To Download PDF click the link below

  پاکستان سولہ کروڑ مسلم امہ کا ملک ہے، اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔
عنایت اللہ
اینٹی کرسچن جمہوریت نے ملت کو دین اور دین کے ضابطہ حیات سے الگ کر دیا ہے، رسول عربی کی امت کو بے دینی کی ذلت اور رسوائی کی داستان رقم کرنے سے محفوظ کرنا درکار ہے۔
ان اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاسی رہبرو ں او ر بے دین جمہوریت کے دینی رہنماؤں اور حکمرانوں سے درج ذیل سوالات کی روشنی میں عوام سے رائے حاصل کرنا اور فیصلہ کروانا مقصود ہے۔تا کہ ملت دین کی روشنی میں اپنی منزل کا تعین کر سکے اور منزل کی طرف گامزن ہو سکے۔اپنی بھلائی اور مخلوق خدا کی رہنمائی کا فریضہ ادا کر سکے۔
۱۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ دیہاتوں میں بسنے والے کسان پورے ملک کو خوراک ،لباس،ہر قسم کی سبزی ،پھل اور میوہ جات مہیا کرتے ہیں ۔
۲۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ انسانوں اور حیوانوں کی بنیادی ضروریات حیات مہیا کرنے کے علاوہ وہ ملک کے تمام کا ر خانوں،فیکٹریوں اور ملوں کو خام مال مہیا کر نے کا فریضہ بھی ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔
۳۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ کسان ان تمام وسائل کو پیدا کرتے ہیں اور یہی اسکے اصل مالک ہیں!ہے کوئی جو انکی ملکیت کو جھٹلا سکے۔
۴۔ کیا کوئی اہل وطن اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ بٹھوں میں اینٹیںفیکٹریوں میں سیمنٹ اور کارخانوں میں لوہے کو تیار مزدور ہی کرتا ہے۔
۵۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک کے تمام کارخانوں ، ملوں، فیکٹریوںکی تعمیرات کا کام مزدور ،محنت کش،معمار،الیکٹریشن اور ہنر مند ہی سر انجام دیتے ہیں۔اینٹ، سیمنٹ اور لوہابھی انہی کا تیار کیا ہوتا ہے۔
۶۔ کیا کوئی شخص اس بات سے انکار کر سکتا ہے۔ کہ انکی تمام مشینری،مزدور ، محنت کش اور ہنر مند ہی تیار کرتے اور یہی انسٹال بھی کرتے ہیں۔
۷۔ کیا کوئی شخص اس بات کو مسترد کر سکتا ہے کہ ملک کی تمام فیکٹریوں،ملوں اور کارخانوں سے تیار ہونے والے سٹاک ان ہی کی محنت کا ثمر
ہیں۔
۸۔ کیا سیاستدان،حکمران اور مالکان اور عوام اس بات سے متفق ہیں کہ کسان پورے ملک کو بنیادی ضروریات حیات ،خوراک و لباس اور تمام ملوںفیکٹریوںکارخانوں کو خام مال مہیا کرتے ہیں۔ مزدور، محنت کش ہنر مند تمام ملوںفیکٹریوں کارخانوں کی تعمیرات کرتے اور مشینری انسٹال کرتے اور وہی ان سے ہر قسم کی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔پھر بتائیں انکے اصل مالک کون ہیں !
