Top Banner Blue

 

باب نمبر3۔ بیکن، دجّال، اقبال ابراہیم اور ایٹمی جہنم

۱۔                                         بیکنی فلسفہ جدید اٹامزم کا عالم گیر فلسفہ:

بیکن         ( 1626-1561) کا نام فراموش۔ اس کا فلسفی لٹریچر پنہاںمگر فلسفہ عملاًروئے زمین پر مسلّط ہے۔ جدید اٹامزم کے عالم گیر فلسفے کا بانی بیکن تھا۔ میری نگاہ میں بیکن شیطانِ ثانی ہے۔ اس نے ابنائے آدم کو ورغلایا۔ شیطانِ اوّل وہ تھا جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو ورغلایا۔ دونوں کا طریق بالکل یکساں ہے۔ دیکھو۔ بیکن کا فلسفہ اور دیکھو کہ یہ فلسفہ الہامی دین کی قطعی ضد ہے۔  ہر بات انوکھی ہے مگر ہر بات کا سائنسی اور منطقی ثبوت میرے پاس ہے۔ شیطان کا فریب تھا آدم کے لئے فرشتہ کامقام۔ ایک لازوال حکومت اور اسرارِ باطنیہ کا انکشاف۔ یہی آدم کو لے ڈوبا۔ بیکن کا فریب ہے قدرت پر انسانی تسلّط، بطورِ پیدائشی استحقاق، مُسلسل، مُنظّم، سائنسی تحقیق کے ذریعے، انسانیت کی مادی بہبود کے لئے۔ یہی ہے انسانی زندگی کا مقصد۔یہی ہے اللہ تعالیٰ کا آدم کو حکم۔ اخلاقی فلسفے کا اکتساب۔ آدم کی پہلی نافرمانی شجرِ ممنوعہ( یعنی نیکی اور بدی کی معرفت کے درخت کا پھل کھانا) کا اعادہ ہے۔ اس لئے ممنوع ہے۔ اگر آپ نے بات سمجھ لی ہےتو آپ کہیں گے ایسا نہیں ہو سکتا۔ بیکن یا کوئی ایسا فلسفہ نہیں دے سکتا۔ یہ فلسفہ مذاق ہے اور الہامی دین کے عقائد کی کلّی ضد ہے۔ میں کہتا ہوں۔ پڑھ لو۔ بیکن کی دونوں کتابیں ابھی موجود ہیں اور سمجھنے والوں کے لئے شیطانِ اوّل اور شیطانِ ثانی کے فریب میں پائی جانے والی مماثلت میں دلچسپ نشانیاں موجود ہیں۔ آپ کہیں گے بھاڑ میں جائے بیکن کا فلسفہ، ہمیں کیا غرض، ہم تو اپنے دین کے فلسفے کے پیروکار ہیں۔ میں کہتا ہوں ٹھیک ہے، مگر آپ اپنے دین کے فلسفے کی پیروی کے باوجود سولہ آنے بیکنی فلسفے کے پیروکار ہیں۔ وہ کس طرح۔ وہ اس طرح کہ۔

۲۔                                         بیکنی ترقی، بیکنی فلسفہ اور نیچرل فلاسفی:

بیکن نے اپنا فلسفہ نیچرل فلاسفی پر مبنی کیا۔ قدرت پر انسانی تسلّط برائے مادی بہبود کی غرض سے اور اخلاقیات کے فلسفے کو بہ یک جنبش ِ قلم ممنوع اور انسانی ذہن کی غلط اختراع قرار دیااور دعویٰ ٰکیا کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نیچرل فلاسفی کا حکم دیا اور اخلاقی فلسفے سے منع کیا۔ اس کے برعکس الہامی دین نے اپنا فلسفہ امر ِبالمعروف اور نہی عن المنکر(اخلاقیات) پر مبنی کیا۔ نیچرل فلاسفی کو اخلاقیات کے ماتحت کیا اور اخلاقیات اور اسی کو مقصودِ زندگی ٹھہرایا۔ مادی استحصال کو محض ضرورت کے زمرے میں لا کر ثانوی حیثیت کا حامل قرار دیا۔ ببیں  تفاوتِ راہ است کُجا تا بہ کجا۔ آپ نے بیکنی فلسفے پر تو خدا کی پھٹکار ڈال دی۔ اچھا کیا مگر آپ اور آپ کے علاوہ یہ ساری دنیا اس جدید ترقی میں سرگرمِ عمل ہےاور یہ جدید ترقی بیکنی ترقی ہے، بیکنی فلسفے کے اصولوں پر اٹھی ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونا گویا کہ بیکنی فلسفے پر عمل  پیرا ہونا ہے خواہ آپ بیکنی فلسفے کو مانیں یا نہ مانیں، جانیں یا نہ جانیں۔ زہر کھانے والے کی زہر سے لاعلمی زہر کو اثر کرنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ جان لیا جائے کہ اس بیکنی ترقی کا مقصد ہے قدرت پر انسانی تسلّط سائنسی تحقیق کے ذریعے۔انسانیت کی مادی بہبود کی خاطر اور یہی مقصد ہے بیکنی فلسفے کا۔ آپ کہیں گے کہ جی پھر کیا ہوا۔ ہم یہ ترقی بھی کرتے رہیں گے اور ساتھ ہی اپنے دین کے فلسفہ ء اخلاقیات پر بھی عمل پیرا رہیں گے  اور گاڑی اسی دینی اور دنیو ی مادی اور روحانی طبیعی اور اخلاقی توازن کے ساتھ چلتی رہے گی۔ یہی مغالطہ اس جدید اٹامزم کے دور کے مبتدیوں کو بھی ہوا تھا مگر دیکھئے، یہ ترقی چند خاص خاصیتوں کی حامل ہے۔ یہ مسلسل ہے، یہ منظم ہے، یہ روز افزوں ہے اور لا امتناہی ہے، یعنی ایک مخصوص عمل ہے محض ترقی نہیں۔ اب چونکہ یہ روز افزوں ہے، یہ بتدریج اور مسلسل بڑھے گی۔کارخانے شطرنج کے چاوّلوں کی طرح ایک سے دو، دو سے چار بنتے  جائیں گے۔ لا محالہ یہ ترقی انسانی ذہن پر بتدریج  قبضہ کرتی جائے گی اور اسی طرح وقت پر بھی اور عمل پر بھی اور ساتھ ساتھ انسانی ذہن سے آخرت کے خیال اور دین کو بدوی اونٹ کی طرح خارج کرتی جائے گی ا     ور چونکہ لاامتنا ہی ہے لہٰذا بالآخر آخرت اور  دین کے خیال کو انسانی ذہن سے کلّی طور پر خارج کر دے گی۔ آپ اس عمل کا ثبوت مانگیں   تو ہمیں آپ کی نگاہ اور مشاہدے پر شبہہ ہونے لگے گا، کیونکہ اس تدریجی تبدیلی کو مشاہدہ   کے لئے کسی ارسطو یا سقراط کی نگاہ کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ترقی کے تدریجی  عروج کے مقابلے میں دین تدریجی زوال میں مبتلا ہے اور آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح  سائنس اور عیسائیت مقابلے میں سائنس بتدریج چھا گئی اور عیسائیت بتدریج محو ہو گئی۔  آپ کہیں گے کہ جی پھر کیا، ہم ایک درمیانی مقام پر جہاں ترقی اور دین کو متوازن پائیں  گے، ترقی کو بریک لگا کر ہمیشہ کے لئے ترقی اور دین کو متوازن کر دیں گے۔ آپ کی یہ  بات بالکل بچگانہ ہے۔ اس بیکنی ترقی کو کہیں بھی بریک نہیں لگ سکتی۔یہ ایک مسلسل    تدریجی عمل ہے، جو صرف اس وقت ختم ہو گا  جب خود بخود اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ آپ  ثبوت مانگیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اب جو یہ دنیا ایٹمی توانائی کی ہلاکت خیزیوں کے علم کے باوجود ایٹمی توانائی کو اپنانے پر مجبورہو رہی ہے۔ کیوں اس ترقی کو یہیں پر بریک نہیں لگا دیتی ۔ اس سے زیادہ موزوں وقت اس اقدام کے لئے کون سا ہو گا؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اب ایٹمی توانائی نہ اپناؤ تو متبادل بے ضرر توانائی کے وسائل کی عدم موجودگی میں روئے زمین کے صنعتی ادارے منجمند ہو کر قحط کا باعث ہوتے ہیں اور اگر ایٹمی توانائی کو اپناؤ تو بالآخر ایٹمی تابکاری کے لئے اس تہذیب اور اس زندگی کا پٹڑا ہونا لازمی ہےاور تم اس خیال میں پھرتے ہو کہ ہم اس ترقی اور دین کو متوازن کر لیں گے اور دنیا والوں کو یہ معرکہ سر کرکے ایک مثال کے طور پر دکھائیں گے، تو جان لیا جائے کہ صرف وہی دین ہی اس بیکنی ترقی کی اجازت دے سکتا ہے، جو خود اپنے ملک بدر ہونے کے وارنٹ پر دستخط کر سکے اور یہ ترقی تخلیقِ کائنات کے بنیادی ڈیزائن سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ دیکھو کتنے قلیل سے عرصے میں یہ توانائی کے تمام وسائل ڈکار گئی اور دن بدن اس کی اشتہاء میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ،وسائل عام حالات میں انسانیت کی کفالت لاکھوں سالوں تک کر سکتے  تھے۔ یہی حال اس سائنس کا سمجھو جو اس بیکنی ترقی کی لونڈی ہے اور محض مادی استحصال کا ایک آلہ ہے، اس کے ساتھ کوئی جمالیاتی تصّور وابستہ کرنا جمالیات کے ساتھ زیادتی ہے اور دین کو بھی یہ نامنظور ہےاور اب یا یہ ترقی اور اس کی سائنس ہو گی یا دین، دونوں نہیں رہ سکتے۔ یہ ترقی دین کے لئے قاتل ہے۔ انسانیت اس بیکنی ترقی کے معاملے میں بڑی بڑی غلط فہمیوں کا شکار ہے۔ یہ ترقی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں دائمی،ابدی اور فطرتی نہیں۔ یا توانائی کے بحران میں دم توڑ دے گی یا ایٹمی تابکاری کا شکار ہو جائے گی اور یہ روئے زمین پر پھیلے ہوئے سائنس کے مضبو ط آثار ایٹمی جنگ کی صورت میں چشِم زدن میں ناپید ہو سکتے ہیں۔ یا تابکاری سے فنا ہونے والی انسانیت کی یادگار کے طور پر رہ سکتے ہیں۔ اب یہ پائلٹ کی ہشیاری پر منحصر ہے کہ جہاز کے آگ پکڑنے سے پہلے چھلانگ لگا دے  یا شعلوں میں بھسم ہو جائے، نیز ہر دین کے پیرو اس ترقی کو اپنے اپنے دین کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں حالانکہ قرآنی غورِ آیات کی آیات ہوں یا تسخیر ِکائنات کی، ہرگز اس ترقی کا جواز نہیں پیدا کرتیں۔ اگر ان آیات کے اس مقصد پر جو قرآنِ حکیم نے واضح کیا ہے غور کرو گے تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ اس ترقی کی غورِ آیات کا مقصود آیات کا مادی استحصال ہے مگر قرآن ِحکیم کا یہ مقصد ہرگز نہیں بلکہ مقصودِ آفرینش اور لزومِ قیامت کا ثبوت اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی یاددہانی ہے۔ مادی استحصال کا کہیں ہلکا سا اشارہ تک نہیں۔ کوئی نہ سمجھے گا جب تک بیکنی فلسفے کو قرآنِ حکیم کے مقابلے میں نہ دیکھے اور تسخیر ِ کائنات میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ یہ کہتا نظر آتا ہے، میں نے تمھارے لئے یہ سب کچھ مسخر کر دیا ہے، تم نہ کر سکتے تھے، لہٰذا میری مہربانی کا شکریہ ادا کرو۔ قدرت پر انسانی تسلّط یا ایسے تسلّط کے پیدائشی حق کا کہیں تذکرہ نہیں جبکہ بیکنی فلسفے کے مطابق قدرت پر انسانی تسلّط کے حق کے دعوے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ باتیں بالکل واضح ہیں مگر امکان یہ ہے کہ تمھاری سمجھ میں اس وقت نہ آئیں گی اَلبَتَّہ جب بڑی اور مکمل دلیل پیش ہو گی تو عقل درست ہو جائے گی۔ میر ا اشارہ ایٹمی بم اور تابکاری شعاعوں کی جانب ہے۔ قدرت پر تسلّط کے زعم میں خدائی کا دعویٰ ٰپوشیدہ ہے۔ خدا پر بھروسہ ختم ہو چکا ہے اور بھروسا سائنس پر ہے۔انسانیت ٹڈی دل میں تبدیل ہو چکی ہے جو ایٹمی سپرے کے منطقے کی جانب فنا ہو جانے کے لئے بڑھ رہی ہے۔ اطمینانِ قلب، دینی جذبات، اخلاقی اقدار، آخرت کا خیال روبہ زوال ہیں۔ حرص و ہوس، خود غرضی، ذہنی انتشار، سیاسی خلفشار، بے اطمینانی، اضطراب کی کیفیت آگ کی طرح مشتعل ہو رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بھوک کی شدت اور وسائل کی کمی اس انسانیت کو ٹڈی دل سے آدم خور بنا دے۔  نیز اگرچہ قرآنِ حکیم نے مسلمانوں کو جنگی سامان کی تیاری کا واضح حکم دیا ہے لیکن دیکھنا ہو گا کہ آیا ایٹم بم ہتھیار ہے۔ سائنس دان نے اسے مکمل تباہی کا سامان کہا ہےجبکہ قرآن ِحکیم نے اِ سے ایٹمی جہنم کہا۔

۳۔                                   بیکنی فلسفے کی ناکامی کی وجوہات:

اور یہ بیکنی فلسفہ ناکام ہو چکااور قدرت پر تسلّط کا جہاں تک سوال ہے، انسان بھاپ اور بجلی پر تسلّط حاصل کر لینے کے بعد اب ایٹمی توانائی کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔یہ ایٹمی آتشین نفس دیو انسان کو بھسم کرکے رکھ دے گا۔ ایٹم بم سے بچنے کی تدبیر تو ناممکن ہے مگر ایٹمی تابکاری کے اثرات سے بچاؤ کی بھی کوئی تدبیر ممکن نہیں۔ جان لے کہ انسان کے لئے اب ایٹمی بموں کی بارش میں فوری مگر استحقاق کی بنا پر بربادی ہےیا ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکار شعاعوں کی زد میں رفتہ رفتہ تدریجی مگر استحقاق کی بنا پر دردناک تباہی ہےاور جان لے کہ عوام الناس کی وہ توقعات جو ایٹمی سائنس سے وابستہ ہیں اور سائنس دانوں کی وہ امیدیں جو ایٹمی سائنس کے مستقبل سے منسلک ہیں، وہ ایک ایسا خواب ہیں جس کی تعبیر ایٹمی جہنم کے غضبناک شعلوں کے سوا کچھ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض نسلیں بظاہر اس ایٹمی خطرے سے بچ نکلّیں مگر آخر کار کسی نہ کسی نسل سے ساری نسلوں کا جمع شدہ قرضہ بمع سود وصول کیا جائے گا۔ اس دور میں علم بہت ہے مگر ایٹمی سائنس کا علم نہیں۔ اکثر لوگ اس سے بے خبر ہیں اور جو با خبر ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مبلغ علم کچھ بھی نہیں اور ایٹمی سائنس پر ہی انسان کی فنا بقا کا دارومدار ہے۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ ایک پی ایچ ڈی (Ph.D) ا یٹمی سائنس دان سمندر میں ہو اور کشتی الٹ جائے مگر وہ تیرنا نہ جانتا ہو اور ڈوب جائے۔ سائنس دان کو کبھی بھی تابکاری پر پہلے قابو پائے بغیر ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش نہیں کرنی چاہئیے۔ وہ سائنس کے قانون کے بموجب ایک قابلِ مواخذہ اور نہایت سنگین جرم اور ظلم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

۴۔        مسیح الد     جال:

