ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنی پیشین گوئی
تحریر
علامہ محمد یوسف جبریلؒ
(1917-2006)
اوکاسا پبلی کیشنز
انتساب
پیر زادہ بہاوّل شیر گیلانی
موضع کھبیکی وادی سون سکیسر خوشاب کے نام
اور
میرے سخت گیر اور شیر دل اور راست رو باپ ملک محمد خان کے نام جس کی زندگی علوی کردار کا ایک واضح نمونہ تھی اور جسے دورِ حاضر کی تمام تر فتنہ پردازیاں اور مجبوریاں اپنی کٹھن راہ سے نہ ہٹا سکیں ۔اللہ میرے والدِ محترم کی مغفرت فرمائے ۔آمین ثم آمین ۔
ایک لڑکا سکول سے بھاگ گیا اور اُ س کا باپ اس صدمے سے راہیءِ ملک ءِ عدم ہوا اُسی لڑکے کو پچیس برس کی عمر میں عراق کے شہر مصیّب بغداد کے قریب میں اعلی ٰترین روحانی شخصیتوں کی جانب سے ایک مشن سونپا گیا۔ اُ س کے بعد چالیس برس ایک مسلسل زہرہ گداز اور مرد آزما علمی جدوجہد میں گذرے۔ خود آموزی کی جدوجہد بغیر استاد اور بغیر کالج کے نتیجتہً ”قرآنی سورۃ الھمزہ“ کی تفسیر کی چودہ جلدیں انگریزی زبان میں اور اُ ن کے تراجم اردو میں ظاہر ہوا۔ قرآنِ حکیم کی اس سور ۃکا مقصد نوع ِ انسانی کو ایٹمی جہنم سے بچانا ہے۔ میں نے اس ساری جدوجہد اور اس کے نتائج کا ثواب اپنے باپ کو بخش دیاہوا ہے جو میرے سکول سے بھاگنے پر چارپائی سے لگ گیا تھا اور پھر کبھی نہ اُ ٹھ سکا۔ اللہ مجھے بخش د ے اور میرے باپ کی مغفرت کرے۔آمین ثم آمین۔
(اس کتاب میں بعض مقامات پر ایٹمی توانائی کو ایٹمی آگ کے معنوں میں لکھا گیا ہے. اب یہ قاری کی صوابدید پر ہے کہ اس کا صحیح مفہوم متعین کرے بات اَلبَتَّہ باریک ہے۔)









