باب نمبر 7۔ ایٹمی جہنم بجھانے والا قرآنی فارمولا
ایٹمی جہنم بجھانے والا قرآنی فارمولااور سائنس دانوں کے ردِّعمل قرآنِ حکیم کی ایٹمی عمل کی تشریح جو ایٹمی سائنس دانوں کو تصدیق کے لئے بھیجی گئی:
مورخہ 5 مئی 1980 ء کو میں نے یہ انگریزی مضمون دنیا کے پندرہ چوٹی کے ایٹمی سائنس دانوں بشمول ہائیڈروجن بم کے صانع ایڈورڈ ٹیلر کو اس شرط پر بھیجا کہ اگر وہ اس تشریح کی تصدیق کر دیں تو میں اس دنیا میں ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کو ناکارہ کرنے کا فارمولا مشتہر کر دوں گا۔ ان پندرہ سائنس دانوں کے علاوہ میں نے یہ مضمون امریکہ اور برطانیہ کے تین چوٹی کے اخباروں کو بھی بغرضِ اشاعت بھیجا۔ مضمون مندرجہ ذیل ہے۔
ترجمہ ”چاہئیے۔ کہ ہر اخبار اس مضمون کو شائع کرے اور چاہیے کہ نہایت جلدی میں قابل ایٹمی سائنس دان اس مضمون کی تصدیق جو کہ مضمون کے آخر میں لگی ہے مجھے بھیج دیں کیونکہ مہلت بہت کم رہ گئی ہے اور چاہیئے کہ خط و کتابت انگریزی میں ہو کیونکہ میرے پاس ترجمہ کرنے کا کوئی بندوبست موجود نہیں۔ تمھاری بد نصیبی اس دنیا کو اس علاج سے محروم نہ کردے۔
میں یہ مضمون بعض چوٹی کے ایٹمی سائنس دانوں کو بغرضِ تصدیق روانہ کر رہا ہوں۔ اُ ن کے رویئے سے اُ ن کی معاونت کی روح کا اندازہ ہو سکےگا۔ تصدیق کی یہ دعوت ہر ایٹمی سائنس دان کو ہے۔ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ یہ راز مجھ سے جھپٹ کر لے لیا جائے کیونکہ میرے جھونپڑے کے گرداس انسانیت کی ایٹمی تقدیر پہرہ دے رہی ہے۔ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا جائے۔میں ساٹھ سے اوپر کا انسان ہو ں، کسی بھی لمحے داعیء اجل کو لبیک کہہ سکتا ہوں اور اس طرح انسانیت کی تقدیر کی کنجی قبر میں لے جا سکتا ہوں۔
ایٹمی نیوٹر لائزر (atomic neutralizer) کا ڈیزائن:۔
قرآنِ حکیم علمِ کلُ اور عقلِِِ کلُ کا ایک بے بہا خزانہ ہے۔ اس میں خدا کی الوہیت سے لے کرحیاتِ دائمی کے حصول کے فارمولے، نظرئیے اور نسخے ہیں لیکن ایک سرخی جس پر اس دور کے انسان کی نگاہ جم کر رہ جائے۔وہ تھی حطمہ(Atomic)۔تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ حطمہ(Atomic) ہی ہےاور اس کی تشریح ایٹمی عمل(Phenomenon) ہی کی تشریح ہے اور اس کے ساتھ اس ایٹمی عمل کے نتائج یعنی ایٹمی بم اور ایٹمی تابکاری کو ناکارہ و نابود کرنے کا فارمولا بھی دیا ہوا ہے۔ اب ایٹمی بموں اور ایٹمی تابکاری کو ناکارہ و نابود کرنے والا فارمولا ایک انمول انکشاف ہے۔ میں یہ بات ویسے ہی نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں ایک لفظ بھی سائنسی ثبوت کے بغیر نہیں کہوں گا۔ اُ نیس سالہ محنتِ شاقہ اور پندرہ سو صفحات اس امر کا ثبوت مہیّا کرنے کے لئے کافی ہیں۔ یہ انکشاف میرا ذاتی انکشاف ہے۔ جو 1961 ء میں مجھ پر منکشف ہوا۔ کسی بھی دوسرے شخص کو اس کا علم نہیں۔
میری مشکل اَلبَتَّہ ہے ایٹمی سائنس کے مضمون کی پیچیدگی اور بالعموم اس مضمون میں دنیا کی لاعلمی، کیونکہ یہ مضمون صرف ایٹمی سائنس دان ہی سمجھ سکتے ہیں۔ لہٰذا ایٹمی سائنس دانوں کی تصدیق میری ضخیم تصنیف کی اشاعت کے لئے ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایٹمی عمل کی تشریح جیسی کہ میں نے قرآنِ حکیم میں پائی ہے۔ تصدیق کی درخواست کے ساتھ ایٹمی سائنس دانوں کو بھیج رہا ہوں۔ اگر یہ تشریح درست مانی گئی تو میں اپنی ضخیم تصنیف اشاعت کے لئے پیش کر دوں گااور اس کے علاوہ ایٹمی آگ کو ناکارہ و نابود کرنے کا فارمولا بھی مشتہرکردوں گا۔ چاہیئے کہ معاملے کی نوعیت کے پیشِ نظر یہ تصدیق فی الفور بھیج دی جائے۔
ایٹمی عمل کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں جو قرآنِ حکیم نے بیان کی ہیں اور یہ خصوصیات وہی خصوصیات ہیں جوایٹمی عمل کی خصوصی امتیازی خصوصیات ہیں۔
1۔ یہ کہ ایٹمی عمل اٹامک ہے۔
2۔ یہ کہ بنیادی طور پر یہ کرشر ہے توڑ پھوڑ والا عمل ہے۔
3۔ یہ کہ یہ آگ ہے۔
4۔ یہ کہ یہ ایک ایسی آگ ہے جو دلوں پر چڑھتی ہے۔
5۔ یہ کہ اس میں گھیراؤ کی خصوصی کیفیتیں ہیں۔
6۔ یہ کہ یہ اونچے اونچے ستون اٹھاتی ہے۔
7۔ اور یہ کہ یہ ایک ناقابلِ بیان ہولناک عمل ہے اور ناقابلِ بیان حد تک پیچیدہ ہے۔
بیان کی سادگی اور صفائی ملاحظہ ہو اور نیز یہ کہ یہ خصوصیات وہی ہیں جو ایٹمی عمل کو دوسرے اعمال مثلاً کیمیکل اور الیکٹریکل وغیرہ سے ممیز کرتی ہیں۔ اب ہم ان نکات کوفرداً فرداًًًً بیان کریں گے۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا”حطمہ“۔ اب صوتی مماثلت کا جائزہ لیجئے جو اس حطمہ اور سائنس دان کے ایٹوما میں موجود ہے اور اس صوتی مماثلت کے علاوہ عملی مماثلت بھی ملاحظہ ہو۔ حطمہ کے لفظی معنی قرآنِ حکیم کے مطابق کرشر کے ہیں۔ یعنی توڑنے پھوڑنے والا۔ ریزہ ریزہ کر ڈالنے والاعمل۔ ایٹم بھی اسی توڑنے کے معنوں میں مستعمل ہوتا ہے گو کہ ایٹم کے بنیادی یونانی معنی تو ہیں۔”نہ ٹوٹنے والا“۔ مگر اب تو ٹوٹ چکا ہے اَلبَتَّہ حطمہ اورایٹوما دونوں ہی بنیادی طور پر توڑ پھوڑ سے متعلق ہیں اور یقیناً ایٹمی عمل بنیادی طور پر از روئے عمل اوراز روئے امتیاز توڑ پھوڑ ہی کا عمل ہے۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا ”حطمہ“۔ یعنی ”کرشر“اور ایٹمی عمل بھی بنیادی طور پر کرشر ہے۔ توڑ پھوڑ والا عمل ہے۔ ایٹمی توانائی ایٹمی نیوکلّیس کے رابطے کو توڑنے سے پیدا ہوتی ہے اوراس لئے اسے رابطہ توانائی (Binding Energy)کا نام دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی دوسرے عمل مثلاً کیمیائی یا الیکٹریکل میں توانائی محض توڑ پھوڑ کے عمل سے نہیں پیدا ہوتی اور نہ ہی کسی دوسرے عمل میں ایٹم کےنیوکلّیس(مرکزے) کو توڑا جاتا ہےبلکہ ہردوسرے عمل یعنی کیمیاوی یاالیکٹریکل میں ایٹمی نیوکلّیس کلّیتہً سلامت رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایٹم کانیوکلّیس جب ٹوٹتا ہے تو پھر کسی بھی طریقے سے اس کو اپنی پرانی حالت میں جوڑنا ممکن نہیں۔ حالانکہ کسی بھی دوسرے عمل کے نتیجے میں رونما ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں ضائع ہو جانے والی چیز کو دوبارہ سائنتھیسز(Synthesis) کے عمل سے پیدا کیا جا سکتا ہے اور ایٹم کانیوکلّیس سلامت ہوتا ہے۔ ایٹمی عمل میں کائنات کا بنیادی پتھر یعنی ایٹم اور زندگی کی بنیادی اکائی یعنی خلیہ(Cell)دونوں ہی مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں۔ اسطرح کہ ان کو پھر پیدا کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ اس طرح ایٹمی عمل کو ایک کامل کرشر (Absolute Crusher) کہا جا سکتا ہے۔ ایٹمی تابکاری بھی اسی منوال پر عمل کرتی ہے۔ ایٹمی تابکاری کی شعاعیں بے جان مادے میں ایٹمی نیوکلّیس کو توڑ پھوڑ کر اس کی قلبِ ماہیت کردیتی ہیں اور جاندارچیزوں کے خلیوں کےنیوکلّیس کے کروموسومز (Chromosomes)کو توڑ پھوڑ کر تہ و بالا کر دیتی ہیں۔ ایٹم بم بذاتِ خود ایک تباہ کن کرشر ہے اور یہ بات کہ خود ایٹمی سائنس دان نے ایٹمی عمل کی اس کرشر والی خصوصیت کو پہچان لیا ہے۔ اس سے پایہء اثبات کو پہنچ جاتی ہے کہ جب جرمنوں نے”کانٹی نیوس سپکٹرم آف ریز(Continuous Spectrum of Rays) کے لئے ایک اصطلاح بریم سٹراھلنگ (Bremstrahlung) وضع کی تو بالعموم سائنس دانوں نے اس اصطلا ح کو تعریفی انداز میں با لخصوص تشریحی گرداناکیونکہ اس اصطلاح کے لغوی معنی ہیں ”توڑنے والی تابکاری(Breaking Radiation)نیز اس ضمن میں معروف سائنس دان روتھرفورڈ(Rutherford) کا وہ قول بھی نقل کیا جا سکتا ہے۔ جو اس نے اپنے معروف ِ زمانہ تجربے(سونے کے پتر پر الفا پارٹیکلز کی بمباری) کے بعد اپنی ڈائری میں نقل کیا اور جس میں اس نے اپنے اس تجربے کواپنی زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ قرار دیا۔ اس کے علاوہ ایٹمی فزکس کی درسی کتب میں پائی جانے والی اصطلاحوں مثلاً ”بمباری، کچل دینا ریزہ ریزہ کر دینا“ کی بھرمار اور ریڈیو بائیولوجی کی درسی کتابوں میں پائی جانے والی اصطلاحوں مثلاً ”ڈائرکٹ ایکشن، اِ ن ڈائریکٹ ایکشن،کروموسومز کی توڑ پھوڑ“ اور فقروں مثلاً ”تابکار شعاعیں خلیوں پر ہتھوڑے کیطرح پڑتی ہیں اور انہیں کچل کر رکھ دیتی ہیں“ کا وجود بھی ایٹمی عمل کی اس توڑ پھوڑ والی بنیادی خصوصیت کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔
قرآنِ حکیم نے کہا ”یہ آگ ہے‘‘۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو دلوں پر چڑھتی ہے“۔ اسی طرح ایٹمی عمل کی آگ بھی دلوں پر چڑھتی ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو ایٹمی عمل کو ہر دوسرے عمل سے ممیز کرتی ہے کیونکہ کسی بھی دوسرے عمل میں ایٹم کانیوکلّیس ملوث نہیں ہوتا اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایٹمی عمل کو محض نیوکلّیائی عمل کہنے سے ہی یہ بات پایہء اثبات کو پہنچ جاتی ہے کہ ایٹمی عمل میں آگ دلوں پر چڑھتی ہےکیونکہ ایٹمی عمل کا اصلی نام نیوکلّیائی عمل ہے۔ یعنی”نیوکلر کا عمل“ اور”نیوکلیس“ اور”دل“ ہم معنی لفظ ہیں۔ خود سائنس دان نیوکلّیس کےلئے دل کا لفظ استعمال کرتےہیں بلکہ ایٹمی فزکس کی معیاری درسی کتب میں بھی دل کا لفظ نیوکلّیس کے لئے استعمال ہوتاہے۔ بے شمار مثالوں سے ہم صرف دو پر اکتفا کریں گے۔
