To Download PDF click the link below

 

  جمہوریت کے نظریات اور تعلیمات کا فتنہ ۔اور اس کی دنیائے عالم کے مما لک پر سرکاری بالادستی۔نمرود،فرعون اور یزید کی معبد،کلیسا اور مسجدپر حکمرانی۔
عنایت اللہ
۱۔ دنیا ئے عالم کے مذاہب ایک بہت بڑے درد ناک اور عبرتناک المیہ سے دوچار ہیں۔تمام مذاہب کے پیروکار اپنے اپنے لاڈلے پیغمبران کی پیاری امتیں ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات،ان کی مذہبی اقدار ، ان کا مذہبی ضابطہ حیات ،ان کا مذہبی تہذیب و تمدن،ان کا مذہبی معاشی نظام ،ان کا مذہبی معاشرتی نظام ،ان کے ازدواجی زندگی کے ضابطے،ان کے اخلاق و کردار کے اصول،ان کے رشدو ہدائت کے راستے،ان کے مذہبی نظریات اور ان کی تعلیمی درسگاہوں کی ا ہمیت ،فوقیت اور تربیت کو حکمران حکومتی سطح پر منسوخ اور پس پشت ڈال کر ان کو نظر انداز کر تے جا رہے ہیں۔ملکی ،ملی اورمعاشرتی سطح پر تمام مذاہب پرست امتوں کے حکمر ا نو ں نے مذاہب کی سرفرازی ختم کر دی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے پیغمبران کی مساوات اور اخوت کی چٹائی پر بیٹھنے،ان کے الفت و محبت کے جام پینے ،ان کے خدمت و ادب کے راستے ہموار کرنے،ان کے بھلائی اور خیر خواہی کے تبرک تقسیم کرنے ، ان کے نفرت اور نفاق کی آگ کو بجھانے،ان کی انسانیت دوستی کے ذریعہ دلوں کو راحت اور روحوں کو سکون عطا کرنے ،بھوکو ں کو کھانا کھلانے ،پیاسوں کی پیاس بجھانے اور مخلوق خدا کے دکھوں کا مداوا،دردوں کا علا ج ،مصیبتوںکو دور کرنے میں معاونت،اذیتوں میں کمی ، زخموں پر مرہم اور ناگہانی آفات وبلیات کو ختم کرنے کے اعمال ہی انسانی فلاح اور عبادت کے پیغمبران کے بتائے ہوئے طیب راستے تھے۔جن کے ذریعے انسان انسانوں کے دلوں اور روحوں میں اترتے اور ایک دوسرے کی قربتوں سے لطف اندوز ہوتے جاتے۔اس گلستان حیات اور فانی سرائے میںانسانی کردار اور اسوہ حسنہ کے بہترین ا عمال انسا نوں کے دلوں میں مختلف محبتوں کی خوشبوئیں پھیلا تے ۔ ان مذاہب کے گلستانوں میں کہیں رات کی رانی ، کہیں چنبیلی، کہیں موتیا اور کہیں گلاب کے پھولوں کی روحانی،الہامی،آسمانی خوشبوئیں اس جہان رنگ و بو میں پھیلاتے۔پیغمبران نے جوتہذیب بھی تیار کی نہ وہ درندوں اور وحشیوں کی تہذیب تھی ۔اور نہ ہی انسانیت کے دشمنوں کی۔ان کے اصول و ضوابط انسانی فلاح اور بہبود کے ضامن ہیں۔ان کی تعلیمات ظلمات کو دور کرتی اور نور کو پھیلاتی ہیں۔ان کے قوانین ظلم و جبر کو پاش پاش کرتے اور عدل و انصاف کو قائم کرتے ہیں۔ خدا کی دھرتی پر اس کی خدائی کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں ۔ اعتدال و مساوات کے الفاظ کی حرمت کی حفاظت کرتے ہیں۔ صبرو تحمل کی تاکید کرتے ہیں۔عفو و درگذر کا سبق سکھاتے ہیں۔توحید پرستی کا درس دیتے اور شرک کو ختم کرتے ہیں۔اخوت و محبت کی مے پلاتے ہیں۔امانت و دیانت کی قندیلیں روشن کرتے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی اقدار کو تحفظ فراہم کرتے اور ان کی پاسداری کر تے ہیں۔ نفرتوں اور نفاق کا قلع قمع کرتے ہیں۔ازدواجی زندگی کے تقدس کا سبق سکھاتے اور انسانی نسل کی آفرینش کا خدائی نظام سمجھاتے ہیں۔ ماں باپ کوشفقت و محبت اور اولاد کو ادب و خدمت کے طیب جذبوں سے سرشار کرتے ہیں۔ ماںباپ،بہن بھائی ،دادی دادا،نانی نانا، خالہ خالو،پھو پھا پھو پھی، آسمانی اور انسانی رشتوں کا احترام و عزت کا علم سکھاتے ہیں۔ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک کا گیان عطا کرتے ہیں۔ جس سے معاشرے کی حسین و جمیل عمارت کی تکمیل کا عمل جاری ہو تا ہے۔
۲۔ داؤد علیہ السلام کی زبور شریف ہویا کلیم اللہ کی توریت شریف ہو،روح القدس کی انجیل مقد س ہو یا محمد الرسول اللہ کا قرآن شریف ہو ۔ان دین ابراہیمی کے آسمانی صحیفوں پر مشتمل نظریات،ان کی توحید پرستی کی نورانی تعلیمات، ان کے رشد و ہدائیت کے راستو ں،ان کے عبادات کے طریقوں، ان کے خیرو شر کے اصولوں ، ان کی خیر وسلامتی کی تعلیم، ان کی صبر و توکل کی تعلیم،ان کی حق و صداقت کی تعلیم ،ان کی خدمت و ادب کی تعلیم، انکی شفقت و محبت کی تعلیم، ا نکی غور و فکر کی تعلیم،ان کی مخلوق خدا یا کنبہ خدا کا ایک دوسرے سے مل جل کر رہنے کاعلم،ان کی یتیموں، غریبوں ، مفلوجو ں، مسکینوں، بیروز گاروں اور مستحق عوام الناس کی ادب و امداد کی تعلیم ، ان کی اخوت و محبت کی تعلیم، ان کی دنیا کی بے ثباتی کی تعلیم،ان کی دنیا اور آخرت کی تعلیم،ان کے نیکی اور بدی کے راستہ کی تعلیم،ان تمام انبیا کو تسلیم کرنے کی تعلیم،ان کی الہامی کتابوں پر ایمان لانے کی تعلیم، ان پر ہر نماز میں درود ابراہیمی بھیجنے کی تعلیم ، ا نکی انسانیت کی عزت و احترام کی تعلیم،ان کی اتفا ق کی نشو ونما کی تعلیم،رشتہ داروںاور ماں باپ کے عزت و احترام کی تعلیم ،اولاد کی پرورش کی تعلیم،معاشرے کے الہا می ضابطہ حیات کی تعلیم و تربیت کے مطابق مذہبی اخلاق و کردار ،اعتدال و مساوات ،عدل و انصاف،امانت و دیانت، حق و صداقت اور جرات و شجاعت کی تعلیم، ان کی ازدواجی زندگی گذارنے اور معاشرے کی تشکیل کرنے کی تعلیم ، اسلامی تہذیب وتمدن تیار کرنا، مذہبی عبادات ،حقوق اللہ اور حقوق العباد کا فریضہ ادا کرنے کی تعلیم۔جس سے انسان انفرا د ی زندگی سے لے کر اجتما عی زندگی تک کے مذہبی اصول و ضوابط کی روشنی میں اخلاق و کردار کی نشوو نما پاتا اور ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ ایسا ملک نظریاتی مذ ہبی ریاست کہلا تا ہے۔ اور ایسی امت مذہبی امت کہلا تی ہے۔ایسے ملک و ملت کا سرکاری نظام چلانے کیلئے ایسے قائد کی ضرورت ہوتی ہے۔جو مذہب کی تعلیمات سے آشنا ہو اور اخلا قی طور پر بہترین انسان ہو۔ مذہب کے قریب ترین ہو اوردینی کردار کا وارث ہو۔اعلیٰ فکری صلاحیتوں کا مالک ہو اور نظریاتی حدودو قیود سے آگاہ ہو۔ سادہ اور مختصر ضروریات اور قناعت پسندی کے عمل کا علمبردار ہو۔ ایسے لوگ کائناتی مکتبہ فکر میں اپنا مخصوص رول ادا کرکے ایک مخصوص مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ فکری عظمت کا چراغ جب تک کوئی دیدہ ور ،صاحب بصیرت،فقیر دوست،محسن انسانیت نہ جلائے ۔اس وقت تک امتیازی حثیت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور اس وقت تک خصوصی اخلاق و کردار کی کرنیں انسا نی دلوں میں روحانی روشنی منور نہیں کرسکتیں۔
