Top Banner Blue

 باب نمبر 1۔ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنی پیشین گوئی۔فلسفی اور سائنسی تشریحات

ایک ناقابلِ یقین بات ہے مگر اَن دیکھا معجزہ ہمیشہ ہی ناقابلِ یقین ہوتاہے۔ قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق چودہ سو برس پہلے پیشینگوئی کی۔مجھ پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ انکشاف ہوا اور اس چھتیس(36) لفظی پیشینگوئی کی تعبیر و تفسیر تین ہزار صفحوں پر لکھی۔ ناقابلِ بیان کاوش و محنت اور ناقابلِ برداشت آلام و مصائب و شدائد کا ثمرہ بارہ مسلسل جلدوں میں حاضر ہے۔ قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی سائنس، فلسفے اور الہٰیات کی دنیا میں ایک منفرد معجزہ ہے۔ میں اس دنیا میں بسنے والے ہر سائنس دان کو  چیلنج کرتا ہوں کہ علم کی بنیاد پر قرآنِ حکیم کے اس معجزے کا انکار کرے۔ میرادعویٰ ہے کہ یہ پیشین گوئی  ایک ایسامعجزہ ہے جسے کوئی بھی فلسفی یا سائنس دان رد نہیں کر سکتا اور میرادعو یٰ ہے کہ یہ پیشین گوئی قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ یہ پیشین گوئی اسی ایٹمی طوفان کے لئے بہ مرتبہء کشتی ء نوح ہے اور میرا دعویٰٰ ہے کہ ایٹمی جہنم سے نجات کا واحد ذریعہ یہی پیشین گوئی ہے۔ ورنہ نجات سائنس دان اور سیاست دان کی دسترس سے باہر ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ اس دورِ جدید کے فلسفی،دانشور اور سائنس دان نے بشمول برٹرینڈ رسل اس بیکنی فلسفے، اس بیکنی ترقی اور اس کے منطقی انجام کی حقیقت یاتو بالکل ہی نہیں سمجھی یا بہت کم سمجھی ہے۔ یہ بیکنی ترقی بیکن کے جدید فلسفۂ اٹامزم پر مبنی ہے اور بیکن کا جدیداٹامزم کا فلسفہ یونان کے ڈیموکرٹس کے قدیم فلسفہ ء اٹامزم پر مبنی ہے  جو لادینی فلسفہ اور منکِر دین فلسفہ تھا۔اس راز کو پہلی بار اس دور میں قرآنِ حکیم نے آشکار کیا ہے۔ کاش آج رسل، آئن سٹائن اور سر جیمز جینز بقیدِ حیات ہوتے اور میرادعویٰٰ ہے کہ کوئی بھی تحریک اس دنیا میں ایٹمی خطرے کے خلاف کامیابی کے ساتھ نہیں چلائی جا سکتی جب تک قرآنِ حکیم کی اس پیشینگوئی کی روشنی میں پیش قدمی نہ کی جائے اور یہی بات اسلام یا کسی بھی دین کے متعلق کہی جاسکتی ہے۔ بالخصوص اسلام کا کلّی احیاء اور نظامِ اسلام کا مکمل نفاذ نہ تو اس دور میں کلّی طور پر ممکن ہے نہ ہی اسلام یا کوئی دوسرا دین اس دور میں اس دنیا کوایٹمی جہنم سے بچا سکتاہے جب تک کہ قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کو کماحقہ سمجھ کراس کی روشنی میں آئندہ لا ئحہِ عمل وضع نہیں کیا جا تا۔ بے شک اس صنعتی ڈھانچے کا مسئلہ جس میں یہ ساری دنیااس وقت جکڑی ہوئی ہے بے حد خوفناک حد تک گھمبیر ہے مگر ایٹمی جہنم کا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیرہے۔ بے شک اس مداری کو اب چلتا کرو ورنہ تمہاری نسلیں بھڑکتی آگ میں جھونک د یگا۔ وقت آ پہنچا ہے کہ انسانیت دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرے،صنعتی ترقی اور ایٹمی جہنم یا بغیراس صنعتی گورکھ دھندے کے امن و سلامتی، یہ دنیوی ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم یعنی حطمہ کا نمونہ ہے اور چونکہ اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش اور حطمہ میں سزا پانے کی وجوہات  ایک ہی ہیں لہٰذا مستحق لوگ اگراس دنیوی ایٹمی جہنم سے بچ کر بھی چلے گئے تو دوسری دنیا کے حطمہ سے نہ بچ سکیں گے اور وہ حطمہ اس لازوال اور ابدی دنیا کا لازوال اور ابدی جہنم ہے،  لہٰذا یہ نکتہ ا ز حد غورطلب ہے نیز چونکہ قرآنِ حکیم نے اس ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بیان کی ہیں لہٰذا ان وجوہات کودفع کرکے اس ایٹمی جہنم سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے یہ بات سمجھا دی۔

قرآن ِحکیم کی پیشین گوئی مندرجہ ذیل ہے :۔

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِنِ                    الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ   يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ   كَلَّا  لَيُنْۢبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ   نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَةُ   الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٔدَةِ   اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ   فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ   

ترجمہ:    ” خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی جس نے سمیٹا مال اور گن گن کر رکھا۔خیال کرتا ہے کہ ُاس کا مال سدا کو رہے گا اُس کے ساتھ،کوئی نہیں وہ پھینکا جائے گا ۔اُس روندنے والی میں اور تُو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی (حُطَمَہ)  ۔ایک آگ ہے۔اللہ کی سُلگائی ہوئی۔وہ جھانک لیتی ہے دل کو،اُن کو اُ س میں موند دیا ہے لمبے لمبے ستونوں میں۔“

         (104۔الھُمَزہ 1-9 -)

 (ترجمہ شیخ الھند حضرت مولانا محمودالحسنؒ)

