Top Banner Blue

باب نمبر 6۔     ایٹمی آگ کی قرآنی تشریح

”سورۃ الھمزہ ایک مختصر سی سورۃ  میں قرآنِ حکیم نے معجزانہ انداز میں اس جدید دور کے جدید فرانسس بیکنی  اٹامزم کی خصوصیات یعنی عیب جوئی، دولت اندوزی اور اس دولت اندوزی کی ابدیت کے گمان کو ایٹمی جہنم کی پیدائش کا سبب بتایا ہے اور ایٹمی جہنم کی اس موجودہ ایٹمی سائنس کے حوالے سے تشریح کی ہے اس طرح کی کہ ایٹمی عمل کی وہ بنیادی یعنی اصولی خصوصیا ت جو ایٹمی فینامینن کو دوسرے فینامینا مثلاً کیمیائی یا برقی کے فی نامینا سے ممیز کرتی ہیں نہایت ہی جچے اور تلے انداز میں نہایت ہی مختصر مگر نہایت ہی جامع الفاظ میں بیان کر دی ہیں۔ واضح ہے کہ  چودہ سو برس پہلے ایٹمی سائنس اور اٹامزم کے جدید احیا ءاور اٹامزم کے منطقی اور سائنسی نتیجے کے طور پر ایٹمی جہنم کے ظہور کا علم سوائے ذات رب علام الغیوب کے کسی کو نہیں ہو سکتا تھا۔ پس یہ ثبوت ہے قرآنِ حکیم کے منجاب اللہ ہونے پر ایسا ثبوت جس کی تردید ناممکنات سے ہے باقی جتنی دلیلیں بھی قرآن کے الہامی ہونے پر دی جاتی ہیں یادی جا سکتی ہے ان میں سے ہر ایک کی تاویل مخالف کی جانب سے ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں اللہ اور بندے کے درمیان قدرِ مشترک کا وجود موجود رہتا ہے لیکن اس دلیل میں انسانی علم کے اعدام کی یقینیت کی وجہ سے اللہ اور بندے کے درمیان قدرِ مشترک ناپید ہے اور یہی دلیل ہے جو سن کر معروفِ زمانہ سکالر این میری شمل نے قرآنِ حکیم کی الہامی حیثیت کے انکار سے خاموشی اختیار کی اس موضوع کے سائنسی پہلو کی ماہیت کو کماحقہ سمجھنے اور جانچنے اور علمی دنیا میں اس کا مقام متعین کرنے کے لئے تو کم از کم آئن سٹائن کے دماغ کی ضرورت ہے اور اس کے قرآنی پہلو کے کماحقہ ادراک کے لئے حضرات رازی، جلالین،طبری اور ابنِ کثیر ؑ کے پائے کے اذھان کی حاجت ہے ۔ ان حضرات نے جو حقائق اس سورۃ کی تفسیر میں بیان فرمائے ہیں وہ آج کے اس ایٹمی دور میں بھی محیرالعقول گردانے جائیں گے تاہم یہ قرآنِ حکیم کی اعجازِ بیانی کاکمال ہے کہ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق اس مضمون کو باوصف اس کی بے پناہ دقتِ عمیق کے سمجھ سکتاہے اور مصنف نے جو کچھ بھی اس میں قرآنِ حکیم اور سائنس سے لکھا ہے اس کے لئے کسی حوالے کی ضرورت نہیں ۔ قرآنِ حکیم کے تفسیری نکات ہوں یا سائنسی حقائق سب کے سب معروف ترین اور اظہر من الشمس ہیں جنہیں تفسیر کاہرطالبِ علم اور سائنس کا سٹوڈنٹ جانتا ہے۔ قرآن نے انسانوں اور جنوں کو چیلنج کیا تھا کہ ایسی ایک سورۃ بنا لاؤ اور کوئی نہ لاسکا ۔آج کے سائنسی دور میں دریائے سائنس کا کوئی بھی نہنگ سورۃ ھمزہ کی ایٹمی سائنسی تشریح کو دیکھ کریہ کہنے پر اپنے آپ کو مجبور پائے گا کہ یہ بات انسانی ذہن کے بس کی نہیں۔ حالات کہتے ہیں کہ ایٹمی جہنم کی تباہی اس انسانیت کا مقدر ہو چکی اَلبَتَّہ اگر کوئی طاقت انسانیت کو اس دردناک انجام سے بچا سکتی ہے تو قرآنِ حکیم کی یہ معجزانہ ہدایت ہے جو اس سورۃ میں ہے۔ لاریب کہ ایٹمی آگ کے اس طوفان میں اس کی صورت کشتئ نوح کی ہے۔ یہ  قرآن کا ایک ایسا جھنڈا ہے کہ انسانیت اگر اس کے سائے میں آ گئی  تو ایٹمی قیامت سے نجات پالے گی۔

جو دل ایٹم کا توڑیں تو دلِ فطرت سے آہ نکلے

شرر ِ صورت

خدا کی اس زمین پر جو بھی ہے ہو کر تباہ نکلے

توانائی جسے تو ایٹمی دیوی سمجھتا ہے

عجب کیا ہے کہ بالآخر وہ دیو، رو سیاہ نکلے

زمانہ جس کو سمجھا ہے کڑی تسخیر قدرت کی

قیامت ہے اگر تیرِ مکافاتِ گناہ نکلے

سورۃ الھمزہ ایک مختصر سی سورۃ ہے۔ اس کے کل لفظ زیادہ سے زیادہ  (36) ہیں جن میں سے چودہ لفظوں میں حطمہ (ایٹمی جہنم) کی پیدائش کی وجوہ کا منطقیانہ بیان ہے اور چودہ لفظوں میں ہی حطمہ کی سائنسی تشریح ہے۔ میرا یہ دعویٰٰ ہے کہ اس روئے زمین کے سارے فلسفی مل کر بھی چودہ لفظوں میں اس مضمون کو اس خوبی سے بیان نہیں کر سکتے۔ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ اس نئے دور کا سب سے بڑا فلسفی یعنی لارڈ برٹرینڈ رسل بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکا  تھا،جو قرآنِ حکیم نے ان چودہ لفظوں میں ایٹمی جہنم کی  پیدائش کے بارے میں آشکار کیا۔باقی جن چودہ لفظوں میں قرآنِ حکیم نے حطمہ یعنی(ایٹمی جہنم)کی سائنسی تشریح کی ہے۔ دنیا بھر کے ایٹمی سائنس دانوں کو میری طرف سے یہ چیلنج ہے کہ سب مل کر بھی چودہ لفظوں میں ایٹمی سائنس کے بنیادی اصول اور امتیازی صورتیں اس انداز میں بیان کریں جس طرح قرآنِ حکیم نے کیا ہے۔ مجھے یقین ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکیں گے۔ اُ ن کی ساری ایٹمی لائبریریوں کا نچوڑ قرآنِ حکیم نے چودہ لفظوں میں بیان کر دیا ہے اور انداز معجزانہ ہے۔ درحقیقت قرآنِ حکیم کی یہ پیشینگوئی ایک تنبیہ ہے، جو اس دنیا کو ایٹمی جنگ یا ایٹمی جہنم سے بچانے کی واحد تدبیر ہے، یہ اس طوفانِ آتش میں کشتیء نوح اور   مصری جادوگروں کے اُ ن سانپوں کے لئے عصائے موسوی ہے جو اژدھا بن کر ان سب کو نگل جائے گا۔یہ پہلی آواز ہے جو آپ اس کتاب میں سنیں گے۔ وہ دن دور نہیں جب قرآنِ حکیم کی یہ آواز اس دنیا میں صورِ اسرافیل کی طرح انسانیت کو ایٹمی جہنم کی دردناک اور رسوا کُن تباہی سے بچا لے گی ۔جو لوگ بلکہ تمام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی ترقی کا یہ سلسلہ لامتناہی انداز میں یوں ہی آگے بڑھتا رہے گا وہ احمقوں کی جنت میں بستے ہیں۔ اس نئی بیکنی ترقی گزیدہ تہذیب کا حشر اب بالکل واضح نظر آتا ہے خواہ یہ حشر ایٹمی بموں سے ہویا تابکاری شعاعوں سے۔ بے شک اس وقت ان حالات میں انسانیت کو اس جدید معاشرتی پنجرے سے نکالنا آسان نہیں۔جو کچھ قرآنِ حکیم نے اس سورۃ میں کہا ہے۔ اسے سمجھنے کی اہلیت رکھنے والے بعض اغراض و وجوہ کی بنا پر اسے سمجھتے ہوئے بھی اسے سمجھنے سے دانستہ گریز کریں گے لیکن حالات کادھارا اس بات کی صریح غمازی کر رہا ہے کہ ایٹمی جنگ کے خطرے سے خوفزدہ ہو کر یہ انسانیت تلملا کر قرآن ِحکیم کی اس تدبیر کو اپنانے پر مجبور ہو جائے گی۔

یاد ریکھئے! ایٹم بم ہو یا ایٹمی تابکاری ان سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں۔ اگر دنیا کے مغربی سرے پر ایٹمی جنگ ہو گی تو اس کی تابکاری کی تباہی مشرقی سرے تک پھیل جائے گی۔ جو بدبخت لوگ ایٹمی دھماکے سے بچ رہیں گے وہ مرنے والوں کورشک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ امریکہ ہو یاروس یا کوئی دوسرا ملک اس دنیاکو ایٹمی تباہی سے نہیں بچاسکتا۔ قرآن ِحکیم اور صرف قرآن ِحکیم ہی بچا سکتا ہے۔ 

یادرکھیے! ایٹم بم ہتھیار نہیں ہے۔ یہ عذابِ الہٰی ہے،یہ مکافاتِ عمل ہے۔وہ لوگ جوقرآنِ حکیم کی اس سورۃ کی رو سے ایٹمی جہنم کے عذاب کے مستحق گردانے گئے، وہ اگر اس دنیا میں اس عذاب سے بچ کر بھی نکل گئے، تو وہ اگلی دنیا میں ابدی جہنم کو اپنامنتظر پائیں گے۔ مسلمان اگر اس نئی سائنس گزیدہ تہذیب کے احوال وانجام کو نظرمیں رکھ کرقرآن ِحکیم میں پائی جائے والی وہ آیات جو غورِ آیات کی تلقین اور تسخیرِ کائنات کے ضمن میں ہیں، غور سے پڑھیں تو معلو م ہو گا کہ قرآنِ حکیم کے مقصود اور اس نئی مبنی بر ترقی تہذیب کے مقصود میں کوئی مطابقت نہیں۔ قرآنِ حکیم کی تعلیم سلامتی کی جانب رہبری کرتی ہے جب کہ یہ نئی تہذیب لامحالہ ایٹمی تباہی پر منتج ہوتی ہے۔

بہر حال قرآنِ حکیم کا یہ موضوع مشکل ترین ہے۔ فلسفے میں پی ایچ ڈی یا سائنس میں ڈی ایس سی ہونا اسے کماحقہ سمجھنے کی کوئی ضمانت نہیں اَلبَتَّہ اگر دل نورِ ایمانی سے منور ہو تو غورکرنے پرواجبی سی تعلیم والا آدمی بھی اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ مسلمان قرآنِ حکیم کے منجانب اللہ ہونے پر جو بھی دلیل دے سکتے ہیں، مخالف اس کی تاویل کرسکتا ہے، اَلبَتَّہ یہ دلیل کہ قرآنِ حکیم نے چودہ سو برس پہلے ایٹم بم کی پیشین گوئی ہی نہیں کی بلکہ ایٹمی سائنس کی تشریح بھی سائنسی انداز میں کر دی۔ اس کی تاویل یا انکار ممکن نہیں۔

آخر کو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ بحیثیتِ مسلمان ا’متِ مسلمہ کا یہ دینی اور اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ ساری دنیاوی اغراض اور ہرخوف سے بے نیازہو کرخدا کی مخلوق کو ایٹمی جہنم کے عذاب سے بچانے کی سعی بلیغ کرے۔ یہی اس دور کی مخصوص نہی عن المنکر ہے۔ورنہ نہ رہے گا بیت المقدس، نہ رہے گا مکّہ مکّرمہ، اور مدینہ اور  پھرشیطان اللہ تعالیٰ سے کہے گا،کہ باری تعالیٰ! تو نے جس کیچڑ کے پتلے کے لئے مجھے راندہ ء درگاہ کر دیا تھا۔ دیکھی آپ نے اس کی کارکردگی۔ میرے منصبِ معبود! کیا میرے اندازے غلط تھے؟ اس وقت عرش ا و رفرش کانپ جائے گا۔

            سورۃ الھمزہ ایک مختصر سی سورۃ ہے ۔مسلمان اسے صدیوں سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں مگر اس سورۃ کی حقیقت اس نئے دور کی نئی روشنی میں بالخصوص ایٹمی سائنس اور ایٹمی بم کے وجود پذیر ہونے کے بعد کھلی ہے ۔ اس سورۃ میں مکمل ایٹمی سائنس اور اس نئے بیکنی سائنسی ترقی کے دور کی مکمل تشریح حتٰی کہ ایٹمی دھماکے کی منظر کشی بھی موجود ہے۔ الحمد للہ کہ یہ انکشاف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا اپنا ہے۔ روئے زمین کے مسلم اور غیر مسلم اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اللہ کرے یہ لوگ اس حقیقت سے جلد  باخبر ہو جائیں کیونکہ انسانیت کو ایٹمی جہنم کی دردناک اور رسوا کن تباہی سےبچانے کافقط یہی ذریعہ ہے۔

            قرآن ِحکیم نے اس سورۃ میں صرف چودہ لفظ استعمال کرکے جس جامع انداز میں ایٹمی جہنم کے نمودار ہونے کے اسباب ( جو اس نئے مادہ پرستی کے دور کی تشریح بھی ہے) بیان کئے ہیں اور جس طرح صرف چودہ ہی الفاظ میں ایٹمی سائنس کے بنیادی اصول اور  امتیازی  خصوصیات بیان کر دی ہیں۔ وہ ایک واضح معجزہ ہے۔ میرا یہ چیلنج ہے کہ روئے زمین کے فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی یہ کمال کرکے دکھائیںَ یقیناً وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ لاریب کہ قرآن کی یہ سورۃ انسانیت کو ایٹمی جہنم کے آتشیں طوفان سے بچانے کے لئے کشتئ نوح اور دورِ حاضر کے جادوگروں کے پھیلائے ہوئے سانپوں کو نگلنے کے لئے عصا موسوی کا اژدھا ہے۔ قرآنِ حکیم نے چونکہ اس سورۃ میں ایٹمی جہنم کے نمودار ہونے کے اسباب بتا دیئے ہیں۔ لہٰذا ان اسباب کو دور کرکے انسانیت اس دردناک تباہی سے نجات پا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری راہ نجات کی نہیں۔ یہ دنیا ہر طرف سے مایوس ہو کر بالاخر قرآن کی اس رہنمائی کی جانب رجوع کرے گی اور قرآن اس وقت اس دنیا کا نجات دہندہ بن کر سامنے آئے گا اور روئے زمین پر قرآن کا اور اسلام کا بول بالا ہو گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس دور کو دیکھیں گے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مادی ترقی یوں ہی لامتناہی طور پر چلتی رہے گی اور یہی اب اس دنیا کی تہذیب ہے وہ مغالطے میں ہیں۔ عنقریب اس نئی سائنسی ترقی کی یہ تہذیبِ جدید اپنے حشر سے دوچار ہونے والی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنے حشر کے ساتھ انسانیت کا حشر بھی برپا کر دے۔ سائنس دان جو بعض مجبوریوں  کی وجہ سے حقائق کی پردہ پوشی میں مصروف تھے۔ بالآخر حقیقت کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ایٹمی جنگ کے بعد اس زمین پر کچھ نہیں رہتااور عذاب کی تو بات ہی کیاہے۔ دنیا والے اگر ایٹمی جنگ کے ذریعے  ایک دوسرے کو تباہ کر دیں تو شیطان اللہ سے کہے گا میں نہ کہتا تھاکہ تو نے کیا کیچڑ کا حقیق پتلا بنا دیا ہے۔ یاد رکھیئے کہ ایٹم بم یا ایٹمی تابکاری سے بچاؤ کاکوئی ذریعہ نہ ہے نہ ہو گا۔ ایٹم بم اسلحہ کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ تو غضب الٰہی ہے۔ مکافاتِ عمل ہے۔ اگر یہاں سے بچ کے بھی نکل گئے تو ان لوگوں کے لئے جو قرآن کی رُو سے اس دنیا کے ایٹمی جہنم کے مستحق ہیں وہ اگلی دنیا میں حطمہ کو منتظر پائیں گے کیونکہ اگلی دنیا کے حطمہ کی سزا کے لئے جو وجوہات قرآن نےسورۃ الھمزہ میں بتائی ہیں وہ وہی ہیں جن کی وجہ سے اس دنیا میں ایٹم بم ابھرا ہے لہٰذا قیامت پر یقین رکھنے والے ہوش کریں ۔قرآنِ حکیم میں غورِ آیات کی بے حد تلقین کی گئی ہے لیکن غور کرنے پر قرآنِ حکیم کا جو مقصود غورِ آیات سے ہے۔ اُس میں اور اِس نئی سائنس کے مقصد میں زبردست تضاد ہے۔ وقت ہے کہ مسلمان اس نکتے پر غور کریں ۔یہی بات تسخیرِ کائنات کے بارے میں کہی جا سکتی ہے ۔قرآنِ حکیم میں جو سخرنا لکم کی آیات ہیں۔ ان کا مقصد قطعاً وہ نہیں جو اس نئی سائنس کی کائناتی تسخیر کا ہے۔ اس نکتے کو سمجھنا اور سمجھاناعلمائے کرام کا کام ہے ۔انہیں یہ حقیقت سجھنے  میں قطعاً کوئی مشکل درپیش نہیں آئے گی۔ وما علینا الا البلاغ المبین۔

            سورۃ الھمزہ کا مضمون نہایت ہی ادق ہے۔ جس طرح کہ ایٹمی سائنس سب مضمونوں سے مشکل ترین ہے۔ معجزے کو سمجھنا اور سمجھانا  بہت مشکل کام ہے اَلبَتَّہ  اگر دل ایمان کی روشنی سے منور ہو اور حقائق کا اندازہ ہو سکے تو واجبی سی تعلیم والا بھی ۔قرآن کے اس معجزے  کو سمجھ سکتا ہے استدعا ہے کہ گھبرائے بغیر اس تحریر پر غور کیا جائے ۔ پردے انشا ء اللہ اٹھتے جائیں گے۔ یہ حقیقت اب ہر طرح سے تسلیم ہو چکی ہے  کہ ایٹمی جنگ خواہ محدود ہو خواہ  مکمل، مکمل تباہی ہے۔ نہ کوئی فاتح رہے گا نہ مفتوح ۔ اس حالت کے پیشِ نظر اُمتِ مسلمہ کا یہ دینی اور اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ اس دنیا کو اور دنیا کے ساتھ اپنے آپ کو  اس عظیم المیے سے بچانے کی تدبیر کرے ۔ ورنہ قیامت کو پکڑی اُمتِ مسلمہ جائے گی کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اسی امت کو سونپا گیا ہے اور سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔

(حطمہ) ایٹمی آگ کی تشریح کی بات کو چھوڑو۔ یارو۔ دیکھو کہ قرآنِ حکیم نے عیب جوئی ، نکتہ چینی، دولت جمع کرنے اور دولت کی ہمیشگی کا گمان رکھنے کی سزا کتنی سخت سنائی ہے  یعنی حطمہ کا جہنم۔ یہ سزا کفر کی سزا سے بھی زیادہ ہے کیونکہ جتنے دوزخ قرآنِ حکیم نے بتائے ہیں اُن سب سے بُرا دوزخ حطمہ کا ہےمگرمسلمان دولت کے متعلق اسلامی نقطۂ نگاہ کی روشنی میں موجودہ مادہ پرستانہ اور یک طرفہ استغراق کی حقیقت کو نظر انداز کرکے غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

