To Download PDF click the link below

  مشرق وسطٰی، کشمیر، کوسو وا،بوسینیا، انڈونیشیا، ا یران ،عراق ، افغانستان جیسے غیر ترقی یافتہ اسلامی ممالک کے عوام کا بے پناہ قتال۔جمہوریت کے مذہب کش مغربی ترقی یافتہ اقوام کے فرعونی دہشت گردوں کی مسلم امہ پر یلغار۔
عنایت اللہ
۱۔ ملک کا نظم ونسق کیسے چل رہا ہے۔ملک میں کون کون سی بیرونی ایجنسیاں کا م کررہی ہیں۔ملکی سر براہ کن کے اشاروں پرحکمرانی کا تاج پہنتے ہیں۔افغانستان کی حکومت کو کیوں ختم کیا گیا۔ اتنا یاد ہے کہ وہ ایک غریب اور کمزور اور آزاد ملک تھا۔ اس کے حکمران اسلامی نظریات کے پیروکار تھے۔ دین اسلام اور شورائی نظام ان کا سرکا ر ی مذہب تھا۔ ان کی مجلس شوریٰ دیندار اور صالحہ افراد پر مشتمل تھی۔ افغانستا ن اور روس کی جنگ کے بعد ان کی زبوں حالی اور خستہ حالی دنیائے عالم کے سامنے عیاں تھی۔ اس ملک کے عوام اور حکمران دونوں نے مل کر روس کی یلغار کو روکا۔ امریکہ نے اپنے دائرہ اثر کو قائم رکھنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کی خاطر ایک اتحادی ملک کی شکل میں افغانستان کی بھر پور مددکی۔ انفرادی قوت افغا نستا ن کی تھی اور اسلحہ کی فراہمی اور ہر قسم کے جنگی سازو سامان کی امداد مہیا کرنے کی ذمہ داری امریکہ کی تھی۔امریکہ کسی صو رت میں بھی روس کی ایشیا میں بالا دستی قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھا۔ امریکہ اور دوسرے مغر بی ممالک کو ہر قیمت پر روس کی یلغار کو روکنا درکار تھا۔ اصل میں یہ جنگ مغربی مما لک اور امریکہ کی تھی جو روس کے خلاف لڑی گئی۔لیکن اصل میں یہ جنگ افغانستا ن کی عوام نے روس کے خلاف لڑی۔جس میں انہوں نے کم از کم پانچ سات لاکھ جانوں کی قربانی د ی۔ اور بیشمار لوگ اس جنگ میںزخمی ہوئے۔ ملک کی عمارتیں ،ہسپتال، سکول، مسجد یں ، کھیت اور بستیوں کی بستیاں ویرا ن اور نیست و نا بود اور خاکستر ہو گئیں۔
۲۔ افغا نستان معاشی اور معاشرتی طور پر تباہ ہو گیا۔ روس ٹوٹ کر بارہ ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ اور یہ عالمی قوت ریزہ ریزہ ہو گئی ۔ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ کا عمل دخل بھی افغانستان میں منقطع ہوتا گیا۔ کیونکہ افغان قوم کسی کی حکمرانی قبولتی نہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ کو واپس لوٹنا پڑا ۔لیکن اس کے دل میں یہ کسک موجود تھی۔ کہ وہ افغانستان میں پاؤں نہ جما سکا۔ کیونکہ افغانستان کے عوام کی تاریخ شاہد ہے۔کہ انہوں نے کسی بھی قوم یا حکمران کی بالادستی کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔ لیکن اس جنگ کو جیتنے کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقصد تو حل نہ ہوا۔ وہ تو روس اور روسی ریا ستوں اور چین کے سر پر سوار ہونا چاہتا تھا۔ اور اگلی منزل کا سفر ہر قیمت پر جاری رکھنا چاہتاتھا۔ افغانستان کو زیر کرنے کیلئے جب کوئی سیاسی چال یا دولت کا لالچ کام نہ کر سکا۔تو امریکہ کے سیاستدانو ں اور حکمرانوں اور جنگی جنونی دانشو رو ں نے افغانستان پر حملہ کرنے اور فتح کرنے اور قبضہ کر نے کی ٹھان لی۔کہ وہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کرکے اپنا مقصد پورا کر سکیں۔ مغربی اتحادی ممالک کی تمام ہمدردیاں امریکہ کے ساتھ تھیں۔ حملہ کرنے سے قبل ان کے جنگی دانشوروں اور جنگ مسلط کرنے کے ماہرین سکالر وں نے سب سے پہلے میڈیا اور نشرو اشاعت کی جنگ کا آغاز کیا ۔ افغانستان کے خلاف بے بنیاد الزاما ت اور ان کے حکمرانوں کو ظالم، قا تل اور طرح طرح کے الزامات سے بدنام کرنا شروع کیا۔جب کہ انہوں نے ملک میں بہت تھوڑے عرصہ میں امن اور عدل و انصاف قائم کرلیا تھا۔ انہوں نے القاعدہ بین الاقوامی تنظیم کا تعلق اسامہ بن لادن سے جوڑ دیا۔ اسامہ بن لادن کے اختلافات امریکی حکمرانوں کے سا تھ کیا تھے اور کیسے تھے ۔وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں تھے۔پہلے تو انہوں نے اسا مہ کو روس کے خلاف اکسایا،اس کو اور اس کے ساتھیوں کو جدید اسلحہ کی ٹریننگ دی۔ روس کے خلاف استعمال کیا۔ اس کی معاونت سے روس کو پاش پاش کیا۔اس کی جوانمر دی اور ہمت سے وہ اچھی طرح آگاہ تھے۔ بعد میں اس کو ایک خاص منصوبہ کے تحت دہشت گرد قرار دیتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ امریکہ عرب ممالک سے اسی طرح واپس چلا جائے جیسے وہ افغانستان سے گیا ہے۔وہ ان کے مقاصد کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اس کو وہ ہر قیمت پر ختم کرنا چاہتے تھے۔