۳۔ مسلم امہ کیلئے تمام پیغمبران قابل صد احترام اور قابل ستائش ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں یا ان کی اولاد، حضرت اسحٰق علیہ السلام یاحضرت اسمٰعیل علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ السلام ہوںیاحضرت موسیٰ علیہ السلام۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں یاحضرت محمد الر سو ل اللہ ہوں۔ یاد رکھو۔۔۔ محمد الرسول اللہ کی امت کی نماز اس وقت تک بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہوتی جب تک وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر درود شریف نہ بھیجیں ۔یا ان کی امتوں کو محبت و ادب اور عزت و احترام سے پیش نہ آئیں ۔ اسلام میں بغیر کسی جواز کے کسی کوبرا بھلا کہنا یا کسی کی عزت و احترام میں فرق ڈالنا یا بے حرمتی کرنا اسلام کے نزدیک صرف نامناسب عمل ہی نہیں بلکہ ایک گناہ سمجھا جاتا ہے۔ ویسے بھی فطرتی طور پر ہر فرد اپنے آباؤ اجداد کی عزت و احترام کرتا ہے ۔ اور نہ ہی ان کے آداب بجا لانے میں کوئی کسر چھوڑتا ہے۔ تما م مذاہب کی بنیا د توحید پرستی کے ایک محور اور ایک ہی نقطہ پر قائم ہے۔ آل ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل کتاب پیغمبران کی شان و عظمت دنیائے پیغمبران میں ایک الگ تھلگ عظیم مقام رکھتی ہیں۔یہ تمام پیغمبران ایک ہی لڑی کے موتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی الہامی مقدس کتابوں زبور شریف،توریت شریف،انجیل شریف اور قرآن شریف جیسے متبرک اور مقدس نسخوں کے وارث ہیں ۔جو اپنے اپنے ادوار میں یکے بعد دیگرے انسانیت کی فلاح اور رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ ان پر ناز ل فرماتے رہے۔ ان پیغمبران کی امتوں میں سے یہ کوئی بھی اعتراض نہیں کر سکتا کہ ان کے پیشرو پیغمبران کے بتائے ہوئے ضابطۂ حیات یا ان کے نظریات یا ان کی تعلیمات یا انکے بنیادی اصول و ضوابط ایک دوسرے کے متضاد تھے۔ جب تک کوئی امت ان پر کار بند رہی تو کام بہترین چلتا رہا۔مخلوق خدا مذہب کی طرف راغب اور منسلک ہوتی رہتی۔دنیا امن کا گہوارا اور اخوت و محبت کا مسکن بنا رہتا۔ جب ان کی امتیں ان کی تعلیمات سے منحرف ہو تی گئیں ۔ تونئی مقدس کتابوں کا نزول ہوتا رہا۔بالآخر انسانیت پر آخری مقد س کتاب قرآ ن شریف آخری نبی الزماں حضرت محمد مصطفٰے پر نازل ہوئی۔جو پہلی تمام کتابوں کی اور پیغمبران کی تصدیق کرتی ہے۔ بد قسمتی سے تمام مذاہب کی تعلیما ت دنیا کے تمام ممالک میں سرکاری سطح پر منسوخ ہو چکی ہیں۔ اس وقت تمام پیغمبران کی تمام امتیںایک ہولنا ک اور عبرتناک سانحہ سے دوچار ہو چکی ہیں۔ ان کے نظریات ،ان کی تعلیمات،ان کے بنیادی اعتقاداور ضابطہ حیات کو سرکاری سطح پر ان کے ممالک اور ان کی امتوں پر یک قلم منسو خ اور مسترد کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے مذہبی اور دینی نظریات پر مشتمل مکتبہ فکر کو معبد،کلیسا اور مسجد کی عبادت گاہوں کی سلاخوں میں مقید کر دیا گیا ہے۔ اسکے برعکس انسا نی عقل و شعور کا تیار کردہ قوانین و ضوابط پر مشتمل فرعونی جمہوریت کا پھندا ،ان امتوں کے گلے میں ڈال کر کس دیا گیا ہے۔مذہب اور دین کے فکری عظمت کے چراغ بھجتے جا رہے ہیں۔ جمہوریت کے نظریات کی بالا دستی اور سرکاری سرفرازی کی بنا پر مذاہب کی امتیازی حیثیت دم توڑتی اور ختم ہوتی جا رہی ہے۔سیاسی دانشوروں کی عقلی شیطانی قوتیں اجتماعی فساد اور انسانی قتال کا مرثیہ لکھتی جا رہی ہیں۔یہ فرعونی یزید ی حکمران سیاسی قوتیں مذہبی،دینی نظریات اور اخلا ق کے ساتھ رشتہ توڑ چکی ہیں۔ مادیت کے حصول کی آگ کے جہنم میں انسانیت جلتی اور جھلستی جا رہی ہے۔جسمانی حسن عریانیت کی منازل طے کر چکا ہے۔جنسی بے راہ روی اور بے حیائی کو سرکاری تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ازدوا جی زندگی دم توڑتی جا رہی ہے۔ خاندان کی بنیاد کو جنسی بے راہ روی کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ رشتوں کی آسمانی ،الہامی اور روحانی محبتوں بھری لطیف خوشبو مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ مذہبی معاشرے کی حسین و جمیل اور دلکش عمارت بڑی تیزی سے ر یزہ ریزہ ہوتی جا رہی ہے۔ ازلی ابدی رشتوں کا تقدس روندا جا رہا ہے۔ مغربی تہذیب میں مردو زن کا ملاپ عام ہو چکا ہے۔ جمہوریت کے سائے تلے یورپی تہذیب لا د نیت اور اخلاقی،روحانی تباہی کی سرحدوں میں داخل ہوتی جا رہی ہے۔ پیغمبران کے الہامی نظریات اور تعلیمات کو سرکاری سطح پر پس پشت ڈال کر عیسائیت کی روح معاشرے کے جسد سے نکال لی گئی ہے۔ اسکی جگہ سیاسی دانشوروںکے جمہوریت کے نظریات اور انکی تعلیمات کو سرکاری برتری دے کر مذاہب کے ارتقائی عمل کو نہ صرف روک دیا گیا ہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زوال سے دو چار کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے مذہبی اور روحا نی تہذیب دم توڑتی جا رہی ہے۔ ان کے مذہبی ، روحانی پیشوا اور مذہبی رحجانات کے لوگ حکمرانوں کی سرکاری بالادستی کی گرفت میں بری طرح پھنس کر بے بس ہوچکے ہیں۔ جمہوریت کے فرعونی حکمرانوں نے مغربی میڈیا اور تمام ذرائع ابلا غ کو عیسائیت کی تعلیما ت ، عیسائیت کے ضابطہ حیات، عیسائیت کے نظریات، عیسائیت کے اخلاقیات،عیسائیت کی عبادات، عیسائیت کے انسانیت کے دلوں کو تسخیر کرنے والے خدمت خلق کے اصول ،عیسائیت کے عدل و انصا ف، امانت و دیانت،اخوت و محبت، اعتدال ومساوات اور عیسائیت کے تمام فلاحی اور رفاعی نصب العین کی اصل روح کو مسخ کرکے عیسیٰ علیہ السلام کی روحانیت کے تمام فلاحی دروازے انسانیت پر مکمل بند کئے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے انکا مذہب زوال کی منزل پر گامزن کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ جمہوریت کے باطل،غاصب دانشوروں کے نظریات اور ان کی تعلیم و تر بیت پر مشتمل تعلیمی نصاب کو عیسیٰ علیہ السلام کی امت پر سرکاری بالا دستی قائم کرکے عیسائیت کے روحانی اور الہامی نظریات اور تعلیمات کو بری طرح ناکارہ اور اپا ہج بنا دیا گیا ہے۔انسانی بستیوں سے اخوت و محبت اور ادب و خدمت اور انسانیت دوست انسانوں کے روح پر ور کرداروں کا گذر بند کر دیا گیا ہے۔اسکی جگہ جمہوریت کے فرعونی اور یزیدی نصب العین کے حکمران قائدین نے دنیا بھرمیں عدل و انصاف کو کچل رکھاہے۔ نفرت،نفاق اور قتال کا عمل جاری کر رکھا ہے۔