ا۔ ”ہر سریع ذرہ ایک منفرد ایٹم کے بالخصوص دل یعنی تابکار مادے کےنیوکلّیس سے اُ ٹھتا ہے“۔ حوالہ فزکس، فزیکل سائنس سٹڈی کمیٹی، دوسرا ایڈیشن، ڈی سی ہیتھ اینڈ کمپنی لیکنسٹن، مساچوشز جولائی 1965 ء صفحہ130۔
ب۔ ”ایک تابکارنیوکلّیس کی زندگی میں نیوکلرائی دل کی کتنی ضربات ہوں گی جو سیکنڈ کا اربواں حصہ قائم رہتا ہے“۔ حوالہ محولہ بالا صفحہ 21 مختصر سوالات۔
ایٹمی آگ اس طرح سے ایک آگ ہے جو دلوں پر چڑھتی ہے۔ ایٹم بم کی ہیٹ فلیش (پہلا تابناک شعلہ(Heat Flash) اور ایٹمی تابکار شعاعیں بھی اسی منوال پر عمل پیرا ہیں۔ اوّل الذکر جاندار کو دل پر صدمہ لگا کر موت سے ہمکنارکرتا ہے جبکہ موخرالذکر بے جان مادے میں ایٹم کےنیوکلّیس پر حملہ آور ہو کر اوراسے درہم برہم کرکے اس کی ہیئتِ ترکیبی بدل دیتی ہیں اور جانداروں میں وہ خلیے کےنیوکلّیس پرحملہ آور ہو کر اس کے کروموسومز کو تہس نہس کر دیتی ہیں۔ تھرمونیوکلر کی اصطلاح اس”دل پر چڑھنے کے عمل“ کو واضح ترین انداز میں پیش کرتی ہے کیونکہ تھرمو کے معنے ہیں۔”گرمی“ اور نیوکلر کے معنی ہیں ”جونیوکلّیس سے متعلق ہو“ اورنیوکلّیس بمعنی ”دل“ ہےتو گویا یہ گرمی ہے یا آگ ہے جو دل سے متعلق ہے اور تھرمو نیوکلر عمل اس دل پر چڑھنے والی حقیقت کو واضح ترین صورت میں پیش کرتا ہے۔ اس عمل میں گرمی یا آگ اندرونی فژن بم سے پیدا کی جاتی ہے اور پھر اسے باہر والے خول کے فیوزائل مادے کے ایٹموں کے نیوکلّیائی یعنی دلوں پر ڈالا جا تا ہے۔ ان حقائق کے علاوہ تابکاری شعاعیں بدن میں دل پر اورہر وہ شے جو دل سے متعلق ہے۔اس پر بدن کے دوسرے اجزا کے مقابلے میں خصوصی توجہ مبذول کرتی نظرآتی ہیں۔ ہڈیوں کاگودا اورخون پیدا کرنے والے جملہ اعضا تابکاری کا اثر دماغ اعصاب اور عضلات کے مقابلے میں زیادہ قبول کرتے ہیں۔ ہڈی کے گودے اور خون بنانے والے اعضا کا خونی رشتہ جو دل سے ہے وہ معلوم ہے پھر تمام ایک سے زیادہ خلیوں والے نظام (Multicellular Organism) ایک خلیے والے نظاموں (Unicellular Organisms) سے ایک خلیے والے نظاموں سے ہر حال میں تابکاری سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اب معلوم ہے کہ اوّل الذکر کے دورانِ خون اورتنفس کے نظام موخرالذکر کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہوتے ہیں اور وہ خونی رشتہ جو دورانِ خون اور نظامِ تنفس کو دل سے ہے وہ بھی معلوم پھر آکسیجن کی غیر موجودگی میں تابکاری کا اثر کم ہوجاتا ہے اور وہ تعلق جو آکسیجن کا دل سے خون کے واسطے سے ہے وہ بھی معلوم ہے۔
قرآنِ حکیم نے کہا۔”یہ ایک آگ ہے جس میں گھیراؤ کرنے کی خصوصیت ہے“اور یہی خصوصیت ایٹمی عمل کی آگ میں ہے۔ ایٹمی دھماکے کی الٹی دیگ جیسی شکل اور ایٹمی دھماکوں کی تابکاری کے مقامی اور روئے زمین کو ڈھانپنے والے غلاف اور ہڈیوں میں بیٹھنے والی تابکاری کی ضد اور کینسروں کا تابکاری کے حملے کے چھ سے تیس برس کے بعد نمودار ہونا اور خلیے پر تابکاری شعاع کا حملہ استراحتٰی مرحلے (Resting Stage) میں ہونا مگر اثرات کا انا کے مرحلے (Ana Phase) میں نمودار ہونا اور فقط کسی ایک عضو پر تابکاری کے حملے کے باوجود سارے جسم میں تابکاری کے اثرات کا پیدا ہو جانا اور تابکاری کی قاتل مقدار سے تابکار شدہ ایسے مینڈکوں کا جنہیں نقطہء انجماد کے قریب قریب سردی میں رکھا جائے۔ بجائے تین سے چھ ہفتے کی معینہ مدت میں مر جانے کے کئی مہینوں تک بقید حیات رہنا اور گرمی پہنچانے کی صورت میں فی الفور تابکاری اثرات کا نمودارہو جانا اور پھر ان مینڈکوں کا تین سے چھ ہفتہ کی معینہ مدت میں مرجانا اور الیگزنڈر ہیڈو کا یہ خیال کہ ہو سکتا ہے کہ کینسر پیدا کرنے والی اشیاء کا کینسر پید ا کرنے والا اثر نمو کے عمومی عمل میں طویل المیعاد مداخلت ہو اور تابکاری کا وہ گھیرا ؤجووہ اپنے طویل المیعاد جنسی اثرات کے سبب انسانیت کی آنے والی نسلوں تک کرتی ہے اور وہ گھیراؤ جو وہ زندگی کو فنا کردینے کے بعد لاکھوں سالوں تک تابکاری مادوں کے بکھر جانے کی وجہ سے اس زمین کا کرتی ہے۔ چند ایسے مشاہدات ہیں جو بلاشبہ تابکاری کے گھیراؤ کرنے والی صفت کا ثبوت مہیّا کرتے ہیں۔
قرآنِ حکیم نے کہا۔”اونچے اونچے ستون“ اب ایٹمی بم کے ساتھ اونچے ستون کا جو رابطہ واضح طور پر نظرآتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر نظرِ غائر سے دیکھا جائےتوتابکاری کی دنیا ستونوں کی دنیا نظر آتی ہے۔ الفا پارٹیکل کی چار سینٹی میٹر کی اٹھان کو اگر الفا پارٹیکل کے قطر کے مقابلے میں دیکھا جائے تو اس کی یہ چار سینٹی میٹر کی اٹھان ایک اونچا ستون نظر آئے گی۔ اگر ایک فٹ بال اپنے قطر کے ساتھ اسی نسبت سے اوپر اٹھے تو وہ آسمانوں کی بلندیوں میں گم ہو جائے گا۔ خلا سے آنے والی تابکاری شعاعیں جو بوچھاڑ کی صورت میں زمین پر گرتی ہیں اگر ان کی اونچائی کا تصّور کیا جائے تو انسانی ذہن کو چکر آجائے۔
قرآنِ حکیم نے کہا۔ ”حُطَمہ(اٹامِک) ناقابلِ بیان حد تک ہولناک اور ناقابلِ بیان حد تک پیچیدہ ہے“۔ ایٹم بم کی ہولناکی کسی تشریح کی محتاج نہیں اور جہاں تک ایٹمی سائنس کے مضمون کا تعلق ہے تو اس کی مشکلات اور اس کی پیچیدگیاں محتاجِ بیان نہیں ہیں ۔اگر قرآنِ حکیم کی، کی ہوئی یہ ایٹمی عمل کی تشریح درست ہےتو از راہِ کرم ساتھ لگا ہوا تصدیق نامہ تصدیق کرکے مندرجہ ذیل پتے پر ارسال فرمادیں۔
علامہ یوسف جبریل معرفت ادارہ تصانیف جبریل مین بازار نواب آباد واہ چھاونی ضلع راوّلپنڈی پاکستان۔
تصدیق نامہ
1۔ ایٹمی عمل (Atomic Phenomenon) بنیادی طور پر ایک کرشر (فینامینن) یعنی عمل ہے۔ ایٹمی نیوکلّیس کارابطہ توڑا جاتا ہے اورنیوکلّیس ٹکڑے ٹکرے ہو جاتا ہے۔ کسی بھی دوسرے عمل فینامینن (Phenomenon) میں مثلاًََ کیمیاوی یا الیکٹریکل عمل میں ایٹمی نیوکلّیس کارابطہ (Binding) نہیں ٹوٹتا اور ایٹمی نیوکلّیس سالم رہتا ہے۔ اس طرح یہ خاصیت ایٹمی عمل کی ایک امتیازی خاصیت ہے۔
2۔ ایٹمی عمل، توانائی، حرارت اور آگ پیدا کرتا ہے مگر ڈگری اور مقدار میں مقابلۃً اس قدر زیادہ کہ کسی بھی دوسرے عمل میں اس کاتصّور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
3۔ ایٹمی عمل میں تمام تر عمل ایٹمی نیوکلّیس کے اندر ہی منحصر ہوتا ہے۔نیوکلّیس اور دل کے الفاظ ایٹمی فزکس میں ایک ہی معنوں میں مستعمل ہیں۔ اس طرح یہ ایٹمی آگ کی یہ تعریف کہ یہ دلوں پر چڑھتی ہے۔ ان معنوں میں لی جا سکتی ہے کہ ایٹمی عمل ایٹمی نیوکلّیس کے اندر وقوع پذیر ہوتا ہے اور یہ تعریف ایٹمی عمل کی آگ پر منطبق ہو سکتی ہے اور یہ کہ یہ نیوکلّیائی خاصیت نیوکلّیائی عمل کی ایک امتیازی خاصیت ہےاور کسی بھی دوسرے عمل کیمیاوی یا الیکٹریکل میں نہیں پائی جاتی۔
4۔ گھیراؤ کرنے کی ایک مخصوص قسم کی خاصیت ایٹمی عمل میں دیکھی جا سکتی ہے۔
5۔ ایٹمی عمل میں ستون اٹھانے کی کیفیت اس درجہ واضح ہےکہ اسے ایٹمی عمل کی ایک منفرد خاصیت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
6۔ ایٹمی عمل (Atomic Phenomenon) کی پیچیدگی مثالی ہے اور اسی طرح اس کی ہولناکی۔
7۔ مختصراً اگر یہ کہا جائے کہ ایٹمی عمل ایک کرشر، ستون اٹھانے والا عمل ہے جس میں گھیراؤ کی خاصیت ہے اور یہ کہ یہ سارا عمل ایٹمی نیوکلّیس کے اندر وقوع پذیر ہوتاہے یا محض یہ کہ ایک گھیراؤ کی خاصیت رکھنے والی کرشر آگ ہے جو کہ دلوں پر چڑھتی ہے اور ستون اٹھاتی ہے تو ٹھیک ہے۔
تصدیق کنندہ
نام: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عہدہ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادارہ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈگریاں: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتہ: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر مناسب سمجھا جائے تو اس تصدیق کے علاوہ اس مضمون پر تبصرہ بھی لکھ کر بھیجا جا سکتا ہے۔
مکتوب الیھم اور اُن کا ردِّ عمل:
مندرجہ ذیل ایٹمی شخصیات کو میں نے مورخہ5 مئی1980 کویہ مضمون بذریعہ رجسٹری ارسال کیا۔
وہ سائنس دان اور اخبار جن کو مضمون بھیجا گیا اور ان کاردِّ عمل:۔
امریکہ :۔
(۱) نیویارک ٹائمز اے او سلز برگر229 ویسٹ سٹریٹ43 نیو یارک این وائی 10036 ۔
(۲)۔ ڈاکٹر ایڈورڈ ٹیلر (ہائیڈروجن بم کا صانع) کیلی فورنیا یونیورسٹی لارنس لور مور لیبارٹری پی او بکس ۸۰۸ لور مور کیلی فورنیا،کیلی فورنیا94550 یو ایس اے ۔
(۳) جیرالڈ فریڈرک ٹیپ، ایم ایس سی پی ایچ ڈی،6717 ٹولپ ہل ٹیریس واشنگٹن ڈی سی یو ایس اے ۔
(۴) وولف گینگ کرٹ ہرمن پینوفسکی، اے بی پی ایچ ڈی، سٹینفورڈ لائنز، ایکسلٹریٹر سنٹر، سٹینفورڈ یونیورسٹی، پی او بکس4349 سٹینفورڈ کیلف94305 یو ایس اے۔
انگلینڈ:۔
(۱)۔ سر ڈینیز ھیگ ولکنسن ،کے ٹی ڈی ایس سی پی ایچ ڈی، ڈی ایس سی ڈی ایف آر ایس یونیورسٹی آف سسیکس، فلیمر برائٹن، سسیکس بی این آئی 9 آر ایچ انگلینڈ۔
(۲) رینڈل سبسٹین پیز، ایم اے ایس سی ڈی ایف آر ایس، دی پوپلرز ویسٹ لزلی نیوبر ی بر کس ا نگلینڈ۔
(۳) آرتھرو ک، کے ٹی ا و بی ا ی ڈ ی ا یس سی پی ا یچ ڈی ایل ایل ڈی ڈی سی ایل ایف انسٹپی ایف آئی ای ای ایم آر آئی اے فیلڈ ھیڈ کاٹیج فیلڈ ھیڈ لین مائٹن روڈ واروک سی وی346 کیو ایف ا نگلینڈ۔
(۴) ڈیلی ہیرالڈ لنڈن۷ سیٹرشن سٹریٹ ڈبلیو آئی ایکس ایف ڈی انگلینڈ۔
(۵) ڈیلی گارڈین لنڈن119 فارنگٹن روڈ ای سی آئی آر 3 ای آر۔
سویڈن:۔
سٹا ٹنز کارنک ریٹ انسپکشن باکس۲۔ 106 ایس 105 52 سٹاک ھام سویڈن۔