۳۔ اس کے لئے وہ منصوبہ بندی کرتے رہے اور اسی دوران اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے۱۱ ستمبر کا واقعہ اپنی ایجنسیوں کے ذریعہ ازخود امریکہ کے دو ٹاوروں کو تباہی سے دو چار کروایا۔چار پانچ ہزار افر ا د لقمہ اجل بنے ۔اس واقعہ کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرایاگیا ۔امریکہ نے افغا نستا نی حکو مت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردے۔لیکن انہوں نے ایک مہذ ب قوم کی طرح امر یکہ کے حکمرانوں کو کہا ۔کہ اگر ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی واضح ثبوت ہے تو وہ دنیا کو دکھا ئیں۔ تو ان کو اسامہ مہیا کر دیا جائیگا۔یا دنیا کے کسی اصول کے مطابق امریکہ اس پر عائد الز امات کا کوئی ثبوت یو این او کو مہیا کر دے۔تو وہ اسامہ بن لاد ن کو ان کے حوالے کر دیں گے۔ امر یکی حکمرانوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے طاقت اور قوت کے زور پر جدید جنگی بحری جہازوں پر لدے ہوئے ، بمبار طیاروں کارخ افغانستان کی طرف موڑ دیا۔ اپنے حوار یو ں کو ساتھ ملایا۔ افغانستان پر فضائی حملے جاری کر دےئے۔ بستیو ں کو خاکستر کر دیا۔ شہرو ں کو ویرانوں میں بدل دیا۔ آباد یوں کو نیست و نابود اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ انسانوں اور حیوانوں کو گیس بموں، نائٹروجن بمو ں ،جراثیمی بموں اور دو دو ہزار وزنی ڈیزی کٹر بموں کا استعمال کرکے ان کو تباہ کیا۔عوام کو مختلف بیمار یو ں میں مبتلا کر دیاگیا۔ اور بیشتر کے اعضا فضاؤں میں بکھیرتے رہے۔ بے گناہ، معصو م ، بچوں، بوڑ ھوں ، نوجوا نو ں اور مِستورات کا قتل عام کرتے رہے ۔ اور غیر متعلقہ مخلوقات کو نشا نہ عبرت بنا تے رہے۔ انسانیت سوز اور بد ترین درند گی کی تاریخ دہراتے رہے ۔ کروز میزا ئلوں کی تباہی کی رینج کی پیمائش کرتے رہے۔ ان عالمی دہشتگردوں نے بیگناہ مخلوق خدا اور انکی املاک کو جدید اسلحہ کی برتری سے نیست و نابود اور کرش کر کے رکھ دیااور افغانستا ن کی لڑائی جیت گئے۔اور ان کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ انہوں نے نہ ختم ہونے والی عالمی جنگ کا آغاز کرلیا ہے۔ جو کئی نسلوں تک جاری رہے گی۔ اور دنیا کی تباہی کی وجہ بنے گی ۔ کمزور اور غیر ترقی یافتہ اقوام کو عارضی طور پر بیوقو ف بنایا جا سکتا ہے۔لیکن دنیا کا ضمیر زندہ ہے۔ اورحقائق سب کے سامنے ہیں ۔ گلوبل لائف میں کوئی بھی حقیقت زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی۔
۴۔ دنیائے عالم کے ترقی یافتہ ممالک کے اسلحہ ساز بد ترین ظالم دہشت گرد حکمرانوں اور ان کے برعکس غیر ترقی یافتہ ممالک کے مظلوم، بے گناہ، کمزور اور بے ضرر معصوم غیر اسلحہ ساز مہذب انسا نوں سے بھی دنیا کا ہر ملک اور ہر فرد واقف اور آشنا ہے۔ طاقتور اسلحہ ساز ممالک اور ان کے انسانی قتال کروانے والے بے رحم دہشت گرد سیاستد ا ن ،حکمران ایسے ہیں ۔جو کلمہ حضرت داؤد علیہ السلام ،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام اور حضرت محمد الرسو ل اللہ ﷺکا پڑھتے ہیں۔ اور ان پیغمبران کے ماننے والے ہیں۔لیکن بد نصیبی کی انتہا یہ ہے کہ وہ عملی طور پر پیرو کار نمرود،ہامان،شداد اور فرعون کے بن چکے ہیں۔ وہ مادیت اور اقتدار کے حصول میں گم ہوچکے ہیں۔ان کی اصلاح کرنا ،ان کو راہ را ست دکھانا،ان کو اخوت و محبت کا درس دینا،ان کو اعتدال و مساوات کے نورانی علوم سے آشنا کروانا، ان کو عفوو در گذر کا عرفان دینا،ان کو پیار و شفقت کے الفاظ کی حرمت سمجھانا،ان کو دکھی دلوںاور بیمارو ں کی تیمارداری اور شفا کا نسخہ بتانا ، ان کو دلوں پر حکومت کرنے کا گر سکھانا، ان کو اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقبول پیغمبران کی آغوش میں بٹھانا،بھولے بھٹکوں کو راہ را ست دکھانا،ان پیغمبران کی امتوں کو ان کے روحانی فیوض کی طرف راغب کرنا۔ جاہلوں کی جہا لت دور کرنا اور غافلوں کو بیدار کرنے کے عمل کو جاری کرنے کے لئے ضروری ہے۔ کہ اس دور کے دیدہ ورو ں ،اہل بصیرت اور دانا ئے وقت محبوب و مقبول پیغمبرا ن کی امتوں کے مذہبی پیشواؤ ں کو آگا ہ کرنا ،ان کو مخلوق خدا کی خدمت و ادب کے مشن کی طرف راغب کرنا،تا کہ وہ ان ظالموں کو مظالم سے باز رکھنے کا طیب فریضہ ادا کریں۔