To Download PDF click the link below

 

  اس جہان رنگ و بو کی تہذیبی عمارت میں مذاہب کی روشنیاں۔ فرعون اور یزید کے نظریات پر مشتمل جمہوریت کی تعلیم و تربیت کے ظلمت کدہ میں گم ہو چکی ہیں۔
عنایت اللہ
۱۔ اے داؤد علیہ ا سلام! آپ پر خدا وند قدوس کی رحمتیں نازل ہوں۔اے موسیٰ کلیم اللہ! آپ کے عصا مبارک اور ید بیضا کے قربان جاؤں۔اے عیسیٰ روح اللہ! آپ کے روح القدس ہونے، مردوں کو زندہ کرنے کے معجزوں اور آپکے بیمار انسانیت کو شفا عطا کرنے کے صدقے جا ؤ ں۔اے محمد الرسول ا للہﷺ !آپکے رحمت اللعالمین ہونے اور سارے دشمنوں کو معاف کرنے کے عمل پر جاں نثار کروں۔ اے باری تعالیٰ تیرے رشد و ہدایت کے روشن چرا غوں یعنی زبور شریف، تور یت شریف، انجیل شریف اور قرآن شریف جیسے الہامی صحیفوں کے واری واری جاؤں۔اللہ تعالیٰ نے ان طیب ہستیوںکو کن کن خوبصورت،دلکش اور دلربا اسموں سے پکارا ہے۔آپ سب کو اللہ تعالیٰ نے ان الہامی کتابوں کا وارث بنا کر اس دار الفناہ کی عقدہ کشائی اور انسانیت کی رہنما ئی کیلئے بھیجا۔آپ کی کتابیں روحانی اور الہامی نصاب کی تعلیمات کی قند یلو ں سے بھری پڑی ہیں۔آپ پر نازل ہونے والے آسمانی صحیفے انسانیت کیلئے ایک فطرتی ضابطہ حیات ایک لاثا نی نظریات ایک لا جواب طرز حیات پر مشتمل تعلیمات کے الہامی نور سے اپنے اپنے ادوارکے جہالت کے اندھیروں کو روشن و منور کرتے رہے۔آپ کی تعلیما ت کے فیض سے انسانیت روحا نیت کی پر سکون آغوش میں امن و سلا متی کی پناہ گاہ میں زندگی بسر کرتی رہی۔آپکی توحید پرستی کی عبادات اور خدمت خلق کے اصولوں پر تیار کیا ہوا کلچر انسانی تہذیبوں کی رہنمائی کے فرائض ادا کرتا رہا ۔آپ کے مہرو محبت کے درس کا میٹھا میٹھا روحانی نور انسا نوں کے دلوں میں روشنیاں اور لطف و قرار مہیا کرتا رہا ۔
۲۔ اس ظلمت کدہ کی تہذیبی عمارت میں مذاہب کی روشنیاں جہالت کی تاریکیوں کو ختم کرتی رہیں۔لیکن وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ ابن آدم سے کوئی ایسی بھول ہوئی،کوئی ایسی غلطی سر زد ہوئی یا اپنی جانوں پر کوئی ایسا ظلم کر بیٹھا کہ اس کی زندگی گمراہی اور تباہی کے اندھیروں میں گم ہوتی چلی گئی۔ انسان مادہ پرستی کے صحرا میں گم ہوتا گیا۔ اقتدا ر اور ہوس زر کی جنگ کا ایندھن بنتا چلا گیا۔خیر کی منزل کا مسافر شر کی منزل پر گامزن ہوتا چلا گیا۔ عدل و انصاف کے میزان کو قائم کرنے والا ناانصافی اور عدل کشی کے ظلم میں مبتلا ہوتا چلاگیا۔ وہ ان پاکیزہ،طیب اور مقدس ہستیوں اور ان کے روحانی نور ا نی علوم سے کیسے اور کیوں منہ موڑتا چلا گیا۔ نمرود، فرعون،ہامان،شداد، اور یزید کے ملوکیت اور آمریت کے نظریات اور ان کی تعلیمات کے اذیت ناک شکنجوں اور گرفت میں کیسے جکڑ تاچلا گیا۔یہ کس نسل کے لوگ ہیں۔جنہوں نے روح القد س اور رحمت اللعا لمین ﷺ کی تعلیمات، ان کے ضابطہ حیات،ان کے نظریات کو منسوخ اور معطل کر کے ان کو کلیسا اور مسجد کی چار دیواری میں مقید کر دیا ہے۔یہ کیسے فرعون اور یزید کے اصول وضوابط پر مشتمل جمہوریت کے باطل ،غاصب دانشو ر وں کے تیار کئے ہوئے نظریات اور تعلیمات کو ملکوں پر سرکا ری طور پرسرفرازی سے نوازتے جا رہے ہیں۔ اور ان کی بالا دستی قائم کر دی گئی ہے۔دوسری طرف پیغمبران کے نظریات کی سرکاری سرفرازی اور ملکی سطح پربالادستی کو کیسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ عیسیٰ خان اور محمد دین کے مذہبی نام تو قائم رہے ۔لیکن ان سے ان کے مقدس ضا بطہ حیا ت ، مذہبی نظریات،ان کا الہامی اور روحانی تعلیمی نصاب اور ان کے تعلیم و تربیت کے مذہبی اداروں جیسی انمول وراثت کو کیسے چھین لیا گیا ہے۔ان کی ر وحانی مذہبی درسگاہوں کو کیسے منسوخ اور مفلوج کر دیا گیا ہے۔ جس سے ان کی عبادت گاہوں کی روحانی تا ثیروں اور مخلوق خدا کی خدمت کے جذبوںکو بری طرح متاثر اور ختم کر دیا گیا ہے۔حتی کہ اب پوری انسانیت ان کے فیض سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہے۔
۳۔ گلوبل لائف کے ممالک کا معاشی اور معاشرتی نظام جن قوتوں کے کنٹرول میں ہے۔ انہوںنے طاقت ،اقتدار اور ملک پر حکمرانی حاصل کرنے کیلئے ایک خود ساختہ فرعونی سیاسی جمہوری معاشی نظام ترتیب دیا۔ اور ایک یزیدی معاشرتی سسٹم رائج کر لیا ۔ سب سے پہلے وہ ملکی وسائل اور معا شی طاقت کو عوام الناس سے چھینتے اور ہر جائز و ناجا ئز ذریعہ سے اکٹھا کرتے ہیں۔ان وسائل اور معاشی طاقت کو بروئے کار لا کر، معاشرے کی انفراد ی اور اجتماعی زندگی پر مشتمل عوام الناس پر اپنی بالا دستی اور فوقیت قائم کر لیتے ہیں۔معاشی خوشحالی اور مادی وسا ئل کی برتری کی بنیاد پر و ہ جمہوریت کے الیکشنوں میں حصہ لیتے ہیں ۔نشر و اشا عت اور دیگر ذرائع ابلاغ پر ہر قسم کے اخراجات برداشت کرکے الیکشنوں کی بازی جیت کر ملکی اقتدار میں شامل ہو جاتے ہیں۔ان کی کوالیفیکیشن مادی اور معاشی برتری پر مشتمل ہوتی ہے۔اس طرح یہ غاصب طبقہ ملک کے اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے۔
۴۔ اسی مادی طاقت اور معاشی وسائل کی برتر ی کے سبب ان کا معاشر ے میں اثر و رسو خ بڑھتا اور قائم ہوتا جاتا ہے۔جتنا اثر و رسوخ بڑھتا جائیگا اتنا ہی ان کا دائر ہ احباب بھی بڑھتا اور مضبوط ہوتا جائیگا۔طبقاتی سطح پر یہ عمل جاری رہتا ہے ۔اپنے اپنے طبقہ میں وہی الیکشن کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ جن کی مالی استطا عت دوسروں کی نسبت بہتر اور اچھی ہو گی ۔ طبقا تی لحاظ سے حکومتی سطح پر وہی لوگ نائب ناظم،ناظم ا و ر ضلعی ناظم بنیں گے۔ اور اسی طرح ایم پی اے،ایم این اے اور سینٹ کے ممبران کا بھی وجود قائم ہوتا جائیگا۔اسی معاشی طاقت اور معاشر تی برتری کی بنا پر طبقاتی وز یر، مشیر،سفیر،وزیر اعلیٰ ،گورنر،وزیر اعظم اور صدر کے سرکاری عہدوں پر بالترتیب فائز ہوتے جاتے ہیں۔اس وقت دنیا میں مغربی جمہوریت ہی ایک ا یسا نظام حکومت اور نظام وسسٹم ہے۔ جو دنیا میں رائج پذیر ہے۔جس نے پوری دنیا کا احا طہ کر رکھا ہے۔ اس کے نظریات پر مشتمل ضابطہ حیات دنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کے سیاسی معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں نے کمال ہنر مندی سے مذاہب کے نورانی نظریا ت پرجمہوریت کے ظلمات پر مشتمل نظریات کو اپنے اپنے ممالک میں سرکاری برتری اور فوقیت دے کر مخلوق خدا کو گمراہی کے اندھیروں میں پھینک دیا۔ مذاہب کو کلیسا اور مسجد میں مقید کردیا۔ اور ان پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
۵۔ دانائے وقت اورصاحب بصیرت مذہب پرست انسان کا ووٹ اور ایک جاہل،مادہ پرست معاشی رہزن کے ووٹ کو برابر کا درجہ دے دیا گیا۔ انسانی فلاح کا دروازہ انسانیت پربند کر دیا گیا۔ جمہوریت نے افراد کی گنتی کی ،اعلیٰ و افضل اقدار اور کردار کے افراد کو حکومتی سطح پر ناپید کر دیا۔ جمہوریت کے الیکشن آمروں اور معاشی غاصبوں کی سپرداری میں دے دئیے گئے۔ اس کے ذریعہ نچلی سطح یعنی یونین کو نسل سے لے کر ضلعی ناظم تک اور صوبائی اسمبلیوں سے لے کرقومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران تک تما م ارکان الیکشن کے ذریعہ چنے جاتے ہیں۔ان ارکان میں سے الیکشن میں کامیا ب سیاسی جما عتیں حکومتیں ترتیب دیتی ہیں۔اس طرح ملک کا نظام اور سسٹم ان سرمایہ داروں ،جاگیر داروںاور آمروں کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اور وہ اپنے اپنے ممالک میں حکومتیں بناتے اور ان کو چلاتے چلے آرہے ہیں۔
۶۔ ان تمام سیاسی جماعتوں میںسے اگر کوئی ایک سیاسی جماعت بھی ایک واضح اکثریت حاصل نہ کر سکے۔تو ملک میں مختلف نظریات پر مشتمل سیاسی جما عتیں مخلو ط حکومتیں تشکیل دیتی ہیں ۔ہارس ٹریڈنگ اور ممبران کی خرید وفروخت کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ حکومتیں انتشار کا شکار ہوتی اور نئی حکومتیں معرض وجود میں آتی رہتی ہیں۔ملت کی ملی وحدت کو ختم کرکے جمہوریت کی بے دین طرز حکومت کی روشنی میں ملت کو ریزہ ریزہ کر دیا جاتا ہے۔اخلاقی اقدار کو غیر اخلاقی اقدار کے روح سوز ظلم میں سے گذرنا پڑتا ہے۔ حکومتیں بنانے کیلئے ہارس ٹریڈنگ ہوتی رہتی ہے۔ بھاری رشوتیں چلتی ہیں۔ وزارتوں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے۔ اعلیٰ کمائی والی اور مؤثر وزارتوں کی تقسیم بھی ہوتی رہتی ہے۔وزارتوں کی تعداد حسب ضرورت بڑھائی جاتی ہے۔ حکومتیں نئے نئے گل کھلاتی اورگٹھ جوڑ سے ا یک دوسرے کی ٹا نگیں کھینچتی رہتی ہیں۔ ملکی خزانہ ،خزانے کے امین رہزنوں کی طرح لوٹتے رہتے ہیں۔ عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں ،بجلی،پانی،گیس اور ٹیلیفون کے بلوں اور ان کے اضافوں کے معاشی کینسر میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں ان حکمرانوں کے درمیان دولت اور اقتدار کی جنگیں جار ی رہتی ہیں۔
۷۔ اقتدار کی اسی جنگ نے پہلے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میںتبدیل کیا۔ اورقتل و غارت کی انتہا کر دی۔ اس کے بعد ان کے ظلم کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ون یونٹ توڑ کر بقایا پاکستان کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا۔قوم کے ان غدا رو ں،ان سیاسی دہشت گردوں اور رہزن رہنما ؤ ں نے ہوس زر اور ہوس اقتدار کی جنگ میں ملک کو دو لخت کر دیا ۔ اس کے بعد آدھے پاکستان کو چار پاکستانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ملت کو بے بس اور بے حس بنا دیا گیا۔ لیکن ملت کی بے حسی اور غفلت کی انتہا ایک طرف اور دوسری طرف ملت کو جمہوریت کے آہنی قانونی شکنجوں میں کیوبا کے قیدیوں کی طرح قانونی پنجروں میں انہوں نے بند کر رکھا ہے ۔ جمہوریت کے بے دین فرعونی نظام اور عدل کش یزیدی سسٹم کو توڑنے کی عوامی طاقت یا سکت ان ظالم حکمرانوں نے سلب کر رکھی ہے۔اب ان سے یہ طاقت واپس لینا امت محمدی ﷺ کے فرزندان کا اہم فریضہ بن چکا ہے۔
