Top Banner Blue

باب نمبر 8۔     جبریل کا  اسلامی بم

جو    دل    ایٹم   کا   توڑیں   تو   انرجی   بن   کے   آہ  نکلے

خدا  کی   اس   زمین   پر   جو  بھی   ہے   ہو  کر  تباہ     نکلے

(انرجی بمعنی  توانائی)

            جب سے ہندوستان نے پاکستانی سرحدوں پر زمین دوز ایٹمی دھماکہ کیا، یورپ ، امریکہ، ہندوستان اور بے شمار دوسرے ملک پاکستان کو اسلامی بم بنانے کا مجرم قرار دے رہے ہیں کہ یہ ملک ایٹم بم بنا رہا ہے اور اگر اُس نے بنا لیا تو اس خطے میں ایٹمی  اسلحے کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ یہ بات کہنا لا حاصل ہےکہ اِن ملکوں میں وہ ملک بھی ہیں جن کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایٹم بم موجود ہیں حالانکہ پاکستانی بم یعنی پاکستان کا ایٹمی بم تو ابھی بنا بھی نہیں۔ وہ ملک جو پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ زیرِ نظر باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان یا کوئی دوسرا اسلامی ملک مثلاً عراق ایٹم بم بنائے گا تو وہ پاکستانی بم یا عراقی بم تو ہو سکتا ہے تاہم وہ صرف ایٹمی بم ہوگا اور اُس کی تاثیر وہی ہوگی جو دنیا کے کسی دوسرے ملک کے ایٹم بم کی ہوگی اور نہ ہی موجودہ حالات میں کسی ملک کو ایٹم بم بنانے سے منع کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہر ملک اپنی حفاظت کے لیے ہراساں ہے تاہم وہ ایٹم بم جو کسی بھی اسلامی ملک میں بنایا جائے گا وہ ایٹم بم تو ضرور ہوگا مگر اُسے اسلامی بم کہنا درست نہیں کیونکہ اسلامی بم وہ ہے جو قرآنِ حکیم نے پیش کیا ہے اور وہ ایٹم بم کو ختم کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے اُس کا مقصد انسان کو ایٹم بم اور ایٹمی جہنم سے بچانا ہے نہ کہ انسان کو ایٹم بم اور ایٹمی جہنم کا شکار بنانا ہے اور وہ قرآن ِ حکیم کی ایک سورۃ کی صورت میں چودہ سو سال پہلے سے موجود ہے اور اُس سورۃ کا نام الھمزہ ہے۔ اس معاملے میں، میں ضرور عرض کرونگا کہ قرآنِ حکیم جن باتوں کی بنا پر انسان کو حطمہ جیسے خوفناک دوزخ کا مستحق ٹھہراتا ہے وہ ہیں۔ عیب جوئی اور نکتہ چینی کی عادت، دولت کو سمیٹنے اور گن گن کر رکھنے کی عادت اور دولت کی ہمیشگی میں اعتقاد رکھنے کی عادت۔ قرآنِ حکیم اُٹھا کر سورۃ الھمزہ پڑھ لیں جبکہ آجکل ان باتوں کو تو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی تاہم ایٹمی جہنم کو دیکھتے ہوئے ان باتوں کی اہمیت کا اندازہ ضرور لگ جاتا ہے کیونکہ ایٹمی جہنم سے زیادہ درد ناک جہنم کوئی بھی نہیں اور یہ سزا کفر کی سزا سے بھی سخت ہے اور مومن اور کافر کی اس میں کوئی تمیز نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مخلوق کو حطمہ کے عذاب سے بچائے ۔ آمین۔ البتہ یہ مشاہدہ کرنا کہ یہ تینوں باتیں اس موجودہ مادہ پرستی کے دور کی خصوصی باتیں ہیں اس دور کا سارا ڈھانچہ انہیں باتوں پر ہے ۔اللہ معاف کرے اور اپنا فضل کرے ۔آمین۔

”کرم کرے تاں بخشے جاون میں ورگے منہ کالے ھو“

(علامہ محمد یوسف جبریلؒ، نواب آباد، مورخہ:12 جنوری 1992ء)

            اُمتِ مسلمہ کا ماضی نہایت شاندار رہا ہے مگر آج وہی اُمت اپنے فرضِ منصبی کو کما حقہ ادا کرنے سے قاصر ہورہی ہے۔ وہ اُمت جس نے بحرِ ظلمات میں گھوڑے دوڑا دئیے تھے۔ آج ظلمات کی تاریکیوں میں غوطہ زن ہے۔ حالانکہ آج پھر ملتِ بیضا کو اسی طرح للکارا جارہا ہے جس طرح اسے قرونِ اُولیٰ میں للکارا گیا تھا۔ آج پھر اُسی جذبۂ ایمانی کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں نے کیا تھا ۔ آج پھر اتنا ہی بڑا مقصد مسلمانوں کے سامنے ہے جتنا کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کے سامنے تھا۔ لمبی چوڑی تقریروں کی ضرورت نہیں ہر ذی علم مسلمان آج کےحالات کو سمجھتا ہے۔ سمجھانا صرف یہ ہے کہ آج کی مسلمان قوم کا مقصد اور اس قوم کی ذمہ داری کیا ہےاور وہ ہے اس دنیا کو یعنی انسانیت، حیوانات اور نباتات کو ایٹمی جہنم کی تباہی سے بچانا ۔ آج پھر قرانِ حکیم پکار پکار کر کہ رہا ہے:۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَلَوْ آمَنَ اَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُوْنَo

ترجمہ:۔   ”تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقیناً ان کے لئے بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔“

آج سب سے بڑا نہی عن المنکر ایٹمی جہنم کو سرے سے ختم کر کے دنیا کو اس درد ناک رسوا کن عذاب سے بچا نا ہے ۔کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایٹم بم یا کسی بھی صورت میں ایٹمی آگ کسی بھی ملک کے لئے فائدہ بخش نہیں۔ یہ ایک دوزخ ہے جس سے مسلمانوں کو خود بچنا ہے اور کافۃ الناس یعنی خدا کی ساری مخلوق کو بھی بچانا ہے۔ اگر مسلمان ایسا کرنے سے قاصر رہے تو پھر ایٹمی جہنم اسلام، مسلمان اور ساری انسانیت کے آثار مٹا کے رکھ دے گااور پھر مسلمانوں کا سارا امر ِبالمعروف اور نہی عن المنکر بے فیض ہوجائے گا اور پھر خدا کو قیامت میں کیا جواب دیں گے لیکن افسوس کہ مومن خدا کو بھول گئے اضطراب میں۔ افسوس کہ آج مسلمانوں کو یہ سمجھ نہیں کہ اگر اُمتِ مسلمہ ایک متحدہ محاذ ایٹمی جہنم کے خلاف بنا کر ڈٹ جائے اور للکارے کہ نہ ایٹم بم بنائیں گے نہ بنانے دیں گے تو لامحالہ خود ایٹمی طاقتیں اور ساری انسانیت ان کو نجات دہندہ تصور کرتی اور ان کا شکریہ ادا کرتی مگر یہاں تو ابھی تک بات ہی کچھ اور ہے۔مسلمان ایٹمی آگ پر پروانہ وار گرنے کی حسرت لئے بیٹھے ہیں۔ میرے پاس کچھ اختیار نہیں مجھے تو صرف یہ بتاناہے کہ قرآنِ حکیم کیا کہتا ہے، سائنس کیا کہتی ہے، سائنسدان کیا کہتا ہے اور پھر کہہ دینا ہے حضرات  وَمَا عَلَيْنَا اِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِيْنُ o

اس مختصر سے باب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ یورپ ، امریکہ اور ہندوستان کے لوگ جو اسلامی بم کا لاحقہ پاکستان سے جوڑ رہے ہیں وہ قطعاً غلط ہے۔ اگر پاکستان ایٹمی بم بنائے گا یا کوئی دوسرا اسلامی ملک ایٹمی بم بنا ئےگا تو وہ اسلامی بم نہیں ہوگا بلکہ صرف ایٹم بم ہوگا۔ اسلامی بم وہ ہے جو قرآنِ حکیم نے سورۃ الھمزہ کی صورت میں ایٹم بم کو ختم کرنے کے لئے پیش کیا ہے۔ قرآنِ حکیم نے ساری ایٹمی سائنس کا نچوڑ پیش کیا اور بتایا ہے کہ ایٹمی جہنم کن وجوہات سے پیدا ہوگا اور کونسی عادات کی بنا پر لوگ ایٹمی جہنم کے مستحق گردانے جائیں گے لیکن افسوس کہ اس نئی مادہ پرستی نے انسان کو ضروریاتِ زندگی کے جال میں کچھ اس طرح جکڑلیا ہے کہ کسی کو بھی کسی دوسری بات کا ہوش نہیں۔ بہر حال دنیا براُمید قائم است اور میں خدا کا ایک کمزور بندہ اس اُمید پر جی رہاہوں کہ بالآخر انسان اس ایٹمی جہنم کو فنا کرے  گا۔اس عارضی جہان میں بھی نجات پا لے گا اور اگلے لافانی جہان کے حطمہ سے بھی جس کا پرتو یہ عارضی دنیا کا ایٹمی جہنم ہے چھٹکارا حاصل کر لے گا۔ دُعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اپنی مخلوق کو ایٹمی آگ کے درد ناک اور رسوا کن عذاب سے بچا لے۔ آمین۔

ایٹمی جہنم اور اسلامی بم:

قرآنِ حکیم ایک کتاب ہے جسے الہامی ہونے یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہونے کا دعویٰٰ ہے اور اسے معجزہ بھی کہا گیا ہے اور یہ کتاب انسان کے ہر مسئلے کے حل کی بھی مدعی ہے اور یہ کہ یہ کسی ایک قوم کے لئے نہیں بلکہ یہ جملہ انسانیت کے لئے اور کسی ایک دور کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک ہر زمانے کے لئے ہے۔ قرآنِ حکیم آج سے چودہ سو برس پہلے نازل ہوا اور اس عرصے میں اس کے متذکرہ بالا سب دعوے برحق ثابت ہو چکے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ قرآنِ حکیم ایک شاہکار ہے اور اپنے ہر دعوے کے ثبوت کے لئے اُ س نے موقع بہ موقع، لمحہ بہ لمحہ،دور بہ دور شاہکار پیش کئے ہیں لیکن یہ جو بیسوی صدی عیسوی میں نمودار ہونے والے ایٹمی جہنم کا مضمون پیش کیا ہے یہ ایسا شاہکار ہے جو سب سے نمایاں نظر آتا ہے اور جو انشاء اللہ سب سے زیادہ دوررس،گراں قدر اور وقیع اثرات کا حامل ثابت ہو گا۔ یہی وہ معجزہ ہے جس کے سامنے یورپ، امریکہ، روس بلکہ ساری دنیا سرتسلیمِ خم کر کے قرآنِ حکیم اور اسلام پر ایمان لے آئے گی۔

قرآنِ حکیم میں پیش ہونے والا یہ مضمون جو ایٹمی جہنم کے متعلق ہے، ایک شاہکار اس طرح کا ہے کہ اس میں ساری ایٹمی سائنس کا نچوڑ کچھ اس طرح سے اورفقط تیرہ لفظوں میں دے دیا گیا ہے کہ بڑے سے بڑے ایٹمی سائنس دان حتٰی کہ آئن سٹائن کے بس کی بھی بات نہیں۔ قرآنِ حکیم نے ساری دنیا کے انسانوں اور جنوں کو للکارا ہے کہ سب مل کر بھی ایک ایسی سورۃ پیش کر دو۔ یقیناً تم ایسا نہیں کر سکو گے۔ یہ چیلنج آج بھی بدستور قائم ہے۔ آج دنیا کے سارے سائنس دان مل کر ایٹمی آگ (حطمہ) کی اتنی مختصر اور اتنی جامع تشریح کر دیں جتنی کہ قرآنِ حکیم نے کی ہے تو قرآنِ حکیم کا چیلنج قبول تصّور کیا جائے گا اور حالانکہ یہ سائنس دان اس مضمون کی قرآنی تشریح پڑھ چکے ہوں گے یہ سب مل کر بھی ایسا نہیں کرسکیں گے، یہ گو اور یہ میدان۔ ا گر کر سکتے ہیں تو کریں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں 1982 ء سے جب میں نے یہ چودہ جلدیں لکھ لی تھیں بیمار ہوں اور انگلینڈ امریکہ وغیرہ میں میں ایٹمی سائنس دانوں کے سامنے یہ قرآنی معجزہ پیش نہیں کر سکا لیکن با لآ خر کار یہ مقابلہ ہو گا۔

ان تیرہ لفظوں میں قرآنِ حکیم نے ایٹمی آگ کی امتیازی خصوصیات بیان کی ہیں اور ایسی پہچان بتائی ہے کہ کوئی شبہ نہیں رہتا اس کے علاوہ تقریباً سولہ لفظوں میں قرآنِ حکیم نے جدید اٹامزم کے بیکنی فلسفے پر مبنی اُ ن خاصیتوں کا بیان کیا ہے جو بالآخر ایٹمی جہنم یعنی ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کے ظہور پر منتج ہوئی ہیں یعنی اس مادہ پرستی کے سائنسی دور کی امتیازی خصوصیات جو کہ عیب جوئی ،نکتہ چینی (Propaganda)  مال جمع کرنا اور یہ سمجھنا کہ دولت ہمیشہ رہے گی یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں آجکل معمولی سمجھا جاتا ہے اور گناہ تو سمجھا جاتا ہی نہیں اور اُ ن کو اس دور میں دیکھنا کسی کے لئے بھی مشکل نہیں لیکن مجبوری انسان کواندھا کر دیتی ہے گویا کہ قرآنِ حکیم نے اوّل سے آخر تک اٹامزم پر ایک مکمل لیکچر دے دیا ہے۔ اٹامزم کے فلسفے کا بانی سقراط کا ہمعصر تھا مگر اس فلسفے کی لادینیت کے سبب یونانی فلسفی اس کے مخالف تھے سو یہ نہ پنپ سکا ۔جب عیسائیت آئی تو اس فلسفے کے کفن میں کیل ٹھونک دی گئی۔اسلام آیا تو اس کا وجود دنیا میں ناپید تھا پھر بھی قرآنِ حکیم نے دنیا کو آگہی دی کہ یہ آسکتا ہے اور آیا تو اس صورت میں آئیگا اور اس کی وجوہات بیان کر دیں تاکہ لوگ ان وجوہات کو ترک کر کے اس عذاب سے بچ سکیں۔

معلوم ہے کہ عیسائی دنیا قرآنِ حکیم کی سخت مخالف رہی ہے اب بھی یورپ اور امریکہ اسلام سے خوف زدہ ہیں اور اسے ختم کرنے کے درپئے ہیں۔ مسلمان کو دیکھ کر فنڈامنٹلسٹ یعنی ”بنیاد پرست“ کا نعرہ لگا کر اپنے خوف کااظہار کرتے ہیں اور ان کے علاوہ باقی غیر مسلم دنیا بھی قرآنِ حکیم یا اسلام کے حق میں نہیں لیکن یہ سب قومیں قرآنِ حکیم کے اس ایٹمی جہنم سے بچانے والے معجزے کے سامنے سر تسلیم ِ خم کر کے قرآنِ حکیم پر ایمان لے آئیں گی جس طرح مصر کے جادوگر حضرت موسٰیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے۔ یہ بات ہی کچھ ایسی ہے چلو ہم اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ سب دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ ایٹمی جہنم صرف اورصرف تباہی اور مکمل تباہی ہے اورا انسانیت بلکہ جملہ مخلوق حتٰیٰ کہ نباتات کے لئے بھی ناقابلِ بیان مصائب و آلام کا منبع ہے اور بالآخر سب کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر دینے والی ہے اور جنگ اس کا علاج نہیں۔ جنگ کے معنی ایٹمی تباہی ہے۔ ایٹم بموں کی تعداد میں اضافے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ ڈیٹرنس یعنی یہ خیال کہ ایٹم بم کی موجودگی دشمن کو خائف رکھے گی اور جنگ نہیں ہو گی۔ افغانستان، روس اور امریکہ میں ایک بودا خیال ثابت ہو چکا ہے اب سب ایٹمی طاقتیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ایک بلا سمجھنے لگی ہیں مگر کوئی راہ اُ ن سے چھٹکارے کی نہیں ملتی جب قرآنِ حکیم کی یہ آواز اُ ن کے کانوں میں پہنچے گی اور اُن کے ایٹمی سائنس دان میری اس ایٹمی تفسیر کو درست قرار دے دیں گے تو اُ ن کے پریشان ذہن میں قرآنِ حکیم کی یہ آواز ایک بہت بڑی خوش خبری بن کر نمودار ہو گی اور یہ خیال کہ کس طرح ایک کتاب نے چودہ سو سال پہلے جب نہ تو اٹامزم کے فلسفے کا کوئی وجود تھا نہ ہی ایٹمی سائنس کی کوئی بات تھی۔ عربوں کے ملک میں ایک اُ می  شخص نے کس طرح یہ سب کچھ بیان کر دیا۔ لازماً یہ بیان خدا کا بیان ہے اور خدا کی طرف سے ہے کیونکہ کوئی بشر اُس وقت اس بات کوسمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا تھا نہ رکھ سکتا تھا اور جب تعصّب کی دیوار دھڑام سے گِر جائے گی تو سامنے قرآنِ حکیم کاوجود ایک عظیم ترین محسن کی صورت میں نمودار ہو گا اوروہ سب سمعنا و اطعنا ہم نے سنا اور مطیع ہوئے کہتے ہوئے دامن ءِ اسلام میں آ جائیں گے۔ ہمارے علماء کرام چودہ صدیوں سے قرآنِ حکیم کے الہامی ہونے کے دلائل دیتے آئے ہیں مثلاً بے نظیر فصاحت و بلاغت، عظیم پیشین گوئیاں، ماضی کے حالات، آخرت کی باتیں اور لامحدود مسائل کا بیان وغیرہ وغیرہ اور اگرچہ یہ سب باتیں اپنی جگہ پر درست ہیں لیکن سننے والا غیر مسلم اکثر اسلام لانے کی حد تک اس لئے متاثر نہیں ہوتا کہ یہ سب باتیں خدا اور انسان میں ایک قدر ِ مشترک ہیں یعنی یہ اوصاف بندے کو بھی حاصل ہیں بعض ادیب اور شاعر بھی فصیح و بلیغ ہیں، پیشین گوئیاں منجم بھی کرتے ہیں، ماضی کا حال انسان بھی تلاش کرتا ہے اور آخرت کی باتیں بعض دوسری مذہبی کتابوں میں بھی ملتی ہیں اور وہ کتابیں قرآنِ حکیم سے پہلے کی ہیں لہٰذا شک اپنی جگہ موجود رہتا ہے لیکن یہ بات کہ چودہ صدیاں قبل قرآنِ حکیم بیسوی صدی عیسوی میں نمودار ہونے والے سائنسی جہنم یعنی ایٹمی جہنم کی تشریح ناقابلِ یقین حد تک سائنسی انداز میں اور درست ترین سائنسی زبان میں کرے اور مشکل ترین سائنسی مضمون کوسائنس دان سے بڑھ کر درست اورآسان طریقے سے بیان کرے اور ایٹمی جہنم کی پیدائش کے اسباب بیان کرے اوراس طرح ایٹمی جہنم سے نجات کی راہ دکھلائے ایسی ہے جو بندہ نہیں کر سکتا اور صرف خدا کا کام ہے اور نہ ایسی ہے جسے ایٹم بم سے ایٹمی تابکاری کی تباہ کاریوں سے خوف زدہ مغربی انسان نظر انداز کر سکے اور دل کی گہرائیوں تک متاثر نہ ہو۔ قرآنِ حکیم نے جو پیشین گوئی ایرانیوں کے خلاف رومیوں کے غلبے کی تھی وہ ظاہری حالات میں خود قرآنِ حکیم اوراسلام کے نوزائیدہ وجود کوخطرے میں ڈالنے کے لئے کافی تھی مگر قرآنِ حکیم حق تھا لہٰذا حق بات کہی اور واقعی رومی غالب آگئے اگر بالفرض رومی مغلوب ہو جاتے تو پھر لیکن وہ تو محض پیشین گوئی تھی اوراس ایٹمی جہنم کی سائنسی تشریح کی تو بات ہی اور ہے اس میں پیشین گوئی بھی ہے بہت بڑی سائنسی تشریح بھی ہے تنبیہ بھی ہے اور ایک عظیم جہنم کے علیم عذاب سے نجات کی راہ بھی ہے نیز چونکہ اس عارضی دنیا کے عارضی ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات وہی ہیں جو قرآنِ حکیم میں حطمہ کے جہنم میں ڈالے جانے کی ہیں اس لئے وہ لوگ جو اس عارضی دنیا میں ایٹمی جہنم ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کے عذاب کے مستحق ٹھہرے وہ اگر اس عذاب سے بچ بھی گئے تو اگلی لافانی دنیا کا لافانی حطمہ کا جہنم بھی اُ ن کی تاک میں ہو گا۔ فاعتبرو ایا اُ ولی الابصار۔

امریکہ یورپ اور ہندوستان والے پاکستان میں بننے والے ایٹم بم (اگر بنے) کو اسلامی بم کے نام سے پکارتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عربوں کے وسیلے سے  اسرائیل پر گرے گا اور اس طرح اس کی اساس مذہبی نظریاتی جنگ پر ہوگی اور مسلمانوں کو مضبوطی حاصل ہو گی جبکہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائیگا اور اس طرح ہو سکتا ہے کہ عالمی ایٹمی جنگ چھڑ جائے اور سب کچھ تباہ ہو جائے۔ اس لئے جس طرح بھی ہو سکے پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے روکا جائے یہ اُ ن کا اپنا نظریہ ہے مگر یہ نظریہ سیاست پر مبنی ہے جسے کہتے ہیں عالمی سیاست، تاہم ایٹم بم جو بنے گا ٹیکنیکی لحاظ سے ویسا ہی ہو گا جیسا کہ امریکہ نے بنا یا ہے روس نے بنایا ہے کسی اور ملک نے بنا یا ہے ویسے ہی اثرات کا حامل ہو گا ویسی ہی تباہی مچائے گا خواہ وہ پاکستان میں بنے یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں۔ میرے خیال میں اسلامی بم وہ ہے جو قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کی تشریح اور اُ س کی پیدائش کی وجوہات کی صورت میں دیا ہے اور جو ایٹم بم نہیں بلکہ ایٹم بم کو فنا کرنے والا ہے اور دنیا کو اس مکمل تباہی سے نجات دلا کر امن و امان اور آسودگی اور فارغ ا لبالی کی راہ پر گامزن کرنے والا ہے۔ اس لئے  اس باب کا نام”جبریل کا اسلامی بم“ رکھا گیا ہے اس میں جہاں امریکیوں اور ہندوستانیوں کی غیر منطقی باتوں کے جواب پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہاں قرآنی پیشین گوئی کی سائنسی تشریح بھی کی گئی ہے۔ باقی رہا سوال پاکستان یا کسی دوسرے اسلامی ملک کی اس کوشش کے معاملے کا جو اِ ن موجودہ عالمی حالات میں وہ ایٹم بم بنانے یا ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے سلسلے میں کر سکتے ہیں یا کر رہے ہیں۔اس سوال کا جواب آج ان عالمی حالات میں کسی ملک کی مجبوری اور ضرورت ہی دے سکتی ہے۔کمزور ملک کی سزا مرگِ مفاجات ہے۔ جب اس مسئلے پر سوچتے ہیں تو یہ غیر منقسم ہندوستان کی دو مسلم شخصیتوں کی یاد دلاتا ہے یعنی سید آحمد بریلوی اور سید آحمد علی گڑھی دونوں سید اور دونوں آحمد تھے یہ اُ س وقت کی بات ہے جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت انگریز نے چھین لی تھی اور مسلمان ورطہء حیرت میں مایوس و مضطرب تھے۔ سید آحمد بریلوی کا نظریہ تھا کہ لڑ کر اسلامی حکومت ہندوستان میں قائم کی جائے وہ اسی کوشش میں اپنوں کی بد اندیشی سے شہید ہو گیا اور مسلمانوں کی علمی اور اخلاقی پستی اور بے مائیگی میں کامیابی دشوار تھی۔ سید آحمد علی گڑھی کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمان انگریزوں سے سیکھیں اور اُ ن سے تعاون کریں سو یہ نظریہ کامیاب ہوا۔ مسلمانوں نے اس کی پذیرائی کی اور دنیا کے ساتھ چلنے میں کامیاب ہوئے اَلبَتَّہ یہ جو مسئلہ ایٹم بم ایٹمی توانائی وغیرہ کا ہے یہ اُ س مسئلے سے مختلف نوعیت کا ہے۔ یہ بالآخر سراسر تباہی ہے۔ ایٹم  بم اور ایٹمی تابکاری کی موجودگی مخلوق کے لئے ابدی خطرہ ہے۔ کوئی شک نہیں اس زمین پر یا ایٹم بم اور تابکاری رہے گی یا زندگی۔ انسانی، حیواناتی، نباتاتی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایٹمی اور غیر ایٹمی طاقتیں مل کر فتنے کی اس جڑ کو فنا کر دیں یا پھر کوئی طاقت پورے عزم و ہمت کے ساتھ اس دنیا کو للکارے۔ دیکھو نہ ایٹم بم بناتے ہیں نہ بنانے دیں گے۔ سمجھ یہ لگتی ہے کہ ایٹم بم سے خوفزدہ دنیا ایسی آواز پر خوش ہو گی۔ وہ لوگ جو اس پر ناخوش ہوں گے بے بس کر دئیے جائیں گے اورسب قومیں ایٹم بم کے خلاف آواز اُ ٹھانے والی طاقت کی شکر گذار ہوں گی۔ ایسی طاقت کون سی ہو سکتی ہے۔نگاہ گھوم گھام کر امتِ مسلمہ پر ٹھہر جاتی ہے۔ دل اس بات کو تسلیم کرتا ہے مگر ذہن سمجھ نہیں سکتا کہ کب ایسا ہو گا۔ اللہ کرے وہ وقت جلد آئے کہ مسلمان اپنے فرض ِ منصبی کو ادا کرنے کے قابل ہو جائیں اور خدا کی اس دنیا کو امن و امان اور سلامتی کا گہوارہ اور آسودگی، فارغ البالی، محبت اور اخوت کا گھر بنا دیں۔ اللہ وہ وقت جلدی لائے۔ آمین ۔ اور

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِٱلْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِٱللهِ ط۔

ترجمہ:۔ ”مومنو! تم سب امتوں سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کا کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہواور خدا پر ایمان رکھتے ہو والی بات ثابت ہو جائے“۔

(3-آل عمران-110)

14 جنوری 1992ء

ایٹمی ساون کے اندھوں کی باہمی توتکار، مصنفہ میجر جنرل ڈی کے پیلٹ اور پی کے ایس نمبودری:

اسلامی بم کی اصطلاح اگرچہ اب بین الاقوامی شہرت حاصل کر چکی ہے اور دنیا بھر کے اخباروں کا موضوعِ سخن بن رہی ہے اور اس موضوع پر کتابیں بھی لکھی جارہی ہیں تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پہلی چمک دمک اب ماند پڑ رہی ہے لیکن چونکہ اس اصطلاح کا بنیادی موضوع ایٹمی بم ہے لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاملہ اختتام پذیر ہو رہا ہے بلکہ اس کا اختتام تو دنیا کی ایٹمی تباہی کی حقیقی وجہ یعنی سائنس گزیدہ بیکنی ترقی کے انجام کے ساتھ منسلک ہے اور اس سائنس گزیدہ بیکنی ترقی کے سائنسی اور فلسفی عمل کا انجام سوائے ایٹمی آگ کے شعلوں کے اور کچھ نہیں۔ ایٹمی بم خواہ اسلامی ہو یا نصرانی ہو یا یہودی ہو یا ہندوانہ یا اشتراکی ہو اپنی اصلیت میں صرف ایٹمی بم ہوتا ہے۔ اگر امریکہ کا کوئی ایٹم بم روس کے ہتھے چڑھ جائے اور روس اُ سے امریکہ پر مار دے تو وہ بم ہرگز امریکہ کا لحاظ نہیں کرے گابلکہ اپنی کارکردگی دکھائے گا۔ اسی طرح اسلامی بم کسی غیر اسلامی طاقت کے ہاتھ آ جائے اور وہ طاقت اُسے اسلامی دنیا پر دے مارے تو وہ بم قطعاً اسلامی دنیا کا کوئی لحاظ نہ کرے گا نہ ہی وہ کسی مسجد کا احترام کرے گا نہ ہی کسی بزرگ کی خانقاہ کا۔ اس لئے کسی ایٹم بم کو کسی دین یا قوم سے منسلک کرنا محض ایک سیاسی کھیل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ایٹم بم کو بیکنی فرانسس بیکن( 1626-1561) بم ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بیکن کے مادی فلسفے کا منطقی اور سائنسی نتیجہ ہے۔ ایٹم بم ساری انسانیت کا ایک ایسا قاتل ہے جو نہ کسی کے لئے قبر کھودے گا نہ ہی کسی کی قبر پر کوئی کتبہ ہی لگائے گا۔

”اسلامی بم“ کے نام سے اس موضوع پر کتابیں چھپ گئی ہیں اور دنیا میں بڑی شہرت پا رہی ہیں اور بڑی دلچسپی سے پڑھی جا رہی ہیں۔ ان کتابوں کے مغربی مصنفین کو تو تشویش لاحق ہے کہ پاکستان ایٹمی بم بنا رہا ہے۔ یہ بم مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس علاقے میں عربوں کے پاس پہنچ جائے گا اور اس طرح عرب اسرائیل ایٹمی جنگ چھڑ جائے گی جو ساری دنیا میں پھیل کر  عالمی امن کے لئے خطرہ ہو گی جبکہ اسلامی بم کے ہندو مصنفین نے اپنی بحث کی بنیاد ہندوپاک ایٹمی چپقلش پر رکھی ہے۔ یہ کتابیں جیسے کہ متوقع تھا سیاسی بنیادوں پر استوار کی گئی ہیں اور اگرچہ ان میں ایٹمی جنگ کی جنگی چالوں کے تذکرے متعلقہ ممالک کے خصوصی حالات کے تناظر میں ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے معاہدے کی ناکامیوں کے مباحث ہیں لیکن ایٹم بم کی پیدائش کے اسباب پر کوئی بات نہیں اور یہ خامی صرف ان متذکرہ مصنفین تک محدود نہیں بلکہ روئے زمین کے کسی فلسفی کسی دانشور کی نگاہ آج تک اصلی حقیقت کی جانب متوجہ ہونے سے قاصر رہی ہے۔ سب لوگ مسئلے کی اوپر والی لہروں میں تیرتے ہیں۔ مسئلے کی تہہ میں غوطہ زن ہو کر حقیقت کی تلاش کی جانب کوئی توجہ نہیں کرتا بلکہ اس بنیادی نکتے کا کسی کو خیال تک نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ دو کتابوں کی بجائے اگر دو سو کتابیں بھی اس موضوع پر یعنی اسلامی بم کے موضوع پر شائع ہو جائیں تو کسی کے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا کیونکہ یہ سب کچھ پانی میں مندھانی ہے مکھن کیسے چڑھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایٹمی جہنم کی پیدائش کے اسباب معلوم کرکے اُن اسباب کو زائل کرنے کی سعی نہیں ہو گی دنیا کی کوئی کتاب اور دنیا کی کوئی بھی طاقت اس انسانیت کو ایٹمی جہنم کے عذاب اور تباہی سے نہیں بچاسکے گی۔ یہ دنیا یا تو ایٹم بموں کی باڑھ میں جل بھن کر تباہ ہو جائے گی یا پھر ایٹمی توانائی برائے امن کے لئے چلنے والے ری ایکٹروں کی تابکاری شعاعوں سے متاثر ہو کر آہستہ آہستہ ایٹمی تابکاری کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر بالآخر نیست و نابود ہو جائے گی لہٰذا میں نے  جو یہ باب”جبریل کا اسلامی بم“ کے نام سے لکھا ہے اس میں اُ ن بنیادی اسباب پر قرآنِ حکیم اور سائنس کی روشنی میں بحث کی گئی ہے جو ایٹمی جہنم کی پیدائش کا سبب ہیں اور جنہیں رد کرکے ہی ایٹمی آگ کو بجھایا جا سکتا ہے۔

اب آیئے ہندوستانی مصنفین کے اسلامی بم کی جانب یہ کتاب ”پاکستان کا اسلامی بم“ جیسے کہ پہلے لکھا جا چکا ہے ہندوستان کے میجر جنرل ڈی کے پیلٹ اور پی کے ایس نمبودری نے لکھی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مصنفین اگرچہ ایٹمی جنگ کو ساری انسانیت کے لئے مہلک تصّور کرتے ہیں اور ایٹمی   ہتھیاروں کے پھیلا ؤکے خلاف ہونے والے بین الاقوامی معاہدے کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہیں تاہم انسانیت کو اس جہاں سوز جہنم سے بچانے کی بات کرنے کی بجائے اُ ن کا سارا زور ایٹمی تیاریوں ایٹمی جنگ کی صورت میں حفاظتی تدبیروں ایٹمی جنگی چالوں اور ایٹمی خطرہ پیدا کرنے کا الزام فریقِِ مخالف پر ڈالنے میں صرف ہوتا نظر آتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ انسان خواہ وہ کہیں بھی ہے مکافاتِ عمل کے نشے میں اندھا ہو کر وقتی ضرورتوں کے مقابلے میں ایک تباہ کن اور شرمناک عذاب کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اے کاش کہ مادہ پرستی کے بخار میں پھنکتی ہوئی انسانیت کو یہ حقیقت نظر آجا ئے کہ اب وہ اس مقام پر آ پہنچی ہے جہاں صرف د و ہی امکان موجود ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ ایٹمی بموں کی باڑھ میں نیست و نابود ہو جائے یا یہ کہ ایٹمی توانائی برائے امن کے ری ایکٹروں کی تابکاری کی زد میں رفتہ رفتہ تابکاری کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ایک المناک زندگی گزارنے کے بعد اس دنیا سے معدوم ہو جائے۔ یہ باتیں میں انسانیت کو خوفزدہ کرنے یا تشویش پیدا کرنے کے لئے نہیں کر رہا نہ ہی یہ محض ہوائی، تصّوراتی یا تخیلاتی باتیں ہیں بلکہ یہ سائنسی منطقی، فلسفی اور الٰہیاتی اٹل حقیقتیں ہیں۔ اتنی ہی اٹل اور ایسی ہی اٹل جیسے کہ اس کائنات کو چلانے والے خدائی قانون ہیں۔ اس سائنس کی روشنی میں کائناتی قوتوں کی تسخیر کے بل بوتے پر ہونے والی یہ مسلسل، لا،متناہی، روز افزوں ترقی کی منطقی اور سائنسی منزل ہی ایٹمی جہنم ہے۔ اس سائنسی عمل کا انجام ہی ایٹمی دھماکہ ہے۔ اب اس بات کا انحصار انسانیت پر ہے کہ آیا وہ اس ایٹمی دھماکے میں خود کو اُڑا دیتی ہے یا اس عمل کو بند کر کے اپنے آپ کو بچا لیتی ہے۔ یاد رکھئے کہ ایٹمی جنگ کے امکان کو ختم کرنے کی کوئی بھی سعی جو یہ انسانیت کرے گی اُ سے صرف اور صرف ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اگر یہ انسانیت دنیا بھر کے ایٹمی ہتھیاروں کو نابود کرانے میں کامیاب بھی ہو جائے تو بھی ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہتا ہے کہ ایٹمی بم پھر بنائے جا سکتے ہیں جس طرح کہ درخت کے پتے اور شاخیں کاٹ لی جائیں تو پھر اُگ آتے ہیں یا ایک دفعہ کا پھل اُ تار لیا جائے تو اگلے موسم میں پھر لگ جاتا ہے اس لئے جب تک کہ اس ایٹمی درخت کی جڑ نہیں کاٹی جاتی ہر کوشش بیکار ہوجائے گی اور جڑ کاٹنے کے معنے یہ ہیں کہ عیب جوئی ،زر اندوزی اور دولت کے ہمیشہ رہنے کے عقیدے کو ختم کر دیا جائے اور ایسا کرنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ موجودہ  مادہ پرستانہ سائنسی ترقی اور اس پر مبنی نئی تہذیب خود بخود ختم ہو جائے گی اور نہ رہے گا ایٹمی بانس نہ بجے گی ایٹمی بانسری۔ ٹھیک ہے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات آپ کو ناممکن ناقابلِ عمل نظر آتی ہے۔ مجھے  آپ سے کلّی اتفاق ہے لیکن وہ دن آنے والا ہے کہ یہ انسانیت اس ترقی،اس ایٹمی توانائی، ان مشینوں سے،اتنی خوفزدہ،اتنی بیزار ہو جائے گی کہ پناہ مانگے گی بشرطیکہ ایٹمی جنگ نے اسے اتنا موقع دیا۔ یہ ترقی،یہ تہذیب، انسان کی زندگی کو اتنی اجیرن کر دے گی کہ اس دنیا کا ماحول ہر لحاظ سے ایٹمی جہنم نظر آئے گا۔ ماحول تو اَب بھی کچھ اچھا نہیں۔ یہ دھماکے، یہ قتل و غارت، یہ مہنگائی، یہ منشیات،یہ ہوس پرستی،یہ اخلاقی بے مائیگی، یہ بے مروّتی، یہ خود غرضی، یہ افراتفری، یہ سراسیمگی،انسان کی زندگی کو اجیرن کئے ہوئے ہے مگر ابھی تک انسان کے دل سے اُ مید کی کرن غائب نہیں ہوئی اور نشہ بدستور موجود ہے لیکن اُ س وقت کو یاد کیجئے جب اُ مید ختم ہو جائے گی اور نشہ اُ تر جائے گا اور زندگی آگ کی بھٹی بن جائے گی۔ فاعتبرو یا اُ ولی الابصار اگر کچھ بصیرت رہ گئی ہے تو۔

یہ کتاب یعنی”پاکستان کا اسلامی بم“ پاکستان کے ایٹمی بم اور اس کی پیدائش کے ہندوستانی ایٹمی پروگرام پر مرتّب ہونے والے اثرات کے گرد گھومتی ہے۔ ہندو پاک دو ہمسایہ ملک ہیں اور روز ِ اوّل سے ہی ان کے باہمی تعلقات کشیدہ ہیں۔ اس کتاب میں دی گئی ساری دلیلوں کا نچوڑ کچھ یوں ہے:۔

کہ چونکہ اسرائیل کے پاس ایٹم بم ہے اور اس کے مخالفین عربوں کے پاس نہیں ہے لہٰذا عرب بھی ایٹم بم حاصل کرنا چاہیں گے اور چونکہ عربوں کے پاس دولت ہے جو پاکستان کے پاس نہیں ہے لیکن پاکستان کے پاس ایٹم بم بنانے کی صلاحیت ہے جو عربوں کے پاس نہیں۔ لہٰذا عرب پاکستان کو عربوں کے لئے ایٹمی بم بنانے کے لئے کہیں گے او ر چونکہ یہ بم پاکستان بنائے گالہٰذا اس کا کنٹرول بھی پاکستانیوں کے پاس ہی ہو گااور چونکہ ایٹم بم کا کنٹرول پاکستانیوں کے پاس ہو گا  لہٰذا پاکستان چند ایٹم بم اپنے پاس ہندوستان کے لئے بھی رکھ لے گا جو کہ پاکستان کا قریبی مد ِمقابل ہے او ر اس طرح ہندوستان بھی اپنی سا  لمیت کی خاطر ایٹمی جنگ کی تیاریوں پر مجبور ہو جائے گا۔ یہ مصنفین لکھتے ہیں:۔

”ظا ہر ہے کہ پاکستان اسلامی بم کی منظوری اور مالی اخراجات عرب اسرائیل چپقلش ہی کو سامنے لا کر ہی حاصل کر سکتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ عرب خواہ کچھ بھی کہیں پاکستان واجبی سا ایٹمی اسلحہ خانہ بنا لینے کے بعد اپنی جنگی ضرب کا رُ خ اسرائیل سے ہٹا کر ہندوستانی چپقلش کی جانب موڑ دے گا اور جب ایسا ہو گیا تو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علاقے کا کوئی معاہدہ یا کوئی بھی متفقہ باہمی اعلان ہندوستان کے لئے بے سود ہو گا اور ہندوستان اپنے لئے کسی بہتر راہ کی تلاش کرے گا“۔

      (پاکستان کا اسلامی بم صفحہ-137)

یہ مصنفین ہندوستان کے لئے ایسی صورت میں مندرجہ ذیل راہیں تلاش کرتے ہیں:۔

1۔        پاکستان کا ایٹمی دھماکہ ہوتے ہی کھلم کھُلا ایٹم بم بنا لینا۔

2۔        پاکستان کے ایٹمی خطرے سے نپٹنے کے لئے مروّجہ (غیر ایٹمی) قوتوں کو حملہ اور دفاعی لحاظ سے اس حد تک پھیلا دینا کہ پاکستان کے اندر تک حملے کئے جا سکیں اور پاکستان کے بڑے بڑے علاقوں  پر قبضہ کیا جا سکے۔

3۔        غیر یقینیت کی پالیسی کو اپنانا۔ ایسی پالیسی جو ہتھیاروں کی غیر موجودگی کے اعلان پر مبنی ہو لیکن مزید ایٹمی دھماکوں بشمول ہائیڈروجن بم کے دھماکوں کو جاری رکھنا اور میزائلوں کو بہتر بنانے کے کام کو تیز کر دینا۔

4۔        غیر یقینیت کی پالیسی کو اپنانا، ایسی پالیسی جو ہتھیاروں کی غیر موجودگی کے اعلان پر مبنی ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کی کافی تعداد بناتے رہنا، اسی طرح کہ ان ہتھیاروں کے آخری کانیکشن کھلے رکھنا۔(پاکستان کا اسلامی بم صفحہ-146)

مصنفین ان مذکورہ بالا چاروں صورتوں کے اثرات و عواقب پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:۔

            ”ان چاروں صورتوں کے اپنے اپنے سیاسی اور اقتصادی مضمرات ہیں۔ پہلی صورت کے معنے ہیں کہ ہندوستان دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے والے اپنے نظریئے سے دستبردار ہو جائے گا اور گو کہ اس پالیسی کے اختیار کرنے سے ہندوستان اپنی سالمیت برقرار رکھنے کے علاوہ ایک ایسی دنیا میں جس پر ایٹمی طاقت کی حکمرانی ہے اپنے سیاسی وقار میں اضافہ کر سکے گا لیکن اس طرح دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا جو انسانیت پر مبنی مقصد ہے وہ فوت ہو جائے گا۔ پالیسی نمبر ۲ صرف اُ س وقت تک کام کی رہے گی جب تک کہ پاکستان اچھا خاصا ایٹمی اسلحہ خانہ نہیں بنا لیتا۔ اس کے علاوہ یہ طریقِ کار بہت مہنگا ہو گا۔ پالیسی نمبر ۳ میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اپنا وہ اعلان واپس لینا ہو گاجس کے مطابق مزیدایٹمی دھماکہ نہ کرنا قرار پایا تھا گو کہ وزیر اعظم کا یہ اعلان ذاتی ہے اور حکومت کی پالیسی نہیں۔ پالیسی نمبر ۴ غالباً سب سے بہتر اور سب سے سستی ہے اور کسی بھی مخالف کو ہندوستان سے اسی کی توقع ہو گی۔ ہندوستان کے لئے سب سے خطرناک پالیسی اخلاقی بنیاد پر بغیر مذاکرے یا عمیق سوچ بچار کئے اس امر کو حالات کے دھارے پر چھوڑ کر لاپرواہ ہو جانے کی ہو گی۔ اگر ایسا ہوا تو ہمیں دفعتہً ایسے وقت میں فوری پریشانی کا سامنا ہو گا جس کے لئے ہم مادی اور جذباتی لحاظ سے تیار نہ ہوں گے اور یہ بات ہمیں ایسی ہی صورتِ حال سے دو چار کر دے گی جس کا تجربہ ہمیں 1962 ء میں ہو چکا ہے“۔       (پاکستان کا اسلامی بم صفحہ-147-146)

ان مصنفین کے ان بیانات کی روشنی میں حقائق کاتجزیہ کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ آج کی مخلوق کس حد تک تذبذب اور بے یقینی اور بے بسی کا شکار ہے۔ ایک طرف تو انسانی بقا کے لئے انسانیت کا مسئلہ سمجھ کر دنیاسے ایٹمی ہتھیاروں کے اعدام کی بات ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ شکوک و شبہات کے اس ماحول میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا اعلان کرکے خفیہ طور پر ایٹمی بم بنانے اورایٹمی بموں کی عدم موجودگی میں اتنی بے پناہ فوجی قوت بنانے کی بات کی جارہی ہے کہ پاکستانی فوج کو بے بس کر کے رکھ دیا جائے اور پاکستان کے بڑے ٍبڑے رقبوں پر قبضہ کر لیا جائے اور یا ایٹمی ہتھیار خفیہ طور پر بنا کر انہیں اس طرح محفوظ کر دیا جائے کہ ضرورت کے وقت بس آخری تار ہی جوڑنی پڑے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں آخر اس قدر احتٰیاط اور اتنے حفظ ما تقدم اور اتنے خوف و ہراس کا اہتمام کیوں کیا جا رہا ہے۔ ورنہ کوئی بھی ملک کسی بھی مہلک ترین غیر ایٹمی ہتھیارکے معاملے میں قطعاً کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ واضح ہے کہ یہ سب کچھ ایٹمی ہتھیاروں کی عالمگیر لازوال لامتناہی تباہیوں کے سلسلے کو مدِّ نظر رکھ کر ہی کیا جاتا ہے تو پھر یہ دنیا ایٹمی ہتھیار بنانے پر مصر کیوں ہے اور اس معاملے میں اتنی بے بس کیو ں ہے۔ ایک بڑا دلچسپ مفروضہ یہ ہے کہ اگر آج مہاتما گاندھی اہنسا کے علمبردار  ہوتے تو ان کا اس معاملے میں روّیہ کیا ہوتا۔ انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل مرحوم نے تو ایٹمی ہتھیاروں کیخلاف بڑی ہاؤہو مچائی اور اُ ن کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ہائیڈروجن بم کے موجد ایڈورڈ ٹیلر جو اَب بھی بقیدِ حیات ہیں اور امریکی صدر کے سائنسی مشیر ہیں سے بات تک کرنا گوارا نہ کی تاہم رسل کی ساری سعی بیکار ثابت ہوئی۔کسی نے بھی اس ایٹمی وبال کی ماری ہوئی دنیا میں اُ س کی بات نہ سنی۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری انسانیت اس موجودہ صنعتی، اقتصادی ڈھانچے میں اس طرح لگی ہوئی ہے جس طرح کہ مچھلیاں جال میں لگی ہوتی ہیں۔ یہ مادی ترقی پر مبنی سائنسی تہذیب ایک درخت کی مانند ہے اس کی جڑیں ہیں، تنا ہے، شاخیں ہیں، پتے ہیں اور پھل ہے اور پھل اس کا ایٹم بم ہے۔ آج اس دنیا میں کسی ملک یا قوم کی یہ جر أت نہیں کہ کہے کہ اے لوگو میں ایٹمی ہتھیارنہیں بناؤں گا دوسرے ہی لمحے اُ س کی مخالف ایٹمی طاقتیں اُ سے ہڑپ کر جائیں گی۔ یہ ہے اس ترقی پذیر فتہ تہذیب کا مزاج اَلبَتَّہ مسلم اُ مہ کو اگر خدا توفیق دے اور ہدایت بھی دے تو یہ قوم اس امر کو ایک تحریک کی صورت میں اُ ٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ نعرہ لگائے اک نعرہ ءِ مستانہ، نہ ایٹمی ہتھیار بنائیں گے نہ بنانے دیں گے۔میری اس بات کو دنیا کا ہر مسلمان اس وقت ناممکن اور لایعنی قرار دیگا اوردنیائے اسلام کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اُ س کی بات کچھ غلط بھی نہ ہو گی لیکن میں نے اس بات کو تائیدِ ِایزدی کے ساتھ مشروط کیا ہے ورنہ دنیائے اسلام کی موجودہ پوزیشن سے میں بھی بے خبر نہیں اَلبَتَّہ اتنا کہہ سکتا ہوں اور کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اُ متِ مسلمہ یہ نعرہ لگائے تو روئے زمین کی انسانیت اس امر کو متشکرانہ نگاہوں سے دیکھے گی اور ممنونِ احسان ہو گی۔ یہ بات واقعی بڑی بات ہو گی اور اسلامی اُ مہ کے شایانِ شان ہو گی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر دنیا کی اکثر آبادی ایٹمی تباہ کاریوں سے آشنا نہیں بالخصوص مشرقی لوگ تو اس امر میں کلّی طور پر نادان ہیں اور دنیا کی عنانِ حکومت جن شخصیتوں کے ہاتھ میں ہے وہ ایٹمی سائنس سے نا آشنا ہیں۔ انہیں صرف اپنی اس ذمہ داری کا خیال ہے کہ کس طرح وہ اپنے ملک کی سالمیت کو برقرار رکھیں اور اپنے ملک کے باشندوں کی مادی ضروریات پوری کریں اور لوگ ایٹم بم کو محض ایک بڑا بم سمجھتے ہیں اور تابکاری کی تباہ کاری اُ ن کی بلا جانے۔ مغرب کے لوگ اس معاملے میں کچھ سمجھ دار ہو گئے ہیں۔ جہاں کہیں بھی اُ ن کی حکومت ایٹمی ری ایکٹر نصب کرنا چاہتی ہے وہ اپنے ڈنڈے سونٹے سنبھال کر وہاں دھرنا مار کر بیٹھ جاتے ہیں اور جوں ہی اُ نہیں پتہ چلتا ہے کہ فلاں مقام پر ایٹمی فضلہ دفن کیا جانا ہے تو وہ ہر حال میں اُ س جنازے کو وہاں دفن نہیں ہونے دیتے، نہ ہی اُ س کے ماتم کے لئے تیار ہوتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جِن دفن ہوتے ہی قبر سے نکل آتا ہے اور ارد گرد کے علاقے کے لوگوں کے لئے وبالِ جان بن جاتا ہے۔

”پاکستان کا اسلامی بم“ کے مصنفین کو شکایت ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکے خلاف بین الاقوامی معاہدہ این ۰ پی ۰ ٹی ۰NPT پانچ ایٹمی طاقتوں پر لاگو نہیں ہوتا نیز بعض ممالک مثلاً اسرائیل اور جنوبی افریقہ اگر خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کرتے ہیں تو اُن کا کوئی مواخذہ نہیں ہوتا۔ وہ لکھتے ہیں:۔

            ”ہماری یہ کوشش ہے کہ ہندوستان کے لوگوں پر این پی ٹی کی حقیقت کو آشکارا کریں کہ کس طرح اس کی شقیں پانچ ایٹمی طاقتوں کوتو اس پابندی سے مبرا قرار دیتی ہیں اور کس طرح اسرائیل اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کے لئے خفیہ طریقوں سے ایٹمی ہتھیار بنا نے کے مواقع کو نظر انداز کرتی ہیں لیکن اُ ن ممالک کو ایٹمی صنعت سے محروم کرتی ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں“۔     (پاکستان کا اسلامی بم پیش لفظ صفحہ -7)