(1)      قرآنِ حکیم نے فرمایا :۔

” ھمزہ لمزہ یعنی طعنہ دینے والا عیب جو“۔

جاننا چاہیئے کہ اٹامزم کافلسفہ خواہ یہ قدیم یونانی اٹامزم ہو اور خواہ جدید بیکنی اٹامزم ایک مستقل اور خاص انداز کی عیب جوئی ہے، خدائی دین کے عقیدوں کی اور عام زندگی میں لوگوں کی ۔ بغیر خدائی دین کے عقائد  کا صریح انکار کئے۔   قدیم یونانی اٹامزم کے فلسفے میں ایٹموں کے بے لگام پھرنے والا نظریہ دین کے خدائی حکومت والے نظریے کی نفی کرتا ہے اور نیزایٹموں کے ناقابلِ ریخت ہونے والانظریہ بالواسطہ قیامت کے نظریئے کی نفی کرتا ہے کیونکہ اگر یہی مادی کائنات لاامتناہی اور ابدی نوعیت کی ہو تو پھرقیامت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جہاں تک جدیدبیکنی اٹامزم کا تعلق ہے تو اس کا نیچرل فلاسفی(سائنس) بطور مقصودِ زندگی اور اخلاقی ممانعت کا نظریہ خدائی دین کے نظریہء امتحان کی نفی کرتاہے۔ قدیم و جدید اٹامزم کے فلسفے کا خدائی دین سے انکار کئے بغیرایسے نظریئے کو سامنے لانا جو باطنی طور پر خدائی دین کے جملہ ارکان کی نفی کریں۔ ایک ایسا منفرد مخصوص اندازِ فکر اور  وطیرہ ہے جس پرعیب جوئی اور طعنہ زنی کا اطلاق ہوتا ہے۔ بیکنی نقادوں کا بائیبل میں پائے جانے والے سارے ما فوق البشری اور معجزہ سے متعلق مواد کو رد کرکے بیکنی راشنلزم کے نظریئے کی اتباع کرنا اور  حضرت عیسٰی علیہ السلام کے مجرد وجود کو محض ایک دیو مالائی خیالی اختراع قراردینا۔ اٹامزمی عیب جوئی اور نکتہ چینی کی خصوصی مثالیں ہیں، پراپیگنڈے کا لفظ بذاتِ خود اس دور کی اس خاصیت کی غمازی کرتا ہے، اس دور سے پیشتر اس لفظ کے معنی محض تبلیغ و اشاعت کے تھے لیکن اس نئے دور نے اپنے مخصوص دجّالی  انداز میں اس معصوم سے لفظ کی ماہیت اور معانی ہی بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ اب یہ کسی کو عالمانہ انداز میں  بدنام کرنے کے معانی میں استعمال ہوتاہے اور یہی حشر اردو میں تنقید کے لفظ کا ہوا ہے جس کا مطلب عیب جوئی ہو چکا ہے۔ کوئی بھی اوسط سمجھ والا انسان دیکھ سکتا ہے کہ نکتہ چینی اور عیب جوئی اس دور کی ایک مخصوص عادت و کیفیت ہے۔ ہر مضمون اور ہرموضوع اس کی زد میں ہے، سوائے دولت کے، دین، مذہب، سیاست، اخلاقیات، شخصیات کی کیا حالت کی جا رہی ہے اور کوئی دو آدمی کہیں اکٹھے نہیں ہوتے کہ کسی نہ کسی کی غیبت کا سلسلہ اور نکتہ چینی  شروع  ہو جاتی ہے۔

(۲)       قرآن ِحکیم نے فرمایا :۔

”  جس نے سمیٹا مال اور گن گن کر رکھا“

سبحان اللہ! اس زرطلبی، زر اندوزی  اورزر پرستی کے اس بیکنی دور کی اس سے بہتر کیا تعریف و تشریح ہو سکتی ہے۔ اس بیکنی ترقی کو دیکھئے کہ  ایک مسلسل، منظّم اور روز افزوں نظام ہے اور لا متناہی سعی ہے۔مال و دولت سمیٹنے کی،گذشتہ ادوار کی انفرادی زر اندوزی سے مختلف اور درجہ و و سعت میں منفرد اور عالم گیر ، ہمہ گیر،کس منظّم عالم گیر طریقے سے مال و دولت کو گن گن کر بینکوں میں رکھاجاتاہے۔ اجتماعی تحریکِ زر اندوزی کے علاوہ انفرادی طور پر افراد کی زرطلبی، زراندوزی کے انداز کا جائزہ لیجئے اوریہ خاصیت اس خصوصی بیکنی دور اوراس بیکنی ترقی کے ساتھ مختص ہے، گزشتہ ادوار میں گو کہ انفرادی مثالیں دولت جمع کرنے کی ملتی ہیں اور دولت کی محبت انسانی فطرت میں ودیعت ہے مگر جس طرح اجتماعی اور منظّم اور مسلسل طریقے سے یہ جدید دنیااور جدیدترقی چل رہی ہے۔ یہ قرآنِ حکیم کی اس دی ہوئی تشریح و تخصیص کی مکمل آئینہ دار  ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لئے زیادہ الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔بات بالکل واضح ہے۔ہر آدمی سمجھتاہے کہ زر۔ہوسِ زر اور جلبِ زر ہی اس نئی تہذیب و ترقی کی روح ہے۔

(۳)      قرآنِ حکیم نے فرمایا :۔

”خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا کو رہے گا اس کے ساتھ“۔

مفسرینِ کرام نے تفسیر اس مفہوم کی یوں کی ہے کہ وہ اس دنیوی کاروبار میں اس درجہ اہتمام کرتا ہے اور اپنی عمارتوں او رزمینوں کو اس طرح مضبوط بناتا ہے گویا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہمیشہ کے لئے یہاں ہی رہنا ہے۔ اب کسی غائرانہ نظر کی حاجت نہیں بلکہ جو کچھ اہتمام اس خصوصی دور میں دنیوی کاروبار اور عمارتوں اور کارخانوں کی مضبوطی کے معاملے میں ہورہا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہرشخص یہی سمجھتا ہے گویا کہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے اور یہ کہ اس ترقی اور دولت کی یہ مسلسل افزائش اسی طرح قیامت تک چلتی رہے گی۔یہ بیکنی ترقی خود بہ نفسِ نفیس اس خاصیت کی حامل ہے۔اس ترقی کو ابدی،لا امتناہی اور لازوال گردانا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بتدریج ترقی ہی کرتی رہے گی اور دولت بڑھتی رہے گی۔ یہ پنج سالہ منصوبے ایک لاامتناہی اور غیر منقطع سلسلے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلتے رہیں گےحتٰی کہ منزل خود کفالت کی حاصل کر لی جائے گی اور خدا کی ا س کائنات پر بیکنی فلسفہ جدید اٹامزم کے مطابق انسان کا مکمل کنٹرول ہو جائے گا۔ قدیم اٹامزم نے اس مادی کائنات کو لافانی کہااور جدید اٹامزم کا مقصود ہی دنیا کا حصول ہے لیکن اس دور کے لوگوں کی یہ خام خیالی ہے اور اب تو اس ترقی کا انجام بالکل واضح طور پر آنکھوں کے سامنے ہے اور فلسفہ اس مادی دور کاقطعی غلط ثابت ہوا۔ اسی امر کی نشاندہی قرآنِ حکیم اگلی آیتِ کریمہ میں کرتاہے۔ اس سورۃ الھمزہ کی تفسیر میں آئمہ مفسرین نے جو قابلِ داد موشگافیاں اور نکتہ سنجیاں کی ہیں وہ اپنی جگہ پردیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں اور جو مناسبت اس سورۃ کو اس دور سے ہے  وہ اپنی جگہ پر حیران کن ہے۔ آگے دیکھئے کہ کس طرح قرآنِ حکیم دولت سمیٹنے والے اور اس زراندوزی کے عمل کو ابدی سمجھنے والے ھمزہ لمزہ کی خام خیالی کو آشکار کرتا ہے۔

