Top Banner Blue

پیش لفظ

میں نے متعدد  جلدیں انگریزی اور اردو زبان میں اس موضوع پر 1982ء میں لکھ لی تھیں۔ اُن دنوں ایٹمی سائنس اور ایٹمی خطرات کے متعلق دنیا کی معلومات بہت ہی قلیل تھیں اور ایٹمی سائنس کا مضمون تو اچھے خاصے سائنسدانوں بلکہ ایٹمی سائنس دانوں کے لئے بھی ایک نہایت ہی مشکل مضمون ہے۔ البتہ چوٹی کے چند ایٹمی سائنس دانوں کو جب ایٹمی خطرات کا علم ہوا تو اُنہوں نے ایٹمی جنگ کو ٹوٹل اینی ہی لیشن (Total Annihilation) یعنی مکمل تباہی کا نام دیااور بجا طور پر ایسا کہا اگرچہ ایٹمی تباہی مکمل تباہی سے بھی بہت بڑھ کر کچھ چیز ہے میں نے اس موضوع پر جو کچھ بھی لکھا اُس کی بنیاد قرآنِ حکیم اور سائنس پر ہے اور اس کام میں میرے چالیس برس ایک چلے کی صورت میں صرف ہوئے اور اس علم کی بنا پر جو مجھے قرآنِ حکیم اور ایٹمی سائنس کے مطالعے سے حاصل ہوا میں یقین سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایٹمی سائنسدانوں کے علم اور قرآنِ حکیم کے ایٹمی علم میں وہی فرق صاف نظر آتا ہے جو انسانی اور خدائی ذہن میں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک کتاب چودہ صدیاں قبل ایٹمی سائنس لکھے اور ایٹمی جہنم کے نمودار ہونے کی وجوہات لکھے اور انسان کو ایٹمی جہنم سے بچنے کا طریقہ سمجھائے اور آج دنیا جس تیزی سے ایٹمی جہنم کی جانب بڑھ رہی ہے اُس سے نجات کا ٹھیک طریقہ اس دور کے کسی بڑے فلسفی نے نہیں بلکہ صرف اورصرف قرآنِ حکیم نے بتایا ہے اور اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ میں نے اس موضوع پر جب 1982ء میں اپنی کتابوں کی تکمیل کی تھی تواُس وقت بھی میں نے دنیا بھر کے ایٹمی سائنس دانوں کو قرآنِ حکیم کی جانب سے چیلنج کیا تھا اور اب بھی کرتا ہوں کہ سب مل کر اور قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزۃ پڑھ لینے کے باوجود ایٹمی فینامینن کی اتنی مختصر اور اتنی جامع تعریف کر کے دکھاؤ تم ہر گز ایسا نہیں کرسکتے نہ ہی ساری دنیا کے فلسفی مل  کر ایٹمی جہنم کی پیدائش کے اسباب اس طرح مختصر اس قدر واضح اور اتنے جامع انداز میں بیان کرسکتے ہیں جس طرح قرآنِ حکیم نے سورۃ الھمزۃمیں کیا ہے اگرچہ وہ سورۃ الھمزۃ کو پڑھ بھی لیں ۔آج قرآنِ حکیم کا یہ چیلنج اس ایٹمی دور کے سائنس دانوں کو ہے اسی طرح جس طرح اس نے اپنے نزول کے دور میں عربوں کو فصاحت و بلاغت پر بڑا ناز تھا اور بجا طور پر تھا ۔

            اس مختصر سے پیش لفظ میں، میں صرف اس قدر لکھوں گا کہ میں نے حطمہ (ایٹمی جہنم) کے موضوع پر جو کچھ لکھنا تھا۔ وہ 1982ء میں متعدد جلدیں انگریزی اور اُردو میں لکھ کر ختم کردیا تھا لیکن اُس وقت ساری دنیا بشمول اسلامی دنیا ایٹمی خطرات سے تقریباًنابلد تھی لیکن ان سولہ سالوں میں ایٹمی تباہی کا علم کافی حد تک آئینہ ہو چکا ہے۔ ایٹمی آگ کا کوئی توڑ کوئی علاج نہیں۔ ایٹمی بم ہو یا ایٹمی تابکاری دونوں ہی عالمگیر اور کلی تباہی کی علامت ہیں یہ بات میں سائنس کے مہیا کئے ہوئے علم کی بنا پر کہہ رہاہوں۔ میں ساری انسانیت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس بلائے عظیم سے بچنے کی کوشش کرے ۔ مسلمانوں سے میں نے یہ کہنا ہے کہ ملتِ مُسلمہ پر بحیثیت مسلمان از روئے قرآن یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس زمین پر بسنے والی مخلوق کو ایٹمی جہنم سے بچانے کا فریضہ ادا کرے اور دنیا کو للکار کر کہے کہ اس عذاب سے باز آؤ اور اگر اُمتِ مسلمہ اپنی کمزوری یا مجبوری سے اپنے اس فرض کے ادا کرنے سے قاصر رہی تو پھر اس کوتاہی کی سزا لازم ہے جو درد ناک ہوسکتی ہے۔ مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ ایٹمی جہنم صرف اسی دنیا کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ جہنم اگلی دنیا میں بھی موجود ہے جو لوگ الھمزہ میں بتائے ہوئے قانون کے مطابق حطمہ کے مستحق ہوں گے وہ اگر اس دنیا کے ایٹمی جہنم سے بچ کر بھی نکل گئے تو بھی اگلی دنیا میں حطمہ کا دوزخ اُن کا منتظر ہوگا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مخلوق کو اس درد ناک انجام سے بچائے۔ آمین ثم آمین۔

علامہ محمد یوسف جبریل

Latest pakistani naat Sharif Kon kehta hay by Muhammad Shoaib Gondal