الف۔ ان حقائق کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ بین ا لاقوامی طاقتیں مسلم ممالک افغانستان اور عراق پر ریاستی دہشت گردی کا عمل مسلط کر کے انسانیت کو اسکا ایندھن بنا ئے جا رہے ہیں۔دنیائے عالم ایٹم بموں کی یلغار میں محبو س ہوتی جا رہی ہے۔افغانستان اور عراق جیسے کمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالک پربلا جواز جنگ مسلط کی۔تمام بے ضمیر مغربی اتحادی ممالک کے حکمرانوںنے ملکر ہم مشورہ ا و ر ہم صلاح ہو کر جدید ترین اسلحہ کے انبار اکٹھے کرکے ڈیزی کٹر بموں،کروز میزائلوں ، گیس بموں،جراثیمی بموں،نائٹروجن بموں اور ہر قسم کے مہلک ہتھیا رو ں کی بارشیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ ۔بیگناہ مخلوق خدا،بیگناہ انسانوں، نوجوانوں، معصوم بچوں،بوڑھوں اوربے ضرر مستورات کا قتال کرتے اوربیشمار انسانی اعضا فضا میں بکھیرتے چلے آرہے ہیں۔اس کے علاوہ انکی بستیوں کو خاکستر اور شہروں کو کھنڈرات میں بدلتے چلے جا رہے ہیں۔القاعدہ کے نام کی تیار کردہ خود ساختہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دیکر ان ممالک کے نوجوانوں کو پکڑ کر انکا کھلے عام قتال کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔عراق کے سائنس کے پرو فیسروں کو چن چن کر ختم کر دیاہے ۔ قیدیوں کو ظلم و ستم،بے پناہ تشدد اور اذیتوں سے گذار کر انکا قتال بڑی بے دردی سے کیا جا رہا ہے۔مغربی اتحادی ممالک دنیا کی تمام مظلوم عوام کو ایک مرکز پر اکٹھا ہونے کی دعوت دے چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے امن کو آگ لگا دی ہے۔ عوام جرمن کے ہوں یا جاپان کے،روس کے ہوں یا بارہ روسی ر یا ستوں کے،ایران کے ہوں یا اسرائیل کے۔افغانستان کے ہوں یا عراق کے۔کشمیر کے ہوں یا شمالی کوریا کے۔ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ان ممالک پر یہ اپنی مرضی کے حکمران مسلط کر سکیں۔ لیکن اسکے باوجود انکے عوام ان بین الاقوامی مغربی دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔وقت کی ضرورت کے مطابق وہ بھی ایسا اسلحہ تیار کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرینگے۔جو ان اتحادیوں کے ایٹمی پلانٹوں،انکے جدید اسلحہ ساز کارخانوں ،انکے بجلی گھروں کو تباہ اور اسی طرح انکی دکھتی رگوں گو نشتر لگاتے رہیں گے۔ وہ ایٹم بم تو شائد نہ بنا سکیں۔لیکن یہ ان کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ وہ خود کش حملہ آوروں کی تعداد اور خود کش حملوں کا سلسلہ پوری دنیا میں پھیلا دیں ۔ یہ کب تک انسانی فصلیں کاٹتے اور کٹواتے رہیں گے۔یہ دہشت گرد کب تک ان خود کش حملہ آوروں کوفرعون کی طرح گھر گھر ،بستی بستی،شہر شہر اور ملک ملک ڈھونڈتے اور قتال جاری رکھیں گے۔یہ کب تک اپنی افواج کی لاشوں کی اصل تعداد اپنی عوام سے چھپاتے رہیںگے۔پوری دنیا میں انہوں نے دہشت گردی کے لغتی معنی بدل کر رکھ دئیے ہیں۔قاتل کو مقتول اور مقتول کو قاتل کہنے والے ممالک کے لکھاریوںاور میڈیا کے ورکروں کوکلمہ حق کہنے کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ گلوبل لائف میں سچائی اور حق و صداقت کا علم بلند کرنا ہو گا۔ انکی عوام،انکے مذہبی پیشواؤں اور انکے اہل بصیرت انسانیت دوست انسانوں کا فرض بنتا ہے۔کہ وہ ان ظالم ،غاصب انسانیت کش شکل میں نمرود، فرعون،یزید کے جمہوریت کے ضابطہ حیات،اسکے نظریات،اسکی تعلیمات اور اسکے تعلیمی اداروں کے دور حاضر کے شاہکار دانشوروں کے تیار کردہ ملی تشخص کا موازنہ حضرت داؤد علیہ السلام،حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام اورحضرت عیسیٰ روح القدس علیہ السلام کے ضابطہ حیات،انکے نظریات،انکی روحانی،الہامی تعلیمات اور انکے معبد،کلیسا جیسے مقدس تعلیمی درسگاہوں کے تیار کردہ ملی تشخص سے کریں تو یہ بات بڑے واضح طور پر کھل کر سامنے آجاتی ہے۔کہ جمہوریت کا تیار کردہ تشخص اور مذاہب کا تیار کردہ تشخص ایک دوسرے کے متضاد اورایک دوسرے کی ضدیں ہیں۔مذہب ادب ،محبت،خدمت،خدا ترسی،رحم اور دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتا ہے۔مخلوق خدا کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش کردار تیار کرتا ہے۔جب تک عیسیٰ علیہ السلام کی تربیت گاہیں مذہبی کردار تیار کرتی رہیں۔تو وہ اپنے حسن سلوک کی وجہ سے دنیا میں پھیلتے چلے گئے۔ خیر کے داعی دلوں کو تسخیر کرتے چلے گئے۔ انہوں نے دنیا کو امن و سکون کی آماجگاہ بنا دیا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی امت کے منافقوں نے مذہب کو پس پشت ڈال دیا اور اسکی جگہ جمہوریت کی بالادستی کو سرکاری طور پر اپنے اپنے ممالک پر مسلط کر دیا۔جو مذہب کے ضابطہ حیات،نظریات، اسکے تعلیمی نصاب اسکی تعلیم و تربیت اور اسکے تعلیمی اداروں اور اسکے مذہبی کرداروں کو نگل گیا۔مذہب کو گرجا و کلیسا میں پابنداور مقید کردیا۔اور عیسائی ممالک پر جمہوریت ،اسکے نظریات،اسکا تعلیمی نصاب،اسکی تعلیم و تربیت اور اسکے تعلیمی ادارے سکولز،کالجز اور یونیورسٹیوں جمہوریت کا ایک انوکھا تشخص تیار کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ عیسائیت اور امت محمدی اور دنیائے عالم جمہوریت کے سیاسی دانشوروں کے نظریات میں گم ہو تی چلی گئی۔ یہ حکمران پوری دنیا میں جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکا چکے ہیں۔ عیسائیت کے مذہبی پیشواؤں کے لئے ایک عظیم لمحہ فکریہ ہے۔کہ وہ مذہب کے نظریات ،اسکی تعلیمات اور اسکے تعلیمی اداروں کی سرکاری بالادستی اپنے اپنے ممالک میں نافذ کریں ۔تا کہ روح القدس کے نظریات کی نورانی کرنیںانسانوں کے دلوں میں روشن کرکے جمہوریت کے نظریات کے سیاہ اندھیروں سے عیسائیت کے ماننے والوںکو نجات دلائی جا سکے۔ امین
۴۔ عیسائی مذہب کے سیاسی اور فرعونی حکمرانوں کے کارواں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر اور ان کی تعلیمات کو مسخ کر کے عوام الناس کو عیسا ئیت سے بیزار ،متنفر اور دور کردیا ہے۔یہ مذہب کش اور دین کش مادیت اور اقتدا ر کے حصول کو بھڑکانے والی آگ پر مشتمل جمہوریت کا کینسر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے فرعونی نسل کے مغربی دا نشوروں اور سکالروں کی ایجا د ہے۔جمہوریت کے فرعونی کلچر اور بے دین طرز حکومت اور باطل نظریات کے مغربی فرعونی علمبرداروں نے دنیا کے پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک پر جمہور یت کے نظریات پر مشتمل قوانین کی بالا دستی قبول کرنے کا پابند بنا رکھا ہے۔ پاکستا ن بھی مادیت اور اقتدار کے حصول کو بھڑکانے والی آگ پر مشتمل جمہوریت کے نظریات کی زد اور ان کے فحاشی کے کلچر کے زیر اثر ہے۔اس ملک کا نظام اور سسٹم غلامانہ،ملحدانہ اور مادہ پرستی کی بنیادوں پر مغرب کے زیر نگرانی استوار ہوتا چلا آرہا ہے۔