Top Banner Blue

 

باب نمبر 4۔    نظریۂ پاکستان کو تقویت دینے والے عوامل:

میں اپنی کتاب ”سر جیمز جینز کی عجیب و غریب کائنات اور قرآنِ حکیم کانظریہ“کی تکمیل کے آخری مرحلوں میں تھا کہ اتفاقاً روزنامہ نوائے وقت کے17 جون 1981 ء کے اقراء کے کالم میں پروفیسر سید ضیاء اللہ ضیاء صاحب کا مضمون نظر پڑا۔ عنوان تھا‘  ”نظریۂ پاکستان کو تقویت دینے والے عوامل“۔ نفسِ مضمون کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس بیش قیمت مضمون کا عنوان وضع کرنا چاہا تو کُھلا کہ یوں بھی کہا جا سکتا ہے۔ ”قدیم لادین اٹامزم کے تانے میں جدید مادہ پرست اٹامزم کے بانے پر ہلاکت آفرین سائنس کی گلکاریاں“۔ میرے لئے اس مضمون میں کشش کا سبب یہی رابطہ تھا جو صاحبِ مضمون نے قدیم اور جدید اٹامزم اور جدید سائنس میں قائم کیا  کیونکہ میری اس کتاب کا موضوع بھی یہی تھا۔ میری دلچسپی اس مضمون میں اس لئے بھی ظاہر ہوئی کہ سر جیمز جینز کے بارہ صفحوں والے مضمون جو میری کتاب کا موضوع تھا اور جناب ضیاء صاحب کے اس مضمون میں بعض باتیں اچھی خاصی مماثلت کی حامل نظر آتی ہیں۔ دونوں کی ضخامت تقریباً برابر ہے۔ دونوں ہی تحقیقی پہلو لئے ہوئے ہیں۔ دونوں ہی قدیم و جدید اٹامزم اور سائنس سے متعلق ہیں۔ دونوں کی فکری نہج میں بھی ایک انداز سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ دونوں ہی ایک غیر معمولی قابلیت سے مضمون کو سمیٹتے نظر آتے ہیں اور دونوں ہی ایک غیر معمولی جرأت و جسارت کے مظہر ہیں اور دونوں کی نہج شاکیانہ ہے لیکن سب سے بڑھ کر جو وجہ میری اس مضمون میں کشش کی میرے ذہن میں آ سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اوّلاً خود میرے لئے یہ مضمو ن ایک انکشاف کی حیثیت کا حامل ثابت ہوا۔ میرے اپنے نقطۂ نگاہ  سے مجھے یہ مضمون عبقریت کی حد تک اچھا نظر آیا کیونکہ میری بات کی قطعی تصدیق کر رہا تھا اور دوم یہ کہ اس مضمون کو پڑھ لینے کے بعد اس دنیا والے میرے خصوصی نظریات کی بناپر مجھے کوئی مریخ یا مشتری یا زحل سے اُ ترا ہوا انسان نہیں سمجھیں گے اور میری زبان کو قمری زبان تصّور نہیں کریں گے بلکہ جان لیں گے کہ میں ہی تنہا اس فکر کا حامل نہیں بلکہ بعض دیگر حضرات بھی جن کو قدرت کی طرف سے اعلیٰ فکری صلاحیّتیں ودیعت ہوئی ہیں اسی نہج پر سوچتے ہیں جس پر میں سوچتا ہوں میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ مضمون اپنی خصوصی موزونیت، معنویت اور اہمیت کے پیشِ نظر دلچسپی کاباعث ہی نہیں ہو گا بلکہ بہت بڑی فکری افادیت کا سبب بھی بنے گا۔ معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ صاحبِ مضمون نے اس دورِ جدید کی کڑی قدیم یونانی فلسفے کے جس  مکتبِ فکر سے ملائی ہے۔ یہ جدید دور اس کا مخالف ہے اور ایک دوسرے یونانی مکتبِ فکر پر اٹھا ہے جس کا نام ایٹمی نظریئے والا مکتبِ فکر ہے اور جسکا بانی مبانی دیموقراطیس تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ افلاطون،ارسطو اور سقراط تینوں ہی قدیم یونانی ایٹمی نظرئیے کے شدید مخالف تھے اور یہ ان کی مخالفت ہی کا نتیجہ تھا کہ ایٹمی نظریہ عہدِ قدیم میں اپنے وجود کو برقرار نہ رکھ سکا اور اگر ہمیں ان تینوں حضرات سے بعض نظریاتی اختلا فات بھی ہو تب بھی یہ حضرات اپنی عظمتِ فکری کے سبب واجب الاحترام ہیں  اَلبَتَّہ جدید یورپ نے انہیں نّکو بنا دیا اور دیموقراطیس کو اپنا ہیرو مان لیا  یہ نکتہ بڑی امتیازی حیثیت کا مالک ہے اور جس روز مسلمان اس سے با خبر ہو گئے انشاء اللہ تعالیٰ اپنی حقیقی منزل اور اس دور میں اپنا اصلی خصوصی کردار سمجھ لیں گے اور انسانیت کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ مضمون مندرجہ ذیل ہے۔

(ب)۔  نظریۂ پاکستان کو تقویت دینے والے عوامل ،(مضمون)،(پروفیسر سید ضیاء اللہ ضیا)