۹۔ کیا یہ مالکان سیاستدان حکمران اور ملک کے تمام اعلیٰ نسل کے تاجر بتا سکتے ہیں۔ کہ انہوں یہ دولت یہ سرمایہ ،یہ خام مال،یہ لباس ،یہ خوراک ،یہ عالیشان محل،یہ لینڈ کروزر یں ،مرسڈیز قیمتی گاڑیاں اور تما م سامان تعیش کہاں سے اور کیسے حاصل کیا ہے۔ملکی خزانہ اور زر مبادلہ کو کون اورکیسے خاکستر کیا جا رہا ہے۔اعتدال و مساوات کو کیسے ختم کیا جا چکا ہے
۱۰۔ کیا یہ سیاستدان اور حکمران بتانا پسند فرمائیں گے کہ صدر ہاؤس، وزیر اعظم ہاؤس ، ایک چوکیدار،اردلی،بیٹمین ، ایک کسان اور ایک مزدورکے جھونپڑے کامعیار حیات دین کے مطابق ہے۔
۱۱۔ کیا سیاستدان حکمران کرسچن جمہوریت کے نظام حیات اور اسلام کے نظام حیات کے فرق کو سمجھتے ہیں۔ شاہی تصرفانہ اور عیاشانہ رائج الوقت کرسچن جمہوریت کا طبقاتی نظام حیات اسلام میں جائز ہے۔کیا یہ اسلامی اعتدال و مساوات کا اصول ہے یا اسکے متضاد۔سکا جواب عوام کی عدالت کو پیش کریں۔اسکا فیصلہ مسلم امہ کرے گی کہ کرسچن جمہوریت کا نظام مسلم امہ پر مسلط کرنے کے دینی اور دنیاوی نقصانات کیا ہیں۔
۱۲۔ پاکستان ۱۹۴۷ کو اسلام کے نام پرمعرض وجود میں آیا تھا۔اس وقت سے لیکر آج تک جن سیاستدانوں،جاگیرداروں، سرمایہ داروں، حکومتی تاجروں اور انکے علاوہ جن لوگوں کو جتنے قرضے دئیے گئے اور جن کو ملوںفیکٹریوںکارخانوںاور بیرونی ممالک تجارت کے اجازت نامے جاری کئے اور جن کو یہ قرضے معاف کئے،قرضہ جات جاری کرنے والوں، معاف کرنے والوں ، معاف کروانے والوںکے ناموں کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں تاکہ پتہ چل اسکے ملت کی اقتصادی لاش کو نوچنے والے کون لوگ ہیں۔ اصل حقائق سے آگاہ ہونا اور اپنی ملکیتوں کو واپس لینا،ان مجرموں کا احتساب کرنا ملت کے ہر فرد کاحق ہے۔
۱۳۔ ملک کاخزانہ اور وسائل ملت کی ملکیت ہیں،ملوںفیکٹریوں کارخانوں یا کسی اور غرض کے لئے بڑے بڑے سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں کو جو انڈسٹریاں لگانے اور کاروبار چلانے کے لئے بطور رشوت لون جاری کئے۔ وہ سب کے سب کسانوں،محنت کشوں،ہنر مندوںا ور عوام الناس اور ملک و ملت کی وراثت ہیں۔یہ تمام قرضہ جات اور یہ تمام انڈسٹریاں اور یہ تمام لون ملک کے ہر فردکی ملکیت ہیں اور وہ ان میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ اگر ان چند افراد پر مشتمل ٹولہ ان حقائق کو جھٹلا سکتا ہے تو عوام کو مطلع کرے۔
۱۴۔ملک کے تمام کارخانوں، ملوں،فیکٹریوں اور تمام کاروباری اداروں میں کام کرنے والے ورکر جنکی بنا پر یہ ملک ترقی کی منازل طے کر رہاہے ان میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ ۱۵۔یہ جب چاہیں اپنا کیس اپنے قانونی ماہرین کے ذریعہ عوامی عدالت کے روبرو پیش کر لیں،منصف بھی اپنی مرضی کے ڈھونڈ لیں۔انہی کے مروجہ ملکی قانون کی روشنی میں ان اعتدال و مساوات کے نظام کو کچلنے کی سزائیں از