ملت کی دولت، ملک کے خزانے،ملک کے تمام وسائل پر چند فرعونی نسل کے غاصب آمروں کا قبضہ ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہونے کے باوجود آج تک تمام سیاسی اور فوجی حکمران اس ملک کے چودہ کروڑ ملت اسلامیہ کی نسلوں کو غیر اسلامی تعلیم،غیر اسلامی تعلیمی نصاب،غیر اسلامی انتظامیہ کی تعلیم و تربیت، غیر اسلامی عدلیہ کی تعلیم و تربیت،غیر اسلامی سودی معاشی نظام،غیر اسلامی طبقاتی تعلیمی نصاب،غیر اسلامی مخلوط معاشرہ، غیر اسلامی طرز حیات کو مسلط کرکے بے دین جمہوریت کے معاشرے کی نشوو نما کرتے چلے آرہے ہیں۔ملت اسلامیہ کو جمہوریت کے فرعونی معا شی اورمعاشرتی کینسر نے اس کے اخلاق و کردار کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔اس جدید فرعونی جہالت کی سرکاری بالادستی اور ان کے کردارنے دین کے ارتقائی عمل کو مفلوج کر کے لا علاج بنا رکھا ہے۔ملت کو غیردینی قانونی جرائم کی چتا میں جھونک رکھا ہے۔ مغربی تہذیب کی اقدار کا فروغ ملک میں جاری ساری ہے۔چودہ کروڑ مسلمانان پاکستان غیر اسلامی نظریات پر مشتمل جمہوریت کے نظام کا ایندھن بنتے چلے آرہے ہیں۔
۵۔ قران حکیم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قران حکیم کی تعلیمات انسانیت کی رہنمائی فرماتی ہے۔ قران حکیم کے نزدیک مقصودِ زندگی بنی نوع انسان کی بھلائی، فلاح،اور بہبود ہے۔ قران پاک ایک ایسا نظام مہیا کرتا ہے۔ جس سے پوری کی پوری انسانیت پروان چڑھے۔ انسانی زندگی میں عدل و اعتدال اور توازن قائم ہو۔ متاع ارضی کی تقسیم اور اس کے قوانین ،اس کے ضابطے اور اس کا سسٹم ہرفرد کے لئے یکساں مواقع مہیا کرے۔ جس سے افراد کی بنیادی ضروریات زندگی قرانی نظام کے مطابق فراہم ہوتی جائیں۔ انسانی زندگی کی ناہمواریاں اور خدائی ربو بیت کا عمل جاری اور قائم ہو ۔یہ تھا دین حق کا مقصود جس سے نہ ملوکیت اور آمر یت پنجے گاڑ سکے۔ نہ مذہبی پیشواؤں کی سیاست مذہب کی روح مسخ کر سکے۔ نہ طبقات پیدا ہوں۔ نہ انسانوں میں برہمن اور شودر کا نظام پنپ سکے۔ نہ ہی معاشرے میں معاشی اور معاشرتی ناہمواری اور اونچ نیچ کا سسٹم جنم لے سکے۔انسانی قدروں کا تحفظ فرد سے لے کر افراد تک ایک جیسا دستیاب ہو۔جو قوم قوانین خدا وندی کی اطاعت بھی نہ کرے ۔اور قوانین فطرت کی پیروی اور نگہداشت بھی نہ کرے۔ وہ ان کے نتائج سے محروم ہو جاتی ہے۔وہ نوع انسانی کی فلاح اور بہبود کبھی نہیں پا سکتی اور نہ ہی وہ ترقی کی ارتقائی منازل طے کر سکتی ہے۔
۶۔ مذہب کی روشنی میں ہرفرد اپنے اپنے طور پر مذہبی احکام،روایات اور رسوم پر عمل کرتا ہے۔ وہ قرآنی وظائف اور عبادات سے اپنی روز مرہ کی ضروریات اور مشکلات کا حل تلاش کرتا رہتا ہے۔ لیکن اس کے بر عکس دین میں ہر فرد کی پوری زندگی، ایک اجتماعی نظام کے تابع ہوتی ہے۔ اور اس کے اصول وضوابط کے مطابق گذاری جاتی ہے۔ نبی کریم کی حیات طیبہ میں دین کا یہ نظام قائم تھا۔ حضور اکرم ﷺ کی وفات کے بعد بھی یہی طریقہ کار اور نقشہ قائم رہا۔ اس کو خلافت کا نام دیاگیا۔ اس میںخدا اور رسولﷺ کی اطاعت اپنے اپنے طور پر نہیںبلکہ خلیفہ کی طرف سے جو احکام اور جو ہدایات جاری ہوتیں۔ اس پر عمل کرنے کا نام اطاعت خدا و رسول ﷺ تھا۔ خلافت راشدہ تک یہ نظام بڑے احسن طریقے سے چلتا رہا۔ یہاں تک شرف انسانیت اور احترام آدمیت کا سلسلہ جاری رہا۔ دین اسلام کا نظام زندگی ، نظا م ربوبیت اور ضابطہ اخلاق ، بڑے عمدہ اور احسن طریقے سے چلتا رہا۔ اسلام دین کی روشنی میں حاصل کی ہوئی معاشی خوش حالی کو پسند کرتا ہے۔ اور خداکی نعمتیں تسلیم کرتا ہے۔ اسلام کے نزدیک معاشی ضروریا ت اور معاشی خوش حالی کو حاصل کرنا عین حق ہے ۔ ان کا حصول ہرگز قابل نفرت نہیں۔ بلکہ اسلام کے نزدیک وہ نظام قابل نفرت ہے۔ جو معاشی انصا ف اور اعتدال کو ختم کرتا ہے۔ اور عوام الناس کا معاشی قتال کرتا ہے۔ جس سے نوع انسانی کا بہت بڑا حصہ اپنی زندگی کی ابتدائی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا جا تاہے۔ اسلام اس قسم کے بد قماشی کے معاشی نظام اور سسٹم کو نہ صرف نا پسند کرتا ہے۔ بلکہ اس کو مٹا دیتا ہے۔ اس کی جگہ عدل و اعتدال ، مساوا ت اور احسان پر متوازی معاشی نظام قائم کرتاہے ۔ اس نظام کو قائم کرنے اور اس کی اطاعت اور اتباع کرنے کے بعد معاشرے کو کسی کرامت کسی حاجت روائی کے ورد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی معاشی اور معا شر تی برائی سے نجات حاصل کرنے یا کسی دنیاوی غرض و غایت کو پورا کرنے کیلئے کسی شیخ اور کسی پیر سے قرانی نسخے کے ورد کو حاجت روائی کیلئے حاصل کرنے کی بھی ضرور ت نہیں پڑے گی۔اس نظام کو قائم کرنے کے بعد اس کے عمل کے ورد سے انسانیت پروان چڑھے گی۔سچائی کا عمل ہربرائی کا تریاق ، خوشحالی اور خوشگواری اس کا پاکیزہ پھل ہوگا۔
۷۔ قران پاک کے ضابطہ حیات اور دستور مقدس کے نفاذ کے بعد کون ساوظیفہ درکار ہے۔ جو انصاف دلا سکے۔ جو برائی کو روک سکے۔ جو ہر فتنہ کا قلع قمع کر سکے۔ جو ہر کس و ناکس کے حقوق کا تحفظ کرسکے۔ جو ملوکیتی معاشرے کی پید ا کی ہوئی آفات سے بچا سکے۔ جو جھوٹے مقدمات،جھوٹی عدلیہ،جھوٹی انتظامیہ اور رہزن حکمرانوںسے بغیر ورد و وظائف کے نجات دلا سکے۔ جو ان کی بد اعمالیوں کی اذیتوں سے نجات کا موجب بن سکے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب مبین اس کے قوا نین اس کے اصول اس کا ضابطہ حیات اس کے بتائے ہوئے رشتوںکاتقدس اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے نظام خلافت کی اطاعت اور اتباع سے ہی ملت کی نجا ت حاصل ہو سکتی ہے۔ جس کے لئے قائد اور قیادت کی ضرورت ہے۔ جو خود بھی اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرے اور امت سے بھی کروا سکے۔ ملت کو وردو وظا ئف کی حقیقت سے آشنا اور دین کا راستہ دکھا سکے۔یا اللہ ہماری مشکلات کو آسان فرما ۔امین
۸۔ واقعہ کربلا کے بعد سے یہ ملت یزیدی نظام کی گرفت میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ امام حسینؓ نے اپنے کنبہ اپنے عزیز واقارب اور اپنے مقبول و محبوب پیروکاروں کے ہمراہ یزید کی غیر دینی قیادت اور باطل حکومت کے خلاف ایسی جنگ لڑی۔ جو اس کائنات کی تاریخ میں حق وباطل کا ایک منفرد معرکہ بن کر ابھری۔ بہتر افراد پر مشتمل انسانیت کے حقوق کے تحفظ اور اللہ تعالیٰ کی حا کمیت کو تسلیم کروانے والا قافلہ ایک ایک کرکے جام شہادت نوش کرتا گیا۔ جس میں بچے بوڑھے مستورات اور جواں سال مرد بھی شامل تھے۔ اس واقعہ کے بعد یزید اور اس کے دین کش ساتھیوں نے اسلام کی روح کو روند ڈالا۔ اسلامی نظر یا ت کی معاشی اورمعاشرتی زندگی مفلوج کر دی۔ ملت اسلامیہ ملوکیت کی گرفت میں آ گئی۔ جو آج تک ہم پر جمہوریت کے روپ میں مسلط ہے ۔یا اللہ مسلم امہ اور پوری انسانیت کواس سے نجات عطا فرما۔امین
