باب نمبر2۔ ایٹمی جہنم، یعنی بیکنی جہنم قرآنِ حکیم اور ابراہیم علیہ السلام
(ا)۔ بیکنی فلسفہ:
آج اس روئے زمین پر ہرشخص بیکنی فلسفے کا پیروکار ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نے بیکن کا نام بھی نہیں سنا کام کی بات تو اور ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بیکن کا فلسفہ کیا ہے؟ اور یہ کہ الہامی دین کے فلسفے کی عین ضد ہے۔ بیکنی فلسفہ ہے قدرت پر انسان کا تسلّط، مسلسل، منظم، روزافزوں اور لاامتناہی سائنسی تحقیق کے ذریعے، جملہ انسانیت کی مادی بہبودکی خاطر۔ انسانی زندگی کے بنیادی مقصد کے طور پر اور عین اللہ تعالیٰ کے اُ س حکم کے مطابق جو آدم کو دیا گیا۔ اخلاقی فلسفہ ممنوع ہے۔ خدا نے آدم کو منع کیا اور اخلاقی فلسفے کا حصول یا اتباع گویا کہ آدم کی اس نافرمانی کا اعادہ تکرار اور استمرار ہے جو آدم نے نیکی اور بدی کی معرفت کے درخت کے پھل کو کھا کر کی۔ یہ پڑھو اور سمجھو اور حیرت میں ڈوب جاؤ۔ نہیں مان سکتے تو بیکن کی دونوں کتابیں ابھی موجود ہیں خود پڑھ لو اَلبَتَّہ یہ سمجھنابینا آدمی کے لئے مشکل نہیں کہ بیکن کا یہ فلسفہ الہامی دین کی عین ضد ہے۔ الہامی دین کی بنیاد اخلاقی فلسفے پر ہے۔ مادی انتفاع کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ غور سے دیکھو بیکن یہاں شیطانِ ثانی کا کردار ادا کرتا نظر آتا ہے بالکل اسی ادا پر شیطانِ اوّل نے آدم کو بہشت میں ورغلایا تھا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جناب بھاڑ میں جائے بیکنی فلسفہ ہم تو اپنے دین کو مانتے ہیں، اسی پر قائم ہیں لیکن جانتے نہیں کہ یہ بیکنی ترقی بیکنی فلسفے کے اصولوں پر اٹھی ہے اور اسی کے اصولوں کی آئینہ دار ہے جو اس ترقی میں پھنسا۔ وہ بیکنی فلسفے سے اپنی برات فقط زبانی کر سکتا ہے عملاً وہ بیکنی فلسفے ہی کا پیرو کار ہے۔
(ب)۔ بیکنی ترقی:
یہ ترقی جو دراصل بیکنی ترقی ہے کیاہے؟ جملہ انسانیت کی مادی بہبود کی خاطر قدرت پر انسانی تسلّط کا ایک مسلسل، منظم، روزافزوں اور لا امتناہی عمل اور ایک مسلسل منظم، روزافزوں اور لا امتناہی سائنسی تحقیق کے ذریعے اور اگر یہی بیکنی فلسفہ نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن اس بیکنی ترقی کی وہ خاصیت جو بالکل غور طلب ہے وہ ہے اس کی روز افزونیت یعنی روز افزوں ترقی۔اس روز افزونیت کا تقاضا ہے انسانی ذہن اور وقت پر اس ترقی کا تدریجی قبضہ اور اسی مناسبت سے آخرت اور دین کے خیال اور عمل کا انخلا بدو کے اونٹ والے قصے کی طرح اس تدریجی عمل کے مشاہدے کے لئے کسی ارسطو یا افلاطون کی نگاہ کی ضرورت نہیں۔ عام آدمی بھی آج سے پچاس برس پہلے اور آج اس مقابلے کی کیفیت کو سمجھ سکتا ہے لیکن یہ ترقی لاامتناہی طور پر روز افزوں ہے۔ پس لازم ہے کہ بالآخر آخرت اور دین کے خیال کو کلّی طور پر انسانی ذہن سے بدر کر دے۔ اب اس بات میں کون سا اشکال ہے۔ جان لیا جائے کہ صرف وہی الہامی دین اس بیکنی ترقی کی اجازت دے سکتا ہے جو ا پنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کو آمادہ ہو اَلبَتَّہ کسی دین نے بھی کوئی ایسے دستخط نہیں کئے فقط پیروکاروں نے اپنی طرف سے جعلی دستخط کر دیئے۔ یہی بات اس سائنس کے لئے کہی جا سکتی ہے۔ یہ موجودہ سائنس اس بیکنی ترقی کی لونڈی ہے اور سوائے مادی استحصال کے اس کا کچھ مقصد نہیں لہٰذا اگر بیگم نامنظور ہے تو لونڈی بھی نامنظور اور آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح سائنس عیسائیت کے مقابلے میں بیکنی ترقی بتدریج چھا گئی اور عیسائیت بتدریج محو ہو گئی۔ ایک بہت خاص بات یہ ہے کہ اس بیکنی ترقی کو کسی بھی منزل پر بریک نہیں لگ سکتی اور اس طرح ان لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے جو یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ اس ترقی کو دین کے ساتھ متوازنBalanced کر دیا جائے گا اور یہ لوگ صرف مسلمان ہیں باقیوں نے تو ہتھیار ڈال دیئے ہوئے ہیں اگر اس بیکنی تر قی کو بریک لگاناممکن ہوتا تو اس وقت سے زیادہ اہم اس کام کے لئے کوئی نہ تھا جب کہ مجبور انسانیت ایٹمی توانائی کی متوقع تباہ کاریوں سے با خبر ہونے کے باوجود اسے اپنانے پر اس لئے مجبور ہو رہی ہے کہ توانائی کے دوسرے ذرائع اپنے اختتام کو پہنچ رہے ہیں اور اگر ایٹمی توانائی نہ اپنائی جائے تو یہ سارا بین الاقوامی صنعتی ڈھانچہ منجمند ہو جاتا ہے پھر یہ ترقی تخلیق کے بنیادی ڈیزائن سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ کس تیزی سے توانائی کے سارے وسائل ڈکار گئی۔ عام حالات میں یہ ذخائر لاکھوں برسوں تک چل سکتے تھے مگر تقدیر کے اندھے کیا دیکھیں۔
(ج)۔ بیکنی فلسفہ کے اثرات:
قدرت پر انسانی تسلّط کے نظریئے سے انسان کے ذہن میں خدائی کا سودا سما گیا۔ خدا پر تّوکل ختم اور سائنس پر مکمل بھروسہ انسان کا شیوہ بنا۔ کلّی مادی بہبود کے نظریئے نے انسانیت کو ایک ایسے ٹڈی دل میں تبدیل کر دیا۔ جو ہر شے کو چٹ کرتی ہوئی ایٹمی سپرے کی گھاٹی میں فنا ہونے کے لئے بڑھ رہی ہے۔ طمانیت، اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی، دینی جذبات مفقود، عاقبت فراموش، حرص و ہوس، ذہنی انتشا ر، سیاسی خلفشار، خود غرضی، ہر طرف مسلّط،بھوک کی شدت، دینی اقدار کا فقدان اور مادی وسائل کی کمی انسانیت کو مردم خوری کی صفت سے متصف کر دے گی اور اب تو منبر سے بھی قیامت کا تذکرہ سننے میں نہیں آتا۔
(د)۔ بیکنی فلسفے کی ناکامیاں:
قدرت پر انسانی تسلّط کا نظریہ بھاپ اور بجلی میں کامیابی کے بعد ایٹمی سائنس میں الجھ گیا اور سائنس اندھی ہو گئی۔ ایٹمی دیو اس بونے انسان کو بھسم کر کے رکھ دے گا۔ قدرت اس انسان سے کہیں زیادہ قوی نکلّی۔ زعم میں مُبتلا اس انسان کو انتقامی جذبے کی آگ میں ڈال کر فنا کر دے گی۔ مادی بہبود کا نظریہ بھی ناکام ہو گیا۔ حالات نے فژن چین ری ایکشن کا عمل اپنا لیا یعنی اور پیداواراور مطالبہ انسانی ہوس بھی اس بیکنی ترقی کی طرح روز افزوں اور لاامتناہی ہے۔ خود کفالت کا خواب محض ایک سراب ہے جو پانی میں نہیں ایٹمی آگ میں منتہی ہے۔ قناعت اور استغنا اور اس دنیا سے نفور کا فلسفہ جو دین نے دیا تھا کسی حد تک اس ضمن میں کامیابی سے ہمکنار رہا مگر بیکنی لامحدود بہبود کا نظریہ آیا اور بھٹی کا عمل جاری ہو گیا۔ عاقبت دھماکہ ہے ۔
(II)۔ بیکنی فلسفے اور بیکنی ترقی کے متعلق غلط فہمیاں:
بیکن کا تصّور غلط نکلا۔ دنیا طبیعاتی اوّلیا اور مشاہداتی صوفیا کا گروہ نہیں بلکہ ٹڈی دل کا بادل بن گئی۔ ہر مذہب کا پیرو اپنے دین میں اس بیکنی ترقی کا جواز پیش کر رہا ہے اور سب غلط فہمی کا شکار ہیں۔ قرآنِ حکیم میں پائی جانے والی غور آیات اس بیکنی ترقی کے جواز کا ثبوت مہیّا کرتی ہیں نہ تسخیرِ کائنات کی۔ قرآن ِحکیم کی ان آیات اور بیکنی فلسفے اور اس بیکنی ترقی کے مقصود میں بنیادی اختلاف ہے۔ قرآنِ حکیم کی غور آیات کی آیات کی کسی آیت کا مقصود استحصالِ آیات نہیں بلکہ یا تو تخلیق کے مقصود کی تلاش ہے یا قیامت کے ثبوت کی تلاش ہے یا خُدا اور ا ُ س کے دین کی یاد دہانی مقصود ہے جب کہ اس بیکنی فلسفے یا اس بیکنی ترقی میں غورِ آیات کا مقصد سوائے استحصالِ آیات کے کچھ بھی نہیں۔ نیز تسخیر ِکائنات کی قرآنی آیات اور قدرت پر بیکنی تسلّط کے مقصود میں کوئی مطابقت نہیں۔ قرآن ِحکیم میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔”میں نے یہ سب کچھ تمھارے لئے مسخر کیا ورنہ تم نہ کرسکتے“ اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ شکریئے کی توقع کا اظہار کرتا ہے کہیں یہ نہیں کہتا کہ تم بھی میری طرح تسخیر ِکائنات کا عمل شروع کرو۔ اس کے مقابلے میں بیکنی تسلّط کا مقصد محض مادی بہبود ہے اور تصّور اس میں انسان کے پیدائشی حق کا ہے یعنی انسان کو کائنات پر تسلّط کے لئے پیدا کیا گیا۔ ببیں تفاوت راہ از کجا ست تا بہ کجا۔ مسلمانوں کی یہ غلطی غارت کا پہلو لئے ہوئے ہے اور معلوم ہونا چاہیئے کہ بیکن نے بھی انسانیت کو اسی غورِ آیاتContemplation of the Works of God کے چکر میں لا کر مارا تھا اور اس سے پہلے شیطانِ اوّل یعنی ابلیس نے بھی آدم کا پٹڑا اسی ترغیب سے کیا تھا۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ مقصد کی تلاش کے لئے قرآنی غورِ آیات اور تسخیر ِکائنات کا بغور ملاحظہ کریں نیز ایٹمی بم ہتھیار نہیں سائنس دان کے مطابق یہ زندگی کی فنا کا سامان ہے۔ قرآنِ حکیم کے نزدیک یہ ایٹمی جہنم ہے۔ ایٹمی توانائی توانائی نہیں، ایٹمی بم اور تابکاری کی ماں ہے۔ ایک عالمگیر غلط فہمی جو اس دور کے بندوں کو ترقی کے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ یہ جاری رہے گی نہیں بلکہ اب یہ بھنور میں پھنس چکی ہے اور اس کا شمار اب رجعت پسندی کے زمرے میں ہے اور معینہ فنا اس کی سامنے آ چکی۔
(III)۔ ایٹمی سائنس کی موجودہ کیفیت:
تابکاری شعاعیں حاضر نسل کو موت کے علاوہ کوڑھ میں مبتلا کرتی ہیں اور آئندہ نسلوں کو کوڑھ اور عجیب الخلقیت میں مبتلا کرتی ہیں۔ ایٹم بم نہ بھی چلیں تو بھی ایٹمی توانائی برائے امن اپنی تابکاری شعاعوں کے ذریعے آئندہ ایٹمی دور میں ایٹمی توانائی کے مکمل رواج کے مرحلے میں اس زمین کی ساری زندگی کو کینسر اور عجیب الخلقیت میں مبتلا کرکے فنا فی النار کر سکتی ہے اور ایٹمی بم سے بچاؤ کی کوئی تدبیر نہیں نہ ہی تابکاری سے بچا ؤکی کوئی تدبیر ہے۔ اگر دنیا کا کوئی سائنس دان اس امر میں مجھ سے کوئی اختلاف رکھتا ہے تو وہ برملا کہے۔ نہیں ہرگز وہ جرأت نہ کرے گا اور اس موجودہ بیکنی انسانیت کی یہ سزا بالکل مبنی بر انصاف ہے۔ اگر انسانی ماں کی مامتا کا تصّور میرے سامنے نہ ہوتا تو میں حیران ہوتا کہ آخر اللہ تعالیٰ اس انسانیت کو بچانے کے لئے کیوں اس قدر تردّد کر رہا ہے؟ کیوں اس طبیعی عمل کو اپنے منطقی نتیجے پر پہنچنے سے روکنا چاہتا ہے مگر ماں کی مامتا حضرت ابراھیم علیہ السلام کا ایمان اور اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحیمی و رحمانی اس انسانیت کو ایٹمی جہنم کے دردناک عذاب سے نکالنے میں لگی ہے۔
(IV)۔ بیکنی ترقی کا منطقی انجام:
یا تو یہ توانائی کے بے ضرر وسائل کی عدم موجودگی میں اپنی موت آپ مر جائے یا پھر اسے ایٹمی توانائی دھماکے سے یا تابکاری سے ختم کردے، انسان کے لئے اب دو راہیں ہیں، تیسری نہیں ایک تو یہ کہ فوری طور پر ایٹمی بموں کی بارش میں استحقاق کی بنا پر یا پھر تابکاری کے عمل سے رفتہ رفتہ مصائب و آلام میں مبتلا ہو کر استحقاق کی بنا پر برباد ہو جائے اگر بچ جائے تو اس کا کریڈٹ اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کو جائے گا۔ روئے زمین پر بکھرے ہوئے یہ مضبوط سائنسی آثا ر لمحے بھر میں نیست و نابود ہو سکتے ہیں یا پھر سکان کے فنا ہو جانے کے بعد ایک مخلوق کی حماقتوں کی یادگار کے طور پر رہ سکتے ہیں۔ یہ بیکنی دور علم کے باوجود جہالت کا دور ہے۔ ایٹمی سائنس جس پر انسانیت کی فنا و بقا کا دارومدار ہے اُس سے اکثریت قطعی طور پر لا علم ہے اور ایٹمی سائنسدانوں نے فقط‘ا،ب ،ج ،د، کا انکشاف کیا ہے۔ لنڈن کا پی ایچ ڈی کشتی میں بیٹھے کشتی اُ لٹے تو تیرنا نہ جانے۔ پی ایچ ڈ ی کس کام کی؟ ایٹمی سائنس میں سائنسدان کی توقعات ایسا خواب ہے جس کی تعبیر سوائے ایٹمی جہنم کے شعلوں کے کچھ نہیں اور یہ دور اس قدر دانش کے باوجود پاگل بھی ہے۔ بیکنی مالیخولئے میں مبتلا ہے۔ ثبوت مانگتے ہو تو دیکھ لو ایٹمی طاقتیں خود ایٹمی بموں کے انبار لگا رہی ہیں اور ری ایکٹروں کو قطار در قطار کر رہی ہیں مگر دوسروں پر قدغن ہے ایٹمی پھیلا کو روکنے کے لئے اور پھر یہ ڈی ٹیرنس Deterence کا فلسفہ دیکھو۔ ایٹم بم اس لئے سٹاک کئے ہیں کہ جنگ رکی رہے گی۔ ٹھیک ہے یہ بات تم بھی سمجھنے سے قاصر ہو مگر یہ منطق اتنی بڑی حماقت کی آئینہ دار ہے کہ اگر تم سمجھ لو تو ڈارون کی تھیوری میں شبہ ڈالنے والی ہر چیز تمھارے ذہن سے محو ہوجائے۔ باقی رہی دنیا کے ایک حصے کے لئے جنگ کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کی ضمانت والی بات تو اس کے تو کہنے ہی کیا ہیں۔ ادھی ڈھن پاک ادھی پلید والی کہاوت سنتے تھے اب دیکھ لی۔ تاہم یہ مسئلے کوئی نئے نہیں دنیا کی تاریخ ایسی ہی حماقتوں سے بھری پڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور کی حماقتیں خالصتہً بیکنی نوعیت کی ہیں۔ کانے دجّال کی کانی مخلوق کی ہیں۔
(V)۔ قرآنِ حکیم کی ایٹمی پیشین گوئی کی اثر اندازی کی خاصیت:
علامہ اقبالؒ نے جب یورپ کی ان لائبریریوں میں ان کتابوں کی بھرمار دیکھی جو مسلمانوں کے اسلاف و اجداد کی لکھی ہوئی تھیں تو وہ بے حد حیران ہوئے حتٰی کہ انہوں نے ایک عمدہ نظم از راہ تاسف اس حقیقت کو واشگاف کرنے کے لئے لکھی جس کا آخری شعر حضرت غنی کاشمیری کاہے اور یوں ہے اور بے حد مناسبت کا حامل ہے۔
غنی روز سیاہ پیر کنعاں را تماشہ کن
کہ نور دیدہ آں روش کند چشم زلیخا را
یعنی ”اے غنی!حضرت یعقوب علیہ السلام کے تاریک دن اور بدنصیبی ملاحظہ کر کہ اس کی آنکھ کانور زلیخا کی آنکھ کو روشنی بخش رہا ہے“۔