آسٹریا:۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی کارنٹز رنگ11 پی او بکس نمبر590 اے1011 ویانا آسٹریا۔
جرمنی:۔
رابرٹ رومپے، ایک ھوف سٹراسے27 برلن کاپینک جرمن ڈیموکراٹک ری پبلک۔
فرانس:۔
جیکس پی ون معرفت کومساریاٹ اے ایل انرجی اٹامک3331 ریوڈی لا فیڈریشن پیرس15 ای فرانس۔
جاپان:۔
(۱) نوبوفوسا سائتو ڈی ایس سی5-12-9 کوشی گوئے کاماروکا جاپان248 ۔
(۲) یوکاوا ہائیڈیکی ڈی ایس سی ۶ ای زومی کاوا چو سمتھ گامو ساکی اوکو کاؤٹو جاپان۔
(۳) ساساکی یوشی ٹاکے ہاؤس آف ریپیرزنٹیٹوز جاپان۔
روس:۔
اینڈری ڈمیٹرائی ایوک کاکارور یو ایس ایس آر،اکاڈمی آف سائنس،لینن سکی پراسپیکٹ، 14 ماسکو یو ایس ایس آر۔
بھارت:۔
چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف اٹامک انرجی گورنمنٹ آف انڈیا اپولو پائر روڈ بمبئی 1۔
ذاتی طور پر متذکرہ بالا تشریح کی سائنسی درستی کے متعلق میں پہلے بھی پُر یقین تھا اور اب بھی ہوں لیکن ایٹمی سائنس کے معاملے میں اس دنیا کے عوام الناس کی لاعلمی کے پیشِ نظر میں نے سائنس دان سے تصدیق چاہی اور یہ سوال کہ کیوں میں نے اس دنیا کے سب سے چوٹی کے سائنس دانوں ہی کا چنا ؤکیا تو اس کا جواب یہ ہےکہ متذکرہ تشریح کی محیرالعقول عجبیت اور مضمون کی انتہائی پیچیدگی کے سبب کوئی بھی دوسرے درجے کا ایٹمی سائنس دان اس تشریح کوسمجھتے ہوئے اور تسلیم کرتے ہوئے بھی شائید اس کی تصدیق کی جرأت نہ کر سکے اگرچہ میں نے یہ مضمون ان سائنس دانوں کو نہایت ہی خلوصِ نیت اور نیک ارادوں اور بڑی تمناؤں سے بھیجا تھا مگر اس کا ردِّ عمل مندرجہ ذیل ہے۔
(۱)۔ لنڈن کے اخبار گارڈین نے مندرجہ ذیل ریمارک کے ساتھ میرا مضمون فی الفور واپس کر دیا۔ ”آپ نے جو ایڈیٹر کو اپنی کانٹری بیوشن دیکھنے کی اجازت دی ہے۔سو اس کے لئے ایڈیٹر آپ کا مشکور ہے مگر متاسف ہے کہ وہ اس کا استعمال نہیں کر سکتا“۔
(۲)۔ ڈاکٹر آر ایس پیز۔ڈائریکٹر گل ھم لیبارٹری (یونائیٹڈکنگڈم اٹامک انرجی اتھارٹی)کا خط مجھے13 مئی 1980ء کو ملا۔جس میں لکھا تھا۔ ”آپ نے جو ایٹمی توانائی کے متعلق نوٹ بھیجا ہے۔اس کا شکریہ“۔
(۳)۔20 اگست1980 ء کو مجھے سویڈش نیوکلر پاور انسپیکٹوریٹ سے بن نارٹ گل ھم کے دستخطوں سے مندرجہ خط ملا۔ ”یہ مختصر سا خط میں صرف آپ کو یہ بتانے کے لئے لکھ رہا ہوں کہ ہم نے آپ کا مضمون بعنوان” ایٹمی بموں اور ایٹمی تابکاری کے نیوٹرلائزر کا ڈیزائن“ وصول کر لیا ہے“۔
(۴)۔ شائر پی پیٹی۔ (ڈاکٹر ایڈورڈ ٹیلر ہائیڈ روجن بم کے صانع کی سیکرٹر ی) کا29 جولائی1980 ء کا لکھا ہوا خط مجھے5 اگست 1980 ء کو ملا۔ لکھا تھا۔ ”آپ کے مورخہ3 مئی 1980 ء کے خط کی وصولی کی اطلاع میں دیر ہو جانے کے لئے میری معذرت قبول کیجئے۔ ڈاکٹر ٹیلر گذشتہ کئی مہینوں سے ایک لمبے سفر پر ہیں اور اس سال کا اکثر حصہ وہ سفر میں ہی گذاریں گے۔ اس امر کے پیشِ نظر میں تمھارا خط تمھیں واپس کر رہی ہوں۔ شائید تم اسے کسی اور کی طرف بھیجنا چاہو“۔
بقایا مکتوب الیھم نے خاموشی اختیار کر لی۔ میرے لئے اس تاثر کا جو میرے خط نے ان کے ذہن پر کیا ہو گا اندازہ کرنا مشکل ہے اَلبَتَّہ ایک بات جو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں وہ ہے ایٹمی عمل کی نیوٹرلائیزیشن کے عدمِ امکان کا خیال جو ان کے ذہن میں موجود ہے اور جہاں تک ایٹمی سائنس کا تعلق ہے تو ایٹمی عمل کی نیوٹر لائزیشن کے عدمِ امکان کاخیال ٹیکنیکی لحاظ سے درست ہے اَلبَتَّہ ایٹمی عمل کی نیوٹرلائزیشن کا ڈیزائن میں نے ضرور اس دنیا کو دینا ہے اور وہ ہے بھی بالکل سائنسی انداز پر مبنی اور یہ کہ اس ڈیزائن کی بنیادی تھیوری قرآنِ حکیم نے پیش کی ہے۔ ہاں اس قدر یاد رہے کہ فقط یہی ایک طریقہ ہے جس سے یہ دنیا ایٹمی بموں اور ایٹمی تابکاری کی تباہی سے بچ سکتی ہے۔ کوئی دوسرا طریقہ ممکن نہیں۔
آپ نے میرے مخاطب سائنس دانوں کے نام پڑھ لئے ہیں۔ ماشاء اللہ یہی سائنسی دنیا کی کریم ہے اور پھر اس خفیف ردِّ عمل کا اندازہ کیجئےجو،ان حضرات کی جانب سے ظاہر کیا گیا ہے۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ ایسے اہم موضوع پر یہ لوگ زبردست دلچسپی کا مظاہرہ کرتے مگر ایسا نہیں ہوا۔ ایسا کیوں نہیں ہوا۔ اُ س کے بے شمار اسباب و عوامل ہیں مگر میں کچھ نہیں کہوں گا۔ امرِ غالب یہ ہے کہ دنیا والے ان سائنس دانوں کی عدمِ دلچسپی کو مضمون کی ناکارگی اور فضولیت پر محمول کریں گے اَلبَتَّہ جہاں تک ان سائنس دانوں کا تعلق ہے تو ان کی عدم ِدلچسپی کا ایک سبب یہ ہو گاکہ کسی سائنس دان کے لئے یہ باور کرنا محال ہےکہ ایٹمی عمل کی نیوٹرلائزیشن کسی طور بھی ممکن ہے لیکن دنیا والوں کا یہ باور کر لینا کہ ان سائنس دانوں کی اس مضمون کے معاملے میں عدمِِِ دلچسپی کا سبب صرف اس مضمون کی ناکارگی اور فضولیت ہی ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے ہے کہ سائنس دان کا تصّور ان کے ذہن میں میری گمنامی کے سبب بہت اونچا ہے۔ نہیں بلکہ اگر متذکرہ مضمون اس دنیا میں شائع بھی ہو جائے تو بھی اس دنیا والوں کا عندیہ وہی رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ اس دنیا کا ہر شخص سوائے ایٹمی سائنس دان کے اور بڑے سے بڑا غیر سائنسی فاضل، پروفیسر، فلسفی اور عالم بالعموم ایٹمی سائنس کے معاملے میں کلّیتہً لاعلم ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایٹمی سائنس دانوں میں بھی بہت سے ایسے نہیں مل سکیں گے جو اس مضمون سے کماحقہ آگہی کے مدعی ہوں حالانکہ ایٹمی سائنس اپنی مثالی پیچیدگیوں اور مشکلوں کے باوجود انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہےاَلبَتَّہ آگے اندھیرا ہے تاہم ان سب عوامل کے باوجود جو ذی علم بھی اس متذکرہ مضمون کو پڑھ پائے گا۔ وہ ہرگز اس میں ناکارگی یا فضولیت کا کوئی بھی پہلو ہرگز محسوس نہیں کر سکے گا اور جان لے گا کہ سائنس دان کی عدمِ توجہی کا سبب ہرگز یہ عوامل نہیں ہو سکتے اور ہر ایٹمی سائنسدان کے لئے اس مضمون کو پڑھ لینے کے بعد اس امر کو تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گاکہ ایٹمی عمل(Atomic Phenomenon)کی یہ تشریح آج تک سامنے آنے والی سب تشریحوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مختصر اور جامع سب سے زیادہ حقیقی اور اس کے باوجود عجیب و غریب۔ سب سے زیادہ سادہ اور اس کے باوجود اس قدر عمیق، اس قدر دلچسپ اور اتنی فکر انگیز ہے کہ اس کی معجزانہ ہیئت سے خود سائنس دان کے لئے انکار کی گنجائش نہیں اور اس مقام پر مجھے آئن سٹائن یاد آتا ہے اور اس کی موت مجھے ذاتی نقصان نظر آتی ہے۔ وہ اس قابل تھا کہ میرے اس مضمون کی حقیقت کو ناقدانہ نقطہء نظر سے دیکھتا اور جانچتا اور جانچ سکتا تھا بشرطیکہ اس انسانیت کا ایٹمی جہنم میں جل کر بھسم ہو جانا مقدر نہ ہو چکا ہوتا۔
اس معاملے میں مجھے سائنس دان سے ہمدردی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کسی بھی سائنس دان کے لئے یہ باور کرنا کہ ایٹمی عمل کی نیوٹرلائزیشن کا کوئی امکانی پہلوموجود ہو سکتا ہے۔ ایک کٹھن بات ہے اور اس کے لئے کسی بھی ایسے دعوے کو شک و شبہ سے دیکھنا ایک لازمی امر ہےتاہم کم از کم مجھے ان سائنسدانوں سے یہ توقع تو تھی کہ وہ محض فکشن اور ان کے اپنے مضمون کی خالصتہً سائنسی تحقیق میں جو فرق ہے اسے جانچ لیں گے اور مجھے یہ بھی توقع تھی کہ کم از کم وہ لوگ میرے اس خط کی وصولی کی اطلاع یا اس کا جواب تو ضرور ہی دیں گے مگر ھیہات چہ آرزو ہاست کہ خاک شدہ۔اگر انہوں نے یہ باور کر لیا کہ میں نے فقط لاف زنی کی ہے تو لاف زنی میں نے نہیں کی۔ کم از کم انکو مضمون کی ہیئت سے اندازہ ہو جانا چاہیئے تھا۔ ذیل میں ایٹمی عمل کی نیوٹرلائیزیشن کا فارمولا درج کیا جا تا ہے۔ اور اس کا سہرا قرآنِ حکیم کے سر ہے۔
SWE X MC2 = (NH) TD (NH) E
CPH
ن د خx ح ر ۲ ß (اج) ع ßمß )اج(ل
س ف ک
اب اگر یہ فارمولا اس قسم کا نہ ہو جس کا کہ سائنس دان توقع کریں تو جاننا چاہیئے کہ اس کے علاوہ کوئی فارمولا ممکن ہی نہیں اور یہی ایک طریقہ ایٹمی آگ کے شعلوں اور ایٹمی تابکاری کی شعاعوں سے بچنے کا ہے۔ یہ بات مجھے لیبنیزLeibniz کے اس قول کی یاد دلاتی ہے جس میں ا س نے کہا تھا کہ یہ دنیا ممکنہ حد تک بہترین ہے اور لیبنز کے اس قول کو والٹیر نے تضحیک کا ہدف بنایا تھاتاہم اب اس دنیا کے لئے تمسخر و تضحیک کا کوئی موقع نہیں بلکہ اب تو موسم ماتم کا ہے۔ انسانیت آج ایٹمی جہنم کے عین سامنے کھڑی ہےاور والٹیرین بذلہ سنجیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
قرآنِ حکیم کی ایٹمی عمل کی یہ بے نظیر تشریح میرا ذاتی انکشاف ہے۔ بلاشبہہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سےنیز ایٹمی عمل کی نیوٹرلائزیشن کا یہ فارمولا بھی میں نے قرآنِ حکیم کے بیان ہی سے تیار کیا ہےلیکن انسانیت کی بدنصیبی یا میری بدنصیبی یا قدرتِ کاملہ کی کوئی خاص حکمت عملی کہ سائنس دانوں کو خط لکھنے کے بعد جب کہ میری ساری متعلقہ تصانیف تقریباً 1982ء تک مکمل ہو چکی تھیں۔ میں ایسا شدید بیمار ہوا کہ بالکل معطل ہو کر رہ گیا۔ اب آگے ایٹمی عمل کی تشریح ملاحظہ کیجئے ۔
ایٹمی عمل (Atomic Phenomenon) کی قرآنی تشریح:
اگر آپ ایٹمی سائنس دان ہیں یا فلسفی ہیں تو از راہِ کرم مندرجہ بالا قرآنی عبارت میں غور فرما کر ذرا اپنی طرف سے یہ اندازہ کرنے کی سعی فرمائیں کہ سورۃ الھمزۃ کی اس چھوٹی سی اور نہایت ہی سلیس عبارت میں کس قدر ایٹمی فینامینن کی تشریح و تعبیر موجود ہے اور کس قدر فرانسس بیکن کا جدید اٹامزم کافلسفہ۔میر ا دعویٰٰ ہے کہ ان چند لفظوں میں قرآنِ حکیم نے اس جدید اٹامزم کے دور کا سارا فلسفہ اور اس جدید ایٹمی سائنس کی ساری ہی تشریح و تعبیر کر دی ہے اور ثبوت میرے وہ تقریباً تین ہزار صفحے ہیں انگریزی زبان میں جن میں مَیں نے اس سور ۃالھمزہ کی تشریح کی ہے۔ بہر حال ملاحظہ ہوکہ یہ خصوصیات جو قرآنِ حکیم نے ایٹمی عمل (Atomic Phenomenon) کی بیان کی ہیں وہ بنیادی طور پر وہی خصوصیات ہیں جو ایٹمی عمل کو ہر دوسرے عمل مثلاً کیمیاوی یا برقی سے ممیز کرتی ہیں اور لازماًً جس طرح جدید بیکنی فلسفے اور قدیم یونانی اٹامزم کا چودہ صدیاں قبل بیان کرنا ایک معجزہ ہے اسی طرح ایٹمی فینامینن کی خصوصیات کا چودہ سو سال پہلے یہ بیان ایک معجزہ تھا تو آج بھی ایک معجزہ ہے۔ کوئی بھی سائنس دان یا فلسفی اس سے بہتر تشریح وتعبیر و تفسیر نہیں کر سکتا اور نہ کر سکا ہے نہ ہی کرسکے گا۔ کاش کہ آج آئن سٹائن بقیدِ حیات ہوتا تو زندگی کا محیر العقول ترین انکشاف دیکھنے کی سعادت حاصل کرتا۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ (۱) حُطَمہ(روندنے والا۔ والی)۔ حُطَمَہ کے لفظی معنی ہیں کرشّر(Crusher) اس کی جذر ہے حطم جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ریزہ ریزہ کر دینا۔ حُطَمہ کے معنی کان میں پڑتے ہی ہرسائنس دان کا ذہن لازماً جرمن اصطلاح برم سٹراھلنگ(Bremstrahlung) کی جانب جائے گا۔ یہ ایک اصطلاح ہے جوجرمنوں نے سپیکٹرم آف ریز (Spectrum of Rays) کے لئے وضع کی اور سائنسی برادری سے بہت داد پائی کیونکہ اس اصطلاح کو تشریحی (Descriptive) گردانا گیا کیونکہ اس کے لغوی معنی ہیں ”توڑ پھوڑ والی ریڈی ایشن“ یعنی (Breaking Radiation) مقصد یہ ہے کہ سائنس دان خود ایٹمی عمل کی اس توڑ پھوڑ والی خاصیت سے کماحقہ آگاہ تھا۔ ایٹمی عمل میں ایٹم کے اندر ہونے والا عمل توڑ پھوڑ اور شکست و ریخت کا عمل ہے۔ یہی نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایٹمی توانائی ہی ایٹمی نیوکلّیس کے رابطے (Binding) کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایٹمی توانائی دراصل ایٹم کی رابطہ توانائی یعنی(Binding Energy) کا دوسرا نام ہے۔ ایٹم کا رابطہ وہ ہے جس نے ایٹم کےنیوکلّیس کے مختلف اجزا کو باہم دیگرپیوست کر رکھا ہے۔ جب یہ رابطہ ٹوٹتا ہے تو ایٹمی نیوکلّیس کے اجزا ٹوٹ جاتے ہیں۔ بکھر جاتے ہیں اور ساتھ ہی اس وقت توانائی کا اخراج وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یاد رکھیئے کہ کوئی بھی کسی دوسری قسم کی توانائی، کیمیاوی یابرقی اس طریقے پر پیدا نہیں ہوتی۔ یہ صفت فقط ایٹمی توانائی سے ہی مخصوص ہےاور اسے ہر دوسرے عمل (Phenomenon) سے ممیز کرتی ہے۔ پھر ایٹمی عمل کی توڑ پھوڑ ایک خاص قسم اور ایک خاص حد تک عمل پیرا ہوتی ہے اور اس حد تک پہنچتی ہے جہاں کوئی دوسری قسم کا عمل نہیں پہنچ سکتا اور اسطرح ایٹمی عمل (Atomic Phenomenon) کو مکمل یعنی (Absolute) کرشر کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ایٹمی عمل میں توڑ پھوڑ ایٹمی مرکزے(Nucleus) تک پہنچتی ہے اور ایٹمی نیوکلّیس جب ایک بار ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ تو دوسرے کسی عمل کی توڑ پھوڑ کی مانند اسے دوبارہ اپنی اصلی حالت میں جوڑ دینا ناممکن ہےاور پھر ایٹمی عمل کی زد میں اس کائنات کا بنیادی پتھر یعنی ایٹم (Atom) اور زندگی کی بنیادی اکائی یعنی خلیہ(Cell) دونوں ہیں۔ جہاں ایک طرف ایٹم کانیوکلّیس تہس نہس ہوجاتا ہے وہاں خلیے کانیوکلّیس بھی ٹوٹ پھوٹ کر ہلاک ہوجاتا ہے۔ باقی کسی بھی عمل میں ایٹم یا خلیے کےنیوکلّیس کو چھوا تک نہیں جاتا۔اس کے علاوہ ایٹمی تابکار شعاعیں بھی یہی راستہ اختیار کرتی ہیں۔ بے جان مادے کے ایٹموں کےنیوکلّیس پر حملہ آور ہو کر اورنیوکلّیس کی ہیئت میں تغیر و تبدل برپا کرکے وہ سرے سے ایٹم کی ہیئتِ ترکیبی ہی کو بدل کر رکھ دیتی ہیں اور جاندار مادے میں وہ خلیے کےنیوکلّیس پر حملہ آور ہوکر اس کے کروموسومز (Chromosomes) کو تہہ و بالا کرکے خلیے کو ہلاک کردیتی ہیں اور اس کے علاوہ ایٹمی بم کے دھماکے کے تینوں حصے ہی (Crusher) کرشر ہیں۔ایٹم بم کی ہیٹ فلیش(Heat Flash) جانداروں کے دل پر ضرب لگا کر صدمے کے ذریعے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ ایٹم بم کا بلاسٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مضبوط ترین بلڈنگوں کو کرش کرکے اور ان کو غبار بنا کر خلا میں اچھال دیتا ہے اور ایٹمی بم سے پیدا ہونے والی تابکار شعاعیں حسبِ معمول بے جان اور جاندار مادوں میں ایٹموں اور خلیوں کوکچل کر رکھ دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ ایٹمی فزکس کی کسی معیاری درسی کتاب کو اٹھا کر دیکھیں تو وہ Bombarding(بمباری)Crushing (کچل دینا)Smashing (تہ و بالا کر ڈالنا)Hitting (ضرب لگانا) Breaking (توڑ دینا) وغیرہ جیسی اصطلاحوں سے مملو نظر آئے گی۔ اسی طرح ریڈیو بائیولوجی کی کوئی درسی کتاب کو پڑھ جائیں تو اس میں Target Concept(ٹارگٹی نظریہ) (ڈائریکٹ ایکشن)Direct Action انڈائریکٹ ایکشن Indirect Action(بالواسطہ ایکشن Snapping The Cable With A Bullet ((ڈوری کو گولی سے اڑا دینا) (کروموسوز کو توڑ دینا) Breaking the Chromosomes )تابکار شعاعیں خلیوں پر ہتھوڑے کی طرح ضرب لگاتی ہیں اور انہیں کچل کر رکھ دیتی ہیں) Radiations Hit The Cells Like Sledge Hammer And Crush Them کی قبیل کے محاورے،اصطلاحیں، تشبیہیں اور استعارے قدم قدم پر دیکھنے کو ملیں گے۔ اس کے علاوہ لارڈ روتھر فورڈ Rutherford کا وہ بیان بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جو اس نے اپنے تاریخی تجربے (جس میں اس نے سونے کی پتری پر الفا پارٹیکلز کی بمباری کی) کے بعد اپنی ڈائری میں لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔ ”یہ اتنا ہی عجیب و غریب تھا جتنا کہ تم ایک پندرہ انچ والا گولہ کاغذ کے ایک پرزے پر چلا ؤ اور وہ گولہ پلٹ کر تمھیں آ لگے۔ یہ واقعہ میری زندگی کا عجیب ترین واقع تھا جو مجھے پیش آیا“۔
نوٹ کیجئے۔ سونے کی پتری کو روتھر فورڈ نے کاغذ کا ٹکڑا کہا اور الفا پارٹیکل کو 15 انچ کے گولے سے تشبیہ دی اور اس طرح ایٹمی عمل کی اس کرشنگ والی حقیقت جس کا کہ قرآنِ حکیم نے چودہ صدیاں قبل بیان کیا ہے۔ روتھر فورڈ نے بھانپ لی اوراپنی ڈائری میں رقم کر دی۔اس کے علاوہ قرآنِ حکیم کے حُطَمَہ یا اوتما اور سائنس دان کے اوٹما Otama میں جو صوتی اور عملی مماثلت موجود ہے اسے دیکھو اور حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاؤ۔ دونوں اصطلاحوں کی آواز ایک جیسی اور دونوں ہی ایک بنیادی عمل یعنی توڑ پھوڑ پر مبنی ہیں۔آج اگر روتھر فورڈ موجود ہوتا اور قرآنِ حکیم کی یہ تشریح سنتا تو یقیناً اُ سے اپنے متذکرہ بالا تجربے کی نسبت کہیں زیادہ حیرت ہوتی۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا۔”حُطَمَہ ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی“۔ ایٹمی عمل ایک عمل ہے آگ پیدا کرنے کا مگر یہ جو فرمایا کہ آگ ہے اللہ کی تو اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ آگ کسی گناہ کے بدلے عذاب کی صورت میں نمودار ہوئی نیز یہ کہ اس کی حدت اور اس کا حجم اور دائرہ کار اتنا شدید اور اتنا وسیع ہے کہ اسے اللہ کی آگ کہا جا سکتا ہے۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ ”حُطَمَہ ایک آگ ہے جو چڑھتی ہے دلوں پر“۔ اب یہ خصوصیت بھی ایک ایسی خصوصیت ہے۔ جو ایٹمی عمل کو ہر دوسرے عمل از قبیل کیمیاوی یا برقی سے ممیز کرتی ہے۔”واہ قرآن واہ“ اور یہ خصوصیت سوائے ایٹمی عمل کے کسی دوسرے میں موجود نہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کا یہ نکتہ محض ایٹمی عمل کے نام لینے سے ہی پایہء اثبات کو پہنچ جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ ایٹمی عمل کا اصلی نام نیوکلر عمل ہے یعنی وہ عمل جس میں نیوکلّیس ملوث ہے۔ نیوکلر اسم صفت ہےنیوکلّیس کا اور اس کے معنے ہوئے وہ جونیوکلّیس سے متعلق ہے اورنیوکلّیس کہتے ہیں مرکزے کو اورنیوکلّیس اور دل دونوں ہم معنی لفظ ہیں اور عربوں ہی نےنیوکلّیس کا ترجمہ قلب(دل) نہیں کیا۔ بلکہ خود سائنس دان نیوکلّیس کی بجائے دل کا استعمال بھی کرتے ہیں بلکہ ایٹمی فزکس کی معیاری درسی کتب میں بھی دل کونیوکلّیس کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔بے شمار مثالوں سے ہم صرف دو پر اکتفا کریں گے۔
”ہر سریع ذرہ ایک منفرد ایٹم کے بالخصوص دل یعنی تابکار مادے کےنیوکلّیس سے اٹھتا ہے“۔(حوالہ فزکس فزیکل سائنس سٹڈی کمیٹی دوسرا ایڈیشن ڈی سی ہیتھ اینڈ کو لیکسنٹن میسا چوسشزجولائی 1965 ء صفحہ 130) انگریزی عبارت یوں ہے۔
"Each fast particle comes from the break of the very heart of a single atom: the Nucleus of the Radioactive substance".
” ایک تابکارنیوکلّیس کی زندگی میں نیوکلرائی دل کی ضربات کتنی ہوں گی جو سیکنڈ کا اربواں حصہ قائم رہتا ہے“۔ (حوالہ محولہ با لا صفحہ21 مختصر سوالات)
“How many nulcear heartbeats are in the lifetime of a Radioactive nucleus which lasts only a billionth of a second ".