در حقیقت جمہوریت اور مساوات کے بلند بانگ دعووں والے اس جدید دور کی کلّی کھولنے کے لئے یہی این پی ٹی کی مثال کافی ہے کہ وہ ممالک جن کے پاس ہزاروں ایٹم بم موجود ہیں وہ تو دھڑا دھڑا ایٹمی اسلحہ کے انبار لگاتے جائیں اور اُ ن کے حواری ممالک بھی خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بناتے رہیں لیکن دوسرے ممالک پر یہ پابندی لگا دی جائے کہ ایٹمی ہتھیار بنانا تو درکنار اُ نہیں پُر امن مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی پیدا کرنے کی اجازت اس خطرے کے پیش نظر نہ ہو کہ مبادا وہ ایٹمی ہتھیار بنانا شروع کر دیں۔”پاکستان کا اسلامی بم“ کے مصنفین بھی یہی رونا روتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:۔

”اس کتاب کا ایک مقصد یہ ہے کہ گذشتہ چونتیس برس میں ایٹمی ہتھیاروں کے مسلک کے علمبرداروں نے جو ارادی طور پر جھو ٹی اطلاعات پھیلائی ہیں اور جھوٹے نظریات کا پرچار کیا ہے اُ ن کو آشکار کیا جائے۔ دراصل یہ ایک ردِّ عمل ہے ایٹمی پھیلا ؤکے متعلق مروّجہ دانائی کے خلاف اور اُ ن لوک گیتوں کے خلاف جو ایٹمی ہتھیار رکھنے والی قوموں اور اُ ن کے حواریوں کے بھانڈوں نے متعدد امن تحریکوں اور ہتھیاروں پر کنٹرول کی لابیوں نے پھیلا رکھے ہیں۔ ہمار ا مقصد یہاں اس دیو مالا کے تخلیق کاروں کو بے نقاب کرنا اور اس دیو مالا کو معدوم کرنا ہے“۔

(پاکستان کااسلامی بم پیش لفظ صفحہ -6)

ان مصنفین کا یہ عزم لائق صد ستائش لیکن جب اُ ن کا ملک ہندوستان بھی ایٹمی ننگوں کے کلب کا ممبر بن جائے گا تو لامحالہ وہ بھی وہی پالیسی اپنائے گا جو دوسرے ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک اپنائے ہوئے ہیں۔ آج جو مندر کے باہر بت شکن کے روپ میں کھڑا اس بت کو للکار رہا ہے جب اس بت تک اس کی رسائی ہو گی اور سامنے جائے گا تو جھُک جائے گا اور جس دیو مالا کو توڑنے کے لئے آج وہ آتش زیر پا ہے کل وہ خود اس مالا کو جپنے لگے گا۔ یہی اس ایٹمی مسلک کا دستو ر ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکے خلاف معاہدے این پی ٹی کے متعلق یہ مصنفین کہتے ہیں:۔

”عام تاثر یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکے خلاف بین الاقوامی معاہدہ جس پر دنیا کے ایک سو تین ملکوں نے دستخط کئے تھے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف بین الاقوامی تحریک کے ساتھ ختم ہو رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلا ؤدنیا میں بےروک ٹوک ہو رہا ہے۔ ہندوستان اُ ن ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے پہلے پہل اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکے خلاف معاہدے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ ہندوستان اُ س تحریک کی صفِ اوّل میں تھاجس کا مقصد پہلے ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کرنا اور بالآخر ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل پابندی لگانا تھا تاہم وہ خطرہ جس پر تشویش کا اظہار ہم نے اقوامِ متحدہ میں کیا تھااب ہمارے اپنے دروازے پر دستک دے رہا ہے“۔ 

(پاکستان کا اسلامی بم صفحہ-64)

اس کتاب کے مصنفین ہی نہیں بلکہ اس دنیا کا ہر دانش ور اس ایٹمی مسئلے کی حقیقت کو سمجھنے سے  اب تک کلّی طور پر قاصر رہا ہے۔ محض تشویش کا اظہار اور زبانی تجویزیں اس بلائے بے درماں کا علاج نہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلا ؤبڑھے گا بڑھتا چلا جائے گا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بن بلایا مہمان ہے و ہ غلطی پر ہیں بلکہ اس مہمان کو باقاعدہ دعوت نامے دیئے جا رہے ہیں اور یہ مہمان دستک دیئے بغیر در آئے گا اور اس کی ضیافت بھونے ہوئے میزبانوں سے ہو گی اور اس کا معدہ ایک پورے ملک کی ساری زندہ مخلوق کو ہضم کرنے پر قادر ہے۔ دنیا بھر کے دانشوروں کو اس مسئلے کی گہرائی تک دیکھنا چاہیئے اور اگر وہ مجبور ہیں یا ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو پھر ہیروشیما اور ناگاساکی کی مثال کسی ناول نویس کی افسانوی تخلیق نہیں پھر اس آگ کے آگے تنکوں کے بند باندھنے سے کیا فائدہ؟ یہ این پی ٹی کے معاہدے، اور یہ ڈیٹرینس کی Deterrence تھیوریاں اور کسی ایک علاقے کو ایٹمی جنگ سے پاک رکھنے کے منصوبےاس آگ کے سامنے تنکوں کے بند ہیں۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ایٹمی آگ کے پھیلاؤ کو صرف اس صورت میں روکا جا سکتاہے کہ اس آگ کی پیدائش کی اصلی وجوہ جو عیب جوئی، زر اندوزی میں کامل استغراق اور دولت کی لازوالیت میں یقین ہے کو ناپید کیا جائے۔ہمارے یہ مصنفین ایٹمی بم کی تباہ کاریوں کو جاننے اور یہ سمجھ لینے کے باوجود کہ ایٹمی جنگ ہندوستان کو کلّی طور پر تباہ کر دے گی۔ اُ ن ہندوستانیوں کے نظریہ کو جو اخلاقی، قانونی بنیادوں پر ایٹم بم کے خلاف ہیں۔ پسندیدیگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ وہ لکھتے  ہیں:۔

”ایٹمی مسائل کے متعلق بحث مباحثے اس ملک میں کئی سال سے چل رہے ہیں۔کبھی یہاں فاختائیں تھیں جن میں دانش ور، تاجر اور حکومت کے کئی بے چہرہ لوگ تھے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو وقتی اخلاقی، قانونی اقدار کے پیچھے چھپا رہے تھے۔ ان اقدار کا اصلی مسئلے سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا تاہم یہ لوگ ایٹم بم کیخلاف اپنے نظرئیے کے لئے کم علم حلقوں سے تعاون حاصل کر رہے تھے“۔

   (پاکستان کا اسلامی بم صفحہ -92-91)

ان فاختاؤں کے مقابلے میں اُ ن لوگوں کو جو ایٹم بم بنانے کے حق میں ہیں شہباز کہا جاتا ہے۔تاہم جب کبھی وقت آیا تو نہ فاختہ کا گھونسلا سلامت رہے گا نہ شہباز کا۔ شہباز کو اپنے پروں کی مضبوطی کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی فاختہ کو اپنی مسکینی سے کچھ حاصل ہو گا۔ اگرچہ یہ مصنفین این پی ٹی یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکیخلاف ہونے والے معاہدے کے معاملے میں تو کچھ پُر اُ مید نہیں اَلبَتَّہ میوچوال ڈی ٹرینسMutural Deterrence کے اثرات پر ان کو یقین ہے۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ اگر دو مخالف ملکوں میں سے ہر ایک کے پاس ایٹم بم ہوں تو وہ ایک دوسرے پر حملے سے گریز کریں گے یہی نظریہ تمام ایٹمی ممالک کا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے  ہیں:۔

”ایٹمی مکالمہ ایک ایسی حقیقت ہے جو یکدم دو مخالف ایٹمی طاقتوں کو تقسیم بھی کر دیتی ہے اور متحد بھی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُ ن کے مابین ایٹمی جنگ کے نتیجے میں، اُ ن میں سے کسی بھی ملک کا زندہ رہنا مشتبہہ ہے“۔  

(پاکستان کااسلامی بم صفحہ -113)

سو یہ ہے دوستو ایٹمی طاقتوں کے سارے ایٹمی فلسفے کی بنیاد یعنی جس کے پاس ایٹم بم ہو گا اُ س پرحملہ نہیں ہو گا۔ اگر یہ بات ہے تو پھر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکیخلاف کیوں یہ ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ چاہیئے تو یہ کہ ہر ملک کو اپنا ایٹمی اسلحہ بنانے میں مدد دی جائے تاکہ ہر ملک کے پاس اپنا ایٹم بم ہو۔نتیجتہً کوئی ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کی جرأ ت نہ کرے اور دنیا میں امن و امان قائم ہو لیکن یہاں بھی ایٹمی طاقتوں کی خودغرضی اور مصلحت کیشی آڑے آتی ہے جو خود اپنی چودھراہٹ بر قرار رکھنے کی خاطر دوسرے ملکوں کو ایٹمی طاقت بننے سے روکتی ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈیٹرنس والی تھیوری نہایت ہی بودی تھیوری ہے۔دنیا کے ہوش مند دانشوروں کا کہنا ہے کہ ڈی ٹرینس اُ س وقت تک موثر ہے جب تک کہ پہلی ٹھاہ نہیں ہو جاتی۔سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عام جنگ دو ملکوں میں لگ سکتی ہے اور پھر یہ عام جنگ اقوامِ عالم کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے پھر کسی ہرنے والی طاقت جس کے اسلحہ خانوں میں ایٹم بم تلملارہے ہو ں گے کے ہاتھ کیسے باندھے جائیں گے۔دنیا میں جس تیزی اور شدت سے جنگوں کے شعلے بھڑکتے جا رہے ہیں اور جس تیزی سے دشمنیاں بڑھ رہی ہیں اور یہ دنیا ہوسِ زر کے جنون اور ضروریاتِ زندگی کی ظالمانہ آگ کے شعلوں کی تپش میں جس غضب سے آدم خوری کی جانب مائل ہو رہی ہے اسے دیکھنے اورسمجھنے کے باوجود بھی یہ باور کر لینا کہ عام عالمی جنگ یا ایٹمی عالمی جنگ نہیں ہو سکے گی اگر اندھا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ تاہم یہ دنیا اندھا دھند ایٹمی جہنم کی جانب کچھی جا رہی ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ امریکہ اور روس برابر کی ٹکر کی ایٹمی طاقتیں ہونے کے باوجود جنگ کے خطرے میں کیوں مبتلا ہیں؟۔ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کی باتیں کیوں ہو رہی ہیں؟ ایٹمی ہتھیاروں کو نابود کرنے کی تجویزیں کیوں پیش کی جارہی ہیں؟ یورپ اور امریکہ کی پبلک نے ایٹمی بموں کے خلاف آسمان کو سر پر اُ ٹھا کر اپنی حکومتوں کے لئے کیوں پریشانیاں پیدا کر رکھی ہیں؟ امریکہ میں ایٹمی ری ایکٹر کیوں بند کئے جا رہے ہیں؟ اور جو ر ی ایکٹر زیرِ تعمیر ہیں اُ نہیں کیوں ادھورا چھوڑا جا رہا ہے؟ واہ رے انسانیت؟ ایٹمی مسئلے کی جھنجھلاہٹ نے تیری سِٹی گم کیوں کر دی ہے؟ کہاں ہیں وہ بڑے بڑے ماہرین ِ نفسیات، اور وہ بھی کیا کریں اس معاملے میں خود اُ ن کی اپنی سِٹی گم ہو چکی ہے لیکن ابھی کہاں؟ ابھی تو ابتدائے عشق ہے ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ آج ساری دنیا میں گنتی کے چند ایٹمی ری ایکٹر کام کر رہے ہیں لیکن جب تیل وغیرہ کے وسائل ختم ہو جائیں گے اور ساری دنیا کی صنعت کا انحصار فقط ایٹمی توانائی پر رہ جائے گا اور ہر پاور ہاؤس  ہر ریلوے انجن ہر بحری جہاز ہر ہوائی جہاز ہر بس حتٰی کہ ہر پرائیویٹ کار کا اپنا اپنا ری ایکٹر ہو گا یہ ری ایکٹر پھٹیں گے تابکاری پھیلائیں گے۔ ہر شخص اس تابکاری کی زد میں ہو گا تو اس زمین پر آتش بازی کا سا منظر ہو گا اور یہ زمین تابکاری کی بیماریوں کا ایک بڑا بین الاقوامی ہسپتال بن جائیگی۔

”پاکستان کا اسلامی بم“ کے مصنفین ڈی ٹرینس کی کامیابی کے یقین کے باوجود ایٹمی جنگ کی بات کرتے ہیں اور پھر یہ سمجھنے کے باوجود کہ ایٹمی جنگ کرنے والے دونوں ملکوں میں سے کسی کی بھی زندگی بچنی محال ہے لکھتے ہیں کہ ایٹمی جنگ کا انحصار پہلی جھڑپ کی کامیابی پر ہے۔ آپ بھی پڑھیئے۔وہ لکھتے ہیں:۔

”لیکن جہاں تک ایٹمی ہتھیاروں کا تعلق ہے اگر ہم تجربہ حاصل کرکے کوئی اصول معلوم کریں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ پہلی ہی جھڑپ میں بہت دیر ہو چکی ہے۔ پہلی ہی کامیاب جھڑپ ہمیں کسی موثر طریقے پر (اگرچہ تھیوریٹیکل ہی کیوں نہ ہو) لڑنی پڑے گی“۔

(پاکستان کااسلامی بم صفحہ  -120)

پہلی کامیاب جھڑپ تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ایک ملک بغیر اعلانِ جنگ کئے دوسرے ملک کی بے خبری میں ایٹمی حملہ کر کے اُ سے تہس نہس کر ڈالے اور یہ بات اس اضطرابی دور میں بعید از قیاس بھی نہیں۔ اس لئے اس اچانک حملے کے خطرے کے پیشِ نظر ہر ملک کو چوکس رہنے کے لئے دن رات انگاروں پر لوٹنا ہو گا۔بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہوئی دنیا پر ایٹمی پاگل پن کا دورہ پڑ گیا ہے۔ہوسِ زر اور زندگی کی سہولتوں کے تپ میں پھنکتی ہوئی یہ انسانیت سامری اور دجّال کے طلسم میں کچھ اس طرح مبتلا ہے اور اس طلسم کی بھول بھلیوں میں کچھ اس طرح مجبور ہو کر کھو گئی ہے کہ دو وقت کی روٹی ،پہننے کے لئے کپڑے ،رہنے کے لئے مکان، دوائی کے لئے پیسوں ،بسوں کے لئے ٹکٹ کی خاطر اپنے آپ کو اوراپنی آل اولاد کو ایٹمی جہنم میں گرانے اور دائمی دردناک عذاب میں مبتلا ہونے کے لئے بھی اس جوش و خروش سے آگے بڑھ رہی ہے جس طرح راہِ خدا میں لڑنے والا مجاہد میدانِ جنگ میں شہادت کے شوق میں آگے بڑھتا ہے۔

”پاکستان کا اسلامی بم“ کے مصنفین معذرت خواہ ہیں وہ لکھتے ہیں:۔

”ہمارا یہ کام یعنی ہماری یہ کتاب کوئی عالمانہ یا فاضلانہ کام نہیں ہے بلکہ یہ تو محض اُ ن اہم ترین مسئلوں میں سے ایک مسئلے کے متعلقہ حقائق کا ایک خاکہ ہے جن مسئلوں پر انسانی بقا کا دارومدار ہے“۔

(پاکستان کا اسلامی بم پیش لفظ صفحہ -7)

جہاں تک ان مصنفین کی اس کتاب کا عالمانہ یا فاضلانہ نہ ہونے کے سبب معذرت کا سوال ہے تو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ جس خصوصی موضوع پر انہوں نے قلم اُ ٹھا یا ہے اُ س پر ٹوکیو سے لے کر نیو یارک تک ہر لکھنے والے کے دلائل کی حدود اور اُ ن کے علم کا حدود اربعہ یہی ہے اور پورے بحث کی بنیاد ظن و قیاس پر ہے اور ان مصنفین نے یہ جو لکھا ہے کہ یہ اُ ن اہم ترین مسئلوں میں سے ایک مسئلے کے متعلقہ حقائق کا خاکہ ہے جن مسئلوں پر انسانی بقا کا دارومدار ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مصنفین ایٹمی مسئلے کو ایک ایسا مسئلہ تصّور کرتے ہیں جس پر انسانی بقا کا دارومدار ہے۔ وضاحت سے لکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایٹمی مسئلہ انسانیت کو تباہی ہی سے دوچار کرنے کا اہل نہیں بلکہ انسانیت کو صفحہ ہستی سے معدوم بھی کر سکتا ہے۔ یہ بات تو متفقہ علیہ ہے اور اس سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرتالیکن یہ مصنفین بلکہ اس موضوع پر لکھنے والے دنیا  بھر کے سارے مصنفین جب ایٹمی جنگ کی چالیں سمجھانے دشمن کے ایٹمی حملے سے بچاؤ کی تدبیریں بتانے، دُ شمن کو زیادہ سے زیادہ ضرب لگانے کی ترکیبیں سکھانے اپنا نقصان کم سے کم کرنے کے گُر سکھلانے اور ایٹمی جنگ سے زندہ سلامت بچ نکلنے کی ا ُ میدیں دلانے کا فریضہ سنبھالتے ہوئے ذہنی اختراعوں،نکتہ سنجیوں، خیال آفرینیوں کے مرغولے بنا بنا کر بڑی مہارت سے اُ نہیں ہوا میں دائروں کی شکل میں چھوڑتے نظر آتے ہیں توایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی زمین پر بیٹھ کر زمین سے لاکھوں میل دور خلا ء کی پنہایؤں میں گم گشتہ انسان کو ریڈیو سے زمین پر اترنے کی ترکیبیں بتا رہا ہو حالانکہ نہ تو اُ س انسان کے پاس ریڈیو ہے اُ س کا سیارہ تباہ ہو چکا ہے اور زمین پر اُ س کو لانے کے لئے کوئی ذریعہ موجود نہیں۔ دوستو! یہ ساری نکتہ آفرینیاں محض ابلہہ فریببیاں ہیں۔ نہ تو دنیا ایٹم بموں کی موجودگی میں ہمیشہ کے لئے ایٹمی جنگ کو روک سکتی ہے نہ ہی ایٹم بموں سے بچاؤ کا کوئی ذریعہ ہے نہ ہی ایٹمی تابکاری سے بچاؤ کا کوئی طریقہ ہے نہ ہی عالمی ایٹمی جنگ کے بعد کچھ بچ سکتا ہے۔ لوگ ایٹمی جنگ کودو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں اوّل عالمی ایٹمی جنگ دوم محدود ایٹمی جنگ۔ عالمی ایٹمی جنگ کے نتیجے پر تو سب کااتفاق ہے کہ کچھ نہیں بچے گا لیکن محدود ایٹمی جنگ کے متعلق خیال یہ ہے کہ بقایا ملک بچ جائیں گے لیکن کیا ضمانت ہے کہ محدود ایٹمی جنگ صرف اک بار ہی ہوگی اور یہ کہ دو سرے ممالک میں محدود ایٹمی جنگ پر تالے لگے رہیں گے۔یہ ساری باتیں سمجھ میں آ جانے والی ہیں لیکن قوانینِ ِ قدرت کے عمل کو روکنا ممکن نہیں۔ دانش وروں کی ایک جماعت کو نشے میں دھت کر دو پھر دیکھو و ہ کیا او ل بکتے ہیں۔ہوسِ زر، تسخیر ِکائنات کے جنوں اور اس جدید ترقی کے اثرات نے انسانیت کو نشے میں مبتلا کر دیا ہے کہ ایٹمی بموں کے بھیانک نتائج کو جان لینے کے باوجود اس انسانیت کو اپنی ابلہہ فریبی کے سبب دوزخ کی لپیٹ جنت کی بہار کی صورت میں دکھائی دے رہی ہے۔ جو کوئی بھی ایٹم بم کے خلاف بات کرے گا اسے مسکین فاختہ کہا جائے گا اسے پاگل سمجھا جائے گا اس کی بات کوئی نہیں سنے گااور یہ کوئی نئی بات نہیں حق بات کہنے والے ہر شخص کی قسمت میں پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کاتاج ہوتا ہے اور ہر تباہ ہونے والی قوم نے نشے کے سبب حق بات سننے کی صلاحیت کھودی۔ لوگ دھڑا دھڑا بلڈنگ پر بلڈنگ بنا رہے ہیں۔ نئی بستیاں تعمیر کر  ہے ہیں۔ دولت کے انبار اکٹھے کر رہے ہیں۔ انسانیت تسخیرِ کائنات کے نشے میں چُور ہے اور قدرت یہ سوچ رہی ہے کہ ان کو بھسم کرنے کے لئے کتنی طاقت کے کتنے ایٹم بم درکار ہوں گے مگر آج کے انسان کا دل و دماغ پتھر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

خوفناک حقائق:

ہندوستان کے جنرل ڈی کے پلیٹ اور پی کے ایس نمبودری کے ”پاکستان کا اسلامی بم“ کی اشاعت کے سات سال بعد بھارت کے اخبار انڈین ایکسپریس 1987 ء میں ایک بھارتی نژاد ڈاکٹر اشوک کپور ،حال پروفیسر آف پولیٹیکل سائنس، واٹرلو یونیورسٹی، کینیڈا کا ایک مضمون بنام ”پاکستان اور امریکی بمز(Pakistan And American  Bombs) چھپا ہے اورچونکہ یہ مضمون گزشتہ چھ سات برسوں میں ہندوستان کی ایٹمی سوچ  میں آنے والی تبدیلی اور دنیا بھر میں ایٹمی جنگی پاور کے جنون میں روز افزوں شدت کی برملا غمازی کرتا ہے لہٰذا ہم اس مضمون کو امریکی مصنفین کے اسلامی بم سے پہلے ہندوستانی مصنفین  کے ”پاکستان کا اسلامی بم“ کے ساتھ لف کر دیں گے تاکہ قاری خود سوچ کی اس تبدیلی کو محسوس  کر سکے اور یہ بھی جان سکے کہ دنیا کے ایٹمی جنون میں کس قدر اور کس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ”پاکستان کا اسلامی بم“ کے بھارتی مصنفین نے ایٹمی خطرے کو دنیا بھر میں پائی جانے والی زندگی کے لئے ایک عالمگیر خطرہ قرار دیا ہے اور این پی ٹی یعنی نان پرالیفیریشن ٹریٹی(Non Proliferation Treaty) ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے والا بین الاقوامی معاہدےکو ناکارہ اور ناقابل ِ عمل گردانا ہے اور اگرچہ اپنی کتاب میں ایٹمی جنگی چالوں، ایٹمی جنگ کی تیاریوں، حفاظتی تدبیروں، ایٹمی جنگ میں حملہ اور دفاع کی تدبیروں کاتفصیل سے تذکرہ کیا ہے تاہم کتاب کے اوّل سے لے کر آخر تک مصنفین کے ذہن پر ایٹمی جنگ کی ناپسندیدگی اور ایٹمی جنگ کے خوف کا سایہ مسلّط نظر آتا ہے۔ وہ ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بے خبر معلوم نہیں ہوتے جبکہ بھارت کا یہ ایٹمی شاہسوار اس متذکرہ بالا مضمون کا مضمون نگار واٹر لو یونیورسٹی میں سیاسیات کا پروفیسر ایٹمی جنگ کے بھیانک خطرات سے بے پرواہ، ایٹمی  تابکاری کی روح فرسا تباہ کاریوں سے بے نیاز، اپنے مضمون میں بھارت کو فی الفور ایٹم بم بنا کر ایٹمی طاقتوں میں شامل ہونے کا مشورہ بلکہ حکم دیتا ہے کیونکہ فہم و فراست کے اس نابغہ روزگار دانش ور کو یقین ہے کہ ایٹم بم چلائے جانے کے لئے نہیں بنتے۔ اُس نے اپنے مضمون میں واشگاف الفاظ اور دو ٹوک انداز میں یہ فیصلہ صادر کیا ہے کہ ایٹمی ہتھیار فقط قوت کا مظہر اور سیاسی ترجیحات کے حصول کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں اور چونکہ اُ س نے اس یقین کا برملا اظہار کیا ہے۔ آپ اسے دنیا میں کپوری پروماتو نظریہ کہہ سکتے ہیں۔ واٹرلو یونیورسٹی کا یہ پروفیسر ہندو پاک واٹرلو کی جنگ بلکہ ساری دنیا کی جہانگیر سیاسی جنگ کو ایک فلک شگاف نعرے سے فتح کرنا چاہتا ہے۔ بے چارہ پروفیسرسمجھتا ہے کہ وہ قدیم مہا بھارت کی جنگ میں جنگی رتھوں میں بیٹھے ہوئے سورماؤں کا خون گرمارہا ہے اور نہیں جانتا کہ معاملہ بیسویں صدی کے آخیر میں شہروں اور ملکوں کو بھسم کرنے والے اگنی راکشسوں سے ہے۔ایسا بھارتی مکموہن نہ تو ہندوستان کا دوست ہو سکتا ہے اور نہ ہی عالمی امن کی ہوا ساز گار کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ لاعلمی اور نا عاقبت اندیشی کا یہ اگنی بگولا ہندوستان کے باسیوں میں اپنے آپ کو Hawks (شہباز) کہنے والوں میں تو مقبولیت کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اسی ہندوستان میں جنرل دہرہ اور اس قبیل کے دوسرے بے شمار باشندے موجود ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے بخوبی آگاہ ہونے کی وجہ سے ایٹمی ہتھیاروں کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انڈیا اگر پاکستان کے کسی شہر پر ایٹم بم چلائے گا تو خود اس کا اپنا کافی حصہ ایٹمی تباہی کی لپیٹ میں آئے گا تاہم ایسے لوگوں کی دانشمندانہ آواز پر کون کان دھرے گا۔ برٹرینڈرسل مرحوم اور البرٹ آئن سٹائن مرحوم انسانیت کے نام اپنی دردمندانہ اپیلیں کرتے کرتے راہیءِ ملک عدم ہوئے۔ اُ نہوں نے انسانیت کو پکار پکار کر کہا کہ اپنے جھگڑے اور تنازعے بھول جاؤ ورنہ ایٹمی جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے لیکن کیا انسانیت نے اپنے جھگڑے اور تنازعے فراموش کر دیئے ہیں۔ نہیں بلکہ دنیا بھر میں جھگڑے اور تنازعے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں اور انشاء اللہ بڑھتے ہی رہیں گے جب تک کہ ساری انسانیت ایٹمی آگ کے جہنم میں جھونک نہیں دی جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے کسی اپیل کی حاجت نہیں۔ دنیا خود بخود اس راہ پر گامزن ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کو روکنے کی ساری اپیلیں بے فائدہ ہیں۔ ایٹمی جہنم سرد نہیں ہو گا جب تک کہ اس جہنم کی پیدائش کی وجوہات ختم نہیں کی جاتیں۔ ان کا تذکرہ اپنی جگہ پر آئے گا۔ رسل اور آئن سٹائن کا ذہن رسا ان وجوہات کا ادراک کرنے سے قاصر رہا ہےاَلبَتَّہ ایک الہامی کتاب یعنی قرآنِ حکیم نے اس راز کو آشکار کیا ہے مگر اب پڑھیئے جو کچھ کہ اشوک کپور نے اپنے فکر انگیز اور ذہن افروز مضمون میں لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے:۔

”ڈاکٹر عبد القدیر خان کا بم نہ تو پاکستانی بم ہے اور نہ ہی اسلامی بم ہے بلکہ امریکی انتظامیہ ہند و پاک کو ایک ہی سیاسی اور عسکری سطح پر رکھنے کے لئے پاکستانی بم کی سرپرستی کر رہی ہے۔ ایٹمی ماہرین اور سیاست دانوں سے میری جو ملاقاتیں واشنگٹن، لندن، اوٹاوہ اور دہلی میں ہوئی ہیں، اُ ن کی روشنی میں میں بلا ججھک کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کا ایٹم بم ایک حقیقت ہے تاہم اس حقیقت کے علاوہ بھی کچھ عوامل ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:۔

1۔        خواہ معاملہ ہندو پاک کا ہو خواہ بین الاقوامی ہو، ہندوستان کا سیاسی اثر و رسوخ اس کی عسکری طاقت بشمول ایٹمی طاقت پر منحصر ہے۔اگر پاکستان ایٹم بم بنا لے گا اور ہندوستان کے پاس ایٹم بم نہیں ہو گا تو تمام ہمسایہ ممالک پاکستان کی طرف چلے جائیں گے اور ہندوستان کو نظر انداز کر دیں گے۔

2۔        ہندوستان اور پاکستان اور ہندوستان اور چین کے مابین طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ہندوستان کے لئے ایٹم بم بنانا ضروری ہے ورنہ ہندوستان کی فوجی طاقت کو جدید طرز پر ڈھالنے کی ساری مساعی بیکار جائے گی۔

3۔        امریکہ ہندوستان کو محض اس لئے نظر انداز کرتا ہے کہ ہندوستان ایک کمزور ملک ہے اور اسی وجہ سے امریکہ ہندوستان کو سپر کمپیوٹرز نہیں دیتا اور ہندوستان کی امداد میں کمی کرتا ہے۔ اگر ہندوستان کے پاس بھی ایٹم بموں کے ذخیرے ہوں گے تو امریکہ کھوئے ہوئے ہندوستان کو پھر پانے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ ایٹمی طاقت بن جانے سے ہندوستان کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی صنعتوں کو بھی مدد ملے گی۔

4۔        ہیروشیما سے جو سبق ہم نے حاصل کیا ہے وہ یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار چلانے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ محض طاقت کا مظہر اور سیاسی اثر و رسوخ کا ذریعہ ہوتے ہیں لہٰذا ہندوستان کو فی الفور ایٹمی ہتھیار تیار کرنے چاہیں“۔

یہ ہیں خیالات پروفیسر مذکور کے جو اس وقت اپنی کتاب”پاکستان کی ایٹمی طاقت“(Pakistan’s Atomic Power)لکھنے میں مصروف ہے۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ موصوف کا قلم کون سی نہج اختیار کرے گا اَلبَتَّہ اسلامی بم کے سلسلے میں ایک قابلِ قدر اضافہ سامنے آئے گا۔ میں ڈارون کی فلاسفی کا شدید مخالف ہوں۔ میں انسان کو بندر کی ایک ترقی یافتہ شکل کے نظریئے پر کبھی صاد نہیں کر سکتا اَلبَتَّہ اس جدید دور کے انسانوں کو دیکھ کرایسا معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم اس نسل کے متعلق ڈارون کا مکروہ نظریہ حقیقت پر مبنی تھا۔ ایک ایسا شخص جو ایٹم کی الف بے سے بھی واقف نہیں اور جس نے سیاسیات کی چند کتابیں پڑھ لی ہیں۔ وہ اندھے بیل کی طرح ڈکار ڈکا ر کر ہندوستان کو کہہ رہا ہے۔ ”ایٹمی ہتھیار بناؤ۔ ایٹم بم چلائے نہیں جاتے صرف قوت کا مظہر ہیں“۔ اس بھلے مانس سے کوئی پوچھے اگر ایٹم بم چل نہیں سکتے تو دنیا ان سے لرزہ بر اندام کیوں ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کا سربراہ یا وزرا ایٹمی سائنس کی ابجد سے بھی نا آشناء ہیں اور صرف ہوا کے رخ پر چلتے ہیں۔ اندوھناک نتائج سے بے خبر ہیں ورنہ ایک دن کے اندر سب سربراہانِ مملکت مستعفی ہوجائیں اور قوم سے کہہ دیں کہ ہم ایٹم بم بنانے کے حق میں نہیں جو بنانا چاہتا ہے اُ سے لے آئیں تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح بھڑ بھونجے للکارتے ہوئے آئیں گے کہ ہم کو صدر، وزیر اعظم بناؤ ہم ایٹم بم بنائیں گے۔ ہم ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگا دیں گے۔اب اگر ڈارون ہمیں یاد نہ آ ئے تو کیا حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام یاد آئیں گے؟۔

اب ذرا ڈاکٹر اشوک کپور کے ملفوظات پر نگاہ ڈالئے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستانی بم کی سر پرستی کر رہا ہے۔ کیا آپ نے کبھی حقیقت سے اتنی بعید کوئی بات سُنی ہے؟ کیا واقعی امریکہ پاکستانی بم کی سرپرستی کر رہا ہے؟ کیا ڈاکٹر کپور نے وہ واویلا جو امریکہ بلکہ ساری مغربی دنیا میں پاکستانی بم اور اسلامی بم کے خلاف برپا ہے۔اُ سے نہیں سنا؟ وہ انڈیا کو فوراً ایک ایٹمی طاقت کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہے لیکن کیا انڈیا اس طرح بھیانک ایٹمی خطرات میں گھِر نہیں جائے گا اور کیا اس طرح وہ عالمی امن کے لئے ایک عظیم خطرہ نہیں بن جائے گا؟۔ انڈیا اگر غیر ایٹمی پاکستان کے شہروں پر بم مارے گا تو کیا اُ س کا اپنا اچھا خاصا حصہ ایٹمی تابکاری کی تباہی کی لپیٹ میں نہیں آجائے گا؟ اور کیاسارے انڈیا میں زندگی عذاب نہیں بن جائے گی؟ اور اگر پاکستان بھی ایٹمی بموں سے مسلّح ہو گا تو کیا پاکستان ہندوستان کا بیڑہ غرق نہیں کر دے گا؟ اور اس طرح دونوں ملک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل نہیں ہو جائیں گے؟ اور اگر چین بھی اس آگ کی ہولی میں شامل ہو گیا تو کیا عالمی جنگ نہیں چھڑ جا ئے گی؟۔ میں کہتا ہوں کہ جو سائنس دان یہ کہتا ہے کہ عالمی ایٹمی جنگ کے بعد بھی اس زمین پر زندگی باقی رہ جائے گی وہ سراسر غلط کہتا ہے وہ یا تو ناسمجھ ہے یا محض دنیا کو خوش کرنے یا اپنی چودھراہٹ برقرار رکھنے کے لئے خدا کی مخلوق کو صریحاً دھوکا دے رہا ہے۔ پھر سنیئے ڈاکٹر کپور کہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار چلانے کے لئے نہیں بنائے جاتے کیونکہ ہیروشیما کے بعد کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں چلایا گیا۔ یہ اتنی بوگس بات ہے کہ اسے سن کر انسان محوِ حیرت تو ہو سکتا ہے سر کو پکڑ کر بیٹھ تو سکتا ہے اس کا جواب بن نہیں پڑتا۔ ایسی بڑ کوئی شرابی شراب کے نشے میں دھت ہو کر ہانک سکتا ہے۔ ڈاکٹر کپور کا یہ خیال دراصل ڈیٹرنس(Deterrence) ہی کا ایک یقین کی حد تک پہنچا ہُوا روپ ہے۔ ڈیٹرنس سے مراد وہ خوف ہے جس کے سبب کوئی طاقت اُ س طاقت پر حملہ آور ہونے کی جسارت نہیں کر سکتی جس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہو لیکن سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ ڈی ٹرینس اُ س وقت تک موثر ہے جب تک کہ ایٹمی ٹھاہ نہیں ہوتی اور کون کہہ سکتا ہے کہ ٹھاہ کا جواب ٹھاہ سے نہیں دیا جائے گا؟۔

اگر ڈاکٹر کپور یہ باتیں لا علمی کے باعث کہہ رہا ہے تو اُ سے خاموشی اختیار کرنی چاہئے وہ سیاست کرے سیاسیات پڑھائے اور ایک اجنبی فیلڈ سے گریز کرے اور اگر یہ اندھے جوش کا نتیجہ ہے تو یہ جوش غلط بلکہ تباہ کن راہوں پر چل نکلا ہے۔ ایسا آدمی انڈیا کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا اور اگر وہ مخلص ہے تو وہ ایک نادان دوست ہے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کو ایٹمی جہنم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ سوپر طاقتوں کے پاس اتنا ایٹمی اسلحہ اس وقت موجود ہے جو اس دنیا کو کونے کونے تک بارہا تباہ کر سکتا ہے۔ ہندو پاک کے چند ایٹمی بموں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا سوائے اس کے کہ یہ دونوں ملک اپنے عوام کو بھوکا ننگا رکھ کر دو چار ایٹم بم بنا کر اپنا نام ایٹمی کلب میں لکھوا لیں۔ یقیناً میری یہ بات ان دونوں ملکوں میں نا پسندید گی کی نگاہ سے دیکھی جائے گی لیکن بات وہ کہوں گا جو علم اور ضمیر کہے مگر کون اس ایٹمی قیامت کے حشر انگیز دھکم پیل اور شوروغل میں۔

کون  سنتا  ہے کسی  درد  کے  مارے  کی صدا

کوئی  سن   لے  تو  بھی  کہتا ہے  کہ سودائی ہے

جنرل دہرہ اور اُ س قبیل کے دوسرے مخالفین ایٹم بم کو نرم فاختہ کے نام سے یاد کیا جائے گا اور اپنے آپ کو خوفناک شاہین کہنے والے اُ س وقت تک چین کا سانس لینے سے گریز کریں گےجب تک ہندو پاک بلکہ نیو یارک سے لے کر ٹوکیو تک انسانیت کی ایٹمی چتا شعلہ ریز نہیں ہو جاتی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ا یٹم بم کے مخالفین بھی ایٹم بم کے حامیوں کے ساتھ ایٹمی چتا میں جھونک دئیے جائیں گے۔

پروفیسر ڈاکٹر اشوک کپور نے ہیروشیما کے سانحے سے بعد کی تاریخ سے ایک بہت بڑا سبق حاصل کیا ہے یعنی ایٹمی ہتھیار چلنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ وہ محض ایک طاقت کا مظہر اور سیاسی رسوخ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔بے شک یہ ایک بہت بڑا سبق ہے لیکن یہ دنیا ایٹمی جنگ سے خوفزدہ کیوں نظر آتی ہے اگر ڈاکٹر کپور کے نظریئے کے مطابق ایٹم بم چلنے کے لئے نہیں بنتے تو پھر کیوں نہ کوئی ملک یا تمام ممالک کچرے کے ڈرموں کی ایک تعداد کے اوپر مختلف بموں کے نام لکھ کر اور اُ ن کے فوٹو گراف لے کر دنیا میں مشتہر کر دیں اور اس طرح سے سیاسی رسوخ حاصل کر لیں۔ اگر کچرے کے ڈرم پر مثلاً واضح رنگ و روغن سے یہ لکھ دیا جائے Twenty Megaton Thermonuclear Bomb made in …..made on ....  تو اس عبارت کو پڑھنے والا تو پسینہ پسینہ ہو جائے گا  اور پھر کچرے کے ڈرم اور ایٹم بم میں ظاہراً کون سا فرق ہے کہ یو رانیم تلاش کیا جائے سائنس دان تلاش کئے جائیں اور اگر اس طرح دیکھا جائے تو ڈاکٹر کپور نے ایک محیر العقول  انکشاف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور دنیا کی انتہائی بد بختی اور بد نصیبی ہو گی اگر ڈاکٹر کپور کے انکشاف سے فائدہ نہ اُ ٹھایا گیا۔ ھینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ بھی چوکھا، ہر ملک اپنے ماہر ترین لوہاروں، رنگ سازوں اور  پینٹروں کو چُن چُن کر اس کام پر لگا دے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ہر ملک ایٹمی پاور بن جائے گا اور دنیا میں ایٹم بم سازی کی بجائے ڈرم سازی کا مقابلہ شروع ہو جائے گااور انڈیا کے پاس تو لوہے اور کوئلے کے بے شمار وسائل ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے اس ڈرم سازی کے مقابلے میں انڈیا سپر پاوروں کو کہیں پیچھے چھوڑ جائے گا اور پھر ڈاکٹر کپور دنیا میں یہ اعلان کر سکے گا کہ انڈیا سب سے بڑی سپر پاور ہے لہٰذا انڈیا کو سب سے بڑھ کر سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہونا چاہئے۔

ہیروشیما میں ایٹمی قیامت برپا ہونے کے بعد ایک سبق میں نے بھی پڑھا ہے۔ یہ سبق 1972 ء میں مجھ پر پھٹا۔اندھیری رات کی تاریکی میں برستی ہوئی موسلا دھار بارش کے بادلوں کی خوفناک گرج اور بادلوں میں کڑکتی ہوئی خوفناک بجلیوں کی طرح حقیقتِ حال میرے دل پر واضح ہو گئی۔ دنیا کی چار ارب انسانی آبادی سے مختلف دنیا کے ہر حکیم ہر فلسفی کی رائے سے متصادم یہ سبق انسانیت کی سا ری دینی فلسفی، اقتصادی اور سائنسی تاریخ پر محیط تھا اور اس سب کا نچوڑ یہ تھا کہ یہ موجودہ جدید دور نکتہ چینی، زر اندوزی اور زر پرستی کا دور ہے اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زر اندوزی اورزر پرستی ہی اُ ن کی زندگی کا مقصود ہے۔ دولت میں ان کا اس قدر پختہ ایمان ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اُ ن کی دولت ہمیشہ رہے گی اور اُ ن کو زندہ جاوید کر دے گی۔ اسی زندگی پر ان کاایمان ہے۔ آخرت سے بیگانے ہیں۔ یہاں تک ہر کوئی دیکھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔اس دور کا سارا دارومدار ایک ہی لفظ پر ہے اور وہ ہے ”ترقی“۔ خود کفالت کی حد تک ترقی۔ یہ ترقی زر اندوزی اور ضروریاتِ زندگی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے لیکن اس ترقی کی کچھ خصوصیات ہیں۔یہ جدید سائنس کی روشنی کی مرہونِ منت ہے۔ یہ مسلسل، غیر منقطع،روز افزوں اور لامحدود ہے۔ یہ ایک جال ہے جس میں ساری دنیا اٹکی ہے جو اس میں ایک دفعہ لگ جاتا ہے وہ اس سے نکل نہیں سکتا۔اس ترقی کی ساری بنیاد فرانسس بیکن (1626-1561)کے جدید اٹامزم پر استوار ہے اور لوگوں کو ساری دنیا کے لوگوں کو اس پر اس درجہ اعتماد ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ترقی ہمیشہ کے لئے یوں ہی روز افزوں ترقی کرتی  ہوئی بڑھتی رہے گی حتٰی کہ خود کفالت کی حدوں کو چُھو لے گی اور یہ زمین جنت کا نمونہ بن جائے گی۔ یہ ایک تباہ کن غلط فہمی ہے جس میں یہ ساری دنیا مبتلا ہے۔ اس ترقی کی بنیاد اٹامزم کے لادینی اور مادہ پرستانہ فلسفے پر ہے اور یہ لامحدود یا لازوال یا زندہ جاوید نہیں بلکہ اس کی منطقی اور سائنسی انتہا  ایٹمی جہنم ہے جو ایٹم بموں، ایٹمی تابکاری اور بے اطمینانی سے عبارت ہے۔ ترقی کے نشے میں دھت اس دنیا کو معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا کی کوئی سیاست کوئی ڈپلومیسی کوئی طاقت اس دنیا کو اس ترقی کے منطقی انجام سے نہیں بچا سکتی۔اِلَّا آنکہ اس کے بنیادی اسباب کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے۔ نکتہ چینی، عیب جوئی، زر اندوزی کی ہوس اور اس دولت کی ہمیشگی کے اعتقاد کو انسانی ذ ہن سے کلّیتہً محو کر دیا جائے۔ یہ کڑوی گولی ہے کون اسے نگلنے پر آمادگی ظاہر کرے گا اور ان حالات میں جبکہ ساری دنیا اس جدید ترقی کے جال میں لگی ہوئی ہے اور نکل نہیں سکتی کون ایسی بات پر کان دھرنے کی فرصت حاصل کر سکے گا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ انسان کی اس مادی دنیا میں غرقابی کو نہ مایا کا بنیادی ہندو فلسفہ قبول کرتا ہے نہ بدھ مت کا نروان ہی اس کو اچھی نظر سے دیکھتا ہے نہ عیسائیت ہی اسے تسلیم کرتی ہے اور غور سے دیکھا جائے تو اسلام دولت پرستی سے نفرت میں کسی بھی دوسرے دین سے پیچھے نہیں مگر دوستو! ایٹم کا آتشیں دیو رسی تڑوانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے وہ آئے گا ،وہ گرجے گا، وہ برسے گااور گزشتہ تین صدیوں کی ترقی کے سارے آثار اور یہ ساری دولت اوراس کے مالک سب تباہ کرکے رکھ دے گا۔ مادہ پرستی کی لعنت اس انسانیت کو گھیسٹتی ہوئی ایٹمی جہنم کی طرف لے جارہی ہے۔ مان لیا کہ اسلام رہبانیت یعنی ترکِ دنیا کی زندگی کو ناپسند کرتا ہے اور مسلمان کو معاشرے میں رہنے کی تلقین کرتا ہے مگر کہاں وہ اس بگٹٹ یک طرفہ مادہ پرستی کو مقصودِ زندگی قرار دینے کی اجازت دیتا ہے اور قرآنِ حکیم کی رُ و سے ایٹمی جہنم کا مسئلہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس دنیاوی ایٹمی جہنم سے بچ کر نکل جانے والے وہ لوگ جو اس سزا کے ازروئے قرآنِ حکیم مستحق ہیں اگلی دنیا میں ایٹمی جہنم کو منتظر پائیں گے اور اُ س ہمیشہ رہنے والی دنیا کا ایٹمی جہنم حطمہ بھی ہمیشہ رہنے والا ہے۔ پروفیسر اشوک کپور ہندوستان کو جلد از جلد ایٹم بم بنانے کے لئے للکار رہا ہے۔ایٹمی طاقتیں اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اُ ن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں لہٰذا وہ اپنے آپ کو سوپر پاور کہلانے  پر مصر ہیں اور دوسری طاقتوں کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک رہی ہیں۔ جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں وہ ہر حیلے ایٹمی ہتھیار بنانے کاحق حاصل کرنے اور ایٹمی طاقت بننے کے لئے بیقرار ہیں۔ بھارت کو ایٹمی بم بنانے کے لئے کسی اشوک کپور کی انگیخت کی ضرورت نہیں۔ یورپ،امریکہ، روس، فرانس اور دوسری ایٹمی طاقتوں پر ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف کسی رسل، کسی روٹ بلاٹ، کسی نیل بوہر کسی آئن سٹائن کی اپیل کارگر نہیں۔ اگر ایٹمی جنگ نے مہلت دی تو بھارت ہو یا پاکستان سب ممالک ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لئے مجبور کر دئیےجائیں گے۔ یہی اس اٹامزم پر مبنی جدید سائنسی ترقی کا منطقی نتیجہ ہے اور کائناتی قانون کے عمل کو کسی بھی قوت کے ذریعے موڑا نہیں جاسکتا اور اس ترقی کی روح زر اندوزی اور ہوس پرستی ہے۔ جب تک اس زر اندوزی اور ہوس پرستی کی روح کوختم نہیں کیا جاتا منطقی اور سائنسی انجام ایٹمی جہنم ہے اور یہ کسی ایک فرد یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں روئے زمین کی سا ری انسانیت اسی مخمصے میں گرفتار ہے۔اگر غیر ایٹمی طاقتیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے قاصر بھی رہیں تو ایٹمی طاقتوں کے پاس اس قدر ایٹمی اسلحہ بن چکا ہے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں ساری دنیا کے لئے کافی ہو گا۔ امریکہ نے دعویٰٰ کیا کہ تیرہ  بار اور روس نے دعویٰٰ کیا کہ وہ تیس بار اپنے ایٹمی اسلحے سے اس دنیا کو تباہ کر سکتا ہے۔

ہندو ویدوں کی سوگندیں کھا کھا کر بھارتیوں کو للکار رہے ہوں گے کہ خبر دار! اُ ٹھو! ہمارے باپ دادا نے ہزاروں برس پہلے اڑن کھٹولے بنائے جرمنی کے سائنس دانوں نے ساری سائنس ہمارے ویدوں سے سیکھی ہے اُ ٹھو! خبردار! اُ ٹھو۔ امریکہ چاند پر جا پہنچا۔ امریکہ ہم سے کسی بھی  طرح برتر نہیں لہٰذا اُ ٹھو لہٰذا اٹھو نہ اُ ٹھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔مسلمان قرآنِ حکیم کو ہاتھ میں لے کر پکار پکار کر کہہ رہا ہوگا۔ اے مسلمانو! اسلام بالکل ترقی کا مخالف نہیں۔ قرآنِ حکیم تو غورِ آیات میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ زمینوں اور آسمانوں میں میری کائنات کا مطالعہ کرو اور خود تسخیر ِ کائنات کا حکم صادر فرما رہا ہے۔ مسلمانو! تم سو گئے تم نے قرآنِ حکیم کو چھوڑ دیا لہٰذا آج مغرب  والے چاند پر پہنچ چکے ہیں اور ہم گدھا گاڑیوں میں سواری کر رہے ہیں۔ لہٰذا اُ  ٹھو! قرآن کو ہاتھ میں لے کر  اُ ٹھو! تسخیرِ کائنات میں ہمہ تن مصروف ہو جاؤ اور مغرب کے ہم پلہ ہو جاؤ۔ نصرانی، یورپ اور امریکہ کو شاباش دے رہا ہو گا کہ اے پیروانِ  دینِِ مسیح تم نے ترقی کا حق ادا کر دیا۔ تم نے اس زمین کو قرار واقعی جنت کا نمونہ بنا دیا۔ تم چاند پر چڑھ چکے ہو۔ آج عیسائیت کا ڈنکہ ساری دنیا میں بج رہا ہے۔ساری دنیا تمہاری دست ِنگر ہے۔ تم ہی اس دنیا کے آقاو مولا ہو۔ سائنس زندہ باد۔ ترقی زندہ باد۔ عیسائیت زندہ باد لیکن ابھی تک کام تمام نہیں ہوا۔ تم آگے بڑھو اور بھی آگے بڑھو۔ مریخ کو اپنی گرفت میں لے لو۔کہکشاں کے ستاروں کو نوچ لاؤ۔ شاباش۔وقت ضائع مت کرو۔ فلسفی زمیں و آسمان کے فلسفوں کے قلابے ملارہے ہوں گے۔ سائنس دان اپنے ہم وطنوں کوایسے ایٹمی بم کی نوید سنا رہے ہوں گے جوانسانوں اور جانوروں کو تو مار دیتا ہے مگر عمارتوں کو ہا تھ نہیں لگاتا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اب روئے زمین کی ساری مملکتیں صرف ہمارے ہم وطنوں کے تصرف میں ہوں گی۔ لوگ باگ ہوٹلوں، کلبوں اور سینماؤں میں عیاشی کر رہے ہوں گےاور یکایک آسماں پر چندھیا دینے والی چمک کا شعلہ نمودار ہو گا اور پھر زلزلے کی سی گڑگڑاھٹ اور پھر اندھیرا ہی اندھیرا۔ موت کا اندھیرا۔ ہندو کی للکار کیا ہوئی۔مسلمان کی پکار کہاں گئی۔ عیسائی کی یلغار کا کیا بنا۔ ہر طرف ھو کا عالم ہے شا ئد ہندو نے اس نئی ترقی کو سمجھنے میں غلطی کھائی۔ شائد مسلمانوں کو اسلام کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔شائد اس نئی ترقی پر غورِ آیات اور تسخیر ِکائنات کے قرآنی مفہوم کو منطبق کرنے میں مسلمان ٹھوکر کھا گیا۔ جس عمل کا منطقی اورسائنسی انجام ایٹمی جہنم کی صورت میں نمودار ہو۔ قرآن اس کی اجازت کیوں کر دے گا۔شائید مسلمان ان آیات کی تفسیر و تعبیر میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے۔ باقی رہے عیسائی تو حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کے فقر کااطلاق اس مادہ پرست اور زر اندوز ترقی اوراس ترقی پر مبنی مغربی معاشرے پر کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ کیا حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام اس ترقی جیسی کہ یہ ہے کی اجازت دیں گے۔ ہوس نے دنیا کو اندھا کر دیا ہے۔ فاعتبروا یا اوّلی الابصار۔

