Top Banner Blue

باب نمبر 9۔ حطمہ یعنی ایٹمی جہنم کی قرآنی اور سائنسی تشریخ، میرا ابتدائی اظہار

 

ایٹمی جہنم کے متعلق قرآنِ پاک کی اس عظیم پیشین گوئی کا انکشاف مجھ پر1961 ء میں ہوا اور ابھی تک اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا اس غلغلہء ِقرآنی سے بے خبری میں ہے۔ اس پیشین گوئی کے کچھ چیدہ کوائف مندرجہ ذیل ہیں اور یہ کوائف خواہ بادی النظر میں کتنے ہی بعید از قیاس نظر آئیں اور کتنے عجیب و غریب معلوم ہوں اور انسانی ذہن میں کتنے ہی محیّرالعقو ل، حیرت ناک اور نادرالوجود بن کر اُ بھریں۔ حقیقت میں کلّی طور پر مبنی بر صداقت ہیں۔ اگر ایک تنقیدی نظر ان دعاوی پر ڈالی جائے گی تو انشاء اللہ بفضلِ خدا اس دعوے میں شک و شبہہ کی گنجائش ناپید ہو گی۔

(۱)    دنیا کی کوئی طاقت اِس وقت اِس دنیا کو اِس ایٹمی تباہی سے نہیں بچا سکتی سوائے قرآنِ پاک کی اس معجز  نما پیشین گوئی کے اور وہ اس طرح کہ وہ وجوہات جو قرآنِ پاک نے اِس ایٹمی جہنم کی پیدائش کی گِنوائی ہیں اور فقط   قرآنِ پاک ہی نے پہلی مرتبہ گِنوائی ہیں، اگر معدوم کر دی جائیں تو ان کے نتائج یعنی ایٹمی جہنم کے مختلف روپ خود بخود معدوم ہو جاتے ہیں۔ بالفرض اگر انسانیت لا علمی، ضد، غرور یا بے بسی میں قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے اِس لائحۂ عمل پر عمل پیرا ہونے سے قاصر رہتی ہے تو لامحالہ یہ رواں دواں عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر ہی رہے گا اور ا ُ س صورت میں سوائے انا للّٰہ و انا الیہ راجعون کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

(۲)       اور یہ کہ یہ پیشین گوئی جدید بیکنی اٹامزم کی تشریح و تعریف کا ایک ایسا معجزہ ہے جو دنیا کے کسی بھی عظیم فلسفی بشمول مرحوم برٹرینڈ رسل کے بس کی بات نہیں۔ آج اِس دنیا میں ہر وہ دانش ور جو اس مرض کا علاج تجویز کر رہا ہے وہ حقیقی علاج کے یکسر اُ لٹ ہی نہیں بلکہ قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے علاج کے بھی بالکل اُ لٹ ہے۔ آپ حیران ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے اور ثبوت اِس بات کا یہ ہے کہ اگر اُ ن کا بتایا ہوا علاج درست ہے تو پھر اس دنیا کو ایٹمی تباہی سے نجات دلا کر دکھا دیں۔نہیں بلکہ وہ تو ہر لمحے اس انسانیت کوایٹمی جہنم کے گڑھے کی جانب دھکیلتے جا رہے ہیں۔

 (۳)     اوریہ کہ یہ پیشنگوئی ایٹمی سائنس ۔ اس جدید ایٹمی عمل  (Phenomenon) کی تعریف و تشریح و تعبیر کا  ایک ایسا نادر الوجود نمونہ پیش کرتی ہے جس کی مثال پیش کرنا اِس دنیا کے کسی بھی عظیم ایٹمی سائنس دان بشمول آئن سٹائن اور بشمول سر جیمز جینزکے بس کا روگ نہیں اور اس طرح آج بھی قرآن حکیم کا  یہ دعویٰ اپنی جگہ پر برقرار ہو جاتا ہے کہ انسان اور جِن سب مل کر بھی اس جیسی ایک سورۃ نہیں پیش کر سکتے۔ آج قرآنِ پاک کی یہ محض نو آیتوں والی سورۃ یعنی سورۃ الھمزہ(104) ایک چیلنج کی مانند دنیا کے سامنے ہے۔ دنیا کا کوئی فلسفی یا کوئی سائنس دان جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے اور جدید ایٹمی سائنس کی تشریح کے موضوع پر چھتیس لفظوں پر مشتمل ایک پیرا گراف لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کریں جو اتنا ہی جامع ہو۔

(۴)         اور یہ کہ جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے کی بنا پر ایٹمی جہنم(یعنی ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری) کے منطقی ظہور کی خبر دینا محض قرآنِ پاک ہی کا حصہ ہے۔کسی سقراط یا افلاطون یا ارسطو سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی اگر وہ بھی ایسا کر سکتے تو ضرور کرتے کیونکہ قدیم یونانی اٹامزم اُ ن کے دور میں موجود تھا اور یہ تینوں حضرات اس فلسفے کے شدت کے مخالف تھے۔ انہوں نے اس فلسفے کی لادینیت کو سمجھا اور اس کے فلسفیانہ مضمرات کو انسانیت کے لئے مُضر تصّور کیا اور اس کی ہر طرح سے مخالفت کی مگر یہ کہ وہ یہ بتا سکیں کہ اسی فلسفے کے نتیجے میں ایک روز ایٹمی جہنم پیدا ہو جائے گا۔ اُ ن کے نادرالوجود فہم وفراست کے باوجود اُ ن کے بس کی بات نہ تھی ۔یہی نہیں بلکہ اس جدید دور کے فلسفی تو فلسفی خود سائنس دان بھی اُس وقت تک بے یقینی اور گو مگو کے عالم میں تھے جب تک کہ پہلا ایٹم بم کامیابی سے چلا نہیں دیاگیا اور اُ سے چلتا ہوا دیکھ نہیں لیا۔

 (۵)     اور یہ کہ قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق یہ پیشین گوئی تاریخ کے اُ س مقام پر پیش کی جس وقت اس دنیا میں نہ تو قدیم یونانی اٹامزم کی کوئی رمق ہی باقی تھی نہ ہی کسی آئندہ دور میں اس کے احیا ء کا ہی کوئی احتمال تھا اور پھر قرآن حکیم نے  یہ سائنسی تشریح اُس دور میں کی جس میں موجودہ سائنس یا اس کے انکشافات و کمالات کاکوئی ہلکا سا تصّور کسی کے وہم و گمان یا خواب و خیال میں بھی نہ تھا۔ اب اگر قرآنِ حکیم کی کی ہوئی اس ایٹمی عمل(Phenomenon) کی تعریف و تشریح کا دعویٰ مبنی بر صداقت ہے اور انشاء اللہ کسی شک و شبہے کی امکانی صورت سے بعید ہے تو پھر آپ ہی کہیئے کہ کسی آئن سٹائن یا کسی روتھر فورڈ کے لئے قرآنِ حکیم کی اس معجزانہ کیفیت کو معجزہ قرار دینے کے سوا کیا چارۂ کار رہ جاتا ہے۔

 کون آج سے چودہ سو سال قبل عرب کے ملک میں ان  ایٹمی اسرار و رموز سے واقف تھا۔ اب اگر سائنس اصولی طور پر معجزے کے امکان سے انکار کرتی رہے تو کرتی رہے لیکن کسی بھی ذی علم سائنس دان کے لئے اس معجزے سے انکار سوائے بے جاہٹ دھرمی کے ممکن نہیں اور پھر دیکھئے اگر آج سے چودہ سو سال قبل اس ایٹمی حقیقت کو سوائے رب تعالیٰ کی علیم و قدیر ذات کے کوئی نہ جانتا تھا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ بات خود اللہ تعالیٰ نے کہی اور یہ کہ قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ اگر ایک بات بھی اللہ تعالیٰ کی اپنی کہی ہوئی موجود ہے تو سارا  قرآنِ حکیم ہی اُسی کا کلام ہو گا کیونکہ قرآنِ حکیم  کا دعویٰ یہی ہے اور اللہ کے معاملے میں نبی کریمﷺ معاذ اللہ جھوٹ کامرتکب نہیں ہو سکتے اور چھوڑیئے اگر یہی ایک پیشین گوئی ہی سارا  قرآن  ہوتی تب بھی اس کی وقعت کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ یہ اس ایٹمی جہنم کے کنار ے پر کھڑی ہوئی اس انسانیت کو دو جہانوں کی المناک تباہی سے بچانے کا واحد وسیلہ ہے۔

 دیکھئے اس طرح ہی قرآنِ حکیم کامنجانبِ اللہ ہونے کا ثبوت ساری دنیا کی قوموں کے سامنے ایک کافی، شافی اور مسکت انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے اور اسطرح ہی تعصّب کی دیوار گرتی نظر آتی ہے اور اس طرح ہی روئے زمین کی قومیں   قرآنِ حکیم کی علمی اور الہامی عظمت کے سامنے دو زانو ہو سکتی ہیں۔ اس دلیل کے علاوہ جتنی بھی دلیلیں قرآنِ حکیم کے الہامی اور منجانب اللہ ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں اور پیش کی جا سکتی ہیں۔ وہ  قرآنِ حکیم کے ماننے والوں کی تشفی تو کر سکتی ہیں مگر انکار کرنے والے اُ ن دلیلوں کو اللہ اور بندوں کے درمیان قدرِ مشترک کا جواز پیدا کرکے اُ ن سے روگردانی کر لیتے ہیں مثلا ً فصاحت و بلاغت، یا پندو نصائح یا قوانینِ شریعت یا پرانی تواریخ یا پیشین گوئیوں کا وجود ایسے امور ہیں جن کا ملکہ کسی حد تک انسانی ذہن میں بھی موجود ہے لیکن چودہ سو سال قبل ایٹمی سائنس کے اسرار و رموز کا انکشاف و تشریح کسی انسانی ذہن کے بس کی بات نہیں تھی اور یہی نہیں بلکہ جہاں تک اس پیشین گوئی کا تعلق ہے اس میں بھی یہ بات واضح ہے کہ اس قبیل کی پیشین گوئی کسی انسانی علم کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ یہ پیشینگوئی ایٹمی سائنس کے اسرار و رموز اورایٹمی عمل کی تشریح کے ساتھ منسلک ہے۔

(۶)       اور یہ کہ قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی اس ایٹمی دور کے اس ایٹمی آگ والے عالم گیر طوفان کے لئے بہ مرتبہ ءِ کشتئ نوح ہے۔ کوئی بھی سوائے اس کشتی میں سوار ہونے کے اس عالمی ایٹمی طوفان کی آگ سے نہیں بچ سکتا۔

(۷)      اور یہ کہ اس دنیا میں ایٹمی جہنم کے خلاف چلائی جانے والی کوئی بھی تحریک جب تک اس پیشین گوئی میں دیئے ہوئے راہنما خطوط اور بنیادی ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوتی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔

(۸)      اور یہ کہ کسی بھی دین کا مکمل احیاء یا کامل نفاذ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس پیشین گوئی کی ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اس فتنہ و فسا د کی بنیادی اساس کا قلع قمع نہیں کر دیا جاتا۔قارعین ِ کرام حطمہ ہی ایٹمی جہنم ہے اور حطمہ کا بیان قرآنِ حکیم کی ایک بہت بڑی پیشین گوئی ہے ۔آخیر میں واضح ہو کہ ایک حقیقت ہے ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی اور وہ یہ ہے کہ :۔

”جو شخص بھی اس دنیوی ایٹمی جہنم کا مستحق قرار پایا مگر اتفاقات کی بنا پر اس عذاب سے بچ کر چلا گیا تو بھی وہ شخص اُ س حُطَمہ سے جو اللہ تعا لیٰ نے اگلی دنیا میں بھڑکا رکھا ہے، اُ س سے کسی صورت بھی بچ نہیں سکے گا اور دلیل اس امر پر یہ ہے کہ وہ وجوہات جو اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش کا موجب ہوئیں اور وہ وجوہات جو قرآنِ حکیم نے حُطَمہ کے جہنم کی آگ میں سزا بھگتنے کی گِنوائی ہیں وہ اصلاً ایک ہی ہیں یعنی عیب جوئی کی عادت اور زر اندوزی میں مکمل استغراق اور دولت کی ہمیشگی کی یقینیت“۔

اب اگر یہ حقیقت درست ہے اور یقنناً درست ہے تو پھر یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں روئے زمین پر موجود ہر چیز اور انسان کے دل میں پیدا ہونے والی تمام حرص و ہوس یکسر ڈوب کے رہ جاتی ہے کیونکہ اس فانی دنیا کا عذاب تو بالآخر ختم ہونے والا ہے مگر اگلی لازوال اور ابدی دنیا کے لازوال اور ابدی عذاب کا کیا بنے گا۔ اللہ تعالیٰ اس انسانیت کو اس دردناک عذاب سے بچنے کی صلاحیت عطا فرما ئے اور خود اپنا کرم کرے۔ قرآنِ حکیم کا لفظ سچ ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ حکیم کے صدقے میں اپنے بندوں پر رحم کرے۔   آمین۔

اپیل قارعینِ کرام سے اس کتاب میں  قرآنِ حکیم کی آیات تحریر کی گئی ہیں۔ہم نے حتٰی الوسع کوشش کی ہے کہ آیات صحیح اور تراجم صحیح لکھے جائیں تاہم تقاضائے بشریت کے تحت اگرکتابت میں سہواًکوئی غلطی رہ جائے۔آیت غلط لکھی جائے یا کوئی اور غلطی سرزد ہو تو دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری اس غلطی کو معاف فرمائے۔ اور ہمیں مطلع فرمائیں تاکہ اگلے ایڈیشن میں تصحیح ہو سکے۔

چند جھلکیاں

(۱)  آئن سٹائن کا تاریخی خط پریذیڈنٹ روزولٹ کے نام:۔

”    میں یورانیم فژن کے ذریعے نئی قسم کے بے پناہ طاقت ور بم بنائے جانے کے اُ س امکان کی جانب آپ کی توجّہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو فرمی اور زلرڈ کی تحقیق کی روشنی میں رونما ہُوا ہے۔ ایسے بم جو عام بارودی بموں سے لاکھوں گنا طاقت ور ہیں ایسا ایک بم کشتی میں ڈال کر اگر ایک بندرگاہ میں پھٹا دیا جائے تو نہ صرف پوری کی پوری بندرگاہ کو اُ ڑا دے بلکہ بندرگاہ کے اردگرد کے کچھ علاقے کو بھی غارت کر ڈالے“۔

            (آئن سٹائن کا خط پریذیڈنٹ روزولٹ کے نام  اگست 1939)

(۲)  فژن چین ری ایکشن میں انسان کی کامیابی:۔

2 اگست1942 ء کو انسان نے یہاں پر پہلی بار سیلف سسٹینڈ چینڈ ری ایکشن (Self-Sustained Chained Reaction) پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اس طرح ایٹمی توانائی کی کنٹرول ریلیز (Control Release)کا اجرا ہوا۔  (سٹیگ فیلڈ شگاگو یُو نیورسٹی کا سائن بورڈ(

(۳)ایک واقعہ:۔

”ایک واقعہ 1945ء میں ایسا رُ ونما ہوا  جس نے دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں انقلاب پیدا کر دیا اور انسانیت کے ایک نئے دور کی ابتداء کر دی۔ایک ایسا دور جس کے ثمروں اور جس کی منزلوں اور جس کے مسائل کا ہمیں ابھی تک کماحقہ ادراک نہیں“۔

 (امریکی صدر ٹرومین کی یادداشتیں 1956ء)

 (۴)   رسل کی نااُ میدی:۔

”جب سے باوا آدم اور اماں حوا نے گندم دانہ چکھا آدمی نے کبھی بھی اپنی اُ ن تمام حماقتوں میں ذرہ بھر کمی نہیں کی جن کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی بم ہے“۔

 (برٹرینڈرسل)

 (۵)  مشاہیرِِ زمانہ کی اپیل انسانیت کے نام:۔

ہاں تو یہ ہے وہ واضح ہولناک اور اٹل مسئلہ جو ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں کیا ہم نوعِ انسانی کو ختم کر دیں گے یا نو عِ انسانی جنگ کو خیر باد کہہ دے گی۔ لوگ اس راہ کو اختیار نہیں کریں گے کیونکہ جنگ کا خاتمہ نہایت مشکل امر ہے۔اگر ہم چاہیں تو ہمارے سامنے مسرت و انبساط اور علم و فضل اور دانش مندی و دانائی کی لا امتناہی راہیں کھلُی ہیں۔کیا ہم موت اختیار کرینگے کیونکہ ہم اپنے باہمی جھگڑوں کو بھلُا نہیں سکتے۔ اپنی انسانیت کو یاد رکھو اور باقی سب کچھ فراموش کر دو۔اگر تم ایسا کرسکے تو ایک نئی جنت کی راہ کھلی ہے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو پھر ایک مکمل فنا کا خطرہ تمھارے سامنے ہے۔

(زیر دستخطی حضرات کے بیان کا ایک حصہ جو جولائی1955 ء کو شائع ہوا۔البرٹ آئن سٹائن، پرسی ،ڈبلیو، برجمین، لیوپولڈ انفیلڈ،ہرمن، جے ملر، سی سیل، ایف پاوّل، جوزف رٹ بلاٹ، ہُڈ کی یکاوا، جین فریڈرک، جولیٹ کیوری، برٹرینڈرسل (سائنس 122-189, 1955)۔

 (۶)  قرآنی فیصلہ:۔

”خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی جس نے مال سمیٹا اور گِن گِن کر رکھا ۔خیال کرتا ہے کہ اُ س کا مال اُ س کے ساتھ ہمیشہ رہے گا  ۔ہرگز نہیں بلکہ وہ حُطَمَہ میں پھینکا جائے گا اور تُو کیا سمجھا وہ حُطَمَہ کون ہے ایک آگ ہے اللہ کی سُلگائی ہوئی وہ جھانکتی ہے دلوں کو وہ آگ ہے بند کی ہوئی لمبے لمبے ستونوں میں“۔ (سورۃالھمزہ-104 )

 (۷)     ایٹمی تباہی کے بعد انسانیت کے مزار پر نمودار ہونے والا کتبہ:۔

”ان برباد کھنڈروں کے نیچے ایک کُوہڑ ی، کینسر اور  ناسور زدہ، عفریت نما اور عجیب الخلقت انسانی نسل کی بوسیدہ اور تہہ بہ تہہ ہڈیاں اور راکھ کے ڈھیر دبے پڑے ہیں۔ یہ کبھی انسان تھے۔ جو خُدا کی اس زمین پر خُدا کے خلیفہ کی حیثیت سے بستے تھے۔ خُدا کی پسندیدہ ترین مخلوق کی حیثیت میں خالق کے لامحدود انعام و اکرام سے نوازے ہوئے  یہ لوگ اللہ کی صفات کا پَرتو تھے۔اُ ن پر کسی نے ظلم نہ کیا مگر خود اپنے ہی ہاتھوں یہ لوگ یہ سب کچھ اپنے سروں پر لائے حرص کی آگ سے بے قابو ہو کر اس زمین پر اپنی زندگی کا مقصود اور آخرت میں اپنا گھر بھلا بیٹھے اور غضبناک ہو کر ایک دوسرے پر پل پڑے اور سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ تمام روئے زمین پر بکھرے ہوئے شہروں کی ویرانی زبانِ حال سے آہیں بھرتے ہوئے ششدر ستاروں کو ایک المناک داستان سنانے کیلئے باقی ہے“۔

    ایٹمی تباہی کے بعد انسانیت کے مزار پر نمودار ہونے والا کتبہ:۔

ان برباد کھنڈروں کے نیچے ایک کُوہڑ ی، کینسر  اور  ناسور زدہ  اور عجیب الخلقت  مخلوق کی کچلی ہوئی ہڈیاں اور جلی ہوئی لاشوں کی راکھ کے ڈھیر دبے ہوئے ہیں۔ یہ  لوگ کبھی انسان تھے جو اس زمین پر خُدا کے نائب کی حیثیت سے بسے۔ ایک چنی ہوئی مخلوق کے طور پر انہیں خالق کے  بہترین انعام حاصل تھے۔ اللہ نے اُن کو اپنی صورت پر پیدا کیا تھا۔ پھر کسی نے اُن پر  ظلم نہ کیا مگر خود اپنے  ہاتھوں سے اُنہوں نے یہ بربادی اپنے لیے مول لی۔  وہ ہوس کی آگ کو قابو میں نہ رکھ سکے۔وہ  زمین پر اپنے مقصدِ حیات کو بھول گئے۔وہ  آخرت والے اپنے اصلی گھر کو فراموش کر بیٹھے اور ایک دوسرے پر جنگلی درندوں کی طرح  پل پڑے اور ایک دوسرے کو تہس نہس کر ڈالا۔ ایک وقت کی زندہ بستیوں  کے یہ کھنڈر  روئے زمین پر ستاروں کی نیم شبی آہوں کےدرمیان زبانِ حال سے داستانِ غم سنانے کے لیے موجود ہیں۔

 (۸)    ککی پیش بینی:۔

  قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے۔

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ لاo ٢٥وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ لاo٢٦وَّنَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فٰكِهِيْنَ لاo ٢٧كَذٰلِكَ قف وَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَo ٢٨فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ ع-o ٢٩

ترجمہ:۔ ” کتنے  باغ اور چشمے ، کھیتیاں اور عمدہ گھرچھوڑ گئے اور آرام کا سامان جس میں باتیں بنایا کرتے تھے۔ یوں ہی  اور اُس سب کا وارث ہم نے ایک اور قوم کو کر دیا۔  پھر نہ رویا اُ ن پر آسمان اور زمین اور نہ ملی اُ ن کو ڈھیل“۔

(44-الدخان-29-25)

ایٹمی تھیوری

(۱)ایٹمی توانائی:۔

            انسان مدتِ مدید سے پانی کے ذریعے پیدا ہونے والی توانائی اور لکڑی اور لکڑی کا کوئلہ جلا کر پیدا ہونے والی توانائی کا استعمال کرتا رہا ہے۔ پہلی مثال کشش ثقل سے پیدا ہونے والی توانائی اور دوسری مثال کیمیاوی توانائی (جو کہ اساسی طور پر بجلی کی توانائی ہے) کی ہے۔گذشتہ سالوں میں ایک بالکل انوکھی قسم کی توانائی (جو کہ تقریباً دس لاکھ گنا طاقت ور ہے)  دریافت ہوئی ہے۔ اس قوت کا سرچشمہ ایک ایسی طاقت ہے جسے نیوکلر فورس یعنی ایٹمی توانائی کہا جاتا ہے۔ ایٹمی توانائی کی اصطلاح اگرچہ غلط نہیں قرار دی جا سکتی لیکن باریک بینی کی جائے تو نیوکلر توانائی میں نیوکلر کا لفظ ایک مخصوص موزونیت کا حامل نظر آتا ہے کیونکہ یہ ایٹمی توانائی(یہاں ہم اسے ایٹمی توانائی ہی کہیں گے)ایٹم کے قلبی حصوں پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان عمل پذیر ہوتی ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ثقلی اور کیمیاوی توانائی کے برعکس نیوکلر توانائی جسے ایٹمی توانائی بھی کہا جاتا ہے گہری بصیرت کے ساتھ ساتھ بنیادی سائنس کے ایک انتہائی ترقی یافتہ مقام کی متقاضی ہے اور جب ہم یہاں بنیادی سائنس کی بات کرتے ہیں تو ہمیں سائنس کو عام تجربے سے حاصل شدہ ہنر اور فن کے مقابلے میں ایک امتیازی حیثیت سے دیکھنا ہو گا۔ ایٹمی توانائی کا انکشاف اور استعمال صدیوں کی کمر توڑ محنت اور مسلسل جدوجہد سے حاصل کئے ہوئے منظّم علم، مسلسل اور مربوط سائنسی ترقی اور ایک وسیع و عریض نظام کی بدولت ہی ممکن ہو سکا۔

 تمام مادہ ایٹموں کا بنا ہُوا ہے۔ ایٹم مل کر مالیکیو ل(سالمے) بناتے ہیں۔  ہر ایٹم کا ایک مرکزی مقام ہے جسےنیوکلّیس کہا جاتا ہے اور جو ایٹم کا دل ہوتا ہے۔ اس کے گردا گرد الیکٹران چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ جس طرح کہ کہا جاتا ہے کہ سیارے سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ تمام نیوکلّیس دو بنیادی اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں پروٹان اور نیوٹران کہا جاتا ہے۔ نیوٹران برقی لحاظ سے بے حِس ہوتا ہے۔ پروٹان مثبت برقی چارج کا حامل ہوتا ہے۔ جس کی مقدار الیکٹران کے منفی برقی چارج کے برابر ہوتی ہے۔ نیوٹران ذرہ بھر(759 حصوں میں ایک حصہ) سے پروٹان سے وزن میں بڑا ہوتا ہے۔ پروٹان الیکٹران سے جحم میں (1836)گنا بڑا ہوتا ہے۔ نیوٹران ایٹم کے باہر غیر ثابت ذرہ ہے۔ اس کی نیم حیات تقریباً چوتھائی گھنٹہ ہوتی ہے اور یہ ایک پروٹان اور ایک الیکٹران میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ ایٹم آج تک کسی نے خوردبین میں بھی نہیں دیکھا۔

نیوکلّیس کا ماس نمبر(A) اس میں موجود پروٹانز اور نیوٹرانز کی تعداد ہوتی ہے۔ پروٹانز کی تعداد کی علامت(Z) ہے۔ یہ اٹامک نمبر ہر عنصر کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ مثلاً ہائیڈروجن کا ایک ہے۔ سٹرانٹیم کا 38 اور یُورانیم کا92 ہے۔ ایک ہی عنصر کے دو مختلف نیوکلّیس ہو سکتے ہیں جن کا ماس نمبر(A) مختلف ہوتا ہے۔ یہ مختلف صورتیں اُ س عنصر کے آئیسوٹوپ کہلاتی ہیں۔ کسی بھی نیوکلّیس کی نوع کا تشخص Z اور A کی تعداد معین کرنے سے کیا جاتا ہے۔ اسطرح Z=92 اور A=235 بالعموم‘ یورانیم 235 لکھا جاتا ہے۔یورانیم238 میں 92 پروٹان اور146 نیوٹران ہوتے ہیں۔ یعنی کل238  نیوکلّین ہیں۔ پروٹان اور نیوٹران میں سے کسی کو بھی نیوکلّن کہتے ہیں۔ پروٹان اور نیوٹران جب کسی نیوکلّیس میں واجبی مقدار میں ہوتے ہیں تو وہ بڑی مضبوطی سے بندھے ہوتے ہیں۔ لیکن جس نیوکلّیس میں یہ بہت بڑی تعداد میں یا بہت تھوڑی تعداد میں ہوتے ہیں تو اُ ن کا بندھن کمزور ہوتا ہے اور اسی کمزور بندھن کی وجہ سے وزنی نیوکلّیس فژن اور فیوژن کے دوران توانائی خارج کرتے ہیں۔

 بعض عناصر کے ایٹموں کا اٹامک نمبر ایک جیسا ہوسکتا ہےیعنی پروٹانز کی تعداد یک جیسی ہو سکتی ہے لیکن اُ ن کا ماس نمبر مختلف ہو سکتا ہے یعنی اُن کےنیوکلّیس میں نیوٹرانز کی تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر کلورین کا اٹامک نمبر 17 ہے یعنی کلورین کےنیوکلّیس میں 17 پروٹان ہیں لیکن کلورین کے ایک ایٹم میں 18 نیوٹران ہو سکتے ہیں اور اس طرح اُ س کا ماس نمبر35 ہو گا جب کہ کلورین کے ایک دوسرے ایٹم میں 20 نیوٹران ہو سکتے ہیں اور اس صورت میں اُس کا ماس نمبر37 ہو گا تاہم دونوں کلورین ہی کے ایٹم ہیں اور ان کو آئیسوٹوپ  Isotope کہا جاتا ہے۔ اب یہ تفریق جو ایک ایٹم میں پائی جاتی ہے ہماری اس کتاب میں ہمارے لئے دلچسپی کا باعث ہو گی کیونکہ آئیسوٹوپ کسی نیوکلّیس کی مختلف صورتوں پر مُشتمل ہوتے ہیں  اور ان صورتوں میں ایٹمی نیوکلّیس یعنی ایٹموں کے دل ایک ہیجانی کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں اور یہی ہیجانی کیفیت ایٹمی توانائی کے اخراج کا باعث ہوتی ہے۔ایٹمی وزن (Atomic Weight) کسی ایٹم کا وہ وزن ہوتا ہے۔  جو ایٹموں کے وزن کی باہمی نسبت سے حاصل ہوتا ہے۔

ا یٹمی توانائی کی پیدائش کے طریقے:

(۱)  فژن پروسس Fission Process  فژن کے معنی ہیں کسی نیوکلّیس کو چھوٹے نیوکلّیسوں میں تقسیم کرنا۔  تمام وہ عنصر جن میں ایسی تقسیم کا عمل ممکن ہے۔ اُ ن میں سے سب سے زیادہ موزوں عنصر یورانیم235 پایا گیا ہے۔ یورانیم کےنیوکلّیس کو اگر تقریباً  دو برابر نیوکلّیسوں میں منقسم کر دیا جائے۔ تو توانائی خارج ہوتی ہے۔ وہ عمل جس میں کسی بھاری نیوکلّیس مثلاً یورانیم کےنیوکلّیس کو دو درمیانی نیوکلیسوں میں تقسیم کرکے توانائی پیدا کی جائے۔فژن چین ری ایکشنFission Chain  Reaction   یا نیوکلر فژن (Nuclear Fission) کہلاتا ہے۔

جب یورانیم 235 کے آئسوٹوپ کو سست نیوٹرانز سے بمبارڈ کیا جاتا ہے تو فژن فوری طور پر شروع ہو جاتی ہے۔ نیوٹران یورانیم ایٹم کے دل(نیوکلیس) پر حملہ آور ہوتا ہے اورنیوکلّیس کو دو تقریباً برابر نیوکلائی میں تقسیم کر دیتا ہے۔مثلاًکرپٹن Krypton اور بیریم Barium کے نیوکلائی اور اس دوران میں دو یا تین (اوسط 2.5 ہے) نیوٹران یورانیم 235 ایٹم سے نکال باہر کرتا ہے۔ ان خارج شدہ نیوٹرانز میں سے ہر ایک۔ ایک ایک یورانیم235 ایٹم پر حملہ آور ہوجاتا ہے  اور اس کےنیوکلّیس سے دو یا تین نیوٹران نکال باہر کرتا ہے۔ یہ خارج شدہ نیوٹرانز پھر آگے ایک ایک یورانیم ایٹم پر حملہ آور ہو کر اُ سی طرح دو دو یا تین تین نیوٹرانز نکال باہر کرتے ہیں اور یہ عمل جاری رہتا ہے جب یہ عمل جاری ہو جاتا ہے تو سائنس کی اصطلاح میں کہا جا تا ہے کہ فژن چین ری ایکشن شروع ہو گیا۔ جب پہلی بار فژن میں کامیابی ہوئی تو سائنس دانوں نے بڑی خوشی منائی لیکن جب فژن چین ری ایکشن شروع ہو گیا تو اُ ن کی خوشی انتہاء کو پہنچ گئی لیکن وہ دوسرے لوگوں حتٰیٰ کہ خود سائنسدانوں کو بھی اس خوشی میں شریک نہ کر سکے۔ راز انتہائی خفیہ تھا اور صرف اُ ن چند ایٹمی سائنسدانوں کو اس کا علم تھا جو اس لیبارٹری میں کام کر رہے تھے۔ بہتر فژن چین ری ایکشن کا عمل آنکھ جھپکنے کی دیر میں یورانیم یا دوسرے فزائیل مٹیریل کو لال سرخ کر دیتا ہے اور وہ اس زیادتی پر اس قدر غضبناک ہو جاتا ہے کہ دھماکے کے ساتھ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس عمل کو ماڈریٹروں کے ذریعے کنٹرول کرکے کسی حد تک دھماکے پر تو کنٹرول کر لیا مگر ریڈیائی تابکاری کی شعاعوں کو جو لازماً فژن سے پیدا ہوتی ہیں۔ کنٹرول کرنا اُ ن کے بس کی بات معلوم نہیں ہوتا۔

(ب)  ایٹمی توانائی کی پیدائش کا دوسرا طریقہ فیوژن پراسس Fusion Processاس عمل میں ہلکے پھلکے نیوکلائی والے ایٹم استعمال ہوتے ہیں۔یہ عمل کئی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً سا ئیکلا ٹرن  یا دوسرے ہائی انرجی پارٹیکل ایکسیلیر یٹر  سےحاصل کئے جانے والے بجلی سے بپھرے ہوئے ذرات سے ہلکے عناصر کو بمبارڈ کرنے سے اَلبَتَّہ فیوژن پراسس کے اجراء کے لئے لاکھوں درجے ٹمپریچر کی ضرورت ہے۔ ایسا ٹمپریچر حاصل کرنے کے لئے فژن چین ری ایکشن سے چلنے والے عام ایٹمی بم کو استعمال کیا جاتا ہے۔اس عام ایٹمی بم کے گرد فیوژن مٹیریل کو لپیٹ کر ایٹمی بم کو چلا دیا جاتا ہے۔ وہ بے پناہ گرمی جو ایٹم بم پیدا کرتا ہے وہ فیوژن پراسس کو جاری کر دیتی ہے۔ جو مزید اُ س گرمی کو بے پناہ سے بے پناہ تر کر دیتا ہے اور اس طرح دو آگیں جمع ہو کر معاملے کو دو آتشہ بنا دیتی ہیں۔ فیوژن بم کا ٹمپریچر لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں درجے تک جا پہنچتا ہے۔ اسی فیوژن بم کو ہائیڈروجن بم کہا جاتا ہے اور بعض دفعہ ہیل بمHell bomb یعنی جہنمی بم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ اس فیوژن والے چکر کو اس اصطلاحاتی بھر مار کے باوجود نہ سمجھ سکے ہوں گے اگر آپ سائنس کے طالب علم نہیں ہیں۔ عوام کی بولی میں بات یوں ہو گی کہ ایک ہلکے عنصر کے دل کو دوسرے ہلکے عنصر کے دل میں دبا کر اس بری طرح سے کُچلا جاتا ہےکہ قدرت شدتِ درد سے تلملا اٹھتی ہےاور جوشِ غضب میں اس سارے جہاں کو بھسم کر دینے کے لئے شُعلہ بار ہوتی ہے۔  فژن پراسس کے معاملے میں بھی قدرے اختلاف کے ساتھ یہی بات کہی جا سکتی ہے۔

اٹامک ریڈی ایشنزAtomic Radiations)):

لیکن سب سے خطرناک چیز وہ تابکار شعاعیں ہیں جو فژن پراسس میں پیدا ہونی لازمی ہیں۔ اُ ن کو الفا،  بِیٹا، گاما ریز اور نیوٹرانز Neutrons کے نام دیئے جاتے ہیں۔ یہ شعاعیں انسانی پانچ حِسوں کے ادراک سے باہر ہیں اور انسانی صحت اور انسانی زندگی کی قاتل ہیں۔ یہ صرف انسان کو مار ہی نہیں دیتیں بلکہ کوڑھ اور دردناک قسم کے کینسر میں مبتلا کر دیتی ہیں اور یہی نہیں بلکہ انسانی نسل کو عجیب الخلقت مخلوق بنا دیتی ہیں۔ یہ شعاعیں ضرور پیدا ہوتی ہیں خواہ ایٹمی توانائی برائے امن ہو یا برائے جنگ اور ایٹمی توانائی برائے امن کی اصطلاح غلط دکھائی پڑتی ہے۔ آپ سانپ کو تو نفع کے لئے استعمال کر سکتے ہیں   ایٹمی توانائی کو نہیں۔

اٹامزم کے فلسفے کی مختصر تاریخ:

(۱)۔اٹامزم کا  ثمر ایٹم بم:

اب ہم اٹامزم کی مختصر سی تاریخ پیش کریں گے۔ اس سے ہمارے دو مقصد ہیں ایک تو قاری کریم کو اُ ن راہوں سے واقفیت بہم پہنچانا ہے جن پر اٹامزم اپنی طویل پچیس سو سالہ تاریخ میں اپنی پہلی منزل یعنی ہیروشیما کی جانب بڑھا ہے۔ دوسرا یہ کہ جس زمانے میں قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی کی۔ اُ س زمانے میں روئے زمین پر اٹامزم کے نظرئیے کا کہیں نام و نشان تک (حتٰی کہ خود یونان میں بھی) موجود نہ تھا ۔کجا عرب کے بادیہ نشین جنہیں اٹامزم تو کجا فلسفے کے نام سے بھی واقفیت نہ تھی۔ یہ حقیقت   قرآنِ حکیم کی اس پیشین گوئی کو مزید ایک امتیازی حیثیت بخشتی ہے۔ اٹامزم درحقیقت   قرآنِ حکیم کے نزول سے صدیوں پہلے دم توڑ چکا تھا۔

رواقی مکتبِ فکر Stoicism(جو اٹامزم کا ازلی دشمن تھا)، نے رفتہ رفتہ اس کی کمر توڑ ڈالی تھی اور جب عیسائیت آئی تو رہی سہی کسر اس نے نکال دی اور اٹامزم کا نام و نشان مٹا دیا۔ ایسے حالات میں ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی کرنا گویا کہ اندھیرے میں تیر مارنا تھا لیکن یہ تیر چلتا رہا حتٰی کہ اس کے چھوڑے جانے کے صدیوں بعد 1945ء میں ہیروشیما میں اپنے نشانے پر جا لگا تاہم  قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رہی حتٰی کہ 1961ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے اس کا انکشاف ہوا۔

ایک اور پیشین گوئی جو قرآنِ حکیم نے ایرانیوں پر رومیوں کے غلبے کے متعلق اُ س وقت کی جب کہ ایرانیوں پر رومیوں کے غلبے کی توقع بالکل ایک نا ممکن امر معلوم ہوتی تھی   اور جس کے متعلق ”زوال روما“ کے مشہور مصنف گبن نے لکھا ہےکہ ”جس وقت یہ پیشین گوئی کی گئی۔اُ س وقت اس سے زیادہ بعید از امکان کوئی امر نہ ہو سکتا تھا“ اور گبن ٹھیک کہتا ہے کیونکہ رومیوں کا آخری شہر قسطنطنیہ بھی ایرانیوں کے گھیرے  میں تھا اور رُ ومیوں کا غلبہ ایک امر ِمحال تھا۔ یہ پیشین گوئی نو برس کے قلیل عرصے میں پوری ہو گئی لیکن  قرآنِ حکیم کی دوسری عظیم پیشین گوئی یہ ایٹمی سائنس کے متعلق پیشین گوئی کو پورا ہونے کے لئے صدیوں کی مسافت طے کرنی پڑی۔ پہلی پیشین گوئی یعنی رومیوں والی پیشین گوئی اگر اُ لٹ ثابت ہو جاتی تو اسلام کا وجود وہیں اُ سی وقت اُ سی مقام پر ختم ہو جاتا اور یہ دوسری پیشین گوئی یعنی ایٹمی جہنم والی پیشین گوئی اگر انسانیت نے اس سے التفات نہ برتی تو یقیناً ایک دردناک انجام سے دوچار ہو جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ ایٹمی نظریہ جس وقت صدیوں کی اتاہ گہرائیوں  میں مدفون پڑا تھا قرآنِ حکیم نے اُ س وقت اُ س کے ثمر اور اُ س کے منطقی نتیجے کی پیشینگوئی کی۔ صدیوں قعر ِگمنامی میں دفن رہنے کے بعد سولھویں صدی عیسوی میں ایک عجیب اتفاق نے اس کی قبر کو نمودار کر دیا اور اسے قبر سے نکال کر زندہ کر دیا گیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری سائنس پر چھا گیا۔ اُ نیسویں صدی میں نہایت ہی غیر متوقع طور پر اس نے ایک ایسا موڑ کھایا کہ اس راہ پر چل کر بالآخر اور پھر غیر متوقع طور پر ایٹم بم کی صورت اختیار کر گیا۔ ایٹم بم کی ساری تخلیق کے مرحلوں میں ہر بات کچھ ایسی غیر متوقع اور مخدوش تھی کہ جب تک ایٹم بم دھماکہ کر کے اپنے وجود کو ثابت نہ کر سکا خود ایٹم بم بنانے والوں کو بھی کوئی یقین نہ تھا بحر حال آخر کار اس نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو کھنڈروں میں تبدیل کرکے اپنے وجود کو منوا ہی لیا۔

(۲) ایٹمی نظریئے کا بانی  ڈیموکرٹس (Democritus):

تھریس(یونان) میں ایک جگہ ایڈریا ہے۔ وہاں کا ڈیموکرٹس نامی ایک فلسفی (سقراط کا کم عمر) ہمعصر ایٹمی نظرئیے کا بانی مانا جاتا ہے۔ اس فلسفی کو ھنستا ہوا فلسفی کہا جاتا تھا کیونکہ اسے دنیا کی ہر چیز میں ہنسی کے اسباب نظر آتے تھے۔ اس کے مقابلے میں بعد کے ایک فلسفی  ہراکلّیٹسHeraclitus کو روتا  ہوا فلسفی کہا جا تا تھا۔کیونکہ اُسے دنیا کی ہر چیز میں رونے کے اسباب نظر آئے اور اگرچہ بالعموم ڈیماکرٹس ہی کو اٹامزم کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن در حقیقت اس نظریئے کا بانی ایک اور فلسفی لیوسپس(Lucippus)تھا۔اس فلسفی کے متعلق ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ مائیلژیا کا رہنے والا تھا اور یہ کہ وہ تقریباً 440 قبل مسیح میں بقیدِ حیات تھا۔ ڈیموکرٹس کو کریڈٹ اس لئے ملا کہ اُ س نے اس نظرئیے کو منظم کیا اور اس کو شہرت دی۔ یہ دونوں حضرات منکرین تھے اور اُ ن کے نظریئے کی نامقبولیت  میں اُ ن کے کفر کو بڑا دخل تھا۔ جس وقت مغرب کے لوگوں نے پہلے پہل اٹامزم کے نظریئے کے اس دورِ جدید کے اوائل میں اپنایا تو اس چیز کا بڑا خیال رکھا گیا کہ اس نظرئیے کے ساتھ مُلحقہ کفر و الحاد کو اس سے الگ رکھا جائے مگر بہر حال کسی نہ کسی طریقے سے اس ملحقہ صفت نے بھی اٹامزم کے ساتھ اپنی راہ ڈھونڈھ لی اَلبَتَّہ اس نے وضع قطع جدید بنا لی۔

(۳) اٹامسٹوں کے قدیم نظریات:

(ا) ایٹم غیر مرئی ہیں اور غیر فنا پذیر ہیں۔

(ب)  یہ اتفاقی انداز میں ہر طرف گھومتے پھرتے ہیں۔ ایک ایسی خلا میں جس میں ان کے سوا کچھ موجود نہیں۔

(ج) کائنات میں ایٹموں اور خلا کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں۔

(د) ایٹموں کی کئی قسمیں ہیں۔ جن کا اختلاف شکل و صورت کی وجہ سے ہے لیکن انفرادی ایٹم اتنے باریک ہیں کہ وہ انسانی ِ حسوں کے دائرہ امتیاز سے باہر ہیں۔

(ر) وہ تمام چیزیں جو ہمیں نظر آتی ہیں یاجن کو ہم چھوتے ہیں ایٹموں کے گروہی نظام سے بنی ہوئی ہیں اور جو تبدیلی بھی واقع ہوتی ہے وہ محض اس ترتیب کیوجہ ہی سے ہوتی ہے لیکن خود ایٹموں میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی۔

(س) ایک ایٹم کی حرکت اُ سوقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ اُ سے روکا نہ جائے اغلباًیہ رکاوٹ کسی دوسرے ایٹم سے تصادم ہی کی وجہ سے پیش آئے گی کیونکہ نظریہ کسی بھی دوسری وجہ کے وجود سے منکر ہے۔

یہ آخری شق ایک بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ قانونِ جمود(Law of Inertia) کی پیش بینی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ حرکت کوجاری رکھنے کے لئے کسی سبب کی حاجت نہیں۔ سبب کی ضرورت فقط حرکت کی سمت میں تبدیلی کرنے کے لئے پیش آتی ہے۔ اگر کوئی چیز حرکت میں ہے تو وہ برابر بغیر اپنی رفتار یا سمت تبدیل کئے حرکت میں رہے گی جب تک کہ کوئی چیز اسے رفتار کم کرنے یا رفتار تیز کرنے یا اپنی سمت میں تبدیلی کرنے پر مجبور نہ کرے ۔یہ خیال جس پر نیوٹن کے میکینکس  (Mechanics) کی بنیاد ہے ارسطو کے نظریئے کے خلاف ہے جس کے مطابق کوئی بھی چیز جب تک کہ کوئی چیز اُ سے چلاتی نہ رہے ٹھہر جاتی ہے۔ اٹامسٹ کہتے ہیں کہ ایک بار جب ایٹموں کو چلا دیا جائے تو اُ ن کی آئندہ حرکات کا تعیّن ناقابلِ تبدیل مکانیکی قانون کرتے ہیں۔ کائنات کی موجودہ حالت کا انحصار اس کی گذشتہ حالت پر ہے اس کا مستقبل اس کے حال سے بنتا ہے اور یہ جبریہ مسلک کی انتہائی متشدانہ روش ہے۔ خود اختیاری کے اس صریح انکار سے جو اخلاقی اشکال رونما ہوتا ہے وہ واضح اور تکلیف دہ ہے۔ آسان لفظوں میں بات یوں کہی جائے گی کہ اٹامزم کا نظریہ رکھنے والے لوگ یہ باور کرتے ہیں کہ جب ایک بار ایٹموں کو دھکیل دیا گیا تو پھر وہ جدھر اُ ن کو اتفاق لے گیا وہ چلے گئے اُ ن پر نہ کچھ اختیار ہے نہ مقدرت اور پھر یہی بات کائنات اورانسان پر لاگو ہوتی ہے کہ انسان بس اتفاق سے پیدا ہو گیا اوراتفاق اسے ہر طرف لئے پھرتا ہے۔اتفاق سے بنگیا اتفاق سے  زندہ رہا ا ور اتفاق ہی سے مر گیا اُس کا نہ کچھ اختیار ہے نہ سمجھ اور نہ ہی کچھ پکڑ ہے۔ مر گیا سو مر گیا۔ نہ سزا ہےنہ جزاہے نہ آخرت۔

انسانی سوچ ناقص:

بدقسمتی سے انسانی ذہن کی پیدا کی ہوئی فلاسفی محض ایک جزوی چیز ہوتی ہے کیونکہ انسان کی عقل بھی جزوی ہے۔کلّی نہیں۔بس وہی مثال ہے دس اندھوں والی جنہوں نے ہاتھی دیکھا۔ انسانی فلسفوں کی بے شمار تشریحیں، تاویلیں، تعبیریں، تفسیریں ہو سکتی ہیں جو ایک دوسرے کے متضاد ہوتی ہیں۔ ارسطو نے خالق کی کائنات میں نظام، قدرت، کنٹرول، عقل اور خود اختیاری کے پیشِ نظر یہ ضروری سمجھاکہ ایٹموں کو حرکت میں رکھنے اور کنٹرول میں رکھنے کے لئے ایک قوت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اُ س نے یہ نظریہ پیش کیاکہ حرکت کو جاری رکھنے کے لئے کسی قوت کی ضرورت ہے۔ ڈیموکرٹس نے اس کے برخلاف خود اختیاری یا سوجھ بوجھ یا منصوبے کی نفی کرنے کے لئے کہہ دیاکہ ایٹم جب ایک بار حرکت میں لائے جاتے ہیں تو پھر وہ چلتے ہی جاتے ہیں اور اتفاقات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اس سے زیادہ ایٹم کا علم نہ ارسطو کو تھا نہ ہی ڈیموکرٹس کو اور انسانی ذہن ایک حد تک تحقیق کا ساتھ دیتا ہے اور پھر تاریکی پھیل جاتی ہے اور اُ س کے آگے ایمان کی روشنی ساتھ دیتی ہے۔ اس روشنی کی موجودگی میں ہر چیز خالق کی جانب چلتی نظر آتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں ہر چیز مخالف سمت میں بھاگتی نظر آتی ہے۔ڈارون کو اپنے فلسفے میں کچھ بھی مذہب کے منافی نظر نہ آیا اور یہ بات ا ُ س کے پُر خلوص احتجاج سے واضح ہوتی ہے لیکن کیا اُ س کافلسفہ ایسا ہی بے ضرر تھا جیسا کہ اُ سے حقیقت کی تلاش کی سرگرمی میں نظر آتا تھا۔

(۵)ڈیموکرٹس کے ایٹم اور افلاطون کے آئیڈئےIdeas)):

افلاطون کی طرح ڈیموکرٹس بھی دنیا میں ابدی اور بنیادی حقیقت کو حِس کا ہدف نہیں  بلکہ علم کا ہدف مانتا تھا لیکن اس حقیقت کا نقشہ اُ س کے ذہن میں افلاطون کے نقشے سے بالکل مختلف تھا۔ یہ حقیقت ایٹموں پر مشتمل تھی۔ ناقابلِ تقسیم۔ اس لئے غیر فنا پذیر ایٹمو ں پر اتنے باریک اجسام جو انسانی حِسوں کے ادراک سے ورا تھے۔ جو شکل و صورت میں ایک دوسرے سے مختلف تھے اور اس لئے وہ ان کو وہی نام دے سکتا تھا جو افلاطون اپنے آئیڈیوں (Ideas) والی حقیقت کو دے سکتا تھا۔ اگرچہ دونوں دنیائیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔”کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور“۔

(۶)۔ عظیم ترین ہم عصر مفکر اٹامزم کے نظرئیے کو رد کرتے ہیں:

ارسطو نے اپنا بے پناہ اثر و رسوخ اٹامزم جیسے نظرئیے کے مخالف پلڑے میں ڈال دیا۔ فقط ارسطو ہی نے نہیں بلکہ عہدِ قدیم کے فلسفیوں میں سب سے بڑے مصنف فلسفی افلاطون نے بھی اٹامزم کی مخالفت شدومد سے کی۔ ارسطو کی موت کے بعد دو سو سال کے عرصے میں۔اس حقیقت کے باوجود کہ یہ زمانہ ریاضیاتی اور فلکیاتی سائنس کی ترقی کا بے مثال زمانہ تھا اور اقلیدس جس کی مشہور کتاب ”ایلیمنٹس“ (Elements) دو ہزار برس تک کورس کی کتاب رہی ہے۔ایرسٹو تھینس(Erastothenes) جس نے سب سے پہلے زمین کا حجم ناپنے کا طریقہ استعمال کیا۔ ارشمیدس (Archemides )لیور کے اصول کا کاشف اورہپارکس (Hipparcus) جسے فلکیات کاباواآ دم کہا جاتا ہے جیسے عظیم ناموں کے لئے مشہور ہے۔ اس دور کے کسی بھی بڑے مفکر نے اٹامزم کی تحقیق و جستجو تو درکنار اس کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا اور تو اورخود اس دورِ جدید کے ڈھنڈورچی اور اٹامزم کے عظیم ترین قابل ترین اور فصیح ترین موید بیکن(Bacon) نے بہت سے نکتوں پر ارسطو سے شدید اختلاف کے باوجود اس بات پر اُ س سے اتفاق کیا کہ اٹامزم کا نظریہ کائنات میں موجود الٰہیاتی نظام کے معاملے میں یکسر اندھا ہے۔ ایسی باریک اور مفصل ساخت ایٹموں کے اتفاقی جمگھٹے کے نظریئے سے کبھی بھی کسی تسلی بخش انداز سے بیان ہونی نا ممکن ہے۔ بیکن کو اس خطرے کا انتہائی احساس تھا جو تحقیقات کے شروع کرنے کی کوششوں میں موجود تھا اور وہ یہ کہ قدرت کے مقاصد کے معاملے میں کوتاہ نظری کا مظاہرہ کرنے کی طرف مائل ہو جانے کا قوی ترین امکان ہے۔بدقسمتی سے بیکن کے یہ خدشات بالکل درست ثابت ہوئے۔ وقت آنے پر روحانیت کی طرف کو بالکل نظر انداز کر دیا گیااور فوری مادی منفعت ہی مقصد ٹھہری۔ جس کے نتیجے میں ایک عالم گیر بے چینی ہر طرف پھیل گئی جس کا علاج ایٹم بموں کی بارش تابکار شعاعوں کی بوچھاڑ اور زہریلی گیسوں کی بھر مار قرار پایا۔

(۷)۔ اپیقیورین نے اٹامزم کو اپنی علامت بنایا:

عظیم ذہنوں کی ہمہ گیر تردید کے درمیان اَلبَتَّہ ایک مکتبِ فکر ایسا بھی تھاجنہوں نے اٹامزم کو اپنی تنظیم کا ایک حصہ بنا لیا۔ اس مکتبِ فکر کے لئے اٹامزم کی کشش اس کی سائنسی افادیت کیوجہ سے اتنی نہ تھی جتنی کہ دنیا کے الٰہیا تی نظامِ حکومت کے ساتھ اس کے مبینہ تضاد کی وجہ سے تھی۔ یہ لوگ الٰہیاتی نظام حکومت کو دو سب سے بڑی خرابیوں کی جڑ سمجھتے تھے یعنی موت کا خوف اور واقعاتِ ما بعد الموت کا خوف ۔دورِ جدید میں بے شک سائنس والوں نے مادے کے ایٹمی ساخت کے عقیدے کے ساتھ الٰہیاتی نظامِ حکومت کے عقیدے کو بھی شامل کر لیا ہےلیکن تب اُ نہوں نے جیسا کہ اُ ن میں سے ایک  جیمز کلارک میکسویل نے کہا ہے۔ ایٹموں کو بنی بنائی اشیاء تصّور کیا ہے اور یہ کہ اس دنیا میں غیر مادی چیزوں کا وجود بھی ہے جو کہ ہرگز ایٹموں سے بنی ہوئی نہیں ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال تسلی بخش نتائج  نہ دے سکا۔ ایک بار جو اٹامزم کادروازہ کھلا تو مادی ایٹموں نے غیر مرئی چیزوں کی غیر مادی سوچ کونکال باہر کیا اور خالص اٹامزم نے ہر جگہ اپنا تسلّط جما لیا اور اس کی بیّن وجوہات ہیں جو چیز بھی ایٹمی طرز کے بیان میں نہیں آ سکتی اُ سے غیر حقیقی اور اس لئے غیر ضروری سمجھ کر رد کر دیا گیا۔

وہ مکتبِ فکر جس نے مذہب کی خوفناکیوں کے خلاف اٹامزم کو اپنایاتھا اور جس کا حوالہ اُ وپر آ چکا ہے۔ اپیقیورین(Epicureans) کا مکتبہِ فکر تھا۔ اپیقیورین مکتبہ فکر کے بانی اور رواقی مکتبِ فکر کے بانی زینو کے حریفِ اوّل اپیقورس نے ایک دانشمندانہ اور مُعتدل قسم کے حظ کے حصول کی سفارش کی لیکن اُ س کے نمونے کی پیروی نہ کی گئی اور اُ س کے پیروکاروں نے اعتدال کی راہ کو ترک کرکے جلد ہی افراط کی راہ اختیار کر لی کیونکہ اُ س کا عقیدہ تھا اور یہی اُ س نے سکھلایا کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں اس لئے حیاتِ ما بعد الموت کے خوف کے نہ ہونے کی وجہ سے اُ س کے مُقتدی بے لگام ہو گئے اور اگرچہ اُ س نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ چونکہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں اس لئے اس زندگی میں موج بہار لوٹ لو تاہم موت کے بعد سزا و جزا کے عقیدے کے بغیر کسی انسان کا افراط وتفریط کے راستے سے کترا کر اعتدال پسندی کی راہ پر گامزن ہونا ایک امر ِمحال معلوم ہوتا ہے۔ کاش کہ انسانوں میں اس درجہ سعادت مندی موجود ہوتی لیکن افسوس کہ معاملہ اس طرح نہیں۔ ہوسکاروں کے لئے اپنی ہوس کاری کے جواز میں جب اپیقیورس کی تعلیمات کو پیش کرنے کا موقع دستیاب ہوا تو وہ خوب کُھل کھیلے۔ اپیقیورس کا یہ مقولہ کہ ”حظ ہی انسانی زندگی کا اوّلین مقصد ہے“اُ ن لوگوں کے لئے ایک سند کا درجہ اختیار کر گیا اور جلد ہی اپیقیورین کا لفظ نفس پرست کا مترادف اور ایک گالی بن گیا۔

(۸)۔اپیقیورین کی اٹامزم کے سائنسی پہلو سے عدمِ دلچسپی:

اپیقیورینزم کا بانی اپیقیورین اور رواقیت کا بانی زینودونوں ہی اس بنا پر دلچسپی کا باعث ہیں کہ دونوں نے حقیقت کی پروا کئے بغیر اپنی آرا کو اپنے اپنے اخلاقی نظام کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا۔ اپیقیورین نے اٹامزم کو اپنایا اس لئے نہیں کہ اُ سے اس کی سائنسی خوبی میں دلچسپی تھی بلکہ محض اس لئے کہ اٹامزم کی مادیت اُ س کے حیات بعد الموت کے انکار کی تصدیق کرتی تھی۔ رومن شاعر لیوکرٹس ڈیموکرٹس کا ایک ممتاز پیرو تھا۔ اُ س نے اپنی نظم ”ڈی رے رم نیچورا“کے ذریعے ایٹامزم کو مشہور کرنے کے لئے بہت کچھ کیا۔تاہم اگر چہ شاعر کو اٹامزم کا بانی توہم پرستی کے خوف سے نجات دلانے والا ایک دیوتا نظر آتا تھا۔ایک با اصول اپیقیورین کی نگاہ میں علمی اور سائنسی مشغولیات ایک شائستہ کھیل سے بڑھ کر کچھ نہ تھی۔ بجز ایں کہ یہ توہم پرستی کی دہشت کوکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی تھی۔ اس طرح یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں اگر اپیقیورین نے سائنسی ترقی یا فلسفی تحقیق میں کچھ کام نہیں کیا۔ اُ نہوں نے ڈیموکرٹس کے ایٹمی نظرئیے کو اپنایا مگر اُ ن کے ہاتھوں میں نہ تو یہ اس قابل ہی ہوا کہ اُ ن اعتراضات کا جو اس کی اس حیثیت پر جو اسے حقیقت کی انتہائی کڑی کے نظریئے کے طور پر حاصل ہوتی ہے۔ کوئی جواب دے سکے۔ نہ ہی وہ اپنی اس بڑی اہلیت کو نمایاں کر سکا جو اُ سے سائنسی بیان اور انکشاف کے آلے کے طور پر ودیعت تھی۔

(۹)۔حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حواری پال نے اپیقیورین اور رواقی نمائندوں سے ایتھنز میں بات کی:

 اپیقیورین مکتبِ فکر کے مقابلے میں ابتدا سے ہی رواقی مکتبِ فکر موجود تھا۔ رواقی مکتبِ فکر رفتہ رفتہ غلبہ پا گیا۔ اگرچہ کافی عرصہ تک یہ دونوں مکاتبِ فکر اُ ن ممالک کے سمجھدار لوگوں کی اکثریت کی اطاعت کے حصول میں شریک رہےجو عیسائیت کے ابتدائی دور میں سلطنتِ روما کا دل تصّور کئے جاتے تھے۔  یاد رہے کہ وہ فلسفی جنہیں حواری پال بمطابق انجیل17 باب اعمال18 ایتھنز میں ملے۔ وہ اپیقیورین اور رواقیوں کے نمائندے تھے۔

(۱۰)۔ رواقی نہ کہ اپیقیورین رومنوں میں مقبول:

اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ یونان کے سب مکاتبِ فکر میں سے رواقی ایک ایسا مکتب ِفکر تھا جو رومنوں کے ساتھ گھل مل گیا۔ رومن رواقی مکتبِ فکر کے بانی زینو کی موت کے بعد دو صدیوں سے بھی کم عرصے میں یونانی دنیا کے مالک بن چکے تھے۔ علم کی محبت، خوبصورتی کا سرور، شبہات کی باریکیاں، شائستہ اور شگفتہ مسرتوں کی تربیت کی قبیل کے اطوار رومن مزاج سے موافقت نہ رکھتے تھے کیونکہ یہ باتیں اُ ن میں ایسی سبکی پیدا کر سکتی تھیں جو اُ ن کے نظم و ضبط اور فرض شناسی کے لئے خطرہ تھیں اور یہی نظم و ضبط اور فرض شناسی کے اوصاف تو رومن سلطنت کے بنیادی ستون تھے۔ اب یونان کے تمام مکاتبِ فکر میں رواقی مسلک ہی ایسا تھا جس سے رومنوں کو اپنے خصوصی اطوار کے معاملے میں کم از کم خطرہ لاحق تھا۔ ایک طرف اگر رواقیت کے اخلاقی اور مذہبی مزاج نے روم میں ایک خصوصی مقام پیدا کر لیا تھا تو دوسری طرف رومنوں کے مزاج میں بھی کچھ ایسی بات تھی جو رواقی فلسفے سے خاص مناسبت رکھتی تھی۔ یہ تھا جسے کہا جاتا ہے ”انصاف اور قانون“ کا احساس جس نے رومنوں کو عہدِ قدیم کی قوموں میں ایک امتیازی مقام دلوایا تھا اور جس نے رومنوں کے قانونی نظام کو ایک ایسی بنیاد بنا دیا جس پر اُ س وقت کے معاشرے کے استحکام کو قرار ملا تھا۔ ایک ایسے دور میں جس میں لوگ ایک مذہبی عقیدے کی تلاش میں تھے۔ اپیقیورین یا متشککین کی بجائے رواقیوں نے بالآخر وسیع تر اثر و رسوخ، تقدیر کے معاملے میں تسلیم و رضا اور کائنات کے الٰہیاتی نظام کے عقیدے کے سبب حاصل کر لیا۔

(۱۱)۔ رواقیت اور عیسائیت دونوں ہی اپیقیورین ازم اور اٹامزم کے خلاف:

رواقیت اور عیسائیت دونوں ہی اپیقیورین ازم کے خلاف اپنی سخت اخلاقی اقدار اور دنیا کے الٰہیاتی نظامِ حکومت کے عقیدے کی وجہ سے تھیں۔ اس کے علاوہ جب کہ اپیقیورین کو رفتارِ زمانہ میں ایٹموں کا ایک لازوال اور غیر فنا پذیر کھیل نظر آتا تھا۔ ایسا کھیل جو بغیر کسی سابقہ منصوبے یا سکیم کے ماتحت کھیلا جا رہا تھا۔ رواقی اور عیسائی دونوں ہی اس دنیا کی ایک مکمل تباہی (قیامت) کی جانب دیکھ رہے تھے۔ ایک ایسی تباہی جس میں اس پورے موجودہ نظام کو معدوم ہو جانا تھا۔

(۱۲)۔  پانچویں صدی عیسوی میں عیسائیت مکمل طور پر مسلّط اٹامزم معدوم:

پانچویں صدی عیسوی میں وہ تمام جدوجہد جو یونان کے متعدد مکاتبِ فکر اپنی زیست و بقا کے لئے کر رہے تھے ختم ہو گئی اور عیسائیت کا تسلّط مکمل ہو گیا۔ اٹامزم اپیقیورین ازم کے ہمراہ نابود ہو گیا۔عیسائیت اس وقت سلطنتِ روما کا سرکاری مذہب بن چکی تھی اور ہر شمع عیسائیت کی شمع کے سوا بجھ چکی تھی۔ پوری سلطنتِ روما بشمول شہنشاہِِِ روم عیسائیت کو قبول کر چکی تھی۔

(۱۳)۔قرآنِ حکیم نے مغرب کے  دورِِِ تاریکی میں ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی کی:

500ء سے لے کر 1000 ء تک کا عرصہ یورپ کا دورِ تاریکی کہا جاتا ہے۔ یورپ کا دورِ تاریکی اس لئے دورِ تاریکی نہیں کہلاتا کہ اس دور میں عیسائیت کا جذبہ سرد پڑ چکا تھا یا مادی دنیا کی نفرت کا عقیدہ زوال پذیر ہو چکا تھا بلکہ اس لئے کہ اس دور میں علم کے حصول کے لئے علمی سرگرمیاں بند تھیں۔ اٹامزم کی جانب مائل ہونے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ علمی سرگرمیوں کی غیر موجودگی نے عیسائیت کے رویئے کو اٹامزم یا اس جیسے کسی دوسرے مادی دنیا دارانہ نظرئیے کے معاملے میں مزید سخت کر دیا تھا اور اگر عیسائی دنیا اپنے دل میں اس دنیا کی محبت کا کوئی خیال رکھتی بھی تھی تو کوئی وجہ نہیں کہ اٹامزم جیسے لا دینی نظریئے کی جانب اس کا جھکاؤ ہو۔ کوئی بھی عیسائی اٹامزم  جیسے مادہ پرست اور الحاد پرور نظریئے کے متعلق سوچنا بھی گوارا نہ کر سکتا۔ یہ وہ زمانہ تھاجس میں یہ تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اس دنیا میں پھر کبھی اٹامزم جیسا نظریہ جاگ پڑے گا کیونکہ یہ نظریہ اپنی موت مر چکا تھا۔چوتھی صدی عیسوی میں عیسائیت روم کا سرکاری مذہب بنی۔ پانچویں صدی عیسوی میں عیسائیت کے خلاف کسی بھی مکتبِ فکر کی مخالفت کا آخری شائبہ تک نا پادید ہو چکا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب تاریکی کا مذکورہ دور ہر طرف مسلّط تھا۔ قرآنِ حکیم نے اس تاریک صدی کے  اوائل میں ایٹم بم بلکہ ایٹمی آ گ بلکہ ایٹمی جہنم کی پیشینگوئی ایک ایسے ملک میں کر دی جس کی تاریخ میں صدیوں کی مسلسل تیرگی اور جہالت کے بادل ہی مورخ کو ہر طرف چھائے ہوئے نظر آ سکتے تھے۔ ایک ایسی پیشین گوئی جسے چودہ صدیوں تک اپنی تکمیل کے لئے پردہء اختفاء میں رہنا تھا۔ایسی پیشین گوئی جو ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں کی گئی مگر کوئی بھی انسانی ذہن جس کا مثیل پیش کرنے کی سمجھ3 دسمبر1942 تک (جس دن سے ایک روز پہلے فرمی(Fermi) نے شگاگو کی یونیورسٹی میں فژن چین ری ایکشن(Fission Chain Reaction) کا کامیاب مظاہرہ کیا) نہیں رکھتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کو ایٹم بم سے پیوندِ زمین کر دینے کے عین بعد بھی کسی بھی ایٹم بم بنانے والے سائنس دانوں کو ایٹمی توانائی کے متعلق اتنی خبر نہ تھی۔ جتنی قرآنِ حکیم نے چودہ صدیاں قبل اپنی پیشین گوئی میں بہم پہنچائی تھی۔ فرمی کی کامیابی کے بعد دو برس سے کچھ زیادہ عرصہ لگا تب جا کر ایٹم بم بنا اور فرمی کی کامیابی سے تین برس پہلے آئن سٹائن نے جو خط پریذیڈنٹ روزولٹ کو ایٹم بم کی ساخت کے متعلق لکھا۔ اُ س میں اُ س کا اندازِ تحریر یقیناً یقین پر مبنی نہ تھا۔ اُ س نے صرف ایک امکانی صورت کا تذکرہ کیا تھا۔

 (۱۴)۔اٹامزم جی اٹھا:

چوتھی صدی قبل مسیح میں ارسطو نے اپنا اثر و رسوخ اٹامزم( ایٹمی نظریئے) کے مخالف پلڑے میں ڈالا تھا لیکن جب دوسری صدی عیسوی کے شہرہ آفاق حکیم جالینوس نے اپنی رائے ارسطو کے پلڑے میں ڈال دی تو ایٹموں کا آسمان ایسا گہنایا کہ چودہ صدیوں تک یہ تیرگی چھائی ہی رہی۔یہ تیرگی بہرحال آخر کار چھُٹ گئی۔افلاطون اور ارسطو کے فلسفے جن کا اثر قابل ترین ذہنوں پر چھایا رہا اور جو صدیوں تک تخت پر قابض رہیں۔ آخر کار اُ ن کے زوال کا وقت آ پہنچا۔ ان فلسفوں نے کئی صورتیں اختیار کی تھیں۔ ان کا کئی مذہبوں کے ساتھ امتزاج ہوا تھا۔ یہ کئی انقلابوں میں صحیح سلامت برقرار رہیں۔ ایسے انقلاب جن میں سلطنتیں، مذہب، زبانیں، قومیں مٹ گئیں لیکن ان کی قسمت میں آخر کار نئے فلسفے ثمر مادی افادیت اور ترقی کے فلسفے کے لئے میدان چھوڑنا لکھا تھا۔

            ایٹمی نظر یئے کا علم اس کے صدیوں غائب رہنے کے بعد لیوکرٹس(پہلی صدی قبل مسیح) کی ایک نظم سے ہوا جس میں اُ س نے ایٹمی نظریہ رکھنے والے قدیم اٹامسٹوں کے نظریات منطقی طور پر مرتب کر دیئے تھے اور صفائی کے ساتھ پیش کر دیئے تھے۔ یہ اس نظم ڈی رے رم نیچورا(De Rerum Natura) کے متعلقہ حصے سے حاصل کی ہوئی معلومات کی بنا پر ہی تھا کہ پیری گیسنڈی) 1655 -1592 (Pierre Gassandi پروونکلّی فلسفی اور رومن کیتھولک پادری نے یونانی ایٹمی نظریہ رکھنے والے فلسفیوں کے نظریات کو متعارف کرایا۔ قدرت کی مہیّا کی ہوئی ضیافت سے لطف اندوز ہونے کی زبردست خواہش نے یورپ والوں کو ایٹمی نظرئیے کی قبولیت کے لئے آمادہ کر دیا۔ جب کہ بیکن جیسے قابل آدمیوں نے راہنمائی کی اور ایٹمی نظریہ منظر پر آ گیا۔ رفتہ رفتہ سارے میدان پر قابض ہو گیا۔

 (۱۵)۔  بیکن کی مادے اور روح کو متوازن رکھنے کی کوشش ناکا م:

 بیکن کا منصوبہ یہ تھا کہ تحقیق کے ذریعے جس میں سے کچھ کیمیا گروں کی طرح تجرباتی قسم کی ہو مگر ہر قسم کی توہم پرستی کی ملامت سے پاک ہو اورفوری منفعت کے حصول کی جانب نہیں بلکہ وسیع تر علمی معلومات کی جانب مائل ہو۔ بالآخر قدرت پر انسان کی حاکمیت کو بیش از بیش مسلّط کیا جائے اُس کا عقیدہ تھاکہ ایسی حاکمیت انسان کا ازلی مقدر تھامگر بیکن کے اس امتیاز کو نظر انداز کر دیا گیااور جلد ہی لوگ فوری جلبِ منفعت کے اصول پر کاربند ہو کر بیکن کے اعلیٰ تر مطمح ِنظر کو فراموش کر بیٹھے۔ نہ ہی بیکن کی وہ سعی جو اس نے طبیعی فلسفے کی عملی جانب کو عیسائیت کے روحانی فلسفے کے ساتھ ملا دینے کے لئے کی تھی بارور ہوئی کیونکہ لوگوں نے روحانیت کو یکسر ترک کرکے مادیت کو اپنا لیا۔میکالے نے بیکن کے بارآور فلسفے کو قدیم یونانی فلسفیوں کے بانجھ فلسفے کے مقابلے میں بہت سراہا ہےمگر افسوس کہ متوقع نتائج اس لئے برعکس نکلےکہ لوگوں نے روحانی اور اخلاقی جانب کو نگاہوں سے اوجھل کر کے فقط مادی اور بار آور جانب ہی کو اپنا نصب العین سمجھ لیا اور اس طرح روحانیت کے معدوم ہو جانے کے سبب سارا میدان ایٹمی نظریئے کے ہاتھ رہا اور زندگی غیر متوازن ہو کر ڈوب گئی۔

(۱۶)۔ایٹمی نظریئے کے میدان میں ڈیلٹن Dalton کی تحقیق:

 نیوٹن اور بائل دونوں مادے کو ایٹمی مانتے تھے تاہم ایٹمی نظریہ اُ س وقت تک کیمسٹری میں منظم طریقے سے نہ اپنایا گیا جب تک کہ ڈیلٹن (1844۔1766)نے اس پر تحقیق نہ کر لی۔ ڈیلٹن کے ہاتھوں مدت سے فراموش شدہ ایٹمی نظریئے کی تجدید نے اُس سابقہ دور کو جو تین صدیاں قبل کاپرنیکس(Copernicus) کے ساتھ شروع ہو ا تھا۔ ختم کر دیا۔

ڈیلٹن کی تحقیق کے اہم ترین نتائج مندرجہ ذیل ہیں:۔

(i)۔مادہ ایٹموں کا بنا ہُوا ہے جو نہ تو تخلیق کئے جا سکتے ہیں نہ ہی فنا کئے جا سکتے ہیں۔ کیمیاوی تبدیلی ایٹموں کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے جو پہلے الگ الگ تھے  یا ایٹموں کے الگ ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ جو پہلے اکٹھے تھے۔ خود ایٹموں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

(ii)۔کسی بھی خاص عنصر کے ایٹم تمام ایک جیسے ہوتے ہیں اور وہ کسی دوسرے عنصر کے ایٹموں سے عملاً وزن میں مختلف ہوتے ہیں۔

 ڈیلٹن کے بنیادی نظریوں کو وسعت دینے اور ترمیم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ تاہم جدید لباس میں وہ ابھی تک کیمیاوی نظریئے میں ایک لازمی کردار ادا کرتے ہیں۔

(۱۷)۔ ایٹمی نظریہ ایٹمی بم کی راہ پرمحض اتفاق سے اور غیر متوقع طور پر چل نکلا:

ایٹمی نظریہ ایٹمی بم کی راہ پر جرمن سائنس دان روینٹجن(Roentgen) کے ہاتھوں 1895 ء میں ایکس رے کے محض اتفاقی انکشاف کے ساتھ چل پڑا۔اس واقعے نے طبیعی سائنس میں عدیم النظیر ترقی کے ایک دور کی ابتداء کر دی۔ چمک اور ایکس رے کے امکانی تعلق کی تلاش میں فرانسیسی سائنس دان بیکیرل (Becquerel) نے اپنے تحقیقی عنصر کے طور پر محض اتفاق سے یورانیم نائٹریٹ کو چُن لیا اور1896 ء میں نہایت ہی غیر متوقع طور پر ریڈیائی تابکاری کے انکشاف سے دوچار ہو گیا۔ اس انکشاف نے پیری(Pierre) اور مادام کیوری کی رہنمائی آگے ریڈیم کے انکشاف کی جانب کر دی۔ 1905 ء میں آئن سٹن نے اپنا نظریۂ اضافیت پیش کیا اور اس کے نتیجے کے طور پر کمیت(Mass) اورقوت(Energy) کی باہمی ایکوی ویلنس(Equivalence) کا ثبوت بہم پہنچا دیا۔روتھر فورڈ (Rutherford) نے تا بکار شعاؤں پر عظیم کام کیا۔ یہ شعاعیں جو تابکار اجسام سے خارج ہوتی ہیں اور اُ ن کو الفا، بِیٹا، گاما شعاؤں کا نام دیا۔ روتھر فورڈ کی اس تحقیق نے ایٹم کے متعلق اس تصّور کو جنم دیا کہ ایٹم کا ایک مرکزی قلب ہوتا ہے۔(نیوکلّیس )جس کے گرد الیکٹران گھومتے رہتے ہیں جس طرح سُورج کے گرد سیارے۔گویا کہ یہ ایک چھوٹا سا نظامِ شمسی ہے۔ بوہر(Bohr) نے پلانک اور آئن سٹائن کے مقداری نظریئے (Quantum Theory) کو روتھر فورڈ کے ایٹمی ماڈل میں ضم کر دیا اور اس طرح اُ س نے اپنے نہا یت ہی دُور رس نظریئے یعنی ایٹم کے مقداری نظریئے کی تشکیل کی۔1919 ء میں روتھر فورڈ نے پہلی مرتبہ ایک عنصر(نائٹروجن) کو الفا پارٹیکلز (ذرات) سے بمبارڈ کرکے حصوں میں منقسم کر دیا۔ بلیکٹ(Blacket) نے جلد ہی اسی عمل کا ایک کلاؤڈ چیمبر فوٹو گراف مہیّا کر دیا۔ کیڈوک (Chadwick) نے روتھر فورڈ کی لیبارٹری میں کام کرتے ہوئے 1932 ء میں نیوٹران دریافت کر لیا۔ اسی سال اور اسی لیبارٹری میں کرا ککرافٹ(Crockcroft) اور والٹن(Walton) نے لیتھیم کو پروٹانز سے بمبارڈ کرکے پہلی مصنوعی ایٹمی قلبِ ماہیت کا کامیاب تجربہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی نئے انکشافات کا ایک تانتا بندھ گیا۔

            یورانیم کے انشقاقی عمل(Uranium Fission)کو دو جرمن سائنس دانوں ہاہن(Hahn) اور سٹرسمن(Strassman) نے1938 ء میں دریافت کیا۔ اس انکشاف کی غیر معمولی اہمیت کو جلد ہی محسوس کر لیا گیا اور ایٹمی نیوکلائی کا مطالعہ نہایت زور شور سے ہونے لگا۔ 1940 ء تک سو سے زیادہ مضمون اس موضوع  پر سامنے آئے۔ اس کے فوراً بعد سارا موضوع پسِ پردہ چلا گیااور 1939 ء  والی جنگِ عظیم کے خاتمے تک کھلے طور پر کوئی حوالہ سائنٹفک لٹریچر میں منظِر عام پر نہیں آیا اگرچہ ایٹمی توانائی کی آفرینش کے تمام بنیادی انکشاف مغربی یورپ سے آئے مگر مغربی یورپ نے نہیں بلکہ امریکہ نے اپنے بے پناہ صنعتی اور سائنسی وسائل کے بل بوتے پر ان بنیادی معلومات کو عملی نتائج کے حصول کی خاطر استعمال کیا اور بہت جلدروس نے اس مثال کو اپنایا۔

(۱۸)۔آئن سٹائن کا تاریخی خط امریکی صدر روزولٹ کے نام:

2 اگست1939 ء کو آئن سٹائن نے پریذیڈنٹ روزولٹ کو ایک خط (جو ،اَب تاریخی حیثیت اختیار کر گیا ہے) لکھا۔ اس خط میں اُ س نے فرمی اور زلرڈ کے انکشافات کی روشنی میں یورانیم فژن کے عمل کے استعمال سے بنائے جانے والے ایک نئی قسم کے بم کے امکانات کی طرف اشارہ کیا۔ ایک ایسا بم جو عام بم سے دس لاکھ گنا طاقت ور ہو گا۔ اس قسم کا ایک ہی بم اگر کشتی میں لاد کر ایک بندرگاہ میں پھٹا دیا جائے تو وہ ساری بندرگاہ اور اس کے علاوہ اردگرد کے علاقے کا کچھ حصہ بھی تباہ کردے گا۔ یہ دس لاکھ گنا طاقت ور بم کا  لفظ خوفناک حد تک دلپذیر تھا مگر یہ بات قطعاً معلوم نہ تھی کہ اس کے ساتھ جو تابکار شعاؤں کا جہنم ہوتا ہے وہ روکے سے رُ کتا نہیں اور بم پھینکنے والے کو بھی تباہ کئے بغیر نہیں چھوڑتا۔امریکی گورنمنٹ نے1942 ء کو سنجیدگی سے امکانات کی تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔8 دسمبر کو شگا گو یونیورسٹی کی سٹیگ فیلڈ میں فرمی نے پہلا سست رفتار نیوٹران(Slow Neutron) فژن زنجیری تعامل(Fission Chain Reaction) کا کامیاب تجربہ کیا۔ یہ کامیابی ایٹمی سائنس کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی تھی۔اَلبَتَّہ فرمی بے چارہ اس کامیابی کے تین سال بعد تابکاری شعاؤں کا شکار ہو کر دردناک کینسر میں مُبتلا ہوا اور دردناک عذاب سے دوچار ہو کر راہی ء ملک عدم ہوا۔ اس اٹالین سائنس دان کو اُ س کی بہن نے ایسی انسانیت سوز چیز تیارکرنے پر جو خط لکھا ہے محفوظ کر لیا گیا ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے بڑا ہی دردانگیز خط ہے۔ بہر حال اس کامیابی کی وجہ سے جلد ہی دریائے کولمبیا کے کنارے پلوٹونم تیار کرنے کا ایک عظیم کارخانہ وجود پذیر ہو گیا۔ ایک دوسرا کارخانہ قدرتی یورانیم سے یورانیم235 حاصل کرنے کے لئے اوکرج میں قائم ہو گیا۔اوکرج میں ہی ایک اور پلانٹ قائم کر دیا گیا جس میں الیکٹرومیگنیٹک سیپاریشن کے اصول پر یورانیم 235 تیار کیا جانے لگا۔ ایٹم بم کا ڈیزائن بنانے کا کام نیو لاس الامس لیبارٹری نیو میکسیکو کے سپرد کیا گیا جو اوپن ہیمر کی رہنمائی میں کام کر رہی تھی۔ 1945 ء کے وسط تک تین بم بنالئے گئے۔ان میں ایک کو جوپلوٹونم کا بنا ہوا تھا16 جولائی1945 ء کو الامو گورڈو میں ٹسٹ کیا گیا۔ باقی دو ہیروشیما اور ناگاساکی پر6 اور 9 اگست 1945 ء کو گرائے گئے۔

(۱۹)۔ ہیروشیما  ناگاساکی کا المیہ:

            6 اگست انسانی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے۔ یہ اس دن کی صبح کا وقت تھا جب پہلا یورانیم235 ایٹم بم ہیروشیما پر گرا تھا اور78000 نفوس قتل اور37000 زخمی ہوئے تھے۔ دوسرا ایٹم بم(پی یو239) 9اگست1945  کو ناگاساکی پر گرایا گیا تھا۔اُ س نے24000 انسان قتل اور23000 زخمی  کئے۔دونوں بم تقریباً ایک ہی طاقت کے تھے۔ دونوں ہی20 کلوٹن ٹی این ٹی کے برابر تھے لیکن ناگاساکی کی ناہمواری کے باعث وہاں نقصان مقابلتہً کم ہوا۔ دونوں بم 2000 فٹ کی بلندی پر پھٹائے گئے تاکہ دھماکے سے زیادہ سے زیادہ رقبہ متاثر ہو سکے۔موت کی شرح تھی بم پھٹنے کے مقام سے نصف میل کے اندر نوے فی صد نصف میل سے ڈیڑھ میل تک پچاس فی صد سے اوپر نصف میل کے رقبے میں تمام عمارتیں حتٰی کہ زلزلہ پروف عمارتیں بھی مکمل طور پرتباہ ہو گئیں اور ڈیڑھ میل کے رقبے میں اکثر عمارتیں برباد ہو گئیں۔ دو میل تک تمام عمارتیں بُری طرح سے متاثر ہوئیں اور تین میل تک معمولی متاثر ہوئیں۔ دھماکے سے پیدا ہونے والی شدید حرارت نے دھماکے کی جگہ کے گرد پونے میل کے رقبے میں باہر موجود آدمیوں کی کھالوں کو مہلک طور پر جلا دیا اور حرارت کی شدت اور ہیٹ فلیش(ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی آگ) کے بھڑکے کے صدمے نے موقع پر موت کے گھاٹ اُ تار دیا۔ اگرچہ بالمعموم کازوالٹی کی اکثریت کھال جلنے اور دوسری میکانیکی چوٹوں سے وقو ع پذیر ہو ئی تھی لیکن یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اموات کا تقریباً ساٹھ فی صد اور کازولٹیز کا کم از کم پچھتر فی صد جلنے (آگ اور ہیٹ فلیش)سے وقوع پذیر ہوا۔ تقریباً بیس فی صد اموات گرتی ہوئی عمارتوں اور اُ ڑتے ہوئے کوڑے کرکٹ کی وجہ سے اور بیس فی صد دوسری وجوہات بشمول تابکاری شعاؤں سے واقع ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار اور یہ مالی نقصانات بہت بڑے معلوم ہوتے ہیں لیکن ایٹمی توانائی سے بننے والے بموں میں جو ترقی ہیروشیما کے بعد ہوئی ہے وہ اس قدر حیرتناک ہے اور ان نئے بموں سے ہونے والے نقصانات کے انداز ے اتنے بیکراں ہیں کہ اُ ن کے سامنے ہیروشیما اور ناگاساکی پر برسائے ہوئے ایٹم بم محض ایک نمائشی کھلونا نظر آتے ہیں۔ یہ نئے ترقی یافتہ ایٹم بم محض شہروں کو نہیں ملکوں کو غارت کرکے رکھ دیتے ہیں اور ملکوں کی تو بات ہی کیا ہے یہ ساری دنیا کو آنِ واحد میں بھسم کرکے رکھ سکتے ہیں۔

(۲۰)۔ہائیڈروجن بم عرف ہیل بم جہنمی بم بنتا ہے:

روس کا پہلا فژنی دھماکہ(ہیروشیما کی قسم کا دھماکہ) اگست1949 ء میں وقوع پذیر ہوا۔ اس کا اعلان پہلی بار امریکی صدر ٹرومین نے23 ستمبر1949ء میں کیا کہ امریکی حکومت کے پاس ناقابلِ تردید ثبوت اس امر کا موجود ہے کہ روسیوں نے فژنی قسم کی کسی ایجاد کو آگ دکھائی ہے۔امریکی حکومت نے فی الفور تھرمو نیو کلر Thermonuclear))  معروف بہ ایچ بم یا سوپر بم کا  اہتمام کرنے کا فیصلہ کیا۔31 جنوری 1950 ء کو ٹرومین نے اٹامک انرجی کمشن (ڈیوڈ للی این تھن بطور چیئر مین) اور اس کی جنرل ایڈوائزری کمیٹی (رابرٹ اوپن ہیمر بطور چئیرمین) کو ہدایات دے دیں لیکن رفتار اور مقدار پر آراء میں سخت اختلاف نمایاں تھا۔ سائنسدانوں کی ضمیر کو کڑے امتحان میں ڈال دیا گیا تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں انسانیت کی تباہی اور انسانیت کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر بعض سائنس دانوں کو ہیروشیما سے بھی زبردست تباہی کرنے والے بم کی تیاری پر ملکی سالمیت کاخیال بھی بمشکل آمادہ کرتا نظر آتا تھا۔ ضمیر آخر جنجھوڑتی ہے اور ضمیر ضمیر ہے۔ اس کے علاوہ بعض دوسرے عامل بھی موجود تھے مثلاً یہ کہ ایٹمی بم سے جو ضرر انسانیت کو پہنچ چکا ہے اُ س کا مداوا پہلے سے زیادہ طاقت ور ایٹمی بموں سے نہیں ہو سکتا۔ یا یہ کہ انتہائی خوفناک بم بنانے والے خود بھی انتہائی خوفناک نقصانات کے متحمل ہوں گے کیونکہ دوسرے بھی تو ایسے ہی خوفناک ہتھیار بنا لیں گے۔ بہر حال ایک اور بڑے ہوشیار اور سرگرم سائنسں دان ایڈرورڈ ٹیلر نامی نے حامی بھر لی اور یکم نومبر 1952 ء کو مارشل آئی لینڈ میں تھرمونیکلر بم یعنی ہایئڈروجن بم معروف بہ ہیل یعنی جہنم بم کا کامیاب دھماکہ کر دیا۔ یکم نومبر 1952ء کو امریکہ نے بحرالکاہل کے مارشل آئی لینڈ میں تھرمونیو کلر بم مائیک(MIKE) کا دھماکہ کیا۔ روس نے اس کے پیچھے قدم بڑھایا۔ اگست1953 ء میں روس نے بھی تھرمونیوکلر کا دھماکہ کر ڈالا۔ یکم مارچ1954 ء کو امریکہ نے بیکے نی اٹول میں پندرہ میگاٹن کی خطیر طاقت کا تھرمونیوکلر دھماکہ کیا۔ نومبر 1955 ء میں روس نے اتنی ہی طاقت کا تھرمونیو کلر دھماکہ کر ڈالا۔ برطانیہ، فرانس، چین،  بھارت  اور اسرائیل نے بھی باری باری ایٹمی دھماکے کئے اور ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گئے۔

(۲۱)۔ایٹمی توانائی اور ایٹم بموں کی تابکاری اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں:

 امریکہ کے بکی نی اٹول مارچ 1954 ء کے کئے گئے ایٹمی دھماکے نے ایک ایسی خوفناک حقیقت کو آشکار کر دیا  جسے دیکھ کر ایٹمی طاقتیں تھرا اُٹھیں۔ اب اُ نہیں پتہ چلا کہ ایٹم بم ایک سخت غدار غلام ہے۔ یہ دُ شمن کا گھر جلا دینے کے بعد مالک کے گھر کی جانب بھی لوٹ سکتا ہےاور اُ سے خاکستر کر سکتا ہے بلکہ غیر جانبدار ممالک بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ واقع یوں ہُو ا کہ ایک جاپانی ماہی گیر کشتی اپنے 23 ملاحوں کے ساتھ دھماکے کے مقام سے نوے میل کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ اس کشتی کا نام فاکیریو مارو(خوش نصیب اژدھا) تھا۔ دھماکے کے بعد سفوف نما فال آؤٹ(Fall Out) اس پر گرنے لگا۔یہ ایک اعلان تھا سارے روئے زمین پر رہنے والے انسانوں کیلئے کہ ایٹم بم کی تابکاری سے دنیا کا کوئی گوشہ بھی محفوظ نہیں رہتا خواہ ایٹم بم کہاں پھٹے۔ کشتی کے خوفزدہ ملاح جھٹ پٹ لنگر اُ ٹھا کر رات دن سفر کرتے تیرہ روز کے بعد دو ہزار میل کی مسافت طے کرکے جاپان کی ایک بندرگاہ میں جا پہنچے۔ سب کے سب تابکاری سے متاثر تھے۔ وہاں زبردست علاج معالجے سے  باقی تو بچا لئے گئے کیونکہ مہلک حد تک تابکاری سے متاثر نہ تھے اور چند آدمی تھے بروقت علاج اور زبردست علاج ہوا لیکن کشتی کا وائرلیس اوپریٹر چھ ماہ کشمکش موت و حیات میں مبتلا ہو کر راہیء ملک عدم ہوا اور وہ بات جس کے صیغہء راز میں رکھنے کے لئے انتہائی اہتمام برتا گیا تھا اُ سے قدرت کے ڈھنڈورچی نے ببانگِ دہل طشت ازبام کر دیا   ساری دنیا کی رائے عامہ کو سخت دھچکا لگا اور ایٹمی طاقتوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ اس کشتی والے واقعے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاتا ہے کہ ساری دنیا کے ایٹمی ماہر جاپان میں پہنچے اور وہاں تحقیق میں لگے رہے۔ دنیا بھر کے اخباروں نے شہہ سرخیوں کے ساتھ اس خبر کو شائع کیا اور رنگا رنگ کے اداریئے لکھے۔ سائنسی حلقوں میں ایک کھلبلی مچ گئی لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا اور پانی سر سے۔

قرآنِ حکیم  کی پیشینگوئی میں حُطَمَہ(یعنی ایٹمی آگ) کی تشریح، پیشین گوئی:

”خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے عیب چننے والے کی۔ جس نے سمیٹا مال اور گِن گِن کر رکھا۔خیال کرتا ہے کہ اُ س کا مال سدا رہے گا اُ س کیساتھ۔ ہرگز نہیں وہ پھینکا جائے گا  حُطَمَہ (روندنے والی)  میں اور تُو کیا سمجھا کون ہے وہ  حُطَمَہ (روندنے والی)  ایک آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک۔ وہ  اُ ن پر بند کی ہوئی ہے آگ لمبے لمبے ستونوں میں“۔ (104 الھمزہ)

اگر آپ عربی زبان کماحقہ جانتے ہیں تو ضرور محسوس کریں گے کہ دونوں عبارتوں یعنی ترجمہ اور اصل متن میں زمین آسمان کا فرق ہوتاہے اور یہ فرق صرف اُ ردو زبان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر دوسری زبان میں نمایاں نظر آتا ہے۔ الحق  قرآنِ حکیم کے اصلی متن اور تر جمہ میں وہی فرق ہے جو ایک زندہ اور مشہور و معروف بیل میں اور اُ س کے ذبح شدہ جسد میں ہوتا ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ  قرآنِ حکیم کو اس کے عربی متن کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت اس لئے ہے کہ وہ تمام گوناگوں اور حقیقی معانی جو بڑے بڑے انکشافات پردلالت کرتے ہیں صرف عربی متن ہی کے پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر حُطَمَہ کے لفظ کو مترجم ”روندنے والی“ لکھتے ہیں۔ اگر آپ ہزار برس بھی روندنے والی پڑھتے رہیں تو آپ کو حُطَمَہ کے حقیقی مفہوم یعنی ایٹمی جہنم سے قطعاً آگہی نہیں ہو سکتی۔

