باب نمبر 5۔بیکنی فلسفے کا منطقی انجام۔ ایٹمی جہنم
بیکنی فلسفہ اور بیکنی ترقی:
آج روئے زمین پر جدید اٹامزم کا بیکنی فلسفہ مسلّط ہے مگر اکثر لوگ بیکن کا نام بھی نہیں جانتے۔ بیکن کا فلسفہ ہر دوسرے فلسفے کو مقبولیت کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا مذہب بھی اس دنیا کےایک حصے پر ہی اپنا تسلّط جما سکا جبکہ بیکن کا فلسفہ بلا شرکتِ غیرے سارے جہان پر مسلّط ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بیکن کا فلسفہ الہامی دین کی کلیۃً نفی کرتا ہے۔ بیکن کا فلسفہ عبارت ہے "اس قدرت پر انسان کے تسلّط سے مسلسل، منظّم سائنسی تحقیقات کی روشنی میں جملہ انسانیت کی مادی بہبودکی خاطر،انسان کے حقیقی مقصد ِزندگی کے طور پر اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت۔ اخلاقی فلسفہ بیکن کے مطابق ممنوع ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور آدم کی اُس نافرمانی کا اعادہ ہے جو اُس نے نیکی اور بدی کی معرفت کے شجر ِممنوعہ کا پھل کھا کر کی۔ انسان نے محض اپنے آپ کو قانون دینے کی غرض سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انحراف کرکے نیچرل فلاسفی یعنی سائنس کے فلسفے کی بجائے اخلاقی فلسفے کو اپنا لیا"۔ اب اس بیکنی فلسفے کی ہر شق الہامی دین کے فلسفے کے خلاف ہے۔ الہامی دین کے مطابق انسان کا مقصدِ اوّلین نیکی اور بدی کی پہچان کی روشنی میں اخلاقی فلسفے کو اپنانا ہے۔ مادی حاجات کی برآوری کے لئے نیچرل فلاسفی کا مطالعہ محض ایک ثانوی حیثیت کی بات ہے اور ایک عارضی ضرورت کے زمرے میں ہے۔
بیکنی ترقی:
شائد آپ کہیں کہ ہمیں اس بیکنی فلسفے کی اس بیہودہ بکواس سے کیا غرض ہے ،ہم تو بفضلِ تعالیٰ اللہ کے نازل کئے ہوئے دین ِ متین میں یقین رکھتے ہیں اور اسی کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ آپ کی بات اپنی جگہ تو ٹھیک ہے مگر آپ کو سمجھنا ہوگا کہ دینِ متین اپنی جگہ پر لیکن آپ بیکن کے اُسی فلسفے کی پیروی میں لگے ہیں جو اوپر بطورِ مخالفِ الہامی دین واضح ہوچکا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ترقی، یہ بیکنی ترقی جس میں آج ساری دنیا سرگرمِ عمل ہے بیکنی فلسفے ہی کی بنیادوں پر استوار ہے اور بیکنی فلسفے کی ہر بنیادی خاصیت کی آئینہ دار ہے بے شک آپ بیکنی فلسفے کو نہیں جانتے اور بے شک اگر آپ اُسے جان لیں تو بھی اُس کو تسلیم کرنے سے انکار کرسکتے ہیں مگرایسا انکار بے معنی ہو جاتا ہے۔ اگر آپ ترقی، اس بیکنی ترقی کو اپنا کر اس میں سرگرمِ عمل ہیں۔ آپ وضاحت چاہیں تو سنیئے:۔
یہ ترقی مادی منفعت کے لئے قدرت پر انسانی تسلّط حاصل کرنے کا ایک مسلسل ، منظّم، روز افزوں، لاامتناہی عمل ہے۔ مسلسل ، منظّم اور لاامتناہی سائنسی تحقیق کی روشنی میں اب یہ واضح طور پر بیکنی فلسفے کے اصول بیکنی فلسفے کے حصول کے ہی اصول ہیں یہ دنیا اتنی صریح وضاحت کے باوجود بھی اس خوش ذائقہ مگر قاتل ترقی کی حقیقت کی طرف توجہ نہ دیتی مگر جادو وہ سر چڑھ کر بولے۔ اس ترقی کا جادو اب سر چڑھ کر بولنے والا ہے بلکہ بول رہا ہے فقط دنیوی حرص کے اندھے اور بہرے ہی اس کو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں ۔یہ ترقی مسلسل ہے اور منظّم ہے اور اس کے علاوہ روز افزوں ہے اس روز افزونی میں بڑے معانی پوشیدہ ہیں یعنی کہ یہ ترقی اور اس کے صنعتی اقتصادی آثار بتدریج بڑھتے رہیں گے، لامحالہ یہ ترقی بتدریج انسانی ذہن اور وقت پر قابض ہوتی چلی جائے گی اورنتیجۃً انسانی ذہن اور وقت سے آخرت اور دین کا خیال اور عمل باہر دھکیلتی جائے گی اور پھر یہ لاامتناہی اور لامحدود بھی ہے۔ نتیجۃً بالآخر آخرت اور دین کے خیال کو بالکل انسانی ذہن اور وقت سے خارج کردے گی اور یہ بات ہر کس و ناکس کے مشاہدے میں ہے۔ یہ تدریجی عمل کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ترقی بتدریج ترقی پذیر ہے ، دین بتدریج زوال پذیر ہے۔ آج آخرت پر بولنا مسجد کے مولوی نے بھی ترک کردیا ہے۔ آج احوالِ آخرت پر کتاب کہیں تلاشِ بسیار کے بعد ہی دستیاب ہوتی ہے اور مسجد کے باہر تو سوائے ترقی کے دوسری بات ہی کوئی نہیں ۔اب یہاں دو صورتیں پیداہوتی ہیں آپ نہیں تو کوئی دوسرا یہ کہہ سکتا ہے کہ کیا ہوا اگر دین ناپید بھی ہوجائے ترقی تو بہرحال ضروری ہے ،اب ایسے آدمی کو کوئی کیسے سمجھائے کہ یہ دنیا ترقی کے باوجود دین کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اور گوناگوں آلام و مصائب کا شکار ہو کر فنا ہوجاتی ہے ،دوسری صورت یہ ہے کہ آپ کہیں کہ جی کیا ہرج ہے ہم جب دیکھیں گے کہ ترقی کا عنصردین پر غالب آرہا ہے تو ہم اسے وہیں پر بریک لگا دیں گے تو حضرات دوسری جس غلط فہمی میں چاہو اپنے آپ کو مبتلا رکھو مگر اس غلط فہمی سے اپنے ذہن کو صاف کرلو ،اس ترقی کو کہیں بھی کبھی بھی بریک نہیں لگ سکتی جب تک یہ اپنےطبعی عمل کے نتیجے میں اپنے آپ کو تباہ نہ کردے۔ آپ نے اس کے خواص پر غور ہی نہیں کیا۔ تسلسل، تنظیم، روز افزونیت اور لاامتناہیت کے خواص اس کو کسی مقام پر کھڑا کرنے یا بریک لگانے کی کلّی نفی کرتے ہیں ،آپ ثبوت مانگیں گے تو حاضر ہے ۔اگر اس ترقی کو بریک لگانا ممکن ہوتا تو آج دنیا توانائی کے بے ضرر یا کم ضرر وسائل کی متوقع کمی کے باعث ایٹمی توانائی جیسی مہلک اور عالمگیر تباہ کاریوں والی توانائی کو بادلِ نخواستہ اپنانے پر مجبور نہ ہوتی اور صورتِ حال یہ ہےکہ اگر ایٹمی توانائی کو رد کرتے ہیں تو توانائی کے بحران کے صدقے میں یہ سارا صنعتی ڈھانچہ جام ہوکے رہ جاتا ہے اور اگر ایٹمی توانائی کو اپناتے ہیں تو یہ عالمگیر ایٹمی بھٹی میں اپنے آپ کو جھونک دینے کے مترادف ہے۔ ایٹمی توانائی کی غارت گری کے متعلق کسی کی لاعلمی سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ زہر کے متعلق لاعلمی زہر کے اثرات سے نہیں بچا سکتی۔ آپ نے یہ تو جان لیاہوگا کہ یہ ترقی کس تیزرفتاری، کس بے قراری اور غیر متناسب مقدار سے اس زمین میں موجود توانائی کے قدرتی وسائل کو ڈکار گئی حالانکہ نارمل حالات میں یہ زخیرے ہزاروں سال تک کے لئے کفالت کرسکتے تھے۔ پس معلوم ہواکہ یہ ترقی تخلیق کےبنیادی منصوبے سے بھی متصادم ہے۔ محولہ بالا حقائق کی روشنی میں واضح ہوگیا ہوگا کہ یہ مفروضہ کہ اس بیکنی ترقی کو دین کے ساتھ متوازن کرکے اس دنیا کو ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے روشناس کر ایا جاسکتا ہے ایک موہوم اُمید پر مبنی ہے۔ یہ ترقی اپنے تسلسل ، تنظیم ، روز افزونیت اور لاامتناہیت کے خواص کے سبب ہمیشہ ہی اپنے تدریجی تسلّط کے حصول کے لئے دین سے متصادم رہے گی اور اس کی اہمیت کے پیشِ نظر یہ سمجھ لینا اتنا مشکل نہیں کہ بالآخر یہ دین کا پٹڑا کردے گی۔ اس ترقی اور دین کو متوازن کر دینے کے خواب دیکھنے والے اس خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور اپنے دین کی خیریت منظور ہے تو اس کی جان کی امان مانگیں۔ اس ترقی پر دین کے تسلّط کے سہانے خواب دیکھنے کا موسم ختم ہو چکا ہے۔ صرف وہی دین اس بیکنی ترقی کی اجازت دے سکتا ہے جو اپنی موت یا ملک بدر ہونے کے وارنٹ پر خود اپنے دستخط کرنے کے لئے آمادہ ہو۔ یہ ترقی اور دین ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی منوال پر اس موجودہ سائنس کو پرکھ لو یہ بھی فقط اس بیکنی ترقی کی ایک خانہ زاد لونڈی ہے ۔ اگر یہ ترقی بیگم ناقا بلِ قبول ہوسکتی ہے اور آخری نتیجہ یہ ہے کہ یا یہ ترقی اور یہ سائنس یا دین۔ پھر آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح سائنس اور عیسائیت مقابلے میں سائنس بتدریج چھاگئی اور عیسائیت ناپید ہوگئی اور اگر اس حقیقت کو سمجھا نہ جائے گا یا اس کے سمجھنے سے معذوری ظاہر کی جائے گی یا چشم پوشی کی جائے گی تو کوئی بات نہیں۔ اس ترقی کی ایٹمی ہنڈیا انسانیت کے چوراہے پر بہت جلد پھوٹ کر اس مکروہ حقیقت کو طشت از بام کرنے والی ہے مگر پھرکچھ بنے گا نہیں۔ توبہ کے دروازے بند ہوچکے ہوں گے۔
ایک بڑی ناگوار سی بات ابھی باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر دنیا ئے اسلام میں دینِ اسلام کو نظامِ مصطفٰے ﷺ کی مکمل صورت میں اپنا لیاجائے تب بھی اسلام یا کوئی اور دین کسی کو اس بیکنی ترقی کے عمل کے منطقی نتیجےیعنی جہنم سے نہیں بچا سکے گا۔ تھوڑاسا سوچنے پر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی دائرے کو مربع میں تبدیل کرنےوالا مسئلہ نہیں کہ حل ہی نہ ہوسکے۔
بیکنی فلسفے کے اثرات انسان پر:
قدرت پر تسلّط کو انسان اپنا پیدائشی حق سمجھ کر غرور کی وادی میں جا گرا اور خدا کا مقابل بن گیا اگرچہ اُس کے ذہن میں خدائی کا خیال واضح نہ بھی ہو خدا پر تکیہ، بھروسا، توکّل گھٹنے لگا، سائنس اور دنیوی اسباب پر بڑھنےلگا۔ آخر یہ خود کفالت کا سودا کس بات کی علامت ہے وہ جو اپنے عجزکا اقرار کرتا ہے خود کفالت کا مدعی ہونے سے پرہیز کرتا ہے خود کفالت کا خیال ایک فریب سے زیادہ نہیں۔ یہ ایک ایسا سراب ہے جو پانی پر نہیں ایٹمی آگ پر پہنچائے گا۔ انسان اس بیکنی فلسفے کے نتیجے میں جیسا کہ بیکن کا خیال تھا طبیعاتی سنت یا مشاہداتی عارف نہیں بنا بلکہ انسانیت ایک ٹڈی دل کی صورت میں ہر اُس چیز کو جو راستے میں آتی ہے چٹ کرتی ہوئی بالآخر ایٹمی کرم کش سپرے کی حدود میں داخل ہورہی ہے جہاں پر یہ سپرے ہوکر حشرات الارض کی طرح فنا کے گھاٹ اُتر جائے گی۔ ہوس، خود غرضی، نفس پرستی،بداعتمادی، قنوطیت، اخلاقی بے راہ روی،فتنہ و فساد، فکر ی انتشار، ذہنی خلفشار عام ہے۔ ہمدردی، قناعت، اطمینانِ قلب، سخاوت، مروّت، اخوت، انسانیت ناپید ہے اور انجام دور نہیں۔ انسانیت بھوکے بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے گی اور ایک دوسرے کی تکہ بوٹی کردے گی۔ یہ دنیا آدم خور ہوجائے گی۔
بیکنی فلسفے کی ناکامیاں:
بیکن نے کہا قدرت پرانسانی تسلّط بھاپ اور بجلی پر تسلّط حاصل ہونے کے بعد حضرتِ انسان اب ایٹمی توانائی پر تسلّط حاصل کرنے کی کوشش میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ انسان اس ایٹمی دیو کے سامنے ایک حقیر اور بے بس بونا لگ رہا ہے اور کسی بھی اُمید سے وابستہ ہونے کی سعی لاحاصل ہے ۔ یہ ایٹمی دیو اس حضرت ِ انسان کو بھسم کر ڈالے گا۔ قدرت اس انسانی جرأت سے مجروح ہوکر اب انتقامی جذبے میں اُٹھ کھڑی ہوئی ہے تاکہ انسان کواس کی حقیقی حیثیت کا احساس دلائے اور اس سرکش مخلوق کو نیست و نابود کردے۔ بیکن نے کہا سائنس کی مسلسل، منظّم اور روز افزوں لامتناہی تحقیق اور اب یہ سائنس جو محض بیکنی ترقی کی مادی لونڈی ہے ایٹمی سائنس کے میدان میں اندھی ہو کر ہتھیار ڈال چکی ہے۔ اب صرف انا اور غلط اُمیدوں میں بات اُلجھ رہی ہے ورنہ قصہ پاک ہے۔ بیکن نے کہا جملہ انسانیت کی مادی بہبود کے لئے سو معلوم ہوچکا ہے کہ پیداوار بڑھاؤ والا مسئلہ فیل ہوگیا اور اس معاملے میں فژن چین ری ایکشن کا عمل شروع ہوگیا۔ زیادہ پیداوار ، مزید مطالبہ اور پیداوار اور مطالبہ مزید ضرورت پیداوار خواہ کتنی بھی بڑھائی جائے اس کی بالآخر کچھ حدود ہیں لیکن انسانی ہوس اور ضرورت لامحدود ہے ۔ کبھی بھی انسان کی تشفی نہ ہوسکے گی۔ خود کفالت کا نظریہ ایک سراب ہے جو پانی پر نہیں ایٹمی آگ پر منتہی ہوتا ہے۔ زیادہ پیداوار کا معاملہ اس خصوصی بیکنی کلچر میں ایساہے جیسا کہ بھٹی کی آگ بجھانے کے لئے اُس میں ایندھن کا اضافہ کیا جائے۔ مایوس، مجبور، انسانیت کیمونزم میں پناہ لینے کی کوشش کرے گی مگر وہاں اس سے بھی بُرا حال ہوگا کیونکہ وہ کچھ اطمینان اوراُمید جو دینی عقیدے کی وجہ سے موجود تھی اُس سے بھی محروم ہو جائے گاالبتہ بیکنی فلسفہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے میں حیرت ناک یقینیّت کے ساتھ کامیاب ہے۔ ایٹمی جہنم اب کوئی دم بھر کی بات ہے۔
بیکنی فلسفے اور بیکنی ترقی کے متعلق غلط فہمیاں:
غلط فہمی کا پہلاشکار خود بیکنی فلسفے کا بانی بیکن تھا۔اس کے ذہن میں تصوریہ تھاکہ اس کے فلسفے کے نتیجے میں یہ دنیا طبیعاتی سنتوں اور مشاہداتی عارفوں کی ایک ایسی دنیا ہوگی جس میں دودھ اور شہد کی نہر یں بہتی ہونگی ۔گویاکہ نقشہ بالکل ایک بہشت کاتھامگر ہوایہ کہ یہ دنیابیکنی فلسفے کے نتیجے میں ایک ٹڈی دل کاروپ اختیارکرگئی ہےجو راستے میں پڑنے والی ہر چیز کو چٹ کر تاہواایٹمی سپرے کے منطقے کی جانب بڑھ رہاہے۔بیکن کی غلط بینی اور غلط فہمی کا اس سے بڑااورکیاثبوت ہوسکتاہےکہ اس نے اپنے پیروکاروں کو فوری منفعت کی جانب مائل ہونے سے منع کیااور ایک عالمگیر کائناتی عرفان کی راہ دکھلائی مگر یہ نہ سمجھ سکاکہ جس قبیل کی فلاسفی وہ اس بنی نوع ِانسانی کو دے رہاتھاکیااس میں فوری منفعت کے گڑھے میں گرنے کے سوائے کوئی دوسراامکان نہیں ہے۔عالمگیر کائناتی عرفان کی کوڑی لاناایسے مادی فلسفے میں بہت دورکی بات ہے ۔بیکن نے حضرت سلیمان ؑ کو اپنا ماڈل جانامگروہ سلیمانی روح اور بیکنی روح میں جوبنیادی فرق تھا اسے نہ جان سکا۔
عیسائیوں کی غلط فہمیاں :- بیکنی فلسفے کے معاملے میں :-