     (I)  بیکنی فلسفہ اور بیکنی ترقی :۔     

آج اس روئے زمین پر بسنے والی ساری مخلوق بیکن کے جدید اٹامزمی فلسفے پر عمل پیراہے اور بیکن کا کسی نے نام بھی نہیں سنا۔ اس دنیا میں چند آدمی بیکن کا نام جانتے ہیں اور اس سے بھی کہیں کم لوگ اس دنیا میں ایسے ہیں جنہیں بیکن کے فلسفے کا علم ہے اور ایسا آدمی تو کہیں خال نظر آئے گا جس نے بیکن کی اپنی کتابیں پڑھی ہوں۔ بیکن (1626-1561)  انگلینڈ کا لارڈ چانسلر اور جدید اٹامزم کے فلسفے کا بانی حقیقت میں شیطانِ مجسم تھا اور اس کا فلسفہ کیا ہے؟اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی دوسری سازش ہے جب کہ پہلی سازش شیطان نے بہشت میں آدم کو گندم کا دانہ کھلا کر کی تھی۔بیکن کا فلسفہ الہامی دین کے بالکل الٹ ہے۔اس کے مطابق یہی دنیا انسان کا منتہائے مقصود ہے اور بیکن کے مطابق یہی آدم کو اللہ کا حکم ہے۔ اخلاقی فلسفے کے متعلق بیکن کہتا ہے کہ ا س کو سیکھنا گویا کہ ابنائے آدم کا اسی لغزش پراصرار و استمرار ہے جو آدم نے خدا کے حکم کے خلاف نیکی اور بدی کے علم کے درخت کا پھل کھا کر کی تھی۔ بیکن کے مطابق انسان نے اخلاقی فلسفے کی تعلیم کو محض اس لئے سیکھا کہ اپنے آپ کو قانون مہیّا کر سکے تو پھر اب الہامی دین کے پیرو کہاں کھڑے ہیں؟ بعض لوگ بلکہ اکثر لوگ میری اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے ہی آمادہ نہ ہوں گے۔وہ یہ باور بھی نہیں کر سکیں گے کہ بیکن اس طرح کا فلسفہ دے سکتا تھا یااگر اس نے ایسا مکروہ فلسفہ دیاتھا تو کس طرح بغیرچیلنج کئے اپنایا جا سکتا تھا توعرض یہ ہے کہ میں کوئی مداری کی چال نہیں چل رہا۔ بیکن کی دونوں کتابیں یعنی ایڈوانسمنٹ آف لرننگ (Advancement of Learning) اور نووم آرگینم(Novum Organum) بدستور اس دنیا میں موجود ہیں۔ جسے شک ہو وہ خود پڑھ لے۔ہو سکتا ہے بعض لوگ تاویلات کے ایسے چکر میں پڑ جائیں جو صرف ایسے لوگوں کے لئے موزوں ہے کہ تباہی و بربادی جن کامقدر ہو چکی اور جن کو قدرت نے اندھا کر دیاہواور اگرچہ بیکنی فلسفہ تو پردۂ اختفا میں ہے تاہم یہ بیکنی ترقی جو بیکنی فلسفے کے اصولوں پر ہی چلائی گئی ہر آدمی کے سامنے بہ نفس ِ نفیس موجود ہے لیکن اس بیکنی ترقی کے خوفناک انجام نے ا س دور کے بندوں کو اس طرح اندھا کر دیا ہے کہ برٹرینڈ رسل معروف عالمی فلسفی کی سطح کے انسان بھی اس بیکنی ترقی کی حقیقت کو کماحقہ نہیں سمجھ سکے بلکہ اس کے بیرونی کناروں پر ہی پھرتے رہے ہیں۔اب میں بیکنی ترقی کاتجزیہ پیش کروں گا۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ الہامی دین اور اس بیکنی فلسفے کے بنیادی اصولوں پر جو تضاد موجود ہے اس کو اچھی طرح سے سمجھ لے اور اگر آج تک اس بیکنی ترقی کا کماحقہ تجزیہ نہیں ہو سکا حتٰیٰ کہ اس کی سطح کے لوگ بھی اس سے قاصر رہے ہیں تو اس کی وجوہات ہیں مثلاًایک تو دنیا حرص و ہوس میں اندھی ہو رہی ہے، دوسرایہ کہ مضمون دھند کے بادلوں میں محصور ہے۔ اگر میں نے اس بیکنی ترقی کاتجزیہ درست کیا ہے اور اس کی حقیقت کے دل تک پہنچ سکاہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میری بصیرت کو قرآنِ حکیم کی ماورالبشری روشنی نے منور کر دیا ہوا ہے۔یاد رکھو کہ میرے سپرد یہ ابراہیمی مشن ہوا ہے کہ اس بیکنی فتنے کی حقیقت کو انسانیت کے سامنے کماحقہ آشکار کروں تاکہ یہ دنیا ایٹمی تباہی سے بچائی جا سکے۔ قرآنِ حکیم اور دوسری الہامی کتابوں اور سائنس کی روشنی پرمیری جدوجہد کی اساس ہے اور قرآنِ حکیم کے معجزے اس دنیا کے سامنے پیش کرنا میری تقدیر ہے۔ ایسے معجزے جن کی تردید نہ تو سائنس دان کر سکتا ہے نہ ہی کوئی معجزوں کا منکر۔ حقیقت کو منکشف کرنا میرا فرض ہے تاکہ یہ دنیا اس بیکنی ترقی کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم سے بچ سکے نیز میں نے اس دنیا کو اسلام کا ایسا معاشی نظام دینا ہے جو کیمونزم کے معاشی نظام کاتوڑ کرکے خدا کی مخلوق کوکیمونزم کی جھولی میں گرنے سے بچا سکے۔ یہاں بات مختصر ہو گی اس لئے و ہ لوگ جو ایک خوفناک ترین، دردناک ترین اور شرمناک ترین عالم گیر انجام سے  بچناچاہتے ہیں وہ ہرلفظ کو غور سے سنیں۔

(۱)       بیکن کا فلسفہ ہے انسان کا تسلّط قدرت پر، مسلسل، باقاعدہ اور منظّم سائنسی تحقیق کے ذریعے۔جملہ انسانیت کی مادی بہبود کے لئے انسان کی حقیقی منزل کے طور پر اور خالصتاً منشائے ربانی اور حکم ِخداوندی کے مطابق مگر اخلاقی فلسفے کی جستجو آدم کی پہلی نافرمانی یعنی نیکی اور بدی کی معرفت والے شجرِ ممنوعہ کھانے کا اعادہ و اصرار و استمرار ہے۔ انسان نے اخلاقی فلسفے کو اپنا کر حکمِ الٰہیٰ کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اللہ نے آدم کو حکم نیچرل فلاسفی (سائنس) کی جستجو کا دیاتھا۔ انسان نے اخلاقی فلسفے کو اس لئے اپنایا کہ اپنے آپ کو قانون دے سکے۔ اب پیروانِ ادیان الہامی کیا کہیں گے۔ دینِ الہامی کی بنیاداخلاقی فلسفے پر ہے۔ نیچرل فلاسفی ایک ثانوی ضرورت کی حیثیت کی حامل ہے۔ ببیں تفاوت راہ از کجاست تابہ کجا۔لوگ اَلبَتَّہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب ہمارااس بیکنی فلسفے سے کیا واسطہ ہے۔ ہم تو اپنے دین کے فلسفے کے قائل ہیں۔ ہم نے تو اس نامراد فلسفے کا نام تک نہیں سنا تو جنابِ والا آپ کا یہ جواب سراسر جہالت اور لاعلمی پر منحصر ہے۔ تم گردن گردن اسی بیکنی فلسفے میں غرق ہو اور اس پر بالکل عمل پیرا ہو۔ ذرا دیکھو تو یہ بیکنی ترقی جس کی جدوجہد میں تم شب وروز سرگرداں ہو۔ یہ بیکنی فلسفے کے اصولوں پر ہی اٹھائی گئی ہے اور اس میں وہی خصوصیات من و عن موجود ہیں جو بیکنی فلسفے کی ہیں۔جو شخص بھی کوئی زہر کھاتا ہے وہ زہر اپنا اثر لازماً دکھاتی ہے خواہ اس شخص کو زہر کھانے کا علم ہو یا نہ ہو۔

(ب)  یہ  بیکنی  ترقی:۔

یہ بیکنی ترقی کیا ہے؟ قدرت پر انسان کا تسلّط، مسلسل، منظم اور لاامتناہی سائنسی تحقیق کے ذریعے، جملہ انسانیت کے مادی فوائد کی خاطر، یہ بیکنی ترقی، سائنسی جستجو کی روشنی میں ہے اور مرتّب ہے، منظّم ہے، مسلسل ہٍے، روز افزوں ہے اور لاامتناہی ہے۔ آپ کہیں گے تو پھر کیا ہوا۔ ہم ترقی بھی کرتے رہیں گے اور اس کے ساتھ اسلام کے اصولوں پر بھی کاربند رہیں گے۔اسلام ترقی سے کب منع کرتا ہے۔ اسلام تو ترقی پسند مذہب ہے۔  مان لیا مگر چونکہ یہ بیکنی ترقی روز افزوں ہے، اس لئے لا محالہ یہ بتدریج انسانی ذہن، وقت اورعمل پر قابض ہوتی جائے گی اور جتنا جتنا اس کا قبضہ بڑھتا جائے گا۔ آخرت کا خیال اتنا ہی گھٹتا جائے گا۔ مسجد کی اذان سے فیکٹری کا ہوٹر روزِ افزوں انداز میں موثر تر ہوتا جائے گا اور چونکہ یہ بیکنی ترقی لامحدود ہے اس لئے بالآخر آخرت اور دین کا خیال انسانی ذہن، وقت اور عمل سے کلّیۃً خارج کردے گی اور انسان محض مادی ضروریات کمانے کی ایک مشین بن جائے گا۔ اس بات کا مشاہدہ اس قدر مشکل نہیں، آج سے پچاس برس پہلے اور آج کے مسلمان کی حالت کا اس امر میں مقابلہ ایک واضح تبدیلی کا مظہر ہے۔ اس بات کو اسی منوال پر آگے بڑھایئے اور اندازہ لگایئے صرف وہ شخص جسے ایٹمی تقدیر نے اندھا کر دیا ہو اس حقیقت سے انکار کرے گا اور آپ نے دیکھ لیا کہ کس طرح سائنس عیسائیت کے مقابلے میں بتدریج چھا گئی اور عیسائیت محو ہو گئی۔آپ کہیں گے کہ پھر کیا ہوا؟ ہم ایک خاص مقام پر اس ترقی کو بریک لگا دیں گے اور آگے بڑھنے سے روک دیں گے اور اس طرح سے ترقی اور دین متوازن رہیں گے۔ ایک خوبصورت توازن کے ساتھ اور ہم یہ حقیقت دنیا والوں کے سامنے ایک مثال کے طور پر پیش کریں گے کہ دیکھو اسلام کا متوازن دین، ھیہات، ھیہات، یہ بات بھی جہالت اور کم عقلی کی دلیل ہے۔ اگر اس مسلسل بیکنی ترقی کو بریک لگانے کا کوئی امکان موجود ہوتا تو اب اس وقت سے زیادہ اس قسم کی بریک لگانے کا متقاضی کوئی وقت نہیں ہو سکتا جب کہ انسانیت بے ضرر توانائی کے وسائل کی کمی کیوجہ سے ایٹمی توانائی جیسی تباہ کن توانائی کو اپنانے پر مجبورہو رہی ہے اگر ایٹمی توانائی نہ اپنائی جائے تو دنیا کے کارخانے رک جاتے ہیں اور ہر قسم کی نقل و حرکت منجمد ہو کے رہ جاتی ہے اور اپنائی جائے تو لامتناہی مصائب و آلام اور دنیا کی مکمل تباہی لازم ہے اور عوام الناس کی یہ خوش کن فہمی اور سائنس دان کی یہ امید کہ کسی نہ کسی طرح سے کسی نہ کسی دن ایٹمی تابکاری کے نقصان دہ اثرات کا کوئی علاج دریافت ہو جائے گا۔ ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر سوائے ایک عالم گیر، ایٹمی جہنم کی ایٹمی تباہ کاری کے سوائے اور کچھ نہیں ہے۔یہ بات میں سائنسی انداز میں ثابت کروں گااَلبَتَّہ انسانیت کی مجبوری ملاحظہ ہو اگر ایٹمی توانائی پر قدغن لگائیں تو ساری زندگی ہی معطل ہو کے رہ جائے اور ایٹمی توانائی اپنائیں تو یہ دنیا ایٹمی جہنم کے شعلوں کی لپیٹ میں خاکستر ہو جائے۔

اس بیکنی ترقی کو دین کے ساتھ متوازن کرنے کی خوش فہمی میں مبتلا لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ یہ بیکنی ترقی اس دنیا کی تخلیق کے خدائی پلان سے بھی متوازن اور ہم آہنگ نہیں۔نصف صدی کے قلیل عرصے میں یہ بیکنی ترقی ایک غیر متناسب رفتار اور مقدار سے روئے زمین پر موجود توانائی اور معدنیات کے تمام ذخائر کو ہڑپ کر چکی ہے۔ یہ ذخائر عام حالات میں اس دنیا کے لئے لاکھوں سال تک کافی تھے لیکن اس غیر متناسب ترقی نے چند سالوں میں اس زمین کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ و ہ لوگ جو اس امرپر بضد ہیں کہ اسلام اس ترقی کی اجازت دیتا ہے اور یہ کہ اسلام ترقی کی کب مخالفت کرتا ہے؟۔ اگر انہوں نے اس بیکنی ترقی کی اوپر بیان کی ہوئی روز افزونی اور لاامتناہیت کی خاصیتوں کو سمجھ لیا ہے تو انہیں یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ ایسی ترقی کی جو بالآخر مذہب کے خیال تک کو انسانی ذہن سے باہر دھکیل دے اجازت وہی مذہب دے سکتا ہے جو اپنے ذہن بدر ہونے کے وارنٹ پر خود ہی دستخط کرنے پر آمادہ ہو۔ اس موجودہ بیکنی ترقی اور اسلام یا کسی بھی دین کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتااور بات وہاں پر پہنچ چکی ہے کہ اس دنیا میں یا بیکنی ترقی رہے گی یا دین اور چونکہ موجودہ سائنس اس بیکنی ترقی کی محض ایک لونڈی ہے لہٰذا اس سائنس سے بھی دین کا سمجھوتہ ناممکن ہے۔لامحالہ یا یہ سائنس رہے گی یا دین۔ اگر یہ بیکنی ترقی یوں ہی چلتی رہی اور اسلام بھی اس کے ساتھ یوں ہی چلتا رہا تو ایسا اسلام یقیناً انسانیت کو اس بیکنی ترقی کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم سے نہیں بچا سکے گا بلکہ خود بھی اسی ابتلا کا شکار ہو جائے گا یعنی نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ 

(ج)      بیکنی فلسفے کے اثرات انسان پر:۔

قدرت پر انسانی تسلّط جسے عرفِ عام میں تسخیرِ کائنات کا نام دیا جاتاہے۔ایسا فلسفہ ہے جس نے انسان کے ذہن میں غرور و تمکنت کا سودا بھر دیا ہے۔ انسان اپنے آپ کو خدا اور خدا کا مدِ مقابل تصّور کرنے لگا ہے۔ انسان کا بھروسہ اور توکّل خدا پر دن بدن گھٹتا جارہا ہے اور سائنس اور اپنی اہلیت پر بڑھتا جا رہا ہے اور انسان کے سر میں جو یہ خود کفالت(Self-sufficiency) کا سودا سمایا ہوا ہے اس کی حقیقت محض ایک فریب اور ایک سراب سے زیادہ نہیں اور اس سراب کی انتہا پانی کے چشمے پر نہیں بلکہ ایٹمی آگ کے سیلاب پر ہو گی۔ یہ انسانیت جیسا کہ بیکن کا خیال تھا بیکن کے فلسفے کے نتیجے میں طبیعی اوّلیاء میں تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ٹڈی دل کے بادلوں میں تبدیل ہو گئی ہے جو آگے بڑھ رہے ہیں اور جو کچھ بھی ان کی راہ میں پڑتا ہے اسے چٹ کئے جا رہے ہیں اور بالآخر ایسے منطقے میں پہنچ جائیں گے جہاں ایٹمی حشرات کش سپرے ان کو فنا کر دے گی۔ حرص و ہوس، خود غرضی، غیبت، بداعتمادی، قنوطیت، فتنہ و فساد، فکری خلفشار، ذہنی انتشار اور بے مروّتی وہ کیفیات ہیں جو اس بیکنی ترقی کے نتیجے میں پیداہو گئی ہیں۔ ہمدردی، سخاوت، عجزو انکسار،اخوت اور انسانیت کے جذبات معدوم ہو رہے ہیں اور انجام اب دور نہیں۔

   (د)    بیکنی فلسفے کی ناکامی:۔

قدرت کے بیکنی تسلّط یاتسخیر ِکائنات کا مسئلہ کچھ کامیابیوں کے بعد آخر کار کیچڑ میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ بھاپ اور بجلی پر کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد اب ایٹمی توانائی میں سارا مسئلہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ انسان اس ایٹمی دیو کے مقابلے میں بالکل حقیر سا بے سمجھ بونا نظر آتا ہے اور یہ ایٹمی دیو اپنی آتشیں  پھنکار سے اسے بھسم کر کے رکھ دے گا۔ یہ بات میں سائنس کے یقینی علم کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔ سائنس کی مزید تحقیق و جستجو کا معاملہ جہاں تک ایٹمی سائنس کا تعلق ہے۔ ایٹمی تابکاری کے جال میں پھنس کر رہ گیا ہے اور اس کے اس جال سے نکلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ جملہ انسانیت کی مادی افادیت کا مسئلہ بھی ناکام ہورہا ہے۔ بیکنی ترقی تو کیا اس کا باپ بلکہ دادا بھی انسان کی بھوک اور حرص و ہوس کو نہیں مٹا سکتا۔ اگرچہ بیکنی ترقی بھی لامحدود اور لامتناہی ہے لیکن جو لامحدودیت اور جو لاامتناہیت انسانی بھوک کا طرۂ امتیاز ہے وہ ایک نادرالوجود چیز ہے اور سوائے صبر و استغنا کے اس کا کوئی علاج نہیں۔ وہ لوگ جو زیادہ پیداو ار کو اس مسئلے کا علاج تصّور کرتے ہیں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ پیداوار اور صرف پیداوار نے فژن چین ری ایکشن کے اصول پر عمل در آمد کر لیا ہے۔زیادہ پیداوار، زیادہ صرف، مزید مطالبہ، قرآئن یہ بتاتے ہیں کہ روئے زمین سے وسائل کی بتدریج کمی اور اشتہاء کی بتدریج شدت کی وجہ سے انسانیت آدم خوروں کا روپ دھار کر ایک دوسرے کو چیر پھاڑ کر کھانے لگے گی۔مبتلائے مصیبت انسانیت سرمایہ دارانہ نظام کے دستور کو اپنی معاشی مشکلات کی بنیاد سمجھ کرسوشلزم کی جانب مائل ہو جانے کی کوشش کرے گی مگر نتیجہ یہ ہو گا کہ حرص و ہوس کی تسکین کو تو کہیں ملنے سے رہی، ایمان کاسرمایہ بھی گنوا بیٹھے گی اور بمصداق نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم، یہ بے چاری مجبوراور مظلوم انسانیت ہر طرح سے دیوالیہ ہو کررہ جائے گی۔دنیا کا کوئی بھی نظامِ معیشت اس بیکنی ترقی کی موجودگی میں کسی معاشرے کواقتصادی،معاشی تسکین بہم نہیں پہنچا سکتا۔ دین کے فلسفے میں اس دنیا سے رغبت نہ کرنے کاجو درس دیا جاتا ہے وہ کڑوے اور میٹھے کی آمیزش کرکے مسئلے کو معتدل بنادیتا ہے مگر بیکنی ترقی تو فقط دنیوی، مادی ترقی ہے۔ دنیااور دنیا کی ترقی ہی اس کا مطلوب و مقصود ہے۔ بے رغبتی یااستغنا کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ علامہ محمداقبالؒ نے مومن کے متعلق فرمایا تھا:۔

 شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن

   نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

لیکن بیکنی ترقی کے پیرو کار کے لئے تو کہا جائے گا:۔

ہے دولت ہی مقصود ومطلوبِ بیکن

  نہ یادِ قیامت نہ ذکر الٰہیٰ

سائنس اس بیکنی ترقی کی خادمہ کی حیثیت سے محض دنیوی سہولیات اور تباہی کے آلات کا ایک ذریعہ بن کے رہ گئی ہے۔ علم کے تھیلے میں اب ضروریاتِ زندگی اور مال ودولت کے حصول کے ہتھیاروں کے سوا کچھ بھی نہیں رہا اور انسان ایک عقل مند جانور کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اَلبَتَّہ اپنے لحاظ سے بیکنی فلسفہ کلّی طور پر کامیاب ہے۔ بیکنی فلسفے کا نتیجہ بیکنی ترقی ہے اور بیکنی ترقی کا مال ایٹمی جہنم ہے۔ یہ ساراعمل نہایت باقاعدگی اور کمالِ تسلسل سے اپنے منطقی انجام کو پہنچایاگیا ہے۔ یہ دنیا ایٹمی بموں سے لبریز ہے۔ ضرورت صرف چنگاری ڈالنے کی ہے اورعمل اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