 آپ جو بھی ہیں جہاں بھی ہیں خواہ آپ قرآنِ حکیم کو ماننے والے ہیں خواہ آپ اُ س کے منکر ہیں آپ اس پیشین گوئی کو بڑے غور سے پڑھیں کیونکہ یقین مانئے اور میں کچھ مبالغہ آرائی نہیں کر رہا اگر میں یہ کہوں کہ انسانیت کی بقا اور انسانیت کے ایک ذلیل ترین انجام سے چھٹکارے کی ضامن یہی  قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی ہے  ورنہ دنیا کی کوئی بھی دوسری طاقت اولادِ آدم کی تباہ کن موت اور المناک زیست کو روک نہیں سکے گی۔ یہ پیشین گوئی غور سے پڑھنے پر ایک تنبیہ کی صورت میں نظر آتی ہے۔ قضائے مُقدر کی صورت میں نہیں اور اس طرح اس انجام سے نجات پانے کی امُید کی جا سکتی ہے خاص کر جب کہ قرآنِ حکیم نے وہ وجوہ بیان کر دی ہیں جو ایٹمی جہنم کی آفرینش کی ذمہ دار ہیں لہٰذا یہ وجوہ اگر زائل کر دی جائیں تو ان کے منطقی نتیجے یعنی ایٹمی جہنم کا خطرہ خود بخود تحلیل ہو سکتا ہے اور یہی ایک چھٹکارے کی صورت ہے ورنہ ان وجوہ کی موجودگی میں انسانیت کی ہوش مندی یا ممالک کے باہمی معاہدوں پر اعتماد کرکے اس عظیم خطرے سے نجات کی اُ مید باندھنے والے احمقوں کی جنت میں نہیں دانش مندوں کے دوزخ میں رہتے ہیں۔

  حُطَمَہ کا تجز یہ:

 یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ قرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی اولا ً دوسری دنیا یعنی آخرت کی دنیا کے لئے ہے لیکن جس طرح اس جہان میں آگ اگلے جہان کے دوزخ اور باغ اور نہریں اگلے جہان کے بہشت پر دلیل ہیں اسی طرح ایٹمی جہنم کو جو اپنی خصوصی خاصیتوں کا مالک ہے۔(کیونکہ اس کی آگ عام دوزخ کی آگ کی طرح نہیں بلکہ اپنی عجیب و غریب اور مختلف خاصیتوں کی حامل ہے)۔ لازماً حجت کے طور پر اس دنیا میں موجود ہونا چاہئے۔ اوّلین مفسرینِ کرام نے اس حُطَمَہ کی تفسیرکرتے وقت اسے دوسری دنیا ہی میں پایا جانے والا دوزخ مانا ہے تاہم اُ ن کی تفسیر سے یہ ایٹمی جہنم جو، اس دنیا میں اب موجود ہو چکا ہےسرمو فرق نہیں رکھتا۔یہ بات خود اپنی جگہ پر ایک معجزے سے کم نہیں۔جب ہم ان مفسرینِ حضرات کی تفسیر پیش کریں گے تو ہر سمجھ دار قاری حیرت میں ڈوب جائے گا۔ دوسرا حیرتناک امر یہ ہے کہ قرآنِ حکیم کے بسم اللہ کے علاوہ صرف چونتیس34 لفظوں میں وہ سب کچھ ہی نہیں بیان کر دیا جو ایٹم بم بنانے والے سائنسدانوں کی ساری تحقیق کا نچوڑ ہے بلکہ صرف فنی اعتبار سے ہی اُ ن کے مقابلے میں کچھ زیادہ بیان کردیا ہے۔ ایٹم بم کی آفرینش کی منطقی وجوہ اس کے علاوہ ہیں۔ کوئی بھی جاننے والا جب اس پیشینگوئی کو پڑھے گا تو بے اختیار اُ س کی زبان سے نکلے گا ”واہ  قرآنِ حکیم“۔ کاش آج آئن سٹن زندہ ہوتا، کاش آج برٹرینڈرسل زندہ ہوتا تو قرآنِ حکیم  اُ ن سے بزورِ شمشیر اپنی بالا از تصّور الہامی حیثیت منواتا باقی جو وجوہ قرآنِ حکیم نے ایٹم بم کی آفرینش کا سبب قرار دے کر گِنوائی ہیں۔ اُ ن کو معلوم کرنے کے لئے آئن سٹن یا رسل کے ذہن کی حاجت نہیں کوئی بھی شخص جو آج اس دور میں موجود ہے  اچھی طرح سے جانتا ہے۔

 ایٹم بم کی پیدائش کے اسبا ب:

i۔ خرابی ہے  ہر طعنہ دینے والے عیب  جوُ کی۔

ii۔جس نے سمیٹا مال اور گِن گِن کر رکھا۔

iii۔خیال کرتا ہے اس کا مال سدا رہے گا  اس کے ساتھ(اور اُ سے لافانی بنا دے گا)۔

حُطَمہ یعنی ایٹمی جہنم کی آگ کی مخصوص اور منفرد خاصیتیں:

i۔آگ ہے۔

ii۔اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ (عجیب)

iii۔آگ جو چڑھتی ہے دلوں تک(عجیب)

iv۔وہ اُ ن پر بند کی ہوئی ہے آگ(عجیب  ایک خصوصی انداز میں)

v۔لمبے لمبے ستونوں میں۔  (عجیب)

  ایٹمی دھماکے کی منظر کشی:

i ۔ وہ ان پر بند کی ہوئی ہے آگ۔

ii۔لمبے لمبے ستونوں میں

  حُطَمہ:

  حُطمہ کا مطلب ہے آگ کاجہنم جو بھڑکتا ہے نیوکلر آگ سے یعنی ایٹمی آگ سے ان تمام خواص کے ساتھ جو ایٹمی فینامینن کے ساتھ ملحق ہیں یعنی ہیٹ ریڈی ایشن، (Heat Radiation)(حرارت کا اخراج)،Blast(دھماکہ) اور ریڈیو ایکٹو ٹی Radioactivity) (یعنی ایٹمی تابکاری اَلبَتَّہ دھماکہ کسی ایٹم بم یا کسی بم کاجزو نہیں فقط مظہر ہے۔ حطمہ کا لفظ لسانی اعتبار سے فعلی جذر ح، ط، م یعنی حطم پر تعمیر ہوتا ہے اور حطم کے معنی ہیں کسی چیز کو ریزہ ریزہ، ذرہ ذرہ، ایٹم ایٹم کر دینا۔ سائنس دان کی زبان میں کہیں گے (To Atomize)۔صرفی تحقیق مزید یہ انکشافات کرتی ہے کہ حَطَمَ کے ط کو مُشدد کر دیا جائے اور اسے حَطّمَ بنا دیا جائے تو اس کے معنی کے عمل میں شدت آ جاتی ہے مثلاً کسی چیز کو اس طرح ریزہ ریزہ کر دینا جس طرح آئینے کو پتھر پر پٹک کر ریزہ ریزہ کر دیا جاتا ہے۔ اگلی صرفی صورت میں حَطَمَ کا لفظ تَحطّم(َ ط پر شد) کی شکل اختیار کرتا ہے جس کے معنے ہوتے ہیں ٹوٹ جانا۔ ٹکڑے ٹکڑے۔ ریزہ ریزہ، ایٹم ایٹم ہو جانا یا اس طرح برباد ہو جانا جس طرح کوئی جہاز یا گاڑی حادثے کا شکار ہو جانے سے ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور یہی معنے انحطَمَ سے جو حَطَم سے ایک دوسری صورت نمودار ہوتی ہے حاصل کئے  جاتے ہیں۔ اسی حِطمَہ کے معنی ہیں ایک ریزہ اور حُطام اس کی جمع ہے۔ عرب لوگ دنیا کی چیزوں کو جو بنیادی طور پر ناپائدار ہیں۔  حُطامُ الدُ نیا اور برباد شدہ جہاز کے انجر پنجر کو حُطَام السَفیَنہ کہتے ہیں۔

قرآنِ حکیم کے حطم اور سائنس دان کے ایٹم یا اٹومس میں مماثلت و اختلاف:

حُطم کا لفظ خالصاً عربی الاصل ہے۔ ایٹم کا لفظ جس طرح کہ سائنس دان استعمال کرتا ہے۔ یونانی لفظ (Atomos) اٹامس سے اپنایاگیا ہے۔ اٹامس کے معنے ہیں جس کو مزید توڑا نہ جا سکےجس طرح ہم اردو میں یہی ترکیب ”ان گنت“ میں استعمال کرتے ہیں یعنی جو گِنا نہیں جا سکتا۔ اب حَطَم اور اَیٹَم کے لفظوں میں جو صوتی مماثلت موجود ہےاُ سے واضح کرنے کے لئے کسی بحث کی ضرورت نہیں بلکہ بالکل واضح ہے اور جو تھوڑابہت امتیاز موجود ہے اُ س کا اطلاق مختلف ممالک کے باشندوں کے صوتی عضلات کی ساخت پر کیا جا سکتا ہے۔عربی کا ہر طالبعلم جانتا ہے کہ اس زبان میں‘ ٹ نہیں اور اس کے بجائے ت ط  ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لینے کے بعد یہ جاننا چاہیئے کہ عربی زبان میں جہاں o کا حرف موجود ہے وہاں بالکل اس کے قریب کا ایک اور حرف یعنی ح ہے۔اب المیہ یہ ہے کہ یہ ح کا حرف انگریزی یا یونانی یا جہاں تک میرے علم میں ہے دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں پایا جاتا اور اگر ہو بھی تو ہماری بحث کو متاثر نہیں کرتا۔ اس حرف یعنی ح کا صحیح تلفظ نکالنا بھی کسی غیر عرب کے بس کی بات نہیں۔ اسی طرح ط کا لفظ بھی صحیح عربی مخرج سے نکالنا ایک غیر عرب کے لئے امرِ محال ہے اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہی دونوں حرف یعنی ح  ط ہی حطم کے لفظ میں شامل ہیں لیکن اس آمیزش کا نتیجہ صوتی لحاظ سے یہ سامنے آتا ہے کہ حطم کا لفظ آواز کے معاملے میں ایٹم کے لفظ سے مزید مشابہت پیدا کر لیتا ہے۔ آپ کسی عربی دوست سے کہیں کہ ایٹم کہے اور پھر اُ سے کہیں کہ حَطَم کہے تو آ پ کو معلوم ہو جائے گاکہ عرب کے لئے یہ دونوں لفظ کس قدر صوتی مشابہت لئے ہوئے ہیں۔ ہم ان دولفظوں کی صوتی مشابہت کے بیان پر اس قدر زور کیوں دے رہے ہیں۔ اس کی دو وجہ ہیں پہلی تو ہمیں اس عجیب و غریب اتفاق سے یہ باور کرانا ہے کہ یہ امر بذاتِ خود   قرآنِ حکیم کا ایک اعلیٰ معجزہ ہے دوسری وجہ یہ ہے اور یہ بات میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں کہ ان دو لفظوں اس حطم اور اس ایٹم کی صوتی مشابہت بلکہ یگانگت کے بغیر میں کبھی بھی اُ س عظیم حقیقت کا انکشاف نہ کر سکتا جو، اِس ظاہری مشابہت کے پیچھے ایک راز کی صورت میں جلوہ گر تھی اور اگرچہ میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا لیکن اس بات کا امکان ضرور موجود ہے کہ یہ ساری پیشینگوئی جس پر موجودہ انسانیت کی موت و حیات کادارومدار ہے پردۂ اخفاء میں رہ جاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پیشین گوئی صیغۂ راز میں رکھنے کے لئے قرآنِ حکیم  میں نہیں رکھی تھی بلکہ اُ سے اصولاً انسانیت سے اتمامِ حجت کا فریضہ انجام دینا تھا۔ سو اس راز سے پردہ اُ ٹھنا تھا سو اٹھ گیا جس کے ہاتھوں اُ ٹھ گیا۔ اُ ٹھ گیا اور اب کبھی بھی یہ بات اختفا ء میں نہیں رہ سکے گی اور انشاء اللہ تعالیٰ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی اور نشہ میں دُھت اور ایٹمی جہنم کی جانب گھسٹتی ہوئی انسانیت سے اتمامِ حجت کے جملہ تقاضے پورے کرکے ہی رہے گی۔

 قرآنِ حکیم درست ، سائنس دان غلط:

اگر میں کہوں کہ سائنس دان کسی معاملے میں غلطی کامرتکب ہو رہا ہے تو اس سے میرا ہرگز مطلب نہیں کہ کسی کے احساسات کو مجروح کروں اور میں کہیں بھی کبھی بھی کوئی بات کسی کے متعلق ایسی نہیں کروں گا جس میں مشارِ علیہ کو کسی قسم کے انکار کی گنجائش ہو جب میں کہوں گا کہ ایک معاملے میں قرآنِ حکیم درست ہے اور سائنس دان غلط ہے تو خود سائنس دان اس غلطی کو تسلیم کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کو برملا تسلیم کر چکا ہے۔ بات یہ ہے کہ قرآنِ حکیم نے حطم کا لفظ صحیح کہا ہے لیکن سائنس دان نے ایٹم کا استعمال غلط کیا ہے۔حطم کے لفظ کااطلاق ایسی چیز پر ہوتا ہے جو ٹوٹ پھوٹ سکے لیکن ایٹم جو یونانی اٹامس کی اپنائی ہوئی صورت ہے۔ ان معانی میں استعمال نہیں ہو سکتا۔ اٹامس کے معنی جیسے کہ ہم بتا چکے ہیں یہ ہیں کہ کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ نہیں سکتی۔ پسِ منظر اس کا یہ ہے کہ وہ اوّلین یونانی فلسفی جنہوں نے ایٹمی نظریئے کو پیش کیا۔ اُ ن کا نظریہ یہ تھا کہ ایک خاص مرحلے پر پہنچ کر مادے کا ذرہ مزید ٹوٹ نہیں سکتا۔ اس ذرے کو اُ نہوں نے اٹامس کا نام دیا جیسا کہ اس لفظ کے معانی سے واضح ہے یعنی نہ ٹوٹنے والالیکن کیا ایٹم نہیں ٹوٹ سکتا اور اس حقیقت سے سائنس دان سے زیادہ کون آشناء ہے کہ ایٹم ٹوٹ چکا۔ اس کے حصے بخرے الیکٹر ان، پروٹان، نیوٹرا ن اور پوزیٹران وغیرہ کی صورت میں پہچانے جا چکےتو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سائنس دان نے خود ایٹم کو توڑ کر اس کے نام کو غلط کر ڈالا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس لفظ یعنی ایٹم کو بدلا نہ گیا۔کیا کوئی دوسرا لفظ دنیا کی ڈکشنریوں میں موجود نہ تھا۔ کیا سائنس دانوں میں کوئی ایسا قابل دماغ نہ تھا جو حقیقت کے مطابق ایک نیا لفظ تلاش کر لیتایا گھڑ لیتا۔کیا جب زمین گول ثابت ہوئی تو اس کا پہلا نام یعنی چپٹی برقرار رکھا گیا۔کیا  جب زمین کو متحرک مانا گیا تو اس کا پہلا نام یعنی ساکن قائم رہا نہیں بلکہ دونوں نام بدل  دئیے گئے اور اب کہیں بھی زمین کو ساکن یا چپٹی نہیں بلکہ اسے متحرک اور گول ہی لکھتے  ہیں اور بولتے ہیں تو پھر اب تک ایٹم کو ایٹم کیوں لکھا جاتاہے کیوں بولا جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ آپ کے چہرے پر حیرانگی کے آثار نمایاں ہیں لیکن نہیں۔ سائنس دان اتنا غافل نہیں اور سائنس ایسی غفلت کی اجازت نہیں دیتی۔ سائنسدانوں نے ایٹم کے تقسیم ہونے کے بعد ایک کانفرنس بلائی اس لئے اب جو بات غلط ہو چکی تھی اس کا ازالہ کیا جائے۔ ایٹم جو ،اَب ایٹم نہیں رہا بلکہ ایٹم کی بجائے ٹم بن کے رہ گیا ہے اس کا کوئی نیا نام تجویز کیا جائےمگر ہوا کیا سائنس دانوں نے کافی لمبی چوڑی بحث کی،تجویزیں پیش ہوئیں، تجویزیں رد ہوئیں اور بالآخرفیصلہ یہ ہوا کہ لفظ ایٹم جیسا بھی ہے ایسا ہی رہنے دیا جائے۔ اب اگر آپ چاہیں تو مجھے توہم پرستی کا الزام دے لیں لیکن اس موقعے کے سوا کہیں بھی میں آپ کے لئے یہ موقع نہیں چھوڑوں گا کیونکہ میں ہر بات ٹھوس سائنٹفک ثبوت پر کروں گا۔ آپ پوچھیں کہ وہ کون سی بات ہے جس میں  توہم پرستی کا شائبہ ہے تو وہ بات یہ ہے اور وہ یقینا ًایک بہت بڑی بات ہے کم از کم میر ے نقطۂ نظر سے بہت بڑی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اور میں کہتا  ہوں کہ  جس طاقت نے قرآنِ حکیم میں ایٹم بم کے متعلق پیشین گوئی چودہ سو برس پہلے(تقریباً)رکھ چھوڑی تھی کہ وقت آنے پر اس کا انکشاف ہو گا۔ اُ سی طاقت نے سائنس دانوں کے سائنسدان اور حقیقت پرست ذہن کو مفلوج کرکے اُ ن سے ایٹم کی صریحاً غلط اصطلاح کو غلط ہونے کے باوجود اسی حالت میں رکھوا چھوڑا تھا۔ آپ پوچھیں گے کہ ایسے خاص تردد کی اس معمولی سی بات میں کیا حاجت تھی تو میں کہتا ہوں اس لئے کہ یہ ایٹم کا لفظ حطَم کے ساتھ اپنی صوتی مماثلت کی بنا پر اسی طرح قائم رہنے دیا جائے تاکہ جب وقت آئے تو ایٹم بم کی قرآنی پیشین گوئی کا انکشاف اسی صوتی مماثلت کی بنا پر ممکن ہو۔ مزید ثبوت درکار ہو تو سر جیمز جینز جیسے نامور سائنس دان کا ایٹم کو ایٹم رکھنے اور اس کا نام تبدیل نہ کرنے کی سائنسی اور بنیادی غلطی پر افسوس واضح ترین الفاظ میں اُ س کی معروفِ زمانہ کتاب دی میسٹرئیس یونیورس(The Mysterious Universe) کے صفحہ نمبر45 پر پڑھ لیں۔ وہ کہتا ہے ”عین اُ س وقت اُ نیسوی صدی اختتام پذیر ہو رہی تھی۔ سر جے جے تھامپسن اور اُ س کے پیروکاروں نے ایٹم کو توڑنا شروع کر دیا جو، اَب اَ ن ٹوٹ نہیں رہا تھا اور اس طرح اس نام یعنی ایٹم کا اس سے زیادہ مستحق نہ تھا۔ جتنا کہ مالیکیول جس سے یہ نام اس سے پہلے متعلق تھا“۔ یہ ہے سر جینز کا افسوس لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اُ نیسوی صدی کا اختتام تو کُجا اب جب کہ بیسویں صدی بھی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے تب بھی ایٹم ایٹم ہی ہے حالانکہ اگرچہ بادی النظر میں تو یہ بات معمولی نظر آ سکتی ہے لیکن اگر اس روش کو چھوٹ دی جائے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے اور پھر ایک بار زبان کے معاملے میں وہی قدیم بابل والا منظر پیش ہو جائے۔ مثلاً لوگ اگر اپنی اپنی مرضی کے مطابق زبان کے ہر لفظ سے معنی نکالتے رہیں اور معنی پہناتے رہیں تو پھر کون کسی کی بات کو سمجھے گا مثلاً آ ؤکو جاؤ،کالے کو گورا، رنج کو خوشی، لمبے کو ناٹا بنا ڈالیں یا اور جو چاہیں بنا ڈالیں۔ تو پھر انسانیت کا خدا ہی حافظ ہے اور اب ذرا قرآنِ حکیم  کےلفظ حطم کو دیکھیں ۔سیدھی سی بات ہے”توڑنے والا، ٹکڑے کرنے والا“  نہ کوئی کجی، نہ ٹیڑھا پن، ٹھیک بات کے لئے ٹھیک استعمال ہوا۔

حُطَمہ کی ہولناکی:

 ”اور کون سمجھائے اے نبی محمدﷺ آپ کو کہ حُطَمَہ کیا ہے؟“۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ حُطَمَہ ایک بہت دہشتناک اور پیچیدہ ترین چیز ہے۔ اس دہشت کا مزہ چکھنا  اور اس کی پیچیدگی کی دردسری اُ ٹھانی اس دور اس مادی دور کے بدنصیب لوگوں کی قسمت میں لکھی تھی۔ اس دہشت اور اس پیچیدگی، اور اس غارت اور اس تباہی کے کیاکہنے جو ایٹمی جہنم کا خاصہ ہے۔ان باتوں کو ذرا جاپان کے لوگوں سے جنہوں نے ناگاساکی اور ہیروشیما میں اس بلائے بے درمان کا ایک ہلکا سا مظاہرہ دیکھا ہے۔پوچھئے مگر کیا نا گاساکی ،کیا ہیروشیمااور کیا ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی غارت، بربادی،کچھ بھی نہیں، اور مثال اس کی یوں ہے جیسے کہ وہ چھوٹی سی شُرِ کن (ہوائی) جو دونی میں ایک بچہ بارود والے سے لے کر اور آگ دکھا کر چھوڑتا ہے تو وہ شُر شُر کر تی ہوئی سو فٹ کے قریب آسمان کی جانب چلی جاتی ہے اور اگر اس بچے کی اس شُر کِن کو ناگاساکی اور ہیروشیما کی تباہی سے تشبیہ دی جائے تو ایٹمی جنگ کی تباہی جو کسی وقت بھی اس بدنصیب دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اُ س کی مثال اُ س اپالو وغیرہ نام کی راکٹ کی سی ہے جوتین سو گز کی طوالت لئے پانچ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا اور خلا کو چیرتی ہوئی اور آگ کے شعلوں میں لپٹی ہوئی چاند یا مریخ کو تاکتی ہے۔ چند کلوٹن کے وہ ایٹم بم جو ناگاساکی اور ہیروشیما پر1945 ء میں گرائے    گئے۔ وہ محض وہ دونی والی ایٹمی شُر کنیں تھیں جو محض تفریح ِطبع یا تفنن کی خاطر چلائی جاتی ہیں۔ اصلی تباہی کے سپر سانک تھر مو نیوکلر دیو تو ابھی ایٹامک طاقتوں کے اصطبلوں میں مقیّد ہیں جو اس زمین کو اور اس پر بسنے والی ساری مخلوق کو ایک سائنس دان کے دعوے کے مطابق پچیس مرتبہ برباد کرسکتے ہیں۔گویا چوبیس مرتبہ وہ زندگی کی لاش کو غارت کریں گے۔ ایٹمی دھماکہ کیا ہے۔ اندھا کر دینے والی چمک، بھسم کر دینے والی آگ، ٹکڑے اڑا دینے والا دھماکہ، اور آگ کے طوفانوں اور زلزلوں کا ایک دردناک مجموعہ ہے۔ چشم ِزدن میں شہروں کے شہر دہکتے ہوئے ملبے کا ڈھیر ہو کے رہ جاتے ہیں۔ہستی بستی آبادیاں تباہ و برباد کھنڈروں کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور ایک نہیں، دو نہیں، دس نہیں، سو نہیں ہزار نہیں روئے زمین پر بسنے والے سارے شہر چشمِ زدن میں ایک سگکتے ہوئے تیرہ وتاریک و یرانے کا سماں پیدا کر سکتے ہیں تاہم اس بھڑکتے ہوئے جہنم کی سب سے بُری خاصیت ریڈیائی تابکاری ہے۔ دنیا اگر پلک بھر میں ایٹم بم کے ذریعے فنا ہوتی ہے تو ہو جائے مخلوق اس زندگی کے بوجھ سے رہائی پا لےلیکن ایسا نہیں ایٹمی قوت کی ریڈیائی تابکاری جو ایٹمی قوت کا جزُ وِ لاینفک ہے انسانیت کو، حیوانوں کو اور جو بھی ذی روح روئے زمین پر ہے سب کو کوڑھی کرکے اور دردناک کینسروں، پھوڑوں اور بیماریوں میں مبتلا کرکے اور پوری انسانی نسل کو عجیب الخلقت مخلوقوں میں تبدیل کرکے ایٹمی تباہی میں موت سے بچ نکلنے والی انسانیت اور حیوانی دنیا کی زندگی اس درجہ المنا ک اس قدر گھناؤنی اور اس طرح بھیانک بنا دیتی ہے جس کے بیان سے دو ہزار شیکسپیئر، ملٹن اور اقبال، دو ہزار رومی، سعدی اور فردوسی   دو ہزار متبنی، اخطل اور جریر نہیں بلکہ روئے زمین کے سارے شاعر سارے ادیب سب قلمکار ،فنکار ہنر مند اور مصّور مل کر بھی قاصر ہیں۔ قاصر رہیں گے۔ شرم و ندامت سے ان سب کے سر جھکے ہوں گے اور ان کو ایٹمی تباہی کی عظمت کا پورا پورا اعتراف ہو گا۔ شیطان اُ س روز بغلیں بجائے گا۔ خوشی سے اُ س کی باچھیں کِھل جائیں جس قول کی خاطر اُ س نے ازل سے لے کر اب تک اپنے اوپر مصیبتوں کے پہاڑ ڈال دیئے تھے۔ وہ قول آج پورا ہو رہا تھا۔ آج شیطان خدا کو مخاطب کر کے اور بڑے طنطنے سے کہہ سکتا تھا۔ اے خُدا  تو نے اس بدبودار کیچڑ کے ذلیل   پتلے کی خاطر مجھے جنت بدر کیا تھااور میں نے تجھے برملا کہا تھا کہ تو اس رذیل تخلیق سے ایک روزپچھتائے گا۔ میں ان کو آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے ماروں گا۔ میں ان پر گھات لگا کر بیٹھوں گا اور تو دیکھ لے گا کہ ان میں کتنے تیرے وفادار رہیں گے اور اس کے جواب میں خدا سوائے اس کے اور کیا کہہ سکے گا کہ ہاں میں نے جہنم بھی بنایا ہے اور میں انہیں سے اپنے جہنم کا پیٹ بھروں گا لیکن اس جہنم کا پیٹ بھرنے والی بات میں دس ہزار دو سو پچاس پہلو دردناکی کے اُن لوگوں کے لئے موجود ہیں جن کو خدا کا جہنم بھرنے کی خاطر چن لیا جائے گا  پھر پتہ چل جائے گا ۔جب لاد چلے گا بنجارہ۔

 قرآنِ حکیم نیوکلر فینامینن (Nuclear Phenomenon) یعنی ایٹمی آگ، ایٹمی توانائی اور ایٹمی عمل کو بیان کرتا ہے:

قرآنِ حکیم نے ایٹمی آگ، ایٹمی توانائی اور ایٹمی عمل کے مظاہر کا بیان اس باریکی سے اور اس کا تجزیہ اس دُ رستی سے کیا ہے اور اس کی باریک خاصیتوں اور امتیازی نشانیوں کو اس غضب کی نگاہ سے جانچا ہے کہ جدید قاری ورطۂ حیرت میں ڈوب ڈوب جائے اور دورِ حاضر کے سائنس دان بالخصوص اٹامسٹ اور سب سے بڑھ کر وہ اٹامسٹ جن کا ایٹم بم کی تخلیق میں کچھ حصہ ہےاگر صاحبِ حال صوفیوں کی طرح محوِ رقص نہ ہو جائیں تو کم از کم ایک ناقابلِ بیان کیفیت کااثر محسوس کریں بشرطیکہ جدید مادی سائنس نے ان کے ذہن کے سارے اثر گیر سوتے خشک نہ کرد یئے ہوں اور ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ سائنس کا جذبات سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ ڈارون نے تسلیم کیا کہ اُ س کی شعری حظ اٹھانے والی اہلیت مر چکی ہے۔ بہر حال انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ قرآنِ حکیم نے جتنا کچھ بیان ایٹمی فینامینن کے متعلق معجزانہ اختصار اور مُحیر العقول وضاحت کے ساتھ کر رکھا ہے۔ ایٹم بم کے خالق سائنس دانوں کو بھی(حتٰی کہ ابھی تک بھی جب کہ پہلا ایٹمی تجربہ کئے تیس مصروف ترین سال گذر چکے ہیں)۔ ایٹمی فینامینن اور ایٹمی دھماکے کے متعلق اس قدر علم نہیں۔ریڈیو ایکٹو فال آؤٹ کے عالمگیر تباہ کن اثرات کے متعلق اٹامسٹوں کو1954 ء میں بکینی اٹول کے تجربے کے بعد علم ہوا لیکن قرآنِ حکیم  نے یہ سب کچھ پہلے سے لکھ رکھا تھا اور یہ کہ قرآنِ حکیم  شروع  ہی سے ایٹمی آگ کو ایک عذابِ الٰہی کی صورت میں دیکھتا ہے اور اس کے امن کے استعمال کا سوال ہی نہیں پیدا ہونے دیتا جب کہ سائنس دانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ابھی ایٹمی توانائی برائے امن کی حامی ہے۔گو کہ ان میں بھی اکثریت معاشی مجبوری کا شکار ہے۔ وہ اربوں ڈالر جو بعض سرمایہ دار ایٹمی توانائی کی پیدائش کے لئے لگا چکے ہیں۔ اُن کی طرف سے دنیا جائے جہنم میں اُ ن کو تو اپنے ڈالروں کی سلامتی کی ضرورت ہے اور سائنسدان بے چارے ایسے ہی سرمایہ داروں کے ملازم ہوتے ہیں اور بعض اوقات ان آقاؤں کی ہاں میں ہاں ملانے کی مجبوری سے ایٹمی توانائی برائے امن کے مسئلے کو بھی مصلحت کی نگاہ سے دیکھ جاتے ہیں۔آج اگر حکیم آئن سٹائن بقید ِحیات ہوتا تو میں اس سے یہ باتیں پوچھتا لیکن وہ مر چکا ہے۔ بہر حال جو ابھی زندہ ہیں اور اس قابل ہیں میں ضرور ان سے موقع ملنے پر پوچھوں گا اور پوچھوں گا بھی اور بتلاؤں گا بھی جو بتلاؤں گااور انشاء اللہ تعالیٰ ان چوٹیوں کے سائنس دانوں کو  قرآنِ حکیم کی علمی عظمت کے سبب حیرت میں لپیٹ دوں گااور خوشی کی روشنیوں میں اُ ن کے دلوں کو سدرۃُ المنتہی کی بلندیوں پر لے جاؤں گا اور اُ ن کو حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں اور دنیا میں  قرآنِ حکیم کا نام وردِ زبان ہو گا۔

ایٹمی آگ ، ایٹمی توانائی کے خواص  قرآنِ حکیم کی نظر میں:

(i)  یہ آگ ہے

(ii)  آگ ہے اللہ کی بھڑ کائی ہوئی

(iii)   جوچڑھتی ہے دلوں تک

(iv)  آگ ہے بند کی ہوئی اُ ن پر

(v)  لمبے لمبے ستونوں میں

جب ہم ان حقیقتوں کو اُ ن حقیقتوں کے سامنے رکھ کر جانچیں گے جو ایٹمی سائنس کی تحقیق کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئی ہیں۔

(i)   یہ آگ ہے:

 اگرچہ اُ س زمانے میں جب قرآنِ حکیم نازل ہوا۔ یہ ممکن نہ تھا لیکن آج اس دورِ جدید میں صرف اٹامسٹ ہی نہیں بلکہ ہر آدمی یہ بات جانتا ہے کہ ایٹمی توانائی اورایٹمی دھماکہ مکمل طور پر آگ ہیں اَلبَتَّہ ہر اٹامسٹ یہ جانتا ہے کہ ایٹمی دھماکے کے صرف دو ہی جزو ہیں۔ یعنی انیشیل ہیٹ ریڈی ایشن(Initial Heat Radiation) ابتدائی اخراجِ حرارت اور تابکار شعاعیں اور یہ دونوں آگ ہیں  اَلبَتَّہ دھماکہ جزو نہیں ہوتا۔ علامت ہوتی ہے اور وہ تمام آگیں جو بعد میں شہروں کو بھسم کرتی ہیں۔ وہ فضا میں ایٹمی دھماکے سے پیدا کی ہوئی حرارت کے سبب شروع ہوتی ہیں۔ اب یہ جو ابتدائی اخراج حرارت (Initial Heat Radiation)ہے۔ یہ ایٹم بم چلنے کے بعد ایک سیکنڈ کے کچھ حصے میں شروع ہو کر دو سیکنڈ تک آگ کے ایک شعلے کی صورت میں رہتی ہے۔ یہ سورج سے زیادہ چمکدار اور گرمی کے لحاظ سے کوئی دوزخ ہی اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ایٹمی دھماکے میں لاکھوں ڈگری سینٹی گریڈ کا ٹمپریچر پیدا ہوتا ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گاکہ کیا آپ نے کچھ اندازہ لگایا ہے کہ ایک لاکھ ڈگری کا ٹمپریچر کیا ہوتا ہے اور یہ کروڑوں ڈگری کا ٹمپریچر کیا ہوتا ہے۔نہیں آپ اس کا تصّور بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ کوئی بھی انسانی ذہن اس نوعیت کے ٹمپریچر کو متصّور کرنے سے قاصر ہے کیونکہ انسان کی متخیلہ وہاں جا کر جواب دے دیتی ہے۔کروڑ درجے سنٹی گریڈ کا اندازہ کرنے کی کوشش یوں کریں کہ چونے کی بھٹی کا درجہ حرارت صرف ایک ہزار ڈگری ہوتا ہے۔ سیمنٹ پندرہ سو  درجے پر کلنکر ہوتا ہے۔ مٹی پگھل جاتی ہے۔ دو ہزار سے اوپر جب شُعلہ اُ ٹھنے لگتا ہے تو اُ س کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے لیکن ایک کروڑ ڈگری کا اندازہ کون کرے گا۔ اس کے علاوہ بھی آگ نہیں بلکہ آگیں اور پہاڑوں جیسی آگیں ایٹم بم کے دھماکے کے نتیجے میں نمودار ہوتی ہیں جو شہروں کے شہر، بستیوں کی بستیاں بھسم کرکے رکھ دیتی ہیں لیکن یہ آگیں یا تو اُ س گرمی کے سبب سے شر وع  ہوتی ہیں جو ایٹمی دھماکے کی ہیٹ ریڈی ایشن ابتدائی(Initial Heat Radiation)ابتدائی اخراجِ حرارت سے فضا میں نمودار ہو کر پوری فضا کو ایک بھٹی کی صورت میں تبدیل کر دیتی ہے اور یا بجلی کی لائینوں اور دوسرے آلات کو نقصان پہنچنے کے سبب نمودار ہو جاتی ہیں۔ ایسی آگیں طوفان کی صورت میں ایک عرصے تک تباہ کاری کاعمل جاری رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایٹم بم چلنے کے نتیجے میں جو زلزلہ خیز دھماکہ جو لرزہ افگن دھماکہ مضبوط سے مضبوط شہروں کی مضبوط ترین عمارتوں کو بیخ و بن سے اُ کھاڑ کر چشمِ زدن میں پیوندزمین کر دیتا ہے۔ یہ دھماکہ ایٹم بم کا جزو نہیں ہوتا بلکہ ایٹم بم کے ری ایکشن کی ایک علامت ہوتی ہے۔ ایٹم بم مجسّم آگ ہی آگ ہیں۔ اب جب کہ آپ کو پتہ چل گیا کہ ایٹم بم یا ایٹمی توانائی محض آگ ہیں تو آگے  چلئے۔

(ii)  ۔قرآنِ حکیم کہتا ہے یہ آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی :

کیونکہ اس آگ کا بھڑکنا ایک سزا کے طور پر اور بعض بری خصلتوں کے نتیجے میں نمودار ہوتا ہے۔ یہ جہنم سائنس کے غلط استعمال سے بھڑکتا ہے اور سائنس کا غلط استعمال ایک خاص غلط فلسفے کا مرہونِ منت ہے، ایک ایسا فلسفہ جو لامذہبیت، مادی تپ،الحاد، اور ہوس سے متاثر ہوتا ہے۔ باقی رہی وہ بری خصلتیں جو ایٹم بم ، ایٹمی توانائی اور ایٹمی آگ کی پیدائش کا سبب ہیں اور جو    قرآنِ حکیم نے گِنوائی ہیں وہ تین ہیں۔ یعنی طعنہ زنی، عیب جوئی اور مال و دولت جمع کرنا اور جمع کرکے گنتے رہنا اور دولت میں اتنا ہی اعتماد رکھنا جتنا کہ دولت کے دینے والے خدا کا حق ہے۔یہ تینوں خصلتیں ا س جدید سائنس زدہ مادہ پرست ،منکرِ قیامت دور کی بنیادی خصوصی اور امتیازی خصوصیتیں ہیں۔

 غیر معمولی ہی نہیں بلکہ غیر فطرتی طور پر بے پناہ ٹمپریچر اور آگ کے بروں از قیاس و تصّور بھڑکا ؤ اور بروں از حد و شمار اور نقصانات کے بروں از حد و شمار اندازے جو ایٹمی فینامینن کا خاصہ ہیں اور جو عام حالات میں نمودار نہیں ہوتے۔ بڑی موزونیت اور بڑی درستی سے اللہ کے نام کے ساتھ منسوب کئے جا سکتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ تمام باتیں اگر واقعی انسانیت کی آنکھ کے سامنے نمودار نہ ہو گئی ہوتیں تو کوئی بھی انسان ان کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوتااور حقیقت میں یہ تمام عوامل انسان کے حیطۂ تصّور سے کہیں بعید ہیں اور صرف اور صرف حسابی اندازوں میں کا غذ پر یا ذہن میں ہمارے سامنے رہتے ہیں۔ ہیروشیما میں چلائے گئے ایٹم بم سے ایک لاکھ ڈگری کا ٹمپریچر پیدا ہُوا اور یہ لاکھ بھی اِس وقت بڑا معمولی سا لگتا ہے جب ہم تھرمونیوکلر اور سپر قسم کے جدید ترین دیو قامت ایٹم بموں سے پیدا ہونے والے کروڑوں ڈگریوں کے ٹمپریچر کو مدِّ نظر ِ رکھتے ہیں۔ یا ہیل بم(Hell Bomb) ہیل بم یا جہنمی بم سے پیدا ہونے والے کروڑوں ڈگریوں کے ٹمپریچر کا تصّور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس قبیل کے ٹمپریچر اگر ہمیں کہیں نظر آسکتے ہیں تو سورج اور آسمانی تاروں میں جن کے اندر ایٹمی عمل ہی سے پیدا ہونے والے درجہ حرارت کروڑوں تک پہنچتے ہیں۔ سورج اور ستاروں کا تو کام ہی جلنا ہے لیکن بے چاری زمین کے لئے اس نوع کے ٹمپریچر بالکل غیر فطرتی ہیں۔ زمین کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ نہ تو ایسی آگ کسی مقصد کے لئے اس مسکین زمین پر کسی استعمال ہی میں لائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایسی آگ اس بے چارے خاکدان میں کسی برتن میں رکھی ہی جا سکتی ہے۔ یہ وہ آگ ہے کہ اگر زمین کو ایک بار مَس کرے تو زمین بخارات بن کر خلا میں نابود ہو جائے۔ اب ایسی آگ کو اگر اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ سے موسوم نہ کیا جائے تو اور کیا کہا جائے۔

ایٹمی آگ اور ایندھن میں ناقابلِ تسلیم حد تک تفاوت:

یورانیم 235 کے فقط دو پانڈ بیس ہزار ٹن عام کیمیائی ٹی این ٹی کے برابر قوت پیدا کرتے ہیں۔ ایک ہزار کلو گرام یعنی ایک ٹن یورانیم235 دو کروڑ ٹن کیمیائی ٹی این  ٹی کے برابر قوت پیدا کرتا ہے۔ یہ قوت قدرتی مظاہر مثلاً زلزلوں اور طوفان کی قوت کے برابر ہے۔ ایسی ایسی چیزیں مثلاً زلزلے اور طوفان پیدا کرنا اس ایٹمی دور سے قبل قدرت کا کام تصّور کیا جاتا تھا اور انسان کے ورطہء اختیار سے باہر سمجھا جاتا تھا اور اگر ایسی عجیب و غریب آگ کو اللہ کے نام سے منسوب کرکے اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ کہا جائے تو کیا عجب۔

 دھماکے کی وہ قوت جو ایک پندرہ میگاٹن تھرمونیوکلر(ہائیڈروجن بم) پیدا کرتا ہے وہ اس تمام قوت سے جو انسانیت کی ساری تاریخ میں پیدا کی گئی زیادہ ہے۔

ایک بیس میگاٹن بم کا ابتدائی اخراجِ حرارت اور دھماکہ بڑے سے بڑے شہر کو تہس نہس کر دیتا ہے جب کہ ایک نامی نل ہائی ییلڈ ایٹامک بم سے خارج ہونے والی ریڈیائی تابکاری ملکوں پر مشتمل رقبوں کو غارت کرکے رکھ دیتی ہے۔ پانچ سو ایسے بم اگر روئے زمین پر ہر طرف پھیلا کر چلائے جائیں تو ایک انچ زمین بھی قابلِ رہائش نہ رہ سکے نہ ہی کسی قسم کی زندگی کا نشان ہی باقی بچے۔

ایٹمی توانائی یا نیوکلر توانائی فقط ہتھیار کی صورت میں ہی خطرناک نہیں بلکہ اگر اس توانائی کو امن کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔ تب بھی یہ اپنی لاینفک ریڈیائی تابکاری کی شعاؤں کے سبب تباہ کار ہی ثابت ہوتی ہے۔ ریڈیائی تابکاری کی شعائیں بدقسمتی سے ایٹمی توانائی، ایٹمی فینامینن کی بنیادی فطرت میں شامل ہیں اور ان کو کسی صورت بھی ایٹمی توانائی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعاعیں کسی شکار کو فوری طور پر موت کی نیند سلا سکتی ہیں اور یا کچھ عرصہ بیمار رکھنے کے بعد مار سکتی ہیں۔ بیماری کا یہ عرصہ گویا کہ ایک طویل اور دردناک موت کے مترادف ہوتا ہے۔ نہ ہی ان شعاؤں کے خلاف حفاظت کا ہی کوئی امکان ہے۔

 (iii)   قرآنِ حکیم کہتا ہے۔ ”کہ یہ ایک آگ ہے  جو چڑھتی ہے دلوں تک“۔

 یہ نکتہ ہمارے اس مطالعے کا انتہائی دلچسپ حصہ ہے۔کیونکہ یہ خاصیت ایٹمی فینامینن اور ایٹمی دھماکے کی عجیب ترین اور حیرتناک حد تک عجیب ترین خاصیت ہےاور کتنی عجیب آگ ہے جو بجائے جسم کو جلا کر کوئلہ کرنے کے چڑھتی ہے دلوں تک۔

ہیٹ فلیش، انیشیل یا ابتدائی اخراج حرارت:

کس طرح یہ ابتدائی اخراج حرارت (Initial Heat Flash)دلوں تک چڑھتی ہے۔ یہ بذاتِ خود ایک عجوبوں کا عجوبہ ہے۔ یہ ہیٹ فلیش جوں ہی کہ ایٹم بم کو آگ دکھائی جاتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے نہایت ہی معمولی سے حصہ میں سورج سے کئی گنا زیادہ خیرہ کن چمک کے ساتھ نمودار ہوتی ہے اور روشنی کی رفتار یعنی 186000 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ دو سیکنڈ تک رہتی ہے۔ یہ بھون ڈالنے والی چمک ایٹم بم کے متاثرہ رقبے میں پائے جانے والے لوگوں کے جسم پر بجلی کی سی تیزی اور بجلی کے سے جھٹکے کے ساتھ لگتی ہے اور اُ ن کی کھالوں کو سیاہ یا بھورے رنگ میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ایٹم بم کے چلنے کے مقام کے ارد گرد نزدیک نزدیک تو یہ چمک صرف کھال ہی کو نہیں جلاتی بلکہ اپنے شکار کو موقع پر ہلاک کر دیتی ہےلیکن دُ ور والی جگہوں پر صرف کھال کو زیادہ یا معمولی جلاتی ہےاور ان لوگوں کو جلے ہوئے زخموں کے دردناک عذاب میں مبتلا کرکے چھوڑ دیتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چمک جو صرف کھال کو کم و بیش جلاتی ہے تو نزدیک والے بدنصیبوں کو جان سے ہی کیوں مار ڈالتی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات حادثے میں جھلس جانے والے لوگ مہینوں زیر ِعلاج رہ کر تندرست ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور مرتے نہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ہیٹ فلیش (Heat Flash) کا جھپکا انسان کی کھال سے نیچے ہرگز نہیں پہنچتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فلیش کا عرصہ اتنا تھوڑا ہوتا ہے کہ یہ کھال سے نیچے پہنچ کر جسم یا ہڈیوں کو جلانے کی فرصت نہیں پاتی۔پھر انسان کو موقع پر موت کے منہ میں کیونکر دھکیلتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس فلیش سے پیدا ہونے والی بے پناہ گرمی اور ایٹم بم کا لرزہ افگن زلزلہ(Blast) بلاسٹ مل کر اُ س شکار کو قتل کرتے ہیں۔گرمی پھیپھٹروں کے ذریعے دل پر حملہ آور ہوتی ہے۔ ساتھ ہی دھماکے کا صدمہ شاک (Shock) دل  پر لگتا ہے اور دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور آدمی زمین پر گر جاتا ہے اور معلوم ہوا کہ اس طرح سے ایٹمی آگ یاایٹمی توانائی دلوں پر چڑھتی ہےلیکن جاننا چاہیئے کہ ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں اس قدر آگیں پیدا ہوتی ہیں کہ جن کا شمار مشکل ہوتا ہے اور پھر ایسی آگیں انسان، حیوان یاکسی بھی چیز کو جلا کر راکھ کر ڈالتی ہیں۔ ہاں کیونکہ یہ سب عام قسم کی آگ ہے جو کیمیاوی طریقے سے پیدا ہوتی ہے اور اس کا کام جلانا ہے دلوں پر چڑھنا نہیں  اور ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے کے باوجود ایٹمی دھماکے کا جزو نہیں بلکہ ایک اثری علامت ہے۔ ایٹم بم کے فقط دو ہی بنیادی جزو ہیں اور وہ ہیں ہیٹ فلیش اور اٹامک ریڈی ایشن اور یہ دونوں چیزیں آگ (حرارت) ہی کی قسمیں ہیں۔ دھماکہ اور دوسری پیدا ہونے والی عام آگیں ایٹم بم کا جزو نہیں فقط علامات ہیں۔

نیوکلیس:

نیوکلّیس کہتے ہیں کسی چیز کا مرکزی مقام، کسی چیز کا دل اور جب ایٹم کے دل کونیوکلّیس کا نام سائنس دان نے دیا تو یہ کوئی محض حادثہ نہیں تھا بلکہ بڑا سوچ سمجھ کر بڑا موزوں نام رکھا گیا۔

ایٹمی توانائی کی پیدائش کے طریقے:

جب ہم ایٹمی توانائی کی پیدائش کے عمل کو جانچتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل میں بھی ”وہ چڑھتی ہے دلوں تک“ اصول کارفرما ہے۔ یہ بات کس طرح ہے تو سُنیئے۔ ایٹمی توانائی کی پیدائش کے دو عمل ہیں۔ ایک کو فژن پراسس اور دوسرے کو فیوژن پراسس کہا جاتا ہے۔ اب پہلے عمل یعنی فژن میں ایک نیوٹران یورانیم235 کے ڈھیر میں ایک ایٹم کےنیوکلّیس یعنی اس کے دل پر حملہ کرکے دو نیوٹران اس میں سے باہر دھکیل دیتا ہے۔ یہ دونوں دھکیلے ہوئے نیوٹران پھر اپنی طرح سے ایک ایک ایٹم کے نیوکلیس(دل) پر حملہ کرکے ان میں سے ہر ایک دو دو نیوٹران ایٹم کے دل سے باہر دھکیل دیتا ہے اور اسی طرح یہ عمل چلتا ہے حتٰی کہ پورے کا پورا یورانیمی ڈھیر گرم سرخ ہو کر بالآخر ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتا ہے تو گویا کہ آگ ایٹموں کے دلوں تک چڑھی اور تب ایٹمی  توانائی پیدا ہوئی۔ دوسرا طریقہ فیوژن پراسس ہے اس عمل میں دو ایٹم ایسے لئے جاتے ہیں جن کےنیوکلّیس(دل) چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں یعنی تھوڑے تھوڑے نیوکلّیان پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اب ایک ایسے ایٹم کے نیوکلس(دل) کو دوسرے ایٹم کےنیوکلّیس(دل)  میں دبا دیا جاتا ہے حتٰی کہ دونوں کے دل ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں اور جب یہ دل ٹوٹتے ہیں تو توانائی کا اخراج ہوتا ہے۔

 تھرمونیوکلر کی اصطلاح:

 اور اب یہ عجوبہ ملاحظہ فرمائیے جیسا عجوبہ کہ زندگی بھر آپ نے نہیں دیکھا ہو گا اگر آپ سائنس دان ہیں تو حیرت کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے ذہن کو پہلے سے ہی تیار کر لیں۔ کیونکہ آپ نہایت ہی عجیب بات سننے والے ہیں۔ تھرمو کے کیا معنی ہیں؟ حرارت سے متعلق۔ آگ سے متعلق اور نیوکلر کے معنی  ہیں نیوکلّیس سے متعلق یعنی دل سے متعلق یعنی وہ آگ جو دلوں سے متعلق ہے۔ اب یہ اگر  قرآنِ حکیم کے الفاظ ”آگ جو چڑھتی ہے دلوں تک“ کا عین ترجمہ نہیں تو کیا ہےیا دوسرے لفظوں میں    قرآنِ حکیم کے الفاظ ”آگ جو چڑھتی ہے دلوں تک“۔ اگر تھرمونیوکلر کا ترجمہ نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ خود ہی بتایئے اور کیا ہے اور پھر آپ خود کہیئے کہ یہ اگر معجزہ نہیں تو کیا ہے اور یہ اگر معجزہ ہے تو پھر قرآنِ حکیم کااگر زندہ معجزہ نہیں تو کیا ہے۔ آپ کہاں پھرتے ہیں۔ تھر مو نیوکلر بم اُ س بم کو کہتے ہیں جسے عرفِ عام میں ہائیڈروجن بم کہا جاتا ہے اور اس میں ٹرگرنگ کی غرض سے بے تحاشا طور پر بڑے بڑے ٹمپریچر پیداکرنے پڑتے ہیں یہاں یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ سائنسدان نے  کس حقیقی موزونیت کے ساتھ نیوکلّیس اور تھرمونیوکلر کی اصطلاحیں وضع کی ہیں اور پھر  قرآنِ حکیم کا معجزہ ملاحظہ کیجیئے کہ کس درجہ  درستی سے ایٹمی آگ کی یہ عجیب و غریب خصوصیت اور کس سادگی سے بیان فرمائی ہے۔ فسبحان اللہ تعالیٰ عما یصفون۔

 اٹامک ریڈی ایشن یعنی ایٹمی تابکاری چڑھتی ہے دلوں تک:

اب جب آپ نے یہ دیکھ لیا کہ کس طرح ایٹمی آگ ہیٹ فلیش(Heat  Flash) کی صورت میں دلوں تک چڑھتی ہے اور پھر آپ نے یہ بھی دیکھ لیا کہ کس طرح حتٰی کہ ایٹمی آگ یا ایٹمی توانائی کی پیدائش بھی اسی دلوں پر چڑھنے والے اصول پر مبنی ہے اور اب دیکھیں کہ کس طرح ایٹمی تابکاری کی شعاعیں دلوں تک چڑھتی ہیں۔

 ایٹمی تابکاری کی شعاعیں الفا،بیٹا اور گاما ریز کو سائنس دانوں نے بون سیکرز     (Bone Seekers)  یعنی ہڈی پر حملہ کرنے والی کا نام دے رکھا ہے۔ کیونکہ یہ شعاعیں دورانِ خون میں داخل ہو کر سیدھی ہڈیوں کے گودے پر حملہ آور ہو کر اسے ناکارہ کر دیتی ہیں۔ ہڈیوں کے گودے کا کام خون کو پیدا کرنا ہے لہٰذا یہ شعاعیں اس گودے کو اپنے اس فرض سے محروم کرنے کے لئے اسے اس بری طرح سے ناکارہ کرکے لاعلاج کر دیتی ہیں کہ یہ خون پیدا کرنے کے اہل نہیں رہتا اور ساتھ ہی یہ شعاعیں خون پر حملہ آور ہو کر اس کے سرخ اور سفید ذرات کو تہس نہس کرکے اسے غذائیت کے وصف سے محروم کر دیتی ہیں اور یہ خون دل کے لئے بجائے کسی قوت بخش خدمت انجام دینے کے الٹا عذاب کا باعث بنتا ہے۔اب خون کا جو تعلق دل سے ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ دراصل یہ شعاعیں خون پر حملہ دل کو نقصان کو پہنچانے کی خاطر کرتی ہیں یعنی ان کا حملہ باالواسطہ دل پر ہی ہوتاہے۔ ان ظالم شعاؤں کا دوسرا ہدف وہ تمام اعضا ہوتے ہیں جو خون کو پیدا کرتے ہیں یا خون پیدا کرنے میں معاون ہوتے ہیں اور چونکہ اس طرح خون متاثر ہوتا ہے اور خون کے ساتھ دل متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ حملہ بھی دل پر ہی ہے اس کے بعد دیکھئےکہ ریڈی ایشن سکنس (Radiation Sickness)یعنی تابکاری کے پیدا کیے ہوئے امراض کی علامتیں کون سی ہیں۔ یہ ہیں لیوکیمیا (یہ خون کا مرض ہے جس میں خون بالکل پتلا اور ناقص ہو جاتا ہے) اور یہ بھی خون ہی کا مرض ہے اس کے بعد ہے ہیموریج یعنی جریانِ خون سو یہ بھی خون ہی کا مرض ہے اس کے بعد ہے بخار سو یہ بھی خون ہی کے فساد کی علامت ہے اور اس کے بعد ہے قئے اور متلی سو اِن کو بھی دل ہی کے ساتھ نسبت ہے۔ یہ شعاعیں جہاں بھی حملہ کرتی ہیں۔ ان کا اصلی ہدف دل ہی ہوتا ہے یہ ہر طرف سے دل کا گھیراؤ کرتی ہیں۔ اس کے خون کی سپلائی کو قطع کرتی ہے اور زہر آلود بناتی ہیں۔ اس طرح سے دل کو خالص خون سے محروم کرکے بالآخر اُس کی موت کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ترین تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ کثیر الخلیہ نامیاتی اجسام(Multicellular Organisms) جن کا نظام دورانِ خون اور نظام ِتنفس زیادہ ترقی یافتہ اور جن کا دل زیادہ تکمیل پذیرفتہ ہوتا ہے۔ بدون استثناء سب کے سب قلیل الخلیہ نامیاتی اجسام (Unicellular Organisms) جن کا نظام ِدورانِ خون اور نظام ِتنفس مقابلتاً کم ترقی یافتہ اور جن کا دل کم تکمیل پذیرفتہ ہوتا ہے کے مقابلے میں تابکار شعاؤں سے نسبتاً زیادہ تاثر پذیر ہوتے ہیں۔ یہ امر مسلّمہ طور پر دل کے لئے اور جو کچھ بھی دل سے متعلق ہےاس کے لئے تابکاری شعاؤں کی ترجیحی ذہنیت پر دلالت کرتا ہے اور اس کے علاوہ ایک اور ثبوت جو اس ضمن میں جدید ترین تحقیق نے مہیّا کیا ہے وہ یہ ہے کہ آکسیجن کی عدم موجودگی میں تابکاری شعاؤں کی کارکردگی نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ اب آکسیجن کا جو تعلق دل سے ہے اور جو کردار آکسیجن خون کی صفائی میں ادا کرتی ہے وہ اظہر من الشمس ہے اور آخیر پر جو بات موجودہ تحقیق منظر عام پر لائی ہے وہ یہ ہے کہ دماغ اعصاب اور عضلات ایسے اعضا ہیں جو تابکاری کا کمتر اثر قبول کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں دل اور دل سے تعلق رکھنے والے تمام اعضا تابکاری شعاؤں کے اثر کو بیشتر قبول کرتے ہیں۔

تفکر، پریشانی عدم اطمینان کی آگ:

 ہاں تو اب اس آگ کو دیکھئے جو تفکر، پریشانی اور عدم ِاطمینان کی صورت میں دنیا کے گوشے گوشے میں ہر دل میں شعلہ کش ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ آگ اگر انسانی تاریخ کے ہر دورمیں کسی نہ کسی حد تک موجود رہی ہے لیکن اس ہمارے نئے دور کے خصوصی نظام میں اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر شخص فکر و پریشانی اور عدمِ اطمینان کے ایک دہکتے ہوئے انجن کی طرح دھوئیں کے مرغولے چھوڑتا ہوا اور بے سکونی کی سیٹیاں بجاتا ہوا ہر طرف بھاگا پھرتا ہے۔ اس آگ نے آنسوؤں کے چشموں کو خشک کر دیا ہے اور آہوں کو بخارات میں تحلیل کر دیا ہے۔ ضروریاتِ زندگی کی بے پناہ تلخیوں کے ساتھ ایٹم بموں کے خوف کو شامل کر لو تو اس علم ،سائنس اور ترقی کے دور میں بے چارے انسان کی زندگی ایک اچھے خاصے جہنم کا نمونہ بن چکی ہے اور انسان انسانیت کی خصوصیات سے عاری ہو کر ایک مشینی جانور کی ہیئت اختیار کر چکا ہے اور ایٹمی ری ایکٹروں کی تعداد میں اصافہ ہونے دو۔ جوں جوں ان میں اضافہ ہو گا انسان آتش زیرپا ہوتا جائے گا اور اس المیے میں ان قوموں اور ان لوگوں کی کیفیت مزید قابلِ رحم ہے جو سائنس کی سہولتوں سے تو محروم ہیں مگر سائنس کی ابتلاؤں میں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔جو بے چارے پھولوں سے تو محروم ہیں مگر کانٹوں نے ان کے دامن کو تار تار کر رکھا ہے اور آج جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے پہلے رونے کو اگر غور سے سنا جائے تو وہ یہ کہتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ ہیہات میں اپنے جسم کو  زندہ رکھنے کے لئے کیا کروں گا۔ ہائے افسوس۔ اس تابکاری سے زہر آلود دنیا میں مادی ضروریات کے دردناک معمے کو کس طرح حل کر سکوں گا۔ جب کہ کسی پہلے دور میں پیدا  ہونے والے بچے کو رونے کو یوں سمجھا جاتا تھا کہ اے افسوس مجھ پر میں اس جالوں اور گڑھوں سے پُر دنیا میں اپنی روح  اپنی ضمیر کو کس طرح بچا سکوں گا۔ اے ہے میں کس طرح بخیر و عافیت اپنے اصلی گھر کی طرف لوٹوں گا جہاں سے میں آیا ہوں۔ روحانی تسکین صبر و تحمل، اخلاقی قوت اور ایمان کی عدم موجودگی میں مادی وجود اور مادی کشمکش موت و حیات میں ظالمانہ افکار و پریشانی کی شدت نے انسان کی زندگی مغرب اور مشرق ہر طرف ایک عذاب ،ایک وبال ِجان بنا کے رکھ دی ہے۔ معاشیات کے اس معاشی دورمیں معیشت انسانی ضروریات کی حاجت سے بڑھ کر مادی جنون کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ انسان کے ذہن میں معاشی کیڑے رینگتے محسوس ہوتے ہیں۔ لوگ اس کوفت کی وجہ سے پتھر کی دیواروں کے ساتھ ٹکریں مارتے ہیں، چیختے ہیں، دہاڑتے ہیں، حیلہ مکروفن، عیاری، چور بازاری، محسن کشی بلکہ برادر کشی، مادر کشی اس دور کے انسان کی گھٹی میں پڑ چکی ہیں۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہے اور اس تشویش ،اس پریشانی ،اس عذاب کی رفتار اور آواز اس تیزی سے اور اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ جلد بلکہ بہت جلد ہانپتی کانپتی ہوئی انسانیت اس درجہ تنگ ہو جائے گی کہ لوگ زندگی پر موت کو ترجیح دیں گے اور وہی لوگ جو آج اپنے طاقت ور بل ڈوزروں اور دیو ہیکل ٹریکٹروں سے قبرستانوں کو زمین کے ساتھ ہموار کرکے اپنی زمین میں چند مرلے اضافہ کرنے کے لئے قبرستانوں کی جانب اپنے صبا رفتار انجنوں پر دیوانہ وار لپکتے ہیں۔ وہی لوگ اور بالکل وہی لوگ کل جب کسی قبرستان کے قریب سے گزریں گے تو آہ بھریں گے اور کوئی سننے والا ہو تو وہ سنے۔ وہ کہتے سنائی دیں گے اے کاش اے کاش اس قبر میں پڑے ہوئے مردے کی جگہ میں ہوتا۔ اس زمین کے اوپر ہونے سے اس زمین کے نیچے ہونا بہتر ہے۔ ہاں ہاں اور وہ ایسا وقت ہو گا جب یہی لوگ جو آج ایٹم بم کی متوقع جنگ کی یقینی  تباہ کاریوں سے خوفزدہ ہو کر گلی گلی، کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ اس بلائے عظیم کے خلاف انسانیت کے نام کی دہائی دیتے پھرتے ہیں اور اس بربادی سے پناہ مانگتے پھرتے ہیں۔ یہی لوگ ایٹمی جنگ کی اطلاع کو اپنے لئے ایک بشارت تصّور کریں گے اور ایٹمی دھماکے کی خیرہ کن چمک کو چہرۂ تسکین کے جمال جہاں آرا کی ایک جھلکی جانیں گے۔وہی ایٹم بم جو آج تک ایک خوفناک دیو کی طرح منہ پھلائے اپنے نتھنوں سے آگ کے خوفناک پھنکارے مارتا نظر آتا ہے، یہی خوفناک دیو اُ س وقت اس مصیبت ذدہ  انسانیت کی آنکھوں میں ایک خوبصورت اور من موہن نجات دہندہ ایک فرشتے کے دلکش روپ میں نمودار ہوگا۔ بے شک وہ لوگ ایٹم بم کے ایک ہی دھماکے سے آنی والی موت کو اپنی طویل موت یعنی نہایت ہی دکھی زندگی پر ترجیح دیں گے۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں اور نہ تھا جو اُ س انسانیت کی مصیبت کا نشہ الفاظ میں یا کسی دوسرے طریقے سے کھینچ سکے جو ایٹامک بموں سے ہراساں ہو گی جو ایٹامک ری ایکٹروں  کے نرغے میں ہو گی اور ایٹامک ریڈی ایشنوں (تابکاری شعاؤں) کی زد میں ہو گی۔ ایک ایسی انسانیت جس کے افراد ہر قدم پھونک پھونک کر نہیں بلکہ جھانک جھانک کر اٹھائیں گے انہیں دنیا کی ہر چیز سے  خوف آئے گا وہ اس طرح چلیں گے جس طرح کوئی آدمی ایسی لمبی لمبی اور گھنی گھنی  گھاس میں ننگے پاؤں چل رہا ہو جس میں زہریلے سانپوں کے بِل ہوں۔ ایٹمی  تابکاری کی شعائیں ان سانپوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ لوگ خوفزہ سایوں  کے خوفزدہ عکسوں کی طرح اِدھر اُدھر چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔  یہ لوگ چِلائیں گے   مگر سمجھیں گے کہ مسکرا  رہے ہیں۔ یہ مسکرائیں گے   مگر سمجھیں گے کہ رو رہے ہیں   جب دوست ان کے سامنے آئے گا تو اسے دشمن سمجھ کر بدک جائیں گے جب دشمن اُن کے سامنے آئے گا  تو یہ اُ سے دوست سمجھ کر اُ س سے لپٹ کر روئیں گے۔ ان کی آنکھیں بڑی بڑی ہوں گی مگر ان آنکھوں میں عزم کی جھلکی نہ ہو گی۔ ان کے ہونٹ ہر وقت کانپتے رہیں گے۔ یہ لوگ عجیب الخلقت ہوں گے۔ ان کے بچے ان سے بھی بڑھ کر عجیب الخلقت ہوں گے اور اب ہمیں یہ بتانے کے لئے کسی ڈارون کے ذہن کی ضرورت نہیں کہ ایسی انسانیت ایک المناک زندگی سے دوچار رہ کر بالآخر ایک ذلت آمیز ایک دردناک موت کا شکار ہو جائے گی۔ نہ ہی یہ سمجھانے کے لئے کسی فرائیڈ   جونگ یا ہیُوم کی حاجت ہے کہ ایسی انسانیت ایٹمی زلزلے کو ایٹمی تابکاری سے پیدا ہونے والے طاعون پر ضرور ترجیح دے گی۔

  زمانہ اس تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہا ہے کہ آپ بڑے ہی تعجب سے دیکھیں گے   حالانکہ آپ کو بالکل تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک آدمی جو اچھا بھلا سویا اس حالت میں کہ اُ س کا ذہن بالکل درست اور دل بالکل ٹھیک تھا لیکن اے ہائے  آدھی رات کو ہڑ بڑا کر اپنے بستر سے اُ ٹھا اور جب آپ نے لائٹ آن کی تو آپ نے دیکھا کہ اُ س کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی ہیں، اُ س کا بدن غیض و غضب سے کانپ رہا ہے   اُ س کی سانس جوش و خروش سے ہانپ رہی ہے اور اُ س کے مُنہ سے سفید جھاگ کے بگولے نکل رہے ہیں، وہ بک رہا ہے  وہ جوشِ غضب میں بے قابو ہو رہا ہے،   کبھی وہ دونوں بازو اوپر پھیلا کر اپنی دونوں مٹھیاں تان لیتا ہے، کبھی وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے بالوں میں گھسیڑ کر اس زور سے اپنے بالوں کو کھینچتا اور اس بُری طرح سے اپنے ہونٹوں کو بھینچتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے اُ س کی آنکھوں کے دونوں ڈھیلے اُ بل کر باہر نکل پڑیں گے، اُ س پر ایک ہذیانی کیفیت طاری ہے، وہ بک رہا ہے، وہ گالیاں بک رہا ہے وہ قسمیں کھا تا ہے اور کہتا ہے کہ جو بھلائی میں کسی سے کر چکا ہوں میں اُ س پر سخت پشیمان ہوں میں پاگل تھا، میں دیوانہ تھا، میں احمق تھا   آج کے بعد میں قسم کھاتا ہوں کہ میں کسی انسان سے کسی حیوان سے کسی ذی روح سے ہرگز ہرگز ہرگز کوئی بھلائی نہیں کروں گا۔ کسی بھکاری کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دوں گا۔ کسی کووقت تک نہیں بتاؤں گا سوائے ناک بھوں چڑھائے کسی سے بات نہیں کروں گا۔ آپ اُ سے بہلا پُھسلا کر سُلادیں اور پھر وہ حسبِ معمول بستر سے ہڑ بڑا کر اُ ٹھے گا  اور پھر اپنے ڈرامے کا وہی کردار ادا کرنا شروع کر دے گا اور مزید یہ کہے گا  کہ کل میں ہر آدمی سے ہر چیز چھین لوں گا،میں ان کو کوڑوں سے پیٹوں گا،ان کو جیل  میں بند کر دوں گا، میں ان کو بوریوں میں بند کر کے اُ ن پر شکاری کتے چھوڑوں گا   میں ان کو رُ لاؤں گا، یہ سب زمین میری ہو گی، یہ سب کچھ میر ا ہو گا۔ میں۔ میں۔  میں۔ بم۔ بم۔ بم۔ آپ پھر ایک بار اس آدمی کو پچکار کر سُلانے کی کوشش کریں اور اسے ایک بار پھر بستر پر سُلا دیں لیکن وہ ایک بار پھر اُ ٹھے گا اور اس بار آپ کو موقع دیئے بغیر وہ کمرے سے چھلانگ لگا دے گا۔

ہم ایسے دور میں پہنچ رہے ہیں جہاں نہ تو دولت کی خوشی ہی باقی ہو گی نہ غربت کے لئے صبر بلکہ خوشی اور صبر دونوں ہی فکر آلود اور غم انگیز ہوں گے۔ سب کے سب جذبات ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہو کر کسی حد تک اپنی امتیازی خصوصیات سے محروم  ہو جائیں گے۔ فکر، آنسو، آہ اور حقیقی ہنسی تو دنیا سے ناپید ہو چکی ہے۔ ذہن آج ایک ایسا بے آب و گیاہ ایک نہایت ہی بنجر بے رونق اور مایوس صحرا ہے جس میں فکر کی ہواؤں میں پریشانی کے بگولے ہر سُو اُ ٹھتے پھرتے ہیں۔ ہر شخص غیض و غضب کا ایک بُھوت بنا پھرتا ہے اور اس حالت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے یہ  بات بعید از قیاس نہیں کہ غُصے سے بے قابو ہو کر کوئی ایک آدمی یا آدمیوں کا ایک گروہ   کسی بھی وقت انسانیت کی تقدیر کو پلندہ کرکے ایٹمی جہنم میں جھونک سکتا ہے۔ بڑے سے بڑے معاہدےاور سخت سے سخت عہد نامے، ایسے لمحے موئے آتش دیدہ کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور انسانیت ایسی ہلاکت میں ڈالی جا سکتی ہے جس سے واپسی کا امکان نہیں لیکن اے انسان، کیا یہ ا نسانیت کا خاتمہ ہوگا۔ اے کاش کہ ایسا ہی ہوتا ایک دھکا ایک دھماکہ۔ چند چیخیں اور پھر خموشی۔ ہمیشہ کی خموشی نہ کوئی رونے والا نہ کوئی رلانے والا لیکن ایسا نہیں۔ اے ہائے افسوس کہ ایسا نہیں انسان ایٹمی جنگ میں ختم نہیں ہو گا بلکہ لوگ باگ بچ نکلّیں گے۔ انسان کو مزید اپنی سائنسی ایجادات کا مزہ چکھنا ہوگا۔ اُ سے جہنمی دنیا کے اندر جہنم کے سات پردوں میں رہنا ہو گا۔ اُ سے اپنے   لالچ اپنی طاقت اپنی دانشمندی اپنی عبقریت اور اوّلوالعزمی کا حساب دردناک پھوڑوں،کینسروں، کوڑھ کے زخموں، مکھیوں کے جُھنڈوں کی صورت میں دینا ہو گا۔ بھوکوں کے  لئے روٹی، ننگوں کے لئے کپڑا، بیماروں کے لئے دوا نہ ہو گی۔ لوگ گرمی سے گھبرائیں گے، سردیوں سے کانپیں گے، ماچس کی  ایک تیلی نہ ملے گی کہ کوئی سردی سے کانپتا ہوا آدمی لکڑیاں جلا کر آگ سینک لے۔ پیدا ہونے والے بچوں کو جب مائیں اپنے اس ہمارے دور کی ایجادوں کے متعلق بتائیں گی تو بچے کچھ بھی سمجھ نہ سکیں گے بلکہ سمجھیں گے کہ اماں جان! کسی دوسری دنیا کی بات کرتی ہیں اور جب کہیں کوئی بچہ کسی ہوائی جہاز، کسی موٹر کار، کسی بلڈوزر ،کسی ٹریکٹر کا جلا ہوا ڈھانچا دیکھے گا تو حیرت سے دم بخود رہ جائے گا۔ کئی بچے جب اپنے والدین سے گذشتہ مشینی دور کی کوئی بات پوچھیں گے تو والدین ایک خوفناک خموشی اختیار کر لیں گے۔ ننگ دھڑنگ انسان، ننگ دھڑنگ   بیمار، بھوکے، لاچار، پاگل ،مجبور، مظلوم ،خود بیما ر، ذہن بیمار، دل بیمار،زمین آسمان جہاں   ماضی حال مستقبل بیمار، ہر چیز شرم اور حماقت کے آثار لئے ہوئے انسان نہ ہذیان میں مُبتلا نہ گریہ کُناں۔ انسان فقط  پتھر کا ایک غمگین بُت۔ غم کا لفظ اس انسان کے غم کی  منظر کشی نہیں کرتا۔ نہ ہی اُ س کے دل کی کیفیت کو بیان کر سکتا ہے۔ اس انسان کو نہ موت کا غم نہ زندگی کا احساس۔ موت کیا ہے؟ زندگی کیا ہے؟ ہم کیا تھے؟ ہم کیا ہیں  ؟یہ کیا ہے؟ یہ سیاہ ہیولے کیا ہیں؟ یہ چمکنے والے سائے کیا ہیں؟ یہ کیا ہے جو حرکت کرتا ہے اور یہ کیا ہے؟ جو حرکت نہیں کرتا۔ ہر چیز مُبہم ہو چکی۔ ہر چیز ایٹمی تباہی کے کھنڈروں کی اڑتی ہوئی راکھ میں مبہم ہو چکی۔

 اوراب تصّور کیجئے اگر یہ حالت ہوایٹمی جنگ کے بعد کی انسانیت کی لیکن کون سی حالت میں کہتا ہوں،اگر روئے زمین کے سارے قابل ترین قلم، دماغ، ذہن، آنکھیں اور زبانیں مل کر بھی یہ کوشش کریں اور کروڑوں سالوں تک لگاتا ر یہی کوشش کرتے رہیں تب بھی وہ اُ س کیفیت کو قرارِ واقعی اور کماحقہ بیان کرنے سے عاجز رہیں گے جو انسانوں کی ایٹمی جنگ کے بعد ہو گی اور یا ۔اور یہ سننے والی بات ہے جو حالت انسانیت کی ایٹمی طاقت برائے امن کے استعمال سے ہو گی جو سائنس دان کہتا ہے کہ سب اچھا ہے وہ انسانیت کو دھوکہ دے رہا ہے، جو سیاستدان کہتا ہے   کہ سب اچھا ہے وہ اپنی قوم کو دھوکہ دے رہا ہے، جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ سب اچھا ہے  وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ایٹمی توانائی برائے امن ایک کھُلا دھوکہ ہے ، تباہی ہے، غارت ہے، بربادی ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے ایٹمی توانائی کی صنعت میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور مزید اربوں روپے اس صنعت میں لگا رہے ہیں وہ اور اُ ن کے ملازم سائنسد ان اور اُ ن کے زیرِ اثر سائنسدان سب مل کرانسانیت کا جنازہ تیار کرکے اسے ایٹمی جہنم میں پھینک دیں گے۔ دنیا میں کئی باتیں حیرت ناک ہیں   لیکن سب سے زیادہ حیرت ناک بات ہمارے اس جدید علمی، سائنسی، تہذ یبی، مشینی دور کے لوگوں کا اندھا پن، ضد اور جہالت ہے۔اگر میں چِلّاؤں توکیا ہو جائے گا اگر ساری دنیا کے بہی خواہ مل کر  چِلانا شروع کر دیں تو کیا ہو جائے گا۔ اس اندھی احمق اور لالچی انسانیت پر کیا اثر ہو سکے گالیکن اگر اللہ کو منظور ہو تو لوگوں کے ذہن درستی کی جانب مائل بھی ہو سکتے ہیں۔

 نشہء علم میں دُ ھت اور طاقت کی ہوس میں سرشار اس دور کے سیاہ دل کمپیوٹر کبھی بھی نہیں رُ کیں گے۔ جب تک کہ اپنی تباہی کی تہہ کو نہیں پہنچ جاتےلیکن آئیے۔ ذرا ٹھہریئے۔ یہ لوگ ایٹمی جنگ کے پسماندگان ہیں اور یہاں ایک دائرے میں بیٹھے ہیں ذرا ان سے بات چیت کیجئے۔ نہیں نہیں۔ یہ لوگ تو بات چیت کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ یہ صرف ہماری جانب دیکھ رہے ہیں اور ہمیں گھور رہے ہیں اور اپنی آنکھوں کو ہماری طرف سے نفرت میں پھیر رہے ہیں۔دیکھو۔ادھر سے ایک آدمی آ رہا ہے۔ ان میں سے ایک وہ اَلبَتَّہ کچھ زیادہ باتونی دکھائی دیتا ہے۔ اوئے ہوئے  ہو، ہا، ہا،  ”جناب آپ ذرا“۔ہم نے کہا۔ ”آپ ذرا ِ ادھر بات سُنیئے“۔ ذرا اس معاملے میں اپنا امپریشن ہمیں بتایئے! نہیں۔ اس آدمی کے چہرے پر تو وحشت کے آثار بات کرنے کی خواہش سے کہیں زیادہ نظر آتے ہیں۔ ”اے ہا جنا ب“! میں نے کہا۔”آپکااس سارے معاملے کے متعلق امپریشن کیا ہے“۔امپریشن؟ Impression)) آپ مجھ سے مجھ ایک آدمی سے اس معاملے کے متعلق امپریشن کیوں پوچھتے ہیں۔ یہ ساری دنیا، یہ متوحّش چہرے اور جو کچھ بھی یہاں ہے وہ سب کچھ خود ایک مجسم امپریشن ہے۔کیا آپ کو نظر نہیں آتا۔ کیا آپ اندھے ہیں؟ یا آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں؟ ”نہیں جناب۔ہرگز نہیں۔ ہم قطعاً آپ سے مذاق نہیں کر رہےاَلبَتَّہ آپ ضرور ہمیں اپنا امپریشن بتائیں“۔ ”اچھا۔ تو اگر آپ ضرور ہی میرا امپریشن جاننا چاہتے ہیں تو پھر سنئے میر ا امپریشن یہ ہے کہ ہر وہ بے اصول پادری جس کا عیسائیت کے مذہب کو خوفناک ہّوا بنانے میں کچھ حصہ ہے۔اُ س کی کھال میری آنکھوں کے سامنے اُتار لی  جائے تاکہ میں اُ س کی چیخیں سُن سکوں اور میر ا امپریشن یہ ہے کہ ہر وہ آدمی جس کا دین کی قبر پراٹامزم کی تعمیر میں کچھ حصہ ہے اُسے میری آنکھوں کے سامنے کھال سے عاری کیا جائےاور پھر اُ سے اٹھا کراٹامزم کے پھل ایٹم بم سے جلی ہوئی دنیا کی اس جلتی راکھ پر ڈال دیا جائے تاکہ میں اُ س کے جلتے ہوئے گوشت اور اُ س کی جلتی ہوئی چربی کی بو کو سونگھ سکوں اور میر ا امپریشن یہ ہے کہ تمام وہ لوگ جو اُ متِ مُسلمہ کی دنیاوی حرص و ہوس، غفلت، بے حِسی، بے حمّیتی اور ناعاقبت اندیشی کے ذمہ دار ہیں۔ لائے جائیں۔میں کہتا ہوں۔ یہاں میرے سامنے اورقرآنِ حکیم کو لایا جائے اور قرآنِ حکیم کے ساتھ وہ پیشین گوئی جو قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق کی اور پھر ایسا ہی ایٹمی جہنم جو  قرآنِ حکیم نے بیان کیا۔ باریک سے باریک تفصیل کے ساتھ بھڑکایا جائے اور پھر اُ ن تمام حرص و ہوس کے بندوں کو جو اُ س فرض کی انجام دہی میں نا کا م رہے،جو اُ ن پر بحیثیتِ مُسلمان اور بحیثیتِ پیروانِ قرآن عائید کیا گیا تھا۔ وہی جو قرآنِ حکیم کی روشنی اقصائے عالم میں پھیلانے اور قرآنِ حکیم میں واضح طور پر دی ہوئی ایٹمی پیشینگوئی کو اقوامِ عالم تک پہنچانے، خود  قرآنِ حکیم کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرنے اور بنی نوعِ انسانی کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دینے کے پابند تھے یہاں میرے سامنے لائے جائیں تاکہ اُ ن پر اور مجھ پر کلا م ِالٰہی کی صداقت بیّن طور پر وضاحت پذیر ہو۔ وہ کلام ِالٰہی جس میں اللہ نے انسانیت کے لئے اپنی آخری اور دائمی وصیت کے طور پر ایٹمی جہنم کی تباہ کاریوں سے بچنے اور انسانیت کو اس عظیم ترین تباہی اور جگر گداز شرمساری سے بچانے کی خاطر تاریخِ نبوت کی عظیم ترین پیشین گوئی اور واضح ترین تنبیہ اس لئے رکھ دی تھی کہ مسلمان جو آخری دین اور آخری نبی ﷺکی  اُمت  کی حیثیت میں اللہ کی طرف سے اس  پیشین گوئی کے اتمامِ حجت کے طور پر روئے زمین کی قوموں میں تشہیر کرنے پر مامور  تھے۔اللہ کی طرف سے قرارِ واقعی طور پر اوربتمام و کمال اس فرضِ منصبی سے بغیر کسی   خوف یا جھجک کے سبکدوش ہو کر تمام تر ذمہ داری اُ ن پر ڈال دی جو ایٹمی جہنم کے  بھڑکانے کے لئے اور خدا کی مخلوق کو بھسم کرنے کے لئے ایندھن جمع کر رہے تھے اور خدا کی بے بس مخلوق کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر غضبِ خداوندی کے مستوجب ہو رہے تھے۔ ہاں۔ ہاں۔ وہی کلامِ الٰہی جو انسانیت کو امن اورسلامتی کی راہوں پر چلا کر آخرت کی منزل اور اپنے خالق کی ملاقات کی جانب راہنمائی کرنے کے لئے اُ تارا گیا تھا لیکن جس کے ورق آج روئے زمین پر ایٹمی جہنم کی آگ میں جل کر خاکستر ہو چکے ہیں اور پھر میراا مپریشن یہ ہے کہ ہر وہ ناہنجار سائنس دان جس نے ایٹم بم بنایا یا ایٹم بم  بنانے کی بجائے اپنی غلط یقین دہانیوں کے ساتھ یہ باور کرانے میں مصروف رہا کہ ایٹمی توانائی برائے امن بالکل بے ضرر عمل ہے اور انسانیت کے لئے ایندھن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے لابدی ہے اور جو اتنی بات بھی سمجھنے سے قاصر رہا کہ ایٹمی توانائی برائے امن کی موجودگی میں ایٹمی توانائی برائے جنگ پر قدغن لگانے کا کوئی امکان نہیں اور ہر وہ نادان سیاست دان جس نے حقائق سے آنکھیں موند کر ایٹمی توانائی برائے امن اور برائے جنگ کو ناگزیر قرار دے کر دنیا کی ایٹمی تباہی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں ایک واضح کردار ادا کیا۔ یہاں لایا جائے اور میری آنکھوں کے سامنے اسے تابکاری سے چھیدا جائے اور پھر اُ س کے مردہ جسم کو آگ کے اس بحر ِناپید ا کنار میں جو خود ان لوگوں کے اپنے ہاتھ کا بھڑکایا ہو اہے اور خود اُ نہیں کی اپنی کارستانیوں کا مادی اور منطقی بالواسطہ اور بلا واسطہ نتیجہ ہے ڈال دیا جائے اور میر ا  امپریشن یہ ہے کہ وہ مجبور انسان یوسف جبریل جس نے بے حد جگر کاویوں کے بعد  قرآنِ حکیم کی پیشینگوئی کو لکھ تو لیا مگر اُ سے جیسا کہ چاہیئے انسانیت کے بچاؤکی خاطر موثر نہ کر سکا۔ ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں یہاں لایا جائے اور اُ س کی ننگی پیٹھ پر اتنے کوڑے برسائے جائیں کہ اُ س کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جائے۔ پھر اُ س کی میت کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ ان لوگوں کے حوالے کیا جائے جو اس ایٹمی المیے دنیا کی تاریخ کے سب سے عظیم المیے کی یادگار اس دنیا میں دُ کھ کی کلایمیکس دیکھنے کی خاطر چھوڑ دیئے گئے ہیں تاکہ ہم غم زدہ لوگ اُ س کا دل کھول کے ماتم کریں اور جی بھر کے اُ س کی قبر پر آنسو  بہائیں۔

یہ ہیں میرے امپریشن اور ہم بدنصیب لوگ اب آپ کے بے حد مشکور ہوں گے اگر آپ ہم کو کوئی ایسا طریقہ بتا سکیں کہ ہم اس دکھ بھری زندگی کو جلد از جلد ختم کرکے اس عذاب سے نجات پائیں۔ اے رحم دل موت! ہم تجھے پکارتے ہیں۔ آ۔ اور ہم کو اس دنیا کے اس روح فرسا منظر سے نجات دلا۔ہم اپنے اندر اس زخم خوردہ انسان کے یہ سنگین امپریشن نوٹ کرنے کی ہمت نہ پا سکے اور آگے بڑھ گئے۔

بہر حال یہ باور کر لیناکہ عدم ِاطمینان اور ہرا س اسی دور جدید کی پیداوار ہیں اور یہ کہ یہ بیماریاں اس سے پہلے دنیا میں موجود ہی نہ تھیں۔ مکمل تسکینِ قلبی یا طمع یا ہراس سے مکمل بیگانگی کبھی بھی جب سے انسانیت دنیا میں وجود پذیر ہوئی ہے۔ انسانیت کے نصیب میں نہ تھی۔ یہ زمین کبھی بھی خالص نعمتوں کا گھر نہ تھی۔ دولت اور دنیا کی محبت انسان کی فطرت میں دویعت ہے۔ ضروریاتِ زندگی کے تفکرات اور عیش و عشرت  کی آرزوئیں ہمیشہ سے انسان کے دل میں کروٹیں لیتے رہے ہیں۔خوف اورحزن انسان کے ازلی ساتھی ہیں۔ ہزاروں سال قبل جبکہ زمین پرانسان کی آبادی قلیل تھی   اور زمین کے بڑے بڑے خطے خالی پڑے تھے اُ س وقت بھی ضروریاتِ زندگی کی فکر   اور کمی کا احساس اور غربت اور توانگری کا امتیاز اس دنیا میں موجود تھا۔ آبادی کا کوئی مسئلہ نہ تھا بلکہ مسئلہ آبادی کو فروغ دینے کا تھا۔ اراضی کی کوئی کمی نہ تھی اَلبَتَّہ اراضی کو کاشت کرنے والوں کی کمی تھی اور کاشت کاری کو ممکن بنانے کیلئے امن اور سلامتی کی ضرورت تھی لیکن موجودہ دور اور سابق ادوار میں فرق یہ پایا جاتا ہے کہ جب کہ ہر سابق دور میں کسی نہ کسی شکل میں مادہ پرستی کا دشمن ایک ایسا فلسفہ انسانیت میں موجود رہا ہے جس کا کام اس فانی دنیا کی فانی حیثیت اور اس کی بے وفائی کی مسلسل نشان دہی کرنا اور اگلی دنیا کی اہمیت کو برقرار رکھنا ہوتا تھا ایک ایسا فلسفہ جو روحانیت کو مادیت   سماویٰ کو خاکی ذہن کو مادے روح کو بدن آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا تھا ایک ایسا فلسفہ جو انسان کی طبعی حرص اور دنیاوی چیزوں اور قوت کی ہوس کی شدت کو کم کرنے کے لئے نفس کی نفی کا فلسفہ تھا۔ دورِ جدید نے موت ،آخرت ،قیامت ،سزا و جزا، ذہن ،روح ، اخلاق وغیرہ کو بالائے طاق رکھ کر اپنے آپ کو اس مادی دنیا کی مادی ضروریات کی تلاش میں کلّی طور پر مادہ پرستی کے سمندر کی لہروں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس دنیا کی چالوں اور جالوں اور گڑھوں کی پرواہ کئے بغیر آخرت اور سزا و جزا  (اور دوسری زندگی کا نہ اقرار ہے نہ خوف) کامیابی اور ناکامی کے سارے تصّورات موت کے ساتھ فنا فی الموت تصّور کرتے ہوئے موت کے بعد کا سار ا ریکارڈ خالی چھوڑ دیا ہے۔ اس لئے انسان گناہ اور عیاری پر دلیر ہو گیا ہے۔ کلّیۃ ًمادی قسم کی مسلسل مغز ماری کے دباؤ میں کچھ راحت پیدا کرنے کی کوئی چیز موجود نہیں۔ مادی ذہن کے دُ کھ درد اور افسردگی کو کم کرنے کے لئے کوئی علاج نہیں جو علاج بروئے کار لائے جاتے ہیں وہ مادی قسم کے ہیں۔جو مرض میں افاقہ پیدا کرنے کی بجائے مرض کو مزید بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور اس طرح معاملے کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ کو بجھانے کی غرض سے اُ س پر مزید ایند ھن ڈالا جائے جیسے کہ مثل مشہور ہے کہ جلتی پر تیل ڈالا جائے۔ سابقہ ادوار کے لوگ اپنے اس دنیا سے نفرت کرنیوالے فلسفے اور اس زندگی کے عارضی ہونے کے عقیدے اوردوسری دنیا سے اپنی اُ میدیں وابستہ کرنے کے سبب اس زندگی کی سختیاں مصائب و آلام اور حوادث و  انقلابات صبر و شکر سے اور جیسا کہ مشہور ہے فلسفیانہ انداز میں جھیلتے تھے۔چند دن کی بات ہے اور پھر یہ سب افسانہ ختم ہو جائے مگر اس کے بعد ایک طویل اور لافانی زندگی انتظار میں ہے۔ ایک ایسی زندگی جو اس عارضی زندگی کے مقابلے میں ہماری توجہ کی کہیں زیادہ مستحق ہے۔ وہ لوگ ایک بہتر اور معتبر دنیا میں ملنے والے بدلے کی اُ مید پر بڑی سے بڑی قربانی کر جاتے تھے۔ وہ یہ سب کچھ تسلیم و رضا کے جذبے کے ماتحت کرتے اور اس طرح  اُن کی تکلیف میں کمی واقع ہو جاتی۔ ہم اُ ن قدیم زمانوں میں نمودار ہونے والے اُ ن ظالموں ،اُ ن عیار منافقوں (جو جاہل لوگوں کی سادگی اور توہم پرستی پر اپنا کھیل کھیلتے تھے) اور مکر و فریب کے پردوں میں سَنتوں کا روپ دھارتے تھے کے ظلم و ستم کی داستانوں پر کانپ کانپ جاتے ہیں لیکن وہ جنہوں نے ان کے ہاتھ سے ظلم و ستم سہے خود ان کو شکایت کا کچھ خاص موقع نہ تھا۔ کچھ تو اس لئے کہ مکار اور سالوس سَنتوں کے ساتھ ساتھ بعض حقیقی مخلص اور خدا پرست سَنت بھی موجود ہوتے تھے اور کچھ اس لئے کہ وہ مظلوم یہ سب کچھ محض عارضی افسانہ سمجھتے ہوئے پرواہ کئے بغیر سہہ جاتے تھے مگر دورِ جدید کی حالت کیا ہے۔ عہدِ قدیم کے مکار سَنت جدید لباس میں آ موجود ہوئے ہیں۔”نئے دام لائے پُرانے شکاری“اور تاریخ کا اعادہ ہو رہا ہے تاہم عہدِ قدیم کا عیار سادھو اپنے شکار کے لئے ایٹم بم جیسی کوئی بلا نہ بنا سکا وہ کم از کم اس دنیا کو ایٹمی تابکاری کی شعاؤں سے نہ بھر سکا۔ یہ گھات میں لگی ہوئی موت جو نہ دیکھی جائے ،نہ چھوئی جائے، نہ چکھی جائے، نہ سونگھی جائے اور بے اطمینانی کا بھڑکتا ہوا دوزخ اُ س وقت آج کے مقابلے میں آدھا بھی گرم نہ تھا۔ قدیم زمانوں میں پادری کی جگر گداز جفاکاریوں اور پرنسں (بادشاہ) کی جگر پاش ستم کیشیوں کے باوجود اس جہنم کی غضبناکیوں میں یہ شدت نہ تھی نہ ہی زندگی کی بے رحم ضرورتوں کی سختی اس درجہ روح فرسا تھی۔ آج اس قدیم فلسفے کے اعدام کی نہیں صلاح کی ضرورت ہے۔ انسانیت کو آج ایسے فلسفے کی تلاش کرنی چاہیئے جو افراط و تفریط میں ایک موزوں توازن پیدا کر سکے۔روحانیت کو مادیت اور مادیت کو روحانیت سے ہمکنار کرسکے ورنہ غیر متوازن بوجھ انسانیت کو مصائب کے سمندر کی تہہ میں دھکیل دے گا اور دھکیل دیا ہے۔ انسانیت کو چاہیئے کہ اس بات پرعمل پیرا ہو جائے ورنہ لوگ آگ کے بچھوؤں اور ناری سانپوں کے ساتھ رہائش پذیر ہو کر اُن کے ڈنگوں کا نشانہ بنیں گے اور ایک ایسی فنا کے منتظر رہیں گے جس کے تصّور سے آسمان بھی کانپ اُ ٹھیں اورزمین بھی لرز جائے۔