            ”میرے ۲۲ اپریل کے اقراء کے مضمون کے سلسلہ میں مختلف نادیدہ دوستوں کے تاثرات پر مشتمل خطوط موصول ہو رہے ہیں جن میں تحسین اور مذمت و ذم دونوں کا پہلو موجود ہے۔اگرچہ ان کی حیثیت نجی ہے لیکن خصوصیت سے ایک پروفیسر جناب عبد الرحمن صاحب شعبہء کیمیاء کے خط کے مندرجات جستہ جستہ مقامات سے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش ہیں۔ موصوف لکھتے ہیں۔”اقراء کی وساطت سے ایک عرصہ سے آپ کو آوازِ حق بلند کرتے دیکھ رہا ہوں اور آ پ کے حوصلے اور ہمت کی داد دیتا ہوں۔۲۲ اپریل کا اقرا ء میرے سامنے ہے۔ آپ نے ٹیلی ویژن کے بارے میں جو اظہارِ خیال فرمایا ہے۔ اب و ہ چیزیں اوپر والوں کے لئے ان کی تہذیب و ثقافت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ لہٰذا اگر خوردبین لگا کر بھی و ہ ان چیزوں کے اندر برائی دیکھناچاہیں تو نظر نہیں آتی۔ دیکھنے کے اطوار بدل جائیں تو نگاہیں ا س طرح اندھی ہو جاتی ہیں۔ اشیاء کے حُسن و قبح کامعیار بھی فکر کی پاکیزگی اور پراگندگی پر منحصر ہوتا ہے۔ ٹی وی کا یہ مخلوط اسلام کیا کیا گل کھلائے گا؟ اس کے نتائج سے کون لال بجھکڑ آنکھیں بند کر سکتا ہے؟ کوئی  لال بجھکڑ اگر آنکھیں بند کرے تو کرے حقیقت شناس نگاہوں سے اس کے مضمرات دھندلے نہیں رہ سکتے۔ ویٹ نام جب امریکہ کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا تو ویٹ نام کے ریڈیو پر موسٰیقی اس لئے ممنوع رہی کہ یہ قویٰ کو سلا دیتی ہے اور پھر جب ایک برسرِ پیکارقوم سو جاتی ہے تو پھر تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ہم تو ہر آن، ہر لمحہ امن میں بھی اور جنگ میں بھی داخل میں بھی اور خارج میں بھی شیطانی قوتوں سے بر سرِ پیکار ہیں۔ وی سی آر نے قیامت برپا کر دی ہے۔ پہلے شرم سے آنکھیں جُھک بھی جاتی تھیں لیکن ٹی وی کی ثقافت نے نگاہوں کو اتنا بے باک اور ذہنوں کو اتنا فراخ کر دیا ہے کہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر ٹی وی کی سکرین پر ننگے جسموں کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا جا تا ہے۔ مائیں بھی دیکھتی ہیں بیٹیا ں بھی اور بہنیں بھی۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان کے اندرکا وحشی شرم و حیا کی ہر قدر کو مٹا دینے کے درپئے ہو“۔ پروفیسر عبدالرحمن صاحب کا خط بہت طویل ہے اور اُ نہوں نے زندگی کے تقریباً سارے شعبوں کا تجزیہ کرتے ہوئے اجتماعی فساد کا مرثیہ کہتے ہوئے ان کے محرکات کو بھی موضوع ِ بحث بنایا ہے۔ ہمارے جملہ شعبہء حیات میں بگاڑ اپنی آخری انتہاؤں کو چھُورہا ہے۔‘ تن ہمہ داغ داغ شد  پنبہ کجا کجا نہم، اس بگاڑ کے ماخذ بہت قدیم اور پیچیدہ ہیں۔ افلاطون‘ ری پبلک‘ میں ایک نصب العینی مملکت کا خاکہ وہ اپنے استاد سقراط کی زبانی کچھ اس انداز میں کھینچتا ہے۔ ”یہاں جسمانی حسن سب سے بڑی سچائی ہے۔ جسمانی حسن عریانیت میں اپنی انتہاء کو پہنچتا ہے۔ اس لئے جسمانی تربیت ساز اداروں کی کثرت ہونی چاہئےجہاں مر د و زن بغیر کسی روک ٹوک اور فرسودہ اخلاقی ضابطوں کے اپنے جسمانی کمالات کا اظہار کر سکیں۔ صحت مند قوم کی تخلیق کے لئے صحت مند مرد و زن کا اختلاط ضروری ہے جسمانی طور پر ناکارہ بچوں کے اتلاف کا حکومت کو اپنے طور پرخفیہ انتظام کرنا چا یئے۔شادی اور ماں باپ وغیرہ کی اصطلا حیں ناقص اور دور از کار رفتہ ہیں چنانچہ یونانِ قدیم میں مجسمہ سازی نقالی، جمنازیم مخلوط کھیلیں عام تھیں۔ یونان کی یہی میراث روم منتقل ہوئی لیکن چونکہ وہ عسکری ذہن رکھتے تھے اس لئے اس چیزنے وہاں SKEPTICISM کی شکل اختیار کر لی۔رومی تہذیب کے زوال کے بعد سے یورپ کی نشا ۃِثانیہ تک ہزاروں سال کے دورِ مظلمہ میں یورپ لادینیت اور اخلاق باختگی کی ان آخری سرحدوں کو ابھی تک نہیں پہنچا جہاں وہ دورِ جدید کے باغیوں میکیاوّلی،ڈارونسیگمنڈ، فرائڈ، ہیگل اور کارل مارکس کے مذہب و اخلاق سے رشتہ توڑنے کے ساتھ ساتھ یونانِ قدیم کی ان ملحدانہ اور مادہ پرستانہ بنیادوں کو نئی فکر اور نئی جہت عطا کرنیکے بعد پہنچا ہے۔ اس جدید جہالت اور مادہ پرستی نے ہماے مستغر بین Occidentalists کو اس بودی تہذیب و فکر کی چکا چوند سے اس حد تک متاثر کیا کہ ہمارے مشاہیر اس رو میں بہہ گئے۔ سید جمال الدین افغانی نے عالمِ اسلام کے اتحاد کے لئے اپنی پوری زندگی صرف کی۔ استعماری پنجوں میں جکڑی ہوئی دنیائے اسلام نے خوابِ غفلت سے انگڑائی لی۔ مکہ معظمہ میں اُ م القریٰ کے نام سے ایک انجمن بھی قائم ہوئی جس کا کام خلافت کے تنِ مردہ میں نئی زندگی ڈالنا تھا۔ 1911 ء میں سالونیکا کے مقام پر اتحادِ اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی لیکن مغربی استعمار نے نوآبادیاتی اسلامی ممالک میں وطنیت کا زہر پھیلا کر ان کے ا تحاد کو پھر پارہ پارہ کرنا شروع کر دیا۔ان کا حال معلوم کرنے کے لئے گِب کی کتاب Wither Islam? کا مطالعہ بہت سی سازشوں سے پردہ اٹھا دینے کے لئے کافی ہے۔ علامہ اقبالؒ کو وطنی قومّیت کی اس زہر کا علم تھا اس لئے انہوں نے یورپ کے تصّور وطنیت کے خلاف بہت کچھ لکھا اور اس سلسلے میں مولانا حسین آحمد مدنیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ جیسے اکابر علما کو بھی معاف نہ کیا۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے اسیری(1920-1921) ء کے بعد کے افکار و تصّورات تو خالصتاً مغربی ہو گئے تھے۔ سرسید آحمد خان عظیم مصلح تھے لیکن مغربی افکار کے معاملہ میں ان کا رحجان بھی معذرت خواہانہ تھا۔ جسٹس سید امیر علی کی”سپرٹ آف اسلام“اگرچہ بہت اعلیٰ پایہ کی تصنیف ہے اور ان کا مقصد بھی اہلِ مغرب کو اسلام سے آگاہ کرنا تھا لیکن مغرب پرستی اور معذرت خواہی میں اس موضوع سے وہ انصاف نہ کرسکے۔ضیا گوکلپ،مصطفےٰ کمال اتاترک کی مذہب بیزاری کا اصل موجب تھا۔ مصر میں بھی جدیدیت اور مغرب پرستی نے وباء کی صورت اختیار کر لی۔ یہاں سید جمال الدین افغانی کی اسلامی تاریخ کی باقیات نے اس سیل ِتندرو کا مقابلہ کیا۔ محمد عبدہء اور ان کے ساتھیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جدید جہالت کے خلاف مختلف اسلامی ممالک میں مختلف مزاحمتی تحریکیں برپا ہو ئیں لیکن بد قسمتی سے مغربی استعمار سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بیشتر اسلامی مملکتیں مغرب کے سجادہ نشینوں ہی کے ہاتھ میں رہیں۔ جہاں وہی مغربی تہذیب و اقدار فروغ پذیر ہے۔ مرورِ ایام و اعصار کے باوصف یونانِ قدیم کے تہذیبی رکھ رکھاؤ، فکری بنیادوں، فنونِ لطیفہ اور باقی تہذیبی و تقافتی مظاہر جو ہر فرق کے بغیر محض لیبل بدل بدل کراسلامی معاشرے کو POLLUTE کرتے رہے۔جیسا کہ میں نے ابتداء میں عرض کی تھی کہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ نے مذہبی اقدار کے خلاف اس درجہ بغاوت کی کہ میکیاوّلی سے برٹرینڈ رسل تک تقریباً سبھی فلاسفروں اور سائنس دانوں نے ہستیء باری تعالیٰ اور حیات بعد الممات کا مضحکہ اڑایا۔اس کی تفصیل کے لئے اقراء کے صفحات کافی نہیں۔ ہستی باری تعالیٰ اور حشر نشر کے اثبات و انکار نے زندگی کے دو متضاد رویّوں کو جنم دیا۔ ایک روّیہ مادہ پرستی کا تھا جس کا مقصود محض دنیا کی ترغیبات تک محدود رہا۔ اس روّیئے نے انسان کو سرمایہ داری، اشتراکیت، فسطائیت اورجو ع الارضی میں گرفتار کرکے اسے ریچھ بنا دیا، بھیڑ یا بنا دیا۔ اس بہیمت و درندگی کے مظاہرے آج ان بے خدا نظاموں کے ذریعے دنیا میں ہر کہیں ہو رہے ہیں لیکن اس کا مظہر اتم بیگناہ افغانستان بنا ہو اہے۔ بیس بائیس لاکھ بے قصور افغانیوں پر عرصہء حیات تنگ کر کے انہیں پاکستان جیسے غریب ملک میں دھکیلا گیا ہے۔ چودہ پندرہ لاکھ افغانیوں کو توپوں اور بموں کا چارہ بنایا گیا ہے اور لاکھوں کو ایران، مغربی یورپ،  ہندوستان اور امریکہ میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ بقولِ پروفیسر عبد الرحمن صاحب ایسا لگتا ہے انسان کے اندر کا وحشی باہر نکل کر جارحیت اور بربریت کا ننگا ناچ کر رہا ہے۔ یہ اس روّیہ زندگی اور مقصود ِ حیات کا شاخسانہ ہے جو میکیاوّلی سے ہیگل اور کارل مارکس تک مغربی دانش وروں اور فلسفیوں نے اپنی تحریروں میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ سائنسی ایجادات نے ان بے خُدا اور غیر انسانی فلسفوں کو قوت بہم پہنچا کر انہیں نوعِ انسانی کے لئے موجبِ ہلاکت بنا دیا ہے۔دوسرا روّیہ زندگی ہستیِ باری تعالیٰ اور حشر و نشر کے اقرار سے جنم لیتا ہے۔اس میں ایک ایک لمحہ کیلئے اعمال کی جواب دہی کا تصّور ہے۔ فلاح و خسران کا دارومدار اس امر پر موقوف ہے کہ انسان کے ازلی داعیہ خیر کو تحریک دینے والے نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کی یا اس سے ہٹ کر نبی کریم ﷺکی حیاتِ مقدسہ کا معیار حق ہے۔ ہدایت صرف اور صرف اتباعِ رسول ﷺسے مشروط ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ عین ضلالت فماذابعد الحق الّا الضلال۔ اسلام ایک مکمل اور ابدی نظامِ حیات ہے جس کے جملہ شعبے باہم مربوط ہیں۔ استعماری غلامی نے ہمارے قلب و اذھان کو اس حد تک متاثر کیا ہُوا ہے کہ ہم معذرت خواہی کے بغیر بحیثیتِ اُ مّت ِ مُسلمّہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکےکہ ہمارے پاس اپنا ایک افضل و اکمل نظامِ حیات ہے۔ ہمیں کسی بیرونی نظام کی پیوندکاری کی قطعاً کوئی حاجت نہیں۔ اس فکری پراگندگی نے ہماری قوت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ 