   (II)   بیکنی فلسفے اور بیکنی ترقی کے متعلق غلط فہمیاں:۔

(ا)        سب سے پہلا شکار غلط فہمی کا بیکنی فلسفے کے معاملے میں بیکنی فلسفے کا بانی مبانی خود بیکن تھا۔ بیکن کے تمام اندازے جو اس کے ذہن میں بیکنی فلسفے کے نتیجے میں رونما ہو نے والی تبدیلیوں کے متعلق تھے غلط ثابت ہوئے۔ اگر آدم سے لے کر آخری پیغمبرحضرت محمد  ﷺتک اس دنیا کی تاریخ کو دن سے تشبیہ دی جائے تو یہ بیکنی دور اس شام کی مانند ہے جس میں دن بھر چھپ کر بیٹھنے والے چمگادڑوں کے جھنڈ محوِپرواز ہو کر کیڑے مکوڑے پکڑنے کی تگ و دو میں مصروف ہو جاتے ہیں۔بیکن نے اپنے پیروکاروں کو فوری مادی فوائد سے پرہیز کرنے کی تلقین کی اور یہ سمجھنے سے قاصررہا کہ وہ فلسفہ کس قسم کا دے رہا ہے۔ مادی منفعت کے دریا میں کسی کو پھینک کر اسے تلقین کرنا کہ بھیگنے سے بچے۔ ایسی بات ہے جو دانشمندی کے اصول سے یکسر عاری نظر آتی ہے۔ شاعر نے کہا تھا :۔

       درمیانِ قعر ِدریا تختہ بندم کردہ ای

باز مے گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش

اور بیکن نے تو اپنے پیروکاروں پر دینی آزمائش نہیں ڈالی تھی۔ حصولِ دنیا کا ایک فلسفہ دیاتھا۔ جہاں تک اس بات کے اندازے کا سوال ہے کہ بیکنی ترقی ایٹمی جہنم پر منتج ہو گی۔ اگر بیکن نہیں سمجھ سکا تو ہم بیکن کو مطعون نہیں کر سکتے کیونکہ یہ بات انسانی شعور سے بالاتر ہے۔اَلبَتَّہ ایسی بات تواللہ ہی جانتا ہے اور اپنے قرآنِ حکیم میں اس کا بیان کرسکتاہے۔ جہاں تک انسانیت پر بیکنی فلسفے کے تسلّط کاتعلق ہے تو بیشک بیکنی فلسفہ ہر دوسرے فلسفے کو اس معاملے میں پیچھے چھوڑگیا ہے کیونکہ یہ فلسفہ روئے زمین کے چپے چپے پر مسلّط ہو چکا ہےاور اس کے اس  عالمگیرتسلّط کی وجوہات انسانی حرص و ہوا میں تلاش کی جا سکتی ہیں لیکن بیکن کا یہ خیال کہ اس کے فلسفے کے نتیجے میں یہ دنیاطبیعی سنتوں کی دنیا بن جائے گی قطعی طور پر بے بنیاد نکلا نہ ہی یہ دور طبیعی سنتوں کادور ہے نہ ہی اس میں کہیں قلبی تسکین وطمانیت کا شائبہ نظر آتا ہے۔ اَلبَتَّہ مال و دولت کی تلاش میں سرگرداں اورپریشان انسانوں کا ایک جمِ غفیر ہے جسے نہ موت یاد ہے نہ آخرت اور جوں جوں دولت بڑھتی ہے سکون گھٹتاہے۔ فقر کا خوف غلبہ کرتاہے۔

  (ب)  عیسائیوں کی غلط فہمیاں :

عیسائیوں کو تو اس بیکنی فلسفے کے متعلق کوئی غلط فہمی لاحق نہیں ہونی چاہیئے تھی کیونکہ بیکن کا فلسفہ عیسائیت کے فلسفے کی واضح ضد ہے۔ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام آسمان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ بیکن زمین کی جانب اشارہ کرتا ہے لیکن انسانیت کی بدنصیبی کہ عیسائیت میں غیر عیسائی نظریات کی اتنی بھرمار ہو چکی تھی اور عیسائی اپنے پادریوں کی بے پناہ ہوس پر ستی اور سخت ظالمانہ روش اور زبردست منافقانہ وطیرے سے اس قدر دلبرداشتہ تھے کہ جب بیکن نے اپنے دنیاوی مادی فلسفے کا جال پھینکا تو گویا مغربی دنیا کے عیسائی اس میں گرنے کے لئے پہلے ہی آمادہ تھے مگر عیسائیوں کے ماتھے پر قیامت تک کے لئے خدا کی مخلوقات کے لئے ایٹمی جہنم بھڑکانے اور اسے اس میں دھکیلنے کا داغ لگ گیا۔

 (ج)     مسلمانوں کی غلط فہمیاں بیکنی ترقی کے معاملے میں:

آج اُمتِ مسلمہ کا ہر فرد، عالم، نیم عالم اور غیرعالم، قرآنِ حکیم کی رو سے اس بیکنی ترقی کے جواز کی تصدیق کر رہا ہے اور اس شدومد سے کر رہا ہے گویا کہ قرآنِ حکیم کا مطمحِ نظرعین یہی بیکنی ترقی اور کمالاتِ سائنس ہے تو گویا اس بیکنی دور سے پہلے والے سارے مسلمان جاہل، گمراہ، غافل تھے۔ جنہوں نے اس  امر ِخطیر میں منشائے قرآنی کو نہیں پہچانا مگر یورپ والوں نے اسے پہچانا اور اس پر عمل پیراہو کر منشائے قرآن ِحکیم کو پایہء تکمیل تک پہنچایا اور غافل مسلمانوں کے لئے عبرت کا سامان بہم پہنچایا۔ اللہ اللہ!۔قوموں کے ذہن پر غفلت اور جہالت کے پردے پڑتے ہیں تو ان کی سمجھ کیا کیا گل کھلاتی ہے اور کیا کیاابوالعجبیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ مسلمان اس بیکنی ترقی جسے وہ صرف ترقی ہی کہتے ہیں کا قرآنِ حکیم میں جواز مہیّاکرنے کے لئے دو قسم کی آیات کا حوالہ دیتے ہیں۔ اوّلاً غورِ آیات کی تلقین کرنے والی آیات، ثانیاً وہ آیات جو تسخیرِ کائنات کے متعلق ہیں۔ مانا کہ غورِ آیات کی آیات قرآنِ حکیم میں وافر تعداد میں موجود ہیں اور واضح ہیں۔ مانا کہ تسخیر ِکائنات کی آیات بھی قرآنِ حکیم میں واضح ہیں اور اگر ان آیات کا مقصود وہی ہے جو اس دور کے مسلمان سمجھتے ہیں یعنی استحصالِ آیات تو اس امر میں رسول اللہﷺ نے کون ساعملی نمونہ اس استحصالی پہلو کادکھایا یا کون سی حدیث میں اس جانب اشارہ فرمایا یا آپ  ﷺ کے بعد کے کسی خلیفہ یا صحابی یاان کے بعد آنے والے آئمہ میں سے کسی نے آیات کے استحصالی پہلو کی کوئی عملی مثال پیش کی ہو یا کسی تحریرو تقریر میں اس مفہوم پر کچھ روشنی ڈالی ہو۔ واضح ہے کہ اس ضمن میں سوائے خموشی کے کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ ہے کہ اس دور کے مسلمانوں کے سامنے بیکنی ترقی اور سائنس کے کمالات بنے بنائے اپنی مکمل صورت میں پیش ہوئے تو مسلمانوں نے قرآن ِحکیم میں اپنا ذہن دوڑانا شروع کیا اور جب نظر غورِ آیات اور تسخیرِ کائنات کی قبیل کی آیات پر پڑیں تو اطمینان ہو گیا کہ اسی میں اس بیکنی ترقی کا جواز موجود ہے۔حقیقت سے بے خبری اور غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گو کہ یہ بیکنی ترقی تو مسلمانوں کے سامنے ہے لیکن مسلمان اس ترقی کے ان بنیادی محرکات سے بے خبر ہیں جو اس بیکنی ترقی کے منبع و مبداء یعنی بیکن کے فلسفے میں مضمر ہیں۔ مسلمان اس بات سے بے خبر ہیں کہ بیکن نے نیچرل فلاسفی (مادی فلسفہ) کو انسان کا فرض ٹھہرا کر اس کائنات کے مادی استحصال کو اس کا مقصودِ حقیقی قرار دیا اور اخلاقی فلسفے کو ممنوع قرار دیا اور پتے کی بات یہ ہے کہ بیکن نے بھی اسی غورِ آیات کے فلسفے پر اپنے فریب کی بنیادرکھی۔ لہٰذا اس امر کا فیصلہ کرنے کا واحد ذریعہ ہے کہ وہ مقصود جو غورِ آیات کے معاملے میں بیکن کا ہے اور وہ مقصود جو غورِ آیات کے معاملے میں قرآن ِحکیم کا ہے سامنے رکھے جائیں اور ان کا موازنہ کیا جائے تاکہ حقیقتِ حال واضح ہو جائے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ غورِ آیات سے بیکن کا مقصود استحصالِ آیات ہے لیکن کیاقرآنِ حکیم کا مقصود بھی یہی ہے۔ نہیں۔ ہرگز ایسا نہیں آپ سارا قرآنِ حکیم پڑھ جائیں، سیاق و سباق کی روشنی میں اورہر اس آیت کا بغور مطالعہ کریں جو غورِ آیات کے متعلق ہے تو آ پ کومعلوم ہو جائے گا کہ کہیں بھی استحصالِ آیات کا اشارہ تک نہیں بلکہ قرآن ِحکیم میں غورِآیات کا مقصود کچھ اور ہی ہے اور وہ ہے مقصودِ آفرینش کی تلاش اور حشر نشر اورسزاو جزا کے مسئلے کے ثبوت کی تلاش اور اللہ اور اس  کے دین کی یاد جو مسلمان بھی اس منوال پر تحقیق کرے گو وہ انشاء اللہ تعالیٰ ٰ گوہر ِمقصود کو حاصل کرنے میں ناکام نہیں رہے گا۔ باقی رہامسئلہ تسخیرِ کائنات کا تو واضح رہے کہ ہر اس آیت میں جس میں تسخیرِ کائنات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ یہ کہتا نظر آتا ہے کہ لوگو! میں نے تمہارے لئے یہ سب کچھ مسخر کیا ہے۔ ورنہ تم ہرگز اس کی ا ستطاعت نہ رکھتے تھے اور اس مہربانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان سے شکریئے کی توقع کی ہے۔کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ دیکھو!میں نے اس کائنات کو مسخر کیا ہے، تم بھی میرااتباع کرو اور اس کی تسخیر میں لگ جاؤیا اس تسخیر کو اپنا مقصود بنالو۔ اس کے مقابلے میں بیکن کا نظریہ اس معاملے میں یہ ہے کہ تسخیرِ کائنات انسان کی بنیادی تقدیر ہے اور اس کا حق ہے اور اس کا مقصود ہے اگر ان دو نظریوں کا مقابلہ کیا جائے تو حقیقت الامر بالکل واضح ہو جاتی ہے اور کسی قسم کا اشکال باقی نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی لازم آتا ہے کہ اس دنیا کے معاملے میں بنیادی رو ش قرآن ِحکیم کی کیا ہے۔ قرآن ِحکیم میں ہر جگہ یہی نظر آتا ہے کہ یہ عارضی دنیا اس قابل نہیں کہ انسان اس میں محو ہو جائے اور ہر جگہ آخرت کو ہی ترجیح دی گئی ہے اور آخرت ہی کو انسان کا مقصودِ حقیقی قرار دیا گیا ہے اور مال ودولت کی تعریف کہیں بھی نہیں ہوئی سوائے اس مال کے جو اللہ کی راہ میں اور نیک کاموں میں خرچ ہوا اور پھروہ جو قرآن ِحکیم نے مسلمان کو ضروریات زندگی کے حصول کی اجازت دی ہے۔ وہ معاملہ ہی دوسرا ہے اور مال و دولت کے مسئلے کا تو لب لباب یہ ہے کہ مال کی محبت اور خدا کی محبت میں کشمکش ہے۔ اگر خدا کی محبت کا جذبہ غالب ہوگا تو مال اس کی راہ میں خرچ کر دیا جائے گا۔ اگر  اللہ کی محبت دل میں جاگزیں ہو اور وقت پڑنے پر انسان اللہ کی راہ میں مال خرچ کرڈالے تو مال کی کمی یا زیادتی کا سوال بے معنی ہو کررہ جاتا ہے۔ حضرت امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ جو شخص بہ یک وقت اللہ اور اس کی دنیا سے محبت کا دعویٰٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے اور مولانا رومؒ نے فرمایا۔    

ہم خدا خواہی وہم دنیائے دوں

    ایں خیال است و محال است و جنوں 

تو قرآنِ حکیم کی جو روش اس دنیا اور اس کے مال کے متعلق ہے اس کو بھی اس ترقی کی بات کرتے وقت ذہن میں رکھنا چاہیے اور جاننا چاہیے کہ قرآنِ حکیم کوئی مادہ پرستی کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ کتاب ایسی زندگی کی تعلیم دیتی ہے جو آخرت کے لئے صحیح ہو۔ مقصود ِاوّلین آخرت ہے نہ کہ دنیا نیز اب حالات وہاں پہنچ چکے ہیں کہ ترقی کی بات کرتے وقت اس ترقی کے نتائج یعنی ایٹمی جہنم کے مصائب کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت ان حقائق سے چشم پوشی کے معنے کیا ہو سکتے ہیں۔

ایک اور غلط فہمی جو مسلمانوں کو لاحق ہو رہی ہے۔ وہ ہے ایٹم بم کی دفاعی حیثیت کے بارے میں۔بے شک قرآنِ حکیم میں واضح الفاظ میں مسلمانوں کو دفاعی ضروریات تیار رکھنے کی تلقین کی گئی ہے مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایٹم بم دفاعی اسلحہ ہے یا کچھ اور؟۔ تو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایٹم بم محض ایک بڑا بم ہی نہیں ہے بلکہ اس کے تابکاری اثرات ایک بڑی الجھن پیدا کرنے والا معاملہ ہیں۔ سائنس دانوں نے ایٹمی بم کو روئے زمین کی تمام زندگی کو فناکرنے کا سامان کہا ہے اور قرآن ِحکیم نے اسے ایٹمی جہنم اورعذاب الٰہیٰ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔

اس کے علاوہ مسلمان اس جدیدعلم کے معاملے میں بھی ایک غلط فہمی کا شکار ہیں۔ بے شک اسلام نے حصولِ علم پر بہت زور دیا ہے لیکن کیا اسلام نے پسندیدہ اور ناپسندیدہ علم میں کوئی تفریق نہیں کی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علم وہ جو اللہ کی خوشنودی کے لئے حاصل کیا جائے لیکن یہ جدیدعلم کیا ہے۔سوائے مال و دولت اورضروریاتِ زندگی کے حصول کے ایک آلے کے اور کیا اسے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے حاصل کیا جاتا ہے یا اکتسابِ زر کے ایک ذریعے کے طور پر؟۔

  (د)  ہندوؤں کی غلط فہمیاں اس بیکنی ترقی اور اس کے سائنسی کمالات کے متعلق:۔

ہندو کہتے ہیں کہ ہمارے قدیم اسلاف اڑن کھٹولوں میں اڑا کرتے تھے اور یہ کہ جرمنوں نے سارا سائنسی علم ہمارے ویدوں سے اخذ کیا ہے۔ گو جرمنوں نے ویدوں سے سائنسی علم حاصل کیا یا نہ کیا لیکن ہندوؤں کو جان لینا چاہیے کہ یہ جدید اڑن کھٹولا سیدھا پرومانونرک میں جا کریش ہوتا ہے۔ ایک عالمگیر غلط فہمی جو اس دور کے بندوں کو اس ترقی سے ہے وہ یہ ہے کہ یہ جاری رہے گی۔ نہیں بلکہ یہ اب بھنور میں پھنس چکی اوراس کاشماراب رجعت پسندی کے زمرے میں ہے او ر منطقی انجام اس کا تباہی ہے۔

(III)    اس بیکنی کلچر کی دجّالی خصوصیات  اور سامری:۔

میں یہ نہیں کہتاکہ یہ بیکنی کلچر وہی مسیح الدجّال ہے جس کے متعلق پیغمبر ِاسلام ﷺ  نے ایک معرکہ آراء پیشینگوئی کی اور اس کی نہایت مکمل اور باریک تشریح فرمائی لیکن جو کچھ میں کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے اور ہر شخص بہ نفسِ نفیس اس کا مشاہدہ کرسکتا ہے کہ مسیح الدجّال کی ہر وہ خاصیت اور کیفیت جورسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی وہ اس بیکنی کلچر میں واضح انداز میں موجود ہے اور نیز یہ کہ اگر یہ بیکنی کلچر وہی مسیح الدجّال نہیں ہے تو بھی اس کی لادین بلکہ خلافِ دین روش اور اس کی تباہ کن خصوصیات کے پیشِ نظر اس کا مقابلہ کرکے اس کوتباہ کر دینے کی ضرورت ہے پیشتر اس کے کہ یہ انسانیت کی صحت، دولت، زندگی، امن و امان اور دین و ایمان کو غارت کر دے اور یہ فریضہ مومنین، مسلمین کے ذمے ہے۔ اس ضمن میں یاد رکھنا چاہیے کہ انجیل نے جو اصطلاح دجّال کے لئے استعمال کی ہے وہ ہے (Antichrist) یعنی مسیح کا مخالف، مسیح کا ضداورعیسائی ہر اس شخص پر اس اصطلاح کا اطلاق کر دیتے ہیں جو عیسائیت کا مخالف ہو۔ پس معلوم ہوا کہ انجیل کی اصطلاح سادہ ہے اور عیسائیوں کا اس ضمن میں عقیدہ سطحی ہے لیکن وہ تشریح جو دجّال بلکہ مسیح الدجّال کی آنحضرتﷺ نے فرمائی ہے وہ بہت بسیط، بہت مکمل، بہت باریک اور بہت جامع ہے۔ مسیح الدجّال کے معنے ہیں  جھوٹا، مکار، نقال مسیح اور چونکہ لقب مسیح کا استعمال ہوا ہے لہٰذا دجّال مسیح کے لباس میں نمودار ہو گا اور مسیح کے نام پر ہی دنیا کو دھوکا دے گا۔ اس نکتے پر ہم آگے چل کربات کریں گے کیونکہ یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے اَلبَتَّہ یہاں یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ انجیل میں مستعمل (Antichrist)  یعنی ضد مسیح کی اصطلاح اس بیکنی کلچر پر سو فی صدی ٹھیک بیٹھتی ہے۔ واقعۃً یہ بیکنی کلچر حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کی عین ضد ہے۔ یہ کلّیۃً اس مادی دنیا اور اس کے مال و دولت کا مسئلہ ہے جب کہ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کا انحصار کلّی طور پرروحانیت پرہے اور مکمل تعلق دوسری دنیایعنی آخرت سے ہے اور یہی بات حیران کن ہے کہ کس طرح حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کی اُمت عیسائیت کے دعوے کے باوجود بیکنی کلچر کو اپنا سکتی ہے۔ بلیکؔ نے درست کہا تھا کہ اگر”جو کچھ بیکن کہتا ہے ٹھیک ہے تو پھر جو کچھ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام نے کہا وہ غلط ہے“۔ اَلبَتَّہ امتِ مسلمہ جو قرآن ِحکیم اور اسلامی تعلیمات پرایمان رکھتی ہے اس نکتے سے مستثنیٰ نہیں گردانی جا سکتی۔ اسلام کبھی بھی مادہ پرستی کا دین نہ تھا اور ضروریاتِ زندگی کے حصول اور معاشرے کے اندر رہنے کی اسلامی اجازت کبھی بھی دینِ اسلام کو بیکن کے کلّی مادہ پرستانہ کلچر سے ہمنوا یا ہمکنار کرنے کی ضمانت نہیں بن سکتی۔اگرقرآن ِحکیم، اسلام اور رسول  ﷺ کی احادیث اور خود آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ   کابغور مطالعہ کیا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ وہ تمام نفرین و تحقیر جوعیسائیت کے ذہن میں اس دنیااور اس کے مال و دولت کے متعلق واضح طور پر نظر آتی ہے فقط عیسائیت ہی کا خاصہ نہیں۔اصولی طور پر اسلام اس معاملے میں قطعاًعیسائیت سے پیچھے نہیں۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ وہ بات جو حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام  نے بنیادی اور اجمالی طور پر کہی۔ اس طرح کہ اس پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونا صرف خواص کے لئے ہی ممکن تھا۔حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ نے اسی بات کو مفصل انداز میں اور ایک قابلِ عمل صورت میں پیش کیااور معجزانہ طور پر اُمت کے ہر فرد بشر پر اسے لا گو کر دیا اور یہی تعبیر ہے حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کی اس پیشین گوئی کی کہ آحمد  ﷺ آئے گا و ہ پورا حق بتائے گا۔ یہ دعویٰٰ کہ اسلام اس بیکنی ترقی کی اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بعید از حقیقت ہے اور دنیا والوں کے سامنے اس نظریئے کو فخریہ انداز میں پیش کرنا اسلام پر ایک طرح کا بہتان ہے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیئے اوراس وقت تو اس غلطی اورغلط فہمی کاواضح ثبوت سامنے کھڑا ہے۔ یہ بیکنی ترقی کسی بھی لمحے ایٹمی جہنم کی صورت میں شعلہ کش ہونے والی ہے اور پھر دم بھر  میں یہ قرآن ِحکیم اور یہ مساجد اور یہ مسلمان خاکستر کی شکل میں آسمانی خلاؤں میں اچھال دیئے جائیں گے۔ قرآنِ حکیم نے کیااس بیکنی ترقی کی اجازت دی اور اس کی حوصلہ افزائی کی، جس نے بالآخر ہر چیز کا پٹڑا کر دیا۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے تو کیا یہی سلامتی کی علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روئے زمین کی دوسری قوموں کی طرح مسلمان قوم بھی اس وقت اس بیکنی حقیقت کے متعلق زبردست جہالت اور بے مثال اندھے پن کا شکار ہے بلکہ دوسری قوموں سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ اس بیکنی ترقی کو فطرت کے مطابق صحیح اور ہمیشہ تک چلنے والی سمجھنے والے اور اس سائنس اور ان سائنس دانوں کی اہلیت پربھروسہ کرنے والے (ایسی اہلیت جو اس دنیا کو ان تمام مشکلات سے صحیح سلامت نکال کر لے جائے گی) لازماًاس بیکنی ترقی کے منطقی انجام یعنی دردناک ایٹمی جہنم سے دوچار ہو کر رہیں گے۔ باقی رہا سوال انسانیت کے ساتھ اُمتِ مسلمہ کی بیکنی ترقی سے متعلقہ مجبوریوں کا تو اس معاملے میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ مجبوریاں نہ تو عیسائیوں کو انجیل پرعمل پیرا ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں نہ مسلمانوں کو قرآنِ حکیم پرعمل پیرائی کیوجہ سے بلکہ یہ نتیجہ ہے انجیل اور قرآنِ حکیم کی تعلیمات سے روگردانی کرنے کا اور ان کا علاج اس سے مانگا جائے جس نے یہ مجبوریاں پیدا کی ہیں اور یقینا ًاس نے علاج تجویز کر لیا ہے  اور وہ ہے ایٹم بم،  سب مشکلات کا فوری حل۔ قرآنِ حکیم اگر ایک ڈاکٹر ہے تو اس نے تو اوپریشن یامسہل ہی تجویزکرنا ہے اس کے بغیر چارہ نہیں۔ مریض کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے مگر سائنس تو ایٹم بم کے ذریعے جملہ مسائل کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے۔