۸۔ اب پاکستان کا وجود نصف رہ گیا۔ لیکن ان رہزن سیاسی رہنماؤں اور ان کے سیاسی مشیروں اور افسر شاہی اور منصف شاہی کے دانشوروں کا کمال دیکھئے کہ انہوں نے بڑی ہنر مندی سے ون یونٹ توڑ کر ملک کا نیا سیاسی ڈھانچہ تیار کیا۔موجودہ پاکستان کو چار صوبوںیعنی چار پاکستانوں میںتقسیم کر دیا۔ چار پاکستانوں کے چار وزیر اعلیٰ، چار گورنر،بیشمار وز یر‘ بے شمار مشیر، بے شمار سفیر ان کے ساتھ انگنت افسر شاہی، منصف شاہی اور نوکر شاہی کی سرکاری افواج نے ملکر ملک کی وحدت کو صوبوں کی شکل میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔ ملک کے وسائل ،ملک کا خزانہ،ملک کی تجارت اور ملک کے سرما ئے کا رخ اپنے محلوں کی طرف موڑلیا۔ انہوں نے اپنے اپنے صوبے کی ملکیت حاصل کر لی۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی ان ظالم۔غاصب سیاستدانوںاور ان کی نسلوں کیلئے معاشی خوشحالی اور معاشرتی برتری کا سبب بنی۔وزارتوںاورافسرشاہی اور منصف شاہی کا جال ملک میں پھیل گیا۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے کمبا ئنڈ وزیروں،مشیروںاور سفیروں کی تعداد گن لیں اورآج کے نصف پاکستان کے وزیروں ،مشیروں اور سفیروں کی تعدا د گن لو۔ ان کی اولادوں پر مشتمل افسر شاہی نوکر شاہی اور منصف شاہی کی افوا ج کی تعداد گن لو۔ ان کے اخراجات کے بجٹ کو دیکھ لو۔ان کے گاڑیوں کے خرید کے بجٹ کو دیکھ لو، ان کے پٹرول اور مرمتو ں کے بلوں کو دیکھ لو۔ان کے ٹیلیفون کے بلوں کو دیکھ لو۔ان کے دفاتر کی بلڈنگو ں اور ڈیکور یشن کے اخراجات کو دیکھ لو۔ان کے رشوت،کمیشن،کرپشن کے طریقہ کار کو دیکھ لو۔ عدلیہ کو دیکھ لو جو جھوٹے مقدموں کی سماعت کرتی رہتی ہے۔ اور سچے مقدموں کو جھوٹے قرآن پاک اٹھا نے پر مجبور کرتی ہے۔ سچی بات کرنے سے کیس ڈسچا ر ج کر دیتی ہے ۔عدالتوں میں انصاف داشتہ کی طرح بکتا اور خریدا جاتا ہے۔ کیسوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ سے ان کی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ یہ سب مل کر ملک کا تمام کا تمام بجٹ چاٹنے میں ۔اور کرپشن سے عوام الناس سے دولت چھیننے میں مصروف چلے آ رہے ہیں ۔جتنی یہ اعلیٰ نسل کی کرپٹ سرکاری غیر ضروری فوج اسمبلی ممبران اور افسر شاہی اور منصف شاہی کی بڑھتی جاتی ہے۔ اتنا ہی ملکی خزانہ اور ملکی وسائل ان کی ملکیت میں تقسیم ہوتے جاتے ہیں۔تیسرے درجے کی تما م پوسٹیں ختم کی جارہی ہیں اور ان کو گزیٹیڈ پوسٹوں میں کنورٹ کیا جا رہا ہے۔اب ملک میں صرف برہمن اور شودر ہی بسیں گے۔ ملک میں رشوت ،کمیشن اور کرپشن بھی اسی لحاظ سے پھیلتی جاتی ہے۔ملت ایک ایسے قائد کی منتظر کھڑی ہے ۔جو آگے بڑھے اور اس باطل جمہوریت کے نظام کو پاش پاش کرے۔ اور دین محمدیﷺ کے اعتدال و مساوات کی شمع کو روشن کرے۔ ان کے روز مرہ اخراجات کو ایک کسان، ایک محنت کش کی سطح پر لائے۔ اور ان سے چھینی اور لوٹی ہوئی دولت خزانہ میںجمع کرائے۔ ملک کا تمام قرضہ ایک دن میں اتر جائیگا ۔اور لوگ خوشحالی کی زندگی گذار سکیں گے۔ یا اللہ تو ظلمات کو نور کی روشنی عطا فرما اور ان غاصبوںکو راہ ہدایت بخش ۔امین۔
۸۔ ایک طرف ان کی تعداد بڑھتی رہتی ہے اور دوسری طرف ان کی تنخواہیںاور بیشمار سرکاری سہولتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ایک طرف ان کی تعیش پسندانہ زندگی ہوتی ہے اور دوسری طرف چودہ کروڑ مظلوم اور مفلوج عوام جو زندگی کا سانس لینے کیلئے تڑپتی رہتی ہے۔ ان کی نسلوں کیلئے ا نگلش میڈیم اور ایچی سن جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے ۔ ۷۰ فیصد کسانوں کے لئے پورے پاکستان میں نہ کوئی انگلش میڈ یم ادارہ اور نہ ہی کوئی ایچی سن کالج ، نہ ہی پورے ملک میں کوئی ایک یونیورسٹی آج تک ان دیہی علاقوں میں تعمیر کی گئی۔ اور نہ ہی کوئی موجود ہے۔ اور ۲۹ فیصد مز دو رو ں ، محنت کشوں اور ہنرمندوں اور غریب عوام الناس کے پا س نہ کوئی اعلیٰ قسم کے اخرا جات کی توفیق اور نہ ہی ان کے پاس یہ تعلیم ۔ نہ ہی ان کی مرسڈیز اور لینڈ کرو زر گاڑیا ں اور نہ ہی ان گاڑیوں کیلئے موٹر وے،ہائی انڈس وے۔ نہ ان کیلئے ائیر پورٹس اور نہ ہی ہوائی جہاز کے اخراجات۔ یہ ان تمام ملک میں پھیلی ہوئی سہولتوں کو دیکھ سکتے ہیں ۔ نہ وہ ان کو ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ اور نہ ہی انہیں زندگی بھر استعمال میں لا سکتے ہیں۔ یہ تو صرف گاؤں کی پکڈنڈیوں پر چل سکتے ہیں ۔ ان کے شاہی محلوں میں فرانس کامصفا پانی۔ شاہی دسترخوان اور شاہی اخرا جا ت ۔ ملک کے وسائل ہضم ،ملک کا خزانہ ہضم،ملک کے قرضے ہضم ۔ملک اور ملت ۳۸ ارب ڈالر کے مقروض ۔ ان کے سرے محل ، رائیونڈ ہاؤس ، شاہی پیلسز ۔لیکن کسانوں کیلئے صحرا ؤ بیا باں اور ریگستانوںمیں تپتی ریت،آگ اگلتا سورج ،پانی کی شدید کمی،بھوک اور ننگ سے دو چار اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا ۔ کیو نکہ ملک کے حکمرانوں کے پاس ملک کا اقتدار اور خزانہ کی چابیاں موجود ہوتی ہیں۔یہ آپس میں نورا کشتی لڑتے رہتے ہیں۔مال غنیمت کا تصرف ان کی ملکیت بنتاجاتا ہے ۔ انتظامیہ اور عدلیہ ان کی حفاظت پر معمور ہوتی ہیں۔یہ سب مل کر ملک میں معاشی اور معاشرتی غدر مچائے چلے جا رہے ہیں۔یہ سب حالات و واقعات ایک دیدہ ور قائد کے متلاشی ہیں۔جو متاع ارضی کی تقسیم کو عدل کا جام پلا سکے۔تا کہ ملت اور دنیائے عالم اس باطل نظام کا خاتمہ دیکھ سکیں۔یا اللہ تو کار ساز جہاں ہے۔تومسلم امہ اور پوری انسانیت پر رحم فرما ۔ فرعون اور یزید کے نظریات کی بالادستی سے نجات دلا۔آمین۔
۹۔ ملک کے چودہ کروڑ انسانوںکا تمام مال متاع اور تمام خزانے اور تما م وسائل کی چابیاں ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ یہ کیسے عجیب رہزن ہیں،یہ کیسے بددیانت امین ہیں۔ ذرا ٹھہر جاؤ۔ فطرت اوریہ ملت ان سے پورا پورا خوب حساب چکائے گی۔ ان پر خدا کا بھیانک عذاب آنیوالا ہے۔ انہوں نے یہ تمام مال و متاع کوئی ہل چلا کر، کوئی راج گیر ی، مزدوری کرکے یا ٹوکری اٹھاکر یا کوئی پتھر کوٹ کر یا کوئی سڑک بچھا کر یا کوئی پلمر کا کام کر کے یا کوئی چپڑاسی، مالی، چوکیدار، ڈرائیور، کلرک ، بیٹمن،سپاہی سے ترقی کرکے افسر شاہی،منصف شاہی، وزارتیں،مشاورتیں اور صدارتیں حاصل نہیں کیں۔یہ تو استحصالی طبقہ کے مسلم امہ کے معاشی اور معاشرتی قتال ہیں۔ جن کایہ سب مال و متا ع،یہ سب ملیں،یہ سب فیکٹریاں،یہ سب کارخانے، یہ سب شاہی محل،یہ سب گاڑیاں یہ سب کاروبار،یہ سب شاہی اخراجات انہوں نے اقتدار کی نوک پر جرائم کا ارتکاب کرکے اور عوام پر ظلم کر کے سرکاری خزانے کی امانتوں کو اپنی ذاتی وراثتوں میں منتقل کرواتے چلے آرہے ہیں۔یہ بدقماش ایک دوسر ے کو احتسا ب کے نام پر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔یہ تمام معا شی اور معاشرتی کرشمہ سازیاں جمہوریت کے ملوکیتی طرز حکومت کی پیداوار ہیں۔جو دین کے اعتدال و مساوات اور امانت و دیانت کے اصولوں کو نگل چکے ہیں۔ انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ ایک اور صرف ایک دینی قائد اس ملک کی بگڑی ہو ئی تقدیر کو سنوار سکتا ہے۔اس ملک کی دینی قیادت دنیا میں فلاح و بہبود، اخوت و محبت،عزت و احترام ا ور ادب کی دولت کو پوری انسانیت تک پھیلا سکتی ہے۔یا اللہ تو ان غاصبوں کو نور ہدائیت عطا فرما۔ان پر رحم فرما ۔ان کو معاف فرما۔امین۔
۱۰۔ جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے۔ جس کے اصول و ضوابط اور تمام قوانین اسمبلیوں کے ارکان اسمبلی کے ذریعہ پاس کرتے،قانون کی شکل دیتے اور ملک میں رائج کر دیتے ہیں۔یہ کھیل اسمبلیوں کے ارکان کھیلتے رہتے ہیں اور عوام ایک خاموش تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ارکا ن اسمبلی کوعوامی نمائندہ ہو نے کی حثیت سے ان کو کلی اختیار حاصل ہو جاتے ہیں۔کہ وہ اندرونی اور بیرونی ملکی پالیسیاں اور قوانین مذاہب کی تعلیمات اور نظریات کو بالائے طاق رکھ کر مرتب کریں۔ اس طرح جمہوریت کی گاڑی اپنا حکومتی سفر جاری رکھتی ہے۔ عوام النا س کا ضابطہ حیات جمہوریت کے فرعونی اور ملوکیتی نظریات کی روشنی میں قانو ن ساز ی کے ذریعہ پروان چڑھتا جاتا ہے۔جمہوریت کے نظریات کی تعلیم و تربیت اور اس کے سکولز کالجز اور یونیورسٹیاں پاکستان میں اسلامی نظریات اور اس کی تعلیم و تربیت کو نگلتی جا رہی ہیں۔آنے والی نسلیں جمہوریت کے باطل اور غاصب کردار میں ڈھل چکی ہوں گی۔ جمہوریت کی بالادستی مذاہب کی آفاقیت کو روندتی چلی جا رہی ہے۔ہے کوئی مرد حق جو اس فتنہ کو روکے اور پوری انسانیت کو اس المیہ سے نجات دلا سکے۔
۱۱۔ کسی بھی قوم یا ملت کے ضابطہ حیات کی عمارت اس کے نظریات پر تعمیر ہوتی ہے۔ ان سے ان کا کلچر اور تہذیب پروان چڑھتا ہے۔ جس ملک و ملت کے عوام کا منشور اور ضابطہ حیات انجیل شریف اور قرآن شریف کے نظریات پر مشتمل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول و محبوب پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور محمد الرسول اللہ ﷺ پر یہ صحیفے نازل فرمائے ہوں۔ ان کے دینی ،مذہبی،الہامی اور روحانی نظریات عیسائیت اوراسلام کے تابع فرمان ہوں ۔ اور ان کے مذہب اور دین کے نظریات کے متضاد اور برعکس جمہوریت کے دانشوروں کے ملو کیتی نظریات پر مشتمل ان کے ممالک میں حکومتیں قائم ہو ں ۔ان کا کاروبار حیات اور نظام حکومت چلانے کیلئے وہ مکمل آزاد ہوں۔وہ عیسا ئیت اوراسلام کے نظریات اور ان کی تعلیمات کے خلاف ملک کے اصول و ضوابط اور قوانین مرتب اور نافذالعمل کرتے جائیں ۔ اب جو نظریا ت اور جو قوانین اور جو اخلاقی طریقہ کار اور جومعاشی اور معاشرتی اقدار اور جو ضا بطہ حیات کے اصول و ضوابط اسمبلیوں کے ذریعہ ارکان اسمبلی تیار کرتی جائیں گی۔ حکومتی نظام چلانے کیلئے اسی کے مطابق ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ اور عوام کی تعلیم و تربیت کرنا حکومتو ں کی بنیادی ضرورت بنتی جائیگی۔ اس کے لئے تعلیمی نصاب مرتب کرنا اور حکومت کی ضرورت کے مطابق عوام کی تعلیم و تربیت کرنا اور ان کے لئے سکولز ،کالجز، یونیورسٹیاں اور ہر قسم کے تعلیمی ادارے ملک میں قائم کرنا حکومتی ضرورت کا ایک اہم حصہ بنتا جائے گا ۔
اس وقت دنیا میں جمہور یت کا تعلیمی کارواں پرائمری سے لے کر پی ایچ ڈی تک جمہوریت کا سلیبس تیا ر کرواتا چلا آرہا ہے۔ عیسائیت اور اسلام کے ماننے والوں کا کردار جمہور یت کے بے دین ضابطہ حیات میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ جب تمام ضابطہ حیات اور تمام نظام حیات تا بع فرمان جمہوریت ہوں۔ جمہوریت کے نظریات کی بالا دستی سرکاری طور پر عیسائیت اور اسلام کے نظریات کے پیروکاروں پر مسلط کردی جائے۔ ان کے ممالک میں عوام الناس جمہوریت کے کوڈآف لائف اور نظریات کے مذہب میں ڈھلتے چلے جائیں ۔ تو عوام الناس خود کار نظام کے تحت جمہوریت کے سرکاری مذہب کے پیروکار کی حیثیت اختیار کرتے چلے جائیں گے ۔ ان سے یہ احساس زیاں بھی ختم ہو تا جائے گا کہ ان کے مذہبی دینی نظریات کی سرکاری طور پربالا دستی قائم ہو۔یہاں تک کہ جمہوریت کے فرعونی نظریات پر مشتمل قوانین کی روشنی میں معصوم و بے گناہ انسانوںکا بے جا قتال، عام جنگوں کو طول دے کر ایٹمی ٹکراؤ کا آخری عذا ب ان پر ناز ل کر دیں۔ خدا را ذرا غور تو کر لو ۔کہ تم اپنے برگذیدہ، طیب ، مقدس اور محبوب و مقبول ہستیو ں کی تعلیمات،اخلاقیات اوران کے کردار اور ان سے عملی طور پر انحراف کیوں کر تے چلے جا رہے ہو۔ تم کیسے عیسائی اور کیسے مسلمان ہوکہ تم اپنے محبوب پیغمبران کی مقدس الہامی کتابوں کی تعلیمات کو اور ان کے ضابطہ حیات اور ان کے نظریات کو اپنے اپنے ممالک میں سرکاری طورپر منسوخ اور مسترد کئے بیٹھے ہو۔تم کس ہیبت ناک نفرتوں اور نفاق کے فتنہ کے شکار ہو چکے ہو۔ اس تباہ کن انسانیت کش فتنہ کو کس نے روکنا ہے۔ آؤ مل کر اس المیہ کا تدارک کریں۔ اس عذاب ناک فتنہ کو روکیں۔یا اللہ ہمیں ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین۔
