عنایت ا ﷲ صاحب ۴ اپریل ۱۹۳۵ء کو محلہ فتح پورہ ،ضلع گجرات میں پیدا ہوئے ۔والد کا نام محمد حسین تھا جو سرکاری ملازم تھے۔ وہ فقیر منش اورعلما ء سے صحبت رکھنے والے انسان تھے ۔ آپ کے والد صاحب نے آپ کو فن خطابت کی تربیت دی وہ عطااﷲ شاہ بخاری سے متاثرتھے۔ عنایت ا ﷲ صاحب نے پرائمری مشن سکول گجرات سے پاس کی ۔ ساتویں میں والد کا اور آٹھویں جماعت میں والدہ کا انتقال ہوگیا۔ اسکے بعد سرگودھا چک 84جنوبی میں سکونت اختیار کر لی ۔ 1956کے آ خر میں لاہور چلے گئے۔ بطور کلر ک پنجابی فاضل ، ایف اے ، بی اے اور پھر ایم اے اُردو کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا، اسٹنٹ فو ڈ کنٹرولر کا امتحان پاس کیا اوردس سال تک اسٹنٹ فوڈ کنٹرولر رہے اور پھر 1983میں ڈسٹرکت فوڈ کنٹرولر رہنے کے بعد 1997ء میں ریٹائر منٹ لے لی ۔آپ کا شمار واصف علی واصف کے انتہائی قریبی رفقاء میں سے تھا۔1958میں پہلی ملاقات کے بعد 1983تک اْن کی صحبت میں رہے ۔ حضرت واصفصاحب کے ہمراہ آپکی ملاقاتیں بہت اہم اہم شخصیات سے ہوئیں۔1965میں واصف صاحب کے ساتھ شیخ وزیر علی صاحب کے پاس قران کی تشریح سننے کیلئے قصورجانا معمول تھا اور یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔مشن کے متعلق لٹریچر کا آغاز شاعری کی صورت میں ہوا پھر پروفیسر احسان اکبر کے مشورے سے نثر لکھنی شروع کی ۔کتابوں کی ترتیب کیلئے شوکت محمود اعوان،جنرل سیکٹری ادارہ افکار جبریل ، جنرل سیکٹری ادارہ تحقیق الاعوان نے اپنی خدمات پیش کیں اور انہی کی سرپرستی میں یہ کام جاری رہا۔آئینہ وقت،صدائے وقت ،ندائے وقت،آوازِوقت ،چراغِ وقت وقفے وقفے سے چھپ کر آتی رہیں۔آپ نے تمام مادہ پرست مذہبی ،سیاسی ،فوجی سربراہوں ،سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف عوامی کورٹ میں کیس اندراج کراتے ہوئے موجودہ سیاسی ڈھانچہ کو مسترد کرتے ہوئے شورائی نظام کے ساتھ تقابلی جائزہ دیتے ہوئے فیصلہ عوام اور عدلیہ پر چھوڑ دیا ہے۔