ذیل میں ہم اس بیکنی کلچر اور مسیح الدجّال کی خصوصیات کا موازنہ کریں گے :۔ 

  (۱)     مسیح الدجّال کو کانا بتایا گیا جس کی فقط بائیں آنکھ ہے اور جس کی دائیں آنکھ پر انگور کے  برابر پھولا ہے۔ یہ بیکنی کلچر، یہ بیکنی ترقی اور یہ بیکنی سائنس تینوں ازلی کانے ہیں۔ تینوں کی فقط بائیں آنکھ ہے اور تینوں کی دائیں آنکھ پرانگور کے برابر پھولا ہے یعنی تینوں مادیت اور مادہ پرستی میں مبتلا ہیں اور تینوں روحانی دنیااور آخرت سے کلّی طور پر بے بہرہ ہیں۔ اس کلچر کو دیکھو، اس کا مقصود ہی مادی دنیا ہے ،اس ترقی کودیکھو یہ بذاتِ خود مادیت کی علامت ہے اور اس سائنس کو دیکھو۔ اس کی دنیا حواسِ خمسہ کی دنیا ہے۔ مادی دنیا ہے اور ا س سے ورے روحانی دنیا میں یا آخرت کی دنیا میں یہ قطعی طور پر اندھی ہے۔ اس کیلئے ادھر جھانکنا ممکن ہی نہیں۔

 (ب)    دجّال کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر روئے زمین کے دورے پرہو گا تو اس کے ساتھ روٹیوں کے ٹوکرے ہوں گے جو وہ اپنے پیروکاروں کے درمیان تقسیم کرے گا مگر نہ ماننے والوں کو وہ محروم رکھے گا۔ یہی حال اس بیکنی کلچر کا ہے۔ یہ روٹیوں کا کلچر ہے اور یہ ترقی روٹیوں کی ترقی ہے جو بھی اس بیکنی کلچر پر ایمان لے آتا ہے اور اس بیکنی ترقی میں کوشاں ہو جاتا ہے وہ روٹیاں حاصل کرتا ہے اور اگر کوئی ایسا ہے جو اس بیکنی ترقی میں کوشاں نہیں ہوتا تو وہ بھوکوں مرتاہے۔

(ج)       کہا گیا ہے کہ دجّال کے ساتھ ساتھ پانی کی نہریں چلیں گی۔وہ فصل سے کہے گا ”اُ گ“ اور و ہ اُگ پڑے گی۔ وہ بادل سے کہے گا”برس“ اور و ہ ”برس“ پڑے گا۔یہی حال اس بیکنی سائنسی ترقی کا ہے جس ملک میں یہ جاتی ہے وہاں نہروں کا جال بچھ جاتاہے۔ عراقی بھی اب اسی فکر میں ہیں اور دیکھو کہ فصلیں کس طرح حیرتناک طریقے سے اُگ رہی ہیں اور دنیا کا ہر ریڈیو، رات دن ”گندم ہور اُگا او بیلیا“،”گندم ہور اگا او کسانا دیش دیا“،”او جوانادیش دیا“۔”ھن نویں ٹریکٹر آ گئے نیں“ کا شور مچا رہا ہے۔ ریشماں اور استاد سلامت علی خان کے پایہ کے فنکاروں سے ”گندم ھور اگا“ کے گانے گوائے جا رہے ہیں اور تابکاری کے ذریعے بیچ پیدا کئے جا رہے ہیں جو بہت زیادہ پیداوار مہیّا کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسی گندم کھانے والوں کی آئندہ نسلیں تابکاری کے تباہ کن اثرات کا شکار ہو کر ان موجودہ نسلوں کے حق میں بد دعائیں کرتے ہوئے راہی ملکِ عدم ہو جائیں گی اور پھر مصنوعی طریقوں سے بادل سے بارش برستی بھی اس دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے۔

  (د)      دجّال کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ روئے زمین کا چکر لگائے گا اور ساری دنیا پر مسلّط ہو جائے گا اور روئے زمین کی خلقت اسے اپنا خدا مان لیگی۔ بجز بعض لوگوں کے یہی حال اس بیکنی کلچر اور اس بیکنی ترقی اور اس بیکنی سائنس کا ہے۔ روئے زمین کا کوئی گوشہ ان سے آزاد نہیں اور ان کی اہلیّت کا لوہا اس حد تک لوگوں نے مان لیا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ ان کولوگوں نے خدائی کا مقام دے دیا ہے تو قطعاًغلط نہ ہو گا۔انسانیت پر تسلّط کے معاملے میں یہ بیکنی کلچر ہر دوسرے کلچر، عیسوی، اسلامی،ہندو، بدھ پر فوقیت لے گیا ہے۔ دوسرے کسی کلچرنے بھی سارے روئے زمین پر تسلّط حاصل نہیں کیا مگر یہ بیکنی کلچر اس زمین کے چپے چپے پر مسلّط ہے۔ لباس، علم، شکل و صورت، مقصدِ حیات، فکر، ذکر، تہذیب، اقدار کی عالمگیر ہم آہنگی ملاحظہ ہو، سمجھدار آدمی کو حیرت میں ڈالنے والی بات ہے۔ دنیا میں کوئی اس کا مخالف نہیں۔ ہر شخص کا اس میں ایمان ہے۔ ہر شخص کو اس میں اعتقاد ہے۔ مسلمانوں کے شیخ الاسلام اور عیسائیوں کے لارڈ پوپ اور ہندو ؤں اور بدھوں کے مہاتما ؤں تک سبھی ا س کی تعریف میں رطب اللسان ہیں اور اپنے اپنے مذہب کو اس سے درست ثابت کرنے میں کوشاں ہیں۔ 

(ر)       کہا گیا ہے کہ مسیح الدجّال اوّل اوّل نبوت کا دعویٰٰ کرے گا پھر خدائی کا دعویٰ  ٰکر دے گا۔ یہی حال اس بیکنی کلچر کا ہے جب کہا گیا ہے کہ مسیح الدجّال اوّل اوّل نبوت کا دعویٰٰ کرے گا پھر خدائی کا دعویٰ  ٰکر دے گا۔ یہی حال اس بیکنی کلچر کا ہے جب تک یورپ کے اندر یہ اپنی ارتقائی منزلیں طے کرتا رہا تو اس کی صورت نبی کے علم کی سی تھی۔ جب یورپ سے مکمل صورت میں نکل کر روئے زمین کی قوموں پر مسلّط ہوا تو مقام اس کا خدائی کا ہو گیا ہے۔ بیکنی کلچر کی اس دنیا میں ایک مخصوص دنیا ہے اور اس کا اپنا مخصوص خدا ہے۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ:۔

دونوں کی ہے پرواز اسی ایک فضا میں

   کرگَس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور

یہ بیکنی کلچر اور حقیقی دینی کلچر ہردو اپنے اپنے مختلف جہانوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔

(س)     کہا گیا ہے کہ مسیح الدجّال کااپنا بہشت اور اپنا دوزخ ہو گا لیکن حقیقت میں اس کا بہشت، دوزخ ہو گا اور اس کا دوزخ بہشت ہو گا۔ اس بیکنی کلچر نے اس زمین پر اپنا ایک مادی بہشت پیدا کیا ہے لیکن در حقیقت یہ ایک دوزخ ہے لیکن بیکنی کلچر کے منکرین اس بہشت سے محروم ہی نہیں بلکہ تنگی کے دوزخ میں ہیں۔ تاہم یہ دوزخ ان کے لئے بہشت ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات جو واضح ہوکر سامنے آ چکی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا بہشت اب دوزخ کے حقیقی روپ میں منظرِ عام پرآ چکا ہے۔ دیکھ لو۔ یہ ایٹمی جہنم اسی بیکنی ترقی کا منطقی نتیجہ، اس دنیا میں بیکنی کلچر کا مجوزہ بہشت ایٹمی جہنم میں تبدیل ہو گیا ہے۔

(ص)    کہاگیا ہے کہ مومن مسیح الدجّال کو پہچان لیگااور اس کے ماتھے پر ک۔ف۔ر (یعنی کافر) لکھا ہوا پڑھے گا۔اگرچہ وہ مومن ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو لیکن کافر ہرگز مسیح الدجّال کو پہچان نہ سکے گا۔ نہ ہی اسکو اس کے ماتھے پر ک۔ف۔ر۔کے حرف ہی نظرآ ئیں گے اگرچہ وہ کافر پڑھا ہواہی کیوں نہ ہو۔یہی حالت اس بیکنی کلچر کی ہے۔ بعض تعلیم یافتہ اس میں ایمان رکھتے ہیں لیکن بعض ان پڑھ اس کی حقیقت کو اندر اندرسمجھتے ہیں۔

 (ط)     کہا گیا ہے کہ مسیح الدجّال یہود سے ہو گا۔ اب اس سے بڑھ کر کون سی بات واضح ہوسکتی ہے کہ یہ بیکنی کلچر بالکل ہی یہودی کلچر ہے۔ دولت، سوداور نفع اندوزی کا کلچر ہے اور یہی نہیں بلکہ یہودی اس  دور کا چودھری ہے۔آقا ہے۔ خالق ہے، مالک ہے، لیڈر ہے، گائیڈ ہے۔ نمونہ ہے اور درحقیقت یہ دور یہودی کادور ہے۔ تین ہزار برس کی مارکے بعد ضدی اور مستقل مزاج یہودی اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو گیا۔اب وہ خداکی اس دنیاپر مسلّط ہے اوراس دنیا پر اس کا وہی نظام اور کلچر ہے۔ یہودیت کوخود عیسائیوں نے نفرت کی نظر سے دیکھا۔ مسلّط ہے۔ یہودیت خود عیسائیوں پر مسلّط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اس دنیا کی قوموں میں جو قدر مشترک ہے وہ یہی یہودی کلچر ہے۔ وہ کون سی قوم ہے جسے اس برادری سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتاہے۔ عیسائی دنیا کی صلح یہودی کے ساتھ اسی دنیوی قدر ِمشترک پر ہوئی اور باہم شیرو شکر ہو گئے۔ آج مغربی عیسائی اور یہودی میں فرق محسوس کرنے کے لئے عیسائی کے دل میں دس ہزار پردوں سے گزر کر جھانکنا ہو گا۔ جہاں صلیب کادھندلا سانشان نظر پڑے گا۔

(ع)      مسیح الدجّال کی ایک خاصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ گدھے پر سوار ہو گا۔ گدھا سواری اور نقل و حرکت کی ایک مخصوص علامت ہے اور چونکہ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام بھی گدھے کی سواری کیا کرتے تھے اور یہ بات کچھ حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کے نام کے ساتھ تخصیصی کیفیت اختیارکر گئی ہے لہٰذا مسیح الدجّال کی سواری کا بالوضاحت تعیّن کرناسمجھ میں آ سکتا ہے اور جہاں تک اس بیکنی کلچرکا تعلق ہے اس کی یہ خصوصیت نہایت دلچسپ اور غور طلب ہے کہ اس نے اس موجودہ دور میں انسانی تاریخ کے گذشتہ سبھی ادوار کے مقابلے میں سواری اور نقل و حرکت کا ایک منفرد ذریعہ اختیار کیا ہے یعنی اس کو مشینی شکل دے دی ہے اور یہ اس کی اپنی انفرادی ایجاد ہے اور امتیازی خصوصیت ہے جسے علامتی طور پر گدھے کا نام دیا جا سکتاہے۔ 

 (ف)     یہ بھی کہاگیا ہے کہ مسیح الدجّال کی شخصیت اسقدرمسحور کن ہو گی کہ اس کے جادو سے وہی شخص بچ سکے گا جو مسجد کے اندر پناہ لے لے گا۔آج دین صرف مسجد کے اندر رہ گیا ہے۔ مسجد کے باہر ہر طرف دنیوی امر میں اسی بیکنی کلچر کا تسلّط ہے اور یہ کلچراسلام کے ہمہ گیریت کے دعاوی کو چیلنج کر رہا ہے اور یقینا  ًوہی اس کلچر کے چنگل سے بچتا ہے جو مسجد میں پناہ لیتا ہے۔آئیے اب دیکھیں کہ مسیح الدجّال اور بیکنی کلچر کے درمیان پائی جانے والی مماثلت کا اندازہ لگائیں اور دیکھیں کہ کس طرح یہ بیکنی کلچر حضرت مسیح علیہ السلام کا روپ دھار کر مخالف مسیح کام کرتا ہے یہ بات بڑ ی عجیب بات ہے۔ پہلے دیکھیں کہ مطابقت کا پہلو کیا ہے۔

   (ا)     مسیح علیہ السلام بیماروں کو تندرستی، کوڑھیوں کو شفا، اندھوں کو بینائی عطا کرتے۔ اپاہجوں کو توانائی بخشتے تھے۔ مردوں کوزندہ کر تے تھے۔ یہی کچھ یہ بیکنی کلچر کرتاہے اَلبَتَّہ مردوں کو زندہ کرنے کی کوششوں میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اَلبَتَّہ روسی سائنس دانوں نے ایک کتے کے متعلق یہ اطلاع نشر کی ہے کہ اس کا خون نکال کر اسے مردہ کر دیا پھر اس میں خون ڈال کر اسے زندہ کر دیا۔ کبھی کبھی کسی ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش کی خبر بھی گشت کرتی سنائی پڑ جاتی ہے۔

  (ب)  مسیح علیہ السلام نے معجزے دکھائے۔ بیکنی کلچر بھی اپنے معجزے دکھاتا ہے۔ سائنس کے معجزوں پر غور کیجئے۔

   (ج)   مسیح  علیہ السلام نے دو بار ہزاروں آدمیوں کو محض چند روٹیوں اور چند مچھلیوں سے سیر کر دیا۔ یہی روٹیاں مہیّا کرنے والا کاروبار اس بیکنی کلچر نے سنبھال لیا ہے۔ 

 (د)      مسیح علیہ السلام پانی پر چلا۔ اسی بیکنی کلچر نے لوہے کو پانی پر تیرا کے دکھا دیا۔

بحری جہاز ملاحظہ ہو۔ 

(ر)       مسیح  علیہ السلام نے مٹی کی چیزیں پرندوں کی مانند بنائیں پھر ان میں  پھونک مار کر ان کو ہوامیں اڑا دیا۔ اس بیکنی کلچر نے ہوائی جہاز اڑا کر دکھادیئے۔ 

(س)     مسیح علیہ السلام غیب کی آواز سنتے تھے۔ بیکنی کلچر نے ریڈیو ایجاد کردکھایا۔ مسیح علیہ السلام شیطان کو دیکھ سکتے تھے۔ بیکنی کلچر نے ٹیلی ویژن دکھا دیا۔

لیکن غورِ طلب بات یہ ہے کہ باوجود اس ساری مطابقت کے صریح تخالف ان دونوں کے کاموں میں پایا جاتا ہے۔ مسیح علیہ السلام نے سب کچھ روحانی قوت سے کیا۔ بیکنی کلچر نے سب کچھ مادی قوت سے کیا۔ مسیح علیہ السلام کی تعلیمات مادی دنیا سے گریز کی داعی ہیں اور روحانیت،قیامت اور اگلی دنیا پر مرکوز ہیں۔ بیکنی کلچر کا روحانیت قیامت یا اگلی دنیا سے قطعاً کوئی واسطہ نہیں۔ اس کی توجہ کا مرکز یہی مادی دنیا  اور اس کی دولت ہے۔ اب ایک بات باقی رہ گئی ہے اورو ہ یہ کہ مسیح الدجّال کے متعلق کہا گیا ہے کہ اسے حضرت مسیح ناصری قتل کریں گے اور اسے حضرت مسیح ناصری کے علاوہ کوئی قتل نہیں کرسکتا۔یہی بات اس بیکنی کلچر کی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوت سوائے مسیحی روح (جو کہ مادیت کے خلاف روحانی روح ہے) کے ختم نہیں کر سکتی اور یقیناً اس بیکنی کلچر کو فنا مسیح کی روحانی روح کرے گی۔یہ روح اس دنیا میں بیدار ہو جائے گی اور یہ روح قرآنِ حکیم میں اس شدت کے ساتھ موجود ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جائے۔ مسلمان اس حقیقت سے باخبر ہو جائیں گے اور اس دجّالی کلچر کا تیا پانچا کر دیں گے اور اس بیکنی کلچر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ بیکنی فلسفے کے مداح لارڈ میکالے کے مطابق بیکن شرمناک حد تک دولت کا حریص تھا۔ میرے خیال میں بیکن کا فلسفہ بیکن کے حرص کی بازگشت تھی اور ہر عیب کی پردہ پوش ہے۔

ایک مسئلہ اور غور طلب ہے اور و ہ ہے سامری کا۔ دیکھنا  یہ ہے کہ سامری اور دورِ حاضر کے سائنس دان  اور سامری کے کام اور دورِ حاضر کے سائنس دان کے کام میں کچھ مماثلت ہے کہ نہیں۔ حافظ شیرازیؒ نے فرمایا:۔

کرشمہ کن و بازارِ ساحری بشکن

بغمزہ رونق بازارِ سامری بشکن

ترجمہ:  ”معجزہ دکھا اور جادو کا بازار توڑ دے۔ غمزہ دکھا اور سامری کے بازار کی رونق ختم کر دے“۔