کچھ اسی قسم کاتاثر میرا تھا جب میں نے آئمہ مفسرین از قبیل حضرت ابن عباسؓ، الجلالین، جریر طبری، امام فخر الدین رازی ؒ اور حضرت ابن کثیرؒ (اللہ ان سب پرراضی ہو) کی تفاسیر کا مطالعہ کیا۔ حطمہ کی تفسیر کے معاملے میں میں نے حیرت اور مسرت سے یہ محسوس کیا کہ ان کی تفسیریں اس حد تک واضح، پُرمغز اور فکر انگیز ہیں کہ اگرچہ مغرب کے سائنس دانوں کو ایٹم بم کی تیاری میں زیادہ معاون ثابت نہ ہوتیں مگر کم از کم جس راہ پر وہ چل رہے تھے اس کی منزل کی نشان دہی اس خوبی سے کر دیتیں کہ اس دنیا میں پھر کسی کو یہ شکایت نہ ہوتی کہ ہماری راہنمائی نہیں ہوئی یا پیشگی آگاہی نہیں دی گئی۔ ان مفسرینِ کرام نے فقط حطمہ کی آگ کی امتیازی خصوصیات کو ہی نہایت واضح انداز میں نہیں پہچانا بلکہ اس کے علاوہ اس اَدق ترین مضمون میں ایسی ایسی موشگافیاں اور نکتہ سنجیاں کی ہیں کہ ایٹمی سائنس دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے لئے کافی تھیں مثلاً حضرت امام فخرالدین رازیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ”حطمہ کی آگ اگر چہ یہ مکمل طور پر دل پر مسلّط ہو کر اسے مغلوب کر لیتی ہے تاہم اس کو جلاتی نہیں کیوں کہ دل کے جل جانے سے موت کا وقوع لازم ہو جاتا ہے اور موت کا وجود اگلی دنیا میں نہیں“۔ اب اس سے بہتر امتیازی نکتہ حطمہ (ایٹمی جہنم) کی آگ کے معاملے میں تصّور میں نہیں آسکتا فرق صرف اتنا ہے کہ اس عارضی دنیا کے موجودہ ایٹمی جہنم کی آگ دل کو صدمے سے مار ڈالتی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ جلاتی نہیں یہ مثال ایٹم بم کے دھماکے سے پیدا ہونے والی ہیٹ فلیش (Heat Flash) کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ یہ ہیٹ فلیش جاندار کے دل کو جلاتی نہیں مگر صدمے کی شدت سے مار ڈالتی ہے۔ قدیم مفسرین حضرات کے ذہن میں فقط دوسری دنیا کا خیال تھا کیونکہ ہمیشہ ہی جہنم کا تصّوراگلی دنیا سے وابستہ رہا ہے اَلبَتَّہ یہ عارضی ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے حطمہ کا ایک نمونہ ہے اسی طرح جس طرح عام آگ اگلی دنیا کے دوزخ کا نمونہ ہے اور علامت کے طور پر اس دنیا میں موجود ہے۔آنحضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ بھی حطمہ کی آگ کی امتیازی خصوصیات کو سمجھ چکے تھے اور وہ آپس میں بیٹھ کر اس موضوع پر بحث کیا کرتے تھے۔ ستونوں میں بند آگ کی سزا کے اس انوکھے طریقے پر اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا کرتے تھے۔ پس معلوم ہوا کہ حطمہ کے مضمون میں تحقیق و رائے زنی کا جواز موجود ہے اور اس کی حقیقی کہنہ ہم بدنصیبوں کے حصے میں لکھی تھی جو ا س ایٹمی دور کی پیداوار ہیں۔آئمہ مفسرین کی جانب سے حطمہ کی کی جانے والی یہ تعریف کہ ”حطمہ ایک ایسا جہنم ہے جس میں جو چیز ڈالو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے ایک ایسی راہنما تعریف ہے جو سارے مضمون کی بنیادی حقیقت کو واضح کر دیتی ہے۔ حطمہ کی یہ تعریف مجھے اس مناظرے کی یاد دہانی کراتی ہے جو معروف جرمن سکالر، مس اینی میری شمل اور میرے درمیان جو قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کے بارے میں ہوا تھا جس تیزی اور برق رفتاری کے ساتھ میرے سوال کے جواب میں اس ممتاز سکالر نے حطمہ کی متذکرہ بالاتعریف دہرائی تھی وہ آج تک بھی میرے ذہن میں اس تازگی کے ساتھ موجود ہے اوراندر ہی اندر میں نے اس عورت کی علمی قابلیت کی داد دی تھی۔
ستمبر 1963ء کی بات ہے میں لاہور گیا اور وہاں علامہ علاؤالدین صدیقی صاحب سے جو اسوقت پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اسلامیات کے صدر تھے ملا۔ دوران ملاقات موصوف رو دیئے۔ حقیقت حال کے استفسار پر علامہ صاحب نے کہا کہ ایک جرمن عورت لاہور میں آئی ہوئی ہیں اور یہ کہ وہ چھ تقریریں یورنیورسٹی میں کر چکی ہیں اور اس نے آخری ساتویں تقریر بروز بدھ تین بجے سے پانچ بجے تک کرنی ہے اور یہ کہ معزز خاتون قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہے اور سمجھتی ہے کہ قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں جیسا کہ مسلمان مانتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے نبی کریم ﷺ نے قرآنِ حکیم لکھا ہے اور یہ کہ محترمہ الازہر مصر اور بعض دیگراسلامی ممالک میں اس موضوع پر تقریریں کر چکی ہے اور دنیا بھر کے دور ے پرہیں ۔یہاں سے دہلی جائے گی اور یہ کہ جس روز اس نے مصر میں قرآنِ حکیم کے غیر الہامی ہونے کی تقریر کی اس روز چھ سو مصری مسلمان اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہو گئے۔ اس تفصیل کے بعد حضرت علامہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس مقصد کے لئے لایا ہو۔ یہ کارڈ لے لو اور بدھ کے روز تقریر میں ضرور شمولیت کرو۔ بغیر کارڈ کے داخلہ بند ہے۔ بلوے کا خطرہ ہے۔ میں نے جب یہ باتیں سنیں تو مجھے یہ اندازہ کرنے میں کچھ دیر نہیں لگی کہ محترمہ نے پورے دین اسلام کو درانتی ڈال دی ہے۔ اگر قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں اور نبی کریم ﷺ نے لکھا ہے تو گویا دینِ اسلام کی بنیاد ہی فریب پر ہے لہٰذا ساری بات ہی ختم ہوئی اور گذشتہ چودہ صدیوں میں تمام کے تمام مسلمان گمراہ اور فریب کاشکار تھے۔
بدھ کے روز تین بجے سے قبل میں بھی پنجاب یونیورسٹی کے اسلامیات کے شعبہ میں پہنچ گیا۔ پہلی صف کی بائیں طرف مجھے جگہ ملی۔ اس موقع پر بیس بائیس جیّد علماء کرام اور بائیں جانب چار پادری صاحبان گون پہنے تشریف فرما تھے۔اگلی صف تقریباً خالی تھی۔ علامہ علاؤالدین صدیقی صدارت فرما رہے تھے۔ میں اگلی صف کی بائیں جانب ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ ٹھیک تین بجے محترمہ فاضلہ تشریف لائیں اور علامہ صاحب کے ساتھ دوسری کرسی پر بیٹھ گئی اور صاحبِ صدر سے اجازت لے کر تقریر کرنے کھڑی ہوئیں۔ تقریر انگریزی میں تھی جس پر محترمہ کو کافی عبور حاصل تھا۔ البتہ جرمن لب و لہجہ واضح تھا۔ محترمہ نے تقریر شروع کی اور ایک گھنٹے تک کرتی رہی۔ ایک فہرست بزعم خود ایسی غلطیوں کی تیار کر رکھی تھی جو قرآنِ حکیم میں محترمہ کے مطابق موجود تھیں اور استدلال محترمہ کا یہ تھا کہ اگر قرآنِ حکیم واقعی اللہ تعالیٰ کا کلام ہوتا تو یہ ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہوتا کیونکہ اللہ غلطی نہیں کرتا اور چونکہ اغلاط موجود ہیں اور غلطی کرنا تقاضائے بشریت ہے لہذا یہ کلام بھی بشر کا ہے جو سوائے مسلمانوں کے بنی کریم ﷺ کے دوسرا نہیں ہو سکتا۔
محترمہ کیا تھی ایک طوفان آ گیا۔ ہر طرف خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی۔ صدر سے اجازت لے کر انہوں نے موضوع کی مناسبت سے تابڑ توڑ حملے کرنے شروع کر دیئے کہ قرآنِ حکیم الہامی کتاب نہیں ہے بلکہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے خود تحریر کی ہے۔ بعض نکات کے جواب علماء کرام کے پاس موجود تھے لیکن وہ اپنی ذہانتِ طبع کے باعث جواب کا موقع ہی نہیں دے رہی تھیں۔ اسی طرح ایک گھنٹہ فصاحت وبلاغت کادریا بہتا رہا اور وہ قرآنِ حکیم کو الہامی کی بجائے انسانی تصنیف کے جواز میں دلائل کے انبار لگاتی رہیں۔ بات چیت انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ محترمہ کوایسے مدلل طریق سے جواب دیا جائے کہ وہ بہر صورت قائل ہونے پر مجبور ہو جائیں۔