خدا بزر گ و بر تر کی بارگاہ میں اس التجا کی قبولیت کے لئے حاضر ہوں۔ کہ ان کو اس جہنمی عمل سے نجات عطا فرما و یں ۔ آمین۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی تعلیمات اور آسمانی نظریات اور مخلوق خدا پر رحمتوں اور شفقتوں کی بارشیں کرنے والی امت کا کیسا نصیب بگڑا کہ وہ معصوم و بے گناہ اور بے ضرر انسانیت کی قاتل بن کر ایسی ابھری کہ جس کی مثال انسانی تاریخ میں نا یاب ہے۔ تمام عیسائیت اور اس کے مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لینا مناسب ہوگا۔ کہ وہ مخلوق خدا کو بتائیں کہ کیا یہ روح القدس اور ان کی تعلیمات کو ماننے وا لے لوگ ہیں یا فرعون کے نظریات کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
۲۔ اس دور کے امریکی سیاستدانوں، حکمرانوں کا کردار اقوام عالم پر پہلے بھی عیاں تھا۔اور اب مزید وا ضح ہونا شروع ہو چکا ہے۔کہ انہوں نے اور ان کے حواریوں نے دنیا کا امن اور سکون تباہ کر رکھا ہے۔ مادی طاقت،وسائل اور جدید ہتھیاروں کی قوت نے ان کو فرعونی مے کا نشہ پلا رکھا ہے۔ افغانستان کی جنگ کے بعد انہوں نے اپنا ہدف عراق کو بنایا۔اسی طرح صدام حسین کے خلاف انہوں نے بے بنیاد پرا پیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ کہ وہ ایٹم بم بنا رہا ہے۔ ایٹمی مواد چیک کرنے والی انسپکٹروں کی کئی ٹیمیں عراق روانہ کیں۔ لیکن ان کی رپور ٹ کے مطابق عراق میں کسی قسم کا ایٹمی مواد نہ ملا۔لیکن طاقت کے فرعو نو ں نے یہ رٹ متواترو مسلسل لگائے رکھی کہ عراق کے پاس ایٹمی مہلک ہتھیا ر مو جود ہیں۔ انہوں نے عراق کے خلاف میڈیا کی ایک طویل جنگ چھیڑدی ۔ دنیا پر اپنی طاقت اور بالا دستی کی بنیاد پر اپنے حواریوں کو ساتھ ملا کر ایک طویل عرصہ تک عراق کا گھیراؤ کئے رکھا ۔ اس کے ساتھ ہر قسم کی تجارت پر پابندی رہی ۔ بلکہ اس کی روز مرہ کی بنیا د ی کھانے پینے کی ضرور تو ں کی عراق کو سپلائی کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی ۔ادویات اور بچو ں کی خوراک جیسی بنیادی ضرورتیں تک عراق کے عوام کو مہیا نہ ہونے دیں۔عراق کے عوام ایک طو یل عرصہ تک ان کے ظلم کا نشانہ بنتے رہے۔دنیا کے بیشتر ممالک ان ظالموں کے خلاف دلی نفرت کے جذبات کا اظہار بھی کرتے رہے۔ ان کی اپنی عوام نے بھی ان کے خلاف آواز اٹھائی۔ لیکن بغیر کسی کی پرواہ کئے اور بغیر کسی جواز کے وہ اپنے منصو بہ کی تکمیل کی طرف آگے بڑھتے رہے ۔ وہ یو این او کے ادارے کے تمام اصولوں کو روندتے چلے گئے۔آخر انہوں نے اپنے شیڈول کے مطابق عراق کا ہر طرف سے گھیراؤ کر لیا۔اسلحہ کے ڈھیر عراق کے ارد گرد جمع کرلئے۔اور پھر ایک روز اس پر حملہ کر دیا۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے بے گناہ عوام، معصوم بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں کو ڈیزی کٹربموں، میزائلو ں،گیس بموں ، نائٹرو جن بموں اور ہر قسم کے مہلک ہتھیا روں کا نشانہ بناتے رہے۔انسانی اعضا ء کو ہوا میں بکھیر تے ،بستیوں ، دیہاتو ں،شہروں کو تباہ و برباد اور خا کستر کرتے چلے گئے ۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلتے گئے۔نا حق مخلوق خدا کا قتال کرتے رہے۔عراق کو مسمار اور مسخ کرنے کا گھناؤنا کھیل کھیلتے رہے۔ معصوم ،بے ضرراور بے گناہ عوام الناس کے اعضا فضاؤ ں میں بکھیرتے اور انباروں کی شکل میں اکٹھے کرتے ر ہے ۔ یہ بے رحم ،سفاک اور ظالم فرعونی قوت کے مالک انسانی لاشوں پر فتح کے بگل بجاتے رہے۔
۶۔ یہ کمزور ،ناتواں عراقی تاریخ کی بد تر ین جدید اسلحہ کی لڑا ئی بری طرح ہار گئے۔ اس کے بعد امریکیو ں اور ان کے حواریوں نے عراق کا کونہ کونہ چھان لیا۔ لیکن نہ ان کے پاس ایٹمی ہتھیار نکلے اور نہ ہی کوئی ایٹمی کلچر کی کوئی شے نکلی۔ان کے الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مشتمل تھے۔دنیائے عالم کی عدالت میں یہ امریکی حکمران اور ان کے حواری عراق کے ناتواں عوام، معصوم بچوں، بے ضرربوڑھوں، بے گناہ نوجوانوں،بے بس مستورات اور پوری انسا نیت کے قتال کے ملزم ہی نہیں بلکہ مجرم ثابت ہو چکے ہیں۔یہ لڑائی جیت کر انسانیت کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل چکے ہیں۔جس کے اثرا ت سے ان میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا۔ یہ خیر اور شر کی جنگ ہے۔یہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔یہ نیکی اور بدی کی جنگ ہے۔ یہ عد ل اور عدل کشی کی جنگ ہے۔ یہ دین اور کفر کی جنگ ہے۔یہ موسیٰ اور فرعون کی جنگ ہے۔یہ جنگ ان جنگی دہشت گردوں کیخلا ف خود کش حملہ آور وں کی پوری فوج تیار کرے گی۔ ایک طرف ایٹم بموں اور ایٹمی بجلی گھرو ں، ایٹمی پلانٹو ں ،ایٹمی وار ہیڈوں،ایٹمی آبدوزوں، ایٹمی میز ا ئیلوں، ڈیزی کٹربموں، نائٹر وجن بموں، گیس بموں اور لاتعداد جدیدسامان حرب سے لدے ہوئے ممالک ہونگے ۔اور دوسری طر ف خود کش حملہ آوروں کی لا تعداد ، انگنت افواج جن کا مقصد ان ذخائر کو آگ لگانا یعنی ان کو تباہ کرنا ہو گاجو ان کی اور پوری دنیا کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ کوئی ظالم ان کو روک نہیں سکے گا۔ان تک خود کش حملہ آوروں کی رسائی کوئی ایسا مشکل کام نہیں۔اس آتش فشاں کوپھٹنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سوائے مذہبی اور دینی نظریات کی روحانی تعلیم وتربیت سے ۔ جمہوریت کے فرعونی نظام اور نظریات سے نجات حاصل کرنا عیسائیت اور مسلم امہ کی بنیادی ضرور ت ہے۔مذہب کے نظریات کی بالا دستی ہی مخلوق خدا کو ان فرعونی نسل کے ظالم اور درندوں کے نظریات شر سے بچا سکتی ہے۔
۷۔ یہ سب باطل ،غاصب فرعونی نظریات پر مشتمل جمہوریت کی طرز حیات مذاہب سے دوری کی پید اوار ہیں۔ہم نے پیغمبران کی نورانی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر فرعون کی ظلمات کی تعلیمات کی پیروی شروع کر رکھی ہے۔اے انسا نیت کے قاتلو!ذرا دلِ خبیر کی بات غور سے سن لو۔پوری انسانیت ایک ایسے مہلک مریض کی طرح ہے جس کے دم توڑنے سے پہلے ہچکیاںاور سسکیاں جار ی ہو چکی ہوں۔قوت فرعون،نمرود،شداد اور ہامان کے مریدوں کے ہاتھ میں ہے۔مذاہب کی انسانیت پرور تعلیمات کو پس پشت ڈال کر مغرب کے دا نشو ر و ںکے نظریات پر مشتمل جمہوریت کے باطل،غاصب مذاہب کے خلا ف قوانین و ضوابط کا پھندا ڈال کر انسانیت کی روح قبض کی جا رہی ہے۔پیغمبران اور ان کے روحانی،الہامی،آسمانی عدل و انصاف،اخوت و محبت،اخلاق و اطوار، اعتدال و مساوات، خدمت و ادب، عفودرگذر، صبرو تحمل کی قندیلوں کو بجھانے کی بالادستی وقت کے ظالم،بے رحم ترقی یافتہ ممالک کے سیا ستد انوں،حکمرانوں کو سونپ دی گئی ہے۔ جو دنیا میں کمزور،بے بس،معصوم اور بے گناہ انسانوں کا قتال کرنے اور مادیت او ر اقتدار کے حصول کی جنگ جیتنے والی فوج، فرعون کی فوج تو کہلا سکتی ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت محمد الرسول اللہﷺ کی امت کے سپاہی تو نہیں کہلا سکتے۔انسانیت کو مغرب کے دانشوروں ،سیاستدانوں کی تخلیق شدہ جمہوریت کی تقلید سے روکنا اور بچانا وقت کا اہم ترین فریضہ ہے۔ درویش اور فقیر منش انسان جاہلوں کو مذا ہب کے نورانی علوم سے آشنا کرواتے او ر غفلت میں ڈوبے ہوئے بنی نوع انسا ن کو بیداری کا پیغام پہنچاتے رہتے ہیں۔
۸۔ اس وقت انسانیت کو امن و آشتی کے ازلی،ابدی فطرتی اور مذہبی اصولوں سے رو شنا س کروانا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔بزم ہستی میں انسا ن فطرت کا ایک عظیم اثاثہ ہے۔اس کی بھلائی اور بہبود کی خاطرایک لاکھ چوبیس پچیس ہزار پیغمبران اللہ تعالیٰ نے اس جہان فانی کی عقدہ کشائی اور ان کی رہنمائی کیلئے بھیجے۔ ان کی حکمتو ں کے نور اوران کی اخلاقی قوتوں کی شمع کو روشن کرنا وقت کے درو یشوں،فقیروں، ولیوں، خدا مست مذہبی پیشوا ؤ ں اور ان کے مشعا لچیوں کا کام ہے کہ وہ اس شمع کو روشن کریں۔ ان فرعونوں کی ،مذاہب اور ان کی تعلیمات پر حکومتی سطح پر بالا دستی کو ختم کریں۔ دنیا میں مذاہب کی تعلیمات کی روشنی میں حکومتوں کو چلانے کیلئے قوانین و ضوابط مرتب کریں۔تا کہ انسانیت ان معاشی اور معاشرتی دہشت گردو ںاور بے رحم انسانیت کے قاتلوں سے اور ان کے جمہوریت کے فرعونی نظام اور سسٹم سے نجات حاصل کر سکیں۔ملکوں کی قیادت مذہبی نظر یات کے پیشواؤں اور مذہبی اخلاق و اقدار کی تہذیب کو ترقی دینے والوں کے پاس ہو۔ تو پوری انسا نیت اور مخلوق خدا اور یہ جہان رنگ و بو، ان جمہوریت کے پیرو کاروں کی طرز حیا ت اور ان کی پیدا کی ہوئی نفرتوں اور جنگوں کی مہلک بیماریوں سے شفا پا سکتاہے۔ مذہبی تعلیمات اور اس کے اصول و ضوابط کورائج کرنے سے انسا نیت میں محبت کے روشن چراغ پھر سے جلائے جا سکتے ہیں۔ اور فر عونی جمہوریت کے تعلیم و تربیت کے گھپ اند ھیر وں کو روشنیوں میں بدلا جا سکتا ہے۔
