تشدد اور اذیتناک مصائب و آلام سے ان کو گذارتے رہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں مر دان حق ، باطل کی یلغار کا سامنا کرتے رہے۔ دکھ، درد ، مصیبتیں اور اذیتیں ان کا مقدر بنتی گئیں مگر وہ بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے اور جانیں نچھاور کرکے ما لک حقیقی کی وحدا نیت کا پرچم بلند کرتے رہے۔یا اللہ ان کی امتوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرما ۔امین۔
۱۱۔ ان حق پرستوں کی صف میںعالی مقام جناب حضرت سیدنا امام حسینؓ کا اسم مبارک ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے نہ صر ف حقوق العباد کی رہنما ئی اورحفاظت فرمائی بلکہ حقوق اللہ کی مرجھائی ہوئی کھیتی کو اپنے خون جگر سے سینچا۔ امام حسینؓ نے دین اسلام کو پنپتے اور ارتقا کی منازل طے کرتے اپنی آنکھو ں سے دیکھا۔خلافت راشدہ کے تمام ادوار کے جملہ واقعات ان کی موجودگی اور نظروں کے سامنے گذرے۔وہ ان تمام سیاق و اسباق اور محرکات کا بغور جائزہ لیتے رہے ۔ یزید کا دین کش اور ملوکیتی کردار ان کے سامنے تھا۔ انہوں نے ان تمام حالات و واقعات کو بصیرت کی کسوٹی پر پرکھا اور سمجھا۔آپ نے دیکھا کہ اسلامی خلافت، ملوکیت میں بدلی جا رہی ہے۔اسلام کی جمہوری روح اور شورائی نظام کو مسخ کیا جا رہا ہے۔اسلامی نظام خلافت کا ملو کیت میں تبدیل کرنا کوئی معمولی سانحہ نہ تھا۔یہ ایک عظیم فتنہ تھا جس کا بیج امت محمدیﷺ میں بویا جا رہا تھا۔۔اس فتنہ کا سدباب یا ختم کرنا وقت کا اہم تقاضا تھا ۔ اس دینی مشن کے تدارک کیلئے وا قعہ کربلا پیش آیا۔حضرت امام حسینؓ نے ایک عظیم مقصد کی خاطر اپنا اور اپنے قرا بت داروں اور اپنی محبوب و مقبول عزیز و اقا رب اور پاکیزہ ہستیوں اور اپنے پیاروں کی ۷۲ قیمتی جانوں کی قربانی پیش کی ۔اپنا خون بہایا۔حق پرستی اور دینی اصولوں کی خاطر انسا نیت کو ایک نیا انمول درس دیا۔ یہ جنگ دینی نظریات کی حدود کے تحفظ کی خاطر لڑی گئی ۔ یہ جنگ دستور مقدس کے نظام اور سسٹم کو توڑنے والوں کے خلاف لڑی گئی۔ یہ جنگ اسلامی ضابطہ حیات اور نظریات کو توڑنے والوں کے ساتھ لڑی گئی۔یہ حق و باطل کا معر کہ خیر اور شر کے وارثوں کے درمیان لڑا گیا۔یہ نور اور ظلمات کی جنگ تھی۔ یہ سانحہ ،یہ المیہ،یہ قتال،یہ جنگ ایک ہی امت ایک ہی نبی ،ایک ہی رسو لﷺ اور ایک ہی دین کے ماننے والوں کے درمیان رو نما ہوا۔ یہ جنگ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے والوںاور ان کے توڑنے والوں کے درمیان لڑی گئی۔یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔ اس شہادت کے واقعہ سے لے کر آج تک اس المیہ پر جتنا ماتم کیا گیا۔جتنے آنسو بہائے گئے،جتنا اس دردناک واقعہ کو بیان کرنے کیلئے کلا م لکھا گیا۔جتنا کچھ بیان کیا گیا۔ جتنا ان کے ایصال ثواب کے لئے کلام پاک اور درود پاک پڑھا گیا۔جتنے ختم شریف دلوائے گئے۔ جتنی سبیلیں لگائی گئیں، جتنا اس ماہ محرم کا ا حترام کیا گیا، جتنا شہاد ت حسینؓ کا تذکرہ جاری ساری ہے ۔ دنیا میں اس کی مثال ملنا ممکن ہی نہیں۔