 (۴)  قرآنِ حکیم نے فرمایا:۔

ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ پھینکا جائے گا روندنے والی آگ (حطمہ) میں“۔ (وہ خود اور اس کی دولت دونوں) گویا کہ قرآنِ حکیم نے فرمادیا کہ یہ بیکنی ترقی جسے لاامتناہی قرار دیا جارہا ہے روندنے والی  یعنی حطمہ (ایٹمی جہنم کی آگ) میں ڈال دی جائے گی اور اس دور کا انسان جو اس بیکنی ترقی کے زر اندوزی والے عمل کو لا امتناہی قراردے رہا ہے۔ ڈال دیا جائے گا ایٹمی جہنم کی آگ میں اور ساتھ ہی اس کی دولت بھی ڈال دی جائے گی،ایٹمی جہنم کی آگ میں،وہ آگ جو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہے، ہراس چیز کو جو اس میں ڈالی جائے۔ قرآنِ حکیم نے جس درستی سے اس دور کی زراندوز ی والے عمل کی تباہی اور اس تباہی کے اسباب  و علل اور اس کو بروئے کار لانے والے ادوات و اوزارو عوامل کا اندازہ لگایا ہے وہ ہرگز انسانی ذہن کے بس کی بات نہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے ثبوت کے طور پر مشاہدہ کر رہے ہیں۔ در حقیقت اس بیکنی ترقی کی فطرت میں تباہی کا عمل مضمر ہے۔ یہ کبھی بھی لازوال نہیں ہو سکتی اور انجام اس کا لوگوں کی توقع سے بہت پہلے سامنے آ سکتا ہے۔

            یہاں تک تو بیان تھا بیکنی فلسفے اور بیکنی ترقی کا۔ اب بیان ہو گا اس سے پیدا ہونے والے منطقی انجام کا۔اب غور سے ملاحظہ فرمایئے کہ قرآنِ حکیم کس طرح اس ایٹمی عمل (Atomic Phenomenon) کی تخصیص و تشریح کرتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جو خصوصیات بھی قرآنِ حکیم نے اس ایٹمی عمل کی دی ہیں وہ سب کی سب وہی ہیں جو ایٹمی عمل کو ہر دوسرے عمل یعنی کیمیاوی، برقی، ثقلی سے ممیز کرتی ہیں اور جس طرح اوپر بیان کی ہوئی بیکنی فلسفے اور قدیم اٹامزم اور جدید بیکنی ترقی کی خصوصیات کا بیان چودہ صدیاں قبل نازل ہونے والی کتاب کا ایک معجزہ ہے۔ اسی طرح ایٹمی عمل کی سائنسی خصوصیات جو قرآنِ حکیم نے بیان کی ہیں اور جن کا بیان ہم اب کریں گے چودہ صدیاں قبل ان کا بیان لاریب ایک معجزہ ہے، ایک ایسا معرکہ جو آئن سٹائن کی سطح کے ایٹمی سائنس دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے۔

(۱)       قرآنِ حکیم فرماتا ہے:۔ 

    ”حطمہ“ (روندنے والی)