ایک گھنٹہ کی روح فرسا تقریر ابھی جاری تھی کہ علامہ صاحب کرسئ صدارت کو گھسیٹتے ہوئے آئے اور میری بائیں جانب بیٹھ گئے۔ میں اس غیر متوقع اقدام پر حیرت کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا۔ ”کیوں علامہ صاحب“۔ میں نے پوچھا۔ ”آپ نے صدارت کی کرسی چھوڑ دی؟“۔ کہنے لگے۔ ”برادر! تم پر مجھے بڑی توقع تھی تم بھی خاموش ہو۔ علماء کرام بھی خاموش ہیں۔ میں نے صدارت کی کرسی اسی غرض سے چھوڑی ہے کہ یہاں اب عوام میں میں محترمہ سے کچھ پوچھ سکوں گا“۔ میں نے سوال کیا۔ ”ْقرآنِ حکیم آپ کا ہے علامہ صاحب“۔ فرمانے لگے۔ ”نہیں“۔ تو کیا میں وادی سون سکیسر سے لکھ کر لایا ہوں“۔ کہا۔ ”نہیں“۔ قرآنِ حکیم جس کا ہے علامہ صاحب“ میں نے کہا ”اس کی حفاظت وہ کر سکتا ہے اَلبَتَّہ داد دیں اس عورت کو۔ ہمارے ہی میدان میں ہمارے ہی ہتھیار سے ہمیں بھی پیٹ رہی ہے “۔
محترمہ صاحبہ علامہ صاحب کی نہایت غیر متوقع گریز اور ہماری کھسر پھسر پر کچھ ششدر سی ہو کر خاموش ہو گئیں۔ بجلی کی سی تیزی سے میرے ذہن میں ایک خیال کوندا اور موقع کو غنیمت تصّور کرتے ہوئے میں اٹھ کھڑا ہوااور اس کے بعد جو مکالمہ میرے اور محترمہ کے درمیان انگریزی میں ہوا اس کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:۔
میں: ۔
”مادام! معذرت خواہ ہوں۔ میں نے گزشتہ چھ تقریروں میں کچھ نہیں سنا جو کچھ میں نے ایک گھنٹے کے دوران سنا ہے اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہیں اور اس کو چیلنج کر رہی ہیں یعنی یہ آپ مانتی ہیں کہ قرآنِ حکیم ایک اچھی کتاب ہے، اس میں نصیحت بھی ہے، کچھ قانون بھی ہے، لائحہ عمل بھی ہے اور چند پرانے لوگوں کی مثالیں بھی ہیں مگر آپ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ قرآنِ حکیم کو اللہ تعالیٰ نے عرش سے فرشتے کے ذریعے ہمارے نبی امی و فداہ ابی حضرت محمدﷺ پرنازل کیا۔ آپ کا خیال ہے کہ قرآنِ حکیم ہمارے نبی کریمﷺ نے لکھا ہے“۔
مادام :۔
بولی ”ہاں۔میرا یہی نظریہ ہے آپ اسے غلط ثابت کریں“۔
میں:۔
میں نے کہا۔ ”مادام! میں قطعاً مناظروں کا شائق نہیں۔ مناظرے جیسے کہ آج کل ہوتے ہیں وہ پانی میں مدھانی ہوتی ہیں اور کچھ فائدہ اُن پر مرتب نہیں ہوتا۔ آپ نے اپنے نقطۂ نظر کو پایۂ اثبات تک پہچانے کے لئے ایک راستہ اختیار کیا ہے یعنی آ پ نے قرآنِ حکیم سے غلطیوں (نعوذباللہ) کا انتخاب کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآنِ حکیم بشر کا کلام ہے۔ میں یہ سارا میدان آپ کے لئے چھوڑتا ہوں کیونکہ اگر ہم سال بھر بھی اسی بحث میں الجھے رہے تو کوئی نتیجہ برآمد ہونے کی قطعاً کوئی اُمید نہیں۔ میں ایک دوسرا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ میں تمہیں اِسی قرآنِ حکیم میں ایک ایسی چیز دکھا سکتا ہوں جو کسی بھی جوتشی، رمال، ستارہ شناس، فلسفی، حتٰی کہ نبی کے بس کی بھی بات نہیں تھی۔ وہ بات سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ تو کوئی جان سکتا ہے نہ ہی کہہ سکتا ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ یہ قرآنِ حکیم وہی ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں شائع ہوا۔ اس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی“۔
مادام میری بات پر کچھ تعجب سی ہوئیں۔ ایسی بات اوراس انداز کی بات اس نے آج تک نہیں سنی تھی۔ سو گویا ہوئی وہ کونسی چیز ہے؟
مادام:۔
اگر قرآنِ حکیم جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہمارے نبی کریم ﷺ نے خود لکھا ہوتا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وقت کے کسی بھی دور میں یا اس وسیع دنیا کے کسی حصے میں بھی اگر کوئی شخصیت ابھرتی جس کی علمی قابلیت اسی پائے کی ہوتی جیسی کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی تھی تو دنیا کے سامنے ایک روز ایک اور قرآن پیش کر دیا جاتا۔
کہنے لگیں۔ ”عین ممکن ہے“۔
میں نے عرض کیا۔ کہ ”ایسا ہوا تو نہیں۔ مگر چلئے محترمہ!
محترمہ کہنے لگیں ”آپ و ہ بات بتائیں جس کا آپ نے ذکر کیا ہے “۔
میں نے کہا۔ ”بتایئے کہ قرآنِ حکیم کب نازل ہوا تھا یا آپ کے نظریئے کے مطابق قرآنِ حکیم کب ہمارے نبی کریمﷺ نے لکھا؟“۔
فرمانے لگیں۔ ”ٹھیک تیرہ سو اَسی برس پہلے“۔
میں نے عرض کیا۔ ”ایٹم بم کب بنا؟“۔
فرمایا محترمہ نے۔ ” 1945میں دو دانے ناگاساکی اور ہیروشیما پر پھینکے گئے“۔
میں نے عرض کیا۔ ”قرآنِ حکیم لکھا گیا تیرہ سو اسی برس پہلے۔ ایٹم بم گرائے گئے سال انیس سو پینتالیس میں“۔
ارشاد فرمایا۔ ”ہاں“۔
میں نے عرض کیا۔ ”محترمہ! کیا ان دو تاریخوں میں کچھ فاصلہ ہے؟“۔
جوابا ًکہا۔ ”بیچ میں صدیوں کا فاصلہ ہے“۔
میں نے عرض کیا۔ ”محترمہ! اپنے ضمیر کے آئینے میں جھانک کر جواب دیجئے کہ کیا انسان کے لئے ممکن ہے کہ تیرہ سو اسی برس پہلے بدوؤں کے ملک میں مکے کی بستی میں ایک ان پڑھ شخص جس کے متعلق آپ کے دانش ور طبقے کامتفقہ فیصلہ ہے کہ حضور نبی کریمﷺ قطعاً ان پڑھ تھے۔ انہوں نے نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ کیا نہ ہی کوئی کتاب پڑھی نہ ہی اپنے ہاتھ میں کبھی قلم سے کچھ لکھا ایک کتاب لکھنے بیٹھ جاتا ہے۔ وہ عربی زبان میں لکھتا ہے۔ اس کا نام ”قرآن“ رکھتا ہے اور اس عربی قرآن میں انگریزی لفظ ایٹمatom بھی لکھتا ہے۔گویا ایٹمی پیشین گوئی کرتا ہے، اس کی تصویر کھینچتا ہے، اس کی تشریح کرتا ہے۔ کیا یہ بات اسلام کے نبی کریم ﷺ کے لئے ممکن تھی؟۔
یہ لفظ ایٹم (Atom)یونانی لفظ اٹامس (Atomos) سے انگریزی سائنس دانوں نے اپنا کر بطور اصطلاح استعمال کیا ہے یہی نہیں بلکہ قرآنِ حکیم کا مصنف تھیوری آف اٹامزم (Theory of Atomism) ڈیماکرٹس قبل مسیح کی ایٹمی تھیوری کی پچیس سو سالہ راز کا انکشاف کرتا ہے یہی نہیں بلکہ بتاتا ہے کہ کس طریقے سے ایٹم بم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارے گا اور جب چلے گا تو کیسی تصویر دیکھنے والوں کی نظر میں پیش کرے گا۔ یہی نہیں بلکہ بتاتا ہے کہ قوموں کو اللہ تعالیٰ اس عذابِ شدید کا مستحق قرار ٹھہرائے گا اور وہ کون سے خصائص ہیں جن کی بنا پر وہ بدنصیب قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہریں گی۔ یہ سب نو آیتوں اور چھتیس لفظوں میں قرآنِ حکیم نے بیان کیا ہے۔
فرمانے لگیں۔ ”یہ قطعاً ناممکن ہے۔ کیاآپ کے حواس درست ہیں۔ کیا آپ ہوش میں ہیں۔عربی قرآن میں انگریزی لفظ ایٹم Atom اور پھر ایٹمی تھیوری، تھیوری کی تاریخ اور ایٹم بم کے دھماکے کی تصویر(Atomic Explosion)۔
میں نے کہا۔”میرے خیال میں مادام! میں نشہ نہیں کرتا اور میرا خیال ہے میں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے اختلال ذہن کا شبہ ہو سکتا ہے“؟۔