ایڈورڈ ٹیلر (ہائیڈروجن بم کے صانع) نے1939 ء میں ایٹم کے دل سے توانائی حاصل کرنے کے موضوع پر لیکچر دیا۔ اُ س وقت تک کامیابی کے امکانات کچھ واضح نہ تھے۔ایٹمی عملAtomic Phenomenonکا پورے کا پورا عمل ہی ایٹمی نیوکلّیس میں محدود ہوتا ہے۔ یہ بات کسی دوسرے عمل میں نہیں بلکہ دوسرے کسی بھی عمل میں ایٹمی نیوکلّیس کو چھوا تک نہیں جاتا۔ چھیڑا تک نہیں جاتا اور آخیر تک سلامت رہتا ہے۔ ایٹمی توانائی کی پیدائش خواہ وہ فژن کے طریقے پر ہو خواہ فیوژن کے قاعدے سے تمام کا تمام عمل نیوکلّیس کے اندر ہی ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ واضح اورمہتمم بالشان مظاہرہ آگ کے دل پر چڑھنے کے عمل کا تھرمونیوکلر Thermonuclear عملProcess میں ہوتا ہے۔ اس عمل کو عرفِ عام میں ہایئڈروجن بم کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں اندرونی فژن بم سے پیدا کی ہوئی حرارت (آگ) کو بیرونی خول میں موجود ہائیڈروجن کے ایٹموں کے نیوکلائی دلوں پر پھینکا جاتا ہے۔ گویا کہ آگ نیوکلّیائی(دلوں) پر چڑھ رہی ہے نیز دیکھئے یہ تھرمونیوکلر کی اصطلا ح ایٹمی آگ کی قرآنی تعریف یعنی دلوں پر چڑھنے والی آگ کا عین سائنسی ترجمہ Scientific version ہے۔ تھرمو کہتے ہیں حرارت کواور نیوکلّیر کے ساتھ مطلب ہو گانیوکلّیس سے متعلق حرارت یا دل سے متعلق آگ۔
تابکار شعاعیں بھی بعینہ اسی دل پر چڑھنے والی خصوصیت کا طبعی طور پر مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ بے جان چیزوں کے ایٹمی نیوکلّیائی پر حملہ آور ہو کراور ایٹمی نیوکلّیائی کی ابتدائی تکوینی ترتیب کو بدل کر ان ایٹموں کی قلبِ ماہیت کر دیتی ہیں۔ ایسامژدہ سونا بنانے والے کیمیا گروں کے لئے جانفزا ہوتا مگر ہیہات کہ اس طرح کسی سستی دھات کو سونے میں بدل دینے کا عمل تاحال ممکن نہیں ہوا۔ جاندار اجسام میں تابکار شعاعیں خلیوں کے نیوکلائی پر حملہ آور ہو کر ان کے کروموسومزChromosomes کو زیر و زبر کر دیتی ہیں۔
ایک غور طلب امر جو میری تحقیق کے دوران میرے سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ تابکار شعاعیں کسی بھی جاندار کے جسم میں دل اور ہر اس عضو جس کا تعلق دل سے ہو کے لئے ترجیحی کشش کا مظاہرہ کرتی ہیں مثلاً اوّلاً یہ کہ وہ زندگی کے عمل میں موجود باہمی تعاون کو اُس سطح پر متاثر کرتی ہیں جو دماغ کے کنٹرول سے ورے ہے۔ یعنی دماغ سے ورے کہیں زندگی کے دل کے قریب ہے۔ دوم یہ کہ ہڈیوں کا گودا اور باقی تمام خون پیدا کرنے والے اعضاء لازماً دماغ،اعصاب اور عضلات کے مقابلے میں تابکاری کے اثرات کو زیادہ قبول کرتے ہیں اور ہڈیوں کے گودے اور خون پیدا کرنے والے اعضاء کا جو خونی رشتہ دل سے ہے وہ بالکل واضح ہے۔ سو م یہ کہ ایک سے زیادہ خلیوں والے نظام Multicellular Organisms ہمیشہ ایک خلیے والے نظاموں Unicellular Organisms کے مقابلے میں تابکاری سے زیادہ تاثر پذیر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہو سکتی ہے کہ اوّل الذکر کا دورانِ خون کا نظام اور تنفس کا نظام موخرالذکر کے مقابلے میں زیادہ مکمل ہوتا ہے اور دورانِ خون اور تنفس کا جو خونی رشتہ دل سے ہے وہ معلوم ہے۔ یہ نظریہ میرا ذاتی ہے اور کسی دوسرے سائنس دان کے حوالے سے نہیں لکھا گیا۔ چہارم یہ کہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں تابکاری شعاعوں کا اثر کم پڑ جاتا ہے۔ آکسیجن اور دل کے درمیان جو خونی رشتہ موجود ہے وہ بھی معلوم ہے۔ پنجم یہ کہ ایٹم بم کی ہیٹ فلیشHeat Flash جانداروں کے دل پر صدمہ لگا کر ان کو ہلاک کرتی ہے۔ ایٹمی عمل اور دل کے معاملے میں انگریز شاعر ورڈزورتھ کا یہ چھوٹا سا شعر دلچسپی سے خالی نہیں۔ وہ کہتا ہے”افسوس کہ دل کی بنیادوں پر ابھرنے والے دستور کو ایک جھلملاتے ہوئے ایٹم کے سامنے معدوم کر دیا جائے“۔اس کے لفظ ہیں:۔
To let a creed built in the heart of things
Dissolve before a twinkling atomy
(EXCURSIONS)
قرآنِ حکیم نے فرمایا ” حُطَمَہ ایک آگ ہے بند کی ہوئی ان پر“۔ بلاشبہ ایٹمی عمل میں گھیرا ؤکی خصوصیات واضح انداز میں موجود ہیں۔ ایٹمی بم کے دھماکوں کی الٹی دیگ جیسی ہیئت اور ایٹمی دھماکوں کے مقامی اور ساری زمین کو ڈھانپنے والے تابکاری کے غلاف در غلاف، اور ہڈیوں میں بیٹھنے والے تابکار مادوں کی ضد اور کینسروں کا تابکاری کے حملے کے چھ سے تیس برس کے بعد نمودار ہونا اور خلیے پر تابکاری شعاع کا حملہ استراحتٰی مرحلےResting Stage میں ہونا مگر اثرات کا انا کے Ana-Phase مرحلے میں نمودار ہونا اور فقط کسی ایک عضو پر تابکاری کے حملے کے باوجود سارے جسم میں تابکاری کے اثرات کا پیدا ہو جانا اور تابکاری کی قاتل مقدار سے تابکار شدُ ہ ایسے مینڈکوں کا جنہیں نقطہء انجماد کےقریب قریب سردی میں رکھا جائے بجائے تین سے چھ ہفتے کی معینہ مدت میں مر جانے کے کئی مہینوں تک بقیدِ حیات رہنا اور گرمی پہنچانے کی صورت میں فی الفور تابکاری اثرات کا نمودارہو جانا اور پھر ان مینڈکوں کا تین سے چھ ہفتہ کی معینہ مدت میں مر جانا اور الیگزنڈر ہیڈو کا یہ خیال کہ ہو سکتا ہے کہ کینسر پیدا کرنے والی اشیاء کا کینسر پید ا کرنے والا اثر نمو کے عمومی عمل میں طویل المیعاد مداخلت ہو اور تابکاری کا وہ گھیراؤ جووہ اپنے طویل المیعاد جنسی اثرات کے سبب انسانیت کا آنے والی نسلوں تک کرتی ہےاور وہ گھیراؤ جو وہ زندگی کو فنا کردینے کے بعد لاکھوں سالوں تک تابکاری مادوں کے بکھر جانے کی وجہ سے اس زمین کا کرتی ہے۔ چند ایسے مشاہدات ہیں جو بلاشبہ تابکاری کی گھیراؤ کرنے والی صفت کاثبوت مہیّا کرتے ہیں۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا”لمبے لمبے ستونوں میں“۔ ایٹمی بم کے دھماکے سے منسلک ہونے والی امتیازی علامت یعنی لمبے ستون کے علاوہ ایٹمی عمل کا اس ضمن میں ایک اور پہلو بھی ہے۔ یعنی یہ کہ تابکاری کی دنیا کو بجا طور پر کھچے ہوئے ستونوں کے نام سے پکاراجا سکتا ہے۔الفا پارٹیکل کی چار سینٹی میٹر اونچی اٹھان کوا گر ا لفا پارٹیکل کے حجم کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یہ بلندی بھی ایک بہت اونچا ستون لگے گی۔ایک فٹ بال اگر اپنے حجم کے مقابلے میں اسی نسبت سے اوپر اٹھے تو وہ آسمانوں کی بلندیوں میں گم ہو جائے۔ اسی طرح اگر خلا سے آ نے والی تابکار شعاعوں Cosmic Rays کو دیکھا جائے تو ان کی بلندیوں کے ستونوں کے تصّور ہی سے انسانی ذہن چکرا جائے۔یہ تطبیق بھی میری اپنی ہے۔ کسی سائنسدان کا اس زاویئے سے اس حقیقت کو دیکھنا نظر سے نہیں گذرا۔
آنحضور ﷺ نے ایٹمی جہنم کی منظر کشی کی:۔
آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”اللہ تعالیٰ فرشتوں کو آگ کے ڈھکنے اور آگ کی میخیں اور آگ کے ستون دے کر بھیجے گا۔ وہ جہنمیوں کوآگ کے ڈھکنوں سے ڈھانپ دیں گے اور ان کو آگ کی میخوں سے جڑ دیں گے۔ پھر ان کے اوپر آگ کے ستون کھینچ دیں گے۔ سارا ماحول اس قدر بند ہو گاکہ نہ تو فرحت کی کوئی مقدار ہی باہر سے اندر آ سکے گی نہ ہی دکھ کی کوئی مقدار اندر سے باہر جا سکے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر اُ ن لوگوں کو فراموش کر دیگا اور اپنی رحمت سے ان کو دور کر دے گا۔ جنت کے مکین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہونا شروع کر دیں گے۔ جہنم کے مکین مدد کے لئے پکارنا بند کر دیں گے اور بات چیت ختم ہو جائے گی اورا ن کی بات چیت سانس اندر کھینچنے اور باہر نکالنے کی طرح ہوگی“۔ (تفسیرالجلالین)
اب ایٹمی بم کے دھماکے کی اس سے بہتر تصویر تصّور میں نہیں آ سکتی۔ ایٹمی بم کا دھماکا ایک الٹی دیگ کی طرح ہوتا ہے اور بد نصیب لوگوں کو اوپر سے ڈھانپ لیتا ہے۔تابکاری شعاعیں آگ کی میخیں ہیں جن سے ان بد نصیبوں کو جڑ دیا جاتا ہے اور ایٹمی بم کے دھماکے کا کھچا ہوا ستون آگ کا ستون ہوتا ہے جو اُ ن کے اوپر کھینچ دیاجاتا ہے نیز اسی مثال کی تطبیق ایٹمی توانائی برائے امن کے اثرات پر بھی ہو سکتی ہے۔ ذرا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اعاذنا اللہ منھا و من سائر وجوہ العذاب۔ایٹمی توانائی برائے امن کے معاملے میں تابکاری شعاعیں تو ہوتی ہی ہیں اور ایٹمی توانائی کے مرکز اور تابکاری کے مادے اور تابکاری شعاعیں اس ساری دنیا کو لپیٹ بھی لیں گی اور ان کو تابکار شعاعوں کی میخوں سے جڑ بھی دیں گے اور پھر تابکاری کی دنیا ستونوں کی دنیا بھی ہے اور بعض مفسرینِ کرام نے تو لمبے لمبے ستونوں سے مراد لمبے زمانوں اور بڑی بڑی زنجیروں سے بھی لی ہے۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا ”کون تجھے سمجھائے کہ حُطَمَہ کیا ہے“۔ مفسرینِ کرام نے اس سوالیہ اندازِ بیان کو حُطَمَہ کی بے پناہ اور ناقابل ِ بیان ھولناکی پر محمول کیا ہے اور یہ درست ہے۔ اب اس عارضی، دنیوی حُطَمہ(ایٹمی جہنم) کے موجود ہو جانے پر جو مشاہدات ہوئے ہیں۔ ان کی روشنی میں حُطَمَہ کی ھولناکی کے علاوہ ایٹمی سا ئنس کی بے پناہ اور ناقابل ِ بیان پیچیدگی بھی اسی ضمن میں شمار ہو سکتی ہے۔ یہی سوال کہ تجھے کون سمجھائے کہ ایٹمی سائنس کیا ہے۔ اس دور کے ایٹمی سائنس دانوں سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور لازماً اُ ن کا جواب ہو گا ”کوئی نہیں“۔
یاد رہے کہ قرآنِ حکیم نے اس ایٹمی فینامینن جسے قرآنِ حکیم میں ایٹمی جہنم کے نام سے یاد کیا گیا ہے کا منطقی استخراج جدید بیکنی اٹامزم سے کیا ہے۔ یعنی یہ کہا ہے کہ جدید بیکنی اٹامزم کی وجہ سے ایٹمی جہنم پیدا ہو گا۔ اب یہ بات کسی بھی ارسطو یا افلاطون کے بس کی بات نہیں۔ یہ دونوں حضرات اپنے زمانے میں قدیم یونانی اٹامزم کے سخت ترین مخالف تھے مگر قدیم اٹامزم سے جدید اٹامزم کا استخراج یاجدید اٹامزم سے ایٹمی فینامینن اور ایٹمی جہنم کااستخراج ان حضرات یا کسی انسان کے بس کی بات نہ تھی۔نہ ہے نہ ہو گی۔ نیز یاد رہے کہ چودہ سو برس قبل قرآنِ حکیم کی جانب سے ایٹمی فینامینن کی سائنسی تشریح ایک ایسا معجزہ ہے جس کاانکار کسی بھی سائنس دان کے بس کی بات نہیں۔ اگرچہ سائنس معجزات کی منکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے یہ قرآنِ حکیم کی معجزانہ پیشین گوئی کا انکشاف اس فقیر کے حصے میں آیا ہے اور نہ مغرب میں نہ مشرق میں کسی کو اس عظیم حقیقت کا کچھ علم ہے۔ نیز یاد رہے کہ قرآنِ حکیم کی اس تشریحی تنبیہ کے ساتھ انسانیت کی تقدیر وابستہ ہے۔اس کی حیثیت ایٹمی آگ کے اس عالم گیر طوفان میں کشتیء نوح کی سی ہے اور اس جدید بیکنی سحر کاری کے لئے عصائے موسوی کا اثر رکھتی ہے۔