پیغمبر ِاسلام ﷺ نے مسیح الدجّال کے بارے میں جو معرکہ آرا پیشین گوئی فرمائی ہے، اس میں جتنی بھی خاصیتیں مسیح الدجّال کی گِنوائی ہیں۔ وہ اوّل سے لے کر آخر تک ایک سر مو فرق کے بغیر اس بیکنی ترقی والے بیکنی کلچر میں نظر آتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ وہی مسیح الدجّال ہے،جس کے متعلق آنحضور ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی، اَلبَتَّہ اس میں جو دین دشمن اور تباہ کن اوصاف پائے جاتے ہیں،ان کی وجہ سے لازم آتا ہےکہ اسے فنا فی النار کر دیا جائے،پیشتر اس کے کہ یہ اس انسانیت کے دین، ایمان اور ہر شے کو غارت کرکے فنا فی النار کر دے۔ انسانیت کے لئے اب ایک ہی امکان باقی ہے یعنی یا تو دفعتہً ایٹمی بموں کی بوچھاڑ میں بنا بر استحقاق فنا ہو جائے یا پھر رفتہ رفتہ ایک عذاب کے انداز میں ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکار شعاؤں سے بنا بر استحقاق معدوم ہو جائے۔کیا کوئی سوچنے والا ہے۔ ایک عالم گیر غلط فہمی جو اس دور کے بندوں کو اس ترقی سے ہے کہ یہ جاری رہے گی، نہیں، بلکہ اب یہ بھنور میں پھنس چکی ہے اور اس کا شمار اب رجعت پسندی کے زمرے میں ہے۔ایٹمی جہنم کے شعلوں میں اس بیکنی ترقی کا لازمی منطقی انجام یقینی طور پر معلوم کر لینے کے بعد دیکھئے۔ اس بیکنی کلچر میں دینی، قلبی، اور ذہنی غارت کا ایک اور پہلو، یعنی اس کی دجّالی خصوصیات، یعنی وہ تمام خاصیتیں جو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺنے اپنی زبان ِ صدقِ بیان سے مسیح الدجّال کی پیشین گوئی میں اس سے منسلک کی ہیں، وہ من و عن،بے کم و کاست، ظاہر و باہر اور واضح انداز میں اس بیکنی کلچر میں نظر آتی ہیں۔   میں یہ نہیں کہتا کہ یہ وہی مسیح الدجّال ہے، جس کے متعلق آنحضور ﷺنے پیشین گوئی فرمائی تھی، اَلبَتَّہ اور اگرچہ یہ مسیح الدجّال یا دجّال نہ بھی ہو۔ تو بھی اس میں پائے  جانے والی یہ خصوصیات دینی اور دنیوی روشنی میں اس کے فوری اور کامل انہدام کی متقاضی ہیں۔ بیشتر اس کے یہ اس انسانیت کو تباہ کر دے۔ ذیل میں ہم نے آنحضور ﷺکی بیان فرمائی ہوئی خصوصیات کے مقابلے میں اس بیکنی کلچر کی خصوصیات کو واضح کیا ہے۔ غور سے پڑھیں اور نبی کریم حضرت محمدﷺ کی ذہنی وسعتوں ،باریک بینیوں اور دوربینیوں کا اندازہ کریں۔

(ا)۔       ”دجّال کانا ہے اس کی دائیں آنکھ میں انگور برابر پھولا ہے“۔ یہ بیکنی کلچر مکمل طور پر یعنی بیکنی فلسفہ، بیکنی ترقی اور بیکنی سائنس تینوں ہی کانے ہیں اور تینوں کی دائیں آنکھ پر انگور برابر پھو لا ہے۔ آج یہ باتیں واضح ہیں، اس سے پہلے شاید نہ سمجھی جا سکتیں۔ بیکنی فلسفے کو روحانیت اور آخرت سے کچھ واسطہ نہیں،اخلاقیات کا منکر اور مخالف ہے،کلّیتہً مادیت پر مبنی ہے نیز بیکنی ترقی کلّیتہً مادیت پر مبنی ہے اور یہ بیکنی سائنس حواسِ خمسہ میں محدود ہے۔ روحانیت، ماورالطبیعات،  مابعد المو ت، قیامت اور اگلی دنیا میں یہ یکسر اندھی ہے۔ دائیں آنکھ میں انگور برابر پھولا ایک تشبیہ ہے جو وضاحت طلب ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ دائیں آنکھ بنیادی طور پر ہی بصارت سے عاری ہے۔ یہی حال اس بیکنی کلچر کا ہے۔ اندر سے تو روحانیت کی حس رکھتا ہےمگر اس کی دائیں آنکھ دیکھنے سے قاصر ہے اور یہی صفت اس کے فریب کی ملمع سازی کا وہ پہلو ہے جو ہر کہہ و مہہ کو دین و دنیا کے معاملے میں دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے اور اسی دھوکے کی بنا پر ہی کوئی مسلمان یہ کہتا نظر آتا ہے۔ کیوں جی۔اسلام کیا ترقی کا مخالف ہے؟ اسلام تو ترقی پسند مذہب ہے حالانکہ اس وقت مسلمان کے ذہن میں رہبانیت کے سوال پر اسلام اور دیگر مذاہب کاتقابلی نظریہ ہوتا ہے۔ دجّالیت کا چور اس کی نگاہ سے غائب ہوتا ہے۔

(ب) ۔         ”دجّال یہود میں سے ہو گا“۔ اس بیکنی کلچر کی ساری فکری، سماجی، اقتصادی، اخلاقی، سیاسی اساس ہی یہودی کلچر پر مبنی ہے، وہی دنیا طلبی، وہی ہوس پرستی، وہی زر اندوزی، وہی سود خواری،وہی انتقامی انداز، وہی بھیڑ کے لباس میں بھیڑیااور پھر یہودی ہی اس دور کا خالق، مالک، آقا، اسوۃ، رہبر اور روحِ رواں ہے۔

(ج) ۔            ”دجّال اپنے گدھے پر سوار ہو کر دنیا کے دورے پر نکلے گا“۔ جس شخص کو اس روداد کا علم ہے کہ کس طرح بیکنی کلچر برطانیہ میں اپنا ریلوے انجن بنانے کے بعد اپنی گاڑی پر سوار ہو کر اس دنیا کے دورے پر نکلا اور کس طرح اس نے اپنا یہ دورہ مکمل کیا۔ اسے اس بیان کو سمجھنے میں کہ دجّال اپنے گدھے پر سوار ہو کر دنیا کے دورے پر نکلے گا ذرہ بھر بھی اشکال باقی نہیں رہے گا، باقی رہا گدھے کا سوال تو ہر شخص یہ جانتا ہے کہ اوائل تاریخ سے ہی گدھا سواری اور نقل و حمل کی علامت مانا گیا ہےلیکن ایک پہاڑ جتنی حقیقت یہ ہے کہ ساری تاریخ انسانی کے گذشتہ ادوار کے برعکس اس بیکنی کلچر نے اپنی سواری اور نقل و حمل کے لئے خود اپنا ذریعہ میکانیکی طریقے سے ایجاد کیا، اس طرح کہ گدھے سے بے نیاز ہو گیا۔ اب صورتِ حال ملاحظہ ہو کہ ایک طرف سے قدیم کلچر کی علامت مَنوُ کُمہار کا گدھا ڈھینچو ڈھینچو کرتا آ رہا ہے، دوسری طرف سے جدید بیکنی کلچر کی علامت فورڈ کمپنی کا بنا ہوا چھکڑا ڈھینچو ڈھینچو کرتا آ رہا ہے، دونوں پر مال لدا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ایک بائیولوجی کے اصول پر بنا یا گیا ہے، دوسرا میکانکس کے اصول پر۔ اسی طرز پر ایک گھڑ سوار اور کار سوار کا موازنہ کر لیجئے۔کم از کم اب1982 ء میں ان معاملوں میں اتنی وضاحت کی ضرورت نہیں ہو نی چاہیئے تھی مگر کرنا خدا کا ایسا ہوا اور فریب اس بیکنی کلچر کا کمال ہےکوئی سمجھ نہیں پاتا۔

(د)  ۔     ”دجّال کے ساتھ روٹیوں کے ٹوکرے ہوں گے اور وہ ان لوگوں میں روٹیاں تقسیم کرے گا جو اسے خدا مان لیں گے“۔ کچھ زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ یہ بیکنی کلچر بنیادی طور پر روٹیوں ہی کا کلچر ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں،ان کے لئے روٹیاں ہی روٹیاں ہیں۔

(ر) ۔     ”دجّال کے ساتھ نہریں چلیں گی“۔ دنیا کے نقشے کو دیکھئے۔جہاں یہ بیکنی کلچر جاتا ہے وہاں نہروں کے جال بچھ جاتے ہیں۔ عراق والے بھی اب اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

(س)۔     ”دجّال فصل کو حکم دے گا کہ اُ گ اور وہ اُ گ کھڑی ہو گی۔ وہ بادل سے کہے گا۔ برس اور وہ برس پڑے گا“۔ کس حیرت ناک طریقے سے اور کتنی جلدی فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔ جہاں دیکھو یہی فصل کا تذکرہ ہے۔”گندم ہور اگا بیلیا۔ گندم ہور اگا۔ کسانا دیس دیا“  اور ”جوانا دیس دیا“ کے نغمے صبح  و شام فضا میں گونج رہے ہیں اور ملکہ ترنم نور جہاں اور استاد سلامت علی خان اور استاد سعادت علی خان جیسے عظیم موسٰیقاروں کی صدا میں اور بادلوں سے مصنوعی بارش کے تجربے تو آپ نے بھی سنے ہوں گے۔

(ص) ۔   ”دجّال کا اپنا بہشت ہو گا اور اپنا دوزخ مگر ا ُ س کا بہشت دراصل دوزخ ہو گا اور اس کا دوزخ بہشت“۔ یہ بیکنی کلچر سکیم ہی اس زمین پر ایک مادی بہشت بنانے کی ہے مگر یہ بہشت دراصل دوزخ ہے۔ جو لوگ بیکنی کلچر کی پیر وی نہیں کرتے وہ افلاس اور ذلت کے دوزخ میں ڈال دیئے جاتے ہیں مگر ایسا دوزخ درحقیقت بہشت ہے۔ قابل ِ غور بات یہ ہے کہ یہ بیکنی بہشت اپنے گناہ کی مناسبت سے اب خدائی عذاب یعنی ایٹمی جہنم کی زد میں ہے۔ ایک فطرتی عمل کے نتیجے میں۔

(ط) ۔     ”دجّال پہلے نبوت کا دعویٰٰ کرے گا پھر خدائی کا“۔ اس بیکنی کلچر میں نبوت اور خدائی دونوں دعوے موجود ہیں۔نبوت کی طرح یہ علم اور دلیل کے ذریعے اپنے نظرئیے کی وضاحت کرتا ہےپھر وسائل اور استعمال، وسائل پر قبضہ کرکے اور اس طرح دنیا کو اپنا محتاج بنا کر خدائی کا مقام حاصل کرتا ہے۔ آج وہ بھروسہ جو دنیا کوخدا پر ہے اور وہ جو اس سائنس اور اس کلچر پر ہے مقابلے میں دیکھو، اس کلچر کی خدائی کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔

(ع) ۔    ”دجّال مسجد میں داخل نہ ہو سکے گا اور مسجد میں پناہ لینے والا شخص اس کے فریب سے پناہ میں رہے گا“۔ آج دیکھئے۔محراب و منبر کی حدود تک فرمانروائی رب کی ہے، باہر جملہ دنیوی امور میں فر ما نروائی اس بیکنی کلچر کی ہے۔ اَلبَتَّہ مسجد کے اندر بھی مادی ضروریات کا کام اسی کے سپرد ہے۔

(ف) ۔  ”دجّال کے ماتھے پر ک ف ر یعنی کفر لکھا ہو گا۔ مومن اَن پڑھ بھی پڑھ لے گا۔ غیر مومن پڑھا ہوا بھی اسے نہ پڑھ سکے گا“۔ علم کی روشنی اس بیکنی کلچر کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے یقینی نہیں ہے۔ ایمان کی روشنی اَلبَتَّہ فوری طور پر اس کی حقیقت کو پالیتی ہے۔ کتابوں کے ڈھیر میں دبا ہوا ایک پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی، ایف آر ایس، اس بیکنی کلچر میں رطب اللسا ن ہو سکتا ہے۔ گلی کی نکڑ پر عینک لگائے سر کو جھکائے گند ے چمڑے کو اپنی آر کا تختہ ستم بنانے والا چمار اس بیکنی کلچر کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔

(ق) ۔     ”دجّال ملمع ساز ہے۔ جس طرح دودھ میں پانی ملایا جاتا ہے“۔ یہ بیکنی کلچر اوّل درجے کا ملمع ساز ہے۔ سود میں پانی ملا کر نرم کر دیااور حلال کر لیا۔ فخاشی کو تہذیب کا نام دے کر جائز کر لیا۔ قمار بازی کو لاٹری اور ریس کا نام دے کررائج کر دیا۔ ہر عیب میں چکا چوند پیدا کر کے رائج کر دی۔

(ک)۔    ”دجّال کو حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام مارے گا اور حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کے سوا کوئی دجّال کو نہیں مار سکتا“۔ اس بیکنی کلچر کو سوائے آخرت کے مقابلے میں ا س دنیاسے نفور کی روح کے سوا کوئی دوسری طاقت تباہ نہیں کر سکتی اور آخرت کے مقابلے میں نفور کا نظریہ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام نے بنیادی طور پر اس شدومد سے دنیا کے سامنے پیش کیاکہ یہ نظریہ ان کے نام کے ساتھ ایک علامت کے طورپر منسلک ہو گیا ہے۔ ویسے قرآن حکیم میں بھی یہی روح کارفرما ہے اور آنحضورﷺکے اعلان ”الفقر فخری“  میں عیاں ہے۔ ایک حیرت ناک انگیز بات یہ ہے کہ ہر وہ کا م جو حضرت مسیح علیہ السلام نے کیااس بیکنی کلچر نے بھی کیامگر اس طرح کہ ہر کام الٹ ہے۔یہ بات مسیح الدجّال کی اصطلاح میں ظاہر ہے۔ صرف دجّال نہیں کہاگیا بلکہ مسیح الدجّال کہاگیا ہے یعنی مسیح کے روپ میں نمودار ہو گا مگر ہو گا فریبی، ملمع ساز۔ انجیل میں لفظ اینٹی کرائسٹAntichristلکھا ہے جس کے معنی ہیں مسیح کا مخالف اور عیسائی لوگ یہ اصطلاح  ہر اس شخص کے لئے استعمال کرتے ہیں جو حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ اب دیکھئے مماثلت:۔

(۱)       مسیح نے چار ہزار کے ایک مجمع کی ضیافت کی اور صرف سات روٹیوں اور چند مچھلیوں سے پورے مجمع کو سیر کر دیا اور ٹکڑے بچ بھی رہے۔ اس بیکنی کلچر نے اپنی بنیادہی روٹیاں مہیّا کرنے پر رکھی ہے۔

(۲(       مسیح نے بیماروں کو شفا، اندھوں کو بینائی، لولوں لنگڑوں کو تندرستی عطا کی۔ بیکنی کلچر نے ہسپتال کھول دیئے۔

(۳)  مسیح نے مردے زندہ کئے۔ بیکنی کلچر نے بے حد توجہ اس معاملے پر منعطف کی ہوئی ہے۔ تاحال کامیابی سے ہمکنارنہیں ہوا۔ افواہیں کبھی کبھی اڑا دیتا ہے کہ فلاں جگہ ایک مردے کو زندہ کر دیا گیا۔

(۴)      مسیح نے معجزے دکھائے۔ بیکنی کلچر نے سائنس کے معجزے دکھائے۔

(۵)                  مسیح پانی پر چلا۔ بیکنی کلچر نے لوہا پانی پر تیرا کر دکھایا۔بیکنی کلچر نے لوہا پانی پر تیرا کر دکھایا۔ لوہے کا بحری جہاز بنا کر۔          

(۶)        مسیح نے مٹی سے پرندوں جیسی شکل کی چیزیں بنا کر ان میں روح پھونکا اوروہ اڑ گئیں۔ بیکنی کلچر نے ہوائی جہاز بنا کر اڑا دیئے۔

(۷)      مسیح غیب کی خبریں دیتے تھے۔ بیکنی کلچر کا ریڈیو دور کی خبریں دیتا ہے۔

(۸)      مسیح نے شیطان سے مکالمہ کیا۔ ٹیلی ویژن پر بیکنی کلچر کا مکالمہ دیکھو۔

اب یہ سب کچھ مماثل ہونے کے باوجود الٹ ہے کیونکہ مسیح علیہ السلام کا سبب روحانی تھا۔ بیکنی کلچر کا مادی ہے۔ مسیح علیہ السلام کی نگاہ آخرت پر اور روحانی دنیا میں تھی۔ بیکنی کلچر کی نگاہ اسی دنیا پر اور مادی اقدار میں ہے۔آنحضور ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا۔ ”مسیح آیا تم نے نہ پہچانا۔اب تمہارا مسیح مسیح الدجّال ہو گا‘‘۔ یہودی ہزار ہا برس تک مصائب سے تنگ آ کر رو رو کر اپنے نجات دہندہ مسیح کے انتظار میں روتے رہےلیکن اس بیکنی کلچر میں گویا ان کی تمام امنگیں پوری ہو گئیں۔ دنیا میں ان کا کلچر رواں ہوا اور وہ اس دنیامیں حاکمیت کے مقام کو پہنچے اور ان کو نہ اپنا مسیح یاد رہا نہ نجات دہندہ۔ نہ ہی مسلمانوں کو اب دجّال یاد رہا ہے۔ کئی برسوں سے نہ منبر سے نہ محفل میں ہی کوئی تذکرہ قیامت کا، عذاب ِقبرکا، دجّال کا یا حضرت امام مہدی علیہ السلام کا سنائی دیتا ہے۔ ان کی جگہ بتدریج زندگی، پیداوار، ترقی اور سائنس نے لے لی ہے۔

۵۔                           بیکنی تباہی سے نجات:

آج اس بیکنی کلچر نے اس کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کے خطرہ کی وجہ سے انسانیت کے وجود تک کو معرضِ خطرہ میں ڈال دیا ہے اورایک عظیم تباہی اور دردناک عذاب کا سامنا ہے۔اس عظیم اور دردناک عذاب کو ٹالنے کے لئے جس عالم گیر لائحہ عمل کی ضرورت ہے وہ بنیادی طور پر اس بیکنی کلچر، اس بیکنی ترقی اور اس بیکنی سائنس کے مکمل دمارو انقطاع کا متقاضی ہے لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی انسان اس بات کا تصّور بھی نہیں کر سکتا۔ تحقیق یہ بات بادی النظر میں اتنی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایسی بات کہنے والے کی اس بات کو کسی ذہنی عارضے کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعینہ اسی طرح جس طرح کہ سندھ کے تین آدمیوں نے پچھلے مہینوں میں بتدریج مہدی، میکائیل  اور خدا ہونے کا دعویٰ ٰکیا تو انہیں دماغی امتحان کے لئے ڈاکٹر کے حوالے کر دیا گیا لیکن یہاں صورت اور ہے،اس دنیا کے چار ارب باشندے سوائے ایک کے سبھی اس ترقی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں اور ان میں سے دو چار کے سوا ایک بھی ایسا نہیں جسے اس ترقی کے منطقی انجام کی خبر ہو یا اس کی خبر ان پر کچھ اثر کر سکے لیکن اگر حقیقی تجزیہ اس انجام کی دردناکی کاپیش کیا جائے اور اس کے بعد بھی ان کا ایمان اس ترقی سے متزلزل نہ ہو اور اپنی ہانکے جائیں تو بلاشبہ اور درست طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کے ان چار ارب باشندوں کی دماغی حالت درست نہیں ہے نہ ہی ان کے نفسیاتی ماہرین کی یہ سب کے سب بیکنی مالیخولئے میں مبتلا ہیں سوائے ایک کے۔لاریب اس بیکنی نظام کی جڑیں اس دنیا میں اتنی گہریں ہیں اور یہ بیکنی نظام اس بری طرح سے انسانی زندگی کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر وسیلے کے علاوہ انسانی قلب و ذہن پر مسلّط ہے اور ایک زبردست قوت یعنی جاہ و مال کی انسانی خواہش سے اس طرح ہم آہنگ ہے کہ ایسے نظام کو کالعدم کرکے صعیداً جرزاً کرنے کے لئے ایک ایسے عالم گیر زلزلے کی ضرورت ہے جو اس کو اس طرح ہلا کر رکھ دےکہ اس کی ساری عمارت کو زمین بوس کر دے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ کس نوعیت کا ہو؟ ظاہر ہے کہ ان موجودہ حالات میں لڑائی بھڑائی اور جنگ و جدل کی تو کوئی صورت سامنے نہیں جو اس مقصد کے حصول میں مفید ثابت ہو سکے کیونکہ معاشرتی وسائل کے علاوہ جنگی وسائل بھی اسی بیکنی نظام کے ہاتھ میں ہیں لہٰذا دوسری صورت ہی سامنے آتی ہے یعنی یہ کہ انسانی ذہن کو بدلا جائے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس بیکنی نظام کے دردناک منطقی اور قطعی انجام کی وضاحت کی جائےاور خوداس نظام کی اصلی حقیقت کو واشگاف کیا جائے۔ واضح ہے کہ یہ انقلاب فکری نوعیت کا ہو گا۔ مرحوم برٹرینڈ رسل معروفِ زمانہ انگریز فلسفی جسے بجا طور پر اپنے وقت کا عظیم ترین ذہن گردانا گیا ہے نے بھی انسانیت کو ایٹمی جنگ سے بچانے کے لئے ایک عالم گیر تحریک چلائی تھی مگر وہ تحریک نہ تو رسل کی زندگی میں ہی کوئی معتدبہ کامیابی حاصل کر سکی نہ ہی موصوف کی وفات کے بعد ہی اپنا وجود برقراررکھ سکی،بے  چاری ان موجودہ حالات کی سختی کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ رسل اس امر میں انسانیت کے دلی شکریئے کے مستحق ہیں۔اگرچہ اس کی تحریک ناکام رہی لیکن اس کی قابلیت اور خلوصِ نیت میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

۶۔        برٹرینڈرسل کی ناکامی:

رسل کی تحریک کی ناکامی کی وجوہات ہیں۔ مسئلے کا انتہائی مشکل اور سنگین ہونا۔ ایٹمی جنگ تک اپنی تحریک کو محدود رکھنا اور ایٹمی توانائی کے بارے میں نرم روّیہ اختیار کرنا اور مسئلے کے تجزیئے کو آخری بنیادی کڑی تک پہچانا لیکن ہمیں رسل کے ساتھ انصاف کرنا ہو گا  اور اس کی مشکلات کو سمجھنا ہو گا۔ اور اس کی مجبوریوں کا لحاظ رکھنا ہو گا  اور اس کے بعد ہم اس کی عظمت کا اعتراف کئے بغیرنہیں رہ سکتے۔ اب میرا معاملہ دیکھئے، اگرچہ رسل کی وفات کے بعد یعنی گزشتہ چند برسوں میں دنیا کو ایٹمی توانائی کے خدشات کے بارے میں کچھ مزید سدھ بدھ ہو گئی ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے عوام الناس اس معاملے میں مضطرب ہی نہیں  بلکہ اپنے اضطراب کا برملا اظہار بھی کرنے لگے ہیں تاہم اس بات کو سمندر کی سطح پر اٹھنے والی لہروں سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ سمندر اندر سے ابھی تک پرسکون ہے  اور دنیا ترقی کے میدان میں اسی طرح دیوانہ وار بڑھنے کی کوشش میں مصروف ہے  اور معاملہ اتنا ہی سنگین ہے بلکہ تیل  کی پیداوار کی کمی کے ساتھ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ایٹمی توانائی کی اہمیت بڑھ جانے سے معاملہ بتدریج سنگین تر نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے لیکن میرا تجزیہ مکمل ہے  اور میرے کام کی بنیاد سائنس کے علاوہ قرآنِ حکیم پر ہے  اور قرآنِ حکیم نے اس معاملے میں وہ بے نظیر معجزہ کر دکھایا ہے جو بغیر کسی شک و شبہ کے اس دنیا کے عالمِ افکار میں زلزلہ برپا کر سکتا ہے۔ اب یہ معاملہ نہ رسل کا ہے نہ میرا ہے۔ یہ معاملہ اب قرآن ِحکیم کا ہےاور خدا کا ہے اور اس بیکنی کلچر اور اس کے منطقی دردناک اور تباہ کن انجام کامعاملہ اتنا سنگین اور در حقیقت اتنا واضح ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ عالم ِافکار میں زلزلہ برپا نہ ہو اور اس بیکنی کلچر کا انہدام واقع نہ ہوجائے اوراگر اس طرح بھی افکارِ عالم میں زلزلہ برپا نہیں ہو سکتا  تو پھر اس دنیا کا انجام المناک ایٹمی تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اتناالمناک کہ اناللّٰہ کا جملہ بھی اس کے تصّور سے گلے میں اٹک جاتا ہے۔ اتنی ذلت آمیز تباہی اور اتنا جگر گداز انجام۔ اناللّٰہ و انا الیہ راجعون۔

۷۔        اقبال اور مہدی:

سنیئے حضرت علامہ محمد اقبالؒ کیا فرماتے ہیں:

سب اپنے بنائے ہوئے زندان میں ہیں محبوس

خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار

پیرانِ کلّیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں 

نے جدتِ گفتار ہے نے جدتِ کردار

ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ

شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار

دنیا کو ہے اس مہدئ برحق کی ضرورت

ہو جس کی نگہہ زلزلۂ عالم افکار

                                       (ضرب کلّیم)

خاور کے ثوابت، افرنگ کے سیار، پیرانِ کلّیسا اور شیخانِ حرم ،سیاست اور شعر و ادب کے علم دار اورروئے زمین کے عوام الناس ترقی کی بات کر رہے ہیں۔ ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں لیکن یہ سب کچھ بیکنی فلسفے کے حصار میں محبوس ہے اور جس طرح زمین کے گرد ایک سیارہ چکر میں لگ جاتا ہےیہ انسانیت اس بیکنی کلچر کے گرد چکر میں لگی ہوئی ہے، نہ تو اس چکر سے نکلنے کی کوشش ہی ہو رہی ہے، نہ ہی کوئی دوسری دنیا ہی ان کی نظر میں ہے۔ سب سے بڑی لاعلمی جو اس دور کے بندوں کو لاحق ہے و ہ سائنس کے معاملے میں ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ سائنس ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایٹمی سائنس اب اندھی ہوکر رک گئی ہے اور اس پر ایک جمود کی کیفیت طاری ہے، نہ تو تابکاری کا کنٹرول ہو سکتا ہے، نہ ایٹم بم سے بچاؤ کی کوئی تدبیر ممکن ہے لہٰذا دوسرے محکموں کے ساتھ جمود کی کیفیت میں سائنسی برادری کو بھی شامل کر لیا جائے۔ اس مجموعی جمود کو جو اس بیکنی ترقی کی محبوس دنیاپر طاری ہے توڑنے کے لئے جس زلزلے کی ضرورت ہے وہ قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق اپنی پیشین گوئی (سورہ الھمزہ) میں برپا کر دیا ہے۔

اس بیکنی ترقی کی بنیاد حب ِدنیا، طلبِ زر اور موت اور آخرت کے خیال سے گریز پر مبنی ہے۔ اس کاعلاج حضرت علامہ محمداقبالؒ نے مندرجہ ذیل نظم میں بیان کر دیا ہے:۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست

زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کر دے

فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اس کی

جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے

(ضربِ کلّیم)

سلاطین کوخراطین سے بدل دیا جائے تو تصویر اس بیکنی ترقی کے معاملے کی تصویر میں بدل جاتی ہے۔ خراطین کے معنی ہیں۔ مٹی کے کینچوے پس معلوم ہوا کہ ترقی کی اس مادہ پرستانہ روش سے بیزاری اور فقر کی بنیادوں پر اس دنیا میں پائے جانے والے جمود کو توڑا جائے گا اور یہی بات ہے جس کی بنا پر قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق اپنی پیشین گوئی میں زلزلہ اٹھایا ہے۔ اس دنیا کے ان موجودہ حالات کی روشنی میں بیکنی ترقی کے انہدام کے اس پروگرام میں جو دقت محسوس ہو سکتی ہے اُس کی روشنی میں پالیسی اختیار کرنے کا ایک نکتہ جو حضرت علامہ اقبالؒ کے کلام میں ملتا ہے۔ وہ یہ ہے:۔

غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں 

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں 

یقین ِ  محکم  عمل ِ  پیہم  محبتِ    فاتحِ  عالم

جہادِ  زندگانی میں ہیں  یہ مردوں کی شمشیریں

ان موجودہ حالات میں جو ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس بیکنی کلچر ،اس بیکنی ترقی اور اس کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کی حقیقت کو جو قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی میں بیان کی ہے بین الاقوامی آگاہی کے لئے روئے زمین کی قوموں میں عام کیا جائےتاکہ یہ انسانیت اس کی روشنی میں اس ایٹمی عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوئی متفقہ لائحۂ عمل تیار کر سکے۔ لاریب یہ پیشین گوئی اس بیکنی ترقی کے جمود کے حصار میں ایک زلزلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اَلبَتَّہ یہ خیال پیش ِنظر رہے کہ مہلت کم ہے۔ کسی بھی وقت ایٹمی دھماکہ سب کئے کرائے پر پانی پھیر سکتا ہے۔ اس بیکنی فتنہ کے متعلق ایک عجیب اشارہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے کلام میں ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ حضرتؒ نے فرمایا:۔

 کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں 

 آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

 آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس

 سامنے تقدیر کے رسوائی ءِ تدبیر دیکھ

(بانگِ درا)

یہ آزمودہ فتنہ کیا ہے؟ اس کی اصلی حقیقت اس کی ساری تاریخ اور اس کا منطقی انجام میری آنکھ کے سامنے اسی طرح موجود ہے جس طرح حضرت علامہ اقبالؒ کا متفکر چہرہ، یہ آزمودہ فتنہ ہے شیطان کا جب اس نے آدم کو ورغلایا۔ دوسری بار انسانی تاریخ میں اسے شیطانِ ثانی یعنی فرانسس بیکن(1561-1626) نے دہرایا۔ شیطان نے آدم کو فرشتہ بننے اور ایک لازوال حکومت حاصل کرنے اور اسرارِ باطنیہ کے سمجھ لینے کے چکر میں ڈال کر اسے گندم کا دانہ کھانے پر آمادہ کرکے جنت سے نکلوا دیا۔ بیکن نے کائنات پر تسلّط، مادی بہشت اور سائنس کے ذریعے اسرارِ کونینیہ کے انکشاف کاچکر دے کر انسان کو ایٹمی جہنم میں ڈلوادیا۔ آدم کے لئے کم از کم دوبارہ بہشت حاصل کرلینے کاامکان تو موجود تھا۔ بیکن کے مارے ہوئے ابنِ آدم کے لئے یہاں ایٹمی جہنم ہے اور اگلی دنیا میں حطمہ ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے جو تقدیر کے سامنے تدبیر کی رسوائی کا ذکر کیا اس کو بھی اسی روشنی میں دیکھ لیا جائے۔ تقدیر کے سامنے آدم کی عقل جواب دے گئی اور بیکنی ترقی کی تدبیر ایٹمی جہنم پرمنتج ہوئی۔

۸۔        ابراہیمی مشن:

پردہ آنکھوں سے ہٹا  اور دیکھ ۔دیموقراطیس (قدیم اٹامزم کے بانی) کی روح اس انسانیت کے لئے ایٹمی چِتا بھڑکانے میں مصروف ہے مگر یہ کس کی روح ہے جو اس آگ کو بجھانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے ۔جان لے یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روح ہے وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کو نمرود نے جلتی چِتا میں ڈالا تھا مگر جو بال بیکا ہوئے بغیر اس آگ سے صحیح سلامت نکل آئے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی  روائتی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طبعی رحیمی اور کریمی کا کرشمہ ہے ورنہ یہ بیکنی انسانیت اپنے طبعی انجام کو پہنچ رہی ہے۔ دیموقراطیس و ابراہیم کامقابلہ آج کانہیں۔ اس وقت سے شروع ہے جب سے اس نئے بیکنی دور کی ابتدا ہوئی ہے دیکھئےجدید اٹامزم کے بانی فرانسس بیکن (1626-1561) کے غائبانہ مقابلے میں حضرت مجدد الف ثانی(1624-1564) اور سپی نوزا، مادی وحدت الوجود کے بانی (77-1632) کے غائبانہ مقابلے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی( 63-1703) یہ محض تاریخوں کا اتفاق نہیں بلکہ تحقیق اس امر میں انکشاف کرتی ہے کہ موضوعی مطابقت بھی اس مقابلے میں واضح نظر آتی ہے۔ اس مضمون کو ابھی تک اس زاویئے سے نہیں دیکھاگیا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ دروازہ جو اس مضمون کی تحقیق سے کھلتا ہے۔اس دور کاانتہائی ضروری دروازہ ہے۔ ایک طرح سے یہ ایٹمی جہنم سے باہر نکلنے کا دروازہ ہے۔ پھر 1905 ء کی اہمیت کو پیشِ نظر رکھیئے۔ یہی وہ سال ہے جس میں حکیم آئن سٹائن نے اپنامعروف ِزمانہ اضافیت کاخصوصی نظریہ پیش کرکے ایٹمی توانائی کو اس بھنور سے نکال باہرکیاتھا جس میں اس وقت کے سائنس دان نااُمیدی کی حد تک الجھ چکے تھےاور پھردیکھئے حضرت علامہ اقبالؒ1905 ء  میں ہی یورپ جاتے ہیں۔ اگر آپ یورپ نہ جاتے تو آپ ہند کے ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت میں وفات پاتے اور احتمال یہ بھی ہے کہ شاعری کو ایک کسبِ فضول گردان کر اسے خیر باد کہہ دیتے مگر یورپ نے ان کی کایا پلٹ دی۔ وہاں ان کی آنکھ اس دور کی حقیقت پر وا ہوئی اوروہاں ان کی آنکھ ابراہمی مشن پرکھلی اور اُنہیں محسوس ہوا۔ ”یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے“ اور پھر یہ منظر دیکھا۔ ”آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے“۔ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے“اور پھر اپنا رول اس ابراھیمی مشن میں بیان کیا۔ ”مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللّٰہ“۔ یہ نظم پوری پڑھئے۔ ابراھیمی مشن کا دستور اور منشور ہے۔ الحق کہ جس نے حضرت علامہ محمداقبالؒ کو سمجھنا ہو وہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کو ابراھیمی مشن کی عینک سے دیکھے۔1942 ء میں عظیم اطالوی سائنس دان فرمی نے شکاگو میں پہلی بار یورانیم فژن چین ری ایکشن Uranium Fission Chain Reaction کا کامیاب تجربہ کرکے ایٹمی آگ کا در اس دنیا پر وا کر دیا۔ 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی اس آگ کی لپیٹ میں آ کر نیست و نابود ہو گئے۔ 1942ء میں ہی میری عمر کے پچیسویں سال میں مُصّیب نزد بغداد کے مقام پر خواب میں حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے اس بندۂ عاجز کے حق میں ابراھیمی مشن کے لئے سفارش کی۔ اسی خواب میں مجھے سورۃ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات کی تفسیر منظر بہ منظر بشمول سدر ۃُالمنتہی دکھائی گئی۔ اس وقت میں قرآنِ حکیم صرف ناظرہ پڑھ سکتا تھا۔ مطالب و معانی کی آگہی نہ تھی۔ 1942ء سے 1982ء تک میرے لئے قدیم و جدید علمی تحصیل و تحقیق و تدقیق و تصنیف کا ایک پُرآشوب دور رہا جس کے نتیجے میں اب سینکڑوں صفحات کی انگریزی اردو،فارسی تصانیف مسودوں کی صورت میں میرے پاس ہیں۔ ان میں سے بیشتر  صفحے ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنِ حکیم کی36 لفظی پیشین گوئی کی تفسیر بزبان انگریزی پر مشتمل بارہ جلدوں میں ہیں جن کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس دور کے تمام نامور فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی مشکل سے پیدا کر سکیں اور میں نے کسی ا ُ ستاد سے نہیں پڑھا۔ اَلبَتَّہ مجھے ایٹمی جہنم میں ڈال دیا گیا اور وہیں میں نے اس مضمون کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا۔ اس تمام عرصے کے دوران جن دردناک حالات سے میں دوچار رہا ہوں۔ اُ س کی تفصیل کے لیے کسی  جان بنیان کا دل گردہ نہیں اور جس طریقے سے میں نے علم حاصل کیا اور جس مقدار میں حاصل کیا اُس کا نفسیاتی تجزیہ کسی فرائیڈ یا ولیم جیمز کے دائرہ کار سے باہر ہےمگر یاد رکھئے۔ میرا سارا کام نہ میرے روحانی دعوے پر منحصر ہے۔ نہ ہی قرآنِ حکیم کے الہامی دعوے پر سائنس اور منطق معیار ہے کیونکہ سائنس ہی اس دور کا معیار ہے۔