چوں شود اندیشۂ قومے خراب

ناسرہ گردد بدستشِ سیمِ ناب

میرد اندر سینہ اش قلبِ سلیم

در نگاہِ او کج آید مستقیم

موج از دریاش کم گردد بلند

گوہرِ او چوں خزف نا ارجمند

برکراں از حرب و ضربِ کائنات

چشمِ  او اندر سکوں بیند حیات

پس نخستیں بایدش تطہیرِ فکر

بعد ازاں آساں شود تعمیرِ فکر

 (پس چہ باید کرد)

اقراء کے صفحات ہی میں اپنے ایک مضمون میں کہا تھا کہ اگر ہمیں اسلام پر شرحِ صدر ہو جائے تو ہمارے تمام مسائل کا حل اور ہمارے دکھوں کا مداوا بس یہی ہے۔ ہم اسلام کی تکرارِ محض تکلفاً اور رسماً کرتے ہیں لیکن اس کے حیات بخش اصولوں کے عملی نفاذ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر نافذ کرنے میں متامل ہیں۔ درحقیقت ہمارے تحت الشعور میں ا س خیال نے جڑ پکڑ لی ہے کہ جدید نظام ہائے حیات کے مقابلے میں اسلامی نظام از کارِ رفتہ ہے وگرنہ معذرت خواہی چہ معنی دارد؟ ہمارے ملی زوال و اضمحال میں منجملہ دیگر عوامل کے سب سے بڑا عامل نظریۂ حیات کا فقدان ہے۔ کبھی مغرب کے دستر خوان سے ریزہ چینی کرتے ہیں اور کبھی سویٹ سامراج کے غیر انسانی اور غیر فطری نظا م کو اپنے دکھوں کا مداوا سمجھتے ہیں۔ مغربی نظامِ تعلیم نے ہمیں میراثاً اپنے نظریات و تصّورات منتقل کرنے کا اہتمام کیا تھا۔ ابھی تک ہم اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے۔ مثبت طور پر ابھی تک ہم اپنے لئے نظریۂ حیات متعین نہیں کر سکے۔ وضع قطع میں ہم نصارٰی اور تمّدن میں یہود ہیں۔ یونانِ قدیم کی اشتراکی حکمتِ مجوسیت، شنکر اچاریت، یہودیت اور عیسائیت کے علاوہ جدید لادینی فلسفوں نے ہمارے قلب و ذہن کو چوں چوں کا مربہ HOTCH POTCH بنارکھا ہے۔ قومی زندگی میں تین دہے خاصا عرصہ ہوتا ہے لیکن ہم نے ابھی تک بھٹکنا چھوڑ کر منزل کی طرف پہلا قدم بھی نہیں ڈالا۔ کوئی ملک آئیڈیالوجی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور پاکستان کا اساسی نظریہ صرف اورصرف اسلام ہے۔ اسلام سے پاکستان کی بقا مشروط ہے بالکل اسی طرح جسطرح صیہونیت سے اسرائیل اور اشتراکیت سے روس کی بقا مشروط ہے۔ اسلام ہمیں باطل قوتوں کے مقابلہ میں بنیانِ مر صوص بن جانے کی تاکید کرتا ہے لیکن مقصودِ حیات کے ترک کرنے سے ہم ذلیل و خوار ہیں۔

شبی پیش خدا بگریستم زار
مسلمانان چرا زارند و خوارند
ندا آمد ، نمیدانی کہ ایں قوم
دلی دارند و محبوبی ندارند

مقصودِ حیات کے عملی نفاذ ہی سے نتائج مرتب ہو کر ثمرات عام الناس تک پہنچتے ہیں۔ موجودہ حکومت بلا شبہ دل سوزی کے ساتھ مثبت اقدامات کے ذریعے اسلامی نظامِ حیات کا نفاذ کرنا چاہتی ہے۔ اقدامات کی تفصیل سنتے سنتے کان پَک گئے ہیں لیکن مثبت نتائج کا قوم ہنوز بے چینی سے انتظار کر رہی ہے۔ جو لوگ جمہورِ اُ مّت کے مُسّلمہ عقائد کا مذاق اڑائیں۔ وہ اس نظامِ عمل کا عملی نفاذ کرنے کے ہرگز اہل نہیں۔ نہ ہی وہ لوگ جو قرآنی تعلیمات اور سیرتِ مقدسہ کے عین برعکس تفریح کے نام پر فخاشی اور بے حیائی کے فروغ کے ذمہ دار ہیں۔ اس نظام کے نفاذ کو منطقی انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔ اسلام ہرگز مخلوط مجالس گانے بجانے رقص و سرود غیر نصابی یا ہم نصابی سرگرمیوں کے طور پر ان خرافات کو برداشت نہیں کر سکتا۔گناہ و منہیات کو خواہ آپ ثقافت اور فن کا حسین نام دیں۔ اس سے حقیقت نفس الامری میں کیا فرق واقع ہو گا۔ یہ وہی اسلامی سوشلزم کی اجتماعِ ضدین اصطلاح کی بات ہوئی یا اسلامی شراب، اسلامی طوائف وغیرہ جب تک اعلیٰ اورخالص اسلامUNADULTRATED نافذ نہیں ہوتا نتائج میں مثبت فرق محسوس نہیں ہو سکتا۔ اس وقت پاکستان میں اسلامی نظام کے عمل کو سبوتاژ کفر ملتِ واحدہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہ اسی شیطان پارٹی کے لوگوں کی کارستانی ہے کہ وہ اسلامی نظام کے صحیح نفاذ میں گام گام پر موانعات کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں۔ نوائے وقت کے ایک حالیہ اداریئے میں نظریۂ پاکستان سے نوجوان نسل کو تصحیح آگاہ کرنے کے لئے نظامِ تعلیم میں مثبت تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ نظریۂ پاکستان کے منافی مواد خارج کرنا ایک صلبی پہلو ہے۔ اسے نظریہء پاکستان کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل میں اسلام کے لئے غیر متزلزل ایمان و ایقان پیدا ہو اور وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عصر ِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی تعلیم و تربیت حاصل کرے۔ وسائلِ ابلاغ اب طلبہ و طالبات کے نصاب کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس لئے انہیں بے ہودگی، جرائم پیشگی، صنفی انارکی، عریانی اور فخاشی سے پاک کرنا از بس ضروری ہے۔ ڈاکٹر اسرار آحمد صاحب نے قرآنی تعلیمات پر مشتمل الہدٰی پروگرام شروع کیا ہے۔ یہ ٹیلی وژن کارپوریشن کی نہایت مستحسن کوشش ہے اور ذاتی طور پر میں نے ٹیلی وژن سنٹر لاہور کو اس سلسلہ میں متعدد خط بھی لکھے تھے۔ اس پروگرام کو اگر اقراءکی طرح خبروں سے پہلے روزانہ دکھایا جائے تو اور بہتر ہو گا۔ نشانِ راہ پروگرام اصلاح طلب ہے۔ اسلام کو نفسیاتی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی بھول بھلیوں سے ہٹا کر عام فہم اور آسان زبان میں پیش کیا جائے۔ اسلام ہرعمل کے لئے سند کاطالب ہے۔ خواہ یہ قرآن کی ہو یا حدیث کی خالی خولی اشتباہ زیادہ کرنے والی باتیں سود مند نہیں ہیں۔ ستم ظریفی کی انتہا ملاحظہ کیجئے کہ دو ہفتے قبل الہدٰی کے ایمان افروز پروگرام کے بعد‘کٹاری فلم پیش کی گئی جس میں ہیروئن کٹاری بالکل حیا سوز اور عریاں لباس میں پیش کی گئی۔ ایک تالاب میں اگر دو چار ستھرے پانی کے نل پندرہ بیس منٹ کے لئے کھولے جائیں لیکن متعفن اور گندے پانی کے بییسوں نل ہر وقت کھلے چھوڑے جائیں تو وہاں پانی کیسے پاکیزہ رہ سکتا ہے۔ وسائلِ ابلاغ اب محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ تعلیمات اور انصاب کا حصہ بن چکے ہیں۔اس لئے ان میں ہمہ گیر اصلاح کی ضرورت ہے۔ حیا سوز فلموں اور مخرب الاخلاق لٹریچر پر پابندی لگانی ضروری ہے۔ قوم کا مستقبل نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔ نوجوان نسل کی بہترین تربیت و تعلیم کا اہتمام ہر جہتی انداز میں کیا جانا چاہیئے۔ پاکستان کی بقا اسلام سے وابستہ ہے اور اسلام کی حفاظت نوجوان نسل کے گرم خون ہی سے ہو گی۔ نوجوان نسل نے پاکستان کے قیام کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ میں زبورِ عجم حصہ دوم نظم نمبر19 صفحہ 117 سے اقبالؒ کے چند اشعار کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں۔