انجیل کی عیسوی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے عیسائیوں کا بیکنی فلسفے کے چنگل میں پھنس جاناکچھ عجیب نظرآتاہے گوکہ دین عیسوی سے ان کی بیزاری ،اس دین میں غلط عقائد کی بھرمار اور عیسائی پادری کے غیرمحدود اختیارات، غیر محدود حرص وہوس اور غیرمحدود جور وجفااور ظلم وستم کے آئینے میں واضح طورپر دیکھی اور سمجھی جاسکتی ہےلیکن اس کے باوجودبیکنی فلسفے کو اس تپاک سے خوش آمدیدکہنااور اس میں کلی طورپر غرق ہوجاناایک عجیب بات ہے۔کیوں کہ بلیک کے لفظوں میں بیکنی فلسفے اور انجیلی تعلیمات کاتضادواضح نظر آتاہے۔جب اس نے کہاکہ اگر جو کچھ بیکن کہتاہےٹھیک ہےتو پھر جو کچھ عیسیٰ ؑ نے کہا وہ غلط ہے لیکن بات یہ ہے کہ مغرب کے عیسائیوں نے جب بیکنی فلسفے کو اپنایاتو انہوں یہ سمجھاکہ وہ اسلامی کلچر کی مثال پر عمل کررہے تھے ۔وہ اسلامی حملے سے خوفزدہ اور اسلامی شان وشوکت پر فریفتہ تھے مگر وہ اسلام کی روح اور بیکنی فلسفے کی روح میں جو بنیادی فرق تھا اسے سمجھنے سے قاصر رہے اور بالآخر خود بھی ایٹمی جہنم کے کنارے آکھڑےہوئے اور اپنے ساتھ خدا کی ساری دنیاکو بھی ایٹمی جہنم کے کناروں پر گھسیٹ لیا۔
مسلمانوں کی غلط فہمیاں بیکنی ترقی کے معاملے میں :-
جس طرح عیسائی اسلامی ترقی اور شان و شوکت کے معاملے میں غلط فہمی کا شکارہوگئے تھے اسی طرح مسلمان اس بیکنی ترقی کے معاملے میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور ان کی یہ غلط فہمیاں گوکہ ناقابل فہم تو نہیں البتہ تباہ کن ضرورہیں اور یقین جانئے مسلمانوں کی یہ غلط فہمیاں اس پوری کائنات سے بھی بڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت کی روشنی عطافرمائے ان کی یہ غلط فہمیاں ایسی ہیں کہ ان کے دونوں جہان غارت ہوجائیں گے اس دنیامیں ایٹمی تباہی اگلی دنیامیں حطمہ کا جہنم اور قیامت کے دن اللہ کے حضور میں اور غمخوار امت نبی ﷺکی موجودگی میں ،پرسش اورشرمساری ۔
بود کہ یار نہ پر سد گناہ زخلق کریم
کہ از سوال ملومیم و از خواب خجل
مسلمان کہیں گے باری تعالیٰ ان مغرب کے لوگوں کو دوہری آگ دےکہ انہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔مغرب کے لوگ کہیں گے کہ کیوں تم تو خود ترقی کے لئے دیوانہ ہورہےتھےہم نے تم پر کوئی جبر تھوڑی کیا تھااور باری تعالیٰ فرمائےگا۔خاموش رہودونوں کے لئے کافی آگ ہے اور اللہ تعالیٰ یورپ ۔امریکہ ۔روس ۔چین۔ جاپان کے لوگوں سے پوچھے گا کہ کیاتم نے میری وہ پیشین گوئی جومیں نے ایٹمی جہنم کے معاملے میں اپنے قرآنِ حکیم میں بمع مکمل ہدایت رکھ چھوڑی تھی، نہیں پڑھی تھی ،تم نے کیوں اس پر عمل کرکے ایٹمی جہنم سے نجات حاصل نہ کی تو وہ لوگ کہیں گے باری تعالیٰ ہم تو بدنصیب رہے۔قرآنِ حکیم ہم نے پڑھاہی نہ تھااور باری تعالیٰ امتِ مسلمہ سے پوچھے گاکہ کیاتم نے وہ قرآنی پیشنگوئی ان لوگوں کو نہیں سمجھائی تھی تو مسلمان کہیں گے کو نسی پیشنگوئی۔ باری تعالیٰ کہے گا کیاتم قرآن نہ پڑ ھتے تھے ۔مسلمان کہیں گے پڑھتے کیوں نہ تھے، پڑھتے تھے ،سمجھتے تھے ،تفسیریں لکھتے تھے ۔باری تعالیٰ کہے گا کیا تم نے ان غیر مسلموں کو بھی قرآن سمجھایاتو یورپ اور روس والے بولیں گے باری تعالیٰ یہ لوگ ہمارے پاس سائنس کی تعلیم حاصل کرنے ،انجینئر نگ سیکھنے، ڈاکڑی پڑھنے ،قانون سمجھنے، ترقی کے گُرجاننے یاگندم اور اسلحہ لینے تو آتے تھے مگر قرآن ِ حکیم کاتونام انہوں نے ہمارے سامنے نہیں لیا۔باری تعالیٰ کہے گاٹھیک ہے مسلمانو! تم نے کہاکہ قرآنِ حکیم میں ایٹمی جہنم کی پیشنگوئی اور متعلقہ ہدایت کی قسم کی کوئی چیز تم نے نہیں دیکھی لیکن میراایک بندہ سالہاسال بے پناہ مصائب وآلام کے ماحول میں اسی پیشنگوئی کی تفسیر لکھتارہا۔کیاوہ بندہ کبھی تمہارے پاس آیا۔کیااس نے تمہیں حقیقت سمجھائی ۔حضرات اب اس امرمیں امتِ مسلمہ سے درخواست کرونگا کہ باری تعالیٰ کے اس سوال کاجواب سوچ لیاجائے ۔قانون دانوں سے مشورے کی ضرورت سمجھی جائے تو ان سے مشورہ کیاجائے جہاں تک میری سمجھ اس معاملے میں کام کرتی ہے اگر خداکی یہ دنیاایٹمی جہنم کی نذر ہوگئی تو گمان غالب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ نے اس قرآنی پیشنگوئی اور ہدایت کو اس دنیاکے سامنے نہیں رکھاہوگاتو اس صورت میں امت ِمسلمہ کے کئی جواب ہوسکتے ہیں مثلاً یہ کہ باری تعالیٰ یہ شخص ہمارے پاس ضرورآیاتھامگر ہم اس کی بات کو محض وہم وگمان کاہیولاتصورکرتے تھے اور اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ اس پر غور وغوض کرنے کےلئے اپناقیمتی وقت جوترقی کی سکیمیں سوچنے میں صرف ہوسکتاتھاضائع کیاجائے اورباری تعالیٰ یہ شخص تو قرآن کی روسے پور ی بیکنی ترقی اور دفاعی ایٹمی اسلحے کو ناپسند یدہ قرار دیتاتھا،اس عالمی ماحول میں جبکہ بیکنی ترقی اور ایٹمی اسلحہ کو ترک کرناگویاکہ انفرادی اور ملی موت کو دعوت دیناتھاہمارے لئے کیسے ممکن تھا کہ ہم اس کی بات کو سن کر تباہی وبربادی کے گڑھے میں گرجاتے اور پھر ہم اس کو کوئی ایسالائق فائق انسان بھی نہیں سمجھتے تھے تو اللہ بہتر جانتاہے۔مگر باری تعالیٰ کاجواب کچھ یوں ہوگاکہ تم نے ٹھیک کہا۔ واقعی تم ایسے ہی حالات میں گھرے ہوئے تھے جیساکہ تم نے بیان کیالیکن وہ حالات قرآنِ حکیم کی پابندی کی وجہ سے نہیں بلکہ ِترک قرآن کی وجہ سے ساری دنیامیں رونماہوئے اور جنہوں نے تمہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیااور تم نے اگر اس شخص کی بات کو درخور ِاعتنااور قابلِ عمل نہ سمجھ کر ردکردیاتو بھی ٹھیک کیانتیجہ تم نے اس فانی دنیامیں ایٹمی جہنم کی صورت میں دیکھ لیا اور یہاں بھی فیصلہ اسی قرآنِ حکیم ہی کی روسے ہوگاجس میں ہم نے لکھ دیاتھااور بدقسمتی سے وقتِ حاضر کے مسلمان ان صفات میں جو سورۃ الھمزہ میں گنوائی گئی ہیں غیر مسلموں سے کسی صورت میں پیچھے نہ ہوں گے۔