حطمہ کے لفظی معنے ہیں کرشر (Crusher) کے۔ اس لفظ کی جذر ہے حَطَمَ جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ریزہ ریزہ کر ڈالنا۔ یہ سنتے ہی کسی بھی جاننے والے سائنس دان کا ذہن برم سٹراہلنگ (Bremmstrahlung) کی اصطلاح کی جانب منتقل ہو جائے گا۔ یہ مذکورہ اصطلاح ایک اصطلاح ہے جو جرمنوں نے سپیکٹرم آف ریز (Spectrum of Rays)  کے لئے وضع کی اور جس کے لفظی معنے ہیں توڑنے والی یا ٹوٹنے والی تابکار شعاع (Breaking Radiation) سائنس دانوں کی برادری  نے ا س اصطلاح کو تشریحی قرار دیا کیونکہ اس نے تابکار شعاع کی ایک مخصوص یعنی توڑ پھوڑ والی خاصیت کو اجاگر کیا اور سائنس دانوں نے اس اصطلاح کو لائقِ تحسین گردانا۔ مقصد یہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے ایٹمی عمل کی جس بنیادی خاصیت کو پیش کیا ہے۔ سائنس دان اس سے متعارف تھا۔ ایٹم کے اندر ہونے والا عمل توڑ پھوڑ کا عمل ہےاورجاننا چاہیئے کہ  ایٹمی توانائی پیدا ہوتی ہے ایٹمی نیوکلّیس کے رابطے  یعنی بندھن کے ٹوٹنے سے اور ایٹمی توانائی فقط ایٹمی نیوکلّیس کی رابطہ توانائی یعنی (Binding Energy) ہے اور جب یہ رابطہ یعنی یہ بندھن جس نے ایٹمی نیوکلّیس کے مختلف ذروں کو یکجاباندھ رکھا ہے۔ ٹوٹتا ہے۔ تو توانائی خارج ہوتی ہے۔ جسے ایٹمی توانائی کہا جاتا ہے۔ یاد رکھیئے کوئی بھی دوسری قسم کی توانائی کیمیائی،برقی یا ثقلی اس طرح سے یعنی توڑ پھوڑ کے عمل سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس طرح یہ خاصیت ایسی خاصیت ہے جو ایٹمی عمل کو دوسرے عملوں سے ممیز کرتی ہے۔ پھر ایٹمی عمل ایک خاص قسم کی اور ایک خاص حد تک توڑ پھوڑ کرتا ہے۔ اس طرح کہ اسے مکمل کرشر (Absolute Crusher) کہا جا سکتا ہے۔ ایٹمی عمل میں ایٹم کا نیوکلّیس اور خلیے کا نیوکلّیس دونوں شامل ہیں اور  دونوں ہی اثر پذیر ہوتے ہیں اوریہ دونوں اس طرح ٹوٹ جاتے ہیں کہ پھران کو اپنی اصلی حالت پر آنا کسی طریقے سے بھی ممکن نہیں اگرچہ کسی بھی دوسرے عمل میں بھسم کی ہوئی چیز کو مصنوعی طریقے سے اپنی پہلی صورت میں پیدا کیا جاسکتا ہے۔ نیزایٹم جو کہ اس کائنات کا بنیادی پتھر کہلاتا ہے اور خلیہ جو کہ زندگی کی اکائی کہلاتا ہے دونوں ہی ایٹمی عمل میں اس طرح کچل دیئے جاتے ہیں کہ ان کے جڑنے کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ ایٹمی عمل کے علاوہ کسی بھی عمل میں ایٹمی نیوکلّیس کوچھواتک نہیں جاتا اورایٹمی نیوکلّیس بالکل سلامت رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی تابکار شعاعیں بھی ایٹمی نیوکلّیس کو برباد کردیتی ہیں۔بے جان مادے کے ایٹموں کی قلب ِماہیت کردیتی ہیں اور جاندار جسم میں خلیے کے نیوکلّیس کے کروموسومز (Chromosomes) کوتوڑ پھوڑ دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایٹمی دھماکے کے تینوں حصے یعنی ہیٹ فلیش (Heat Flash)  اوردھماکہ (Blast) اور تابکار شعاعیں (Atomic Radiations) سب ہی کرشر (Crusher) توڑ پھوڑ کارول اداکرتے ہیں۔ ہیٹ فلیش جانداروں کے دلوں کو کرش کرتی ہے۔ دھماکہ بلند و پست عمارتوں کو کرش کرکے اور پاوڈر بناکرخلا میں اچھال دیتا ہے اور تابکار شعاعیں کرشنگ کاعمل حسب ِمعمول کرتی ہیں۔ ایٹمی فزکس کی کسی بھی معیاری، درسی، کتا ب کو اٹھا کر دیکھیں، آپ اسے مندرجہ ذیل قسم کی اصطلاحوں سے مملو پائیں گے۔

Bombarding (بمباری) Crushing (رگڑ دینا) Smashing  (کچل دینا)  Hitting (ضرب لگانا) Breaking (توڑ دینا) وغیرہ وغیرہ اوراسی طرح ریڈیو بائیولوجی کی کتابیں مندرجہ ذیل قسم کی اصطلاحوں سے پُر نظر آئیں گی:۔

Target Concept (ٹارگٹ والا نظریہ)  Direct Action (ڈائریکٹ ایکشن)   Indirect Action (بالواسطہ اقدام)  Snapping the cable with the bullet (ڈوری کو گولی سے اڑا دینا)  Breaking the Chromosomes (کروموسومز کو توڑ دینا) اور یہ فقرہ پڑھیئے۔ Radiations hit the cells and crush them like sledge hammer.  ”تابکارشعاعیں خلیوں پر ضرب لگاتی ہیں اورا نہیں ہتھوڑے کی طرح کچل دیتی ہیں“۔ وغیرہ وغیرہ۔

اس کے علاوہ لارڈ روتھر فورڈ(Rutherford)  کا مندرجہ ذیل بیان  اس ضمن میں پڑھیئے۔ جو اس نے اپنے اس مشہور و معروف تجربے کے بعد اپنی ڈائری میں رقم کیا۔ جس میں اس نے سونے کی پتی پر الفا پارٹیکلز سے بمبارڈ کی وہ اپنا تاثر یوں ریکارڈ کرتا ہے :۔

   ”یہ معاملہ اتنا عجیب و غریب تھا جتنا کہ تم ایک پندرہ انچ کا گولہ ایک کاغذ کے پرزے پر چلاؤ اوروہ گولہ پلٹ کر تمہیں آ لگے۔ یہ واقعہ میری زندگی کا عجیب ترین واقع تھا۔جو مجھے پیش آیا“۔

          توگویاروتھر فورڈ نے ایٹمی عمل کی اس کرشنگ والی خاصیت کو جسے قرآنِ حکیم نے بیان کیاخوب بھانپا۔ غورکرنے کی بات ہے کہ اگر روتھرفورڈ کے سامنے قرآنِ حکیم کی یہ ایٹمی پیشین گوئی پیش کی جاتی جسے اب میں دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہوں تو روتھر فورڈ کی کیا حالت ہوتی۔ میرا خیال ہے کہ وہ حیرت سے پاگل ہوجاتا۔ پھر قرآنِ حکیم کے حطمہ اور سائنس دان کے اوتما کے درمیان جو صوتی مماثلت عملی مناسبت کے علاوہ موجود ہے دیکھو کتنی حیران کن بات ہے اور گو کہ حطمہ کے لفظی معنی اور ہیں اور اوتما(ایٹوما) کے اور تاہم دونوں میں ایک بنیادی قدرِ مشترک موجود ہے یعنی توڑ پھوڑ کی اور اس امر میں سائنس دان نے  ایک غلطی کو برقرار رکھا   ۔ حطمہ کا مطلب  ہے رگڑ دینے والی جو ایٹمی سائنس کی بنیادی خاصیت ہے۔ ایٹم کے معنے ہیں نہ ٹوٹنے والاجب کہ ٹوٹ چکا اور سائنس دان نے سمجھنے ا ور جاننے کے باوجود ایٹم کوایٹم ہی رہنے دیا۔قرآنِ حکیم نے درست کہا۔