”دی اسلامک بم! بائی سٹیو ویز مین اینڈ ہربرٹ کروزنی  یعنی‘ اسلامی بم! مصنفہ سٹیو ویزمین اور ہربرٹ کراسنی“

ہندوستانی مصنفین کے ”پاکستان کے اسلامی بم“  پر ہم گذشتہ صفحوں میں بحث کر چکے ہیں۔ اب ہم ان دو یورپی مصنفین کی کتاب”اسلامی بم“ پر بحث کریں گے۔ یہ کتاب ایٹمی سیاسیات پر مبنی ہے اور اس میں اسی حوالے سے منطقہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں برصغیر پاک و ہند کی صورت ِحال کو بھی منسلک کیا گیا ہے۔ کتاب ٹا ئمز بک آف نیو یارک نے شائع کی ہے۔ مصنفین کو اس کتاب کے لکھنے کی تحریک کیوں کر ہوئی۔ اس ضمن میں وہ خود رقم طراز ہیں کہ اس کتاب کا محرّک مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس علاقے کے ممالک میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے پیدا ہونے والی تشویش ہے۔ کیونکہ یہ بات عالمی امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ چار ملک یعنی پاکستان،عراق، اسرائیل اور ہندوستان بحث کا موضوع ہیں۔مصنفین کے خیال میں پاکستان اور عراق ایسے ملک ہیں جن کا معاشرہ غیر مستحکم ہے جبکہ اسرائیل اور ہندوستان جمہوری ملک ہیں اور داخلی طور پرمستحکم ہیں۔ ان تمام ممالک کے رہنماؤں کے سامنے اپنی اپنی وجوہات اور مجبوریاں ہیں اس لئے ان رہنماؤں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ ترقی یافتہ ایٹمی طاقتوں کے راہنماؤں کی مثل احتٰیاط برت سکیں گے۔ مصنفین کے خیال میں اگر پاکستان اور عراق ایٹمی طاقتیں بن جائیں اور ان کے پاس اپنے ایٹم بم ہوں تو اسرائیل اور ہندوستان بھی برملاایٹمی طاقت بننے اور اپنی ایٹمی حکمتِ عملی تیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے اور اس طرح وہ جلتی پر تیل ڈالنے کا کردار ادا کریں گے۔مصنفین نے اس بات پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گنتی کے چندمستحکم اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک مشرقِ وسطیٰ جیسے سرکش اور تلاطم خیز علاقے میں اندھا دھند اور بے دریغ اسلحہ کے انبار فروخت کر رہے ہیں۔ مصنفین خوفزدہ ہیں کہ ہتھیاروں کا پھیلاؤایک خطرناک صورت اختیار کر رہا ہے۔مصنفین نے پاکستان کی ایٹمی تاریخ کا جائزہ لیا ہے جو مختصراً مندرجہ ذیل ہے:۔

”بلانا بھٹو کا ایک میٹنگ جنوری 1972 ء کو ملتان میں اور اُ س روز پیدا ہونا پاکستانی بم کا۔ پھر دورہ کرنا بھٹو کا طوفانی دورہ اسلامی ممالک کا۔ ایٹم بم کے لئے رقوم کے حصول کے لئے معاہدہ کرنا بھٹو کیساتھ کرنل قذافی کا اور رضامندی ظاہر کرنا اپنی پاکستانی ایٹمی منصوبے کے لئے رقوم مہیّاکرنے کا پھر سودا بازی کرنا بھٹو کا فرانس کے ساتھ ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کی خاطر پھر چوری چھپے خریدنا پاکستان کا یورانیم کی افزودگی کے پلانٹ کے پرزے مغربی ممالک سے بالآخر لگانا ڈاکٹر عبد القدیر خان کا یورانیم افزودگی پلانٹ کہوٹہ میں 1975 ء میں“۔

عراقی ری ایکٹر کے متعلق مصنفین نے اس کی ابتدا سے لے کر بالآخر 1981 ء میں اسرائیلی جہازوں کے ذریعے اس کی تباہی تک مفصل لکھا ہے اور عراقی ری ایکٹر پر اسرائیلی حملے کی داد ایک جملے میں دی ہے۔ جو کچھ اس طرح ہے۔”مسئلے کے حل کے لئے ایک تیرِ بہدف نسخہ“۔ ہندوستان کے ایٹمی منصوبے کے متعلق بہت لکھا ہے اور ایٹمی میدان میں اُ س ملک کی صلاحیتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔اَلبَتَّہ مئی 1974 ء میں ہندوستان کے ایٹمی دھماکے کو ایک ایسا سانحہ قرار دیا ہے جس نے اس منطقے میں ہتھیاروں کی سخت نا پسندیدہ دوڑ کو جنم دیا۔ اسرائیل کی ایٹمی جدوجہد کو بھی بالتفصیل بیان کیا گیا ہے اور یقین کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے پاس دس سے لے کر بیس تک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل اس حقیقت سے انکاری ہے۔ مصنفین نے اپنے دعوے کے ثبوت میں بارہ اپریل1973 ء کے ٹائمز میگزین کے شمارے سے ایک حوالہ دیا ہے جس کے مطابق 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں ایک ایسے وقت جب اسرائیلی فوج پرسخت بُرا وقت تھا اسرائیلی وزیرِ اعظم نے حکم دیا کہ ایٹم بم تیار رکھے جائیں۔ اس حکم کے مطابق تیرہ بیس کلوٹن وزنی ایٹم بم اسمبل کرکے فنٹم جیٹ جہازوں میں فِٹ کر دئے گئے لیکن اس دوران میں اسرائیلی فوج کی حالت سنبھل گئی لہٰذا ان بموں کو صحرائی اسلحہ خانوں میں منتقل کر دیا گیا جو ابھی تک وہاں استعمال کے لئے موجود ہیں۔مصنفین کہتے ہیں کہ اگرچہ اسرائیلی حکومت نے اس رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے تاہم یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور حقائق ہر طرح سے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں۔

ساری کتاب میں کی گئی بحث کا نچوڑ کچھ یوں ہے ”کیونکہ پاکستان ایٹم بم بنانے کا ارادہ رکھتا ہے اور کیونکہ پاکستان نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اس لئے پاکستان ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو جائے گا اور کیونکہ خطرہ یہ ہے کہ پاکستانی بم عربوں کے ہاتھ میں پہنچ جائے گا اور کیونکہ عرب اور اسرائیل ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے سرکش، غیر منضبط اور متلاطم خطے میں ایٹمی جنگ چھڑ جائے اور پھر یہ جنگ عالمی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے لہٰذا مصنفین کا خیال ہے کہ پاکستان کو عالمی امن کے لئے ایٹم بم بنانے سے باز رکھا جائے“۔

جہاں تک عالمی امن کے لئے مصنفین کی تشویش کا سوال ہے تو بے شک یہ ایک قابلِ ستائش جذبہ ہے لیکن کیا اس دنیا میں صرف عرب اور اسرائیل ہی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہیں۔ ایسا نہیں بلکہ آج ساری دنیا ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہے۔پاکستان اپنی مشرقی سرحد پر ہندوستان سے محاذ آرا ہے جبکہ پاکستان کی مغربی سرحد پر روس کی فوج افغانستان میں مجاہدینِ ِ آزادی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ ہندوستان اپنی مغربی سرحدوں پر پاکستان سے اور شمالی سرحدوں پر چین سے محاذ آرا ہے۔ چین اپنی جنوبی سرحدوں پر ہندوستان سے اور مغربی سرحدوں پرروس سے محاذ آرا ہے۔ عرب اسرائیل کے خلاف محاذ آراء ہیں۔اسرائیل عربوں کے خلاف محاذ آرا ہے۔ عراق ایران کے خلاف اور ایران عراق کے خلاف بر سر پیکار ہے۔ امریکہ روس کے خلاف اور روس امریکہ کے خلاف محاذ آرا ہے۔ان حالات میں عالمی امن کی تشویش میں مبتلاء دو  مصنفین کی دوربین نگاہ کا صرف ایک ملک پر اور ایسے ملک پر جس کا ایٹم بم ابھی تک ملکِ ِ عدم سے منَصہء شہُود پر نہیں آیا مُرتکز ہو جانا اور امریکہ اور روس کے ساٹھ ساٹھ ھزار ایٹم بموں اور اسرائیل کے ساٹھ ایٹم بموں سے یکسر آنکھ موند لینا اُن کے عالمی امن کی تشویش کے وعوے کی قلعی کھول دیتا ہے اور اُ ن کی طویل براہین اور اُ ن کے پُر زور دلائل کی ساری عمارت دھڑام سے نیچے آ جاتی ہے اور جس منطق میں تعصّب کارفرما ہوتا ہے اور انصاف ناپید ہوتا ہے اُ س کی تمام تر پرکاری اور چابکدستی بے کار ہو کر رہ جاتی ہے۔ قومیں بیرونی دباؤ میں آ کر اپنے عزم ترک نہیں کرتیں اَلبَتَّہ کسی چیز کی مضرت کا اُ نہیں علم ہو جائے تو وہ خود برضا و رغبت اُ س سے دستبردار ہو جاتی ہیں۔ ان مصنفین کی کتاب پڑھتے وقت یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ حضرات مسائل کے اُ وپر سے تیرتے ہوئے جا رہے ہیں اور کہیں بھی مسائل کی گہرائی میں اُ ترنے کی سعی نہیں کرتے۔ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ایٹمی بموں کی حقیقی مُضرت اور ایٹم بموں کے وسیلے سے عالمی تباہی اور بربادی کے متعلق یاتو وہ یکسر لاعلم ہیں اور یا تعصّب نے  اُ ن کی نگاہ کو اس قدر خیرہ کر دیا ہے کہ وہ اُ س طرف سے یکسر بے نیاز ہو کر صرف ایک نقطے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور یہی واویلا کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا اور اگر عربوں کے پاس پاکستان کے راستے ایٹم بم آ گیا تو بس دنیا پر ایٹمی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔بھاگو!دوڑو! پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے باز رکھو۔ اس دنیا سے ایٹمی تباہی کا خطرہ صرف اس صورت میں ٹل سکتا ہے کہ ہر ملک کو اس تباہ کاری کا علم ہو جائے جس کا اہل ایٹم بم ہے اور سچ پوچھو تو یہ بھی ایک کمزور بلکہ بے فائدہ دلیل ہے کیونکہ ایٹمی جنگ کاخطرہ اس دنیا سے صرف اسی صورت میں ٹالا جا سکتا ہے جب اس دنیاسے ایٹم بم کی پیدائش کی وجوہات ناپید کر دی جائیں۔ یہ وجوہات ہم آگے ان کے اپنے مقام پر بیان کریں گے اَلبَتَّہ جس قسم کے حالات اس و قت ا س د نیا میں مو جود ہیں اُن کے پیشِ نظرپاکستان توکیا کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا ملک جو بھی ایٹم بم بنانے کے قابل ہو گا بنائے گا۔ نہ امریکہ کسی کو روک سکے گا نہ کوئی اور۔ میں بذات ِ خود اس دنیا میں ایٹم بم کا سب سے  بڑا مخالف ہوں تاہم میں اگر کسی ملک سے کہوں کہ ایٹم بم بری چیز ہے اسے مت بناؤ تو جواب مجھے صرف یہ ملے گا کہ تم دوسروں کو روکو پھر ہم بھی نہیں بنائیں گے اور یہ جواب بڑا مسقط ہو گا۔ یہ بات کچھ یوں ہے کہ آدمی کسی سپیرے سے کہے کہ دیکھو سانپ مت پالو۔ یہ تمھیں کاٹ لے گا لیکن سپیرا سانپ کے کاٹنے سے مر تو سکتا ہے سانپ کو ترک نہیں کر سکتا۔ میں چونکہ ایٹم بم کا مخالف ہوں کیوں کہ میں اس کی مضرت کو سمجھتا ہوں اس لئے اگر یہ مصنفین کسی ملک کو ایٹم بم بنانے سے باز رکھنے کی کوشش انسانی ہمدردی کے جذبے کے ماتحت کرتے خواہ وہ ملک کوئی بھی ہو تو یقیناً میں اُ ن کے اس جذبے کو سراہتا اور اُ ن کی بات کو متشکرانہ انداز میں دیکھتا لیکن یہاں تو یہ سارا ڈھونگ اس لئے رچایا جا رہا ہے کہ اسرائیل سے خطرے کو ٹالا جائے خواہ ساری دنیا ایٹمی جہنم میں جھونک دی جائے۔ یہ مصنفین ایٹم بم کو قوت کا سر چشمہ تو سمجھتے ہیں اَلبَتَّہ یہ نہیں جانتے کہ ایٹم بم دولت کی بربادی کا ایک ذریعہ ہے۔ کچھ دولت اس کے بنانے میں صرف ہو جاتی ہے اور جو باقی بچے اُ سے یہ ایک دھماکے میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیتا ہے اور یہ کہ یہ جنگ کا ہتھیار نہیں یہ عذاب الٰہی اور مکمل تباہی ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ دنیا اس حقیقت کو سمجھنے کے باوجود اس کی محبت میں گرفتارہے یقیناً یہ دنیا مکافات کے نشے میں مبتلا ہے۔

ان یورپی مصنفین کا خیال ہے کہ اگر عربوں کے ہاتھ پاکستانی بم لگ گیا تو عرب اسرائیل ایٹمی جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ہے اور یہ جنگ عالمی ایٹمی جنگ چھڑنے کا سبب بن سکتی ہے اس لئے اُ ن کی ساری بحث کا مرکز یہی نقطہ ہے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے سے باز رکھا جائے۔ اب مجھے تھوڑی سی اجازت دیئجے کہ میں ان مصنفین کی نگاہِ ِ انتخاب کی داد دوں۔ اُ ن کی یہ تشویش کہ عرب اسرائیل جنگ عالمی امن کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے بالکل بجا ہے۔ میرا بھی یہی خیال ہے کہ آخری فیصلہ کن عالمی جنگ فلسطین ہی سے شروع ہو گی۔ لیکن میرے اور ان مصنفین کے نقطہء نگاہ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ان حضرات کا علم دجّالی ہے اور وہ اس  معاملے کو دجّالی ظاہری اور مادی نقطہء نگاہ ہی سے دیکھتے ہیں جبکہ میرا علم الہٰی ہے، قرآنی ہے اور حدیث پر مبنی ہے۔ اُ ن کی نگاہ صرف یہیں تک دیکھتی ہے کہ اگر عربوں کے ہاتھ ایٹم بم نہ لگے   تو عرب اسرائیل ایٹمی جنگ روکی جا سکتی ہے لہٰذا  پاکستان کا ایٹم بم جو عربوں تک پہنچ سکتا ہے بننے نہ دیا جائے۔ میرے خیال میں یہ پیش بندی بالکل سطحی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عربوں کے ہاتھ ایٹم بم لگے یا نہ لگے عرب اسرائیل  جنگ ہو کر رہے گی لیکن میں مصنفین کے اس خیال سے متفق ہوں کہ یہ جنگ عرب اسرائیل تک محدود نہ رہے گی بلکہ عالمی جنگ کی صورت اختیار کرے گی ایسی عالمی جنگ کہ عالمی جنگ کے موجودہ معنوں میں آخری عالمی جنگ قرار دی جا سکتی ہے۔ اس جنگ کو آپ یہودیوں اور مسلمانوں کی جنگ کہہ سکتے ہیں۔اس جنگ میں ایک طرف ساری دنیا کے یہودی اور اُن کے حواری ہوں گے دوسری طرف مسلمان ہوں گے۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو مدِ نظر رکھا جائے تو مسلمانوں کے متعلق ایسی بات کہنا کچھ عجیب و غریب لگتی ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے۔ یہ جنگ دو قوموں کی ذاتی جنگ ہی نہیں بلکہ دو نظریوں اور دو معاشروں کی فیصلہ کُن جنگ ہو گی۔ایٹم بم چلیں گے یا نہیں چلیں گے اُس سے پہلے ضائع کر دیئے جائیں گے یا موجود ہوں گے کم مقدار میں چلیں گے یا زیادہ مقدار میں اَلبَتَّہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بھر پور عالمی ایٹمی جنگ کی صورت میں تو زندگی ہی زمین سے ختم ہو جائے گی اور بالفرض ِ محال دنیاکے کسی کونے کھدرے میں کچھ لوگ یا زیادہ لوگ ایٹم بموں کے فوری اثرات سے بچ بھی گئے تو اُ ن کی زندگی عذاب ہو جائے گی اور رفتہ رفتہ وہ بھی معدوم ہو جائیں گے اَلبَتَّہ جس جنگ کا ہم تذ کرہ کر رہے ہیں وہ نظریاتی اور معاشرتی جنگ ہو گی۔ایک طرف یہ یہودی تہذیب، یہ سائنس کی روشنی میں چلنے والی مادی ترقی اور مادی خود کفالت کی جدوجہد ہو گی جو کہ خالصتاً یہودی تہذیب اور یہودی معاشرت ہے اور یہودی ذہن کی تخلیق ہے اور دوسری طرف عین اسلامی قرآنی تہذیب اور اسلا می، قرآنی معاشرت ہو گی۔ نتیجتہً یہ یہُودی تہذیب اپنی مادی ترقی سمیت اس دنیا سے ناپید ہو جائے گی اور اسلام یعنی حقیقی اسلام کا جھنڈا روئے زمین پر لہرائیگا  اور وہ عدل و انصاف اور آسودگی کا دور ہو گا۔وہ لوگ جن کا ذہن اس موجودہ ترقی کو لابدی اور لازوال سمجھتا ہے اور وہ لوگ جو قوموں کی موجودہ حالت کو مستقل سمجھ کر مستقبل کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں اُ ن کے لئے ایسی باتیں جومیں نے کی ہیں ناقابل ِقبول ہیں۔ اُ ن کی مثال اُ ن مچھلیوں کی سی ہے جو ماہی گیر کے جال میں لگی ہوئی ہیں اور عنقریب باورچی خانے کے چولہے پر بھونی جائیں گی۔ اُ ن کے لئے یہ باور کرنا کہ اس عالم گیر مادی ترقی کا حشر سامنے نظر آ رہا ہے اور یہ حشر محض قیاسی یا گمانی بات نہیں اس کی نشان دہی قرآن ِحکیم اور سائنس دونوں واضح طور پر ہی نہیں کررہے بلکہ ظاہری علامات مثلاً ایٹمی بموں کے انبار اور دنیا میں پھیلی ہوئی کشیدگی اور عالم گیر اضطراب بھی ہر دیکھنے والے کے سامنے عیاں ہیں اور اگر دیکھتے ہوئے بھی یہ موجودہ انسانیت اندھے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے تو یہ مکافاتِ عمل کی تیرگی ہے۔ میں خود اس مکافاتِ عمل کی زد میں ہوں۔ میں اس انسانیت کو قرآنِ حکیم اور سائنس اور موجودہ حالات کی روشنی کے حوالے سے اس ایٹمی جہنم کی آگ سے بچنے کی دہائی دے رہا ہوں مگراس جرم کی سزا کے طور پر مکافاتِ عمل کے عالم گیر، غیر متبدل اور بے پناہ قوت والے قانون نے مجھ کوکچل کر رکھ دیا ہے۔اسی طرح میں چکی کے دو پاٹوں میں پس رہا ہوں اوپر مکافاتِ عمل کا پاٹ ہے جو اس انسانیت کو پیس کررکھ دیناچاہتا ہے۔نیچے اس انسانیت کا پاٹ ہے جو ہوس ِزر میں اس قدر اندھی ہو رہی ہے اور جو اس تہذیب اور نئی سائنس کی ترقی کے پیدا کردہ حالات کے شکنجے میں اس بری طرح مجبو ر ہو رہی ہے کہ کسی کو میری بات سننے کا ہوش نہیں۔یہ دنیا اندھادھند اور نشے میں مدہوش ہو کر ایٹمی جہنم کی جانب کچھی جا رہی ہے تو  کیا میں اس فرض کو جو مجھ کو سونپا گیا ہے ترک کر دوں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو وہ لمحہ اس انسانیت کے لئے اور خود میرے لئے قیامت سے کم نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ میری مدد کرے میں خلوصِ نیت اور دیانت داری سے یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان قوم کے لئے یہ زیبا نہیں کہ مجبور پابنِد سلاسل غلاموں کی طرح ایٹمی جہنم کی جانب بڑھتے ہوئے مادہ پرست، ناعاقبت اندیش اور بد نصیب آقاؤں کے پیچھے کھچتی ہوئی ایٹمی جہنم کے گڑھے میں گر کر دنیا اور آخرت دونوں برباد کر لے اور چند ایک ایٹم بم بنا کر ایٹمی جہنم کے شاہسواروں میں شامل ہو جائے۔ نہیں بلکہ وقت اور ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان قوم اس بلائے درماں کے خلاف سینہ سپر ہو جائے۔ آج مسلمان کا نعرہ یہ ہونا چاہیئے کہ ایٹم بم عذابِ الہٰی ہے نہ خود بنائیں گے نہ بنانے دیں گے۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں سار ی انسانیت مسلمانوں کے اس عمل سے مشکور ہوگی اور مسلمان قوم انسانیت کی برادری میں ایک معزز قوم کی حیثیت سے دیکھی جائے گی۔ یہ حکومتوں کے بس کی بات نہیں۔ نعرہ مسلمان قوم کی روح سے اٹھنا چاہیئے۔ 

مصنفین اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی اسلحے کا پھیلا ؤہو رہا ہے۔ اس خطرے کو دیکھ دیکھ کر اور سوچ سوچ کر اُ ن کی نیند حرام ہو رہی ہے۔ اُ ن کا دل ڈوب ڈوب جاتاہے۔ انہیں کسی رُ خ کل نہیں پڑتی۔ وہ ایٹمی پھیلا ؤکے خلاف بین الاقوامی معاہدے کی دہائی دیتے ہیں اور اس کی ناکامی پر خون کے آنسو روتے ہیں مگر بین الاقوامی شہرت کی کتاب کے یہ مصنف  یہ عقل کے اندھے اور دماغ کے کورے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکے خلاف کیا جانے والا بین الاقوامی معاہدہ(Non Proliferation Treaty) کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ اس معاہدے کے محرک ملکوں کے اسلحہ خانوں میں ایٹمی بموں، ہائیڈروجن بموں اورنیوٹران بموں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ وہ خوداپنے لئے تو ایٹمی ہتھیار بنانے کاحق محفوظ رکھتے ہیں لیکن دوسرے ملکوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے بنانے سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ فاضل مصنفین اسرائیل میں جنوب کی جانب منہ کر کے کھڑے ہیں۔ اُ ن کی دائیں آنکھ دجّال کی طرح اندھی ہے۔یورپ، امریکہ، روس کے ایٹمی اسلحہ خا نے اُ ن کی نظر سے ا و جھل ہیں لیکن مشرقِ  وسطیٰ  میں اسرائیل کے لئے خطرہ  بننے والا وہ مفروظہ ایٹم بم جو پاکستان سے عربوں کے ہاتھ لگے گا اُ ن کی بائیں آنکھ کو خیرہ کر رہا ہے۔ امریکہ یا کوئی بھی دوسری ایٹمی طاقت دنیا کے کسی ملک کو ایٹمی اسلحہ بنانے سے کافی عرصہ تک باز نہیں رکھ سکے گی۔ موجودہ حالات کے پیش ِ نظر ہر وہ ملک جو ایٹمی اسلحہ بنانے کی اہلیت حاصل کر لے گا وہ ضرور ایٹمی اسلحہ بنائے گا۔ اگر ایٹمی جنگ نے دنیا کو مہلت دی تو یہ دنیا ایٹم بموں کا باغ بن جائے گی اور ایٹم بم اس میں اس طرح چمکیں گے جس طرح کہ اندھیری رات میں آسمان پر ستارے چمکتے ہیں۔ ان مصنفین نے مشرقِ وسطیٰ میں آنے والے کسی مفروضہ مہمان ایٹم بم کے خطرے کوتو بالتفصیل بیان کیا ہے مگر ایٹمی طاقتوں کے اسلحہ خانوں میں موجود ہزاروں لاکھوں ایٹمی ہتھیاروں کو نظر انداز کر دیا ہے گویا کہ اُ نہوں نے ایٹمی طاقتوں کی نیو کلّیائی ایلیڈ کو تو فراموش کر دیا ہے مگر نیو کلّیائی اُ ڈیسی کی داستان کے بیان میں اپنا سارا زور ِ بیان صرف کر دیا ہے۔

اسرائیلی جہازوں نے عراقی ری ایکٹر پر حملہ کرکے اُ سے تباہ کر دیا۔ اس عمل پر مصنفین نے انتہائی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسئلے کے حل کا تیر ِ بہدف نسخہ قرار دیا۔ یہ بات خودان کی علمی بے بضاعتی اور ذہنی دیوالیہ پن پر دلالت کرتی ہے۔ کسی درخت کے پتے جھاڑ دیئے جائیں تو پھر نکل آتے ہیں اگر دنیا کے سارے ملک ایک دوسرے کے ری ایکٹر تباہ کردیں تو پھر بنا دئے جائیں گے۔ جب تک درخت کی جڑ نہ کاٹی جائے درخت کا وجود برقرار رہتا ہے اور ایٹمی مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ان مصنفین کے بس کی بات نہیں۔ اگر مرحوم فلسفی برٹرینڈ رسل جیسا روشن دماغ شخص اس مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ سکا تو یہ بے چارے مصنفین کس باغ کی مولی ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کیخلاف سارے معاہدے ناکام ہو جائیں گے۔ وہ لوگ جوایٹم بم کی کسی ملک میں موجودگی کو دشمن کوحملے سے با ز رکھنے کا ایک موثر ذریعہ سمجھتے ہیں وہ ایک دن ہکا بکا رہ جائیں گے۔ پہلے ایٹمی حملہ نہ کرنے کے سارے و عد ے حر ف ِ ِ غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔ایٹمی آگ اس دنیا میں بڑھتی ہی جائے گی بلکہ ہر وہ مصیبت جواس نئی سائنس کی روشنی میں چلنے والی تہذیب و ترقی کی پیداروار ہے بتدریج بڑھتی ہی جا ئے گی۔ آبادی،مہنگائی،منشیات، دہشت گردی، لاقانونیت، خود غرضی، بد اخلاقی،الحاد، لامذہبیت،بے مروّتی، آدم خوری اور دس ہزار دوسری مصیبتیں بڑھیں گی۔ گھٹیں گی نہیں۔ لوگ اسی طرح ترقی کی راہوں پر خود کفالت کے سراب کی جانب ہانپتے بھاگتے رہیں گے یہاں تک کہ اس دنیا کا ماحول اتنا گرم ہو جائے گا کہ ایٹمی آگ بھڑک اُ ٹھے گی اور یہ دنیا ایٹمی جہنم میں تبدیل ہو جائے گی۔ دانش ور کہتے ہیں۔ ”پیداوار اور بڑھا ؤ“۔ یہی تمام مسئلوں کاحل ہے لیکن یہ حل نہیں پیداوار جتنی بڑھتی ہے اسی نسبت سے مسئلے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ آگ بجھانے کے لئے پانی ڈالنے والی بات نہیں جلتی پر تیل ڈالنے والی بات ہے۔دوستو!پانی سر سے گزر رہا ہے۔تھوڑا سا وقت باقی ہے۔اس مصیبت کا سبب معلوم کرو۔ اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈو اور پھر اُ س وقت کو یاد کرو جب اس دنیا میں توانائی کے باقی ذخائر ختم ہو جانے کے باعث ایٹمی توانائی ہی رہ جائے گی۔ ہر طرف ایٹمی توانائی ہی ہو گی۔ ہمارے یہ فہیم مصنفین عراقی ری ایکٹر کو دیکھ کر سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس اب مسئلہ حل ہو گیا لیکن اُ ن کی نگاہ وہ منظر دیکھنے سے قاصر ہے جب اس دنیا کے ہر پاور ہاؤس، ہر بحری جہاز، ہر آبدوز کشتی، ہر کارخانے، ہر ہوائی جہاز، ہر بس، ہر کار، اور ہر موٹر سائیکل کا اپنا ری ایکٹر ہو گا۔ ہر شخص تابکاری کی زد میں ہو گا۔ دنیا میں ری ایکٹر اس طرح پھٹیں گے کہ ہر طرف آتش بازی کا سماں برپا ہو گا۔انسانوں اور جانوروں کی اولاد عجیب و غریب الخلقت صورتوں میں پیدا ہو گی۔ یہی حال پودوں اور درختوں کا ہو گا۔ سائنس دان رفتہ رفتہ کُھل رہے ہیں تاہم ابھی تک حقائق کو اصلی صورت میں بیان کرنے سے کچھ ہچکچا  رہے ہیں۔ یادرکھئیے ایٹم بم سے کوئی حفاظت نہیں۔ ایٹمی تابکاری سے کوئی حفاظت نہیں۔ ایٹم بم ہتھیار نہیں عذابِ الہٰی ہے جو مکافات ِ عمل کے طور پر انسانیت پر نازل ہوا ہے اور اب انسانیت کے سامنے صرف تین ہی راستے ہیں پہلا یہ کہ ایٹم بموں کی بارش میں فی الفور معدوم ہو جائے دوسرا یہ کہ ایٹمی ری ایکٹروں کی تابکاری کی زد میں آ کر آہستہ آہستہ ایک دردناک زندگی گزار کر ایک المناک موت مر جائے تیسرا یہ کہ اس ایٹمی عذاب کی پیدائش کے اسباب معلوم کرکے اُ  ن کو دور کرے۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں ایٹمی آگ کا بت شکن دیو سائنسدانوں کے خدا اور نظریۂ اضافت کے موجد آئن سٹائن کے مجسمے کو ریزہ ریزہ کر ڈالے گا مگر کون دیکھے گا وہ امریکی بوڑھا جس نے زمین پر پاؤں مار کر کہا کہ امریکہ کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا بے چارہ نہیں جانتا کہ ہو سکتاہے کہ آپ کو دوسری بار زمین پر پاؤں مارنے کی مہلت ہی نہ ملے اور امریکہ آگ کے کھنڈروں میں تبدیل ہو چکا ہو یہ ہیں قدرت کے مکافات ِعمل کے نشے۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو کس طرح ایٹم بم بنانے سے باز رکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ انسانیت کو عالمی ایٹمی جنگ اور اس سارے ایٹمی جہنم کے دردناک انجام سے کیسے بچایا جائے۔ ایٹمی طاقتیں کہتی ہیں کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روک دو اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا۔ عالمی دانش ور کہتے ہیں کہ اپنے تنازعے اور جھگڑے بھول جاؤ اور یہ دنیا سائنس کی روشنی اور ترقی کے سبب ایک جنت بن جائے گی۔ مسائل کا حل پیش کرنے والے محقق کہتے ہیں کہ پیداوار کے اضافے میں ہر مسئلے کا حل مضمرہے۔یہ تینوں باتیں ناکام ہو چکی ہیں اور محض فضولیات کے زمرے میں شمار ہو سکتی ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلا ؤنہیں رُ ک سکا۔ لوگوں کے تنازعے اور جھگڑے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔ پیداوار جتنی بڑھتی ہے مسائل اُ سی نسبت سے بڑھ جاتے ہیں۔ معروف انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل مرحوم نے اپنی ساری اپیلیں انسانیت پر بے اثر پاکر اور ہر طرف اور ہر طرح سے نا اُ مید ہو کر 1964 ء میں اس انسانیت کے انجام کے متعلق ایک نہا یت جامع مبنی بر حقیقت نما فقرہ لکھا۔اُ س نے لکھا کہ ”جب سے آدم اور حوا نے گندم کا دانہ کھایا انسان نے ہر اُس حماقت سے اجتناب نہیں کیا جس کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی تباہی“ تو کیا رسل کا یہ تجزیہ اور پیشین گوئی غلط تھے۔ ہرگز نہیں۔ اس عالمگیر مسلسل، لامتناہی،روز افزوں مادہ پرستانہ سائنسی ترقی کا منطقی اور سائنسی انجام ایٹمی تباہی ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ رسل ناامید ہو کر مرا۔ظاہر حالات کودیکھ کر میں بھی نومید ہو جاتا اور شاید اس آگ سے جس میں ،میں برسوں سے جل رہا ہوں اس سے بچ کر کسی دوسری قسم کی آگ کی نذر ہو جاتا  لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ قرآنِ حکیم میں نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں اس سارے مسئلے، اس ایٹمی جہنم کے مسئلے کا تجزیہ اور اس کا حل مجھے دکھا یا گیا۔ عذابِ الیم سے انسانیت کو بچانے کی تدبیر نظر آئی اور میں پُر  اُمید ہو گیا اور وہ دن اور آج کا دن میرے ذہن پر یہی مسئلہ سوار ہے اور اس دوران میں جس  حد تک بھی میرے لئے ممکن تھا میں نے اس مسئلے کی ہر زاویے اور ہر پہلو سے تحقیق و جستجو کی۔ آپ حیران ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ اس جدید دور کا کوئی بھی دانش ور ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا۔ صرف قرآن اور قرآنِ حکیم ہی کو یہ شرف حاصل ہوا ہے کہ اس نے ایک معجز نما انداز میں اور نہایت جامع طور پر اس عقدہ لا ینحل کو وا کر دیا ہے یہ ہے انسانی دماغ اور الٰہی دماغ کافرق۔ قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کی پیدائش کاسبب عیب جوئی، دولت کے جمع کرنے میں مکمل استغراق اور دولت جمع کرنے کے اس عمل کی لا زوالیت میں یقین بتایا ہے۔ یہی اس جدید سائنسی ترقی والے معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں اگرچہ ان میں سے کسی کو بھی ناجائز یا قابلِ اعتراض نہیں سمجھا جاتا۔عیب جوئی اور نکتہ چینی کو پروپیگنڈے کا نام دے دیا گیا ہے۔ دولت کو زندگی کی ضرورتوں اور سہولتوں کے لئے ایک جائز حق تصّور کیا جاتا ہے اور سائنس کی قوت اور عملیت کے پیشِ نظر دولت کے جمع کرنے کے اس ذریعے یعنی جدید سائنسی ترقی کو ایک لازوال، لافانی اور غیر مختتم عمل مانا جاتا ہے۔ دولت کے بہت بڑے مخالف پیغمبر حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کی اُمت اس زر اندوز ترقی کو عیسائی دنیا کا ایک کارنامہ کہتی ہے اور اسے عیسائیت کی شان و شوکت کا ایک مظہر تصّور کرتی ہے۔ ا لفقرُ فخری اور فقرُ مِنی کا نعر ہ لگانے والے سر تاجِ انبیاء کی اُ مت اس جدید مادہ پرستانہ ترقی کا جواز قرآن ِ حکیم میں موجود غور ِ آیات اور تسخیر ِکائنات کی آیات میں تلاش کرتی ہے اور اس زر پرستانہ ترقی کو دینِ اسلام کی غیر راہبانہ افتادِ طبع اور دنیوی عملیت کے تناظر میں دیکھتی ہے اور اسلام کوترقی پسند دین کہنے سے بھی نہیں چوکتی۔ ہندو اپنے قدیم اسلاف کے اُ ڑن کھٹولوں کو سائنسی معرکے تصّور کرکے خود کو اس جدید ترقی کاوارث قرار دیتے ہوئے اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔ مہاتما بدھ کے پیروکار بدھ کی نروانی تعلیمات کوپسِ پشت ڈال کر ترقی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ آج جبکہ اس ترقی کا منطقی انجام ایک دہکتے ہوئے ایٹمی جہنم کی صورت میں نمودار ہو کر انسانیت کی آنکھوں کے سامنے دندنا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کیا اس جدید ترقی کے متعلق ان مذاہب کا نظریۂ جواز جو ،ان مذاہب کے پیروکار پیش کر رہے ہیں درست ہے۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ان مذاہب کی تعلیمات کامنطقی انجام وہی ہے جو اس ترقی کا ہے یعنی ایٹمی جہنم کی آگ ۔ تو پھر کیا یہ درست ہے کہ عیسائیت، اسلام، ہندومت، بدھ مت کی تعلیمات اپنے پیروکاروں کو ایٹمی جہنم کی آگ میں جھو نکنے  والی ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں۔ خدا کا ہر سچا دین امن ،سلامتی اور طمانیتِ قلب عطا کرنے والا ہے نہ کہ ایٹمی جہنم کی آگ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے پیروانِ ادیان اپنے اپنے مذہب کے متعلق صریح  غلط فہمی کا شکار ہیں۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ یہ لوگ سوچیں؟۔ا نسانیت آج ایٹمی جہنم کے کنارے پر کھڑی ہے اب دو ہی راستے ہیں یا ایک قدم آگے اور ایٹمی جہنم میں چھلانگ یاانقلاب۔ کیسا انقلاب ایسا جو اس ایٹمی جہنم کے اسباب بیخ و بن سے اُ کھاڑ پھینکے۔ غورِ آیات اور تسخیرِ کائنات کا وہ مطلب نہیں جو آج مسلمان سمجھ رہے ہیں۔ نہ ہی اسلحہ اور گھوڑے جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایٹمی بموں کے اسلحہ خانے بھی مہیّا کئے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن ِحکیم میں ہتھیار جمع کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ عذابِ الہٰی جمع کرنے کا۔ دوستو! ایٹم بم ہتھیار نہیں ہے یہ عذابِ الہٰی کی آگ ہے۔ ایٹمی بموں کے اسلحہ خانے مہیّا کرنا گویا کہ خود کو جہنمی ٹولے میں شامل کرنا ہے۔ تمہاری ساری مجبوریاں میرے سامنے ہیں۔ میں بے خبر نہیں تاہم مومن کی کوئی دنیو ی مجبوری ایسی نہیں جو جہنم کی آگ سے بڑی ہو۔فاعتبرو یا اوّلی الابصار۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ گلیلیو کی ستارہ شناسی سے لے کر آئن سٹائن کے نظریہء اضافیت تک اور ریلوے انجن سے ایٹم بم تک یہ ساری داستان ہی زر اندوزی اور ہوس پرستی کی ہے اور انسانیت کی زندگی کا مقصد ہی دنیوی زندگی، زراندوزی اور جاہ طلبی بن گیا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ دین کا جذبہ دن بدن سرد ہو رہا ہے اور انسان کی ساری توجّہ رفتہ رفتہ دنیوی آسائش پر مبذول ہو رہی ہے تو کیا آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو ایک دن دینی جذبہ دنیوی مصروفیات میں معدوم ہو جائے گا۔ توکیا آپ کو اس بات کاافسوس نہیں۔ یاد رکھیں اگر وہ مرحلہ آ گیا تو آپ کی زندگی دنیوی ضروریات کی آگ میں جہنم کا نمونہ ہو گی۔ جس جنت کی آپ اس زندگی میں ا ُ مید لگائے بیٹھے ہیں۔ اُ س کی صورت عنقا کی ہے۔ اُ س وقت آدمی نہ اس دنیا کا ہو گا نہ آخرت کا۔ اُ س کے لئے اس دنیا میں بھی دوزخ ہو گا اور آخرت میں بھی دوزخ ہو گا۔ جو لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ عیسائیوں نے تو ترقی کے لئے اپنا دین ترک کر دیا لیکن ہم اس ترقی کو بھی رکھیں گے اور دین کو  بھی رکھیں گے ہم ان دونوں کو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح چلائیں گے۔ اُنہیں معلوم ہو جائے گا کہ‘ ایں خیال است و محال است و جنون‘ ایسا کرنا نا ممکن ہے۔ ایسا معجزہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ ترقی جیسی کہ یہ ہے دین کے ساتھ نہیں چلتی بلکہ دین کو اس طرح گلا دیتی ہے جس طرح تیزاب لوہے کو گلا دیتا ہے۔ بارود کے تین اجزا ہیں۔ الگ الگ رہیں تو سلامت رہتے ہیں۔ اکھٹے کر دئیے جائیں تو بھک سے اُ ڑ جاتے ہیں۔ مان لیا کہ یہ ترقی دین کو ختم کردے گی مگر خود اس کا انجام بھی یہی ہو گا کہ بھک سے اُ ڑ جائے گی لیکن ڈر یہ ہے کہ کہیں اس انسانیت کو اپنے ساتھ بھک سے نہ اُُُ ڑا دے۔

آئیے اب اپنے ان معزز مصنفین یعنی اسلامی بم کے مصنفین کی جانب لوٹتے ہیں۔ اپنی اس کتاب کے لئے معلومات جمع کرنے کے لئے انہوں نے چہار دانگِ عالم کو چھان مارا ۔ خدا خبر کہاں کہاں سے معلومات حاصل کیں وہ معلومات ٹھیک ہوں یا غلط،وہ صداقت پر مبنی ہوں یا  تعصّب کا رنگ لئے ہوئے ہوں لیکن ان معلومات میں سے ایک اُنہوں نے ایسی بہم پہنچائی ہے جو سو فیصدی درست معلوم ہوتی ہے اور اُُ س پر سینہ پیٹنے کو جی چاہتا ہے اوراُ س پر انسانیت جتنا بھی ماتم کرے کم ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 1974 ء میں جب بھارت نے راجھستان میں اپنا کامیاب ایٹمی دھماکہ کیا تو اس کامیابی کی اطلاع جس تار میں دلّی کو دی گئی   اُس کے لفظ یہ تھے کہ “Bhudha is Smiling”مہاتما بدھ مسکرا رہا ہے۔ اس بظاہر معمولی سی بات میں بڑے معنی پنہاں ہیں۔یہ بات آجکل کے جدید دور کی مخلوق کی ذہنی  کیفیت کی واضح ترین غمازی کرتی ہے۔ مادہ پرستی کے جوش میں یہ انسانیت اتنی اندھی ہوچکی  ہے کہ اس کی نیک و بد کی پہچان مفقود ہو چکی ہے۔”بدھ مسکرا رہا ہے“۔ کس پر، ایٹم بم کے دھماکے پر، خدا کی مخلوق کو آگ میں بھون کر بھسم کر دینے والے، جہنم کی پیدائش کے منظر پر کون بدھ؟ جس نے خدا کی مخلوق حتٰی کہ چیونٹی کو نہ مارنے کی تعلیم دی، جس نے خدا کی مخلوق پر رحم کرنے کا درس دیا اور جس کے کروڑوں پیروکاروں نے صدیوں تک اُس کی رحیمانہ تعلیم پر عمل کیا تو کیا حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام اپنے پیروکاروں کے بم کے ذریعے ہیروشیما کی تباہی پر مسکرائے اور اگر مسلمان ایٹم بم بنا کر کسی شہر پر چلا دیں تو کیااسلام کے پیغمبر جنہیں اللہ تعالیٰ نے رحمتً للعالمین کے لقب سے نوازا ہے۔ عذابِ الہٰی کو دیکھ کر مسکرائیں گے اگر خدانخواستہ عالمی ایٹمی جنگ لگ گئی اور یہ دنیا برباد ہو گئی تو انسانیت کی اس تباہی پر مسکراہٹ شیطان کے ہونٹوں پر ہو گی۔ وہ خدا سے عرض کرے گا۔ اے میرے رب!کیا تو نے مجھے اس مخلوق کیوجہ سے جنت بدر کیا تھا۔ کیا میں نے اُ س وقت نہیں کہا تھا کہ میں ان سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا۔ ان میں سے ایک بھی تیرے راستے پر نہ ہو گا۔ اگر کسی کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہے تو اُ سے اس بات کے تصّور ہی سے لرزہ بر اندام ہو جانا چاہیے۔ بھارتیوں نے مہاتما بدھ پر بہتان باندھا میر ا تصّور یہ کہتا ہے کہ بدھ نے بھارتی دھماکڑی سے منہ پھیر لیا اور سخت روئے ۔میں اگر  دلّی کو دھماکے کی کامیابی کی خبر دیتا تو تار کی عبارت یوں ہوتی۔

“Budha Turned his face and wept”

”مہاتما بدھ نے منہ پھیر لیا اور رو دیئے“۔ بھارتیوں کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ ایشیا کی کامیابی ہے۔ اُ ن کی اس بات میں ایشیا اور یورپ (مغرب )کی چپقلش کی عکاسی ہو تی ہے۔ا گر حضرت ابراہیم علیہ السلام ایٹمی دھماکے کا منظر دیکھیں تو اس آگ کو وہ نمرودی چتا کی قبیل کی آگ سمجھیں اور آپ اللہ تعالیٰ سے دُ عا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اس آگ سے بچائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جس چتا میں ڈالا گیا اُس میں اور اس ایٹمی آگ کی چتا میں فرق یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی خاطر آگ میں ڈالا گیا اور کافر نے ڈالا جب کہ ایٹمی آگ کی چتا عذابِ الٰہی ہے اور خود انسانیت کے عمل کی مکافات ہے نیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چتا میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ڈالے گئے جبکہ ایٹمی چتا روئے زمین کی ساری مخلوق کی چتا ہے۔ حضرت موسٰیٰ علیہ السلام ایٹمی آگ کی چتا کو دیکھیں تو غیظ و غضب اور غم و اندوہ کی تصویر بن جائیں اور ایسا ہی زہرہ گداز خطبہ ارشاد فرمائیں جیسا کہ آپ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے آخری خطبہ دیا تھا اور جو ،اَب بھی تورات میں موجود ہے اور ایٹمی آگ پیدا کرنے والی سائنس کے ان کرشموں کو اس طرح بھسم کر کے اور راکھ بنا کر سمندر میں پھینک دیں جس طرح کہ آپ نے سامری کے بچھڑے کو بھسم کرکے اور راکھ بنا کر سمندر میں پھینک دیا تھا۔ حضر ت عیسٰی علیہ السلام اور صاحب ِ قرآن نبی آخر ا لزمان حضرت محمد الّر سول اللہ ﷺ مل کر اس ایٹمی آگ اور اس کی پیدائش کے اسباب  کے خلاف اُ س وقت تک جہاد کریں جب تک کہ یہ سب کچھ نابود نہ ہو جائے اور اسلامی انقلاب نہ برپا ہو جائے اور روئے زمین پر اسلام کا جھنڈا نہ لہرائے۔ خد ا کی شان کہ دنیائے اسلام اپنے اعمال کے سبب اس دنیا میں اس وقت ایسی گہرائیوں تک قعرِ مذلّت میں گر چکی ہے کہ اُ مت ِ مسلمہ کے ایک ملک پاکستان کا مفروضہ ایٹم بم جس کا ابھی تک کہیں نشان تک نہیں۔ ایسی دنیا میں جس میں بعض ممالک کے پاس ہزاروں نہیں لاکھوں ایٹم بم موجود ہیں ایک ضحوکہ اور ایک مذاق بن گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت قسمیں کھا کھا کر یقین دہانیاں کر ا رہی ہے کہ ہمارا ارادہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ہرگز نہیں لیکن کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ دنیائے مغرب اسلام کے نام سے اس درجہ خائف ہے کہ اگر بالفرض کوئی جنرل نمیری ذرا سی حد اسلامی رائج کرتا ہے تو اُ س کا تختہ الٹوا دیا جاتا ہے لیکن دوستو! یہ سب کچھ بے وجہ نہیں ۔مسلمان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں حصہ ہیں۔ دنیا کے بہترین ممالک ان کے قبضے میں ہیں۔ بے شمار دولت کے مالک ہیں۔ وسائل کی کوئی کمی نہیں پھر یہ حالت کیوں؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآنِ حکیم کی سورۃ الھمزہ میں دے رکھا ہے۔ عیب جوئی، نکتہ چینی، جلبِ زر میں مکمل استغراق اور دولت کی ہمیشگی اس جدید سائنسی ترقی کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ مسلمان بھی اسی دستور کے پیرو کار ہیں اور اس طرح دو کشتیوں میں سوار ہیں۔ حالات بھی ناسازگار ہیں۔ تین سو سالہ پرانی مرض اس دنیا میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ سب متعلقہ بیماریوں اور مجبوریوں نے ہر شخص اور ہر قوم پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس جدید سائنسی ترقی کے خلاف مغربی ممالک میں تو کچھ لکھا جا رہا ہے لیکن اسلامی دنیاتو اسے شہداور دودھ کی نہروں والی جنت ِ باز گشتہ تصّور کر رہی ہے۔ کیا مجال جو کوئی اس کے خلاف ایک بات بھی کہے۔ یہ بے چارے اس گمان میں ہیں کہ ہم ترقی بھی کریں گے اور دین کو بھی ساتھ ساتھ قائم کریں گے جو کچھ عیسائی دنیا نہیں کرسکی وہ  ہم کر کے دکھائیں گے۔حضرت علامہ اقبال ؒ پر بھی اس نئی تہذیب کی حقیقت کا دروازہ یورپ ہی میں کھلا۔وہاں کے محققین کے تبصرے بھی پڑھے ہوں گے۔ خود بھی مشاہدہ کیا ہو گا۔ ذہن رسا اور نگاۂ ژرف رکھتے تھے۔ حقیقت کو پا گئے اور سمجھ گئے کہ‘ یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے۔ مغربی ممالک میں جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بعض محققین اس نئی تہذیب کے خلاف لکھتے ہیں۔اس کی ایک ہی مثال کافی رہے گی۔ 1945 ء میں جب ہیروشیما پر ایٹمی بم گرایا گیا تو اُ سی سال ایک محقق رونالڈ ناکس نے ایک کتاب لکھی۔ جس کا نام گاڈ اینڈ ایٹمGod and Atom تھا۔ ( خدا اور ایٹم)۔ رونالڈ ناکس ایک مذہبی رحجان کے آدمی تھے اور مذہباً عیسائی تھے اور مسائل کو سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے تھے اور وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:۔

“Heaven Preserve us from the Nuclear Baptism”

   یعنی ”خداوند ہمیں نیوکلائی بپتسمہ سے محفوظ رکھے“۔یہ 1945 ء میں لکھی ہوئی کتاب میں نے 1970 ء میں پڑھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر عیسائیت کے دینی نکتہ نگاہ سے لکھی جانے والی یہ کتاب اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ کتاب کا وہ پیرا جسے کتاب کا نچوڑ کہا جا سکتا ہے کچھ یوں ہے:۔