ایں نکتہ کشائندۂ اسرارِ نہاں است

ملک است تنِ خاکی و دیں روحِ رواں است

تن زندہ و جاں زندہ ز ربطِ تن و جاں است

با خرقہ و سجّادہ و شمشیر و سناں خیز

از خوابِ گِراں، خوابِ گِراں، خوابِ گِراں خیز

از خوابِ گِراں خیز

 

ترجمہ:۔ ”یہ بات چھپے ہوئے بھیدوں کو کھولنے والی ہے (غور سے سن)، تیرا خاکی جسم اگر ملک ہے تو دین اسکی جان اور روحِ رواں اور اس پر حکمراں ہے، جسم اور جان اگر زندہ ہیں تو وہ جسم اور جان کے ربط ہی سے زندہ ہیں، لہٰذا خرقہ و سجادہ و شمشیر و تلوار کے ساتھ (یعنی صوفی، زاہد اور سپاہی) اٹھ گہری نیند، گہری نیند، گہری نیند سے اٹھ۔گہری نیند سے اٹھ“۔

تفصیل:۔  ” میں تم کو ایک نکتہ بتاتا ہوں جس سے تم پر اسرارِ جہاں فاش فاش ہو جائیں گے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ ملک کو بمنزلہ تنِ خاکی کے اور دین کو بمنزلہء روح کے سمجھو  اور ظاہر ہے تن و جان دونوں کی زندگی ربطِ باہم پرموقوف ہے۔ اسی طرح حکومت اور دین کو ایک دوسرے سے جُدا نہ کرنا کہ دین کی حفاظت حکومت سے ہے اور حکومت کی درستی خوبی استحکام اور بقاء دین سے۔ یہ نکتہ خفیہ رازوں کو کھولنے والا ہے۔ ملک تنِ خاکی ہے اور دین روح رواں ہے۔ تن زندہ اور جان زندہ تن و جان کے ربط سے ہے  خرقہ اور سجادہ اور شمشیر و سناں لے کے اٹھ۔گہری نیند، گہری نیند، گہری نیند سے اٹھ   گہری نیند سے اٹھ“۔  (مضمون تمت بالخیر)

(پ)۔  جدید فلسفہ اور قدیم فلسفہ اٹامزم اور بحث کے بنیادی نکات:

خدا جزائے خیر دے صاحبِ مضمون کو بڑی خوش اسلوبی اوردردمندی سے اپنے مضمون کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے مگر تفتیشی مراحل کی ترتیب یہ ہے کہ جناب ِ محقق نے مریض کودیکھا پتہ چلا کہ بالفر ض بخار میں مبتلا ہے۔ یہ بھی معلوم ہُو ا کہ کس قسم کے بخار میں مبتلا ہے۔ اب مریض کوپرچی مل گئی ہے۔ وہ آگے جائے گا۔ جہاں ہر قسم کے آلات سے اس کے خون وغیرہ کی ٹیسٹنگ ہو گی، ایکس رے ہو گا، پھر مریض وہاں سے اگلی سٹیج کو منتقل ہو گا۔ وہا ں بڑے ڈاکٹر صاحب بیٹھے ہیں۔ وہ نسخہ تجویز کریں گے   ہو سکتا ہے کہ آپریشن تجویز کریں۔ پھر مریض کو آگے بڑھایا جائے گا اور وارڈ میں علاج کی غرض سے داخل کرایا جائے گا۔ علاج ہو گا آپریشن کی ضرورت ہے تو آپریشن  ہو گا اور صحت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ شفائے کلّی عطا فرما ئے۔ آمین   ثمّ آمین۔ تحقیق کی اس لائن کو جسے صاحبِ مضمون نے اٹھایا ہے۔اس کا رخ صحیح ہونے کے سبب اسے آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ تو تھی اس مضمون کی بنیادی تمہید۔اب آگے اس فلسفے کے اثرات و مسائل اور ان کے پیدا کرنے والے محرکات کا جائزہ لیاجانا چاہئیے اور جب یہ ہو جائے تو پھر آخری مرحلہ علاج معالجے کا آئے گا۔ اسی فلسفے کے نتیجے میں آج ہمہ عالم ہوس کے ایک طوفانی جنون کے شدید تپ میں مبتلا ہے  ،عالم گیر ایٹمی تباہی کی گھٹائیں ہر طرف ا مڈ رہی ہیں۔ ہر گھڑی،  ہر لمحے یہ خدشہ قریب تر آ رہا ہے کہ کسی بھی وقت انسانوں کی یہ بستی ایٹمی جہنم کا نمونہ بن سکتی ہے۔ایٹمی طاقتوں کی ایٹمی جنگ روکنے کی تدبیریں عارضی ہیں اور فریب خوردگی کامظہر ہیں  ۔ظاہری اور مادی جہنم کے علاوہ انسانوں کے دل میں بھی ایک جہنم سرگرم ِ عمل ہے   جس کی آگ کی تیزی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں جن سے کسی کو بھی اختلاف یا انکار نہیں ہو سکتا بلکہ ہر شخص یہی باتیں کہہ رہا ہے لیکن بات اسوقت بگڑتی ہے جب ان مسائل کا تجزیہ پیشِ نظر ہو یا اس صورت ِ حال کو روکنے  یابدلنے کے طریقِ کار کا مرحلہ در پیش ہو۔ اس وقت اس دنیا میں انسانوں کے دوگروہ ہیں ایک وہ اور وہ اکثریت میں ہے جو اس امر میں جاہلِ مطلق ہیں اور دوسرا وہ جو تجاہلِ عارفانہ کا مرتکب ہو رہا ہے اور وہ قلیل ہےتاہم ایسا شخص جس کے متعلق یہ کہا جائے کہ اسے اس معاملے کا کامل ادراک حاصل ہو چکا ہےعنقا ہے۔ اس صدی کا سب سے بڑا فلسفی یعنی برٹرینڈ رسل باوجود اپنی علمی عظمت کے اس گھمبیر مسئلے کے کناروں کو ہی چھوتا نظر آتا ہے اَلبَتَّہ قرآنِ حکیم ہی ایک ایسا ماخذ ہے جس نے اس بے حد باریک اور ہمہ گیر مسئلے کی تمام پیچیدگیوں کو حل کرکے اتنی واضح تصویر پیش کی ہے کہ انسانی ذہن جس کا تصّور بھی نہیں کرسکتا۔ الحق کہ جتنا بڑا  فریب اس جدید ایٹمی مادہ پرستی کے فلسفے کے روپ میں پیش کیا گیا ہےانسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قطعاً قاصر نظر آتی ہے جس موثر انداز میں ہوس کی سحر کاری کو اس فلسفے میں بروئے کار لایا گیا ہے۔ اس کا مظاہرہ دیکھ کر خود شیطان بھی اپنی کارکردگی کے حوالے سے خفت محسوس کرتا ہے۔معلوم ہے کہ اس موجودہ زمانے کے جملہ مسائل اور خطرات اسی نئے فلسفے کے پیدا کردہ ہیں۔ یہی نیا فلسفہ جس کا نعرہ ہے ”انسانیت کی مادی بہبود کے لئے سائنس کی تحقیق کی روشنی میں قدرت پر انسانی تصرف“۔ پس معلوم ہوا کہ مرض کی تحقیق اور ازالے کے لئے اسی فلسفے کی تحقیق و تدقیق پر توجّہ دینی ہو گی۔ المیّہ یہ ہے کہ انسانیت اس جدید فلسفے کی مادی افادیت کے سحر میں اس طرح مسحور ہو کر روایتی عاشق کی طرح اس طرح اندھی ہو جاتی ہے کہ اُ سے اپنے محبوب میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں خرابی کوئی نظر نہیں آتی جو تجزیہ بھی آج تک اس جدید بیکنی فلسفے کے ظہور کے بعد ہوا ہے اسے دیکھنے سے یہی نظر آتا ہے کہ وہ ادھورا ہے۔ تجزیہ نگار کمزوریوں اور مجبوریوں کا شکار ہے۔ ہاں اگر کہیں کوئی بات اس کی حقیقت اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی کرتی نظر آئے تو پھر انسان کی مجبوری اور بے بسی آڑے آتی ہے۔ اس جدید فلسفے کے اس اقتصادی، صنعتی ڈھانچے نے اس دنیا کو ا س طرح لپیٹ میں لیا ہوا ہے جس طرح کہ جال میں لگی ہوئی مچھلیا ں، انسان اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے یہ اونچی بلڈنگیں اور یہ کارخانے اور یہ ذرائع آمدورفت، ایسی زنجیریں ہیں جنہوں نے انسانیت کو ہر طرح سے جکڑ رکھا ہے اور جکڑ بھی رکھا ہے اور ایٹمی جہنم کی جانب کھینچ بھی رہی ہیں۔ کوئی انسان اگر اس جال سے نکلنا چاہے تو بھی نہیں نکل سکتا۔ مرکزی کردار ہوس اور دنیا طلبی کا ہے اور سب سے بڑی خلش ضمیر کی ہوتی ہے۔ دینی جذبہ ضمیر کو ابھارتا ہے مگر ہوس کا غلبہ ہو اور ساتھ ہی مجبوری بھی ہو تو دینی کتب کو من مانی تفسیر و تعبیر کے ذریعے اپنے خیال کے حق میں ڈھال کر اپنی ضمیر کو مطمئن کر لیا جاتا ہے۔”خود بدل سکتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں“۔ تاہم بمصداق‘ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب“ اس جدید فلسفے کے اثرات و خطرات و مسائل اب ایسی واضح اور تباہ کُن صورت اختیار کر چکے ہیں کہ اگر تقدیر نے انسان کو مکمل طور پر اندھا نہیں کر دیا تو ضرور اس مسئلے کی جانب انسانیت کی توجّہ مبذول کرانے میں کوئی بھی بڑی دقت درپیش نہیں۔اس جدید فلسفے کے تحت(۱)  سائنس کے سہارے انسانیت کی مادی بہبود (۲)قدرت پر انسانی تصّرف کا حق مادی بہبود کی غرض سے(۳ )اثرات و انجام لہٰذا انہیں پہلوؤں پر اس جدید فلسفے کی تحقیق کو آگے بڑھنا چاہیئے۔ اس مقصد کے لئے مندرجہ ذیل سوالات بحث کے بنیادی نکات کے طور پر پیش کئے جا سکتے ہیں:۔ 