(۲)       قرآنِ حکیم فرماتا ہے:۔

”حطمہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے“۔ 

 یہ تو معلوم ہے کہ ایٹمی عمل آگ ہے اور یہ آگ اللہ کی سلگائی ہوئی اس لئے ہے کہ بعض ناپسندیدہ اعمال کی جزا کے طور پر منطقی عمل کے نتیجے میں نمودار ہوئی ہے اور اللہ کاغضب ہے۔عذابِ الہٰی ہے۔ نیز حجم اور شدت کے لحاظ سے اس ناقابلِ بیان حد تک زیادہ ہےاور  اس  قدر مہتم بالشان ہے کہ اس کا نام اللہ کے نام کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔

 (۳)  قرآنِ حکیم فرماتا ہے :۔

”حطمہ آگ ہے جو چڑھتی ہے دلوں پر“۔

یہ خصوصیت پھر ایسی خصوصیت ہے جو ایٹمی عمل کو ہر دوسرے عمل، کیمیاوی، برقی ثقلی سے ممیّز کرتی ہے اور کسی عمل میں بھی سوائے ایٹمی عمل کے یہ خصوصیت موجود نہیں۔ قرآنِ حکیم کا یہ نکتہ کہ”آگ ہے جو چڑھتی ہے دلوں پر“ محض ایٹمی عمل کا نام لینے سے ہی پایہء اثبات کو پہنچ جاتاہے۔وہ اس طرح کہ ایٹمی عمل کا حقیقی سائنسی نام نیوکلّیر (Nuclear) ہے۔ نیوکلیر اسمِ صفت ہےنیوکلیس کا اور نیوکلیس کہتے ہیں مرکزی نقطے کو، دل کو، گویا کہ نیوکلیر فائر کا مطلب ہوا وہ آگ جو نیوکلیس یعنی دل سے متعلق ہے۔ ایٹمی عمل درحقیقت نیوکلّیر عمل ہے۔ ایٹمی توانائی در حقیقت نیوکلّیر توانائی ہے۔ ایٹمی بم درحقیقت نیوکلّیر بم ہے اب رہا یہ سوال کہ نیوکلّیس اور دل میں کیا مناسبت ہے تو معلوم ہونا چاہیئے کہ دل کا لفظ قرآن ہی نے استعمال نہیں کیا خود سائنس دان بھی نیوکلّیس کے لئے دل کا لفظ استعمال کرتا ہے اور یہ استعمال ایٹمی فزکس کی معیاری، درسی کتب میں پایا جاتا ہے۔ ہم بیشمار مثالوں میں سے فقط دو پر اکتفا کریں گے۔ ملاحظہ ہو:۔

(۱) ”ہر سریع ذرہ ایک منفرد ایٹم کے بالخصوص دل یعنی تابکار مادے کے نیوکلّیس (دل) سے آتا ہے “۔(حوالہ فزکس، فزیکل سائنس سٹڈی کمیٹی، دوسرا ایڈیشن، ڈی، سی ہیتھ اینڈ کمپنی، لیکنسٹن، مساچوسیٹز، جولائی 1965 ء صفحہ ۱۳۰)

انگریزی کی اصل عبارت میں نکتہ اس سے بھی زیادہ واضح ہے۔ عبارت یوں ہے:۔

)a) Each fast particle comes from the break up of the very heart of a single atom-The nucleus of the radio-active material".

ہر تیز ذرہ ایک ایٹم کے دل کے ٹوٹنے سے آتا ہے - ریڈیو ایکٹو مواد کا مرکز۔

(ب)  ”ایک تابکارنیوکلّیس کی زندگی میں کتنی نیوکلّیر دل کی ضربات ہوں گی جو سیکنڈ کااربواں حصہ قائم رہتا ہے“۔ (حوالہ مندرجہ بالا صفحہ 21۔ مختصر سوالات)

اصلی انگریزی عبارت یوں ہے :۔

)b) How many nuclear heart-beats are in the life-time of a radio-active nucleus which lasts only a billionth of a second.”

ایڈورڈ ٹیلر(ہائیڈروجن بم کے موجد) نے 1939 ء میں ایٹم کے دل سے توانائی حاصل کرنے کے موضوع پر لیکچر دیا۔ ایٹمی عمل کا پورے کاپورا دائرہ کار ہی ایٹمی نیوکلّیس میں محدود ہے۔ کسی دوسرے فینامینن مثلاََکیمیاوی،برقی، یا ثقلی میں نیوکلّیس کو چھوا تک نہیں جاتا، چھیڑا تک نہیں جاتا اور اس لئے ہمیشہ سالم رہتا ہے۔ ایٹمی توانائی کے عمل میں خواہ وہ فژن کے قاعدے سے ہو خواہ فیوژن کے قاعدے سے، سارے کا سارا عمل نیوکلّیس کے اندر ہی ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ واضح اور مہتمم بالشان مظاہرہ اس دل پر چڑھنے کے عمل کا ہوتا ہے۔ تھرمو نیوکلّیر پراسس Thermonuclear process  میں۔ جسے عرفِ عام میں ہائیڈروجن بم کا نام دیا جاتا ہے۔ اس صورت میں اندرونی فژن  بم (ایٹم بم)  سے پیدا کی ہوئی آگ کو باہر والے خول میں موجود ہائیڈروجن کے ایٹموں کے نیوکلّیس پر پھینکا جاتا ہے۔ گویا کہ آگ نیوکلائی سے نکل کر نیوکلّیائی پر چڑھ رہی  ہوتی ہے یعنی دلوں پر چڑھ رہی ہوتی ہے۔ نیز یہ تھرمونیوکلّیر کی اصطلاح ایٹمی آگ کی قرآنی تعریف یعنی ”دلوں پر چڑھنے والی“ کاعین ترجمہ ہے اور قرآنی اصطلاح اس تھرمونیوکلّیر کی اصطلاح کا عین ترجمہ ہے۔ تھرمو کہتے ہیں حرارت کو اور نیوکلّیر کے ساتھ مطلب ہو گا نیوکلّیس سے متعلق حرارت یادل سے متعلق آگ۔ ہائیڈروجن بم کے اندر جو ایٹم بم ہوتا ہے اس کی آگ بھی نیوکلّیس یعنی دل کے ٹوٹن4ے سے بنتی ہے اور پھر ہائیڈروجن بم کی آگ بھی اندر والے ایٹمی بم سے باہروالی ہائیڈروجن کے نیوکلائی یعنی دلوں پر چڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ سارا عمل ہی آگ کے دلوں پر چڑھنے کا ہے۔ 