قرآن ِحکیم کاجونظر یہ اس بیکنی دور اور اس کے بیکنی فلسفے اور اس کی بیکنی ترقی کے متعلق ہےاسے جیسا کہ نظرآتاہےمسلمان ہر گزنہ سمجھ پائیں گے جب تک کہ وہ بیکنی فلسفے کو قرآنِ حکیم کے مقابلے میں رکھ کر ایک تقابلی جائزے کے انداز میں قرآنی نقطہ ء نظر کوتلاش نہیں کرتے ۔مسلمانوں کو اس معاملے میں غلط فہمیاں بے شمارہیں، بنیادی نوعیت کی ہیں اور بے حد خطر ناک نتائج کی حامل ہیں لیکن یہاں میں فقط اس بنیادی غلط فہمی کو آشکار کرونگا جو مسلمانوں کو قرآنی غورِآیات اور تسخیرِ کائنات کے بارے میں ہے اور اسی بنا پر اس بیکنی ترقی کی توثیق کی ضمانت قرآنِ حکیم سے مہیا کی جارہی ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ فرانسس بیکن نے اپنی فلاسفی کو بھی اسی غورِ آیات ہی کے مسئلے پر مبنی کیا تھا۔ بیکن کی اصطلاح (Contemplation of the works of God)غورِ آیات کا ٹھیک ترجمہ ہے لیکن مسلمان اس معاملے کو اسی صورت میں سمجھ سکیں گے جب وہ بیکنی غورِ آیات اور قرآنی غورِ آیات کے بنیادی مقصد کو ایک دوسرے کے بالمقابل دیکھیں گے۔ بیکنی غورِ آیات کا واحد بنیادی مقصد غورِ آیات سے استحصالِ آیات ہے لیکن قرآن کا مقصد یہ نہیں بلکہ قرآنی غورِ آیات کا مقصد جیسا کہ غورِ آیات کی متعلقہ آیات سے بالکل واضح ہے۔ اس تخلیقِ کائنات کے مقصد کو تلاش کرنا ہے جو کہ قرآنی لحاظ سے انسان کا امتحان ہے اور قیامت اور جزا وسزا کی یقینیت کے لئے ثبوت تلاش کرنا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت ِ بالغہ اور قدرتِ کاملہ کی نشانیاں تلاش کرنا۔ آپ اوّل سے آخیر تک قرآنِ حکیم کو پڑھ جائیں اور قرآنِ حکیم میں غورِ آیات کی آیات کثیر تعداد میں موجود ہیں۔آپ کسی ایک آیت میں بیکنی پہلو یعنی استحصالی پہلوکو غورِ آیات کے کسی بھی ضمن میں تلاش کرنے کی کوشش کریں، آپ کی سعی نامشکور ہی رہے گی بعینہٖ اسی طرح جس طرح کہ خدا کی اس تخلیق میں کوئی نقص تلاش کرنے والے کی رہتی ہے۔ قرآنِ حکیم کس طرح ایسی غورِ آیات کی دعوت دے سکتا ہے جو اس مخلوق کو فنافی النار کرنے والے ایٹمی جہنم پر منتج ہو نیز جس غورِ آیات کی دعوت قرآنِ حکیم دیتا ہے وہ سبھی اس جدید سائنس کے بغیر بھی کی جاسکتی ہے۔ گذشتہ اسلامی شعرا کا کلام پڑھو۔ اس موجودہ سائنس نے استحصالی صلاحیت کے سوا کچھ نہیں دیا۔
اسی منوال پر تسخیرِ کائنات کے مسئلے کو پرکھا جائے۔ قرآنِ حکیم کا اس تسخیرِ کائنات کے معاملے میں جو نظریہ ہے اُسے فقط اسی صورت میں سمجھا جاسکتا ہے جب بیکنی تسخیرِ کائنات کے مقصد کو سامنے رکھ کر ایک تقابلی جائزے کے انداز میں دیکھا جائے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بیکن نے اپنے فلسفے کی بنا اسی تسخیرِ کائنات کے مسئلے پر ہی رکھی ہے اور اس کی اصطلاح (Man’s Dominion over Nature) کا ترجمہ اگرچہ تسخیرِ کائنات ہی ہے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ بیکنی تسخیرِ کائنات کے مفہوم کو قرآنی تسخیرِکائنات سے دور کا واسط بھی نہیں۔ بیکن کی تسخیرِ کائنات کا مفہوم انسان کے اُس پیدائشی حق پر مبنی ہے جو اُسے حاصل ہے اور جس کا مقصدسوائے قدرتی وسائل و قوٰی کے مادی استحصال کے کچھ نہیں لیکن قرآنِ حکیم میں جو آیات تسخیرِ کائنات کے بارے میں موجود ہیں۔ اُن سب کو پڑھیئے اور پھر دیکھیے اور سوچئے وہاں معاملہ یہ ہے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں وہ ہو ں جس نے تمہارے لئے اس ساری کائنات کو تمہاری خدمت کے لئے مسخّر کردیا ہے اور ایک مومن بندہ جب گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار اگر تُونے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخّر نہ کیا ہوتا تو ہم ہر گز ایسا نہیں کر سکتے تھے اور پھر تسخیرِ کائنات کے متعلق کی ہر آیت کو پڑھیں، اُس میں اللہ تعالیٰ اس تسخیر کے بدلے میں انسانی شکرئیے کی توقع کرتا ہے کہیں بھی بیکنی قسم کے استحصال کا اشارہ تک موجود نہیں ،کہیں بھی جیسا کہ بیکن کہتا ہے یہ نہیں کہاکہ جس طرح خدا تسخیر کرتا ہے تم بھی کرو ۔ قرآن میں تسلط اور حاکمیت کا حق صرف خدا کو ہے۔ آدمی کے لئے صرف استعمال ہے اور اب مسلمانوں کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ان غورِ آیات کی آیات اور تسخیرِ کائنات کی آیات میں غور کریں جو قرآنِ حکیم میں لکھی موجود ہیں اور حقائق کو کماحقہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور اگر ایسا نہیں کریں گے تو ایٹمی جہنم تو اس بیکنی ترقی کے نتیجے میں انسانیت بشمولِ ملتِ اسلامیہ کا مقدر ہوچکا اس میں کوئی شک نہیں۔
ایک اور غلط فہمی جو مسلمانوں کو لاحق ہے اور غلط فہمی میں مسلمان تنہانہیں وہ ہے ایٹمی بم اور ایٹمی توانائی کے بارے میں۔ ایٹمی بم جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ محض ایک بہت بڑا بم نہیں جوشہروں کو تہس نہس کردیتا ہے۔ ایٹم بم کی یہ تشریح ناکافی ہے۔ سائنسدانوں کی نگاہ میں ایٹم بم اس زمین پر موجود زندگی کا تہس نہس کرنے والا ہے۔ اس سے نکلنے والی تابکاری شعاعیں اس دنیا کو کوڑھی کرکے مارتی ہیں۔ اسی طرح ایٹمی توانائی فقط توانائی کا ایک ذریعہ نہیں۔ایٹمی تابکاری شعاعوں کابھی منبع ہے اور تابکاری شعاعیں ایسی ظالم چیزیں ہیں جن کے نتیجے میں موت اور بیماری کے علاوہ جانوروں اور پودوں کا حلیہ بگڑ جاتا ہے، بچے پیدا ہوتے ہیں جو ہر قسم کے جانوروں کے اعضا کا ایک مجموعہ ہوتے ہیں۔ مثلاً سر گیڈر کا، پنچے ریچھ کے، دم مگرمچھ کی۔ قرآنِ حکیم کا نظریہ ایٹمی فینامی نن کے متعلق معلوم کرنا چاہیں تو سورۃ الھمزہ پڑھیں۔ قرآنِ حکیم نے اپنے کلام بلاغت نظام میں اسے حطمہ یعنی ایٹمی جہنم کے نام سے یاد کیا ہے۔ افسوس ہے مسلمانو ں پر اور افسوس ہے اس انسانیت پر اگر سائنس کے ان حقائق اور قرآنِ حکیم کی اس واضح تشریح کے باوجود بھی غلط فہمیوں میں الجھے رہیں حتیٰ کہ ایٹمی جہنم کے شعلوں میں فنا فی النار ہو جائیں۔ قرآنِ حکیم کوئی مادہ پرستی کی کتاب نہیں ،اسے مادہ پرستی کی کتاب سمجھنا اللہ کی اس ایمان افروز کتاب پر بہتا ن ہے۔ دنیوی جال میں الجھے ہوئے لوگ ہوش کی دوا کریں اور خود اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے ایٹمی جہنم کی صورت میں بھڑکتا ہوا ایک درد ناک عذاب دیکھ کر حقیقتِ حال کو سمجھنے کی توفیق حاصل کریں۔ آنکھیں بند نہ کر لیں۔قرآنِ حکیم میں مسلمانوں کو سامانِ جنگ تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہےمگر پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ایٹم بم ایک ہتھیار ہے۔ آنکھوں کا بند کرنا کوئی فائدہ نہ دے گا۔
ہندوؤں کی غلط فہمیاں:۔
ہندو کہتے ہیں ہمارے اسلاف اڑن کھٹولوں میں اُڑتے تھے نیز یہ کہ جرمنوں نے سارے سائنسی علوم ویدوں سے اخذ کئے ہیں۔ جرمنوں نے سائنسی علوم ویدوں سے اخذ کئے ہوں یا نہیں البتہ یہ جدید بیکنی اڑن کھٹولا سید ھا پرومانو نرک (ایٹمی جہنم) میں جاکر کریش ہوتا ہے۔ سوچ لو اور سمجھ لو۔ ایک عالمگیر غلط فہمی جو اس دور کے بندوں کو اس ترقی کے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ یہ ترقی جاری رہے گی۔ نہیں بلکہ یہ اب بھنور میں پھنس چکی ہے اور اس کاشمار اب رجعت پسندی کے زمرے میں ہے۔
اس بیکنی کلچر کی دجالی خصوصیات اور سامری:۔