۹۔        برٹرینڈرسل سے خط و کتابت:

1964ء میں برٹرینڈ رسل نے میرے خط کے جواب میں اپنا فیصلہ یہ دیا کہ ”جب سے آدم اور حوا نے گندم کا دانہ کھایا ہے۔ اس وقت سے آدمی نے ہر اس حماقت سے گریز نہیں کیا جس کے ارتکاب کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی تباہی ہے“۔ رسل کا تجزیہ بالکل درست تھا لیکن ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنِ حکیم کی وہ پیشین گوئی جس کے متعلق مجھے انکشاف ہو چکا تھا میرے لئے شعاعِ اُمید ہو کر اُبھری کیونکہ اس پیشین گوئی میں ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بیان کی گئی تھیں اور ان وجوہات کو ختم کرکے ایٹمی تباہی کے    خطرے سے انسانیت کے بچ جانے کا امکان موجود تھا۔یہ پیشین گوئی سائنس کی دنیا میں اور فلسفے کی دنیا میں ایک ایسا معجزہ ہے جس سے انکار کی نہ تو سائنس دان کو گنجائش ہے نہ فلسفی کواور اس ہدایت کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ اس ایٹمی تباہی سے بچنے کا نہیں۔ سائنس دان اور سیاست دان دونوں اس امر میں مجبور ہیں۔ یہ پیشین گوئی اس ایٹمی آگ کے طوفان میں کشتیءِ نوح کی حیثیت کی حامل ہے نیز اس کی روشنی اپنائے اور اس کی ہدایات پر عمل کئے بغیر نہ کوئی تحریک موثر طور پر اس ایٹمی خطرے کے خلاف اس دنیا میں چلائی جا سکتی ہے نہ ہی کسی دین کا احیاء  یا کسی دینی نظام کا نفاذ ہی موثر طریقے سے ہو سکتا ہے اور اس دنیا کا ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے حُطَمَہ کا دنیوی نمونہ ہے اور یہ پیشینگوئی قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اس پیشین گوئی کی تاثیر یہ ہے کہ ستمبر1963 ء میں معروف جرمن یہودی سکالر مس اینی میری شمل نے پنجاب یونیورسٹی میں قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کے انکار پر مبنی اپنی تقریر کے دوران میں میرے منہ سے قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کے ثبوت میں اسی پیشین گوئی کی تفسیر سنی تو چکرا کر کُرسی پر گری اور چائے کا گھونٹ اس کے حلق سے نیچے نہ اتر سکا اور واپس گئی تو دس برس تک پاکستان کو نہ لوٹی اور جب آئی تو موضوع قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت نہ تھا بلکہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ،حضرت امیر خسرو ؒ، حضرت سلطان باہوؒ اور مسلمانوں کی خطاطی تھا۔ ورنہ اپنی علمی حیثیت کے سبب وہ احترام اور مقبولیت کی مستحق ہے۔ متذکرہ بالا مناظرے کے بعد بے حد مسرور علماء کے اصرار پر علامہ علاؤالدین صدیقی اس وقت صدر شعبہء اسلامیات اور بعد میں وائس چانسلر نے الحمد للّٰہ میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ”حضرات !  یہ شخص قدرت نے محض اتفاق سے اس قوم میں پیدا کر دیا ہے۔ وہ قرآنی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں تفویض فرمائی ہے اگر یہ قوم اس سے حاصل نہ کر سکی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قیامت تک معاف نہیں فرمائے گا۔ پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہو گا“۔ اَلبَتَّہ اب بے چاری مس شمل اس میدان میں میلوں دور رہ گئی ہیں۔ اب آئن سٹائن اور رسل جیسے ماہرین ِ فن درکار ہیں۔ یہ پیشینگوئی روئے زمین کے سائنس دانوں اور فلسفیوں کی توجہ کی مستحق ہے۔ یہی پیشین گوئی مغربی ا لحادکاخیبر توڑے گی تو علماء کرام کو تبلیغِ اسلام کے لئے داخلہ ملے گا۔    

۱۰۔                              میری مشکلات:

میری مشکلات کا اندازہ میرے موضوع کی بین الاقوامی وسعتوں اور اس کی ناگوار تلخیوں سے کر لو۔ ایک شخص تن تنہاء اس دنیا کے چار ارب انسانوں کی دنیوی آرزوؤں کے ریلے کے سامنے کھڑا ہو کر ان کو ایٹمی جہنم کی راہ پر چلنے سے روکنے کی کوشش میں ہے اسی سے موضوع کی تلخی کا اندازہ کر لو مگر اس میں میرا ذرہ بھر قصور نہیں ہے۔ میں نے وہی کچھ کہا جو قرآنِ حکیم نے کہا۔ پھر قرآنِ حکیم کا نام بذاتِ خود میری مشکل کا باعث ہو رہا ہے اس کے ماننے والے اپنی مشکلا ت اور مجبوریوں میں پھسے ہوئے ہیں اور جو قرآنِ حکیم کو نہیں مانتے ہو سکتا ہے کہ باوجود اس امر کے کہ میں اپنے ہاتھ میں انسانیت کی تقدیر کی کنجی لہرا رہا ہوں اور میرے اردگرد انکشافات و حقائق کے نوادرات ہیرے جواہرات کے ڈھیروں کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں۔ وہ لوگ محض قرآنِ حکیم کے نام کی وجہ سے میرے کام کے معاملے میں بے اعتنائی کا مظاہرہ کریں۔ ایک خاص مشکل میری یہ ہے کہ مضمون اتنا بلند، باریک اور پیچیدہ ہے کہ انسانیت کی بہت بڑی اکثریت جس میں ایک بڑا حصہ فضلاء کا بھی شامل ہے اس سے بلد نہیں اور فقط تبصرہ حاصل کرنے کے لئے مجھے سات سمندر پار جانا ہو گا۔ کہاں ہے وہ فاضل جسے ایٹمی سائنس اور فلسفے اور قرآنِ حکیم پر یکساں اور مطلوبہ معیار کی حد تک عبور ہو۔ افسو س کہ میرا معاملہ ایک فریب خوردہ اور سحر زدہ انسانیت سے ہے ورنہ آج اگر حضرت عیسٰی علیہ السلام، حضرت موسٰی علیہ السلام یا کرشن مہاراج یا مہاتما بدھ ہوتے تو وہ  قرآنِ حکیم کی اس واضح اور نادرالوجود ہدایت کو سینے سے لگا تے اور اس کی تشہیر و نفاذ کے لئے ہمہ تن کوشاں ہوتے۔

۱۱۔           مسلمانوں سے التماس اور ان کی       ذمہ داریاں :

مسلمانوں سے یہ عرض کرنا ہے کہ ایٹمی جہنم کے متعلق اس قرآنی پیشین گوئی سے جو ایک انداز میں اللہ تعالیٰ کا اس انسانیت سے اتمامِ حجت ہے اور جو اس انسانیت کو اس دردناک ایٹمی عذاب سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کی اشاعت میں پس و پیش کرکے خدا کی اس مخلوق کو محروم کرنا ایسا ہے جیسا کہ ایک غضبناک آتش فشاں پہاڑ کا منہ بند کر دینا۔ یہ پیشین گوئی لازماً آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹے گی اور اس کے بعدکے عواقب دوسری قوموں کے ساتھ ایٹمی جہنم کی نذر ہو جانا اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور میں باز پرس اور شرمندگی۔ بود کہ یار نہ پرسد گناہ ز خلق کریم کہ از سوال ملومیم و از جواب خجل اور یہی نہیں بلکہ اگلی دنیا کے ابدی ایٹمی جہنم حُطَمَہ میں ڈال دیئے جانے کادردناک انجام کیونکہ اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش اور اگلے جہاں کے حُطمہ کی سزا کی وجوہات بالکل ایک ہی ہیں۔ اس لئے جو اس دنیا میں استحقاق کی بنا پر اس دنیوی ایٹمی جہنم میں فنا ہوا اسکے لئے اگلی دنیا کا ابدی حُطمہ منتظر ہے بلکہ اگر باوجود استحقاق کے اس دنیوی ایٹمی جہنم سے بچ نکلا تو بھی اگلی دنیا کے حُطَمَہ سے بچنا محال۔ یہ دنیوی ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم یعنی حُطَمَہ کا نمو نہ ہے اسی طرح جس طرح کہ عام آگ عام جہنم کا نمونہ اس دنیا میں ہے۔ مومن اور کافر کا فرق یہ ہے کہ جہاں کافر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حُطَمَہ میں رہے گا مومن اسوقت تک رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔یہی مفسرینِ کرام کی رائے ہے۔ یہ ترقی مسلمان کریں یا کوئی دوسرا کرے لازماً ایٹمی جہنم کی جانب پیش قدمی کے مترادف ہے۔ اس وقت موجودہ بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ قرآنی پیشین گوئی کودنیا میں مشتہرکرکے اس بیکنی کلچر کی حقیقت اور اس کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کو واشگاف کیا جائے تاکہ انسانیت آگاہی پا کر متفقہ اور مشترکہ طور پر اس دردناک انجام سے بچنے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کرسکے۔ کوئی ایک ملک تنہا اس امر میں کچھ نہیں کر سکتا۔ مسلمان اگر اس قرآنی پیشین گوئی کی تفسیر کو چھاپ کر اور اسے دنیا میں مشتہر کرکے اور اس مقصد کو حاصل کرکے اپنا فریضہ ادا کردیں تو یہ امر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، قرآنِ حکیم کی سربلندی اور انسانیت کے دلی شکرئیے کا باعث ہو گا۔ پندرھویں صدی ہجری کی تقریبات میں قرآنی پیشین گوئی کیسے انسانیت کے لئے ایک ایسا تحفہ ہے جس سے بہتر متصّور نہیں ہو سکتا۔ و آخردعوانا انِ الحمد للّٰہ رب العلمین۔ نہ ہی غیر مسلم اقوام اس پیشین گوئی کی اشاعت سے بری الذمہ قرار دی جا سکتی ہیں کیونکہ یہ ساری انسانیت کو ایک دردناک انجام سے نجات دلاتی ہے ایک ایسا انجام جو ساری انسانیت کے باہمی تعاون کے بغیر ٹالا نہیں جا سکتا۔آخری بات یہ کہوں گا کہ ایٹم بم ایٹمی جہنم کی پیدائش اور حُطَمَہ آخروی ایٹمی جہنم میں سزا کی وجوہات ایک ہی ہیں۔ اس دنیوی ایٹمی جہنم کا مستحق اگر بالفرض اس سے بچ کر بھی نکل گیا  تو بھی اگلی دنیا کے ابدی ایٹمی جہنم سے نہ بچ سکے گا تو کیا پھر اس بات پر غور نہیں کرو گے؟ اور کیا تم نے سورۃ الھمزہ میں پڑھ نہیں لیا کہ دولت جمع کرنے والے اور دولت کے عمل کو ابدی سمجھنے والے عیب جُو کی سزا حُطَمَہ ابدی ایٹمی جہنم ہے تو کیا میں نے تمھیں سمجھانے کا حق ادا نہیں کر دیا۔ اللہ تیرا شکر ہے۔  

۱۲۔             حطمہ کی سائنسی تشریح  ایک خفیہ حقیقت کا انکشاف قرآنِ حکیم کا ایٹمی دور کا ایک لازوال معجزہ:

یہ بات کہ قرآنِ حکیم آج سے چودہ سو برس پہلے ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی کرے اور سائنسی تشریحات کے علاوہ تنبیہی ہدایات دے،اس سے بچنے کی تدابیر واضح کرے، جملہ انسانیت کے لئے ایک عجوبے سے کم نہیں تاہم اس مضمون کو کماحقہ سمجھنا اور اس کی حقیقت کو جانچنا ایٹمی سائنس دانوں ہی کا حصہ ہے۔ لاریب کہ یہ بات بہ نفسِ نفیس معجزوں کا معجزہ ہے جو قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت پر ایک ناقابل ِتردید سائنسی دلیل ہے۔

 قرآنِ حکیم نے حطمہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حطمہ اگلی دنیا میں ایک خاص نوعیت کی آگ کا ایک ابدی دوزخ ہے۔ اس دنیا کا ایٹمی جہنم، ایٹم بم اور ایٹمی توانائی اور ایٹمی توانائی کے بعض دوسرے مظاہر کے علاوہ اس سارے ماحول سے جو اٹامزمسٹی مادہ پرستی کی پیداوار ہے اور اگلی دنیا کے ابدی حطمہ کا ایک دنیاوی عارضی مظہر ہے۔ بعینہٖ اسی طرح جس طرح آگ دوزخ کا اور باغ جنت کا اس دنیا میں مظہر ہے۔ تابکاری کی آگ اوّل آفرینش سے ہی اس زمین پر موجود تھی مگر اس کا عالمی ظہور بیسوی صدی میں ہوا ہے۔ غیر مستحق لوگ بھی مستحق لوگوں کے ہمراہی میں اس ایٹمی جہنم کی آگ کا شکار ہو سکتے ہیں تاہم اللہ تعالیٰ کو بڑی توفیق ہے کہ اگلی دنیا میں ایسے لوگوں کی تلافئ مافات کر دے۔قرآنِ حکیم کا دعویٰ ہے کہ قرآنِ حکیم میں انسان کا ہر مسئلہ موجود ہے تو پھر اس ایٹمی جہنم سے بڑھ کر انسان کا او ر کون سا بڑا مسئلہ ہے۔ قرآنِ حکیم میں عاد و ثمود اور شعیب و لوط کی بستیوں کی تباہی کا ذکر بھی موجود ہے حالانکہ ان بستیوں کی حیثیت ایٹمی جہنم کی اس عالمی تباہی کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی اور اس ایٹمی تباہی کے تذکرے کاقرآنِ حکیم میں نہ ہونا کچھ عجیب سا معاملہ ہوتا۔قرآنِ حکیم کی اس عظیم پیشین گوئی کا انکشاف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس بندہ کا ہےاور یہ بندہ اپنی ذمہ داری تصّور کرتا ہےکہ قرآنِ حکیم کے اس زبردست اتمام ِحجت اور ایٹمی جہنم سے بچنے کی نصیحت کو اقوام ِعالم کے گوش گزار کرےکیونکہ انسانیت کے مستقبل اور اس کی موت و حیات اور ہلاکت اور نجات کا راز اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی میں رکھ دیا ہے۔

ایٹمی جہنم سے نجات کا طریقہ یہی ہے کہ وہ وجوہات جو قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کی پیدائش کی بیان فرمائی ہیں ان کو زائل کیا جائے۔ قرآنِ حکیم کو جدید سائنس کے حوالے سے لکھنا ایک مشکل کام ہی نہیں بلکہ پر از خطر ہے۔ اس  وادی میں وہی قدم رکھے جو علمی لحاظ سے سائنس اور قرآنِ حکیم دونوں پر قرارِ واقعی عبور رکھتا ہو اور یہ کام آسان نہیں اور اس کا قلب نور سے منور ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اللہ کی مدد بھی حاصل ہو۔ مصنف کی ایک ذرا سی لغزش سے آسمان کا پایہ گر سکتا ہےکیونکہ قرآنِ حکیم کی عزت اور ہتک کا معاملہ درپیش ہے۔ قرآنِ حکیم کی سبکی بے وجہ اور محض اپنی نادانی سے کرنے والا  بڑی ہی خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہوتا ہے۔ مسئلہ پل صراط کا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ 