انسان آج مادی دنیا، مادی ترقی، مادی آسائش، مادی تحفظ، مادی مداووں کیلئے مادہ پرستی کے ایک ہینگتے ہنہناتے جہنم میں بڑبڑا رہا ہے۔ ایک ایسا جہنم جو اس شدت سے دہک رہا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔  اس جدید نظام کے بنیادی تقاضوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگ مادی جدوجہد کے میدان میں اُ ترنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے خود زنجیریں تیار کی ہیں اور خود ہی اپنے آپ کو پہنا دی ہیں اور اس جہنم کی طرف ایک رضا مندانہ مجبوری کے ساتھ کھچتے ہوئے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی اِس کاروان سے باہر نہیں رہ سکتا جو کوئی بھی لمحہ بھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کے لئے رکنے کی جرأت کرے۔وہ انسانیت کے اس بے پناہ ریلے میں قدموں کے نیچے آ کر کچلا جائے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ذہن سے ہر چیز خارج ہو چکی ہے۔ سوائے ایک فکر کے جو روٹی،کپڑے اور مکان اور مزیددنیاوی آسائشوں میں مرتکز ہے۔ تاریخ کسی ایسے دور کی نشاندہی نہیں کر سکتی جس میں لوگ زندگی کی  ضروریات کے معاملے میں اس قدر سختی سے نبرد آزما رہے ہوں لیکن غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس دور کے لوگوں نے اتنی زبردست کوششوں کے باوجود اپنے اس مدعا کو  پا لیا ہے۔ ایک ایسا مدعا جس کی خاطر انہوں نے اپنے دین، ایمان کو فراموش کر دیا ہے     اور اپنے خالق سے رابطہ منقطع کر لیا ہے۔ موت ،قیامت، آخرت، سزا و جزا کو بھلا دیا ہے   ماضی سے رشتہ توڑ لیا ہے اور اپنے مستقبل کو بے پناہ خطروں سے دو چار کر دیا ہے  ایسے خطرات جن کی مثال ساری تاریخِ انسانی میں ڈھونڈھنے سے نہیں ملتی اور اپنی ساری اُ میدیں آسمانی زندگی سے اٹھالی ہیں۔ اس سوال کا جواب تقریباً تمام باتوں کو زیرِ غور لانے کے بعد بدقسمتی سے یہ نکلتا ہے کہ نہیں اگر مادی ترقی کا مقصد اطمینانِ قلبی کا حصول ہے تو وہ تو اُ س صورت میں بھی حاصل نہیں ہو سکتا اگر دنیا کے ہر فرد کو بادشاہ بنا کر اُ سے تاج پہنا کر اُ سے زمین سے اُ ٹھا کر تحتِ شاہی پر براجمان کر دیا جائے   بلکہ جتنی ضروریاتِ زندگی زیادہ مہیّا ہوں گی اتنی ہی بے چینی بھی بڑھتی جائے گی   کیونکہ مدعا مادی ضروریات کا حصول تھا۔ قناعت نہ تھی قناعت تھوڑے پر بھی ہو سکتی ہے اور ہوس ساری دنیا سے بھی پوری نہیں ہو سکتی اور جب مدعا قناعت نہ ہو   ضروریاتِ زندگی کا حصول ہو تو قناعت کیوں کر ہو اور قناعت نہ ہو تو اطمینانِ قلبی کیسے میسر ہو میانہ روی سے بات جب آگے نکل جاتی ہے تو بگڑ جاتی ہے۔ مادی ترقی کے چکر پر ابتداء میں چند خوشگوار اور نشہ آور چکروں کے دوران جب میکالے جیسے ذہین نقاد نے فرانسس بیکن(دورِ جدید کا ڈھنڈورچی) کے فلسفے کو سقراط، افلاطون اور ارسطو کے فلسفوں کے مقابلے میں لا کر اُ سے آسمان پر اٹھا دیا اور ان مشاہیر کو زمین پر پٹخ دیا   یہاں اِ ن متقابل فلسفوں کی بحث نہیں لیکن اے ہائے افسوس کہ چند چکروں کے بعد چکر کی رفتار نے تیزی پکڑنی اور انسانیت مصیبت میں جکڑنی شروع کر دی اور پھر رفتار بڑھتی گئی۔پہلے تو لوگوں نے کوئی پرواہ نہ کی لیکن جب ہاتھ اُ چٹنے لگے، آنکھوں میں پانی اُ تر آیا، کانوں کے پردے سائیں سائیں سے پھٹنے لگے ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ ہے پا رُ کاب میں“۔ یہ معاملہ بھی نہ تھا بلکہ کہنا یوں چاہیئے۔”جکڑے ہوئے ہیں باد کے گھوڑے کی پیٹھ پر“ اور ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ ہے پا رکاب میں“۔ تو بعض لوگوں نے کچھ واویلا کیا مگر سنتا کون اور سُن سکتا تھا کون وہاں تو حالت یہ تھی کہ ہر لمحے چکر کی رفتار تیز سے تیز تر ہو رہی تھی۔ کمریں خم ہو کر نیچے لگ رہی تھیں۔ آنکھوں سے نکلے ہوئے پانی کے قطرے ہوا کی تیزی کے بیک رش کے ساتھ اڑ اڑ کے پیچھے جا رہے تھے  سروں میں چکر آگیا تھا۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا تھا اور آنکھوں کے ڈھیلے پھٹے پڑتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آنکھوں کے باہر آ رہیں گے۔ ہر شخص جل توں جلال توں آئی بلا ٹال توں کا ورد کرنے کی بجائے چکر کی رفتار کو مزید تیز کرنے کے لئے للکاررہاتھا ،لیکن چکر کی کوئی رفتار بھی ان لوگوں کی تشفی نہ کرسکتی تھی۔ بدنصیب شرابی کی مثل بدنصیب انسانیت”اور لاؤ اور بڑھا ؤ“ کی رٹ لگائے جا رہی تھی اور رفتار  بڑھتی جا رہی تھی لیکن اس طوفانی رفتار کے باوجود نہ بھوک مٹی، نہ پیاس میں کمی آئی، نہ  اطمینان نصیب ہوا ،نہ تسلی ہوئی، نہ تشفی ہوئی۔ بھوکے، ننگے، پیاسے بے گھر لوگ اب بھی  یہی کہہ رہے تھے”رفتار اور بڑھاؤ خود کفیل ہو جاؤ“۔ یہ ”خود کفالت“ کی اصطلاح  بھی خوب ہے اور اس ماڈرن دور کی تخلیق ہے اور یہی اصلی منزل ہے ماڈرن مادی دور  کی لیکن کیسی خود کفالت؟ کہاں کی خود کفالت؟ وہ بندہ جسے آنکھیں کسی نے دیں،  ہاتھ ،کان ،ناک ،منہ، ٹانگیں، دانت کسی نے دیئے۔ دماغ، دل ،ہمت، سمجھ اور ارادہ کسی نے دیا ہو جو کسی کی زمین پر رہتا ہے اور مسافر ہے اُ س کے منہ سے اتنا بڑا اور اتنا بے ہنگم دعویٰ یعنی‘خود کفالت“ کا دعویٰ تعجب انگیز ہے۔ بہر حال چکر کی رفتار تیز تر ہوتی گئی۔ اچانک ایک روز دنیا والوں نے آگے اُ فق پر ایٹمی دیووں کا ایک جرارلشکر ایٹمی جہنم کو بھڑکا کر انسانیت کے انتظار میں منتظر پایا۔ دنیا والوں نے اسی چکر پر زبردست کہرام مچا دیا مگر بیچ میں بڑے بڑے راہنماؤں، بڑے بڑے داناؤں اور بڑے بڑے سورماؤں نے کہا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ یہی آگ جسے تم لوگ جہنم کی آگ سمجھ رہے ہو اور یہی ایٹمی دیو جنہیں تم لوگ خطرناک دشمن تصّورکررہے ہو۔ آ ؤارے پاگلو!ہم تم کو اپنا کمال دکھاتے ہیں۔ ایک عظیم مداری کا کھیل، ایک بہت بڑا جادو کا کھیل، اب دیکھو ہم اسی آگ کو ایندھن کے طور پر استعمال کریں گے اور انہیں ایٹمی دیووں کو زنجیروں میں جکڑکر انسانیت کی خدمت پر مامور کر دیں گے۔ کہو کیسی رہی۔ہاں۔ بالکل بالکل جب یہی نادان دانا ڈینگیں ہانک رہے تھے۔ اُ سی وقت ایٹمی جہنم غرا رہا تھا۔ ”اے اس نکتہ چینی کرنے والے۔ مادہ پرست دور کی انسانیت کے نادان دوستو! میں بھوکا ہوں جلدی جلدی ان لوگوں کو اُ لو بنا کر اپنا اُ لو سیدھا کر نے کی کوشش کرنے میں اسے اس قدر سیدھا کر دوکہ ٹھیک میرے گیٹ پر آن کر بولے۔ اور میر ا در کھولے   تاکہ میں اُ بلتے ہوئے سمندر کی صورت ان کو اپنے بھوکے گرم شکم کا نوالہ بناؤں۔   اے کاش میکالے ہوتا اگر آج میکالے ہوتا تو اپنی اُس غلطی پر اور ان لوگوں کے غم میں   کہیں ندی کنارے جا کر ہنجوؤں کے ہار پروتا اور آج کی یہ دنیا اور آج کی یہ انسانیت   بھیڑیوں کے گروہ، غول در غول ہر طرف دوڑتے ہوئے ،بھاگتے ہوئے ،ہر وقت بھوکے  ، ہر دم پیاسے، بے سوچ ،بے سمجھ، بے ادب ،بے امن، بے انسانیت، بے ر حم ،بے کرم ،بے سخا لوگ  افسوس!

 انسانیت نے اپنے تمام سابقہ ادوار میں سائنس کونفرت کی نگاہ سے دیکھا ہےاور اسے دبانے کی کوشش کی ہے۔ سقراط سے افلاطون اور ارسطو سے لے کر دورِحاضر کے ہر ذہین فلسفی تک کوئی بھی قابلِ ذکر فلسفی ایسا نہیں ہوا جس نے اس کی مخالفت نہ کی ہو اور اسے لائقِ نفرین نہ سمجھا ہو۔ سائنس کی روشنی میں مادی ترقی کی بات نے ماضی کے کسی دور میں بھی شرفِ قبول حاصل نہیں کیا لیکن جس طرح کہ سائنسی ترقی کے عروج کے اس دور میں آج ہم حالات کو دیکھتے ہیں تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب سمجھے جا سکتے ہیں کہ ادوارِ ماضی کے وہ لوگ عقل مند تھے اور اُ ن کے انداز ے بہتر تھے انسانیت کی ساری تاریخ میں ایک ہی مرتبہ یعنی اس نئے دور میں سائنس کو کھل کھیلنے کا موقع میسر آیا حتٰی کہ سارا میدان ہی ا ب اسی کے ہاتھ میں ہے لیکن جو کچھ سامنے آیا ہے اور آ رہا ہے اُ س سے تو کم از کم یہی معلوم ہوتا ہے کہ پُرانے وقتوں کے پرانے لوگوں کا وہ خوف جو انہیں سائنس سے تھابے وجہ نہ تھا۔ لوگ اس نئے دور کی مادہ پرستی میں کچھ اس بری طرح سے کود گئے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ضائع ہوگئے۔ وہ قابلیت جو چیزوں کو متوازن رکھنے کے لئے لازمی تھی بروئے کار نہیں لائی گئی۔ سائنسی دنیا کے راہنماؤں نے دین کو دشمن جانا اور اس لئے اپنی ساری توجہ اس کوفنا کرنے پر صرف کر دی لیکن یہ نہ سمجھ سکے کہ دین و ایمان انسان کی بنیادی اور لابدی ضرورتوں میں سے ہے اور اس طرح حالات آج وہاں پہنچ چکے ہیں جہاں ہم اُ ن کو دہشت سے دیکھتے ہیں تاہم معلوم یہ ہوتا ہے کہ مرض ابھی تک لاعلاج ہونے کی منزل تک نہیں پہنچا۔ ابھی تک ایک اور صرف ایک موقع ابھی باقی ہے بشرطیکہ انسانیت کا اندھا پن آخری دم تک اور ایک خوفناک انجام تک چھایا نہ رہا۔

ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ وہ تمام روشنی جو آدم علیہ السلا م، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراھیم علیہ السلام، حضرت موسٰی علیہ السلام، حضرت عیسٰی علیہ السلام حضرت محمد الرسول اللہﷺنے خدا کی اس زمین پر پھیلائی۔ وہ روشنی انسانیت کی بدنصیبی کی وجہ سے اس دورِ جدید کے جدید علم کے پُر فریب اور سراب آگیں پردوں میں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ وہی جدید علم جو روٹیوں کے ایک ٹوکرے اور ایک عدد ابھری ہوئی اور کبھی سیر نہ ہونے والی توند پر مشتمل ہے ایسی توند جو ایک تیرہ و تاریک ہوس پرست، خود غرض ،بے حلم اور آتش زیرپا قسم کے زود رنج دماغ میں لپیٹا ہوا ہے۔ معدوی دنیا ،معدوی فلسفوں ،معدوی افکار، معدوی توجہات اور معدوی تقاضوں اور معدوی علوم سے مملُو ہے جس کے امراض بھی معدوی اور علاج بھی معدوی ،مریض بھی معدوی، معالج بھی معدوی ،اس کی خوشیاں، اس کے غم ،اس کے افکار،اس کا انبساط، اسکی مسکراہٹیں، اس کی تیوریاں بھی معدوی، اس کے مسائل بشمولیت مسئلۂ آبادی اوّل سے آخر تک سب کے سب معدوی اور اسی طرح اس کی چابیاں، اس کی کلّیدیں، اس کے حل معدوی اور اس کے مسائل کا سب سے فوری سب سے بڑا حل ہیل بم یعنی ہائیڈروجن بم بھی معدوی۔ کیا  ہائیڈروجن بم ایک معدوی قسم کا علاج نہیں ہے؟ کیا ہائیڈروجن بذاتِ خود معدوی گیس نہیں؟ آپ کسی ڈاکٹر سے استفسار کریں۔ آپ کو یہی بتایا جائے گا کہ ہائیڈروجن ایک معدوی (Gastric) گیس ہےاور جب ہائیڈروجن ایک معدویGastric گیس ہے تو پھر اس سے بنا ہوا بم کیسے معدوی نہ ہوگا؟ اور اس ساری بحث سے صرفِ نظر ہائیڈروجن بم کیا بذاتِ خود ساری معدوی تکلیفوں اور سارے معدوی مسئلوں کا واحد اورفوری اور بے مثل حل نہیں اور اس دور کا سب سے بڑا  اور سب سے زیادہ خطیر مسئلہ یعنی آبادی کامسئلہ کیا یہ بذاتِ خود معدوی نہیں اورکیا اس مسئلے کا فوری اور بے مثل حل ہائڈروجن بم نہیں۔کیا اس دورکی روشنی اور اس کی تیر گی معدوی نہیں؟ کیا اس کے مسائل معدوی اَ معائی (Gastro-Enteric) نہیں۔ کیا اسکے ذہنی لیڈر دسترخوانی جج(Gastronomes) نہیں کیا اس کی سائنس کام و دہن کی سائنس (Gastronomy)  نہیں توکیوں نہ اس کے فلسفے کا نام معدازم (Gastromism)  رکھ دیا جائے۔ افسوس در افسو س اس دور کی ابتدا معدہ سے ہوئی اور اس کی انتہاء معِدازم میں ہو گی۔جتنی پیداوار بڑھ رہی ہے اسی قدر حرص و ہوس بڑھ رہی ہے، جتنی فصل بڑھ رہی ہے ،اتنی ہی بھوک کی شدت تیز ہوتی جا رہی ہے۔

ڈھیر گندم کے پہاڑوں سے بلند اور ہوئے

نیشکر دشت کے جھاڑوں سے بلند اور ہوئے

شور مِلوں کے دہاڑوں سے بلند اور ہوئے

بیگ شکر کے کواڑوں سے بلند اور ہوئے

اے مگر بھوک نے گاڑ دیئے جھنڈے ہر سو

کر دیئے رسمِ قناعت نے جو سَنڈے ہر سو

غریب بھی بھوکا ہے، امیر بھی بھوکا ہے، بھوک کا فکر اور بھوک کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ غر یب بھی غریب ہے امیر بھی غریب ہے۔ کسی لاکھوں پتی ،کسی کروڑوں پتی، کسی اربوں ،کھربوں، فربوں پتی کے دل میں جھانکو تو غریبی کا دھڑکا لگا ہوا ہے اور مزید روپیہ جمع کرنے کی ہوس ہے۔ کسی کے دل میں چین نہیں، کسی کے ذہن کو آرام نہیں۔ ہائے روٹی، ہائے پیسہ، ہائے روٹی، ہائے پیسہ۔ترقی ایک گز ہوتی ہے   تواخراجات تین گز بڑھ جاتے ہیں۔ آج ہر آدمی کو کھانا اور بہترین کھانا چاہیئے۔   آج ہر آدمی کو کپڑا اور بہترین کپڑا چاہئے۔ آج ہر آدمی کو مکان اوربہترین مکان    چاہیئےاور بچوں کو تعلیم دلانا کم از کم ایم اے کرانا لازمی ہے۔ لڑکے والا لڑکی والے سے پوچھتا ہے جہیز کیا دو گے؟  اتنی بڑی بے حیائی کا تصّور بھی پہلے زمانوں میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہزاروں جوان لڑکیاں اس لئے کنواری بیٹھی ہیں کہ جہیز نہیں ہے۔ دولت دیوی ہے، دولت مند خدا ہے ،ہر کوئی دولت کا پجاری ہے۔ دین ،مذہب، شرف ،اصول  برائے نام رہ گئے ہیں اورفقط اُ س وقت یاد آتے ہیں جب کہ کسی کی کوئی دنیاوی غرض نکالنے کی ضرورت ہو اور انشاء اللہ تعالیٰ جتنی پیداوار بڑھے گی اتنی ہی بھوک زیادہ بڑھے گی اور اتنا ہی بھوک کا احساس شدید ہو گا۔ برکت کم سے کم ہوتی جائے گی،   لوگ دولت کی خاطر ہر جتن کریں گے، ہر جانور کا روپ دھاریں گے اور اگر سنبھل نہ سکے توایٹمی جہنم کی بھٹی میں جھونک دیئے جائیں گے مگرحیران کن امر یہ ہے کہ جتنی دولت اور پیداوار بڑھے اتنی ہی کل کی فکر اور دیوالئے کا خوف دامن گیر ہو۔ مشرق سے لے کے مغرب کے لوگ اس وقت دولت کے لئے دیوانہ وار بھاگے پھرتے ہیں   ہاں دیوانہ وار بھاگے پھرتے ہیں۔ ہانپتے ہوئے کانپتے ہوئے۔

 تاہم اس تیرہ و تار رات میں روشنی کی ایک امید باقی ہے۔ میں کہتا ہوں ہاں ابھی تک ایک موقع باقی ہے بشرطیکہ ایمان کی شمع ایک بار پھر جلا دی جائے۔ اب آپ اپنے حیرت زدہ اور مبہوت ذہن میں وہ کردار خیال میں لائیں جو عیسائیت کی تربیت نے یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور اُ ن کی محیر العقول سائنسی ترقی میں ادا کیا۔اس خاص تربیت کے بغیر اور قاہر پادر ی، بدعنوان کلّیسا، توہم پرستی کی تیرگی، مذہبی جنون کے باوجود ماڈرن سائنس کا یہ انقلابِ آفرین معرکہ جس نے دنیا کے فکر کے دھارے بدل کے رکھ دیے ہیں اور دنیا کو زنجیروں میں جکڑ کے رکھ دیا ہے۔کبھی بھی ،کبھی بھی ،کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکتا۔ لاریب کامیابی کے لئے وہ تمام مشروط اوصاف مثلاً فکری تحقیق و جستجو کا جذبہ، مقصد کی دیانت، ذہنی توجہ کا وصف۔ کاروباری دیانت اور کاروباری پاکیزگی کا احساس ،صبر و تحمل ،انکسار ،ہمدردی ،تعاونی روّیہ ،باہمی ارتباط کی حاجت کا علم، طبیعت میں سخاوت کا جذبہ، انسانیت کا احترام اور بعض دوسری صفات اور جن کے بغیر کسی بھی انقلابی تحریک کی کامیابی کا امکان مخدوش ہے۔ مغرب کے لوگوں کو اُ ن کے مذہب نے ودیعت کرکے صدیوں کی جدوجہد اور باہمی رابطے کی بنا پر اُ ن کے ذہنوں میں مرتسم کر دیا تھا اور کیا اب وہ نہیں دیکھتے کہ اُ ن کی یہ انقلابی عالمگیر تحریک اپنی اعلیٰ ترین بلندیوں پر پہنچ جانے کے بعد کسی بھی وقت زمین پردھڑام سے گرنے کے لئے تیار ہے کس لئے؟ محض اس لئے کہ اُ نہوں نے دین و ایمان کو اپنے معاملے سے خارج کر دیا ہے اور یہ کہ اُ ن کے ماضی کے دین کے باقی ماندہ نقوش دھندلا کر معدوم ہوتے  جا رہے ہیں۔

تہذیبِ جدید کا اگرنظرِ غائر سے جائزہ لیا جائے تو کچھ اچھی باتیں بھی اس میں نظر پڑتی ہیں اتنی اچھی کہ ان کے باوجود اس کا محض دین و ایمان کی عدم موجودگی اور اس کے راہنماؤں اور لیڈروں کی ناروا اور ناقابلِ اصلاح ضد کی وجہ سے تباہ ہونا ایک افسوسناک المیہ معلوم ہوتا ہے اسے حصول ِعلم کی پیاس بھی ہے اسے حق کی تلاش کا بھی ذوق حاصل ہے اگرچہ کسی نامور کا فتویٰ حق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی پرکھ کا سائنسی طریقہ(قصہ کہانی اور افسانہ طرازی کی روش کے خلاف) بھی قابلِ تعریف ہے۔ انسانی آزادی اور انسانی حقوق کی آواز بھی اس کا ایک قابلِ قدر طرۂ امتیاز ہے۔   کاروباری دیانت کا شدید احساس ،بیوپار میں بے داغ دیانتداری کا روّیہ، صفائی   ، نظم و نسق، انصاف ،ہمدردی ،باقاعدگیِ وقت کی پابندی کا عمل، جسمانی آسائش اور مادی بہبود کی خاطر مسلسل تگ و دو ،غربت ،بیماری اور جہالت کے خلاف متواتر جدوجہد،   صبر و تحمل ،بردباری، عفو درگذر کے اوصاف ،امن و سلامتی، ترقی، بہتات ،آسودہ حالی اور فارغ البالی کی دلی تمنا ،علم و ہنر کی حقیقی قدردانی اور بہت سے ایسے دوسرے اوصاف جن کا اعتراف نہ کرنا سراسر نا انصافی ہے اس میں موجود ہیں۔ جبر و استبداد کے خلاف نفرت کا جذبہ اور جمہوری قدروں کا احترا م اور بعض دوسرے ایسے جذبے اس میں پائے جاتے ہیں جو بلا شبہ لائق صد ستائش ہیں اور وہ بہترین وصف یعنی کسی بھی چیز کو اس چیز کے اوصاف پر پرکھنا اور اس پرکھ میں سائنٹفک طریقہ اختیار کرنا اور اگر ثبوت اُ س کے حق میں ہو تو بغیر کسی ناگواری کے اُ س کو اپنا لینا بھی اس تہذیب کے خواص میں سے ہے۔

مگر صد افسوس صد ہزارافسوس کہ یہ خوبصورت تہذیب اب جا رہی ہے۔اس آسمان کے نیچے کوئی بھی طاقت اس کو اس کی مکمل تباہی اور اس کے ساتھ ساری انسانیت کی تباہی سے بچا نہیں سکتی جب تک کہ وہ بنیادی نقائص جو اس میں موجود ہیں اُ ن کی اصلاح نہیں کی جاتی اور اس کے بنیادی نقص وہی ہیں جوایٹمی آگ اور ایٹمی بموں کی پیدائش کا باعث ہوئے ہیں،اور وہ ہیں طعنہ زنی اور عیب جوئی اور نکتہ چینی کی عادت، جس کے نتیجے میں قوموں کے درمیان باہمی اعتماد کی فضا ختم ہو چکی ہےاور مادی معاملات میں مکمل سرگرمی اور دولت اکٹھا کرنے کی سرتوڑ کوشش روحانی اور اخلاقی قدروں سے لاپرواہی، روگردانی ،لاریب اگر یہ نقائص دور کر دیئے جائیں تو انسانیت کے ذہن میں دانائی کی روشنی عو د کر آئے گی اور تاریکی کے بادل اُ ن کی آنکھوں کے سامنے سے چھٹ جائیں گے اور نیوکلر پاور یعنی اٹامک پاور یعنی ایٹمی توانائی کا خیال دلوں سے نکل بھاگے گا ۔ لوگ اس دنیا کے مقابلے میں اگلی دنیا کو ترجیح دیں گے اور پھر وہی تباہی جو ایٹمی جنگ یا ایٹمی توانائی برائے امن کر سکتی ہے اور جو اس وقت اُ ن کی آنکھوں سے اوجھل ہو رہی ہے اُ ن کی آنکھوں کے سامنے مجسم ہو کر اُبھرے گی اور وہ اپنی بے رحمی پر حیران ہوں گے جس طرح وہ شخص جس کی آنکھوں سے پٹی کھول دی جائے تو وہ اپنے سامنے آگ کا گڑھا دیکھ کر حیران ہو تا ہے اور تب   یہ لوگ حقیقی امن کے لفظ سے روشناس ہوں گے اور حقیقی امن و سلامتی کی برکتوں کو پالیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہی ایٹمی توانائی جو اس وقت اُ ن کو ایک مقدس دیوی نظر آتی ہے تب اُ ن کو یہی دیوی ایک خوفناک چڑیل کے روپ میں نظر آئے گی۔ اب جب کہ ہم نے یہ بیان ختم کر دیا کہ ایٹمی آگ کس طرح دلوں پر چڑھتی ہے۔ اب ہم آگے اپنا بیان جاری رکھیں گے۔

 (IV) قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے۔ ”یہ آگ ہے بند کی ہوئی اُ ن پر“۔

صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیھم اجمعین نے اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے کہ حُطَمہ ایک آگ ہے جو بھڑکا ئی گئی ہے ایک بڑی عمارت میں جس کا چھت ہے ڈاٹوں پر۔ جو کھڑی ہیں لمبے لمبے ستونوں پر۔ مراد اس سے یہ ہے کہ یہ آگ اُ ن پر بند کی ہوئی ہے۔ آئیے اب ہم آپ کو ایٹمی دھماکے کی اس عظیم بلڈنگ کا نقشہ دکھائیں جس کا چھت ہے بڑی بڑی ڈاٹوں پر جو کھڑی ہیں لمبے لمبے ستونوں پر۔

ا۔       ہیٹ فلیش۔ ابتدائی اخراجِ حرارت (Heat Flash) یا بہتر ہے کہ یوں کہیں۔ ابتدائی برقی اخراج ِحرارت:۔

یہ ہیٹ فلیش جس کا بیان ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔ آگ کا وہ بہت بڑا برقی شعلہ ہے جو ایٹم بم کے چلنے کے بعد سیکنڈ کے ایک حصے میں نمودار ہوتا ہے۔ اس کی چمک سورج کی چمک سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور یہ روشنی کی رفتار یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اور زیادہ سے زیادہ دو سیکنڈ تک ٹھہرتی ہے اور یہ ایٹمی دھماکے کے دو جزوں میں سے ایک ہے۔ آگ اورروشنی کا یہ جھپکا  ہر اُ س آدمی کے جسم پر لگتا ہے جو اس ایٹم بم کے دائرہ اثر کے اندر سامنے موجود ہوتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ وہ کون سا ذریعہ اس دنیا میں موجود ہے جو کسی بھی آدمی کو سیکنڈ کے ایک حصے سے بھی پہلے اس شعلے سے بچا کر نکال کے اس ایٹم بم کے دائرہ اثر سے باہر لے جائے اور دو سیکنڈ میں تو یہ شعلہ اپنا کام مکمل کر چکا ہوتا ہے تو پھر سمجھ لیں کہ اس رقبے میں جو متنفس بھی اُ س مقدّر لمحے کے وقت موجود تھا۔   وہ اس آگ کے اندر محبوس ہو کے رہ گیا جس طرح کہ چوزے ٹوکرے کے نیچے محبوس ہوتے ہیں ہاں ہاں ”یہ بند کی ہوئی ہے آگ اُ ن پر“اور دس سیکنڈ میں تو ایٹمی دھماکے کا سارا عمل مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔

ب۔      تابکاری کا دائرہ:۔

لیکن قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا اس ٹوکرے کے نیچے اس ایٹم بم کے دائرۂ اثر میں آنے والے اشخاص ہی اس آگ میں بند نہیں ہوتے۔ یہ دائرہ اثرتو اب تک سب سے بڑے ایٹم بم کے لئے اَ سی میل تک ہو سکتا ہے لیکن اس کی تابکاری کی آگ کا دائرۂ کار بہت ہی وسیع ہے۔ یہ سات ہزار مربع میل ہو سکتا ہے بلکہ ایک لاکھ مربع میل تک ہو سکتا ہے اور اس وسیع وعریض رقبے میں ہر شخص ایٹمی تابکاری کی ایک قاتل یا شدید نقصان دہ مقدار کا شکار ہو چکا ہو گا۔ نہیں بلکہ یہ رقبہ تمام روئے زمیں بھی ہو سکتا ہے۔ مارچ 1956 ء کے ٹسٹ بم (15 میگاٹن بم)کا متاثرہ رقبہ سات ہزار مربع میل تھا لیکن اس رقبے کاانحصار اُ س وقت کے موسمی حالات بالخصوص ہواؤں کے رُ خ پر ہوتا ہے۔ سات ہزار مربع میل سے بڑھ کر یہ رقبہ ایک لاکھ مربع میل بھی ہو سکتا ہےاور اس وسیع تر رقبے میں بھی ہر شخص ایٹمی تابکاری کی ایک قاتل یا انتہائی نقصان دہ مقدار کا شکار ہو سکتا ہے اور پھر لازمی ہے کہ متاثرہ رقبے سے تمام وہ تعداد جو تابکاری سے متاثر ہو چکی ہے ایک آدھ روز میں نکال کر کسی مقام پر پہنچا دی جائے ورنہ شدید نقصانات کا احتمال ہے لیکن ہیہات۔ ہیہات۔ اتنی کثیر تعداد جوکہ لاکھوں کروڑوں تک پہنچتی ہے کا دوسری جگہ اور اتنے قلیل عرصے میں منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بڑی سے بڑی اور صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ مملکتوں کے بس کی بھی یہ بات نہیں۔ اس کے علاوہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس آبادی کو منتقل کرنے کے لئے محفوظ جگہ کہاں ملے گی۔ بالخصوص جنگ کے موقع پر ہیہات ہیہات اتنی کثیر تعداد آبادیوں کے سر چھپانے کو جگہ کہاں سے تلاش کی جائے گی اَلبَتَّہ حُطَمَہ کی آگ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ اُ ن پر بند ہو چکی ہے آگ جو دشمن کا گھر بھسم کرنے کے بعد دوست کا گھر بھی پھونک ڈالتی ہے تو معلوم ہوا کہ حُطَمَہ کی آگ اس ساری زمین کو بھی ایک ٹوکرے ایک اُ لٹی دیگ کی طرح بند کر سکتی ہے۔

ج۔         حُطَمَہ آگ کی ایک عظیم عمارت:۔

 جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں نے حُطَمَہ کو ایک ایسی عمارت سے تشبیہ دی ہے جس کی چھت ایسی ڈاٹوں پر ہے جو لمبے لمبے ستونوں پر کھڑی ہیں۔ایٹمی دھماکہ واقعی آگ کی ایک عظیم عمارت ہے جس کی چھت بڑی بڑی ڈاٹوں پر کھڑی ہوتی ہے جو لمبے لمبے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اب ہم اس ایٹمی عمارت کی منظر کشی کریں گے۔ اس مقصد کے لئے ہم   مثلاً ایک نامی نل ہائی ییلڈ اٹامک فژن اٹامک بم کے سطح زمین پر ہونے والے دھماکے کو پیش کرتے ہیں۔

اب فرض کریں کہ اس بم کو آگ دکھائی جا چکی ہے۔ حقیقت میں ایٹم بم کو آگ سے نہیں چلایا جاتا بلکہ ایٹم بم صحیح حالات پیدا کردینے پر خود بخود پھٹ کر آگ پیدا کر لیتا ہے یہ عام آگ نہیں یہ ایٹمی آگ ہے۔ عام آگ سے قطعی طور پر مختلف اور اللہ کی بھڑکائی ہوئی ہے اور اللہ اسے دیا سلائی یا آگ کی چنگاری سے (جیسا کہ عام بموں میں ہوتا ہے) نہیں بھڑکاتا۔ بہر حال ایٹم بم چل چُکا۔ وہ دیکھئے آگ کا گولہ اُ ٹھا اور زمین کے ساتھ چھونے کے سبب اُ س نے ایک میل قطر کا ایک گڑھا بنا دیا۔ اب دیکھئے وہ آگ کا گولہ اوپر اُ ٹھ رہا ہے۔ پھیل رہا ہے اور سرد ہو رہا ہے۔ آپ نے اس ایٹمی دھماکے کی پہلی چمک بھی دیکھی کہ آپ کی آنکھیں بند ہو گئیں اور آپ نے اس کا دل دہلا دینے والا دھماکہ بھی سنا مگر دیکھئے آگ کا گولہ اوپر اُ ٹھ رہا ہے۔ دیکھئے اب اس کا قطر تین میل کے رقبے میں پھیل گیا ہے۔ ہوا کا زبردست رش گرد و غبار اور کوڑا کرکٹ اپنے ساتھ لئے اس گولے کے نیچے اٹھتا چلا جا رہا ہے۔ چند منٹوں میں دھماکے کا بادل ٹروپوپاز (Tropopause) کے رقبے میں چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا ہے۔ یہاں اس پر ٹمپریچر انورشن(Temperature Inversion) اثر انداز ہو رہا ہے اور اس کی اوپر اُ ٹھنے کی رفتار میں کمی آ گئی ہے اور اب ملاحظہ فرمائیے۔ستون نے پھیل کر ایک سو میل قطر کی (Mushroom) (کُھمب) کی شکل اختیار  کر لی ہے اور یہ ایک ستون کے سرے پر  دھری ہے۔ جو زمین سے کُھمب تک پہنچ رہا ہے اور اس کا قطر اتنا ہی ہے جتنا کہ آگ کے گولے کا یعنی تین میل بادل کا درمیانی  حصہ یعنی ستون کا سرا۔ ابھی تک آسمان کو چیرتا ہوا اُ وپر اٹھ رہا ہے اور تقریباً دس منٹ  کے وقفے میں اَسی ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ چکا ہے لیکن سٹریٹوسفیر (Stratosphere) کی اونچی سطحوں پربلندی کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے ٹمپریچر کے سبب یہ ایک لاکھ فٹ  (20 میل کی) بلندی سے کچھ زیادہ اوپر نہیں جا سکتااور وہاں آپ دیکھیں کہ اس کے سرے کو وہاں پر چلنے  والی ہوائیں ایک پتلی تہہ میں تبدیل کر رہی ہیں۔ یہ ہوائیں اس ایٹمی تابکاری کے فال آؤٹ (Fallout) کوزمین کے گرد تقریباً دس برس اس طرح گردش میں رکھیں گی جس طرح کہ آپ آج کل رات کے وقت آسمان پر مختلف ممالک کے سیاروں کو گردش میں دیکھتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اس تابکار فال آؤٹ کے ذرات زمین پر تہہ نشین ہوتے رہیں گے اور فصلوں، درختوں اور پانی کے منبعوں کو تابکاری سے متاثر کرتے رہیں گے۔ یہ متاثرہ فصلیں گائے کھائے گی۔ گائے تابکاری کے اثرات قبول کرے گی۔ گائے دودھ دے گی گائے کادودھ آپ کے بچے پیئیں گے اور آپ بھی پیئیں گے اور یہ دودھ تابکار ہو گا اورنتیجہ ظاہر ہے اگلی نسل عجیب الخلقت جانوروں کی پیدا ہو گی متاثرہ لوگ کینسر اور کوڑھ جیسے موذی امراض میں مبتلا ہوں گے۔ایٹمی تابکاری بالخصوص تناسلی نظام کو متاثر کرتی ہے متاثر ہی نہیں کرتی بلکہ کئی طرح سے تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہے۔ ایٹمی توانائی برائے امن آپ کو بجلی تو مہیّا کرے گی  یا نہ کرے گی لیکن انسانیت پر بجلیوں کی بارش ضروربرساتی رہے گی جب تک کہ انسانیت کو کوڑھیوں کے ہجوم میں تبدیل نہ کر دے۔ آپ کسی بھی دیانتدار سائنس دان سے یہ حقیقت پوچھیں وہ آپ کو بتائے گا کہ ہاں یہ سب باتیں سائنٹفک معیار کی ہیں اور قطعی طور پر درست ہیں اور پھر آپ اگر پوچھیں   کہ اگر ایسا ہے تو پھرایٹمی توانائی برائے امن کے کیا معنی ہیں؟  تو پھرجواب  سُنے بغیر وہاں سے ہٹ جائیں کیونکہ جب مجبوریاں گھیرا ڈالتی ہیں تو تاریکیوں کے پردے چھا جاتے ہیں لیکن چھوڑیئے اور آئیے تاکہ ہم اس تصویر کو اب مکمل کر لیں۔

 ہم نے ایٹمی دھماکے کی تصویر آپ کے سامنے پیش کر دی ہے۔ اب آگے دیکھئے اور اپنی قوتِ متخیلہ کو جولانی دیں اور دیکھیں آپ کے سامنے ہے ایک ستون۔ اس کا قطر تین میل ہے اس کی بلندی دس میل ہے سو میل قطر والی کھمب (Mushroom) اس ستون کے سرے پر ٹِکی ہے اب اس قسم کے بم کی ہیٹ فلیش (Heat flash) یعنی ابتدائی ضیائی اخراجِ حرارت اور دھماکے کا متاثرہ رقبہ 40 میل نصف قطر ہو سکتا ہے تصّور میں لائیں۔ بم کے متاثرہ علاقے کا۔ سلنڈر کی شکل کا ستون جس کا قطر اَ سی میل ہے۔ یہ ستون اوپر اُ ٹھ کر سو میل والی کُھمب (جو مرکزی تین میل والے ستون پر ٹکی ہے) کے نچلے پیندے سے لگ گیا ہے اور کھمب اس خالی ستون پر ڈھکنے کی طرح بیٹھ گئی ہے جو تین میل قطر والا مرکزی ستون اس کھمب کو اس طرح اٹھا کرکھڑا ہے جس طرح کہ خیمے کا مرکزی بانس خیمے کو اٹھا کر کھڑا ہوتا ہے۔ اب تصویر کا یہ حصہ مکمل ہے۔ دیکھئے حُطَمَہ کی بلڈنگ بن چکی ہے اور یہ تمام آگ کی بنی ہوئی ہے مگر کتنی عظیم الشان منزل ہے مگر ذرا اس کے اندر جھانکئے۔آہا اندر کیا غارت کا سماں ہے۔ آگ کا ایک طوفان چل رہا ہے اور ہر چیز کو بھسم کر رہا ہے۔ زلزلے کس طرح مست ہاتھیوں کی طرح عمارتوں کو پیوند ِ زمین کر رہے ہیں۔ بچے  ،بوڑھے، عورتیں اور جانور سب آگ میں زندہ بھونے جا رہے ہیں کس لئے؟ شیطان کی دعوت کے لئے۔ قدرت نے اپنا انتقام لے لیا۔ یہ لوگ قدرت کو مسخر کرنے نکلے  تھے قدرت نے ان کو اس تسخیر کا مزہ چکھا دیا۔ اب یہ ہے آگ اُ ن پر بند کی ہوئی لمبے لمبے ستونوں والی عمارت میں جس کا نہ کوئی دروازہ ہے نہ سوراخ۔ دنیا بھر کے سائنس دانو!سیاست دانو! اے سائنس کی شمع کے پروانو!دانش ورو! فلسفہ دانو! اور اسلام کا دم بھرنے والے مسلمانو! آ ؤیہ تماشا دیکھو ڈرامہ چل رہا ہے اس کا کوئی ٹکٹ نہیں بلکہ فری شو ہے۔ آپ لوگ دیکھتے کیوں نہیں؟ اب آنکھیں کیوں بند کرتے ہو؟  آپ کے ہارٹ فیل کیوں ہو رہے ہیں؟ اُ س وقت تو تم اس ایٹمی توانائی کی تعریف و توصیف میں کتنے رطب اللسان تھے کیا کیا سنہرے خواب اس بدنصیب دور کے بدنصیب انسانوں کو دکھاتے تھے اور اپنی انا کی آسودگی کے لئے کتنی لمبی چوڑی اور بھاری بھر کم ڈینگیں مارتے تھے اور تم لوگ مجھے پاگل سمجھتے تھے میں تو پاگل تھا ہی مگر تم  اپنی تمام تر دانائی کا نتیجہ دیکھ لو یہ سب کچھ تمھارے سامنے ہے دیکھو اور خوب اچھی طرح  سے دیکھو اب اس کا تجزیہ کیوں نہیں کرتے اب اس پر اپنی ہزار صفحے والی رپورٹ  کیوں نہیں مرتب کرتے؟ اب خاموش کیوں ہو؟ بولتے کیوں نہیں؟

 مگر آئیے ابھی تک ہماری تصویر مکمل نہیں ہوئی۔ ہاں تو ذرا اب نگاہ کو ا ُ وپر اُٹھائیے اور دیکھئے کُھمب سے اوپر کی طرف۔ اب ذرا اُ وپر والی سٹوری۔ اس اوپر والے بالا خانے کی سیر بھی کر لو۔ دیکھو وہ ستون جو کُھمب سے اوپر کی طرف آسمان کا سینہ چیرتا ہوا اُ ٹھا تھا اور بیس میل کی بلندی  پر پہنچ کر ہو اکی لہروں سے چادر کی صورت میں تبدیل ہو رہا تھا۔ اب دیکھو وہ چادر ایک چھت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اب ذرا اپنے تخیل کو جولانی دیجئےاور تصّور کے آئینے میں دیکھئے کہ دس ہزار ایسے ہی ایٹم بم روئے زمین پر باغ کے درختوں کی طرح مقررہ فاصلے پر گاڑ کر یکلخت چلا دیئے گئے ہیں۔ہاں تو دیکھئے کہ دس ہزار ستون بڑے شاہانہ انداز میں اُ وپر اٹھ رہے ہیں۔ اب دس میل کی بلندی پر پہنچ چکے ہیں اُ ن پر دس ہزار کھمبیں بن چکی ہیں اور یہ کھُمبیں ایک دوسرے سے مل رہی ہیں  اور اس طرح ڈاٹوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں اور ان ڈاٹوں کے اوپر دس ہزار ستونوں کو اُ ٹھتا ہوا دیکھیں جو مزید دس میل اُ وپراُ ٹھ کر چادر کی شکل اختیار کر گئے ہیں چادر کے یہ ٹکڑے ایک دوسرے سے مِل رہے ہیں اور روئے زمین کے اُ وپر چھت کی شکل اختیار کر گئے ہیں حتٰی کہ زمین کے اوپر گرداگرد(کیونکہ زمین گول ہے) ایک کرے کی شکل کی چھت نے ساری زمین کو ڈھانپ لیا ہے اور ہو ا کی لہروں نے اس چھت کو زمین کے گرداگردھکیل کر چکر دینا شروع کر دیا ہے۔دیکھئے کتنا عجیب و غریب منظر ہے۔یہ ہوائیں اس چھت کو دس برس تک اس زمین کے گرد چکر دیتی رہیں گی لیکن اس رفتہ رفتہ گرتے ہوئے فال آؤٹ کو زمین پر بیٹھنے کے لئے نہ کوئی سبزہ ملے گا نہ لٹکنے کو درخت۔ ہماری تصویر مکمل ہو چکی ہے۔ اب آپ اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔ اُ س وقت تک جب تک یہ خیالی منظر مادی صورت اختیار کرکے آپ کے سامنے نہیں آ جاتا۔ آپ چاہیں تو اپنی اس عظیم کامیابی کی رپورٹ مریخ کے باشندوں کو اگر وہاں کوئی باشند ے ہوں تو بھیج سکتے ہیں اور اُ ن پر اپنی واضح برتری جتا سکتے ہیں لیکن اگر اس نظارے سے آپ کا دل دہل گیا ہے تو پھر ایک طرف ہو کر خو ب رویئے اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر کے گھر تشریف لے جائیے اور اپنے بچوں کے سامنے یہ آنکھوں دیکھا منظر بیان کیجئے اور اُ ن پر اپنا احسان جتایئے کہ دیکھو بچو! ہم نے تمھاری خاطر کیا کیا گل و گلزار تیار کرنے کے پروگرام بنا رکھے ہیں اور پھر اس عظیم احسان کے بدلے  اُ ن سے توقع باندھ لیں کہ وہ آپ کا انتہائی لحاظ کریں گے اور محبت کے گلدستے آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ فاعتبرو یا اُ ولی الابصار۔

د۔      اوپریشن الرٹ:۔

اور اگر ابھی بھی اس آگ کی ”اس بند کی ہوئی آگ“ والی خصوصیت میں کچھ شبہ ہو تو ہم آپ کی خاطر جمع کرنے کے لئے امریکہ میں منائی گئی ایک نقلی ایٹمی جنگ میں امریکہ پر ہونے والے ایٹمی حملے کی تفصیلات کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش کرتے ہیں۔

(اوپریشن الرٹ مورخہ15 جون1955 ء امریکی قومی سول ڈیفنس ایکسرسائز مبنی بر نقلی ایٹمی حملہ)

 اس مشق میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ ساٹھ شہروں پر اکسٹھ ایٹم بموں سے حملہ ہوا۔یہ بم عام بم سے لے کر پانچ میگاٹن بم تک قوت کے تھے۔ وارننگ ٹائم(حملے کے پہلے سے خبر) تقریباً تین گھنٹے تھا۔ فیڈرل سول ڈیفنس ایڈمنسٹریشن کے جائزہ لینے والے گروپ نے جو معلومات حاصل کیں اُ ن کے مطابق یہ اندازہ ہوا کہ حملے کے پہلے دن کے اختتام پر اسی لاکھ آدمی مارے جا چکے ہوتے اور مزید اَ سی لاکھ نے چند ہفتوں کے بعد مرجانا ہوتا۔ تقریباً ایک چوتھائی اموات تابکاری کے نتیجے میں مرے۔ یہ بھی اندازہ لگا کہ تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ گھر تباہ ہو جاتے اور ڈھائی کروڑ آدمی بے گھر ہو جاتے۔ صرف نیویارک میں پانچ میگاٹن کا ایک بم(سطح زمین کا دھماکہ) تیس لاکھ آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا۔(ساری آبادی کا 38 فی صد)اور اس کے علاوہ 23 فی صد کو زخمی کر دیتا۔ ہر آٹھ نیویارکیوں میں تین مردہ اور دو زخمی تصّور کئے گئے۔سول ڈیفنس کے افسروں نے کہا کہ قوم ہرگز ایٹمی حملہ سہارنے کی پوزیشن میں نہ تھی اور اُ نہوں نے یہ بات کچھ عجیب نہ کہی تھی۔ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جو اُ ن پر بند کر دی گئی ہو کون سہار سکتا ہے۔ ایٹمی جنگ میں کسی بچا ؤکی تدبیر ابھی تک منظر پر نہیں آئی اور آنی بھی مشکل ہے اور یہ تو محض ایک نقلی جنگ کی مشق تھی ورنہ اگر یہ جنگ واقعی ایٹمی جنگ ہوتی اور یہ حملہ واقعی ایٹمی حملہ ہوتا تو سول ڈیفنس کے یہ افسر اندازے کرنے اور اندازے بیان کرنے کے لئے کہاں ہوتے کہاں کے اندازے؟ اور کیسے انداز ے؟ او ر اس رپورٹ کے ساتھ ہی پڑھ لیجئے ایک اور اندازہ جنرل جیمز گیون General James Gavin) (کا۔ امریکی آرمی کے ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اس چیف نے اپنے بیان میں  جو اس نے امریکی سینیٹ کی سب کمیٹی کے سامنے دیا ۔کہا۔