۱۲۔ اس جمہوریت کے نظریات ،ضابطہ حیات اور نظام حیات کے وارث کون ہیں۔اس نظام پر بالادستی کن قوتوں اور لوگوں کی ہے۔کیایہ لوگ عوام النا س کے غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔کیا یہ ایماندار اور دیانتدار ہیں۔ یا یہ سرمایہ دار، جاگیر دا ریا نمرود، فرعون ۔ہامان ،شداد یا یزید کے طبقہ کی نسلوں کے لوگ ہیں ۔ جمہوریت کے حکمرانوںنے کمال ہنر مندی سے پوری انسانیت کو جمہوریت کے نظریات،اس کے ضابطہ حیات کی سرکا ری برتری اور حکومتی سطح پر اس کی بالا دستی کی تلوار سے روح القدس کی انجیل مقدس اور نبی کریمﷺ کے قرآن پاک کے نظریات اور ضابطہ حیات کے ملی جسد کو کاٹ کر رکھ دیا ہوا ہے۔ تمام الہا می صحیفوں کی تعلیمات، تعلیمی نصاب اور ان کی تربیت گاہوں کو سرکاری طور پر ان کو منسوخ اور معطل کر کے ان کوکلیسااور مسجد میں مقید کر کے ان کو بے اثر بنا رکھا ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کی امت ہو یاحضرت موسیٰ علیہ السلا م کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت ہو یاحضرت محمدالرسو ل للہﷺ کی۔ عیسائی ہوں یا مسلمان، جمہوریت کے دانشورو ں نے ان کے ممالک یعنی انہی کے گھروں میں ہی ان کے محبوب و مقبول پیغمبران کی نظریا تی سرپرستی سے ان کی امتوں کو محروم کر دیا ۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ان کی امتوں کو ان کے تعلیمی نصا ب سے محروم ،ان کی تعلیم و تربیت سے محروم۔ان کے تعلیمی ادا رو ں سے محرو م۔ان کے اخلاق و کردار سے محروم۔ان کی اخوت و محبت کے درس سے محروم ۔ان کے عزت و احترام کے سلیقہ سے محروم ۔ان کے خدمت و ادب کے فطرتی اصولوں سے محروم ۔ان کے خلق عظیم سے محروم ۔ ان کی شفقتوں اور پیار سے محروم ۔ ان کے اعتدال و مساوات کی تعلیم سے محروم ۔ ان کے عدل و ا نصاف کے پیمانہ سے محروم ۔ان کے فیض وبرکات کی شمولیت سے محروم۔ان کے عفو و در گذر کی رہنمائی سے محروم،ان کے درس و تدریس کی عبادت سے محروم۔ان کی تیمارداری کے انداز سے محروم۔ان کے زخموں پر مرہم پٹی اور علاج معالجہ کے عمل سے محروم۔ان کے بیماروں اور لاعلاج مریضوں کے شفا عطا کرنے کے معجزوں سے محروم۔ان کے فلسفہ ء حیات و ممات کی آگاہی سے محروم ۔ ان کی دنیا کی بے ثباتی کے درس سے محروم۔ان کے عرفان سے محروم۔ان کی قلیل ضرور یات اور جلیل مقاصد والی زندگی کے انوار سے محروم۔ ان کے انسانیت دوستی کے روشن روحا نی چراغوں سے محروم۔ان کے بھوکوں کو کھاناکھلانے، پیاسوں کو پانی پلانے والے انسانوں کی شفقتوں سے محروم ۔ ان کے دلوں کو راحت دینے والے عمدہ اعمال سے محروم۔ان کے اسو ہ حسنہ کے روشن پہلوؤں کی افادیت سے محروم۔ان کے نورانی ضابطہ حیات کے فیض سے محروم کرنے والے واقعات اور اسباب جنکی وجہ سے یہ مذہبی ، دینی فتنہ رو نما ہوا۔ان کو روکنا اور ان کا تدارک کرنا اور اس کار خیر میں حصہ لینا مذہبی پیشواؤں اور الہامی رہنماؤں کا طیب فریضہ ہے۔آؤ مل کر اس کار خیر کے عمل کو سر انجام دیں۔یا اللہ تو اس عمل کی توفیق عطا فرما۔ یا اللہ ہمیں ایسا قائد عطا فرما جو ان ظالم،غاصب معاشی اور معاشرتی رہزنوں اور قاتلوںسے نجات دلا سکے۔ امین۔
۱۳۔ آؤ! اس پر غور کریں۔ اہل بصیرت مذہبی پیشواؤں،وقت کے دیدہ وروں، اہل داعی انسانیت دوستوں، روحانیت کے پرستاروں اور مخلوق خدا سے پیار کرنے والوں کی توجہ ادھر دلانا نہائیت ضرو ر ی ہے۔کہ وہ اس مذہبی،دینی فتنہ اور المیہ کی طرف غور کریں۔اور اس کی وجو ہات معلو م کریں۔ ان کا تدار ک کرنے کیلئے کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کریں۔ جس سے یہ مذہب اور دین پر مسلط جمہوریت کا یہ فتنہ اور المیہ ختم ہو سکے۔ اور انبیا ء کرام کی روحانی تعلیما ت اور ان کے الہامی نظریات کو ملکی اور سرکاری سطح پر بالا دستی اور فوقیت دلائی جا سکے ۔ تاکہ جو انسانی نسل مذہبی الہامی تعلیمات اور نظریات کے نصا ب کی روشنی میں تیار ہو۔ اس کی سوچ،اس کی فکر،اس کی تربیت،اس کا کردار اور اس کا تشخص دینی نظریات کی شمع کا رول ادا کرسکے۔ یااللہ دنیا میں اس نور کی روشنی کو پھیلانے کی توفیق عطا فرما۔امین۔
۱۴۔ جمہو ریت کے نظام حکومت پر مشتمل ملک کے یہ سرما یہ دار اور جاگیردار پارلیمینٹ کے ممبران جو ملک میں ان چند افراد پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ الیکشنوں کے بعد ان کی اجارہ داری ملک و ملت پر قائم ہو جا تی ہے۔ جو جمہو ر یت کے سا ئے تلے ملوکیت کو پروان چڑھاتے چلے آ رہے ہیں۔یہ ملوکیتی ٹولہ حکمران بن کر اس ملک کے کروڑوں انسانوں کو دبوچ لیتا ہے۔ وہ ہر قسم کا ظلم اور ہر قسم کا معاشی اور معاشرتی قتال کرتا رہتا ہے۔ یہ غاصب طبقہ عیش و عشرت کی زندگی گذارتا اور ملی خزانہ کو نوچتا اور حسب خواہش اپنے استعمال میں لاتا چلا آرہا ہے۔ اور پوری ملت بے بس،اپاہج اور مفلوج ہو کر ان کو ایک تماشائی کی طرح دیکھتی رہتی ہے۔ یہ ظالم رہزن طبقہ ان کی معاشی طاقت چھین لیتا ہے ۔ سودی معا شی نظام رائج کرتا ہے۔طبقاتی تعلیم سے طبقاتی معاشرہ پروان چڑھا تا ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون سازی کرکے تھانے اور کچہری کے سرکاری کلچر کے ذریعہ اس نظام کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ملوکیت کی جمہوریت کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جاتا ہے ۔جو مذہبی نظریات اور اس کے تعلیمی نصاب کو نگلتی جاتی ہے۔اس طرز حکومت میں نمرود،فرعون اور یزید کے کردار تیار ہوتے چلے جا تے ہیں۔ملت نظریاتی انتشار اور انارکی کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے۔پوری کائنات اس مرد حر کی منتظر کھڑی ہے ۔جواس باطل نظام کوروند ڈالے اور ان کے کرداروں کو راہ راست دکھا سکے۔یا اللہ ہم پر رحم فرما ،ہم پر کرم فرمااور ہمیں اس عذاب سے نجات دلا ۔امین۔
۱۵۔ ان کا تدارک صرف اور صرف اسلام کے شورائی جمہوری نظام حکومت میں مضمر ہے ۔جہاں الیکشن نہیںسلیکشن کے ذریعہ ایماندار، دیانتدار،محنتی اور دین محمد ی ﷺ کے قریب ترین زندگی گذارنے والے نیک ،صالح اور اعلیٰ اہلیت کے مالک کو ملی خدمت کے فرائض ادا کرنے کیلئے چنا جاتا ہے۔وہ دستور مقدس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے نظام کو قائم کرتا ہے ۔خود بھی اس کی پیروی کرتا ہے۔ اور پوری ملت اور عوام الناس کو بھی اس کی اطاعت میں سے گذارتا ہے۔ وہ اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کا محافظ ہوتا ہے۔ نہ کسی کیساتھ زیادتی کرتا ہے اور نہ ہی کسی کی حق تلفی۔نہ ہی ملی دولت،ملکی وسائل اور قومی خزانہ لوٹا جاتا ہے ۔ اور نہ ہی فرعونی نظام کے صدارتی ہاؤس،وزیر اعظم ہاؤس،وزیر اعلیٰ ہاؤسز ، گورنرہاؤسز، وزیر ہاؤسز، مشیر ہاؤسز تیار ہوتے ہیں۔ اور نہ ہی سرے محل ، رائیونڈ ہاؤسز اور شاہی پیلسزکرپشن کے ذریعہ معرض وجود میں آتے ہیں۔ نہ کرپٹ افسر شاہی کی انتظامیہ اور نہ عدل کش عدلیہ کی تفاوتی تنخواہیں اور نہ ہی انگنت سرکا ری شاہی سہولتیں کسی کو میسر ہوتی ہیں۔ اور نہ ملکی خزانہ قرضوں کی شکل میں حکمرانوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اور نہ ہی ملی خزانہ سے قانون کے جرائم پر مشتمل کرپشن سے ملوں، فیکٹر یو ں اور کار خا نو ں کا جال اندرونی اور بیرونی ممالک میں معاشی رہزنوں اور معاشی قاتلو ں کا معرض وجود میں آسکتا ہے۔یا اللہ مسلم امہ کو اس ظلم وزیادتی سے نجات عطا فرما۔امین۔
۱۶۔ اسلام کے نام پر عوام سے ووٹ لینا ‘اور اسلام کش نظریات پر مشتمل جمہوریت کے نظام حکومت میں شامل ہوکر‘ مسلم امہ۔ کو جمہو ریت کے کافرانہ،ظالمانہ ، غاصبانہ اور طبقاتی تہذیب و تمدن میں ڈھالنے میں بر ا بر شریک ہونا‘ نام نہاد اسلامی جما عتوں کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ اس اسلامی مملکت پاکستا ن کو ان دینی سیاسی دہشت گردوں نے دوسری سیاسی جماعتوں سے ملکر دینی نظریا ت اور اس کی روحانی تعلیم وتربیت کا سرکاری طور پر قتل عام جاری کر رکھا ہے۔جمہوریت کی سرکاری بالا دستی کے بعد‘ اسلامی نظر یات ،اسلامی تعلیمی نصاب ،اسلامی طرز حیات،اسلامی تعلیمی ادارے، اسلا می تعلیم و تربیت،اسلامی تہذیب و تمدن ،اسلامی کلچر کو ختم کرنے اور اسلامی رو ح کو مسخ کرنے اور مسلما نو ں کا نام و نشان مٹانے کیلئے ملک میں رائج جمہوریت اور اس کی سیاسی جماعتوں اور دینی جماعتوں کے ہوتے ہوئے کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں۔ یااللہ ہمیں ان منافقوں سے نجات دلا اور ہمیں دین کی آغوش میںپناہ عطا فرما۔ آمین۔
۱۷۔ اے عیسائیت کے پجاریو!اے عیسیٰ روح ا للہ کے پرستارو!اے مخلوق خدا کی خد مت کے ہدی خوانو!اے روح ا لقدس کے معجزوں کے وارثو! اے زخمو ں پر مرہم لگانے والو! اے شفا بخشنے والو!اے دکھی انسانیت کورا حت اور سکون کی دولت بانٹنے والو!اے خیر اور شر کی تمیز بتانے والو! اے رشد وہدائیت کے راستے کے چراغو!اے خالق کی مخلوق کو خالق کی نگاہ سے دیکھنے والو! اے امن اور آشتی کے علوم اور کردار کے امینو!اے انسانیت کی فلاح اور بہبود کے ضامنو!اے ابن مر یم کے متولیو!آؤ ذرا چند لمحوںکیلئے مل بیٹھیں۔غور کریںکہ معصوم بیگناہ بچے بوڑ ھو ں اور بے ضرر مستورات کا قتال ، اور غیر ترقی یافتہ اقوام کا معاشی اور معاشرتی قتال دنیا کے تمام ممالک میں اس عظیم امت کے نصیب کا حصہ کیوں بنتا چلا آرہا ہے۔ نمروداور فرعون کے ایجنٹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کی صفوں میں کیسے گھس آئے ہیں۔ بار بار سوچیں اور ان نقاط کا تجزیہ کریں۔پرکھیں اور راستگی کا کوئی راستہ نکا لیں۔ پھر سے مذہبی نظریات اور اس کے تعلیمی نصاب اور اس کے تعلیمی اداروں کو بحال کریں ۔اور انسانوں میں پھر سے ادب ،خدمت اور محبت کے آسمانی تحفوں کو عام کریں۔ تاکہ اس جہان فانی سے فار غ ہونے سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات، ان کی تعلیمات ، ان کے کردار ،ان کے اعمال ان کی امت کا نصیب کاحصہ بن سکے۔ ؔآمین۔
۱۔ کیا جمہوریت کا منشور یا دستور انسانی اذہان کی تخلیق نہیں۔جبکہ انجیل مقدس کا دستور حیات خدا وند قدوس کا عطا کردہ الہامی نظام ہے ۔جو اس نے اپنے محبوب پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام پر نازل فرمایا۔
۲۔ کیا جمہوریت کا طرز حیات ظلم ،جبر اور انسانی قتال کا راستہ نہیں دکھاتا۔ جبکہ انجیل مقدس کا طرز حیات ظلم جبر اور انسانی قتال کا راستہ صرف روکتا ہی نہیں بلکہ انسانیت کے احترام اور اسکو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
۳۔ کیا جمہوریت کا طرز حیات مادیت، اقتدار اور حکمرانی کی ہوس کی آگ جلاتا، بھڑکاتا اور اس کے حصول کی خاطر قتل و غارت کے فرعونی راستہ پر گامزن نہیںکر دیتا ۔جبکہ عیسائیت کا طرز حیات متاع ارضی کو ضرورت مند انسانوں تک پہنچانا، اقتدا ر کی طا قت حاصل کرنے اور حکمرانی کرنے کی بجائے انسانوں کے حقوق ادا کر نے اور ان سے محبت کرنے کے راستہ پر گامزن کر دیتاہے۔یہ مذہب انسان کو انسانی بھلائی کی خدائی طا قت کا مظہر بنا کر پیش کرتا ہے۔جو انسانوں کے دلوں کو خدمت سے تسخیر کرتا ہے۔
۴۔ کیا ایٹم بم،ایٹمی میزائل،ایٹمی آبدوزیں، ایٹمی پلانٹ، ایٹمی اسلحہ ہیرو شیما، ناگا ساکی کے جاپانی شہروں پر معصوم و بے گناہ انسانیت کے قتال کیلئے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔کیا یہ عیسیٰ علیہ ا لسلام کی تعلیمات کا حصہ ہے یا نمرود،فرعون،شداد یا یزید کے جمہوریت کے پیروکاروں کا۔
۵۔ کیا جرمنی کو فتح کرنے کے بعد آٹھ سا ل کے بچے سے لے کر اسی سال کے بوڑھو ں تک انسانوں کا قتال۔قابل صد احترام صنف نازک حوا کی معصوم بیٹیوں کی چھاتیوں کو کا ٹنا ان کی پیشا ب گاہوں کو تیز دھار چاقو، چھریوںسے چیرنا۔انسانی جسموں کے نازک اور ستر پوشی والے اعضا کی بے حرمتی کرنا کیا انجیل مقدس کی تعلیم کا حصہ ہے ۔کیا آج بھی اس تہذیب کے علمبردار غیر ترقی یا فتہ ملکوں کے عوام کا قتل عام،مستورات کی بے حرمتی اور قیدیوںکے ساتھ بے پناہ غیر انسانی دلسوز تشدد کرتے چلے نہیں آرہے۔یا اللہ یہ تیرے محبوب پیغمبر حضرت عیسیٰ رو ح اللہ کی پیاری امت کے افراد ہیں۔یا اللہ ان کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرما۔آمین۔