بباددہ سرودستار عالمی یعنی

کلاہ گوشہ بائین دلبری بشکن

ترجمہ:   ”سر اور دستار عالمی کو ہوا کے حوالے کردے۔ اپنے کلاہ کا کونہ آئین دلبری کے مطابق بٹھا“۔

سامری حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کی معروف شخصیت ہے۔ اس نے بنی اسرائیل کے لئے عبادت کے لئے سونے کا بچھڑا بنایا۔ ایسا بچھڑا جو زندہ بچھڑے کی  طرح آواز نکالتا تھا۔ حضرت موسٰیٰ علیہ السلام نے سامری کو کہا کہ اس زندگی میں تو لامساس (ہاتھ نہ لگاؤ) کہے گا اور پھر تیرے لئے ایک وعدہ ہے جسے تو نہ ٹال سکے گا۔ قرآن ِحکیم کے مفسرین ِکرام میں سے بعض کا قول یہ ہے کہ اس وعدے سے مراد دجّال کا یہود میں سے نکلنا اور سامری کے کام کی تکمیل کرنا ہے۔ سامری کے قصے کی تفصیل کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو سامری اور اس دور کے سائنس دان اور سامری کے کام اور اس سائنسدان کے کام میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے نیز انجام بھی دونوں کے کام کا ایک سا ہے۔ سامری کے بچھڑے کو حضرت موسٰیٰ علیہ السلام نے جلا کر پیس ڈالا اور اس کی راکھ کو پانی میں بکھیر دیا۔ یہی انجام ان سائنس کی ایجادوں کا ہو گا اور یہ جو”لامساس“ (ہاتھ مت لگاؤ) کا معاملہ ہے۔ یہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ ایٹمی توانائی کے دور میں جہاں جہاں بھی تابکار مادے کی موجودگی ہو گی وہاں بورڈ لکھا ہو گا۔ ”لا مساس“ (ہاتھ مت لگاؤ۔ دور رہو، تابکاری مادہ) اور نیز چونکہ لوگ اس دور میں تابکاری اثرات کی وجہ سے کینسر کے مریض ہو ں گے تو کینسر کا ہر مریض یہ کہتا سنائی دے گا۔”لا مساس“ تو گویا کہ ایٹمی توانائی کا دور”لامساسی“ دور ہو گا۔ بات یہ ہے کہ حضرت موسٰیٰ علیہ السلام کی بددعا کے نتیجے میں سامری جس شخص کو ہاتھ لگاتا تھا اسے تپ چڑھ جاتاتھا اور اگر کوئی شخص سامری کو ہاتھ لگا دیتا تھا تو سامری کو تپ چڑھ جاتا تھا۔ لہٰذا لوگ اور خود سامری ایک دوسرے سے الگ رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے تھے اور سامری ایک جانور کی طرح الگ خیمہ لگاتا اور سفر میں سب سے الگ پیچھے رہتا۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ دجّالی روح اس نئے دور میں بیدار ہوئی اور سائنس دان نمودار ہوا اور دجّالی روح اور سائنس نے مل کر یہ بیکنی کلچر پیدا کیا۔

 (IV)   ایٹمی سائنس کی موجودہ کیفیت:۔

سائنس میں اس دور کے عوام الناس کا بے پناہ یقین اور سائنس دان کی لامحدود رجائیت، کہ کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی ایسی ایجاد کا انکشاف ہو ہی جائے گا جو ایٹمی اور تابکاری خطرات کے لئے موثر علاج ثابت ہو سکے گی۔ ایسے خواب ہیں جن کی تعبیر ایک عالم گیر ایٹمی تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میں یہ بات حقیقی سائنس کی حقیقی بنیادوں پر کہہ رہا ہوں اور اس کے ناقابلِ تردید ثبوت خود سائنس دان نے مہیّا کئے ہیں لیکن عوام الناس کے ساتھ سائنس دان کو بھی ایٹمی تقدیر نے اندھا کر دیا ہے ورنہ ایٹمی سائنس اس مقام پر پہنچی ہوئی ہے جہاں پر یہ کلّیتہً اندھی ہو چکی ہے اور آگے کچھ دکھائی نہیں پڑتا۔ ایٹم بم کے خلاف کوئی حفاظت نہیں اور امریکہ اعلان کر رہا ہے کہ روس کے متوقع ایٹمی حملے کے خلاف انتظامیہ کی حفاظتی تدابیر کی جائیں۔ اب دیکھئے۔اس دنیا کا حقیقی اندھا پن، امریکہ کو شائید ہیروشیما اور ناگاساکی کا  حشر فراموش ہو چکا ہے اور اب تو ہیروشیما والے بم محض ایک کھلونے کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ نہ ہی ان لاکھوں بدقسمت انسانوں کے لئے تابکاری سے بچاؤ کی کسی تدبیر کا ہی کوئی امکان ہے جو ایٹمی ری ایکٹروں کی ہمسائیگی میں رہتے ہیں اور ایٹمی ری ایکٹر کسی بھی لمحے لیک کر سکتے ہیں اور کسی بھی وقت دھماکے سے پھٹ کر ارد گرد کے ضلعوں میں تابکاری کی طغیانی کا سماں پیدا کر سکتے ہیں اور ہر ری ایکٹر  اگر پہلے نہ پھٹ سکے تو لازماً وہ اپنی چالیس برس کی طبعی زندگی دھماکہ سے ختم کرتا ہے۔

لیکن تابکاری کیا ہے؟۔ تابکاری ایٹمی توانائی کاجزوِلاینفک ہے۔ یہ کسی بھی  مقدار میں صحت کے لئے ضرر رساں ہے اور دنیا کی خطرناک ترین زہر ہے اور عجیب قسم کی زہر ہے۔تابکاری شعاع انسانی حواسِ خمسہ کی ضد سے باہر ہے۔ یہ کسی بھی جاندار کو موقع پرقتل کر سکتی ہے یا پندرہ روز تابکاری میں مبتلا رکھ کر مار دیتی ہے لیکن اصلی خطرناک پہلو اس تابکاری کے جنسی اثرات ہیں۔ تابکاری شعاع کم سے کم مقدار میں بھی جانور کے جنیوں (Genes)پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان جنیوں کی شکل بگاڑ دیتی ہے۔ اب یہی جنیئے (Genes) بچے کی شکل و صورت اور اعضاء و جوار ح کے ضامن ہوتے ہیں۔ جب ان کی شکل بگڑتی ہے اور جس طرح سے بگڑتی ہے تو بچہ بھی اسی بگڑی شکل کا پیدا ہوتا ہے۔ اگر جنیئے (Genes) کی آنکھ والی تار ٹوٹ چکی ہے تو بچہ اندھا پیدا ہو گا اور اگر منہ والی تار ٹوٹ چکی ہے تو بچہ بغیر منہ کے پیدا ہو گا۔ ایسے بچے جرمنی میں پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی لئے جرمن قوم ایٹمی توانائی برائے امن کی مخالفت میں پیش پیش ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ بعد میں ایسا ہوتا ہے کہ بچہ اس قسم کا پیدا ہوتا ہے کہ مثلاً سر گیدڑ کا ہے۔ پنجے چیل کے ہیں۔ دم سانپ کی ہے۔ ان کو انگریزی میں (Chimeras) کہتے ہیں اور نیز یہ کہ تابکاری کا اثر جنیوں (Genes) پر ناقابل ِعلاج اور قطعی ہوتا ہے۔ بس جو کچھ ہوگیا۔ نیز جان لینا چاہیے کہ یہ مضروب جنیئے نسل در نسل خفیہ طور پر منتقل ہوتے رہتے ہیں اور نہ تو ان کے معلوم کرنے کا ہی کوئی ذریعہ ہے نہ انہیں ضائع کرنے کا اور نہ ہی کچھ اس وقت ہو سکتا ہے جب یہ جنیئے عجیب الخلقت بچوں کی صورت میں نمودار ہو جاتے ہیں۔ نسل در نسل خفیہ طور پر یہ مضروب جنیئے کسی آئندہ نسل میں عجیب الخلقت بچوں کی صورت میں پید ا ہو جاتے ہیں۔ یہ عجیب الخلقیت موروثی ہوتی ہے یعنی ایسے بچوں کے بچے بھی اسی صورت پر پیدا ہوتے ہیں گویا کہ نوع ہی بدل گئی۔ شادیوں کے ذریعے عجیب الخلقیت کی قسمیں بڑھناشروع ہو جاتی ہیں اور نیز تعداد میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ انسان اس بارے میں سوائے ایک مجبورتماشائی کے اور کچھ نہیں کرسکتا،حتٰیٰ کہ آبادیوں کے معتدبہ حصے اس مصیبت میں مبتلا ہو کر ملک و ملت کے لئے وبال بن جاتے ہیں اور ایک مصیبت زندہ زندگی ایسی زندگی جو دوسروں کے لئے بھی ایک مصیبت کا باعث بن جاتی ہے اس دنیا میں گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور یہ بھی امکان ہے کہ ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری کے ذریعے اس زمین کی ساری مخلوق ہی عجیب الخلقیت اور گوناگوں تابکاری امراض میں مبتلا ہو کر اس دنیا سے قطعی طور پر معدوم ہو جائے کیونکہ تابکاری اثرات جانوروں اور پودوں پر یکساں طور پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آپ مانیں یا نہ مانیں۔ تابکاری کے مرض کا کوئی شافی علاج تاحال دریافت نہیں ہو سکا۔ نہ ہی ابھی تک کوئی نظر میں ہی ہے۔ ایک بار تابکاری کا حملہ کسی خلیے پرہو جائے تو پھر یہ مریض کی اپنی قسمت کا معاملہ ہے۔ مر جائے یا بچ جائے اور تو اورتابکاری کی یہ جو بے ضرر مقدار مقررکی گئی ہے۔ یہ بھی یقینی نہیں اور ہو سکتا ہے کہ بالآخر یہی اس انسانیت کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو لیکن افسوس یہ ہے کہ ایٹمی تابکاری کے تجربے کا نتیجہ حاصل کرنے کے لئے نسلوں کا عرصہ درکار ہے کیونکہ کئی نسلوں کے بعداس کے اثرات نمودار ہو سکتے ہیں اور پھر مصیبت یہ ہے کہ تابکاری کے جنسی اثرات لازوال ہیں اور دائم و ابدی ہیں۔ لاعلاج ہیں، ایک بار نمودار ہو جائیں تو پھر تباہی مکمل ہے۔لوگ ایٹمی توانائی برائے امن کی بات کرتے وقت اس دنیا کی موجودہ ایٹمی کیفیت کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ دیتے ہیں۔ کوتاہ اندیشی کااس سے بڑا ثبوت ممکن نہیں کیونکہ اس وقت روئے زمین پرفقط چند ایک ری ایکٹر مصروفِ کار ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی اس وقت صرف پچپن ری ایکٹر ہیں جن کی ایک اچھی خاصی تعداد تالہ بند ہو چکی ہے کیونکہ پینسلوانیہ میں ایک ری ایکٹر کے دھماکے کے پیشِ نظر امریکی عوام نے اس ڈیزائن کے سارے ری ایکٹروں کو بند کر دینے پر امریکی حکومت کو مجبور کر دیا ہے لیکن حالت وہ مدنظر رکھنی چاہیئے جو اس وقت ہو گی جب ایٹمی توانائی کے دور میں اس زمین پر ہر طرف ایٹمی ری ایکٹر ہوں گے۔اب یہ ہے ایٹمی توانائی کی  کیفیت جس کے بل بوتے پر اس دنیا میں ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش کی جا رہی ہے یعنی یہ دنیاایٹمی جہنم میں دھکیلی جا رہی ہے۔ میں بھی اگر سائنس دان ہوتا تو شاید یہی کہتا۔شاباش آگے بڑھو! منزل دور نہیں۔ اگر فلسفی ہوتا تو حقیقی تجزیئے کو دنیا کی روش اور مخالفت کے خدشے کے پیشِ نظر کسی صندوق میں چھپا کراپنی عافیت کی خیر مناتا۔ مگر یہاں تو معاملہ دیگر ہے۔قدرت نے مجھے ایٹمی جہنم کے شعلوں کے سپرد کر دیا اور سالوں اس میں جلتا رہا۔ اس مقصد سے کہ انسانیت کو اس کے حقیقی خطرے سے آگاہی دوں اور خبردار کروں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دنیا اس المناک ایٹمی عذاب سے بچ جائے۔

(V)     بیکنی فلسفے اور اس بیکنی ترقی کا انجام:۔

اس بیکنی انسانیت کے لئے اب کوئی دوسرا متبادل انجام نہیں۔ سوائے اس کے یا تو فوری طور پر اور بحسبِِ استحقاق۔ ایٹم بموں کی بارش اسے ہلاک کردے اور یا ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکار شعاعیں رفتہ رفتہ اور مصائب و آلام کے ماحول میں بحسبِ استحقاق اس کو ختم کردیں کچھ بھی ہو اس بیکنی ترقی کا انجام اب آپہنچا ہے،خواہ ایٹمی توانائی کواپنایا جائے یااس کوترک کردیا جائے۔ بیکنی ترقی بہرصورت ختم ہو جائے اگر ایٹمی توانائی کوترک کیا گیاتو توانائی کی نایابی کے سبب یہ سارا صنعتی ڈھانچہ منجمندہوکر رہ جائے گااوراگرایٹمی توانائی کو اپنایاگیا توایٹم بموں یاتابکار شعاؤں سے اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہ روئے زمین  پرپھیلے ہوئے سائنس کے مضبوط آثار جو اس قدر مضبوط اور مستحکم نظر آتے ہیں۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں چشمِ زدن میں اس طرح اس دنیا سے ناپید ہوجائیں گے گویا کہ کبھی تھے ہی نہیں اور یا پھر ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری سے ختم ہونے والی انسانیت کے بعد سائنس کے یہ عظیم الشان آثار ایک مخلوق کی حماقتوں کی یادگار کے طورپر رہ جائیں گے اور ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری کے اثرات کی تباہی کی وسعتوں کا اندازہ ایٹمی توانائی کی موجودہ کیفیت سے نہ لگایا جائے۔ آج تو اس روئے زمین پرمحض چند ایک ری ایکٹر مصروفِ کار ہیں لیکن آنے  والے اس دور میں جس میں ایٹمی توانائی ہی واحد ذریعہ رہ جائے گا اور اس زمین پر موجود ہر  پاور ہاؤس، ہر فیکٹری، ہر بحری اور ہوائی جہاز، ہرریلوے انجن، حتٰیٰ کہ ہر پرائیویٹ کار میں اپنا اپنا ری ایکٹر لگا ہو گا۔ تابکاری کے اثرات کی وسعت کاصحیح اندازہ لگ سکے گا۔اس وقت ری ایکٹر ہرلمحے اس طرح پھٹیں گے جس طرح کہ برات میں آتشبازی، ری ایکٹر پرانے ہوں گے اور دھماکوں کی تعدادروز بروز بڑھے گی اور یہ زمین تابکاری شعاعوں کے خول میں غرق ہو جائے گی۔ انسانیت کی ایک اچھی خاصی تعداد تابکاری بیماریوں، کینسر، اور تابکاری کے جنسی اثرات کا شکار ہو کر اس زمین کو ایک بڑے ہسپتال میں تبدیل کر دے گی۔ اس وقت کی انسانیت کی حالت دردناک ہو گی اور وہ لوگ موت کوزندگی پر ترجیح دیں گے اور موت کے پیچھے بھاگیں گے مگرموت ان کے آگے آگے بھاگے گی۔

اور پھر اس ایٹمی توانائی کے اپنانے کے اس بین الاقوامی تجربے کو دیکھو جو مادی منفعت اور تحقیق کے اصول پر چل رہا ہے اور جس میں انسانوں کوتجرباتی چوہوں (Guinea pigs) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ نہ تو تابکاری سے بچاؤ کی کوئی تدبیر ہے نہ تابکاری شعاعوں پر کوئی کنٹرول ہے اور یہ انسانیت حالات کے رحم و کرم پر ہے اور تابکاری کے طویل المعیاد جنسی اثرات یقینی طور پر تباہ کن ہیں۔ ان حالات میں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یہ انسانیت اس تجربے کے نتیجے میں ایک دردناک طریقے پرتباہی سے دوچار ہو جائے گی۔ سائنس دانوں کو چاہیئے کہ پہلے اس تابکاری پر کنٹرول حاصل کریں اور اس سے بچاؤ کی تدابیرمہیّا کریں اور ایٹمی توانائی کوانسانیت کے لئے بے ضرر بنائیں اور اس کے بعد ہی ایٹمی توانائی کے استعمال کی سفارش کریں۔ جس طرح کہ بھاپ اور بجلی کے معاملے میں ہُوا ہے۔ بعض لوگ کہیں گے کہ جناب کیابھاپ اور بجلی کے کام میں حادثات نہیں ہوتے  تو یہ بات ایسے لوگوں کی جہالت اور لاعلمی کامنہ بولتاثبوت ہے۔ بجلی اور بھاپ کے حادثات اور تابکاری کے اثرات میں کوئی مماثلت موجود نہیں ہے۔ تابکاری اثرات کی مثال ایک موروثی عالمگیر وبا کی ہے نہ کہ اِکادُکاحادثے کی۔ پس معلوم ہوا کہ سائنس دان اس ایٹمی توانائی کے معاملے میں سائنس کے ایک بہت بڑے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو کر اس ساری انسانیت کی تباہی کی ذمہ داری اپنے سر پر لے رہا ہے۔ ایک سائنس دان برونوکلّیسا کے حکم سے زندہ جلایاگیا تھاتوساری انسانیت کی ضمیرچیخ اٹھی تھی مگر آج کاسائنس دان اس ساری انسانیت بلکہ اس زمین پر موجود   ساری زندگی کوزندہ جلا دینے کاارتکاب کررہا ہے۔ سائنس دان کو اگراس معاملے میں سائنس کی کچہری میں پیش کیاجائے تو سائنس  لازماً اسے ایک نہایت سنگین سزا کا مستوجب قرار دے گی۔ یہ انسانیت لازماًاس ایٹمی توانائی کے نتیجے میں زندہ جلادیجائے گی۔خواہ یہ جلاناایٹمی بموں کے تباہ کن شعلوں کے ذریعے ہو۔ خواہ تابکاری شعاعوں کی غیر مرئی آگ کے ذریعے، سائنس دان ہوش میں آ۔ وہ وقت قریب ہے۔ جب تو اسی انسانیت کی نگاہ میں زمین پربسنے والی بدترین مخلوق متصّور ہو گا اور کس قدردلخراش ہو گا وہ منظر۔ جب آج کا محسنِ انسانیت کل کا لائقِ نفرین عفریت تصّور ہوگا۔ کینسر کے  دردناک عذاب میں  مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں جانے سے قبل تو ایک دردناک عذاب میں مبتلا مخلوق کی دلی نفرت کے جگر گداز اور ناقابلِ فراموش ذائقے کی تلخیوں کو چکھ لے گا۔ ایسی موت سے ہمکنار ہونے سے قبل اس بدنصیبی کاتصّور کر۔ اپنی ضمیر کے آئینے میں جھانک اور ایسی دردناک صورت کے نمودار ہونے سے پہلے اس کامداوا کر۔ میری بات سن لے اور بچ جا۔   

سائنس دان ہوش میں آ اور دیکھ اور بتا کہ جو کچھ میں سائنسی حقائق کی صورت میں پیش کر رہا ہوں وہ ٹھیک ہے یا غلط ہے۔ اگر غلط ہے تو بے دریغ اسے غلط قرار دے اور کہہ دے کہ یہ غلط بیانی ہے۔ مبالغہ آرائی ہے۔ انسانیت میں خوف و  ہراس پھیلانے کی ایک تجویز ہے۔ نہیں تو ایسا ہرگز نہیں کہہ سکتا۔ میں سائنس کے مسلّمہ اور ناقابلِ تردید حقائق کی روشنی میں بات کر رہا ہوں۔ اے اندھوں کی لاٹھی پکڑنے والے اندھے سائنس دان! اندھی انسانیت کو ایٹمی جہنم کی جانب کھینچنے سے باز آ جا۔ 