۹۔ جہاںتک امریکہ اور پورے مغرب کے ترقی یافتہ ممالک کی معا شیا ت اور ان کی خوشحالی کا تعلق ہے ۔وہ اسلحہ سازی کی صنعت سے وابستہ ہے۔جب تک دنیا کے ممالک میںزیادہ سے ز یا دہ جنگیں اور انسانوں کا قتال نہ ہوگا ۔اس وقت تک ان کا اسلحہ کہیں بھی فروخت نہ ہوگا۔یہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اسلحہ سازی کی صنعت تباہ ہو جائے۔اس کے علاوہ اس صنعت پر وہ اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چا ہتے ہیں۔امریکہ اور ان کے حواری ایٹم بم بناتے جائیں تو جائز ہے۔کوئی اور دوسرا ملک ایٹم بم بنائے یا نہ بنائے تو وہ مجرم اور شک کی بنا پر مجرم۔وہ اسلحہ سازی کی برتری سے غیر ترقی یافتہ ممالک کی تذلیل کرتے جائیں تو حق بجانب۔وہ کمزور ممالک پر حملے کر کے ان کو نیست و نابود کرتے چلے جائیں تو جائز۔وہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو تباہ کن اسلحہ فروخت کرکے اسلحہ کا توازن بگاڑ کر مصر، فلسطین، شام، اردن ، کویت، عراق،سعودی عرب کی فوجی طاقت اور معاشیات کو اسرائیل جیسے ملک سے تباہ کر وا دیں اور ان کے علاقہ پر قبضہ کروا دیں تو ایسا کرنا ان کے باطل، غا صب نظام کا حصہ۔یہ عراق اور ایران اور کویت کو اسلحہ کی سپلائی کرکے ان مما لک کی معاشی قوت ایک رہزن کی طرح لوٹتے رہیں۔ اور ان کی افرادی قوت کو جنگ کا ایندھن بنا تے رہنا ان کی روز مرہ سیاست کا حصہ ہے۔اے جمہوریت کی تہذ یب کے عظیم سیاسی ظالمو !بے رحم لیڈرو! کوسووا اور بوسنیا کے مسلمانوں کا اجتماعی قتل کرکے ا نکی اجتماعی قبریں بناتے رہنا۔ اس کے علاوہ غیر ترقی یافتہ اور
اسلحہ سے محروم اقوام کے قتال کے تم ایک عظیم فاٹتح ہو ۔یہ انڈونیشیا کی مسلم سٹیٹ سے عیسا ئی صوبہٓابادی کی بنیاد پر الگ کر کے ان کی حکومت قائم کر دیں تو یہ یو این او کے اصو لوں کی جیت ۔اگر کشمیر پر ہندوستان کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیر کے اسی نوے ہزار افراد کا قتال ہو جائے تو وہ ہندوستان کا حق۔ دنیا میں ایسی آزادی کی جنگ لڑنے وا لی اقوا م کو اور اسی طرح کشمیریوں کو دہشت گرد کہنا ان کی جمہوریت کے نظریات کی ماتم سوزی کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔
۱۰۔ پاکستان کی امریکہ کے ساتھ تاریخ ساز دوستی۔ جس میں پاکستان کا چین سے امریکہ کی دوستی قائم کروانے کا عظیم کارنامہ۔ روس جیسی عالمی طاقت کے ساتھ امریکہ کی پالیسی کی بنا پر دشمنی مول لینا اور اس کی کھلے عام مخا لفت کرنا پاکستان کا ایک انمول کردار ہے۔ اسی بنا پر روس اور ہندوستان کا دفاعی معاہدہ معرض وجود میں آیا۔ اور پاکستان کی بقا کو خطرے میں ڈالنا ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔ امریکہ کا مشرقی پاکستان کو ہندوستان سے مل کر بنگلہ دیش بنوانے کا عمل اور پھر پاکستان کے ساتھ دوستی کا دعویٰ۔ ایسے منافق،عدل کشِ،ظالموں، قاتلوں کا مذہب کے ساتھ کیسا تعلق۔ مذہب کے باغیوں اور جمہوریت کے پرستاروں کی تیار کردہ مہذب تہذیب کا مختصر خاکہ تیار ہے ۔کہ وہ انسانیت کے ساتھ دھوکہ اور مخلوق خدا کو بغیر کسی جواز کے دنیا کی برتری اور مادی خوشحالی کی خاطر ان کا قتال کرتے چلے آرہے ہیں۔ یا اللہ ۔ ۔۔اپنے مقبول و محبوب پیغمبران کے طفیل ان کے مذاہب کے پیرو کاروں اور ان کے مذ ہبی پیشواؤںکو خدا کے کلام اور ان کی تعلیمات پر فرعونی دانشو ر و ں کے کلام اور ان کی تعلیمات پر بالادستی عطا فرما۔ اور اس احساس زیاں کے المیہ کا شعور بخش۔تا کہ الہامی روحانی مذہبی تعلیمات کے اجڑ ے گلستان میں صدا قت و شرافت، ادب و محبت،اعتدال و مساوات ،صبرو برداشت ،احترام و عز ت اور پیار و شفقت جیسے ازلی ابدی روحانی بہترین اخلاق اورعمدہ اقدار کی تو فیق کو انسانیت میں بحال فرما۔ اے اللہ۔ اس دنیا کے چمن میں نور کا اجالا کر دے۔ یا اللہ تاثیر کا سائل ہوں۔ ان الفاظ کو تاثیر عطا فرما۔آمین