 (۱)      سائنس کے سہارے انسانیت کی مادی بہبود۔ اس جدید ترقی کی ماہیت کیا ہے؟ اگر یہ ترقی لا امتناہی اور روز افزوں ہے تو کیا اس کے کچھ خاص نتائج سامنے آئیں گے۔ کیا یہ دین کے لئے معاون ثابت ہو گی یا متناقض۔  اگر یہ ترقی مسلسل بڑھتی ہی رہی تو کیا رفتہ رفتہ یہ انسانی ذہن پر قبضہ نہیں کرتی جائے گی اور اس طرح دین اور قیامت کے خیال کو انسانی ذہن سے خارج نہیں کرتی جائے گی اور اگر صورت یہ ہو   تو کیا کوئی دین اس کی اجازت دے سکتا ہے اور اگر دے گا توخود اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط نہیں کرے گا اور اگر دین معدوم ہو گیا تو تباہی کے جدید سائنسی آلات اور مکمل بدنظمی کے ماحول میں انسانیت اپنے وجود کو قائم رکھ سکے گی؟ قرآنِ حکیم کی رائے اس جدید فلسفے اور اس جدید ترقی جیسی کہ یہ ہے کے متعلق کیا ہے؟ کیا اس کے موافق ہے؟ کیا اس کے مخالف ہے؟ کیا مشروط ہے؟ یا کیا قرآنی تعلیمات کا  مطمحِ نظر اور منتہائے مقصود ہی یہی جدید سائنسی ترقی ہے۔ اگر موافق ہے تو کیا قرآنِ حکیم انسان کو اس جدید ترقی کے منطقی انجام یعنی ایٹمی تباہی سے بچاؤ کی ضمانت مہیّا کرتا ہے  ۔کیا اس جدید ترقی کی اس دوڑ کی موجودگی میں اسلامی نظام کلّی طور پر نافذ ہو سکتا ہے؟  اور اگر نافذ ہو جائے تو کیا اس ایٹمی تباہی سے بچا ؤ ہوسکتا ہے؟ غورِ آیات سے قرآنِ حکیم کا کیا مقصد ہے۔ کیا یہی جو اس جدید فلسفے کا ہے یعنی آیات کا مادی استحصال یا کچھ اور۔ کیا قرآنِ حکیم میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ملتی؟ 

(۲)       قدرت پر انسانی تصّرف کا حق مادی بہبود کے لئے۔ قدرت پر انسانی تصّرف کے حق کا دعویٰٰ خدا کا ہے۔ کیا انسان کو بھی ا س د عوے کاحق حاصل ہے؟ یعنی مادی استحصال سے صرفِ نظر قرآنِ حکیم کا نقطہء نظر اس معاملے میں کیا ہے؟ تسخیرِ کائنات کی آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمھارے لئے یہ سب کچھ مسخر کیا اور اللہ تعالیٰ اس احسان کے لئے شکریئے کی توقع کرتا ہے۔ جدید فلسفے کا یہ دعویٰٰ کہیں انسانی حدود سے تجاوز تو نہیں؟ کیا یہ خدا سے مقابلہ تو نہیں؟ کیا یہ ا نسانی غرور و تکبر کاسودا تو نہیں؟ اور انسان کو خدا کے غیض وغضب کا مستحق تو نہیں ٹھہرا تا؟ 