۹۔ جب تک ایسی فرعونی یزیدی قیادت کو ملکی بالا دستی سے فارغ یا ختم نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک ان دین کش انسانیت سوزاعتدال و مساوات کو روندنے والا معاشی اور معاشرتی نظام حیات ختم نہیں ہوسکتا ۔ مسلم امہ کو ملوکیت کی گرفت سے نجات نہیںدلائی جا سکتی۔ملت اسلامیہ کی نظریاتی ریاست کو ظلم و استبداد، معاشی اور معاشرتی قتل گاہ میںمنتقل کیا جا تا رہے گا۔ ملک کی تمام دولت، وسائل، خزانہ،ان
چندافراد پر مشتمل ملوکیت کے ٹولہ کی میراث بنتا جائے گا۔ اور دین کی آفاقی افادیت سے پوری انسانیت محروم ہوتی جائے گی۔ انسانی حقوق بھی بری طرح سلب اور مسخ ہوتے رہیں گے۔ملک میں جمہوریت کی بالا دستی کی وجہ سے دین کی انفرادی اور اجتماعی افادیت ختم ہو چکی ہے۔ ملک و ملت انگریزی دانوں اور عربی دانوں کی گرفت میں مقید ہو چکی ہے۔ چودہ کروڑ افراد پر مشتمل ملت کے فرزندان انگریزی اور عربی زبانوں سے بالکل نابلد اور ناآشنا ہیں۔ انگریزی دانو ں نے عوام الناس کو عدلیہ اور انتظامیہ کے امور کی سمجھ نہیں آنے دی ہے۔ کیونکہ عوام انگریزی زبان کو سمجھتے نہیں۔اور دوسری طرف علما اور مشائخ کرام نے نہ دین کی اور نہ ہی عبادات کی اور نہ ہی اسلام کی روح کی سمجھ آنے دی ہے۔کیونکہ عربی زبان پر ان کی اجارہ داری قائم ہے۔ انہوں نے دین محمدیﷺ کی تعلیمات اور ضابطہ حیات سے عوام الناس کو نہ پوری طر ح آ ؔگاہ کیا ۔ اور نہ ہی اس سے آگا ہی کاراستہ بتایا۔اور نہ ہی دین محمدی ﷺ کو ملک میں رائج ہونے دیا۔دین اور ملت کے ساتھ منافقت کا گھناؤنا کھیل کھیلتے جا رہے ہیں۔یہ از خود دین کش ملوکیت اور جمہوریت پر مشتمل حکومتوں کا حصہ بنتے چلے آرہے ہیں۔ روایات کی بے معنی نماز اور عبادت کش عبادات امت کا نصیب بن چکی ہیں۔یہ فرقہ پرستی کے سانپ بن کردین کے خزانہ پر مسلط ہو چکے ہیں۔مسلم امہ کو ا ن زنجیروں کو توڑنا ہوگا۔ اے کالی کملی والےﷺآپکی امت ان بد بخت دین کش سیاستدانوںاور انکے بے دین نظریات پر مشتمل جمہوریت کے شکنجے میں بری طرح مقید ہو چکی ہے۔جس کی وجہ سے چودہ کروڑ مسلم امہ کے فرزندان دین کیلئے باعث رسوائی بن چکے ہیں۔یا اللہ ملت کو ان دینی ،معاشی اور معاشرتی غاصبوں سے نجات دلا ۔امین
۱۰۔ اس نظریاتی ریاست کے نظریات کی عمارت کا کیا حشر ہو رہا ہے۔ یہ کسی سے چھپا ہوانہیں۔ جاگیردار، سرمایہ دار ملوکیت کا سپر نیچرل طبقہ، اور ان سے منسلک علماء نماافراد نے مل کر جمہوریت کے روپ میں ملوکیت کے اسلام کش نظام کو ملک و ملت پر مسلط کر رکھا ہے۔ اس وقت دنیا کے ۵۶ ممالک میںکوئی بھی اسلا می ملک نہیں جہاں دین محمدی ﷺ کانفاذ ہو ۔ واقع کربلا کے چودہ سو سال گذرنے کے با وجود آج تک خلافت کے نظام کو کسی ملک میں نہ نافذ کیاگیا۔ اور نہ ہی اس کی بحالی کی طرف توجہ دی گئی ہے ۔ پوری ملت بادشاہت یا جمہوریت کے ملوکیتی نظا م کے فتنہ اور اس کے عذاب کاشکار ہوتی چلی آرہی ہے۔


۱۱۔ امام حسینؓ کے کردار کی تعریف کرنا، ان کے شہادت کے عظیم واقعہ کو دہراتے رہنا، ان کے انمول کردار کی تعریف کرتے رہنا، محرم کے دنوں میں مسا جد میں ان کی یاد میں مجالس کا منعقد کرنا،ان کے ایصال ثواب کیلئے ختم دلوانا،ان کے شہاد ت کے دن ذوالجناح کا ماتمی جلوس نکالنا،محفل مسالمہ کا منعقد کرنا، ماتم حسین ؓ کا رقت انگیز منظر پیش کرنا، درود و صلوٰت کی محفلیں لگانا،شعراکا نذرانہ عقیدت ان کی خدمت میں پیش کرنا، اس درس صداقت کو اجاگر کرنابیشک نہایت ضروری ہے ۔لیکن اس سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہے ۔ وہ شہادت امام حسین ؓ کی روح کو عام کرناہے۔ دین کو روایات کی عبادات اور روایات کے مذہب میں بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ ان کے عظیم لا فانی مشن اور ان کی شہادت کے مقصد کو مسلم امہ روند تے اور مسخ کرتے چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے اس شہادت عظیم کا نذرانہ دینی نظریات کے تحفظ اور یزید کے ملوکیت کے نظام کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور د ینی نظام کی بالادستی کو ملک و ملت پر قائم اور فائز کرنے کے لئے دی تھی۔یہ جنگ ملوکیت کی فساد انگیز طاقت اور قوت اور ایک عظیم فتنہ کو ختم کرنے کیلئے لڑی گئی تھی۔ لیکن ایسے واقعا ت جنکو تلف اورختم کرنا تھا۔
یعنی دین کے خلاف ملوکیت کے نظریات اور ان کا تدا رک اور سدباب کرنا مقصود تھا۔ اور دین کے بتائے ہوئے راستے پرچلنا ۔ جس پر انہوںنے اتنی بڑی قربانی دی تھی۔ بد قسمتی سے وہ کسی کو یاد نہیں۔پوری ملت خرافات میں گم ہو چکی ہے۔یا اللہ اس بھٹکی ہوئی ملت کی رہنمائی فرما۔امین
۱۲۔ یاد رکھو۔امام حسینؓ اور ان کے قافلے کے تما م شہداء نے حق کی بالادستی اور سرفرازی کی خاطر یزید کے ملوکیتی نظام کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ اختیار کیا تھا ۔ انہوںنے اس عظیم مشن کی خاطر قربانی کے ایسے چراغ جلائے جس سے حقوق اللہ کی حفاظت اور حقوق العباد کی نگہداشت کا عمل پورا ہو سکے۔ انہوں نے اس دینی مقصد کی تکمیل کی خاطر اپنے مشن کو خون جگر سے سیراب کیا۔ ظلم و جبراور ہر قسم کے تشدد کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ایک ایک کرکے۷۲ افراد کا قتال ہوتا رہا۔تمام جانیں دینِ اسلام کی خاطر اس دینی مشن پر نچھاور کیں۔یہ شمع تا قیامت روشن و منور رہے گی۔اس شمع کو ہاتھ میں تھامنے والے عظیم دینی قائد کی ضرورت ہے۔ہے کوئی خیر کا داعی بننے والا۔یہ کوئی نیشنل اسمبلی کی سیٹ نہیں ہے جہاں تعیش کی فرعونی زندگی میسر ہوتی ہے۔ یہ کلمہ حق ادا کرنے کی بات ہے۔ایسے افراد کو کونسی مسجد سے ڈھونڈوں۔ کونسی امام بار گاہ سے تلاش کروں۔یاد رکھو! ان کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں یہ تو صدیوں سے ایسے قائد کی تلاش میں ہیں ۔جو اس خیال اور فکر کا وارث ہو۔ جو اندھیروں کو اجالوں میں بدل دے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرماویں ۔اور راہ راست پر چلنے کی توفیق بھی عطا فرماویں۔امین۔