”میں سمجھتا ہوں کہ کل لامذہبیت کی علامت ایٹم ہو گا جس طرح کہ کل لامذہبیت کی علامت اموباAmoeba تھا (گویا کہ جدید سائنس کی ابتدا ہی لامذہبیت سے ہوئی )اس دوران میں ہمیں نہ صرف دشمنوں، لامذہب لوگوں سے بلکہ اپنے کمزور دل دوستوں کے معذرتخواہانہ رویئے سے بھی نپٹنا ہے۔ ایک ایسی معذرت خواہانہ روش کی شدید مانگ پیدا ہو جائے گی جو مذہبی یقنیت سے دستبر دار ہو اور جو ہماے دوستوں (مذہبی لوگوں) کے غیر سنجیدہ پہلو کو ظن و گمان کی راہوں پر ڈال دے۔ انسانی فطرت کی خواہشوں اور مجبوریوں کے دلائل پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی خاطر دینی علوم کو ارد گرد کی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی تازہ کوششیں کی جائیں گی۔ اس دوران میں دینی درسگاہوں کا تربیت یافتہ عالم صدیوں کاتجربہ ازبر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ عجیب و غریب بولی بولتا ہوا محسوس کرے گا اور پہلے سے کہیں زیادہ اپنی باتوں کو اس ایٹمی دور کی منطقیات سے متصادم پائے گا اور میر ا خیال ہے کہ یہ عمل ایسے ہی جاری رہے گا جب تک کہ کوئی کافی جرأت والا ،کافی علمیت  والا، کافی سماجی مقام والا، نئے سرے سے اس کام کی تعمیرکو ہاتھ میں نہیں لیتا یہ ایک بادشاہی معرکہ ہے جس کی مدت سے انتظار ہے یہ بادشاہی معرکہ ابھی تک علمی سطح پر سر کیا جانا ہے“۔

(گاڈ اینڈ ایٹم صفحہ-18)

یہ ہیں خیالات ایک عیسائی مصنف کے 1945 ء میں ہیروشیما کے ایٹمی دھماکے کے فوراً بعد مصنف نے جو خدشات ظاہر کئے ہیں  وہ درست ثابت ہوئے۔ تاہم مصنف اپنی علمیت کے باوجود سائنس کے علم سے عاری ہے اَلبَتَّہ 1945 ء میں خود سائنسدانوں کا علم بھی ایٹمی سائنس میں قلیل تھا۔مصنف کا روّیہ اپنی کتاب میں سائنس کے معاملے میں معذرت خواہانہ ہے۔ وہ سائنس کی پیدا کی ہوئی سہولتوں کو فراموش نہیں کرتا اور جس طرح آج بھی اس دنیا کا ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ قصور سائنس کا نہیں آدمی کا ہے جو سائنس کا استعمال غلط کرتا ہے۔ مصنفِ مذکور کا بھی یہی خیال ہے۔یہ نکتہ کسی کو معلوم نہیں اور مجھے 1972 ءمیں معلوم ہوا کہ اس جدید سائنس اور اس پر مبنی اس ترقی کا منطقی انجام ایٹمی تباہی ہے اور اگر ایٹمی تباہی نہ ہوتب بھی تباہی ہے۔ اس تباہی کو روکنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ ترقی اور یہ سائنس دین کی طبعی مخالف ہے۔ یہ دو اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اس بات کا ادراک مکافاتِ عمل کے نشے میں مخمور اور ضروریاتِ زندگی کے لئے مجبور انسانیت کے لئے نہایت مشکل ہے لیکن اس دنیا میں چار ارب انسان یعنی دنیا کی آبادی کے پانچ حصوں میں سے چار حصے ایسے ہیں جو اسلام کو نہیں مانتے نہ قرآنِ حکیم کو مانتے ہیں اور اسی دنیا میں کروڑوں آدمی ایسے ہیں جو خدا کو بھی نہیں مانتے تو کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص کہے اسلام سچامذہب ہے، قرآن اللہ کی کتاب ہے اور خدا کا وجود ہے۔ وہ غلط کہہ رہا ہے لیکن انسان کا ذہن اس دجّالی فریب میں اس طرح مقید ہے اور انسان کا جسم اس سائنس گزیدہ ترقی کی گرفت میں اس بری طرح سے آ چکا ہے کہ اگر کوئی حقیقت کوسمجھ بھی لے تو اس کا چھٹکارا ممکن نہیں۔ ہم اس امر میں گاڈ اینڈ ایٹم کے مصنف کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے اَلبَتَّہ اس نے جو یہ کہا ہے کہ علمی سطح پر اس کی انتظار ہے جو اس شاہی جنگ کا معرکہ سر کر سکے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ 1945ء میں، میں اس شاہی جنگ کی ابتدا کر رہا تھا۔ 1985 ء تک میں نے یہ جنگ لڑی اور اگر اللہ کو منظور ہے تو اس کی روداد انسانیت کے سامنے آ جائے گی اَلبَتَّہ رونالڈ ناکس۔(گاڈ اینڈ ایٹم کے مصنف) کو توقع یہ تھی کہ شاہی معرکہ مارنے والا سائنس اور مذہب میں مصالحت کرادے گا تو مجھے افسوس کے ساتھ اور رونالڈ ناکس کی روح سے معذرت کے ساتھ یہ  کہنا ہے کہ میرے پاس رونالڈ ناکس اور اس دنیا کے دوسرے پانچ ارب باشندوں کے لئے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں۔سائنس اور دین میں مصالحت یا ہم آہنگی میرے بس کی بات نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ دو متضاد چیزیں ہیں۔ اگر میں نہ سمجھا سکا تو وقت سمجھا دے گا لیکن اگر وقت نے سمجھایا تو پھر توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوں گے اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکے گا۔ بے چارے رونلڈ ناکس کو یہ خبر نہ تھی کہ جس شخصیت کی وہ آرزو کر رہا تھا قدرت نے اسے ہیروشیما سے تین برس قبل اس کا مشن اس کو سونپ دیا ہے۔ مجھے یہ ابراہیمی مشن حضرت خضر علیہ السلام کے توسط سے مصیّب(عراق) میں 1942ء میں سونپا گیا۔یہ وہی سال تھا جس میں انریکو فرمی نے شکاگو میں یورانیم فژن چین ری ایکشن کا کامیاب تجربہ کرکے انسانیت پر ایٹمی جہنم کا دروازہ کھول دیاتھا۔ میں اُ س وقت اپنی عمرکے پچیسویں سال میں تھا اور کوئی خاص پڑھا لکھا نہ تھا پھر کیا ہوا یہ ایک طویل المناک داستان ہے۔ ہر علم کا حصول بغیر کسی استاد کے اور پھر انگریزی میں چودہ جلدوں کی تکمیل انسانیت کو ایٹمی جہنم سے بچانے کا نسخہ ایٹمی آگ کے طوفان میں نوح کی کشتی۔

 میں رونالڈ ناکس کو اس کی سوچ کے سبب موردِ الزام نہیں ٹھہراتا اور اس کے انسانیت کے ساتھ ہمدردی کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ 1945 ء تو کجا آج 1980 ء کے عشرے میں بھی اس دنیا میں میرے سوا ایک بھی ایسا شخص نہیں جو یہ سمجھتا ہو کہ یہ موجودہ سائنسی تہذیب دین کے ساتھ نہیں چل سکتی۔یہ دین کی قاتل ہے اور یہ کہ ایٹم بم اس سائنسی تہذیب کا منطقی انجام ہے۔ بہرحال آج اگر رونالڈ ناکس ہوتا تو میں اس کو سمجھاتا کہ اس سائنسی تہذیب کے نتیجے میں اس میں بدامنی روزافزوں ترقی کرے گی مہنگائی اور بھوک بڑھتی جائے گی ،منشیات کی لعنت ترقی کرتی جائے گی، دہشت گردی پھیلتی جائے گی، بیماریاں بڑھتی جائیں گی، تنازعے اور جھگڑے آگ کی طرح بڑھیں گے۔ ایٹم بم سے بچاؤ کا کوئی طریقہ کارگر نہ ہو سکے گا۔ ایٹمی تابکاری پر کبھی کنٹرول نہ ہو سکے گا نہ ہی ایٹمی تابکاری کی مضرت کو دور کیا جا سکے گا نہ ہی تابکاری سے پیدا ہونے والے امراض کا کوئی شافی علاج دریافت ہو سکے گا۔ ایٹمی طاقتوں کے مابین ایٹم بموں کو ضائع کرنے کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکے گا۔ ایٹمی تجربات کبھی بند نہ ہوں گے۔ بالآخر یہ دنیا یا ایٹمی بموں کی یلغار سے تباہ ہو جائے گی یا تابکاری کے اثرات سے تابکاری بیماریوں میں مبتلا ہو کر اور پیدائشی طور پر عجیب الخلقت صورتیں اختیار کرکے رفتہ رفتہ خدا کی اس زمین سے ناپید ہو جائیں گی اور مزے کی بات یہ ہے کہ کافی لوگ ان حقیقتوں کو سمجھتے ہیں یا سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی غیبی طاقت اس انسانیت کو مخبوط الحواس کرکے ایٹمی جہنم کی طرف دھکیلے جا رہی ہے ۔وہ غیبی طاقت کیا ہے وہ ہے ایٹم بم کی پیدائش کی وہ وجہ جو، اس سائنسی تہذیب کی بنیادی خصوصیت ہے یعنی مادی زندگی کو اپنی زندگی کا مقصودِ تخلیق سمجھنا اور اسی میں غرق ہو کر رہ جانا۔

اب لوٹیئے !اسلامی بم کے مصنفین کی جانب ان کی اس کتاب کی بنیاد ہی فساد پر ہے اور ان کی نااہلی اور بے جا اور اندھے تعصّب کی بیّن دلیل ہے۔ اب اس کتاب کے نام ہی کو دیکھئے ”اسلامی بم“ اس نام میں بڑی طنز عیاں ہے۔ اگر انہوں نے مشرق ِوسطیٰ کے ایٹمی پروگرام سے پیدا ہونے والے خدشات کا اظہار ہی کرنا تھا تو اس کتاب کا کوئی دوسرا موزوں نام بھی رکھا جا سکتا تھا۔مثلاً (The Danger of Atomic Proliferation in the Middle East) یعنی مشرق وسطی میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا ؤکا خطرہ یا اگر وہ اپنے عنوان کو مزید واضح کرنا چاہتے تھے تو وہ کہہ سکتے تھے۔

“The Nuclear Proliferation in the Middle East a Threat to the World Peace”

یعنی” مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ عالمی امن کے لئے خطرہ وغیرہ“۔کیا انہیں اتنی خبر بھی نہ تھی کہ کتاب کا ایسا نام دنیائے اسلام کوبرانگیختہ کرکے رکھ دے گا تو کیا اس طرح وہ اپنے ایٹمی پروگرام کو ترک کر دیں گے نہیں بلکہ اگر ان کا ارادہ ترک کرنے کا ہوتا تب بھی وہ اسے ترک نہ کرتے۔کیا ان عقل کے اندھے مصنفین کو قوموں کی نفسیات کا بھی علم نہیں۔ عالمِ اسلام پر کتاب کے اس نام نے تازیانے کا کام کیا ہے اور ان کا مؤقف پہلے سے کہیں سخت ہو گیا ہے۔ اب اُ ن طاقتوں کو جن کی خوشنودی کے لئے یہ کتاب لکھی گئی ہے کون سمجھائے کہ اس کتاب نے نہ تو ان کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے اور نہ عالمی امن کی کوئی خدمت کی ہے۔عالمِ اسلامی اپنی کمزوریوں کے باوجود اس دنیا میں ایک قابلِ توجّہ قوت ہے۔ اگر وہ ایٹم بم نہ بھی بنا سکے تو اس سے کیافرق پڑے گا اور میرا دیانت دارانہ تجزیہ سنیں تو یہ ہے کہ جس ملک نے بھی ایٹم بم بنایا اس نے اپنی تباہی پر مہر لگادی۔ اپنی موت کے پروانے پر اپنے ہاتھ سے دستخط ثبت کر د یئے اور ہمیشہ کے لئے درد سر اور اضطراب کا سودا کر لیا۔ وہ مالی لحاظ سے ہی دیوالیہ نہیں ہو جائیں گے بلکہ قدرت انہیں اس دنیا میں ذلیل کر دے گی اور وہ چھوٹی چھوٹی طاقتوں سے زک اٹھائیں گے کیونکہ وہ اپنی ایٹمی طاقت پرمغرور ہیں اور فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوپر پاور کہلانے پر مصّر ہیں حالانکہ سپر پاور صرف رب کی ہے، بندہ کیوں کر سوپر پاور بنے گا؟  اگر یہ مصنفین واقعی کسی علمی صلاحیت کے مالک ہوتے تو یہ امریکہ ،روس اور دوسری ایٹمی طاقتوں کو مخاطب کرتے اور کہتے کہ دیکھو مشرقِ وسطیٰ سے ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے جو تم سب کو اور تمہارے ساتھ اس پوری دنیا کو بھسم کرکے رکھ دیگی اس لئے تم اپنے آپ پر اور خدا کی اس مخلوق پر رحم کرو اور باز آ جاؤ اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ضائع کردو اگر تم ایسا کرو گے تو پھر دنیا کاکوئی بھی غیر ایٹمی ملک ایٹم بم بنانے کی جسارت نہ کر سکے گا اور اُ س صورت میں بھی اگر پاکستان ایٹمی بم بنانے کی سعی کرے گا تو تم اُسے ایسا کرنے سے باز رکھنے میں حقِ بجانب ہو گے اور یہی بات ہندوستان یا کسی اور ملک کے لئے کہی جاسکتی ہے۔میں ایسے ہی ان مصنفین پر برس رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کام اُ ن کے بس کاروگ نہیں۔ ایٹمی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہونا اور بین الاقوامی سطح پرانہیں ایٹمی خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں ایٹمی خطرات کی پیدائش کے اسباب سمجھانا میرا کام ہے۔ قدرت کی جانب سے یہ مشن مجھے سونپا گیا ہے اور جب تک دم میں دم ہے توفیقِ ایزدی کے سہارے خدا کی راہ پراپنی جدوجہد جاری رکھوں گا۔ یہ لوگ کیوں نہیں دیکھتے کہ دنیا بھر کے عوام بالعموم اور ایٹمی طاقتوں کے عوام بالخصوص کس تیزی سے ایٹمی خطرے کے خلاف بیدار ہو رہے ہیں۔ اُ ن کی حکومتیں کب تک اُ ن کے اس جذبے کی مزاحمت کر سکیں گی۔ جوں جوں اس دنیا میں ایٹمی ابتلا کے خلاف جذبات بھڑکیں گے توں توں میرا کام آسان ہوتا جائے گا۔ لوگ میری بات پر کان دھریں گے اور میری بات کو سمجھیں گے۔ یہ دنیا ایٹم بم مردہ باد ،ایٹمی طاقتیں مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے گی، اور اس کے بعد ایک نئے دور ایک پر امن اور خوشحال دور کی سحر طلوع ہو گی۔ آج جہاں بھی کسی ایٹمی ملک میں ایٹمی کارندے  تابکار مادے کے فضلے کی میت کو دفن کرنے کے لئے اس کا صندوق کندھے پر اٹھائے پہنچتے ہیں۔وہاں اس علاقے کے باشندے اپنے ڈنڈے سوٹے سنبھال کر ان کے مدِّمقابل ہو جاتے ہیں اور وہاں اس مردار کو دفن نہیں ہونے دیتے۔

”اسلامی بم“ کے مصنفین نے اس دنیا کا کونہ کونہ چھان مارا اور ہر طرف سے ہر قسم کی معلومات جمع کیں مگر واہ رے پاکستان وہ ایک بات جس کاوہ انکشاف کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ خدا خبر پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام چلانے کے لئے یورانیم کہاں سے حاصل کرتا ہے اور اس سوال پر وہ محوِ حیرت ہیں حالانکہ امریکہ سے اسرائیل تک یورانیم کے لانے میں جو جو جتن اسرائیل نے کئے اور جو جو پاپڑ اس سودے کے اخفاکے لئے اسرائیل نے بیلے ان کو شرح و بسط کے ساتھ ان مصنفین نے بیان کر دیا ہے اور ہندوستان نے جہاں سے اپنے ایٹمی پروگرام کیلئے ایٹمی مواد حاصل کیا ہے اسے بھی طشت ازبام کر دیا ہے۔ ان مصنفین کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ پاکستان اس معاملے میں خود کفیل ہے۔1930 ء کے عشرے میں جب انگریزی حکومت کا دور دورہ تھا تو ایک ریٹائرڈ انگریز برگیڈیئر مسمی برین معروف بہ سقراط نے پنجاب میں دیہات سدھار کی ایک مہم چلائی۔ اس کے آدمی گاؤں گاؤں پھر کر کونین کی گولیاں بانٹتے۔ لوگوں کو پانی کے جوہڑوں پر مچھروں کی پیدائش ختم کرنے کے لئے مٹی کا تیل چھڑکنے کی تاکید کرتے۔ خود مسٹر برین پنجاب کے لوگوں کو بیٹھ کر گندم کاٹنے کی بجائے کھڑا ہو کر گندم کاٹنے کو کہتے۔مسٹر برین نے یورانیم کے بیج کی ایک بوری کہوٹہ میں رکھی ہوئی تھی مگر مسٹر برین انگلستان سدھار گئے، اور 1948 ء میں انگریزی حکومت نے بھی برصغیر ہندو پاک کو خیرباد کہہ دیا۔ جب دنیا میں یورانیم کا چرچا بڑھا اور پاکستانیوں کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا انہوں نے کہوٹہ کے ارد گرد کھیتوں میں اور پہاڑوں پر یورانیم کے بیج کی اس بوری کو جو مسٹر برین چھوڑ گئے تھے۔ بو دیا۔پھر کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یورانیم کے جنگلات اگ گئے اور بڑھتے ہی جارہے ہیں۔عنقریب اسے دساور کو بھیجنے کا بندوبست کرنا پڑے گا۔ عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ پاکستانی یورانیم کی کوالٹی نہایت اچھی ہے لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ یورانیم کا بوٹا کس طرح کا ہوتا ہے۔ محض ایک عینی شاہد نے سرگوشی کے انداز میں بتایا کہ یورانیم  کا بوٹا بالکل ناگ کی طرح  ہوتا ہے۔ جس کا رنگ سرخ سنہرا ہوتا ہے اور جب وہ پھنکارتا ہے تو اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں اس طرح یورانیم کا جنگل ایک شعلہ زار ہوتا ہے۔ اس کا ہر پودا شعلہ بار ہوتا ہے۔

اے اسلامی بم کے بے چارے مصنفین! تم کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب ہو لیکن یہ فاضل مصنفین میری باتیں سنیں تو کہیں۔خاموش۔ ہماری سطوت و کامرانی کے شاہکار۔ ہماری شان و شوکت کے بھرم دنیا میں ہماری برتری کے دارومدار ہمارے ایٹم بم کے خلاف بات کرتا ہے۔ ہش۔ ہمارا بھونڈا مت پھوڑ۔ ہمارے اس سامری جادو کو نہ توڑ۔ میرا جواب ان کو یہ ہے کہ اس سطحیت سے نکل کر آگے دیکھو۔ وقت آئے گا کہ توانائی کے سارے مروّجہ وسائل تیل  وغیرہ ختم ہو جائیں گے۔ اس وقت یہ دنیا مادہ پرستی کی اس سائنسی، صنعتی ترقی کی دلدل میں اس طرح دھس چکی ہو گی کہ مجبور انسانیت کو ایٹمی توانائی اپنانی پڑے گی۔ دنیا لاکھ کہے کہ ایٹمی توانائی برائے امن اپنائی جائے گی لیکن یہ بھول ہو گی۔ اس مروّجہ سائنس ترقی کے معاشرے کا دستور اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ ہر ملک ہردوسرے ملک، یعنی ہر ہوس کار ملک ہر دوسر ے ہوس کار ملک سے اپنی سرزمین اور دولت کی حفاظت کے دفاع کا موثر انتظام کرے اور ہر وقت باہمی خوف سے لرزاں رہے، چوکس رہے، گوش بر آواز رہے، دشمن کے حملے سے پیشتر حملے کے لئے تیار رہے، ہر ملک موثر سے موثر جنگی نظام پیدا کرنے کی آرزو کرے گا اور ظاہر ہے کہ تباہی کا موثر ترین اسلحہ ایٹمی اسلحہ ہے لہٰذا ہر ملک ایٹمی اسلحہ بنانے کی فکر میں رہے گا اور چونکہ ایٹمی توانائی ہر جگہ موجود ہو گی لہٰذا  ایٹمی اسلحہ بنانے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی کیونکہ ایٹمی توانائی برائے امن کے لئے چلنے والے ری ایکٹر اور جنگی مقاصد کے لئے بنائے جانے والے ایٹمی ہتھیار میں مصالحہ ایک ہی ہوتا ہے۔ کنٹرول میں رکھو تو ری ایکٹر۔کنٹرول ہٹا لو تو ایٹم بم، یہی وجہ ہے کہ آج جب کوئی ملک کہتا ہے کہ ہم تو ایٹمی توانائی برائے امن کے لئے کوشش کر رہے ہیں ہماراتو کوئی ارادہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا نہیں تو کوئی بھی نہیں مانتا۔دہائیاں بے کار، قسمیں فضول، ہوسِ زر پر مبنی اس سائنسی معاشرے کے پیدا کردہ حالات اور انسانی ذہن کی موجودہ سطح کو دیکھتے ہوئے یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ ایٹمی ری ایکٹر تو بنائیں گے مگر ایٹمی   ہتھیار بنانے سے گریز کریں گے اور سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ وہ اسباب جو اس سائنس پر مبنی معاشرہ کی پیدائش کے ہیں یعنی عیب جوئی، زر اندوزی میں اغراق اور دولت کی ہمیشگی میں یقین، ان کا منطقی انجام ہی ایٹمی جہنم ہے لیکن بالفرض ِمحال یہ دنیاایٹمی توانائی برائے امن تو اپناتی ہے مگر ایٹم بم نہیں بناتی تو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایٹمی ری ایکٹر بھی اپنی تابکاری کے سبب انسانی صحت اور زندگی کے لئے اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ ایٹم بم، فرق صرف یہ ہے کہ ایٹم بم فوری خاتمہ کرتا ہے جب کہ ایٹمی ری ایکٹر آہستہ آہستہ عذاب دے دے کر صحت اور زندگی کو ختم کرتا ہے۔

اب مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ حالات کی سوئی سرخ نکتے پر پہنچ رہی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس سائنس گزیدہ معاشرے کا حشر یعنی اس کا منطقی انجام بالکل قریب ہے اور سامان بالکل مکمل ہے نیزوہ جو اسلامی بم کے مصنفین نے مشرقِ وسطیٰ کے علاقے کو دنیا کے حساس ترین علاقے کے طور پر چنا ہے مجھے اس بات میں ان سے اتفاق ہے۔ دنیا کی قومیں جس طرح سے کٹتی اور بٹتی جا رہی ہیں،ان کی اس گروہ بندی میں جو، بات واضح نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایک جانب اس جدید سائنسی معاشرے کے خالق یعنی یہودی اور ان کے حواری ممالک ہیں اور دوسری طرف دنیائے اسلام ہے۔ ان دو مخالف گروہوں کا زیرو پوائنٹ مشرقِ وسطیٰ ہے۔ جہاں اسرائیل اور عرب دنیا ایک دوسرے کے مقابل منتظر کھڑے ہیں لیکن یہ تصادم چونکہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا میں محدود نہیں ہو گا بلکہ بین الاقوامی قسم کا ہو گا لہٰذا وقت کو ابھی مکمل گروہ بندی اور جنگی تیاری کاانتظار ہے۔ یہ جنگ ایک فیصلہ کن بین الاقوامی جنگ ہو گی لیکن سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا یہ ایٹمی جنگ ہو گی اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ایٹمی جنگ چونکہ ساری دنیا کی مکمل تباہی کی متقاضی ہے۔ لہٰذایہ جنگ ایٹمی نہیں ہو گی۔ آپ کہیں گے کہ اس لہٰذا کا کیا مطلب ہے تو میں کہوں گا کہ محمدالرَّسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں کیمطابق قیامت سے پہلے انسانیت پر ایک ایسا دور آئے گا جو عدل و انصاف اور خوشحالی کا دور ہو گا اور ساری دنیا پر اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ حضرت مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسٰیٰ علیہ السلام کی جو جنگ یہودیوں کے سردار اوراس دنیا کے جھوٹے خدا یعنی دجّال کے درمیان ہو گی۔اس کے نیتجے میں یہودی قوم کلّی طور پر نیست و نابود ہو جائے گی۔ بہرحال یہ سوال اپنی جگہ پر حل طلب ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا  کیا بنے گا؟۔ آخیر پر مجھے یہ کہنا ہے کہ یہ دنیا ایٹمی جہنم کی جانب کچھی جا رہی ہے۔ صرف کوئی عقل کا اندھا ہی اس کا انکار کر سکتا ہے اَلبَتَّہ اس وقت تو یہ ساری دنیا ہی اس معاملے میں اندھی ہے۔ مسلمان لوگ کیا یہ پسند کریں گے کہ اپنے مغربی راہنماؤ ں کے پیچھے پیچھے اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے اسی طرح کھچتے کھچتے ایٹمی جہنم میں جا گریں  یا یہ پسند کریں گے کہ دنیائے اسلام کا ایک متحدہ محاذ بنا کر ایٹمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جائیں اور نعرہ لگائیں کہ نہ ہم بنائیں گے نہ تمہیں بنانے دیں گے یعنی ایٹم بم نہ خود بنائیں گے نہ تمہیں بنانے دیں گے اور اسوقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک کہ اس دنیا میں ایک بھی ایٹمی ہتھیار ہے۔ دوستو! میں یہ بات لکھ رہا ہوں اور آپ حیران ہو کرمیرے منہ کیطرف دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو اپنے کانوں پر اعتبار نہیں آ رہا۔ بات بھی عجیب ہے۔آج کی دنیائے اسلام متحدہ محاذ بنا کر ایٹمی قوتوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑی ہو جائے اور نعرہ لگائے کہ نہ بنائیں گے نہ بنانے دیں گے۔ دنیائے اسلام کی موجودہ حالت کے پیشِ نظر میری اس اپیل کو پڑھ کراگر آپ کو میری دماغی حالت پر شبہ ہونے لگے تو بجا ہے اور میں آپ کی اس رائے سے متفق ہوں لیکن جس کسی نے پہلے پہل پاکستان کا تصّور پیش کیاتھا کیا اس وقت اس کی دماغی کیفیت پر کسی نے شبہ نہیں کیا تھا لیکن کیاپاکستان ایک خواب سے حقیقت بن کر دنیا کے سامنے نہ آ گیا۔ میں یہ اپیل پاکستان اور دنیائے اسلام کی آنے والی اس نسل کے لئے لکھ کر چھوڑ رہا ہوں جو پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کی وجہ کو حقیقی معنے بخشے گی  اور جب دنیائے اسلام کی وہ نسل اسلام کو اس کے حقیقی رنگ میں پیش کرے گی۔ اتنی بات میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی مسلمان ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔یہ ساری دنیا ان کے اس عمل کو نظر ِاستحسان سے دیکھے گی کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے لئے دنیا کا ہر ملک مضطرب ہے اور اگر مسلمانوں کی موجودہ نسل بھی اس کام کا بیڑہ اٹھا لے تو بعید ازقیاس نہیں اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کر دے۔

اسلامی بم؟ اور کیا ہے؟ اسلامی بم؟:

اسلامی بم؟ اور کیا ہے؟ اسلامی بم؟ یہ وہ بم نہیں جو بعض طاقتوں کے ایٹمی بموں کے ذخیروں کی زینت بن کر ان طاقتوں کو سوپر پاور کے لقب کا مستحق قرار دے دیتا ہے نہ ہی یہ وہ ایٹمی بم ہے جسے دنیائے اسلام بنانے میں کامیاب ہو جائے تو اسلامی بم کہلائے اور مسلمان ایسے بم کو بنانا اپنے دفاع کے لئے اپنا قانونی حق تصّور کریں اور قرآنِ حکیم کے اس حکم کے مطابق جو مسلمانوں کو جنگی تیاری کے ضمن میں ہر وقت جنگی اسلحے سے لیس رہنے کے لئے دیا گیا ہے۔ ایٹم بم کو بھی دفاعی اسلحے کا ایک نمونہ سمجھیں۔اس وقت ایٹم بم کے معاملے میں جس فیصلے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ آیاایٹم بم دفاعی اسلحے کے زمرے میں آتا ہے۔ آیاایٹمی ہتھیاروں کی بین الاقوامی تیاری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ایٹمی جنگ کے خاتمے پر کوئی بھی فاتح ہونے کے شرف کا دعوے دار ہو سکے گا؟۔ ایٹمی اسلحے کے بارے میں جس قدر علم انسان کو حاصل ہو چکا ہے۔ اس کے آئینے میں بلا شبہ یہ نظر آتا ہے کہ ایٹم بم دفاعی اسلحہ نہیں بلکہ یہ زمینی زندگی کی مکمل تباہی کا سامان ہے۔ ہر ایک اور تمام زندگی فنا ہو کر رہ جائے گی۔ یہ بات کسی جذباتی کیفیت کے نیتجے میں ہونے والی افواہ سازی اور بیان بازی کے ضمن میں نہیں آتی بلکہ ہروہ سائنس دان جو اس دنیا میں ایٹمی سائنس سے کچھ مس رکھتا ہے وہ اس کلیۃً حقیقی اور غیر جذباتی بیان کی تصدیق کرے گا۔ ایٹمی جنگ فاتح اور مفتوح کے امتیاز کو مٹا دینے والی چیز ہے۔ جو لوگ ایٹم بم کے ابتدائی حرارتی شعلے  (Heat Flash) سے بچ گئے۔وہ ایٹم بم کے دھماکے (Blast) کا شکار ہو جائیں گےاور وہ لوگ جو ،ان دونوں ابتلاؤں سے محفوظ رہے انہیں ایٹم بم کی تابکاری شعاعیں جالیں گی اور ہلاکت سے ہمکنار کر دیں گی۔بچ جانے والے اپنے نصیبے کو کوسیں گے اور مر جانے والوں کی موت کو رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے کیونکہ بچ جانے والوں کی زندگی کینسر، بھوک، سردی اور بیماری اور غم و اندوہ کے دردناک عذاب کا ایک المناک نمونہ ہوگی اور یہ زمین تابکاری مادے کے پھیلاؤ کے سبب لاکھوں سال تک کے لئے ناقابلِ بود و باش ہو جائے گی۔ صرف انسان ہی اس المیے کا شکار نہ ہوں گے بلکہ حیوانوں اور پودوں کا حشر بھی ایسا ہی ہوگا تو کیا یہ سب باتیں محض جذباتی ڈھکوسلا ہیں؟۔ نہیں بلکہ یہ سب کچھ حقیقی اور اٹل فیصلے ہیں جو سائنس نے خود پایہء اثبات کو پہنچائے ہیں اور ایٹمی توانائی برائے امن کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ کیا تم ایٹمی توانائی کو تصّور کرتے ہو اور کیاایٹمی توانائی کی موجودگی میں تم امن کی امید باندھے ہوئے ہو۔ امن کی امید تو اس وقت ٹوٹ جاتی ہے جب ایٹم کانیوکلیس (دل) ٹوٹتا ہے اور ایٹمی توانائی ،توانائی نہیں لعنت ہے عذاب ہے، قہر ہے۔ ایٹمی توانائی ایٹمی جہنم کے اندر کھینچنے کا دانہ ہے جو ڈالا جاتاہے۔ اگر یہ انسانیت کافی عرصے کے لئے ایٹمی جنگ سے فرار میں کامیاب ہو گئی تو ایٹمی توانائی برائے امن اپناحساب کتاب چکائے گی  اور اس زمین سے بشمول انسانیت جملہ از ز ندگی کو اپنے طویل المیعاد اثرات کے ذریعے ایک دردناک اور سست رفتار طریقے سے ناپید کر دے گی اور اس کا آخری دور ایٹمی جنگ کی تباہی سے کمتر نہ ہوگا۔ یہ بات محض جذباتیت کی بنا پر نہیں کہی جا رہی۔ بلکہ دنیا کا ہر ریڈیوبائیولوجسٹ اس حقیقت کی تصدیق کرے گا اور اس کے سوائے اسے کوئی چارہ کار نہیں اور یہ بات سمجھنے کے لئے کسی ارسطو ئے زمان کے فہم اور ادراک کی حاجت نہیں۔سیدھی سی بات ہے۔تابکاری ہرمقدار میں مضر ہےاور اس سے حفاظت کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ تابکاری سے بچاؤ کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ تابکاری کے منبع کو مکمل طورپر اور مادی طریقے سے ڈھانپ دیا جائے۔ ری ایکٹر، پروسیسنگ پلانٹ یا کسی دوسری قسم کے ایٹمی پلانٹ کو تو مادی طریقے سے مثلاً کنکریٹ یا سکے سے مکمل طور پر ڈھانپا جا سکتا ہے مگر ری ایکٹر کے اردگرد بسنے والے لاکھوں انسانوں کو آپ کنکریٹ یا سکے سے کیسے ڈھانپ سکیں گے؟۔ ری ایکٹر لیک ہی نہیں ہوتا بلکہ دھماکے سے پھٹتا بھی ہے اور ہر ری ایکٹر اپنی چالیس سالہ عمرطبیعی کو دھماکے سے ہی ختم کرتا ہے اور اس طرح ارد گرد کے اضلاع کو تابکاری کی طغیانی سے دوچار کر دیتا ہے اور جو مر گئے سو مر گئے جو تابکاری کے جسمانی عارض میں مبتلا ہو گئے سو ہو گئے۔ بالآخر وہ بھی موت سے ہمکنار ہو جائیں گے لیکن تابکاری کے جنسی اثرات کاکیا ہوگا۔ یہ اثرات قطعاً لاعلاج ہیں۔ معمولی تابکاری سے متاثر ہ ہونے والے مادہ منویہ کامضروب جنیہ (Mutated Gene) نسل در نسل خفیہ طور پر چلتا ہے۔ تندرست بچوں کی لگاتار نسل درنسل پیدائش کے بعد بالآخر کسی نسل میں ایک عجیب الخلقت بچے کی صورت میں نمودار ہو جاتاہے اور یہ عجیب الخلقیت موروثی ہوتی ہے۔ نسلوں میں چلتی ہے اور شادی کے ذریعے آگے بڑھتی اور پھیلتی ہے یعنی جہاں عجیب الخلقت بچوں کی تعداد بے تحاشا بڑھتی ہے وہاں اس عجیب  الخلقیت کی قسموں میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ایک خاص آبادی سے شروع ہو کر پوری آبادی  کے لئے خطرہ بن جاتی ہے حتٰی کہ ایک دردناک بلکہ ناقابلِ بیان حد تک دردناک دور کے بعدانسانیت بلکہ جملہ زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ تابکاری سے پیدا ہونے والی عجیب الخلقیت کی سائنسی تحقیق و جستجو کے نتیجے میں جو مسلمہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ان کے مطابق عجیب الخلقت بچے کو چمیرا یا کمیرا (Chimera) کا نام دیاگیا ہے اور اس کی تشریح یہ کی ہے کہ بچے کا سر کسی ایک جانور کی طرح اور پاؤں کسی دوسرے جانور کی طرح، اور دم کسی تیسرے جانور کی دم کی طرح ہو۔ واعتبرو یا اوّلی الابصار اور یہی حال تابکاری سے متاثرہ حیوانوں اور پودوں کا ہوگا۔ حلیے اس طرح سے مسخ ہو جائیں گے کہ پہچان ختم ہو جائے گی۔ ایسی مسخ شدہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی مخلوق کی زیست کی المناکی اور فنا کی یقینیت اظہر من الشمس ہے اور سائنس دان کے پاس نہ تو مضروب جنیے (Mutated Gene) کو دریافت کرنے ہی کا کوئی ذریعہ ہے اور نہ ہی اس کے ظاہر ہوجانے کے بعد ہی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ انسان اس سارے کھیل میں محض ایک بے بس تماشائی ہے اور پھر مثلاً کسی ملک یعنی پاکستان میں اگر پانچ کیس پر اسرار وائرس (Mysterious virus) کے نمودار ہو جائیں اور پورے ملک میں سرے سے سرے تک ایک خوف کی لہر دوڑ جائے۔ ڈاکٹر اور دوسرا سٹاف ایسے مریض کو دیکھتے ہی ہسپتال تک چھوڑ کر فرار ہو جائے۔ اگر ایسے ملک میں پانچ لاکھ کیس اس پر اسرار بیماری کے ہو جائیں تو اس ملک کا کیا حال ہو گا؟ اور تابکاری سے پیدا ہونے والی بیماریاں پُراسرار بیماری کی بڑی بہنیں ہوتی ہیں اور پھر سائنس دان کے لئے بلکہ کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ ساری انسانی آبادی یا کم از کم ری ایکٹروں کے اِردگرد رہنے والی مخلوق کو تابکاری سے بچاؤ کی کوئی حفاظتی تدبیر دے سکے؟۔ ان حالات میں ایٹمی توانائی کو امن کا لیبل لگا کر استعمال کرنااگر ذہنی دیوالیہ پن نہیں تو اسے اور کیا نام دیا جا سکتا ہے سوائے حرص و طمع کے اندھے پَن کے  اور میری ان باتوں میں جذباتیت کاکچھ پَرتَو نہیں۔ بس حقیقت ہے۔ تھوڑے دن ہوئے۔ امریکہ جیسے ملک میں جب ایک آتشی ہاتھی (ری ایکٹر) مستی کی حالت میں آ گیا اور سرکشی پر اتر آیا تو امریکی حکومت کے اوسان خطا ہو گئے اور ری ایکٹر کے اِردگرد بسنے والے دس لاکھ لوگوں کو فی الفور وہاں سے  نکالنے کا بندوبست کرنا پڑا۔ امریکی عوام اس دن سے ایک کہرام مچائے ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ امریکی عوام کی زندگی کچھ زیادہ قیمتی ہو مگر زندگی بہر حال زندگی ہے خواہ کسی کی بھی ہو اور ان الفاظ کی تحریر کے کافی عرصے کے بعد روس میں چرنوبل کے ری ایکٹر کے سانحہ نے توپوری دنیا میں تہلکہ مچادیا ہے اور جو کچھ چرنوبل میں ہوا ہے اس نے ساری دنیا کی آنکھیں کھول دی ہیں اور درحقیقت وہ دردناک اور عظیم سانحہ پوری انسانیت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے مگر یہ دنیا تو اندھی بھینس کا ماس کھانے پر تلی ہوئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھینس ہی اندھی نہیں دنیا کو بھی دنیوی حرص و ہوس کی مجبوری نے اندھا کر کے رکھ دیا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کے برحق کلام یعنی قرآنِ حکیم میں جو تین وجوہات ایٹمی جہنم کی پیدائش کی بتائی گئی ہیں ان کے اثر نے موجودہ دور کی جملہ انسانیت کو دیوانہ کر دیا ہے اور ان کی بصارت اور بصیرت تلف ہو چکی ہے۔(یہ وجوہات آگے اپنی جگہ پر بیان ہوں گی)  اور ایٹمی جہنم کے دردناک انجام نے ان کے حواس کو مخبوط کر دیا ہے اور یہ انسانیت اپنے آپ کو اس بین الاقوامی ایٹمی تجربے میں تجرباتی چوہوں کی حیثیت میں بھی پیش کرنے سے دریغ نہیں کر رہی لیکن کاش کہ اس تجربے کے انجام کی ایک ہلکی سی جھلک ان کو لگ جاتی تو دیوانوں کی طرح چیخ چیخ کر اس ایٹمی توانائی کے جِن (Jinn)سے دُور بھاگتے اور پیچھے مڑ کرنہ دیکھتے۔ سائنس دان کا حرف برحق تصّور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اس ایٹمی توانائی کے معاملے میں سائنس دان کے پاس سوائے ایک موہوم اُمید کے کہ شائید اس بین الاقوامی اور لامحدود ایٹمی تجربے کے کسی مرحلے پر کوئی ایسا انکشاف ہو جائے جو ایٹمی دکھوں کامداواہو سکے اور یہ اُمیدکیا ہے ایک نہایت ہی موہوم، نہایت ہی مبہم بلکہ بے حد لغو اُمید ہے۔ اس وقت جو حالات سامنے ہیں اور خود ایٹمی سائنس کے معاملے میں انسان کوعلم ہو چکا ہے کوئی بھی امکان کسی بھی انکشاف کا موجود نہیں۔ سائنس دان بھی عوام الناس کی طرح اندھا ہو چکاہے۔ حضرت موسٰیٰ علیہ السلام آگ لینے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا نور دیکھا اور پیغمبری ملی۔ یہ لوگ آگ کی تلاش میں ہیں اور ایٹمی جہنم کی آگ ان کا مقدر ہوچکی ہے۔ ایٹمی توانائی ایک مگر مچھ ہے ایک بار انسان نے اس کے جبڑے میں منہ ڈالا پھر ہڈی پسلی ایک ہو جائے گی اور نہ تو توبہ کچھ فائدہ دے گی۔ نہ فریاد۔

مگر اسلامی بم؟ اور کیا ہے؟ یہ اسلامی بم؟ کیا یہ بھی اتنا ہی طاقت ور ہے جتنا کہ ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم؟ یا اس سے بھی زیادہ طاقت ور تباہ کن؟ اس کی تباہ کاری کی وسعت کس قدر ہے؟ کتنے شہر یہ برباد کر سکتا ہے۔؟ کیا اس کا بھی ابتدائی ناری شعلہ ہے؟ کیا اس کا بھی دھماکہ ہے؟ کیا اس کی بھی تابکاری شعاعیں ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ایسی بات اسلام سے بعید ازقیاس ہے۔اسلام خدا کی مخلوق کی تباہی کے لئے نہیں یہ تو انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔ یہ امن اورسلامتی کا دین ہے۔اس کے پاس تو ،برکات کے سوا کچھ نہیں  اَلبَتَّہ یہ ایک زبردست دین ہے۔اُ س نے اس جدید دور کے ایٹم بم کی ایک نہایت ہی سائنسی انداز میں پیشین گوئی، پیش بینی اور تشریح کی ہے ہاں چودہ سو سال قبل اور اس جدید دور کے ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بھی متعین کی ہیں اور قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی ایک بم ہے لیکن در حقیقت یہ ایٹم بم کا نیوٹرالائزر Neutralizer ہے یعنی ایٹم بم کو ختم کرنے والا بم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھ بندۂ عاجز پر قرآنِ حکیم کی اس عظیم بلکہ عظیم ترین پیشین گوئی کا انکشاف ہوا اور اب میرا یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس تنبیہ اور ہدایت کو جملہ انسانیت تک پہنچاؤں کیونکہ اوّل تو قرآنِ حکیم کا فتہ الناس کے لئے ہے۔ دوم یہ کہ اس ایٹمی خطرے میں دنیا کی ہر قوم مبتلا ہے اور کسی ایک کے بچ نکلنے کی کوئی اُ مید نہیں۔

انسانی تاریخ میں پانچ پیشین گوئیاں انسانی ذہن کو حیرت میں مبتلا کرنے والی ہیں۔پہلی تورات والی پیشین گوئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰیٰ علیہ السلام سے کہا کہ بنی اسرائیل کے چچیرے بھائیوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تیرے جیسا نبی پیدا کروں گا۔ دوسری حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیشین گوئی کہ میرے بعد نبی آئے گا جس کا نام آحمد ہو گا۔ تیسری قرآنی پیشین گوئی کہ ہزیمت خوردہ رومی ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے۔ چوتھی وہ پیشین گوئی جس میں نبی آخر الزَّمان ﷺ نے دجّال کی تشریح فرمائی ہے اور پانچویں یہ پیشین گوئی جس میں قرآنِ حکیم نے حطمہ یعنی ایٹمی جہنم کی تشریح جدید سائنسی انداز میں کی ہے اور اس کے نمودار ہونے کے اسباب بیان فرمائے ہیں اور در اصل یہ اٹامزم کے فلسفے اور اُ س کے سائنسی نتائج کا جدید ایٹمی سائنس کی دقیق ترین اور بلند ترین سطح پر پیش کیا جانے والا معجزانہ بیان ہے جو انسانی ذہن کے بس کی بات نہیں۔ جو کچھ قرآنِ حکیم نے اور جس انداز میں کہا ہے اس میں شک نہیں کہ وہ کسی بھی آئن سٹائن یا فرمی یا اوپن ہیمر یا نیل بوہر یا ٹیلر کے بس سے باہر ہے۔

قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کی عظمت فقط اس بات میں نہیں کہ چودہ صدیاں قبل موجودہ علمی دور کے سب سے ادق اور مشکل مضمون یعنی نیوکلر سائنس کے ضمن میں ایٹمی جہنم کی تشریح و تعبیر و تفسیر کھول کے رکھ دی ہے بلکہ دوسرا ایک بہت ہی اہم پہلو اس پیشین گوئی کا یہ ہے کہ اس میں ایٹمی جہنم کے نمودار ہونے کی وجوہات بیان فرما دی گئی ہیں۔ ایسی وجوہات کہ جن کا ازالہ کئے بغیر ایٹمی عذاب کا ٹلنا ممکن نہیں۔ ورنہ آج کا ہر دانش ور قرآنِ حکیم کی دی ہوئی وجوہات کے برعکس ہی اپنا علاج تجویز کر رہا ہے گویا کہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے کہ انسان کو اس دور کے ایٹمی جہنم سے بچنے کی تدبیر سمجھا دی ورنہ اندھا دھند ساری ا  نسانیت اس ایٹمی جہنم کی جانب ہانپتی کانپتی دیوانہ وار کچھی جا رہی ہے۔ قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی اس لحاظ سے اس دور کی نجات کی واحد اُ مید ہے اور بندوں کو اللہ تعالیٰ کا احسان ماننا چاہیئے۔ وہ بندے جو ،اَب اس وقت ایٹمی تباہی کے کنارے کھڑے ہیں اور ایک قدم آگے ایٹمی جہنم بھڑک رہا ہے اور پیچھے سے اقتصادی بل ڈوزر دھکیل رہا ہے تیسری غور طلب بات اس پیشین گوئی جسے تنبیہ کہنا زیادہ موزوں ہے یہ ہے کہ قرآنی لفظ‘ حطمہ جو قرآنی تشریح کے مطابق اگلے جہان کے دوزخوں میں ایک خاص قسم کی خوفناک ترین اور عجیب ترین آگ کا دوزخ ہے۔ جس میں قرآنِ حکیم کے مطابق عیب جو دولت اکٹھا کرنے اور گننے میں محو اور دولت کی ہمیشگی کا گمان کرنے والا ہر شخص بلا لحاظ مذہب و ملت ڈال دیا جائے گا اور یہ ایٹمی جہنم جو اس ناپائیدار دنیا میں ظاہر ہوا ہے یہ اُُس دائمی حطمہ کا عکس ہے اسی طرح جس طرح عام آگ اگلی دنیا کے عام دوزخ کا پَرتو ہے اور اس موجودہ ایٹمی جہنم کی سائنسی تشریح کلّیتہً وہی ہے جو قرآنِ حکیم نے حطمہ کی، کی ہے نیز اس موجودہ ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بھی وہی ہیں جو قرآنِ حکیم کے مطابق حطمہ میں ڈالے جانے کی وجوہات ہیں۔یعنی عیب جوئی ،دولت اکٹھا کرنے اور گِن گِن کر رکھنے کی عادت اور دولت کی ہمیشگی کاگمان پس ثابت ہوا کہ ان عادات کا حامل فرد یا معاشرہ اگر اس دنیا وی ایٹمی جہنم کی آگ سے بچ کر چلا بھی گیا تو اگلی دنیا کے حطمہ کو منتظر پائے گا اور یہ بہت بڑی کڑوی گولی ہے جو لوگ دولت اکٹھا کرنے یا اس کی ہمیشگی کے گمان کو ایسا خاص جرم تصّور نہیں کرتے اُ ن کا سویا ہوا مقدر قرآنی نقطۂ نگاہ سے اس جرم کی سنگینیّت کااندازہ کیسے ہونے دے گا ۔آج کے اس جدید سائنسی مادی دور کو دیکھو اور زر اندوزی اور زر پرستی کا اندازہ کرو اور سمجھ لو کہ ایٹم بم ہتھیار نہیں عذابِ الٰہی ہے۔انسانیت کے لئے۔آیا ایٹمی طاقتیں اس دنیا میں عالم گیر ایٹمی خود کشی میں تباہ کرکے خود بھی تباہ ہونے میں کامیاب ہو جائیں گی اور آیا مسلمان ایٹمی توانائی کی کوشش میں اپنا الگ ایٹمی جہنم بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ یا آیا یہ حقیقی اسلامی بم یعنی قرآنی تنبیہ(Warning) اس دنیا کو اس دردناک انجام سے بچانے میں کامیاب ہو جائے گا؟۔ یہ بات فقط اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے جو عالم الغیب ہے اَلبَتَّہ ایک بات جو وثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر انسانیت ایٹمی تباہی کی نذر ہو کر اپنے المناک انجام کو پہنچ گئی تو یقیناً یہ فیصلہ استحقاق پر مبنی ہو گا۔ انسان کے ساتھ کسی نے ظلم نہیں کیا انسان خود اپنے ساتھ ظلم کر رہا ہے اور ہم سوائے افسوس کے اور کیا کر سکتے ہیں۔دنیا مادی مجبوریوں کے سبب اندھی حواس باختہ ہو رہی ہے۔ تاہم ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کر نی چایئے۔اُ سے یہ طاقت ہے کہ وہ آج کے انسان کو ایسی بینائی عطا فرمادے جو اسے حقیقت واشگاف کرکے دکھلا دے اور انسان کو اس راہ کی غلطی جس پر کہ وہ اب چل رہا ہے سمجھ میں آ جائے اور وہ سب جوش و خروش جواس غلط راہ پر چلنے میں دکھا رہا ہے حقیقی راہ پر چلنے میں دکھائے اور قوت کے غلط استعمال سے بچ جائے۔جنون و حماقت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ ایٹمی طاقتیں محض اپنی ایٹمی طاقت کے بل بوتے پر اپنے آپ کو سوپر پاور کہلانے پر مُصر ہوں اور اس زعمِ باطل کی شکار رہیں کہ وہ اس دنیا میں ایٹمی توانائی کے پھیلاؤ کوروکنے میں آخیر تک کامیاب ہو جائیں گی اور ایٹمی فساد برپا نہ ہونے دیں گی جس کی واضح علامتیں اس وقت آفاق میں مجتمع ہو رہی ہیں لیکن جو جان بوجھ کر اندھا ہو اُ س کا کیاعلاج ورنہ امریکہ میں جوحال ہی میں ری ایکٹری حادثہ نمودار ہوا ہے اور جس کے نتیجے میں امریکہ کے کئی ایک ری ا یکٹر سر بمہر ہوچکے ہیں۔ کیا امریکیوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہ تھا لیکن کیا کسی کی چیخ و پکار اس عالم گیر ہڑبونگ میں موثر ہو سکتی ہے۔ ری ایکٹر کا پھٹنا بند نہیں ہو گیا یہ تو پھٹتے ہی رہیں گے اور تیل کے خاتمے پر ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی دور میں جب ہر کارخانے ہر بحری جہاز ہر ہوائی جہاز ہر بس کار اور موٹر سائیکل کا اپنا ری ایکٹر ہو گا تو پھٹتے ہوئے ری ایکٹر بین الاقوامی آتش بازی کے میلے کا سماں پیدا کریں گے ہر انسان تابکاری کی زد میں ہو گا یہ بات بھی سوچنے والی ہے۔یا آپ یہ کہیں گے جیسا کہ آپ عادتاً اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ اسلام تو مادی ترقی کی اجازت دیتا ہے بلکہ چند لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی اس دور کی سائنس نے کیا ہے وہی قرآنِ حکیم کا مطمح ِنظر ہے وہی اسلام کا منشا ہے مسلمان غافل رہے  یورپ نے اس عمل کو اپنا لیا اور کامران ہوئے مسلمان نامراد رہے لیکن کیا کسی نے آج تک یہ بھی سوچا ہے کہ اس دور کی یہ مادی ترقی ہے کیا؟ کیاواقعی اسلام اس قبیل کی مادی ترقی کی اجازت دیتا ہے۔اس دور کی یہ مادی ترقی ایک خاص قسم کی مادی ترقی ہے۔ یہ ترقی جدید سائنس پر مبنی ہے اور جس طرح جدیدسائنس کی تحقیق و جستجو لامحدود ہے اسی طرح یہ مادی ترقی بھی لامحدود ہے۔ سائنس انکشاف کرتی ہے مادی ترقی اُ سے اپناتی جاتی ہے اور کمیت اور کیفیت دونوں لحاظ سے بڑھتی ہی رہتی ہے اور اس بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن اور وقت پر بھی اپنا قبضہ بڑھاتی جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ انسانی ذہن کے اُس حصے پر جو خدا، دین اور آخرت کے لئے ریزرو ہے قبضہ کرتی جاتی ہے حتٰی کہ بدو کے اونٹ کی طرح بدو کو خیمے سے نکال باہر کرتی ہے۔ دلیل سے زیادہ مشاہدہ زیادہ مفید ہو گا۔ آج سے پچاس برس پہلے بلکہ بیس برس پہلے بلکہ دس برس بلکہ دس دن پہلے دین اوردنیا کا مسلمان کے ذہن میں کیاتوازن تھا؟ کل کیا تھا؟ آج کیا ہے مادی ضروریات اور مادی خیالات روز بروز دینی خیالات اور آخرت کے خیال کو بدر کر رہے ہیں اور چونکہ اس جدید مادی ترقی کی انتہا کوئی نہیں لہٰذا یہ معلوم کر لینا کچھ مشکل نہیں کہ بالآخر یہ مصروفیت مسلمان کے ذہن سے دین کاخیال اسی طرح باہر کر دے گی جس طرح یورپ کی قوموں کے ذہن سے بدر کر چکی ہے۔ تو کیا اسلام اپنے قاتل کو اپنانے کی اجازت دے رہا ہے اور کیا اسلام ایسی ترقی کی اجازت دے رہا ہے جو انجام ِ کار انسان کو ایٹمی جہنم میں دھکیلنے والی ہے۔ نہیں بلکہ دال میں کچھ کالا ہے لازم ہے کہ اُ متِ مسلمہ اس غلط فہمی سے جو اُ سے اس دورِ جدید کی مادی ترقی کے معاملے میں ہورہی ہے باہر نکلنے کی کوشش کرے اور اپنی پالیسی اور منزل کا ٹھیک سے تعین کرے ورنہ کسی بھی پروگرام میں کامیابی مخدوش ہے اور عاقبت غلاموں کی سی موت ہے۔ میں یہاں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ حالات کا جائزہ اوراسلامی تعلیمات کا جائزہ اور مسلمان کے فرائض کاجائزہ لیتے ہوئے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ مسلمان کا کام اب یہ نہیں کہ ایٹمی توانائی کے چکر میں پڑ کردنیا کی دوسری قوموں بالخصوص یورپین قوموں کے ساتھ ایٹمی جہنم کا ایندھن ہو جائے بلکہ مسلمان کا کام اس وقت یہ ہے کہ اس ایٹمی جہنم کو بھڑکانے والوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر خدا کی مخلوق کو اس دردناک عذاب سے نجات دلائے نہ یہ کہ خود بھی اس آگ کا پروانہ بن جائے۔اس بات کو سمجھنے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مومن کی بصیرت، تّوکل علی اللہ اور روحِ قرآنی کے حقیقی فہم و ادراک کی ضرورت ہے اور واضح ہے کہ کام آسان نہیں۔ قیس کے عشق اور فرہاد کے عزم اور لقمان کی حکمت کی ضرورت ہے۔ اَلبَتَّہ دوسرا کوئی راستہ نہیں اور غیر مسلموں کے ساتھ مسلمان بھی اگر اس بُتِ طناز کے عشق میں گرفتار رہے تو یہ گو اور یہ میدان ایٹمی جہنم اتنا دور نہیں جتنا کہ لوگوں کو نظر آتا ہے۔ یہ جہنم اگرچہ اپنی بعض صورتوں میں اس وقت بھی بھڑ کا ہوا ہے تاہم اس کی واضح ترین صورت یعنی ایٹمی جنگ بھی کسی وقت شروع ہو سکتی ہے اور یہ امر ہرگز بعید از قیاس نہیں۔ دنیا فقط شتر مرغی میں مصروف ہے۔ رہی دوسری صورت یعنی ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری کی دردناک تباہی سو ہو سکتا ہے کہ موجودہ نسل یا چند نسلیں بہ خیر و عافیت اس دنیا سے گزر جائیں لیکن کبھی نہ کبھی کوئی آئندہ نسل ضرور قرضہ چکائے گی اور اُ س کی زندگی المناک ہو گی اور چونکہ حطمہ اور اس ایٹمی جہنم کی وجوہات ایک ہی ہیں وہ لوگ جو ایٹمی جہنم کے مستحق گردانے جائیں وہ اگر اس دنیا کے ایٹمی جہنم سے بچ بھی نکلیں تو آگے اگلے جہان میں حطمہ کا جہنم موجود ہے اُ س میں استحقاق کی بِنا پر جا گریں گے۔وہاں دیکھئے یہ دلیل کہ اسلام مادی ترقی کی اجازت دیتا ہے حطمہ کی آگ سے بچنے کے لئے کس حد تک کارگر ہو سکتی ہے لیکن چلو مسلمان کو تو اس معاملے میں کچھ غلط فہمی ہو بھی سکتی ہے۔ عیسائی بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ مادی ترقی عین اُ ن کے مذہب کے مطابق ہے۔ قومیں جب اندھی ہوتی ہیں تو اُ نہیں ہر چیز میں اپنے دل کی لیلیٰ ہی نظر آتی ہے ورنہ کہاں حضرت عیسٰی علیہ السلام کا دین اور کہاں یہ غیر مشروط اور لامحدود ترقی اور مسلمان بھی مغالطے میں ہیں۔جہاں تک اس دنیا سے مغائرت اور آخرت سے محبت کا تعلق ہے اسلام عیسائیت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اسلام نے اپنی تکمیل کے ناطے سے انسانی زندگی کی ضروریات کے استعمال کی چھوٹ دے رکھی ہے تاہم وہ بھی ذرا غور سے دیکھا جائے تو بہر حال مشروط ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس جدید ترقی کے بانی مبانی کے نام تک سے دنیا کی اکثریت بے خبر ہے۔ وہ بانی جس نے کہا کہ آدم کو اسماء سکھلائے گئے اور وہ تھا سائنس کا مضمون اور آدم کو جس درخت کے کھانے سے منع کیا گیا وہ تھا نیک و بد کے علم کا پودا سو آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور وہ پودا کھا لیا۔ لہٰذا انسان کو سائنس کی ضرورت ہے یہی تعلیمِ ربانی ہے یہی منشائے ایزدی ہے۔ باقی رہا وہ مضمون جس کا تعلق نیکی اور بدی کی پہچان سے ہے مثلاً علم الاخلاق یا قانون یا شریعت تو وہ نافرمانی کے نتیجے میں انسان نے خود بنا لیا لہٰذا فضول ہے۔ اسی بانی نے کہا کہ قدرت کی طاقتوں پر قبضہ کرنا انسان کا پیدائشی حق ہے۔ دنیوی فوائد کے حصول کے لئے اور یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔یہ شخص برطانیہ کا چانسلر آف دی ایکس چیکر (Chancellor of The Exchequer) اور مجدد الف ثانی ؒ کا ہمعصر فرانسس بیکن تھا۔دورِ جدید کی مادی ترقی کا فلسفہ اُ سی نے دیا۔ لہٰذا اس فلسفے کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ شخص خود حرص و ہوا کا پتلا تھا رشوت کے الزام میں ماخوذ ہو کر کرسی عدالت سے گرا اور ذلت میں پڑا۔اُ س شخص نے انسان کو اُ سی دلیل سے گمراہ کیا جس سے شیطان نے آدم کو کیا تھا۔آج جہاں ایٹمی توانائی کی تعلیم و تدریس کی ضرورت ہے وہاں بیکن کی تصانیف کی تعلیم و تدریس کی بھی حاجت ہے تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھنے کے قابل ہو سکیں اور اپنی آنکھوں سے اس شیطانِ ثانی کے شیطانی جال اور شیطانی چال کو دیکھ سکیں۔

لیکن عیسائی، ہندو اور بُدھ کے پیروکاروں کا کیا حال ہے؟۔ کیا یہ واقعی حیرتناک نہیں کہ عیسائی ہندو اور بدھ مت کا پیرو بھی یہ کہے کہ یہ جدید مادہ پرستی عین اُ س کے مذہب کے مطابق ہے؟۔ ہیہات جب کوئی فرد یا قوم اندھے پن میں مبتلا ہوتی ہے تو سب کچھ ممکن ہے جس طرح ایک عیسائی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ کہے کہ یہ جدید مادہ پرستی اور عیسائی مذہب  دونوں ایک ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایک اندھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر جو کچھ جدید فلسفے کے وکیل بیکن نے کہا درست ہے تو جو کچھ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا وہ نعوذ باللہ غلط ہے۔اَلبَتَّہ قرآنِ حکیم کا حقیقت پسندانہ مطالعہ اور پیغمبر ِ اسلام حضرت محمد الرَّسول اللہ ﷺ کی حیات ِ مقدسہ کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ اسلام کسی بھی صورت میں کسی بھی دین سے اس دنیا کی محبت سے نفور اور آخرت کی طلب میں پیچھے نہیں۔ صرف اس کی تعلیمات تکمیل پذیرفتہ ہیں۔ خدا خبر لوگ ان آیات ِقرآنی کو جو ،اِس دنیا سے نفرت کے متعلق موجود ہیں۔ پڑھ کر کیا معانی اخذ کرتے ہیں۔ کیوں وہ ان کے ذہن میں نہیں اترتیں۔ کیوں وہ لوگ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ کی زندگی میں فقر و درویشی کا نمایاں ترین عنصر مشاہدہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس موجودہ سائنس اور ترقی کا انجا م واضح طور پر ایٹمی جہنم ہے۔ انسانیت کو چاہیئے کہ اس معاملے میں کچھ حقیقت بینی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے۔ اب کوئی چھوٹ کا امکان باقی نہیں ہے اب یا سائنس یا دین؟ یعنی یا ایٹمی تباہی یا امن و سلامتی؟ سائنس اور دین میں مفاہمت کا مرحلہ دیر ہوئی گزر چکا ہے اس حقیقت کو جس قدر جلد ذہن نشین کر لیا جائے اتنا بہتر ہے۔اب صرف دو راستے ہیں یا تو ایٹمی توانائی کی لائن پر چل کر ایٹمی تباہی سے ہمکنار ہو جانا یا پھر اس ایٹمی توانائی کے خلاف کمربستہ ہو کر اس سے نجات حاصل کرنے کی سعی بلیغ کرنا اور اس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنا آج اس ایٹمی تباہی کے خلاف انسان کو آگاہی دینا انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ آج ایٹمی جہنم کی بھٹی قہرِِ الٰہی کی صورت میں نمودار ہو کر انسان کو بھسم کرنے والی ہے۔ اس بھٹی سے انسان کو بچانے کی تدبیر کرنا انسان کی سب سے بڑی بھلائی ہے۔ یہ ہے وہ بم جو اسلام نے تیار کر رکھا ہے اسلام نہ تو اپنے پیروکاروں کو اور نہ ہی خدا کی دوسری مخلوق کو ایٹمی جہنم کی بھٹی میں ڈالنے کی سوچ سکتا ہے۔ اسلام امن اور سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی برکتوں والا دین ہے نہ کہ دنیا کے لئے آگ کی تدبیر کرنے والا فلسفہ ہے اور اگر یہ ہی وہ بم ہے جو اسلام نے بنایا ہے تو پھر یہ خدا کی مخلوق پر نہیں بلکہ ایٹمی بم کے اوپر گر کر اُ سے فنا فی النار کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق کو اس عذابِ الٰہی سے نجات دلاتا ہے اور گرنا اس نے لازم ہے کیونکہ اگر یہ نہیں گرتا تو ایٹمی جہنم اللہ کی اس ساری مخلوق کو بھسم کرتا ہے اور ایٹمی جہنم کیا ہے خواہ یہ ایٹم بم کی صورت میں ہو اور خواہ ایٹمی توانائی برائے امن ہو یہ فقط اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔یہ ناراللہ الموقدہ ہے۔ یہ حطمہ کا ایک نمونہ ہے اس عارضی دنیا میں غلاموں کی طرح ایٹمی لائن کو اپنا کر تباہی اور ذلت کے گڑھے میں گرنے کی بجائے قوموں کو ایٹمی توانائی کی حقیقت تلاش کرنی چاہیئے اور جب علم ہو جائے تو پھر اس عذابِ الٰہی کے ٹالنے کی تدبیر کرنی چاہیے اور یہ تدبیر قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی میں واضح طور پر سمجھا دی اور اللہ تعالیٰ کا انسان پر یہ احسان ِعظیم ہے ورنہ کون وہ انسان ہے جو اتنی بڑی حقیقت کا انکشاف کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ آج کا دانش وار کہتا ہے ”اور پیداوار اور ترقی ہی دورِِ حاضر کے دکھوں کا علاج ہے“۔ یہ دانش ور فقط جلتی پر تیل ڈالتا ہے اور آگ کو مزید بھڑکانے کا سامان پیدا کرتا ہے۔ ایٹمی طاقتیں جو ایٹمی بموں کے بل بوتے پر اس وقت دنیا میں سپریم لارڈ بنے ہوئے ہیں وہ درحقیقت دیوانوں کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایٹمی طاقت ہونا کوئی قابلِ فخر بات نہیں۔ ایٹمی جنگ جب آئے گی تو شیخی ان ایٹمی طاقتوں کی کرکری ہو جائے گی اور انہیں دال آٹے کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا اور یہ جان لیں گے کہ ایٹم بم اللہ تعالیٰ کا عذاب تھا جسے انہوں نے خود اپنے ہاتھوں تیا ر کیا اور اپنے ہی گھر میں اُ س کی پرورش کی۔ ایٹمی طاقت ہونا کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ یہ تو ماتم کا مقام ہے یہ تو رونے کا مقام ہے میری اس بات کی تصدیق ایٹمی  طاقتیں اور ایٹمی طاقتوں کے ساتھ سب ذیلی اور طفیلی طاقتیں اُ س روز کریں گی جب ایٹمی جہنم بھڑک اُ ٹھے گا اور ایٹمی طاقتوں کے رکھوالے ایٹم بم بلائے بے درماں بن کر ابھریں گے اور خود اپنے ہی مالکوں کو جہنم کی آگ بن کر لپٹ جائیں گے۔ ایٹمی طاقتوں کے سرکردہ لوگوں کی ضرورت ہے کہ وہ کسی ماہرِِ نفسیات کی جانب رجوع کریں۔ لیکن بد قسمتی سے آج اس دور کے ماہرین ِ نفسیات خود فرائیڈی کمپلکس کا شکار ہیں۔ وہ دوسرے کو کیا سمجھا سکیں گے اندھا اندھے کو کیا راستہ دکھلائے گا؟۔

ایٹمی فارمولے زبردست احتیاط کے ساتھ خفیہ رکھے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بے  خبر رہیں لیکن یہاں ایک ایسا اینٹی ایٹمی جہنمAnti Atomic Hell فارمولا ہے  جو قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کے بر خلاف ایک تنبیہٖ پیشینگوئی کے انداز میں بیان فرمایا ہے  اور  جو خفیہ رکھنے کی خاطر نہیں بلکہ روئے زمین کی انسانیت کو باخبر کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔

 یہ جدید ترقی جیسی کہ یہ ہے اپنی مکمل تشریحی صورت میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کے عین بر عکس ہے۔ مادہ پرستی کی وہ روح جس نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کو آپ کی زندگی میں رد کر دیا۔ اُ س کے بعد مسلسل ہر دور میں اسی کوشش میں مصروف رہی ہے کہ دنیا پر اپنا قبضہ جما لے حتٰی کہ سترھویں صدی عیسوی میں عیسائی یورپ کو ورغلا کرایٹمی مادہ پرستی کی جھولی میں ڈالنے میں کامیاب ہو گئی۔ فرانسس بیکن اس کا ترجمان بنا اور رفتہ رفتہ اُس نے اپنا تسلّط روئے زمین کی ساری مخلوق پر قائم کر لیا اور اب اس وقت مشرق سے لے کر مغرب تک جہاں سے سورج نکلتا ہے وہاں سے لے کر جہاں سورج غروب ہوتا ہے وہاں تک ہر قوم اور ہر فرد ایٹمی مادہ پرستی کے فلسفے کا مقلد ہے اور لا محدود مادی ترقی کو حیات ِانسانی کا مقصود سمجھا جا تا ہے اور پھر مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ یہ فلسفہ کہاں سے آیا؟ کون اس کا موجد ہے؟ کیا اس کی حقیقت ہے؟ کیا اس کا انجام؟ ہے اَلبَتَّہ ہر شخص اور ہر قوم پسینے میں شرابور ہا نپتے ہوئے کانپتے ہوئے دن ہو یا رات مادی فلسفے کی اس جدید ترقی کو اپنی منزل ِ مقصود سمجھتے ہوئے اسی جادے پر گامزن ہے۔ کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ایٹم سے ایٹم بم کیا یہ فلسفہ اپنی جگہ پر ایک مکمل فلسفہ ہے۔ ایٹم اس کی ابتدا ہے، ایٹمی جہنم اس کی منطقی اور سائنسی انتہا ہے اب قرآنِ حکیم کی بات کیجئے قرآنِ حکیم جو کہ قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ 1945 ء میں بننے والے ایٹم بم اور ایٹمی توانائی کے جہنم کو چودہ سو برس پہلے واشگاف کر چکا تھا اور قرآنِ حکیم کا یہ انکشاف اس عاجز بندے پر 1962 ء میں ہو چکا۔آپ اسے اسلامی بم کا نام دے لیں لیکن حقیقت میں یہ ایٹم بم کو تباہ کرنے والا الٰہی بم ہے اگر تقدیر نے اس انسانیت کو اندھا نہ کر دیا تو انشاء اللہ تعالیٰ قرآنِ حکیم کا یہ بم اس دنیا سے ایٹمی جہنم کو نا پید کر دے گا۔یہ اصطلاح یعنی ”اسلامی بم“ اس ایٹمی دور کے گُھٹتے ہوئے گلے سے نکلتی ہوئی پکار ہے اور اگرچہ یہ پکار اپنے طور پر نہایت ہی غلط اور دورازکار ہے تاہم اس نے ایک عظیم حقیقت کو واشگاف کر دیا ہے۔

حضرت موسٰی علیہ السلام آگ لینے گئے مگر اللہ تعالیٰ کے جلوے پر جا پہنچے اور  پیغمبری مِل گئی۔ ایٹمی دور کے رُ ندھے ہوئے گلے کی اس پکار کا مطلب تھا کوئی ایٹمی توانائی کا بم جو مسلمان بنائیں مگر انکشاف ہوا تو یہ کہ اسلامی بم کوئی ایٹمی قسم کا بم نہیں بلکہ یہ تو ایٹم بم کو تہس نہس کرنے والا الٰہی بم ہے اِ س دور نے اسلامی بم کو آگ کا بم تصّور کیا مگر حقیقت آشکار ہوئی تو وہ ایک الٰہی جلوہ نظر آیا۔ قرآنِ حکیم میں جو نابود کرتا ہے۔ اس دنیا سے ایٹمی جہنم کو اور گامزن کرتا ہے انسانیت کو امن اور سلامتی کی راہوں پر اور نکالتا ہے اس مخلوق کو اسی طرح جہنم کی گھا ٹی سے جس طرح حضرت موسٰی علیہ السلام نکال کر لے گئے۔ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے۔یہ اسلامی بم قرآنِ حکیم میں معجزانہ طور پر اس ایٹمی جہنم کے ظہور پذیر ہونے سے چودہ صدیا ں پہلے ایک پیشین گوئی کی شکل میں موجود تھا مگر اب جبکہ ایٹمی جہنم واضح طور پر سامنے آیا ہے تو پھر اسلامی بم یعنی قرآنی تنبیہ مقابلے میں اُٹھی ہے اور اب دیکھئے کہ انسان کی تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے کیا لکھا ہے۔

ایٹمی بم کے کئی نام ہیں مثلاً ایٹم بم، ہائڈروجن بم، ہیل بم، تھر مو نیوکلر بم، سوپر بم، نیوٹران بم وغیرہ وغیرہ مگر اسلامی بم کا ایک ہی نام ہے اور وہ ہے اسلامی بم۔اسلامی بم ایٹمی بم سے پہلے موجود تھا جس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ڈیموکرٹس(ایٹمی نظریئے کا باپ) سے پہلے موجود تھے۔ اور حضرت موسٰی علیہ السلام فرانسس بیکن Francis Bacon سے پہلے موجود تھے اور جس طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام سپی نوزا Spinozaسے پہلے موجود تھے اور جس طرح محمد الرسول اللہﷺآئن سٹائن سے پہلے موجود تھے اور اسی طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام کی انجیل فرانسس بیکن کی‘ نووم آرگینم،Novum Organumسے پہلے اور قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی ایٹمی فارمولے سے پہلے موجود تھی۔ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں سب کی اس ایٹمی مادہ پرستی کے فلسفے کے خلاف ہیں لیکن یہ شرف فقط قرآنِ حکیم کو جو کہ آخری کتاب ہے حاصل ہے کہ اس جدید دور کے جدید فلسفے سے بحث کرے، اس جدید دور کی تعبیر و تشریح کرے ،اس کے مسائل کی نشان دہی کرے اور ان کاحل سمجھائے،اس کی غلطیاں واضح کرے اور اُ ن کی درستی کرے اور کتنی حیرتناک بات ہے قرآنِ حکیم کے لئے قدیم یونانی اور جدید مغربی اٹامزم کے فلسفے کو بیان کرنا اور جدید ایٹمی سائنس کی رو سے ایٹمی آگ کی سائنسی تشریح کرنا اور اٹامزم کے مادہ پرستی کے فلسفے کو ایٹمی آگ اور ایٹم بم کی پیدائش کا سبب قرار دینا چودہ سو برس پہلے جبکہ جدید سائنس کا نام و نشان بھی نہ تھا اور قدیم فلسفہء اٹامزم کا نام تک اس دنیا سے محو ہو چکا تھا۔پڑھیے قرآنِ حکیم کی ایک مختصر سی سورۃ الھمزہ۔بے شک یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے معجزہ کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا اور جو قرآنِ حکیم کے منجانب اللہ ہونے کا واحد نا قابلِ تردید اور ناقابلِ تاویل ثبوت ہے۔ محترمہ اینی میری شمل مشہور جرمن  سکالر نے اس عاجز بندے کے منہ سے متذکرہ سورۃ کی تفسیر سنی تو وہ مسلمان ہوئے بغیر نہ رہ سکی حالانکہ مناظرے میں وہ یہ دعویٰٰ لے کر اُ ٹھی تھی کہ قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ مسلمانوں کے نبی کریم ﷺنے لکھا ہے۔ اب کہتی ہے کہ میں مروں تو مجھے مکلّی (سندھ) کے قبرستان میں دفن کیاجائے اور وہاں کے ڈی سی نے اس جگہ کی نشاندہی کرکے محترمہ کے نام کر دی ہے۔

پہلی الہامی کتابیں سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر آخری الہام یعنی قرآنِ حکیم ان سب کا چیمپین ہے اور ان کا مبارز ہے۔ قرآنِ حکیم اس دور کا چیلنج قبول کرتا ہے اور ایک پہاڑکی مانند اس کے مقابلے میں کھڑا ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے توقع یہی ہے کہ قرآنِ حکیم کے مقابلے سے آگ کا یہ مہیب شیطانی دیو بھاگ نکلے گا اور خدا کی مخلوق اس کے شر سے محفوظ ہو جائے گی۔

یہ زمین آج ایک چتا کی صورت میں نمودار ہے۔ روئے زمین کی ساری قومیں اپنے اپنے سروں پر ایندھن اٹھا اٹھا کر لارہی ہیں۔ان میں سے ہر ایک ایک دوسرے سے مقابلے کی صورت پیدا کر رہی ہے اور ہر ایک اس کوشش میں ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایندھن فراہم کرے اور حالانکہ یہ چتا ان کی اپنی ہے۔ اس چتا کے دل کو چتا کانیوکلّیس کہا جاتا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی یہ سن پائے کہ ایک ہندو عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ جلا کر ستی کر دیا گیا ہے تو ان کے ابرو نفرت اور حقارت سے تن جاتے ہیں لیکن وہ خود اپنی ہی چتا کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں اور یہی نہیں بلکہ آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر کوئی دوسرا بھی اپناایندھن اسی مقام پر ڈالنا چاہے جسے چتا کانیوکلّیس کہا جاتا ہے تو و ہ اسے  نہایت ناپسندیدگی کے انداز میں دیکھتے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا اس خصوصی حصے میں اپنا ایندھن ڈالے ۔اس حصے کو و ہ ایٹمی توانائی والاحصہ کہتے ہیں اور اس حصے میں اپنے ایندھن کو ڈالنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اسے عظیم طرہء امتیاز سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا بھی اس عزت میں ان کا شریک ہو اور پھر اس دور میں بے پناہ علم ہے مگر اس دور کا علم ایک بدبختی ہے علم نہیں۔ یہ نہایت ہی کوتاہ اندیش ہے۔ آج ہر شخص فراہمی دولت کے نشے میں سرشار ہے۔ ہر شخص مزید مادی سہولتوں کے حصول کے درپئے ہے اور ہر شخص سائنس کی لامحدود تحقیق کی روشنی میں لامحدود طریقے پر بڑھنے والی اور مشینوں پر چلنے والی اس جدید مادی ترقی کو اپنے زعم میں ہمیشہ ہمیشہ تک رہنے والی ایک لازوال ترقی سمجھتا ہے۔ ترقی کے پنچ سالہ  منصوبوں کے تسلسل میں گم ہو کر ہر شخص یہی تصّور کرتا ہے کہ یہ ترقی یوں ہی چلتی رہے گی اور اسی طرح روز بروز دولت اور سہولت کی فراوانی ہو گی۔ یہ بات صرف بے علم افراد تک محدود نہیں بلکہ و ہ بڑے بڑے دانش ور جو حقیقی تجزیئے کی اہلیت رکھتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ ایسا نہیں۔وہ بھی یہی تصّور کئے ہوئے ہیں کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہی یہ ترقی ترقی کرتی رہے گی اور جہاں کوئی مشکل کام آئے گا تو سائنس اس پر قابوپالے گی۔اس حقیقت کے علم کے باوجود کہ دنیا میں توانائی کے ذخیرے اختتام پذیر ہیں۔ یہ حریص دور ،اِن سب کو چندسالوں میں چٹ کر گیا ہے اور یہ کہ ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی ٹل نہیں سکا اور یہ کہ ایٹمی توانائی برائے امن بھی گوناگوں اور بوقلموں خطرات سے مملو ہے۔ تمام دانش ور بھی یہی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی معجزہ رونما ہو کر اس ترقی کو ایسے ہی رواں دواں رکھے گا تو کیا یہی علم ہے اسی کو علم کہتے ہیں۔ یہ علم نہیں بلکہ جاہلانہ خود اعتمادی کی ایک بدترین مثال ہے یہ سب کچھ اس جدید سائنس میں کلّی اعتماد کی وجہ سے ہے اور یہ جدید سائنس کیا ہے۔ کیوں نہ اب یہ ایٹمی توانائی جیسی زہریلی اور خطرناک توانائی پر تکیہ کرنے کی بجائے کسی اور قسم کی توانائی مہیّا کردے لیکن معلوم ہوتاہے کہ ترکش اب تیروں سے خالی ہو چکا ہے۔توانائی کسی دوسری صورت میں ہے ہی نہیں اور ڈھول کا پول جلد کھل جائے گا۔ سائنس کا یہ سب کراکرایا منٹوں منٹوں میں ایٹمی جنگ برباد کر سکتی ہے اور ترقی کو ختم کر سکتی ہے اور ایٹمی جنگ جلد نہ ہو سکے تو ایٹمی توانائی برائے امن اپنے آہستہ انداز میں وہ  کام کر جائے گی جو ایٹمی جنگ کر سکتی ہے لیکن بات یہ ہے کہ یہ جدید سائنس اتنی ہی حیرتناک چیز ہے تو پھر کیوں سائنس دان یورانیم جیسی زہریلی چیز کو ایٹمی توانائی کے حصول کے لئے پانچ پانچ ہزار جالیوں میں سے چھانتے پھرتے ہیں؟۔ کیوں سائنس دان خاک کے ڈھیروں میں اپنا بازو بند نہیں ڈال دیتے؟۔ کیوں سائنس دان ایٹمی شعاعوں کے مہلک تیروں کی بارش میں کام کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں؟ اور ایٹمی شعاعوں کی تباہ کاریوں کو جانتے ہوئے بھی کیوں انسانیت کے سامنے کوئی نیا غیر مضرراستہ نہیں ڈال دیتے؟ اور پھر توہم پرستی کی حد ہے۔ ان حالات کے باوجود سائنس دان اس امید پر خدا کی مخلوق کو ایٹمی جہنم میں دھکیل رہے ہیں کہ کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں زود یا بدیر کوئی نہ کوئی انکشاف ایسا ہی ہو جائے گا جو ایٹمی شعاعوں کے خلاف حفاظت کے تقاضے پورے کر دے گا؟۔ حیف ہے اس وہم پرستی پر مگر ہیہات کہ لادین مادہ پرستی کا جادو سائنس دانوں اور غیر سائنس دانوں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اب واضح نظر آتا ہے کہ اس دنیا کے سامنے دو اور صرف دو ہی راستے باوجود ساری سائنس کے رہ گئے ہیں۔ اوّل یہ کہ ایٹمی جنگ اسے نیست و نابود کرکے اس کے دکھوں کا مداوا کر دے گی۔ دوم یہ کہ ایٹمی توانائی برائے امن کے راستے آہستہ آہستہ ایٹمی تابکاری کا شکار ہو کر فنافی النار ہو جائے لیکن کیا یہ کہو گے کہ یہ خیالات محض شاعری ہیں یا دنیا کوخوفزدہ کرنے کی افواہ بازی ہے۔ نہیں ایٹمی جہنم کی قسم جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ ٹھوس حقیقت ہے ایسی حقیقت جسے خود سائنس پکار پکار کر واشگاف کہہ رہی ہے۔ سائنس دان اندھاہو چکا ہے۔ سائنس اندھی نہیں کم از کم مادی معاملات میں یہ جدید سائنس اندھی نہیں اَلبَتَّہ روحانی معاملات میں اندھی ہے۔ سائنس دان اندھا ہو چکا ہے۔ غیر سائنس دان اندھا ہو چکا ہے اس حد تک کہ اگر اسے یہ کہا جائے کہ تمہارے گھر میں آگ لگی ہے تو وہ کہہ اٹھے گا یہ تو خوفزدہ کرنے کی ایک افواہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گھر پہنچنے پر وہ گھر کی بجائے راکھ کاایک ڈھیر دیکھے۔ سائنس دان خود دنیا کو بتلاتا ہے کہ ایٹمی تابکاری کے خلاف کوئی حفاظت ممکن نہیں وہ خود بتاتا ہے کہ ایٹمی تابکاری انسان اور جانوروں کے مادہ منویہ پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے کہ جینیہ (Genes)  مضروب ہو کر نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ تیسری یا چوتھی نسل میں عجیب الخلقت بچے کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور یہ عجیب الخلقیت  موروثی ہوتی ہے اور اس طرح ایٹمی تابکاری کے طویل المیعاد اثرات بالآخر ا س زمین سے انسان، جانور، اور پودے غرضیکہ جملہ زندگی کے اثرات ناپید کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرتے کرتے ایک مدت لگ جائے گی اور یہ مدت زمین پربسنے والی مخلوق کے لئے بدترین عذاب کی ایک مدت ہو گی۔اسے ایٹمی جہنم کہہ لو یاکچھ کہہ لو بہرحال عذاب ضرور ہے اور پھر وہی سائنس دان کسی ایٹمی ری ایکٹر میں کام کرتے دیکھا جاتا ہے۔ یہ عجیب نہیں اور کیا ہے اور پھر پوچھو تو کہے گا کہ ایٹمی توانائی برائے امن کو اپنانے میں کوئی خاص حرج نہیں؟۔ کیا یہی علم ہے؟  سیدھاراستہ یہ ہے کہ پہلے سائنس دان ایٹمی توانائی پر مکمل کنٹرول حاصل کرے اور ری ایکٹروں کے گرد و نواح میں بسنے والے لاکھوں انسانوں کو ایٹمی تابکاری سے بچاؤ کے ذرائع مہیّا کرے اور تابکاری بیماری کا موثر علاج دریافت کرے اور تب جا کرایٹمی توانائی برائے امن کے اپنانے کی سفارش کرے تو کیا میں غلط کہتا ہوں؟ کیا میری یہ دلیل صرف خوفزدہ کرنے کے لئے ہے؟ تم پھر بھی میری بات پر یقین نہیں کرو گے بلکہ کہو گے نہیں جی سائنس دان سب کچھ جانتے ہیں سمجھتے ہیں بھلا یہ آدمی کیا کہہ رہا ہے ایسی بات ہوتی تو سائنس دان کوئی اتنے پاگل ہو گئے ہیں لیکن تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ بالکل ٹھیک ہے اور واقعی سائنس دان پاگل ہو چکے ہیں لیکن اتنے نہیں کہ تم پوچھو اور حقیقت کو چھپا جائیں  اور جھوٹ بولنے پر آمادہ ہو جائیں۔ تم پوچھو تو سہی وہ بتائیں گے مگر یاد رکھو۔ سائنس دانوں سے پوچھو  جو حقیقی معنوں میں سائنس دان ہیں اور جو مضمون سے کماحقہ آگاہی رکھتے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سائنس دانوں کی خاصی تعداد اپنی علمیت اور ایٹمی موضوع کی کماحقہ آگاہی کے سبب ایٹم بم کے مخالف ہو جائے گی لیکن ایٹمی مسئلہ صرف علمی نہیں بلکہ سیاسی اور اقتصادی مسئلہ بھی ہے  لہٰذا اس پیر تسمہ پا سے چھٹکارا اللہ کہ مہربانی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس زمین کے بدنصیب باسیو! تمہیں حرص و ہوس کے نشے اور دردناک انجام کی ہولناکی نے اندھا کر دیا ہے اور ایٹمی جہنم کی سائنس جو،اب تم تک پہنچ رہی ہے تمہارے حواس خراب کر رہی ہے آئندہ کسی ایسے انکشاف کے متعلق جوایٹمی دکھوں کا علاج ثابت ہو۔ سائنس دان کی ساری توقعات قطعاًبے بنیاد ہیں۔ ایٹمی توانائی کا میدان ایسا کیچڑ ہے جس میں سائنس  دان پھنس کے رہ گیا ہے۔ انکشافات جو ہونے تھے۔ وہ ہو چکے ہیں۔ اب ہر شخص شتر مرغی کر رہا ہے۔ انسان ایٹمی دیو پر جو قابو نہیں پا سکے گا بلکہ ایٹمی دیو انسان کو تہس نہس کرکے رکھ دے گا اَلبَتَّہ اگر انسانیت اس دیو سے چھٹکارا پا سکتی ہے تو وہ صرف اس صورت میں ہو سکتاہے کہ وہ وجوہات جو قرآنِ حکیم نے حطمہ کی پیدائش کی بتائی ہیں یعنی عیب جوئی، زراندوزی، دولت کی ہمیشگی کے وسیلے سے اپنی ہمیشگی کا گمان، انہیں زائل کیا جائے اور یہ بات اس ساری ترقی کے خلاف پڑتی ہے ورنہ ”پیداوار بڑھاؤ“والی ساری سکیمیں تو مسائل بڑھائیں گی اور مسائل پیدا کریں گی جو موجود ہیں ان کو مزید الجھائیں گی اور سب سے بڑھ کر کہ لمحہ بہ لمحہ، لحظہ بہ لحظہ، دم بہ دم، قدم بہ قدم، اس انسانیت کو ایٹمی جہنم کی جانب کشاں کشاں کھینچ کر لے جائیں گی۔ ”ترقی کرو اور ترقی کرو“ کا نعرہ یہ کہتا ہے کہ آگے بڑھو اور آگے بڑھو۔ ایٹمی جہنم کی جانب ۔وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو سمجھنے کی کوشش کی جائےاور حقائق کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے۔ انسانیت گذشتہ چار صدیوں سے جس دھوکے کا شکار رہی ہے اس کے نتیجے میں وہ اپنے آ پ کو ایک شکنجے میں دیکھ رہی ہے۔ اس شکنجے سے نکلنے کی تدبیر ہونی چاہیئے ورنہ یہ ٹھاٹھ دھرا رہ جائے گا جب لاد چلے گا پنجارہ۔ ہو سکتاہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق پر ترس آ جائے اور اس کی رحمت یہ گوارا نہ کرے کہ اس کی مخلوق اس طرح آگ کی نذر ہو جائے۔

ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر   

    پر تیری  رحمت نے گوارا نہ کیا

اب وقت بالکل قلیل رہ گیا ہے دوڑو!زمانہ چال قیامت کی چل گیا اور یاد رکھو کہ یہ جدید ترقی جیسی کہ یہ ہے غیر فطرتی ہے تباہی اس کا لازمی انجام ہے لمحوں کی بات ہے جادو کی طرح دنیا سے اس سار ی ترقی کے آثار محو ہو جائیں گے۔ تم کہاں پھرتے ہو۔

غلط فہمی میں مبتلا ہے ہر وہ زبان جو پکارتی ہے ایٹم بم یا ہیل بم کو اسلامی بم کے نام سے یا کرسچین بم کے نام سے یا ہندو بم کے نام سے یا بدھ بم کے نام سے ان میں سے کسی بھی شخصیت کو اس دوزخی بم سے کچھ تعلق واسطہ نہیں۔ یہ سزاکا ایک نمونہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا ایک مظہر ہے۔ یہ قدرت کے انتقام کا ایک جلوہ ہے۔ اسے بیکنی بم کہہ سکتے ہو کیونکہ یہ بیکنی فلسفے کا ثمرہ ہے۔ یہ بیکنی ڈیزائن کا منطقی اور سائنسی نتیجہ ہے۔ یہ تسخیرِ کائنات کے چکر میں پڑی ہوئی انسانیت کے خلاف قدرت کاایک ردِّعمل ہے۔ تم کہو گے کہ تسخیرِ کائنات کا سبق تو قرآنِ حکیم میں جا بجا ہے تو سمجھ لو کہ یہ تسخیرِ کائنات بیکنی تسخیرِ کائنات ہے اور بیکنی فلسفے کے مطابق تسخیرِ کائنات Dominion over Natureانسان کا پیدائشی حق اور اس کی زندگی کا مقصو دِ اوّلین ہے اور اس طرح یہ تو خدائے بزرگ و برتر کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے۔ قرآنِ حکیم نے کبھی اس مادی ترقی کو انسان کا مقصدِ حیات نہیں کہا۔ قرآنِ حکیم اگر مادی ترقی کو اجازت بھی دے تو مادی ترقی مسلمان کی زندگی کا مقصد نہیں بن جائے گی۔ قرآنِ حکیم نے غورِ آیات پر بے حد زور دیا ہے مگر کہیں بھی اس کو مادی ترقی کا وسیلہ یا مادی وسائل کے استعمال کا ذریعہ قرار نہیں دیا بلکہ صرف اللہ رب العالمین خالقِ کائنات، احسن الخالقین کی حاکمیت کی پہچان اورقیامت کے لزوم کی پہچان کاذریعہ قرار دیا ہے۔ بیکن کا سارا فلسفہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کا رد ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ بیکنی فلسفے کا ثمرہ ایٹمی جہنم کی صورت میں رونما ہوا جب کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کی پیروی سے ایٹمی جہنم نہیں پیدا ہو سکتا تھا۔مادی تسخیرِ کائنات بیکن کا دین ہے۔ مادی ترقی ہی بیکن کا ایمان ہے۔ سائنس کی کتاب بیکن کی انجیل ہے اور قانونِ اخلاقیات بیکن کے خیال میں انسان کی گمراہی کی دلیل ہے۔ بیکن کہتا ہے خدا نے تو آدم کو اسماء ہی کی تعلیم دی تھی یعنی مادی ترقی کاسبق دیاتھا لیکن آدم نے خدا کے حکم کو توڑ کر نیکی اور بدی کے علم کے درخت کو کھا لیا اور پھر آدم کی اولاد نے اس زمین پر اخلاقی اقدار اور قانون کو رواج دے کرخدا کے حکم کو اسی طرح توڑا جس طرح آدم نے نیکی اور بدی کے علم کے درخت کو کھا کر توڑا تھا کیونکہ اخلاقی اقداراور مذہبی شریعت یا قانون کی بنیاد نیکی اور بدی کے علم پرہے۔یہ ہیں نظریات فرانسس بیکن کے۔پڑھیئے اس کی کتاب (Advancement of Learning )  اور پھر پڑھئے۔ انجیل اور قرآنِ حکیم اور فرق دیکھئے اور پھر دیکھئے کہ جس طرح شیطان نے آدم کو کہا تھا کہ یہ نیکی اور بدی کادرخت کھانے سے تم بینا ہو جاؤ گے اورایک لازوال حکومت تم کو مل جائے گی۔ اسی طرح بیکن نے ابنائے آدم کو کہا کہ تسخیرِ کائنات تمہارا حق ہے۔اس طرح تمہیں لازوال حکومت ہاتھ آئے گی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس دنیا میں بہت ہی کم لوگوں نے بیکن کا نام ہی سنا ہے اور ایسا شخص تو ڈھونڈے سے بمشکل مل سکے گا جس نے بیکن کے فلسفے کا مطالعہ کیا ہو یا اس کی کوئی تصنیف پڑھی ہو۔

اور ایٹم بم کیا ہے۔ دفاعی اسلحہ؟ ہرگز نہیں کسی سائنس دان سے پوچھیں آئن سٹائن سے دریافت کریں وہ تمہیں بتائے گا کہ یہ خدا کا بھڑکایا ہوا غضب ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی مادہ پرستی کے بیکنی فلسفے نے انسان کو نابینا کر دیا ہے اور کسی کو بھی اصلی حقیقت اپنی اصلی صورت میں نظر نہیں آتی۔خدا کی اس زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بیکنی فلسفے کے پیروکار دولت، مادی سہولت اور مادی ترقی کے پیچھے دوڑتے بھاگتے ہانپتے کانپتے پسینے میں شرابور دن رات آتشِ زیر پا نظر آتے ہیں۔ آج دنیا کی ا س تین یا چار ارب کی آبادی میں وہ کون سا ایک شخص ایسا ہے جسے اطمینان ِقلب کا حصول ہے یا جو ،اِس حواس باختہ جدوجہد میں پائے کوبان اور رقصاں نظر نہیں آتا۔ انسانیت آج ٹڈی دل کی طرح اس زمین پر اُگنے والی ہر چیز کو چرتی ہوئی بڑھتی جا رہی ہے۔زمین کاچپہ چپہ زیر زراعت اور اناج ختم۔ روئے زمین پر اُگنے و الے جنگلات ختم،زیرِ زمین رکھے ہوئے سارے معدنی وسائل ختم،زمین پر بسنے والے چرندے ،پرندے ،درندے ختم،مگر پھر بھی انسان کا پیٹ نہیں بھر رہا اورزیادہ کی طلب ہو رہی ہے۔ پیداوار کے ساتھ طلب بڑھتی جا رہی ہے حتٰی کہ اب توانائی کے بحران کی وجہ سے انسان ایٹمی توانائی جیسی مہلک اور خطرناک چیز کو بھی اپنانے پر مجبور ہو رہا ہے۔ جانتے ہیں کہ زہر ہے مگر پھر بھی کھانے پر مجبور ہیں۔ ساری انسانیت اس وقت بھی دولت کی طلب اور سائنسی ترقی میں مصروفیت کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نظر آتی ہے بلکہ یہ دولت کی طلب اور سائنسی ترقی بذاتِ خود ایک عذاب ہے لیکن یہ بات کہ ایٹم بم دفاعی اسلحہ نہیں اس کا ایک ادنٰی سا ثبوت روس کی ہزیمت نے مہیّا کر دیا ہے۔ یہ بات میں اس مسودے کے لکھنے کے کئی سال بعد لکھ رہا ہوں۔روس ایک ایٹمی طاقت تھی اُ س کے پاس ساٹھ ہزار ایٹم بم تھے مگر کمتر ہتھیاروں والے افغانیوں کے مقابلے میں وہ ایٹم بم کسی کام نہ آئے۔افغانستان سے پسپائی کے بعد کیمونزم ختم ہو گیا اور روس کی مختلف ریاستوں نے روس سے آزادی کا اعلان کر دیا لیکن ایٹمی جنگ میں کیا کارآ مد نہیں ہو جائیں گے۔ ضرور ہو جائیں گے مگر انجام دردناک عذاب کے بعد روئے زمین پر زندگی کا خاتمہ نہ فاتح رہے گا نہ مفتوح اسے کہتے ہیں خدائی عذاب نہ کہ دفاعی اسلحہ کی کارکردگی۔ اس سے بڑا نادانی کا ثبوت کیا ہو گا کہ یہ حقیقت کہ ایٹمی آگ انسان کا کنٹرول قبول نہیں کرے گی۔ ایٹمی تابکاری سرکشی سے باز نہیں آئے گی ان قوموں کی سمجھ میں بھی نہ آسکے۔ جن کے سائنس دانوں نے اس حقیقت کے ناقابلِ تردید ثبوت مہیّا کر دیئے ہیں اور اس بات کا کیا سبب تلاش کیا جائے کہ بعض طاقتیں جو ایٹمی آگ کے معاملے میں بعض دوسری قوموں سے آگے ہیں، ابھی تک اس کوشش میں مصروف ہیں کہ دنیا میں اُ ن کی ایٹمی چودھراہٹ قائم رہے اور یہ کہ اختفاء کے پردے ایٹمی آگ کے اسرار و رموز کے اردگرد تنے رہیں اور اگر اب بھی وہ اس اُ مید پر قائم ہیں کہ وہ اس زمین پر ایٹمی آگ کا توازن قائم رکھ سکیں گی اور یہ کہ ایٹمی آگ کی بین الاقوامی گہما گہمی پر قابو رکھ سکیں گی تو اس سے زیادہ ابلہانہ اور اس سے زیادہ غیر دانش مندانہ سوچ اور کیا ہو سکتی ہے۔ اب اس کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے کہ اُ ن کے سامنے نہایت صریح انداز میں یہ اعلان کر دیا جا ئے کہ تم جو چاہو سوچو مگر اتنا یاد رہے کہ انسان اور ایٹمی آگ کی چپقلش میں انسان نہیں ایٹمی آگ ہی غالب رہے گی، انسان اس پر ہرگز قابو نہ پا سکے گا مگر ایٹمی تابکاری انسان کو بالآخر نیست و نابود کر دے گی اور انسان تو خیر اپنے کئے کا پھل پائے گا زمین پر بسنے والے جانور اور پودے بے گناہ اس چپقلش کا شکار ہو جائیں گے۔ غرور و انا انسان کی فطرت کا خاصہ ہے ورنہ دیکھنے میں تو یہ جو ڑ بڑا بے جوڑ سا معلوم  ہوتا ہے۔ ایک طر ف دیو قامت اور کوہ پیکر ایٹمی آگ ہے اور مقابلے کے لئے حضرت انسان اپنی تمام تر قوتوں اور توانائیوں کے با وجود محض ایک پست قد بونا نظر آتا ہے یہ بات کسی جاننے والے سائنس دان کے کان میں کہو اور پھر اس کے چہرے کے تاثرات پڑھوایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلتی ہوئی نظر آئے گی۔ ایسی مسکراہٹ جس میں یہ تاثر واضح ہے کہ ہاں یہ بات درست ہے مگر اگر مگر، چونکہ چنانچہ، اگرچہ مگرچہ، اَلبَتَّہ، جیسے الفاظ آڑے آ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیوکلر سائنس فزکس کی آخری حدود پر واقع ہے اس کا عمل ایٹم جو غیر مرئی چیز ہے کےنیوکلّیس میں واقع ہوتا ہے اور اس کے عمل سے جو توڑ پھوڑ ہوتی ہے وہ آخری اور قطعی ہوتی ہے یعنی وہ توڑ تخلیق کی انتہائی بنیادوں میں ہوتی ہے ایسی توڑ پھوڑ جسے پھر جوڑا نہیں جا سکتا  یعنی ایٹم ٹوٹ گیا تو بس ٹوٹ گیا پھر نہیں جڑتا  لہٰذا انسان کا اس میدان میں کامیاب ہونا مشتبہ ہے اور پھر ایٹمی آگ کے خطرات خدشات اس درجہ ہلاکت خیز اور وقیع اور دوررس ہیں کہ انسان ان کا متحمل نہیں ہو سکتا بلکہ زمین پر بسنے والی ساری مخلوق اُ ن کی متحمل نہیں ہو سکتی لیکن انسان کازعم اگرچہ باطل بھی ہو توڑنا مشکل کام ہے اَلبَتَّہ جب گرتا ہے تو سمجھتا ہے لیکن ایٹمی آگ کا مسئلہ ایسا ہے کہ ایک دفعہ انسان اس میں الجھ گیا اور پھر تو بہ کرنی چاہی تو اس توبہ کا کچھ فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ ایٹمی تابکاری اپنا کام کر چکی ہو گی۔ ان حالات میں سائنس دان کا دنیا کو ایٹمی آگ کے چکر میں اس اُ مید پر ڈال دینا کہ ممکن ہے کوئی انکشاف کبھی ایسا ہو جائے جس سے ایٹمی تابکاری کو کنٹرول کرنے اور اسے بے ضرر بنانے کی صورت پیدا ہو جائے ایک ایسی صریح حماقت ہے جسے بیان کرنے کے لئے الفاظ کا سارا ذخیرہ قاصر ہے۔پہلے ایٹمی تابکاری کو کنٹرول کرو اور بے ضرر بنا ؤپھر ایٹمی توانائی کے استعمال کی اجازت دو تم ایسا نہیں کر سکو گے۔

ہائے افسوس اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت اب اگر ایٹمی آگ کے انگارے ادھر اُ دھر بکھرتے نظر آئیں تو اداس نہ ہو کیونکہ ایٹمی آگ شیطانوں کا کھیل ہے اور وہ ایٹمی آگ کے انگاروں کو ادھر ادھر ہر طرف بکھیرنے کے لئے لے اڑیں گے۔ عنقریب خدا کی یہ زمین ایک بڑی ایٹمی بھٹی کی صورت اختیار کر لے گی۔ آج اس سے زیادہ دیانتدارانہ نصیحت اور بر وقت نصیحت اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ حقیقت پسندی کا مظاہر ہ کرو ایٹمی مسئلے کے ہر پہلو کا بغور جائزہ لو جلد بازی نہ کرو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی ملک ایٹمی آگ سے کوئی فائدہ نہ اُٹھائے گا اوّلین منافع آخری خسارے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو گا۔