انجیل میں لکھا ہے اینٹی کرائسٹ(Anti-Christ) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مخالف۔ بیکنی فلسفہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کی ضد ہی نہیں ہر الہامی دین کی ضد ہے لیکن انجیل کی یہ اصطلاح بالکل سادہ ہے۔ پیغمبر ِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے دجال کے متعلق ایک جامع پیشنگوئی فرمائی ہے اور دجال کی مکمل اور باریک تشریح کی ہے ۔ آپ ﷺ نے اُسے مسیح الدجال کے نام سے پکار ا ہے یعنی جھوٹا ،نقلی، بہروپیا مسیح یعنی وہ جو مسیح کی سی صورت بنا کر نمودار ہوتا ہے مگر ہے جھوٹا ، مکار۔ یہی صورت اس بیکنی کلچر کی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ عیسوی کارناموں کا مماثل بھی ہے اور ساتھ ہی مخالف بھی۔میں اس عجیب بات کی آگے چل کر وضاحت کرونگا مگر یاد رکھو میں یہ نہیں کہتا کہ یہ وہی مسیح الدجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے پیشنگوئی فرمائی البتہ اتنا کہوں گا کہ وہ تمام خواص اس میں بالکل موجود ہیں اور یہ کہ اگریہ دجال نہ بھی ہو تو اس کے دین دشمن اور انسانیت تباہ خواص کے پیشِ نظر اس کا قلع قمع ضروری ہے۔ پیشتر اس کے کہ یہ انسان کے دین،دنیا، آخرت کوتباہ کردے اور اس کاایٹمی جہنم تو اب ہر ایک کی آنکھ کے سامنے ہے اور اس امر میں غفلت کا مرتکب وہی ہوسکتا ہے جسے تقدیر نے اندھا کردیا ہو۔ اب میں ہر اُس خاصیت کو اس بیکنی فلسفے اور اس بیکنی ترقی میں واضح کرونگا جو آنحضور ﷺ نے مسیح الدجال کے متعلق کی ہے:۔
1۔ بیکنی فلسفہ، بیکنی ترقی ، بیکنی کلچر اور یہ بیکنی سائنس سبھی کانے ہیں اور سبھی کی بائیں آنکھ ہے اور دائیں آنکھ پر انگور برابر پھولا ہے۔ یہ سبھی مادہ پرست ہیں۔ فقط مادیت میں بینا ہیں۔ روحانیت اور آخرت کے معاملوں میں قطعاً اندھے ہیں مگر اس طرح کہ ان کی دائیں آنکھ پر انگور برابر پھولا ہے اور یہ ایک نہایت معنی خیز تشبیہ ہے۔
2۔ یہ روٹیوں کا کلچر ہے۔ دنیا میں روٹیاں بانٹتا پھرتا ہے جو اسے مانیں انہیں خوب دے۔ جو نہ مانیں انہیں بھوک کا عذاب دے۔ ساری دنیا گندم ہور اُگا اوبیلیا کا راگ الاپ رہی ہے۔
3۔ اس کلچر کے ساتھ ساتھ نہریں رواں ہیں۔ فصلیں سرعت سے اُگائی جارہی ہیں۔ بادل سے مصنوعی بارش برسائی جارہی ہے۔
4۔ یہ کلچر ساری دنیا کے دورے پر نکلا اور روئے زمین پر مسلط ہوگیا۔ کہو کونسی جگہ اس سے بچی ہے۔
5۔ یہ بیکنی کلچر نبوت کے منوال پر اپنی تعلیمات سمجھتا ہےپھر اس دنیا پر تسلط حاصل کرکے خدائی کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ آج اتنا بھروسہ اس انسانیت کو خدا پر نہیں جتنا کہ سائنس اور اس کلچر کی اہلیت پر ہے۔
6۔ اس کا اپنا بہشت ہے، اپنا دوزخ ہے جوآدمی اس کا پیرو ہے وہ اس کے مادی بہشت میں ہے۔ جو اس کا منکر ہے وہ افلاس کے دوزخ میں ہے مگرحقیقت میں اس کابہشت دوزخ ہے اور اس کا دوزخ بہشت ہے۔ ایک عجیب ترین چیز جو دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا اپنا مادی بہشت خود اللہ کےایٹمی جہنم کی زد میں ہے۔
7۔ مومن اس کلچر کے ماتھے پر لکھا ہوا ک۔ ف۔ ر یعنی کافرپڑھ لیتا ہے اگرچہ ان پڑھ ہومگر کافر نہیں پڑھ سکتا اگرچہ پڑھا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔
8۔ یہ کلچر بنیادی طور پر یہودی ہے اور یہودیت کی بنیادوں پر استوار ہے۔ وہی دولت کی بنیاد، وہی ہوس، وہی سود، وہی نفع اندوزی، ضدی یہودی ہزار ہا برس کی مارکھانے کے بعد اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ مغرب کے عیسائی اور یہودی کے درمیان اس دور کی ابتداء میں اسی مالی قدرِ مشترک پر صلح ہوئی اور یہودی کی رہنمائی کو قبول کر لیا گیا ۔ یہودی اس دور کا چوہدری ، لیڈر اور خالق ہے۔
9۔ انسانی تاریخ کے ہر گذشتہ دور کے مقابلے میں اس موجودہ کلچر کی ایک نمایاں علامت نقل و حرکت کا میکانیکی نمونہ جو خود اُس کی اپنی اختراع ہے۔ خدا کے بنائے ہوئے گدھے (جو کہ سواری اور بار برداری کی علامت تھا) کے مقابلے میں اس نے اپنا گدھا بنایا اور اسی گدھے پر سوار ہو کر روئے زمین کا چکر لگایا اور آج جہاں دیکھو ، گلی گلی، کوچے کوچے، اُس کا گدھا ہینگتا پھرتا ہے۔ الغرض ہر لحاظ سے حیاتیاتی گدھے اور اس کلچر کے میکانیکی گدھے میں اتنی مماثلت ہے کہ کوئی صورت تفاوت کی نظر نہیں آتی۔
10۔ اس قدر پر کشش اور مقناطیسی شخصیت اس کلچر کی ہے کہ کوئی بھی شخص اس کی کشش سے نہیں بچ سکتا ۔ سوائے اس کے جو مسجد میں پنا ہ لے لے۔ آج مسجد کے اندر تسلط دین کا ہے مگر باہر دنیوی امور میں کلیۃً اسی کلچر کا تسلط ہے۔ اس کی کشش کا ہی کرشمہ ہے کہ ہر مذہب کے پیروکار اس بیکنی کلچر اور اس بیکنی ترقی کو اپنے اپنے دین کے عین مطابق سمجھتے ہوئے بغیر اپنی ضمیر کی کسی خلش کے اس کی پیروی میں ہمہ تن سرگرمِ عمل ہیں۔ کیا یہ کلچر اگر حضور ﷺ کے زمانے میں پیش کیا جاتا تو کوئی مقبولیت حاصل کرتا یا اُس کے بعد جب تک دینی قوٰی مضبوط تھے ایسا کلچر کوئی مقام حاصل کرسکتا تھا، جواب ہے کہ ہر گز نہیں۔ اُس نبی پاک ﷺ کے سامنے جس نے اپنے ایک صحابی کے سلام کا جواب دینا اُس وقت تک ترک کئے رکھا جب تک اُس صحابی نے اپنی پکی بیٹھک کو پیوندِ زمین نہیں کردیا۔ یہ بیکنی کلچر کیسے قدم جما سکتا تھا۔
ہم نے کہا تھا کہ یہ بیکنی کلچر مماثل مسیح کی صورت میں نمودار ہو کر مسیح جیسے ہی کام کرتا ہے لیکن اس کے باوجود دونوں کے کام میں ایک خاص ضد ہے اور ایک قسم کا بعد المشرقین ہے۔ پہلے ہم مماثلت واضح کریں گے پھر تضاد کی کیفیت بیان ہوگی۔
1۔ مسیح علیہ السلام کی طرح ہی یہ بیماروں کو شفا، کوڑھیوں کو تندرستی ، اندھوں کو بینائی عطا کرتا ہےاور مردہ اگرچہ اس سے تاحال زندہ نہیں ہوا لیکن اس کی کوشش بدستور جاری ہے۔
2 ۔ مسیح علیہ السلام ہی کی طرح یہ معجزے دکھاتا ہے۔ سائنس کے کمالات واقع حیرت ناک معجزے ہیں۔
3۔ مسیح علیہ السلام بڑے بڑے ہجوم کو روٹیاں کھلاتے تھے۔ یہ بھی روٹیاں کھلاتا ہے بلکہ ساری دنیا کو روٹیاں کھلاتا ہے۔اس کا بنیادی مقصد ہی روٹیاں کھلانا ہے ۔ یہ روٹی کا کلچر ہے۔
4۔ مسیح علیہ السلام پانی پر چلے اس نے لوہا تیرا دیا، لوہے کے بحری جہاذ بنا دئیے۔
5۔ مسیح علیہ السلام نے مٹی کے پرندے بنائے اور ان میں پھونک مار کر اُن کو اُڑا دیا اس نے ہوائی جہازبنا کر اُڑا دئیے۔
6۔ مسیح علیہ السلام غیب سے آوازیں سنتے تھے اس نے ریڈیو بنا دیا۔ مسیح علیہ السلام شیطان کو دیکھ سکتے تھے اس نے ٹیلی وژن دکھا دیا۔
اب مسیح علیہ السلام کے کاموں اور اس کلچر کے کاموں میں تضاد یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے ہر کام روحانی طاقت سے کیا لیکن اس کلچر نے ہر کام مادی طریقے سے کیا اور اُن کی تعلیمات اور بنیادی مسئلے کا تضاد یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام نے بنیاد آخرت پر رکھی اور اس دنیا کو محض عارضی ٹھکانہ بتایا جبکہ اس کلچر نے بنیاد اسی دنیا پر رکھی اور آخرت سے کوئی واسط نہیں اور یہ کلچر فنا بھی عیسوی روح یعنی آخرت کے خیال سے ہوگا۔ مسلمان جب قرآن ِ حکیم میں آخرت کی روح کو تلاش کر لیں گے تو انشاء اللہ اس بیکنی کلچر کا کام تما م ہوجائے گاابھی تک تومسلمان قرآنِ حکیم کو مادہ پرستی کی کتاب سمجھتے ہیں۔