باز آ باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ  

گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ

ایں درگہہ مادر گہہ نومید ی نیست

صد بار اگر تو بہ شکستی باز آ

اور مندرجہ ذیل رباعی پڑھتا ہوا آ :۔

عصیاں سے کبھی ہم نے کنارا نہ کیا

 پر تو نے دل آزردہ ہمارا نہ کیا

ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر  

 پر تری رحمت نے گوارا نہ کیا

 اور اے انسان! اے اس زمین پربسنے والی مخلوق میں اشرف اور افضل مخلوق! میری نصیحت کو قدر کی نگاہ سے دیکھ اور سنبھل جا۔ ہوش میں آ۔ آنکھیں کھول اور ایک دردناک تباہی سے بچ جا۔ ایک عالم گیر غارت تیرے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ناشکری نہ کر۔ ایٹمی جہنم کا ایک ہلکا سا جھونکا تیرے ذہن سے ترقی، خود کفالت، اور تسخیرِ کائنات کا سارا سودا نکال باہر پھینکے گا اور تو اپنی حماقت پر حیران ہوگا۔ ہر شے کو فراموش کر دے، عاد و ثمود کے مال سے فرار کی راہ تلاش کر۔ ایٹمی جہنم کی آگ بھڑکنے کو ہے۔ شعلہ اٹھا تو تجھ پر آتشیں اژدھا کی طرح لپکے گا۔ پھر فرار کی کوئی راہ ہے نہ گریز کا کوئی امکان۔ ربناََ وقناََ عذابِ النار کے ورد کو اپنا وظیفہ بنا اور جل توں جلال توں، آئی بلا ٹال توں، کی پکار کے لئے اس سے زیادہ موزوں وقت کبھی نہ تھا۔ ایٹم بم اوّلوں کی طرح برسنے والے ہیں۔ ان سے خدا کی پناہ کا طلب گار رہو اور جان لے کہ انسانیت کے اس موت و حیات کے مسئلے کو میں نے اٹھایا ہے تو پھر قیدو بند، موت و حیات، ظلم و ستم کی بات بے معنی اور لایعنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ فرض بہر حال فرض ہے۔کوئی بات اس میں رکاوٹ نہیں ہو سکتی۔ حق کہا جائے گا اگرچہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔ مدد اللہ کی مانگنی چاہئے اور بھروسہ اسی کی ذات پر ہونا چاہیئے۔ میں اگر مر جاؤں تو میری قبر  بھی اس ایٹمی جہنم کے خلاف پکارے گی۔ اگر معاملہ اسی عارضی دنیا کا ہوتا تو مخالفت کے اس ماحول میں میں بھی کہہ دیتا چلو چھوڑو چند دنوں کی بات ہے مرناویسے بھی سب نے ہے ہی ویسے نہ مرے ایٹمی بموں سے مر گئے۔ تابکاری شعاعوں سے مر گئے خاموشی بہترہے مگرعزیزو! یہاں معاملہ صرف اسی عارضی زندگی کا نہیں کیونکہ وہ وجوہات جو اسی عارضی جہنم کے نمودار ہونے کی نظر آتی ہیں۔ وہی وجوہات قرآنِ حکیم نے حطمہ(اگلے جہان کا ابدی ایٹمی جہنم) کی سزا سے مشروط کی ہیں۔ گویا کہ وہ لوگ جو استحقاقی بنا پر اس عارضی ایٹمی جہنم میں فنا ہو ں گے۔ان کے لئے اگلی دنیا کا ابدی حطمہ بھی منہ کھولے منتظر ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ اگر یہ لوگ اس عارضی ایٹمی جہنم سے  بچ کر بھی نکل گئے تو اس ابدی حطمہ سے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ یہ مسئلہ فقط ایٹمی جہنم ہی کا نہیں اس معاشرے کابھی ہے جس میں و ہ خرابیاں موجود ہیں۔ جو انسان کو اگلی دنیا کے ابدی جہنم حطمہ کی سزا کا مستوجب بناتی ہیں۔ اللہ اللہ کیا ہی دل خراش داستان ہے۔ دلخراش اور  ہولناک۔اب تو آ پ نے سمجھ لیا ہو گا کہ کس چیز نے مجھے آتش زیر پا اور آتش درد دل کر رکھا ہے۔ پہاڑ کا بوجھ سرپر ہے۔ مجھ جیسے ناتواں اور کمزور انسان کے لئے تنہا اٹھانا محال ہے مگراللہ تعالیٰ کی مدد شامل ِحال ہوتو مشکلّیں آسان ہو جاتی ہیں اور اللہ کی نصرت انشاء اللہ قریب ہے۔اگرایٹمی توانائی اپنائی نہ گئی تو توانائی کے بغیر یہ ترقی خود بخود ختم ہو جائے گی اور اپنائی گئی تو ایٹمی توانائی اسے ختم کر دے گی۔ باقی رہا یہ سوال کہ پائلٹ جہاز آگ پکڑنے سے پہلے چھلانک لگاتا ہے کہ نہیں۔

(VI)    ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی:

ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی یعنی جدید بیکنی اٹامزم اور ایٹمی فینامین کی قرآنِ حکیم کی تشریح سائنس کے انداز میں  اور قرآنِ حکیم کا ڈھنڈو رہ۔خدائی نقارہ۔ الٰہیٰ اتمام ِحجت، ربانی ہدایت، کشتی نوح عصائے موسٰیٰ اور ایٹمی جہنم سے نجات کا واحد ذریعہ، انسانیت کے لئے خوش خبری، قرآنِ حکیم کے لئے فخر اسلام کا بول بالااور قرآنِ حکیم کے الہامی ہونے کا حتمی، قطعی، ناقابلِ تردید ثبوت، معجزوں کے اس منکر دور میں ناقابلِ انکار معجزہ، ایسامعجزہ جس سے نہ سائنس دان انکار کر سکے نہ فلسفی۔

یہ جان لینے کے بعد کہ اس دنیا کا یہ عارضی ایٹمی جہنم جو عبارت ہے ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری سے۔اگلی ابدی دنیا کے ابدی حطمہ کا پرتو ہے۔ نمونہ ہے۔ جس طرح کہ عام آ گ عام جہنم کا پرتو ہے اور باغ بہشت کا ہے۔ اس پیشین گوئی کا بیان سنیئے۔ بے شک قرآنی  لفظ کا ثبوت اسی دنیا میں مل جانا۔ قرآنِ حکیم کی حقانیت کا ایک ارفعٰ و اعلیٰ ثبوت ہے۔ قرآنِ حکیم میں بیان کئے ہوئے حطمہ کودنیا نے اسی جہان میں دیکھ لیا ہے۔ 

چودہ صدیاں پہلے کسی قدیم کتاب کا اس جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے کی تشریح کرنا اور اس جدید ایٹمی عمل (Phenomenon) کی تشریح و تعبیر و تخصیص سائنسی انداز اور ایسے دور میں کرنا جب کہ نہ تو قدیم یونانی اٹامزم کا شائبہ تک اس دنیا میں موجود تھا  نہ ہی اس کے کسی مستقبل  کے دور میں احیا ء ہی کی کوئی علامت نظر آ سکتی تھی اور نہ ہی اس جدید ایٹمی عمل کی سائنسی تشریح و تعبیر وتفسیر و تخصیص ہی کا کوئی سوال  پیدا ہوتا تھا۔ اس موجودہ دورکی دنیا کے عوام الناس کے لئے بالخصوص خواص کے لئے ایک معجزے  سے کم نہیں۔ حیرت اس بات پر لرزہ براندام ہے۔ سائنس منقارزیر پر ہے۔ فلسفی انگشتِ بدندان ہے تو سائنس دان حیرت زدہ و مبہوت ہے اور بجاطور پر مبہوت ہے۔ چودہ سو برس قبل ایٹمی عمل (Phenomenon) کی ان امتیازی خصوصیات کا بیان جو ایٹمی عمل کو ہر دوسرے عمل کیمیاوی، برقی، ثقلی سے ممیز کرتی ہیں نہ آئن سٹائن کے سمجھنے کی بات ہے نہ رسل کی اور حقیقت بھی یہ ہے کہ نہ سمجھنے کی بات ہے نہ سمجھانے کی اور پھر ایٹم بم کے دھماکے کی تصویر اور اس سے بھی بڑھ کر حیران کن بات یعنی اوٹما کے عمل کا نام اوطمہ یا (حطمہ) ہونا اگر کسی صاحب ِعلم سائنس دان کو ورطہء حیرت میں ڈال  دے تو کیا عجب اور افادیت کا  پہلو یہ کہ وہ وجوہات بیان کی جائیں جو ایٹمی جہنم یعنی ایٹمی عمل ایٹمی بم اور ایٹمی تابکاری پر منتج ہوں تاکہ ان وجوہات کا اعدام،ایٹمی جہنم کے اعدام کا باعث ہو کر انسانیت کو اس المناک ایٹمی المیے سے بچا سکے۔تحقیق یہ ایک معجزہ ہے جاننے والے جان لیں گے اور ان کے نہ جاننے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ ایک معجزہ ہے۔ کم از کم اتنا بڑا جتنا کہ مردہ کوزندہ کرنا ہے۔ کون سقراط، کون افلاطون اور کون ارسطو ہے جو اٹامزم کو دیکھ کر اس سے ایٹم بم کے نمودار ہونے کی خبر دے سکے۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو جن کا مقام فلسفے کی دنیا میں ستاروں کی طرح درخشاں ہے اور جن کی سطح کا ذہن انسانی تاریخ بیان کرنے سے قاصر ہے۔ تینوں اپنی زندگی میں قدیم اٹامزم کے سخت مخالفین میں سے تھے مگر کیا ان سے یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ اٹامزم کے متوقع خطروں میں اس امر کی نشان دہی بھی کریں کہ اس اٹامزم سے بالٓاخرایٹم بم پیدا ہوں گے۔ حاشا و کلا، انسانی ذہن سے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ایسی بات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ فقط الہٰی بصیرت ہی کا کام ہے۔ آج اگر یہ حضرات موجود ہوں اور ان کے سامنے قرآنِ حکیم کی یہ پیشینگوئی بیان کی جائے تو وہ قرآنِ حکیم کے نازل کرنے والے کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں اور اگر یہی بیان آئن سٹائن اور رسل کے سامنے کیا جائے تو ان کے حیرت و استعجاب کی کیفیت ماہرینِ نفسیات کے علم میں ایک باب کے اضافے کا موجب ہو۔

ذیل میں ہم قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کا مکمل متن لکھیں گے۔ ملاحظہ ہو:۔

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِنِ                    الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ   يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ   كَلَّا  لَيُنْۢبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ   نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَةُ   الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٔدَةِ   اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ   فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ   

ترجمہ:۔ ”خرابی ہے ہر عیب جو، نکتہ چین کے لئے، جس نے مال سمیٹا اور گن گن کررکھا۔ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا کو رہے گا اس کے ساتھ۔ ہرگز نہیں وہ پھینکا جائے گااس روندنے والی (حطمہ) میں اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی (حطمہ) ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی وہ چڑھتی ہے دلوں پر، وہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر۔ لمبے لمبے ستونوں میں“ ۔

(104-الھمزۃ-9-1)

سبحان اللہ! اور آپ اس کو پڑھیئے اور پھر اگر آپ ایٹمی سائنس جانتے ہیں۔ بیکنی فلسفے سے آ پ کو مس ہے تو پھر اپنے طور پر معلوم کریں کہ قرآنِ حکیم کے ان چھتیس (۳۶)  لفظوں میں کتنی ایٹمی سائنس اور کتنا ایٹمی فلسفہ موجود ہے۔ مجھے اس سورۃ کی تفسیر میں انیس(۱۹)  برس لگے اور یہ تفسیر1800 صفحوں (اٹھارہ سو صفحوں پر) پھیل گئی۔انگریزی میں اور کہانی الف لیلہ ولیلہ کی نہیں نہ ہی ہزار داستان کی ہے بلکہ ہر جملہ اور ہرفقرہ ٹہوس حقائق کا مظاہرہ ہے جس میں سائنس اور بیکنی فلسفہ دونوں شامل ہیں اور آئمہ مفسرینِ کرام کی اس سورۃ کے بارے میں تفسیر کا بھی کافی و شافی بیان ہے۔ جب مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے 1961 ء میں اس پیشینگوئی کا انکشاف ہوا تو میں نے سمجھا کہ یہ عصائے موسوی تھا جو میرے ہاتھ میں اژدھا کی صورت اختیار کر گیا ہے اور جب 1980 ء میں اس کی تفسیر کی تکمیل ہوئی تو میں نے جانا کہ یہ کشتیِ نوح ہے۔ اس دور کے ایٹمی آ گ کے عالمی طوفان کے لئے۔ دنیائے اسلام ہو کہ اس کے علاوہ ہو، ابھی تک اس لرزہ خیز حقیقت سے قطعاًبے خبر ہے۔ اَلبَتَّہ وہ مصائب و آلام جو میں نے اس دوران میں برداشت کئے اس کے بیان کی طاقت نہ ”جان بنیان“ کو ہے نہ”دانتے“ کواورجن نفسیاتی تبدیلیوں سے میرا ذہن گزرا اس کاتجزیہ کرنا نہ فرائیڈ کے بس کی بات ہے نہ ”جنگ“ کی اور اس کام کی تکمیل محض اللہ تعالیٰ ٰکی نصرت اور کامل مہربانی کے سبب ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائے  اور دنیا کو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین۔

نفسِ مضمون کی جانب رجوع فرمایئے۔ قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں۔

(ا)           ایٹمی جہنم کے شعلوں سے نجات کے لئے یہی واحد ذریعہ ہے۔ سائنس دان اور سیاست دان سب مجبور ہیں۔ لاعلم ہیں۔

(ب)    ایٹمی سائنس کے میدان میں قرآنِ حکیم کا یہ ایک ایسا معجزہ ہے جسے سائنس دان جھٹلا نہیں سکتا اور اس طرح مخمصے میں یوں پھنس جاتا ہے کہ ادھر سائنس معجزے یا ماورالطبیعاتی کیفیتوں کو نہ تو سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی ان کو مانتی ہے۔ ادھر قرآنِ حکیم  کے معجزے سے انکار کی گنجائش نہیں۔

(ج)      اس دورِ جدید کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قرآنِ حکیم نے بیکنی فلسفے اور بیکنی ترقی کی اصلی حقیقت اور اس پر مرتب ہونے والے تباہ کن خطرات و اثرات کو اس طرح منکشف کیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے دنیا کے کسی فلسفی یا دانشور نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں حتٰی کہ برٹرینڈرسل(انگریز فلسفی) جیسے عظیم بین الاقوامی دانشور بھی اس ضمن میں معاملے کی محض بیرونی سطح کو دیکھتا ہے اور معاملے کا دل اس سے اوجھل رہتا ہے۔ آج کے جملہ دانشور دانا سیانے زیادہ پیداوار کو اس دور کی امراض کاعلاج سمجھ کر جب زیادہ پیداوار کی رٹ لگاتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آگ کو بجھانے کی غرض سے وہ بھٹی میں مزید ایندھن ڈالنے کی پکارلگا رہے ہیں،مگرقرآنِ حکیم نے اصلی اور بنیادی حقیقت کو آشکار کیا اور اس بیکنی ترقی کی کلّی بیخ کنی ہی کو اس تباہ کن، عالم گیر ایٹمی خطرے کاعلاج قرار دیا اور اگرچہ اس سٹیج پر تو یہ اقدام نہایت سنگین، ناقابلِ عمل ہونے کی حد تک عجیب نظر آتا ہے مگر یہ دنیا نہیں جانتی کہ یہ بیکنی ترقی تو خود بخود ختم ہونے والی ہے۔ اگر یہ دنیا ایٹمی توانائی کے خطرات کے پیشِ نظراس کے استعمال سے گریز کرتی ہے تو توانائی کے متبادل ذرائع کے ناپید ہو جانے کے سبب اس ساری صنعت کا بولورام ہوجاتا ہے اور اگر ایٹمی توانائی کو اپناتی ہے تو زمین پربسنے والی اس ساری مخلوق، انسان، حیوان، پودے، سب کا رام رام ست ہے، ہو جانا لازم آتا ہےاس دنیا کے لئے گوئیم مشکل وگرنہ گوئم مشکل والا معاملہ ہے و ہ ہولناک اور تباہی لازم۔

(د)       اس دنیا میں کوئی بھی تحریک جو ایٹمی خطرے کے خلاف چلائی جائے کبھی بھی موثر نہیں ہوسکتی۔ جب تک کہ قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی میں موجود راہنما خطوط کی پیروی نہیں کی جاتی۔نہ ہی اس دنیا میں دین کے احیاء کی کوئی تحریک بڑی حد تک موثر ہو سکتی ہے جب تک یہ بیکنی ترقی اس دنیا میں موجود ہے اور جب تک قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی میں موجود راہنما اصولوں کو سمجھا نہیں جاتا اور ان کی کماحقہ پابندی نہیں کی  جاتی، اس وقت تک نظامِ مصطفی ﷺ کا کلّی موثر نفاذ، الجھاؤ کا شکار رہے گا۔ تادیر اس بیکنی ترقی کو اگر جاری رہنے دیاگیا تو اس کی موجودگی میں کوئی بھی دین اس دنیا کو اس بیکنی ترقی کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم سے نہیں بچا سکے گا بلکہ پیروکاروں کے ساتھ خود دین کو بھی تباہی کاسامنا ہو گا۔

(ر)       قرآنِ حکیم کی یہ معجزانہ پیشین گوئی اور ربانی ہدایت اس دور کے ایٹمی آتشیں طوفان کے لئے کشتیء نوح کامقام رکھتی ہے۔ اب اس دنیا کے بندوں پرمنحصر ہے کہ سلامتی کے اس واحد وسیلے سے فائدہ  اٹھائیں یا محروم رہ کر ایٹمی آگ کی لہروں کی نذر ہو جائیں اور جدید سائنس کے سانپوں کے لئے یہ عصائے موسوی کا حکم رکھتی ہے۔

(س)     قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی قرآنِ حکیم کے کلامِ الٰہیٰ ہونے کی ایسی دلیل ہے جسے رد کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔

(VII)   اس قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی کی تاثیر :۔

یہ ناممکن ہے کہ قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گو ئی سائنس دان یا غیر سائنس دان کو اپنی معجزانہ خصوصیات کی وجہ سے متاثر نہ کر سکے۔ ستمبر 1963 ء میں مجھے اس کی تاثیر کا پہلاتجربہ ہوا۔ جرمن کی معروف سکالر مس این میری شمل نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایک تقریر کی۔ موضوع تھا”قرآنِ حکیم اللہ کا کلام نہیں بلکہ محمد الرسول اللہ ﷺ کی تصنیف ہے“۔ یہ بات گویا کہ اسلام کے حق میں اس قدر قاتل تھی جس سے زیادہ کا تصّور بھی نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ حکیم کے الہامی ہونے کی دلیل میں، میں نے جب یہ پیشین گوئی موصوفہ کے سامنے پیش کی اور اس کی مختصر سی تفسیر اس کے سامنے بیان کی تو موصوفہ کی طبیعت فوراً ناساز ہو گئی اور وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ موصوفہ اس کے بعد دس برس تک پاکستان نہیں آئی لیکن بعد میں جب آئی تو اس کا موضوع یہ نہ تھا بلکہ اقبالؒ، خسروؒ،باہوؒ اور بعض دوسرے اسلامی مشاہیر تھے۔ اس تقریر میں موجودعلماء حضرات   میری کارکردگی سے اتنے متاثر تھے کہ انہوں نے علا مہ علاؤالدین صدیقی (جو،ان  دنوں اسلامیات کے شعبے کے صدر تھے) سے میرے متعلق استفسار کیا، جس پر جناب علامہ صاحب نے میرے متعلق وہ کچھ کہا جو مندرجہ ذیل ہے۔

            ”یہ شخص اللہ تعالیٰ نے محض اتفاق سے اس قوم میں پیدا کر دیا ہے، اگر یہ قوم وہ قرآنِ حکیم کی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں تفویض فرمائی ہے اس سے نہ لے سکی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قیامت تک معاف نہیں کرے گا۔ پھر ایسا آدمی نہیں پیدا ہوگا“۔

            اُس وقت تو میں نے علامہ علاؤالدین صدیقی کے اس ریمارک کا کچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا لیکن اب میرے لئے یہ سوالیہ نشان بنا ہواہے۔ واقعی اس مناظرے میں حاضرین کی خوشی کا جوعالم تھا وہ بیان سے باہر ہے۔ پاکستان ٹائمز کے نمائندے نے مجھ سے پوائنٹس مانگے۔ میں نے پاکستان ٹائمز کو اس موضوع پر مضمون دیا جو Quran and atomic hell کی سرخی سے چھپا۔ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ جس جس یورپی ملک میں یہ مضمون پہنچاوہاں ایک دن میں بیشمار تراجم قرآنِ حکیم کے فروخت ہوئے، وہ لوگ اطمینان کرنا چاہتے تھے کہ کیاواقعی قرآنِ حکیم میں ایسی بات موجود ہے،بعد میں مجھے اس موضوع کی تحقیق میں سائنس اور فلسفے کے ہفت قلزم عبور کرنے پڑ گئے۔