قاری کریم اب یہ جاننے کے لئے بے تاب ہو گا کہ وہ اسلامی بم کیا ہے؟ اسلامی بم قرآنِ حکیم کی وہ پیشین گوئی ہے جواللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعے قرآنِ حکیم میں حطمہ کے متعلق رکھ دی اور وہ پیشین گوئی مندرجہ ذیل ہے۔  ” وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِنِ                    الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ   يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ   كَلَّا  لَيُنْۢبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ   نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَةُ   الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٔدَةِ   اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ   فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ   “۔  (ترجمہ)  خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی جس نے مال سمیٹا اور گن گن کر رکھا خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا رہے گا اس کے ساتھ ہرگز نہیں وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی حطمہCrusher میں اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی، ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک وہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر لمبے لمبے ستونوں میں“۔(قرآنِ حکیم۔ الھمزہ  104)۔ 

اب اندازہ فرمائیں کہ کس طرح قرآنِ حکیم نے وہ وجوہات بیان کی ہیں جو حطمہ کی آگ میں ڈالے جانے کا موجب ہیں۔ حیرانی کی بات اکثر لوگوں کے لئے یہ ہوگی کہ مال وغیرہ جمع کرنے جیسی بے ضرر عادت پر اتنی شدید سزا بحر حال جان لینا چاہیئے کہ اپنا اپنا نظریہ ہے اور یہ نظریہ اللہ تعالیٰ کا ہے کہ دولت جمع کرنے کو اتنا بڑا گناہ قرار دیا نیز یہ کہ بغیر ان وجوہات کو زائل کئے ایٹمی جہنم جو کہ حطمہ کا دینوی نمونہ ہے سے نجات نہیں مل سکتی اور اگر آپ نیوکلر سائنسد ان ہیں تو مندرجہ بالا پیشین گوئی میں ایٹمی آگ کی وہ خصوصیات تلاش کریں جو اسے دوسری قسم کی آگوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ اورذہن میں رکھیں۔ اس کے بعد ہماری تشخیص و تفسیر پڑھیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ اسے نہایت ہی دلچسپ پائیں گے۔ وما علینا الا البلاغ المبین۔نیز آپ کو انسانی ذہن اور خدائی ذہن کافرق بھی واضح نظر آئے گا۔ اے بدنصیب آئن سٹائن اور بدنصیب برٹرینڈ رسل اور بدنصیب جیمز جینز کاش کہ آج آپ قرآنِ حکیم کا یہ سائنسی معجزہ دیکھنے کے لئے زندہ ہوتے۔

اب دیکھئے حافظ شیرازی علیہ الرحمتہ فارسی کا مشہور شاعر آج سے تقریباً ایک ہزار برس پہلے ہوا۔لوگ اس کے کلام سے فال بھی نکالتے ہیں اور اسے لسانِ الغیب کا لقب بھی ملا تھا اس کے زمانے میں چاند کے گرد کوئی شور نہ تھا۔ چاند پر شور اس وقت برپا ہوا جب امریکیوں نے وہاں قدم رکھا مگر حافظ شیرازی رحمت اللہ علیہ کی مندرجہ ذیل نظم پڑھیئے۔شاعر نے کس حد تک ہمارے اس موجودہ دور کا نقشہ پیش کیاہے۔

ایں چہ شوریست کہ در دور قمر مے بینم

ہمہ  آفاق   پُر   از   فتنہ   و   شرمے  بینم

ترجمہ:  یہ کیا شور ہے جو چاند پر دیکھتا ہوں تمام دنیا کو فتنہ و فساد سے بھر اہوا دیکھتا ہوں۔

ہر کسے روز بہی مے طلبد از ایام

علت آنست کہ ہر روز بتر مے بینم

ترجمہ:  ہر کوئی زمانے سے بہبود کا مطالبہ کرتا ہے مصیبت یہ ہے کہ ہر آنے والا دن پہلے سے بد تر ہے۔

ابلہا نرا ہمہ شربت زگلاب و قنداست

قوت  دانا  ہمہ  زخون  جگر  مے  بینم

ترجمہ:  جاہلوں کے لئے تو گلاب اور کھانڈ کا شربت ہی شربت ہے مگر دانا کا کھانا تو خون جگر ہی ہے۔

اسپِ تازی شدہ مجروح بزیر پالاں

طوقِ زریّن در گردن ہر خر مے بینم

ترجمہ:۔ عربی گھوڑا تو بوجھ اٹھانے والے پالان کے نیچے زخمی ہو رہا ہے لیکن ہر گدھے کی گردن میں سنہری طوق ہے۔

حافظ شیرازیؒ کی مندرجہ ذیل نظم جو سامری کے متعلق ہے۔موجودہ مشینی دور میں پڑھنے کے قابل ہے۔ دیکھئے شاعر سامری کے بازار کی رونق ختم کرنے کے لئے کس کو پکار رہا ہے۔ یہ نظم لازماً اس مشینی دور پر منطبق ہوتی ہے۔ ورنہ حافظ کے زمانے میں سامری کا کوئی خاص عمل دخل نہ تھا۔

کرشمہ کن و بازارِ سامری بشکن

بغمزہ رونقِ بازار سامری بشکن

بیاد دہ سرو دستار عالمی یعنی

کلاہ گوشہ بآئین دلبری بشکن

برلف گوی کہ آئین سرکشی بگذار

بطرہ گوی کہ قلب ستم گری بشکن

بروں خرام و ببر گوئی نیکی از ہمہ کس

سزا خوردہ و رونق پری بشکن

باآہوان نظر شیر آفتاب بگیر

بابروان دو تا قوسن مشتری بشکن

چو عطر سای شود زلف سنبل ازدم باد

تو قیمتش زسر زلف عنبری بشکن

چو عندلیب فصاحت فروش شد حافظاؔ

تو رونقش بسخن گفتن دری بشکن

یہ ساری نظم موجودہ پرستانہ دور جو سامری کی مشینوں کی مرہون منت ہے کی قدروں کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے اور روحانی دور کی قدروں کے حق میں اپیل ہے۔

ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنی پیشین گوئی سائنسی تشریح اور تنبیہٖ ہدایات:

قارعینِ کرام! حطمہ جو اس بیان کا بنیادی لفظ ہے ایک جہنم کی حیثیت میں ہمیشہ سے دوسری دنیا کا ایک جہنم ہی تصّور کیا جاتا رہا ہے اور وہ درست ہے مگر اس دنیا کا ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے حطمہ کا ایک عارضی دنیوی مظہر ہے بعینہٖ اسی طرح جس طرح کہ آگ دوزخ کا اور باغ بہشت کا ایک عارضی دنیوی مظہر ہے۔وہ وجوہات جو قرآنِ حکیم کے مطابق اگلی دنیا کے حطمہ کی سزا کے وجوب کا سبب ہیں وہی وجوہات ا س دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش کا موجب ہیں اور اسی طرح جو سائنسی تشریح حطمہ کی قرآنِ حکیم نے کی ہے وہی تشریح حطمہ کے اس دنیوی مظہر ایٹمی جہنم کی ہے اس طرح وہ لوگ جواستحقاق کی بنیاد پر اس دنیوی ایٹمی جہنم میں سزا پانے کے مستوجب قرار پائیں گے وہ لوگ اگلی دنیا کے لازوال اور دائمی حطمہ کی سزا پانے کے بھی مستوجب ہوں گے۔ حطمہ کی سزا اور اسی طرح ایٹمی جہنم کی سزا کے لئے مومن اور کافر کا کوئی امتیاز نہیں اَلبَتَّہ اوّلین مفسرینِ کرام نے فرمایا ہے کہ مومن جو حطمہ کی سزا کے مستحق ہونے کی بنا پر حطمہ میں ڈالے جائیں گے وہ حطمہ میں اُ س وقت تک رہیں گے جب تک اللہ تبارک و تعالیٰ کی منشا ہو گی اور پھر وہاں سے نکال لئے جائیں گےتاہم کافر اس میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ وہ لوگ جو بغیر کسی استحقاق کے اس دنیوی ایٹمی جہنم میں دوسرے مستحق لوگوں کے ساتھ ڈالے جائیں گے اُ ن کے لئے اللہ تعالیٰ کو توفیق ہے کہ اگلے جہان میں اُ ن کی عمدہ طریقے سے تلافیء مافات فرما دی جائے۔ قرآنِ حکیم کا دعویٰ ہے کہ اس میں انسان کے ہر مسئلے کا ذکر ہے تو پھر جب کہ عاداور ثمود جیسی بستیوں کی تباہی کا تذکرہ قرآنِ حکیم میں موجود ہے تو پھر ایٹمی جہنم جیسی جہاں سوز تباہی کا ذکر کیوں نہ ہو جب کہ عاد و ثمودکی بستیاں تو کسی شہر کے محلے یا کسی ایک شہر سے بڑھ کر نہ تھیں جب کہ ایٹمی تباہی کا شکار تو روئے زمین کی انسانیت ہی نہیں بلکہ جملہ حیوانات اور نباتات بھی ہوسکتے ہیں۔ ایٹمی جہنم اس زمین سے زندگی کو کلّیتہً ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی آخری تنبیہ ہے اورقرآنِ حکیم اس ایٹمی تباہی سے دوچار ہونے کی وجوہات بیان کرتا ہے اور لا محا لہ ان وجوہات کودور کرنے سے اس تباہی سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔

قرآنِ حکیم کو جدید سائنس کی ریفرنس سے لکھنا ایک نہایت ہی اَدق اور نہایت ہی پُر خطر کام ہے اور وہی اس میدان میں کودنے کی جسارت کرے جو علمی لحاظ سے سائنس اور قرآنِ حکیم دونوں میں دسترس کامل رکھتا ہو اور یہ کام آسان نہیں اور سینہ اُ س کا ایمان کے نور سے منور ہو اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو۔ سوال قرآنِ حکیم کی عزت اور ہتک کا آن پڑتا ہے۔ مصنف کی ایک ہلکی سی لغزش قرآنِ حکیم کی سبکی کا باعث ہو کر گویا آسمان کے ستون گرا سکتی ہے۔ پل صراط کا سا مسئلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں جوابدہ ہونا ہے۔ سائنس بدلنے والا مضمون ہے لہٰذا اس کے نہ بدلنے والے نکات کی جانچ کرنی ہو گی اور قرآنِ حکیم نہایت باریک کتاب ہے اس کی باریکیوں پر نظر رکھنی ہوگیاور یہ کہ کوئی کتاب چودہ سو برس پہلے ایٹمی جہنم کا انکشاف کرے اور نیوکلر سائنس جیسے پیچیدہ موضوع کو محیرالعقول انداز میں درستی سے سائنس کے طریقے پر بیان کرے لازماً روئے زمین کی مخلوق کوورطہء حیرت میں ڈالنے والی بات ہے اور جتنا کہ کسی سائنس دان کا علم اس مضمون میں زیادہ اور بنیا دی ہو گا اتنا ہی متاثر ہو گا اور اس بات سے بڑھ کر قرآنِ حکیم کے الہامی  ہونے کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ پوری نیوکلر سائنس جس کی پیچیدگیوں کے سامنے خود سائنس دان بوکھلا اٹھے ہیں۔ ایک کتاب چودہ سو برس پہلے صحیح جدید سائنسی انداز میں بیان کرے اوریہی نہیں بلکہ پیشین گوئی کے چند الفاظ میں پوری نیوکلر سائنس کے علاوہ ایٹمی مٹیر یل ازم کا فلسفہ نیوکلر سائنس کی ریفرنس سے بیان کر دے۔ پیشین گوئی کے چند لفظوں کی تفسیر میری چودہ جلدوں کے تین ہزار صفحوں میں بھی بمشکل سما سکتی ہے غرضیکہ علم کی ایک دنیا ہے انسانی ذہن سے ما ورا۔قرآنِ حکیم کے الہامی ہونے یعنی منجانب اللہ ہونے کے کئی ایک ثبوت دئیے جاتے ہیں مثلا ً بے مثال فصاحت و بلاغت زبردست پیشین گوئیاں، ماضی کے حالات، علمی احاطہ اسی طرح کے اور کئی پہلو اگرچہ یہ باتیں قرآنِ حکیم کے ماننے والوں کو تو بہت اپیل کرتی ہیں لیکن وہ لوگ جن کاقرآنِ حکیم میں ایمان نہیں ہوتا ان سب وجوہات کی تاویل کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں کیونکہ یہ ساری صفات اللہ تعالیٰ اور انسان میں قدرِ مشترک ہیں فصاحت و بلاغت انسانی کلام میں بھی پائی جاتی ہے۔ پیشین گوئیاں بعض انسان بھی کرتے ہیں، ماضی کے حالات پر جدید تحقیق کی الماریاں کتابوں سے بھر گئی ہیں۔ علمی استعداد انسانوں میں بھی ہے۔ اگر یہ دلیلیں موثر ہو جاتیں تو ساری انسانیت قرآنِ حکیم پر ایمان لے آتی لیکن ایسی دلیل جس کے مطابق اللہ تعالیٰ تو ایک کام کر سکے مگر بندہ اُ س سے عاجز ہو ناقابلِ تردید ہے اور بے حد موثر ہوسکتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اُ س وقت ایٹمی سائنس اور ایٹمی آگ اور اُ س کے پیدا ہونے کے اسباب کا اظہار کیا جب انسان نہیں جانتا تھا۔ چودہ سو برس پہلے یہ اظہاراللہ تعالیٰ ہی کر سکتا تھا اور یہ ایک ایسا معجزہ ہے ایسی دلیل ہے جس کی کوئی تاویل کوئی تردید امکانی حدود سے باہر ہے۔

قارعینِ کرام پہلے حطمہ کی آگ کے خصائص جو قرآنِ حکیم نے دیئے ہیں اُ ن کی تشریح کی جائے گی اور بعد میں حطمہ کی آگ کے ظہور کی وجوہات جوقرآنِ حکیم نے دی ہیں اُ ن کا بیان ہو گا۔اب یہاں نکتہ یہ ہے  اور بے حد حیرتناک ہے اور بیحد اہم ہے کہ یہ خواص جو قرآنِ حکیم نے حطمہ کی آگ کے فرمائے ہیں بعینہٖ وہ خواص ہیں جو ایٹمی نیوکلر یعنی قلبی توانائی کودوسری  تمام قسم کی مروّجہ توانائیوں مثلاً کیمیکل کیماویChemical بجلیElectrical سے واضح طور پر ممیز کرتے ہیں اور یہ تمام ایٹمی توانائی کے خصوصی امتیازی خواص ہیں۔ الحق کہ ایٹمی توانائی ایک خاص قسم کی توانائی ہے جو کرشر ہے اور جو دلوں تک چڑھتی ہے اور جو بند کی ہوئی ہے لمبے لمبے ستونوں میں۔ ہم ان نکات کو فرداًفرداً بیان کریں گے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

(۱)  یہ کہ ایٹمی آگ حطمہ یعنی کرشرCrusher ہے۔(۲)  یہ کہ ایٹمی آگ دلوں پر چڑھتی ہے۔(۳)  اور یہ کہ یہ بند کی ہوئی ہے آگ  لمبے لمبے ستونوں میں۔

ایٹمی آگ کی توڑ پھوڑ کرنے والی کرشنگCrushing  کی خاصیت:

قرآنِ حکیم نے فرمایا‘ حُطَمَہ! یعنی کرشرCrusher قرآنِ حکیم نے لفظ حطمہ کا استعمال کیا ہے۔ حطمہ اسمِ توصیفی ہے جو حَطَمَ سے بنا ہے حطم فعل ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ریزہ ریزہ کر ڈالناپس حطمہ کے معنی ہیں ریزہ ریزہ کرنے والا اور یہ صفت چونکہ ایک آگ کی ہے لہٰذا مترجمین حضرات نے ا سے روندنے والی لکھا ہے اب حطم اور ایٹم کو دیکھئے۔ ایٹم کے معنی ہیں ”جو چیز توڑی نہ جا سکے“ اور حقیقت یہ ہے کہ خود سائنس دان نے اُس ذرے کو جسے ایٹم کہا جاتا تھا توڑ کے ریزہ ریزہ کرڈالا ہے۔ اب اگرچہ اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ حکیم کی اصطلاح حقیقت کے مطابق ہے جب کہ سا ئنس دان کی اصطلا ح حقیقت کے عین خلاف ہے۔ ببین تفاوت راہ از کجااست تا بہ کجا۔

ایٹمی آگ کا عمل ابتداء سے لے کر انتہا تک ریزہ کاری کا ایک سلسلہ ہے۔ خود ایٹمی توانائی پیدا اس ریزہ کاری کے عمل کے ذریعے ہوتی ہے اور آخر کار ایٹمی شعاعوں کا عمل بھی ریزہ کاری ہی کا ایک مسلسل مظاہرہ ہے۔

(۱)۔یہ کہ ایٹمی توانائی کی پیدائش کا عمل بھی اسی ریزہ کاری ہی کا عمل ہے۔ ایٹمی توانائی ایٹم کےنیوکلّیس (دل) کے ٹوٹنے سے ہی پیدا ہوتی ہے اور صرف ایٹمی نیوکلّیس کے ٹوٹنے ہی سے پیدا ہوتی ہے۔ ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے دوطریقے ہیں۔ ایک فژن پروسس کہلاتا ہے دوسرا فیوژن پراسس کہلاتا ہے ۔فژن پراسسFission Process میں ایٹم کا نیوکلیس(دل) توڑا جاتاہے تو ایٹمی توانائی جوحقیقت میں نیوکلر توانائی ہے پیدا ہوتی ہے فیوژن پراسس   Fusion Process میں چند ایٹموں کےنیوکلّیس (دل) ایک دوسرے میں کرش کر دیئے جاتے ہیں اورایٹمی توانائی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں ایک بات یاد کرنے کی یہ ہے کہ ایٹمی توانائی وہ توانائی ہے جو ایک ایٹم کےنیوکلّیس کے مختلف ذروں مثلاً  نیوٹران ،پروٹان وغیرہ کو ایٹم کے اندر باندھے ہوئے ہوتی ہے۔ جب یہ رابطہ ٹوٹتا ہے تو توانائی خارج ہوتی ہے یعنی یہی رابطہ بذاتِ خود ہی توانائی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور معلوم ہونا چاہیئے کہ ایٹمی توانائی کے پیدا ہونے کا طریقہ منفرداور مخصوص ہے ورنہ کیمیائی توانائی Chemical Energy کی پیدائش میں ایسا نہیں ہوتا نہ تو کیمیاوی توانائی ایٹم کی شکست و ریخت سے پیدا ہوتی ہے نہ ہی ایٹمی نیوکلّیس متاثر ہوتا ہے بلکہ ایٹمی نیوکلّیس جو ں کاتوں ٹکا رہتا ہے اور نہ ہی ایٹمی نیوکلّیس کیمیائی توانائی کے کسی آئندہ عمل میں متاثر ہوتا ہے اور یہاں نکتہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی توانائی ایٹمی نیوکلّیس کو توڑ کر یعنی ایٹم کو توڑ کر اس کائنات کی بنیادی اینٹ کو توڑ ڈالتی ہے جب کہ کیمیائی توانائی ایسا نہیں کرتی اور جب کہ کیمیائی توانائی کی آگ سے جلی ہوئی چیز کو دوبارہ سائنتھیسز  Synthesis کے عمل سے پیدا کرلینا ممکن ہے۔ٹو ٹے ہوئے ایٹم کو پھر سے جوڑنا ایک امر محال ہے لہٰذا ایٹمی توانائی کو بنیادی کرشر کہا جا سکتا ہے اور اس طرح حطمہ کا لقب ایک خصوصی  بنیادی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے اور حطمہ ہی حقیقی کرشر ثابت ہوتا ہے اور اسے کاسر ِمطلق کا نام دیا جا سکتا ہے۔

(۲)۔  ایٹمی دھماکے کے تینوں مظہر کرشر ہیں۔  ایٹمی دھماکے کے مظہر تین ہیں۔ اوّل ابتدائی چمک جو جہنم کی آگ کی طرح شدیدآگ کا ایک شعلہ نما جھپکا ہوتا ہے۔ یہ جھپکا بجلی کی سرعت سے اُ ن لوگوں کے بدن پر لگتا ہے جو سامنے ہوتے ہیں اور یہ ان کی جلد کو جلا کر سیاہ یا بھورا کر دیتا ہے تاہم اس کی آگ جلد سے نیچے نہیں اترتی، نہ ہی پورے بدن کو جلاتی ہے کیوں کہ اس کا دورانیہ نہایت مختصر یعنی محض چند ثانیے کا ہوتا ہے۔ تاہم یہ جھپکا صدمے کے ذریعے دل کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ دوم دھماکہ۔ یہ مضبوط سے مضبوط عمارتوں کو چشم ِزدن میں کچل کر خاکستر کا ایک ڈھیر کر دیتا ہے۔ سوم۔ ریڈیائی شعاعیں یہ بے جان مادے میں گھس کر اور اس کے ایٹموں کو توڑ پھوڑ کر ایٹموں کی قلبِ ماہیت کر دیتی ہیں اور جاندار کے بدن میں گھس کر اور ایٹمی نیوکلّیائی سے متصادم ہو کر ان میں سے بعض ذرات کو نکال باہر پھینکتی ہیں۔

 (۳)۔  ایٹمی سائنس دانوں نے ایٹمی آگ کی اس توڑ پھوڑ والی خاصیت کو پہچانا۔ ایٹمی فزکس کی معیاری درسی کتابیں مندرجہ ذیل اصطلاحوں سے اٹی پڑی ہیں۔بمبارڈنگ    Bombarding تصادمCrashing ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالناSmashing  ضرب لگاناHitting توڑ ڈالنا Breaking وغیرہ اس کے علاوہ اس بات کے مزید ثبوت موجود ہیں کہ ایٹمی سائنس دانوں نے ایٹمی عمل کی اس توڑ پھوڑ والی کیفیت کو خاص طور اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ مثلاً جب جرمنوں نے شعاعوں کے تسلسلی سپکٹرم Continuous  Spectrum of Rays کو برم سٹراھلنگ Bremsstrahlung کا نام دیا جس کے لفظی معنی ہیں توڑنے والی یا ٹوٹنے والی شعاعیں تو ایٹمی سائنس دانوں نے اس نام کو نہایت تشریحی گردانا اور اس کی موزونیت کی تعریف کی۔روتھر فورڈRutherford کو ایٹمی توانائی کی اس توڑ پھوڑ والی خاصیت نے اُ س کے اُ س تاریخی تجربے کے دوران جس میں اُ س نے سونے کے ورق پر الفا پارٹیکلزAlpha Particles کی بمبارڈنگ کرکے ایٹمی نیوکلّیس دریافت کیا تھا اس درجہ متاثر کیا کہ اُ س نے اپنی ڈائری میں اس واقع کو اپنی زندگی میں پیش آنے والا عجیب ترین واقع لکھا۔ وہ لکھتا ہے ”کہ یہ بالکل تعجب خیز امر تھا گویا کہ پندرہ انچ کا ایک گولہ تم کاغذ کے ایک ورق پر داغو اور پھر وہ گولہ پلٹ کر خود تمھیں آ کر لگے“۔

(۴)۔ ایٹمی شعاعیں بھی یہی توڑ پھوڑ کا عمل ظاہر کرتی ہیں۔ ایٹمی تابکار شعاعیں جو کہ ایٹمی توانائی کا ایک جزو ِلاینفک ہیں بھی اسی توڑ پھوڑ کے عمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ بے جان مادے میں گھس کر اس کے ایٹمی نیوکلّیائی پر حملہ آور ہو کر وہ ان ایٹموں کی قلب ِماہیت کر ڈالتی ہیں اور جاندار مادے میں گھس کر وہ ایٹمی نیوکلّیائی سے متصادم ہوکر ان سے نیوکلّیائی ذرات  Nucleons کو نکال باہر پھینکتی ہیں اور خلیے Cell کےنیوکلّیس پر حملہ آور ہو کرنیوکلّیس کے کروموسومز Chromosomes کو روند کر خلیے کو موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

ریڈیو بائیولوجی کی اصطلاحیں تابکاری کے اسی توڑ پھوڑ کے عمل کی آئینہ دار ہیں:

ریڈیو بائیولوجی کی معیاری مستند کتابوں میں مندرجہ ذیل قسم کی بنیادی اصطلاحوں اور تشبیہوں اور جملوں کی بھر مار نظر آتی ہے۔ ٹارگٹ والا نظریہThe Target Concept راست اقدامDirect Action بالواسطہ اقدام Indirect Action رسی کو بندوق کی گولی سے توڑ ڈالنا  Snapping the cable with a bullet کروموسومز کو توڑنا  Breaking the chromosomes   تابکار شعاعیں خلیوں پر ہتھوڑے کی طرح پڑتی ہیں اور اُ ن کو کچل ڈالتی ہیں۔Radiations  hit the cells like a sledge hammer and crush  them تابکار شعاعیں کینسر کی بیماری کا علاج نہیں کرتیں بلکہ کینسر زدہ خلیوں کوتباہ کر دیتی ہیں۔ Radiations do not cure cancer but destroy the  cancer cells 

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔‘حطمہ ایک آگ ہے۔ ایٹمی آگ خاص قسم کی آگ ہے۔ ایٹمی دھماکے کا ابتدائی شعلہ آگ ہے اور اس کی تابکاری شعاعیں آگ ہیں۔ ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں لگنے والی آگ جو شہروں کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔وہ اگرچہ ایٹمی آگ کا حصہ نہیں بلکہ محض گرمی کی اُ س شدت سے پیدا ہوتی ہے جس سے  ایٹمی دھماکے کا ابتدائی شعلہ ماحول کو مملو کر دیتا ہے تاہم ذیلی انداز میں وہ بھی ایٹمی دھماکے کی  ایک خاصیت ہی شمار ہو سکتی ہے جہاں تک ایٹمی شعاعوں کے آگ ہونے کا تعلق ہے تو اس  امر میں بیکرلBequerel جس نے اوّل اوّل تابکاری کا انکشاف کیا تھا۔خود اس تابکاری  کی آگ کا اوّلین شکار بنا اُ س کی جلد کا وہ حصہ جو اُ س کی اُ س جیب کے نیچے تھا جس میں وہ  ریڈیم کا ایک ٹکڑا لئے پھرتا تھا جل گیا۔ ایڈرورڈ ٹیلرEdwardTeller جس کے سر  ہائیڈروجن بم بنانے کا سہرا ہے وہ تابکاری کو آگ ہی کہتا ہے۔ وہ اپنی کتابOur Nuclear Future by Edward Teller and Albert L.  Latter.. کے صفحہ ۱۵۶  پر رقم طراز ہے:۔ A vicious dragon

(reactor) will spit Radioactive fire یعنی ایک زہریلا اژدھا ری ایکٹر تاب کاری کی آگ اُ گلے گا۔ ریڈیو تھراپسٹ کراس فائر Cross fire کی اصطلاح تاب کاری کے معاملے میں استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے صفحہ نمبر ۱۴۴۔کتاب کا نام

(Synopsis of Gynolocology by Harry Sturgeon   Crossen and  Robert James Grossen, 1946)

قرآنِ حکیم نے فرمایا۔ایٹمی آگ سزا کی آگ ہے۔  حطمہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ۔ایٹمی آگ عیب جوئی ، نکتہ چینی اور دولت جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے میں کامل استغراق اور دولت کی ہمیشگی کے گمان کی وجہ ہی سے پیدا ہوتی ہے اور اگرچہ وجوہات نہ ہوں تو فی الفور ایٹمی آگ کا وجود ہی دنیا سے غائب ہو جائے۔ہر جاننے والا شخص اس کے تباہ کن مضمرات سے باخبر ہے لیکن دنیا اسے اپنانے پر مجبور ہے تو گویا کہ اس کی ابتدائی پیدائش کا سبب بھی یہی متذکرہ بالا وجوہات ہیں اور اس کی ضرورت کوقائم رکھنے کا سبب بھی یہی وجوہات ہیں اور یہ ایسی وجوہات ہیں جن کا ردِّعمل اٹامز م کے فلسفے کے اپنانے کی صورت میں ظاہر ہوا اور اٹامزم کے لادین دنیوی مادہ پرستانہ نظر یئے کا منطقی اور سائنسی نتیجہ ایٹمی جہنم کی آگ ہے اور ایٹمی توانائی یعنی ماں اور ایٹم بم یعنی بیٹا اور ایٹمی شعاعیں یعنی بیٹیاں سب ایک ہی خاندان ہیں اور ایٹمی آگ کا ایک ہی خاندان ہیں اور ایں خانہ ہم آفتاب است والی مثال اس سے بڑھ کر موزونیت کے ساتھ مشکل سے کہیں اور چسپاں ہوتی ہے۔ ایٹمی توانائی کے ابتدائی مادی فوائد ایک دام فریب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ یہ صرف دانہ ہے جو انسانیت کو ایٹمی جہنم میں کھینچنے کے لئے ڈالا گیا ہے۔ سائنس دان نے ابھی تک یہ سبق لینا ہے کہ ایٹمی توانائی سائنس کے اس اصول میں جس کے مطابق سائنس کو آباد کاری اور تباہی دونوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ استثناء کا حکم رکھتی ہے۔ ایٹمی توانائی برائے امن اور امن دونوں  متضاد چیزیں ہیں۔ ایٹمی توانائی کی آباد کاری تباہ کاری کی ابتدا ہے۔ ایٹمی توانائی برائے جنگ کی تو بات ہی کیا ہے۔ ایٹمی توانائی برائے امن تمام زندگی اور سائنسی ترقی یعنی صدیوں کی محنت کے اس سائنسی پھل کو جو دنیا میں نظر آتا ہے ایک طویل المیعاد عمل کے ذریعے خاکستر میں تبدیل کر سکتی ہے۔ انسانیت کی بدنصیبی یہ ہے کہ سائنس دان ایٹمی شعاعوں پر کنٹرول کئے بغیر اور ری ایکٹروں کے گردونواح میں بسنے والے لاکھوں افراد کو ایٹمی شعاعوں سے حفاظت کا سامان مہیّا کئے بغیر ہی ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش کر کے دنیا کو ایٹمی جہنم کی جانب دھکیل رہا ہے۔عاد و ثمود کی مثالیں موجود ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ جب کہ عاد و ثمود کی تباہی کے لئے سامان قدرت نے اپنے ہاتھ سے کیا تھا۔دور ِحاضر کا انسان خود اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا سامان مہیّاکرنے میں مصروف ہے۔ آج  ہر شخص انسانیت کے دکھ کا مداوامزید پیداوار میں تلاش کر رہا ہے۔ مزید پیداوار کے لئے توانائی کی ضرورت ہے اور انسانیت توانائی کے حصول میں ایٹمی توانائی کو اپنانے پر مجبور ہورہی ہے۔ کوئی بھی شخص وجوہات کی تلاش میں کسی دوسری جانب نہیں دیکھ رہا۔ قرآنِ حکیم نے بھی وجوہات پیش کی ہیں مگر کیا انسانیت اس جانب توجہ دے گی۔عیب جوئی، نکتہ چینی دولت جمع کرنے کی ہوس اور دولت کی ہمیشگی کا گمان۔

            ایٹمی آگ دلوں پر چڑھتی ہے۔ قرآنِ حکیم نے فرمایا  ”حطمہ ایک آگ ہے جو چڑھتی ہے دلوں پر“۔ نیوکلّیس اور دل۔ایٹمی سائنس دانوں نے لفظ نیوکلیسNucleus استعمال کیا قرآنِ حکیم نے لفظ‘ افئدہ یعنی دل استعمال کیا لیکن افئدہ کے معنی صرف دل یعنی گوشت کے اس ٹکڑے جسے دل کہا جاتا ہے میں محدود نہیں ہیں۔ اس سے بڑھ کر وہ احساسات جو دل سے منسوب کئے جاتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں۔نیوکلّیس اور دل دو لفظ مترادف ہیں اور اُ ن کے مابین حقیقی عملی و حدت اور یگانگت موجود ہے۔نیوکلّیس ایٹم کے لئے اور خلیے کے لئے وہی ہے جو جسم کے لئے دل ہے۔ ایٹم کانیوکلّیس محض ایک نقطہ ہے جس کاقطر ایٹم کے قطر کے مقابلے میں تقریباً دس ہزارواں حصہ ہے۔ جب نیوکلّیس توڑ دیا جاتا ہے تو ایٹم مر جاتا ہے اور جب خلیے کانیوکلّیس مر جاتا ہے توخلیہ بھی مرجاتا ہے۔ اسی طرح دل مرجاتا ہے تو تمام بدن مر جاتا ہے۔نیوکلّیس اور دل نزاکت اور حساسیّت میں بھی مماثل ہیں اور خود ایٹمی سائنس دان بھی نیوکلّیس کو دل کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ قرآنی معرفت علمی پیش بینی اور معجزانہ حقانیت کا ایک معرکہ آرا نکتہ ہے۔ ایڈورڈ ٹیلر Edwar Teller نے 1939 ء میں جب کہ ایٹمی توانائی کا انکشاف ابھی نہیں ہوا تھا ایٹمی توانائی پر اپنی تقریر کے دوران ایٹم کے دل  یعنی نیوکلّیس سے توانائی حاصل کرنے کی ترکیب استعمال کی۔

 بحوالہThe Hydrogen bomb by James R.Sheply and Clay Blair Jr. Pages 48-49)  

نیز مندرجہ ذیل قسم کے پیرے ایٹمی فزکس کی معیاری درسی کتب میں پائے جاتے ہیں۔

"Each fast particle comes from the break up of the very heart of a single atom --the nucleus--of Radioactive material"  

یعنی ہر سریع ذرہ مطلقاً ریڈیو ایکٹو مٹیریل کے ایک منفرد ایٹم کے دل یعنی نیوکلّیس کے ٹوٹنے سے ہی ابھرتا ہے! بحوالہ

)Physics, Physical Science Study Committee IInd Edition, D.C.Heath and Company Lexinton,   Massachusetts, July 1965 Page 130) 

نیز اسی کتاب میں صفحہ ۲۱ پر لکھا ملتا ہے۔

“How many nuclear heartbeats are in the lifetime of a radioactive nucleus which   lasts only  billionth   of  a  second”?

یعنی ایک ریڈیو ایکٹونیوکلّیس جو سیکنڈ کااربواں حصہ قائم رہتا ہے اُ س کی ز ندگی میں کتنی نیوکلر دل کی دھڑکنیں ہوں گی نیز  ایٹمی ری ایکٹر کاوہ حصہ جس میں ایٹمی توانائی کی پیدائش کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ری ایکٹر کا دل کہلاتا ہے بحوالہ

  Our Nuclear Future by Edward Teller and   Albert. L. Latter. 1958 a Photograph  of  the  Reactor) 

اب جب کہ نیوکلّیس اور دل کی مماثلت کی وضاحت ہو چکی ہے دیکھنا چاہیئے کہ ایٹمی آگ کس طرح دلوں پر چڑھتی ہے۔  ایٹمی توانائی کی پیدائش کے عمل میں ایٹمی نیوکلّیس یعنی ایٹموں کے دلوں پر ہی حملہ ہوتا ہے اور فقط اُنہی پر ہوتا ہے۔ ایٹمی توانائی کی پیدائش    کے دونوں عملوں یعنی فژن پراسس اور فیوژن پراسس میں صرف ایٹمی نیوکلّیس یعنی ایٹموں کے  دل ہی ہیں۔ جن پر حملہ ہوتا ہے۔ فژن پراسس میں ایٹمی ذرات ایٹمی نیوکلّیائی یعنی ایٹموں کے  دلوں پر حملہ کرکے اُ ن کو بکھیر دیتے ہیں اور اس عمل میں توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔ تفصیل اس  اجمال کی یہ ہے کہ ایک نیوٹران یورانیم 235 کے قریب چھوڑا جاتا ہے۔یہ نیوٹران فوراً  یورانیم کے ایٹم کےنیوکلّیس یعنی دل پر حملہ آور ہو کر اُ س سے دو نیوٹران نکال باہر کرتا ہے۔ اس  دوران میں یورانیم ایٹم کانیوکلّیس دو حصوں میں منقسم ہو جاتا ہے اور اس طرح توانائی کا اخراج ہوتا ہے وہ دو نیوٹران جو اس ایٹم کےنیوکلّیس سے نکالے گئے ہیں۔ آگے بڑھ کر ایک ایک ایٹم کےنیوکلّیس پر فرداً فرداً حملہ آور ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک دو دو نیوٹران نکال باہر کرتاہے اور دونوں متاثرہ ایٹموں کےنیوکلّیس دو لخت ہو کر مزید توانائی خارج کرتے ہیں۔ہر چار نکالے ہوئے نیوٹران آگے بڑھ کر چار ایٹموں کے نیوکلائی پر حملہ آور ہو کر دو دو نیوٹران نکال باہر کرتے ہیں اور یہی عمل بڑھتا رہتا ہے حتٰی کہ یورانیم دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔ یہی ایٹم بم کا دھماکہ ہے لیکن اگر اس عمل کو کیڈمیمCadmium کے ڈنڈوں کے ذریعے کنٹرول میں رکھ کر آہستہ آہستہ چلایا جائے تو اسے ری ایکٹر کہا جائے گا۔ ایٹمی توانائی کی پیدائش میں  اس بتدریج دگنا ہونے کے عمل کودیکھ کر شطرنج کے موجد کی بات یاد آتی ہے۔ ہو ایو ں کہ شطرنج کے موجد کو جب راجہ نے  اس ایجاد سے خوش ہو کر کہا کہ مانگ کیا انعام مانگتا ہے تو اُ س نے کہا کہ شطرنج کے پہلے خانے میں ایک چاوّل کا دانہ پھر شطرنج کے چونسٹھ خانوں میں سے ہر ایک خانے میں بتدریج چاوّلوں کی تعداد دگنی کر دی جائے اور یہ چاوّل مجھے دے دیئے جائیں۔ راجہ اس معمولی سے مطالبے پر حیران ہوا مگر جب حساب کیا گیا تو راجہ کے سارے ملک میں اتنے چاوّل نہیں تھے۔ دوسرے عمل یعنی فیوژن پراسس میں چند چھوٹے چھوٹے ایٹموں کے نیوکلائی یعنی دلوں کو باہم دگر کچل دیا جاتا ہے اور اُ ن کے کچلے جانے سے ایٹمی توانائی کا اخراج ہوتا ہے مقصد یہ کہ اس عمل میں بھی ایٹمی نیوکلّیس یعنی دل ہی ملوث ہوتے ہیں۔ فیوژن پراسس کے لئے  شدید گرمی اور فقط شدید گرمی ہی درکار ہوتی ہے۔ یہ حرارت جو کہ لاکھوں درجے کی ہونی چاہیئے  فژن پراسس کے ذریعے پیدا کی جا سکتی ہے لہٰذا ایک فژن بم بیچ میں رکھ کر اُ س کے گردا گرد ہائیڈروجن بھر دی جاتی ہے جب فژن بم پھٹتا ہے تو شدید حرارت ہائیڈروجن کے ایٹموں کے نیوکلّیائی  یعنی دلوں پر حملہ آور ہو کر چار چار ہائیڈروجن ایٹموں کے نیو کلّیائی کو باہم دیگر کچل کر ہیلیم Helium کےنیوکلّیس میں تبدیل کر دیتی ہے اور اس طرح ایٹمی توانائی خارج ہوتی ہے۔ اٹامک نیوکلائی یعنی ایٹموں کے دلوں کا عمل صرف اور صرف ایٹمی توانائی ہی کا عمل ہے اور کیمیاوی توانائی کے عمل میں ایٹموں کے دل ہرگز ملوث نہیں ہوتے۔ اس طرح یہ خاصیت ایٹمی توانائی ہی کی ایک مخصوص کیفیت ہے۔کیمیاوی توانائی کے جملہ اعمال میں ایٹمی نیو کلیس کلّیتہً سالم رہتا ہے۔ ایٹمی توانائی دراصل نیوکلر توانائی ہے کیونکہ اس میں سارا عمل نیوکلّیس ہی کا ہے اور اس لئے جب ایٹمی سائنس دان ایٹمی توانائی کے متعلق لکھتے ہیں تو بعض اوقات وہ ایٹمی توانائی کے بعد تصیح کے طور پر لکھتے ہیں ”در اصل نیوکلرتوانائی“۔

(الف)۔   تابکار شعاعیں اور دل  تابکاری شعاعیں بھی نیوکلائی یعنی دلوں پر ہی چڑھتی ہیں۔ ایٹمی تابکار شعاعیں ایٹموں کے نیوکلّیائی یعنی دلوں پر چڑھتی ہیں۔ بے جان مادے کی صورت میں تو وہ ایٹموں کے نیوکلّیائی یعنی دلوں میں تبدیلی کرکے ان کی قلبِ ماہیت کی صورت میں کردیتی ہیں۔ جاندار جسم میں گھس کر ایٹمی نیوکلائی یعنی دلوں سے اجزا نکال باہر کرتی ہیں اور خلیوں کے نیوکلائی یعنی دلوں پر چڑھ کر اُ ن کے کروموسومزChromosomes کاتاروپود بکھیر دیتی ہیں۔

(ب)۔   ایٹمی تابکار شعاعوں کا دائرہ اثر دماغ سے ورے زندگی کے دل تک پہنچتا ہے۔ تابکار شعاعیں وظیفہء زندگی کے باہمی ربط کی اس سطح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جو دماغی کنٹرول سے ورے ہوتی ہے۔ سو  اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ زندگی کے دل پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ اس حقیقت کا کہ تابکار شعاعیں دلوں پر چڑھتی ہیں اور کیا بڑا ثبوت ہو گا۔

 (ج)۔   تابکار شعاعوں کی کشش ہر اُ س چیز کے لئے جو کسی نہ کسی طرح دل سے متعلق ہے۔ دماغ ،اعصاب اور عضلات کے مقابلے میں دل کے لئے تاب کار شعاعوں کی کشش ایک امر ِمسلّمہ ہے۔ہڈی کا گودا جو خون کے ذرات بناتا ہے اور اس کے علاوہ تمام وہ اعضاء جو خون پیدا کرتے ہیں تابکار شعاعوں کا من بھاتا شکار ہیں اور دماغ ،اعصاب اور عضلات کے مقابلے میں تابکاری اثرات قبول کرنے میں زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سے زیادہ خلیوں والے عضوی نظام ایک خلیے والے عضوی نظاموں کے مقابلے میں تابکاری کا اثر زیادہ قبول کرتے ہیں اور معلوم ہے کہ موخرالذکرکا دورانِ خون اور تنفس کا نظام اوّل الذکر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور مکمل ہوتا ہے اور دورانِ خون ا ور تنفس اور تنفس کے نظام کا جو تعلق دل سے ہے وہ بھی معلوم ہے اور اس کے علاوہ آکسیجن کی غیر موجود گی میں تابکاری کا اثر کم ہو جاتا ہے اور آکسیجن کا جو تعلق دل سے ہے وہ بھی معلوم ہے۔

(د)۔  ایٹم بم کے دھماکے کا ابتدائی شعلہ اور اس کی تاب کارشعاعیں بھی دلوں پر چڑھتی ہیں۔ایٹم بم کے دھماکے کا ابتدائی شعلہ جوسورج سے کئی گنا زیادہ روشن ہوتا ہے اور جس کا ٹمپریچر لاکھوں درجے کا ہوتا ہے اپنے قلیل قیام یعنی محض چند ثانیے کی وجہ سے لوگوں کی جلد کو جھپکے سے جلا کر سیاہ یا بھوری کردیتا ہے اور جلد سے نیچے اُ س کی آگ نہیں اُ ترتی تاہم وہ انسان کے دل کو صدمے کے ذریعے ختم کرکے انسان کو ہلاک کردیتا ہے۔ ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی تابکار شعاعیں جو فژن شدہ مواد سے ابھرتی ہیں۔ وہ بھی جیسا کہ تابکار شعاعوں کا قاعدہ ہے۔ بے جان چیزوں کے اندر گھس کر ایٹمی نیوکلائی پر حملہ آور ہو کر نیوکلائی کو خردبرد کرکے ایٹموں کی قلبِ ماہیت کا سبب بنتی ہیں اور جاندار جسم میں ایٹمی نیوکلائی میں سے اجزا بکھیر دیتی ہیں اور خلیوں کے نیوکلائی پر حملہ آور ہو کر کروموسومز Chromosomes کو تہس نہس کر دیتی ہیں۔

(ڑ)۔  ایٹمی توانائی کی آرزو اور اُ س کے خطرات کا خو ف انسانوں کے دلوں پر مسلّط ہے۔

(ط)۔  اٹامک ہرٹ  : نقصان زدہ اور کمزور دلوں کو تقویت دینے کے لئے بجلی کے آلات تو سننے میں آئے تھے۔ حال ہی میں پیرس کے ڈاکٹر لارنس نے ایک آلہ ایجاد کیا ہے۔جس میں پلوٹونیم استعمال ہوتا ہے۔ یہ آلہ انگوٹھے کے ناخن کے برابر ہوتا ہے۔ اس میں ایٹمی توانائی سے پیدا ہونے والی حرارت کو تھرمو الیکٹرک کنورٹر کے ذریعے بجلی کی لہروں میں تبدیل کرکے اس سے دل کو تقویت پہنچانے کا کام لیا جاتا ہے۔ یہ آلہ دس برس تک باقاعدگی کے ساتھ کام کرتا رہتا ہے اور موجد نے اس کا نام بھی اٹامک ہرٹ Atomic Heart یعنی‘ایٹمی دل رکھا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ سسٹم ایک خود مختار دل بنانے کے کام بھی آجائے گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اگر دل خود اچھی طرح کام کرنے لگے تو یہ آلہ کام کرنا بند کر دیتا ہے  اور پھر جب دل میں خرابی پیدا ہو تو یہ آلہ خود بخود چلنے لگتا ہے یہ بات دیکھ کر مفسرینِ کرام کا یہ قول یاد آتا ہے کہ حطمہ کی آگ بڑی سیانی ہے یہ جھانک لیتی ہے دلوں میں۔

(ظ)۔  ایٹمی آگ ایک نیوکلر کرشرNuclear Crusher یعنی دلوں کا کرشر ہے۔ قرآنِ حکیم نے فرمایا‘ حطمہCrusher ایک روندنے والی آگ ہے جو چڑھتی ہے دلوں پر یعنی دلوں پر چڑھ کر ان کو روند ڈالتی ہے۔

(ع)۔ ایٹمی آگ حطمہ کی مانند ایک تھرمونیو کلر کرشر ہے۔Thermonuclear Crusher اس اصطلاح یعنی تھرمونیوکلر میں ایک معجزہ قرآنِ حکیم کا پوشیدہ ہے اور ایٹمی سائنس دان کا ایک معرکہ عیاں ہے۔ قرآنِ حکیم کا معجزہ یہ کہ یہ سائنسی اصطلاح یعنی تھرمونیوکلر Thermonuclear حطمہ کی قرآنی تشریح کا نعم البدل ہے اور ایٹمی سائنس دان کا معرکہ یہ کہ ایسی صحیح اصطلاح وضع کی۔ قرآنِ حکیم نے فرمایا۔‘ حطمہ ایک آگ ہے جو چڑھتی ہے دلوں پر۔ ایٹمی سائنس دان نے کہا  ”یہ تھرمونیوکلر آگ ہے“۔ تھرمو کے معنی ہیں گرمی اور نیوکلر کے معنی ہیں نیوکلّیس یعنی دل سے تعلق رکھنے والی آگ۔ سائنس دان یہ اصطلاح بالعموم ہائیڈروجن بم کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ہائیڈروجن بم کو تھرمو نیو کلر بم کہتے ہیں کیونکہ ہائیڈروجن بم کے معاملے میں اندر والا ایٹمی فژن بم گرمی کی شدت پیدا کرتا ہے اور وہ گرمی ہائیڈروجن کے ایٹموں کے نیوکلائی دلوں پر حملہ آور ہو کر ان کو فیوز کرتی ہے۔قرآنِ حکیم کی تشریح اور ایٹمی سائنس دان کی اصطلاح ایک دوسرے کا ترجمہ ہیں۔ ورڈزورتھ عصر ِجدید کا ایک معروف انگریز شاعر نے اٹامزم کی تھیوری کے حوالے سے کہا۔

To let a creed built in the heart of things,

Dissolve    before    a   twinkling    atomy

”اس کے معنی ہیں‘ایک حقیر چھوٹے سے ایٹم کی چمک کے سامنے دلوں پر مبنی کلچر اور دین کو نابود ہونے دینا“۔ اس عظیم شاعر کے وقت سائنس کی تباہ کاریوں کا عکس موجود تھا نہ ایٹم بم کی حقیقت تاہم بیکن کے جدید اٹامزم کا چرچا بہت تھا۔ اسی اٹامزم کے حوالے سے شاعر نے یہ بات کی ہے مگر دلوں کی گہرائیوں میں بننے والے کلچر کو ایٹم کی چکا چوند میں معدوم کر دینے والی بات کہنے والے کی عدیم  ا لنظیر ذہنی گہرائی پر دلالت کرتی ہے۔ ورڈذورتھ کے زمانے میں ایٹمی توانائی کا انکشاف نہ ہوا تھا مگر اٹامزم کا فلسفہ موجود تھا۔ 

V۔ گھیراؤ کرنے والی آگ:  قرآنِ حکیم نے فرمایا۔”حطمہ آگ ہے بند کی ہوئی ان پر" ذیل میں ہم ایٹمی آگ کی گھیراؤکرنے والی خاصیت کا جائزہ لیں گے۔

(ا)۔ایٹم بم کادھماکہ ایک الٹی دیگ کی صورت اختیار کرتا ہے جس کا قطر کئی میل ہوتا ہے۔ تابکار مادہ اس کے باہر گرداگرد ایک دوسرا دائرہ بناتا ہے اور پھر ہائیڈروجن بم کی صورت میں تو تابکار مادہ ساری زمین کے گرد ایک خول کی صورت اختیار کرتا ہے کیونکہ ہائیڈروجن بم کا بیس میل اونچا ستون جس میں تاب کار مادہ ہوتا ہے اُ س بلندی پر چلنے والی ہواؤں کے دوش پر سوار ہو کر دس برس تک ساری زمین کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے۔

)۲)۔ تابکار مادہ جب جسم میں داخل ہوتا ہے تو وہ سیدھا ہڈیوں تک پہنچتا ہے اور پھر کسی بھی طریقے سے اسے باہر نکالنا ممکن نہیں۔ جب ایسا آدمی مر جاتا ہے تو اس کی قبر میں بھی اس کی ہڈیوں میں تابکار مادہ موجود ہوتا ہے۔

(۳)۔ تابکاری خلیے کی ریسٹنگ فیزResting Phaseسے اس کی انافیز Anaphase تک خلیے پر پہرہ دیتی ہے۔ وہ ریسٹنگ فیز میں خلیے پر حملہ آور ہوتی ہے اور اُ س کے اثرات انافیز میں نمودار ہوتے ہیں۔

 (۴)۔  تابکاری اپنے شکار پر پہرہ دیتی ہے۔ اُ س کے حملے کے بعد چھ اور تیس برس کے عرصے کے درمیان کینسر نمودار ہوئے ہیں۔