سامری اور سائنس دان:
سامری کے ذہن اور اس دور کے سائنس دان کے ذہن اور دونوں کے کام میں بے حد مماثلت پائی جاتی ہے۔ بعض مفسرین نے حضرت موسی علیہ السلام کے اس دعوے کے متعلق جو انہوں نے سامری سے کیا تھا مراد یہ لی ہے کہ دجال جو یہود سے پیدا ہو گا وہ سامری کے کام کی تکمیل کرے گا۔
ایٹمی سائنس کی موجودہ کیفیت:
پہلے جانیئے کہ ایٹمی تابکاری کیا ہے ۔ یہ ایٹمی توانائی کا جزوِ لاینفک ہے ۔ قلیل ترین مقدار میں بھی ضرر رساں ہے۔ انسان کو لمحہ بھر میں مار سکتی ہے۔ پندرہ روز بیمار رکھنے کے بعد مار سکتی ہے اور یہ کینسر پیدا کرتی ہے لیکن سب سے خطرناک بات اس کا جنسی اثر ہے۔ یہ جینئے(Genes) کا حلیہ بگاڑ دیتی ہے اور اس امر کا کوئی علاج نہیں۔ مضروب جینئے کو معلوم کرنے یا ضائع کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ مضروب جینیہ خفیہ طور پر کئی نسلوں میں منتقل ہو کر بالآخر عجیب الخلقت بچے کی صورت میں پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ عجیب الخلقیت موروثی ہوتی ہے اور شادی کے ذریعے اقسام و انواع میں بڑھتی ہے حتی کہ بچے مختلف جانوروں کے مختلف اجزا کے مجموعے کے طور پر پیدا ہوتے ہیں حتی کہ انسانی حیوانی اور نباتاتی زندگی فنا ہو جاتی اور عموما کینسر کی مریض ہوتی ہے ۔ تابکاری کے اثرات جینئے پر ناقابل علاج ہوتے ہیں۔
پھر جانیئے کہ تابکاری مرض کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا نہ کوئی نظر میں ہے ،تابکاری شعاع کینسر کوجلا دیتی ہے۔ مرض کو تلف نہیں کرتی۔ ایٹمی ری ایکٹر کسی بھی لمحے پھٹ کر ارد گرد کے اضلاع میں تابکاری کی طغیانی پیدا کر سکتا ہے اور ان لوگوں کو تابکاری کے خلاف کوئی حفاظتی تدابیر مہیا کرنا ممکن نہیں۔ آدمی ہر لحاظ سے تابکاری کے معاملے میں محض ایک مجبور تماشا ہے ۔ سائنس دان کو چاہیئے تھا کہ پہلے ایٹمی توانائی کو بے ضرر بناتا پھر اس کے اپنانے کی سفارش کرتا۔ مگر سائنس دان اس امر میں ایک گناۂ عظیم کا مرتکب ہوا اور سائنس کی رو سے قابلِ مواخذہ ہے۔ ایٹمی توانائی اپنانے کا یہ بین الاقوامی تجربہ جو اس وقت انسانیت کر رہی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت اس انسانیت کو تابکاری تباہی سے نہیں بچا سکتی۔ تقدیر نے اس دنیا کو بالکل اندھا کر دیا ہے۔ کلیسا کے حکم سے ایک سائنس دان برونو نامی کو زندہ جلایاگیا تو دنیا کا ہر ضمیر چیخ اٹھا۔ سائنس دان اب ساری دنیا کو زندہ جلا دینا چاہتا ہے۔ نہ کوئی بچاؤ ایٹمی بم سے ہو سکتا ہے ۔ نہ ایٹمی تابکاری سے ۔ یہ عذابِ الہٰی ہے اور عذاب ِالہٰی سے بچاؤ نہیں ہو سکتا اور کوئی آواز اس کے خلاف دنیا کے کسی گوشے سے اس کے خلاف نہیں اٹھ رہی ۔ انسانیت قربانی کےبکرے کی طرح ایٹمی دیو کے بت پر بھسم ہو رہی ہے۔
اس بیکنی ترقی کا انجام:
فقظ دو راستے اب اس دنیا کے سامنے ہیں یا تو ایٹمی بموں کی بارش میں فوری طور پر تباہ ہو جانا یا ایٹمی تابکاری شعاعوں کے ذریعے رفتہ رفتہ عذابِ الیم میں مبتلا ہو کر فنا ہو جانا اور دونوں قسم کے انجام افسوس یہ ہے کہ بالکل مبنی بر استحقاق ہیں۔ پہلی صورت میں روئے زمین پر پھیلے ہوئے سائنس کے بظاہر مضبوط آثار منٹوں میں ناپید ہو جائیں گے۔ دوسری صورت میں مخلوق سے خالی رہ جائیں گے اور عبرت کے طور پر خدا کی ایک مخلوق کی حماقت کی یادگار کا ایک افسوسناک منظر پیش کریں گے۔ کوئی شخص اگر بچاؤ کی کوئی تدبیر پیدا کر سکے تو نوبل پرائز کا وہی مستحق مگر ایسا نہ ہو سکے گا۔ کیسی تدبیر کیسا نوبل پرائز کیسابچاؤ عذابِ الہی سے کوئی بچاؤ نہیں۔چپ چاپ اس جہنم میں کو د جاؤ۔
جہاں تک خود اس بیکنی ترقی کی بات ہے تو اس کے سامنے بھی دو ہی باتیں ہیں اولا ًیہ کہ توانائی کے قدرتی بے ضرر وسائل کے خاتمے پر اس صنعتی ڈھانچے کا منجمند ہو جانا اور ترقی کا ختم ہو جانا یا پھر ایٹمی توانائی کو اختیار کرکے معاملے کو آگے بڑھانا پھر یا تو یہ انسانیت ایٹمی بموں کا شکار ہو جائے یا ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری کے نتیجے میں تباہ ہو جائے۔ تیسری بات موجود نہیںَ البتہ اس موجودہ نسل یا اس کے بعد چند نسلوں کے سلامت نکل جانے کا امکان ہو سکتا ہے لیکن مجتمع قرضہ بہر حال کسی نہ کسی نسل کو چکانا ہی پڑے گا۔ یہ عذاب ٹل نہیں سکتا۔
اب پائلٹ پر منحصر ہے کہ جہاز کے آگ پکڑنے سے پہلے کس جرأت اور ہوشیاری سے جہاز سے چھلانگ لگاتا ہے۔ جان لو کہ ایٹمی توانائی نہ اپنائی گئی تو یہ ترقی توانائی کے بغیر خود بخود ختم ہوجائے گی۔ اگر ایٹمی توانائی اپنائی گئی تو ایٹمی توانائی اس ترقی کو ختم کردے گی۔ باقی رہا پائلٹ سو دیکھئے وہ جہاز آگ پکڑنے سے پہلے چھلانگ لگاتا ہے یا نہیں۔
اس قرآنی پیشین گوئی کی تاثیر:
دنیا کا کوئی بھی جاننے والا شخص ایٹمی جہنم کے متعلق اس قرآنی پیشین گوئی کو سن کر اپنے حیرت و استعجاب پر قابو پانے کی قوت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر معروف جرمن سکالر مس اینی مری شمل کا نظریہ یہ تھا کہ قرآنِ حکیم پیغمبر اسلامﷺ کی تصنیف ہے۔ ستمبر 1963 میں اس نے پنجاب یونیورسٹی لاہورکے شعبۂ اسلامیات میں اسی موضوع پر تقریر کی اور بزعمِ خود قرآنِ حکیم میں سے بے شمار غلطیاں منصۂ شہود پر لانے کے بعد گویا ہوئی کہ الہامی کتاب کے لئے اغلاط سے پاک ہونا لازم ہے مگر قرآنِ حکیم اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ میں اس تقریر میں موجود تھا۔ اٹھا اور مادام سے پوچھا کہ آیا کسی بھی شخص کے لئے اس دنیا میں چودہ سو برس سے پہلے ایٹم بم کی پیشین گوئی کرنا اور ایٹمی فینامینن کی سائنسی تشریح کرنا سوائے عالم الغیب اللہ کے ممکن تھا ؟کہنے لگی ہوش میں ہو۔قرآن دینی کتاب ہے سائنس کی کتاب نہیں ۔ ایسی کتاب میں ایسا بیان کیسے ممکن ہے ،میں نے 45 برس قرآن پڑھا ہے۔ نہ ہی کبھی کسی علمائے کرام نے کوئی ایسی بات کبھی کہی ہے ۔ نہ ہی میں نے اپنے پینتالیس سالہ قرانی مطالعے میں کہیں قرآن میں دیکھی ہے۔ لیکن جب میں نے اسے یہ سب کچھ قرآنِ حکیم سے دکھا دیا تو محترمہ کرسی پر گر گئی۔ طبیعت ناساز ہو گئی ۔ چائے لائی گئی وہ حلق سے نیچے نہ اتری ۔ محترمہ کی پینتالیس سالہ محنت پر پل بھر میں پانی پڑ گیا تھا لہذا کار آئی اور محترمہ کو لے گئی۔ اس کے بعد دس برس تک محترمہ نے پاکستان کا رخ نہیں کیا اور جب آئی تو موضوع قرآن کی الہامی حیثیت نہ تھا بلکہ اقبالؒ، خسروؒ اور باہوؒ کافلسفہ تھا۔