(۳)      جدید فلسفے اور جدید ترقی کے اثرات و انجام۔ کیا ایٹم بم اس جدید ترقی کا منطقی انجام ہے؟ کیا ایٹمی جنگ ہمیشہ کے لئے روکی جا سکتی ہے؟ کیا ایٹم بم یا ایٹمی تابکاری کے خلاف کوئی تحفظ ممکن ہے؟ کیا ایٹم بم ہتھیاروں کے زمرے میں آتا ہے؟ یا یہ عذابِ الٰہی ہے؟ قرآنِ حکیم نے جو ہتھیاروں کی فراہمی کی تاکید فرمائی ہے کیا وہ ایٹمی بم پر بھی لاگو ہوتی ہے؟ قوموں کو ایٹم بم بنانے چاہئیں یا کہ ایٹم بموں کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے؟ اور سب سے بڑھ کر کہ کیا یہ‘سائنس کے سہارے انسانیت کی مادی بہبود قدرت پر انسانی تصّرف  والا فلسفہ خدائی دین کے فلسفے کی ضد تو نہیں؟یہ اور اس قسم کے بے شمار سوال اس ضمن میں زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔ سر جیمز جینز نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ”زمینی زندگی کے خاتمے کا سوال فلکیات تجویز کرتی ہے مگر اس کے جواب کے حصول کی آرزو ہمیں سیدھا طبیعی سائنس کے دل میں لے جاتی ہے“۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایٹمی قیامت کا مضمون ایٹمی سائنس پیش کرتی ہے   مگر اس سے بچنے کی تدبیر کے حصول کی آرزو ہمیں سیدھی قرآنِ حکیم کے دل میں لے جاتی ہے۔ جدید اٹامزم کا یہ بیکنی فلسفہ جس کا سارا زمانہ بلا شرکتِ غیرے پیرو ہے   اس کی مثال ایسی ہے جیسی کہ ایک تصویر کو الٹا کرکے لٹکا دیاجائے یعنی سر نیچے کی طرف اور ٹانگیں اوپر کو۔ آپ تجزیہ کر سکتے ہیں کہ اگر آ پ دینی فلسفے کو اُ لٹا کرکے لٹکادیں  اس طرح کہ اس کا سر نیچے کو اور پاؤں اوپر کو اور اس کے ساتھ ہی جدید اٹامزم کا یہ بیکنی فلسفہ بھی لٹکا دیں تودونوں بالکل ایک جیسے نظرآئیں گے۔ میں نے بعض آرٹسٹوں کے بنے ہوئے بعض ایسے چہرے دیکھے ہیں کہ ان کو سامنے رکھ کر دیکھو تو کسی ایک شخص کا چہرہ ہے لیکن اسی چہرے کو الٹا کرکے دیکھو تو یا للعجب کسی دوسرے انسان کا چہرہ ہے  ۔اسی قسم کی مثال یہ بیکنی فلسفے والی تصویر کی ہے۔ اور یہ فلسفہ الہامی دین کے فلسفے کا   بالکل ہی الٹ ہے۔ گلیلیونے سورج کی بجائے زمین کوسورج کے گرد گھما دیا لیکن اس سے بھی بڑا اور بنیادی کمال اس جدید فلسفے کے بانی مبانی فرانسس بیکن نے کیا تھا ا س نے مذہبی فلسفے میں اخلاقی فلسفے کو اٹھا کر نیچرل فلسفے سائنس کی جگہہ پر رکھ دیا اور نیچرل فلسفے کو ا ٹھا کر اخلاقی فلسفے کی جگہ پررکھ دیا۔یہی بنیاد تھی جس پر آنے والے پیروکاروں نے اپنی کاروائیاں کیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ گلیلیو نے کس طرح متداوّل شمسی نظام کا سر نیچے کو اور ٹانگیں اوپر کوکر دیں۔ پھر سپی نوزا آیا اور اس نے منصور حلاج والے وحدت الوجود کے مسئلے کے ساتھ یہی کچھ کیا یعنی وحدت الوجود کے مسئلے کا سر نیچے کو اور ٹانگیں اوپر کو کر دیں۔ منصور حلاج نے انسان کو مادی کائنات سے بلند کرکے خدا کے ساتھ ملا دیا۔ سپی نوزا نے خدا کوخدائی کے مقام سے نیچے لا کر اس مادی کائنات ہی کا روپ دے دیا۔ ڈارون نے یہی تجربہ انسان کے ساتھ دہرایا۔ انسان جسے اشرف المخلوقات اور فرشتوں کا مسجود قرار دیا جاتا تھا۔ ڈارون نے اس مسئلے کو الٹاکر دیا یعنی انسان کو کسی حقیر بندرکی اولاد قرار دے دیا۔ الغرض یہ جدید بیکنی فلسفہ کیا ہے؟ مداری کا تماشا ہے اور جس طرح سے مداری کے کمالات پر زیرک سے زیرک انسان کی نظر بھی فریب کھا جاتی ہے۔ اسی طرح سے زیرک سے زیرک انسان اور متقی سے متقی شخص بھی اس فلسفے کی دجّالی مہارت اور نوسر بازی کے فریب میں آ جاتا ہے الحق کہ جسطرح یہ نوسر باز ہر دینی مسئلے میں ہر دینی آدمی کو اپنی منطق سے اس طرح لاجواب اور ساتھ ہی مطمئن کر دیتا ہے کہ شیطان بھی داد دیئے بغیر بلکہ حیرت کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا   ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں ایک مثال پیش کی ہے فرمایا:۔

اَفَمَنْ يَّمْشِىْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ يَّمْشِىْ سَوِيًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo

ترجمہ:۔ ” بھلا ایک جو چلے اوندھا اپنے منہ کے بل  وہ سیدھی راہ پائے یا وہ شخص جو چلے سیدھا ایک سیدھی راہ پر“۔

    (67-سورۃ  الملک-22)