۱۱۔ مغربی تہذیب و تمدن کے شاہکار، ان ممالک کے اتحادی سیاستدان اور حکمران ہر دور میں انسا نیت پر ظلم وستم،قتل و غارت،جبر و تشدد اور ہر قسم کے گھناؤ نے مظالم اور اذیتوں کی نرالی تا ریخ مرتب کرتے چلے آرہے ہیں۔یہ وہی مغربی ممالک اور اسی نسل کے سیاستدان اور حکمران ہیں جو نسل در نسل جمہوریت کے سا ئے تلے دولت اور اقتدارکے حصول کی جنگیں لڑتے چلے آرہے ہیں۔ انہو ں نے جرمن، جاپان کو نیچا دکھانے کیلئے ایٹم بم کا استعمال دنیا میں پہلی مرتبہ کیا۔ ان ہولناک بمو ں کو ہیرو شیما اور ناگا ساکے شہروں پر پھینکا گیا۔لاکھوں انسانی جانیں خا کستر ہوئیں۔ ان بستیوں میں درند، چرند،پرند کانام ونشان ختم ہوا۔ان شہروں کے گرد و پیش کے علاقے بری طرح متاثر ہوئے۔ان کی نسلیں آج تک مفلوج پیدا ہوتی چلی آرہی ہیں۔جرمن قوم کے بچوں،بوڑھوں،جوانوں، کو چن چن کر ختم کیا گیا۔مستورات کی بے حرمتی کی انتہا کر دی۔جرمن قوم کے ساتھ جوظلم اور ان کا قتال عام کیا ۔اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ان کے آٹھ سال کے بچوں سے لے کر اسی سال کے بوڑھوں تک کو بڑی بے دردی سے قتل کیا گیا۔ یہ اقوام اپنے ظالم دشمنوں اور اپنے آباؤ اجداد کے بے رحمانہ قتال کو کیسے بھول سکتی ہیں۔ ان کی دشمنی اور انتقام کی آگ ہر وقت ان کے سینوں میں بھڑکتی رہتی ہے۔ انہوں نے ان کے مردوں کے قتال پر ہی اکتفا نہ کیا۔ بلکہ ان کی مستورات کی بے حرمتی کی انتہا کر دی۔جسمانی اور جنسی تشدد ان کے بھائیوںاور ان کے بزرگوں کی موجودگی
میں کر تے رہے۔ ان کی نسل کو بری طرح ختم کیا گیا۔ یہ جنگ کوئی عیسائیت یا کسی مذہب یا خدا و بزرگ و برتر یا پیغمبران کی تعلیما ت یا ان کے احکام کی بالادستی کوقائم کرنے کے لئے ہر گز نہیں لڑی گئی تھی۔وہ تو ان ممالک کے سیاستدانوںحکمرانوں کے ذاتی عناد ،چپقلشوں ، رنجشوں اور دنیا پر بالادستی قائم کرنے کے لئے لڑی گئی۔
۱۲۔ اس جنگ میں تمام ممالک کے عوام بے گناہ ،بے بس اور بے قصور تھے۔یہ بدنصیب سیاستد ا ن اور اقتدار کے بھوکے حکمران اپنے عناد کی تسکین اور اپنی فرعونی خواہشات کی تکمیل اور ذاتی رنجشوں کے لئے لڑتے رہے ۔ جو قیامت جرمن اور جاپان کی اقوام کے مرد و زن پر گذر گئی ۔اس کی بد ترین مثال اس سے قبل دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔امریکن اور مغربی اقوام اور ان کے اتحادی حقائق کو مسخ کر کے دنیا بھر کے عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی تاریخ کا ورق ورق ان کے جھوٹ، ان کے مکر و فریب،ان کے بے بنیاد الزامات، ان کے فرعونی ظالمانہ طرز عمل۔ ان کا کمزور ممالک کے معصوم عوام کا بے گناہ قتال ۔ان کا انسا نیت کش جدید اسلحہ کا استعمال ان کے کردار کا حصہ بن چکا ہے۔ان بین الا قو ا می دہشت گردوںیا انسانیت کے قاتلو ں کے خلاف ان کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے ہتھیار اٹھائے وہ لوگ باغی اور دہشت گرد۔جو ان کی اسلحہ سازی کی اجارہ داری کو توڑے وہ اقوام اور عوام بھی دہشت گرد۔انہوں نے یو این او کا دنیا میں عدل و انصاف کو قائم کرنے اورجنگوں کو ختم کرنے کے لئے جو ادارہ قائم کر رکھا ہے۔اس ادارے کا مقصد کمزور اقوام کو انصاف دلانا یا ان کے خلاف جنگ کو روکنا نہیں۔بلکہ وہ ادارہ تو کمزور اقوام کو اپنے شکنجوں میں جکڑنے کیلئے اور انصاف کو کچلنے کے لئے بنایا گیا ہے۔یہ ادارہ دنیا بھر میں ان کے ظلم و بربریت،ان کے جائز و ناجائز مقاصد کی تکمیل کا ایک اہم جز بن چکاہے۔دنیا بھر کی اقوام اور ان کی اپنی عوام اور پوری انسانیت کو سوچنا ہوگا۔کہ ان کے اس نظام اور سسٹم کے سحر کو کیسے توڑنا اور اس کے اثرات کو دنیا سے کیسے ختم کرنا ہے۔ اب گلوبل لائف کا دور ہے۔پوری دنیا ایک شہر بن کر ابھری ہے۔ اس گلوبل لائف کے پاس ایک بین الاقوامی اجتماعی شعور ہے۔یہاں اقوام کا اچھا برا کردار ناپا ،تولا اور پرکھا جا تا ہے ۔یہاں دھوکہ بازی کی ہر سیاسی چال ہر ملک ،ہر قوم اور ہر انسا ن پر واضح ہوتی جاتی ہے۔اب ان کی پہچان کرنا، نا ممکن نہیں رہا ۔ ان کے خلاف ایک گلوبل تحریک چلنے والی ہے۔جو ان کی معاشی تباہی کا باعث بنے گی۔ اور تاریخ کے اوراق ان کو دنیا کی بد ترین درندہ صفت اقوام کی لسٹ میں لاکر کھڑا کر دیں گے۔یا اللہ ۔اس ابن مریم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر ان کے صدقے رحم فرما۔یا اللہ۔اس عظیم امت کو روح القدس کی تعلیمات اور ان کے نظریات کی آغوش رحمت میں لے جا۔آمین۔ان کو جمہوریت کے فرعونی حکمرانوں اور سیاست دانوں سے نجات دلا۔آمین،ثم آمین۔
