پیش رُخ
زیرِ نظر کتاب ” ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنی پیشین گوئی “ علامہ صاحب کی پیش قیمت اور قابلِ قدر تصنیفات کی ایک کڑی ہے اور نہایت قابلِ غور تحقیق ہے۔ ان کی تصنیفات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی نظر سطحی مسائل و معاملات کی بجائے نہایت اہم، پیچیدہ اور گھمبیر حقائق کی تہہ تک پہنچتی ہے اور وہ ”کیوں“، ”کب“، ”کیسے“ اور ”کس طرح“ کی گتھیاں سلجھانے کی تگ و دّو میں کوشاں ہیں۔ اللہ نے ان کو دُوررَس دماغ اور دُوربیں نگاہ عطا کی تھی، جن کی بدولت ان کی متعدد تصنیفات وجود میں آئیں۔ انہوں نے مختصر اور بامقصد شاعری بھی کی جس میں حکیُم الّامّت علامہ اقبالؒ کا رنگ جھلکتا ہے۔ اللہ کرے کہ انہوں نے جن جن مقاصد کے حصول کے لیے اپنا قلم اور قدم اٹھایا تھا، حال اور مستقبل کی نوجوان تعلیم یافتہ نسلیں اسے اپنا نصب العین بنا کر پیش قدمی جار ی رکھیں اور موجوودہ معاشرے کی تطہیر کا فريضہ ادا کرکے ایک خوب صورت، کامیاب اور بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکیں، جو ساحر لدھیانوی کے اس شعر کی تفسیر اور تصویر ہو۔
مانا کہ اس جہاں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
الحاج محمد خورشید علوی
اپارٹمنٹ نمبر 301، گارنیٹ سینٹر، خیابان جامی، بلاک نمبر8،کلفٹن، کراچی پاکستان