مادام نے کہا کہ ”قرآنِ حکیم کوئی سائنس کی کتاب نہیں۔ میں نے خود قرآنِ حکیم کابنظرغائر مطالعہ کیا ہے نہ ہی تمہارے کسی عالم نے کبھی کوئی ایسی بات کہی ہے“۔
میں نے کہا۔ ”مادام! یہ بات کہ تم نے بنظر غائر قرآنِ حکیم کا مطالعہ کیا اور تمہیں کوئی ایسی چیز نظر نہیں پڑی مبنی بر حقیقت ہے اور یہ بات بھی تم نے ٹھیک کہی کہ کسی مسلمان عالم نے کسی ایسی چیز کاتذکرہ نہیں کیا کیونکہ قرآنِ حکیم کی یہ بات صیغہ راز میں رہی اور اب اس عاجز بندے پر منکشف ہوئی لیکن یہ بات کہ قرآنِ حکیم کوئی سائنس کی کتاب نہیں قرآنِ حکیم کے معاملے میں کوتاہ نظری اور کم بینی کی مظہر ہے۔ قرآنِ حکیم میں فقط سائنس ہی نہیں ہر علم موجود ہے۔آپ نے قرآنِ حکیم میں دوبار قرآنِ حکیم کے اس دعوے کو پڑھا ہو گا کہ قرآنِ حکیم میں ہر مثال موجود ہے تو پھر اس ایٹم بم اور اس ایٹمی جہنم سے کون سی بڑی مثال آج تک اس دنیا کی تاریخ میں ظاہر ہوئی ہے کہ قرآنِ حکیم کے ہر مثال کو بیان کرنے کا دعویٰ تو کرے مگر اس ایٹمی جہنم جیسی مثال کو در خورِ اعتناء نہ سمجھے۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جتنی بھی سائنس کوئی انسان سمجھ سکتا ہے وہ سب قرآنِ حکیم میں کسی نہ کسی انداز میں اصولاً موجود ہے۔ مادام! میں کوئی مداری نہیں کہ آپ کی نظر بندی کروں گا میں بھی واضح، آپ بھی واضح، اور یہ جہاں بھی واضح، میں تمہیں اس قرآنِ حکیم میں سے اسی وقت ایٹمی جہنم کا مکمل بیان دکھا دوں گااور کسی کو انکاریارد کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔
میں نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کی گردنیں کچھ بلند ہو گئی ہیں اور آنکھوں میں حیرت کے آثار ہیں۔ تو یہ لوگ سب چوٹی کے عالم ہیں۔ قرآنِ حکیم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں اورایٹم بم ان کے لئے انوکھی بات تھی۔ جب میں نے مادام کو مخاطب کیا کہ قرآنِ حکیم بھی یہاں موجود اور آپ کی آنکھوں سے سب کچھ دکھادوں گا اور آپ اپنی زبان سے پکاریں گی کہ ہاں بے شک اللہ تعالیٰ کا کلام معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام بے نظیر کلام ہے نہ کوئی ایسا لکھ سکا ہے نہ ہی کوئی ایسا لکھ سکے گا“۔
ہر طرف سکوت چھا گیا۔ پھیلتی اور سکڑتی ہوئی پتلیوں کی کیفیت بھی فضاء میں منعکس ہو رہی تھی۔
مادام نے کہا۔ ”تو اچھا چلو دکھاؤ“۔
میں نے کہا۔ ”آپ پڑھیں سورۃ الھمزہ“
فرمانے لگیں۔ ”میں حافظہ نہیں ہوں“۔
میں نے کہا۔”میں قرآنِ حکیم زبانی پڑھوں یا قرآنِ حکیم کا حقیقی نسخہ منگواؤں۔“۔
فرمایا۔”ُآ پ زبانی پڑھیں اگر آپ غلط پڑھیں گے تو میں ٹوکوں گی میں قرآنِ حکیم سمجھتی ہوں“۔
اللہ تعالیٰ کا نام لے کر میں نے پڑھنا شروع کر دیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ویل الکل۔۔۔۔وما ادراک مالحطمہ۔ میں نے کہا ”مادام! یہ حطمہ کیا ہے؟“۔
فرمانے لگیں۔ ”آپ کے مفسرینِ کرام لکھتے ہیں کہ ”حطمہ ایک ایسا دوزخ ہے جس میں جو چیزڈالو ایٹم ایٹم ہو جائے گی، ذرہ ذرہ ہو جائے گی“۔ (محترمہ نے یہ جواب کچھ اس تیزی سے دیا کہ اس کا اثر اب بھی مجھے یاد ہے)۔ سائنس دان کا جواب یوں ہوتا۔ ”کہ یہ ایک مخصوص فینامینن ہے جس میں عنصر اٹومائیز ہو جاتا ہے“۔
”محترمہ“۔ میں نے عرض کیا۔ ”یہ حطمہ اسم محل ہے اور اس کی جذر ہے۔ ح ط م۔ حطم براہ کرم پکاریں۔ ”ایٹم“۔
محترمہ نے کہا ”ایتم، حطم،حیطم“ (جرمن لوگ بھی عربوں کی طرح ٹ کو ت یا ط بولتے ہیں)۔
میں نے عرض کیا۔ ”یہی حطمہ ہے اس کے معنی ہیں ”ایٹم ایٹم ہو جانا“۔ حطمہ حطم کی جذر سے لیا گیا ہے۔ حطمہ،حطم اور ایٹما میں مماثلت موجود ہے۔ اسے ملاحظہ فرمایئے یہ ہے عربی حطمہ اور یہ ہے انگریزی ایٹم۔ معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ قرآنِ حکیم کا معجزہ ہے مگر آگے چلیں۔ حطمہ کی دوسری ترکیب صرفی ہے”ط مشدد“ یعنی آپ کے ہاتھوں میں شیشے کاایک گلاس ہو اور آپ پوری طاقت کے ساتھ اسے چٹان پر دے ماریں۔ گلاس کے ٹکڑے ٹکرے ہو جائیں گے۔عرب پاس کھڑا ہو گا تو کہے گا،”حطمہ الغلاس“۔ اس سے اگلی ترکیب ہے۔ ”تحطم“۔ ط بدستور مشدد اور لفظ کے شروع میں ت بڑھا دی جاتی ہے۔ اس طرح لفظ کی قوت میں اضافہ ہوا یعنی آپ کے سامنے بارود کاایک ڈھیر پڑا ہو اور آپ اسے دیا سلائی دکھا دیں اور وہ بارود سے ہر چیز کو لیتا ہوا بھک سے اڑ جائے۔ عرب پاس کھڑا ہو تو کہے گا۔”تحطم الباردو“ اگلی ترکیب ہے۔ ”انحطام“۔ یعنی”حطم حطم“ ہو جانا۔”ریزہ ریزہ ہو جانا۔ذرہ ذرہ ہو جانا“۔”حطام الدنیا“ یعنی اس فانی دنیا کی فانی چیزیں جو ذرہ ذرہ ہو جانے والی ہیں اور پھر آخر میں ”حطام السفینہ“۔”تباہ شدہ جہاز کا انجر پنجر۔ سمندر کے سینے پر تیرتے ہوئے جہاز کو دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتا ہوا طوفان اچک کر ساحلی چٹانوں پر دے مارے اور جہاز کے پرخچے اڑ جائیں“۔ یہی نہیں۔ محترمہ آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”وماادراک مالحطمہ“۔ ”اے میرے نبیﷺ تجھے کون جنوا سکتا ہے کہ یہ حطمہ کیا ہے“؟ مگر قرآنِ حکیم کسی بھی مضمون کو تشنہ نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مزید وضاحت فرماتا ہے۔”ناراللہ الموقدۃ التی تطلع الافئدہ“۔”یہ آگ ہے اللہ کے ہاتھوں کی بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک“۔یوں کہ ایٹمی بم کے دھماکے سے جو پہلے شعاع عینی (Heat Flash)پیدا ہوتی ہے وہ انسان کے دل پر ایسا دھکا لگاتی ہے کہ دل اس صدمے سے بند ہوجاتا ہے اور انسان گھٹنوں کے بل گر جاتا ہے اور ناک اور منہ کے راستے خون جاری ہوجاتا ہے۔
”مادام! کبھی آپ نے ایٹم بم کے دھماکے کا ستون دیکھا ہے؟“۔
مادام کہنے لگی۔ ”اگر دیکھتی تو یہاں کیسے ہوتی؟“۔
میں نے کہا۔ ”تصویر تو ایٹمی دھماکے کی دیکھی ہو گی۔ کیا اس میں کوئی اونچا لمبا ستون نظر آتا ہے؟“۔
مادام نے کہا ”ہاں میں نے دیکھا ہے“۔
میں نے کہا۔ ”تو مادام یہ ستون ہے جو قرآنِ حکیم نے ایٹم بم کے بیان میں لکھا۔“۔
”مادام“۔ میں نے پوچھا۔
”یہ بتایئے ایٹم بم کس طرح اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارتا ہے۔ کیا یہ عام بارودی بم کی طرح مارتا ہے یا کسی اور طریقے سے؟“۔
فرمانے لگیں۔ ”جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے وہاں تیس میل کے رقبے سے کم و بیش اس بم کی طاقت کے مطابق ہوا کو باہر دھکیل دیتا ہے جب یہ ہوا اپنی جگہ لینے کے لئے واپس لوٹتی ہے تو اس میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ اگر اس کے راستے میں گاڑی کا انجن بھی رکھ دیا جائے تواسے اٹھا کر دے مارتی ہے کیا بے چارہ انسان یا دوسرے ذی روح حیوان۔ ہوا کا یہ شدید صدمہ پیٹ پر لگتا ہے اور دل کی شریانیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ ناک اور منہ سے لہو جاری ہو جاتا ہے۔ صدمے کی وجہ سے سخت گرمی ہو جاتی ہے جس سے انسان کا دل اور سینہ جل بھن جاتا ہے“۔