اس حادثے کے بعد علمائے کرام جو اس تقریر میں موجود تھے اور جو قرآنِ حکیم کی اس عظیم فتح پر بہت خوش تھےنے علامہ علاؤالدین صدیقی صاحب ،اللہ انہیں مغفرت کرے سے میرے متعلق استفسار بہ اصرار کیا تو علامہ صدیقی صاحب نے جو، ان دنوں اسلامیات کے شعبے کے صدر تھے۔ کہا "حضرات یہ وہ شخص ہے جسے قدرت نے اتفاق سے اس قوم میں پیدا کر دیا ہے۔ وہ قرآنی بصیرت جو اللہ تعالی نے اس کے سینے میں تفویض فرمائی ہے اگر یہ قوم اس سے حاصل نہ کر سکی تو اللہ تعالی قیامت تک اس قوم کو معاف نہیں کرے گا۔ پھر ایسا آدمی نہیں پیدا ہو گا"۔
اب مس شمل بیچاری بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ آپ مجھے ان عظیم ایٹمی سائنس دانوں کی ضرورت ہے جو اس مضمون کی باریکیوں کو سمجھتے بھی ہیں اور صاحبِ اقتدار بھی ہیں ۔میں اس دنیا پر اس قرآنی پیشین گوئی کی روشنی ڈال کر اس کی بے پناہ مقناطیسی کشش سے اس دنیا کو ایٹمی جہنم سے نکال کر یا نار کوئی بردا و سلاماعلی ابراہیم کے مطابق اس ایٹمی جہنم کو سرد کرنا چاہتا ہوں۔ مسلمان کہاں ہے۔ کیا کر رہا ہے ۔قرآن زندہ باد اسلام پائندہ باد۔
دیموقراطیس۔ ابراہیم مقابلہ:
علم اور سائنس کے اس دور میں ہر بات کی تحقیق ہو رہی ہے مگر میں آپ کو اسی دنیا میں ایک نیا زاویہ دکھانا چاہتا ہوں جب سے یہ نیا دور 1926 ء سے شروع ہوا اس وقت سے روحِ ابراہیمی، روحِ دیموقراطیسی سے بر سرِپیکار ہے۔ دیموقراطیس، اٹامزم کے بانی کی روح ، ایٹمی جہنم کے بھڑکانے میں اور ابراہیمی روح اس جہنم کو بجھانے کی کوشش میں مصروف پائی جاتی ہے۔ فرانسس بیکن 1561-1626)) کے مقابلے میں مجدد الف ثانیؒ حضرت شیخ سرہندی(1564-1624) کے کام کو دیکھئے۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے یا ایک دوسرے کے کام کو نہیں جانتے تھے لیکن تیاریاں دونوں جانب سے ہو رہی تھیں۔ اس مضمون کو اس زاویئے سے دیکھنے کو حیرتناک انکشافات سے واسطہ پڑے گا۔ پھر سپی نواز(1632-77) یورپ کے یہودی فلسفی کی مادی وحدت الوجودیت کے فلسفے کے مقابلے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ (1703-1763)کے کام کو دیکھئے۔ نظر آتا ہے کہ اس وقت ساری دنیا کو وحدت الوجود کا نظریہ درپیش تھا لیکن بنیادی فرق اس نظریئے کی کیفیت ہے جو یورپ میں مادی اور مشرق میں روحانی ہے۔ پھر سن 1905ء کو دیکھئے اسی سال آئن سٹائن نے اپنا معروف ِزمانہ اضافیت کا نظریہ پیش کرکے ایٹمی سائنس کو بھنور سے نکال دیا۔ اقبالؒ کو اسی سال یورپ میں بھیج دیاگیا۔ جہاں اس نے مغربی فلسفے کا مطالعہ بھی کیا اور اس کی آنکھ ابراہیمی مشن میں بھی کھلی۔ وہ :
”یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے “پکارتا ہوا واپس لوٹااور دنیا کو بتایا کہ:۔
آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
یہی نہیں بلکہ حضرت علامہ نے اس ابراہیمی مشن میں اپنارول بھی واضح کر دیا:۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ
اور حضرت علامہ کی اس ساری نظم کو غور سے پڑھیئے ،یہ ابراہمی خصوصیات کا نچوڑ اور ابراہیمی مشن کا منشورہے جسےاقبال کوسمجھنا ہو وہ اقبال کو ابراہیمی عینک سے پڑھے۔
1905 ء کے بعد 1942 ءکا سال اس ایٹمی دور میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی سال اطالیہ کے عظیم ایٹمی سائنس دان فرمی نے شکاگو میں فژن چین ری ایکشن کا پہلی بار کامیاب تجربہ کرکے عملاً ایٹمی جہنم کی آگ کا دروازہ اس دنیا پر کھول دیاتھا اور اسی سال یعنی 1942 ء میں مصیّب میں بغداد کے قریب حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خواب میں میرے حق میں ابراہیمی مشن کی سفارش کی۔ اسی خواب میں میں نے سورۃ نجم کی پہلی اٹھارہ آیات کی تفسیر عملی صورت میں دیکھی مگر اس وقت میری عمر کے پچیسیویں برس میں میں قرآنِ حکیم کو ناظرہ بغیر معانی و مطالب سمجھے پڑھ سکتا تھا اور پڑھتا تھا۔ 1942 ء سے 1980 ء تک کی روداد دردناک بھی ہے طویل بھی ہے۔ میں نےعلم ، ہر قدیم و جدید علم بغیر استاد کے حاصل کیا۔ اس وقت میرے پاس قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزہ یعنی ایٹمی جہنم کے بارے میں 36 لفظی پیشینگوئی انگریزی میں اور بعض حصے اردو میں جوترجمہ شدہ موجود ہیں اس پر تنقید و تبصرہ کرنا دنیا کے کسی ایک فرد واحد کے بس کی بات نہیں۔ بلکہ آئن سٹائن، ایچ جی ملر، برٹرینڈ رسل ،حضرت امام فخرالدین رازی اور حضرت امام غزالی علیہ الرحمتہ پر مشتمل ایک ٹیم کی ضرورت ہے کیونکہ اتنے ہی مضمون یکجا ہیں اور یہی ایک تصنیف ہے جو اس انسانیت کو ایٹمی جہنم کے شعلوں سے نجات دلا سکتی ہے۔ مگر یاد رکھیئے میرے کام کی بنیاد کسی دعوے پر نہیں میں نے خواب دیکھا یا نہ دیکھا میں نے علم بغیر استاد کے حاصل کیا یا نہ کیا۔ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے، انسانیت کو غرض اس کام سے ہے جو میں پیش کر رہا ہوں ۔ یہی نہیں بلکہ میں اپنے کام کے متعلق قرآن ِحکیم کے الہامی دعوے سے بھی دستبردار ہوں۔ کوئی آدمی قرآنِ حکیم کو مانتا ہے یا نہیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا بلکہ میرے اس کام کا معیار سائنس ہے اور منطقی فلسفہ ہے ۔ سائنس اس دور کا معیاری علم ہے اس کے ترازو سے تول لو پھر اگر کوئی کریڈیٹ ہے تو وہ قرآنِ حکیم کو جاتا ہے کیونکہ مواد قرآنِ حکیم نے فراہم کیا ۔میری فقط خدمت ہے جس کا بدلہ یا اجر اگر میرے لئے کچھ ہے تو میرے اللہ کے پاس ہے۔ اللہ قبول فرمائےالبتہ اگر کوئی تعاون کرے تو اپنے لئے نہ کرے تو بھی اپنے لئے۔گو جب بھی یہود آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لئے، اللہ بجھا دیتا ہے اور دوڑتے ہیں ملک میں فساد کرتے ہوئے ۔(قرآن 5 المائدہ 64)
میری مشکلات:
میری مشکلات نفسِ مضمون کی نسبت سے ہیں۔ مضمون اس دور کی آرزوؤں اور مجبوریوں کے بالکل خلاف ہے مجھے چارارب نفوس کے ایسے ریلے کے سامنے کھڑا ہونا ہے جو بے پناہ تندی سے ایٹمی جہنم کی جانب رواں دواں ہے مگر اس میں میرا کوئی قصور نہیں ۔میں نے وہی لکھا جو قرآنِ حکیم نے کہا۔ میرا وجود سوائے سائے کے کچھ نہیں ۔ میری مشکل ہے قرآنِ حکیم کا نام قرآن کے ماننے والے مجبور بھی ہیں غلط فہمیوں میں بھی مبتلا ہیں، نہ ماننے والوں کے لئے یہ نام حلق کا کانٹا بن سکتاہے ۔ میری مشکل مضمون کی دقت اور بلندی ہے اور اس دور کی غالب اکثریت کی اس مضمون سے لاعلمی ہے۔ اس دور کی مثال اس پی ، ایچ ، ڈی ، ڈی ، ایس ، سی ایف آر ایس کی ہے جس کی کشتی ڈوبے اور وہ تیرنا نہ جانے۔ علم کی کثرت کے باوجود اس دنیا کے اکثرلوگوں کو ایٹمی سائنس کا قطعاً کوئی علم نہیں حالانکہ اس انسانیت کے مستقبل کا دارومدار اسی مضمون پر ہے اور میری تصنیف کا بنیادی مضمون ہی ایٹمی سائنس ہے۔ بہر حال فرض فرض ہے۔ کڑوا ہو یا میٹھا اور مدد اللہ کی ہونی چاہیئے۔