الحمد للہ! کہ مہم اپنے اختتام کو پہنچی۔میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ آگے اُمتِ مسلمہ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ اس اُمت کو توفیق دے۔ ورنہ نقصانِ عظیم کا احتمال ہے۔ میرے لئے تو یہ کہنا اب باقی ہے۔

سپردم بتو مایۂ خویش را

تو دانی حساب کم و بیش را

(VIII)۔             دیموقراطیس۔ ابراہیم مقابلہ:۔

اگرچہ اس بیکنی اٹامزمی ترقی کے عمل کا منطقی نتیجہ تو ایٹمی جہنم ہے اور اگر یہ انسانیت اس  میں جھونک دی جائے تو کوئی ناانصافی نہ ہو گی کیونکہ یہ سب کچھ انسان کا اپنا کیاکرایا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی رحمت کے صدقے میں اس دنیا کو ایٹمی جہنم سے بچا لے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ ابراہیمی روح اس انسانیت کو اس ایٹمی چتا میں جلنے نہ دے گی اورابھی تو اس  دنیا نے اسلام کے زیر ِسایہ ایک امن وسلامتی اور خوشحالی اور فارغ البالی کا دوردیکھنا ہے۔ اگر یہ انسانیت ایٹمی آگ کی نذر ہو جائے تووہ پیشین گوئی  کیسے پوری ہو سکتی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ دیموقراطیس ابراہیمی مقابلہ ایک عرصے  سے اس دنیا میں جاری ہے۔ دیمو قراطیس اس دنیا کے لئے ایٹمی چتا کو بھڑکانے میں مصروف ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس چتا کو بجھانے کے اہتمام میں مصرو ف ہیں۔ دیموقراطیس کے جلو میں بیکن، سپی نوزا، ڈارون، آئن سٹائن کے علاوہ اٹامزم کے پیروکاروں کی ایک فوج مصروفِ عمل نظر آتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جلو میں حضرت موسٰیٰ علیہ السلام، حضرت عیسٰی علیہ السلام، حضرت محمدﷺ کے علاوہ ایک فوج مومنین کی نظر آتی ہے۔ پہلاگروہ اس دنیا کے لئے ایٹمی جہنم بھڑکانے کے اہتمام میں ہے۔ دوسرا گروہ اس آگ کو سرد کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی زندگی میں نمرود نے جلتی چتا میں ڈلوایا تھا مگر آ گ نے خلیل اللہ کا ایک بال بھی بیکا نہ کیاتھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نمرود کی آگ عام  کیمیاوی قسم کی آ گ تھی جبکہ دیموقراطیس کی آگ ایٹمی قسم کی اور کسی فردِو احد کے لئے نہیں ساری انسانیت کے لئے ہے۔

            اس معاملے کا غائر مطالعہ کیا جائے تو بعض بے حد حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔ جب فرانسس بیکن (1626-1561) اس جدید اٹامزم کے فلسفے کا بانی اور انگلینڈ کا لارڈ چانسلر انگلستان میں اپنے نئے فلسفے کی تخلیق کر رہاتھا۔ اسی وقت اس کے ہمعصر حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ سرہندی علیہ الرحمتہ (1624-1564) سرزمین ہند میں اکبر اعظم کے دینِ الہٰی سے پیدا ہونے والی قباحتوں کے خلاف برسرِپیکار تھا۔ اس کے بعد یورپ میں جب سپی نوزا (1632-77) یہودی اپنے مادی وحدت الوجود کے فلسفے کو لکھ کر عام کر چکاتو ہندوستان میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی (1763-1703) ایک دور رس اسلامی انقلاب کی بنیاد استوار کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ مجھے کسی کتاب میں یہ بات نظر نہیں آئی اور جہاں تک میراعلم ہے کسی نے اس بات کو اس زاویئے سے نہیں دیکھا کہ سپی نوزا کافلسفہ در حقیقت وحدت الوجود کافلسفہ تھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ جہاں شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی اور منصور حلاج کی وحدت الوجود روحانی نوعیت کی تھی وہاں سپی نوزا کی وحدت الوجود اس نئے مادی دور کے تقاضوں کے مطابق کلّی طورپر مادی قسم کی تھی۔ مسئلہ وحدت الوجود کاآئن سٹائن کے نظریہء اضافت کی طرح نہایت باریک ہے اور بے شمار لوگ اسکوصحیح نہ سمجھ پانے کیوجہ سے قعرِ مذلت میں گر چکے ہیں۔ اَلبَتَّہ ہمیں یہاں فقط ایک ضمنی اشارہ مقصود ہے۔ منہ آئی بات نہ رہندی اے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اکبر اعظم نے بھی اپنے دینِ الہٰی کی بنیاد مسئلہ وحدت الوجود پر ہی رکھی تھی اور حضرت شاہ ولی اللہ کی توجہ بھی اسی مسئلے پر عام رہی ہے اور سپی نوزا نے بھی یہی وحدت الوجود کامسئلہ ہی چھیڑ رکھاتھا۔ اس فرق کے ساتھ کہ اسلامی دنیا میں وحد ت الوجود کی نوعیت وہی پہلی روحانی تھی جب کہ نئے دور کے سپی نوزا کی وحدت الوجود خالصتہً مادی تھی۔ یہ درحقیقت دو نظریوں کازبردست اور دوررس ٹکراؤ تھاتاہم آئمہ کرامؒ اس ٹکراؤ سے بے خبر تھے نہ ہی حضرت شیخ سرہندی کو علم تھا کہ فرانسس بیکن کیا کر رہا ہے یا مغرب کون سی کروٹ لینے کی تیاری کر رہا ہےنہ حضرت شاہ ولی اللہ کو سپی نوزا کے فلسفے کے متعلق ہی کچھ علم تھا مگر یہ ہردو اسلامی حضرات نادانستہ طو پر ایک ایسے عمل میں سرگرم تھے جو مغرب سے اٹھنے والی جدید مادی اٹامزم کی تحریک کے مقابلے میں حفظِ ما تقدم کی قسم کی پیش بندی معلوم ہوتا ہے۔

            اور پھر دیکھئے حضرت علامہ محمد اقبالؒ کو یورپ 1905 ء میں بھیجا جاتا ہے۔ وہ کیوں؟ دراصل 1905 ء کا سال ایسا سال ہے جس کی اہمیت اس جدید ایٹمی دور کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہے۔ یہی وہ سن ہے جس میں حکیم آئن سٹائن  نے اپنا معروفِ زمانہ یعنی اضافیت کا خصوصی نظریہ پیش کیاتھا۔ اس نظریئے نے ایٹمی توانائی کو اس بھنور سے نکال دیا جس میں کہ وہ بری طرح سے پھنس چکی تھی۔آئن سٹائن کے اس نظریئے کا ثبوت ہیروشیما نے مہیّا کیا عین اسی سال یعنی 1905 ء میں علامہ اقبالؒ یوروپ پہنچے اور وہاں ان کی آنکھ ابراہیمی مشن میں وا ہوئی۔ اگر علامہ اقبالؒ یورپ نہ جاتے تو وہ ہندوستان کے ایک عظیم قومی شاعر یا مسلمانوں کے ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت میں وفات پاتے اوریہ بھی عین ممکن ہے کہ شاعری کو ایک کسبِ فضول سمجھ کراس کوترک کر دیتے لیکن حضرت علامہؒ نے یورپ میں ابراہیمی مشن کی جو ضرورت اور اہمیت کو جانا اور واپس پلٹے تواپنے نظریئے کا انکشاف کیا۔ 

 ”یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے“۔

اور اپنے مشاہدے کا انکشاف ان الفاظ میں کیا:۔

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے  کیا کسی کو پھر کسی کاامتحان مقصود ہے؟

اور ساتھ ہی اس ابراہیمی مشن میں اپنے رول کا بھی اعلان کر دیا۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں   مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ

حضرت علامہؒ کی اس نظم کو اوّل سے آخر تک پڑھ جائیے سب کا سب ابراہیمی منشور ہے اور جس نے اقبالؒ کو سمجھنا ہو وہ اقبالؒ کو ابراہیمی عینک سے پڑھے۔ پھر 1942 ء کا سال آیا اور اسی سال اٹلی کے عظیم ایٹمی سائنس دان فرمی نے شگاگو میں فژن چین ری ایکشن کا کامیاب تجربہ کرکے گویا ایٹمی توانائی اور ایٹمی تباہی کا دروازہ کھول دیا اور اسی سال 1942 ء ہی میں جو کہ میری عمر کا پچیسواں سال تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام کی  حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سفارش پر مجھے ابراہیمی مشن عطا کیا گیا۔ اگرچہ میری  چالیس سالہ محنت کا پھل ابھی تک پردہء اختفا میں ہے لیکن مجھے انشاء اللہ یہ یقین ہے کہ میرا کا م اس ایٹمی جہنم کی آ گ کو سرد کردے گا۔

 (IX)   حضرت خضر علیہ السلام کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ابراھیمی مشن کے لئے میرے حق میں سفارش :

1942 ء میں یعنی حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی وفات کے چار سال بعد مصیّب میں بغداد کے قریب خواب میں حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ابراھیمی مشن کے لئے میرے حق میں سفارش کی۔ اسی خواب میں مجھے سدرۃ المنتھٰی کادرخت دکھایا گیا۔ ان دنوں میں قرآنِ حکیم کو ناظرہ پڑھ سکتا تھا مگر اس کے معانی و مطالب سے بلد نہ تھا اَلبَتَّہ ان دنوں قرآنِ حکیم کچھ اس طرح سے وردِ زبان تھا اور پڑھنے کا انداز اتنا والہانہ تھاکہ قرآنِ حکیم کا ایک حصہ مجھے حفظ ہو گیا۔ خواب کیاتھا اس نے میرے روح و قلب کو بیدار کر دیا اور میں حصولِ علم میں اس طرح غرق ہو گیا جس طرح سپی آبِ نیساں کا قطرہ حاصل کرنے کے بعد غرقِ دریاہو جاتی ہے۔ میرے حصولِ علم کی داستان اور اس دوران میں جو کچھ مجھ پر بیتی اور جس طریقے سے میں نے سارا علم حاصل کیا، ایک طویل قصّہ ہے۔ یہاں صرف چند اشارے ہی کر سکوں گا۔ پہلے تو اس دنیا کو یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم مجھ بندے کو تفویض فرمایا ہے۔  وہ کتنا کچھ ہے اور اس کو معلوم کرنے کے لئے کم ازکم وہ سب کچھ جو میں نے کاغذ پرمنتقل کیا ہے اس کو پڑھنا سمجھنا اور تولنا ہو گا۔بہرحال یہ سب کچھ میں نے بغیر کسی استاد کے یا سکول کے حاصل کیااور جو شخص بھی میرے علم کی صحیح کہنہ سے آگاہ ہو گا اسے یہ باور کرنے میں تامل ہو گا کہ ایساعلم بغیر استاد کے حاصل کرنا ممکن ہے۔ بہر حال یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے دنیا نے آم کھانے ہیں پیڑ نہیں گننے۔ اَلبَتَّہ 1942 ء سے 1980 ء کا ایک طویل المیعاد عمل تھا جس میں میری کھال اترتی رہی اور میں جنونِ عشق کی قوت سے برداشت کرتا رہا۔

زبانیں، ادبیات، تواریخ، فلسفے، سائنس، الہامی صحیفے، قرآنِ حکیم، تورات، زبور، انجیل، دن بدن، سال بہ سال میں نے جذب کئے۔زبانیں اور ادبیات دلچسپ تھے۔ تاریخیں سبق آموز تھیں، فلسفوں میں ذہنی ریاضت اور عقل کا حصول تھا۔ الہامی صحیفے روشنی کا مینار تھے۔ جدیددور کے مغرب پر میری علمی پرواز کے دوران میں نے فرانسس بیکن اس جدیدفلسفے کے بانی کو دیکھا۔ اسے شیطان اور آدم کا عمل دہرانے میں مصروف پایا۔ آدم کو ورغلانے میں شیطان کاعمل دہرانے میں منہمک پایا۔وہ زندگی کے درخت کی جڑیں کھود کر ان پر اپنے عمل میں مصروف تھا۔ الہامی دین نے اخلاقی فلسفے کو اوّلیت بخشی تھی اور طبیعاتی فلسفے کا مقام ثانوی تھا۔ بیکن اس ترتیب کو الٹ رہا تھا۔ وہ اخلاقی فلسفے والی جڑکو طبیعاتی فلسفے والی جڑ کی جگہ اور طبیعاتی فلسفے والی جڑ کو اخلاقی فلسفے والی جڑ کی جگہ رکھ رہا تھا اوراس طرح گویا کہ الہامی دین کی ترتیب کے الٹ طبیعاتی فلسفے کو اوّلیت دے رہاتھا اور اخلاقی فلسفے کو ثانوی مقام نہیں دے رہاتھا بلکہ اس کی جڑ کو بیچ میں سے کاٹ رہا تھا۔ اس عمل کو فقط میں ہی حیرت سے نہیں دیکھ رہاتھا بلکہ خود شیطان وہاں کھڑا اپنی پیشانی سے پشیمانی کے پسینے کو قطرے پونچھ رہاتھا اور افسوس کر رہا تھا کہ خود اسے کیوں نہ یہ ترکیب سوجھی۔ آدم کا بیٹا اس معاملے میں اس سے بازی لے گیا۔ پھرمیں نے ڈارون کو دیکھا وہ دورکہیں ماضی کے دھندلکوں میں انسان کی ابتدا کی تلاش میں گم تھا مگر گوہرِمقصود اس کے ہاتھ نہ آ رہا تھا۔ میں نے سوچا۔ کاش یہ آدمی اپنی ابتدا کی بجائے اپنی انتہا کی جستجو کرتا۔ انسان کی ابتدا وہی ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک جملے میں بیان کر دی تھی۔ پھر میں نے حکیم آئن سٹائن کو دیکھا کہ مادی کائنات کو اپنے ذہن میں متصّور کر کے بیٹھا ہے میں نے نگاہ دوڑائی مگر مجھے آئن سٹائن کی کائنات میں خدا کاوجود نظر نہ آیا۔ میں نے بھی آئن سٹائن کی کائنات (Universe) کو تصّور میں دیکھا اور اس میں خدا کے وجود کو متصّور کیا۔میں نے تعجب سے دیکھا کہ خداکے وجود کے نمودار ہوتے ہی آئن سٹائن کا اضافیت والا نظریہ ناپیدہو گیا۔ خدا کے عرش نے سکونِ کامل (Absolute Rest) کا مقام نمایاں کر دیا اور خدا کے وجود نے ایک ایسے مشاہد (Observer) کی صورت پیدا کر دی جو اوّل سے آخر اور ابتدا سے انتہا اور کائنات کی ایک طرف سے دوسری طرف میں ہر واقعے (Event) کو ایک ہی طرح سے اس کی حقیقی حالت اور حقیقی وقت کی صورت میں دیکھ رہا ہے۔ اَلبَتَّہ خالص بے اطاعتی نقطہء نگاہ سے ظہور پذیر ہونے والی کائنات کے اس تصّور جو جسے آئن سٹائن کی قوتِ متخیّلہ نے متصّور کر رکھاتھا۔ میں نے اسے بہ نظرِ استعجاب دیکھا اور مجھے روحانی فلسفے کے مقابلے میں مادی فلسفہ اپنی انتہاؤں میں نظر پڑا۔ آئن سٹائن کے ذہن میں میں نے سپی نوزا کی پرچھاؤں دیکھی جس کے پیچھے مجھے ایٹمی تباہی کی دھواں دھار نظر آئی۔

            اپنی تصانیف کے متعلق اس قدر عرض ہے کہ اس دورِ جدید کے اوّل سے  آخر تک جتنے بھی نامور فلسفی اور سائنس دان ہوئے ہیں۔وہ مل کر بھی وہ سب کچھ کر پانے میں دقت محسوس کرتے جو میں نے تنِ تنہاء اور انتہائی دردناک حالات میں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لے کر دکھایا ہےتاہم میرے مضمون کی تلخی، ناگواری اور اس انسانیت کی موجودہ مجبوری کچھ ایسے عوامل ہیں جو میرے کام کی راہوں میں  رکاوٹ کا موجب ہو سکتے ہیں لیکن ایسی رکاوٹ بالکل عارضی ثابت ہو گی۔ میری تصانیف چھپ کے رہیں گی۔ اگر دنیا والے اس امر میں بے اعتنائی کا مظاہرہ کریں گے تو یہ تصانیف انہیں مجبور کر دیں گی اور وہ ان کو شائع کرانے کے لئے دوڑیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ 

(X) ۔   میری مشکلات:

میری مشکلات کا اندازہ میرے مضمون کی اہمیّت اور عالمگیریت کی نسبت سے ہی ہو سکتا ہے۔ الوند جتنے پہاڑ کا بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر پڑا ہے اور میں اسے سہار رہا  ہوں۔ دنیا کی ہوسکاری کے بے پناہ اندھیروں میں کھوئی ہوئی دنیا میں ایک مجبور، بے بس انسان، تنہا حقائق کے انباردر انبار ہیرے جواہرات کے ڈھیروں کے درمیان اس انسانیت کی تقدیر کی کنجی لئے کھڑا ہے مگر یہ بیکنی مالیخولئے میں مبتلا دنیا اندھا دھند ایٹمی طوفان میں گونگی اور بہری ہو کر ہر طرف بھاگی پھرتی ہے۔ یقین مانئے۔ کسی بھی انسان کے لئے اس دنیا کی چار ارب کی آبادی کی جنوں کی حدوں کو چھوتی ہوئی دنیوی آرزوؤں کے سامنے کھڑا ہونا۔ ایسی آرزوئیں جو طوفان کی صورت میں اس ساری انسانیت کے کارواں کو بے پناہ تیزی کے ساتھ اچھالتی ہوئی ایک جہاں سوز ایٹمی جہنم کی جانب دھکیلے جا رہی ہیں۔ بے شک ایک مشکل کام ہے۔ اس امر کی ظاہری صورت کو تو ہر شخص کچھ نہ کچھ سمجھ سکتا ہے مگر باطنی خصومت کے مضمرات و اثرات کا اندازہ تو وہی کر سکتا ہے جو انسانیت کی دنیوی آرزوؤں کے اس طوفان کے سامنے کھڑا ہے۔

میری مشکل ہے قرآنِ حکیم کا نام جس کے ماننے والے محرومیوں اور مجبوریوں میں مبتلا ہیں اور جس کے نہ ماننے والے ممکن ہے کہ ان بیش بہا حقائق اورگرامی قدر علمی خزانوں بلکہ ایٹمی جہنم سے بچنے کی واحد تدبیر جو میری تصانیف میں موجود ہے،اُسے محض اس لئے گریز کریں کہ ان پر چھاپ ایک ایسی دینی کتاب کی ہے جس کو نہیں مانتے اور میری مشکل ہے میری مضمون کی ندرت، علمی بلندی اور وہ بے پناہ تفاوت جو میری علمی کاوش اور اس موجودہ انسانیت کے ذہن اور علمی سطح میں ہے۔ میں نے ایٹمی سائنس کا بیان کیا اور اس انسانیت کی اکثریت ایٹمی سائنس کی الف ب سے واقف نہیں۔ کالجوں، یونیورسٹیوں، علمی اداروں کے اس دور میں روئے زمین پر بسنے والی انسانیت کے درمیان ایسے آدمی جو ایٹمی سائنس کے حقیقی ماہر سمجھے جا سکتے ہیں۔ ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے اور پھرفقط ایٹمی سائنس ہی نہیں۔ میں نے اس کے ساتھ قرآنِ حکیم اورقرآنِ حکیم کے علاوہ انجیل اور ان کے علاوہ فلسفے کوایک ہی مضمون میں سمو دیا ہے۔ اب اس دنیا میں کہاں وہ علمی شخصیت دستیاب ہو گی جسے ان تینوں مضمونوں میں دسترس حاصل ہو اور اتنی ہی دسترس حاصل ہو جتنی کہ اس ارفع و اعلیٰ مضمون کی بلندیوں اور گہرائیوں کوسمجھنے کے لئے ضروری ہے۔ یقین مانیئے، مجھے اگران تصانیف کے لئے ریویو یاتبصرے کی ضرورت ہو تو مجھے اس زمین کی خاک چھاننی پڑے گی اور ہو سکتا ہے کہ ساری دنیا کا چکر لگاکر بھی بالآخر مایوس، ناکام اور نامراد پھروں۔ میرااندازہ ہے کہ رسل، سر جیمز جینز اور آئن سٹائن میں سے ہر ایک اس معاملے میں معذرت کرتا، اَلبَتَّہ رسل اگر حامی بھر لیتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ ایک کامیاب مبنی بر حقیقت اور درست ریویو لکھ لیتا۔ ساری انسانی تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسے مخمصے میں نہ پھسا ہو گا جس میں میں پھنس گیا ہوں اور اس علم کے دور میں۔جب بھی اس صورت ِحال کے تصّور سے میرادل غم کی اتاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے اور میرا سینہ ایک عمیق سمندر کی طرح ابال کھانے لگ جاتا ہے تو ابوریحان بیرونی، فردوسی، طوسی، ابن خلدون، حضرت اسماعیل بخاریؒ اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی قبیل کے زخم خوردہ حضرات اپنی اپنی مظلومیت کے روپ میں میری دلجوئی کرتے اور مجھے حوصلہ دیتے نظر آتے ہیں۔بقولِ غالبؔ