خود تجویز کروا لیں،یہ ملک و ملت سے ناانصافی اور عدل کشی کے جرائم کے مرتکب ہیں۔انہوں نے سرکاری خزانہ،ملکی وسائل کی اما نتوں کو اقتدار کی نوک پر بری طرح لوٹا اور اپنی ملکیتوں میںبدل لیا،ملک میں معاشی بحران ہر دور میں پیدا کرتے رہے اور ملک معاشی بحران کی ہچکیوں،سسکیوں کا شکار رہا۔ انکی عدل کشی،عدم مساوات کی پالیسیوں نے مشرقی پاکستان کو الگ کروا دیا۔انکا عبرت نامہ انکے ہاتھوں میں دے دو۔فیصلہ ہر قسم کے شک و شبہ سے مبرا اور مستند ہے۔انکے جرائم کی سزا اسقدر خوفناک ہے۔نہ یہ خود بچتے ہیں اور نہ انکی جائیدادیں۔
۱۶۔یہ ملک کسانوں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کا ہے،ملک کی تمام ملکیتیں انکی ہیں نہ کہ ان چند ہارس ٹریڈنگ کے اقتدار پرست غاصبوں کی،انکو قومی ملکیت قرار دیا انکا حق بنتا ہے۔
۱۷۔ یہ جب چاہیں، اپنا کیس اپنے قانونی ماہرین کے ذریعہ عوامی عدالت کے روبرو پیش کر لیں۔ منصف بھی اپنی مرضی کے ڈھونڈ لیں۔ انہی کے مروجہ ملکی قانون کی روشنی میں
اپنی ان اعتدال و مساوات کے نظام کو کچلنے کی سزائیں از خود تجویزکروالیں۔ یہ ملک و ملت سے نا انصافی اور دل کشی کے کے جرائم کے مرتکب ہیں۔ انہوں نے سرکار ی خزانہ اور ملکی وسائل کی امانت کو اقتدار کی نوک پر بری طرح لوٹاِ، ہارس ٹریڈنگ کے ذریعہ تمام اربوں کے کیس ختم کئے اور ملک میں معاشی بحران اسقدر پیدا کیا۔ کہ ملک دیوالیہ ہونے کو پہنچ گیا۔انکی عدم مساوات کی پالیسیوں نے مشرقی پاکستان کو الگ کردیا۔ ان کا عبرت نامہ ان کے ہاتھوں میں دے دو۔ فیصلہ ہر قسم کے شک و شبہ سے مبرا اور مستند ہے۔ ان کے جرائم کی سزا اس حد تک خوفناک ہے ۔ کہ یہ نہ تو خود بچتے ہیں اور نہ ان کی جائیدادیں۔
۱۸۔ یہ ملک کسانوں،محنت کشوں،ہنر مندوں اور عوام الناس کا ہے، ملک کی تمام ملکیتیں انکی ہیں نہ کہ ان چند غاصبوں کی۔انکو قومی ملکیت قرار دینا انکا حق بنتا ہے۱۔ یہ تمام احتساب کمیشن یہ تمام کیمیٹیاں، یہ تمام محتسب کے دفاتر، یہ تمام عدالتیں، یہ تمام منصف ان کی اعلیٰ ڈگریاں ان کو مبارک، جو واضع ثبوتوں کے باوجود ان گھناونے کیسوں کو نمٹانے، الجھانے اور التوا ء میں ڈالنے کے لئے تمام حکمرانوںکی مدد اور معاونت کرتے اور سرکار ی خزانے سے بہت بڑی بڑی تنخواہیں، شاہی مراعات اور بیشمار سہولتیں لیتے رہے۔یہ ملک چندبے د ین اینٹی کرسچن جمہوریت کے سیاستدانوں ، جاگیر داروں،سرمایہ داروں ، تاجروں ، حکمرانوں اور آمروں کا نہیںبلکہ سولہ کروڑمسلم امہ کے فرزندان کا ہے۔
۲۰۔ ان کے یہ تمام انتظامیہ اور عدلیہ کے شعبے اور اعلی افسران انکے محکوم ،انکے حکم کے پابند اور انکے جر ائم کو تحفظ فراہم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ اور عدلیہ کی فوج کے تعاون سے ملک پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، یہ ملک ان مجرموں کا گہوارہ بن چکا ہے، ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ انکی محکوم ہے۔انکو یہ شاہی تنخواہیں، شاہانہ سہولتیں اورلا محدود اختیارات اس غاصب نظام کو چلانے کیلئے دیتے ہیں۔جنکے ذریعہ یہ عدل کشی کا کھیل ملک میںجاری کئے ہوئے ہیں۔
۲۱۔ ان سب برائیوں کا تدارک دین کی روشنی میں ایک جدید تعلیمی نصا ب قائم کرنے سے ہوگا۔ حضور نبی اکرم  کی حیات طیبہ کی پیروی سے محبت اور ادب کے چراغ پھر سے روشن کرنے ہونگے۔عدل و انصاف کو قائم کرنے کی طاقت او ر توفیق میسر ہوگی۔ اعتدال