اس آیتِ کریمہ کو سیاق و سباق میں پڑھنے سے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یہ گلیلیو کے منقلب اور مکبَّب نظریئے پر بھی موزونیت سے منطبق ہو سکتا ہے۔لفظ مکّبب کا ماخذ کبَّب ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو گولے کی شکل میں بنا دینا۔ کّب کے معنی ہیں   الٹ جانا۔ کُبّ کے معنی ہیں دھا گے کا گولہ اور یہ معاملہ صرف گلیلیو تک محدود نہیں   بلکہ سارا بیکنی فلسفہ ہی منقلب اور مکّببّّّ ہے۔ یہ مسئلہ بھی امتِ مسلمّہ کو دعوتِ فکر دیتا ہے اور یہ قرآنِ حکیم بھی بڑے کمال کی کتاب ہے نیز یہ کہ عربی متن کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ ایسے نکتے ترجموں سے کہاں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال اور بلاشک بڑا اہم  سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا کے ان موجودہ حالات میں یعنی اس بین الاقوامی ہلڑ بازی اور بم سازی کے اس طوفان میں جو لازمی طور پر ایٹمی جہنم پر منتج و منتھی ہو گا کیا روّیہ اختیار کرنا چاہئیے۔ راہیں دو ہیں ایک یہ کہ اسلامی دنیا بھی اس ہلڑ بازی میں شریک ہو کر جلد از جلد ایک ترقی یافتہ ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے۔ بے شک آج اسلامی دنیا کے ہر فرد کی یہی سوچ ہے اور طبعی سوچ ہے   یہ الگ بات ہے کہ غلط ہے یا صحیح۔ دوسری راہ ہے کہ اسلامی دنیا نہ خود ایٹمی بم بنائے  اور نہ کسی کوبنانے دے۔ بے شک یہ بہت اونچا خیال ہےاور ساتھ ہی بہت سارے اوصاف اور بڑے مضبوط ایمان اور بہت ہی کڑی ہمت اور لامنتھی صبر و استقلال کا متقاضی ہے۔ اَلبَتَّہ یہ درست ہے۔ پہلی راہ اسلامی دنیا کو سوائے اس کے کوئی فائدہ نہ دے گی کہ اسے ایٹمی جہنم کا ایندھن بنا دے اور یہ ساری مخلوق ایٹمی آگ میں بھسم ہو جائے۔ کاش کہ معاملہ یہیں ختم ہو جاتا کیونکہ پھر کوئی ایسی بڑی بات نہ تھی۔ اس دنیا کو ایک نہ ایک دن فنا ہی ہونا ہے مگر قرآنِ حکیم کے مطابق اس ایٹمی جہنم کے مستحق لوگوں وہ خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں کے لئے اگلی لازوال، لافانی اور ابدی دنیا میں بھی ایک ایٹمی جہنم حُطَمَہ کے نام سے منتظر ہے۔ دوسری راہ کی صورت میں اسلامی دنیا خود بھی اس دردناک انجام سے بچ سکتی ہے اور خدا کی اس مخلوق کو بھی بچا سکتی ہے   اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔ ایٹمی طاقتوں کے عوام میں ایک زبردست تحریک اس ایٹمی توانائی کے خلاف چل رہی ہے جو روز بروز آگ کی طرح پھیل رہی ہے ۔  مومن کی نگاہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے دیکھتی ہے مگر اللہ کی نگاہ اس معاملے میں کیا دیکھ رہی ہے۔ مومن کی فراست مثالی ہے مگر یہ مثالی فراست اب انسانیت کو ایٹمی جہنم سے بچانے کے لئے کیا سوچ رہی ہے؟ ایک اور سوال اتنا بڑا ہے جتنا کہ ہمالیہ پہاڑ اور وہ ہے قرآنِ حکیم کے نظریئے کے متعلق جو اس جدید بیکنی فلسفے اوراس کے جملہ مظاہر کے بارے میں ہے اور اس کے مظاہر کیا ہیں۔ یہی سائنس کی ایجادات اور یہ اقتصادی صنعتی ڈھانچہ آج اس دور میں شائع ہونے والی اکثر و پیشتر تفسیرات اس معاملے میں ظاہر کرتی ہیں کہ قرآنِ حکیم ایک ایسی کتاب ہے جس کی بنیاد مادہ پرستی پر ہے۔ ان میں سے بعض تفسیریں یہاں تک کہتی ہیں کہ قرآنِ حکیم کامطمحِ نظر اور منتہائے مقصود ہی یہی سائنسی ترقی ہے۔ اس طرح تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اِس اُمّت کے اسلاف قرآنی تعلیمات سے غافل رہے اور یورپ والوں نے ہی قرآنِ حکیم کی حقیقت کوسمجھا اور اب ضروری ہے کہ مسلمان اس نقصانِ عظیم کی تلافی مافات کے لئے سرگرم ِ عمل ہوجائیں اور اس کمی کو پورا کرکے ترقی یافتہ قوموں کے دوش بدوش ہو جائیں اور یہی خیال آج امّت ِ مسلمّہ کے ہر فرد کا ہے بجز ایک کے۔ اگر بات ایسی ہی ہے تو پھر ثابت ہوا کہ قرآنی تعلیمات کا منطقی نتیجہ ایٹمی جہنم ہے کیونکہ یہ بات مسلّمہ ہے کہ یہ ایٹمی جہنم اس بیکنی اٹامزم کی سائنسی ترقی کا منطقی ، لابدی اور عملی نتیجہ ہےاور یہ قرآنِ حکیم کی ذات پر ایک بہتانِ عظیم ہے۔ قرآنِ حکیم امن و سلامتی کا پیامبر ہے اور قرآنی تعلیمات کا منطقی نتیجہ۔ اس جہان میں امن و اطمینان اور اگلی دنیا میں جنت الفردوس ہے۔ یہ ایٹمی جہنم بیکنی فلسفے کا منطقی انجام ہے اور بیکنی فلسفہ قرآنی فلسفے کی ضد ہے۔ یہ ایک ایسا اہم اور اتنا دردناک مسئلہ ہے کہ اگر پھیلے تو پھیلتا ہی جائے مگر یہاں نہیں۔اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں نے اس زمین پر اپنی بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں اور کلچر کے بیش بہا اور قابلِ قدر نمونے پیش کئے اور بے شمار عالی شان عمارتیں بنائیں اور دولت ان کے پاؤں کی گرد بن گئی مگر ان کی اس کارکردگی کو دنیاوی ہونے کے باوجود اس بیکنی فلسفے سے کیا لگا ؤ آج کا مسلمان پندرھویں صدی ہجری کی سیڑھی سے اسلام کے اسی شان و شوکت والے دور کی جانب لوٹنے کی بات کرتا ہےلیکن مشکل یہ ہے کہ کسی کو اس بیکنی فلسفے کی ماہیت کا کچھ علم نہیں۔ لوگ اسے محض محنت کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کا ایک فلسفہ سمجھتے ہیں اور جب تک لوگ اس فلسفے کی حقیقی ماہیت سے بے خبر رہیں گے وہ اسی ڈگر پر ہی اندھے، بہرے اور گونگے ہو کر چلتے رہیں گے یہاں تک کہ ایٹمی جہنم کے گرجتے ہوئے شعلے ان کو گھسیٹ لیں گے۔ ان کی مثال ایسی ہی ہو گی جیسی کہ کولمبس کی تھی کہ چلا ہندوستان کا راستہ مغرب کی جانب سے ڈھونڈھنے اور جا پہنچا  امریکے۔ اسی طرح چلیں گے یہ لوگ اسلام کی عظمتِ پارینہ کی تلاش میں اور ملاقات ہو جائے گی ان کی ایٹمی جہنم سے۔ نہ تو قرآنِ حکیم مادہ پرستی کی کتاب ہے اور نہ ہی قرآنِ حکیم میں پائی جانے والی غورِِ آیات اور تسخیرِ کائنات کی آیات کا ہدف وہ ہے جو اس بیکنی فلسفے کی روشنی میں ہونے والی لامحدود، روزافزوں، غیر منتہی قسم کی ترقی کی صورت میں نظر آتاہے  ۔قرآنِ حکیم موجود ہے اسے پڑ ھ کر معلوم کر لیں اس بات کی بڑی وضاحت کی گئی ہے   اس کے مقابلے میں فرانسس بیکن اس جدید فلسفے کے بانی کی کتابیں موجود ہیں۔ انکو بھی پڑھ لیں اور پھر دونوں کا موازنہ کرکے اپنی خیر منائیں۔ ورنہ یورپ کی دُ م سے بندھے ہوئے غلاموں کی طرح ایٹمی جہنم کے شعلوں میں جھونک دیئے جا ؤگے اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ لوگوں کی سوچ اس آدمی کی سی ہے جس کے سامنے ہزاروں سال تحقیق و تدقیق اور ترقی و مسافرت کے موجود ہوں۔نہیں بات ایسی نہیں بلکہ مہلت گزر چکی ہے۔ توبہ کے در بند ہونے والے ہیں۔ کسی بھی لمحے کسی بھی طرف سے کسی بھی قسم کی ٹھاہ ہو سکتی ہے اور پھر ”سب ٹھاٹھ دھرے رہ جائیں گے جب لاد چلے گا بنجارہ“ اس جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے، اس کی ترقی اور اس کی تہذیب کے متعلق قرآنِ حکیم کا ایک نہایت ہی واضح اور نہایت ہی بے لچک نظریہ موجود ہے اور ضرورت بلکہ اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآنِ حکیم کے اس مذکورہ نظرئیے کی تفسیر فقر کی عینک لگا کر کی جائے۔ یہ بات اب گوارا نہیں کی جا سکتی کہ کیا اسلام ترقی کا مخالف ہے؟ کیا اسلام ترقی پسند مذہب نہیں؟ نہیں اب نہ تو قرآنِ حکیم کو ایسی تعریف کی ضرورت ہے   نہ ہی یہ تعریف خود اُمتِ مُسلمہ یا انسانیت کے حق میں کچھ نفع بخش ہو سکتی ہے۔ باقی رہی مجبوریاں اور ضرورتیں، تو معلوم ہونا چاہئیے کہ یہ ساری مجبوریاں اور یہ ساری ضرورتیں اسی منقلب بیکنی فلسفے کی پیدا کردہ ہیں۔ اگر کوئی آدمی آگ میں کودے   اور آگ کو ہزار واسطے دے کہ مجبوری کی وجہ سے کودا ہوں تو ہرگز باور نہیں کیا جا سکتا   کہ آگ اسکی مجبوری کے پیشِ نظر اسے جلانے سے باز رہے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دوسری ہے۔ نہ ہی اُ نہوں نے آگ کو کوئی واسطہ دیا تھا۔حتٰیٰ چور اگر چوری کا عذر اپنی مجبوری بتائے تو ہو سکتا ہے کہ مجسٹریٹ کے دل میں ترحم کے کچھ آثار پیدا ہو جائیں مگر قانون اسے تسلیم نہیں کرتا اور پھر مجبوری کے مقابلے میں نتیجے کو رکھ کر دیکھا جائے جو ایٹمی جہنم کی جہاں سوز آگ ہے تو اس مجبوری کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ میں نے عرض کیا ہے کہ قرآنِ حکیم کے مذکورہ نظریئے کی تفسیر فقر کی عینک لگا کر کی جائے۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ سوائے اس کے کوئی چارہ ء کار نہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام امّت ِ مسلمہ میں ظاہر ہوں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام فقر کی علامت ہیں اور آنحضورﷺنے فرمایا‘ ”الفقر فخری“ یعنی فقر میرا فخر ہے۔ اس سے کم کوئی بھی تفسیر اس ایٹمی جہنم کے متوقع عذاب سے بچنے کے لئے سیدھی راہ نہیں دکھا سکتی۔ حضرتِ علامہ اقبالؒ نے اس معاملے میں کیا ہی پتے کی بات کی ہے۔ فرماتے ہیں۔  

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے  کا  امامِ  برحق

جو تجھے حاضر و موجود  سے  بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ  دوست

 زندگی تیرے  لئے  اور بھی  دشوار کرے

دے کے احساسِ  زیاں  تیرا  لہو گرما  دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

فتنہء  ملّت ِ  بیضا  ہے  امامت   اس  کی

جو مسلماں کو  سلاطین  کا  پرستار کرے

 (ضربِ کلّیم صفحہ64)

 موجودہ صورتِ احوال کا تجزیہ حضرت علامہ اقبالؒ  یوں کرتے ہیں:۔

 سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس

خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیّار

پیرانِ  کلّیسا   ہوں  کہ  شیخانِ  حرم   ہوں 

نے  جدتِ  گفتار   ہے   نے   جدتِ   کردار

ہیں  اہلِ  سیاست   کے  وہی  کہنہ   خم   و   پیچ 

شاعر    اسی    افلاسِ   تخیل    میں    گرفتار

دنیا  کو  ہے  اس  مہدئ برحق  کی  ضرورت

ہو  جس   کی    نگہ    زلزلہء     عالمِِ    افکار

(ضربِ کلّیم صفحہ 44)