جدید بیکنی اٹامزم کی قرآنی تشریح:
پانچویں صدی قبل مسیح میں ایک یونانی فلسفی ڈیموکرٹس نے اٹامزم کا فلسفہ پیش کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات چھوٹے چھوٹے ذرات کا مجموعہ ہے۔وہ خود بخود حرکت کرتے ہیں اور ان پر کوئی کنٹرول نہیں۔ یہ ذرے فنا نہیں ہونے والے ہیں۔ اس فلسفہ کا اس وقت کے تمام فلسفی مثلاً سقراط،ارسطو، افلاطون وغیرہ نے مخالفت کی اور اس فلسفہ کو لادینی کہا۔عیسائیت نے اس فلسفے کو معدوم کر دیا۔ سترھویں صدی میں فرانسس بیکن نے اس فلسفہ کو نئے انداز میں زندہ کیا جس کا مقصد راشنلزم اور مادہ پرستی کو قائم کرنا تھا اور اسی بیکنی اٹامزم کا نتیجہ ہے کہ موجودہ دور کا انسان دولت جمع کرنے اور دولت جمع کرنے کو ہی زندگی کا مقصد تصّور کرنے میں منہمک ہے اور اسی دولت جمع کرنے کے نتیجے میں ایٹمی جہنم کا شکار ہو رہا ہے۔
ایٹمی فینامینن کی قرآنی تشریح آپ نے پڑھ لی ہے اور اب جدید بیکنی اٹامزم کی قرآنی تشریح کا بیان ہو گا۔ یہ دونوں موضوع قرآنی پیشین گوئی میں اکٹھے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ”خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے، عیب چننے والے کی، جس نے مال سمیٹا اور گن گن کر رکھا۔ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا کو رہے گا اس کے ساتھ، کوئی نہیں وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی حُطَمَہ میں، اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی حُطَمَہ۔ ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی، وہ جھانک لیتی ہے دل کو ان کو ا س میں موند دیا ہے لمبے لمبے ستونوں میں“۔ (قرآنِ حکیم 104 الھمزہ ترجمہ شیخ الھند حضرت مولانا محمود الحسن علیہ الرحمت) ۔
اب یہ بیان مکمل آپ کے سامنے ہے۔ پہلے بیان ہے چند صفات کا اور پھر فرمایا۔ یہ صفات سبب بنیں گی حُطَمَہ کی آگ کا۔ اب ہم یہ ثابت کریں گے کہ متذکرہ صفات وہی ہیں جو اس جدید بیکنی اٹامزم کے کلچر کی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ عارضی دنیوی ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے ابدی حُطَمَہ کاایک مظہر ہےاور دونوں کی پیدائش کے اسباب یکساں ہیں اور اگر بعض لوگ استحقاق کے باوجود اس عارضی ایٹمی جہنم سے بچ بھی نکلے تو اگلی دنیا کے ابدی حُطمہ کی سزا سے کیسے بچ سکیں گے۔فاعتبروا یا اوّلی الابصار۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا ”ہر طعنہ دینے والا عیب جو“۔ اٹامزم کا فلسفہ خواہ یہ قدیم یونانی ہو یا جدید بیکنی ایک بنیادی مستقل اور خاص انداز کی عیب جوئی ہے خدائی دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف، بغیر خدائی دین کے اصولوں کا صریح انکار کئے قدیم یونانی اٹامزم میں ایٹموں کے بے لگام پھرنے والا نظریہ دین کی خدائی حکومت اور کائنات کے خدائی ڈیزائن کی نفی کرتا ہے نیز ایٹموں کے نا قابلِ ریخت ہونے والا نظریہ اور اس پر مبنی اس مادی کائنات کے ابدی ہونے کانظریہ قیامت کے نظرئیے کی نفی کرتاہے۔ جدید بیکنی اٹامزم میں نیچرل فلاسفی (سائنس) کے مقصود ِ زندگی ہونے اور اس کائنات کی قوتوں کی تسخیر کے عمل کے منتہائے مقصود ہونے اور فلسفہء اخلاق کے مردود ہونے کا نظریہ دینی عقیدوں کی نفی کرتا ہے۔ موجودہ دور کے معیار یعنی راشنلزم کے تنقیدی نظرئیے کو اٹامزم کے بنیادی نظریوں نے کچھ اس طرح سے متاثر کیا کہ تنقیدی عمل عیب جوئی اور نکتہ چینی کی صورت اختیار کر گیا حتٰی کہ پراپیگنڈے کے لفظ کو نئے معنی پہنا دئیے گئے جو عیب جوئی اور نکتہ چینی پر دلالت کرتے ہیں اور ان فلسفیانہ اور منطقیانہ موشگافیوں سے صرفِ نظر ہر شخص بہ نفسِ نفیس دیکھ سکتا ہے کہ آج کا معاشرہ مغرب سے لے کر مشرق تک نکتہ چینی اور عیب جوئی کا معاشرہ ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی انداز میں کسی نہ کسی چیز پر نکتہ چینی اور طعنہ زنی اور عیب جوئی میں مصروف نظر آتا ہے اور یہ خاصیت اس دور کی ایک خصوصی خاصیت ہے نیز اس دور کی نکتہ چینی کچھ ادبی رنگ لئے ہوئے ہے۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا ”جس نے سمیٹا مال اور گِن گِن کر رکھا“۔ سبحان اللہ۔اس مخصوص زر طلبی،زر اندوزی اور زر پرستی کے بیکنی دور کی اس سے بہتر کیا تعریف و تشریح ہو سکتی ہے۔ ہر شخص کو دیکھئے کہ مسلسل شب و روزاز محد تا لحد اسی دولت کے جمع کرنے میں مصروف ہے۔ یہی زر اندوزی ہی اس دور کے انسان کا منتہائے مقصود ہے اور پھر ملاحظہ فرمایئے کہ دولت کے حصول اور جمع کرنے کا یہ مسلسل، منظم،روز افزوں نظام اور لاامتناہی عمل جسے عرفِ عام میں ترقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جو گذشتہ ادوار کی انفرادی زر اندوزی سے مختلف اور درجہ و وسعت میں منفرد اور عالم گیر اور ہمہ گیر ہے۔ اگر قرآنِ حکیم کی دی ہوئی تشریح یعنی سمیٹا مال اور رکھا گِن گِن کر کے مقابلے میں دیکھا جائے توا س تعریف و تشریح کی موزونیت کو جانچنے کے لئے کسی ارسطوی یا افلاطونی یا سقراطی یابقراطی نگاہ کی حاجت نہیں۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے اور اس موضوع پر زیادہ الفاظ کا خرچ اسراف کے معنوں میں آئے گا۔ یہ دور دولت سمیٹنے اور گِن گِن کر رکھنے کا دور ہے۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ ”خیال کرتا ہے کہ اُ س کا مال سدا کو رہے گا اُ س کے ساتھ“ مفسرینِ کرام نے اس ضمن میں کہا ہےکہ وہ دنیوی املاک اور مکان اور باغ وغیرہ کے اہتمام میں اس درجہ مصروف رہتا ہے گویا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اُ س نے ہمیشہ ہی اس دنیا میں رہنا ہے۔اب یہ بتانے کے لئے کہ اس دور کا ہر شخص جتنا اہتمام اس دنیا میں دنیوی کاروبار اور عمارات اور کارخانہ جات وغیرہ کے معاملے میں کر رہا ہے اُسے دیکھنے کے لئے کسی مافوق الفطرت بصارت کی ضرورت نہیں لیکن ایک اوربہت ہی بڑا نکتہ جو اس ضمن میں سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس دور کا ہر فرد یہ سمجھتا ہےکہ یہ موجودہ ترقی اسی طریقے سے روز افزوں ترقی کرتی ہوئی ابدالآباد تک چلی جائے گی۔کسی کو بھی اس ترقی کے فنا پذیر ہو جانے یا اس کے غیر فطرتی ہونے کا ذرہ بھر بھی شک نہیں اور یہی کچھ قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ یعنی وہ سمجھتا ہے کہ اس کی دولت اسے زندہ جاوید کر دے گی۔ اس سے بہتر تعریف و تشریح اس دور کے اس خصوصی نظریئے کی تصّور میں نہیں آ سکتی مگر افسوس کہ یہ اس دور کے بندوں کی خام خیالی ہے کیونکہ یہ جدید ترقی جیسی کہ یہ ہے یہ غیر فطرتی ہے اور اس کا زوال اور اس کی فنا بے حد یقینی ہے اور قرآنِ حکیم نے اس دور کے بندوں کی اس خام خیالی کو واشگاف الفاظ میں آشکار کر دیا ہے۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔
قرآنِ حکیم نے فرمایا ”ایسا ہرگز نہیں بلکہ اُ سے پھینک دیا جائے گا روندنے والی حُطَمَہ میں“۔ یہ ہے الٰہی ذہن کا جلجلہ جب کہ ہر انسانی ذہن اس امید میں ہے کہ یہ جدید بیکنی ترقی ہمیشہ کے لئے اسی منوال پر بڑھتی رہے گی۔ قرآنِ حکیم نے اعلان کر دیا۔ ہرگز نہیں بلکہ اس بیکنی ترقی کے پیروکار ایٹمی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے اور یہ بات قرآنِ حکیم نے ایسے ہی نہیں کہہ دی بلکہ یہ نتیجہ ہے ایک نہایت اور پختہ منطقی سائنسی استدلال کا۔ ایٹمی توانائی اور ایٹمی جہنم اور ایٹمی فینامینن ایک مخصوص روش کا ایک مخصوص نتیجہ ہے۔ گو کہ اس کو پہلے سے محسوس کر لینا کسی بھی انسانی دماغ کے بس کی بات نہ تھی۔ آج ساری بیکنی تاریخ اور جدید سائنس اور جدید ترقی کی ساری راہ ہمارے سامنے ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اور کن کن مرحلوں سے اور کیونکر یہ سائنس اور یہ ترقی بالآخر ایٹمی جہنم پر منتج ہوئی ہےبعینہ اسی طرح جس طرح کہ بارود کے تین عنصر مل کر بارود پیدا کردیتے ہیں۔یہ قرآنِ حکیم کے بیان کئے ہوئے تین عنصر یعنی نکتہ چینی، زر اندوزی اور اس زر اندوزی کی ابدیت میں یقین بالآخر ایٹمی جہنم یعنی ایٹمی بموں اور ایٹمی تابکار شعاعوں کی صورت میں نمودار ہو چکے ہیں مگر بُرا ہو ان متذکرہ بالا خصلتوں کے مسمراتی اثر کا کہ آج بھی یہ انسان اپنی آنکھوں کے سامنے ناچنے والے ایٹمی جہنم کو نہیں دیکھ سکتا اور کشاں کشاں ایٹمی جہنم کے لپکتے ہوئے اور گرجتے ہوئے شعلوں کی جانب کھچتا ہوا چلا جا رہا ہے۔ فاعتبروا یا اوّلی الابصار۔
ایٹمی جہنم بجھانے والا قرآنی فارمولا:
قرآنِ حکیم نے نکتہ چینی ، عیب جوئی،زر اندوزی اور مادہ پرستی اور اس زر اندوزی کے عمل کی ہمیشگی کے یقین کو ایٹمی جہنم کی پیدائش کا سبب قرار دیا ہے اور یقیناً یہ بیکنی کلچر انہیں خصوصیات کا بنیادی طور پر حامل ہے۔ ایٹمی توانائی کا انکشاف اس تین سو سالہ مادہ پرستی کے عصر کے دوران متوازی چلتی ہوئی سائنس کے ارتقائی عمل کا ہی نتیجہ ہے لہٰذا قرآنِ حکیم کی اس منطق کی روشنی میں ایٹمی جہنم کو نابود کرنے کا جو فارمولا تیار کیا جا سکتاہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔
SWE X MC2 = (NH) TD (NH) E
CPH
ن د خx ح ر ۲ ß (اج) ع ßمß )اج(ل
س ف ک
(ن )ہے نکتہ چینی، (د) ہے دولت اندوزی،(خ) ہے دولت اندوزی کے خلود یعنی ہمیشگی کا یقین، (ح ر 2) ہے آئن سٹائن کا ایم سی سکیوئرMC2 جس میں M(ماس) یعنی حجم کے لئے ہے سی (C) روشنی کی رفتار کے لئے ہے۔ (ا ج) ع سے مراد ایٹمی جہنم عارضی یعنی اس فانی دنیا کا ایٹمی جہنم )م (موت کا پل ہے۔ (اج) ل= اگلی دنیا کا لازوال اور دائمی ایٹمی جہنم (قرآنی حُطَمَہ) ہے۔ اب اس کو ناکارہ کیا جا سکتا ہے۔(س ف ک) سے۔ (س )سے مراد سخاوت، جو نکتہ چینی اور عیب جوئی کی عادت کی قاطع ہے۔( ف) سے مراد فقر ہے، وہی فقر جس کے متعلق پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺسلم نے فرمایا۔ ”الفقر فخری“۔ یعنی فقر (غریبی) میرا فخر ہے۔ یہ قاطع ہے دولت اندوزی اور حرص و ہوس کا اور( ک) سے مراد ہے انکسار جو اس دور کے مخصوص قسم کے انسانی غرور کا توڑ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ سائنس دان اپنے علم کی روشنی میں کبھی اس بات کا خیال بھی دل میں نہیں لا سکتا کہ کسی بھی صورت میں کوئی ایسا طریقہ ایجاد کیا جا سکتا ہے جو مثلاً ایٹم بم کو جام کر دے یا ایٹمی تابکاری کو بے ضرر بنا دےکیوں کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ ایٹمی عمل بہت ہی زبردست چیز ہے اور انسانی کنٹرول سے باہر ہے۔ اس لئے اگر یہ دنیا ایٹمی جہنم کی تباہی سے بچنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہء کار نہیں کہ قرآنی ہدایات پر مبنی کئے ہوئے اس متذکرہ فارمولے کو اپنانا ہو گا۔ آج یا کل یا سو برس کے بعد مگر جیسا کہ حضرت سعدیؒ نے فرمایا ہے کہ کرتا ناداں بھی وہی کچھ ہے جو دانا کرتا ہے مگر بہت ساری خرابی کے بعد اَلبَتَّہ یہ فارمولا اپنانے کے بعد اس بیکنی ترقی اور اس بیکنی سائنس اور اس بیکنی کلچر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کیا کیا جائے اس کے سوائے چارہ نہیں۔