”پوری ایٹمی جنگ میں حاضرہ اندازے یہ کہتے ہیں کہ کروڑوں کی تعداد میں اموات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہوا کون سے رُ خ کو چل جاتی ہے۔ اُ س نے کہا کہ اگر ہوا جنوب مشرق کی جانب چلی تو یہ اموات روسں اور ہو سکتا ہے کہ جاپان بلکہ فلپائن تک کے رقبے تک واقع ہوں اور اگر ہوا اس سے اُ لٹے رُ خ چلی تو یہ اموات مغربی یورپ تک پہنچ سکتی ہیں“۔

اور اس طرح یہ بات پایہ اثبات کو پہنچ جائے گی کہ کوئی بھی اس بلائے درماں سے محفوظ رہنے کی اُ مید نہیں رکھ سکتا۔ ہوا پر کسی کو کنٹرول نہیں اور اس ہوا نے بھی ”ایٹمی آگ کو بند کی ہوئی ہے آگ“ کا کردار عطا کرنے میں اپنا کردار سنبھال رکھا ہے۔

V۔     قرآنِ حکیم کہتا ہے”لمبے لمبے ستونوں میں“۔

 کئی میل اُ ونچا ستون ایٹمی دھماکے کی ایک لازمی علامت ہے۔ ایک عظیم الشان ستون کس شاہانہ ٹھاٹھ سے آسمان کی وُسعتوں میں بلند ہو رہا ہے اور ہر دیکھنے والے کا منہ حیرت سے کُھلا ہے۔ اگر قاری کریم کو یاد ہو تو ہم ایک ایسے ہی ستون کا بیان بتمام و کمال کر آئے ہیں۔ قاری کو چاہیئے کہ اُ س منظر کو یاد کرے ستون کسی بھی ایٹمی دھماکے کی ایک لازمی خصوصیت ہے خواہ یہ دھماکہ سطح زمین پر ہو، ہو ا میں ہو، زیِر زمین ہو یا پانی میں ہو اَلبَتَّہ زیرِ زمین یا زیر آب دھماکوں میں یہ ستون مٹی یا پانی کے بے انتہا بوجھ میں دب کے رہ جائے۔ سب سے خوبصورت نظارہ وہ ستون پیش کرتا ہے جو کم گہرے پانی میں کیا جائے بکینی 1946ء ٹسٹ بیکراسی قسم کا دھماکہ تھا ۔عموماً ایسا دھماکہ سطح آب سے پچاس فٹ کی گہرائی پر کیا جاتا ہے پہلی چیز جو بیکرBaker میں دیکھی گئی وہ روشنی کی ایک چمک تھی جو ہوا میں ہونے والے دھماکے کی روشنی کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ یہ چمک اُ س وقت پیدا ہوئی جب آگ کا گولہ پانی کی سطح کو چیر کر اوپر اُ ٹھا  ۔پانی کا ایک ستون خالی سلنڈر کی شکل میں اپنے سیدھے تنے کے ساتھ اُ وپر کی طرف اُبھرا۔پندرہ سیکنڈ میں یہ ستون ایک میل کی بلندی پر پہنچا اور ایک منٹ کے عرصے میں اپنی انتہائی بلندی یعنی ڈیڑھ میل تک پہنچ گیا اس ستون کا قطر ایک تہائی میل کے برابر  تھا اور اس ستون پر بننے والی کُھمب(Mushroom) کی چوڑائی ڈیڑھ میل تھی  ۔اس ستون میں موجود پانی کا وزن دس لاکھ ٹن تھا۔ دھماکے کی تندی کے سبب ستون میں پایا جانے والا پانی پُھوار کی شکل میں تھا اور یہ پُھوار مزید باریک ہو گئی جب ستون کے پانی نے اپنی انتہائی بلندی کو پہنچ کر واپس نیچے گرنا شروع کر دیا۔ ستون کی بنیاد سے کہر کا ایک دائرہ  جسے بیس سرج(Base Surge) کہتے ہیں پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پھیلنا شروع کر دیا۔(یہ ایک نہایت غیر متوقع مظاہرہ تھا)۔ دھماکے کے تقریباً تین منٹ بعد اس کہر کے نیچے سے بارش برسنا شروع ہو گئی اور جلد ہی کہر کے پھیلا ؤکی رفتار سست پڑ گئی اور مزید دو منٹ کے بعد بالکل ہی رُ ک گئی۔ اس کہر نے تقریباً پانچ مربع میل کا رقبہ گھیرا۔ اس میں فژن پراڈکٹس(Fission Products) کا کچھ جزو موجود تھا مگر قرینِ قیاس یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اکثر حصہ اوپر کھمب میں Mushroom top میں تھا۔

حُطَمَہ کا منظر:۔

 آئیے۔ حُطَمَہ کے دلکش نظارے سے محظوظ ہوں۔ اب جب کہ ہم نے حُطَمَہ کا بیان بتمام و کمال کر دیا ہے اور ایٹمی آگ، ایٹمی توانائی اور ایٹمی دھماکے کے حقائق کے مقابلے میں قرآنی بیان کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا ہے اور اوّل تا آخر سائنس کے ناقابلِ انکار قاعدوں کے مطابق ہر نکتے کو بیان کیا ہے اور اب سائنسد ان کی سائنسی دیانت کے پیشِ نظر ہمیں یقین ہے کہ ہر سائنس دان خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں رہائش پذیر ہو خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور خواہ لامذہبیت کا دعوے دار ہو ضرور اس قرآنی حقیقت کے سامنے سر تسلیمِ خم کرے گا کیونکہ اگر وہ حقیقی سائنس دان ہے تو وہ قرآنِ حکیم کی علمی عظمت اور الہامی حیثیت اور معجزانہ خاصیت کو تسلیم کرکے اس کے سامنے دو زانو ہو جانے پر مجبور ہے۔ الحمد للہ کہ ا ُ سے اس کے بغیر چارہ نہیں۔الحمد للہ۔ولمنتہ للہ۔

  قارعینِ کرام !ہماری موجودہ انسانیت کے لئے قرآنِ حکیم کی یہ تنبیہہ اُمید کی آخری اور اکلوتی کرن ہے۔ آپ اس عظیم اور محیرالعقول حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں گے تو آپ کو اس کی حقیقی عظمت کا انکشاف ہو کر رہے گا۔ انسانیت کی ساری تاریخ میں کوئی بھی معجزہ اتنابڑا نہ تھا  جتنا کہ قرآنِ حکیم کا یہ معجزہ ہے اگرچہ ایٹم بم موجودہ سائنس کا بہت بڑا معرکہ ہے لیکن قرآنِ حکیم کا یہ ایٹم بم کو کھانے والا معجزہ عظیم تر معرکہ ہے۔ مصری جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کا یہ اژدھا کھا جائے گا لیکن آیئے موت اور تباہی اور المناک ترین عذاب کی اس علامت یعنی اس ایٹم بم کی جولانیوں کا ایک نظارہ دیکھیں اور کچھ اندازہ کریں کہ اگر قرآنِ حکیم کی تنبیہہ پر کان نہ دھرے گئے اور ایٹم بم کے چلنے کے سامان پیدا ہوتے رہے تو پھر کچھ اسی قسم کا نظارہ اس بے حس ،بے ہوش، مدہوش انسانیت کو عملاً دیکھنا پڑے گا۔

   اور اب برائے مہربانی اپنی آنکھیں موند لیجیئے اور اپنے آپ کو ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر بیٹھا ہوا دیکھئے۔ دیکھئے کہ ساری زمین آپ کے سامنے ہے لیکن آ پ تو سردی سے کانپ رہے ہیں۔ واقعی یہاں بہت سردی ہے لیکن ذہن کا کمال دیکھئےکہ ایسا کمال سائنسدان ایجاد نہیں کر سکا۔ بے شک یہ انسانی ذہن ۔یہ ایک عجوبہ ہے ہمالیہ کی وہ چوٹی جسے سر جان ہنٹر بے پناہ مصائب خون آشام جونکوں کے لشکروں اور برفانی طوفانوں کے اندھیروں اور موت کے بے شمار خطروں سے دوچار ہونے کے بعد فتح کر سکا۔ آ پ محض اپنی آنکھ بند کرتے ہی وہاں اپنے آپ کو بیٹھا ہوا پاتے ہیں اُ س فلک بوس چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف پھیلے ہوئے بادلوں اور برفانی چوٹیوں کو دیکھ رہے ہیں اور ٹھنڈی ہو ا کے تھپیڑوں کو محسوس کر رہے ہیں اپنے پاؤں کے نیچے برف کو محسوس کر رہے ہیں بلکہ اُ س جھنڈے کو بھی ہاتھ لگا سکتے ہیں جو دنیا کی اس سب سے اونچی چوٹی کے فاتح سرجان ہنٹر نے اپنی فتح کی نشانی کے طور پر وہاں گاڑا تھا لیکن یاد رکھیئے کہ ایٹم بم کے بنانے والے اٹامسٹوں کو ماؤنٹ اٹامزم کی بلند ترین چوٹی سرکرنے اور وہاں جائنٹ اٹمبم(Giant Atumbumb) (ایٹم بم کے دیو) کو جو کہ تاریکی کے غار میں صدیوں سے مردہ پڑا تھا۔ زندہ کرکے اُسے سائنس کی زنجیروں میں جکڑ کر زمین پر لانے کے لئے جن کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑا۔ اُ ن سے سر جان ہنٹر کے خطرات کو دور کا واسطہ بھی نہیں۔

  اب ہم آنکھیں بند کرکے اس دیو ایٹمبم کے حیرت ناک کارناموں کو بحر الکاہل کے جزیروں میں مچھروں کے ڈنک کا نشانہ بنے بغیر اسی ہمالیہ کی چوٹی پر بیٹھے بیٹھے ہی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ ناظرین! اب آپ اس عظیم دیو کے عظیم مظاہروں کا تماشہ دیکھیں۔اس دوران میں ہم کچھ لکھ لیں گے اور پھر آپ کی رپورٹ کے منتظر رہیں گے کہ آپ نے کیا کچھ دیکھا۔

 شکریہ آپ کی رپورٹ پہنچ گئی ہے۔ اب ہم یہ رپورٹ قارعین کرام کی خدمتِ گرامی میں من و عن پیش کرتے ہیں۔ ذیل میں لکھی ہوئی رپورٹ ملاحظہ ہو۔

  ”روئے زمین کے دانشمند لیڈر متفقہ طور پر اس فیصلے پر پہنچ گئے ہیں کہ انسانیت کو جو کہ اب بہت بڑھ چکی ہے اور کافی عرصہ زمین پر اپنی زندگی گزار چکی ہے۔ فوری طور پر تباہ کر دیا جائے تاکہ اب کسی دوسری نوع کو پیدا ہونے اور پھلنے پھولنے کا موقع بہم پہنچایا جائے۔ ان لیڈروں نے ایک نہایت ہی انتظام پسند لیڈر (جسے یو این او کی گرینڈ اسمبلی کے ایک بارسوخ ممبر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے) کی اس دل پذیر تجویز سے بھی مکمل طور پر اتفاق کیا ہے کہ انسانیت کے اس رحم دلانہ قتلِ عام کا عمل کسی خاص منصوبے کے ماتحت عمل میں لایا جائے۔ اس بصیرت افروز تجویز کے بڑے بڑے پوائنٹ یہ تھے:۔

 (۱)۔ انسانیت کو ایٹم بم کی بہترین قسم سے الوداع کہنے کے شرف سے نوازا جائے اور اس مقصد کے لئے کم از کم پانچ صد ہائیڈروجن بم مہیّا کئے جائیں۔

(۲)  ۔یہ ایٹم بم ایک خاص ترتیب سے روئے زمین کے گوشے گوشے میں نصب کئے جائیں تاکہ دنیا کا کوئی کونہ بھی اس عظیم شرف سے محروم ہونے کی شکایت نہ کر سکے۔

(۳)۔  ان ایٹم بموں کو ایک ہی وقت چلانے کے لئے  ایک خاص  وقت  مقرر کر کے اُ س وقت کا اچھی طرح سے اعلان کیا جائے تاکہ مقررہ وقت پر ہر کوئی کھدروں کونوں سے نکل کر ایسی جگہ پر موجود ہو سکیں جہاں سے وہ ایٹم بم کی پہلی چمک کا اچھی طرح سے نظارہ کر سکیں۔

بعض اخباروں میں یہ خبر بھی سننے میں آئی کہ نچلی سطح کے جانوروں نے اس عظیم قتلِ عام کی خبر سن کر ہر طرف احتجاجی مظاہرے کئے لیکن ان حقیر جانوروں جیسی مخلوق کے اعتراض پر انسانیت جیسی اشرف مخلوق کو اس عدیم النظیرعزت سے محروم کر دینا کسی طور پر بھی روا نہ سمجھا گیااور جانوروں کے ان اجتماعوں اور جلوسوں کو سنگینوں کی نوک پر منتشر کر دیا گیا۔ بعض چوٹی کے عالمی دانشوروں اور سائنس دانوں نے ان جانوروں کو سمجھانے کی خاطر بڑی مدلّل تقریریں بھی کیں مگر ان ضعیف العقل حیوانوں کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آ سکا۔  بحر حال ان کے خلاف بجا طور پر قوت کا مظاہرہ کرنا پڑا۔

 سوپر پاوروں نے چشمِ زدن میں دس ہزار بیس میگاٹن ایٹم بموں کا تحفہ یو این او کو پیش کیا۔ بہترین بموں کی پیش کش کرنے والی طاقتوں کو بہترین ایوارڈ دیئے گئے اور اُ ن کو قبروں کی آرائش کی خاطر ایٹمی ہار انعام میں دیئے گئے۔ تمام بم نہایت تیزی سے ہوائی جہازوں کے ذریعے مقررہ جگہوں پر پہنچا دیئے گئےاور عدن کے باغ کے درختوں کی طرح بڑی ترتیب سے اور مناسب رسومات کے ساتھ ہر جگہ پر نصب کر دیئے گئے۔ سائنس دان اور انجینئر حضرات جن کے ذمے ان بموں کو چلانا تھا بڑی بے تابی سے زیرو آور(Zero Hour) کا انتظار کرنے لگے۔

`   آخر کار وہ لمحہ آن پہنچا جس کا بڑی بے قراری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ بنی نوع انسانی کے مجمعے خوشی کے نعرے لگاتے تالیاں بجاتے اور ناچتے کودتے باہر آ گئے۔ تمام بموں کو بہ یک جنبش چلا دیا گیا۔ زمین کانپ گئی۔ پہاڑ تھرا اُ ٹھے۔ گرج چمک اور کڑک کی بازگشت آسمانوں میں سنائی دی اور پھر آہا دس ہزار ایٹمی ستون اندازِخسروانہ اور ادائے کافرانہ کے ساتھ روئے زمین سے بلند ہونا شروع ہوئے۔ اس مسحور کن منظر سے متاثر ہو کر اور اس کا بہتر نظارہ کرنے کی آرزو کے ساتھ بعض منچلوں نے بٹن دبایا اور سیدھے مریخ پر پہنچے اور اپنا ٹیلیسکوپ سیٹ کرکے مصروف ِنظارہ ہوئے۔ حسین اُ ٹھتے ہوئے ستونوں اور اُ ن کے سروں پر چھائی ہوئی کُھمب نما زلفوں اور اُ ن کے خوبصورت لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے انواع و اقسام کے بصیرت افروز رنگوں کے سحر طراز نظاروں میں کھو گئے۔ ایسامعلوم ہوتا تھا کہ روئے زمین کی تاریخ میں پیدا ہونے والے عظیم شہنشاہوں ،بادشاہوں اور شہزادوں کی روحوں کی رہائش کے لئے شاہکار محلوں کی ایک دنیا تعمیر ہورہی تھی  یا بین الکوابکی باکسنگ کے لئے زمین کو ایک بڑ ے ایم پی تھیٹر میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ ستونوں کے سروں پر کھمبیں وجود پذیر ہو رہی تھیں۔ کھبمیں آپس میں ایک دوسرے سے جھوم جھوم کر اور لہرا لہرا کر مل رہی تھیں۔ بادل بادلوں سے گلے مل رہے تھے۔ رنگ برنگے ستون دس میل کی بلندی تک اُ ٹھ رہے تھے اور ساٹھ میل گھیرے والے رنگ برنگی روشنیوں کے بنے ہوئے محل ہر ستون کے گرد تشکیل پذیر ہو رہے تھے۔ اس کے بعد اوپر والی منزل کی تعمیر شروع ہوئی۔ ستونوں کے سرے کھمبوں کو چیر کر اور آسمانی بلندیوں کو  چیرتے ہوئے اوپر بیس میل کی بلندی تک اُ ٹھے اور وہاں اُ ن کے سرے ہوا کی لہروں سے ٹکرا کر سیمابی چادروں میں ڈھلنا شروع ہو گئے۔ان سیمابی چادروں کے مختلف رنگ (Shades)دیکھنے والے تھے۔ کہیں سرمئی ہیں تو کہیں آسمانی کہیں نیلگوں ہیں تو کہیں نقرئی رفتہ رفتہ یہ چادریں ایک دوسرے سے ا س طرح جڑنی شروع ہو گئیں جس طرح کہ بڑے بڑے زبردست مشاق مستری آسمان پر بیٹھے ان کو رفتہ رفتہ جوڑ رہے تھے حتٰی کہ بیس میل کی بلندی پر یہ چھت ایک کرے کی صورت میں زمین کے گردا گرد بن کر تیار ہو گیا مگر آپ کو صرف نصف کرے کی صورت میں نظر آتا ہے کیونکہ باقی کا نصف کرہ آپ کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ کتنا حسین منظر ہے۔اے مریخ کی سطح پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے والے کتنا حسین ،کتنا پیارا ،کتنا دلکش ،کتنا شاہانہ ،کتنا بارعب ،پر شکوہ  انسانی عقل و فراست کا کرشمہ انسانی عظمت کا خدائی ثبوت اب انسان کو خدا کی کیا ضرورت ہے؟ انسان اب خود مختار ہے خود خدا ہے لیکن اے چاند اور مریخ پر چڑھ کر زمین کا نظارہ کرنے والے انسان ذرا اُ ن بلندیوں سے نیچے آ ؤ۔ وہاں سے تیرا ٹیلیسکوپ ٹھیک کام نہیں کرتا۔نیچے آؤ۔نیچے زمین پر آؤ۔ اور دیکھو وہ سماں افروز روشنیاں جو تو نے سمجھا ہے کہ محلاتِ شاہی کو منور کر رہی ہیں وہ دراصل زندہ جلتے ہوئے انسانوں کی چِتائیں ہیں۔ یہ عظیم الشان محل جو تو سمجھ رہا ہے کہ شہنشاہوں کی رہائش گاہیں ہیں دراصل یہ تو اَ سی میل دور کی دس میل اونچی دیگیں ہیں جن کو اُ لٹا کرکے رکھا گیا ہے اور ان کے نیچے لاکھوں انسانوں کی جلی بھنی لاشیں آگ کے طوفانوں اور زلزلوں میں اِدھر اُدھر اُ ڑتی پھرتی ہیں۔ کہیں اُ ڑتی ہیں، کہیں گرتی ہیں، کبھی ان کو ادھر ٹپکا جاتا ہے، کبھی ادھر، ان میں بچے بھی ہیں، ان میں بوڑھے بھی ہیں، ان میں عورتیں بھی ہیں، اے مریخ کی چوٹیوں کو مسخر کرنے کی نیت باندھنے والے انسان۔ نیچے آؤ اور دیکھو ان لاشوں میں کہیں تیرے ہی بچوں کی ،تیری ہی ماں بہنوں کی، تیرے ہی عزیزوں، رشتہ داروں کی لاشیں تو نہیں اُ ڑتی پھرتی۔ اے بھولے انسان ! اے غافل اور بدنصیب انسان!  یہ جگمگاتے ہوئے شاہی محلوں کی سحر آفرین جنت جو تو دیکھتا ہے یہ تو حُطَمَہ ہے۔ جہنم ایٹمی جہنم جو طعنہ زن ،نکتہ چینیوں یعنی پروپیگنڈا کرنے والوں اور دولت کے اندھے پجاریوں کو بھسم کرنے کی خاطر خاص اللہ تعالیٰ  نے اپنے ہاتھ سے بھڑکایا ہے۔ اے چاند کے فاتح! اے مریخ کے ہونے والے فاتح۔ اس بات میں عبرت کے سامان ہیں۔ ساری دنیا کی ساری مملکتوں کے سارے راہنما ؤ! سارے لیڈرو! سارے حاکم جس شاہی محل کی تعمیر کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا کر بیٹھے ہیں۔ وہ یہی محل ہے جو ہم نے آپ کو اوپر دکھا دیا۔ ایک پاگل کو تو آدمی سمجھائے اور ساری دنیا کی دنیا ہی پاگلوں کی دنیا بن جائے تو کس کس کو سمجھائے اَلبَتَّہ سود خوار دنیا کے سود خوار بندے سود خوار دور کے سود خوار داناؤں سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے۔  قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے سود خوار کے متعلق فرمایا کہ وہ قیامت کو اُ ٹھے گا اس طرح کہ گویا شیطان نے مس کرکے پاگل بنا دیا ہے اور اب اس دور کے لوگوں کی یہ حرکتیں اگر پاگل والی نہیں تو اور کیا ہیں۔ میں آپ سے مخاطب ہوں۔ آپ ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہیں۔ کیا آپ انسانیت کے اس جنون کو سوچ سکتے ہیں کیا ابھی تک شیطان نے آپ کو مس کرکے پاگل نہیں بنا دیا یا آپ بھی مخبوط الحواس ہو چکے ہیں۔ سود کھانے کے اثر سے بہر حال تمھیں معلوم ہو جائے گا مگر کیا معلوم ہو گا۔  وہی جو عاد اور ثمود کی بستیوں والوں کو ہوا تھا۔ قدرتی یگانگت کو نظر انداز نہ کرو۔

تاہم یہ حُطَمَہ کا محل جس کا بیان ہم ابھی کر رہے تھے۔ ایک لحاظ سے ایک عظیم امپی تھیڑ ہے۔ایمپی تھیٹر قدیم روم میں ایک تھیٹر نما بلڈنگ ہوتی تھی جس میں انسانوں اور جانوروں کی لڑائیاں کرائی جاتی تھیں لیکن وہ حُطَمَہ کا امپی تھیٹر وہ روم کا امپی تھیٹر نہیں بلکہ اگر آپ تاریخ جانتے ہیں اور سامسنSamson اسرائیلی کا واقعہ جو اُس نے گازا کے امپی تھیٹر میں فلسطینی اُ مرا کو دکھایا تھا جانتے ہیں تو یہ حُطَمَہ کا امپی تھیٹر اُ س گازا والے امپی تھیٹر سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ سامسن ایک اسرائیلی تھا اور شاہ زوری میں کئی رستموں کے برابراُ س کی بیوی فلسطیینوں میں سے تھی لہٰذا جب اسرائیلیو ں کی جنگ فلسطینیوں سے ہوئی۔ تو اپنی بیوی کے دھوکے کی وجہ سے یہ سامسن فلسطینیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ جنہوں نے اُ س کی آنکھیں نکال لیں   اور اُ سے قید میں ڈال دیا۔اسی دوران میں فلسطینیوں کا کوئی تہوار آیا اور گازا کے امپی تھیٹر میں سارے فلسطینی اُ مرا وغیرہ اکٹھے ہوئے اور وہاں سامسن کو اپنی قوت کا مظاہرہ دکھانے کے لئے بلا بھیجا۔ سامسن پہلے تو اپنی قوت کے کرتب اُ ن کی مرضی کے مطابق دکھاتا رہا لیکن آخری کرتب اُ س نے ان کو اپنی مرضی کا دکھایا۔ چنانچہ اُ س نے اس بلڈنگ کے اُ ن دو بڑے مرکزی ستونوں کو جپھے میں لے کر ایک زبردست ہاتھی کی طرح اُ ن کو جھنجھوڑ کر ایک طرف گرا دیا۔ پھر کیا تھا سارا چھت نیچے آ رہا تمام فلسطینی لارڈ نیچے دب کے مر گئے  اور اُ ن کے ساتھ خود سامسن کی لاش بھی دفن ہو چکی تھی۔

اب جب آپ کو سامسن کا بنیادی قصہ سمجھا دیا گیا ہے تو اب سنئے۔ صورت میں یہ حُطَمَہ کا محل ایک امپی تھیٹر ہے جسے اس دور ِجدید کے گازا میں ان جدید فلسطینیوں نے لالچ کے ستونوں پر جدیدسائنس کے اصولوں کی روشنی میں تعمیر کیا ہے۔ ان ستونوں کو جپھے میں لے کر کھڑا ہے۔ایٹمی سامسنAtomic Samson) (موقعے کی انتظار میں اور ان جدید فلسطینی لارڈوں کو جنہوں نے نیوکلر سامسن کو پُر امن مقاصد کی خاطر اپنی طاقت کے مظاہرے کے لئے بلا رکھا ہے۔ ان کو یہ بات کہنے کے لئے کھڑا ہے کہ”میرے آقا ؤ!اب تک تو   جیسا بھی آپ نے پرُ امن مقاصد کی خاطر مجھے حکم دیا ہے۔ میں نے آپ کے نیوکلر ری ایکٹر پاور ہاؤس اور عظیم بحری جہاز چلائے ہیں کیونکہ اصولاً میرا کام آپ کا حکم ماننا تھا اور اس سارے عمل میں نہ تو آپ نے کچھ خوف ہی محسوس کیا ہے نہ مجھے کچھ خوشی محسوس ہوئی ہے لیکن اب میں اپنی قوت کا ایک مظاہرہ اپنی خواہش سے کرنا چاہتا ہوں ایک ایسا مظاہرہ  جو ہر اُ س آدمی کو حیرت میں ڈال دے گا جو اُ سے دیکھ لے گا۔ یہ کہہ کر اپنے سارے آہنی اعصاب کی تمام تر قوتوں کو مجتمع کرکے ایسی طاقت سے جس کے سامنے پہاڑ بھی لرز جائیں اُ س نے ان دیو قامت ستونو ں کو ادھر ادھر ہلا کر اور پھر اپنے سر کو پچھلی طرف جھٹکا دے کر ایک خوفناک نعرہ مار کر ان ستونوں کو زمین پر لڑھکا دیا اور ان کے پیچھے ساری چھت بجلی کے کڑاکے کے ساتھ نیچے گری اور اس جدید دور کے اس ایٹمی فلسطین  کے پریذیڈنٹ، وزرائے اعظم، سائنس دان ،فلسفی، مذہبی رہنما، ڈاکٹر اس ایٹمی امپی تھیٹر کی اس چھت کے نیچے دب کر رہ گئے۔ ملٹن کا کھینچا ہوا نقشہ پڑھیئے۔

”زندان کا ایک تیرہ و تاریک تہہ خانہ ۔خوفناک ۔ایک وسیع بھٹی کی طرح بھڑکتا ہوا۔ شعلہ کش ۔ہاں ہاں۔ مگر ان شعلوں سے روشنی کے نہیں بلکہ اندھیروں کے رینگتے ہوئے کالے پرتو نظر آئیں “۔ ان میں دردناک منظر پُر اندوہ منطقے۔ اُ داس سائے دردناک منظر ،امن و آرام مفقود، اُ مید معدوم اور نہ ختم ہونے والا عذاب اور آگ کی طغیانی میں ہمیشہ جلنے والی کبھی نہ  بھُجنے  والی لافانی گندھک“۔

تاہم اگر آپ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ حُطَمَہ ایک محل تھا تو یہ محل ضرور تھا مگر اُ س مصری بیوہ ملکہ کا محل جو اُ س نے اپنے خاوند مرحوم بادشاہ کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی خاطر بنا رکھا تھا۔ قدیم سے قدیم ترین مصر کی بات ہے کہ ایک بادشاہ جب شکار سے واپس آیا تو محل کے دروازے پر اُسے اس کے دشمنوں نے قتل کر ڈالا۔ جب اُ س کی نعش پر ملکہ پہنچی تو وہ اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوؤں کو واپس پی گئی۔ لوگ حیران  تھے کہ ملکہ کو اپنے بادشاہ خاوند کی موت کا اتنا بھی رنج نہ ہوا تھا کہ دو آنسو ہی اُس کی میت پر ٹپکا دیتی مگر وزیر اُ س مرحوم بادشاہ کا دیکھ رہا تھا وہ ملکہ کی اس روش کو بھانپ گیا۔ بادشاہ کی میت کو دفن کرنے کے بعد ملکہ نے باقاعدہ تاجپوشی کی رسم ادا کرکے ملک کی بادشاہت سنبھال لی۔ وقت گزرتا گیا۔ زخم مندمل ہوتے گئے۔  یادیں دھندھلیاتی گئیں۔ ملکہ نے دریائے نیل کے کنارے ایک عظیم الشان محل تیار کر وایا اور اس کی رسم افتتاح پر بڑے لوگوں کو دعوت پر مدعو کیا۔  عین وقت پر محل میں موجود اس ضیافت کے مہمانوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ وہ تمام کے تمام وہی تھے جنہوں نے کئی برس پہلے بادشاہ کے خون میں ہاتھ رنگے تھے۔ وہ آپس میں چہ مے گوئیاں کرنے لگے مگر یہ دیکھ کر کہ اُ س محل میں کہیں بھی ملکہ کے کسی آدمی کے چُھپنے کی جگہ نہ تھی۔ وہ کچھ مطمئن ہو گئے اور ضیافت کا اہتمام شروع ہو گیا۔ دفعتہً ملکہ بے ہوش ہو گئی۔ اُ س کی خادماؤں نے اُ سے اٹھایا اور محل کے باہر لے گئیں اور پھر  اُس ہال کا دروا زہ کھٹ سے بند ہو گیا۔ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ ایک کونے سے دریائے نیل کا پانی بھوکے بھیڑیئے کی طرح اُ بلنا شروع ہو گیا۔ مہمان رفتہ رفتہ میزوں کے اوپر چڑھ کر کھڑ ے ہو گئے مگر آخر کب تک۔ تھوڑے ہی وقفے کے بعد وہ ہال اُ ن کا مدفن بن چکا تھا۔ ملکہ نے اپنے مقتول خاوند کا انتقام لے لیا تھا اور اسی طرح قارعینِ کرام! قدرت کی ملکہ جس کو مسخر کرنے کی تگ و دو دورِ حاضر کے مادہ پرست ایک عرصے سے کر رہے ہیں مگر قدرت کی ملکہ ایٹمی بنگلہ ان لوگوں کے لئے بناتی رہی ہے   اور اب ان لوگوں سے بدلہ لے گی۔

 سائنس کی  حاکمیت اور ایٹمی جہنم:۔

 آج دنیا میں سائنس کی مکمل حاکمیت ہے۔ انسانیت کا جسم اور ذہن دونوں ہی مکمل طور پر سائنس کے قبضہ میں ہیں۔ انسانی فکر پر آج کل اس کا اس طرح قبضہ ہے اور اتنی گہری ہیں اس کی جڑیں آج کی اس دنیا کے اقتصادی نظام میں کہ اس کو بیخ و بن سے نہیں اُ کھاڑا جا سکتا جب تک کہ اس کے ساتھ ہی دنیا کے اقتصادی ڈھانچے کو بھی زیروزبر نہ کر دیا جائے تاہم دوسری طرف تباہی کا وہ اودھم جو سائنس زود یا بدیر اس دنیا میں مچانے والی ہے۔ وہ کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ اُ س سے مراد ساری انسانیت کی مکمل تباہی ہے ۔اس نے اپنا جہنم بنا کر مکمل کر لیا ہے اور اس کا نام ایٹمی جہنم دھرا ہے۔ یہ سب سے بُرا جہنم ہے۔اب سائنس اس جہنم کے لئے ایندھن جمع کرنے میں مصروف ہے اور محض کسی بہانے کسی موقع کی مُنتظر ہے۔ کوئی ایسا بہانہ جس سے ایٹمی جہنم کی آگ بھڑکائی جا سکے۔ اے وائے۔ افسوس اے بدنصیب انسانیت! ایٹمی جہنم ایک ایسا دوزخ ہے جس میں لوگ فی الفور ختم ہو جائیں گے لیکن جو کوئی بچ گیا اُ س کے لئے اس دنیا میں زندہ رہنا کسی خوشی کا موجب نہ ہو گا۔ ایٹمی جنگ سے بچ نکلنے والے یہ غریب کینسر زدہ کوڑھی اُ ن لوگوں پر رشک کریں گے جو مر چکے تھے۔ زندگی اُس موت سے کہیں بد تر تھی۔

لیکن سائنس سے بات تو کرو سارے کا سارا الزام وہ انسان کے کندھے پر دھر دے گی اور بالکل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ایسا کرے گی۔ کیونکہ یہ انسان ہی تو ہے جو سائنس کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ سائنس تو اُ ن اصولوں کا نام ہے جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے۔ سائنس تو قدرت کے قوانین کا نام ہے جن کے مطابق یہ ساری دنیا چل رہی ہے۔ اب یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ آیا وہ ان اصولوں اور ان قانونوں کو کس غرض سے استعمال کرتا ہے۔ اَلبَتَّہ ایٹمی توانائی کا مضمون اس اصول سے باہر ہے۔ ایٹمی توانائی سے تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہ سائنس نہیں یہ عذاب الٰہی ہے یہ خدا کی آگ ہے۔ بہرحال ہم سائنس کی طرف پلٹتے ہیں تو سائنس تو بے چاری محض ایک خادم ہے غلام ہے۔ یہ آپ لوگ ہیں جو سائنس کے سہارے قدرت کی مادی اقلیم کی تسخیر کے ارادے سے نکلے ہیں اور انسانیت کی مادی بہبود کے ذرائع حاصل کرنے کے لئے نکلے ہیں اور روحانی اور اخلاقی پہلو کو کلّی طور پر نظر انداز کرکے مادی منفعت کو ہی اپنا مطمح نظر تصّور کرکے آگے بڑھے ہیں۔ یہ ایک نامکمل اور ادھوری بات تھی۔ قدرت نے تمھاری جانب ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ قدرت نے تمھاری روحانی اور اخلاقی اقدار سے کنارہ کشی اور تمھارے آخرت کے انکار کے سبب تمھارے مادی راستے کو کچھ اس خفیہ انداز سے مختلف سیڑھیوں پر یکے بعد دیگرے بدلا کہ پچاس سال کے مختصر سے عرصے یعنی 1895 ء میں رونٹجن کے ہاتھوں ایکس رے کے اتفاقی انکشاف کے بعد1942 ء میں فرمی کے فژن  چین ری ایکشن کے کامیاب تجربے سے ہوتے ہوئے بالآخر1945 ء میں ایک حیرت ناک طریقے سے اور دفعتہً تمھیں تمھاری آخری منزل یعنی ایٹمی جہنم کے سامنے لا کر روبرو کھڑا کر دیا۔ تم نے دولت کو اپنی دیوی بنا کر دولت کے دینے والے خدا کو ترک کر دیا لیکن تمھاری دولت کی بہتات نے ہی تمھارے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا ورنہ تمھاری دولت کی اس درجہ بہتات کے بغیر ایٹم بم کا بننا یا ایٹمی توانائی کا انکشاف ممکن نہ ہوتا۔ اگر تم گھڑی بھر بیٹھ کر سوچ سکو تو یقیناً تمھیں ان باتوں کی صداقت کا اطمینان ہو جائے۔ مگر اے وائے افسوس تمھیں بیٹھ کر سوچنے کی فرصت ہی کہاں ہے۔ دولت کا بھوت پیرِ تسمہ پا کی طرح تمھیں کہیں بیٹھنے نہیں دے گا۔ مرحوم بر ٹرینڈ رسل مشہور انگریز فلسفی اس ایٹمی توانائی کے سارے معاملے سے اس درجہ پریشان تھا کہ اُ س نے میرے ایک خط کے جواب میں جو میں نے اسے ایٹمی جنگ کے خطرے کے پیشِ نظر لکھا تھا۔ مجھے ایک سنہری کتابچہ بھیجا۔اس کتابچے میں فقط ایک ہی جملہ لکھا تھا۔ ”جب سے آدم اور حوا نے گند م دانہ کھایا ہے۔ آدمی نے کبھی بھی کسی بھی حماقت سے اجتناب نہیں کیا۔جس کا بھی وہ اہل تھا  اور انجام ہے ایٹمی دھماکے کی ایک نہایت ہی خوبصورت تصویر“۔ اس ایک جملے میں اُ س عظیم فلسفی نے اپنے تمام فلسفے کا نچوڑ نکال کے رکھ دیا تھا۔ وہ انسان کے انجام سے نا اُ مید ہو چکا تھا۔   اُ سے ایٹمی تباہی سامنے واضح نظر آ رہی تھی اور ہو سکتا ہے کہ میں بھی اُ س کی طرح ناامیدی کا شکار ہو کر ہتھیار ڈال دیتا لیکن جب قدرت نے قرآنِ حکیم میں ایٹم بم کے متعلق پیشین گوئی دکھائی جو ایک تنبیہ کی صورت میں تھی اورایٹم بم کے پیدا ہونے کی وجوہات از راہ کرم بیان فرمادیں تو گرتے ہوئے حوصلے بلند ہو گئے اور انسانیت کے ایٹمی خطرے سے بچ نکلنے کی اُ مید لگ گئی۔ اس فیصلہ کن جملے کے علاوہ اس متذکرہ پمفلٹ میں تین کارٹون بنے ہوئے تھے۔ ایک میں تو آدم اور حوا کو گندم دانہ کھاتے دکھایا ہے اور اوپر سے سانپ لٹک رہا ہے۔ دوسرے میں دو متقابل بُرج دکھائے گئے ہیں اور اُ ن برجوں پر آدمی کھڑے ہیں جو ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر ایک دوسرے کو للکار رہے ہیں اور تیسرے میں دکھایا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو گدھا بنا کر اس پر سواری کر رہا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ رسل کے تجزیئے کے مطابق انسانیت کی متوقع تباہی کے اسباب استبداد اور باہمی نا انصافی اور جنگ و جدل ہے۔قرآنِ حکیم نے ایٹمی تباہی کے اسباب عیب جوئی اور طعنہ زنی دولت کی حرص اور دولت میں کلّی اعتماد اور اس کی ہمیشگی کا یقین بتائے لیکن کیا یہ دنیا ایٹم بم سے تباہ ہو گی؟ کیا بدنصیب انسانیت کا یہی انجام تھا۔کیا تقدیر کا فیصلہ ہو چکا تھا؟ اور اب کوئی امید باقی نہ تھی۔ کیا مرض بالکل لاعلاج ہو چکا تھا اور اس کے ازالے کا کوئی مداوا باقی نہ تھا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوال رسل کا یہ پمفلٹ دیکھ کر میرے ذہن میں اُ بھرے لیکن میں نے اپنے آپ سے کہا اچھا ہو سکتا ہے انسانیت اپنے آپ کو ایٹمی جہنم میں جھونک دے۔ اگر وہ اس چتا میں کودنا چاہیں گے تو کوئی ان کو روک نہیں سکتا لیکن میرا کام تو ہے فقط چیخنا اور چلِانا اتنے زور سے چلاتے رہنا کہ گلا بیٹھ جائے اور اُ س وقت تک چِلاتے رہنا جب تک کہ موت قبر کی آغوش میں نہ ڈال دے اور پھر وہ بنی نوعِ انسانی جو جان بوجھ کر زہر ِمہرہ نگلنے کی کوشش کرے۔ جو سمجھنے کے باوجود یورانیم 235 کے شعلوں سے کھیلے تو پھر اُ س کو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے کون روک سکتا ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون لیکن جب تک بے چاری لُوسی گرے کے قدموں کے نشان ملتے جائیں اور اُ س کے مل جانے کی اُ مید باقی ہو اُ س وقت تک تو تلاش جاری رکھی جا ئے یہی انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے۔ہم ایٹمی جہنم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں   جب تک کہ ہمیں موت ایک دوسرے سے علیحدہ نہ کر دے۔ وہ کہہ سکتے ہیں اور وہ کہیں گے کہ ہم تو ایٹمی توانائی کو فقط پُر اَ مَن مقاصد کے لئے استعمال کریں گے   کیونکہ ساری دنیا میں ایندھن کا بحران ہے اور اس بحران کو دور کرنے کا واحد ذریعہ ایٹمی توانائی ہے اور ہم ضرور اس طرح ایٹمی جنگ کے خطرات سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیں گے۔ یہی بات حضرت نوح علیہ السلام کے کافر لڑکے نے کہی تھی جب پدری   شفقت کے ہاتھوں مجبور نبی باپ نے کہا کہ اے میرے بیٹے آ جا۔ میرے ساتھ کشتی میں سوار ہو جا تو اُ س نے کہا کہ میں تو سامنے والے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا لیکن اللہ تعالیٰ کاغضب جوش میں ہو تو کوئی بھی سہارا انسان کو بچا نہیں سکتا۔ میں ہر اُ س سائنس دان یا غیر سائنس دان سے پوچھنا چاہوں گا جو ایٹمی توانائی برائے امن کا حامی ہے   کہ کیا ایٹمی توانائی برائے امن خطروں سے خالی ہے۔ کیا اس سے لازمی طور پر ایٹمی تابکاری کا اخراج نہیں ہوتا  تو وہ کہے گا کہ ہاں ہوتا ہے اور جب اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا غیر مضر مقدار سے زیادہ مقدار تابکاری کی آدمی کے جسم میں داخل نہیں ہو سکتی  تو وہ کہے گا کہ ہو سکتی ہے اور جب پوچھا جائے گا کہ وہ سیف گارڈ(بچاؤ کی تدابیر) جو ایٹمی ری ایکٹروں میں مستعمل ہیں۔ کیا وہ سو فی صدی یقینی ہیں تو جواب ملے گا۔ نہیں ایسا نہیں ہے اور جب یہ پوچھا جائے گا کہ کیا ایٹمی توانائی برائے امن اور ایٹمی توانائی برائے جنگ میں کوئی خاص فرق ہے۔ تو جواب ملے گا نہیں کوئی فرق نہیں اور اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ ایٹمی توانائی برائے امن کی موجودگی میں اسے ایٹمی توانائی برائے جنگ بنانے میں کوئی یقینی رکاوٹ حائل ہے تو جواب ملے گا کہ نہیں   کوئی ایسی رکاوٹ نہیں تو پھر اس بات کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے کہ ایٹمی توانائی کو امن کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے اور کیا یہ لوگ اُ ن مصائب سے جن سے ایٹمی توانائی انسانیت کو دو چار کر دے گی اور یقیناً کر دے گی اور اُ س عدیم النظیر تباہی سے جو بالآخر ایٹمی توانائی کے ہاتھوں انسانیت کی ہو گی ناواقف ہیں۔جواب یہ ہے کہ ہرگز ایسا نہیں تو پھر خدا را آپ خود انصاف فرمائیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ  قرآنِ حکیم کی بیان کردہ تین خصلتیں ان کو اندھا ،بہرا اور گونگا کرکے اس اندوہناک انجام کی طرف کشاں کشاں لے جا رہی ہیں تو کیا یہ بات غلط ہو گی؟

  آپ اگر مسلمان ہیں تو میری یہ باتیں سن کر آپ کا ذہن ایٹمی طاقتوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور آپ نہیں جانتے کہ میری نگاہ آپ کی جانب اُ ٹھتی ہے۔ یہ سارے بادل آپ کی خاطر اُ ٹھ رہے ہیں آ پ سے ہی یہ سوال کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ایٹمی تباہ کاری سے بچانے کی خاطر آپ نے بحیثیتِ مسلمان کیا کچھ کیا   پھر آپ کیا جواب دیں گے آپ اپنا بیان سوچ رکھیں اگر تسلی بخش عذر پیش نہ ہو سکا   تو دوہری سزا کا امکان ہے۔ اس دنیا میں دوسروں کے ہمراہ ایٹمی تباہی اور اگلی دنیا میں فرضِ منصبی میں کوتاہی کی پرسش اور کہیں حافظ شیرازی علیہ الرحمہ کے اس شعر پر تو تکیہ نہیں کر رکھا۔

بود کہ یار نہ پرسد گناہ ز خلقِ کریم

کہ از سوال ملومیم واز جواب خجل

ترجمہ:”ہو سکتا ہے کہ یار گناہ کے متعلق خلقِ کریم کی وجہ سے نہ پوچھے کہ ہم اس سوال سے رنجیدہ ہیں اور جواب سے شرمندہ ہیں“۔ لیکن یہ بات شعروں سے بہت بڑھی ہوئی ہے کہ خدا کی ساری مخلوق کوزندہ آگ میں جھونک دینے والا معاملہ ہے اور چھوٹ مشکل ہے۔

  اور پھر سوچئے کہ ایک غریب مگر صحت منددنیا بہتر رہے گی یا کینسر زدہ اور کوڑھی امیر دنیا۔اگر بغیر ایٹمی توانائی کے انسانیت غریب مگر صحت مند رہے تووہ بہتر ہے یا ایٹمی توانائی کے ساتھ امیر مگر موذی امراض میں گرفتار اور سماجی لحاظ سے ایک برباد ایک خانہ برباد انسانیت۔دولت کے پجاریو!اب وقت آگیا ہے کہ اس بات کا فیصلہ کرو۔کیا اُ ن کروڑ پتیوں نے جنہوں نے ایٹمی توانائی کی تجارت میں کروڑوں ڈالر لگا رکھے ہیں۔ ایٹمی جہنم کی راہ اختیار کرنی ہے یاانسانی سلامتی کی۔ اگر دنیا نے ایٹمی توانائی کا راستہ چنا تو کیا اُ نہیں یقین ہے کہ وہ اس توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ نہیں بلکہ وہ عنقریب اس قابل نہیں رہیں گے کہ اس توانائی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایٹمی جنگ کی بھینٹ چڑھ جائیں اور ابھی تک انسانیت کی اکثریت ایٹمی تباہ کاریوں کی حدود سے بے خبر ہے۔جوں جوں یہ لوگ آگاہ ہوتے جائیں گے ایٹمی توانائی کے خلاف تحریک زور پکڑتی جائے گی۔آخر کار ایک وہ وقت بھی آئے گا کہ یہ دنیا ایٹمی توانائی کے تصّور تک سے کانپ اٹھے گی۔

   ا یٹمی توانائی کا آتشیں اژدھا انسانیت کے دروازے پر آن پہنچا ہے۔ وقت ہےکہ دین کی جانب مائل ہو جاؤ۔ اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرو۔ زندگی کو روحانی اور مادی اقدار سے متوازن کر لو۔ ایٹمی توانائی کاباب سائنس کی کتابوں سے خذف کر ڈالو اور سائنس کو انسانیت کی حقیقی خدمت کے لئے وقف کر دو۔ قدرت کی اقلیم کی تسخیر کو اللہ کی رضا کے ماتحت کر دو۔ انسانیت پراعتماد بحال کرو اور باہمی ہمدردی کاجذبہ پیدا کرو۔ زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنے کا حق دو۔   اپنے پیچھے ساری مخلوق کو ایٹمی جہنم میں مت گھسیٹو۔ اپنے دل سے یہ خیال نکال دو  کہ تم ایٹمی توانائی کو کافی عرصے تک استعمال کر سکو گے۔ نہیں بلکہ بہت جلد تم ایٹم بموں کو آسمان سے اولوں کی طرح برستے دیکھو گے لیکن پھر توبہ کچھ فائدہ نہ دے گی۔   سعادت مندوہ جو موت آنے سے پیشتر توبہ کرلے۔ ایک بار ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو تمھارے سارے ایٹم بم بھی تم کو ابدی تباہی سے نہ بچا سکیں گے۔ جو لوگ ایٹم بم اس لئے بنا رہے ہیں کہ اُ ن کی حفاظت کے ضامن ہوں گے۔اُ ن سے زیادہ احمق آدمی آج تک دنیا نے نہیں دیکھا۔ ایٹم بموں کی موجودگی کا ہّوا بہت دیر تک جنگ کو نہیں روک سکے گا اور یہ صرف ڈھول کا پول ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں اَلبَتَّہ میری یہ اپیل آئن سٹائن اور رسل کی اپیل سے مختلف نہیں اُ ن کی اپیل بھی بے بنیاد ثابت ہوئی اور میر ی بھی یہ بات بے بنیاد ہے اب یا سائنس ہو گی یا انسانیت۔