۶۔ کیا کوریا،کوسوا، بوسنیا، فلسطین،کشمیر،انڈو نیشیا کے ٹکڑے ،پاکستان کے ٹکڑے، ایران کی جنگ،عراق کی جنگ،کویت کی جنگ،روس اور افغانستان کی جنگ جن میں لاکھوں انسانوں کا قتال ہوا،لاکھوں انسان زخموںسے کراہتے رہے ، لاکھوں انسا نوںکے ا عضا فضا میں بکھرتے رہے۔کیا یہ عمل عیسائیت کا ہے یا فرعونیت کا ۔کیا فلسطین،افغانستان اور عراق پر حملے اور قبضے ان کے ظالمانہ ،قاتلانہ اور فرعونی درندگی کا حصہ ہیں یا ابن مریم کی روحانی ،الہامی تعلیمات اور نظریات کا حصہ ہیں۔یا اللہ ابن مریم اور اس کے محبوب پیروکاروں کو اس انسانیت کش اعمال کے عمل سے نجات دلا۔آمین ۔
۷۔ کیا افغانستان جیسا غیر ترقی یافتہ ملک جس کو امریکہ جیسی بڑی طاقت نے دوستی کے حلقہ میں لے کر روس کی جنگ میں دھکیل دیا۔جس کی وجہ سے چار پانچ لاکھ افراد اس جنگ کی نظر ہو گئے۔کئی لاکھ انسان اس جنگ کی وجہ سے زخموں کی اذیتوں، بھوک ننگ کی مصیبتوں میں مبتلا ہوئے۔روس کو شکست ہوئی ۔اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔اس وجہ سے افغانستان کیمونسٹ بلاک سے کٹ کر دنیا میں تن تنہا اور سب سے بڑھ کر، روس کے قریب ایک بد ترین دشمن بن کر رہ گیا ۔ چاہئے تو یہ تھاکہ امریکہ اور اس کے اتحاد ی اس کی تعمیر نو میں حصہ لیتے۔اس کے مالی جانی تعاون کی قدر کرتے۔لیکن انہوں نے تو ایک کمزور،غیر ترقی یافتہ محسن ملک کے بھوکے ننگے انسانوںپر ایک اور قیامت برپا کر دی۔ان کا یہ خونی کھیل،ان کا یہ محسن کش روحانی پستی کا عمل تاریخ کے اوراق میں ان بد کردار حکمرانوں کے کردار پرلعنت بھیجتا رہے گا۔انہوں نے افغانستان کے خلاف بے بنیاد ا لزامات عائد کئے ۔ اپنے حواریوں اور اتحادیوں کو ساتھ ملایا ۔ نشرو اشاعت اور الیکٹرک میڈیا پرگیارہ ستمبر کے ٹاورں کے تباہ ہونے کے واقعہ کا افغانستان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔اسامہ بن لادن کو اس کا ہیرو ڈیکلےئر کر دیا۔ طاقتور کے سامنے چوںچراں کرنے کا جرم ثابت ہو گیا۔اپنے حواریوں کو ساتھ ملایا۔دنیا کا جدید ترین اسلحہ کے بحری جہاز،ایٹمی بحری بیڑا،انگنت میزائل،لا تعداد جنگی جہاز، ڈیز ی کٹر بموں کے وافر سٹاک اور ہر قسم کی بحری ،بری، اور ہوائی افواج لے کر افغا نستا ن کی طرف دوڑ پڑا۔ہزاروں فٹ کی بلندی سے تباہ کن بم بارش کی طرح برسا ئے ۔ مخلوق خدا کی بستیوںکو پل بھر کے اندر نیست و نابود کر دیا۔ہسپتالوں،تعلیمی اداروں ،انسانی بستیوں کو کھلے عام نشانہ بنایا۔ کمزور، بے بس، اور غیر ترقی یافتہ افغانیوں ان کے بچو ں ، بوڑھوںاور مستورات کا خوب قتال کیا۔ پہلے ان کو دنیا میں تن تنہا اور بے یارو مدد گار کیا۔پھر ان کو ہوائی حملوں اور میزائلوں سے کچل دیا اور فتح کے بگل بجائے۔ اور افغانستان میں ان اتحادیوں کی فوجیں داخل ہوگئیں۔زمینی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسامہ بن لادن کو ایک دہشت گرد گر وہ کا ہیرو بنا کر تمام دنیا کے بے ضرر انسانوں کو اور نظریاتی مذہبی پیروکاروںکو دہشت گرد وں کا نام دیکر انسا نیت کا قتا ل فرعون کی طرح گھر گھر اور ملک ملک جاری کررکھا ہے۔کیا یہ دھوکہ اور فریب کی سیاست حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کا حصہ ہے۔ کیا یہ تمام جنگیں انجیل مقدس کے نظریات کا حصہ ہیں یا جمہوریت کے فرعونی مذہب کا فیض جاری ہے۔کیا یہ فرعونی ایجنٹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی تعلیمات اور ان کے طیب کردار پر بد ترین داغ ہیں یا نہیں۔کیا یہ دنیا کا امن عامہ تباہ کرنے کے مجرم ہیں یا نہیں۔کیا یہ معصوم و بے گناہ انسانوںکے قاتل ہیںیا نہیں۔اس کا فیصلہ عیسا ئیت کے پیروکار وں کو از خود کرنا ہوگا ۔کہ وہ انسانیت کے قاتل ہیں یا نہیں۔ان کا حشر کیا ہوگا۔یہ افغانستان سے کیسے واپس جاتے ہیں۔ان کے اقتدار کا سورج کب اور کیسے ڈوبے گا۔یہ وقت کی خاموش کتاب بتائیگی ۔یہ ان کا پیدا کیا ہوا فتنہ ان کے لئے کتنا بڑا صدمہ باعث عبرت بن کر پیش آئیگا۔یا اللہ انسانیت کو اس المیہ سے نجات کا کوئی راستہ دکھا۔تاکہ دنیا نا گہانی آفات سے محفوظ رہ سکے۔امین۔
۸۔ عراق امریکہ کااتحادی ملک تھا۔امریکہ کے کہنے پر اس نے ایران پر حملہ کیا ۔ دونوںممالک کے لاکھوں انسان اس جنگ میں کام آ ئے۔دونوں ممالک نے مغربی ممالک سے خوب اسلحہ خریدا۔ اور اپنی معاشی طاقت ان کے حوالے کر دی۔ دونوں ممالک کی معاشی جنگ جمہوریت کے ہیرو جیت کر اپنے ساتھ اپنے گھروںکو لے گئے۔کیا یہ سیاسی درندگی ابن مر یم جیسے عظیم پیغمبر کی تعلیمات کا حصہ ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے جمہوریت پسند حکمرانوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نظریات کی روح کو مسخ کر کے رکھ دیا۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرماویں۔ اور ان کوحضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے نظریات کی پیروی کی توفیق عطا فرماویں۔امین۔
۹۔ عراق کے عظیم دوست امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صدام حسین سے کویت پر حملہ کروایا۔لیکن عراق کے خلاف تمام عربوںنے کویت کاساتھ دیا۔امریکہ کے سیا ستد انوں نے ایک سیاسی قلا بازی کھائی۔عراق کے خلاف عربوں کے ساتھ مل کرعراق کی تباہی مچا دی۔اپنی افواج عرب ممالک میں داخل کر دیں۔اپنی افواج کے تمام اخراجات ان سے وصول کئے۔اس کے علاوہ تمام اسلحہ جو انہوں نے عراق کے خلاف استعمال کیا ۔وہ تمام رقم بھی تمام عربوں سے وصول کی۔ان کو کمال ہنر مندی سے اس جنگ میں الجھا کر خود مال غنیمت لے کراپنے اپنے ممالک لے بھاگے۔ایسا کرنا جمہوریت کے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔کیا یہ عیسائیت کے نظریات کی پرچار ہے۔ کیا عیسائیت کے نظریات اور جمہوریت کے فرعونی نظریات کے تضاد سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملت کے کردار میں منافقت کی تربیت کی پرورش نہیں ہوتی چلی آرہی ۔کیا مذہب اور اس کے نظریات کی بالا دستی قائم ہونی چاہیے یا نہیں۔اس کا جواب مذہبی پیشوا یا اہل دانش یا اہل بصیرت ہی دے سکتے ہیں۔
۱۰۔ کویت کی جنگ کے بعدامریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے عراق کی ناکہ بندی کردی۔اس کے ساتھ ہر قسم کی قطع تعلقی کر لی۔اس پر ہر قسم کی پابندی لگا دی گئی۔ہر قسم کی خوراک اور ہر قسم کی ادویات تک عراق میں داخل نہ ہونے دیں۔اس کے خلا ف نشر و اشاعت کا میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی جنگ جاری کردی۔کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔اور وہ متواتر و مسلسل مہلک ہتھیار تیار کرتا چلا آرہا ہے۔ صد ا م حسین اور اس کے ملک کو جھوٹے ،بے بنیاد الزامات میں ملوث کیا۔اس کے ملک میں اپنے انسپکٹر وں کی افواج برائے تلاشی ایٹمی مواد بھیجتے رہے۔جب ان کو یقین ہو گیا کہ عراق کے پاس کسی قسم کا کو ئی مہلک ہتھیار نہیں ہے۔تو امریکہ نے اپنے حواریوںکے سا تھ ہم مشورہ اور ہم صلاح ہو کر جمہوریت کے اصول و ضوابط کی روشنی میں اس کودہشت گرد قرار دیا ۔ اور اس جمہوریت کی جھوٹی سیاست کے ظالم اور غاصب دہشت گرد حکمرانوں نے اس کے خلا ف اعلان جنگ کا بگل بجا دیا۔تما م اتحادیوں کے ممالک کی افواج عراق کی طر ف دوڑ پڑیں۔ایٹمی میزائلوں، جنگی جہازوں سے لدے ہوئے بحری جہاز، ڈیز ی کٹر بموں،گیس بموں،نائیٹروجن بموں ،جرا ثیمی بموں اور جدید ترین اسلحہ لے کر عراق کا گھیراؤ کر لیا۔ اور حملے جاری کر دےئے۔ آسمان کی بلندیوں سے ڈیزی کٹر بموں کی بارشیں جاری کردیں۔آگ لگانے والے بموں سے لے کر نروس سسٹم بریک کرنے والے گیس بموں کا ا ستعمال کیا گیا۔ معصوم و بے گناہ اور بے ضرر مخلوق خد ا کو کچل دیا گیا ۔اور صدام کو پکڑ لیا گیا ۔عراق پر قبضہ کر لیا گیا۔اس کی ملکی تیل کی پیدوار اور تمام وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے ۔ا ن ظالموں
کا تدارک کیسے اور کس وقت ہوگا۔کوئی خود کش حملہ آور مظلوم ان کے ایٹمی پلانٹوں اور ایٹمی ایندھن کو کب تباہ اور نیست و نابود کرے گا۔ یہ وقت کی خاموش کتاب میں درج ہے۔یہ کوئی اچھا عمل نہیں ہوگا۔ وہاں بھی معصوم و بے گناہ مخلوق خدا خاکستر ہو جائے گی۔اس کا تدارک اب بھی ممکن ہے۔اس کا حل مذاہب کے نظریات اور تعلیمات کی سرکاری بالادستی میں مضمر ہے۔یا اللہ ہمیں ان وقت کے فرعونوں سے نجات کا کوئی راستہ دکھا۔امین۔
۱۱۔ تمام اتحادی ممالک کی افواج عراقی عوام کو کچلنے میں مصروف ہیں۔ زمینی جنگ جاری ہو چکی ہے۔ خوف خدا ان کے دلوں سے مفقود ہو چکا ہے۔ ان بد بخت اتحادی ممالک کے حکمرانوں کو کوئی دکھ ،کوئی رنج، کوئی ملال، کوئی شرم تک نہیں آتی ۔ کیونکہ نہ وہ خود لڑتے ہیں اور نہ ان کی اولا د یں ان جنگوں میں شامل ہوتی ہیں۔ قتال کے لئے تو عوام الناس کی اولا د یں ہوتی ہیں۔ امریکی فوجی ہو یا برطانیہ کا۔ جاپان کا فوجی ہو یا کوئی عراق کا ہو ۔ آخر انسانی زندگی کا قتال ہی تو ہوتا ہے۔انسانیت کو کچلنا،معصوم اور بے گناہ بچوں ،بوڑھو ں، مردوں ، عورتوں کا قتال،بستیوں کو نیست و نابود کرنا،انسانوں کے اعضا فضاؤ ں میں بکھیر نا،زخموں سے انسانوں کو چور کرنا، کمزور مخلوق کو روند ڈالنا اور نگل جانا۔ ان سے زند گی کا حق چھیننا دہشت گردی ہے یا اپنے جان و مال اور مما لک کی حفاظت کر نا دہشت گردی ہے۔کیاحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت بنی نوع انسان کے قتال کا کبھی ایسا تصور بھی کر سکتی ہے ۔ہر گز نہیں۔ ایسے کام صرف عیسا ئیت کے روپ میں نمرود ،فرعون، شداد،یزید کے ایجنٹ جو جمہوریت کے حکمران بن کر عیسائیت پر مسلط ہو چکے ہیں۔ یہ عمل جمہوریت کے فرعونی تعلیمی اداروں کے تربیت یافتہ درندہ صفت انسانیت کے قاتل ہی ایسے گھناؤنے رول ادا کر سکتے ہیں۔کیا ایسا کرنا عیسائیت کے الہامی نظریات یا انجیل مقدس کی روحانی تعلیمات کا حصہ ہے۔
۱۲۔ عزیزانِ من، غور سے سن لو۔موت زندگی سے زیادہ حسین صرف مسلمان کو ہی نظر آتی ہے۔ کیونکہ شہادت کی موت ان کا مقصود حیات ہوتا ہے۔وہ خدا کیلئے جیتے ہیں اور خدا کیلئے ہی مرتے ہیں۔جہاد ان کے لئے ایک طیب فریضہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ موت کا وقت متعین ہوتا ہے۔اس میں ایک لمحہ کا کروڑواں حصہ بھی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔یہ بھی درست ہے کہ جمہوریت پسند حکمرانوں کے پاس جدید ترین مہلک ایٹمی اور ہر قسم کے تباہ کن روائیتی ہتھیاروں کے انبار موجود ہیں۔خود کش انسانی بموں کی تعداد بھی گنتی سے باہر ہے۔ جمہو ر یت کے فرعونی نظریات کے ظالم ،غاصب معاشی اور معاشرتی قاتلوں نے فطر ت کے اصولوں اور ضابطوں کے خلاف مادی قوت اور فرعونی طاقت کے بھر وسے پر جنگ کا آغاز کر دیا ہوا ہے۔دنیا کا امن تباہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اسرائیل کب تک فلسطین میں جنگ جاری رکھ سکے گا۔افغانستان میں کب تک اتحادی ممالک کی افواج ان وطن پرست افغانیوں کے ساتھ زمینی جنگ لڑ سکیں گی۔کب تک عراق میں خود کش حملوں کا امریکی افواج مقابلہ کرتی رہیںگی۔ کب تک امر یکی عوا م اور اتحادی ممالک اپنے نوجوانوں اور فوجیوں کی لاشیں ان ممالک سے وصول کرتے رہیں گے۔ خود کش حملہ آور بھی جدید اسلحہ کو برو ئے کار لاتے رہیں گے ۔ انسانی زندگی کا قتال دونوں طرف سے دن بدن بڑھتا رہے گا۔