 سر جیمز جینز اپنے ایک مضمون میں رقم طراز ہیں کہ ”اگر اس کائنات کی تخلیق کسی دوسرے قانون پر ہو تو دوسری قسم کے ایٹموں کے ساتھ دوسری قسم کی خاصیتیں وابستہ ہوں اور یہ بات قرینِ قیاس معلوم نہیں ہوتی کہ تابکاری یا مقناطیس یا زندگی اس نظامِ تخلیق میں کہیں نظر پڑے“۔  بالکل اسی طرح اگر کوئی ایسا مفسر جس کی نگاہ دینی اور قرآنی حقیقت پر ہو وہ قرآنِ حکیم کے اس نظرئیے کی تفسیر جو اس جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے کے بارے میں ہے فقر کے آئینے میں لکھے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی تفسیر میں کہیں بھی نہ یہ بیکنی فلسفہ نظر آئے نہ ہی ا س کے یہ حیرت انگیز مظاہر نہ یہ بڑے بڑے بینک۔ آج کی ناممکن باتیں کل کے حقائق بن کر اُ بھر سکتے ہیں۔ہیروشیما میں ایٹم بم کے پھٹنے سے ایک سیکنڈ پہلے یہ دنیا سائنس کی جنت تصّور کی جاتی تھی ایک سیکنڈ بعد سائنس کے دوزخ میں تبدیل ہو گئی۔   

(ت)۔   ایٹامزمی ھمزہ اور لمزہ کلچر:

اٹامزم کا قدیم و جدید نظریہ دینی عقائد کے خلاف ایک مخصوص انداز کی عیب جوئی اور نکتہ چینی کی کوشش ہے اور یہ جدید اٹامزم کا کلچر عیب جوئی اور نکتہ چینی کا کلچر ہے اَلبَتَّہ مخصوص اٹامزمی انداز میں اس کے علاوہ اس جدید دور میں بائیبل کے جدید نقادوں کے نقد و نظر کا روّیہ بھی اس حقیقت کی ناقابلِ تردید اور واضح شہادت پیش کرتا ہے   ان جدید قسم کے جدید نقادوں نے بائیبل کو پرانی اُ ون کی طرح بیل دیا ہے مگر کیا مجال ہے کہ ان کے ماتھے پر کوئی شکن اُ بھری ہو یا ان کی تحریر میں سہواً کوئی ایسی بات شامل ہو گئی ہو جس کامبداء جذبات ہوں۔ اُ نہوں نے بائیبل کو محض ایک بیکار کتاب قرار دے کر اسے الگ رکھ دیا۔ ایک ایسی کتاب جو ان کے خیال میں روحانی اور معجزاتی خرافات کا پلندہ تھی اور جس کی تحریروں کا تعین غیر یقینی تھا۔ مذہب بالعموم بھی اس گدھ کی آنکھ اور چونچ کی دسترس سے نہیں بچ سکا۔ مذہب کو ایک از کار رفتہ چیز اور تر قی  کے منافی قرار دے کر محض ایک پرائیویٹ معاملے کے طور پر تہہ خانے میں ڈال دیا گیا  ۔وہ لوگ جو اس جدید بیکنی کلچر میں تکمیل کے مراحل کچھ زیادہ کر چکے ہیں اُ نہوں نے مذہب کو پادریوں کے ظلم و ستم کا ایک آلہ اور اس دنیا میں فتنہ فساد کی ایک جڑ اور انسانی قوی ٰکے لئے ایک افیون قرار دے کر اپنی طرف سے اس کی بیخ کنی کے مراحل طے کر لئے ہیں اوریہ سب کچھ اس جدید دور کے فلسفے راشنلزمRATIONALISM کے نام پر ہوا اور جدید دنیا کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔      

            حیرت کی بات ہے کہ قرآن اس راشنلزم کے جدید ہتھیار کی دستبرد سے کیسے محفوظ رہا۔ وہ مستشرقین اور دیگر لوگ جنہوں نے قرآنِ حکیم کے خلاف باتیں کی ہیں   اُ نہوں نے یہ سب اپنے جذباتی انداز میں کیا ہے۔ وہ جدید اٹامزم کے جدید ہتھیاروں سے لیس نہ تھے۔ قرآنِ حکیم کے پیرو اَلبَتَّہ جدید اٹامزم کے اثر سے محفوظ نہیں رہ سکے اور اس جدید فلسفے نے ان کے ذہن میں قرآنِ حکیم کے اُ س نظر ئیے کے متعلق جو اس جدید ایٹمی دور کے متعلق ہے بعض سنگین نوعیت کی غلط فہمیاں پیداکر دی ہیں جو اُ ن کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ میری خصوصی دلچسپی اس اٹامزمی قسم کی عیب جوئی اور نکتہ چینی میں اس لئے ہے کہ قرآنِ حکیم نے جدید بیکنی کلچر کے بیان میں ایک اصطلاح استعمال کی ہے۔ ایک ایسی اصطلاح جو اس جدید بیکنی اٹامزم کی اس خصوصی قسم کی عیب جوئی کی حقیقت کو کچھ ایسی عمدگی اور ایسی وضاحت کے ساتھ پیش کرتی ہے جس کی توقع قرآنِ حکیم جیسے خدائی کلام کی اعجازی کیفیت سے ہی ہو سکتی ہے   یہ اصطلاح ہے الھمزہ لمزہ اور اس کی صوتی شکل کچھ عجیب و غریب قسم کی ہے اور یہ اصطلاح نام ہے ایک کردار کا۔ اسی طرح جس طرح کہ جان بنیان کی کتاب پلگرمز پراگریسPilgrim's Progress میں پائے جانے والے کرداروں کو دیئے گئے ہیں۔ مثلاً مسٹر ہیٹگڈ اچھی طرح نفرت کرنے والا یا مسٹر ورڈلی وائذ مین عقلمند دنیا دار وغیرہ اور اس کے علاوہ بھی دورِ جدید کے بعض یورپی ناوّلوں میں کرداروں کے اسی طرح کے نام دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس اصطلاح  یعنی ھمزہ لمزہ کی صورت میں مزاح،حقارت اور نفرت کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ فارسی میں اس قبیل کا محاورہ ہے ہیزم کش۔ ایندھن جمع کرنے والا۔ اردو میں بھی ایک ہلکی سی مثال بی جمالو کے کردار میں ملتی ہے مگر جوبات ھمزہ لمزہ میں ہے وہ کہاں۔ قرآنِ حکیم کے تراجم میں اس اصطلاح کا ترجمہ سادے انداز میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اردو میں کہہ دیا جاتا ہے نکتہ چینی کرنے والا، عیب  جُو، اور انگریزی میں کہہ دیاجاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ اصطلاح اس جدید بیکنی کلچر کی عیب جوئی اور نکتہ چینی کی عادت کی خصوصی کیفیت کو نہایت عمدگی اور موزونیت کے ساتھ واضح کرتی ہے اور قرآنِ حکیم کے اوّلین مفسرینِ کرام اس اصطلاح کے معانی و مطالب کی وضاحت میں بے حدجدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی جو ایٹمی جہنم کے بارے میں ہے اسی اصطلاح سے شروع ہوتی ہے۔ یہ پیشین گوئی قرآنِ حکیم کے نظریئے کو جو اس جدید بیکنی اٹامزم کے دور اور اس کی جملہ خصوصیات مثلاً ترقی وغیرہ کے متعلق ہے صراحت سے سامنے لاتی ہے اور جدید بیکنی اٹامزم کے زر طلبی پر مبنی دنیوی عقیدے کی تشریح کرتی ہے ،ایٹمی عمل کی سائنسی تشریح کرتی ہے اور ایٹمی جہنم کی پیدائش کو جدید بیکنی اٹامزم پر مبنی کرتی ہے۔ 36 لفظی یہ معجزانہ پیشین گوئی اللہ کے فضل و کرم سے میرا اپنا انکشاف ہے اور اس کی تفسیر کئی جلدوں پر مشتمل ہے اور اس دور کی انسانیت کو اس متوقع ایٹمی جہنم کے عذاب سے نجات دلانے کا واحد ذریعہ ہےاَلبَتَّہ اگر میری اس زیرِ نظر کتاب کو پڑھ کر قاری کریم نے اس جدید بیکنی اٹامزم اور قدیم یونانی اٹامزم کی اس خصوصی عادت کو جسے عیب جوئی اور نکتہ چینی کی ایک مخصوص کیفیت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ سمجھ لیا ہے تو میری محنت بر آئی۔ یہ سمجھ آئندہ قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی کو سمجھنے میں قاری کریم کے لئے بے حد ممد ثابت ہو گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

Sadqay Madinay diya Sayada Lasania by Mian Azam