اس زندگی کی قیمت اُ س سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ صرف یہاں اس زمین پر چند برس گزارنے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ وہ آخرت کی زندگی وابستہ ہے جو دائمی ہے اور جس میں عذاب دردناک ہے اور انعام جنت ہے۔ آدمی کو چاہیئے کہ اُ س دائمی زندگی کے لئے سرتوڑ کوشش کرے جس میں نہ موت ہے اور نہ ہی نکلنے کی کوئی راہ۔ وہی لوگ خُدا کی مخلوق کو ایٹم بموں سے اُ ڑا دینے کی سوچ سکتے ہیں جن کا یقین دوسری دنیا میں نہیں اور جو زندگی کواسی دنیا میں موقوف تصّور کرتے ہیں۔اگر ایسی بات ہے تو وہ ایک عظیم غلط فہمی کا شکار ہیں۔ وہ ضرور اپنے خالق کو قیامت کے میدان میں اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہ شخص جو ہر رات کو سوئے اور پھر صبح کو زندہ ہو کر اُ ٹھ بیٹھے لیکن قیامت میں جی  اُ ٹھنے پر ایمان نہ لا سکے۔ وہ جو ہڈیوں کے لئے زندہ ہو جانا ناممکن جانے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں تھا اور ہڈیوں کے نہ ہوتے ہوئے بھی پیدا کرنے والے نے اُ سے پیدا کر لیا تھا   نہیں بلکہ قیامت کے دن اس کی زمینی زندگی کا ہر لمحہ ہر عمل اور ہر بات اُ س کے سامنے دہرائی جائے گی۔ آہ بے چارے بدنصیب لوگ اُ س وقت وہ اپنے آپ کو دائمی آگ سے کیسے بچا سکیں گے۔ یہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ فرض کرو کہ قیامت آ گئی تو قیامت ہو جائے گی اور بالفرض نہ بھی آئے اور انسان اسی خاک میں خاک ہو کر ختم ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے۔ یہاں کی زندگی آخر کتنی ہے چند روزہ ہے اور اگر چند روز اپنی خواہشات کو دبا لے اور تکلیف اُ ٹھا لے تو بھی موت اُ سے ساری تکلیفات بھلا دے گی اور اگر چند روز یہاں اُ نہوں نے اپنی دانست میں موج سے گزار لئے تو بھی موت اُ ن کو بُھلا دے گی اور اس امر میں بھی وہی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ مومن کی وہ زندگی جو انہیں نہایت دُ کھی نظر آتی ہے۔ اُ ن کی اپنی موج کی زندگی سے بدرجہا پُر لطف اور پُرسکون ہے۔ منکر کے ذہن میں اطمینان کہاں۔اگر چہ ظاہر میں وہ دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تصّور کیا جا رہا ہو۔ اُ س کے اندر جھانکو اندر سے مردہ ہے اور مردے کی بدبو سے اُ س کا ذہن بھرا ہُوا ہے۔ مومن کے ذہن میں اُ مید اور جنت اور پاکیزگی کی خوشبو ہے۔یہ بات اگرچہ عجیب ہی کیوں نہ معلوم ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے ورنہ سارے لوگ کفر کی دولت کی جانب کیوں نہ بھاگیں۔  بُرے آدمی کا ذہن سانپوں اور بچھوؤں کی آماجگاہ ہوتا ہے ظاہری شان پر نہ جا ؤ۔

ایٹمی توانائی ہر حال میں تباہ کن ہے:۔

اور اب آگے بڑھنے سے پہلے ایک بہت بڑی حقیقت بے شک ہمالیہ پہاڑ سے بھی کہیں بڑی حقیقت بغیر کسی لگی لپٹی کے بغیر کسی غرض کے اور بے شک ببانگ دہل ۔اگر ہم انسانیت کے سامنے رکھنے سے گریز کریں گے تو یقیناً ہم انتہائی سے انتہائی سنگین الزام کے مستوجب قرار پائیں گے اور کوئی بھی ہماری رہائی کا راستہ باقی نہیں رہے گا اور وہ حقیقت یہ ہے اور سن لو۔ اچھی طرح سے سن لو۔ کان کھول کر سُن لو۔ آخری بار سن لو کہ ایٹمی توانائی بہر حال بہر نوع بہر جا  ،تباہ کن ہے خواہ کسی بھی لیبل کے ساتھ اور کسی بھی مقصد کے لئے استعمال ہو۔ ایٹمی توانائی برائے جنگ تباہ کن ہے ۔ہر شخص جانتا ہے ،ہر شخص کہتا ہے مگر ایٹمی ہتھیار بدستور بن رہے ہیں۔ ایٹمی توانائی برائے امن کے حامی بعض لوگ موجود ہیں مگر یہ اُ ن کی غلط فہمی، نادانی، سہل کوشی اور ابلہہ فریبی کاادنٰی سا ثبوت ہے۔ اعلیٰ ثبوت انہیں ایٹمی توانائی خود پیش کرے گی۔ ایٹمی توانائی سے حاصل کئے ہوئے فوائد اس نقصان کے مقابلے میں جو ایٹمی توانائی لازماً کرتی ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ اے سانپ کی کینچلی اتارنے کی کوشش میں اپنے آپ کو سانپ سے ڈسوا کر ملکِ عدم کو سدھارنے  والے غلط فہم لوگو!  یاد رکھو اور سن لو  کہ ہر وہ حقیر نیوکلّین جو ایٹم کے دل میں ایٹمی توانائی پیداکرنے کی خاطر ڈوبتا ہے وہ انسان   کے امن و وجود کے دل سے گذرنے والا ایک قاتل تیر ہے۔ خواہ وہ توانائی جنگ کے   مقصد کی خاطر پیدا کی جارہی ہو خواہ پاور ہاؤسوں اور بحری جہازوں کے لئے۔ ایٹمی  توانائی برائے امن بھی اسی طرح سے خطرناک ہے جس طرح سے کہ ایٹمی توانائی  برائے جنگ ہے کیوں کہ سب سے زیادہ نقصان دہ عامل یعنی تابکاری تووہ دونوں میں  موجود ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایٹمی جنگ وہ کام منٹوں میں کر دیتی ہے جو ایٹمی توانائی برائے امن چند سالوں میں جا کر مکمل کرتی ہے۔ میں جانتا ہوں بعض سائنس  دان بعض سیاستدان اس بات کو ناپسند کریں گے۔ اس لئے نہیں کہ یہ غلط ہے بلکہ اس   لئے کہ وہ مجبوری کا سہار ا لینا چاہتے ہیں لیکن کسے انکار ہو سکتا ہے کہ ایٹمی توانائی ایک  کینسر زدہ کوڑھی فاتر العقل مختل الحواس کُند ذہن اور مظلوم قسم کے انسانوں کے ایک  معاشرے کی منادی ہے۔ یہ ایک ڈھنڈھورا ہے جو دنیا کے ہر شہر میں پھر رہا ہے    آسمانوں میں پھر رہا ہے۔ ہر ایٹمی پلانٹ اور اس میں ہونے والی ہر ایٹمی فژن  انسانیت کے لئے دردناک اذیت کا ایک غیر امتناہی سلسلہ ہے۔ دنیا میں کوئی بھی دو  چیزیں ایک دوسرے سے اتنی مختلف نہیں جتنا کہ ایٹمی توانائی اور امن و امان اگر کوئی دو  چیزیں اکٹھی نہیں رہ سکتیں تو وہ ایٹمی توانائی اور سلامتی ہیں۔ ہماری یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ لوگ ضروریاتِ زندگی میں کمی کریں۔ بجائے اس کے کہ ایٹمی توانائی جیسے زہریلے اژدھا کو گلے لگائیں۔ آپ میر ی بات کی پرواہ اگر چاہیں تو نہ کریں لیکن تمھاری آئندہ نسل تمھیں بد دُ عائیں دے رہی ہو گی اور یہ بھی ناممکن نہیں کہ تم خود ایک دن اپنی قسمت کوکوس رہے ہو اور اُ س دن او ر اُ س لمحے کوکوس رہے ہو جب ایٹمی توانائی کاانکشاف ہوا تھا۔اگر آپ ایٹمی توانائی کی جنریشن(Generation)  یعنی پیدائش کو بڑھنے کی اجازت دیں گے توآپکواپنی جنریشن     ) Generation ( یعنی نسل سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اگر انسان ایٹمی توانائی کے خطرات کو سمجھتے ہوئے بھی ایٹمی توانائی کو چند افراد کی خواہش کے مطابق اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں اورہو رہے ہیں تو ایسے انسان سے یہ توقع رکھنی کہ ذہن کو قابو میں رکھ کر ایٹمی جنگ کومدت العمر کے لئے روکے رکھے گا غلط ہے۔ بچا ؤکی تدابیر    (Safeguards) پر بھروسہ کرکے جو ہر گز قابلِ بھروسہ نہیں ہیں۔ ایٹمی توانائی کو اپنا  لینا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی تریاق کی اُ مید پر زہر کھالے ۔دنیا جلد دیکھ لے گی کہ ایٹمی ری ایکٹروں میں ہر قسم کے بچاؤ کی تدابیر کے باوجود کینسر، لیوکیمیا (خون کا انتہائی فساد) ہیموریج (جریانِ خون) جیسی بدنی امراض کے علاوہ سماجی امراض مثلاً گھریلو بد  اعتمادی، گھریلو فساد، گھریلو مصائب و آلام، گھریلو بدمزگی اور بیزاری ،میاں بیوی کی باہمی  ناچاکی، ماں باپ اور اولاد کی ناچاکی، ہمسایوں اور رشتہ داروں کی ناچاکی، ذہنی آوارگی، قلبی مایوسی، فخاشی اتنی اور ایسی اور اس طرح کہ جانور بھی اُ سے دیکھ کر شرما جائیں اور گوناگوں اور بوقلموں اخلاقی، روحانی اورذہنی امراض جن کی نہ کوئی حد ہے نہ شمار پیدا ہو جائیں گے۔ ان کا پیدا ہونا اسی طرح لازمی ہے جس طرح ایٹمی توانائی سے تابکاری کا اخراج۔ قصہ مختصر یہ کہ یہ دنیا ایٹمی توانائی کی موجودگی میں ایک ایسا دوزخ ہو گی جس کی آگ اللہ کی بھڑکائی ہوئی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ ماحول بیان کیا جائے جو ایٹمی توانائی کے اثرات سے پیدا ہو گا تو برسوں چاہیئں۔ کاغذ کالے ہوتے رہیں قلم چلتی رہے۔ ذہن بڑی بڑی قلابازیاں کھائے مگر وہ ماحول نہ لکھا جا سکے۔ برسوں میں بیان ختم نہ ہو سکے اور بیان بھی کیسا۔ٹھسّا سطحی بے جان بے اثر اور فضول۔ حقیقت یہ ہے کہ دوزخ کا بیان ہم بہت جلدی اور نہایت ہی آسانی سے کر لیتے ہیں لیکن اُ س معاشرے کا بیان کون کرے جو ایٹمی توانائی کی موجودگی میں پروان چڑھے گا۔ ایک ادنیٰ سی مثال ہے۔پچھلے سال ونڈکیسل(Windcastle)  وہائٹ ہیونWhite Heaven) ( انگلینڈ میں ایک تماشا ہُوا جس نے ساری دنیا کی توجہ پھیر دی۔  ہُوا یو ں کہ یہ ونڈ کیسل جو دراصل وہائٹ ہیون انگلینڈ میں لگے ہوئے ایک ایٹمی پلانٹ کا نام ہے اس میں افواہ اُ ڑ گئی کہ پلانٹ سے تابکاری لیک ہوئی ہے۔ بس پھر کیا تھا وہاں کام کرنے والے تمام ملازمین کی بیویوں نے علیحدگی کے نوٹس دے دیئے۔اس  ڈر سے کہ کہیں تابکاری کے اُ س اثر سے جو  اُ ن کے خاوندوں کے اندر سرائیت کر چُکا ہے۔ وہ بیویاں فالج زدہ نہ ہو جائیں اور اُ ن کے بچے عفریت نہ پیدا ہوں۔ اب یہ چھوٹی سی خبر ہے۔ مذاق مذاق میں ٹل سکتی ہے مگر تصّور کرو جب دنیا کے ہر ملک میں سینکڑوں ایٹمی ری ایکٹر کام کر رہے ہوں گے۔ پرانے ری ایکٹروں سے لازماً لیکیج ہوتا ہے اور پھر ایک مرحلے پر جا کر ری ایکٹر دھماکے کے ساتھ پھٹتا ہے۔ پچھلے دنوں اسی طرح ایک ری ایکٹر پھٹا جس کی خبر اخباروں میں ہر شخص نے پڑھی۔ ایسے حادثے کے نتیجے میں سارے کا سارا علاقہ تابکاری کا شکار ہو جاتا ہے اور تابکاری کوئی معمولی بات نہیں تل اوجھل پہاڑ اوجھل والی بات ہے۔ جب معاملہ سر پر آئے گا  تو خبر لگے گی۔ اخبار میں لکھا تھا کہ اس تابکاری دھماکے سے متاثرہ لوگوں کے تمام جسم کی تمام ہڈیوں کے گودے کو اوپریشن سے نکال کر دوسرا گودا اُ ن میں بھرا گیا حتٰی کہ ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں کی ہڈیوں میں بھی اور اب سوچیں کہ ان لوگوں کی کیا زندگی ہو گی؟ اور پھر ابھی کہاں ابھی تو ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا  آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ابھی کیا ہے چند نئے نویلے ری ایکٹر کہیں کہیں لگے ہیں ان کو ذرا پرانا ہونے دو اور ان کی تعداد کو بڑھ لینے دو۔ امریکہ کے رسالے‘ اٹلانٹک نامی نے ایک ایڈی ٹوریل(Editorial) لکھا کہ پہلے زمانے میں بادشاہ بادشاہوں کو تحفے دیتے  تو گھوڑے ،سونا چاندی اور کپڑے دیتے مگر اب جب ہمارا پریذیڈنٹ مصر کے دورے پر جائے گا  تو مصر کے پریذیڈنٹ کو تحفہ کے طور پر ایک ری ایکٹر پیش کرے گا۔ بعض لوگ یہ نہیں جانتے کہ حقیقت میں ایٹم بم اور ایٹمی توانائی کے خلاف کس قدر نفرت انسانوں کے دلوں میں موجود ہے لیکن ابھی تک بہت کم لوگوں کو اس بلائے بے درماں کی حقیقت کے متعلق معلوم ہوا ہے۔ جوں جوں اس کی حقیقت کھلتی جائے گی۔ لوگوں کے دلوں میں نفرت کے لاوے ابلنے لگیں گے اور اگر انسانیت کو اس عظیم خطرے سے بچ کر نکلنا ہے تو یقیناً ایک تحریک اس آفت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر چلانی ہو گی۔ یہ انتباہ میں 1974 ء میں کر رہا ہوں۔ آئندہ چند سال ا س امر کا ثبوت مہیّا کریں گے دنیا کے ہر ملک کی سمجھدار پبلک ایٹمی توانائی کے خلاف ہر جگہ اور ہر سطح پر مظاہرے کریگی اور ہر دل میں ایٹمی بموں کے خلاف نفرت کا ایک لاوا اُبلے گا۔

حُطَمَہ کی آگ کے متعلق آئمہ مفسرین کے تشریحی نکات:

ایٹمی توانائی ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کے انکشافات بلاشبہ حیرت ناک ہیں مگر کچھ کم حیرت ناک آئمہ مفسرینِ کرام کی حُطَمَہ کی تفسیر نہیں۔ سائنسی ثبوت کے بعد اب ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس بات کا دینی ثبوت بھی  قرآنِ حکیم کے قدیم ترین اور ثقہ ترین مفسرینِ کرام کی تفسیروں سے مہیّا کریں گے۔ یہ تفسیریں ہیں جن کے ماخذ حضرت رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی کے علاوہ آپ ﷺکے صحابہ کرام  ہیں۔ یہاں ہم نے مُتعلقہ تفاسیر سے صرف وہی حصہ لیا ہے جو بیانیہ قسم کا ہے اور جس میں حُطَمہ کے کسی حصے یا اس کی کسی خاصیت کا بیان ہے ہم نے مندرجہ ذیل تفاسیر سے حوالے دیئے ہیں۔

(i) تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس مصنفہ طاہر محمد ابن یعقوب الفیر وز آبادی  ۔الشافعی۔ صاحب القاموس۔(ii) تفسیر الجلالین((iiiتفسیر الکبیر مصنفہ امام فخرالدین رازیؒ۔(iv) تفسیر طبریؒ۔ ((vتفسیر قرآن العظیم مصنفہ امام حافظ عمادالدین ابولفداء اسمعیل ابن کثیر۔  القریشی ۔ الدمشقی۔

یہی وہ قرآنی تفسیر کے عظیم ستون ہیں جن پر اس علم کی عمارت کھڑی ہے۔  نیز یاد رکھنا چا ہیئے کہ ان تمام مفسرینِ کرام کے ذہن میں حُطَمَہ کا تصّور اگلی دنیا سے متعلق تھا  نہ کہ اس دنیا سے اس لئے جہاں دل کی کوفت اور حُطمہ کی آگ کا بیان ہوا وہاں موت کے امکان کی نفی لازم تھی لیکن حُطَمَہ کی یہ تفسیریں کسی بھی ذی فہم کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ جیسا کہ آپ دیکھ لیں گے۔

( i )۔ تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباسؓ:

” وَ یلُ۔ شدتِ عذاب۔ اس کے معنی گڑھے ،تہہ خانے، دوزخ کے اندر ایک کمرے کے بھی ہیں اس کے معنے ایک پیپ اور پس کی وادی کے بھی ہیں“. یہ ہے مفسرکا بیان یہاں تک۔

اور اب قارعینِ کرام اندازہ فرمائیں کہ ایٹمی جہنم کا لایا ہوا عذاب کتنا سخت ہوتا ہے اگرچہ عام دوزخ سے مختلف ہوتا ہے۔ ایٹم بم کا متاثرہ رقبہ۔ ٹھیک ایک گڑھا۔   دوزخ کا ایک کمرہ ہوتا ہے اس نکتے کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کی خاطر برائے مہربانی ایٹمی بم کا وہ دھماکہ یاد کریں۔ ایٹمی محل ایک اَسی میل چوڑے اور دس میل اونچے خالی سلنڈر کی صورت میں  ایک خیمے کی طرح ایک مرکزی ستون پر کھڑا ہے   اور اس کے اندر اللہ کی پناہ، آگ ،بدبو ،دھواں، تابکاری اور ہر مصیبت۔یہ ایک کمرہ ہے   دوزخ کا۔ اس کے علاوہ یہ بات دماغ میں بٹھا لیں کہ ایٹمی دھماکے کی ہیٹ فلیش  (ابتدائی اخراجِ حرارت) سے لوگوں کی کھالیں جھلس جاتی ہیں اور دھماکے کے بعد دھماکے کی گرمی کے سبب جو آگیں شہروں میں لگتی ہیں اُ ن سے بے شمار آدمی جلتے ہیں نیز یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ایٹمی تابکاری کی بیماریوں کی علامات ہیں۔ لیوکیمیا (خون کا مرض) ہیموریج(جریانِ خون) متلی، قے ،بخار وغیرہ۔ اب یہ ساری باتیں ذہن میں یکجا کر لیں اور پھر حضرت مفسّر کی تفسیر کو سامنے لائیں۔ فرمایا ”پیپ اور پَس کی وادی“ ہا ں اور اب سمندِ تخیل کو جولانی دیں اور دیکھیں کہ عالمی ایٹمی جنگ کے نتیجے میں اربوں آدمی اپنے جلے ہوئے جسموں سے بہنے والی پیپ اور اربوں آدمیوں کے منہ سے نکلنے والی قے اور اربوں آدمیوں کے جریانِ خون کا بہاؤ جو  ہر ایک ٹنوں کے حساب سے ہو گی بلکہ ان سے پہاڑیاں اور پہاڑ کھڑے کئے جا سکتے ہیں۔ یہ ہے پیپ اور پَس کی وادی اور وہ تھا دوزخ میں کمرہ۔ اگر بات آپ کی سمجھ میں آ گئی ہے تو حیرت سے کہہ دیجئے ۔ سبحان اللہ۔

(ب)  ناراللہ الموقد ۃ التی۔ ترجمہ۔”آگ ہے اللہ کی بھڑکائی ہوئی۔”یہ ایک آگ ہے جو تمام بدن کو کھا جاتی ہے حتٰی کہ یہ دل پر جا پہنچتی ہے“۔ یہاں تک ہے ۔ تنویر المقیاس من تفسیر ابنِ عباس ؓکی تفسیر۔

اب آپ ایٹمی تابکار شعاؤں کو ذہن میں لائیں جوفژن ،فیوژن اور ایکسپلوژن میں پیدا ہوتی ہیں اور یاد کریں کہ کس طرح یہ بدن کے گوشت کو رفتہ رفتہ خون کی سپلائی روک کرکے گلا دیتی ہیں اور پھر بالآخر کس طرح اپنے شکار کے دل پر جا چڑھتی ہیں حتٰی کہ اسے مار دیتی ہیں لیکن وہ حُطَمِہ جو اگلی دنیا میں ہو گا اُ س میں مرنا نہیں ہے بلکہ متواتر زندہ رہنا ہو گا اور حُطَمَہ میں ڈالے گئے لوگ نہ مریں گے اور نہ زندگی کی خواہش کریں گے بلکہ حُطَمہ کے عذاب سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دو چار رہیں گے۔

(ج)   ۔  مُوصدہ فی عمد ممددہ۔ ترجمہ۔(بند کی ہوئی لمبے لمبے ستونوں میں)۔ تفسیر ” (موصدہ) بند کی ہوئی ہے ان پر لمبے لمبے ستونوں میں“۔تنویر المقیاس من تفسیر ابنِ عباس ؓکی تفسیر۔

تفسیر ”فی عمد ممددہ آگ کے ستون کافی گہرائی والے“۔تنویر المقیاس من تفسیر ابنِ عباس ؓکی تفسیر۔ٍ

(د)  الھُمزہ  ”جو پیٹھ پیچھے برائی کرے“۔  (تفسیر)۔ تنویر المقیاس من تفسیر ابنِ عباس ؓکی تفسیر۔

لمزہ  ”جو منہ پر بُرائی کرے“۔(تفسیر)۔ تنویر المقیاس من تفسیر ابنِ عباس ؓکی تفسیر۔

(۲)تفسیر الجلالین:

نار اللہ الموقدہ ۔ترجمہ۔”اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ“۔

تفسیر”ایک آگ جو کبھی بجھتی نہیں“۔ یہ ہے تفسیر۔

اب آپ ذہن میں اس بات کو لائیں کہ ایٹمی بم جب ایک بار چل جائے تو جب تک اپنا عمل پورا کر نہیں لیتا وہ نہیں بجھتا بلکہ اپنا پورا عمل ختم کرکے ہی دم لیتا ہے اور ایٹمی دھماکے کا عمل کیا ہے؟ پہلے ہیٹ فلیش Heat Flash) (یہ دو سیکنڈ سے لے کر سب سے بڑے بم کے لئے بیس سیکنڈ تک ہو سکتا ہے۔پھر دھماکہ اور پھر تابکار شعاؤں کا اخراج یہ سار ا عمل مختلف بموں میں مختلف وقت لیتا ہے۔ یہ کم از کم دس سیکنڈ ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اس سے دس گنا یعنی سو سیکنڈ ہوسکتا ہے تاہم ہمارا مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں عمل پورے کئے بغیر ایٹم بم بجھ نہیں سکتا اَلبَتَّہ ایٹمی بم کے دھماکے سے پیدا ہونے والی ہیٹ فلیش کی بے پناہ گرمی سارے ماحول کو اس قدر گرم کر دیتی ہے کہ ہر طرف آگ ہی آگ لگ جاتی ہے۔ بجلی کے آلات اور لائنیں وغیرہ جب ٹوٹتے ہیں تو بھی آگ لگ جاتی ہے۔  بہرحال اگرچہ یہ آگیں غیر معمولی طور پر بڑی ہوتی ہیں اور شہروں کے شہر تہس نہس کر کے رکھ دیتی ہیں مگر پھر بھی ان کی نوعیت معمولی آگ جیسی ہوتی ہے اور ایٹمی آگ کے خصائص اس میں موجود نہیں ہوتے   نہ ہی یہ ایٹمی بم کا بنیادی حصہ ہی ہوتی ہیں اَلبَتَّہ اگلے جہان کا ایٹمی جہنم (حُطَمہ) مسلسل جلے گا کبھی نہ بجھے گا۔

(ب)   ِ انہا  علیھم موصدہ  في عمد ممددہ۔  ترجمہ۔”وہ بند کی ہوئی ہے اُن پر لمبے لمبے ستونوں میں“۔تفسیر الجلالین۔

تفسیر ”آگ سلنڈر کی شکل کے ستونوں میں بھڑکائی جائے گی گناہگاروں کو اُ ن کے بیچ میں ڈالدیاجائے گا اور پھر سلنڈر ڈھانپ دیئے جائیں گے“۔تفسیر الجلالین۔

اب یہ ہے حقیقی تصویر ایٹمی دھماکے کی لوگ واقعی اَ سی میل چوڑائی اور دس میل اُونچائی والے سلنڈر میں ڈال دئے جاتے ہیں اور پھر اوپر سے یہ سلنڈر کُھمب سے ڈھانپ دیئے جاتے ہیں۔واقعی اس قسم کی تفسیریں حیرتناک ہیں مگر آگے اور اور کمال ملاحظہ کیجئے۔

(۳) تفسیر الکبیر امام فخر الدین رازیؒ:

(۱) الحطمہ

تفسیر ۔”ایک ایسی آگ ہے جس میں جو کچھ ڈال دیا جاتا ہے اُ سے سفوف کی صورت میں پیس ڈالتی ہے۔ ایک آگ جو ہڈیوں کو کچل دیتی ہے۔ گوشت کھا جاتی ہے حتٰی کہ آخر کار دل پر حملہ آور ہوتی ہے“۔تفسیر الکبیر امام فخر الدین رازیؒ۔

 اب یہ کوئی ڈھکی چھُپی بات نہیں کہ ایٹمی دھماکہ اپنی آگ کی تیزی کے سبب سے اور دھماکے کی شدت کے سبب سے ہر چیز کو ذرہ ذرہ کر دیتا ہے۔ آدمیوں کی ہڈیوں کو کچل دینا ایٹمی دھماکے کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن وہ آگ جو ہڈیوں کو کچلتی ہے وہ ایٹمی تابکاری کی آگ ہے۔ ان تابکاری کی شعاؤں کو سائنسدانوں نے بون سیکرزBone Seekers) (کا نام دیا ہے۔ بون سیکرز (Bone Seekers) کے معنی ہیں ہڈی کی متلا شی۔ ہڈی پر حملہ آور ہونے والی یہ تابکار شعائیں ہڈی پر حملہ کرتی ہیں اور ہڈی کے گودے کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں اور اس گودے کو خون بنانے کے قابل نہیں چھوڑتی اور یہی خون بنانا ہی ہڈی کے گودے کا کام ہے۔ تب یہ شعاعیں خون پر حملہ آور ہوتی ہیں اور اس کے سرخ و سفید ذرات تباہ کرکے اسے بجائے فرحت و نمو کا سامان بننے کے ایک گونہ کوفت اور عذاب کا سرچشمہ بنا دیتی ہیں۔ رفتہ رفتہ اس خون کی کمی اور کمزوری کے سبب جسم کاسارا گوشت گلتا جاتا ہے اور مریض صرف ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ رہ جاتا ہےاور جب گوشت کا قصہ پاک ہو جاتا ہے اور خون فاسد ہو جاتا ہے اور کم رہ جاتا ہے تو پھر ایٹمی تابکاری اپنی پوری کوفت اور اپنے پورے  عذاب کے ساتھ دل کو گھیر لیتی ہے اور اس جہاں میں تو اُ س کو کام سے ناکارہ کرکے اگلے جہان کی منزل پر روانہ کر دیتی ہیں اور وہاں جو ایٹمی جہنم بھڑکے گا تو پھر دل مسلسل کوفت اور عذاب میں مبتلا رہنے کے باوجود مر نہ سکے گا کیونکہ وہی اُ س کی آخری منزل ہے  اور اُ س سے آگے جانے کی کوئی راہ نہیں۔

(ب) ۔  ھُمزہ اور حُطَمہ

پیٹھ پیچھے عیب جوئی اور حُطَمَہ کی کاکردگی میں مماثلت:

”غیبت کرنے والا عیب جوُ استعاراً اُ س آدمی کا گوشت کھاتا ہے جس کی عیب جوئی کرتا ہے۔ حُطَمَہ کی آگ بھی اپنے شکار کی کھال اور گوشت کھا جاتی ہے“۔تفسیر الکبیر امام فخر الدین رازیؒ۔ سبحان اللہ۔

یہ بات ہے یہاں حضرت امام فخر الدین رازی ؒاپنی باریک بینی کی خصوصیت کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی باریک بینی حضرت امام فخر الدین رازیؒ  کی تفسیر کا خاصہ ہے۔ غیبت کرنے والے نکتہ چین اور حُطَمَہ کی خصوصی آگ میں مماثلت تلاش کرنے کا انداز خالصتًا رازی ہے اور گناہ کے ساتھ سزا کی موزونیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس مثال کی روشنی میں ہمیں اس موجودہ دور کے لوگوں کے خواص اور ان کے مخصوص عادات و اطوار اور ایٹمی توانائی کے خواص کے مابین بنیادی مشابہت کے مطالعے کا رہنما اصول وضع ہوتا نظر آتا ہے جو ہمارے اس زیرِ مطالعہ مضمون کی تحقیق و جستجو میں ایک نہایت ہی اساسی اور نہایت ہی کارآمد اصول ہے۔ اس دور کے بندوں کی ذہنی ،علمی اور اخلاقی خصوصیات ہم نے اس کتاب میں بارہا بیان کی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ حضرتِ قاری کو اب تک ازبر ہو چکی ہوں۔ حضرت امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے بیان فرمایا ہے کہ حُطَمَہ کی آگ کھال اور گوشت کو کھاتی ہے۔ یہ دونوں ہی امر ایٹمی دھماکے کی ہیٹ فلیش(Heat Flash) اور تابکاری کے کردار کی واضح ترین نشان دہی کر رہے ہیں۔ ہیٹ فلیش  لوگوں کی کھالیں جلا ڈالتی ہے اور کھا جاتی ہے اور ڈاکٹروں کو ایسےلوگوں کی کھال کا علاج کرنے کے لئے بڑے بڑے ٹکڑے انسانی کھال کے اُ ن جگہوں پر جوڑنے کے لئے حاصل کرنے پڑتے ہیں جو ہیٹ فلیش سے جھلس جانے کے سبب کھائے جا چکے ہیں۔ یہ ہیٹ فلیش انسان کی کھال پر جھپکا لگاتی ہے مگر کھال سے نیچے اپنے اثر کو نہیں اتار سکتی کیونکہ اس کا ٹھہراؤ عام قسم کے ایٹمی بم   نامی نل لو ییلڈ کے معاملے میں صرف دو سیکنڈ ہوتا ہے اور بڑے ایٹم بم(نامی نل ہائی ییلڈ) کے معاملے میں اس سے دس گنا یعنی بیس سیکنڈ ہو جاتا ہے اور صورت محض ایکسپوژر (Exposure) کی بن جاتی ہے لہٰذا یہ آگ بھی جِلد سے نیچے اُترنے میں ناکام رہتی ہے۔

(ج)  تفسیر تطلع علی الافئدہ:

حضرت امام فخر الدین رازیؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔” آگ دونوں جانب سے داخل ہوتی ہے پھر سینے میں پہنچتی ہے اور آخر کار دل پر چڑھ جاتی ہے“۔معلوم ہے کہ ہیٹ فلیش کاجھپکا آدمی کے جسم پر باہر سے لگتا ہے۔ تب یہ پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے اور بالآخر دل پر جا پہنچتی ہے۔ایٹمی تابکاری کی شعائیں بھی اسی طرح باہر کی جانب سے دورانِ خون میں داخل ہوتی ہیں اور پھر خون کے راستے سینے اور دل پر چڑھتی ہیں۔

(د)   تفسیر تطلع علی الا فئدہ۔ تفسیر الکبیر امام فخر الدین رازیؒ۔

 ”دل بدنِ انسانی میں سب اعضاء کے مقابلے میں زیادہ حساس ہونے کے سبب دکھ درد کا سب سے زیادہ احساس رکھتا ہے اور سب اعضاء سے بڑھ کر درد کے احساس سے متاثر ہو تا ہے۔ سارے بدن میں ایک بھی ایسا عضو نہیں جو دکھ اور درد کے احساس کو اس شدت کے ساتھ محسوس کرے تب اس کی کیفیت کا اندازہ کروجب دوزخ کی آگ کو اس کے اندر جھونک دیا جائے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اگرچہ حُطَمَہ کی آگ نے مکمل طور پر اس کو دبوچ لیا ہے تاہم اس کو جلایا نہیں کیونکہ اگر آگ نے اسے جلا ڈالا ہوتا تو یہ مر جاتا اور اس طرح درد کے احساس کو کھودیتا یہ گویا کہ ایک ایسی حالت میں رہتا ہے کہ نہ وہ حالت موت کی ہے نہ زندگی کی۔ ”آگ جو چڑھتی ہے دلوں پر“ کی اصطلاح کے یہ معنی ہیں کہ یہ دل میں گوشت کی راہ سے اُ ترتی ہے۔ اس عذاب کے لئے دل کا چنا اس کی تیز حس کی وجہ سے ہوا ہے اور اس لئے بھی کہ یہی عضو یعنی دل ہی ایسا مقام ہے  جو کفر اور دوسرے ملحدانہ خیالات کی آماجگاہ ہے“  تفسیر ختم۔

اب کیا اس تفسیری نکتے کے مقابلے میں کوئی دوسری چیز زیادہ حیرت انگیز ہو سکتی ہے یا دلوں پر چڑھنے والی اس حُطَمَہ کی آگ کی بہتر تفسیر ذہن میں آ سکتی ہے۔ دل اس بات کے باوجود کہ مکمل طور پر اس آگ کے قبضے میں ہے جلاتی نہیں۔ یہ بات ہے جو اس عظیم  مُفسّرحضرت امام فخر الدین رازیؒ نے مندرجہ بالا سطور میں کہی ہے۔ ہیٹ فلیشHeat flash) (کا یہ عمل بالکل واضح ہو چکا ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ اگرچہ حُطَمَہ کی یہ آگ انسان کی کھال کو جلاکے رکھ دیتی ہے اور تقریباً نصف تعداد کے دلوں کو موقع پر ہلاک کرکے رکھ دیتی ہے تاہم اس نے دل کو ہرگز نہیں جلایا بلکہ بدن کے گوشت اور ہڈیوں کو بھی نہیں جلایا اور یہ جوفرمایا ہے کہ باوجود اس امر کے کہ آگ نے دل کو مکمل طور پر دبوچ رکھا ہے دل مَرا نہیں بلکہ یہ ایک ایسی کیفیت میں ہے کہ نہ وہ موت ہے اور نہ زندگی   تو یہ بات حضرتِ امام فخر الدین رازیؒ نے اگلی دنیا کو مدِّنظر رکھ کر کی ہے کیونکہ وہاں موت کا وجود باقی نہ رہے گا لیکن جہاں تک اس دنیا میں ظاہر ہونے والے حُطَمہ کا تعلق ہے تو چونکہ اس دنیا میں موت کا وجود موجود ہے لہٰذا انسان کو اس دنیا سے اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ کرنے کے لئے یہاں کی موت کا ظاہر ہونا ایک لازمی امر ہے باقی امور برابر ہیں   لیکن حضرتِ امام فخر الدین رازیؒ کے تجزیئے کا انداز ملاحظہ فرمایئے۔ اُ ن کی سائنسی اور منطقی رسائی کو دیکھئے لیکن اُ ن کی عظمت کا دوسرا راز یہ ہے کہ  قرآن و حدیث سے سرمو اختلاف موجود نہیں۔ سبحان اللہ۔ اسلام نے کیسی کیسی شخصیتیں پیدا کیں۔آج صدیوں بعد ہمیں یہ اعتراف کرناپڑتا ہے کہ امام فخرالدین رازیؒ  واقعی فخرِِِ دین ہیں۔

(۴)۔تفسیر طبری علیہ الرحمہ:

انہا علیھم موصدہ

ترجمہ:  ”بے شک یہ آگ ہے اُ ن پر بند کی ہوئی“۔

تفسیر:۔

”دوزخ کے ایک حصے میں ایک آدمی ہو گا جو ہزار برس سے پکاررہا تھا یا حنان یا منان   اللہ اپنے رحم سے جبرائیل فرشتے سے کہے گا جا اور اس میرے بندے کو آگ سے نکال دو۔ جبرائیل اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب جائے گا لیکن آگ کو اُ ن پر بند پا کر واپس لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا یا باری تعالیٰ آگ اُن پر بند ہے ۔اللہ فرمائے گا  ۔ جا ؤاس کو کھول دو اور میرے بندے کو اس میں سے باہر نکال لو وہ آدمی اس طرح سے باہر نکال لیا جائے گا اور جنت کے باہر ڈال دیا جائے گا حتٰی کہ اللہ اُ س کے بال   گوشت اور خون کو پھر سے اُ گا دے گا“۔  تفسیرِطبری ؒ ختم۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کی آگ نے اُ س آدمی کے بال گرا دیئے تھے، اُ س کا گوشت کھا لیا تھا اور اُ س کے خون کے سوتے خشک کر ڈالے  تھے یہی تین علامتیں ایٹمی تابکاری کی شعائیں پیدا کرتی ہیں یہ بالوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بحرالکاہل میں کئے جانے والے ایٹمی تجربوں کے دوران میں نزدیکی جزیروں میں رہنے والی ایک چھوٹی سی لڑکی جو ایٹمی تابکاری سے متاثر ہوئی اُ س  کے کالے بالوں میں جس جگہ ایٹمی شعاؤں کا چھینٹا پڑا وہاں دائرے کی شکل میں بالوں کا ایک سفید گچھا نمودار ہو گیا۔ اپنے شکار کا گوشت بھی ایٹمی تابکاری کھا جاتی ہے اور خون کے سوتوں کو خشک کر دیتی ہے۔ جیسا کہ بلاشبہ پایہء اثبات کو پہنچ چکا ہے۔

(ب)   انہا علیھم موصدۃ  فی عمد ممددہ:

ترجمہ  ” یہ بند کی ہوئی ہے آگ اُ ن پر لمبے لمبے ستونوں میں“۔

تفسیر”مجرموں کو پہلے سلنڈروں میں ڈال دیا جاتا ہے پھرسلینڈر اوپر کی جانب  بڑھائے جاتے ہیں“۔   تفسیر ِطبری ؒختم۔

 اب برائے مہربانی ایٹمی دھماکے کو دھیان میں لائیں اور پھر تصّور کریں کہ کس طرح آگ کا گولا اور اُ س کے نیچے فژن پروڈکٹس(Fission Products) کا ستون اور اُ س کے گرد اَ سی میل والا سلنڈر اوپر کو کھینچے جاتے ہیں حتٰی کہ وہ دس میل کی بلندی اختیار کر لیتے ہیں۔ دھماکے سے قبل تقدیر کا ہاتھ ان لوگوں کو اس رقبے میں جس میں سلنڈر نمودار ہوتا ہے۔ ڈال دیتا ہے پھر دھماکہ ہوتا ہے پھر سلنڈرکواوپر کی جانب کھینچ لیا جاتا ہے۔ شائید کہا جائے کہ سارے تو مجرم نہ ہوں گے ہاں کچھ مجرم ہوں گے ایٹم بم بنانے کے اور کچھ مجرم ہوں گے۔ ایٹم بم بنانے والوں کو اس عمل سے باز نہ رکھنے کے لیکن اگر بعض ایسے بھی ہوں جوعذر دار ہوں تو اللہ تعالیٰ اُ ن کو خوب جانتا ہے اگلے جہان میں اُ ن کی اس مصیبت کا مداوا کر دے گا۔ ظلم کرنے والے تو خود ظالم ہیں مگر باوجود استطاعت رکھنے کے ظالم کو ظلم سے روکنے کی کوشش نہ کرنے والے بھی ظلم میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔

(ج)  عمد ممددہ:

ترجمہ”لمبے لمبے ستون“۔

تفسیر:

 ”یہ آگ کے بڑے بڑے ستون ہوں گے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی کے متعلق روایت ہے کہ اُ نہوں نے کہا کہ ”ہم (صحابی) حُطَمَہ کی بحث کرتے اور یہ رائے ظاہر کرتے تھے کہ وہ ایسے ستون ہوں گے جن کے ذریعے مجرموں کو آگ سے سز ا دی جائے گی“۔  تفسیرِ طبری ختم۔

 تجربہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایٹمی دھماکے ستون کی شکل میں ہوتے ہیں اور وہ آگ کے ہوتے ہیں اور بہت بڑے حجم کے ہوتے ہیں اور یہ کہ ان لوگوں کو اُ ن کے ذریعے آگ کی سزا دی جاتی ہے۔

(۵)  تفسیر القرآن العظیم مصنفہ ابن کثیرؒ۔

”عمد ممددہ“۔

ترجمہ:۔ ”لمبے لمبے ستون“۔

تفسیر:۔

”بعض نے کہا کہ یہ ستون لوہے کے ہوں گے دوسروں کی رائے یہ تھی کہ یہ آگ کے ہوں گے“۔  تفسیرِ ابنِ کثیرؒ۔ ختم۔

اب اکثریت صحابہ کرام ؓ کی اس طرف گئی ہے کہ یہ ستون آگ کے ہوں گے تاہم دوسری رائے بھی عام بموں کے متعلق استعمال ہو سکتی ہے۔ بڑے بڑے بم کھڑے ہوں تو ستون معلوم ہوتے ہیں اور اُ ن کا خول لوہے کا بنا ہوتا ہے اور اُ ن کے اندر خاموش آگ بھری ہوتی ہے جو بارود کی شکل میں ہوتی ہے۔آگ لگانے والے بموں میں تو ایسا مادہ ہوتاہے جو صرف آگ پیدا کرنے اور آ گ لگانے کی خاطربناہوتا ہے۔

(۶) ۔آقائے نامدار رسول اللہ ﷺکے نام نامی سے منسوب دو روایات:

 ”اللہ اُ ن پر فرشتے مقرر کرے گا جن کے پاس آگ کے ڈھکنے، آگ کی میخیں اور آگ کے ستون ہوں گے پس یہ فرشتے ان کوآگ کے ستونوں سے ڈھانپ دیں گے اور آگ کی میخوں سے جڑ دیں گے اور آگ کے ستونوں کو اوپر کی جانب بڑھا دیں گے تمام منظر اس طرح بند کردیا جائے گا کہ نہ تو راحت کا جھونکا اندر جا سکے گا نہ ہی اندر کا عذاب باہر آ سکے گا“۔  ( الجلالین)

اب ایٹمی دھماکے کی ساری امتیازی خصوصیتوں کا اس سے بہتر بیان تصّور میں نہیں آ سکتا ایٹمی دھماکہ در حقیقت ایک آگ کا ڈھکنا ہوتا ہے۔ یہ ایک الٹی دیگ کی طرح ہوتا ہے۔ ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی تابکاری کی شعاؤں کو آگ کی میخوں سے بہتر نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ میخیں ان لوگوں کے بدنوں میں گھس جاتی ہیں۔ یہ میخیں کئی قسم کی ہوتی ہیں اور اُ ن کو الفا، بیٹا، گاما ریز اور نیوٹران کے ناموں سے پہچانا جاتا ہے اور کوئی آدمی اگر ہیٹ فلیش سے بچ بھی جائے تو ان سے بچ کے نکلنا اس کے لئے محال ہے۔ 

 (ب) ۔”فرشتہ آدمی کو پکڑ لیتا ہے اور اسے اپنے گھٹنے پر ڈال کر اسے لکڑی کی چھڑی کی طر ح توڑ دیتا ہے اور پھر اسے آگ میں پھینک دیتا ہے“۔ (رازی) پکڑ کر گُھٹنے پر ڈالنا اور لکڑی کی چھڑی کی طرح توڑ دینا۔ بلاسٹ Blast) (یعنی دھماکے کی بڑی اچھی تشبیہ ہے لیکن اس نکتے کوصحیح طور پر سمجھنے کے لئے ہمیں بلاسٹ (Blast) یعنی بارودی دھماکہ کے عمل کی باریکیوں کو سمجھنا ہو گا اور یہ نہایت ہی ادق مضمون ہے ۔دھماکے کا پہلا اثر کسی عمارت پر ایک بہت بڑے ہتھوڑے کی ضرب کا سا ہوتا ہے۔ جب دھماکے کے دھکے کا اگلا سرا عمارت کی پچھلی طرف تک پہنچ جاتا ہے۔ تو یہ مکمل طورپر لہر کے گھیرے میں ہوتا ہے اور دھماکے کے دباؤ کے اثر کا کام عمارت کو نچوڑ دینا یا کچل دینا ہے۔ اب اس مختصر مگر اس مقصد کے لئے کافی بیان کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کس طرح فرشتہ گھٹنوں پر ڈال کر لکڑی کی چھڑی کی طرح توڑ ڈالتا ہے۔ دھماکے کی لہر عمارت کو اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان لے کر اُسے نچوڑ ڈالتی ہے یا کچل کر توڑ ڈالتی ہے۔ ایک عام (نامی نل) کا وقفہ تقریباً ایک سیکنڈ ہوتا ہے اور یہ وقفہ اُ س وقفے سے سو گنا زیادہ ہوتا ہے جو عام بارودی بموں کے دھماکے میں ہوتا ہے۔ جب کہ ایک بیس میگاٹن کے دھماکے کا وقفہ دس سیکنڈ ہوتا ہے۔ اب اندازہ فرمائیں کہ یہ20 میگاٹن کی طاقت کادیو اتنے لمبے وقفے یعنی دس سیکنڈ میں کسی بھی عمارت کے ساتھ کیا نہ کر دے گا۔ ایک بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ عام قسم کاچھوٹا سا بم آدمی کی کمر نہ توڑ سکے گا۔ آدمی کا جسم ہوا میں اٹھنے والی دھماکے کی لہر کے دباؤ کی اچھی خاصی مدافعت کی اہلیت رکھتا ہے لیکن بڑے ایٹم بم تو محض مثلاً  200/250LB/in2 کے پیک پریشر(Peek Pressure) سے سخت خطرناک قسم کا جسمانی نقصان کر دیتے ہیں۔ پھپھڑوں اور دوسری جگہوں پر جہاں خلیاتی نسیج(Tissue) کی اندرونی سطح ہواسے یا گیسی جوف سے ملحق ہوتی ہے ہیموریج (جریانِ خون) شروع ہو جاتا ہے اور کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔ آدمی کے ناک اور گلے سے خون کا  پرنالہ پڑتا ہے اور اندرونِ بدن بھی جریانِ خون ہو جاتا ہے کیونکہ اندر سے تمام جسم کچلا جا چکا ہے اور ٹوٹ چکا ہے تاہم فرشتوں کو قوانینِ قدرت یا قوائے قدرت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیئے۔ فرشتے سوچنے سمجھنے والی ایک الگ مخلوق ہیں۔ حالانکہ قوانینِ قدرت یا قدرت کی طاقتیں اپنی جگہ پر بالکل سوچ یا غوروفکر کی عادت سے عاری ہیں اور خالق کے کنٹرول اور کمانڈ میں کام کر رہے ہیں۔ نہ ہی یہ فعلِ مختار ہیں نہ ہی عقل یا سوچ کے مادے کے مالک۔