۱۳۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے عوام کو سوچنا ہوگا بلکہ بار بار سوچنا ہوگا کہ ان جنگوں کو طول دینا چاہتے ہیں یا ختم کرنا چاہتے
ہیں ۔ جیسے جیسے وقت گذرتا جائے گا ۔ دنیا کا کوئی سفارت خانہ ،کوئی ائیر پورٹ ،کوئی ملک، کوئی شہر،کوئی تجارتی مر کز، کوئی ایٹمی بجلی گھر، کوئی کارخانہ،کوئی ایٹمی آب دوز، کوئی ایٹمی پلانٹ، کوئی کمپیوٹر سسٹم، کوئی اسمبلی ہال، خاص کر مغربی ممالک کے عوام کیلئے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔دنیا ان چند ظالم اور درندہ صفات امریکی اور برطانوی حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کی عدل کش اور مسلم کش اور انسانیت کش پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ کے عوام کو اور پوری گلوبل لائف کو سخت اور سنگین حالات سے دوچار کر چکی ہے۔
اس کے علاوہ ان کے مغربی اتحادی ممالک کے عوام الناس کیلئے جینا معاشی اور معاشرتی طور پر دشوار ہو جائے گا۔ہر قسم کی تجارت اور ہر قسم کاکارو بار بری طرح صرف متاثر ہی نہیںہوگا بلکہ مکمل طور پر امریکہ ،برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کی معاشی اور معاشرتی حالت دگر گوں ہوتی جائیگی۔ان کی دنیا میں رواںدواں ہر قسم کی مصنوعات کی سپلائی کی مار کیٹیں ختم اور وائنڈاپ ہوتی جا ئینگی ۔ دنیا کے ہر ملک میںان کے پھیلے ہوئے بیشمار کارخانے ،ملیں ،فیکٹریاں ان کی ان ظالمانہ پالیسیوں کی نظر ہوجائیں گی۔اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔کہ غیر ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک کا وجود قائم رہ سکتا ہے۔ مانگ اور سپلائی کا میزان قائم رہے تو سپلائی والے ممالک معاشی طور پر زندہ رہ سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ امریکہ برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک کو یہ جنگ بڑی مہنگی پڑے گی۔ ان ظالم ،غاصب چند امریکی اور برطانوی فرعونی فطرت کے حامل حکمرانوں اور ان کے اتحادیوںنے بے بنیاد الزامات عائد کرکے افغا نستا ن ،عراق اور مشرق وسطیٰ کے ممالک پر حملے کر کے ان کی نسل کشی شروع کر رکھی ہے۔امریکہ ،برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے مل کر ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق عربوں کے علاقہ پر پہلے یہودیوں کو بسایا اور پھر قبضہ کروایا اور پھر اسلحہ کی نوک پر اسرائیل کا وجود دنیا کے نقشہ پر قائم کروایا۔ بے پناہ فلسطینیوں کا قتل عام ہو چکا ہے اور ابھی جاری ہے۔ اسرائیل کے فرعونی نظریات پر مشتمل تعلیم یافتہ،تربیت یافتہ فرعونی نسل کے یہودیوں کو امریکہ،برطانیہ اور ان کے اتحادی ممالک نے ان کو جدید ترین مہلک اسلحہ کی سپلائی وافر مقدار میں مہیا کرتے چلے آرہے ہیں۔ وہ ان کی پست پناہی سے مسلمانوں کی بستیوں کو ٹینکوں سے روند ڈالیں یا میزائلوں سے نیست و نابود کر دیں یا نیپام بموں سے خاکستر کر ڈالیں یا ہیلی کاپٹروں سے ان کے گھروں کو چھلنی کر ڈالیں یا ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیں تو کوئی بات نہیں۔اگر نہتے فلسطینی ان کے ظالمانہ قتال کرنے اور ان کی عزت و ناموس کو روندنے ،ان کی بستیوں کو ختم کرنے، ان کے علاقہ پر مزید قبضہ کرنے سے روکیں ۔ اور اسرائیلیوں پر خود کش حملے کریں توامریکہ،برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے نزدیک فلسطینی دہشت گرد۔ اسرائیل اگر امریکہ ،برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی معاونت سے ایٹم بم اور ایٹمی میزائل تیار کر لے تو اسے کھلی چھٹی۔ دوسری طرف اگر کوئی مسلمان ملک ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرلے تو وہ ایٹم بم بنانے کا مجرم۔عراق،لیبیا،شام،ایران اور دوسرے اسلامی ممالک پر محض ایٹم بم تیار کرنے کے الزامات کی بنا پر ان پر ہر قسم کی پابندیاں عائد۔عراق کو انہوں نے اسی ایٹم بم تیار کرنے کے جھوٹے الزامات کی بنا پر نشان عبرت بنایا۔عراق کے بے گناہ،معصوم بچوں،بوڑھوں، نوجوانوں اور مستورات کا قتل عام کیا۔ان کے جسموں کے اعضاؤں کو فضاؤں میں بکھیرتے رہے۔ ڈیزی کٹر بموں،نیپام بموں،میزائلوں، جہازوں ، ٹینکو ں،توپوں سے ان کی بستیو ں ، ان کے شہروں،ان کے ہسپتا لو ں ، ان کی عبادت گاہوں،ان کے تعلیمی اداروں،ان کے معصوم طالبعلموں کو تباہ اور خاکستر کرتے رہے۔اس سے قبل افغانستان پر اسی طرح کے غلط ،جھوٹے اور بے بنیاد گیارہ ستمبر
کے دو ٹا وروں کے تباہ کرنے کے واقعات کو اسامہ بن لادن اور افغانستان کی حکومت سے منسوب کر کے ان پرالیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ان کو اس واقعہ کا مجرم ثابت کرتے رہے۔اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک اکٹھے ہو کر جدید اسلحہ ،بحری بیڑا،جنگی جہازو ں ، میزائلوں کو اٹھا کر افغانستان کی طرف دوڑ پڑے ۔ ڈیزی کٹر بموں کا انبار،نیپام بموں کے ذخائر،بحری افواج،ہوائی افواج اوربری افواج کی بہت بڑی تعداد لے کر افغانستان پر حملے شروع کر دئیے۔ اس کمزور،غیر ترقی یافتہ ملک اور سامان حرب سے محروم افغانستان کے عوام ۔ان کی بستیوں،شہروں، درسگاہوں، ہسپتالوں، خوراک کے ذخیروں پر ڈیزی کٹر بمو ں اور جدید ترین تباہ کن میزائلوں کی بارشیں کرتے رہے۔ یہ ظالم ، بے رحم انسانی شکل میں خوفناک مغربی درندے ہزاروںنہتے افغانی بچوں، بوڑھو ں ، نوجوانوںاور مستورات کو لقمہ اجل بناتے رہے۔وہ وحشیوں، درندوں اور پاگلوں کی طرح انسانی قتال کرتے رہے۔ ہزاروں افراد گھناؤنے زخموں سے کراہتے اور چیختے رہے۔بیشمار معصوم و بے گناہ انسانوں کے اعضا فضا میں اڑتے اور بکھرتے رہے۔دنیا اور خاص کر مسلم امہ اورابن مریم کی امریکہ،برطانیہ میں بسنے والی عیسائی امت ایک تماشائی کی طرح افغانستان اور عراق کے عوام کا حشر نشر دیکھتیں رہیں۔ کیا یہ جمہوریت کے فرعونی نظریات کی تعلیم و تربیت اورکردار کا حصہ ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی ،الہامی تعلیم و تربیت اور کردار کا حصہ ہے۔یہ وقت ہے کہ دنیا کی ضمیر کو جھنجوڑا جائے۔ عیسا ئیت کے ماننے والوں سے پوچھنا اور سوال کرنا اشد ضروری ہے ۔ کہ وہ بتائیںکہ ان کے عظیم اور رحیم انسانیت کے داعی مقبول و محبوب پیغمبر نے ان ظالموں کو انسانی قتال کرنے اور ایسے ظلم و بربریت پر خاموش رہنے کی تعلیم یا تلقین کر رکھی ہے۔حضرت محمد الر سو ل اللہﷺ اور حضرت عیسیٰ روح اللہ کی امتوں کو کلمہ حق پڑھنا ہو گا۔ دین محمدیﷺ اور عیسائیت کی روحانی ،الہامی تعلیمات کوزندہ کرنا اور بروئے کار لانا ہوگا۔ان کے کردار کی خوشبو کو اس جہان رنگ و بو میں پھیلانا ہو گا۔ ان انسانیت کے قاتل مجرم حکمرانوں کو انصاف کے کٹہرے میںلا کھڑا کرنا ہو گا۔چند فاسق،فاجر،مادہ پرست،اقتدار کے بھوکے فرعونی نسل پر مشتمل مرسلین کے قاتلو ں کو، جو اب یہودیوں کے روپ میں دنیا کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور جنہوں نے عیسائیت کو آلہ کار بنا رکھا ہے۔ ان کو روکنا ہوگا ۔ ابن مریم کے پجاریو! کیا آپ ان چند فرعونی نسل کے یہودیوں کی خاطر دنیا کا امن تباہ کرنا اور ۵۶ اسلامی ممالک کے ایک ارب پنتیس کروڑ مسلم امہ کے فرزندان کو بلا جواز نشانہ عبرت بنانا جائز اور ضروری سمجھتے ہو۔سن لو۔ ان ظالم ،غاصب حکمرانوں کی یہ غیر منصفانہ بین الاقوامی پالیسیاں اس دنیا کی تباہی کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ کوسوو اور بوسنیا میںمسلمانوں کابے پناہ قتال اور ان کی بیشمار اجتماعی قبروں کا انکشاف۔بچوں، بوڑھوں اور مستورات کے ساتھ دلسوز مظالم کی داستانیں ۔روح القدس کے باغی اور فرعونی نسل کے جمہوریت کے مذہب کے داعی عیسائیت کے نظریات اور ان کی تعلیم و تربیت اور کردار کو نگلنے والے امریکہ اور برطانیہ کے سیاسی جاہل دانشور حکمرانوں کو انصاف کی عدالت میں لاکھڑا کرنا عین حق ہے۔دنیا ئے عالم کو بتانا ہوگا۔کہ
الف۔ امریکہ ،برطانیہ اور ان کے اتحادی ممالک کے جمہوریت کے فرعونی نظریات اور تعلیم و تربیت سے آراستہ حکمرانوں سے نہیں۔بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانی نظریات اور روحانی تعلیم و تربیت کو تسلیم کرنے والی امت سے سوال ہے۔کہ وہ واضح کریں کہ ملکوں پرناجائز،بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کر کے ان پر حملے کرنے والے اور ان کا قتل عام کرنے والے دہشت گرد ہیں۔ یا اپنے ممالک
کی حفاظت کرنے اور جان ومال کو بچانے والے دہشت گرد ہیں۔
ب۔ ترقی یافتہ مہلک ،تباہ کن ہتھیار بنانے والے جمہوریت کے پروردہ جاہل حکمران اور غیر مہذب انسانیت کا قتال کرنے والی اقوام دہشت گرد ہیں یا غیر ترقی یافتہ ان ہتھیاروں سے محروم ممالک اور اقوام دہشت گرد ہیں۔
پ۔ جمہوریت کے نظریات اور اس کی فرعونی تعلیم و تربیت کو دنیا بھر کے ممالک میں نافذالعمل کروانے والے اور مذاہب کے نظریات اور ان کی تعلیم و تربیت کو سرکاری سطح پر منسوخ، مسترد اور مفلوج کروانے والے ابن مریم کے پیروکار ہیںیا فرعون کے۔
ت۔ فلسطین،کوسوو،بو سینیا، افغانستان،عراق، لیبیا،شام ،مصر، ایران، انڈونیشیا، مشرقی پاکستان ،پاکستان پر حملے کرنا دہشت گردی ہے یا اس دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے دہشت گرد ہیں۔
ٹ۔ کشمیر پر ہندوستان کاغاصبانہ قبضہ اور ان پر بے پناہ ظلم۔ہندوستان کی سات لاکھ افواج کا اسی پچاسی ہزار کشمیری مسلمانوں کا قتا ل ، بیشمار زخمیوں اور اپاہج، بچوں ، بوڑھوں ، نوجوانوں کی اند و ہناک داستانیں اور مستور ا ت کی بے حرمتیوں کے واقعات۔ریاستی دہشت گردوں کو حق بجانب قرار دینا اور کشمیریوں کو آزادی کی جنگ لڑنے اور اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرنے کے جرم میں دہشت گرد قرار دینا۔کس تہذیب کا حصہ ہے۔ابن مریم کی تہذیب کا یا فرعون کی تہذیب کا۔
ث۔ یہ سب واقعات امریکہ،برطانیہ اور ان کے اتحادی کرسچین ممالک کے زیر نگرانی پروان چڑھتے چلے آرہے ہیں۔ اور اس بات کی غمازی کرتے ہیں ۔ کہ یہ تمام عدل کش اور باطل پالیسیاں فرعون کی روشن خیالی کی پرتو ہیں۔کسی عیسائیت کے پیروکار کی ہر گز نہیں۔کیا ابن مریم کی امت کو جمہوریت کے اس راستہ پر گامزن رہنا چاہیے یا مذہب کی فلاحی اقدار کی پیروی کرنی چاہیے۔
ج۔ یہ تمام اندوہناک حا لات اور واقعات مسلم امہ کو سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کہ تمام مسلم ممالک اور پوری مسلم امہ کو ایک مرکز پر اکٹھا ہونا پڑیگا۔ان کے ۵۶ اسلامی ممالک میںایک ارب پنتیس کروڑ کی نفری موجود ہے۔اگریہ لوگ اپنی روزمرہ کی ضروریات میں سے صرف چند اشیا ان سے خرید کرنا بند کر دیں۔ تو ان کے کار خا نے ، ملیں ،فیکٹریاںویران ہو تے دیر نہیںلگے گی۔ان کی کاروباری کمپنیاں خود بخود بکھر جائیں گی۔ بیروز گاری ان کا نصیب بن کر ابھرے گی۔ان کی معاشیات کی عمارت ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جائیگی ۔مسلم امہ کو ان کے ساتھ لڑنے اور جنگ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