۱۲۔ لیکن اس عظیم سانحہ کربلا کے اندر جو دعوت،جو فکر،جو نظریہ، جو نصاب، جو راستہ دین کی حفاظت کے لئے متعین کیا گیا تھا۔وہ چودہ سو سال گذرنے کے باوجود تشنہ لب، شا م غریباں کی طرح بے بسی کی عبرتنا ک شکل اختیار کئے آج بھی مسلم امہ کے سامنے سراپا سوال بنے کھڑا ہے۔ اور پکار پکار کر کہ رہا ہے۔ہے کوئی یزیدی ملوکیتی نظام کو للکارنے والا۔ہے کوئی دینی نظریات کی بالادستی قائم کرنے والا۔ہے کوئی مسلم امہ کوان کی چھینی ہوئی وراثت کو واپس دلانے والا۔ہے کوئی دستور مقدس کو پاکستان میں بحال کرنے والا۔ہے کوئی کربلا والوں
کے نقش پا کو ڈھونڈنے والا۔ ہے کوئی حقیقی طلب کا طلبگار۔ہے کوئی اس مشن کو لبیک کہنے والا۔ہے کوئی ان کے نقش قدم پر چلنے والا۔ہے کوئی ملوکیت، فرعونیت اور یزیدیت کے فتنہ کو ختم کرنے والا۔ہے کوئی نفاق اور نفرت کی آگ کو بجھانے والا۔ہے کوئی انسانیت کے دلو ں میںاخوت و محبت کے چراغ جلانے والا۔ہے کوئی حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی امت کو فرعون اور ہاما ن کی تعلیمات سے نجات دلانے والا۔ہے کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو خد مت خلق کا درس یاد کروانے والا، ہے کوئی اخلاقی،روحانی اور جسمانی اذیتوں میں مبتلا انسانیت کو نجات دلانے والا،ہے کوئی بیمار انسانیت کو شفا کی توفیق واپس دلوانے والا۔ہے کوئی منافقوں ، فرعونوں اور یزیدوں سے مذاہب کو نجات دلوانے والا ۔ ہے کوئی انسا نوں کے بنائے ہوئے جمہوریت کے باطل، ظالم، غاصب ضابطہ حیات کو مٹانے والا۔ ہے کوئی جمہو ر یت کے نظریات کی پیغمبران کے نظریات پر بالا دستی کو ختم کرکے مذا ہب کے نظریات کی سرفراز ی واپس دلوانے والا۔ہے کوئی حضرت موسیٰ کلیم اللہ،حضرت عیسیٰ روح اللہ اورحضرت محمد الرسول للہ ﷺکے نظریات ،ان کا تعلیمی نصاب ، ان کی روحانی تعلیمات، ان کے اخوت و محبت کے درس،ان کے عدل و انصاف کے ضا بطے ، ان کے اعتدال و مسا وات کے اصول،ان کے شفقت و ادب کے راستے،ان کے عفو و در گذر کے حو صلے،ان کے اسوہ ء حسنہ کی خیرات کی آ سما نی ،روحانی اور دینی قوتوں کو پھر سے بحال کرنے اور بروئے کار لانے والا۔یا اللہ تو رحم فرما۔تو توفیق عطا فرما۔تو انسانیت پر اپنا فضل فرما۔یا اللہ تو انسانیت کو صالح دینی قیادت عطا فرما۔یا اللہ تو انسانیت کی رہنما ئی فرما۔آمین۔ثم آمین۔