عرض کیا۔ ”تو پھر اللہ تعالیٰ نے کس قدر سچی تصویر کھینچی ہے۔”ناراللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدہ“۔
”نہیں“بلکہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”انہا علیہم موصدہ“
”یہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر“۔
میں نے عرض کیا۔ ”محترمہ! کیا اس آگ سے نکل جانے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے؟
کہنے لگیں۔ ”نہیں کوئی نہیں“۔
عرض کیا۔ ”مادام! یہ آپ کے سامنے کیاہے؟“۔
فرمایا۔ ”میز“۔
میں نے کہا۔ ”اگر میں اس پر ایک بم گرنیڈ یا دوسرا بم رکھ دوں تو وہ اگر بند کی ہوئی آگ نہیں تو اور کیا ہے؟ یاد رکھیں۔ جب قرآنِ حکیم نازل ہوا تو بارود کا وجود دنیا میں ہرگز نہیں تھا۔ بارود کو تو بنے ہوئے تقریباً تین صدیاں ہوئیں اور قرآنِ حکیم کانزول 1380 برس پہلے ہوااور کیسی اچھی تعریف ہے ایٹم بم کی یعنی ”بند کی ہوئی آگ“ یعنی بم یعنی ایٹم بم بھی بند کی ہوئی آگ ہی ہے۔ کیاایسی بات کبھی کسی انسان کے تصّور میں آ سکتی تھی مگر آگے چلئے۔”فی عمد ممددہ۔“ ”لمبے لمبے ستونوں میں“۔
مادام! آپ نے کبھی ایٹم بم چلتے دیکھا ہے“؟
جواب دیا۔ ”نہیں“۔
”تو تصویر ایٹم بم کی تو ضرور دیکھی ہو گی؟“۔
فرمایا ”ہاں دیکھی ہے“۔
”تو بتایئے کہ یہ کیسی ہوتی ہے۔؟“۔
کہنے لگیں۔”جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے وہاں دھوئیں بلکہ ریڈیو ایکٹو ایش (Radioactive Ash) کا ایک ستون اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور تقریباًبیس میل یا کم و بیش اس ایٹم بم کی طاقت کے مطابق پہنچ کر سرے پر چھتری بنالیتا ہے۔ یہ ستون اٹھتے وقت گونا گوں اور بوقلموں رنگ بدلتا ہوا اٹھتا ہے کبھی مرمر، کبھی یاقوت، کبھی زمرد، کبھی نیل، کبھی سوسنی، کہیں لال، کہیں پیلا، وغیرہ اور عجیب بہار دکھائی دیتی ہے۔
عرض کیا۔”مادام! آپ بیٹھی ہیں کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر، جسے چند برس ہوئے سرجان سینٹگی پارٹی نے سرکیا۔ آپ کے ہاتھ میں ہو سو انچ قطر کی ٹیلی سکوپ اور پانی پت کے میدان میں، جہاں ماضی میں کئی لڑائیاں لڑی گئیں ایک ہزار مربع میں ایٹم بم اس طرح گاڑ دیئے جائیں جس طرح کہ باغ میں مقررہ فاصلے پر درخت ہوتے ہیں اور کوئی ایسا انجینئر پیدا ہو جو ایک ایسی ترکیب سوچے کہ یہ بیشمار ایٹم بم یک لخت بھک سے اڑ جائیں اور پھر ایک ہزار ستون نظر ِفریب ایک اندازِ دلربائی سے رنگ بدلتے ہوئے تیس میل کی بلندی پراٹھکر چھتریاں بنا لیں تو آپ سمجھیں گی کہ کسی عظیم شہنشاہ کے لئے محل تعمیر ہورہا ہے یاکوئی عظیم الشان تھیٹر کی عمارت بنائی جارہی ہے لیکن نہیں۔ محترمہ! یہ تو حطمہ ہے۔ ایسا جہنم جس میں جو چیز ڈالو گے وہ ایٹم ایٹم ہو جائے گی۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ کون سی قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہرائی گئیں اور کیوں؟۔
میں نے عرض کیا۔ ”مادام! فرمایئے۔ الھمزہ کیا ہوتا ہے؟“
کہنے لگیں۔”وہ تمہارے منہ پر تمہاری برائی کرے اور لمزہ وہ ہے جو پیٹھ پیچھے برائی کرے“۔
مادام ٹھیک ہے۔ مادام۔ شکریہ۔ اور ”ن الذی جمع مالا و عددہ“۔ یعنی یہ ھمزہ اورلمزہ مال جمع کرتے ہیں اور گنتے ہیں کہ بینک بیلنس میں کتنی بڑھوتری ہوئی مزید یہ کہ ”یحسب ان مالہ اخلدہ“۔ ”اور پھر گمان کرتے ہیں کہ یہ مال و دولت انہیں زندہ و جاوید کر دے گا۔ وہ کبھی مریں گے نہیں۔ یہ مال و دولت ہمیشہ رہے گا“۔
”کلا“۔ یعنی”ہرگز نہیں“۔”لینبذن فی الحطمہ“۔”بلکہ وہ ڈال دیئے جائیں گے حطمہ میں“۔
یہاں پہنچ کر مادام صاحبہ کی حالت غیر ہو گئی۔ وہ کرسی پر بیٹھی نہیں بلکہ گر گئیں۔ چائے منگوائی گئی مگر چائے نہ پی سکیں۔
قارئین کرام! آپ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ مادام اتنی پریشان کیوں ہو گئیں گویا کہ اس کے دل پر ایٹم بم کی شعاع اوّل کا صدمہ لگا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف قرآنِ حکیم کا بیان ہی درست تھابلکہ مادام کی پینتالیس سالہ محنت ومشقت جواس نے قرآنِ حکیم کے مطالعے میں صرف کی تھی وہ ضرب واحد میں بیکار ہو گئی۔ قرآنِ حکیم کو بشر کاکلام ثابت کرنے کے لئے جو برس ہا برس اس نے محنت کی تھی وہ اکارت گئی اور وہ مشن جو اس نے اپنے سامنے رکھا تھا وہ فیل ہو گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت مجھے ایٹم کی ساخت کے بارے میں کچھ خبر نہ تھی اب او ر بات ہے بعد میں معینہ مرحلے پر ایٹمی فزکس کا مضمون اس طرح میرے ذہن پر پھٹ پڑا جس طرح ایک آتش فشاں پہاڑ پھٹ پڑتا ہے اور آج اگر آئن سٹائن زندہ ہوتا تو اُسے میرے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس نہ ہوتی بلکہ بعض باتوں میں آگہی بہم پہنچا کر اسے سعی لاطائل سے بچا لیتا۔
پاکستان ٹائمز کا نمائندہ اُس روز موجود تھا۔ مجھے کچھ نکات دینے کو کہا مگر میں نے معذرت کی البتہ پندرہ روز کے بعد اُسے اُس کے دفتر میں ایک مضمون دیا جو پاکستا ن ٹائمز میں چھپا بعد میں مجھے بتلایا گیا کہ جہاں جہاں بھی مغربی ممالک میں وہ مضمون پہنچا وہاں ڈھیر سارے تراجم قرآنِ حکیم کے ایک دن میں فروخت ہوئے کیونکہ وہ لوگ یہ یقین کرنا چاہتے تھے کہ کیا ایسی بات قرآنِ حکیم یا کسی دوسری قدیم کتاب میں پائی جاسکتی ہے۔
جہاں تک قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کے اثر ونفوذ کا تعلق ہے تو اس کا پہلا ثبوت مجھے خود مادام نے مہیا کیا ۔ اس نے اپنا پروگرام ساری دنیا کے دورے کا ختم کر دیا اور بجائے دہلی جانے کے واپس چلی گئی۔ اس کے بعد اس نے کبھی بھی قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ اس کے بعد وہ دس برس تک پاکستان نہیں آئی اَلبَتَّہ اس کے بعد وہ کئی بار آ چکی ہیں لیکن موضوع قرآنِ حکیم نہیں حضرت علامہ اقبالؒ، حضرت امیر خسروؒ حضرت سلطان باہوؒ اور دوسرے مشاہیر اسلام ہیں۔ قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی ایٹم بم سے زیادہ طاقت ور ہے۔ دنیا کاکوئی سائنس دان، کوئی فلسفی، اس کی معجزانہ حیثیت سے انکار نہیں کر سکتااور نہ ہی اسکے بعد کوئی شخص قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت سے منکر ہو سکتا ہے۔ حالات اگرچہ سازگار نہیں۔ اس دنیا پر بیکنی اٹامزم کادجّالی فلسفہ مسلّط ہے اور یہ دنیا بیکنی ترقی کے عالم گیر اقتصادی صنعتی جال میں گرفتار ہو کر مجبوری کے عالم میں ایٹمی جہنم کی جانب کھچی چلی جا رہی ہے مگرقرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی اپنا معجزہ دکھائے بغیر نہیں رہے گی اور اس دنیا کوایٹمی جہنم کے دردناک عذاب و انجام سے بچا لے گی اور وہ درد ناک عذاب جو میں چالیس بر س تک اس انسانیت کو ایٹمی جہنم سے بچانے کی سعی میں مسلسل اُٹھایا ہے۔ اُس کے لئے میرا اجر میرے اللہ کے پاس ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔
تقریر میں موجود علماء کرام بہت خوش تھے۔تقریر کے بعد مبہوت علماء کرام نے علامہ علاؤالدین صدیقی صاحب سے استفسار کیا کہ یہ حضرت کون ہیں؟ علامہ صاحب نے فرمایا۔چائے وغیرہ پی لو اور پھر بتایا جائے گا۔ چائے کے بعد علامہ صاحب نے میرا تعارف کراتے وقت جو الفاظ کہے وہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں۔ البتہ وہ حیرت جو خود مجھے اُس وقت ہوئی تھی وہ حقیقتیں آشکار ہونے پر اب فکر و اندوہ میں بدل چکی ہیں۔ علامہ صاحب نے علماء کرام سے کہا:۔ ”یہ وہ شخص ہے جسے قدرت نے محض اتفاق سے تمہاری قوم میں پیدا کردیا ہے۔ وہ علمی بصیرت اورقرآنی نور جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سینے میں تفویض فرمایا ہے اگر تمہاری قوم اس سے نہ لے سکی تو خدا اس قوم کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ ایسا آدمی پھر پیدا نہ ہوگا ۔اگر یہ قوم ان سے استفادہ کرتی تو آج مقام بلندپر ہوتی“۔
(V)۔ ایٹمی جہنم کے متعلق ایٹمی عمل کی آگ کی سائنسی اور قرآنی پیشین گوئی:
قرآن ِحکیم نے ایٹمی جہنم یعنی ایٹمی عمل کی آگ کی سائنسی تشریح کی ہے اور اس انداز سے کی ہے کہ آئن سٹائن کو حیرت میں ڈالے۔ رسل کو مبہوت کر دے۔ یہ ایک ایسا سائنسی معجزہ ہے جس سے انکار کی گنجائش نہ کسی سائنس دان کو ہے نہ فلسفی کو۔ اس دنیا کا ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم حُطَمَہ کا مظہر ہے۔ قرآن ِحکیم کی اس پیشین گوئی میں جو ہدایت ہے اس کے سوا کوئی ذریعہ ایٹمی جہنم سے بچاؤ کا نہیں۔اس بیکنی کلچر اور اس بیکنی ترقی کی حقیقت کو سوائے قرآن ِحکیم کے کسی نے بشمول رسل نہیں سمجھا۔ اس دنیا میں نہ تو کوئی ایسی تحریک جو ایٹمی جہنم کے خلاف ہو موثر ہو سکتی ہے نہ ہی کوئی دین ہی مکمل لاگو کیا جا سکتا ہے جب تک اس پیشین گوئی کی روشنی کو اپنایا نہ جائے اور کوئی دین بالفرض لاگو ہو بھی جائے تو اس بیکنی ترقی کی موجود گی میں نہ تو اپنے آپ کو ایٹمی جہنم سے بچا سکتا ہے نہ کسی پیرو کار کو۔قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی اس ایٹمی سیلاب کے لئے کشتیء نوح ہے۔ میں نے اس 36 لفظی پیشین گوئی کی تفسیر سالہا سال میں تین ہزار صفحوں پر لکھی ہے جو مسودے کی شکل میں اپنی اشاعت کی منتطر ہے۔(نوٹ: علامہ محمد یوسف جبریلؒ صاحب کی یہ کتاب امریکہ میں شائع ہوگئی ہے)۔
(VI)۔ ایٹمی قرآنی پیشین گوئی کی تاثیر:
معروف جرمن یہودی سکالر مس اینی میری شمل سے پوچھو۔ ستمبر1963 ء میں پنجاب یونیورسٹی میں اُ س کی تقریر (قرآنِ حکیم الہامی کتاب نہیں۔پیغمبر اسلام علیہ السلام کی تصنیف ہے) کے جواب میں میں نے یہی پیشین گوئی قرآنِ حکیم کے الہامی ثبوت میں پیش کی تو وہ حواس باختہ ہو کر کرسی پر گری۔ چائے تک اُ س کے حلق سے نیچے نہ اُ تر سکی۔ اُ س کے پینتالیس سالہ قرآنی مطالعے پر پانی پھر چکا تھا۔ محترمہ دس برس تک پاکستان نہیں لوٹیں اور آئیں تو موضوع وہ نہ تھا بلکہ اقبالؒ، خسرو اور حضرت سلطان باہوؒ تھا۔ تقریر میں موجود مسرور علماء کرام کے اصرار پر صدر شعبہء اسلامیا ت مرحوم علامہ علاؤالدین صدیقی نے میرا تعارف یو ں کروایا۔ ”حضرات!یہ شخص قدرت نے اتفاق سے اس قوم میں پیدا کر دیا ہے وہ قرآنی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نے اسے تفویض فرمائی ہے اگر یہ قوم اس سے لے نہ سکی تو اللہ تعالیٰ ٰاس قوم کو قیامت تک معاف نہیں کرے گا۔ پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہو گا“ اور اب بے چاری اینی میری شمل بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ آئن سٹائن کی ضرورت ہے کیونکہ مضمون میں مجھے مہارتِ تامہ حاصل ہو چکی ہے۔ بفضلہ تعالیٰ۔
(VII)۔ دیموقراطیس ابراھیم مقابلہ:
دیموقراطیس اٹامزم کے بانی کی روح انسانیت کے لیے ایٹمی چِتا بھڑکا رہی ہے۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی روح اس آگ کو بجھانے میں مصروف ہے۔ بیکن جدید اٹامزم کے بانی) (1561-1626کے مقابل حضرت مجدد الف ثانی)(1564-1624)سپی نوزا(1632-77) کے مقابلے میں حضرت شاہ ولی اللہ(1703-63) دیکھو اور اس بڑے ہی دلچسپ غائبانہ مقابلے کی تحقیق کرو۔ پی ایچ ڈی P.H.D کے لئے بہترین مقالہ ہے۔ 1905 ء میں علامہ اقبال کا یورپ جانا دیکھو۔ اسی سال حکیم آئن سٹائن نے اپنا معروفِ زمانہ خصوصی اضافیت کا نظریہ پیش کرکے ایٹمی توانائی کو بھنور سے نکال دیا۔ یورپ میں حضرت علامہ اقبالؒ کی آنکھ ابراہیمی مشن پر وا ہوئی۔ پھر ”یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے“۔ سنو۔ ”پھر‘ آگ ہے اولاد ابراھیم ہے نمرود ہے“”کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے“ کا نظارہ دیکھو۔ پھر وہ رول دیکھو جوحضرت علامہ اقبالؒ کو ابراھیمی مشن میں تفویض کیا گیا یعنی موذن کا رول اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ۔یہی نظم آخیر تک پڑ ھو۔ یہ ابراھیمی مشن کا منشور ہے،دستور ہے جو کوئی حضرت علامہ اقبالؒ کے کلام کو سمجھنا چاہے وہ اُ سے ابراھیمی عینک سے دیکھے۔ پھر1942 ء کو دیکھئے۔ اس سال اطالیہ کے عظیم ایٹمی سائنس دان فرمی نے شکاگو میں فژن چین ری ایکشن Fission Chain Reaction کا پہلی بار کامیاب تجربہ کرکے اس دنیا پر ایٹمی آگ کا دروازہ کھول دیا۔ اسی سال میرے پچیسویں سال میں بغداد کے قریب مصّیب کے مقام پر خواب میں مجھ بندہء عاصی کے حق میں ابراھیمی مشن کے لئے حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے سفارش کی۔ اسی خواب میں میں نے سورۃا لنجم کی پہلی اٹھارہ آیتوں کی مصور تفسیر دیکھی۔ اُ س وقت میں قرآن مجید فقط ناظرہ پڑھتا تھا۔ مطالب و معانی سے بے خبر تھا۔ اُ س کے بعد بغیر استاد کے اور نہایت دردناک حالات میں میں نے قدیم و جدید علم کے دل میں جھانکا۔ یہ سلسلہ 1942 ء سے 1980 ء تک جاری ہے۔ کسی ”بن ین“ کو یارا نہیں کہ میری داستانِ المناک کو لکھے اور کسی فرائیڈ کے بس کی بات نہیں کہ میرے حصولِ علم کے طریقے کا نفسیاتی تجزیہ کرے۔ تاہم جان لو کہ ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنی پیشین گوئی کی میری تفسیر میرے کسی روحانی دعوے پر مبنی ہے نہ قرآن ِحکیم کے الہامی دعوے پر۔ وہ کلّیتہً سائنس اور منطق پر مبنی ہے اور وہی اُ س کا معیار ہے۔ خواب دیکھا یا علم بغیر اُ ستاد کے حاصل کیا وہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔ میں نے اپنا امتحان دے دیا اب اوروں کا امتحان ہے۔
(VIII)۔ میری مشکلات:
اور اب میری مشکلات آپ سب کچھ سمجھ سکتے ہیں مگر میری مشکلات کا اندازہ کرنا آپ کے بس کا روگ نہیں۔ ایک شخص زندگی کے چالیس برس ایٹمی جہنم کے شعلوں میں جلتا بھُنتا باہر نکلتا ہے۔ اُ س کے پاس تین ہزار صفحوں پر مشتمل اس بدنصیب انسانیت کی تقدیر کی کنجی ہوتی ہے اور علمی اور تحقیقی ہیرے جواہرات کے ڈھیر ہوتے ہیں مگر اُ س کا سامنا ایسی دنیا سے ہوتا ہے جس کی منڈی میں سوائے روٹی کے کچھ خریدا نہیں جاتا۔جہاں ہر کس و ناکس ہوس کے بیکنی نشے میں سرشار ہے اور میرے ارد گرد ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ دیکھئے!میں چار ارب متننفسوں کے ریلے کے سامنے جو مست ہاتھیوں کی طرح کشاں کشاں ایٹمی جہنم کی جانب کھچے جا رہے ہیں۔ تن تنہاء ضعف و ناتوانی کے عالم میں اُ ن کا راستہ روکنے کی کوشش میں کھڑا ہوں۔ الحق کہ ایسی صورتِ حال سے کوئی دو چار نہ ہو ا ہو گا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے چھوڑو جی۔اس بات کو جانے دو ان کو۔ جہاں جاتے ہیں تم کیوں ھلکان ہو رہے ہو۔ اے کاش کہ ایسا ہو سکتا اے کاش کہ بات میرے بس میں ہوتی اور ایسا ہو سکتا مگر ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا نہیں ہو گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اب تو ہر چیز بادا باد والا معاملہ ہے۔ نہ ہی اس صورتِ حال کا انکشاف مجھ پر دفعتہً ہوا ہے۔ جب سے میں نے اس مضمون پر قلم اٹھایا ہے۔ اُ س وقت سے یہ خدشہ میرے ہمراہ رہا ہے اور اس میں میرا قصور کیا ہے۔ یہ نظریہ کوئی میری ذہنی اختراع نہیں۔ میں نے تو وہی کچھ کہا ہے جو قرآنِ حکیم کہہ رہا ہے اَلبَتَّہ میری ضمیر نے ذرہ بھر پوچا بازی کی اجازت نہیں دی اور ویسے پھر کچھ لکھنا ہی فضول تھا۔ غیر مسلم قومیں قرآنِ حکیم کو نہیں مانتیں لیکن اگر وہ علمی تحقیق کے دعو ے میں سچے ہیں تو میرا کام ایسا ہے جس میں اہلِ تحقیق کے لئے قدم قدم پر دلچسپیوں کا سامان ہے مگر اپنے دیار کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ تحقیق ہو یا تدقیق، جستجو ہو یا نکتہ سنجی کسی کو اس بات سے کچھ غرض ہی نہیں۔ میں نے 1975 ء میں دو قسطوں میں قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی پر ایک مضمون چھپوایا۔کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ یہی مضمون اگر کسی غیر ملکی انگریزی اخبار میں چھپتا تو غلغلہ برپا ہو جاتا لیکن حیران ہوں کہ حالت یہ ہے تو کام کس طرح چلے گا۔ اس امت کا کیا بنے گا مگر چھوڑیئے۔ عیش کیجئے۔ میں اپنی مشکلات بتا رہا تھا۔ میری ایک مشکل یہ ہے کہ مجھے اس تفسیر (سورۃ الھمزہ) کا صرف تبصرہ حاصل کرنے کے لئے روئے زمین کا چکر لگانا پڑے گا۔ کہاں ہے وہ سکالر جسے سائنس اور قرآنِ حکیم دونوں پر کامل عبور حاصل ہو۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ معلوم ہوتے ہی کہ قرآنِ حکیم میں ایٹمی جہنم کے بارے میں ایک پیشین گوئی کا انکشاف ہوا ہے فوراً ایک بین الاقوامی شہرت کے ایٹمی سائنس دانوں کی ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا اور مجھے قرآنِ حکیم کا کیس پیش کرنے کا موقع دیا جاتا پھر دنیا دیکھتی کہ ایٹمی یرموک کی جنگ کیسے لڑی جاتی ہے اور دنیا دیکھتی کہ نیک نیت سائنس دان حیرت و مسرت کے جذبات سے سرشار ہو کر جاتے اور قرآنِ حکیم کی علمی عظمت کے سامنے سرنگوں ہو جاتے اور بدنیت سائنس دانوں کوسٹریچر پر لاد کے لے جاتے جن کا ذہن ماؤف ہو جاتا۔ نفسیاتی ماہر تشخیص کرتے شاک لگا ہے۔
(IX)۔ مسلمانوں سے خطاب :
مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات۔ جان لو کہ میں اس دنیا میں سب سے زیادہ بے بس انسان ہوں مگر نوٹ کر لو کہ قرآنی پیشین گوئی کی یہ تفسیر (سورۃ الھمزہ کی تفسیر صرف)اللہ تعالیٰ کی جملہ انسانیت کے ساتھ اتمامِ حجت اور ایٹمی جہنم سے بچنے کی واحد ہدایت ہے۔ میں اس بات کو آپ کی سمجھ پر چھوڑتا ہوں کہ ایسی ہدایت سے خُدا کی مخلوق کو محروم کرنے کے کیا معنی ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ تفسیر بغیر اشاعت کے کسی اسلامی ملک میں رُ ک گئی تو یہ آتش فشاں پہاڑ کی طرح پھٹے گی اور نتیجہ تم خود دیکھ لو گے۔ میں خود قرآنِ حکیم کی طاقت دیکھنا چاہتا ہوں مگر کاش یہ تم نہ ہوتے۔ اُ متِ مُسلّمہ اگر اپنی گذشتہ اور حاضرہ کوتاہیوں کا اندازہ لگائے اور پھر ایسی سستی چُھو ٹے تو اس اُ مت کے لئے شکریئے کا مقام ہے۔ چند جلدوں کا چھپوا کر دنیا میں تقسیم کردینا ایک قوم کے لئے کچھ مشکل نہیں اور فی الحال ان حالات میں ہو بھی یہی سکتا ہے۔ کوئی قوم تنہا کچھ بھی نہیں کر سکتی اور ضرورت بین الاقوامی سطح پر رائے کو درست کرنا ہے اور یہی کام میری یہ تفسیر(سورۃ الھمزہ کی وضاحت) کرتی ہے۔ بالآخر ساری انسانیت مل کر کوئی اجتماعی لا ئحہ عمل ایٹمی جہنم سے نجات حاصل کرنے کا مرتب کر سکے گی۔ کچھ تمھارے ترقی کے پروگرام میں خلل نہیں پڑے گا لیکن اگر قرآنِ حکیم کے خلاف تم نے ترقی کی ٹھیکیداری چلانے کا فیصلہ کیا تو انجام اچھا نہ ہو گا۔ مذاق کا وقت گذر چکا ہے، پانی سر سے گذر چکا ہے میں تو چلو برداشت کر جاؤں گا اور محرومی کا داغ لے کر مرجاؤں گا مگر خُدا کو راضی کرنے کابندوبست کرلو اور جان لو کہ یہ پیشین گوئی کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اس بیکنی الحاد کا خیبر توڑتی ہے اور خیبر کا دروازہ ٹوٹے گا تو علماء کرام کی بات یورپ اور دوسرے غیر مسلم ممالک میں سنی جائے گی ورنہ دروازے بند ہیں۔ اُ ن کے دلوں تک علماء کرام کی بات نہیں پہنچتی نیز اس ایٹمی جہنم کی پیدائش اور ابدی حطمہ میں سزا کی وجوہات بالکل ایک ہی ہیں لہٰذا جو یہاں استحقاق کی بنا پر اس دنیوی ایٹمی جہنم میں فناہ ہوئے اگلی دنیا میں ابدی حُطَمَہ انکا منتظر ہو گا۔ یہاں بچ بھی گئے تو وہاں بچ نہ سکیں گے۔
(X)۔ حرفِ آخر:
پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺنے نو خصلتیں مسیح الدجّال کی بتائیں۔ وہ نو کی نو اس بیکنی کلچر میں موجود ہیں۔ میں نہیں کہتا کہ یہ وہی مسیح الدجّال ہے اَلبَتَّہ اس کی دین دشمنی اور تباہی کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ختم کر دیا جائے۔ آج اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام یا حضرت موسٰی ٰعلیہ السلام ہوتے یا کرشن یا بُدھ ہوتے تو قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کو سینے سے لگاتے۔ اس کی تشہیر کرتے اور اس پر عمل کراتے۔ ۲اگست1939 ء کو آئن سٹائن نے اپنے تاریخی خط میں امریکی صدر روزولٹ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ عام بم کے مقابلے میں یورانیم کا دس لاکھ گنا بم بننے کے امکانات تھے۔ میں روئے زمین کے سربراہانِ مملکت کی توجّہ اس جانب مبذول کراتا ہوں کہ قرآنِ حکیم میں اس ایٹمی جہنم کو سرد کرنے کی تدبیر موجود ہے۔ مسلمانوں سے عرض ہے کہ اُ متِ مُسلّمہ کی طرف سے روئے زمین کی قوموں کے لئے پندرھویں صدی ہجری کی تقریب میں قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کی اس تفسیر سے بہتر تحفہ تصّور میں نہیں آ سکتا۔