چ۔ مثال کے طور پر اگرنام نہاد یہودیوں اور عیسائیوں کے روپ میں فرعونوں کی تیار کردہ ٹوتھ پیسٹیں،صابن اور پیپسی کولے جیسی لا تعداد اشیا ہی کو بند کرد یاجائے ۔ تو اسلامی دنیا کے تمام ممالک میں پھیلی ہوئی۔ان کی تمام اشیا اور مصنوعات تیار کرنے والی تمام کی تمام دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ملیں، فیکٹریاں اور کارخانے خاص کر مسلم ممالک کے ۵۶ ملکوں میں بند ہوجائیںگے۔ان کی معاشیات چند دنوں میں نیست و نابود ہو کر رہ جائیگی۔یہ ملک بھی روس کی طرح کئی ریاستوں میں منقسم اور ختم ہو تے جائیں گے۔
ح۔ اگر مسلم امہ اپنے تعلقات اور اپنی تجارت کا رخ ایشیائی ممالک، چین، جاپان، ہندوستان اور روسی ریاستوںکی طرف موڑ لیںتو دوستی کا رشتہ بھی استوار ہوگا اور ان کی بین الاقوامی حیثیت بھی بحال ہوگی۔روز مرہ زندگی کی اشیا بھی موزوں داموں سے میسر ہونگی۔

خ۔ مسلم امہ کو یونائٹیڈ سٹیٹ آف امریکہ کی بنیادوں پر ۵۶ اسلامی ممالک کو ایک مرکز پر اکٹھا ہو کر اپنی بین الاقوامی طاقت اور سیاسی حیثیت قائم اور بحال کرنا ہوگی۔یہ عمل انشا اللہ اتحاد،اتفاق اور محبت کا ایک نیا انسانیت ساز درس دنیا میں جاری کر دے گا۔ جو دنیا میں امن قائم کرنے کا اہم رول ادا کریگا۔ اس اسلامی سٹیٹ کو اسلامائزیشن کا شورائی نظام قائم کرنا ہوگا۔انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا راستہ دکھانا ہوگا۔
د۔ انسانی عقل فطرت کے کارخانے میں رسائی حا صل نہیں کر سکتی۔ کس کو معلوم کہ ان کے یہ پیدا کردہ تباہ کن حا لات ان کی تباہی کا باعث ہیں یا کسی اور کی۔
ڈ۔ اپنے ہی تیار کردہ ایٹم بم ان کے لئے،ان کے ملکوں کیلئے،ان کی عوام کے لئے اور پوری انسانیت کیلئے کتنے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں ۔ کیا مہلک ہتھیار اور ا یٹم بم مخلوق خدا کو صفحہ ء ہستی سے مٹانے کیلئے تیار کرناحضرت عیسیٰ روح اللہ کے الہامی ضابطہ حیات کا مقصود ہے۔کیا عیسائیت کے اہل بصیرت مذہبی پیشواؤں اور روحانی رہنماؤں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ جمہوریت کے اس فرعونی فتنہ کو روکیںاور دنیا بھر کے عیسائیوں کا رخ انجیل مقدس کی تعلیمات اور اس کے نظریات کی طرف مبذول کروائیں ۔
ذ۔ آؤ اپنے اپنے ممالک میںانجیل مقدس اور قرآن پاک کے نظریات اور ان کی تعلیمات کی بالا دستی سرکاری طور پر قائم کریں۔ تاکہ اسلام اور عیسائیت اور انسانیت اس مذہب کش فرعونی جمہوری طرز حکومت اور اس کے المیہ سے بچ سکے۔ یااللہ اہل مذاہب کو نمرود، فرعون،یزید کے اعمال سے توبہ کی توفیق عطا فرما۔ اور پیغمبران کی نورانی تعلیمات اور الہامی نظریات کے ر استہ پر چلنے کی ہمت بخش ۔ ان کو دنیا میں سرفرازی عطا فرما۔ آمین۔
۱۴۔ جمہوریت انسانوں کی فکر و تخلیق کے اصولوں اور ضابطوں کا تیار کردہ قوانین کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جس میں قدم قدم پر غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے۔جن میں ذاتی مقاصد اور ذاتی خوشحالی کا عنصر کار فرما ہوتا ہے۔ جو خود غرضی اور تباہی کی طرف دھکیلتا ہے۔ اس وقت جمہوریت کی تباہ کاریوں کے نتائج نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ گلوبل لائف کی روشنی میں پوری انسانیت کا ایک ہی کنبہ خدا ہونے کا تصور مفقود ہوتا چلا جا رہا ہے۔لیکن حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام کے الہامی اور روحانی اصول و ضوابط کی بنیاد خدا وند قدوس کی انجیل مقدس کے فاطر کے عطا کردہ فطرتی ضابطہ حیات پر مشتمل ہے۔ جو پوری انسانیت کی فلاح اور بہبو د کا محور ہے۔جمہوریت فرعون اور یزید کے شاہی ٹولہ کے آمرو ں پر مشتمل ایک غاصب گروپ ہے۔ جو دنیا کے امن کو برباد کرتا ہے۔ معاشی طا قت کو غاصبانہ طریقوں سے چھینتا اور معاشرے کو اذیتوں، مصیبتوں اور قتل و غارت کے عمل سے دو چار رکھتا ہے۔ جبکہ روح القدس کے عطا کردہ طرز حیات کی قندیل دنیا میں اذیتوں، مصیبتوں اور قتل و غارت کے دروازے بند کرتی ہے۔دنیا کے کونے کونے میں حاجت مندوں کی حاجت روائی کرتی اور انسانی خدمت کے عمل سے انسا نیت کے دلوں کو تسخیر کرتی چلی جاتی ہے۔
لیکن نمرود، فرعون ، شداد اور یزید کے خانوادہ کے چند آمروں اوران کے ایجنٹوں نے پوری عیسائیت اور ان کی کتاب مقد س انجیل شریف پر
غاصبانہ قبضہ کر کے ان کو جمہوریت کے ضابطہ میں مقید کر رکھا ہے۔ان کی الہامی کتاب،ان کا معاشرے کی تشکیل کا الہامی ازدواجی طرز حیات، ان کی تعلیمات،ان کا تعلیمی نصاب،ان کا طریقہ عبادات،ان کا خدمت خلق کا نصب ا لعین،ان کا انسانیت کے ساتھ حسن سلوک کا عمل، ان کے دلوں کو تسخیر کرنے کے اعما ل،ان کے تعلیم و تربیت کے اداروں کو اپنے اپنے ممالک میں سرکاری سطح پر منسوخ کر رکھا ہے۔اس الہامی ضابطہ حیات کے خلاف انہوں نے جمہوریت کا خود سا ختہ طرز حیات سرکاری سطح پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے مسلط کر رکھا ہے۔جب روح القدس کی انجیل مقدس کا الہامی طرز حیات تابع فرمان جمہوریت ہو جائے ۔تو ان مما لک میں عیسائی یا عیسائیت کیسی ۔جمہوریت کی ملکوں پر بالا دستی ایک ایسا فتنہ ہے ۔ ایک المیہ ہے جو تمام انبیاء کرام کی تعلیمات اور نظریات کو سرکاری سطح پر پس پشت ڈال کر ان کو نگلتا جا رہا ہے ۔ جس کا تعلیمی نصاب،جسکے تعلیمی ادارے،جسکے فرعونی نظریات پر مشتمل تعلیم و تربیت اس وقت تمام دنیا میں رائج ہو چکی ہے۔سکولز،کالجز اور یونیورسٹیاںپوری انسانیت کو جمہوریت کے مذاہب کش نظریات سے آراستہ کئے جا رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کا حقیقی سرکاری مذہب جمہوریت قائم ہو چکا ہے۔ مخلوط تعلیم، جنسی بے راہ روی، اخلاقی پستی اور ازدواجی زندگی کے بنیادی مذہبی شعبہ کو مسمار کئے جا رہی ہے۔ جو انسانیت کے لئے ایک عظیم سانحہ بن کر ابھر رہا ہے۔
۱۵۔ آوٗ۔تمام پیغمبران کی امتوں کے مذہبی اور روحانی اہل بصیرت پیشوا ؤں کو انسانیت کی بھلائی اور بہبود کی خاطر، انسا نیت کے امن و سکون کی خاطر، انسا نیت کو اعتدل و مساوا ت مہیا کرنے کی خاطر، مخلوق خدا کو سکھ اور چین جیسی انمول دولت عطا کرنے کی خاطر، انسانیت کی بنیادی ضروریات اور متاع ارضی کی تقسیم کو مساوات اور انصا ف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی خاطر ، انسانیت کے قتل و غارت کو ختم کرنے کی خاطر، انسانیت کے دکھوں اور ا ذیتوں کو ختم کرنے کی خاطر، انسانیت میں نفاق اور نفرت کی آگ کو بجھانے کی خاطر، انسانیت میںمذہبی ازدواجی زندگی کے شعبہ کو بچانے کی خاطر،انسانیت کو ایٹموں اور ڈیزی کٹر بموں کی ہولناک تباہی سے بچانے کی خاطر،انسانیت کو تباہ کن خودکش حملوں کے انسانی قتال کا تدارک کرنے کی خاطر، انسا نیت اور پوری مخلوق خدا کو ایٹمی ٹکراؤ کا ایندھن سے بچا نے کی خاطر، اس جمیل و حسین کائنات اور اس میں بسنے والی حسین و جمیل مخلوقات کو ہر قسم کی تباہی اور اس کو خاکستر ہونے سے بچانے کی خاطر ایک مرکز پر اکٹھے ہو کر ایک سوچ کو روشن اور منور کرنا ہوگا ۔کہ اولاد کو دیکھنا ہو تو ماں کی نگاہ سے اور مخلوق کو دیکھنا ہو تو خالق کی نگاہ سے۔تمام پیغمبران انسانیت کا عزت و احترام،اخوت و محبت،خدمت و ادب، پیار و شفقت کی الہامی،روحانی اور آسمانی تعلیمات کا درس دیتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کا مقام اپنے اپنے ادوار میں معلم انسا نیت کا عطا فرمایا ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر بذریعہ وحی، الہامی صحیفے زبور شریف،توریت شریف ،انجیل شریف اور قرآن شریف یکے بعد دیگرے نازل فرمائے۔ جن کی وساطت سے رشد و ہدایت پر مشتمل فطرتی اصولوں اور اخلاقی ضا بطہ حیات کو متعین کر کے انسانیت کی رہنمائی کا انسائکلو پیڈیا عطا فرمایا ۔لیکن جمہوریت کے فرعونی نظریات کے یہ پیروکار، ان پیغمبران کے رشد و ہدایت کے انسائیکلو پیڈیا کو نگلتے چلے جا رہے ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی زبور شریف ناپید ہوگئی اور ان کی تعلیمات کو ان کے پیروکار بھول گئے ۔ وہ امت وقت کے سمندر میں گم ہو گئی۔ تو ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ جیسے عظیم الشان پیغمبر کو اسی امت بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ۔ان کو اس وقت کے ایک بد ترین ظالم، غاصب، سفاک اور انسانی قتا ل کرنے والے عادی جابر ،مجرم حکمران یعنی
فرعون کے ساتھ آ منا سامنا کرنا پڑا۔ فرعو ن اور اس کے اقتدار کے ظالم اور سفاک ساتھی مخلوق خدا پر طرح طرح کے ظلم کر تے ۔وہ مادی خوشحالی حاصل کرنے اور اقتدار کے حصول کی خاطر انسانیت کا معاشی اور معاشرتی قتال بڑی بے دردی سے کرتے رہتے۔ جس کی وجہ سے کسی کو جراٗت نہ ہوتی کہ وہ ان کے خلاف آواز اٹھا سکے۔کسی نجومی کے کہنے پر ایک سال کے اندر اس کی سلطنت میں جتنے بچے پیدا ہوئے ان سب کو قتل کروا دیا۔کیونکہ اس نجومی نے اس کو مطلع کیا تھا کہ اس سال اس کی سلطنت میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت یا حکمرانی کو ختم کر دیگا۔ فطرت کا کمال دیکھو! اس نے ملک کے تمام بچوں کو قتل کروا دیا ۔لیکن حضر ت موسیٰ علیہ السلا م اس کے محل میں پرورش پاتے رہے ۔ جن کو فطرت نے فرعون کی سلطنت کو ختم کرنے پر معمور کیا تھا۔
نمرود، شداد، ہاما ن ،فرعون اور یزید یہ سب ایسے سمبل نام ہیں۔جن سے انسانیت پر ظلم وستم،جبر و تشدد،سفاکی و درندگی،قتل و غارت کے گھناؤنے کردار کے تعفن کی گھن آتی ہے ۔ یہ انسانیت سے ان کے حقوق غصب کرنے، درندوں کی طرح ان کی معاشی طاقت چھین کر اور ظالمانہ طریقہ کار سے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہو کر اعتدال و مساوات کو کچلنا، عدل و انصاف کو روندنا، عوام سے مال و متاع چھیننا،ان کی معاشی طاقت سلب کرنا،اسلحہ کی نوک پر اقتدار پر قابض ہو کر مخلوق خدا سے الگ تھلگ شاہانہ بستیاں تیار کرنا، شاہی محلوں میں زند گی گذار نا ، عیش و عشرت کو زندگی کا نصب العین بنا لینا،عوام الناس سے مختلف جرا ئم پر مشتمل انگنت ٹیکسوں کے عدل کش قوانین مرتب کر کے ان سے ملکی خزانہ بھر نا ،عوام سے ان کی معاشی طا قت چھین لینا،ان کو خورد و نوش سے محروم کر دینا،ان کو زندگی اور موت کی کشمکش میںمبتلا کر دینا ، کسانوں کو ریگستانوں، صحراؤں میں آگ اگلتا سورج،جلتی ریت ،آگ کے شعلو ں سے بھیانک تند تیز جسموں کو جلا دینے والی ہوا ؤں سے دو چار رکھنا، خشک سالی اور پانی کی نایابی کیوجہ سے انسا ن و حیوان بھوک اور پیاس سے تڑپتے اور سسک سسک کر مرتے رہیں، اس کے علاوہ کسانو ں کو مید ا نوں اور پہاڑوں کی اسی قسم کی اذیتوں اور دشواریوں سے دوچار رکھنا ،ان کی طرز حکومتوں کی ایک اہم ادا سمجھی جاتی ہے۔