۱۳۔ اگر چہ امام حسینؓ جسمانی طور پرشہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دین کی پامالی برداشت نہ کی۔ وہ دین حق کی خاطر اپنا تن ،من،دھن، دین مبین پر نچھاور کر چکے ہیں۔وہ ہمیں کلمہ حق پڑھنے کا طریقہ بتا گئے۔ انہوں نے دکھی انسانیت کے تحفظ کی پذیرائی کی۔ اگراسلام کو سر بلند اور اس کے وقار کو قائم رکھنا ہے ۔تو دین کے نفاذ اور اس کی سرکاری بالا دستی کو ملک میں قائم کرنا ہوگا۔ اور ان کے درس کو دہرانا ہوگا۔ انسانی زندگی فرعونی،ملوکیتی ، یزیدی سامرا ج کے زیر اثر ہے۔کتاب وسنت کے قوانین اور نظریات ملک میں منسو خ اور معطل ہیں ۔ اسلام کے نظام عدل کو ختم کردیا گیا ہے۔ ملک میں ملو کیت اور آمریت قائم ہے۔حق کی قوت ختم ہوچکی ہے۔ملک میں قتل و غارت، خوف و ہراس اور انارکی پھیل چکی ہے۔اسلام دشمن قوتیں اور طاقتیں اسلامی تشخص ملک میں مسخ کر چکی ہیں۔ملک میں دینی قتا ل ،معاشی قتال ، انسانی قتال جاری تھا اور ابھی بھی جاری ہے۔ملک و ملت کے جسد کے جمہوریت کے مہلک کینسر کو صرف دین کے نظریات کی بالا دستی ہی ختم کر سکتی ہے۔یا اللہ ہمیں اہل بصیرت دیندار صالح قائد اور دینی قیادت عطا فرما۔امین۔
۱۴۔ اس ملت اور اس ملک کا المیہ یہ ہے۔کہ 1947 ء سے جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔انگریز اس ملک کو چھوڑ گئے۔لیکن ایک فاتح قوم کا ایک غلام قوم پر رائج اور مسلط کیا ہوا جمہوریت پر مشتمل ضابطہ حیات۔اس کا طریقہ کار،اس کی افسر شاہی، اس کی عدلیہ ،اس کی نوکر شاہی ،اس کے قوانین اور ضوابط،اس کے طبقاتی تعلیمی ادارے،اس کا طبقاتی معاشی نظام اور تفاوتی معاشرتی سسٹم جوں کا توں جاری رہا ۔ جو من و عن آج بھی پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ ملک اور قوم پرمسلط ہے۔ اس نظریاتی ملت مرحو مہ پر جو جمہوریت کے نظریات اور سیاسی نظام انگریز ایک غلام قوم پر بالا دستی قائم رکھنے کیلئے مسلط کر گیا ہے۔اس نظام کے تحت جو سیاستدان، جو سیاسی حکمران اور جو فوجی
حکمران اس ملک پر حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔وہ اس نظام اور اس کی سرکاری مشینر ی افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی کے شکنجوں میں جکڑے جاتے ہیں۔وہ اور عوام جمہوریت کے باطل قوانین و ضوابط کے پھندوں سے لٹکے ، سسک سسک اور بلک بلک کرجیتے اور مرتے رہتے ہیں۔جمہوریت کے پیروکاروں نے چودہ کروڑ انسانوں کو معاشی اور معاشرتی ابتری کا ایندھن بنا رکھا ہے۔ جمہوریت کی سرکاری مشینری افسر شاہی،نوکر شاہی اور منصف شاہی عدل کشی کے ضابطوں سے ملک و ملت کو عدم استحکام اور تباہی کی طرف دھکیلتی جا رہی ہے۔ پوری ملت کا کردار رشوت ،کمیشن،کرپشن اور عدل کشی کی چتا میں جھونک دیا گیا ہے۔ ستر فیصد کسان اور انتیس فیصد مزدور ، محنت کش، ہنر مند اور عوام الناس پیٹ کی آگ بجھانے میں مبتلا اور دوسری طرف ان کے یہ سرکاری ملازم ملک کا خزانہ چاٹنے میں مصروف ۔