مسلمانوں سے خطاب:
مسلمانوں سے مجھے بہت کچھ کہنا ہے مگر یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ میں نے امتحان دے دیا۔ اب تمہارا امتحان ہے۔ میں تمہاری مجبوریوں سے قطعاً بے خبر نہیں لیکن یہ مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات ۔ یہ تفسیر قرآنِ حکیم کی ہے ۔ یہ اتمامِ حجت اللہ کی ہے۔ تم مسلمان ہو ۔قرآن کی تبلیغ تمہارا دینی فرض ہے اور تم جانتے ہو مگر جو تم نہیں جانتے وہ میں بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنی پیشین گوئی یعنی ایٹمی جہنم سے بچانے کی واحد تدبیر سے خدا کی مخلوق کو محروم کرنا ایک بڑا جواب طلب مسئلہ ہے اور کسی اسلامی ملک میں اس کا بغیر اشاعت کے پڑا رہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی غضبناک آتش فشاں پہاڑ کے دہانے کو بند کرکے اس کے اوپر بیٹھ جانا۔میں کسی کو یہ نہیں کہتا کہ یہ کرو یا وہ نہ کرو۔ میری استدعا تو صرف یہ ہے کہ اس تصنیف کو ساری دنیا میں شائع کر دیا جائے تاکہ ساری قومیں اس کو سمجھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کر سکیں ۔ کوئی ملک تنہا ان حالات میں کچھ نہیں کر سکتا اور پھر دیکھو کہ قرآن اللہ کا ہے عمر بھر اپنا خون میں نے کاڑھا اور اب محض اس کام کو شائع کر دینے سے اگر تم کو عظیم کریڈٹ حاصل ہوتا ہے تو تذبذب کے کیا معنی ۔ تاہم ذرا اپنی نگاہ اوپر آسمان کی جانب اٹھا کر نظارہ بھی کر لو تاکہ تمہارا شبہ زائل ہو جائے اور پھر قرآنِ حکیم میں عاد اور ثمود، لوط اور شعیب کی قوموں کا تذکرہ بھی دیکھ لو۔ غرور مٹ جائیں گے۔ گردنیں جھکا دی جائیں گی ۔ تم چاہو تو مجھے فراموش کر دو لیکن میری قبر بھی پکارے گی ۔ میں مر کر بھی یہی گردان کروں گا۔
عیسائیوں ، ہندوؤں ، بدھوں ، کیمونسٹوں اور یہودیوں سے خطاب:
آئن سٹائن، رسل اور دیگر زعما کی اپیلیں ضائع ہو گئیں اور یہ دنیا بدستور ایٹمی جہنم کی راہوں پر گامزن ہے۔ ان کی اپیلیں دراصل منطق کی بنیادوں سے عاری تھیں ۔ اس لئے غیر موثر ثابت ہوئیں ۔یہ لوگ سطحی لہروں کو دیکھ سکے۔ مسئلے کی تہہ میں نہیں اتر سکے البتہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام یا کرشن مہاراج یا مہاتما بدھ آج ہوں تو وہ قرآن ِ حکیم کی اس پیشین گوئی کو نورِبصیرت بنا کر روئے زمین کی قوموں میں اسے شائع کریں ۔یا د رکھیں یہ ایٹمی جہنم والا مسئلہ کسی ایک قوم کا نہیں سب قوموں کا مشترکہ ہے لہذا جہاں سے بھی کوئی واضح تدبیر اس سے بچنے کی ملتی ہے تو اسے قبول کر لو۔ سلامتی ہو اس شخص کے لئے جسے سلامتی کی تلاش ہو، اگر قرآن میں تمہارا اعتقاد نہیں تو کیا ہوا سائنس میں تو ہے اور قرآن نے اس ضمن میں ساری بحث سائنس سے کی ہے۔تم دیکھو یہ سائنس کامعجزہ ہے۔ میں دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دور کی دنیا پاگل ہے۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ خود ایٹم بم بنائیں ایٹمی ری ایکٹر بنائیں اور دوسروں کو پرالیفیکیشن کے نام پر منع کریں اور واقعی وہ اسے ایک موثر تدبیر سمجھتے ہیں۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے جس روز سود کو حرام قرار دیا تو سب سے پہلے اپنے چچا کے لاکھوں کے سودی کاروبار کو ختم کر دینے کا اعلان کیا۔ یہ تو تھی دانشمندی لیکن اس دور کی ایٹمی طاقتوں کے سربراہوں کی دانشمندی کس قسم کی ہے میں کہتا ہوں ہوش میں آؤ۔ بیدار ہو اس بیکنی جنوں کو پھونک مارکے اڑا دو۔ غیر مسلم قومیں بھی اپنے آپ کو میری اس تفسیر کی اشاعت کے سلسلے میں بری الذمہ نہ سمجھیں۔
سائنس دان اور فلسفی کو خطاب:
پانی اب سر سے نکل چکا ہے۔ سائنس دانو! اس دنیا کو ایٹمی سائنس کی مایوس حقیقت سے روشناس کر دو ورنہ وہ وقت آنے والا ہے کہ لوگ آپ کے نام سے بھی نفرت کریں گے اور فلسفیو!۔ اب دوسرے فلسفوں کو خیر باد کہہ دو۔ بیکن کے فلسفے کا مطالعہ کرو اور اس کے مقابلے میں انجیل اور قرآن کے فلسفے کو بھی دیکھو۔ اپنے ذہن کو مزید پریشان نہ کرو اور جاگ اٹھو۔
دنیا کے سربراہوں کو یاد دہانی:
میں آپ کو آئن سٹائن کے اس تاریخی خط کی یاد دہانی کراتا ہوں جو اس نے مورخہ 2 اگست 1939 ءکو امریکی صدر روز ویلٹ کی توجہ اس امکان کی جانب مبذول کر انے کے لئے لکھا تھا جو عام بم سے دس لاکھ گنا طاقت بم بنانے کے سلسلے میں نظر آ رہا تھا۔ امریکی حکومت نے اس مقصد کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیئے تھے جس کا نتیجہ آج عالمی تباہی کے اس ایٹمی سامان کی صورت میں سامنے ہے۔ میں 1980 ء میں آپ کی توجہ قرآن ِحکیم میں دی گئی ایک ایسی تدبیر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کے ذریعے ایٹم بم اورایٹمی تابکار شعاعیں بے کار ہو جاتی ہیں۔ اس میں زیادہ دولت درکار نہیں۔ فقط قرآنِ حکیم کی اس تدبیر کی میری تفسیر کی بین الاقوامی اشاعت کے انتظامات کر دیئے جائیں ۔ ورنہ آپ کی ساری دولت ایٹمی جہنم کی نذر ہو جائے گی۔ جانی نقصان اور مصائب و شدائد اس کے علاوہ ہوں گے۔ والسلام
ایٹمی توانائی کے مسئلے پر ریفرنڈم:
چونکہ کسی بھی ملک کے عوام ایٹمی توانائی کے متعلق جانتے ہی کچھ نہیں لہذا ایسا ریفرینڈم اندھوں کے رنگ کا اور بہروں کے لئے موسیقی کا ریفے رینڈم ہے۔
بیکن شیطانِ ثانی ہے:
شیطان نے آدم علیہ السلام کو فریب دے کر بہشت سے نکالا ۔ بیکن شیطانِ ثانی ہے۔ شیطان کا فریب اور بیکن کا فریب بالکل ایک جیساہے۔ شیطان نے کہا۔ تم اس شجرِ ممنوعہ کو کھانے سے فرشتہ بن جاؤگے اور ایک لازوال حکومت کے مالک ہو جاؤ گے اور سارے اسرارِ باطنیہ جان لو گے۔ بیکن نے کہا نیچرل فلاسفی(سائنس) حاصل کرو۔ قدرت پر تمہارا تسلط ہو جائے گااور تم لازوال ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاؤگے اور کائنات کے اسرار سے آگاہ ہو جاؤ گے البتہ شیطان نے کہا نیکی اور بدی کی معرفت کے درخت کا پھل کھاؤ مگر بیکن نے کہا کہ اخلاقی فلسفے کی بات نہ کرو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آدم کی پہلی نافرمانی یعنی نیکی اور بدی کی معرفت والے درخت کے پھل کھانے کے مترادف ہے اور:۔
ہزار نکتہ باریک تر ز مو اینجا است
نہ ہر کہ موبترا شد قلندری داند