          تابکار شعاعیں بھی اس دل پر چڑھنے والی خصوصیت کا طبعی طور پر مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ بے جان چیزوں کے ایٹمی نیوکلّیائی پرحملہ آور ہو کر ایٹمی نیوکلّیس کی ترتیب کو گڑ بڑ کرکے ان ایٹموں کی قلبِ ماہیت کردیتی ہیں۔ یہ مژدہ گھٹیا دھاتوں کو سونے میں بدلنے والوں کے لئے جانفزا  ثابت ہوتا مگر ھہیات،بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ دوسری دھاتوں کو سونے میں بدلنے کاتجربہ ابھی کامیاب نہیں ہوا۔ جانداراجسام میں تابکاری شعاعیں خلیوں کے نیوکلّیائی پر حملہ آور ہو کر نیوکلّیس کروموسومز (Nuclear Chromosomes) کو توڑ پھوڑ دیتی ہیں۔ ایک غور طلب بات اس امر میں یہ سامنے آتی ہے کہ تابکاری شعاعیں کسی جاندار کے جسم میں ہر اس عضو کے لئے جو دل سے وابستہ ہو ترجیحی روّیہ اختیار کرتی ہیں۔ تفصیل حسبِ ذیل ہے:۔

 اولاً یہ کہ وہ زندگی  کے عمل میں موجود باہمی عضوی تعاون پراس سطح پر حملہ آور ہوتی ہیں جو دماغ کے کنٹرول سے ورے ہے یعنی دماغ سے ورے کہیں زندگی کے دل کے قریب۔ دوم یہ کہ ہڈیوں کا گودا اور باقی تمام خون بنانے والے اعضاء بمقابلہ دماغ، اعصاب اور عضلات، تابکاری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ہڈیوں کے گودے اور خون بنانے والے اعضاء کا خونی رشتہ دل کے ساتھ واضح ہے۔ سوم یہ کہ ایک سے زیادہ خلیوں والے  سارے حیاتیاتی نظاموں (Multi-cellular organisms)ایک خلیے والے حیاتیاتی نظاموں (Uni cellular Organisms)  سے کہیں زیادہ تابکاری  اثرات قبول کرتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ خلیوں والے نظاموں کے تنفس اور دورانِ خون کے نظام ایک خلیے والے نظاموں سے بہتر ہوتے ہیں اور نظام ِتنفس اوردورانِ خون کے نظام کا جو خونی رشتہ دل کے ساتھ ہے وہ بھی واضح ہے۔ یہ نظریہ میرا ذاتی ہے اور کسی سائنس دان نے اس امر کی توجہ مبذول نہیں کی۔ چہارم یہ کہ تابکاری شعاعوں کا اثر آکسیجن کی عدم موجودگی میں کم ہو جاتا ہے۔ نیز آکسیجن اوردل کے درمیان جو خونی رشتہ نظامِ تنفس اور نظام دورانِ خون کے واسطے سے موجود ہے۔ وہ بھی واضح ہے۔ پنجم یہ کہ ایٹم بم کی ہیٹ فلیش (Heat Flash)  جانداروں کے دل پر صدمہ لگا کر ان کو مارتی ہے۔ اس ضمن میں ورڈزورتھ کا ایک چھوٹا سا شعر نہایت ہی حسب ِحال معلوم ہوتا ہے۔اس نے کہا۔

”وائے افسوس کہ دل کے معاملوں پر ابھرنے والے دستور کو ایک جھلملاتے ہوئے ایٹم کے سامنے معدوم ہونے دیا جائے۔ 

To let a creed built in the Heart of things

Dissolve before    a twinkling atomy

(wordsworth – excursions)

 

(۴)      قرآنِ حکیم فرماتا ہے :۔

”حطمہ ا یک آگ ہے بند کی ہوئی آگ ان پر“۔

بلاشبہ ایٹمی فینامینن میں گھیراؤ کرنے کی خصوصیات واضح انداز میں پائی جاتی ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کی تابکاری  کے مقامی  اور ساری زمین کو ڈھانپنے والے غلاف اور ہڈیوں میں بیٹھنے والے تابکاری مادوں کی ضد اور کینسروں کا تابکاری کے حملے کے چھ سے تیس برس کے بعد تک نمودار ہونا اور خلیے پر تابکاری شعاع کا حملہ استراحتی مرحلے ( Resting Stage) میں ہونا مگر اثرات کاانا کے مرحلے (Ana-phase)  میں نمودار ہونا اورفقط کسی ایک عضو پر تابکاری کے حملے  کے باوجود سارے جسم میں تابکاری کے اثرات کا نمودار ہو جانا اور تابکاری کی قاتل مقدار سے تابکار شدہ ایسے مینڈکوں کا جنہیں نقطہء انجماد کے قریب قریب سردی میں رکھا جائے۔ بجائے تین سے چھ ہفتے کی معینہ مدت میں مر جانے کے کئی مہینوں تک بقیدِ حیات رہنا اور گرمی پہنچانے کی صورت میں فی الفور تابکاری علامات کا ظاہر ہو جانا اور پھر ان مینڈکوں کاتین سے چھ ہفتے کی معینہ مدت میں مر جانا اور الیگزنڈر ہیڈو(Alexander Haddow) کا یہ خیال کہ ہو سکتا ہے کہ کینسر پیدا کرنے والی اشیاء کا کینسر پیدا کرنے والا اثر نمو کے عمومی عمل میں طویل المیعاد مداخلت ہی ہو اور تابکاری کاوہ گھیراؤ جووہ اپنے طویل المیعاد جنسی اثرات کے سبب انسانیت کی آنے والی نسلوں تک کرتی ہے اور وہ گھیراؤ جوزمین کا وہ زندگی کوفنا کر دینے کے بعد لاکھوں سالوں تک زمین پر بکھرنے والے تابکار مادوں کیوجہ سے کر سکتی ہے۔ چند ایسے مشاہدات ہیں جو بلاشبہ تابکاری کی گھیراؤ کرنے والی صفت کا ثبوت مہیّا کرتے ہیں۔