۱۳۔ لیکن ملت کی بد نصیبی کی انتہا یہ ہے۔کہ وہ آج تک ان کی عظیم قر با نی اوران کے مقصد شہادت کو بھول کر وہ واقعہ کربلا کا رخ ماتم حسینؓ کی مختلف روایا ت کی عبادت میں گم کئے جا رہی ہے۔وہ دین کے ازلی اور ابدی مشن کو فراموش کئے جا رہی ہے۔ حسینیؓ قافلے کے مذہبی پرستاروں کی گمراہی اور نادانی کی انتہا یہ ہے۔ کہ وہ اس عظیم واقعہ کربلا کے مقا صد روشنا س کروانے اور ان مقاصد کی تکمیل کی بجا آور ی کی بجائے ۔پوری ملت اسلامیہ یزید کے ملوکیتی ،جمہوری اور بادشاہی نظام کا حصہ بنتی چلی جا رہی ہے۔اس وقت دنیا میں ۵۶ اسلامی ممالک موجود ہیں۔ان سب میں ملوکیت کی حکومتیں قائم ہیں۔پاکستان میں بھی جمہوریت کے روپ میں ملوکیت کا بد ترین نظام حکومت قائم ہے۔یہ کیسے مسلمان سیاستدان اور کیسے مومن حکمران اور کیسے دین کش عالم دین اور کیسے بے ضمیر مشائخ کرام اور کیسی بے حس ظالم مسلم امہ ہے۔ ایک طرف تو یہ امام حسین ؓکی شہادت اور ان کے کنبہ اور کارواں کی شہادتوں کے غم اور صدمات کے واقعات کو بیان کر کے ایک رقت آ میز سماں اور قیامت برپا کر تے چلے آرہے ہیں ۔دوسری طرف انہوں نے جمہو ر یت کے روپ میں ایک بد ترین یزیدی ملوکیت کا ظالم،غاصب ،دین کش نظام حکومت اسلامی جمہو ر یہ پاکستان اور مسلم امہ پرٹھونس رکھا ہے۔ اے شمع رسا لت کے پروانو! اور حسینیؓ قافلے کے پرستارو!اس قافلے کے معصوم بچوں!،عظیم مجاہدوں اور پاک بیبیوں کے ایثارو نثار!ان کی جان و مال کی قر با نیوں! ان کے زندگیوں کے چراغ گل کرنے کے اذیت ناک صدموں ! ان کی عظیم او ر انمول شہادتیں ایک درد ناک سوال لئے کھڑی ہیں۔جو اپنے حقیقی وارثو ں کو بڑی ما یوسی اور کسمپرسی کی حالت میں پکارتی چلی جا رہی ہیں۔ہے کوئی اس دور کے حسینیؓ سپاہ کے قافلے کا نامور سپو ت جو ان مسلمانوں کے روپ میں بد نصیب ملوکیت کے یزیدی لشکر کو راہ راست دکھا سکے۔ملوکیت کے نظام کی پسی ہوئی عوام کو ان کے ظلم و جبر کے معاشی اور
معاشرتی آ ہنی پنجوںاور شکنجوں سے نجات دلاسکے ۔ ہے کوئی موسیٰ کلیم اللہ ، عیسیٰ روح اللہ کے ماننے والا جو فرعونی ملوکیتی جمہوریت کے فرعونی نظام کی تعلیمات اور اس کی بالا دستی سے ان کی امتوں کو نجات دلا سکے ۔ ان کے ماننے والوں کو انسانیت پر ایک بار پھر ان عظیم اور مقدس ہستیوں کی روحانی ،الہامی اور آسمانی پر امن ،پر سکون اور منفعت بخش مذاہب کے نظریات اور احکامات پر مشتمل روحانی تعلیمات کو پھر سے متعارف کروانا اور بروئے کار لانا ہوگا۔تاکہ دنیا میں نفرت، نفاق اور بلا جواز انسانی قتال بند ہو سکے ۔ان مغربی جمہوریت کے نظریات کے فرعونی پجاری سیاستدانوں اور حکمرا نو ں نے پوری دنیا میں جنگ و جدل اور قتل و غارت کی آگ لگا اور بھڑکا رکھی ہے۔دنیا کی جدیداورترقی یافتہ مغربی تہذ یب کے جمہور یت کے د انشورو ں، سیاسی سکالروں اور حکومتی مفکروں نے جرمن ، جاپان ، جنوبی کوریا،روس،فلسطین،ایران ، افغا نستا ن، عراق، کویت، مصر، شام، بوسنیا، کوسوووغیر وغیرہ میں ایٹم بموں،ڈیزی کٹر بمو ں،نیپام بموں،گیس بموں، جرا ثیمی بمو ں، ایٹمی پلانٹوں،ایٹمی آبدوزوں، بمبا ر طیاروں، تباہ کن میزائلوں سے دنیا بھر کے ممالک اور ان کے عوام کو نشانہ عبرت بنایا۔یہ نمرود ،فرعون اور یزید کے قافلے کے بد ترین طبقہ کے لوگ ہیں۔ جو انسانیت کا بغیر کسی جواز کے قتال کرتے چلے آرہے ہیں۔یا اللہ ان پیغمبران کے صدقے انکی امتوں کومذہب کش جمہوریت کے باطل نظام کے ظلم سے نجات دلا ۔امین۔
۱۴۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م دنیا میں واحد ایک ایسے عظیم پیغمبر تشریف لائے ۔جن کو اللہ تعالیٰ نے بن باپ پیدا کیا ۔اور روح القدس کے پاک نام سے پکارا۔ان کے مذہبی نظریات اور ان کی تعلیمات کا کرشمہ ہے۔ کہ آج بھی روح القدس کے ماننے والوں کی تعداد دنیا میں سب مذاہب سے زیادہ ہے۔ ان کے پیروکاروں نے انسانیت کے ساتھ اخوت و محبت،ادب و احترام، عز ت وشفقت جیسے حسن سلوک اور دلوں کو موہ لینے والے اعمال سے انسانیت کے دلوں کو تسخیر کیا۔ اس مذہب کے پیروکار خدمت خلق میں اتنے آگے بڑھ جاتے کہ ترک دنیا کرنے سے بھی گریز نہ کرتے رہے۔یہ حسن عمل کے وہ پیکر تھے جو انسانوں کے دلوں میں اترتے۔ اور عوام قافلہ در قافلہ عیسائیت میں داخل ہوتے جاتے۔و ہ انسانی دکھوں اور مصیبتو ں میں کام آنے والے،وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے والے،وہ بیماروں کو شفا عطا کرنے والے ، وہ مردوں کو زندہ کرنے والے، وہ بھوکوں کو کھانا کھلانے والے،وہ غموں میں ڈوبے ہوؤں کو کنارے لگانے وا لے ۔و ہ مخلوق خدا میں سکھ بانٹنے والے،وہ انسانیت کے ہدی خواں آج ایک بہت بڑے فتنہ،ایک بہت بڑے سانحہ کے عذاب میں بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔عیسائیت کے چند منافق جمہو ر یت کے رہزن ملوکیت کے سکالروں، بد نصیب دانشمند وں اور بے حیا مدبروں نے روح القدس کے مذ ہب کی تعلیمات،ان کے الہامی نظریات،ان کے محبت جیسے آ سمانی تحفہ اور ان کے مقدس مخلوق خدا کی خدمت و ادب سے تسخیر کرنے والی معصوم روحانی طاقت جو انسانی ذہن وقلب اور روح کو تسخیر کرتی اور لوگ جوق در جوق عیسائیت میں داخل ہو تے جاتے۔وہ دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے۔وہ اس جہان کے عارضی پڑاؤ کی حقیقتیں کھولتے،وہ روح القدس کی اخوت و محبت کی فلاحی شمع روشن کرتے۔ ان روشن ضمیر رشد و ہدائیت کے مشعالچیوں کو کلیسا کی آہنی سلاخوں میں پابند سلاسل کر دیا گیا ہوا ہے۔ ان کو منافقت کی زندگی گذارنے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔روحانی تعلیمات کی بالا دستی کو منسوخ کرکے عیسائیت کو فرعونی نظریات کے مادیت پرستوں اور ہوس پرست درندوں کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے متاع ارضی کی دولت کو لوٹنا اور اس کی تفاوتی تقسیم کی وجہ سے دنیا میں ایک ہلچل اور طوفان مچا دیا ہوا ہے۔ دنیا بھر
کے غیر ترقی یافتہ اقوام یا عوام کا معاشی خون چوسنے کیلئے انہوں نے مختلف معاشی پھندے ترتیب دے رکھے ہیں۔ دنیا میں انہوں نے اسلحہ سازی کی صنعت پر اجار ہ داری قائم کرکے دنیا کے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک کو زیر کرلیا ہے۔ان ممالک پر جمہوریت کے قوانین و ضوابط کی بالادستی رائج کر کے اس فرعونی طبقہ کے ایجنٹوں کے ذریعہ دنیا کو ایک معاشی اور معاشرتی قتل گاہ بنا رکھاہے۔معاشیات کے حصول کی جنگ جیتنے کے بعد ملکوں کے اقتدار پر ایک فرعون کی طرح قابض ہو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اپنے اپنے ملکوں میں مذہبی نظریات اور اس کی تعلیمات اور اس کی حکومتی سطح پر بالا دستی کو کچل دیاہے۔انہوں نے نہ صرف عیسائی نظریات اور اس کی مذہبی تعلیمات کی بالا دستی کو سرکاری طور پر منسوخ ہی کیا ہے، بلکہ اس کی جگہ فرعونی نظریات،اس کی تعلیما ت کوملکی سطح پر نا فذ کررکھاہے۔ حضرت عیسیٰ روح اللہ کی الہامی،روحانی اور فلاحی قندیلیں گرجا اور کلیسا میں مقید اور پابند کر کے رکھ دی ہیں۔۔