آج سے چودہ صدیاں قبل قرآنِ حکیم کا پوری نیوکلّیر سائنس کا جدید سائنسی طریقے پر بیان کر دینا بذاتِ خود قرآنِ حکیم کے الہامی ہونے کی ایک ناقابلِ تردید دلیل ہے۔ یہی نہیں بلکہ قرآنِ حکیم نے اس پیشین گوئی میں چند لفظوں میں نیوکلّیر سائنس کے علاوہ پورے جدید اٹامزمسٹک میٹیریل ازم کا بیان ایٹمی جہنم کی ریفرنس سے کر دیا ہے۔پیشین گوئی کے یہ چند الفاظ اپنے اندر سائنس اور فلسفے کی ایک دنیا لئے ہوئے ہیں۔ پیشین گوئی کا متن حسبِ ذیل ہے۔

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِنِ                    الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ   يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ   كَلَّا  لَيُنْۢبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ   نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَةُ   الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٔدَةِ   اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ   فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ   

ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔”خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے۔عیب چننے والے کی جس نے مال سمیٹااور گن گن کر رکھا۔خیال کرتا ہےکہ اس کا مال سدا رہے گا اس کے ساتھ۔ہرگز نہیں وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی حطمہ میں اور تو کیا سمجھاکون ہے وہ روندنے والی۔ایک آگ ہے۔اللہ کی سلگائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک۔وہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر۔لمبے لمبے ستونوں میں۔“(104-الھمزہ- 9-1)

قرآنِ حکیم نے حطمہ کی بنیادی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔یہی ایٹمی توانائی کی  بنیادی اور امتیازی خصوصیات ہیں جو اسے کیمیا ئی توانائی سے ممیز کرتی ہیں۔ قرآنِ حکیم نے لفظ حطمہ کا استعمال کیا ہے۔ حطمہ ایک جہنم ہے اگلی دنیا میں ایک مخصوص قسم کی آگ کا۔ دوسری قسم کی آگوں کے درمیان اور اس آگ کی بنیادی اور امتیازی خاصیتیں جو قرآنِ حکیم نے بیان فرمائی ہیں اور جو حطمہ کی آگ کو دوسری قسم کی جہنمی آگوں سے ممیز کرتی ہیں۔ وہی خاصیتیں ایٹمی توانائی کی بنیادی اور امتیازی خاصیتیں ہیں جو اسے دوسری قسم کی توانائیوں سے ممیز کرتی ہیں۔یہی ہمارا مضمون ہےاور ہم نے یہ بات سائنس کی روشنی میں پایۂ اثبات تک پہنچانی ہےکہ حطمہ کی خاصیتیں اور ایٹمی توانائی کی خاصیتیں ایک ہی ہیں۔

حطمہ کی آگ کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:۔

 (i)۔     یہ کہ یہ آگ ایک کرشر ہے یعنی ریزہ ریزہ کرنے والی ہے۔

 (ii)  ۔ یہ کہ یہ  دلوں تک اور دلوں پر چڑھتی ہے۔

 (iii) ۔ اور یہ کہ ایک گھیراؤ کرنے والی آگ ہے لمبے لمبے ستونوں میں۔

 اب یہ ثابت کرنا ہو گاکہ ایٹمی توانائی بھی ایک کرشر ہے،دلوں تک چڑھتی ہےاور گھیراؤ کرنے والی ہے لمبے لمبے ستونوں میں۔ 

ایٹمی توانائی بحیثیتِ کرشر  (Crusher)کے :۔

1۔      حطمہ اور ایٹم:

قرآنِ حکیم نے لفظ حطمہ کا استعمال کیا ہے۔حطمہ کا ماخذ سہ حرفی فعل حطِم ہے اور حَطَم کے معنی ہیں کسی چیز کو ریزہ ریزہ کر نا۔ اسی طرح حطمہ کے معنی ہوتے ہیں۔ ریزہ ریزہ کر ڈالنے والا۔ عربی لفظ حطم اور انگریزی لفظ ایٹم کی صوتی بلکہ معنوی مماثلت کسی گہرے رابطے کی نشان دہی کرتی ہے۔ ایٹم وہی یونانی لفظ اٹامس ہے جسے قدیم یونانی اٹامسٹ فلسفی اصطلاحاًاس کے حقیقی معنوں میں استعمال کرتے  تھے یعنی وہ انتہائی زرہ جسے مزید توڑا نہ جا سکےلیکن موجود ہ  دور میں ایٹم ٹوٹ گیا اور اس کے اصطلاحی معنے منسوخ ہو گئے تاہم سائنس دانوں نے اسی لفظ یعنی ایٹم کو ہی برقرار رکھا۔ اگر دوسرے اسرار و رموز جو اس ضمن میں لاحق ہیں ان سے صرف ِنظر کیا جائےتو قرآنِ حکیم کی اصطلاح یعنی حطم جو توڑنے پھوڑنے کے معنی میں مستعمل ہوتی ہے۔ سائنس دانوں کی اصطلاح یعنی ایٹم جو ان معنوں کی ضد ہے، کے مقابلے میں اصولاً مبنی  بر صحت ہے۔ ضروری امر، بحر حال اس معاملے میں یہ ہے کہ حطمہ کے معنی ہیں کرشر جسے بعض اکابر اردو مترجمین نے صحیح طور پر  ”روندنے والی“ کہا ہے۔ اب ہم یہ دیکھیں گےکہ ایٹمی توانائی اور اس کے جملہ مظاہر ایٹمی توانائی کی پیدائش سے لے کر اس کی تابکاری کے آخری عمل تک توڑ پھوڑ کرنے (Crushing)کا ایک واضح سلسلہ ہیں۔

2۔       ایٹمی توانائی  کی پیدائش کے عمل میں روندنے کا عمل :۔

ایٹمی توانائی ایک ایسے عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہےجس میں ایٹموں کے نیوکلّیائی (مرکزی دل) کو توڑا جاتا ہے۔ ایٹمی توانائی دو طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے۔ ایک کہلاتا ہے فژن پراسس اور دوسرا کہلا تا ہے فیوژن پراسس۔ اوّل الذکر میں ایک فرد ایٹم کا نیوکلّیس توڑا جاتا ہے(مرکزی دل)جب کہ آخرالذکر کی صورت میں چند ایٹموں کے نیوکلائی (مرکزی دل) ایک دوسرے میں کچل دیئے جاتے ہیں اور اس طرح ایٹمی توانائی پیدا ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہےکہ ایٹمی توانائی اس ارتباطی توانائی کے سوا کچھ نہیں جس نے ایٹم کے نیوکلّیس (مرکزی دل) کے اجزا ء مثلا ًپروٹان، نیوٹران وغیرہ کو آپس میں باندھ رکھا ہے۔جب ایٹم کا نیوکلّیس ٹوٹتا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ نیوکلّیس کے اجزا کو باہم دیگر مربوط رکھنے والی توانائی ٹوٹتی ہے، جس طرح روئی کی ایک گٹھ کو باندھنے والی پتری کو کاٹا جاتا ہے تو وہ اچھلتی ہے۔ ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے عمل میں نہ تو دیا سلائی کی ضرورت ہے نہ ہی کوئی جلنے کا عمل ہی ظاہر ہوتا ہے۔جس طرح کہ کیمیاوی عمل میں ہوتا ہے۔صرف توڑ پھوڑ کاعمل ہی سب کچھ کرتا ہے۔

 یاد رکھنے والی بات یہ ہےکہ ایٹمی توانائی کی یہ خصوصیت ان خصوصیات میں سے ایک ہےجو ایٹمی توانائی کو کیمیا ئی توانائی سے ممیز کرتی ہیں گویا کہ یہ ایٹمی توانائی کی ایک امتیازی خاصیت ہے جو قرآنِ حکیم نے بنیادی طور پر بیان   فرمائی ہے یعنی یہ کہ ایٹمی توانائی توڑ پھوڑ کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔یہ خاصیت کسی دوسری قسم کی توانائی میں موجود نہیں از قبیل کیمیاوی توانائی میں موجود نہیں۔ دوسرا امتیاز یہ ہے کہ ایٹمی توانائی ایٹموں کی نیوکلّیس توڑنے سے پیدا ہوتی ہے یعنی ایٹم کے نیوکلّیس (مرکزی دل)   تک پہنچتی ہے جب کہ کیمیاوی عمل کبھی بھی ایٹم کے نیوکلّیس کو چھوتا تک نہیں۔کیمیاوی آگ کسی مادے کو بھسم تو کر سکتی ہے مگر اس مادے کے ایٹموں کے نیوکلائی کو سالم و کا مل چھوڑ دیتی ہے مگرایٹمی توانائی ایٹم کےنیوکلّیس کو تہس نہس کر دیتی ہے اسی طرح ایٹمی توانائی ایٹم کو جسے کائنات کی بنیادی اینٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے توڑ کر تہ و بالا کر ڈالتی ہےاور یہ توڑنا ایسا ہےکہ جسے دوبارہ جوڑا نہیں جا سکتا جب کہ کیمیاوی عمل میں ضائع ہونے والی شے کو تالیفی طریقے (Synthesis) کے ذریعے دوبارہ پیدا کیا جانا ممکن ہے جب کہ ایٹمی توانائی سے توڑے جانے والے ایٹم کے معاملے میں تالیفی عمل تاحال ممکن نہیں نہ ہی اس کے ممکن ہونے کے کوئی آثار ہیں لہٰذا معلوم ہواکہ کائنات کی تکوینی بنا کو کلّیۃً روند ڈالنے کی اہلیت حطمہ ہی کو ہے لہٰذا قرآنِ حکیم کی جانب سے اس آگ کو حطمہ کا نام دینا مبنی بر حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک زبردست خفیہ سائنسی حقیقت کا انکشاف بھی ہے۔

3۔      ایٹمی بم کے دھماکے میں ایٹمی توانائی کے تمام مظاہر کرشر (Crusher)  ہیں:

ایٹمی بم کے دھماکے کے اوّل میں پیدا ہونے والی شدیدگرمی جو ایک ایسے شعلے کی صورت میں نمودار ہوتی ہے جو سورج سے بھی کئی گنا چمکدار ہوتا ہے۔ باہر موجود انسانوں کے بدن پر بجلی کی تیزی سے جھپکا مارتی ہے اور جلد کو جلا کر سیاہ یا بھورا کر دیتی ہے اور چونکہ صرف دو چار سیکنڈ رہتی ہے لہٰذا جلد سے نیچے سرایت کرنے کی فرصت نہیں پاتی اَلبَتَّہ آدمی کے دل کو صدمے کی وجہ سے ہلاک کر دیتی ہے اوردل کے ہلاک ہونے سے آدمی بھی موقع پر ہلاک ہو جاتا ہے توگویا یہ عمل بھی کرشنگ(Crushing)  ہی کا ہے۔ دوسرے نمبر پر بلاسٹ یعنی دھماکہ ہوتا ہے اور یہ دھماکہ بذات خود ایک زبردست کرشر ہے۔ مضبوط ترین عمارتوں کو دبا کر پاؤڈر کر دیتا ہے۔ تیسرے نمبر پر تابکار شعاعیں ہیں جو خود ایٹمی دھماکے سے بھی پیدا ہوتی ہیں اور اس کے بعد کثیرمقدار میں یورانیم وغیرہ کے فضلے سے جسے (Fission Products) کہا جاتا ہے پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ یہ شعاعیں بے جان مادے میں گھس کر وہاں کے ایٹموں کے نیوکلائی کو زیرو زبر کرکے ایٹموں کی قلبِ ماہیت کر دیتی ہیں جب کہ زندہ بدنوں میں گھس کر اندر کے ایٹموں کے نیوکلائی سےنیوکلّیس کے اجزا (nucleons) نکال باہر پھینکتی ہیں اور خلیے کے نیوکلّیس پر حملہ آور ہو کر اس کے کروموسومز (Chromosomes) کو توڑ پھوڑ کر دیتی ہیں اور کروموسومز کی یہ توڑ پھوڑ خلیے کے لئے ہلاکت آفرینی کی حدتک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

4۔      ایٹمی توانائی کے اس توڑ پھوڑ والی خاصیت کی پہچان اور سائنس دان:

”ایٹمی فزکس کی معیاری کتابوں میں مندرجہ ذیل قسم کی اصطلاحوں کی بھر مار ہی نظر آتی ہے۔ مثلاً بمباری کرنا (Bombarding)، ٹکر مارنا اور توڑنا دینا(Crushing) ،ٹکڑے ٹکڑے کردینا(Smashing)، متصادم ہونا(Hitting) ، توڑ دینا (Breaking)وغیرہ“۔

یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ اس بات کے بھی ثبوت ملتے ہیں کہ ایٹمی سائنس دان ایٹمی توانائی کی اس توڑ پھوڑ والی خاصیت کو بالخصوص اپنے ذہن میں رکھتے ہیں مثلاً جب جرمنوں نے شعاؤں کے مسلسل طیف نوری (Continuous Spectrum of Rays) کانام Bremsstrahlung  دھرا جس کے لفظی معنی ہیں توڑنے والی شعاع تو سائنس دان (Physicist)  برادری نے اس اصطلاح کو کامل تشریحی مان کر بہت سراہا۔

5۔      ایٹمی توانائی کی تابکار شعاؤں کی توڑ پھوڑ والی خصوصیت:

ایٹمی تابکار شعاعیں جو ایٹمی توانائی کا ایک جزوِلاینفک ہیں جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔ بے جان مادے میں ایٹموں کے نیوکلّیائی کو زیر و زبر کرکے ایٹموں کی قلبِ ماہیت کر دیتی ہیں۔ یہ بات ہمیں قرونِ وسطیٰ کے اُن کیمیاگروں کی یاد دلاتی ہے جو عام دھاتوں کو سونا بنانے کی ناکام کوششوں میں لگے رہے۔ سونا بنانے کے لئے اس دھات کے بنیادی ایٹم کےنیوکلّیس میں تبدیلی کرنی پڑتی تھی۔ ایسی تبدیلی جو اسے  سونے کے مخصوص ایٹم میں تبدیل کر سکے لیکن کیمیاوی سائنس ایٹم کےنیوکلّیس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ لہٰذا کیمیاوی طریقے سے کسی دھات کو سونے میں تبدیل کرنا ممکن نہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ایٹمی سائنس دان بھی کسی دھات کو سونے میں تبدیل نہیں کر سکے۔ بہر حال یہ جملہ معترضہ تھا چلیں اپنے موضوع کی جانب۔ جان دار بدنوں میں ایٹمی تابکار شعاعیں ایٹموں کے نیوکلائی سے اسکے بعض اجزا (Nucleons) ٹکر مار کر نکال باہر کرتی ہیں اور بدن میں سخت فساد کا موجب ہوتی ہیں نیز خلیے کےنیوکلّیس پر حملہ کرکے اس کے کروموسومز کوتہ و بالا کرکے خلیے کی ہلاکت کا سامان پید ا کرتی ہیں۔یہاں یہ بات یاد کرنے کے لائق ہے کہ پہلے ہم نے دیکھا کہ ایٹمی توانائی ایٹم کو جو کہ کائنات کی بنیادی اینٹ ہے تہس نہس کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں۔ ایٹمی توانائی بدن کے خلیے (Cell) کو جو کہ زندگی کی بنیادی یونٹ ہے اسے فنا کر تی ہے۔

6۔      ریڈیو بائیولوجی کی اصطلاحیں اور تابکار شعاعوں کی توڑ پھوڑ کرنے والی خاصیت کااظہار:

ریڈیوبائیولوجی کی معیاری کتب میں آپ کو مندرجہ ذیل قسم کے معیاری محاورے، تشبیہیں اور جملے جا بجا نظر پڑیں گے۔  مثلاً ٹارگٹ والا نظریہ (The Target Concept)، راست اقدام (Direct Action)، بالواسطہ اقدام(Indirect Action)، رسی کو بندوق کی گولی سے کاٹ دینا(Snapping the cable with a bullets)، کروموسومز کو توڑ دینا(Breaking the Chromosomes)، تابکار شعاعیں خلیوں پر ہتھوڑے کی طرح لگتی ہیں اور ان کو کچل کے رکھ دیتی ہیں(Radiations hit the Cells like Sledge hammer and crush them) وغیرہ وغیرہ۔

(7)      ایٹمی توانائی آگ ہے:

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ ” حطمہ ایک آگ ہے“۔

آگ گرمی ہے۔ ایک ایسے ٹمپریچر پر جہاں جلنے کاعمل ممکن ہے۔ ایٹمی توانائی تو اتنا شدید ٹمپریچر پیدا کرتی ہے جو دنیا کی کسی بھی چیز کو گیس میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جدید نظریئے کے مطابق تو مادے،توانائی، گرمی وغیرہ کوبنیادی طورپر ایک ہی چیزتسلیم  کیاگیا ہے۔ آئن سٹائن Einstein  نے تو یہی نظریہ (کہ توانائی برابر ہے مادے کے حجم ضربے روشنی کی رفتار میل فی ثانیہ کا مربع) پیش کرکے ایٹمی توانائی اور ایٹم بم کی پیدائش کو ممکن بناکر انسانیت کی زیست کو معرض ِخطر میں ڈال دیا۔ ایٹمی تابکاری کی آگ کاتجربہ خود تابکاری کے موجدِ اوّلین یعنی بیکرل(Beequerel)ایک فرانسیسی کیمیا دان کو ہوا جس نے دیکھا کہ اس کی جلد کاحصہ جو اس کی اس جیب کے نیچے تھا جس میں وہ ریڈیم کے ایک ذرے کا کیپسول اٹھائے پھرتا رہا جل چکا ہے۔ ایڈورڈ ٹیلر (Edward Teller)  ہائیڈروجن بم کا موجد، ایک طرح انسانیت کا عظیم محسن بھی تابکاری کوآگ ہی کہتا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

“The vicious dragon (Reactor) will spit Radio-active fire”.(Vide: Our Nuclear Future by Edward Teller and Dr. Albert L. Latter.p.156).