(۵)      قرآنِ حکیم فرماتا ہے:۔

”کھچے ہوئے ستونوں میں“

ایٹمی دھماکے سے منسلک ہونے والی امتیازی علامت یعنی کچھے ہوئے ستون کے علاوہ ایٹمی فی نامی نن کااس ضمن میں ایک اور پہلو بھی ہے یعنی یہ کہ تابکاری کی دنیا کو بجاطور پر کھچے ہوئے ستونوں کی دنیا کے نام سے پکار ا جاسکتا ہے۔ الفا پارٹیکل کی چارسینٹی میٹر کی اٹھان کو اگر الفا پارٹیکل کے حجم کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یہ بلندی بھی ایک بہت اونچا ستون نظر آئے گی۔ ایک فٹ بال اگر اپنے حجم کے مقابلے میں اسی نسبت سے اوپر اٹھے تووہ آسمانوں کی وسعتوں میں گم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر خلا سے آنے والی تابکار شعاعوں (Cosmic Rays)  کی بلندیوں کو دیکھا جائے تو ان کے ستونوں کودیکھ کر توانسان کا دماغ ہی چکرا جائے۔ یہ اطلاق میرا ذاتی ہے اور کسی سائنس دان نے اب تک اس معاملے کی جانب توجہ مبذول نہیں کی۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے۔

(۶)        آنحضور ﷺ نے ایٹمی جہنم کی منظر کشی کی:۔

فرمایا:۔ ”اللہ تعالیٰ فرشتوں کو آگ کے ڈھکنے اور آگ کی میخیں اور آگ کے ستون دے کربھیجے گا۔ وہ جہنمیوں کو آگ کے ڈھکنوں سے ڈھانپ دیں گے اور ان کو آگ کی میخوں سے جڑ دیں گے پھران کے اوپر آگ کے ستون کھینچ دیں گے۔سارا ماحول اس قدر بند ہو گا کہ نہ توفرحت کی کوئی مقدار باہر سے اندر آ سکے گی۔ نہ ہی دکھ کی کوئی رمق اندر سے باہر جا سکے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ان لوگوں کو فراموش کردے گا۔ اور اپنی رحمت سے ان کو دور کر دے گا۔ جنت کے مکین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوناشروع کردیں گے۔ جہنم کے مکین مددکے لئے پکارنا بند کردیں گے۔ اور بات چیت ختم ہو جائے گی اوران کی بات چیت اس طرح ہوگی۔ جس طرح سانس کو اندر باہر کھینچا جاتاہے“۔ (تفسیر الجلالین)

اب ایٹمی دھماکے کی اس سے بہتر تصویر تصّور میں نہیں آ سکتی۔ ایٹمی بم کا دھماکہ ایک الٹی دیگ کی طرح ہوتا ہے اور بدنصیب لوگوں کو اوپر سے ڈھانپ دیتا ہے۔ تابکاری شعاعیں آگ کی میخیں ہیں جن سے ان بدنصیبوں کو جڑ دیا جاتا ہے اور ایٹمی دھماکے کا کھچا ہوا ستون آگ کاستون ہوتا ہے جو ان کے اوپر کھینچ دیاجاتاہے۔  ”اعاذنا اللہ منھا و امن سائر وجوہ العذاب“۔

اس مثال کی تطبیق ایٹمی توانائی برائے امن پر بھی ہوتی ہے۔ ایٹمی توانائی کے دور میں اس دنیاکو ایٹمی توانائی سے ڈھانپ دیا جائے گا۔ تابکاری شعاعیں لوگوں کو آگ کی میخوں کی طرح پرو دیں گی اور لمبے لمبے ستون تابکاری شعاعوں کے بھی بنتے ہیں  اور بعض مفسرینِ کرام نے تو لمبے لمبے ستونوں کی تعبیر لمبے لمبے زمانوں اور بڑی بڑی زنجیروں سے بھی کی ہے۔

(۷)        قرآن فرماتا ہے۔

”تجھے کیا سمجھائے کہ کیا ہے  وہ روندنے والی یعنی حطمہ“۔

مفسرینِ کرام نے اس سوال سے معنی بے حد خوفناکی کے لئے ہیں اور واقعی ایٹمی جہنم کی خوفناکی کو بیان کرنا ممکن نہیں۔اب اس عارضی، دنیوی، ایٹمی جہنم کی موجودگی میں جو مشاہدات سامنے آئے ہیں  ان کی روشنی میں خوفناکی کے علاوہ ایٹمی سائنس کے مضمون کی بے پناہ اور بے انتہا پیچیدگی کے کیا کہنے۔ یہی سوال کہ تجھے کیا سمجھائے کہ ایٹمی سائنس کیا ہے اس دور کے سائنس دان سے کیا جائے تو لازماً اس کا جواب ہو گا کہ کچھ نہیں۔ واقعی اس مضمون کی پیچیدگیاں اور مشکلات بیان سے باہر ہیں۔

زیر ِ نظر کتاب میں نے1974 ء میں مکمل کی تھی۔ اس انگریزی کتاب کا یہ اُ ردو جامہ جو آپ کے سامنے ہے بھی 1974 ء میں ہی تکمیل پذیر ہوا۔ بعد میں اس موضوع کی تحقیق و تدقیق کا سلسلہ سال ہا سال تک پھیلتا گیا۔ دس کتابیں اس موضوع پرپایۂ تصنیف کو پہنچیں۔ انگریزی زبان میں جن میں اکثر کے اردو تراجم بھی پایہء تکمیل کو پہنچ چکے۔

سورۃ الھمزہ کا ترجمہ شیخ الھند حضرت محمود الحسن کا ہے اور سادگی، درستی اور ادبی فرض شناسی کا ایک قابلِ قدر نمونہ ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلمان صدیوں سے اس سورۃ کو  پڑھتے چلے آ رہے ہیں مگر ان کو مال سمیٹنے اور گِن گِن کر رکھنے اور دولت کی ہمیشگی  کے یقین کی وہ قباحت نظر نہیں آ سکی جس کی نشان دہی  قرآنِ حکیم نے کی ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ مال سمیٹنا اور گِن گِن کر رکھنا  قرآنِ حکیم کی نگاہ میں اتنا ہی کبیرہ گنا ہ ہے جتنا کہ مثلاً کفر اور شرک اور بے گنا ہ مسلمان کا قتلِِِ عمد ہے تاہم قرآنِ حکیم کا لفظ حق ہے اور یہ حق آج اس دنیا میں ایٹمی جہنم کے نمودار ہو جانے کی وجہ سے پایہء اثبات کو پہنچا اور اس جرم کی سنگینی اس کی سزا سے پہچانی جائے۔