۱۳۔ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے دانشوروں، سکالر و ں اور صاحب بصیرت میڈیا کے ارکان، نیک دل سیاستدانوں،مذہبی پیشواؤں،روحانی عظیم ہستیوں کو غور کرنا ہوگا۔فکر سے کام لینا ہوگا۔اس جہان فانی کے حقائق سے خاص کر عیسائیت کے پیروکاروں اوردنیا کی پوری انسانیت کو آگاہ کرنا ہوگا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات،ان کے ضابطہ حیات،ان کے اخلاقی نصاب،ان کی بتائی ہوئی آسمانی اقدار،ان کی عبادات،ان کے عدل و انصاف کے پیما نے ،ان کے رحیمی کریمی کے آداب،ان کا مخلوق خدا کے ساتھ حسن سلوک،ان کا دکھوں ،دردوں ، اذیتوںاور مصیبتوں میں مبتلا اور پھنسے ہوئے انسانوںکو راہ نجات کے راستوں کی نشاندہی، ان کا بیماروںکو
شفا عطا کرنے کا فلسفہ،ان کا دنیا کی بے ثباتی کا درس،ان کے بتائے ہوئے خدا وند قدوس کی قربت کے اصولوں کو انسانیت میں بحال کرنا اور ان کو یاد د لا نا،روح القدس کے معجزات سے متعارف کروانا انسا نیت کی نجات کا ایک بنیادی اور آخری ذریعہ ہے۔
۱۴۔ یاد رکھو۔۔یہ اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک سرکاری سطح پر انجیل مقدس اور روح القدس جیسی طیب اور مطہر پیغمبر کے ضابطہ حیات کی ان کے مما لک میں بالادستی قائم نہیں کی جاتی۔انہوں نے مذہب اور مذہبی پیشواؤں اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے فرزندان کو کلیسا و گرجا کے عبادات کے پنجرو ں میں مقید کر رکھا ہے ۔جمہوریت کے سائے تلے انہوں نے مادہ پرستی اور اس کے حصول کیلئے قتل و غارت کا کلچررائج کر رکھا ہے۔جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ماد یت پرستی کے بت کو پاش پاش کیا۔ انسانوں پر جبر اور ظلم کے اقتدارکی بجا ئے روحانیت کے دلوں کو تسخیر کرنے والی روحانی اقدار اور اقتدارکا خدائی نظام عطا کیا۔نمرود ، شداد،ہامان اور فرعون کے نظام کو صرف ایک خدائی نائب یعنی پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کے باطل ،غاصبانہ اور ظالمانہ نظریات اور اعمال اور ان کے طرز حیا ت کو مسخر کیا۔نیکی کو بدی پر مسلط کر دیا۔انسانی قلوب ذکر و فکر ،عاجزی اور یاد الٰہی کے خمرے بن گئے۔انسانیت کو روحانیت کی آغوش میں امن اور سلامتی کی پناہ نصیب ہوئی۔وہ معجزات کی بارشیں برساتے رہے۔خیراور بھلا ئی کے خزانے لٹاتے رہے۔ان کی گفتار میٹھے سخنوں سے لبریز اور ان کا کردار اخوت و محبت کے جذ بوںاور عمل سے سرشار۔ان کے پیروکار عبادت اور خدمت خلق میں جنون کی حد تک محو اور دنیا میں مشنری فرائض ادا کرنے کے وارث۔یہ تو ابن مریم روح القدس کے کردار کی پہچان ہے۔ان کے اعمال اور کردار کے وارثوں کو ہی کرسچن یا عیسائی کہا جا سکتا ہے۔ فرعون کے ایجنٹوں نے اپنا نام بدل کر عیسائیت کو جمہوریت کا لباس پہنا لیا ہے۔یہ مذاہب کے منافق عیسائیت کی تعلیم اور نظریہ حیات کو سرکاری سطح پر منسوخ کر کے اس کی روح کو مسخ کر چکے ہیں۔
۱۵۔ لیکن جمہوریت کے نظریات کے پیروکاروں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس کتاب کی روحانی،الہامی اور آسمانی تعلیمات،ان کے نظریات،ان کی طرز حیات،ان کی عبادات،ان کی مہرو محبت،ان کی خدمت و ادب کی عمارت کوریزہ ریزہ کر دیا۔انہوں نے مذہب کی سرکاری سطح پر ملکوں میں بالا دستی ختم کر دی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو جمہوریت کے سیاسی دانشوروں،سکالروں پر مشتمل ممبران کی اسمبلیوں کے حکمرانوں کے رحم و کرم اور سپرد اری میںدے دیا گیا۔ انہوں نے ان کے الہامی نظریات اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا۔ جمہور یت کے فرعونی نظریات کو مستقل بنیادوں پر حکومتی سطح پر نافذ کرکے عیسوی نظریات کے پیروکا رو ں کو جمہوریت کے فرعونی نظریات کی تعلیم و تربیت کے کینسر میں مبتلا کر دیاہے ۔ وہ جمہوریت کی شکل میں عیسائیت کے مذہب کے پیغمبر بن کر ایسے ابھرے کہ انہوں نے ابن مریم اور ان کی تعلیمات اور نظریات کو نگل لیا۔عیسائی ملت جمہوریت کے فرعونی نظریات اور ان کی تعلیم و تربیت میں گم ہو تی چلی گئی۔وہ انسانیت کے زخمو ں پر مرہم لگانے اور بیماروں کی تیمار داری کرنے والے اور ان کو شفا بخشنے والے۔ مخلوق خدا کی خدمت اور ادب کرنے والے،انسانیت کو دکھوںاور اذیتوں سے نجات دلانے والے،انسانیت کواخوت کا درس دینے والے،نیکی اور بھلائی کو مخلوق خدا میں پھیلانے والے،شر کو صفحہ ہستی سے مٹانے والے،محبت کی خوشبو کو کون ومکاں میں پھیلانے والے، انسانیت کے دلوں کو تسخیر کرنے