ومساوات کا ضابطہ قائم ہوگا۔ فطرت کے مخفی خزانے میدان عمل میں عطا بن کر مدد اور معاونت کر یں گے۔ اللہ تعالیٰ حکومت وقت ا ور اپوزیشن کے نیک دل، پاکیزہ فطرت افراد کو ایسا کرنے اور بدکردار ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ امین
۲۲۔ اللہ تعالیٰ ان غاصب حکمرانوں سے ان سے لوٹا ہوا خزانہ، ملکی سرمایہ اور بیرونی مما لک کے بینکوں میں پڑے ہوئے ڈالر، پاکستان میں واپس لانے کی توفیق عطا فرما ئے اورن تمام مجرموں کی لسٹ شائع کرنے کی ہمت بخشیں ۔ تاکہ عوام ان لٹیروں اور رہزنوں کا احتساب ازخود کر سکیں۔ آمین۔
۲۳۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے رشوتیں لیں۔ کمیشن کھائے، اور بینک اندرون اور بیرون ملک ڈالروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کے یہ تمام مخفی اور ظاہری خزانے، جائیدادیں، بیرون ممالک کا روبار، کارخانے، محل ، بنگلے ضبط کر کے ملک کے خزانے میں جمع کرائے جائیں۔
۲۴۔ حکومت کے نمائندے ہوں یا اپوزیشن لیڈر ۔ یا پھر ملک میں انہی سات آٹھ ہزار ڈاکہ زنوں، دہشت گردوں کے پاس لوٹی ہوئی ملکی اورآئی ایم ایف کے قرضو ںکی تمام رقمیں جو موجود ہیں۔ ان سے واپس لیں۔ تمام قرضہ جات اس لوٹی ہوئی رقم سے ادا کریں ۔تصرفانہ زندگی کا خاتمہ کریں۔ اگر حکومت وقت اس عمل میںکوتاہی کرتی، حقائق کو چھپاتی، پردہ پوشی کرتی ہے۔ تو یہ ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے۔ کہ مجرم اب بھی ہمارے حکمران ٹولہ کی صفوں میں موجود ہیں۔جو ایک خوفناک اور عبرتناک خونی انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں۔جو نہ ملک کیلئے مناسب ہوگا اور نہ انکے لئے۔
۲۵۔ اگر عوام کے ساتھ کوئی نیکی کرنی ہے تو وزیروں، مشیروں، ممبروں کی تعداد فوری طور پر کم کریں سکیڑیںاور خوف خدا کو اپنی زندگی میں داخل کریں۔ ملکی وسائل اور خزانے کو ان رہزنوں سے محفوظ کریں،ملک میں تمام تفاوتی زندگی کے نظام کو ختم کریں، یہ عمل اپنی ذات سے شروع کریں۔ملک میں دین کی روشنی میں ایک تعلیمی نصاب،ایک جیسی مزدوری،ایک جیسی سرکاری واجب سی عوام الناس کے برابر مراعات اور سہولتوں کا قانون نافذ کریں۔ عدل کو قوانین کی طاقت سے نافذ کریں۔ دین کی روشنی میں میر کارواں یعنی خلیفہ وقت اور عام شہری کے معیار زندگی کے تفاوت کو ختم کریں۔
۲۶۔ عوام الناس کو ٹیکسوں کے شکنجوں میں جکڑ کر اور مہنگائی کے اژدہا کے منہ میں ڈال کر ان غاصبوں کے عشرت کدوں اور عیش و عشرت کی زندگی کو پھلنے پھولنے کا گھناؤنا عمل روک دیں۔ اگر ا ن کو روکا نہ گیا۔تو لامتناہی عذاب کا سلسلہ منطقی اور فطرتی تقاضا ہے۔ اور اس کیلئے تیار رہناہو گا۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔جن اقوام میںعدل ختم ہو جائے ۔ انصاف دم توڑجائے تو ایسی اقوام پراللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونا قانون فطرت ہوتا ہے اور انکی بقا مخدوش ہو جاتی ہے۔وقت ہے سنبھل جاؤ!