”تم میرے پاس ہوتے ہو گویا      جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا“

بہرحال فرض فرض ہے اس کی ادائیگی لازماًہو گی اَلبَتَّہ مجھے اپنے رب العالمین کاسہارا ہے اور رب العٰلمین کا سہارا میرے لئے تقویت کاباعث ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ سے یہ قوی امید ہے کہ مجھے اتنی توفیق اور ہمت عطا فرمائے گا کہ میں ہر مصیبت کوصبر واستقامت سے برداشت کر جاؤں گا اور جان لو کہ حق حق ہے۔ ظاہر ہو کر رہے گا۔ باطل کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔ حق آیااور باطل نابودہوا۔ طاغوت اور طاغوتی قوتیں ناپید ہو جائیں گی اورہر طرف سے آواز اُبھرے گی۔ اللہ اکبر۔ اَلبَتَّہ یہ امتحان ہے، میرا امتحان۔ اُمتِ مسلمہ کا امتحان، انسانیت کا امتحان، جہاں تک تصانیف  کاتعلق ہے وہ اڑتیس برس کا ایک پرچہ تھا۔ سو اللہ کے فضل و کرم سے میں نے دے دیا۔ اب مسلمان کی باری ہے۔ دیکھئے پاس ہوتا ہے یا فیل اور پھرانسان کی باری ہے۔انسان کی قسمت کافیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت کوصحیح نگاہ بخشے۔ آمین۔

            انسانو! اپنے انسانی فرض کوپہچانو۔ اپنے سودوزیاں کو سمجھو،ہو سکتا ہے کہ تم یا تمہاری بعض نسلیں ایٹمی بم اور ایٹمی تابکاری سے محفوظ گذر جائیں لیکن جان لو کہ  کسی نہ کسی نسل کو یہ سارا مجتمع قرضہ چکانا ہو گا۔

(XI)    مسلمانوں سے خطاب :

مسلمانو! قرآنِ حکیم کی ایٹمی جہنم کے متعلق پیشین گوئی کی اس تفسیر کی اشاعت تمہارا ملی فريضہ ہے۔ تمہارافرضِ منصبی ہے۔ اگر تم اس معاملے سے پہلوتہی کرو گے یا غفلت شعاری کاارتکاب کرو گے تو تم خدا کی اس مخلوق خدا کے قرآنِ حکیم کی اس واحد ہدایت سے محروم رکھنے کے ذمہ دار ہو گے جو اس دنیا کوایٹمی جہنم کے شعلوں سے بچانے کی واحد ضامن ہے اور پھر نہ صرف خود دوسری قوموں کیساتھ ایٹمی جہنم کے شعلوں کی نذر ہو جاؤ گے بلکہ کل کلاں خداکے حضور اس سنگین معاملے میں مسؤل ٹھہرائے جاؤ گے اورایک غور طلب پہلو جو اس معاملے میں موجود ہے اور جس سے تم قطعی طور پر لاعلم ہو، وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جواستحقاق کی بنا پر اس دنیاکے اس عارضی ایٹمی جہنم میں جھونکے جائیں گے وہ لوگ اگلی دنیا میں ابدی ایٹمی جہنم (حطمہ) کو اپنا منتظر پائیں گے کیونکہ وہ  وجوہات جو اس عارضی ایٹمی جہنم کی پیدائش کی ہیں وہی وجوہات قرآنِ حکیم نے اگلی دنیا کے ابدی حطمہ کی سزا کی بیان فرمائی ہیں تو مطلب یہ ہواکہ اگر کوئی اس عارضی دنیا کے اس عارضی ایٹمی جہنم کی سزا سے بچ کر نکلنے میں کامیاب بھی ہو گیا، مومن ہوکہ کافر تو اگلی دنیا کے حطمہ سے نہیں بچ  سکے گا۔ مفسرین نے واضح کر دیاکہ حطمہ کے معاملے میں کفر و ایمان کی تمیز نہیں ہے اور اس امر کی دردناکی ہر اس شخص پر واضح ہے جس کاقیامت اور سزا و جزا پر ایمان ہے اور جان لو کہ کسی بھی قوم کے لئے چند ہزار صفحات  کی اشاعت کوئی اتنی بڑی مہم نہیں۔ تم اس بیکنی ترقی اور ایٹمی مسئلے کے متعلق کچھ کرنے سے قاصر ہو اور اس معاملے میں دنیا کی ہرقوم تنہا قاصر ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہے اور تبھی حل ہو سکتا ہے جب دنیا کی ساری قومیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی بین الاقوامی لائحہ عمل وضع کریں اور اس وقت سب سے بڑی ضرورت اس انسانیت پر اس بیکنی ترقی اور اس کے ایٹمی نتائج کی حقیقت کو واشگاف کرناہے۔ اس حقیقت کو معلوم کرلینے کے بعد اس دنیاکے عوام اور حکومتیں اس معاملے میں کوئی قدم اٹھانے پر آمادہ ہوں گی لہٰذا میرایہ قرآنی کام اس امر میں موزوں ترین کام ہے اوریہی وقت کی آواز ہے اور بر وقت آواز ہے۔

دی موذن نے اذاں وصل کی رات آخر شب

      ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

قرآنِ حکیم کی برتری اس دنیا پر واضح ہو گی اور لوگ اس کتاب کی جانب مائل ہوں گے اور اس کے ساتھ اس ایٹمی جہنم سے بچنے کی تدبیر حاصل ہو گی۔ لہٰذا مسلمان اس معاملے میں اس طرح سستے چھوٹیں یعنی محض چند جلدیں چھاپ دینے سے ہی اور ملّتِ اسلامیہ اپنی سنگین اور خطیرذمہ داری سے عہدہ بر آہو جائے تو امتِ مسلمہ کو اللہ تعالیٰ کاشکریہ اداکرنا چاہیئے اور شکریئے کے موڈ میں اس قرآنِ حکیم کی تفسیر کو چھاپ کر دنیا میں شائع کردینا چاہیے۔ ورنہ وہ کڑی ذمہ داری اور وہ کٹھن گھڑی جو اس وقت مسلمانوں کے سرپر ہے۔ اگر مسلمانوں کواس کا علم یا احساس ہو جائے تو ان کی سٹی گم ہو جائے۔ مسلمان اس وقت ہر دینی اور ہر دنیوی معاملے میں جس حواس باختگی کے عالم میں ٹامک ٹوئیاں مارتے نظر آتے ہیں۔ کاش وہ خوداپنی اس کیفیت سے آگاہ ہو سکتے۔

مسلمانوں کو اب واضح طور پر یہ جان لیناچاہیے اور میرے لئے اس امر میں کوئی لگی لپٹی کرنے کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کہ اُمتِ مسلمہ کے سر پر اس وقت جونقارے بج رہے ہیں اگر اُمتِ مسلمہ ان کے سننے سے قاصر ہے تواتنی بات ضرور ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کی یہ تفسیر اگر شائع ہوئے بغیر کسی اسلامی ملک میں پڑی رہی تواس کے نتائج اس ملک کے لئے انتہائی خطرناک ہوں گے۔یہ پیشین گوئی دنیا کے سارے ایٹم بموں سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے اور اگر مسلمانوں نے اب تک قرآنِ حکیم کی قوت کو نہیں پہچانا تواب پہچان لیں گے کہ یہ پیشینگوئی مسلمانوں کی لاپرواہی یا غفلت شعاری کیوجہ سے شائع نہ ہوئی تو ایک غضب ناک آتش فشاں پہاڑ کی طرح پھٹے گی اور نتائج واضح ہیں۔ اگر مسلمان اس بات کو آزماناچاہیں توبے شک آزما لیں۔ میں صبر کاگھونٹ پی لوں گا لیکن میری مخلصانہ استدعا ہے کہ اس آزمائش سے پہلوتہی کی جائے۔اے کاش کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں مسلمان بھی اسے دیکھ سکتے تو ہرگز قرآنِ حکیم کے متعلق اس دعوے میں قطعاً کسی شک وشبہے کی گنجائش نہ پاتے۔مان لیاکہ یہ انسانیت اپنے اعمال کی بنا پرایٹمی جہنم کی مستحق ہے۔ مان لیا کہ یہ ایٹمی جہنم ایک قدرتی عمل کاایک منطقی نتیجہ ہے اور یہ مان لیاکہ عادو ثمود کی طرح اللہ تعالیٰ خود کوئی آسمانی یاقدرتی عذاب اس انسانیت پر نازل نہیں کر رہا بلکہ یہ ایٹمی جہنم خوداس انسانیت کے اپنے ہاتھ کی پیداوار ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اس مخلوق کا خالق ہے اور وہ رحیم و کریم ہے۔اسے اپنی مخلوق کے اس طرح تباہ وبربادہونے پر کوئی خوشی نہیں ہو سکتی اور یقین سے کہا جا سکتاہے کہ کوئی بھی کوشش  کسی بھی جانب سے اگرخداکی مخلوق کواس ایٹمی جہنم سے نجات دلانے کے لئے کی جائے تو اس مخلوق کا حقیقی خالق اسے نظرِاستحسان سے دیکھے گا۔ اب اس منطق کی روشنی میں آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ اللہ کے ہاں کس کی سعی پسندیدگی سے د یکھی جائے گی۔ان کی جو خوداس ایٹمی جہنم میں گرنے کے لئے کوشاں ہیں اور دوسروں کوبھی اپنے ساتھ لئے جا رہے ہیں یا اس کی جوصمیم ِقلب سے اس دنیاکو ایٹمی تباہی سے بچانے کی سعی میں لگا ہے یقین جانیئے اور ٹھیک مانیئے کہ اس ایٹمی جہنم سے بچاؤ کی کسی امید میں مبتلا ہونا خواہ وہ اس امیدسائنس کی صلاحیت سے وابستہ ہو خواہ کسی بھی دوسرے عامل سے منسلک ہو ایساہی ہے جیسے بغیرکسی کشتی کے اپنے آپ کوسمندر کی لہروں کے حوالے کردینا۔اس ایٹمی جہنم سے نہ تو سائنس بچا سکتی ہے نہ کوئی اور طاقت سوائے قرآنِ حکیم کی ایٹمی پیشینگوئی کی ہدایات پر کماحقہ عمل کرنے کے۔پندرھویں صدی ہجری کی تقریبات میں اس قرآنی پیشین گوئی کی تفسیر کی اشاعت سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں۔ یہ تحفہ ہے جو مسلمان اس دنیا کو ان حالات میں پیش کر سکتے ہیں۔

(XII)۔                          عیسائیوں، ہندوؤں، بدھوں، کیمونسٹوں اور یہودیوں سے خطاب :

تم نے دیکھ لیا کہ کس طرح تمہارے فلسفیوں اور سائنس دانوں کی وہ تمام اپیلیں جوانہوں نے انسانوں کواپنی ساری لڑائیاں بھول جانے کے لئے کی ہیں ضائع ہو گئیں اور ان اپیل کرنیوالوں میں برٹرینڈ رسل اور حکیم آئن سٹائن جیسی شخصیتیں بھی شامل تھیں مگرسب کی سب صدابہ صحرا ثابت ہو ئیں۔ انسان اپنے جھگڑے نہیں بھولے نہ ہی اس موجودہ معاشرتی ڈھانچے میں بھول سکتے ہیں کہ ان اپیل کرنے والوں کی اپیلیں غیر منطقی تھیں اور ان کا انجام لازمی وہی ہونا تھا جو ہوا۔ میں قرآنِ حکیم کی منطق پر مبنی ایک ایسی ہدایت پیش کرناچاہتا ہوں جس میں جملہ انسانیت کے جملہ دکھوں کاعلاج ہے۔ میں تمہیں یقین کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اگر آج حضرت عیسٰی علیہ السلام یاحضرت موسٰیٰ علیہ السلام یاکرشن مہاراج یامہاتمابدھ بہ نفسِ نفیس اس دنیا میں  تشریف فرماہوتے تووہ قرآنِ حکیم کی اس معجزانہ پیشین گوئی( سورۃ الھمزۃ-104) کوسینے سے لگاتے اور اس کی اشاعت اور ترویج میں اپنی پوری سعی صرف کرکے اس دنیا کو ایٹمی جہنم کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرتے اور اچھی طرح سے جان لو کہ یہ ایٹمی مسئلہ کسی ایک قوم کامسئلہ نہیں، نہ ہی اس سے نجات  دلانے کے لئے کوئی قوم تنہا کچھ کرسکتی ہے۔ یہ مسئلہ بین الاقوامی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہی اس کے متعلق کچھ کہا جا سکتا ہے۔میں تم سے صرف ایک ہی اپیل کرتا ہوں کہ قرآنِ حکیم نے جس طرح  سے اس مسئلے پرروشنی ڈالی ہے اور جس طرح سے اس کی وجوہات و عواقب کو آشکار کیا ہے اور جس طرح سے اس  سے رہائی دلانے کی ترکیبیں پیش کی ہیں۔ ان کوسمجھ لواوراس کے بعد اگر تم علم و دانش اورفہم و فراست اور فلسفہ وسائنس کی روشنی میں ان کودرست پاؤ اور ان کو ناگزیر جانو توان پرعمل پیرا ہو کراس عالمی المیے سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہو جاؤ اور یہ نہ کہو کہ کون کہتا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہتا ہے اور سلامتی ہو اس پر جو سلامتی کی راہ تلاش کرے اور اس پر جادہ پیما ہو جائے۔ بعض خود غرض اور احمق قسم کے لوگ اس امر میں تمہارے راستے میں حائل ہونے کی سعی کریں گے۔ ان کو پہچان لو۔

(XIII) ۔           سائنس دان اور فلسفی کو خطاب:

سائنس دان! اب پانی سر سے نکل چکا ہے۔ اب اس دنیا کو ایٹمی توانائی کی ٹھیک ٹھاک پوزیشن سے آگاہ کر دے اور بر ملا کہہ دے کہ ایٹمی تابکاری کی شعاؤں سے بچاؤ کی کوئی ہمہ گیر تدبیر کارگرنہیں اور انسانیت کا انجام سوائے کلّی تباہی کے کچھ اور نہیں ہوسکتا اور ایٹم بم سے بچنے کی تدبیر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سائنس دان اپنے ضمیر کے آئینے میں جھانک اور دو ٹوک فیصلہ دے اور یاد رکھ کہ تو خود بھی ان المناک نتائج سے بچ نہیں سکتا جو ایٹمی توانائی کے نتیجے میں اس انسانیت کو بھگتنے ہیں اور ان المناک نتائج کا انکشاف خود تو نے کیاہےاور فلسفی توبھی ہوش میں آ۔ بیکنی فلسفے کی حقیقت کو سمجھ اور اس کے  انجام پر نظر کر۔

(XIV)             دنیا کے ممالک کے سربراہوں کو یاد دہانی:

میں آپ کی توجہ آئن سٹائن کے اس خط کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جو اس نے2 اگست 1993 ء کو امریکی صدر روز ویلٹ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرانے کے لئے لکھا تھا کہ عام بموں سے ایک لاکھ گناقوت والا بم بنانے کے امکانات موجود ہیں۔ امریکی حکومت نے اس امکان کی جستجو کرنے کاارادہ کیاتھا اور اس کے ساتھ امریکی حکومت کے خزانوں کا منہ کھول دیاتھا۔ اب میں آ پ حضرات کی توجّہ ایٹم بم کو تباہ کرنے کے ایک ایسے یقینی طریقے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کا انکشاف قرآنِ حکیم نے( سورۃ الھمزۃ-104) میں کیا ہے۔ اس طریقے کی بین الاقوامی اشاعت ہی سے اس  انسانیت اور انسانیت کی جمع شدہ دولت کو بھسم ہونے سے اور دو جہانوں کے دردناک عذاب اور ایک شرمناک ایٹمی انجام سے بچایا جا سکتا ہے۔

 (XV)  ۔         ایٹمی توانائی کے مسئلے پر ریفرنڈم:

اس دنیا کے ایک ملک نے ایٹمی توانائی برائے امن کے مسئلے پر ریفرینڈم کااہتمام کیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اندھوں میں رنگ کے معاملے میں اور بہروں میں موسٰیقی کے بارے میں ریفرنڈم کرایا جائے جب عوام ایٹمی توانائی برائے امن کی باریکیوں کو سمجھتے ہی نہیں اور حکومتیں محض اپنی مجبوریوں کے باعث ایٹمی تونائی برائے امن اپنانے پر آمادہ ہیں تو ریفرنڈم کے کیا معنی؟۔

(XVI)  ۔         بیکن کا ابنائے آدم کےساتھ سلوک:

آخری لفظ یہ ہے کہ جو کچھ شیطان نے آدم سے بہشت میں کیا وہی کچھ بیکن نے ابنائے آدم کے ساتھ اس دنیا میں دہرایا۔ شیطان نے آدم سے کہا تھا کہ تمہیں اس شجرِ ممنوعہ کے کھانے سے خدا نے صرف اس لئے منع کیاہے کہ کہیں تم فرشتہ یاغیر فانی نہ ہو جاؤ۔ اس درخت کا پھل کھانے سے تم غیر فانی ہو جاؤ گے اور تمہیں ایک ایسی حکومت مل جائے گی جو لازوال ہو گی اور تم پر اس درخت کا پھل کھانے سے تمام اسرارِ باطنیہ کاانکشاف ہو جائے گا۔ بیکن نے ابنائے آدم سے کہا۔ انسان نے اخلاقی فلسفہ  محض اس لئے اپنایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو قانون کی زنجیروں میں جکڑ سکے اورنیکی اور بدی کی معرفت کے پھل کے کھانے کی وہی غلطی دہرائے جو آدم نے بہشت میں کرکے خدا کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔ بیکن نے کہا۔میں تمہیں ایسی راہ سمجھاتا ہوں۔جو درحقیقت اللہ نے آدم کو سمجھائی تھی اور جسے اپنا کر تم کو اس مادی کائنات پر تسلّط حاصل ہو جائے گا،ایک ایساتسلّط جو لازوال اور غیرفانی اور روز افزوں ہو گا اور جوکہ تمہاری پیدائش کابنیادی مقصود ہے اور جس کا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیاتھا مگر تم اخلاقی فلسفے کی جانب مائل ہو کر گمراہ ہو گئے تھے اور وہ راہ جو میں تمہیں دکھلارہا ہوں اس کو اپنانے سے اس کائنات کے تمام اسرارِ کونینیہ (سائنس کے ذریعے) تم پرمنکشف ہو جائیں گے  لیکن ہیہات کہ نتیجہ بیکن یعنی شیطانِ ثانی کے فلسفے کا وہی ہوا جو شیطانِ اوّل کے فلسفے کا ہواتھا بلکہ اس سے بھی خراب کیونکہ آدم کو تو بہشت سے خارج کیا گیا تھا  لیکن ابنائے آدم کو اب ایٹمی جہنم میں داخل کیاجارہا ہے۔”اعاذنااللہ منہا ومن سائروجوہ العذاب“ اور مسلمانوں کو جان لینا چاہیئے کہ میں بتا رہا ہوں گواہ رہیں کہ پندرھویں صدی ہجری کاپروگرام یہ نہیں ہو نا چاہیئے جو وہ اس بیکنی ترقی کے حوالے سے بنارہے ہیں۔نہیں بلکہ پندرھویں صدی ہجری کااسلامی پروگرام ہو عَلَمِ بغاوت اس دجّالی بیکنی ترقی اور کلچر کے خلاف اور اس ایٹمی جہنم کے خلاف نعرۂ تکبیر، بیکنی تہذیب مردہ باد، اسلام زندہ باد اور مسلمان کھڑے ہو جائیں۔ اس کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اور بھاگے گا یہ کلچر خوفزدہ گدھوں کی طرح۔ انشاء اللہ العزیز۔ قرآنِ حکیم زندہ باد۔ انسانیت زندہ باد۔

Khudi ka sir e nihan la illaha illallah by Nazakat Fareedi