والے انمول اصو لو ں اور لا زوال انجیل شریف کے مقدس اور فلاحی الہامی ضابطوں پر مشتمل نظریات اور اعما ل کو سرکاری سطح پر منسوخ کر دیا ۔ جس کی وجہ سے عیسائیت کے مذہب کا پھیلاؤ رک گیا۔ دلوںکو مسخر کرنیوا لا روحانی علم اس امت اور پوری انسا نیت پر بند کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے عیسائیت روحانی اور الہامی زوال کی مناز ل طے کرنے لگ پڑی۔ عیسائیت کے روپ میں ان کے منکر اورمنافق سیاستدانوں اور حکمرانوں نے عیسائیت کے نورانی ضابطہ حیات اور نظریات کی بجائے جمہور یت کے باطل،غاصب فرعونی ضابطہ حیات اور اس کے نظریات کو مذہب کی تعلیمات پر بالا دستی دے کر اپنے اپنے ممالک میں جمہوریت کے کالے ضوابط رائج کرتے چلے گئے۔ جس کی وجہ سے جمہوریت کے نظریات کا کلچر،اسکی تعلیمات،اسکے تعلیمی ادارے بتدریج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی،الہامی اور آسمانی نظریات پر مشتمل مذہبی ضا بطہ حیات کے تمام اصول و ضوابط، اقدار اور کردار کو نگلتے چلے جا رہے ہیں۔عیسائیت کا گلستان جمہوریت کے رہزنوں نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ عیسائیت کے پیشواؤں،مفکروں ،مدبروں اور اہل بصیرت روحانی دیدہ وروں کو اس فتنہ کا تدارک کرنا ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح القدس کی مقبولیت اور تعلیمات کو مسخ کئے جا رہے ہیں۔ یا اللہ عیسائیت کو منافقت کی زندگی سے نجات دلا ۔امین
۱۶۔ عیسائیت کے منکر اور منافق اور جمہوریت کے متولی دنیا میںانسانیت کے قتال کے وارث بن گئے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی طیب اور مقد س ہستی کو دنیا میں بری طرح رسوا اور ان کی تعلیمات کے معجزات کو مسخ کر کے رکھ دیا۔ دلوں اور روحو ں کو تسخیر کرنے والا علم اور عمل ان بے دین رہزن رہنما ؤں ، عدل کش سیاست دانوں اور مادہ پرست ظالم حکمرانوں نے اپنے اپنے ممالک میں اس کی برتری کو سرکاری طور پر منسوخ کر دیا۔ جس کی وجہ سے دنیا کی بے ثباتی کے آشنا مادیت کی دلدل میں پھنس کر رہ گئے۔ ترکِدنیا اور انسا نیت کیلئے بے ضرر عیسائیت کے پیروکاردنیا کے بد ترین دہشت گرد،دھوکہ باز، منافق اور انسانیت کے قاتل بن کر ابھرے۔ انسانیت کو تباہ اور نیست و نابود کرنے والی اسلحہ سازی ان کی معیشت کا ذریعہ بن گئی ۔ عیسائی دنیا میں ہر قسم کے قتل و غارت کے غاصب رہنما بن کر ابھر ے ۔ عیسائیت کے مذہبی پیشواؤں اور روحانی طیب ہستیو ںجو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات اور ان کی تعلیمات کے اصل معتقد ین اور وارث ہیں۔ ان کو اس ظالم غاصب جمہوریت کے نظام اور نظریات کو روکنا اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ضابطہ حیات کی تعلیمات کی قندیلوں کو روشن و منور کرنا ہو گا ۔ ان کے ممالک کے عوام کو پوری انسانیت اور مخلو ق خدا کو خوفناک مہلک اسلحہ اور ایٹم بموں کے ٹکرانے کے بد ترین عمل سے بچانا ہوگا ۔ ورنہ یہ کائنات ایٹمی جنگ کے بعد خاکستر اور مخلوق خدا مسخ ہو کر رہ جائیگی۔یا اللہ۔مخلوق خدا پر رحم فرما اور مذاہب کی تعلیمات اور نظریات کی منزل کا راستہ عطا فرما۔امین
۱۷۔ یہ جمہوریت کے فرعو ن دنیا میںجنگ کے شعلے بھڑکا چکے ہیں۔ جس کے اثرات ملک ملک پھیلتے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی انسان گاڑی میں ہو یا جہاز میں ،بازار میں ہو یا گھر میں ،ان کے پیدا کردہ دہشت گرد اور خود کش حملہ آور ان معصوم اور بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام کئے جا رہے ہیں ۔ ان کی اپنی ہی بیشتر خفیہ ایجنسیاں یہی قتل و غارت کا کام کرتی چلی آرہی ہیں۔ دنیا بھر کا امن عامہ یہ بد نصیب تباہ کر چکے ہیں۔ مذہبی پیشواؤں اور روحانی طیب ہستیو ں اور عیسائیت کے پیروکاروں کو اس نازک گھڑی میںاب غور وفکر کرنا ہوگا۔ جمہوریت کے غاصب ظالم ،عدل کش نظام حیات سے نجات حا صل کرنا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قائم کرنے اور مذہب کی سرکا ری بالا دستی کے
نفاذکیلئے رہنما اصول نافذ کرنا ہونگے۔ اس طیب، پاکیزہ فریضہ کو ادا کرنا ہوگا۔ اسلامی مذہبی نظریاتی قیادت اور عیسوی نظریاتی قیادت کے وارث قائد ہی جمہوریت کے فرعونی نظریات سے نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔یا اللہ تیرے گھر میں کسی قسم کی کمی نہیں۔تو اپنی مخلوق پر رحم فرما۔ہمیں شر کے عذاب سے نجات عطا فرما۔دنیا کو امن و آشتی کا گہوارا بنا۔آمین