فرعونی پیرو کاروں نے حصول اقتدار کے بعد دنیا کی معاشیات اور اقتدار پر فوقیت حاصل کرنے کی کوششوںاور کاوشوں کو تیز سے تیز کرنا شروع کر دیا۔دنیا کے امن اور آشتی کو آگ لگا دی۔ کہیں ایٹم بموں سے لاکھوں جانوں کو راکھ کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا۔ کہیں ڈیز ی کٹر بموں سے انسانی اعضاؤں کو فضا میں بکھیرنے کا عمل جاری کیا۔ کہیں میزا ئلوں سے تباہی مچاتے رہے۔کہیںنیپام بموں سے انسانی زندگیوں کو راکھ کا ڈھیر بناتے رہے ۔ کہیںبیماریوں کے جراثیمی بموں سے سسک سسک کر مرنے والی مہلک بیماریوں میں انسانیت کو مبتلا کرتے رہے ۔کہیں مہلک گیس بموں سے انسانیت کو مسخ کرتے رہے ۔یہ بستیوں کو نیست ونابود اور ویرانوں میں بدلتے چلے آرہے ہیں۔یہ خالق کی مخلوق کو آہنی پنجروں میں جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے دوچار کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہیں مستورات کی بے حرمتی کی دلسوز تاریخ رقم کی ۔کہیں معصوم بچوں کے اعضا کے ڈ ھیر اکٹھے کرواتے رہے۔ کہیں لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دباتے رہے۔ کہیں قیدیوں کو آہنی پنجروں میں بند کر کے ان کو انسانیت سوز سزائیں دیتے رہے۔ ان ظالم،غاصب اور بے ر حم عیسائیت کے روپ میں فرعونی نسل کے معاشی اور معاشرتی قاتلوں نے انسانی نسلوں کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے۔ کہیں انسانیت کوگھناؤنے زخموں اور ان کی اذیتوں کی انگنت تکلیفوں سے دو چار کیا۔ان کے اعمال کی تاریخ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی مقدس روح کے الہامی نظریات اورروحانی تعلیمات اور ان کے طیب و پاکیزہ کردار پرایک ایسا بد ترین دھبہ ہے۔ جس سے انسانی روح تڑپ جاتی ہے۔روح القدس کے پجاریو۔کچھ تو کہو۔ کہ ا ن کی رو ح کو کب تک ان اذیتوں میں مبتلا کئے جاؤ گے۔کب تک عیسائیت کے روپ میں فرعونیت کا منافقانہ کردار ادا کرتے رہو گے۔کب تک جمہوریت کے باطل نظام،غاصب سسٹم کے فرعونی ایجنٹوں کوعیسائیت کے نظر یا ت کو مسخ کرنے کی اجازت دئیے جاؤ گے۔کب تک روح القدس کی معصوم اور پیاری امت جمہوریت کے روپ میں فرعون کے ظالمانہ کردار کی مبلغ بنی رہے گی۔کب تک روح القدس کی امت ان کے نظریات اور ان کی تعلیمات سے انحرا ف کرتی جائیگی۔کب تک عیسائیت انسانیت کے قتال کا عمل جاری رکھے گی۔ اے اللہ پیغمبران کی پیاری امتوں کو فرعون اور یزیدکے ایجنٹوں کی گر فت سے نجات عطا فرما۔آمین۔
۱۔ بیشک پیغمبران کا کلام اور پیغام اللہ تعالیٰ کی وحدت کا درس دیتا ہے۔
۲۔ بیشک تمام پیغمبران اللہ تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ تسلیم کرنے اور اسی کی عبادت کرنے کی تعلیمات دیتے رہے ہیں۔

۳۔ بیشک تمام پیغمبران اس جہان رنگ و بو کی بے ثباتی اور فانی زندگی کی عقدہ کشائی کرتے رہے ہیں۔
۴۔ بیشک تمام پیغمبران انسانوں کو بھلائی اور خیر کا راستہ دکھاتے رہے۔
۵۔ بیشک تمام پیغمبران انسان کوتمام انسانوں کا عزت و احترام اور اخوت و محبت کا درس سکھاتے رہے۔
۶۔ بیشک تمام پیغمبران انسانوں کوانسانوں کی خدمت و ادب کی تلقین کرتے رہے۔
۷۔ بیشک تمام پیغمبران اپنی امتوں کو عفو و در گذر اور صبر و تحمل کی تلقین فرماتے رہے۔
۸۔ بیشک تمام پیغمبران مخلوق خدا کے حقوق کو احسن طریقہ سے نبھانے کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔
۹۔ بیشک تمام پیغمبران انسانوں کو نیکی ،بدی اور خیرو شر کا فرق بتاتے رہے۔ نیکی اور خیر کا راستہ اختیار کرنے اور بدی اورشر سے بچنے کا گیان عطا کرتے رہے۔
۱۰۔ بیشک تمام پیغمبران انسانوں کو اچھے اعمال کرنے اور برے اعمال ترک کرنے اور آخرت یعنی قیامت کے روز کے خوف سے ڈرا تے رہے۔
۱۱۔ بیشک تمام پیغمبران معاشرے کی تشکیل و تکمیل کیلئے ازدواجی زندگی کے اصول و ضوابط بتاتے رہے ۔ماں باپ کو اپنی اولاد کی پرورش وشفقت اور اولاد کے ماںباپ کو ادب و احترام کے فطرتی تقاضوں کا احترام سکھاتے رہے۔
۱۲۔ بیشک تمام پیغمبران اپنی امتوں کو الہامی نظریات ،روحانی تعلیمات،پاکیزہ زندگی گذارنے کے طیب راستوں کی نشاندہی کرتے رہے۔
۱۳۔ بیشک تمام پیغمبران اپنی امتوں کو اعتدال و مساوات اور عدل و انصاف کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔
۱۴۔ بیشک تمام پیغمبران اپنی امتوں کو سادہ ،سلیس زندگی اور مختصر اور قلیل ضروریات سے گذر اوقات کرنے کے فلاحی اصولوں سے تربیت کرتے رہے۔
۱۵۔ بیشک تمام پیغمبر ان اپنی امتوں کوغریبوں،یتیموں، بوڑھوں، مسکینوں، اپاہجوں، بیروزگاروں اور ناداروں کی مددو معاونت کا انمو ل راستہ دکھاتے رہے۔
۱۶۔ بیشک تما م پیغمبران راہ ہدایت کے مسافر تیار کرتے رہے۔
۱۷۔ بیشک تمام پیغمبران انسانوں کے زخموں پر مرہم،بیماروں کو شفا،دکھوں کا مداوا، دردوں کی دوا،تکلیفوں کو راحت اور مردوں کو زندہ کرنے کے معجزات دکھاتے رہے۔
۱۸۔ بیشک تمام پیغمبران اپنی امتوں کے افراد کو ظلم،زیادتی،ایک دوسرے کی حق تلفی،متاعِ ارضی کی غیر فطرتی لوٹ کھسوٹ،امانت میںخیانت، دھوکہ ،فریب، لالچ، ہوسِ زر اور ہوس اقتدار کی خواہشات اور ہر قسم کے قتل و غارت کو روکنے کی تعلیم و تربیت کرتے
رہے۔جس سے ملک و ملت اور پوری انسانیت پرخیر سگالی اور امن کے دروازے کھلتے جاتے اور برائی کے دروازے بند ہو تے جاتے۔
۱۹۔ اس جہان رنگ و بو کو سنوارنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے تقریبا ایک لاکھ چوبیس پچیس ہزار پیغمبر بھیجے جو انسانوں کو توحید کا سبق سکھاتے رہے۔ اور رشد و ہدایت کی شمع روشن کرتے رہے ۔ حسن سلوک اور حسن اخلاق کا درس دیتے رہے۔ انسان کو مخلوق خدا کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہونے کا راستہ بتاتے رہے۔ان کی امتیںان عمدہ اخلاق و اطوار سے انسانو ں کے دلوں کو مسحور اور تسخیر کر تی رہیں۔دنیا امن کا گہوارہ اور سکون کی آماجگاہ بنے جاتا۔ اس طرح ان کی امتیں اور انسانی نسلیں الہامی اور روحانی تعلیمات سے استفادہ کرتی رہیں۔لیکن کمال ہنر مندی سے فرعونی نسل کے سیاسی ایجنٹوں نے جمہوریت کے روپ میں ان تمام پیغمبران کی تعلیم و تر بیت کو سرکاری بالا دستی اور برتری سے یک قلم منسوخ ،مسترد اور مفلوج کر دیا گیا۔ انسانیت کو پاکیزہ اور طیب زندگی سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس کے برعکس جمہوریت کے بے دین سیاسی سکالروں اور دانشوروں کے نظریات اور ان کی تعلیم و تربیت کو سرکاری سطح پر نافذ کرکے معاشرے کی تشکیل و تکمیل اور انسانی نسل کی نشو ونما کرتے چلے آرہے ہیں۔ پیغمبران کی فطرتی اور فلاحی تعلیمات کی بجائے جمہوریت کی انتظامیہ کے دانشوروں ، عد لیہ کے سکالروں، سیاست کے دیدہ وروں اور اسمبلی کے مذہب کش ممبران کے تیار کردہ ضابطہ حیات کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری کےئے جا رہے ہیں۔اور مذاہب کی تعلیمات کوسرکاری سطح پر منسوخ،معطل اور مسترد کرکے معبد،کلیسا اور مسجد کی سلاخوں میں مقیدکئے جارہے ہیں۔ ان حالات کی روشنی میںجمہوریت کا مذہب کش اژدہا تمام پیغمبران کی الہامی ،روحانی صحیفوں پر مشتمل تعلیمات اور نظریات کو نگلتاجا رہا ہے۔جب علم،عمل اور کردار جمہوریت کے دستور کے تعلیمی نصاب کی روشنی میں تمام امتوں کا تیار ہوتا جائے۔ اور مذاہب کی تمام دل و روح کو منور کرنے والی رشد و ہدایت کی قندیلیں بجھا دی جائیں ۔ پھر یہ تو بتاؤ! کہ جمہوریت کی موجودگی میں یہودی ،عیسائی اور مسلمان کے کردار کا تشخص کیسے تیار ہو سکتا ہے۔یقینا دنیا کے تمام ممالک اور تمام اقوام کے لوگ جمہوریت کی تعلیم تربیت کے نصاب سے مسٹر بش، مسٹر پاؤل، مسٹر ٹونی بلئیر اور کوفی عنان جیسی شخصیات پیدا کرتی جائیں گی۔جو دنیا میں معصوم و بے گناہ انسانوں کا قتال کرتے اور عدل و انصاف کو مسخ کرتے اور انسانوں کو نیپام بموں اور ایٹم بموں سے نمرود کی طرح جلاتے اور ڈیزی کٹر بموں اور میزائلوںسے فرعون کی طرح انسانی قتال کرتے اور مخلوق خدا کو درندوں کی طرح روندتے اور کچلتے چلے جائیں گے۔جن کا تعلق یہود یت ، عیسائیت یا اسلام کے نظریات یا تعلیمات کے ساتھ دور تک کا بھی نہیں ہوتا۔ اس طرح مذاہب کے پیروکار سرکاری طور پر جمہوریت کے نظریات کی تعلیم و تربیت اور اسکے اصول و ضوابط کے تحت عملی زندگی گذارنے کے بعد انسان کے اندر کا انسان خیرو شر کی جنگ سے دو چار ہو جاتا ہے۔ مذاہب پرست انسان ایک منافق کی زندگی اور موت کی کشمکش میں سرکاری طور پر مبتلا کر دئیے جاتے ہیں۔یا اللہ ہمیں ان عبرتناک حالات سے نجات عطا فرما۔امین ۔
۲۰۔ کچھ اقوام نے ان پیغمبران کی تعلیمات سے انحراف اور ان کی توہین کی۔ ان پراللہ تعالیٰ کا عذاب ناز ل ہوا۔ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔جیسے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی اقوام کے قصے قرآن شریف میں درج ہیں۔اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام پر پہلی الہامی کتاب زبور شریف نازل ہوئی ۔جب ان کی قوم نے کتاب ہدایت اور اس کی تعلیم و تربیت سے انحراف کیا،تو ان کے
بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت شریف جیسی کتاب لے کر اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم فرعون یعنی یہود یوں پر اللہ تعالیٰ کے آسمانی صحیفہ کی تبلیغ کا کام شروع کیا ۔تو فرعون سخت آڑے آیا۔ لیکن وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دریائے نیل میں غرق ہو ا ۔ جب تک یہودیوںنے اللہ تعالیٰ کے صحیفہ پر عمل کیا اور اس کی پیروی کی۔اس وقت تک یہ قوم عروج پر رہی۔جب یہودی قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے انحراف کیا۔ تو وہ زوال اور انحطاط کا شکار ہوگئی ۔ لیکن ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائے۔ان کو بن باپ اللہ تعالیٰ نے معجزاتی طور پر پیدا فرمایا۔ان کو روح القدس کے پاکیزہ اور طیب لقب سے پکارا گیا۔ انہوں نے اس دنیا میں تشریف لا کر معجزوں کی بارشیں کر دیں ۔اور انسانیت کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل مقدس جیسا عظیم صحیفہ ان پر نازل فرمایا۔ان کی تعلیمات اور ان کے نظریات کی خوشبو انسانیت کے دلوں میں سماگئی۔ان کے پیروکار انسانوں کیساتھ اخوت و محبت اور خدمت میں اتنے آگے بڑھ گئے ۔کہ لوگ جوق در جوق عیسائیت کے مذہب کو قبول کرتے اور اس کے اصولوں اور ضابطوں میںڈھلتے جاتے۔عیسائیت کا سورج ایک طویل عرصہ تک دنیا کے اندھیروںکو اجالوں میں بدلتا رہا۔ان کے ماننے والوں نے انسانی خدمت کی انتہا کر دی۔ حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام کے ان عظیم امتیوں نے اس غرض و مقاصد کی تکمیل کیلئے ترک دنیا کا عمل اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔یہ عمل ہر انسان کے لئے ممکن نہ تھا۔لوگ وقت کے سا تھ ساتھ مادیت کی طرف جھکنا شروع ہوئے۔راہ ہدایت کی تعلیمات سے بچھڑتے اور دورہوتے چلے گئے۔جب یہ ملت گمراہی اور نافرمانی کا شکار ہوگئی۔تو اس کائنات میں آخری نبی الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے۔قرآن پاک جیسی جامع کتاب اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل فرمائی۔جس میں پوری انسانیت کی فلاح کے نظریات اور ان کی تعلیمات کا مکمل ضابطہ حیات موجود ہے۔اس کتاب مقدس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔امت مسلمہ اس کی تعلیمات کو ترک کرکے بھٹک سکتی ہے۔لیکن اس کتاب مبین سے ہر قسم کی ہدایت ،ہر قسم کی راہنمائی اور ہر قسم کا سبق ،ہر فر د، ہر وقت ،اور ہر جگہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن ان تمام پیغمبران کی تعلیمات کو یہودیوں، عیسائیو ں اور مسلم امہ کے سیاستدانوں اورحکمرانوں نے حکومتی سطح پر تمام دنیا سے ختم کر کے معبد، کلیسا اور مسجدکی آہنی سلاخوں میں مقید کردیا ہے۔
۲۱۔ یعنی ان تما م پیغمبران کے متبادل نمرود،ہامان ،شداد،فرعون اور یزید کے ماسٹر مائینڈ دانشوروں، سکالروں اور مدبروں نے جمہوریت کے نظریات اور اس کی تعلیمات کا نصاب آمریت کے ا صولوں کے مطابق تیار کرکے دنیائے عالم کو بری طرح دبوچ اور مقید کر لیا۔ مذاہب کے الہامی نظریات ،اس کی روحانی تعلیمات اور اس کے مذہبی نصاب کو پس پشت ڈال کر تمام دنیا پر جمہور یت کے نظام کی بالا دستی قائم کر دی ہے۔ جمہوریت کے نظریات،اس کی تعلیمات،اس کے تعلیمی نصاب کی تعلیم و تربیت سکولز،کالجز اور یونیورسٹیوں کے ذ ریعہ آنے والی نسلوں کو بین الاقوامی سطح پر خود کار نظام کے مطابق تربیت کرتی، سنوارتی اور پروان چڑھاتی چلی آرہی ہے۔ لوگوں کے نام مذہبی طور پر داؤد خان، موسیٰ خان،عیسیٰ خان اور محمد دین ضرورہیں۔ لیکن ان کے اصل کردار جمہوریت کی شکل میں مسٹر بش،مسٹرکولن پاول اور ٹونی بلےئر جیسے عدل کش، غاصب ،ظالم ، جھوٹے ،دھوکہ باز،بے رحم،منافق انسانیت کے قاتل معاشرتی ناسور پنپتے اور تیار ہوتے رہیں گے۔ معاشی قاتل اور معاشر تی دہشت گرد جمہور یت کے نظام کے حکمران درندے تیار ہوتے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام پیغمبران کی امتوںکو
توفیق عطا فرماویں۔ کہ وہ ان کی تعلیمات اورنظریات کی سیاہ کاریوں سے نجات حاصل کر سکیں۔امین۔