            حُطمہ اگلے جہان میں ایک مخصوص قسم کا جہنم ہے جس کا نمونہ اب اس عارضی و فانی دنیا میں ہر خاص و عام کی نگاہوں کے سامنے موجود ہے جس طرح عام آگ عام جہنم کے نمونے کے طور پر اس زمین میں موجود ہے اور جس طرح باغ اور دریا اس دنیا میں اگلی دنیا کے بہشت کا نمونہ قرار دیئے گئے ہیں تاکہ لوگ دیکھ لیں اور سمجھ لیں آگ نہ ہوتی تو دوزخ کی کیا سمجھ آتی، باغ نہ ہوتا تو بہشت کا کیا پتہ چلتا۔ نیز یہ بات فکر طلب ہے کہ وہ لوگ جو بے گناہ ہونے کے باوجود گناہ گاروں کے ساتھ اس دنیوی ایٹمی جہنم کی بھینٹ چڑھ جائیں گے سو اُ ن کے لئے اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کے پاس بہت اچھا بدلہ ہے اَلبَتَّہ وہ لوگ جو  قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کے دفعات کے مطابق اگلی دنیا کے حُطمہ کی آگ کے سزاوار گردانے جائیں گے۔ وہ اگر اس عارضی دنیوی ایٹمی جہنم سے اتفاق کی بنا پر بچ کے بھی چلے گئے تو اگلی دنیا میں حُطمہ کو منتظر پائیں گے اور دلیل اس امر کی واضح ہے کیونکہ حُطمہ کی آگ کی سزاکی وجوہات اور اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات ایک ہی ہیں یعنی عیب جوئی، زر اندوزی اور دولت کی ہمیشگی میں یقین۔  فاعتبروا یا اُ ولی الابصار۔

آج سے چودہ سو برس قبل نازل ہونے والی کتاب کا اس جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے اور اس جدید ایٹمی سائنس کے ایٹمی عمل کی تشریح کرنا اور اس بیکنی ترقی کو ایٹمی بموں کی پیدائش کا بنیادی منطقی سبب ٹھہرانا جو کہ کسی سقراط بقراط جالینوس ارسطو   افلاطون بیکن یا رسل کے بس کی بات نہیں۔ ایک ایسا معجزہ ہے جس نے معجزوں کے منکر اس دور میں سائنس دانوں کو ان معجزوں سے منکر سائنس کے معاملے میں تذبذب سے دو چار کر دیا ہے اور گوئیم مشکل وگرنہ گوئیم مشکل والا معاملہ آن پڑا ہے۔ کیونکہ انکار کی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ پیشین گوئی میرا اپنا انکشاف ہے   مسلم اور غیر مسلم سبھی اس راز سے بے خبر ہیں اور قرآنِ حکیم   کی یہ پیشین گوئی انسانیت کی تقدیر ہے۔کشتیِ نوح ہے، عصائے موسوی ہے، نفسِ عیسوی ہے۔

 اس دنیا میں ایٹمی خطرے کے خلاف کوئی بھی تحریک کسی موثر انداز میں چل سکتی ہے نہ ہی کوئی دین بالخصوص اسلام مکمل طور پر نافذ ہو سکتا ہے جب تک قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی میں پائے جانے والے رہنما اصول کلّی طور پر اپنائے نہیں جاتے اور لائحہ عمل اُ ن کے مطابق متعین نہیں کیا جاتا۔انسانیت کے لئے مسلمانوں کی جانب سے اگر کوئی بہترین تحفہ پندرھویں صدی کا ہو سکتا ہے تو وہ یہی پیشین گوئی ہے نیز یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیئے کہ بالفرض اگر اسلام یا کوئی دوسرا الٰہی دین اس موجودہ بیکنی ترقی کی موجودگی میں کامل طور پر نافذ بھی کر دیا جائے تو یہ دین نہ تو اپنے پیروکاروں کو اور نہ ہی اپنے آپ کو اس بیکنی ترقی کے عمل کے منطقی انجام سے بچا سکتا ہے اور منطقی انجام اس کا ایٹمی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے میر ی یہ دلی دعا ہے کہ وہ محض اپنے فضل و کرم سے اس انسانیت کو اس دردناک  ایٹمی المیے سے بچا لے اور اس سے بچنے کے لئے ان کو وہ نگاہ بخش دے جو حقیقت کو دیکھ سکے اور ان کو وہ توفیق بخشے جس کے سبب وہ ہمت کے جذبے سے سرشار ہو کر مسئلے کا مردانہ وار مقابلہ کرکے اپنے لئے راہِ نجات تلاش کرلیں   اگرچہ مسئلہ بہت مشکل ہے مگر اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں۔

اس جدید دور میں نمودار ہونے والے بیکنی اٹامزم کے فلسفے کی تشریح کرنا صرف قرآنِ حکیم ہی کا کام ہے اور نہ ہی قرآنِ حکیم کے سوائے کوئی بھی شخص اس بات کا اندازہ لگا سکتا تھا کہ جدید بیکنی اٹامزم کے نتیجے میں ایٹمی جہنم (یعنی ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری) پیدا ہو جائے گا۔ سقراط، افلاطون، ارسطو اور جالینوس سبھی قدیم یونانی اٹامزم کے فلسفے کے شدت سے مخالف تھے لیکن یہ بات ان میں سے کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ اٹامزم کے نتیجے میں اسی دنیا میں ایٹمی جہنم نمودار ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو ایٹمی جہنم کے عذاب سے بچا لے کیونکہ یہ عذاب نہایت ہی دردناک ہے۔

وہ دو نکتے جو میری اس چالیس سالہ تحقیق و تدقیق کا نچوڑ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر اسلام یا کوئی دوسرا دین کامل طور پر اس بیکنی ترقی کی موجودگی میں نافذ بھی کر دیا جائے تو بھی وہ نہ تو اپنے پیروکاروں کو نہ ہی اپنے آپ کو اس بیکنی ترقی کے منطقی انجام یعنی ایٹمی تباہی سے بچا سکتا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس دنیوی ایٹمی جہنم کے مستحق لوگ اگلی دنیا کے ابدی ایٹمی جہنم (حطمہ) میں ڈال دیئے جائیں گے۔ اگرچہ وہ اس عارضی دنیا کے ایٹمی جہنم سے بچ کر بھی نکل گئے۔ فاعتبروایا اوّلی االابصار۔

Hain Rab noo bohat piyaray . Evain nahi pair chumday Allah waliya day