۱۶۔ کسانوں کے علاوہ دوسرے مظلوم اور بے یارو مددگار طبقہ یعنی مزدو ر و ں ، محنت کشوں،ہنر مندوں جنہوں نے سڑکیں، ڈیم، نہر یں ، بڑے بڑے پل، بندر گاہیں، ائیر پورٹس، بڑے بڑے سرکاری فرعونی طرز کے شاہی محل، پریذیڈ ینسی، وزیر اعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز ،وزیر اعلیٰ ہاؤسز،وزیر ہاؤ سز ،مشیر ہاؤسز،سفیر ہاؤسز، ان کے شاہی لا جواب دفاتر ، شاہی اسمبلی ہالز،کنوینشن ہالز، اسلام آباد جیسی شاہانہ کلبیں، کشمیر ہاؤسز،فرنٹےئر ہاؤسز، سندھ ہاؤسز، بلوچستا ن ہاؤسز، ان کی ڈیکوریشنوں پر اربوں کے سرکاری اخراجا ت ، ان کے سرکاری ٹیلیفونو ں کے اربوں کے اخراجات ، ان کی لینڈکروزروں،پجاروں اور انگنت سرکاری گاڑیو ں اور ان کے پٹرول پر اربوں روپوں کے اخراجات،ان کے نظام حکومت چلانے والے ایم پی اے،ایم این اے، سینیٹر و ں کی تعداد کے اضافو ں ، ان کی تنخواہوں کے اضافو ں، ان کے سرکاری مراعات کے اضافوں،ان کی اولادوں کی افسر شاہی اور منصف شاہی کی تعداد،مراعات اور تنخوا ہوں میں اربوںروپوں کے اضافوں،اس کے علاوہ اربوں، کروڑوں ڈالر بطور رشوت، کمیشن،کرپشن اکٹھی کرکے بیرون ممالک کے بنکوں میں لے جانے کے فرعونی حربے اور سیاسی فرعونی طریقے ہوتے ہیں۔ ان کے اندرو ن اور بیرون ممالک پھیلے ہوئے رائے ونڈ ہا ؤ سز،سرے محل ہاؤسز، شا ہی پیلسز ان رہزنوں کے ایسے فرعو نی محل تیار ہوتے رہتے ہیں ۔جو چیخ چیخ کر ان جمہوریت کے پروردہ مجرموں اور رہزنوں کے لوٹے ہوئے
سرکاری خزا نے اور ملی امانتیں ہضم کرنے کے جرائم کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔احتساب کمیشن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ان جرائمی ملکیتوں کو جائز قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔محتسب کا احتساب توممکن نہیں،جبکہ وہ بھی سرکاری خزانہ پر تنخواہوں اور سرکاری سہولتوں اور ان مجرموں سے رشوتیںلینے کے ڈاکے مارنے پر مسلط کردئیے جاتے ہیں۔
جمہوریت ایک بد ترین رہزنوں اور ڈاکوؤں کا ایک عجیب و غریب حکومتی ڈرامہ ہے۔ جوہر وقت اور ہر روز ملکی خزانہ لوٹنے کا کھیل پیش کرتا چلا آرہا ہے۔ ان کے خلاف بے بس کسانوں، مجبور مزدوروں ، بیکس محنت کشوں، منفعت بخش ہنرمندوں اور مظلوم معاشی مقتولہ عوام الناس کی اذ یتناک چیخیں ہر وقت کسی وقت کے کلیم اللہ جیسے رحیم،کریم عادل پیغمبر کو پکار تی رہتی ہیں۔ ان کے سرکاری خزانہ سے لوٹے ہوئے مال کی تیار کی ہوئی ملوں فیکٹریوں، کارخانوں کے ملوکانہ نظام کو پورے ملک میں چلانے والے انگنت ورکر محنت و مشقت کر کے مصنوعات تیار کرکے دولت اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔ اور ان کے یہ چند جمہوریت کے فرعونی مالک ان کی تمام محنت و مشقت کی کمائی طاقت اور اقتدار کی نوک پر چھینتے جاتے ہیں۔یہ طرز حیات صرف جمہوریت کے امتیازی فرعونی قبیلہ کے چند گنتی کے لوگوں کو میسر ہوتی ہے۔ ایسی تہذیب فرعونی اور یزیدی تہذیب کہلاتی ہے۔ جس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی الہامی ،روحانی اور آسمانی تعلیمات کی قندیلوں نے فرعونی نظریات پر مشتمل ان تمام باطل قوتوں کوموسوی عصا کی ضرب سے پاش پاش اور نیست و نابود کر کے رکھ دیا تھا۔ فرعون دریائے نیل میں غرق ہوا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے عبرت کا نشان بنا اور اس کے جسد کو محفوظ کر لیا گیا جو آج تک مصر کے شہر قاہرہ کے عجائب گھر میںمحفوظ پڑا ہے ۔ تا کہ آنے والی نسلیں اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔
۱۷۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کتاب ہدا ئیت یعنی توریت شریف کی تعلیمات اور نظریات کو پس پشت ڈالتی چلی گئی۔وقت گزرتا چلا گیا۔اس پیار ی امت نے اپنے پیارے پیغمبر کے الہامی اور روحانی درس کو بھلا دیا۔ فرعونی نظریات اس فرعونی نسل کے شعور میں پھرسے اجاگر ہوئے اور یہ ملت انہی فرعونی اصو لو ں کی پیروی میں گم ہو گئی۔ مادیت کے حصول کے صحرا میں بھٹکتی گئی۔ یہودیت کے لبا س میں فرعونی نسل دنیا کے کسی ملک میں بھی گئی تو سب سے پہلے اس کی معا شیا ت پر قابض ہوئی۔ پھر اس ملک کے باشندے ان کے کارخانوں، ملوں، فیکٹر یو ں،اور کاروبار میں ایک نوکر اور ایک غلام کی حثیت اختیار کرتے چلے جاتے ۔ روس اور جرمن کے حکمران ان کے اس فرعونی اسلوب سے آگاہ ہوئے اور ان کو ملک بدر کر دیا۔
یہ فرعونی ٹولہ ایک عرصہ سے امریکہ میں داخل ہو چکا ہے۔ایک قلیل سی تعداد میں ہونے کے باوجود ان کی تجارت اورمعاشیات پر قابض ہو چکے ہیں۔سیاسی طور پر بھی ان پر گرفت مضبوط کر چکے ہیں۔ دنیا کے اقتد ا ر کو حاصل کرنے کی جنگ کا آغاز کر چکے ہیں۔دنیا کا امن اس جنگ کی نظر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری بری طرح ان کے دام میں پھنس چکے ہیں۔یا اللہ یہودیوں اور عیسائیوں کو وقت کے ا ن فرعونوں سے محفوظ فرما۔آمین۔
۱۸۔ جب یہودی امت روحانی اور الہامی ضابطہ حیات کو مسخ اور ترک کر بیٹھی ۔تو اس کائنات پر پھیلے ہوئے جہالت اور گمراہی کے اندھیروں کو دور کرنے اور انسانیت کو فلاح اورنجات کا راستہ دکھانے کیلئے ابن مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام یعنی روح اقدس اس دنیا میں
تشریف لائے۔ان کی قوم نے ان پر بڑی سختیاں اور زیادتیاں کیں۔ان کے بن باپ پیدا ہونے کے طعنے اور ان کی زندگی کو طرح طرح کی اذیتوں میں سے گذارتے رہے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے کئی معجزوں سے نوازا ہوا تھا۔وہ بیماروں کو شفا،کوڑوں کے مریضوں کوکوڑ کی بیماری سے نجات اور مردوںکو زندہ کرنے کے معجزات ان کی پیغمبری کے عظیم معجزات تھے۔وہ انسانیت کے دکھوں کو دور کرتے اور سکھ انسانوں میں بانٹتے۔جدھر جاتے لوگوں کا ہجوم ان کے گرد جمع ہو جاتا۔وہ توحید پرستی کا درس دیتے۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کے آداب سکھاتے۔انہوں نے دنیا میںانسانوں کی خدمت اور مخلوق خدا کی عزت و احترام کا ایسا بیج بویا جس سے ادب و محبت کے چشمے پھو ٹتے رہتے اور انسانیت میں امن و آشتی پھیلتی رہی اور دنیا امن کا گہوارہ بنتی گئی ۔لوگ جوق در جوق عیسائیت کے مذہب میں داخل ہوتے جاتے ۔ ان کا حسن اخلاق اور حسن عمل انسانیت کے دلو ں کو تسخیر کرتا۔دلوں کے چراغ روشن ومنور ہوتے جاتے۔اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل مقدس جیسی متبرک اور طیب الہامی کتاب کا نزول عطا فرمایا۔عیسائیت دنیا میں امن اور محبت کی پیکر بن کر ابھری۔ عیسائی دنیا کی بے ثباتی سے آشنا۔مادیت اور اقتدار کی بھوک سے فارغ۔وہ خدمت خلق میں اتنے آگے بڑھ جاتے کہ وہ تار ک ا لدنیا کی زندگی بسر کرنے لگ جاتے۔لیکن وقت کی طوالت اور فرعونی طرز حیات انجیل مقدس جیسی الہامی کتاب کو بھی نگل گئی۔ان کے پاس حکومت کو چلانے کیلئے کوئی ضابطہ حیات موجود نہ تھا۔جس کی وجہ سے وہ فرعونی،یہودی جمہوریت کے نظریات کے عمل میں ڈھلتے چلے گئے ۔ عیسائی زبور شریف،توریت شریف کی طرح انجیل مقدس کو بھی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے گم کر بیٹھے۔ پوری انسانیت انجیل مقدس کی تعلیمات۔ اس کے نظریات، اس کے رشد و ہدائیت کے راستے سے محروم ہوتی چلی گئی۔
۱۹۔ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو وہی ذا ت مقدس ہی بہتر جانتی ہے۔ خیر و شر کی جنگ میں وقت کے سمندر میں امتیں کیسے غرق ہوتی اور ابھرتی رہیں ۔ جب زبور شریف، توریت شریف، انجیل شریف جیسی الہامی کتابیں یکے بعد دیگرے انسانی بستیوں میں گم ہوگئیں۔جب ان کی رشد و ہدائیت کی تعلیمات اور نظریات انسانی تہذیبیں نگل گئیں۔ظلم و بربریت کا بازار پھر گرم ہوا،معصوم مخلوقات کا قتال عام ہوا۔اعتدال و مساوات کا سبق ترک کردیا گیا۔جب عدل و انصاف دم توڑ چکا ۔ جب جہالت پر مشتمل بیٹیو ںکے قتال جیسی رسمیںعود آئیں۔ جب احترام انسا نیت کا دستور کچل دیا گیا۔جب انسا نی معاشرہ عزت و احترام جیسی دولت سے محروم ہوگیا۔ جب کسی کا جان و مال محفوظ نہ رہا۔ جب دنیا میں انارکی کی آگ پھیل گئی۔جب انسان درندگی کی مناز ل طے کر چکا۔ جب خیر کے داعی نایاب ہوگئے۔ جب انسان انسانیت کے تقدس سے محروم ہوگیا۔ جب خیر و شر کی پہچان ختم ہوگئی۔ جب بت پرستی،مادہ پرستی اور اقتدار پرستی کی آگ کا جہنم بھڑک اٹھا۔ تو اللہ تبارک تعالیٰ کی شان کریمی نے کروٹ لی۔ اور نبی آخر الز ما ں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس جہان رنگ و بو میں تشریف لائے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو رحمت العالمین بنا کر اس دنیا میں بھیجا اور آپﷺ کو اسی لقب سے پکارا۔ان کو ایک جابر ، ظالم، بے رحم،جاہل قوم میں پیدا کیا گیا اور انہی سے ان کا واسطہ پڑا۔عرب کے بدؤوں کی جہالت کی تہذیب سے کون آشنا نہیں۔فساد اور قتال ان کی زندگی کا حصہ تھا۔ کینہ پروری اور انتقام کی آگ میں جلنا ان کی فطرت بن چکی تھی۔امن و سکون کا میخانہ اجڑ چکا تھا۔رشد و ہدائیت کی شمع بجھ چکی تھی۔دنیا عبرت کدے میں بدل چکی تھی۔شر خیر کو دبوچ چکی تھی۔ان اخلاقی، روحانی بیماریوں کے تدارک کیلئے اور اس زوال یافتہ معاشرے کی اصلاح احوال کے لئے
اتنی بڑی ہی ہستی کی ضرورت تھی۔ جو اس بگڑے ہوئے معاشرے کو سنوار سکے۔ اور بین الاقوامی سطح پر انسانیت کو ایسا ضابطہ حیات عطا کرے جو ان کو معاشی اور معاشرتی امراض سے نجات دلا سکے۔
۲۰۔ تو اس وقت ہادیئِ زماں اور معلم انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ قرآن پاک جیسا ایک الہامی،روحانی صحیفہ نور،دستور مقدس جو ہر دور پر محیط اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو ازل سے لے کر ابد تک پوری انسانیت کیلئے رہبرو رہنما ئی فرماتا ہے۔اپنے ساتھ لائے۔تمام انبیا ء علیہ السلام اور ان کی الہامی کتابوں کی تصدیق فرمائی۔ان کی بجھی ہوئی شمع کو پھر روشن و منو رفرمایا۔بلکہ ان تمام پیغمبرا ن اور ان کی آل پر درود و صلوات بھیجنے کو مسلمانوں کی عبادت کا حصہ بنا د یا۔ ہر نماز میں درود ابراہیمی پڑھنے اور قائم کرنے کا پابند بنا دیا۔ ان تمام پیغمبران اور ان کی آل کا عزت و احترام اور ان سے محبت کا درس مسلم امہ کے دین کی عبادت کا بنیادی جز بنا دیا۔ جو ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ کسی مسلما ن کی اس وقت تک نماز جیسی عبادت ہی ادا اور قائم اور بار گاہ الٰہی میں قبول ہی نہیں ہوتی جب تک وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر درود صلوات نہ بھیجے۔یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے حضرت اسحٰق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت عیسیٰ روح اللہ حضرت اسحٰق علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں۔اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس یا پچیس ہزار پیغمبران بھیجے۔نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی تشریف لائے ۔اس طرح آخری صحیفہ قرآن شریف آپ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوا۔جو پوری انسانیت کے لئے رشد و ہدائیت اور رہنمائی کا چراغ ہے۔
۲۱۔ دین محمدیﷺایک ایسا ضابطہ حیات، ایک ایسا نظام حیات اور ایک ایسا طرز حیات ہے جو انسان کی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی پر محیط ہے۔ قرآ ن پاک ایک ایسا چشمہ رشد و ہدائت ہے جس سے پوری مخلوق خدا افادیت حا صل کر سکتی ہے۔اس کا دستور فطرت کے اصولوں پر مشتمل۔اس کی عمارت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنا، اسے قائم کرنا اور اس کی اطاعت کرنا۔اس عمارت کا خام مال،اخوت و محبت کی اینٹیں ، اعتدال و مساوات کا گارا،عدل و انصاف کا پانی،اس عمارت کے اندر کا سازو سامان صبر و توکل،ادب و احترام،پیارو شفقت، الفت و خدمت ، سادگی و شرافت، ہمت و محنت ، مادیت پر روحانیت کی بالا دستی ، دنیا کی بے ثباتی اور ایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ کے ایسے اسباق ہیں جن سے معاشرے کی اخلاقی اور روحانی تشکیل ہوتی اور اسلامی تہذیب پروان چڑھتی رہتی ہے۔