عوام بھوکے مریں اور خود کشیاں اور خود سوزیاں کرتے پھریں ۔اور ان کے یہ ملازم شیش محلوں میں عیاشانہ زندگی گذاریں۔اب یہ غلامانہ غیر عادلانہ نظام اس ملت پر مزید مسلط نہیں رہ سکتا۔ملک و ملت کو مزید اس آگ کا ایندھن نہیں بنایا جا سکتا۔ملک اس تفاوتی انارکی اور عدم استحکام کی حالت برداشت نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف بیرونی طاقتیں اس انارکی اور خلفشار کا پورا فائدہ اٹھاتی ہیں۔فرعونی، یزیدی اور ملوکیتی نظام ملت او ملک کو نگلتا جا رہا ہے۔جمہوریت کی بالا دستی مذہب کے نظریات، اس کی تعلیم و تربیت،اس کا طرز حیات،اس کی اخلاقی اقدار،اس کا معاشی نظام،اس کا معاشرتی سسٹم، اس کا نظام عدل اور اس کا تہذیبی کلچر مفلوج کر چکی ہے۔ جمہوریت کی بالا دستی سے تمام مذاہب کی تعلیمات اوران کی الہامی اقدار کونجات دلوانا ۔پوری انسانیت کے ساتھ بھلائی کا ایک عظیم کارنامہ ہو گا۔ کیا آپ اسلامی خلافت کو ملو کیت میں بدلنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ اسلام کی جمہوری روح اور اسلامی شورائی نظام کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ آپ فیصلہ خود کریں گے کہ آپ شہدائے کربلا اور امام حسینؓ کے دین کے شورائی نظام کا ساتھ د ے رہے ہیںیا یزید کا یا اس کے ملوکیتی نظام کا۔کیا آپ ذکر امام حسینؓ اور ماتم امام حسینؓ ہی کا ذکر و اذکار کرتے رہیں گے یا ان کے مشن کی طرف بھی توجہ دیں گے۔کیا آپ ان کے نقش قدم پر چل کردینی نظر یا ت کے تحفظ اور ان کی بالا دستی کے لئے اپنا کردار ادا نہ کریں گے۔ کیا مقصد شہادت کو ان رائج کردہ عقید ت و محبت کی روایات میں ہی گم کرتے جائیں گے۔ کیا پاکستا ن میں ہی مسلمانوں پر دین کی بالا دستی قائم کرنے اور ان کے کردار کی پیروی کرنے سے گریزکرتے جا ئیں گے۔ کیاجسد ملت سے دین کی روحانی اور الہامی تعلیما ت کے نشتر سے اس دور کی جمہوریت کی باطل،غاصب تعلیمات کا فاسد یزیدی خو ن نکالا اور ختم نہیںکیا جا سکتا ۔ کیا مسلم امہ کی نسلوں کو پھر صداقت کا سبق اور پھر شجاعت کا سبق اور پھر امانت و دیانت کا بھولا سبق یاد نہیںکروایا جا سکتا۔یاد رکھو ۔ اس مملکت پاکستان میں اسلامی قائد اور اسلامی قیادت ہی ملت اور پوری انسانیت کو سچائی کی قوتیں ، اعتدال و مساوات،ادب و محبت،عدل و انصا ف کو متعارف کروا سکتا ہے۔اور ان کی شمع روشن کر سکتا ہے۔ اور مذہبی برہانی حکمتیں تہذیب حاضر کو مہیا کر سکتا ہے ۔ دنیا کو امن کا گہوار ہ اور اخوت و محبت کی خوشبو سے اس دنیا کے چمن کو معطر اور مشفق بنا سکتا ہے۔یا اللہ اپنے بندوں کو ایک مرکز پر اکٹھے ہونے اور اس کار خیر کو سر انجام دینے کی قوت عطا فرما ۔آمین۔