(۵) ۔  اگر صرف ایک عضو پر تابکاری کی جائے تو تابکاری سارے بدن پر چھا جاتی ہے۔

(۶)۔  تابکاری اُ ن جانوروں کا محاصرہ کرتی ہے جو سخت ٹھنڈک میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اگر مینڈکوں کو اُ س مقدار کی تابکاری کی جائے جو قاتل ہے تو وہ تین اور چھ ہفتوں کے درمیانی عرصے میں مر جاتے ہیں۔ اگر اُ ن کو معمولی ٹمپریچر میں رکھا جائے لیکن اگر تابکاری کے بعد اتنے کم ٹمپریچر میں جو نقطہ ء انجماد سے کچھ اوپر ہو بے ہوشی کی حالت میں سٹور کر دیا جائے تو وہ کئی مہینوں تک زندہ رہیں گے۔ اَلبَتَّہ جوں ہی اُ ن کو گرمی پہنچائی جائے تو وہ تاب کاری کی علامات ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر اتنے ہی عرصے میں مر جاتے ہیں۔ جتنے میں کہ وہ تابکاری کے اثر سے مرتے ہیں۔ جنہیں سردی نہیں پہنچائی گئی گویا کہ تابکاری نے اتنا عرصہ ا ُ ن کا محاصرہ کئے رکھا۔

(۷) ۔ کافی عرصہ پہلے الیگزنڈر ہیڈو Allexander  Haddow نے خیال ظاہر کیا کہ ہو سکتا ہے کہ کینسر پیدا کرنے والی چیزوں کا کینسر پیدا کرنے والا عمل عمومی نمو میں اُ ن کی طویل المیعاد مداخلت ہو یہ بھی تاب کاری کے گھیرؤا والی خاصیت کی ایک مثال ہے اَلبَتَّہ جب تک کوئی مسّلم ثبوت پیش نہیں کیا جاتا یہ بات محض خیال ہی کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔

(۸)۔  تابکاری انسانیت کو اس کی نسلوں تک گھیرتی ہے اوریہ تابکاری کا سنگین ترین المیہ ہے تاب کاری کے جنسی اثرات لا علاج ہیں اور اُ ن پر کوئی تدبیر کارگر نہیں۔ نطفے کے وہ جرثومے جو تابکاری کے اثر سے عیب دار ہو چکے ہیں۔ وہ نسل در نسل خفیہ طور پر منتقل ہوتے رہتے ہے حتٰی کہ کسی ایک نسل میں وہ اپنی موجودگی کا مظاہرہ ایک عجیب الخلقت اور عیب دار بچے کی صورت میں کر دیتے ہیں۔ یہ عجیب الخلقیت موروثی ہوتی ہےیعنی جیسا کہ باپ ہوتا ہے اس کی اولاد بھی ویسی ہوتی ہے اور جو عیب باپ میں ہو آئندہ نسلوں میں بھی وہی ہوتا ہے بعد میں باہم شادیوں کی وجہ سے ان عیوب کی قسمیں بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہیں اور بالآخر انسانیت تو انسانیت جانور بلکہ پودے بھی کئی ایک عجیب الخلقت گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔انگریزی اصطلاح میں اُ ن کو چمیرا Chimera کہا گیا ہے یعنی سر کسی جانور کی طرح پاؤں کسی جانور کی طرح دم کسی جانور کی طرح وغیرہ وغیرہ ایسی مخلوق زندہ رہنے کی صلاحیت سے عاری ہوتی ہے اور گوناگوں امراض و آلام و مصائب میں مبتلا رہ کر بالآخر دار فانی کوسدھارتی ہے۔یہی حال جانوروں کا ہو گا یہی حال پودوں کا ہو گا آم کے پیڑ پرسرکنڈے اگیں گے تنا کھجور کا پتے انار کے اور پھل زقوم کا وغیرہ وغیرہ اور یہ بات تجربوں کے ذریعے پایہ اثبات کو پہنچ چکی ہے کہ ایٹمی تابکاری جانوروں اور پودوں کو متاثر کرتی ہے مگر  تقدیر کا ہاتھ اور گناہ کا اثر سوجھ بوجھ سے عاری کر دیتے ہیں۔ بہر حال اس طرح سے ایٹمی تابکاری انسانیت کا گھیراؤ اس کی آئندہ نسلوں بلکہ اس کی نسل کا کلّی انقطاع ہونے تک رکھتی ہے۔

(۹) ۔آج کی انسانیت ایٹمی توانائی کے گھیراؤ میں ہے اور وہ ہرگز اس گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے پر قادر نہیں ہو رہی لیکن ایٹمی توانائی کا مکمل گھیراؤ اُ س وقت دیکھنے میں آئے گا جب ایٹمی توانائی اس دنیا میں اپنے پورے جوبن پر ہو گی اور انسان کی مصیبت بھی اُ س وقت جوبن پر ہو گی جب ہر پاور ہاؤس،ہر فیکڑی ہر بحری جہاز ہر سب میرین ہر ریلوے انجن ہر ہوائی جہاز ہر بس حتٰی کہ پرائیویٹ کار بھی اپنے ری ایکٹر سے مزین ہو گی۔ ری ایکٹروں کے لیکیج اور دھماکے  اس دنیا کا ایک زبردست معمول ہوں گے دنیا کا کوئی ذی روح ایٹمی تابکاری شعاعوں کی زد سے باہر نہ ہو گا دردناک کینسر کی وبا دردناک حالت تک پھیل چکی ہو گی اور حقیقت تو یہ ہے کہ قلم کو یارا نہیں کہ اُ ن آلام و مصائب کو جن میں اُ س دور کے لوگ مبتلا ہوں گے لکھ سکے تاہم عارضی خوش فہمی کا ایک پہلو جو موجود ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایٹمی جنگ سے بچ نکلّی تو یہ موجودہ نسل ایٹمی توانائی برائے امن کے تابکاری اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہوئے دارفانی کو سدھارے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ کتنے عیب دار جنسی جرثومے اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرکے اور کون کون سے ایٹمی خطرات اُ ن کے حوالے کرکے سدھارے گی۔

(VI)۔ لمبے لمبے ستون ایٹمی آگ کی خاصیت ہیں :

 قرآنِ حکیم نے فرمایا‘  حطمہ بند کی ہوئی ہے آگ اُ ن پر لمبے لمبے ستونوں میں“ ۔

(۱) ۔ایٹم بم کا ستون تو ہر شخص پہچانتا ہے آسمان کی رفعتوں میں گم ہونے والا ستون تو واضح نظر آتا ہے بلکہ یہ ستون ایٹم بم کی علامت بن چکا ہے اور ایٹم بم کے دھماکے اور عام بم کے دھماکے میں یہی ستون ہی وجہء امتیاز ہے۔

(۲)۔تاب کار ایٹمی ذرات بھی لمبے لمبے ستون اٹھاتے ہیں۔ یہ فقط ایٹم بم ہی نہیں جوستون بناتے ہیں بلکہ تابکار ایٹمی ذرات بھی ستون اٹھاتے ہیں بلکہ تابکاری کی دنیا ستونوں کی دنیا ہے۔ یورانیم235 کی ایک واحد فژن 200MeV جتنی خطیر توانائی خارج کرتی ہے اور اگر تانبے کے ایک ایٹم نے ایک انچ کی بلندی حاصل کرنی ہو تو اسے اپنے قطر کے مقابلے میں دس کروڑ گنا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایک الفا پارٹیکل جو کہ تانبے کے مقابلے میں کہیں چھوٹا ہے اور جس کا نصف قطر10-13 سینٹی میٹر کے قریب ہے تین سے لے کر سات سینٹی میٹر تک کی بلندی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر ہم چار سینٹی میٹر کواوسط ما ن لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ الفا پارٹیکل نے اپنے قطر کے مقابلے میں کھربوں کے حساب سے فاصلہ طے کیا ہے اگر ایک فٹ بال بھی اپنے قطر کے مقابلے میں اسی نسبت سے ہوا میں اٹھے تو وہ خلا کے کئی درجے عبور کر جائے گا۔ شعاعیں اپنے بے حساب چھوٹے پن کے باوجود ہوا میں دو سو گز کافاصلہ طے کر جاتی ہیں اور یہ نسبت تو عقل و قیاس کو بھی ماؤف کر دیتی ہے۔ بی ٹا شعاعیں ہوا میں کئی گز کا فاصلہ طے کرجاتی ہیں۔ یورانیم 235 کے فژن چین ری ایکشن کے دوران نیوٹران ایک نیوکلّیس سے دوسرےنیوکلّیس تک پہنچنے کے لئے اپنے حجم سے دس ہزار گنا سے بھی زیادہ فاصلہ طے کرتا ہے تاہم نیوکلّیس ا ُ سے روک لیتا ہے ورنہ اگر رکاوٹ نہ ہو تو نیوٹران بڑے بڑے فاصلے طے کر جاتا ہے۔یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ستونوں کا اٹھانا خود بنیادی طور پر ایٹمی توانائی کی سرشت میں داخل ہے اور فقط ایٹم بم کے دھماکے تک محدود نہیں۔ اسکے علاوہ ہم خلائی شعاعوں Cosmic Rays کی بارشیں جو زمین پر ہوتی ہیں ان کو بھی دیکھتے ہیں۔ یہ شعاعیں کہیں دور خلاء سے آتی ہیں تو پھر کیا ہی لمبے ستون ہیں یہ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ایٹمی تابکار ذرات کی رفتار اس قدر تیز ہے۔ گا ما شعاعیں تو بالکل روشنی کی رفتار سے چلتی ہیں کہ اپنی رفتار میں یہ ذرات بجلی کی چمک کی طرح بلندی حاصل کرتے نظر آئیں اور اس لئے ہماری آنکھوں میں ستونوں کی طرح نمودار ہوں اور یورانیم 235 کے فژن چین ری ایکشن میں اربوں نیوٹرانوں کا ستونوں کی صورت میں اوپر اٹھنا تو دیدنی ہے۔ اگرچہ یہ ساری معلومات سائنس دانوں سے لی گئی ہیں تاہم ایٹمی ذرات کے معاملے میں ستون کا تصّور میرا اپنا ہے۔کسی دوسرے سائنس دان نے اس کا اظہار نہیں کیا۔

VII۔حضور نبی کریم ﷺ نے حطمہ کی منظر کشی کی:

ایٹمی بم کے دھماکے کی منظر کشی اس سے بہتر ممکن نہیں۔ نیز یہ منظر کشی ایٹمی دور کے عذاب کی بھی ہے اسے غور سے پڑھا جائے۔ آپﷺنے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرشتے بھیجے گا اُ ن کے پاس آگ کے ڈھکنے اور آگ کی میخیں اور آگ کے ستون ہوں گے وہ دوزخیوں کو  اُ ن آگ کے ڈھکنوں سے ڈھانپ دیں گے اور آگ کی میخوں سے اُ ن کو جڑ دیں گے اور آگ کے ستونوں کو اوپر کھینچتے ہوئے بلندیوں پر لے جائیں گے۔ تمام ماحول اس قدر مضبوطی سے بند ہو گا کہ نہ تو فرحت کا کوئی شائبہ باہر سے اندر آ سکے گا نہ ہی عذاب کی کوئی رمق اندر سے باہر جا سکے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر اُن کو فراموش کر دیں گے اور نگاہِ التفات اُ ن سے منقطع کر دیں گے۔ جنت کے مکین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا شروع کر دیں گے۔ جہنم کے مکین مدد کے لئے پکارنا بند کر دیں گے اور بات چیت ختم ہو جائے گی اور پھر بات چیت محض سانس اندر لینے اور سانس باہر نکالنے کی آواز ہو گی“۔

 (بحوالہ تفسیر الجلالین)

(VIII) ۔ایٹمی مظاہر کی ھولناکی اور پیچیدگی:

    قرآنِ حکیم نے فرمایا”تو کیا سمجھا ہے کہ حطمہ کیا ہے“۔ آئمہ مفسرین کے مطابق قرآنِ حکیم کی بات کا سوالیہ انداز حطمہ کی ہولناکی پر دلالت کرتا ہے اور بے شک ایٹمی آگ کے مظاہر کی خوفناکی ناقابلِ بیان ہے۔ ایٹمی آگ کا تسلّط اس دنیا پر ایک ہولناک اور عالم گیر تباہی اور خوفنا ک عوارض و امر اض و مصائب و آلام کا مظہر ہے جن کے سامنے زمین کانپتی نظر آتی ہے۔ اس ہولناکی کے ساتھ ایٹمی آگ کے مضمون کی پیچیدگیاں اور مشکلات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ الحق کہ نیوکلر سائنس دنیا کی مشکل ترین سائنس ہے جس کی پیچیدگیوں نے خود سائنس دانوں کو بوکھلا کے رکھ دیا ہے۔ قرآنِ حکیم کے مفسرینِ کرام نے وما ادراک ما لحطمہ اور تو کیا سمجھا کیا ہے۔حطمہ کے سوالیہ انداز سے یہ مطلب لیا ہے کہ یہ چیز بہت ہی بھیانک ہے۔ ہم بدنصیبوں کے لئے جنہوں نے ایٹمی آگ کے مظاہر اپنے سامنے دیکھے ہیں۔ حطمہ کے بھیانک انداز کے علاوہ اس کی پیچیدگیاں بھی حیرت ناک ہیں۔ ایٹمی سائنس کی پیچیدگیاں ایٹمی سائنس دانوں سے پوچھئے۔

(IX)   ۔ایٹمی آگ کی پیدائش کی وجوہات: 

   قرآنِ حکیم نے فرمایا”‘ خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی جس نے مال سمیٹا اور گن گن کر رکھا۔ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا رہے گا اس کے ساتھ ہرگز نہیں وہ پھینکا جائے گا اُ س روندنے والی حطمہ کرشرCrusher میں اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک وہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر لمبے لمبے ستونوں میں“۔  بعینہٖ یہی وجوہات ہیں ایٹمی آگ کے پیدا ہونے کی اور یہی وجوہات ہیں اس کی ضرورت کو برقرار رکھنے کی اٹامزمسٹی میٹیریل ازم کا یہ دور بنیادی طور پر عیب جوئی اور نکتہ چینی کا دور ہے۔ ہر شخص ہر دوسرے شخص کی عیب جوئی میں مصروف نظر آتا ہے۔ کوئی چیز بھی نکتہ چینی سے نہیں بچتی بلکہ اٹامزمسٹی میٹیئریل ازم بذاتِ خود بنیادی طور پر ایک بہت بڑی نکتہ چینی پر مبنی ہے اور مبنی ہے دولت جمع کرنے اور اسے بتدریج اور ہمیشہ ہمیشہ اسے بڑھانے کے استغراق پر اور یہ سائنس سے ہدایت پانے والی مشین پر چلنے والی منظم اور جاودانی مادی ترقی اور کیا ہے۔ یہی  دنیوی زندگی انسان کی ساری دلچسپی کا مرکز ہے اور یہ دنیوی تعمیر میں غیر مشروط اور کلّی استغراق جس میں دنیا کا ہر شخص اپنے مال و دولت کو ترقی دینے اور ہمیشہ رہنے والی عمارتیں تعمیر کرنے میں آج منہمک نظر آتا ہے کیا اس امر کا ثبوت نہیں کہ ہر شخص یہی سمجھنے لگا ہے گویا اسے ہمیشہ اس دنیا میں رہنا ہے اور ہمیشہ اور بتدریج اپنے مال و دولت کو ترقی دینا ہے ۔موت یا آخرت کا خیال ہر شخص کے ذہن سے محو ہو چکا ہے اور یہ قیامت تک کے لئے پانچ سالہ منصوبوں کا مسلسل اور غیر منقطع سلسلہ اس امر کی نشان دہی نہیں کرتا تو اور کس بات کی نشان دہی کرتا ہے مگر ہیہات کہ انقطاع ایٹمی جہنم کی جانب سے آئے گا۔

(X) ۔ایٹمی جہنم کا ظہور اس اٹامزمیسٹی میٹیرئل ازم اٹامزمسٹی مادہ پرستی کا ایک منطقی اور سائنسی نتیجہ ہے:

    قرآنِ حکیم نے فرمایا‘ لینبذن في الحطمہ! یعنی ضرور ڈالا جائے گا حطمہ میں! اور لینبذن کی ترکیب جاننے والے جانتے ہیں کہ بہت بڑے زور کا مظاہرہ کرتی ہے یعنی لازماً ڈالا جائے گا اور ذلت کے ساتھ پھینک کر ڈالا جائے گا۔ جس طرح بارود کے تین عنصر آپس میں ملتے ہیں تو بارود کی خاصیت اختیار کر لیتے ہیں اسی طرح یہ تین عادتیں جوقرآنِ حکیم نے حطمہ کی سزا کے وجوب کے لئے بتائی ہیں۔ جب آپس میں ملتی ہیں تو حطمہ کی آگ میں نمودار ہو جاتی ہیں اور کوئی طریقہ یا کوئی طاقت اس دنیا کو ایٹمی جہنم کی آگ سے خواہ یہ ایٹم بموں کی صورت میں نمودار ہو خواہ ایٹمی توانائی برائے امن کے ری ایکٹروں کی صورت میں نہیں بچا سکتی ماسوائے اس کے کہ قرآنِ حکیم کی بتائی ہوئی وجوہات کو دور کیا جائے۔ کیونکہ قرآنِ حکیم کی بتائی ہوئی حطمہ کی سزا کی وجوہات اور ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بعینہٖ ایک ہیں۔ دورِ حاضر کا یہ ترقی کا منظم ابدی مسلسل روز افزوں پلان جو سائنس کی ہدایات اور مشین کے پہیئے پر چل رہا ہے۔خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ ایٹمی جہنم کی پیدائش کی ایک بڑی وجہ دنیوی زندگی کی محبت ہے اور مشکل مسئلہ ہے مگر ایٹمی جہنم کے آئینے میں دیکھا جائے تو اتنا مشکل نہیں مگر وائے انسان کی مجبوریاں اور کمزوریاں اور ہائے یہ ظالم دور اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس بے چاری انسانیت کو ہدائت بخشے اور اس ایٹمی جہنم کے دردناک عذاب سے نجات دلائے۔ آمین۔

آ خری بات یہ ہے کہ ایٹمی توانائی ہی ہے جو مغربی تہذیب جدید اقتصادی صنعتی ڈھانچے اور اسی کے ساتھ جدید سائنس کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہو گی اور اسی طرح ہر اس ملک کے زوال اور بربادی کا باعث ہو گی جو اُ سے اپنائے گا یا ایٹمی توانائی یا زندگی کا نعرہ لگے گا اگر اس دنیا کو رہنا ہے تو ایٹمی توانائی کو غائب ہونا پڑے گا کسی بھی قیمت پر۔

سائنس کا فیصلہ ایٹمی توانائی کے خلاف:

انسانیت اپنامقدمہ سائنس کی کچہری میں لے گئی ہے اورایک وکیل کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ نیوکلر سائنس دان مدعا علیہ ہے۔ لارڈ جسٹس سائنس کی کچہری  ڈیموکرٹس اور ارسطو سے لے کر دورِ حاضر کی عظیم سائنسی شخصیتوں سے کچھا کھچ بھری ہوئی ہے۔ اگلی قطاروں میں ایٹمی سائنس دان از قبیل ڈیلٹن، آئن سٹائن، فرمی، روتھر فورڈ، شیڈوک، بیکرل، مادام کیوری، اوپن ہیمر (پہلے ایٹمی بم کا موجد) اور ایڈورڈ ٹیلر (پہلے ہائیڈروجن بم کا موجد) جیسی ہمہ گیر ایٹمی شخصیتیں  نظر پڑتی ہیں۔فرانسس بیکن، معروف انگریز فلسفی اور اس نئے دور کا ڈھنڈورچی ان کے درمیان نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے پیچھے پرا نے اور نئے دور کے ماہرینِ فلکیات، از قبیل گلیلیو، برونو، کاپرنیکس اور بعض ازمنہ قدیم کے ماہرینِ فلکیات بیٹھے ہیں۔ ان کے پیچھے ڈارون، ہکسلے اور دوسرے اسی قبیلے کے عظیم فلسفی بیٹھے ہیں۔ ان کے پیچھے وہ مسلمان کیمیادان ہیں جنہوں نے سونا بنانے کی کاوشوں میں علم ِکیمیا کے متعلق جو انکشافات کئے ان کو بنیاد بنا کر مغرب کی دنیا سائنس میں آگے بڑھی اور سب سے آخیر پرسقراط، ارسطو اور افلاطون بیٹھے ہیں۔ ایٹمی نظریئے کا موجد ڈیموکرٹس اپنے دو مخالفوں، یعنی ارسطو اور افلاطون کے درمیان بیٹھا ہے اور بڑا شخص نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دوسرے ممالک مثلا ًہندوستان، چین، مصر وغیرہ کی قدیم سائنسی شخصیتیں اپنے اپنے مقامات پر بیٹھی ہیں۔ انسانی تاریخ کے عظیم سائنس دانوں اور فلسفیوں کا یہ اجتماع ایک خاص قسم کامنظر پیدا کر رہا ہے۔ آج یہ سب اس مقدمے کو سننے کی غرض سے اکٹھے ہوئے ہیں جس پر انسانیت کی بقاء وفنا کا دارومدار ہے اور جس میں سائنس دان بلاواسطہ ملوث ہیں۔ لارڈ جسٹس سائنس، عدالت کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ایک  عجیب رعب دار شخصیت کا مالک ہے۔ جسے دیکھ کر ایک نامعلوم سے خوف اور احترام کی کیفیت دیکھنے والے کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔

مقدمے کی سماعت شروع ہوتی ہے۔ پراسکیوٹر جنرل الزام کی نوعیت پڑھ کر سناتا ہے اور پوری کچہری پر سناٹا چھا یا ہوا ہے۔ عبارت حسب ذیل ہے:۔

”مسٹر نیوکلر سائنس دان! تم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ تم تابکاری سے حفاظتی اقدام کئے بغیر ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش کر رہے ہو حالانکہ تابکاری ایٹمی توانائی کا جزوِلاینفک ہے۔ اس طرح ایٹمی توانائی برائے امن کی ترویج سے انسانیت ہی نہیں بلکہ جملہ  حیوانات اور نباتات کو ایک پر از عوارض و مصائب اور آلام و شدائد سے مملو زندگی کے بعد فنا فی النار ہو کر ایک دردناک انجام سے دو چار ہونے کاحقیقی خطرہ لاحق ہے۔ تم پر بحیثیت سائنس دان اپنی خطیرذمہ داری میں لاپرواہی برتنے اور انسانیت پر مسلّط ہونے والی عالم گیرآفات و بلیات اور انجام کار عالم گیر تباہی کا ذمہ دار ہونے کاالزام لگایا جاتا ہے کیونکہ ایٹمی توانائی برائے امن ان تمام آفات و بلیات اور تمام عوارض و مصائب اور تمام آلام و شدائد اور انجام کار تباہی کامنبع ہے جو تابکاری سے پیدا ہوتے ہیں اور تم ایٹمی توانائی برائے امن کے اجراء کی سفارش کرکے اور اس خطرناک کام میں اپنادلی اور کلّی تعاون پیش کرکے گویا کہ بالواسطہ سبب بننے کے جرم کا ارتکاب کر رہے ہو۔ دوسرے لفظوں میں وہ تمام مصیبتیں جو ایٹمی توانائی کی وجہ سے انسانیت پر آئیں گی اور وہ تباہی جو خدا کی مخلوق کامقدر ہو جائیں گی تم ایٹمی سائنس دان اس کے ذمہ دار ہو گے۔ الزام کی سنگینی کے پیشِ نظر جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں تمہاری سزا بھی اتنی ہی سنگین ہو سکتی ہے جتنا کہ انسانیت کانقصان اور زندگی کا اعدام۔ الزام کی سنگینی کو مدِّنظر رکھتے ہوئے تم سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم اقبالِ جرم کرتے ہو؟

نیوکلر سائنس دان:

نہیں میں اقبال ِجرم نہیں کرتا بلکہ میں اپنے آپ کو انسانیت کے ایک ایسے خادم کی حیثیت میں پیش کرتا ہوں جس نے انسانیت کی خدمت کے لئے بے بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی سہولت ایسی نہیں جس پر میری خدمت کی مہر نہیں لگی ہوئی اور توقع ہے کہ کبھی نہ کبھی سائنس دان تابکاری پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔

پراسیکوٹر جنرل:

اچھا اگر تم اقبال ِجرم نہیں کرتے تو تمہیں انسانیت کے وکیل کے سوالوں کا جواب دینا ہو گا۔

(انسانیت کا وکیل اٹھتا ہے)

لارڈ جسٹس سائنس:

مدعی کاوکیل جرح شروع کرتا ہے۔

وکیل:۔

مسٹر نیوکلر سائنس دان! کیا ان حالات میں جب کہ نہ تو وسیع انسانیت کے لئے زہریلی تابکاری سے تحفظ کا کوئی ذریعہ موجود ہے اور تابکاری ایٹمی تابکاری کا جزوِلاینفک ہے اور نہ ہی تابکاری سے پیدا ہونے والی بیماری ہی کا کوئی شافی علاج ہی دریافت ہو سکا ہے اور نہ ہی کوئی ایساعلاج اور نہ ہی تابکاری سے حفاظت کاکوئی ذریعہ اس وقت نظر میں ہے تم ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش کرتے ہو؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ہاں! بالکل میں نہ صرف سفارش ہی کرتا ہوں بلکہ دلی پر خلوص اور حقیقی تعاون بھی اس کام میں ایک اچھاکام سمجھ کر پیش کرتا ہوں۔

وکیل:

کیوں اور کس لئے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

کیونکہ توانائی کی ضرورت بڑی شدید ہے۔ دنیا توانائی مانگتی ہے۔ توانائی کے ذخائر دنیا میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ایٹمی توانائی ہی ایک متبادل ذریعہ ہے۔ دنیا مانگتی ہے۔ میں مہیّا کرتا ہوں۔

وکیل:۔

بے شک توانائی کی اشد ضرورت ہے اور بے شک دنیا توانائی مانگتی ہے لیکن تم جانتے ہو کہ ایٹمی توانائی بعض استثنائی نقائص کی حامل ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ہاں! بعض قابلِ غور نکات ہیں مگر ہمیں توقع ہے کہ ہم بالآخر ان مشکلات پر قابو پالیں گے۔ کسی اچھے انکشاف کے نمودار ہوجانے کا امکان ہر گھڑی ہے۔ ایسا انکشاف جو ہمارے مسائل کے حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو گا۔

وکیل:۔

کیا تمہیں اس بات سے اتفاق ہے کہ تابکاری کسی بھی مقدار میں نقصان دہ ہے؟

نیوکلر سائنس دان:

بالکل

وکیل:۔

اور یہ کہ تابکاری ایٹمی توانائی کاجزوِلاینفک ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ہاں یہ ٹھیک ہے۔

وکیل:۔

اور یہ کہ تابکاری انسانیت کو تابکاری بیماری اور کینسر جیسی بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے اور یہ اس مخلوق کو مصیبت زدہ اور مفلوک الحال چمیروں میں تبدیل کر کے فنا کے گھاٹ اتار سکتی ہے؟ چمیرا انگریزی میں ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کا سر ایک جانور جیسابدن کسی دوسرے جانور جیسا اور دم کسی تیسرے جانور جیسی ہو اور تابکاری واقعی جنسی خلیوں کو متاثر کرکے ایسی ہی مخلوق کے پیدا ہونے کے اسباب مہیّا کرتی ہے سب جانوروں اور پودوں کا بھی یہی حشر ہوتا ہے۔

نیوکلر سائنس دان:

جہاں تک اصول کا سوال ہے تو ایسا ہونا ممکن ہے لیکن ان حالات میں جیسے کہ اس وقت ہیں جب کہ صرف چند ایک ری ایکٹر سار ی دنیا میں کام کر رہے ہیں۔ ایسی باتوں کا موضوع ِسخن بنانا قبل از مرگ واویلا کے زمرے میں آتا ہے۔ تابکاری کے شدید جنسی اثرات کئی نسلوں کے بعد ہی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

وکیل:۔

تم اصول کی حقانیت کو مانتے ہو کہ ایسی چیزوقوع پذیر ہو سکتی ہے اور پھر تم اسے قبل از مرگ واویلا کے زمرے میں شامل کرتے ہو۔ صرف اس لئے کہ ابھی اس کی ابتدا ہے گو کہ اصولاً ہرعامل موجود ہے۔

نیوکلرسائنس دان:۔

ہاں! یہ تو ٹھیک ہے مگر کسے خبر کہ کوئی انکشاف ہمارے مسائل کا حل مہیّا کر دے۔

وکیل:۔

تو کیا تم اس رویئے کو کہ موجود حقائق کے مقابلے میں آئندہ خیالی انکشاف پر جن کی کوئی علامت بھی موجود نہیں۔ تکیہ کیا جائے (سائنسی روّیہ) کہہ سکتے ہو؟

نیوکلر سائنس دان:

اَلبَتَّہ ہم اسے اپنانے پر مجبور ہیں۔

وکیل:۔

تابکاری تم کہتے ہو کہ کسی بھی مقدار میں مضر ہے اور ایٹمی توانائی کا جزوِلاینفک ہے تو تم نے اس سے حفاظت کی کچھ تدابیر تلاش کی ہیں یا اختیار کی ہیں؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ہاں ہاں ہمیں معلوم ہو ا ہے کہ تابکاری سے حفاظت کاواحد ذریعہ یہی ہے کہ تابکاری کے منبعے کو کاملاً مادی طور پرڈھانپ دیا جائے مثلاً سیسہ سے۔

وکیل:۔

تو کیا لاکھوں کروڑوں انسانوں کو سیسے سے ڈھانپناممکن ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ایسا تو نا ممکن ہے اَلبَتَّہ ہم ہر ری ایکٹر کو سیسے یا کینکریٹ سے بالکل ڈھانپ دیتے ہیں اور اسی طرح تابکاری سے حفاظت کابندوبست کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خاص قسم کا لباس بھی تیار کیا گیا ہے جو تابکاری پروف ہے۔ ایسا لباس ہر اُ س فرد کو پہننا پڑتا ہے جو کسی ری ایکٹر کے عملے کا رکن ہے یا کسی ایسے مرکز میں جہاں تابکار مادہ موجود ہو کام کرتا ہے تاہم ہر آدمی کے لئے چوبیس گھنٹے ایسا لباس پہننا بھی ممکن نہیں۔

وکیل:۔

مگر کیا ان ری ایکٹر سے تابکاری کے لیک ہونے کا کوئی امکان نہیں؟

نیوکلر سائنس دان:۔

نہیں۔ ری ایکٹر سے تابکاری لیک ہو سکتی ہے یہی نہیں بلکہ ری ایکٹر کسی وقت دھماکے سے پھٹ کر گردونواح کے اضلاع میں تابکاری کی طغیانی کاسماں پیدا کر سکتا ہے اور بدقسمتی سے ہر ری ایکٹر اپنی تقریباً چالیس سالہ زندگی کو دھماکے ہی کے ذریعے ختم کرتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ میں ایک ری ایکٹر بے قابو ہوگیا تو امریکی حکومت کو اُ س ری ایکٹر کے گردونواح سے تقریباً دس لاکھ لوگوں کو نکال کر کسی محفوظ مقام پر لے جانے کا اہتمام کرنا پڑا۔

وکیل:۔

تب تو یہ بڑا ہی سنگین معاملہ ہے۔ اگر ری ایکٹر کثرت سے پھٹنے لگیں جیسا کہ مستقبل میں جب دنیا میں بڑی تعداد میں پرانے ری ایکٹر ہوں گے تو اتنے آدمیوں کو نکالنے کا مسئلہ تو ایک مشکل مسئلہ ہے لیکن اُ ن لوگوں کو جو پھٹنے والے ری ایکٹر کے گردونواح کے اضلاع میں سکونت پذیر ہوتے ہیں۔ اگر اُ ن کو ایک یا دو دن کے اندر وہاں سے نکال کر دور کسی محفوظ مقام پر نہ پہنچایا جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

موت، تابکاری کی بیماری، کینسر، مضروب جنسی خلیے، جو نسل در نسل چل کر بالآخر عجیب الخلقیت پیدائش کا سبب ہوتے ہیں اور اس زمین سے زندگی کے کلّی اور طویل المیعاد انقطاع کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

وکیل:۔

مو ت، تابکاری کی بیماری، کینسر یہ باتیں تو سمجھ میں آ جاتی ہیں مگر یہ جنسی خلیوں کی مضروبیت کا معاملہ کیا ہے اس کی وضاحت فرمائیں؟

نیوکلر سائنس دان:۔

تابکاری جب قلیل مقدار میں مادہ منویہ کے خلیوں پر حملہ آور ہوتی ہے تو اس جرموثے کو جسے جینیہGene کہتے ہیں مضروب کرکے عیب دار کر دیتی ہے اور وہ جینۂGene پھر نسل در نسل خفیہ طور پر منتقل ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ کسی ایک نسل میں ایک عجیب الخلقیت بچے کی صورت میں نمودار ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت موروثی ہوتی ہے حتٰی کہ عجیب الخلقت اور عیب دار جوڑوں کی شادی سے بگڑی صورتوں کی اقسام اور عیب دار لوگوں کی تعداد میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ مکمل آبادیاں یا ان کے معتدبہ حصے اس ابتلاء میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کیونکہ یہ لوگ دماغی لحاظ سے کمزور اور گوناں گوں کمزوریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لہٰذا کچھ عرصہ کرب و ابتلاءکی زندگی میں گرفتار رہ کر بالآخر عقبی کو سدھار جاتے ہیں۔ یہ وبا اس حد تک پھیل سکتی ہے کہ پوری انسانیت اور اس کے ساتھ حیوانات کیونکہ ان کے جینئےGenes بھی انسان ہی کی طرح تابکاری سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ نباتات کیونکہ پودے بھی تابکاری سے متاثر ہوتے ہیں اس دنیا سے نابود ہو سکتی ہے۔ لاریب وہ نقشہ کسی بھی ذی ہوش کو لرزہ اندام کرنے کے لئے کافی ہے جو ایسے حالات میں دنیا کا ہو سکتا ہے۔ ایک پر مصائب و آلام و عوارض و آفات و بلیا ت اور پھر ایک دردناک اور شرمناک انجام اور نہ تو ہمیں یہ علم ہو سکتا ہے کہ جینیہ مضروب ہو چکا ہے اور نہ ہی ہم جینیہ مضروب ہونے سے پہلے کچھ کر سکتے ہیں نہ بعد میں ہمیں صرف اسی وقت خبر لگتی ہے جب مضروب جینیہ نسل در نسل خفیہ طور پر منتقل ہوتا ہوا بالآخر اپنے آپ کو ایک عجیب الخلقت بچے کی صورت میں نمودار کر دیتا ہے۔

وکیل:۔

اللہ اکبر  اگر تابکاری واقعی اتنی خطرناک ہے جتنی کہ آپ بیان کر رہے ہیں تو پھر آپ نے ری ایکٹر وں کے گردونواح کے اضلاع میں بسنے والی آبادیوں کے لوگوں کے لئے تاب کاری کے خلاف کیا کچھ حفاظتی اقدامات کئے ہیں کیونکہ کوئی بھی ری ایکٹر کسی بھی وقت پھٹ کر گردونواح کے اضلاع میں تابکاری کی طغیانی کا منظر برپا کر سکتا ہے۔

نیوکلر سائنس دان:۔

بالکل کچھ بھی نہیں ایسے علاقوں اور اس  طرح روئے زمین پر بسنے والے ہر فرد کو نہ تو سیسے کے خول میں ڈھانپا جاسکتا ہے نہ کنکریٹ کے خول میں بلکہ لوگوں کے لئے وہ لباس جو تابکاری سے حفاظت کے لئے بنایا گیا ہے پہننا بھی ممکن نہیں کیونکہ وہ لباس بوری کی طرح انسان کو سر سے پاؤں تک لپیٹ  لیتا ہے۔ آنکھوں کے لئے چشمے لگے ہوئے ہیں پھر یہ لازم ہے کہ ایسا لباس ہر لمحے پیدائش سے لے کر موت تک جزوِ بدن رہے جس طرح کہ جِلد ہوتی ہے۔ کیونکہ تابکاری کے حملے کا کوئی وقت نہیں وہ حمام میں بھی جا لیتی ہے اور ایک دفعہ بالفرض اُ س نے جنسی خلیوں پر حملہ کر دیا تو پھر کسی قسم کی حفاظت یا علاج کارگر نہیں ہو سکتا اور پھر تابکاری کی کوئی ایسی علامت نہیں جس سے کہ پتہ چل سکے کہ تاب کاری آ رہی ہے انسان کی کوئی بھی حِس اُ س کو معلوم نہیں کر سکتی انسانوں کو اگر ایسا لباس پہننے پر مجبور کیا جائے تو یقیناً وہ بھوک کو ایٹمی توانائی پر ترجیح دیں گے۔

وکیل:۔

تم کہتے ہو کہ تابکاری کے جنسی اثرات ناقابلِ علاج ہیں اور یہ کہ تم کچھ کر نہیں سکتے۔ری ایکٹر کسی بھی لمحے پھٹ کر گردونواحی اضلاع کوتابکاری سے بھر دیں اور تم نے اُ ن لوگوں کی حفاظت کے لئے کچھ بھی نہیں کیا نہ ہی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ تم کہتے ہو کہ جینئے جو مضروب ہو کر عیب دار ہو جاتے ہیں اُ ن کو معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں اور وہ خفیہ طور پر نسل در نسل منتقل ہو کر بالآخر کسی ایک نسل میں عیب دار یا عجیب الخلقت بچے کی صورت میں نمودار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ کیفیت موروثی ہو کر آئندہ نسلوں میں چلتی ہے اور باہمی شادیوں کی وجہ سے جہاں عیوب کی اقسام میں اضافہ ہوتا ہے وہاں عیب دار آدمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے حتٰی کہ ایک عرصہ تک عجیب و غریب اور دل گداز مصائب و آلام اور امراض و عوارض میں مبتلا رہ کر نسلِ انسانی اور نسلِ حیوانی حتٰی کہ پودوں اور فصلوں تک کاانقطاع کلّی ہو جاتا ہے۔ ایک کینسر زدہ اور گوناگوں مصائب میں مبتلا انسانیت بلکہ جملہ مخلوق جوفقط تابکاری اثرات کے سبب اس زہرہ گداز نوبت کو پہنچی جس کے تصّور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور تم کہتے ہو کہ تم تابکاری سے حفاظت یا تابکاری امراض کے علاج کے معاملے میں قطعی طور پر عاجز ہو۔

نیوکلر سائنس دان:۔

آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔

وکیل:۔

یہ تو انسان کے رونگٹے کھڑے کرنے والی بات ہے۔

نیوکلر سائنس دان:۔

یہ انسان پر کپکپی طاری کرنے والی بات ہے۔

وکیل:۔

اور تم کہتے ہو کہ بات تمہارے بس کی نہیں نہ توتابکاری کے خلاف کوئی اجتماعی حفاظتی اقدام ہی ممکن ہے نہ ہی کوئی علاج ایسا ہے جو تابکاری سے پیدا ہونے والی امراض کے لئے کار گر ثابت ہو سکے۔ نہ مضروب جینئے کے معاملے میں کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ بے بسی، تو کیا اس کے باوجود بھی تم ایٹمی توانائی برائے من کی سفارش کرنے کے حق میں ہو۔

نیوکلر سائنس دان:۔

بالکل ممکن ہے کبھی کوئی دریافت ہو جائے۔

وکیل:۔

وہ سلوک جو تم جملہ انسانیت بلکہ جملہ مخلوق سے رو ا رکھ رہے ہو۔ کیا اگر وہی سلوک تمہارے کتے کے ساتھ کیا جائے تو تم اسے برداشت کر لو گے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

لیکن ہم نے ایک خاص تناسب مقرر کر لیا ہے کہ اس حد تک آبادی کے تناسب کا تابکاری سے پیداہونے والے جنسی اثرات میں مبتلا ہوناایٹمی توانائی کی خاطر گوارا کیا جا سکتا ہے۔

وکیل:۔

یعنی یہ کہ آبادی کی ایک خاص مقدار اگر تابکاری کے جنسی اثرات کے زیرِ اثرعجیب الخلقیت وغیرہ میں مبتلا رہے تو آپ اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

آپ نے ٹھیک سمجھا۔ایٹمی توانائی کے حصول کی خاطر ایسا کرنا ناگزیر ہے۔

وکیل:۔

لیکن آپ کہتے ہیں کہ تابکاری کے جنسی اثرات کو روکنے کے لئے آپ کچھ بھی نہیں کر پاتے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسے اثرات بتدریج بڑھتے ہیں تو پھر اگر اثرات آپ کی مقرر کردہ نسبت سے متجاوز ہونے لگیں اور آباد ی کے لئے خطرہ پیدا کر دیں تو پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟

نیوکلر سائنس دان:۔

اس صورت میں ہم لوگوں کو تابکاری کے معاملے میں ہوشیار رہنے کا مشورہ دے سکتے ہیں اور تابکاری کے منبوں میں کمی کرنے کی تدابیر اختیار کرکے مضروب جنیوں کی تعداد گھٹانے کا اہتمام کرسکتے ہیں۔

وکیل:۔

یہ بات تو کوئی خاص قابل ِعمل بات معلوم نہیں ہوتی لیکن کوئی بات بھی تو تابکاری کی حفاظت کے معاملے میں قابل عمل نہیں سوائے ایٹمی توانائی کی پیدائش کے۔

نیوکلر سائنس دان:۔

ہو سکتا ہے کہ کوئی انکشاف ہماری ریسرچ کے دوران ایسا سامنے آ جائے جو ہمارے اس مسئلے کا حل پیش کر سکے اَلبَتَّہ جاننا چاہیے کہ ایٹمی توانائی کایہ عظیم تجربہ لازما ًجاری رہے گا اور اسے اس کی انتہاء تک پہنچانے کا ہم مصمم ارادہ کئے ہوئے ہیں۔

وکیل:۔

یہ الفاظ کوئی خاص سائنٹفک نوعیت کے معلوم نہیں ہوتے۔ کیا ضمانت ہے کہ کسی بھی مرحلے پر کوئی نہ کوئی انکشاف ایسا ظہور پذیر ہو جائے گا جو تابکاری کے تباہ کن اثرات کا حل پیش کر سکے گا۔ ایٹمی توانائی کا یہ تجربہ جسے آپ اس کی انتہاء تک پہچانا چاہتے ہیں ایک خاص نوعیت کا حامل ہے تابکاری کے جنسی اثرات خفیہ طور پر چلتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ خفیہ اثرات کسی وقت مخلوق کو اندرونی طور پر اس طرح متاثر کردیں کہ بات علاج یاتدبیر سے گزر جائے تو کیا آپ کا ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش پر اصرار کو رانہ اجتماعی خودکشی بلکہ قتل عام کے زمرے میں نہیں آتا کیا تمہارے اس تجربے کا کوئی جواز ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

تجربہ بہرحال تجربہ ہوتا ہے اور جب تک تجربے کو جاری نہ رکھا جائے کسی قسم کے انکشاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ایٹمی توانائی برائے امن کاتجربہ بہر حال اپنی خصوصی نوعیت کاحامل ہے اس میں جملہ مخلوق کی شمولیت بطورِ عناصر لازم ہے اور اسی طرح ہی ٹھیک ٹھاک نتائج برآمد کئے جا سکتے ہیں۔

وکیل:۔

لیکن کیا تم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہو کہ ایسا کوئی انکشاف جو تابکاری کے مسئلے کا حل پیش کرسکے۔ سامنے آ جائے گا اور اگر آئے گا تو وقت کے اندر آئے گا۔

نیوکلر سائنس دان:۔

نہیں ایسی کوئی ضمانت نہیں ہے نہ ہی تابکاری کے خفیہ جنسی اثرات کا تعین کسی خاص وقت پر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر کوئی انکشاف ہو گیا تو لازماً وہ وقت کے اندر ہی ہو گا کیونکہ کسی خاص وقت پر تابکاری کے جنسی اثرات کی خفیہ کیفیت کا کوئی اندازہ کرنا ممکن نہیں اور جب تک کہ مضروب جینیہGene اپنا آپ ایک غیر معمولی Abnormal بچے کی صورت میں ظاہر نہیں کر دیتا ہمیں اُ س کی کوئی خبر نہیں ہو سکتی۔

وکیل:۔

تو پھر کیا یہ ممکن نہیں کہ تمھارا انکشاف اُ س مرحلے پر ہو جب کہ خفیہ طور پر تابکاری کے جنسی اثرات اُ س حد سے آگے بڑھ چکے ہوں گے جہاں کوئی تدبیر یا علاج کار گر ہو سکتا ہے اور پھر جملہ انسانیت تباہی کے گڑھے میں کھینچتی چلی جائے اور تمھارا انکشاف تا تریاق از عراق آوردہ باشد  مارگزیدہ  مردہ باشد کے ضمن میں آ جائے۔

نیوکلر سائنس دان:

تم بالکل بجا کہتے ہو اَلبَتَّہ اگر کوئی انکشاف مضروب جینیوں Genes کو ضائع کر دینے کے ضمن میں ظہور پذیر ہو جائے تو پھر تو کچھ بات بن سکتی ہے۔

وکیل:۔

تو کیا تمہیں ایسی اُ مید ہے کیا کوئی ایسے آثار تمھارے سامنے ہیں اور معاملے کی نوعیت کے پیش نظر تمھارے خیال میں ایسے کسی انکشاف کے ظہور پذیر ہو جانے کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔

نیوکلر سائنس دان:۔

میں اس معاملے میں کچھ بھی کہنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتا ہوں سوائے اس کے کہ واقعی ابھی تک کسی ایسے انکشاف کے کوئی بھی آثار سامنے نہیں اور ایسے انکشاف کی نوعیت نہایت ہی غیر معمولی قسم کی ہے۔

وکیل:۔

تو کیا پھر یہ بہتر نہیں کہ ایٹمی توانائی کے عملی استعمال کو اُ س وقت تک معرضِ التوا میں ڈال دیا جائے جب تک کہ ایسے انکشافات نہیں کر لئے جاتے جو تابکاری سے حفاظت اور تابکاری بیماری کے علاج کی ضمانت دے سکیں۔

نیوکلر سائنس دان:۔

ایک تو مشکل یہ ہے کہ توانائی کی اشد ضرورت ہے اور ایک فنی ضرورت یہ ہے کہ حقیقی نتائج اخذ کرنے کے لئے حقیقی نوع پرہی تابکاری کے تجربات و مشاہدات کرنے چاہیئں مثلاً چوہوں پرکئے ہوئے تجربات کے نتائج نوعِ انسانی پر ہو سکتا ہے منطبق نہ ہوں اور اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوں۔ پس یہ ایک عالم گیر تجربہ ہے جو انسانیت کو ملوثّ کئے بغیر نہیں کیا جا سکتا خواہ اس تجربے کے نتیجے میں انسانیت ختم ہو جائے۔علمی تحقیق کو انسان کی صحت ،زندگی اور بقاء پر اوّلیّت ہونی چاہیئے۔

وکیل:۔

تجربہ نہ کہو المیہ کہو جس میں انسانوں کو بھی چوہوں (Guinea Pigs) کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور اگر انسانیت اس تجربے کی بھینٹ چڑھ گئی تو؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ہمیں افسوس ہے مگر کیا ہو سکتا ہے وہ توانائی مانگتے ہیں اور ا نہیں اُ س کی ضرورت ہے اور ہم اُ ن کے مطالبے کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں اور معاملہ سائنس دانوں کے ہاتھوں سے نکل کر سیاست دانوں کے ہاتھ میں چلاگیاہے۔

وکیل:۔

تم نے تابکاری کی ایک خوراک کا تعیّن کیاہے جسے تم مقدارِمباح (Permissible Dose)کہتے ہو اور جس کے متعلق تم کہتے ہو کہ اس قدر مقدار آدمی کے اندر بغیر ضرر کے جمع ہو سکتی ہے۔

نیوکلر سائنس دان:۔

ہاں ایسا ہی ہے۔

وکیل:۔

تو کیا تمھیں اس مقدار کے متعلق یقین ہے کہ وہ بے ضرر ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

نہیں کوئی یقین والی بات نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مقدار بے ضرر ی کی سطح سے اوپر ثابت ہو جائے۔

وکیل:۔

تو اگر یہ مقداربے ضرری کی سطح سے اوپر ثابت ہو جائے تو کیا یہ نقصان کا باعث ہو سکتی ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

یقیناً یہ جینیوں کو مضروب و عیب دار کر سکتی ہے کیونکہ جینیوں کو مضروب وعیب دار تھوڑی سی مقدار توانائی کی کر سکتی ہے بلکہ تھوڑی مقدار توانائی اس معاملے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ بڑی مقدار تو جینیئےGenes کو مار کر ختم کر دیتی ہے لیکن تھوڑی مقدار چونکہ مار کر ختم نہیں کر سکتی لہٰذا وہ اُ سے عیب دار کرکے زندہ چھوڑ دیتی ہے اور چونکہ لوگوں کی ایک کثرت اس مقدار ِمباح Permissible Dose کو بے ضرر سمجھ کر اس کی جانب سے لاپرواہ ہو کر اس مقدار میں مبتلا ہو سکتی ہے لہٰذا اس مقدار کے ضررِرساں ثابت ہونے پر ایک بڑی کثرت انسانوں کی ایک بہت بڑے نقصان میں شریک ہو سکتی ہے اور اگریہ مقدار جینیوں Genes کو مضروب و عیب دار کرنے کی حقیقت میں اہل ہو تو پھر نقصان کا کیا اندازہ اور اس نقصان میں مبتلا انسانوں کا کیا شمار۔

وکیل:۔

تمہارا اندازِِ تکلم سہل انگاری کا غماز ہے شاید اس لئے کہ تم اپنے اندازے دنیا میں ایٹمی توانائی کی موجودہ حالت پر مبنی کر رہے ہو تم ایٹم بم کا تو ذکر بھی کرناگوارا نہیں کرتے لیکن ایٹمی توانائی برائے امن کے مسئلے پر تم نہایت صاف ضمیری سے گفتگو کرتے ہو لیکن تم نے کبھی اپنے تصّور میں اُ س دور کا نقشہ بھی دیکھا ہے جب اس دنیا میں ایٹمی توانائی اپنے عروج کو پہنچ گئی ہوگی؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ہاں مجھے خبر ہے اُ س وقت ری ایکٹروں، ایٹمی پلانٹوں ا ور تابکاری کے منبوں کی تعداد بے شمار ہو گی اور تابکاری کا بے پناہ اخراج ہو گا ہر پاور ہاؤس، کارخانے،بحری جہاز ریلوے انجن،ہوائی جہاز، بس حتٰی کہ پرائیویٹ کار کا بھی اپنا ری ایکٹر ہو گا اور ری ایکٹروں کی اچھی خاصی تعداد پرانی ہو گی۔ ری ایکٹروں سے تابکاری کی لیکیج اور ری ایکٹروں کے پھٹنے کے واقعات عام ہوں گے۔ مشکل سے کوئی انسان تابکاری کی زد سے محفوظ تصّور کیا جا سکے گا۔ تصویر واقعی بے حد افسوسناک ہے لیکن توانائی کا حصول اور تسخیرِ کائنات کا اعزاز بھی تو کوئی چیز ہے اگر کانٹے بوئیں گے تو پھول اُ گنے سے رہے۔

وکیل:۔

تو اُ س وقت انسانیت کی حالت تابکاری سے حفاظت کے کسی ذریعے کے بغیر کیا ہو گی۔جہنم اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا۔ بیماریاں، مصیبتیں، گھریلو تنازعے، میاں بیوی کے جھگڑے، دردناک کینسر، تابکاری بیماری، عیب دار، غیر معمولی اور عجیب الخلقت مخلوق انسان اور حیوان اور پودوں کی زندگی کو ایک اذیت ناک دوزخ میں تبدیل کر دیں گے اور یہ سب عذاب آئندہ نسلوں پر اس لئے آئے گا کہ موجودہ نسل اپنی مادی اغراض کو حاصل کرنے کی خاطر ایٹمی توانائی کے استعمال سے گریز کرنے سے قاصر ہو رہی ہے۔