۱۔ اسلام کا دستور مقدس پوری انسانیت کی وراثت ہے۔
۲۔ یہ انسانیت کو رشد وہدا ئیت کا الہامی نصاب حیات عطا کرتا ہے۔
۳۔ یہ انسانیت کو اعتدال و مساوات کا درس دیتا ہے۔
۴۔ یہ مخلوق خدا کو اخوت و محبت کے جذبوں سے سرشار کرتا ہے۔
۵۔ یہ مخلوق خدا کو عزت و احترام اور عفو ودرگذرکا سبق سکھاتا ہے۔
۶۔ یہ مخلوق خدا کوحسن اخلاق اور حسن کردار کے انمو ل ضابطوںسے متعارف کرواتا ہے۔
۷۔ یہ مخلوق خدا پر صبر و تحمل کی گرہ کھولتا ہے۔
۸۔ یہ خدا اور رسول ﷺ پر ایمان لانے کے بعدہر مسلمان پر توحید پرستی،حج ، زکوٰۃ ، نمازاور روزہ کے فرائض ادا کرنیکی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
۹۔ دستور مقدس انسانیت کو عدل و انصاف مہیا کرنے کے اصول و ضوابط کی تعلیمات سے نوازتا ہے اور اسکو قائم کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
۱۰۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ بادشاہت کا راستہ بتاتا ہے اور نہ ہی آمریت کو پسند کرتا ہے۔ نہ ہی انسانیت پر ظالم جاگیر داروں اور نہ ہی معاشی قاتل سرمایہ داروں کو حکومتی سطح پر مسلط کرتا ہے۔ نہ ملوکیت کی طرف راغب ہوتا ہے اور نہ ہی جمہوریت کے غاصب ٹولہ کو انسانیت پر حکومت کرنے کا حق دیتا ہے۔نہ کیمونیزم اور نہ ہی سوشلزم کے نظریات کو دین کی حدود میںداخل ہونے دیتا ہے۔
۱۱۔ اسلام ایک اپنا الہامی دستور مقدس انسانیت کو مہیا کرتا ہے۔جو فطرت کے اصولوں کا مظہر ہے۔ دین کا شورائی نظام اسلامی معاشرے اور اسلامی تہذیب و تمدن کی تشکیل کا بنیادی عنصر ہے۔
۱۲۔ جمہوریت میںہر قسم کا عنصرباطل ،غاصب، جابر،ظالم ،راہزن، ڈاکو ، معاشی قاتل۔ معاشرتی قاتل،بد دیانت،بے حیا، شرابی،جاگیر دار،سرمایہ دار ٹو لہ اپنے اپنے علاقہ میں از خود الیکشنوں میں حصہ لینے کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اس جمہوریت کے ظلمت کدہ میں، ہر طبقہ کی سربراہی، معاشرے کے انہی جمہور یت کے عدل کش سیاسی نظام کے دہشت گردوں کے قبضہ میںخود کار نظام کے تحت پہنچ جاتی ہے۔ محلہ کا ممبر ہو یا یونین کونسل کا ناظم۔تحصیل کا ناظم ہو یاضلع کا ناظم۔ایم پی اے ہو ایم این اے ہو یا سینیٹر ہو۔وزیر ہو یا مشیر ہو،وزیر اعلیٰ ہو یا گورنر ہو،وزیر اعظم ہو یا صدر ہو۔ یہ قرآن پاک کی تعلیمات کے باغی۔ یہ دین کے نظریات کے باغی۔یہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے باغی۔یہ اللہ تبارک تعالیٰ کی شان عظیم کے باغی۔یہ دستور مقدس کے باغی۔یہ ملت اسلامیہ کے چودہ کروڑ فرزندان کے دینی نظریات کے قاتل۔ وہ اعتدال و مساوات کے قاتل۔ وہ عدل و انصاف کے قاتل۔ وہ کسانوں ، محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کے معاشی قاتل۔ وہ شاہانہ تفاوتی زندگی گذارنے،وہ ملک میں پھیلے ہوئے شاہی سرکاری محلوں میںرہائشیں اختیار کرنے ، اپنے شاہی محل تیار کرنے، شاہی سرکاری گاڑیاں اور نجی شاہی گاڑیوں کے شاہانہ فرعونی کلچر کی بالا دستی حاصل کرنے اور اقتدار حاصل کرنے کے مجرم۔اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی بجائے۔دستور مقدس کے نظریات اور تعلیمات کی بالا دستی قائم کرنے کی بجائے۔اسوہ حسنہ ﷺ کی روشنی پھیلانے کی بجائے۔وہ تودین کے خلاف سرے عام کھلی جنگ لڑتے اور جمہوریت کے نظریات اور تعلیمات پر مشتمل قوانین و ضوابط کی طرز حکومت قائم کرتے، چلاتے اور ملک میں فرعون کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں۔
اسلامی شورائی نظام اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و مقبول پیغمبر حضر ت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بنی نوع انسان کی رشد و ہدائیت اور فلاح و بہبود کے لئے ناز ل فرمایا۔اس شورائی نظام کے ذریعے کسی شخص کا چناؤ الیکشن کے ذریعہ نہیں ہوتا،اور نہ ہی کوئی فرد اپنا نام سلیکشن کے لئے پیش کر سکتا ہے۔ بلکہ اہل محلہ،اہل علاقہ کے عوام دین کی روشنی میں ایسے ممبران کی سلیکشن کرتے ہیں۔جن کا ماضی اور حال کا کردار ان کے سامنے ہوتا
ہے۔وہ صالح بھی ہواور سادہ بھی۔وہ نیک بھی ہواور ایماندار بھی۔وہ پرہیز گار بھی ہواور متقی بھی۔وہ ذہین و فطین بھی ہو اور دیندار بھی۔و ہ اعتدال و مساوات کا رکھوالا بھی ہو اور عدل و انصاف کا پجاری بھی۔وہ خوف خدا کا وارث بھی ہواور دنیا کی بے ثباتی کا آشنا بھی۔وہ سا دہ زندگی کا عادی بھی ہواور قلیل ضروریات کا حامل بھی ۔وہ شر کا دشمن بھی ہواور خیر کا داعی بھی۔نہ وہ نا جا ئز طریقوں سے دولت اکٹھی کرتا ہے اور نہ ہی وہ اقتدار کی بالادستی حاصل کرنے کی آگ کا ایندھن بنتا ہے۔ نہ وہ فرعون کی طرح مادیت کے حصول کی خاطر کسی کا معاشی قتل کرتا ہے۔ اور نہ ہی اقتدار کی خاطر انسانی قتال کرتاہے۔ وہ جانتاہے۔اگر ملک کا چھ،سات ہزار افراد پر مشتمل جاگیردار ، سرمایہ دار، سیاستدان ،حکمران طبقہ ملت کے چودہ کروڑ فرزندان کا معاشی قتل نہ کرے۔ اور ان کی لا تعداد،انگنت غیر ضروری افسرشاہی،منصف شاہی ملی خزانہ کو اپنے شاہانہ تصر ف ، شاہانہ تنخواہوں،بیشمار سرکاری شاہانہ مراعات ،اس کے علاوہ رشوت،کمیشن ،کرپشن اور طرح طرح کے حربوں سے ملک میں انصاف کے ضابطوں کا قتال نہ کریں۔ اور اعتدال و مساوات کو اپنالیں۔اپنی خوا ہشا ت ،
آرزوؤں،ہوس زر اور ضروریات زندگی کو کم اور روز مرہ کے اخراجات کو ایک عام آدمی کی سطح پرلے آئیں ۔ اور ملی خزانہ کی امانت کو بے جا تصرف میں نہ لائیں۔ تو ملک آسودہ بھی ہو جائیگا اور خوشحال بھی۔لیکن بد قسمتی سے جمہوریت کے نظریات اور اس کے طبقاتی تعلیمی اداروں کے یہ طبقاتی حکومتی دانشور اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔جب تک اس ملک و ملت پر یہ نظام مسلط رہے گا۔کوئی جرنیل،کوئی سیاستدان ، کوئی حکمران اس ملک وملت کو تباہ ہونے سے بچا نہیں سکتا۔ملک و ملت کو صرف ایک ایسے قائد کی ضرورت ہے۔جو دین کی روشنی میں ایسی معاشی، معاشرتی اور روحانی عمارت تیار کرے جو دنیا کی بے ثباتی،عدل و انصاف،اعتدال و مساوات،اخوت و محبت کی بنیادوں پر قائم ہو اور متاع ارضی کی امانتوں کوہر کس وناقص کو پہنچا نے کی ذمہ داری کا فریضہ ادا کر سکے۔
۱۴۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور حاکمیت کو تسلیم کرتا اور قائم کرتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے دستور مقدس کی پیروی کرتا ہے۔وہ دین کے اصول و ضوابط کی ازخود اطاعت کرتا اورامت محمدیﷺ کو بھی اس کا پابند بناتاہے۔وہ اللہ کیلئے جیتا اور اللہ ہی کے لئے مرتا ہے۔وہ خیر کو پھیلاتا اور شر کو مٹاتا ہے۔وہ دین کا مبلغ اور عوام الناس کے حقوق کا محافظ۔وہ اعتدال و مساوات کی بھٹی کا کندن۔وہ عدل و انصاف کا پیکر۔وہ مہرو محبت کا وارث۔وہ عفو و در گذر کی حکمتوں سے آشنا۔وہ فتح مکہ کے روز ہر کس و ناکس کیلئے کھلی معافی کے عمل کا داعی۔وہ انسانیت کے دکھوں کا مداوا۔وہ نیکی اور بھلائی کا سفیر۔وہ سرائے فانی کی حقیقت سے روشناس۔وہ ہمت و محنت کا خو گر۔وہ ا ما نت و دیانت کا امین۔وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی درسگاہ کا مفکر۔وہ نماز پڑھنے اور نماز قائم کرنے کے فرق سے آشنا ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ نماز اس وقت قائم ہوتی ہے۔ جب انفرادی اور اجتماعی زندگی تابع فرمان الہی ہو ۔ لیکن جب انفرادی اور اجتماعی زندگی کا تعلیمی نصاب،علم اور عمل دین کے خلاف سرکاری طور پر جمہوریت کے فرعونی نظر یا ت کے تابع احکام ہو تو اس ملک میں نماز کیسی اور اسلام کے نظریات اور تعلیمات کی حیثیت کیسی۔مسلم امہ کو ان حقائق کو سمجھنے اور اس فتنہ اور المیہ سے ملت کو نجات دلانے اور آنیوالی نسلوں کو راہِ راست پر گامزن کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایساقائد اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بجا لانے کا لا جواب مجاہد۔وہ اللہ کے احکامات کو بجا لانے کیلئے جنگ کرتا ہے۔پہلے وہ دین کی دعوت دیتا
ہے۔اگر کوئی دین میں شامل ہو جائے تو اس شخص کو اسی وقت تمام حقوق مہیا کر دئے جاتے ہیں۔ جو ایک مسلمان کو میسر اور حاصل ہوتے ہیں۔اگر کوئی دین میںداخل ہونے سے انکا ر کرے تو پھر اس شخص سے اس کی حفاظت کا جذیہ طلب کر لیا جاتا ہے۔اگر وہ جذیہ ا دا کر دیتا ہے تو اس کے حقوق اور اس کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔جس کو حکومت احسن طریقہ سے پوری طرح نبھاتی ہے ۔ اگر کوئی ایسا شخص جونہ تو دین کی دعوت یعنی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو قبول کرے اور نہ ہی جذیہ دے تو اس کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے۔اسلام نے مسلمان کو جنگ کے آداب بھی بڑ ے واضح سمجھا دئیے ہیں۔ جنگ صرف ان سے کی جاتی ہے جو جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس جنگ میں ان کے علاوہ کسی غیر متعلقہ شخص کا نہ قتل کیا جاتا ہے۔ اور نہ ہی کسی قسم کا نقصان۔ قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دوران جنگ کسی کی فصل،کسی کے پھل دار درخت یا کسی کے گھر کو نقصان نہیں پہنچایا جاتا۔ جنگ کرنے والوں کے کسی بچے،بوڑھے یا مستورات کی نہ بے حرمتی کی جاتی ہے اور نہ ہی ان پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے۔ وہ جنگ صرف خدا اور اس کے رسولﷺ کے احکامات بجا لانے کیلئے اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرنے کیلئے لڑی جاتی ہے۔اگر وہ جنگ جیت جائے تو غازی اور مارا جائے تو شہید۔وہ خدا کی خاطر جیتا ہے اور صرف خدا ہی کے لئے مرتا ہے۔اس کا جان و مال اللہ تعالیٰ کے لئے وقف شدہ ہوتا ہے۔ وہ جہاد فی سبیل اللہ کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔جہاد اس کے قریب
ایک مقبول و محبوب عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ شہادت کی موت کو زندگی کا مقصود اوراللہ تعا لیٰ کا ایک عظیم انعام تصور کرتا اور جانتا ہے۔
یا اللہ ! ملت اسلامیہ اور تمام پیغمبران کی امتوں کو کلمہ حق کہنے اور اس پر قائم ہونے اور جمہوریت کے فرعونی نظام کے خلاف جہاد کرنے اور مذاہب کی تعلیمات کی روشنیاں بحال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بادشاہتیں،حکومتیں اور ان کی محفلیں اور قافلے اسی جہان میں لٹ جاتے ہیں۔وقت کی آغوش میںزندگی کے لمحات دم توڑ جاتے ہیں۔یہ عروج کے نغمات سازِ خاموش بن کر رہ جاتے ہیں۔ظلمات کی روایات کو ختم کرنے والے اپنی زندگی میں نور کے چراغ روشن کرنے کے عمل میں سے گذرتے رہتے ہیں۔وہ اپنے مشن میں ایسے مستغرق ہوتے ہیں کہ شکایاتِ زمانہ لب ہلنے سے پہلے دم توڑ دیتی ہیں۔وہ ویرانوں کو گلستاں بنانے میں محو رہتے ہیں۔ وہ خیر کی آبیاری کرتے اور رہگذر کے چراغ بن کر اپنا سراغ چھوڑ جاتے ہیں۔خیر کے داعی ہردورمیںان سے استفادہ کرتے رہتے ہیں تا کہ یہ جہان رنگ و بو امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔ اور اس دار الفناہ میں بسنے والی احسن تقویم جیسی شاہکار مخلوق کیلئے یہ دنیا اعتدال و مساو ا ت، عدل و انصاف، امانت و دیانت، عزت و احترام ، اخوت و محبت اور خلق عظیم کا مسکن بن سکے۔ یا اللہ تو اس فریاد کو قبول فرما۔اوراس فریاد کو مخلوق خدا کے دل میںاترنے اوراس پر عمل کرنے کی توفیق بھی عطا کر۔ امین ۔ثم امین۔