”یعنی زہریلا اژدھا (ری ایکٹر) تابکار آگ اگلے گا“۔ 

ریڈیو تھراپی میں تابکار شعاعوں کے ضمن میں کراس فائر (Cross fire) کی اصطلاح کااستعمال ہوتا ہے۔ بحوالہ

 Synopsis of   gynoecology by Harry Sturgeon Crossen and Robert James Crossen. 1946 page 144. 

ایٹمی آ گ کیمیاوی آگ سے مختلف اس طرح ہے کہ ایٹمی آگ ایٹموں کے نیوکلّیس توڑ کر پیدا کی جاتی ہے جب کہ کیمیاوی آگ ایٹموں کےنیوکلّیس تک نہیں پہنچ پاتی اور یہ ایٹمی توانائی کی ایک خاص امتیازی خصوصیت ہے جو اسے کیمیاوی توانائی سے ممیز کرتی ہے۔ اَلبَتَّہ ایٹمی آگ کا مظاہرہ ایٹمی بم یا ہائیڈروجن بم کے دھماکے میں ہوتا ہے۔ جب میلوں تک آگ ہی آگ نظر آتی ہے۔ بعد میں شہروں کے شہر نذرِ آتش ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ آگ ایٹمی توانائی کا جزو نہیں ہوتی ااَلبَتَّہ ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں اس کے ساتھ ملوث ہوتی ہے اور جب ایٹمی جہنم کا بیان کیا جائے تو اس آگ کو بھی شامل ِمنظر کیا جا سکتا ہے۔

8۔       ایٹمی توانائی دلوں پر چڑھتی ہے:

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ حطمہ ایک ایسی آگ ہے جوچڑھتی ہے دلوں پر۔

۱۔       نیوکلّیس اور دل:

سائنس دان نے لفظ نیوکلّیس (Nucleus)تجویز کیا ہے۔ قرآنِ حکیم نے فرمایا۔افئدۃ جو کہ جمع ہے فواد کی اورفواد کے معنے ہیں دل۔نیوکلّیس اور دل دو لفظ باہم  مترادف ہیں اور دونوں کے درمیان طبع اور کارکردگی کی قطعی مماثلت ثابت ہے۔ دونوں  بدن کے مقابلے میں چھوٹے ہیں۔ دونوں ہی امتیازی طور پر حساس ہیں۔ دونوں اگر مر جائیں تو ان کے ساتھ بدن بھی مر جاتا ہے۔ عربوں نےنیوکلّیس کا ترجمہ قلب کیا ہے جو بمعنی دل کے ہے۔ سائنس دان خودنیوکلّیس کے لئے دل کالفظ استعمال کرتے ہیں۔ ایڈورڈ ٹیلر (Edward Teller) نے 1939 ء میں اپنے ایک لیکچر میں کہا۔ ہم ایٹم کے دل سے توانائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بحوالہ۔Hydrogen Bomb by James. R. Sheply and Clay Blair Jr. pages. 48-49 کاش کہ اس وقت ہائیڈروجن بم کے اس موجد کو خبر ہوتی کہ ایٹم کے دل سے توانائی حاصل کرنے کے کیا معنے ہیں اور یہ عمل کس حد تک عالمی تباہی کا موجب ہو سکتا ہے مگر یہ قرآنِ حکیم تھا جس نے چودہ سو برس پہلے نیوکلّیر سائنس اور ایٹمی جہنم کا وہ نقشہ پیش کیا کہ جسے کوئی شخص بغیراللہ کے نہیں جان سکتا تھا اور آج بھی انشاء اللہ العزیز دنیاکے چوٹی کے سائنس دانوں کے لئے حیرت در حیرت کاباعث ہی نہیں ہو گا بلکہ قرآنی علم کا جھنڈا روئے زمین کے اوپر گڑ جائے گا اوراس کے بعد کوئی یہ نہ کہہ سکے گا کہ قرآنِ حکیم  نعوذ باللہ بشر کا کلام ہے کیوں کہ بشر کے لئے ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ایڈورڈ ٹیلر ہی کاحوالہ موجود نہیں بلکہ نمونے بہت ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مندرجہ ذیل قسم کی عبارات سائنس کی معیاری درسی کتب میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مثلاً

“Each fast particle comes from the break up of very heart of a single atom. The nucleus-- of Radio-Active material” (Physics, Physical Science study committee second edition D.C. Health and  Company Lexinton, Massachusetts, July 1965- Page 130.

یعنی ہرسریع ذرہ تابکارمادے کے ایٹم کے دل ہی کے ٹوٹنے سے ابھرتا ہے۔ دل یعنی نیوکلیس۔ نیز

"How many nuclear heart-beats are in the life-time of a radioactive nucleaus which lasts only billionth of  a second.” (Ibid. Page 21 Short problems)

”یعنی کتنی نیوکلّیائی دل کی دھڑکنیں ایک تابکارنیوکلّیس کی زندگی کے دوران میں ہوتی ہیں جس کی زندگی فقط ایک ثانیے کا اربواں حصہ ہوتی ہے“۔

             اس کے علاوہ ایٹمی ری ایکٹر کے اس حصے کو جس میں ا یٹمی توانائی کی پیدائش کاعمل وقوع پذیر ہوتاہے۔ ری ایکٹر کا دل کہا جاتا ہے۔ بحوالہ "Our Nuclear Future by Edward Teller and Dr.Albert L. Latter 1958 from a Photograph of the Reactor". 

اور اب جب کہ نیوکلّیس اور دل میں مکمل یگانگت پایہء اثبات کو پہنچ چکی ہے۔ آگے چلیں کہ کس طرح ایٹمی توانائی دلوں پر چڑھتی ہے۔

 ۲۔  ایٹمی توانائی کی پیدائش کے وقت ایٹموں کے نیوکلائی پر حملہ ہوتا ہے:

یہ کہ ایٹمی ذرات ایٹمی نیوکلائی (نیوکلائی نیوکلّیس کی جمع ہے) پرحملہ ہوکر ایٹمی توانائی پیداکرتے ہیں۔ایک حقیقت ہے جو کہ فژن اور فیوژن یعنی دونوں طریقوں میں عمل پیرا نظر آتی ہے جب کہ فژن پراسس میں ایٹمی نیوکلّیس کو توڑ کر ایٹمی توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ فیوژن پراسس میں چندایٹموں کے نیوکلائی کوباہم دیگر کچل کر ایٹمی توانائی پیداکی جاتی ہے اوریہ خاصیت ایٹمی توانائی کی امتیازی خاصیت ہے جو کہ قرآنِ حکیم نے حطمہ کے ضمن میں بیان فرمائی۔ کیمیاوی توانائی نہ تو ایٹمی نیوکلائی میں پیدا کی جاتی ہے نہ ہی اسے ایٹمی نیوکلائی میں کوئی عمل دخل ہوتا ہے۔ ایٹمی توانائی کی یہ امتیازی  خصوصیت ایٹمی سائنس دان کے ذہن میں خصوصیت کے ساتھ موجود رہتی ہے۔ درس  و تدریس کے مرحلے میں سائنس دان جب ایٹمی توانائی کا لفظ لکھتا ہے تو بعض اوقات وہ ساتھ ہی تشریحی جملہ ”بلکہ در حقیقت نیوکلّیر توانائی“ یعنی نیوکلّیس سے حاصل کی جانے والی توانائی،“ بھی لکھ دیتا ہے۔   

  ۳۔    تابکار شعاعیں بھی دلوں پر یعنی ایٹمی نیوکلائی پر چڑھتی ہیں:

(ا)        بے جان اور جاندار چیزوں میں تابکاری کا عمل:۔

بے جان مادے میں وہ ایٹموں کے نیوکلائی پرحملہ آور ہو کر ایٹموں کی قلبِ ماہیت کر دیتی ہیں۔ جاندار بدنوں میں وہ ایٹموں کے نیوکلائی سے متصادم ہو کران میں سےنیوکلّیس کے اجزا (Nucleons) نکال باہر کرتی ہیں۔ خلیے کےنیوکلّیس پرحملہ آور ہو کراس کے کروموسومز کوتوڑ پھوڑ ڈالتی ہیں۔

(ب)۔  تابکاری کا اثر دماغ کے کنٹرول سے ورے زندگی کے حقیقی دل پر ہوتا ہے:۔

تابکار شعاعیں وظیفہء حیات کے اشتراکی عمل کی اس سطح پر اثر انداز ہوتی ہیں جو کہ دماغ کے کنٹرول سے ورے ہے۔ اس طرح سے یہ کہنابجاہو گا کہ تابکار شعاعیں زندگی کے عین دل پراثر انداز ہوتی ہیں۔ 

(ج)۔    تابکار شعاعوں کی کشش ہر اس چیز کے لئے جو بدن میں دل سے تعلق رکھتی ہے:۔

تابکارشعاعیں بدن میں ہر اس شئے کی طرف جس کا تعلق دل سے ہے اپنی تقابلی کشش اور ترجیحی رحجان کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ دماغ، اعصاب اورعضلات، مندرجہ ذیل اشیاء کے مقابلے میں تابکاری کی اثر پذیری میں کم حساس ہیں۔

 ۱۔        "ہڈیوں کاگودا جو خون کے خصوصی خلیے تیار کرتا ہے اور خون کا جوتعلق جو دل سے ہے واضح ہے"۔ 

 ۲۔        "     تمام وہ اعضاء جو خون پیداکرتے ہیں اور خون کا تعلق دل سے واضح ہے"۔

اس کے علاوہ تمام ایک خلیے والے حیاتیاتی نظام (Unicellular Organisms )ایک سے زائد خلیوں والے حیاتیاتی نظاموں (Multi-cellular Organisms)  کے مقابلے میں تابکاری کااثرقبول کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں اور معلوم ہے کہ اوّل الذکر کے مقابلے میں آخرالذکر کے دوران خون کا نظام اور تنفس کا نظام کہیں زیادہ تکمیل پذیرفتہ ہے اور دورانِ خون اور تنفس کو جو تعلق دل سے ہے وہ بھی معلوم ہےاوراس کے علاوہ تابکاری کا اثر آکسیجن کی عدم موجودگی میں کم ہو جاتا ہے اور آکسیجن کا جوتعلق بذریعہ خون و تنفس دل سے ہے وہ بھی معلوم ہے۔ ایسے ایسے پوائنٹ فکر کے لئے نئے نئے دھارے پیدا کرتے ہیں۔

 ۴۔       ایٹمی بم کے دھماکے کا ابتدائی شعلہ بھی  دلوں پر چڑھتا ہے:

ایٹم بم کاابتدائی شعلہ جسے ہیٹ فلیش (Heat Flash) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔باہر موجود انسانوں کی کھال کو ایک دھپکے سے جلاکر سیاہ یا بھوری کر دیتا ہے اور کمی فرصت کے باعث کھال سے نیچے نہیں جلاتالیکن اس کے باوجود انسان کے دل پر ایسا صدمہ لگاتاہے کہ دل کام کرناچھوڑ دیتا ہے اور انسان کی ہلاکت کاباعث ہو جاتا ہے۔ باقی رہیں تابکار شعاعیں توان کابیان ہو چکا کہ وہ کس طرح دلوں پرچڑھتی ہیں۔

۵۔      ایٹمی توانائی نیوکلّیر کرشر (Nuclear Crusher) یعنی دلوں کا کرشر ہے :

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ حطمہ (روندنے والی) آگ ہے جوچڑھتی ہے دلوں پر۔اب تک جو بیان ہوا ہے ا س کی روشنی میں حطمہ اور ایٹمی توانائی کی قدرِ مشترک یعنی کہ دونوں ہی روندنے والی آگ ہیں جو چڑھتی ہیں دلوں پرپایہء اثبات کو پہنچ چکی ہے۔

۶۔      ایٹمی توانائی حطمہ کی طرح تھرمونیوکلر کرشر (Thermonuclar crusher)  ہے:

ہائیڈروجن بم میں وہ شدید حرارت جو اندرونی فژن بم سے پیدا کی جاتی ہے  لپک کر بیرونی ہائیڈروجن والے حصے میں ہائیڈروجن کے ایٹموں کے نیوکلائی کو چار چار کے گروپ میں یکجا کچل کر ہائیڈروجن بم کے دھماکے کا باعث ہوتی ہے یعنی آگ اندرونی فژن بم سے اٹھی اوراس کے گرد جمع کی ہوئی ہائیڈروجن کے ایٹموں کے دلوں پر لپکی اور ان کو کچل ڈالا۔ اس بات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ایٹمی سائنس دان ہائیڈروجن بم کو تھرمونیوکلّیر بم (Thermonuclear Bomb) کہتے ہیں۔ تھرمو حرارت کو کہتے ہیں اور نیوکلّیر اسمِ صفت ہے نیوکلّیس کا یعنی وہ حرارت جو نیوکلّیس یعنی دل سے متعلق ہے۔ یہ اصطلاح یعنی تھرمونیوکلّیر قرآنِ حکیم کا معجزہ سامنے لاتی ہے اور ساتھ ہی سائنس دان کے اس امر میں اصطلاح وضع کرنے کے کمال کو بھی ایک معرکے کے طور پر پیش کرتی ہے کیونکہ قرآنِ حکیم کے یہ الفاظ کہ حطمہ ایک آگ ہے جو دلوں پر چڑھتی ہے اور یہ اصطلاح  یعنی تھرمونیوکلّیر ایک دوسرے کا ترجمہ معلوم ہوتے ہیں لیکن اس ساری بحث کی بجائے صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ جب نیوکلّیر توانائی کا نام لیا تو نکتہ خود بخود پایہء اثبات کو پہنچا کیونکہ نیوکلّیر توانائی کے معنے ہی ”دل والی توانائی“ کے ہیں۔ برخلاف کسی دوسری قسم کی توانائی کے۔

            آخر میں ہم ورڈزورتھ ایک معروف انگریز شاعر کا ایک چھوٹا سا شعر لکھتے ہیں جو ہمارے موضوع سے کاملاًمطابقت رکھتا ہے اور ورڈزورتھ ایٹمی توانائی کے انکشاف سے کہیں پہلے ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے۔ 

To let a creed built in the heart of things

Dissolve before a twinkling atomy

اس کے معنی کچھ اس طرح کے ہوں گے :۔

            ہائے افسوس ایک ایسے دین کو جو دلوں پر تعمیر ہوا تھا اسے ایک حقیر چمکدارایٹم کے مقابلے میں نابود کرنا۔

۷۔      ایٹمی توانائی گھیراؤ کی خصوصیت کی مالک ہے:

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔”حطمہ ایک آگ ہے بند کی ہوئی ان پر“۔ایٹمی توانائی کی گھیراؤ والی کیفیات مندرجہ ذیل امثلہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

۱۔       ایٹمی بم کادھماکہ اور الٹی دیگ کی مثل:

ایٹمی بم کا دھماکہ ایک الٹی دیگ کی صورت میں ہوتا ہے جس کا قطر کئی میل کا ہوتا ہے۔ اس دیگ کے گرداگرد ایک دوسرا باڑہ تابکاری کا ہوتا ہے۔ میگاٹن بم کی صورت میں تابکار مادہ ساری زمین کے گرد ایک غلاف بنا لیتا ہے۔

۲۔                تابکار مادہ ہڈیوں سے نہیں نکلتا :

تابکار مادہ جو بدن میں جا کر ہڈیوں میں بیٹھ جاتا ہے۔وہاں سے کسی بھی صورت نہیں نکالا جا سکتا۔ مرنے کے بعد قبر میں بھی وہ تابکار مادہ مردے کی ہڈیوں میں موجود رہتا ہے۔

۳۔       تابکاری مریض پر پہرہ دیتی ہے:

تابکاری کے حملے کے بعد چھ سے تیس سال کے عرصے کے بعد کینسر نمودار ہوتے ہیں گویا کہ تابکاری نے اتنا عرصہ اپنے شکار پر پہرہ دیا۔

 ۴۔     تابکاری خلیے پر پہرہ دیتی ہے:

خلیے پر تابکاری کاحملہ خلیے کی استراحتٰی حالت یعنی (Resting Stage) میں ہوتاہے مگر اثر جا کر انا فیز (anaphase) میں نمودار ہوتا ہے گویا کہ تابکاری نے اس دوران میں خلیے پر اپنا پہرہ رکھا۔

۵۔      تابکاری سار ے بدن کا احاطہ کرے :

اگر ایک عضو پر بھی تابکاری ڈالی جائے تو تابکاری سارے بدن کا احاطہ کر لیتی ہے۔

۶۔      تابکاری سردخانے میں ڈالے ہوئے مینڈک کامحاصرہ رکھے:

تابکاری کی ایک قاتل مقدار کے بعد مینڈک اگر معمولی ٹمپریچر میں رکھے جائیں تو تین اور چھ ہفتوں کے درمیان مر جاتے ہیں اور اگر ان کو بیہوشگی کی حالت میں ایسے ٹمپریچر میں رکھا جائے تو نقطہء انجماد سے کچھ اوپر ہو تو وہ کئی مہینے تک سلامت رہتے ہیں اَلبَتَّہ جوں ہی ان کو گرمی پہنچائی جائے تو وہ تابکاری کی علامات ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اسی مدت میں مر جاتے ہیں جس میں وہ مینڈک مرتے ہیں جنہیں تابکاری کے بعد سر دخانے میں نہ رکھا گیاہو یہ تجربہ ان تمام جانوروں پر کا میابی سے کیا جا سکتاہے جو شدید سردی میں بھی زندہ رہنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

۷۔      الیگزنڈر ہیڈو کا خیال:

آج سے تقریباً چالیس برس پہلے  الیگزینڈر ہیڈو (Alexandar Haddow) نے یہ خیال ظاہر کیا کہ کینسر پیدا کرنے والے عناصر کاکینسر پیدا کرنے کا عمل ہو سکتاہے کہ  معمولی نمو کے ساتھ ان کی طویل دخل اندازی کی وجہ سے ہو۔خیال اَلبَتَّہ خیال ہے اور جب تک کوئی عملی ثبوت پیش نہ کیا جائے۔ سائنس کے لئے قابلِ قبول نہیں اگرچہ قرائن سے یہ خیال درستی پر مبنی نظر آتا ہے۔

 ۸۔     تابکاری انسان کا گھیراؤ آئندہ نسلوں تک رکھے :

تابکاری انسان کا گھیراؤ اس کی آئندہ نسلوں تک بلکہ غالباً اس کی نسل کے فنا ہونے تک کرتی ہے۔مضروب جنسی خلیے جوتابکاری کے اثر سے مضروب و عیب دار ہوئے ہیں خفیہ طور پر نسل در نسل چلتے رہتے ہیں حتٰیٰ کہ کسی ایک نسل میں جاکر وہ اپنے وجود کا مظاہرہ بچے کی ابنارمل یعنی غیر معمولی پیدائش کی صورت میں کرتے ہیں۔ یہ غیر معمولیت جو بالعموم عیب دار بھی ہوتی ہے موروثی ہوتی ہے اور نسل در نسل چلتی ہے پھر ابنارمل جوڑوں کے درمیان شادی ہو جانے سے یہ غیر معمولیت اور عجیب الخلقیت کئی ایک قسموں میں تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ساتھ ساتھ ان لوگوں کی تعداد جو اس میں مبتلا ہوتے ہیں بڑھتی جاتی ہے حتٰیٰ کہ پوری آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ یہ زمین بیماری کینسر اور مصیبت کا ایک ہسپتال بن کے رہ جاتی ہے۔ عجیب الخلقیت میں مبتلالوگ دماغی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں اور لہٰذا زمین پر زندگی گذارنے کی اہلیت سے عاری ہوکر راہی ملکِ عدم ہو جاتے ہیں۔ صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور اور پودے بھی تابکاری کے اس گھیراؤ سے متاثرہوتے ہیں اور تابکاری کا عمل اگر جاری رہے تو اس بات کا یقین ہے کہ زمین پر ساری زندگی تابکاری کی نذر ہوکر فنا کی گود میں گر جاتی ہے۔

۹۔      مستقبل کے ایٹمی دورکا منظر:

آج کے منظر پر ایٹمی دور کا قیاس کرنا درست نہیں بلکہ

 آج کے دن پر قیاس حالتِ فردا نہ کر

 مختلف ہے آج کے منظر سے دورِ ایٹمی

آج اس ساری دنیامیں گنتی کے چند ایٹمی پلانٹ او رری ریکٹر کام کر رہے ہیں لیکن جب ایٹمی توانائی  اپنے عروج پر پہنچ جائے گی تو ہر پاور ہاؤس، فیکٹری، بحری جہاز، سب میرین، ریلوے انجن، ہوائی جہاز، بس، حتٰی کہ پرائیویٹ کار بھی اپنے اپنے ری ایکٹر سے لیس ہوگی۔ ری ایکٹر پرانے ہو جائیں گے اور پھٹنے لگ جائیں  گے، لیکنگ کاتو کہنا ہی کیا،ری ایکٹرپھٹ کر ارد گرد کے ماحول میں تابکاری کی ایک طغیانی کاسماں برپا کر دیں گے۔ کوئی بھی شخص محفوظ نہ ہو گا۔کینسر اور تابکاری کی بیماری کی وباگھر گھر ہو گی اور تابکاری سے ہونیوالے مضروب عیب دار خفیہ رہنے اور خفیہ منتقل ہونے والے جنیوں (Mutated Genes) کا تو کہنا ہی کیا بہر حال تصّور کی آنکھ اس دردناک منظر کو دیکھنے کی اورقلم اسے لکھنے کی اور زبان اسے بیان کرنے کی تاب نہیں رکھتی اَلبَتَّہ اتنا کہا جا سکتاہے کہ وہ ایٹمی جہنم ہو گا۔ یہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ایٹمی جہنم ہو گی۔ آبادی کی ایک کثیر تعداد کینسر، تابکاری بیماری اورگوناگوں جنسی امراض میں مبتلا ہوگی۔ اقتصادی مصائب اس کے علاوہ ہوں گے۔ معاشرتی عوارض بلائے جان ہوں گے اور ہر وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں دوزخ یا جہنم کے بارے میں بیان فرمایا ہے وہ اس زمین پر موجودہو گا۔ فاعتعبروا یا اوّلی الابصار۔یہ باتیں الف لیلہ و لیلہ کی کہانی سے ماخوذ نہیں بلکہ ناقابلِ تردید اور ثابت شدہ سائنسی حقائق ہیں مگر جب اللہ کی تقدیر ایک مخلوق پر لاگو ہوتی ہے تو وہ مخلوق اندھی ،بہری اور گونگی ہو جاتی ہے اور نصیحت کی بات اس کے کان قبول نہیں کرتے۔

(VI)                     قرآنِ حکیم نے کہا۔”لمبے لمبے ستونوں میں“:

”لمبے لمبے ستون“ ایٹمی توانائی کی ایک لازمی اور امتیازی خاصیت:۔

 ا۔      ایٹمی بم کے دھماکے کا ستون:

ایٹمی بم کئی میل اونچے ستون جو آسمان کے سینے کوچیرتا ہوا بلندہوتا ہے۔ ہرشخص کو نظرآ جاتاہے اور یہ ستون ایٹمی بم کے دھماکے اور عام بم کے دھماکے کے مابین وجہء امتیاز بن چکا ہے۔

ب۔    تابکار ایٹمی ذرات بھی لمبے لمبے ستون اٹھاتے ہیں:

یہ فقط ایٹمی بم ہی نہیں جو ستون بناتے ہیں بلکہ تابکار ایٹمی ذرات بھی ستون اٹھاتے ہیں بلکہ تابکاری کی دنیاستونوں کی دنیا ہے۔ یورانیم۔ 235 کی ایک واحد فژن Mev 200 جتنی خطیر توانائی خارج کرتی ہے اوراگر تانبے کے ایک ایٹم نے ایک انچ کی بلندی حاصل کرنی ہو تو اسے اپنے قطر کے مقابلے میں دس کروڑ گنا کا فاصلہ طے کرناہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک الفاپارٹیکل جو کہ تانبے کے ایٹم کے مقابلے میں کہیں چھوٹا ہے اور جس کا نصف قطر   10-13سینٹی میٹر کے قریب ہے۔ تین سے لے کرسات سینٹی میٹر تک کی بلندی حاصل کر سکتا ہے اگر ہم چار سینٹی میٹر کواوسط مان لیں تو معلوم ہوتاہے کہ الفا پارٹیکل نے اپنے قطر کے مقابلے میں کھربوں کے حساب سے فاصلہ طے کیا ہے۔ اگر ایک فٹ بال بھی اپنے قطر کے مقابلے میں اسی نسبت سے ہوا میں اٹھے تو وہ خلاکے کئی درجے عبورکر جائے گا۔ گاماشعاعیں اپنے بے حساب چھوٹے پن کے باوجودہوا میں دو سو گز کا فاصلہ طے کر جاتی ہیں اور یہ نسبت توعقل و قیاس کو بھی ماؤف کر دیتی ہے۔ بی ٹا شعاعیں ہوا میں کئی گز کا فاصلہ طے کر جاتی ہیں۔ 

یورانیم 235 کے فژن چین ری ایکشن کے دوران نیوٹران ایک نیوکلّیس سے دوسرے نیوکلّیس تک پہنچنے کے لئے اپنے حجم سے دس ہزار گنا سے بھی زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے تاہم نیوکلّیس اسے روک لیتاہے۔ ورنہ اگر رکاوٹ نہ ہو تو نیوٹران بہت بڑے فاصلے طے کر جاتا ہے۔ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ستونوں کا اٹھانا خود بنیادی طور پر ایٹمی توانائی کی سرشت میں داخل ہے اور فقط ایٹمی بم کے دھماکے تک محدود نہیں۔ اس کے علاوہ ہم خلائی شعاعوں (Cosmic Rays) کی بارشیں جو زمین پرہوتی ہیں ان کو بھی دیکھتے ہیں۔ یہ شعاعیں کہیں دور خلا سے آتی ہیں تو پھر کیا ہی لمبے ستون ہیں یہ اور یہ بھی یاد رکھناچاہیئے کہ ایٹمی تابکار ذرات کی رفتار اس قدر تیز ہے۔ (گاما شعاعیں توبالکل روشنی کی رفتار سے چلتی ہیں) کہ اپنی رفتار میں یہ ذرات بجلی کی چمک کی طرح بلندی حاصل کرتے نظر آئیں اور اس لئے ہماری آنکھوں میں ستونوں کی طرح نمودار ہوں اور یورانیم 235 کے فژن چین ری ایکشن میں اربوں نیوٹرانوں کا ستونوں کی صورت میں اوپر اٹھنا تو دیدنی ہے۔

(vii)            حطمہ کی منظر کشی آنحضور ﷺ کی زبان مبارک سے:

آپ ﷺ نے فرمایا۔اللہ فرشتوں کو آگ کے ڈھکنے اور آگ کے کیل اور آگ کے ستون دے کر بھیجے گا۔وہ دوزخیوں کو آگ کے ڈھکنوں سے ڈھانپ دیں گے اور آگ کے کیلوں سے ان کو جڑ دیں گے اور پھرآ گ کے ستون ان کے اوپر کھینچ دیں گے۔ سارا ماحول اس طرح بند ہو گا کہ نہ تو فرحت کا کوئی نشان باہر سے اندر داخل ہو سکے گا نہ ہی عذاب کی کوئی رمق اندر سے باہرنکل سکے گی۔ اللہ اپنے عرش پر ان کوفراموش کر دے گا اور اپنی رحمت ان سے اٹھالے گا۔ بہشت کے مکین اللہ کی نعمتوں میں مشغول ہو جائیں گے۔ دوزخی مدد کے لئے پکارنابند کردیں گے اور گفتگو محض سانس اندر کھینچے اور باہر کھینچے کی آواز بن جائے گی۔(الجلالین)

اب واضح ہے کہ ایٹم بم کے دھماکے کی اس سے بہتر منظر کشی تصّور میں نہیں آ سکتی۔ ایٹم بم جب پھٹتا ہے تو دھماکہ آگ کے ایک ڈھکنے کی صورت اختیارکر لیتا ہے اور تابکار   شعاعیں کیلوں کی طرح انسانوں کو جڑ دیتی ہیں اورآگ کا ستون اوپر اٹھتاہوا میلوں تک کی بلندی پر چلاجاتا ہے۔ پھر جب تک کہ ایٹمی دھماکے کا عمل جاری رہتا ہے سارا ماحول ایئرٹائیٹ رہتا ہے۔ کوئی فرحت باہر سے اس ماحول میں نہیں جا سکتی نہ ہی عذاب کا کوئی حصہ نکل کے باہر جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کواس عذاب سے بچائے۔ آمین۔

(VIII)         ایٹمی مظاہرے کی ہولناکی اور پیچیدگی ناقابلِ بیان ہے:

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔”اور تو کیسے سمجھے؟ کہ وہ کیا ہے روندنے والی حطمہ؟

قرآنِ حکیم نے جواستفہامی اندازِبیان اختیار کیا ہے اس سے مرادیہ ہے کہ حطمہ کی ہولناکی کواجاگر کیا جائے اور اب جب کہ ایٹمی توانائی کے علوم سامنے ہیں تو ہولناکی کے ساتھ پیچیدگی کاعامل بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ہولناکی کا تو کیا کہنا۔ نیوکلّیر سائنس پیچیدگی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ایٹمی بموں کی ہولناکی سے تو لوگ کچھ نہ کچھ آشنا ہو چکے ہیں مگر صحیح آشنائی تو اس روز ہو گی جب ایٹمی جنگ میں ایٹم بم لوگوں کے سروں پر گرجتے ہوئے پہاڑوں کی طرح گریں گے اور انسانیت پرآگ کا حملہ ہو جائے گا۔  بچے، بوڑھے، جوان، مرد،عورتیں اور ان کے ساتھ جانور اور پودے سب آگ میں  جل کربھسم ہو جائیں گے اَلبَتَّہ ایٹمی توانائی برائے امن کی ہولناکی کاعلم کچھ دقتِ طلب ہے لیکن جب ایٹمی توانائی برائے امن پوری طرح سے دنیاپر چھا جائیگی تو اس کی ہولناکیوں کا اندازہ ان بدنصیب نسلوں کو ہوگا جو اس وقت ایٹمی توانائی برائے امن کے ایٹمی جہنم میں سزا بھگت رہی ہوں گی۔ کینسر زدہ اورتابکاری بیماریوں میں مبتلا، دس ہزاربدنی اورروحانی عوارض سے نالاں ِ زہریلی،غیر مرئی، تابکاری شعاعوں کی آندھی میں گھری ہوئی ایک بے بس و مجبور انسانیت موت کی آرزو کرے گی مگر موت بھی اس سے بھاگے گی، باقی رہا نیوکلّیر سائنس کی پیچیدگی کا مسئلہ تو اس کے متعلق دورِ حاضر کے سائنس دان گواہی دیں گے کہ یہ مضمون سخت ہراساں کن اور آبلہ فریب مضمون ہے۔ چونکہ ایٹمی نیوکلّیس کی غیر مرئی اورباریک اوردور افتادہ منطقوں میں کارفرماہے لہٰذاانسان کے دسترس سے باہر رہنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ حتٰیٰ کہ  سائنس دان بوکھلا اٹھے ہیں اور سائنس دانوں کا علم اس مضمون میں اتنا حقیرہے کہ لوگ باور نہیں کر سکیں گے لیکن اس ساری کم علمی کے باوجود قرآنِ حکیم نے نیوکلّیر سائنس کے متعلق جوبنیادی باتیں بیان فرمائی ہیں پتھر پر لکیر کی طرح پایہء اثبات کو پہنچ گئی ہیں لیکن اس کے باوجود قرآنِ حکیم کے یہ لفظ کہ تجھے کیوں کرسمجھایا جائے کہ حطمہ کیا ہے، سامنے آتے ہیں۔ واقعی نیوکلّیر سائنس کا سمجھانابڑاہی مشکل کام ہے۔

(IX)            حطمہ کی سزا اور ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات ایک ہی  ہیں :

حطمہ کی سزا کے وجوب کے لئے قرآنِ حکیم نے مندرجہ ذیل اسباب بیان فرمائے ہیں:۔  

1۔        عیب جوئی اور نکتہ چینی۔

2۔        دولت جمع کرنے میں استغراق اور اسکا جوڑجوڑ کر رکھنا، مستقبل کی خاطر۔

3۔        باور کرنا کہ دولت مندی ہمیشہ رہے گی۔

یہی تینوں وجوہات ایٹمی جہنم یعنی ایٹمی توانائی اور اس کے جملہ مظاہر ازقبیل ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری وغیرہ کی پیدائش کا سبب ہیں۔ ایٹمی توانائی اس مسلسل سائنسی تحقیق کے کورس کی ایک کڑی ہے جو قدرت پر اپنی قدرت حاصل کرنے کے لئے (جس کی غرض مادی ترقی اور دولت اندوزی بحیثیت مقصدِ حیات انسانی کے سوا کچھ نہ تھی) سائنسی تحقیق کے کورس کی ایک کڑی کی صورت میں ایک ایسے ریشنلزم کے ماحول میں ظہور پذیر ہوئی جس کے تنقیدی رویئے کی صورت عیب جوئی، نکتہ چینی اور پراپیگنڈے  میں بدل چکی ہے اوریہی روش ہے جو ایٹمی توانائی کی پیدائش کا سبب بنی اوریہی روش ہے جو، اب باوجود ان خطرات وخدشات کے علم کے، جوایٹمی توانائی کے اپنانے میں مضمر ہیں ایٹمی توانائی کے قیام کا سبب بن  رہی ہے اور یہ دورِ حاضر کی منظم، مسلسل، روزافزوں اور ابدی، لامتناہی ترقی اس خصوصی عالم گیر اقتصادی صنعتی ڈھانچے کے اندر اور اپنے لازوال پانچ سالہ منصوبوں کے ساتھ اگرقرآنِ حکیم کے لفظوں ”جمع مالا وعددہ‘کی مادی تعبیر نہیں تو اور کیا ہے اور اس میں وہی نظریہ کہ دولت ہمیشہ رہے گی اور بڑھتی جائے گی اور گویا کہ یہی زندگی ہی فقط زندگی ہے اگر کار فرما نظرنہیں آتا تو اور کیا نظر آتا ہے۔ جہاں تک عیب جوئی اور نکتہ چینی کاتعلق ہے تو ہرشخص اچھی  طرح سے جانتاہے کہ آج اس دور میں دو آدمی اکٹھے بیٹھے ہوں توسوائے نکتہ چینی اور عیب جوئی کے ان کی گفتگو میں بہت ہی کم کچھ ہو گا۔مذہب بالخصوص سائنس کی نکتہ چینی کا ہدف ہے اور حقیقتاً اگراس دور کا ملاحظہ کیا جائے تو قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزہ جس میں حطمہ کا بیان ہے اس آج کے دورپر اس طرح صادق آتی ہے کہ اس میں کسی شک وشبے کی گنجائش باقی نہیں رہتی لیکن اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انسانیت کو ہدایت بخشے اور ایٹمی جہنم کے دردناک عذاب سے نجات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین۔