نیوکلر سائنس دان:۔

اُ س وقت تک ہو سکتا ہے کہ کوئی انکشاف صورتِ حال کو بچانے کے لئے نمودار ہو جائے۔

وکیل:۔

کیا تم معجزوں پر یقین رکھتے ہو؟

نیوکلر سائنس دان:۔

بہ حیثیتِ ایک سائنس دان کے نہیں۔

وکیل:۔

لیکن غیبی انکشاف کے متعلق تمھاری یہ توقع یقیناً معجزے پر ایمان رکھنے کے زمرے میں آتی ہے اور پھر اگر تم معجزے پر ایمان کوغیر دانش مندانہ Irrational کہہ کر رد کر دیتے ہو تو یقیناً تمھاری یہ توقع کسی سائنسی آثار کی عدم موجودگی میں کسی معجزے پر ایمان لانے سے کہیں زیادہ غیر دانش مندانہ Irrational بات ہے۔

وکیل:۔

ری ایکٹروں اور دوسرے ایٹمی پلانٹوں سے خارج ہونے والے تابکار فضلے کے متعلق تمھارا کیا  تجزیہ ہے؟

نیوکلر سائنسدان:۔

وہ سائنسدان کے لئے دردِ سر ہے اور عوام کے لئے دردِ جگر ہے۔ مختصراً یہ کہ وہ ایک لامنتہی، ہیجان پرور دردِ سر ہے۔ زمین میں دفن کر دو تو قبر سے نکل کر روائتی بد روح کی طرح خلقِ خدا کوستائے۔ سمندر میں دفن کر و تو مچھلیوں کو اپنی ستم کاریوں کا نشانہ بنائے۔چاند ہے اگر اُ س پر لے جا کر ڈمپ کر دیا جائے۔

وکیل:۔

تو کیا یہ ضرر رساں ہے یہ تابکار فضلہ؟

نیوکلر سائنسدان:۔

بے شک قرب و جوار میں رہنے والی آبادیوں کے لئے مضر اثرات کا حامل ہے۔

وکیل:۔

تم نے تابکاری کے جنسی اثرات کے معاملے میں اپنے کلّیتہً بے بس ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن تابکاری کے بدنی اثرات کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟

نیوکلر سائنس دان:۔

تابکاری کے بدنی اثرات تابکاری بیماری اور کینسر کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں آدمی کو اندھا بھی کر دیتے ہیں۔

وکیل:۔

تو کیا اس امر میں آپ کا کچھ اختیار ہے؟

سائنس دان:۔

دیانت داری کی بات یہ ہے کہ تابکاری بیماری کا کوئی کارگر علاج ہم دریافت نہیں کر سکے۔ خلیے پرایک بار تابکاری کا حملہ ہو جائے تو پھر خلیہ بھی موت کے گھاٹ اتر جائے۔ مضروب عیب دار ہو جائے یا بچ نکلے یہ خلیے کی اپنی اہلیت اور تابکاری کی قوتِ نفوذ پر منحصر ہے۔ انسان اس جدوجہد میں ایک بے بس تماشائی ہے اور خلیے کی تابکاری  ردِّعمل کے معاملے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ تابکاری بیماری کے معاملے میں ابھی تک کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ تابکاری بیماری کے معاملے میں ابھی تک کوئی بھی ڈاکٹری علاج کارگر نہیں ہو سکا۔ جہاں تک کینسر کا معاملہ ہے تو اس امر میں ہم کینسر کے خلیوں کو تابکارشعاعوں کے ذریعے جلا کر تباہ کر سکتے ہیں تاہم اسے علاج نہیں کہا جا سکتا  کیونکہ کینسر کا مادہ جسم سے خارج نہیں ہو سکتا اَلبَتَّہ تابکاری خود کینسر پیدا کرتی ہے۔

وکیل:۔

ایک عجیب حکایت ہے اور حیرتناک اور دردناک اندھی دنیا کاحیرت انگیز کرشمہ عقوبتِ الٰہی کا واضح ترین ثبوت، تابکاری ایٹمی طاقت کا جزوِلاینفک، روئے زمین سے زندگی کے اعدام کی اہل، انسان ،حیوان، پودوں کوعجیب الخلقت کے عارضے میں مبتلا کرکے فنا فی النار کرنے پر قادر،آدمی کا کنٹرول اس پر نہ ہونے کے برابر،رہی ری ایکٹر کے تابکار لیکیج کا امکان، ری ایکٹر کے بھٹ کے گرد و نواحی اضلاع کو تابکاری سے مملو کرکے صحت وزندگی کو تہس نہس کرکے آئندہ نسلوں تک کو خوفناک خطرات و حوادث سے دوچار کرنے کا امرِ یقینی، تابکاری کی مہلک بیماری کا شافی علاج ناپید ہے نہ ہی ایسے کارگر علاج کے آثار ہی ظاہر، کینسر کا حقیقی علاج ناپدید اور فقط تابکار شعاعوں سے متاثرہ خلیوں کی تباہی تک محدود، ایٹمی جنگ کا خطرہ، ایٹمی بم اور ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے  ایٹمی بارود کے ایک ہونے کے سبب ہمیشہ اس دنیا پر مسلّط،اس سب کے باوجود اور اچھی طرح علم کے باوجود، ایٹمی سائنس دانوں کی جانب سے ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش اور اس کی دانستہ اور دلی اور صاف ضمیری  کے ساتھ اس کی ہلاکت خیز امر میں کلّی تعاون  کی سعی، اگر تعجب خیز نہیں تو اور کیا ہے؟

سائنس دان:۔

تجرباتی، اقتصادی، صنعتی ضروریات زبردست ہیں مجبوریاں ہوشربا ہیں۔

وکیل:۔

اس سے بھی تعجب خیز تر اور لرزہ براندام برپا کرنے والی بات یہ کہ تابکاری مادہء منویہ کے جینیوں Genes کو عیب دار کرے اور ان عیب دار جینیوں کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ موجود نہ ہو۔یہ عیب دار جینئے خفیہ طور پر نسل در نسل منتقل ہوں اور خطرناک تعداد میں مجتمع ہوں اور کچھ معلوم نہ ہو سکے اور جب یہ عیب دار جینئے ابنارملAbnormal اور عیب دارDeformed اور عجیب الخلقتChimerical بچوں کی پیدائش کی صورت میں رونما ہونے لگیں تو نہ کوئی اس عارضے کو روکنے کی تدبیر نہ ان عیب دار بچوں کا کوئی علاج پھر یہ عجیب الخلقیت موروثی انداز میں نسل در نسل چلے تو سائنس دان اس امر میں بے بس و مجبور اور پھر شادیوں کے ذریعے سے عجیب الخلقیت کی اقسام اور ان میں ملوث انسانوں کی تعداد میں دم بدم اضافہ ہو کر پوری آبادیوں کے لئے خطرے کا الارم بج جائے تو سائنس دان کے پاس سوائے حسرت اور افسوس کے اظہار کے چارہ معدوم اور جب حالت وہاں تک پہنچے کہ انسانوں، حیوانوں اور پودوں کو اپنی بقاء کا خطرہ لاحق ہو جائے اور عذاب میں مبتلاء آبادیوں کی آبادیاں نابود ہونا شروع ہو جائیں تو خود سائنس دان اُ ن کے ہمراہ راہیء ملک عدم ہونے کے لئے بے چون و چرا، رختِ سفر باندھ لیں اور سوائے اس کے کچھ نہ ہو سکے کہ آبادی کے درمیان عیب دار جینئے رکھنے والوں کی تعداد کاوہ تناسب معین کر دیا جائے جو قابل ِبرداشت معلوم ہوتا ہو اور اس امر میں بھی آبادی کے اُ س تناسب کو بڑھنے سے روکنے کے لئے کوئی عملی ذریعہ موجود نہ ہو اور پھر اس سب کے باوجود ایٹمی سائنس دان ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش محض اس بنا پر کرے کہ اس کے ساتھ امن کا لفظ ایک لیبل کی حیثیت سے چسپاں ہے تو اسے اگر انسانیت کی بدنصیبی نہ کہیئے تو کیا کہیئے۔

 اور اب میں نے جو کچھ نیوکلر سائنس دان کو کہنا تھا میں کہہ چکا۔اب ذرا مہرابانی فرما کر ریڈیوبائیولوجسٹ صاحب میرے ساتھ ہم کلام ہوں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ریڈیو بائیولوجی کے مضمون میں انسان کا علم کتنا ہے یا کتنا نہیں ہے۔

وکیل:۔

کیا کوئی کلّیدی انکشاف ریڈیو بائیولوجی کے ضمن میں ہوا ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

نکات تو موجود ہیں اور کئی ایک ہیں لیکن کلّیدی انکشافات تو ابھی ہونے باقی ہیں۔

وکیل:۔

خلیہ جب مرحلہ استراحت یعنی (Resting Stage)  میں ہوتا ہے تو اس کےنیوکلّیس کی باریک ساخت کی تفصیلات کے متعلق ابھی تک کچھ معلوم ہوا ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

ابھی تک کچھ بھی نہیں۔

وکیل:۔

کیا سائٹوپلازم  (Cytoplasm) اورنیوکلّیس کے درمیان وظیفے (عمل) کی تقسیم کا معاملہ واضح ہے؟

نیوکلر سائنس دان:۔

نہیں ایسا نہیں بلکہ سائٹوپلازم میں بعض جنسی عوامل Genetic Factors کی موجودگی کی شہادت ملتی ہے جب کہ ساختی مواد (Structural Material) کا تالیفی عمل (Synthesis)نیوکلّیس میں بھی وقوع پذیر ہوتا ہے۔

وکیل:۔

کروموسومز بریکس (Chromosomes Breaks) کے معاملے میں جو دو نظریئے اس وقت موجود ہیں۔ ان میں کون سا درست ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

کوئی ایک بھی درست نہیں ہے اور ایک ایسے نظریئے کی تشکیل کی حاجت ہے جس میں دونوں موجودہ نظریوں کے خواص موجود ہوں۔

وکیل:۔

کیا اس ضربے  Injuryکی نوعیت جو خلیے کے مروّجہ دورے  Cycleکوروک دیتا ہے۔ معلوم ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں۔

وکیل:۔

کیا وہ میکانزم Mechanism جس سے انزائمز Enzymesمخصوص کیمیاوی ردِّعمل ظہور پذیر کرواسکتے سمجھا چکا ہے؟

ریڈیو بائیولوجسٹ:۔

نہیں۔

وکیل:۔

کیا کیمیا دان اس ردِّعمل کو سمجھ چکے ہیں جو امینو ایسیڈزAminoacids سے پروٹینزProteins کی تالیفSynthesis میں وقوع پذیر ہوتا ہے؟

ریڈیو بائیولوجسٹ:۔

نہیں بلکہ ابھی تک اس نے کیمیادانوں کی اہلیت کو چکر میں ڈالا ہوا ہے؟

وکیل:۔

کیا اس بات کی تشریح کے متعلق کہ کیوں مختلف خلیوں کے درمیان تابکاری سے اثر پذیری میں اس حد تک تفاوت موجود ہے۔ کوئی لائقِ یقین دلیل پیش کی گئی ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں کوئی نہیں۔

وکیل:۔

تو پھر کیا کینسر کا تابکاری علاج  Radiotherapy یاتابکاری کی حفاظتی تدابیر کسی معتبر بنیاد پر مبنی ہو سکتی ہیں؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں ایسا کرنا ممکن نہیں۔مضمون کی مشکلات اور پیچیدگیوں کااندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ کوئی تجریبی (Tentative) جواب بھی اس سوال کا نہیں دیا جا سکتا۔ کینسر کی تحقیق کاکلّیدی مسئلہ یہ ہے کہ وہ کون سے منبّھات (Stimuli) ہیں۔سٹیمولی جو خلیے کو اسوقت تقسیم کے عمل سے روک دیتے ہیں جب ایک عضو اپنے صحیح حجم کو پہنچ جاتا ہے اور ضربے (Injury) کے بعد نقصان کی تلافی پر ابھارتے ہیں۔

وکیل:۔

کیا وہ میکانزم جس کے ذریعے تابکاری پھوڑوں کو جڑ سے اکھاڑتی ہے سادہ ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں بلکہ انتہائی پیچیدہ ہے۔

وکیل:۔

کیا وہ طریقہ جس سے پھوڑوں کے خلیوں کو قتل کیا جاتا ہے یاان کا تزکیہ Sterility کیاجاتا ہے مکمل طور پر سمجھا جا چکا ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں۔

وکیل:۔

کیا اب تک وہ تمام مرحلے جو تابکاری کی تابکار شدہ اعضا ء میں گذرگاہوں اور آخری ضربInjuryکے درمیان لاحق ہیں ان کا مطالعاتی تعاقب کیا جا سکتا ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں۔

وکیل:۔

کیاتابکاری کے علاج کی راہ اور نیتجے کے متعلق پیشینگوئی آسان ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں بلکہ مشکل ہے۔

وکیل:۔

تابکاری کاواضح ترین اثر موت ہے لیکن اس امر میں بھی کیاانفرادی خلیے کے بارے میں اس زبردست تبدیلی کی تشریح آسان ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں یہ قطعاً آسان نہیں۔

وکیل:۔

کیاکوئی مکمل تشریح کی جاسکتی ہے؟ اس معمے کی کہ گو کہ امراضی تغیرات Pathological Changesجو کہ تمام بدن کی تابکاری کے نیتجے میں رونماہوئے ہیں منتشر اور غیر واضح ہوتے ہیں تاہم موت حیران کن باقاعدگی سے واقع ہوتی ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں۔ یہ ایک ایساراز ہے جو کہ تمام زہروں میں ایٹمی تابکاری ہی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔

وکیل:۔

کیا شدید تابکاری بیماری کی علامات موت کی وجہ کے متعلق کچھ بتاتی ہیں؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

شدید تابکاری بیماری  (Acute Radioation Sickness) کے علامات کی جانچ تو کی جا سکتی ہے لیکن ان سے ہم کو موت کی وجہ کے متعلق بہت کم علم ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی پیتھالوجسٹ کسی ایسے چوپائے کا پوسٹ مارٹم کرے جس کی موت چند سو روئنجٹن تابکاری سے واقع ہوئی ہو تو اس کے لئے موت کا کسی ایک عضو کی ناکارگی پر منحصر کرنا بہت مشکل ہو گا۔

وکیل:۔

کیا ابھی تک کوئی ایسا علاج دریافت ہوا ہے جسے اگرتابکاری کے حملے کے بعد استعمال کیا جائے تو خلیوں کی مضروبیات Mutationsکی تعداد میں کمی کرسکے۔ کیا مضروب خلیے کا تندرست ہو جانا ممکن ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

نہیں۔ ابھی تک کوئی ایسا علاج دریافت نہیں ہوا۔ جسے اگر تابکاری کے حملے کے بعد استعمال کیا جائے تو مضروبیات (Mutations) کی تعداد میں کمی کر دے کیونکہ مضروبیت کا درست ہونا ممکن نہیں۔کوئی بھی ایساعلاج جو تابکاری کے حملے کے بعد کیا جائے۔ مضروبیت کودرست کرنے میں کارگر نہ ہو گابلکہ وہ تھوڑا بہت جوتابکاری کے حملے سے پہلے استعمال کرنے سے قدرے موثر ہو سکتا ہے وہ بھی تابکاری کی اخفائی کیفیت کے پیشِ نظر بے کار ہو کر رہ جاتا ہے۔

وکیل:۔

کیا کوئی علاج تابکاری بیماری Radiation Sickness کا دریافت ہوا ہے۔

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

کوئی بھی نہیں۔

وکیل:۔

کیا کوئی ایسا طریقہ دریافت ہوا ہے جس سے کسی کے جسم میں مضروب جینئےMutated Gene  کے متعلق علم ہو سکے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

کوئی نہیں۔

وکیل:۔

کیا مضروب جینئے  (Mutated Gene)  سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اس کو موت کے گھاٹ اتارنے کا کوئی عمل دریافت ہوا ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

کوئی نہیں اَلبَتَّہ ہم کینسر کے خلیوں کو تابکاری کی شعاعوں سے ضائع کر سکتے ہیں لیکن اسے علاج نہیں کہا جا سکتا یہ صرف عارضی چھٹکارا ہے۔

وکیل:۔

مضروب جینئے جب ابنارمل بچوں کی پیدائش کی صورت میں نازل ہوکراپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ وہ نسل در نسل اس ابنارمل کیفیت کو برقرار رکھتے ہیں اور شادیوں کی وجہ سے عجیب الخلقیت کی انواع و اقسام اور ایسے مریضوں کی تعداد میں برابر اضافہ کرتے رہتے ہیں حتٰی کہ وہ خطرے کی حدود کو چھو لیتے ہیں تو کیا اس معاملے میں آپ کچھ کر سکتے ہیں؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

کچھ بھی نہیں۔

وکیل:۔

کیاکیمیکلز تابکاری کے طویل المعیاد اثرات سے بچا سکتے ہیں؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ تیکنیکی مشکلات چوپاؤں میں پیدا ہونے والی مضروبیات کو درستی سے ناپنے میں آڑے آتی ہیں۔

وکیل:۔

یہ کس طرح ہے کہ تابکاری کی ایک مقدار جو کہ کسی خلیے کو مار ڈالنے یا واضح طور پر زخمی کر دینے کے لئے کافی ہے۔ توانائی کے لحاظ سے اتنی قلیل توانائی کی حامل ہوتی ہے جو بمشکل چند مالیکولز کو متاثر کرسکتی ہے اور یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جوبلاواسطہ کوئی بھی واضح حیاتیاتی اثرات( Biological Effects)  پیدا کرنے کے لئے قطعی طور پر ناکافی ہے۔

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

اس کا کچھ علم نہیں اور یہ حقیقت میں سائنس دان کے لئے ایک چیلنج ہے۔

وکیل:۔

کیا کوئی موثر عنصر تابکاری کے اثر کے خلاف دریافت ہوا ہے؟

ریڈیوبائیولوجسٹ:۔

یہ مایوسی اور حیرت کی بات ہے کہ تابکاری کے اثر کے خلاف کوئی موثر عنصر دریافت نہیں ہوا۔

وکیل:۔

آپ کے لئے مایوسی اور حیرت ہے اور انسانیت کے لئے ایٹمی جہنم کی آگ۔

اور اب مائی لارڈ جسٹس سائنس! جو کچھ اس جرح میں سامنے آیا اس کی روشنی میں بے دریغ یہ موقف اختیار کیا جاسکتا ہے کہ ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش اور اس کام میں دلی تعاون کے معاملے میں ایٹمی سائنس دان کا روّیہ انتہائی غلط، انتہائی غیر سائنسی اور یقیناً گمراہ کن ہی نہیں تباہ کن بھی ہے۔ نیوکلّیر سائنس کے مضمون میں ایٹمی سائنس دان کاعلم افسوسناک حد تک قلیل ہے او ر ایٹمی مظاہر پر اس کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر ہے اور ایٹمی سائنس کا مضمون بے شمار اور ان گنت عالم گیر خطرات و حوادث سے مملو ہے۔ ان حالات میں ایٹمی توانائی برائے امن کااپنانا ایٹمی جہنم میں ایک زبردست چھلانگ لگانے کے مترادف ہے۔ ایٹمی توانائی سائنس کے اس بنیادی دستور (جس میں کہا جاتا ہے کہ سائنس آبادکاری اور بربادی دونوں کے لئے استعمال ہوسکتی ہے) کے برخلاف ایک استثناء کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا اپنانا دانش مندی کے اصولوں کی سریع خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ ایک واضح حماقت کا ارتکاب ہے۔ ایٹمی مظاہر پر کنٹرول حاصل کئے بغیر اور تابکاری کو بنیادی طور پر بے ضرر بنائے یاروئے زمین کی تمام مخلوق کو تابکاری کے خلاف حفاظتی ذرائع مہیّا کئے بغیر اور تابکاری بیماریوں کا شافی علاج دریافت کئے بغیر، ایٹمی توانائی کا عملی طور پر اپنانا ایسا ہے جیسا کہ انسانیت کو مصائب و آلام و شدائد و عوارض و امراض و صعوبات کے ایٹمی جہنم میں دھکیل دینا لاپرواہی جہالت اور غلط اعتمادی کی کوئی مثال اس سے بڑھ کر انسانیت کی پوری تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ایک ایسی نسل جو چند آدمیوں کے سوا ایٹمی توانائی کی الف  ب سے بھی ناواقف ہے محض اس وجہ سے کہ خود ا ُ س کے زمانے میں ایٹمی تباہی کے اثرات نمودار نہیں ہو رہے اپنی خود غرضی اور نا  عاقبت اندیشی کے طفیل انسانیت کا سارا مستقبل ہولناک خطرات کی بھینٹ چڑھا رہی ہے اور انسانیت کی آئندہ نسلوں کو آگ اور آلام میں دھکیل کر انسانیت کی انقطاعِ نسل کا اہتمام کر رہی ہے۔ نہیں بلکہ روئے زمین سے زندگی کے تمام آثار کو مٹانے کے درپئے ہو رہی ہے تابکاری کے مخصوص خطرات بالخصوص جنسی خطرات جو آئندہ نسلوں میں ظاہر ہوں گے اور جو موجودہ نسل میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اور ابتدائی مادی فوائد کے بعد مصائب و آلام اور روئے زمین سے زندگی کے انقطاع کی یقینیّت اُ س حقیقت کا جواز پیش کرنے کا کافی ثبوت ہیں جس کے مطابق ایٹمی توانائی برائے امن کو جملہ دیگر توانائیوں کے برعکس سائنس کے اُ س بنیادی دستور میں کہ سائنس آبادکاری اور بربادی دونوں کے لئے استعمال ہو سکتی ہے۔ ایک استثناء کی حیثیت دی جا سکتی ہے۔ اس وقت ایٹمی سائنس کی کیفیت یہ ہے کہ اندھا ہو جانے والا سائنس د ان اندھی ہوگئی ہوئی انسانیت کو ایٹمی جہنم کے گڑھے کی جانب رہنمائی کر رہا ہے۔ توانائی کی ضرورت بلاشک شدید ہے اور دور کے موجودہ صنعتی ڈھانچے کا توانائی کے لئے اضطراب لازمی امر ہے لیکن یہ بھی لازم ہے کہ معاملے کو سود وزیاں کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور انسانیت کو ایسے دردناک انجام اور ایسی شرمناک تباہی سے بچانے کی کوشش کی جائے۔

مائی لارڈ! میں اس عدالت سے سائنس کے بنیادی دستور جس کے مطابق سائنس کو آباد کار اور تباہ کار دونوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ استدعا کرتا ہوں کہ ایٹمی توانائی کو اس دستور سے مستثنی قرار دیا جائے کیونکہ حقائق ایٹمی توانائی کو بالآخر ایک تباہ کار عنصر ہی ثابت کرتے ہیں اور اس کے جنسی اثرات جو ظاہری اور باطنی دونوں انداز میں کارفرما رہتے ہیں بذات ِخود ایک استثناء ہیں نیز ایٹمی توانائی کے عملاً اپنانے اور اُ س کے استعمال پر سزائے موت کی حد تک پابندی عائد کر دی جائے جب تک کہ قدرت کی کسی طاقت کوا نسان کی خدمت کے لئے اختیار کرنے کی جملہ شرائط پوری نہیں ہو جاتیں یعنی یہ کہ جب تک جملہ ایٹمی مظاہر پر اور تابکاری پر کنٹرول حاصل نہیں ہو جاتا تابکاری کو بے ضرر نہیں بنا دیا جاتا یا اُ س کے خلاف روئے زمین پر بسنے والے ہر فرد کو مکمل حفاظتی ذرائع مہیّا نہیں کئے جاتے ہر فرد انسان ہی کو نہیں بلکہ ہر فرد،جانور اور پودے کو بھی تابکاری سے محفوظ نہیں کر لیا جاتا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت اور جانوروں اور پودوں کو ایٹمی توانائی کے اس عالم گیر اور تباہ کن تجربے میں تجرباتی چوہوں Guinea Pigs کے طور پراستعمال کیا جا رہا ہے۔

مائی لارڈ!  آج کی انسانیت بلکہ روئے زمین کی جملہ مخلوق کی کیفیت ایک ایسے یتیم کی سی ہے جس کا نہ باپ ہے نہ ماں لیکن اب آپ جیسے با اصول جج سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اس دنیا کے سنگین ترین مقدمے میں جو اس وقت جناب والا کی عدالت میں پیش ہے فیصلہ یقیناً انصاف پر مبنی ہو گا۔

لارڈ جسٹس سائنس کا فیصلہ:

لارڈ جسٹس سائنس اپنی کرسی سے کھڑا ہوتاہے اُ س کی ہیئت کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کی رگوں میں قدرت کا خون کائناتی قوانین کے مطابق گردش کررہا ہے لارڈ جسٹس سائنس اپنا فیصلہ سناتے ہوئے گویا ہوتا ہے:۔

”اوّلاً یہ کہ عدالت اُ ن دلائل کی روشنی میں جو اس مقدمے کے دوران پیش کی گئی ہیں اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ایٹمی سائنس دان کا روّیہ ایٹمی توانائی کے معاملے میں سائنٹفک نہیں کوئی بھی سفارش جوایٹمی توانائی کے اپنانے کے ضمن میں کی جائے وہ اس قدرتی قوت یعنی ایٹمی توانائی پر کامل کنٹرول کئے بغیر خواہ وہ کنٹرول ایٹمی تابکاری کو بے ضرر بنانے کی صورت میں ہو خواہ روئے زمین کی جملہ مخلوق کے ہر فرد از قبیل انسان، حیوان یا پودے کو تابکاری کے خلاف مکمل حفاظتی ذرائع مہیّا کرنے کی صورت میں ہو اور تابکاری بیماریوں کا یقینی علاج دریافت کئے بغیر ہرگز سائنٹفک کہلانے کی مستحق قرار نہیں دی جا سکتی لیکن جیسا کہ ظاہر ہے کہ تابکاری شعاعوں کو بے ضرر بنانا غالباً ممکن نہیں۔ زمین پر بسنے والی جملہ مخلوق کے ہر فرد کو تابکاری کے خلاف حفاظتی ذرائع مہیّا کرنا یا وہ حفاظتی ذرائع جو اس وقت دنیا میں موجود ہیں اُ ن کا استعمال کرنا تقریباً ایک ناممکن بات ہے۔ تابکاری بیماریوں کا شافی علاج دریافت کرنا موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر دور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ مضروب جینیوں کاMutated  Genes وجود معلوم کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں نہ ہی اُ ن کو ضائع کرنے کی کوئی تدبیر معلوم ہے نہ ہی جب وہ اپنی موجودگی کا اظہار کسی آئندہ نسل میں ابنارملAbnormal اور  عیب دار بچوں کی پیدائش کی صورت میں کر لیں تو کوئی علاج ،کوئی تدبیر ،کوئی حفظ ِ تقدم کی صورت ہی موجود ہے لہٰذا ایسے حالات میں ایٹمی توانائی برائے امن کی سفارش نہیں کی جا سکتی ۔

دوم یہ کہ ایٹمی توانائی کے معاملے کو سائنس کے اُ س اصول کے ضمن میں جس میں یہ مانا جاتا ہے کہ سائنس آباد کاری اور بربادی دونوں کے لئے استعمال ہو سکتی ہے۔ ایک استثناء گردانا جائے نہ فقط اس لئے کہ اس کا مضمون بیحد مشکل ہے اور اس کا عمل مادے کے نہایت ہی باریک اور بعید ترین منطقے میں ہوتا ہے بلکہ اُ ن بہت بڑے ناگہانی خطرات کی وجہ سے بھی جو اس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ اگر غائر نگاہ سے دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ایٹمی توانائی کو آباد کاری اور  بربادی کا ایجنٹ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کے ابتدائی مادی فوائد محض ایک انتہائی تباہی اور بربادی کا ایک جال ہیں۔تابکاری کے خفیہ جنسی اثرات کوبڑے خوف اور بڑی احتیاط سے دیکھاجانا چاہیئے۔ تابکاری کے جنسی اثرات جملہ مخلوق کو ابنارمل، عیب دار اور چیمیریکل صورتو ں میں بدل کر انواع و اقسام بیماریوں، صعوبتوں اور مصیبتوں میں مبتلا رکھنے کے بعد صفحہء ہستی سے ناپیدکر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں یعنی روئے زمین سے انقطاعِ حیات کی استطاعت کے مالک ہیں۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ایٹمی توانائی کی تابکاری پر مکمل کنٹرول اور اس سے مکمل حفاظت کی ضمات دیئے بغیر ایٹمی توانائی برائے امن کی اجازت دینا یا اسے اپنانا نہایت ہی غیر سائنسی طریقِ کار ہے۔ تابکاری کے جنسی اثرات کے علاوہ اس کے بدنی اثرات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔

            سائنس تجرباتی تحقیق کی اجازت دیتی ہے اور اس کے علاوہ سائنس، امید اور رجائیت سے بھی قدرے چشم پوشی کرتی ہے لیکن ایٹمی توانائی کا معاملہ اس رجائیت کے ضمن میں بھی ایک استثنائی حیثیت کا حامل ہے۔ ایٹمی توانائی کے معاملے میں اُمید اور رجائیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایٹمی توانائی کے معاملے میں کسی قسم کی رجائیت لازمی طور پرزبردست تباہ کاری کا پیش خیمہ ہے۔وہ امیدیں جو ایٹمی سائنس دان نے آئندہ انکشافات سے باندھ رکھی ہیں مثلاًتابکاری کے خلاف حفاظت کے ذرائع کاانکشاف یا تابکاری بیماریوں کے شافی علاج کاانکشاف وغیرہ وہ خدا خبر پوری ہوں یا نہ ہوں اَلبَتَّہ ایسے انکشافات کی عدم موجودگی میں تابکاری کی وجہ سے زمینی زندگی کا معدوم ہو جانا ایک امرِ لازم ہے۔

ایٹمی توانائی کے مضمون کی نیوکلائی فطرت کی روشنی میں یہ اندازہ کرناکوئی مشکل نہیں کہ ایسے متوقع انکشافات کا معاملہ دور کی کوڑی کے مترادف ہے اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایسے انکشافات اگر ہو بھی جائیں تو وہ ایسے وقت پر ہوں جب کہ تابکاری کے جنسی اثرات نے صورتِ حال کو اس حدتک خطرناک مرحلے پر پہنچا دیا ہو کہ ایسے انکشافات سے کوئی معتدبہ فائدہ حاصل نہ ہواور حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے انکشافات کے ہونے کی بہت ہی کم توقع کی جا سکتی ہے۔ایٹمی توانائی کا معاملہ محض اموات اور بیماریوں کا مسئلہ ہی نہیں دراصل اس میں تابکاری کے خفیہ جنسی اثرات کی وجہ سے آئندہ نسلوں کے ملوث ہونے کی ایک سخت المناک حقیقت موجود ہے اور یہ بات ہی دراصل ایٹمی توانائی کے معاملے کی سنگینی کی وجہ ہے۔

جدید سائنس لاریب تجرباتی تحقیقی کی اجازت ہی نہیں دیتی بلکہ خود اسی اصول پر مبنی بھی ہے لیکن ایٹمی توانائی کا معاملہ ایک مختلف مقام پر سے نمودار ہوتا ہے۔کوئی علاج اور کوئی حفاظت بھی ایٹمی توانائی کے میدان میں موجود نہیں۔ اس کے باوجود اس درجہ خطرناک چیز کو عملی طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ نیوکلر سائنس میں ایٹمی توانائی کے معاملے میں جب کہ حفاظتی اور علاجی امور ابھی تک ابتدائی مراحل میں کھڑے ہیں۔ ایٹمی قوت اور اس کی تباہ کاری کے امور بظاہر اپنے تمام و کمال کو پہنچ چکے ہیں۔ ری ایکٹرکام کر رہے ہیں اور ایٹم بموں کی اقسام ہائیڈروجن بم اور بلکہ نیوٹران بم تک پہنچ چکی ہیں اور ابھی تک تابکاری بیماری کا علاج دریافت ہواہے نہ ہی عوام الناس کو تابکاری سے محفوظ کرنے کا کوئی ذریعہ ہی موجود ہے۔ یہ صورتِ حال غیر فنی، غیر سائنسی، اور قطعاً استثنائی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اور ان حالات میں ایٹمی توانائی کی تجرباتی تحقیق کو لیبارٹری تک ہی محدود  رہنا چاہیئے تھا اور ایٹمی توانائی کا عملی استعمال سختی سے ممنوع قرار دیا جانا چاہیئے تھا اور صرف اس وقت جب اس قسم کے انکشافات جو تابکاری سے عالمی حفاظت اور تابکاری بیماریوں کے شافی علاج کی ضامن ہو سکیں۔ ہو چکتے۔ تب ہی ایٹمی توانائی کے عملی استعمال کی اجازت دی جانی چاہیئے تھی لیکن المیے کا دردناک پہلو یہیں ختم نہیں ہوجاتا۔ ایٹمی توانائی کے تابکاری تجربے میں انسان کی بہ حیثیت  تجرباتی چوہے (Guinea Pigs)  بہ نفسِ نفیس شمولیت ایک امرِ لازم ہے کیونکہ تجرباتی چوہوں کی دوسری اقسام پر کئے گئے تجرباتی عمل سے حاصل ہونے والے نتائج بعض اوقات نوعِ انسانی پر لاگو نہیں ہوتے اور یہ متذکرہ نتائج نوعِ انسانی پر عملاً لاگو کردیئے جائیں تو نتیجۃً تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تجرباتی تحقیق خود انسانوں اور فرداً فرداً دوسر ی انواع پر ہی کرنا پڑتا ہے اور مشکل یہ ہے کہ ایٹمی تابکاری کے اس عالم گیر تجربے کی نوعیت ایسی ہے کہ ایک دفعہ شروع کیاتو اس کے اثرات متعدی بیماری کی طرح پھیل کر سب جاندار مخلوق بلکہ نباتات کو بھی تباہ و برباد کر دیں گے اور ایک دفعہ یہ تجربہ کچھ آگے بڑھ گیا تو نہ تو اسے ترک کرنے سے کچھ فائدہ  ہوگا اور نہ ہی توبہ کا کوئی موقع باقی رہے گا یہ بات کہ ایٹمی توانائی کا استعمال بھی جاری رہے اور اس کے فوائد بھی حاصل ہوتے رہیں اور ساتھ ساتھ تابکاری پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسےبے ضرر بنانے کی کوششیں بھی جاری رہیں نہایت ہی نامعقول ہے۔ اسے آپ نہایت سائنس مخالف بھی کہہ سکتے ہیں اور سائنس میں یقین رکھنے والے سائنس دانوں یعنی حقیقی سائنسدانوں کو اس بات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیئے۔

اور اب عدالت مقدمے کے نکات کو ترتیب وار درج کرکے ان کی روشنی میں اپنافیصلہ سناتی ہے۔ نکات مندرجہ ذیل ہیں:۔

(۱)       یہ کہ تابکاری کے خلاف کوئی حفاظت جملہ مخلوق کو مہیّا نہیں کی گئی ہے نہ اس بات کا کوئی امکان ہی نظر آتا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک عالم گیر اور تباہ کن خطرہ ہے۔

(۲)       اور یہ کہ تابکاری سے پیدا ہونے والے امراض کے لئے کوئی یقینی علاج دریافت نہیں ہوا نہ ہی ایسا کوئی علاج اس وقت نظر میں ہے اور پھر تابکاری بیماری کی حقیقت کا بھی ابھی تک کوئی علم نہیں ہوسکا یہ صورتِ حال اس ضمن میں زبردست نااہلی کی نشاند ہی کرتی ہے اور سخت تباہ کن ہو سکتی ہے۔

(۳)      اور یہ کہ مضروب جینیوں (Mutated Genes) کو تلاش کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہے اور نہ ہی ان کو تندرست کرنے یاتباہ کردینے کی کوئی سبیل ہے اور اس کے علاوہ جب وہ اپنا اظہار ابنارملAbnormal عیب دار(Deformed)، عیب دار اور چمیریکلChemerical بچے کی پیدائش کی صورت میں کرتے ہیں تو بھی کچھ نہیں ہو سکتا اور پھر جب ان متذکرہ بالا کیفیتوں کی اقسام بڑھتی ہیں اور ان میں مبتلا لوگوں کی تعداد ایک وبا کی طرح بڑھتی ہے حتٰی کہ پوری آبادیوں کو تباہی کاخطرہ لاحق ہو جاتا ہے تو بھی کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

(۴)      اور یہ کہ ایٹمی توانائی ایک ایسی سائنس ہے جس میں عمل اور ردِّعمل اس قدر مہین اور دورافتادہ منطقوں یعنی ایٹم کے نیوکلائی میں ہوتا ہے کہ ان کاکماحقہ علم حاصل کرنااور ان پر کماحقہ گرفت حاصل کرنا انسان کے لئے نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے۔

(۵)      اور یہ کہ ایٹمی توانائی کے میدان میں حفاظتی اور علاجی جانب تو بالکل ابتدائی مراحل میں ہے جب کہ عملی قوت اور تباہی کی طاقت والی طرف انتہائی منازل پر پہنچی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ عدمِ توازن کی یہ ایک بڑی مثال ہے اور زبردست خطرات کی حامل ہے۔

(۶)       اور یہ کہ ایٹمی توانائی ایٹم بم کی ماں ہے اور ایٹمی توانائی کی موجودگی ہی اس دنیا میں ایٹمی جنگ کے دائمی خطرے کی حامل ہے۔

ان حقائق کی روشنی میں یہ عدالت مندرجہ ذیل فیصلہ دیتی ہے اور ہر سائنس دان کو اس فیصلے کا پابند سمجھتی ہے:۔

یہ عدالت ایٹمی توانائی برائے امن کے کاروبار کو ایک غیر قانونی کاروبار قرار دیتی ہے  اور اس دنیا میں ہر ری ایکٹر کو منہدم کرنے اور دنیا بھر کے جملہ ایٹم بم کے ذخیروں کو فی الفور اور بلا تاخیر معدوم کر دینے کے احکام صادر کرتی ہے اور ایٹمی توانائی کے اس عالم گیر تجربے کو جس میں زمین کی مخلوق تجرباتی چوہوں کا رول ادا کر رہی ہے۔ فی الفور اور بلا تاخیر بند کر دیا جائے اور اگر کسی کو ایٹمی توانائی کی تجرباتی تحقیق کی غرض  ہے تو ایسی تحقیق کو لیبارٹری کے اندر محصور اپنانے کی سفارش صرف اس وقت کی جائے جب ہر ذی روح کو تابکاری سے حفاظت کی سو فی صد ضمانت مہیّا کی جائے اور تابکاری بیماری کی اصلیت کو سمجھ لیا جائے اور تابکاری بیماری کا کوئی شافی علاج دریافت کر لیا جائے۔ ان شرائط کے پورا نہ ہونے کی صورت میں ایٹمی توانائی کے جواز کی سفارش یا کسی سائنس دان کی اس کام میں ہمدردی اور تعاون ایک سخت مجرمانہ ، اخلاقی اور قانونی لحاظ سے لائقِ سزا، فعلِ شنیع تصّور کیا جائے۔ ایٹمی سائنس دان اس تمام تفکر اور عذاب کا  ذمہ دار ہے جو انسانیت کو ایٹمی توانائی کے مسئلے کے ضمن میں لاحق ہے اور وہی انسانیت اور مخلوق کے خون اور تباہی کا بھی ذمہ دار ہے اگر دنیا ایٹمی تباہی کا شکار ہو گئی۔خواہ یہ تباہی ایٹم بموں کے ذریعے وقوع پذیر ہو خواہ ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری کے طویل المیعاد اثرات کی وجہ سے ظہور پذیر ہو یہ عدالت کسی سائنس دان کے غیر سائنسی عمل کے خلاف لائی گئی کسی بھی شکایت کودلچسپی سے سنے گی اور اگر شکایت درست ثابت ہوئی تو سخت سے سخت سزا کا اعلان کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ یہ عدالت بااختیار اور مقتدر لوگوں کو اپیل کرتی ہے کہ وہ تائب ہونے والے ایٹمی سائنس دانوں کو دوسرے محکموں میں کھپا کر شکریئے کا موقع فراہم کریں۔ عدالت اَلبَتَّہ یہ اعلان کرکے مسرت محسوس کرتی ہے کہ اس حاضرہ مقدمے کی سماعت کے دوران سائنس دان کا روّیہ علم اور اخلاق کے معاملے میں دیانت داری، اخلاقی سالمیت اور خلوصِ نیت کے ایک اعلیٰ نمونے کے طور پر سامنے آیا ہے۔یہ بات اس کی غلطیوں کا ازالہ کرنے میں نہایت موثر ہو سکتی ہے تاہم جب ناراض قدرت کا ردِّعمل ظاہر ہو گا تو سائنس دان کو اپنے غلط سائنسی عمل کے مقابل میں اپنے اس اچھے اخلاق کی بنا پر کسی خصوصی مہربانی یا چھوٹ کی توقع نہیں رکھنی چاہیئے کیونکہ سائنس دان بھی دوسری مخلوق کی طرح ایٹمی بربادیوں کی زد میں ہوگا۔

کچہری درخواست ہوتی ہے اور لوگ باہر نکل رہے ہوتے ہیں تو گیٹ پر ایک شخص کھڑا نظر آتا ہے جو ہر باہر آنے والے کوایک مختصر سا پمفلٹ پیش کرتا ہے۔ جس میں لکھا ہے:۔

”خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی، جس نے مال سمیٹااور گن گن کر رکھا خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا رہے گا اس کے ساتھ، ہر گز نہیں وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی حطمہ (کرشر) میں، اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے والی، ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک، وہ بند کی ہوئی ہے آگ، لمبے لمبے ستونوں میں“۔ (القرآن الھمزہ -104)

جاننے والوں نے اس تحریر کو پڑھا اور پرکھا،حطمہ کی سزا کی وجوہ یعنی عیب جوئی  اور دولت کادم بدم سمیٹنا اور گن گن کر (مستقبل کے لئے) رکھنا اور اس دنیوی زندگی کی اتنی محبت کہ اسے ہی لازوال زندگی سمجھ کر اس کی بہتری کے لئے تگ و دو میں یکسر مستغرق ہو جانا، یقیناً اس دور کی خصوصیات ہیں۔ جس میں ایٹمی توانائی اور ایٹم بم پیدا ہو رہے ہیں اور ایٹمی سائنس کے جاننے  والوں نے جانا کہ حطمہ کی تشریح ایٹمی توانائی اور ایٹم بم ہی کی تشریح ہے۔ ایٹمی توانائی بھی ایک آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک اور بند ہے ان پر لمبے لمبے ستونوں میں اور ذوقِ سلیم رکھنے والوں نے بالآخر جان لیا کہ ایٹمی توانائی اور اس کی تباہی سے بچنے کاواحد ذریعہ یہی ہے کہ وہی وجوہات جو حطمہ کی سزا کے جواز کے لئے قرآنِ حکیم میں ظاہر کی گئی ہیں اور وہی وجوہات ایٹمی توانائی اور ایٹم بم کے ظہور کی بھی ہیں ختم کر دی جائیں اس کے لئے ایک عظیم ذہنی انقلاب کی ضرورت ہے اور ایسا انقلاب اس دنیا میں آوے ہی آوے ورنہ یہ دنیا ایٹمی تباہی کی نذر ہو کر ہی رہے گی۔ وہ لوگ جو قرآنِ حکیم میں دی گئی وجوہات کے سبب اگلی دنیا کے حطمہ کی آگ کے مستحق گردانے گئے۔ وہی لوگ بالکل واضح طور پر انہیں وجوہات کی بنا پر اس عارضی دنیا کے اس عارضی ایٹمی جہنم کے سزاوار ہوئے ہیں۔ اس لئے اگر وہ اس دنیا سے ایٹمی جہنم کی سزا سے بچ کر بھی اگلی دنیا کو چلے جائیں گے تو اگلی دنیا میں حطمہ کا جہنم ان کی تاک میں ہو گا کیونکہ حطمہ میں ڈالے جانے کی وجوہات ان میں موجود ہیں نیزقرآنِ حکیم نے حطمہ کی آگ کے زمرے میں مومن اور کافر کی کوئی تمیز نہیں رکھی۔ دونوں ہی ان خصوصی وجوہات کی بنا پر حطمہ کے مستحق ٹھہرائے گئے ہیں۔ یہی بات سب مفسرینِ کرام نے لکھی ہے۔ اَلبَتَّہ یہ کہا ہے کہ مومن اس وقت تک حطمہ میں رہے گا جب تک اللہ چاہے گا پھر نکال لیا جائے گا جب کہ حطمہ کا مستحق کافر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حطمہ میں رہے گا۔ فاعتبرو یااوّلابصار۔

مفسرینِ کرام کی تفاسیر و آرا،حطمہ کے متعلق مختصر نکات:۔

(۱)       حطمہ کی سزا ہر اس آدمی کے لئے ہے جو ان قبائح میں ملوث ہو جو قرآنِ حکیم نے حطمہ کی سزا کی شرط کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔

(۲)       حطمہ کی سزا میں کفر و ایمان کی تخصیص نہیں اَلبَتَّہ مومن جو حطمہ کا مستحق قرار پائے وہ حطمہ میں اسوقت تک رہے جب تک اللہ چاہے پھر نکال لیا جائے۔ کافر اَلبَتَّہ ابدالآباد تک وہیں رہے گا۔

(۳)      ھمزہ و لمزہ۔ ھمزہ وہ شخص ہے جو پیٹھ پیچھے برائی کرے بیان کرے لمزہ وہ ہے جو منہ پر کسی کی برائی کرے۔(یہ عیب جوئی اور نکتہ چینی کی کیفیت اس موجودہ اٹامزمسٹی مادہ پرستی کی بنیادی خاصیت ہے)۔

(۴)      جمع مالاو عددہ۔ (مال جمع کرتا ہے اور اسے گن گن کر رکھتا ہے۔ ہر طرح سے مال جمع کرے ادھر سے، ادھر سے اسے گن گن کر مستقبل کے لئے رکھتا رہے)۔

(دورِحاضر کی یہ منظّم، باقاعدہ، لاامتناہی مادی ترقی اور زراندوزی کی تحریک قرآنِ حکیم کی اس آیت کی مکمل تعبیر ہے)۔ مکمل استغراق، منظّم تحریک، پنچ سالہ منصوبوں کا لاامتناہی تسلسل اور عالمگیر بینکینگ سسٹم اور اعداد و شمار، غرضیکہ یہ ایک کامل تصویر ہے تعبیر ہے اور مادی تفسیر ہے قرآنِ حکیم کےالفاظ جمع مالا وعددہ کی۔

(۵)      یحسب ان مالہ اخلدہ۔ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے زندہ جاوید کر دے گا یا سدا اس کے ساتھ رہیگا۔اس آیت کی تفسیر مفسرینِ کرام نے دو طریقوں سے کی ہے پہلا یہ کہ وہ شخص خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کوزندہ جاوید کر دے گا یا یہ کہ اس کا مال سدا اس کے پاس رہے گا۔ دوسرا یہ کہ وہ عمارتیں بنانے اور دوسرے کاشت کاری وغیرہ کے کاموں میں ابدیت کا اس طرح خیال رکھتا ہے کہ گویا اس کے یہ کام اس کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھیں گے۔ (اس دور کا اقتصادی اور صنعتی ڈھانچہ اور اقتصادی اور صنعتی کارنامے اس آیتِ کریمہ کی بہترین تعبیر پیش کرتے ہیں)۔

(۶)       کلا لینبذن فی الحطمہ۔(ہرگز نہیں بلکہ ڈال دیا جائے گا اس کو حطمہ میں) ۔حطمہ کو ایک روندنے والی ریزہ ریزہ کرنے والی آگ کہا ہے اور لینبذن کے معنوں میں کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہایت ذلّت سے پھینک دیا جائے گا۔ (ایٹمی آگ بھی ریزہ ریزہ کرنے والی آگ ہے اور اس میں اس دور کے لوگوں کو ذلت کے ساتھ اٹھا کرپھینکا جارہا ہے۔

(۷)      وما ادرک مالحطمہ۔ اور تجھے کیا سمجھا سکے؟ کہ حطمہ کیا ہے۔ استفہامی اظہار کامطلب حطمہ کی ہولناکی کو بیان کرنا ہے اور پھر آگے حطمہ کی تشریح کرکے سمجھا دیا ۔(واقعی ایٹمی  توانائی اور ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کا مسئلہ نہایت ہولناک اور سخت پیچیدہ ہے)۔

(۸)      ناراللہ الموقدہ (آگ ہے بھڑکائی ہوئی اللہ کی) ۔(ایٹمی توانائی آگ ہے بھڑکائی ہوئی ہے اور اللہ کی ہے کیونکہ منطقی اور سائنسی اصولوں پر ظہور پذیرہوئی ہے اور بمرتبہ سزا ہے)۔

(۹)       التی تطلع علی الافئدہ۔ (جو چڑھتی ہے دلوں پر)  امام فخر الدین رازی علیہ الرحمتہ نے فرمایا۔ آگ دل پر مسلّط ہو جاتی ہے اور اسے محصور کر لیتی ہے مگر جلاتی نہیں کیونکہ جلا دینے سے موت کا لزوم واجب ہو جاتا ہے جب کہ موت اس دوسری دنیا میں نہیں۔ (ایٹمی آگ بھی دلوں پر چڑھتی ہے لیکن یہ حطمہ کا ایک دنیوی اور عارضی مظہر ہے)۔

(۱۰)     انہاعلیہم موصدہ في عمد ممددہ۔ (یہ آگ ہے بند کی ہوئی ان پر لمبے لمبے ستونوں میں)۔ اس ضمن میں مفسرینِ کرام کی متعدد آراء ہیں۔ بعض نے فرمایاکہ دوزخیوں کو لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ باندھ کر ان کوآگ کی سزا دی جائے گی۔ بعض نے فرمایا ہے کہ خالی ستونوں کے اندر دوزخیوں کو بند کر کے اس میں آگ جلا دی جائے گی۔ جریر طبری علیہ الرحمتہ نے فرمایا۔”حقیقتِ حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے“۔ اَلبَتَّہ جملہ مفسرینِ کرام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سب نے حطمہ کی آگ کی ان خصوصیات کو بنظرِ استعجاب دیکھا ہے اور اس کی عجبیّت پرحیرت کا اظہار کیا ہے۔

آخیر میں یہ عرض کرنے کی اجازت دی  جائے کہ قرآنِ حکیم کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  عیب جوئی اور نکتہ چینی، دولت جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے اور دولت کے متعلق ہمیشگی کے گمان کی سزا کفر کی سزا بلکہ کفر کی سزا سے بھی سخت معلوم ہوتی ہے۔ چلو جان لیا کہ ہر آدمی ایٹمی مسئلے کی حقیقت کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا لیکن عیب جوئی اور نکتہ چینی، دولت جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے اور دولت میں ہمیشگی کے گمان کی بات کو سمجھنا تو آسان ہے پھر موجودہ دور کی اس مادی ترقی کے دفاع میں یہ بات کہنا کہ کیا اسلام ترقی کی اجازت نہیں دیتا کہاں تک درست ہے؟

Khatam Shareef Ikhtatami Dua Salana Urs Allama Yousaf Gabriel 2017