۲۷۔ عقل کے گھوڑے او ر سٹیٹ کے وسائل اور ملک کے خزانے کبھی بھی کسی کو فطرت کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔ حق و سچ کی غیبی طاقت سچائی کی پیروی میں مضمر ہوتی ہے۔ فطرت مکمل قدرت رکھتی ہے ۔ وہ کسی ملک پریا حکمرانوں پر عذا ب نازل کرنے سے پہلے ضروری وارننگ کسی شکل میں بھی دلوانے کاعمل پورا کرلیتی ہے۔ یہ وارننگ،یہ تنبیہ خدا اور رسولﷺ کے باغیوں کو اب کھلے عام دی جا رہی ہے۔

۲۸۔ اگر حکومت وقت قرضے معاف کروانے والوں کے نام اور واجب الادا رقوم کی لسٹ مہیا نہیں کرتی، رشوتوں، کمیشنوں سے کھولے ہوئے ڈالروں کے اکا ؤنٹ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں کارخانوں یا جائیداوں یا لوٹے ہوئے خزانہ کے بارے میں جلد از جلد ملت کوتفصیلی طور پر آگاہ نہیں کرتی۔ اور ان لٹریروں سے واپس نہیں لیتی۔ تو یہ بات واضح ثبوت ہو گی ۔ کہ یہ تمام حکومتی بد روحیں ملی مجرم ہیں۔ وہ پہلی حکومت کے بہت بڑے عوامی مینڈیٹ میں بھی شامل تھیں، اوراب بھی حکومت کے مزے اور نشے لوٹ رہے ہیں۔ یہ دین کے منافق اسلام نافذ نہیںکریں گے۔
۲۹۔ بلکہ اپنے جرموں پر پردے ڈالنے کی پالیسی پر یوں ہی گامزن رہیں گے۔ ملک کے دانشوروں اور دیدہ وروں کی اب یہ ذ مہ داری ہے ۔ کہ وہ ملت کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔پنانام پیش کر سکتا ہے۔ہر فرد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خدا اور رسول  کی ہدایات کے مطابق حلقہ انتخاب میں اس شخص کا چناؤ کرے جس میں دین کی خوشبو،ادب انسانیت ، خدمت انسانیت عمدہ اخلاق ، اخوت و محبت کی صلاحیتیں،امانت و دیانت کی صفات، عدل و انصاف کے اوصاف ، اعلیٰ اہلیت اور عمدہ صلا حیت کی خوبیاں،صداقتوں کا نور اور حضور نبی کریم کے اسوہ حسنہ کا وارث ہو۔ اس طرح ملک کا نظام حکومت ا یسے ہاتھوں میں ہوگا جو انسانیت کیلئے بے ضرر اور منفعت بخش ہونگے۔جو دین کے نظریا ت کا تحفظ اور ضابطہ حیات کی خود بھی پیری کریں گے اور عوام الناس سے بھی اسکی پابندی کروائیں گے اور ایسا حسین و جمیل اسلامی تشخص تیار کریں گے۔جو اللہ تعالیٰ کے قوانین کی اطاعت اور اسکی حاکمیت قائم کریں گےَ۔
۳۲۔ یہ ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ملک میںدین محمدی کا شورائی جمہوری نظام کانفاذ اس ملت کا حق ہے۔ مغربی کرسچن جمہوریت ایک باطل نظام حکومت ہے جو صرف سرمایہ داروںجاگیر داروں آمروں کی آماجگاہ اور عوام الناس کے معاشی اور معاشر تی حقوق کی مقتل گاہ ہے،اہل بصیرت دینی رہنماؤں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کرسچن جمہور یت کے نظام حیات، اسکے دین کش طرز حیات،اسکے سیاستدانوں اور حاکم وقت کی غیر دینی تصرفانہ زندگی ، دین کش اعتدال و مساوات جیسی بداعمالیوں کے بارے میں عوام کو مطلع کریں۔ سیاسی عالم دین اور مشائخ کرام کو واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ جب دین کی حدود قیودکو حکومتی سطح پرکرسچن جمہوریت کی اسمبلیاں اور حکمران توڑ کر مخلوط تعلیم ، مخلوط معاشرہ اور مخلوط حکومتیں بناتے جائیں۔چادر اور چار دیواری کے دینی ضابطہ کو ختم کر دیں اور معاشرے کو دین کے خلاف فحاشی بے حیائی ، بدکا ر ی اور زنا کاری کا ماحول مہیا کر د یں اور دامن دین ہی ہاتھ میں نہ ہو تو مسلم امہ اور اسلام کیسا! ان تمام دین کش حا لات کے یہسمبلی ممبران،دینی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور حکمران ہی ذمہ دار اور حدود آرڈیننس کے مجرم ہیں اوراس اجتماعی گناہ کے مرتکب ہیں،سزا بھی انہی تمام دینی غاصبوں کو دی جا سکتی ہے، اہل بصیرت افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ان حالات سے پوری طرح آگاہ کریں،یہی عوا م ان کے کردار کی عظمتوں کو جھک کر سلام کریں گے،یا اللہ ان کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرما۔آمین