مجھے ابراہیمی مشن عطا ہوا:
1942 ء میری عمرکے پچیسویں سال میں اور اس سال میں جس میں شکاگو میں معروف اطالوی سائنس دان انریکو فرمی(Enrico Fermi) نے فژن چین ری ایکشنReaction) Fission Chain )کا پہلا کامیاب تجربہ کرکے انسانیت پر ایٹمی جہنم کے طوفان کادروازہ کھول دیا تھااور اس طرح ابراہیم دیموقراطیس چپقلش نے ایک خاص مرحلے میں قدم رکھ لیا تھا۔ عراق میں مصیّب میں خواب میں ،میں نے عراق کے شمال مغربی میدان میں دیکھا۔ دور کہیں ترکی کے پہاڑ مجھے نظر آ رہے تھے۔ ایک شخص سر مغرب کی طرف پاؤں مشرق کی جانب،کھردرے بان سے بنی ہوئی ننگی چارپائی پر نہایت ہی دبلا پتلا، مگر دراز قد، مادر زاد ننگا، گندمی سانولا مگر غلیظ رنگ کا آدمی رسیوں سے جکڑا پڑا ہے۔ منہ اس کا آسمان کی جانب ہے۔ نقش اس کے چہرے کے نہایت پتلے ہیں۔ آنکھیں اس کی موندی ہوئی ہیں مگر اس طرح کہ ایک ہلکی سی دھاری پپوٹوں کے درمیان سے جھانکتی نظر آتی ہےگویا کہ کسی عمیق قسم کے کرب میں مبتلا ہے مگر خاموش اور بے بس ہے اورکسی گہری سوچ میں غرق ہے۔میں اسے دیکھتا رہا پھر کیا دیکھتا ہوں کہ چند قدم شمال کی جانب منہ شمال کی طرف کئے کھڑاہوں۔ سامنے ایک درخت ہے نہ بہت بڑا نہ بہت چھوٹا، تنے سے اوپر کچھ گولائی مائل، نہایت متناسب، خوبصورت، دلپذیر پتے اس کے پیپل کے پتوں کے مشابہ ہیں، ہر پتے پر سبز رنگ کا ایک نورانی طوطا بیٹھا ہے۔ یہ سب طوطے اکٹھے اور مسلسل کچھ پڑھنے میں مصروف ہیں جس طرح بہت سے قراء اکھٹے بیٹھ کر قرآنِ حکیم پڑھتے ہیں۔میں کھڑا سنتا رہا اور درخت کو دیکھتا رہا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ درخت پر نور چھایا ہو ا ہے پھر میں نے دیکھاکہ تقریباً ایک سو قدم شمال کی جانب کھڑا ہوں۔منہ شمال کو ہے۔ میں نے اپنے سامنے ایک شخص کاہیولا دیکھا۔ اس کے خدوخال نمودار ہوئے۔ پھر وہ بالکل میرے سامنے قریب آ گیا۔ وہ تھا درمیانے قد سانولے رنگ کا انسان، سر پر سبز عمامہ باندھے،عمامہ بالکل اسی طرح کا جس طرح کاکہ مرحوم مفتی الحسینی مفتیء اعظم فلسطین باندھا کرتے تھے، فرق صرف یہ تھا کہ اس کا رنگ گہرا سبز تھا۔ اعضا و جوارح سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ریاضتی عبادات کی شدت سے اس طرح مضحمل ہے کہ اپنا سر بھی سیدھا نہیں رکھ سکتا اور سر اس کا دائیں جانب گردن پر جھکا ہو ا ہے اور یہ شخص میرے سامنے کچھ میرے بائیں ہاتھ پر کھڑا تھا۔ پھر میرے سامنے میرے دائیں ہاتھ پر ایک ذات نمودار ہوئی جسے دیکھا مگر زبان کو یارا نہیں کہ اس کے نورانی حسن و جمال اور رعب و سطوت کو بیان کرے۔ آپ کا قد میرے قد سے قدرے اُ ونچا تھا کیونکہ جب میں نے آپ کے چہرے پر نگاہ کرنا چاہی تو اپنے سر کو اوپر اٹھانا پڑا۔ آپ کا رنگ سفید، گورا، نورانی، اعضا مضبوط، سر تا سر مردانہ حسن و جمال کا ایک نادرالوجود نمونہ، سر کے بال سیاہ سیدھے اور کانوں کی لو تک،ریش مبارک سیاہ گھنی اور لمبائی ایک مٹھ، ابرو سیاہ گھنے اور باہم پیوستہ، قد قدرتی طور پر اس طرح کھڑا جس طرح مسجد کا منارہ، آپ کی نگاہ جنوب کی جانب کہیں دور پیوستہ تھی، اس طرح کہ نہ آپ کے بدن میں جنبش کا کوئی شائبہ تھا۔ نہ ہی آپ کی آنکھ جھپکتی تھی۔ میرے سینے میں لفظ ابراہیم علیہ السلام نمودار ہوا۔ مناسبت اس شخص کے قد اور ابراہیم کے لفظ میں جو کھڑا پن ہےکی تھی اور میں نے اس ذات کے سامنے کچھ اس طرح کارعب محسوس کیا جیسا کہ بچپن میں اپنے والدِ مرحوم سے محسوس ہوتاتھا اور میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں کسی پوسٹ آسامی کے لئے اُ میدوار ہوں اور انٹرویو کے لئے آیا ہوں اور میرے بائیں ہاتھ پر کھڑا ہوا سبز عمامہ پوش میری سفارش میرے دائیں ہاتھ پر کھڑی ہوئی عظیم ذات سے کر رہا تھا۔ اور خود اس طرح مودب تھا کہ اپنی سفارش کا ردِّعمل دیکھنے کے لئے اپنے سر کو جنبش دیئے بغیر کنکھیوں سے اُ س ذات کی جانب نظر کر رہا تھا اور ساری فضا چودھویں کے چاند کی چاندنی میں نہائی ہوئی تھی اور اس سارے تجربے کو بیان کرنے کے لئے لفظ قاصر ہیں اور جب میری آنکھ کھل گئی تو خوشی اور غم کے جذبات اپنی حدوں کو چُھو رہے تھے۔ خوشی اتنی بہترین خواب(وہ دنیا ہی کوئی اور تھی) دیکھنے کی اور غم آنکھ کے کھل جانے کا۔ ان دنوں میں قرآنِ حکیم صرف ناظرہ پڑھ سکتا تھا۔ بعد میں جب قرآنِ حکیم کی تفسیر کا علم ہوا تو معلوم ہوا کہ مجھے وہ درخت جو دکھایا گیا تھا وہ سورۃ والنجم کا سدرۃ المنتہی تھا۔یہ خواب کیا تھا۔میرے لئے ایک قیامت تھی وہ دن اور آج کا دن، جدوجہد اور مصائب و آلام کی مسلسل طویل داستان ہے، جو بیان کرتے ہوئے زبان لرزتی ہے، اور جو لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے اور ا ب اس انسانیت کی تقدیر کی کنجی ہاتھ میں لئے حیران کھڑا ہوں جو استحقاق کی بنا پر ایٹمی جہنم میں جھونکی جانے والی ہے اور اسے بچانے کی کوشش کرنے والے کو ایٹمی آگ کے شعلوں سے جنگ کرنی ہو گی تاہم اللہ تعالیٰ ہی اس امر میں مددگار ہیں۔ وما توفیقی الا باللہ العظیم اَلبَتَّہ جان لو کہ میرا مشن کسی بھی ذاتی دعوے پر مبنی نہیں بلکہ دلیل ہی بنیاد ہے۔ اس خواب کے بعد میری علمی جدوجہد شروع ہوئی۔ ایسی جدوجہد جو دن رات نہ ختم ہوتی تھی۔ میری عمر 25 برس تھی جب میں نے علم حاصل کرنا شروع کیا۔ بچپن میں سکول سے فرار ہو گیا پھر کبھی سکول واپس نہیں گیا۔ پھر 1942 ء سے 1982ء تک چالیس برس کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں، میں نے وہ تمام علوم حاصل کئے جن کی بنا پر میں نے ساری تصانیف مکمل کیں۔الحمد للہ رب العلمین۔
میں نے مصیّب (عراق) میں ایک خواب کے نتیجے میں خود بخود پڑھنا شروع کیااور ایک دیوانے کی طرح مسلسل 1982ء تک پڑھتا رہا۔ چالیس زہرہ گداز سالوں کے حصولِ علم کے نتیجے اور قدرت کی رہنمائی میں، میں نے بے شمار انگلش اور اُردوکتب، قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزۃ کی تفسیر میں لکھیں۔ایک ایسی تفسیر جو انسانیت کی ایٹمی جہنم سے نجات کی ضامن ہے۔ تو کیا میرے باپ کو اس کی خبر ہوگی ضرور ہوگی کیونکہ اس پچاس سالہ علمی اور قرآنی جدوجہد کا ثواب میں نے اپنے والدِ محترم کو بخش دیا۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
میری علمی جدوجہد۔ایٹمی جہنم کی آگ بجھانے والی بارہ جلدیں:
برٹرینڈ رسل اس انسانیت کے انجام کے بارے میں ناامیدہو کر مرا۔ اس کو یقین تھا کہ اس انسانیت کا انجام ایٹمی تباہی ہے۔ نہ ہی رسل کا یہ اندازہ غلط تھا قوانینِ قدرت اس کے مفروضے کی تصدیق کر رہے تھے۔ اس جدید بیکنی اٹامزمی سائنس کی روشنی میں چلنے والی مسلسل،منظم، روز افزوں، لا محدود اور ابدی قسم کی ترقی کا انجام ایٹمی جہنم، کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ میں بھی رسل ہی کی طرح نا امید ہو کر مرتا مگرایک عجیب بات نمودار ہوئی میں نے دیکھا کہ قرآنِ حکیم حضرت موسٰیٰ علیہ السلام کی معجزات و غرائب کا ایک طویل سلسلہ لئے ظہور پذیر ہوا۔ ایسے معجزے جن کا انکار نہ تو فلسفی کے بس کی بات تھی نہ سائنس دان کی اور جو اس انسانیت کی ایٹمی جہنم سے نجات کی ناقابلِ تردید ضمانت مہیّا کررہے تھے۔ میں چالیس برس تک ان معجزوں میں مستغرق رہا اور ان کو ریکارڈ کرتا رہا۔
خود میرا اپنا تجربہ اس ضمن میں ایک عجیب کیفیت کا حامل تھا۔ جس سال شکاگو میں اٹلی کے معروف ایٹمی سائنس دان نے فزن چین ری ایکشن کا پہلا کامیاب تجربہ کرکے ایٹمی جہنم کا دروازہ اس دنیا پر کھول دیا۔ اسی سال مصّیب نزد بغداد میں حضرت خضر علیہ السلام کی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سفارش سے مجھے ابراہیمی مشن ایٹمی جہنم کے خلاف عطا ہوا۔ یہ سن1942 ء تھا اور میری عمر کا پچیسواں سال، اور حالت یہ تھی کہ میں قرآنِ حکیم کو ناظرہ تو پڑھ لیتا مگر مطالب و معافی سے کلّیتہ بے خبر تھا لیکن ایک ہیجان انگیز، جنونی کیفیت طاری ہوئی اور1942 ء سے 1982 ء تک علمی حج کی راہوں پرسرگرم ِسفر رہالیکن اس طرح سے کہ نہ تو استاد نہ سکول اور مسلسل غیر منقطع، مصائب و شدائد کا یہ عالم کہ جسے بیان کا نہ تو کسی جان بنیان (John Bunyan) کو یارا ہو۔ نہ دانتے کو جو کچھ علمی میدان میں حاصل کیا اور جس انداز سے کیا۔ اسکانفسیاتی تجزیہ نہ کسی فرائیڈ کے بس کی بات ہے نہ کسی جنگ کی، حقیقت یہ ہے کہ مجھے بہ نفسِ نفیس ایٹمی جہنم کے اندر ڈال دیا گیا اور یہ سارا عرصہ میں کوائف و عوامل کو کاغذ پر منتقل کرتا رہا۔
ان بارہ جلدوں میں جن میں اسی ایٹمی جہنم کا بیان ہے بعض ایسی ہیں کہ جن میں کسی ایک پردنیا کی کسی عظیم منفرد علمی شخصیت از قبیل بیکن یا ڈارون کی عمر صرف ہو سکتی تھی اور بالجملہ میرے کام کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دو رِ جدید کی ممتاز ترین علمی شخصیتیں ایسی شخصیتیں جنہوں نے اس دنیا میں ذہنی انقلاب برپا کئے ہیں۔ ملکر بھی اس کام کو بمشکل نبھا سکتیں جسے میں نے تنِ تنہا بغیر کسی بھی جانب سے کسی بھی قسم کی مدد کے پایۂ تکمیل کو پہنچایا ہے اَلبَتَّہ قابلِ تعریف ہے اس خدا کی ذات جس کی مدد ہمیشہ میرے شاملِ حامل رہی اور اس طویل مدت کے دورن لمحہ بھر کے لئے بھی مجھے بے سہارا نہیں چھوڑا اور جان لیا جائے کہ میں نے اس سارے کام کو اپنے روحانی مقام پر محمول نہیں کیا۔ میں نے اپنے کام کو قرآنی سند پر بھی مبنی نہیں کیا بلکہ سارے کام کی بنیادسائنس اور منطق پررکھی ہے۔ موادقرآنِ حکیم نے مہیّا کیا لیکن معیار سائنس کو رکھا کیونکہ یہ دور سائنس کا ہے اور معیار منطق کو رکھا کہ منطق کھوٹی کھری کی پرکھ کا ایک اچھا ذریعہ ہےاو ر مضمون چونکہ بین الاقوامی ہے لہٰذا قرآنِ حکیم کے نہ ماننے والوں کے لئے کوئی دقت نہیں رہی۔
ایٹمی قیامت کا قرنایعنی صورِ اسرافیل:
اس دور کے شہنشاہ، صدور، وزرائے اعظم، مذہبی پیشوا، سائنس دان، فلسفی اور عوام سن لیں،جان لو کہ یہ دنیا اب ایٹمی تباہی کے کنارے کھڑی ہے۔ اچھی طرح سے سُن لو اور ہر قسم کی خام خیالی اپنے دماغ سے نکال دو۔ تمہارے سامنے ایٹمی جہنم بھڑکا ہوا ہے۔تمہارے پیچھے سے اقتصادی بلڈوزر تم کو بے تحاشا آگے دھکیل رہا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس انجام سے نہیں بچا سکتی۔ یہ قوانینِ قدرت کے عمل کا منطقی نتیجہ ہے لہٰذا اٹل ہے۔ علم، غرور، دولت، لشکر غرضیکہ کچھ بھی تمہیں اس دردناک انجام سے نہیں بچا سکتا۔تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اوّلاً ایٹم بموں سے فوری تباہی، استحقاق کی بنا پر،یا ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری شعاعوں سے رفتہ رفتہ، آہستہ آہستہ المناک عذاب میں مبتلا ہو کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر فنا فی النار ہو جانا، استحقاق کی بنا پر، نہ کوئی آسمان تم پر روئے گا نہ فرشتے ماتم برپاکریں گے بلکہ جو بویا سو کاٹا کے اصول پر حساب بے باق ہو جائے گا اور سب سے زیادہ عذاب مجھ پرمسلّط ہوا،کہ تم کو صورتِ حال سے آگاہی دلانے کافریضہ مجھ پر عائد ہوا مگر تقدیر کے سامنے کچھ چارہ نہیں۔ یاد رکھو! ایٹم بم سے بچاؤ کی کوئی تدبیر ہے نہ ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری سے بچا ؤکا کوئی حیلہ۔ جو شخص بھی تمھیں اس امر میں کوئی امید دلاتا ہے، یا دلاسا دیتا ہے وہ جھوٹا ہے، وہ خود فریبی میں مبتلا ہے،تم کو فریب میں مبتلا کر رہا ہے اور تم فریب میں مبتلا ہونے میں کچھ تامل نہ کرو گے۔ انسان اس آتشیں ایٹمی دیو کےمقابلے میں ایک حقیر مبتلائے فریب بونا ہے۔ ایٹمی توانائی کی تابکاری کے معاملے میں سائنس دان ایک مجبور تماشائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور اس بیکنی ترقی کے معاملے میں فلسفی ایک سحر زدہ،مریض کی سی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ سیاست دان ایک جنونی چرواہے کی طرح اپنی قوم کوایٹمی جہنم کی جانب ہانکے جارہا ہے۔ تم سائنس دان سے باز پُرس کرو۔کیا یہ ٹھیک ہے؟تم فلسفی اور دانش ور کے کام کو خود سوچو۔کیا وہ ٹھیک ہے؟ سیاست دان کی راہوں کو تاکو کیا آگے ایٹمی جہنم کے شعلے بھڑکتے نظر نہیں آتے؟نہیں بلکہ بنیادی وجو ہات نے اور آنے والے عذاب کی دردناکی نے تم کو اندھا، بہرہ اور گونگا کر دیا ہے اور تم خوشی خوشی اور نعروں کی گونج میں جھوٹی امیدوں کے نشے میں سرشار ہو کر ایٹمی جہنم کے شعلوں کی جانب کھچتے ہوئے جا رہے ہومگر سُن لو کہ معاملہ اسی دنیوی ایٹمی جہنم پر ختم نہیں ہو گا۔
اگلے جہان کا دائمی ایٹمی جہنم تمہاری انتظار میں ہے اور میں اپنے اس اعلان کا ہر لفظ سوچ سوچ کر اور تول تول کر اور ناپ ناپ کر اور جانچ جانچ کر لکھ رہا ہوں اور سائنس اور قرآن اور انجیل کے حتمی ثبوت کی بنا پر لکھ رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں۔ بالکل بقائمی ہوش و حواس کہہ رہا ہوں۔ بے خوف، بے خطراور بے پروا ہو کر کہہ رہا ہوں۔ سوچو گے تو بچ جاؤ گے۔نہیں سوچ سکو گے تو ایک دردناک اورشرمناک عذاب سے چھٹکارے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اھلاًً و سہلاً مرحبا آگے بڑھو تم بڑے سمجھ دار ہو اور تمہارا سائنس دان معجزوں کا مالک۔ تمھارا فلسفی اور دانش ور آسمان کی خبریں دینے والااور تمھارا سیاست دان عرش رس بصیرت کاحامل ہے۔
سمجھ لوکہ تمھاری یہ سائنس گزیدہ، منظّم،مسلسل، روز افزوں اور لا امتنا ہی بیکنی ترقی حصول دولت و اقتدار کا ایک ایسا مکمل عمل ہے جسکا منطقی اور سائنسی انجام ایٹمی جہنم کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ ترقی فنا پر منتج ہونے والی ہے۔ خواہ یہ فنا توانائی کی ناپیدگی کے سبب سے واقع ہو جائے خواہ ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکار شعاعوں کے مہلک اثرات سے اور تمھاری مثال اس وقت ایک پائلٹ کی ہے۔ خواہ جہاز کے آگ پکڑنے سے پیشتر کود جاؤ یا آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آکر جہاز کے ساتھ بھسم ہو جاؤ۔ یہ بیکنی ترقی روز افزوں ہے اور لامحدود ہے، لا امتناہی ہے تو اے فلسفیو! کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ روز افزونیت بتدریج اس ترقی کو انسانی ذہن اور وقت پر قبضہ جماتی ہوئی بتدریج آخرت اور دین کے خیال کو انسانی ذہن اور وقت سے باہر دھکیلتی جائے گی اور لا امتناہیت بالآخر کلّی طور پر آخرت اور دین کے خیال کو معدوم کر دے گی اور کیا تم جانتے ہو کہ آخر ت اور دین کے خیال کے بغیر انسانیت کا وجود نامکمل ہے۔ تم کس خیال میں پھرتے ہو۔ تم کیمونزم میں پناہ لینے پر مجبور ہو گے تو دین سے بھی جا ؤگے، دنیا بھی تباہ کر بیٹھو گے اور جان لو کہ یہ بیکنی ترقی اور دین باہم یکجا نہیں ہوسکتے نہ ہی دین اور یہ بیکنی سائنس یکجا رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ سائنس محض اس مادی ترقی کی ایک لونڈی ہے اور سائنس کے یہ مشینی اہرام محض فریبِ نظر ہیں۔ ایک ایسافریب جسے ایک ایٹمی جنگ لمحے بھر میں ناپید کر سکتی ہے یا تابکاری اس زندگی کوفنا کرکے ان بلڈنگوں کو ایک ہوسکار انسانیت کی حماقتوں کی یادگار کے طور پر خالی چھوڑ سکتی ہے۔
تباہی قریب ہے، مہلت تھوڑی ہے لہٰذا سوچ لو،تمھیں زیادہ خوراک کے بدلے ایٹمی توانائی کی دردناک تباہی منظور ہے یا کم خوراک کے ساتھ امن و سلامتی اَلبَتَّہ ایک جھٹکا ضرور لگے گا اور یہ تمھارا اپنا پیدا کیا ہواہے۔ خود کردہ را علاجے نیست۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس دنیا میں آج سائنس سے لے کر بادشاہ تک سوائے چند آدمیوں کے ہر شخص ایٹمی سائنس سے نابلد ہےورنہ اگر ایک ہلکا سا جھونکا ایٹمی جہنم کا تم تک پہنچ جائے تو تم دس ہزار لعنت اس ترقی، ان سائنسی سہولتوں اور اس ایٹمی توانائی پر بھیجتے ہوئے، خوف و ہراس کے عالم میں اقطار السموات والارض سے فرار ہونے کی کو شش کرو اور تمھیں بھول ہے کہ تمھارے ایٹمی سائنس دان ایٹمی سائنس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں۔ نہیں بلکہ ایٹمی سائنس کا علم صرف ابجد کی حدوں میں ہے اوراس سے آگے بڑھ نہیں رہا نہ ہی اس سے آگے بڑھنے کاکوئی امکان ہی ہے۔ ایٹمی سائنس اندھی ہو چکی ہے۔ تمھیں یقین نہ آ سکے گا نہ آئے۔ ایٹمی جہنم عذابِ الٰہی ہے اور تقدیر نے تمھیں اندھا کر دیا ہے اور تم نہیں جانتے کہ اس کی پیدائش کے اسباب کیا ہیں اور کن وجوہات کی بنا پر یہ عذاب تم پر مسلّط ہوا اَلبَتَّہ وہ گناہ جس کی پاداش میں یہ ایٹمی جہنم نمودار ہوا۔تم اس کو گناہ ہی نہیں سمجھتے مگر لاعلمی سزا سے بچنے کا جواز نہیں پیدا کر سکتی۔
تم یہ سن کر حیرت میں پڑ جاؤ گے اور تمھاری حیرت پر مجھے ہرگز حیرت نہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی مہربانی سے تمھیں اس دردناک عذاب اور المناک تباہی سے بچانے کا سامان کر دیا ہے۔1942 ء میں میری عمر کے پچیسویں سال میں ابراھیمی مشن کے لئے حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے مصیّب نزدبغداد شریف بحالتِ خواب اس بندہء ناچیز کی سفارش کرکے ایک طویل المیعاد المیے میں مبتلا کر دیا ہے۔ علم اور سائنس کے اس دور میں علم اور سائنس کے میدان میں یہ نادر الوجود معرکہ سر کرنے کے لئے مجھے علم اور سائنس کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ 40 برس تک مسلسل سخت نامساعد حالات میں اور دل شکن مصائب و آلام کے لا امتناہی طوفانوں سے دو چار رہ کر اور بغیر کسی استاد کے میں نے السنتہ، ادبیا ت، تواریخ، فلسفہ، سائنس، الہامی کتب اور دیگر علومِ ظاہری و باطنی کی تحصیل کی جن کی تفصیل کایہاں نہ موقع ہے نہ محل اَلبَتَّہ اس جدوجہد کے نتیجے میں تین ہزار صفحات پرمشتمل وہ نسخہ جو اس انسانیت کو ایٹمی جہنم سے بچا سکتا ہے میں نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بہم پہنچا دیا اور جس کے متعلق میرا زعم یہ ہے کہ اس جدید دور کے سارے فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی بمشکل پیدا کرسکتے ہیں اوراس دنیا میں نہ کوئی ایسا ”جان بن یان“ ہے جسے ان مصائب و شدائد کے بیان کایارا ہو جو میں نے اس علمی حج کے دوران برداشت کئے۔ نہ ہی کوئی فرایئڈ ہی ہے جو اُ س طریقے کانفسیاتی تجزیہ کر سکے جو میں نے بغیر اُ ستاد کے اس قسم کے مضامین کوسمجھ لینے میں اختیار کیا۔ آج میں اس دنیا کے سامنے یہ دعویٰٰ کرتاہوں کہ کوئی طریقہ اس انسانیت کو ایٹمی تباہی سے نہیں بچا سکتا سوائے اس کے جو قرآنِ حکیم کے حوالے سے پیش کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ میرا یہ سارا کام میرے کسی بھی روحانی دعوے پر ہرگز مبنی نہیں بلکہ تمام تر انحصار سائنس اور منطق پر ہے۔ اگر خواب دیکھا ہے تو میں نے خود دیکھا ہے اور وہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔ تمھیں ا س سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیئے۔ اگر ابراھیمی مشن کی سپردگی ہوئی ہے تو مجھ کو ہوئی ہے۔ تمھارا اُ س سے کوئی سروکار نہیں۔ تم میرے کام کو سائنس اور منطق کی کسوٹی پرپرکھو۔ اگر معیار پر پورا اُ ترے۔ تو جو چاہو کرو۔ اگر پورا نہ اُ ترے تو بے دریغ رد کر دو۔ مگر تم ایسا نہیں کر سکو گے۔ جب تک تمھارے سروں پر تمھاری شامتِ اعمال سوار نہ ہو۔
میرے ہاتھ میں اس انسانیت کی تقدیر کی کنجی ہے اور یہ کنجی قرآنِ حکیم کی دی ہوئی پیشین گوئی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت تمھیں ایٹمی جہنم سے بچا نہیں سکتی مگر صرف اور صرف یہ قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی ہے۔ یہ پیشین گوئی کشتیء نوح کی حیثیت کی حامل ہے اور بہ مرتبہ ء عصائے موسوی کے ہے جوسائنسی جادوگروں کے سانپوں کو معدوم کر دے گا اور چونکہ یہ پیشین گوئی ایٹمی سائنس کے میدان میں ہے لہٰذا نہ تو کوئی ایٹمی سائنس دان، نہ ہی ایٹمی فلاسفر اس کے معجزہ ہونے سے انکار کر سکتا ہے ۔ہر نیک نیت سائنس دان اس کے سامنے جھکے گا۔ اگرچہ سائنس طبعاً معجزے کے وجود کی منکر ہے۔ ہر بد نیت انسان اس سے اس طرح بھاگے گا جس طرح آسمانی شعلے سے شیطان بھاگتا ہے اور اس دنیا میں نہ تو اس پیشینگوئی سے روشنی لئے بغیر کوئی تحریک ایٹمی خطرے کے خلاف موثر طور پر چلائی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی دین کے احیاء یا نشاۃثانیہ یاموثر نفاذ کا ہی کوئی امکان ہے۔