(X)    ایٹمی جہنم کے ظہور کی یقینیت:

تین مذکورہ اسباب کا سائنسی اور منطقی نتیجہ ہونے کے سبب ایٹمی جہنم کا نمودار ہونااتناہی یقینی ہے جتنا کہ بارود کے تین عناصر جب صحیح تناسب میں ملا دیئے جائیں تو ان کا بارود میں تبدیل ہو جاتا یقینی ہے اور لامحالہ کوئی بھی ترکیب ایٹمی جہنم سے بچنے کی موثر نہیں سوائے ان اسباب کو دور کرنے کے جو قرآنِ حکیم نے حطمہ کی سزا کے گنائے ہیں اور جو ایٹمی جہنم کی پیدائش کے بھی اسباب ہیں لہٰذا ایٹمی جنگ نہ کرنے کے معاہدوں اور ہتھیاروں میں کمی کی کانفرنسوں پراعتماد کرکے ایٹمی جہنم کے معاملے میں مطمئن ہو جانا دانشمندی کا تقاضا نہیں۔ ابتک قاری نے سمجھ لیاہو گا کہ ایٹمی توانائی، ایٹمی بم اور ایٹمی تابکاری مل کرایٹمی جہنم کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔اگر یہ سمجھ لیاہے تو یہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں کہ ایٹمی جہنم اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور یہ بات کہ ایٹمی بم کوئی دفاعی ہتھیار نہیں بلکہ مکمل تباہی ہے کسی عقیدے کا محتاج نہیں۔ یہ تو ایک واضح عملی اور علمی بات ہے اَلبَتَّہ اس بات کا سمجھنا کہ ایٹمی توانائی برائے امن بھی ایٹمی جہنم ہی ہے بلکہ ایٹمی جہنم کی ماں ہے۔ ام ہاویہ ہے۔ ان بدنصیب لوگوں کے لئے ریزرو رہے گا جو آئندہ نسلوں میں ایٹمی توانائی کے کامل عروج کے زمانے میں ہوں گے اور موجودہ نسل اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کا بویاکاٹیں گے۔ وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اگر ایٹمی بم مکمل تباہی ہے تو ایٹمی توانائی برائے امن ایک سست رو مگر انجامِ کاراس سے بھی بڑی تباہی ہے۔ موجودہ نسل اَلبَتَّہ مطمئن رہے کہ اگر ایٹمی جنگ نہیں ہو جاتی تو بسکون واطمینان ایٹمی توانائی برائے امن کے مادی فوائد سمیٹتی ہوئی اور قرضہ آئندہ نسلوں کے نام چھوڑتی ہوئی اس دنیا کو خیر باد کہہ جائے گی تاہم ایٹمی جہنم کے اوائلی جھونکوں سے محفوظ نہ رہے گی۔

(XI)  تابکاری پر مکمل کنٹرول اور اس کے خلاف ہمہ گیر انفرادی حفاظت سے قبل ایٹمی توانائی کا اپنانا غیر سائنسی رویئے کی بدترین، تباہ کن مثال:۔

تابکاری سے حفاظت کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ تابکاری کے مرکز کو مکمل طو ر پر اور مادی طریقے سے بالکل ڈھانپ دیا جائے اور یا پھر اس چیز کو جسے تابکاری سے بچانا مقصود ہے اسے مکمل طور پر اور مادی طریقے سے بالکل ڈھانپ دیا جائے۔اوّل الذکر بات تو ممکن ہے۔ری ایکٹروں کو مکمل طور پر سیسے یا کنکریٹ سے ڈھانپ دیاجاتا ہے لیکن موخرالذکر بات یعنی ری ایکٹروں کے گردونواح میں بسنے والی آبادیوں یاپوری دنیا کی آبادیوں کے ہرفردِ واحدکو مکمل طور پر مادی طریقے سے ڈھانپ دینا ممکن نہیں۔ فقط  وہ چند ملازم جو ایٹمی پلانٹوں یا تابکاری کے دوسرے مرکز وں میں کام کرتے ہیں تابکاری کے خلاف محفوظ کئے جا سکتے ہیں۔ ان کے لئے ہلکے تابکاری پروف لباس بھی ایجاد کئے جا چکے ہیں۔ جو وہ اپنی ڈیوٹی کے دوران پہن لیتے ہیں اور اگرچہ ایسے لباس بھی مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیئے جا سکتے تاہم کچھ نہ کچھ اطمینان مہیّا کر سکتے ہیں لیکن ایسا لباس جملہ آبادی کے لئے پہننا قابلِ عمل نہیں کیونکہ یہ لباس بالکل ایک بند بوری کی مانند ہوتا ہے جس میں آنکھوں کے لئے شیشے لگے ہوتے ہیں اور اس کا پہننا پیدائش سے لیکرموت تک ہرلمحے بدن کی کھال کی طرح لازم ہے کیونکہ تابکاری کا کوئی وقت نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی علامت ہے۔ یہ غسل خانے میں بھی حملہ آور ہوسکتی ہے اور اس کے حملے کا کچھ پتہ نہیں لگتا اور اگر یہ حملہ قاتل نہ ہو تو بھی انسان کے جنسی جنیوں (Genes) کو خفیہ طور پر مضروب و عیب دار (Mutate) کرکے خفیہ طور پر آئندہ  نسلوں کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ لوگوں کے لئے ایسا لباس پہننااگرقابلِ عمل بھی ہوتو بھی وہ اس پر تابکاری یا ایٹمی توانائی کے بغیر بھوک کو ترجیح دیں گے۔آپ شائید سوچ رہے ہوں گے کہ ایٹمی پلانٹوں اور ری ایکٹروں پر کام کرنے والوں کو تو تابکاری سے حفاظت کی ضرورت ہے۔ بھلا دو ردراز رہنے والے لوگوں کو اس کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے؟ تو جاننا چاہیئے کہ ری ایکٹر صرف بعض اوقات تابکاری لیک ہی نہیں کرتے بلکہ دھماکے سے پھٹ کر گردونواح کے اضلاع میں تابکاری کی طغیانی کاایک سماں پیدا کر دیتے ہیں اوران علاقوں کی آبادیاں پھر محض  حالات کے رحم و کرم پررہ جاتی ہیں اور تابکاری ان کے لئے نہایت سنگین نتائج پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے نتائج جو ان کی آئندہ نسلوں تک کو غارت کر سکتے ہیں۔اس انداز سے کہ ان کو خبر تک نہیں ہوتی بلکہ ان کی بعض آنے والی نسلیں اس عمل سے بے خبر ہوتی ہیں جومضروب،عیب دار، جینئے ان کے اندر نسل در نسل کرتے چلے جارہے ہیں حتٰیٰ کہ کسی آئندہ نسل میں لاواپھٹ پڑتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہر ری ایکٹر لازمی طور پر اپنی طبعی چالیس سالہ زندگی دھماکے سے ہی ختم کرتا ہے۔ پچھلے ہی دنوں امریکہ میں ری ریکٹر کے پھٹنے کا خطرہ نمودار ہواتو امریکی حکومت کو اس ری ایکٹر کے ارد گرد بسنے والے لاکھوں آدمیوں کے انخلا کا بندوبست کرنا پڑا۔ایسا انخلا ایک روز یازیادہ سے ایک یا دو روز کے اندر ہونا چاہیے ورنہ پھر کوئی فائدہ نہ ہوگا اور انخلا سے جو کچھ بچ سکتا ہے وہ بھی نہ بچ سکے گا۔ تابکاری نہایت سریع، نہایت ظالم اور نہایت ہی مکار چیز ہے۔

لیکن آج کی ایٹمی توانائی کی حالت اور آئندہ کی ایٹمی توانائی کی حالت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیئے۔ آج چند اکا دکا ری ایکٹر کسی کونے کھدرے میں سرگرمِ عمل ہیں لیکن جب ایٹمی توانائی کارواج دنیا میں عام ہو جائے گا۔ ہر پاور ہاؤس، فیکٹری، بحری  جہاز، سب میرین، ریلوے انجن، ہوائی جہاز، بس، حتٰیٰ کہ پرائیویٹ کار بھی اپنے ری  ریکٹر سے لیس ہو گی۔ ری ایکٹر پرانے ہوکر دھماکوں کی بھرمار ہو جائے گی اور لیکیج کاکہنا ہی کیا تقریباًہر آدمی تابکاری کی زد میں ہوگا اوریہ دنیا کینسرزدہ  اور تابکاری بیماریوں میں مبتلا، عجیب الخلقت، فلاکت زدہ لوگوں کا ایک ہسپتال بن کر رہ جائے گی اور صحیح معنوں میں ایٹمی جہنم کا سماں پیدا کرے گی۔ زمین کے کرے کے اوپر تابکاری شعاعوں کی برچھیوں کا ایک جال بنا ہو گا اور لوگ اس زندگی سے پناہ مانگیں گے مگر موت بھی ان سے دور  بھاگے گی، خبروں میں اضافہ ہوگا،آج فلاں کاری ایکٹر پھٹ گیا،اتنی اموات ہوئیں،اتنے تابکار بیماری میں مبتلاہوئے لیکن جنسی جینیوں کا نقصان تو خفیہ ہی رہے گا جب تک کہ اس طرح کی خبریں نہ چھپیں کہ فلاں جگہ عجیب الخلقت بچہ پیداہوا،سر ریچھ کا،دھڑ لومڑی کا اور دم لگڑ بگڑ کی ہے۔ تصویریں ہوں گی۔ یہاں تک بالآخر سب انسانیت ہی عجیب الخلقیت کاشکار ہو جائے اور گوناگوں مصائب کا شکار ہوکرراہیِ ملکِ عدم ہو جائیگی۔

مطلب یہ نکلا کہ انسانوں، حیوانوں اور پودوں کی اس دنیا کو بغیر کسی حفاظتی اقدام کے چھوڑ کر ایٹمی توانائی کو اپنانا دنیا پرایک صریح ظلم ہے اور سوجھ بوجھ کی تاریخ میں سوجھ بوجھ پر اتنے ظلمِ عظیم کی مثال ڈھونڈھنے سے نہیں ملتی۔ اس بات کا اندازہ کرنے کے لئے کہ تابکاری موت اور حاضری بدنی بیماریوں کے علاوہ کس حدتک خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ تابکاری کے جنسی جنیوں (Genes) پر اثرات کاعلم  حاصل کرنا چاہیے۔مضروب و عیب دار شدہ جنیئے نسل در نسل خفیہ طور پرمنتقل ہوتے رہتے ہیں حتٰیٰ کہ کسی ایک نسل میں عجیب الخلقت بچوں کی پیدائش کی صورت میں اپنی موجودگی کا اظہار کردیتے ہیں، یہ عجیب الخلقیت موروثی ہوتی ہے اور باہمی شادیوں کے نتیجے میں اس کی قسموں میں بتدریج اضافہ کے ساتھ ساتھ مبتلا لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتارہتا ہے حتٰیٰ کہ پوری آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے اور آبادیاں  گوناگوں امراض و عوارض اور آلام و شدائد سے کچھ عرصہ دوچار رہ کر نیست و نابود ہو  جاتی ہیں اور یہی کچھ جانوروں اور پودوں کے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح تابکاری سے حفاظت کاکوئی ذریعہ موجود نہیں۔اسی طرح مضروب جنیئے (Genes) کو معلوم کرنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں نہ اسے ضائع کرنے کا ہی کوئی ذریعہ ہے اور جب اس کے نتیجے میں عجیب الخلقیت کاظہور شروع ہو کر انسانیت تباہی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے تب بھی قطعاًاور ہرگز کچھ نہیں کیا جا سکتا۔انسانیت حالات کے رحم و کرم پر ہوتی ہے لہٰذا انصاف کی بات یہ ہے کہ تابکاری کے خلاف حفاظتی ہمہ گیر اور انفرادی ذرائع کے بغیر اور تابکاری کے جنسی اثرات کے  مسئلے کو موثر طریقے سے سلجھائے بغیر ایٹمی توانائی برائے امن کا اپنانا دانش مندی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایک ایسی غلطی ہے جسے ایٹمی جہنم میں علم کے باوجود اندھا دھند چھلانگ  لگانے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے اور یہی کچھ مستقبل کے متعلق کہا جاسکتاہے۔ان مسئلوں کے حل کی کوئی امید نظرنہیں آتی اور وہ لوگ جو امید میں مبتلا ہیں اسے فریب خوردگی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بے حد واضح بات ہے کہ نہ تو ری ایکٹروں کو دھماکہ کرنے سے روکاجا سکتا ہے نہ ہی روئے زمین کی مخلوق کو تابکاری پروف خولوں میں بند کیا جاسکتا ہے پھرسوائے خود کشی کے اصول کے کوئی اصول ایٹمی توانائی برائے امن کے اپنانے کی اجازت نہیں دیتا۔

آیئے! اب دیکھیں کہ تابکاری بیماری کے علاج معالجے کی کیا کیفیت ہے۔آ پ حیران ہوں گے کہ کوئی قطعی علاج آج تک تابکاری بیماری (Radiation Sickness) کادریافت نہیں ہوانہ ہی فی الحال اس کے دریافت ہونے کی کوئی توقع ہے۔ ایٹمی توانائی اور تابکاری کا میدانِ عمل ایٹمی نیوکلّیس ہے،جو بے حد باریک ہے اور انسان کے لئے وہاں کنٹرول حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے بلکہ اغلب یہ ہے کہ انسان ایٹمی نیوکلّیس پرکنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں پھنس کر ایٹم کاشکار ہو جائے گا۔

کہا جاتاہے کہ سائنس کو آباد کاری اور بربادی دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے لیکن اگر یہ بھی سائنس ہی کا اصول ہے کہ پہلے ایک قدرتی طاقت پر مکمل کنٹرول کرواور اس کی مضرت کو دور کرو، اور تب اسے انسان کی خدمت میں دو، تو ایٹمی  توانائی کو ایک خصوصی حیثیت دینی چاہیئے۔ تابکاری جو ایٹمی توانائی کاجزوِلاینفک ہے، مضر ہی نہیں، ساری مخلوق کی قاتل ہے۔ اس وقت تک اسے اپنانے کا پروگرام ملتوی کردیا جائے جب تک کہ اس کے مضر اثرات کاتوڑ نہیں پیداکر لیاجاتا۔اگر سائنس کی کچہری میں یہ مقدمہ دائر کیا جائے تو سائنس کا فیصلہ حتمی طور پر وہی ہوگا جو ہم کہہ رہے ہیں۔ سائنس فی الفور حکمِ امتناہی(Stay Order) جاری کرے گی اور اس وقت تک سارے ایٹمی پروگرام بند کر دے گی جس وقت تک کہ ا یٹمی توانائی پر مکمل کنٹرول نہیں حاصل کرلیا جاتا یعنی تابکاری کے خلاف حفاظتی ذرائع اور حفاظتی اقدامات ہر فردِ واحدکو مہیّا نہیں کئے جاتے اور تابکاری کے خفیہ جنسی اثرات کا مسئلہ حل نہیں کر لیاجاتا ورنہ سائنس کا فیصلہ ہے کہ ایٹمی توانائی کی سفارش یا اس کام میں تعاون کے سبب سائنس دان سائنس کی نگاہ میں ایک ناقابلِ معافی جرم اور ناقابلِ تلافی ظلم کا مرتکب ہو رہا ہے۔کنٹرول سے پہلے ایٹمی توانائی کا اپنانا ایسا ہی ہے جیسا کہ بغیر لگام ڈالے اور بغیر حفاظتی لباس زیب تن کئے ایک آتشِ نفس اژدھے پرسوار ہونا مگر صد حیف کہ یہ دور ایٹمی توانائی کے مضمون کے ضمن میں جہالت کا دور ہے۔ معدودے چند ایک اس مضمون کو جانتے ہیں مگر ان کاعلم بھی نہایت حقیر ہے۔ آ ج انسانیت کی خدمت اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی کہ ان کو ایٹمی توانائی کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ خود ہی نیک و بد کو پہچان سکیں لیکن اس مضمون کی تعلیم صرف ری ایکٹروں کی تیاری اور ایٹمی توانائی کے فوائد تک محدود نہ ہو۔

Ik may hee nahi unpar qurban zamana hay by Zainulabideen