سُورۃ الھمزہ کی مکمل تفسیر آئمہ مفسرین کے حوالے سے:

ان مفسرینِ کرام کی بے مثال روشن ضمیری اور عدیم النظیر فراست اور محیرالعقول احتیاط تعریف سے بالا ہے۔ ہم نے ان تفسیروں میں سے صرف وہی اختیار کی ہیں جو اساسی اور بنیادی حیثیت کی حامل ہیں اور جو صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کے حوالوں اور اسناد سے بات کرتی ہیں یعنی تفسیر ابن عباسؓ، تفسیر الجلالین، تفسیر الکبیر امام فخر الدین رازیؒ ،تفسیر طبری اور تفسیر القرآن العظیم ابن کثیر ؒ۔ باقی کی جتنی بھی تفسیریں ہیں اُ ن سب کو انہیں پر قیاس کر لیا جائے۔ ایک بات جو بالخصوص اس امر میں ذہن نشین کر لینی چا ہیئے  وہ  یہ ہے کہ ان حضراتِ مفسرین نے حُطَمَہ کی تفسیر آخرت ہی کے نظریئے سے کی ہے۔

یہ تفسیر پڑھ لینے کے بعد آپ کو اس بات کا صحیح اندازہ ہو جائے گا کہ قرآنی متن اور اُس کے کسی دوسری زبان میں ترجمے کی حیثیت کیا ہے اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآنی حقیقت کی کس حد تک سمجھ آ  سکتی ہے۔ حق یہ ہے کہ وہ تمام اسرار و رموز جو قرآنی عبار ت میں موجود رہتے ہیں اور جن کا جاننا ضروری ہے صرف اور صرف  قرآنِ حکیم کے عربی متن پڑھنے ہی سے آشکار ہو سکتے ہیں۔

سورۃ الھمزہ کی تفسیر:

ویل ” خرابی ہے“ کے متعلق مندرجہ ذیل تفسیریں ہیں۔

تفسیر ابن عباس:

”(ویل)۔ عذاب کی شدت اور کہا جاتا ہے کہ ویل جہنم میں خون اور پیپ کی ایک وادی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ویل آگ میں ایک گڑھا ہے“۔

تفسیر الجلالین:

”(ویل)(کلمہ عذاب) عذاب کا کلمہ یعنی ایسا کلمہ جس سے عذاب طلب کیا جاتا ہے اوراس کے ساتھ کسی کو پکارا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ جملہ انشائیہ ہو گا اس کے نکرہ ہونے کے باوجود اس کو مبتداء بتایا گیا ہے تاکہ ان کی ہلاکت کی بددعا کا ارادہ ظاہر ہواگر آپ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اس کے ساتھ بد دعا کر سکتا ہے حالانکہ وہ بذاتِ خود ان افعال کا پیدا کرنے والا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کے آثار کا اظہار کرنے کے لئے ”ویل“کو ان کے ساتھ مخصوص کیا ہے جیسے کہ ایک غصے والا آدمی مغضوب علیہ پر غصے کا اظہار کرتا ہے۔ اس لئے اس کو مقدّم رکھا۔(اس کا قول یا جہنم میں ایک وادی ہے) یا کا لفظ پہلی بات کے بالعکس نوعیت بیان کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے تو اس بنا پر یہ جملہ خبریہ ہو گا اور لفظ ”ویل“ علم ہونے کی وجہ سے معرفہ ہوجائے گا“۔ تفسیر ختم۔

تفسیر الکبیر:

”(ویل) مذمت اور ناراضگی کا لفظ ہے اور یہ ہر درد زدہ کا کلمہ ہے جس کے ساتھ وہ پکارتا ہے۔ ویل کا اصل (وی لفلان)ہے پھر کثرت استعمال کی وجہ سے اس میں ”لام“ مل گیااور روایت کیا گیا ہے کہ”ویل“ جہنم میں ایک پہاڑ کا نام ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ویل فرمایا اور دوسری جگہ(ولکم الویل) فرمایا۔ ایسا کیوں ہے؟  تو ہم کہیں گے کیونکہ وہاں کافروں نے کہا تھا۔( یا ویلنا انا کنا ظالمین)  تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا۔ ولکم الویل اور یہاں پر نکرہ اس لئے لایا کہ اس کی حقیقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی جانتا ہی نہیں ہےا ور ویل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ کلمہ تقبیح ہے اور ویس کلمہ تحقیر ہے اور ویح کلمہء ترحم پس (ویل) کے ساتھ اس فعل کے قبح پر تنبیہ فرمائی“۔(تفسیر ختم)

تفسیر طبری:

 ”(ویل) ایک وادی ہے جو دوزخیوں کے زرد پانی اور پیپ سے بہتی ہے“۔تفسیر ختم

تطبیق:

 اب اس تفسیر میں ہمارے نقطہ ء نگاہ سے تین قول غورطلب ہیں:۔

(ا)  ویل جہنم میں پیپ اور خون کی وادی ہے۔(ویل)  ایک وادی ہے جو دوزخیوں کے زرد پانی اور پیپ سے بہتی ہے“۔ (ابن عباس۔ طبری)

 اس قول کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایٹمی جنگ کے بعد کے نظارے کا تصّور کریں ۔ایٹمی جنگ کے صدقے میں کروڑوں آدمی لقمہء اجل بنے۔ ان کروڑوں آدمیوں کی جلی آدھ جلی یا اَ ن جلی لاشیں ہر طرف انبار در انبار پڑی ہیں۔ بُو، تعفن اور سٹراند سے دماغ پھٹا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ اور دیکھیں۔ وہ کروڑوں آدمی جو موت کو تو نہ پا سکے مگر اُ ن کی کھالیں ایٹمی بموں کے جِلد سوز ابتدائی شعلے کے لپکے (Heat  Flash) سے جل چکی ہیں اور اُ ن میں پیپ پڑ چکی ہے اور وہ رس رہی ہیں اور یہ دوسرے کروڑوں آدمی دیکھیں یہ اُ س آگ کا شکار ہوئے جو ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی شدید گرمی کے سبب شہروں میں بھڑک اٹھتی ہیں اور شہروں کے شہر بھسم کر کے رکھ دیتی ہیں ۔ایسی آگ میں جلے ہوئے یہ لوگ دیکھیں اُ ن کے جسم اس قدر جلے کہ جل کر کوئلہ تو نہ بن سکے مگر نہایت بُری طرح جل گئے اور ان میں پیپ پڑ چکی ہے اور پیپ رس رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ دیکھئے یہ کروڑوں آدمی وہ ہیں جو ایٹمی دھماکوں سے پیوندِِِ زمین ہونے والی عمارتوں میں زخمی ہوئے ہیں یا تیز آندھی کی طرح اُ ڑتے ہوئے کوڑا کرکٹ سے ٹکرا ٹکرا کر مجروح ہو چکے ہیں۔ ان کے زخموں سے خون رواں ہے اور مزید دیکھئے یہ کروڑوں آدمی جو خون ،پیپ اور قے میں لتھ پتھ پڑے ہیں۔ یہ کون ہیں؟ یہ وہ بدنصیب ہیں جو ایٹمی دھماکوں کے ساتھ پیدا ہونے والی تابکار شعاؤں کا شکار ہوئے اور تابکاری اثرات سے پید ا ہونے والی بیماریوں یعنی جریانِ خون ،فسادِ خون اور متلی اور قے میں مبتلا ہیں۔ روئے زمین ایک جہنم کا نمونہ ہے۔ تباہ شدہ شہروں کے جلتے ہوئے کھنڈر ہر طرف اُ ڑتی ہوئی ریت راکھ اور آگ کے شعلے   اور تیرہ و تاریک دھوئیں کے بادل اس خوفناک جہنم میں پڑے ہوئے مردے اور زندے جو مُردوں سے بدتر ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو ابتدائی شعلے کے لپکے کا شکار بھی ہوئے۔ گرتی ہوئی عمارتوں میں زخمی بھی ہوئے اور تابکار شعاؤں کے حملے کی زد میں بھی آئے اب اندازہ کیجئے کہ ان کروڑوں آدمیوں کے جسم سے بہنے والی پیپ اور خون سے کتنی وادیاں سیراب ہو سکتی ہیں۔ یہی حالت با لآخر ایٹمی توانائی برائے امن سے بھی ہو گی۔ جب انسانیت کی خاصی تعداد کینسر، جریانِ خون اور قئے میں مبتلا ہو گی۔

دوسرا قول ہے۔”(ویل) جہنم میں ایک پہاڑ کا نام ہے“۔ (تفسیرالکبیر) اور تصّور کیجئے وہ سینکڑوں ہزاروں شہر جو ایٹمی دھماکوں سے پیوندِزمین ہوئے۔ ہر شہر ایک پہاڑ بن جاتا ہے اور تو اور کروڑوں آدمیوں کی قے کو جمع کیا جائے تو وہ بھی ایک پہاڑ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

تیسرا قول ہے۔ ”(ویل) ایک آگ کا گڑھا ہے“(ابنِ عباس) ایٹمی دھماکہ ہو کہ ایٹمی ری ایکٹر ہر ایک آگ کا گڑھا ہے۔

 ھُمزہ لمزہ:

(”عیب پکڑنے والا۔ غیبت کرنے والا)“  کے متعلق تفسیریں۔

 تفسیر ابن عباسؓ:

”(ویل الکل ھمزہ)“۔ لوگوں کی پیٹھ پیچھے غیبت کرنے والے کے لئے(لمزہ) لوگوں کے منہ پر بہت زیادہ لعن طعن کرنے والا۔ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں نازل ہوئی اور وہ نبی پاکﷺکی غیبت کیا کر تا تھا اورحضور ﷺکے سامنے طعن و تشنیع کیاکرتا تھا۔

 تفسیر الجلالین:

”(قول لکل ھمزۃ لمزۃ)   ہر غیبت کرنے اور طعنہ مارنے والے کے بارے میں قول۔ الھمزہ اصل میں توڑنا اور اللمز ااصل میں طعنہ کے لئے ہے تو پھر یہ ہر دو امور لوگوں کے اغراض اور اُ ن پر طعنہ زنی کرنے کی وجہ سے توڑنے کے معنوں کے ساتھ مخصوص ہو گئے او ر”تا“ اس میں صفت کے مبالغہ کی غرض سے ہے اور فُعَلہ کا وزن فاعل کا مبالغہ بیان کرنے کے لئے عام ہے یعنی اُ س کام میں کثرت کا اظہار کرنے والا اور جب عین کلمہ ساکن کر دیا جائے تو اس وقت وہ مفعول کا مبالغہ بیان کر نے کے لئے ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے رَ جُل لُعَنہ(َ عین پر زبر کے ساتھ) تو اس کا مطلب ہے ایسا آدمی جو دوسرے کو بہت زیادہ لعنت کرتا ہے اور لُعنہَ(عین پر سکون کے ساتھ) کا مطلب ہے ایسا آدمی جسے دوسرے بہت لعنت کرتے ہیں اور ھمز ہ وزن میں اورمعنی میں لمز ہ ہی کی طرح ہے اور ضَرََ بَ کے باب پر مُتصر ف ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا۔(ھمزہ لمزہ) چغلغوروں کو کہتے ہیں جو چغلی لے کر چلتے ہیں۔ دوستوں کے درمیان جُدائی ڈالتے ہیں اور برے آدمی پر عیب لگاتے ہیں اور نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ شریر وہ آدمی ہیں جو چغلی کھاتے ہیں، دوستوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں اور برے لوگوں پر عیب لگاتے ہیں اور اس قول میں لمزہ کا  لفظ ھمزہ کے لفظ کی تاکید ہے جیسے کہ ہم معنی الفاظ سے تاکید لائی جاتی ہے جیسے مثلاً عرب کہتے ہیں حسن بسن، عفریت نفریت  اور کہا گیا ہے کہ ان دونوں لفظوں کے معنی مختلف ہیں۔ مقاتل نے کہا کہ ھُمزہ اُ س کو کہتے ہیں جو تیری غیر حاضری میں تری عیب جوئی کرے اور لمزہ اُ س کو کہتے ہیں جو تیرے منہ پر تیری عیب جوئی کرے اور بعض نے کہا کہ اس کا الٹ ہے اور کہا گیا ہے کہ ھُمزہ اس کو کہتے ہیں جولوگوں کو ہاتھ سے پچھاڑ دے اور مارے اور لُمزہ اُ س کو کہتے ہیں جو زبان سے لوگوں پر طعنہ زنی کرے اور عیب نکالے اور کہا گیا ہے کہ ھمز زبان سے ہوتا ہے اور لمز آنکھ سے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ھمزہ اُ س آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے ہم نشین کو برے لفظ سے تکلیف دے اور لمزہ اُ س کو کہتے ہیں جو آنکھ مار  کے اشارہ کرے اور سر سے اشارہ کرے اور ابرو سے معنی خیز اشارہ کرے اور یہ تمام اقوال طعن و تشنیع اور اظہار ِعیب کی طرف لوٹتے ہیں۔ پس اس میں وہ آدمی بھی داخل ہوتا ہے جو افعال ،گفتگو اور آواز میں لوگوں کی نقل اُ تارتا ہے اور اس سے ہنستا ہے۔ (اُس کا قول کہ ان دو کے علاوہ بھی) جیسے اخنس بن شریق اور جمیل بن معمر اور عبرت تو عموم لفظ سے ہے نہ کہ خصوصِ سبب سے پس یہ ہر اُ س آدمی کے لئے وعید ہے جو مسلمانوں اور بالخصوص علماء کرام اور نیکوکاروں کی غیبت کرتا ہے لیکن یہ ضرور کہا جائے گا کہ اگر وہ کفر کی حالت میں مرا تو آگ (جہنم) میں ہمیشہ رہے گا  ورنہ مثیئتِ ایزدی پر موقوف ہو گا“۔

 تفسیر الکبیر:

ھمزہ لمزہ:

 ”اس سورۃ میں جو وعید آئی ہے اس میں اختلاف کیا کہ آیا یہ وعید ہر اُ س آدمی کو شامل ہے جو ردی افعال میں یہ طریقہ اپنائے ہوئے ہے یا یہ معین اقوام کے ساتھ مختص ہے پس جو محقق لوگ ہیں ان کا یہ قول ہے کہ یہ(وعید) ہر اُ س آدمی کے لئے ہے جو بھی ایسی حرکت کرے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ عمومِ لفظ سے خصوصِ سبب مراد لینا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ بعض دوسروں نے کہا کہ یہ معین لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ پھر عطاء اور کلبی نے کہا کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ لوگوں کو طعنے دیتا تھا اور اُ ن کی غیبت بھی کرتا تھا۔ خاص کر رسولِ پاکﷺکی بھی اور مقاتل نے کہا کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ حضور ﷺکے پیچھے حضور ﷺکی غیبت کیا کرتا تھااور آپ ﷺ کے سامنے طعنہ زنی کرتا تھا اور محمد بن اسحاق نے کہا کہ ہم ہمیشہ یہ سنتے آئے ہیں کہ یہ آیت اُ میہ بن خلف کے حق میں نازل ہوئی اور فراء نے کہا کہ لفظ کا عام ہونا اس بات کے منافی نہیں کہ اس سے مراد ایک معین شخص ہو جیسے اگر کوئی تجھے کہے کہ میں تجھے کبھی نہیں ملوں گا اور تو اُ س کے جواب میں کہے جو بھی مجھے نہیں ملے گا میں بھی اُ سے نہیں ملوں گا حالانکہ تو اس جملہ سے عام مراد لے رہا ہے۔ اس کو اصولِ فقہ میں تخصیص العام بقرینتہ العرف کہتے ہیں۔

دُ وسرا مسئلہ:

 الھمز کے معنی کسر کے یعنی توڑنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔(ھماز مشاء) اللمزطعن کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد لوگوں کی عزت کو پامال کرنا ،ان سے اعراض کرنا اور اُ ن پر طعنہ زنی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (ولا تلمزوا انفسکم)   اس کے فعل کی بنا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ صفات فاعل کی عادت بن چکی ہیں اور ان دونوں کی طرح ہی لعنت کرنے والا اور ٹھٹھا کرنے والا ہے اور(ویل لکل ھمزہ لمزہ)  میں ھمزہ لمزہ میم کے سکون کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور اس طرح ان کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہنسی کی اور نفرت کی ایسی باتیں کی جائیں کہ جن کو سُن کر لوگ ہنسیں اور گالی گلوچ بھی کریں اور مفسرینِ کرام کے اور بھی قول ہیں۔ پہلا ابنِ عباسؓ نے کہا۔ الھمزہ غیبت کرنے والا اور اللمزہ۔ بہت زیادہ عیب لگانے والا۔(دوسرا) ابوزید نے کہا۔ الھمزہ ہاتھ سے اور اللمزہ زبان سے۔(تیسرا) ابولعالیہ نے کہا۔ الھمزہ منہ پر اور المزہ پیٹھ پیچھے۔ (چوتھا) الھمزہ بلند آواز سے اور المزہ پوشیدہ طور پر آنکھ سے اور ابرو سے۔(پانچواں) الھمزہ اور المزہ وہ آدمی جو لوگوں کو ناپسندیدہ لقب دے۔ ولید بن مغیرہ یوں کیا کرتا تھا لیکن یہ بات اُس کے منصب ریاست کے لائق نہیں۔ یہ تو گھٹیا قسم کے لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ وہ آدمی بھی(اسی حکم میں) داخل ہے جو لوگوں کے قول ،فعل اور آواز کی نقل صرف اس لئے کرتا ہے کہ سامعین ہنسیں اور حکم بن عاص نے حضور نبی کریم ﷺ کی چال کی نقل اتاری تو حضور ﷺنے اسے مدینہ سے نکال دیا اور اُ س پر لعنت کی۔(چھٹا) حسن نے کہا۔ الھمزہ وہ آدمی جو اپنے ہمنشیں کی بد خواہی کرے اور اس پر چشم زنی کرے اور المزہ وہ آدمی جو اپنے بھائی کی بدگوئی کرے اور اس پر عیب لگائے۔ (ساتواں) ابن جوزا سے روایت ہے۔ کہتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ ابن عباس سے کہا۔  (ویل الکل ھمزہ لمزہ) یہ کون لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے ویل کے ساتھ مذمت فرمائی۔ تو کہا۔ وہ چغل خور ہیں جو دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اور لوگوں پر عیب لگانے والے ہیں۔

جان لو کہ یہ تمام وجوہ متقارب ہیں اور ایک ہی اصل کی طرف لوٹنے والی ہیں اور وہ طعن اور اظہار عیب ہےپھر یہ دو قسموں پر ہو گا یا تو پورے انہماک کے ساتھ ہو گا  جیسے کہ حسد اور کینے کے وقت ہوتا ہے اور یا پھر یہ تمسخر کے طور پر ہو گا جیسے کہ ہنسی مذاق میں کیا جاتا ہے اور ان دونوں قسموں میں سے ہر ایک یا تو دین کے معاملہ سے متعلق ہو گی یا پھر وہ شکل و صورت ،چال ڈھال اور نشست و برخاست اور اسی قسم کے دوسرے امور سے متعلق ہو گی اور اس کی بہت سی قسمیں ہیں جن کو ضبطِ تحریر میں لا یا نہیں گیا۔ پھر ان چاروں قسموں میں اظہارِعیب کبھی تو حاضر کے لئے ہوتا ہے کبھی غائب کے لئے۔ ان دونوں صورتوں میں (اظہار ِعیب) یا تو لفظ کے ساتھ ہو گا یا آنکھ اور سر وغیرہ کے اشارے کے ساتھ اور یہ سب کچھ نہی اور زجر کے تحت میں آتا ہے۔ بحث تو صرف اسی بات سے ہے کہ لفظ لغت کے لحاظ سے کس کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ سو جس بات کے لئے وضع کیا گیا ہے تو وہ بات اسی لفظ کے لحاظ سے منہی ہو گی اور وہ جس کے لئے لفظ موضوع نہیں ہے تو وہ قیاس جلی کے مطابق نہی کے تحت داخل ہو گا اور جب رسولِ پاک ﷺمنصب کے لحاظ سے تمام لوگوں سے عظیم ہیں تو اُ ن کے بارے میں طعنہ بھی اللہ کے ہاں عظیم جرم ہے۔ پس لاجرم اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (ویل لکل ھمزہ لمزہ)   ویل(خرابی)  ہے ہر طعن زن چغل خور عیب  جُو کی“  ۔

(تفسیر طبری)

 (لکل ھمزہ) فرمایا۔ ہر اُ س آدمی کے لئے جو لوگوں کی غیبت کرتے ہیں اور ان پر چشم زنی کرتے ہیں جس طرح زیاد الاعجم نے کہا۔

تُدُلی بُودّی اِذا الا قیسَتنی کذبا

وَإِنْ  اُغیّبْ  فانت الھامِزَ الّلُمَزَۃ

(تو نے میری محبت کو جب بھی بطور ِ حُجت پرکھا۔ مجھے جھوٹا گمان کیا اور اگر میں تم سے غیب ہو جاؤں تو تُو مجھ پر عیب چینی، چشم زنی اور غیبت کرتا ہے)۔ یہ شعر   قرآنِ حکیم کے مجاز میں ابوعبیدہ کی دلیل ہے اور اسحاق نے کہا(الزجاج)  الھمزہ  المزہ۔  وہ جو لوگوں کی غیبت کرے  اور ان پر چشم زنی کرے اور یہ شعر کہا۔

اِذا لَقِیتُکَ عن شحطٍ تکا شِرْنی

وَإِنْ لغِیَّبْتُ کُنْتَ الھامِزَ الّلُمَزَۃ

ترجمہ  ”میں جب دوری پر تجھ سے ملا تو تم نے مجھ پر ہنس دیا اور جب میں غائب ہوا  تو ہی غیبت کرنے اور عیب لگانے والا تھا“۔

ہمیں ابن حمُید نے بتایا۔فرمایاکہ ہمیں مھران نے حدیث سنائی۔ اُ نہوں نے سفیان سے ،اُ نہوں نے ابن ابی نجیح سے ،اُ نہوں نے مجاہد سے روایت کی۔(ویل لکل ھمزہ لمزہ)  فرمایا۔ الھمزہ۔ جولوگوں کا گوشت کھاتا ہے اور لمزہ بہت زیادہ طعنہ مارنے والا۔

ابن عبدالا علیٰ نے ابنِ ثور سے اُ نہوں نے معمر سے اُ نہوں نے قتادہ سے حدیث بیان کی۔ فرمایا جو کسی کو زبان سے عیب لگائے اور آنکھوں سے اشارے کرے  اور لوگوں کا گوشت کھائے اور ان پر طعنہ زنی کرے۔

 محمد بن عمرو نے ابوعاصم سے اُ نہو ں نے عیسٰی سے اور حارث نے حسن سے  اور اُنہوں نے ورقا سے اور ان سب نے ابن ابی نجیح سے اُ نہوں نے رقہ کے ایک آدمی سے مجھے حدیث سنائی۔ فرمایا۔یہ آیت جمیل بن عامر الجمحی کے متعلق اُ تری۔ حارث نے حسن سے اُ نہوں نے ورقا سے مجھے حدیث سنائی۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق ھمزہ لمزہ فرمایا۔  یہ آیت کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ یہ آیت جمیل بن عامر کے حق میں نازل ہوئی۔

محمد بن عمرنے ابو عاصم سے اُ نہوں نے عیسٰی سے اور حارث نے حسن سے اُ نہوں نے ورقا ء سے اور ان سب نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے قول  ویل لکل ھمزہ لمزہ کے متعلق مجھے حدیث سنائی۔ فرمایا کہ یہ آیت کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں ہے اس بارے میں صحیح رائے یہ ہے کہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کل ھمزہ لمزہ عام بیان فرمایا۔ لوگوں میں سے جو بھی کوئی ہو جو بھی اس صفت سے موصوف ہے اس کا راستہ وہی ہے“۔  (تفسیر ختم)

تفسیر طبری میں اس ضمن میں اور بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر اُ س تمام کو اسی پر قیاس کر لیا جائے جو ہم پہلے دوسری تفسیروں سے لکھ آئے ہیں اور یہی قیاس تفسیر القرآن العظیم پر کر لیا جائے کیونکہ وہ سب باتیں ہم نے دوسری تفسیروں سے یہاں لکھ دی ہیں۔

تطبیق:

قاری کریم نے ھمزہ لمزہ کی کیفیت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا ہوگا جو کہ چغل خور ہے، طعنہ زنی کرتا ہے ،غیبت کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ آیت کسی معیّن فرد کے حق میں اُ تری ہو جیسا کہ بعض حضرات نے اس خیال کا اظہار کیا ہے لیکن کوئی دوسرا شخص جو ایسے ہی اوصاف سے متصف ہو اس وعید سے مستثنی تصّور نہیں کیا جا سکتاجیسا کہ اکثر اکابرین نے فرما دیا ہےکہ یہ وعید ہر اُ س آدمی کے لئے ہے جو ایسی حرکت کرے  اور یہ کہ یہ آیت کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وعید میں کافر اور مومن کے درمیان بھی کوئی تفریق نہیں کی گئی اور کافر کے لئے دائمی آگ ہے۔ مگر مومن کا معاملہ مثیئتِ ایژدی پر منحصر ہے اور اگرچہ ھمزہ لمزہ کے لئے آگ کی وعید تو ویسے بھی ہے لیکن اسے بالخصوص حُطَمَہ کا مستحق ٹھہرانے کے لئے دوسری دو شرطوں کا ہونا بھی لازم ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔  جمَعَ مالاً  و عددہ  َیحسب ان مالہ اخلدہ یعنی دنیا کا مال جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا اور یہ گمان کرنا کہ اُ س کا مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی زیرِ غور رہےکہ غیبت اور طعنہ زنی کو آدمی کا گوشت کھا نے کے مترادف کہا گیا ہے۔ یہ باتیں ہم اس لئے دہرا رہے ہیں کہ حقائق کی تفہیم میں مددگار ثابت ہوں اَلبَتَّہ ہمارا مطمحِ نظر اس ضمن میں افراد یا اقوام نہیں ہیں بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ دورِ حاضر بنفسہٖ ھمزہ لمزہ کی قبیل سے ہے اور اس کے ساتھ ہی دوسری دو شرطوں یعنی مال جمع کرنے اور مال کو ہمیشگی عطا کرنے والا سمجھنے پر بھی پورا اترتا ہے۔

اگرچہ اس نئے دور نے طعنہ زنی اور عیب جوئی کو تہذیب کا لباس پہنا دیا ہے تاہم اس پردے کے پیچھے سے حقیقت آشکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یہی  دور ہے جس نے پروپیگنڈے جیسے بے ضرر لفظ کو نئے معنی پہنا کر اسے عیب جوئی اور طعنہ زنی کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ پروپیگنڈے کے لفظ کے بنیادی معنی تبلیغ کے تھے اور اگرچہ پہلے ادوار میں بھی مختلف مذاہب کے پیروکار دوسرے مذہبوں کی عیب جوئی کر لیتے تھے لیکن اس موجودہ دور نے تو مذہب کو بنیا د ی طور پر ہی تختہء مشق بنا لیا ہے۔ مذہب کی عیب جوئی پیٹھ پیچھے بھی اور اعلانیہ بھی ہوتی ہے۔ سیدھے سادھے الفاظ میں مروّجہ طریقے پر بھی ہوتی ہے اور کسی فن یا سا ئنس کی تحقیق کے پردے میں بھی ہوتی ہے ۔  ڈارون کا فلسفہ والٹیر کی تحریریں اور مذہب دشمن تحریکیں اسی دور کا امتیازی نشان ہیں   ڈارون نے ابنائے آدم کی جو عیب جوئی کی وہ ایک اشتہار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُ س نے بنی نوعِ انسان کو بندر کی ترقی یافتہ شکل قرار دیا اور ان کی بشری حیثیت پر شدید طعنہ زنی کی۔ فلسفہء جدید نے مذہب کو ایک لایعنی غیر ضروری اور من گھڑت قصہ اور ترقی کی راہ کی دیوار اور خواب آور افیون قرار دیا اور جب اس کے ساتھ مال و دولت کی ہوس اور پرستش شامل ہو گئی تو حُطَمہ کے استحقاق کی جملہ شرطیں پوری ہو گئیں۔ قرآنِ حکیم کی فراست کا یہ حیرتناک اعجاز ہےکہ ہزار سال کے بعد شروع ہو کر چودہ صدیوں کے بعد اپنے عروج کو پہنچنے والے ایک عجیب و غریب معاشرے کی عکاسی کرکے اُ س کی امتیازی خصوصیات اور اُ ن کے منطقی نتائج کی خبر دے کر جملہ انسانیت کو ایک خوفناک انجام اور اُ س کے اسباب سے آگاہ کرتے ہوئے اُ ن کی نجات کی راہیں واضح کر دیں۔

وہ جن کے بارے میں اس سورۃ کے اترنے کا گمان ہوا:۔

 جن لوگوں کے متعلق یہ گمان کیا گیا ہے کہ اُ ن کے بارے میں یہ سورۃ اتری وہ ہیں اخنس بن شریق ،عاص بن وائل سہمی، امیہ بن خلف ،ولید بن مغیرہ اور جمیل بن عامر الجمی اس سورۃ کے نزول پر لوگوں کا ان کے بارے میں گمان قدرتی امر تھا کیونکہ یہی اشخاص آنحضور ﷺ اور آپﷺکے صحابہ کرام  ؓ  کی عیب جوئی اور ان پر طعنہ زنی میں پیش پیش تھے۔ اس گمان کا ثبوت اس روایت سے بھی ملتا ہے جو تفسیرِ بیضاوی میں شامل ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ ” جو کوئی سورۃ الھمزہ پڑھے گا اس کو اللہ تعالیٰ ہر اس استہزا کے مقابلے میں دس نیکیاں عطا کرے گا جو آنحضور ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ کرام  ؓ کے ساتھ استھزا کیا  لیکن اس سورۃ کی ہمہ گیر خصوصیت بھی مسلّم تھی جیساکہ مفسرینِ کرام کی تفاسیر سے واضح ہوچکااور اس سورۃ کے موضوع کی عالمگیریت کا یہ عالم ہے کہ انسانی تاریخ کے بڑے معاشروں میں سے ایک کااحاطہ کر رہی ہے۔ پہلا وہ معاشرہ تھا جو قبل از اسلام خالصاً روحانیت کی طرف جھک کر غیر متوازن ہو گیا۔ دوسرا ہے اسلام کا متوازن معاشرہ اور تیسرا ہے یہ موجودہ معاشرہ جو خالصاً مادہ پرستی کی طرف جھک کر غیر متوازن ہو ا اور اس مادہ پرستی کے ساتھ ھمزہ  لمزہ کی خاصیت کو اپنا کر حُطَمہ کا مستوجب ٹھہرا۔

  جَمَعَ مالاً و عددہ  (دنیا کا مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا)۔اس کے متعلق تفسیریں مندرجہ ذیل ہیں:۔

تفسیر ابن عباس:

”(الذی جمع مالا) جس نے دنیا میں مال جمع کیا( و عددہ)  اور اپنے مال کو گن گن کر رکھا اور کہا گیا ہے کہ اُ س نے اپنے اونٹ گنے تھے“۔

   تفسیر الجلالین:

”قولہ الذی جمع مالا۔  یہ قول کہ جس نے مال جمع کیا) یہ کُل کا کُل سے بدل ہے (قولہ بالتخفیف و تشدید)۔ (اس کا قول تخفیف اور تشدید کے ساتھ) یعنی اس میں دونوں قرائتیں ہیں۔ تشدید والی قرأت  جَمّع(َ میم تشدید کے ساتھ) کا مطلب یہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے میں فنا ہو چکا ہے اور اس میں مبالغہ کرتا ہے۔ بخلاف تخفیف والی قرأت۔(جَمَع)َ کے کہ وہ یہ معنی دینے سے قاصر ہے اور مال کے لفظ کو نکرہ ذکر کیا تاکہ اس کی عظمت اور پذیرائی معلوم ہو(قولہ و عددہ) عموماً پہلی دال پر تشدید پڑھی جاتی ہے اور کبھی کبھی بغیر تشدید۔ یعنی بالتخفیف بھی پڑھی گئی ہے اور ضمیر یا تو مال اور گنتی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یعنی مال کے عدد کو جمع کیا۔ جب کہ اس کو گنِا اور اپنے علم میں رکھا اور یا یہ ضمیر اس کی اپنی ذات کی طرف راجع ہے تو معنی یہ ہوا کہ اُ س نے مال جمع کیا اور اپنے خاندان اور رشتہ داروں کو شمار کیا اور ا ن دونوں وجوہ سے عددہ مالاً پر معطوف ہے۔ یہ احتمال ہے کہ عدد فعل ماضی  عدّ ہ(د پر شد) کے معنوں میں ہو بغیر ادغام کے۔(قولہ و جعلہ عدۃ (اور اس کا قول اور اس کو تیار کرکے رکھا) یہاں واؤ۔ او(یا) کے معنوں میں ہے۔کیونکہ یہ دو تفسیریں ہیں۔ پہلی تفسیر کی بنا پر یہ عدد سے بنا ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق عدہ بمعنی استعداد اور حوادثِ زمانہ کے لئے ذخیرہ اندوزی ہے۔“

  تفسیر الکبیر:

”الذی جمع مالا و عددہ جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا۔ اس میں دو مسئلے ہیں۔ پہلا مسئلہ لفظ (الذی)  کُل کا بدل ہے یا مذمت کی وجہ سے منصوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو اس وصف سے اس لئے موصوف کیا کہ یہ وصف سبب قائم مقام ہے اور طعنہ زنی اور عیب جوئی میں علت ہے۔ اس کا اپنے جمع شدہ مال پر مغرور ہونا اور یہ گمان کرنا کہ بزرگی اس مال میں ہے۔ اسی وجہ سے وہ دوسروں کی کسرِ شان کرتا ہے  (یعنی اُ س کی طعنہ زنی اور عیب جوئی کا سبب اپنے مال میں اُ س کا غرور اور مال کے متعلق یہ گمان ہے کہ بزرگی فقط مال ہی میں ہے) اور اسی وجہ سے وہ دوسروں کی کسرِ شان کرتا ہے“۔

   دوسرا  مسئلہ:

”حمزہ ۔کسائی اور ابن عامر نے جمع کو تشدید کے ساتھ(جَمّع) (م پر شد) پڑھا۔ اور باقی قاریوں نے تخفیف کے ساتھ(جَمَع)َ پڑھا اور جَمَعَ اور جَمّعَ(ج پر زبر م پر شداور زبر اور ع پر زبر) کامعنی واحد اور متقار ب ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ جَمّعَ(ج پر زبر م پر شد اور زبر اور ع پر زبر) اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ اس نے ہر طرح سے مال جمع کیا اور یہ کہ اس نے ایک دن میں مال اکٹھا نہیں کیا۔نہ دو دن میں نہ ایک مہینہ میں اور نہ دو مہینوں میں کہا جاتا ہے فلاں آدمی ما ل اکٹھا کرتا ہے یعنی ہر طرح سے مال اکٹھا کرتا ہے(یعنی مال اکٹھا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا) اور جَمَعَ(بالتخفیف)یہ فائدہ نہیں دیتااور(اس کا قول مالاً)اس کے نکرہ ہونے کی دو وجہیں ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہا جائے کہ مال نام ہے ہر اُ س چیز کا جو اس دنیا میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ المال وا لبنون زینےۃ الحیوۃ الدنیا۔  تو ایک آدمی کا مال تمام دنیا کے مال کی نسبت حقیر ہے تو کیسے مناسب ہو سکتا ہے کہ اس تھوڑے سے مال پر فخر کیا جا سکے۔ دوسری وجہ یہ کہ اس سے مراد تعظیم ہو یعنی جو مال خباثت اور فسادمیں حد درجہ تک پہنچ گیا ہو عقل مند آدمی کے شایانِ شان کیسے ہوسکتا ہےکہ اس پر فخر کرے اور اس کا قول (وعددہ) اس میں کئی وجوہ ہیں۔ پہلی یہ عدہ سے بنا جس کا مطلب ذخیرہ ہے کہا جاتا ہے میں نے کسی شئ کو تیار کیااور اس کو گنا۔(تو اس وقت کہے گا) جب تو اس شئ کو روک لے اور اسے اپنے واسطے حوادث زمانہ کی خاطر ذخیرہ بنا لے۔ دوسری عددہ کا مطلب ہے۔ اس نے گنا۔ کثرتِ عدد کی وجہ سے اس پر تشدید پڑ گئی ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں نے فلاں کے فضائل کو گنا اور سدی نے بھی یہی کہا ہے۔(وعددہ) یعنی اس نے گنِا۔ کہا جاتا ہے یہ میرے لئے ہے اور یہ بھی میرے لئے ہے۔ دن کو اس کا مال اسے مشغول رکھتا ہے اور رات کو اسے چھپا دیتا ہے۔تیسری عددہ زیادہ کیا۔ کہا جاتا ہے بنی فلاں کے عدد ہیں۔ یعنی کثیر تعداد ہے۔ آخری دونوں اقوال عدد کے معنی کی طرف لوٹتے ہیں اور تیسرا قول عدّد(د پر شد) کے معنوں کی طرف۔بعض قاریوں نے عددہ (بالتخفیف) پڑھا ہے اور اس میں دو وجہیں ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں کہ اس نے مال جمع کیا اس کے عدد کو یاد کیا اور اس کو گنا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے مال جمع کیا اور اپنی مدد کرنے والی قوم کو گنا  جیسے تیرا یہ قول کہ فلاں ذو عدد و عدد جب کہ اس کے معاونین کی تعداد وافر ہو اور آدمی اس نوبت کو پہنچ جائے تو وہ فخر کی حد میں داخل ہو جاتاہے۔“

   تفسیر طبری:

” اور اللہ تعالیٰ کا قول الذی جمع مالا و عددہ جس نے مال جمع کیا اور اس کو   گن گن کر رکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے مال کو اکٹھا کیا اور اس کی تعداد کو گنا   اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کیا اور اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہ کیا۔ بلکہ اس کو اکٹھا کیا یاد رکھا اور اس کی حفاظت کی۔ قاری حضرات نے اس آیت کی تلاوت میں اختلاف کیا۔ اہلِِِ مدینہ کے قاری ابوجعفر اور عاصم کے سوا کوفہ کے عام قاریوں نے  جَمّع(بالتشدید) پڑھا اور کوفہ سے عاصم اور بصرہ کے عام قاریوں نے جَمَعَ( بالتخفیف)    پڑھا اور (عّدد ہ) کی دال کی تشدید پر تمام قاریوں کا اتفاق ہے۔ ان کا اتفاق اسی وجہ پر ہےجس کی تاویل کو میں نے ذکر کیا۔ بعض متقدمین کے بارے میں غیر مستند طور پر مذکور ہے کہ اس قرأت کو جمع مالاً و عددہ دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا اور اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ مال جمع کیا اور اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا اور اس کو گنا اور یہ ایسی قرأت ہے جس کو میں جائز نہیں سمجھتا بخلاف تمام شہروں کی قرأت کے اور اس کا نکلنا اُ س شے سے ہے جس پر ایک متفق علیہ حجت قائم ہے۔ ولے اللہ تعالیٰ کا یہ قول جمع مالاً  سو اس میں تشدید اور تخفیف دونوں درست ہیں کیونکہ یہ دونوں قرأتیں شہروں کی مشہور و معروف قرأتوں میں سے ہیں اور معنی میں بھی متقارب ہیں اور قاری ان دونوں میں سے جس کو بھی پڑھے تو صحیح ہے۔“

تفسیر القرآن العظیم:

قولہٗ تعالیٰ  الذی جمع مالا وعددہ یعنی مال جمع کیا تہہ بہ تہہ اور اس کی تعداد کو گنا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول وجمع فاوعی(اس نے جمع کیا پھر یاد رکھا)۔ سدی ابن جریر اور محمد بن کعب نے جمع مالا وعددہ کے قول کے متعلق کہا۔ وہ دن کو سرتاپا اپنے مال میں غرق رہتا ہے اور جب رات ہوتی ہے تو بدبودار مردے کی طرح سو جاتا ہے۔ (تفسیر ختم)

اب ان تفاسیر میں جو بڑے بڑے نکتے ہمارے نقطہء نگاہ سے موجود ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں:۔

 (۱)۔ ”مال جمع کرنے میں فنا ہو چکا ہے اور اس میں مبالغہ کرتا ہے“۔(تفسیر الجلالین)۔

(۲)۔”اور یہ کہ اس نے ایک دن میں مال اکٹھا نہیں کیا نہ دو دن میں نہ ایک مہینہ میں   اور نہ دو مہینوں میں“۔(تفسیر الکبیر)

(۳)۔”ہر طرح سے مال اکٹھا کرتا ہے اور مال اکٹھا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا“۔   (تفسیر الکبیر)

(۴)۔”جمع کرتا ہے تہہ بہ تہہ“۔  (تفسیر القرآن العظیم)

(۵)۔” مال اکٹھا کرتا ہے اپنے علم میں رکھتا ہے گن گن کر رکھتا ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

(۶)۔”ہر طرح سے مال اکٹھا کرتا ہے“۔(تفسیر الکبیر)

(۷)۔”مال کو بڑھاتا ہے“۔  (تفسیر الکبیر)

(۸)۔”کثرتِ عدد کی وجہ سے جَمَعَ پر تشدیر پڑ گئی“۔(تفسیر الکبیر)

(۹)۔”دن کو سرتاپا اپنے مال میں غرق رہتا ہے اور جب رات ہوتی ہے تو بدبودار مردے کی طرح سو جاتا ہے“۔(تفسیر القرآن العظیم)

(۱۰)۔”مال و دولت کو حوادثِ زمانہ کے لئے تیار کر کے رکھتا ہے“۔(تفسیر الکبیر)

(۱۱)۔ ”اپنے جمع شدہ مال کا غرور اور یہ گمان کہ بزرگی فقط مال میں ہی ہے۔ اُ س کے لئے دوسروں کو طعنہ زنی اور اُ ن کی عیب جوئی اور کسِر شان کرنے کا سبب بنتا ہے“۔(تفسیر الکبیر)

(۱۲)۔”ایک آدمی کا مال تمام دنیا کے مال کی نسبت حقیر ہے تو کیسے مناسب ہو سکتا ہے کہ اس تھوڑے سے مال پر فخر کیا جا سکے“۔  (تفسیر الکبیر)

(۱۳)۔”جو مال خباثت اور فساد میں حد درجہ تک پہنچ گیا ہو عقل مند آدمی کے شایانِ شان کیسے ہو سکتا ہے کہ اس پر فخر کرے“۔(تفسیر الکبیر)

تطبیق:

 اب ہم ان نکات کو فرداً فرداً بیان کریں گے کوئی فرد یا کوئی قوم ہمارے پیشِ نظر  نہیں۔ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ یہ دور اپنی خصوصیات کے ساتھ کہاں تک ان نکات کا مصداق قرار دیا جا سکتا ہے۔

 (۱) ”مال جمع کرنے میں فنا ہو چکا ہے اور اس میں مبالغہ کرتا ہے“۔  (الجلالین)

اس نئے دور کی بنیاد ہی مال جمع کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اس دور کا نعرہ ہے سائنس کی رہنمائی میں قدرتی وسائل کی تسخیر انسانیت کی مادی بہبود کے لئے۔ اس دور کی زندگی کا مقصود ہی مادی ترقی ہے۔ مذہب اس دور کا مادہ پرستی ہے۔ کوئی دوسری کوشش مال و دولت اور ضروریاتِ زندگی اور سامانِ عیش و عشرت کے حصول کے سوا اس دور کے ایجنڈے سے خارج ہے۔ زندگی یہی زندگی ہے، موت یہی موت ہے ،آخرت ناقابلِ  تصّور اور ناقابلِ قبول ہے۔ مذہب ترقی کی راہ میں حائل ہے اور چونکہ ترقی کی آرزو  مذہب پر مقدّم ہے لہٰذا مذہب کی ضرورت نہیں۔ یہ دور حقیقی طور پر فنا فی ا لمال ہے۔

اس دور کا اقتصادی ڈھانچہ اور اقتصادی نصب العین اس دور کی حقیقت کا عکاس ہے۔پوری دنیا ایک اقتصادی جال میں پھنسی ہوئی ہے۔پورا دور ایک مسلسل اور غیر منقطع اقتصادی اور معاشی کشمکش میں مبتلا ہے اور زندگی کے تمام قوی اور دنیا کے تمام مادی وسائل ایک ہی جدوجہد میں سرگرمِ عمل ہیں اور وہ ہے بیشتر از بیشتر اور پیش تر از پیش تر مادی خود کفیلی کا حصول۔ روئے زمین کی مخلوق ایک منظّم، مربوط اور ہمہ گیر اقتصادی نظام میں منسلک ہے۔ بینک ،ڈاکخانے ،تار گھر، تجارتی منڈیاں، انشورنس کیمپنیاں، کارخانے ،فرمیں ،زراعتی فارم ،جہاز ،لیبارٹریاں ،تحقیقی ادارے الغرض ہر چیز ایک ہی مقصد کے لئے کوشاں ہے اور وہ ہے مادی ترقی یعنی مال و دولت کا اکتناز۔ مال حاصل کرنے کے لئے سود تک جائز ہے۔ دولت کو خدائی کا مقام حاصل ہے اور دولت نے اس دور میں وہ عالم گیر مقام حاصل کر لیا ہے جو انسانی بت پرستی کی تاریخ میں کسی بت کو حاصل نہیں ہوا۔

(۲)” اور یہ کہ اس نے ایک دن میں مال اکٹھا نہیں کیا نہ دو دن میں نہ ایک مہینہ میں اور نہ دو مہینوں میں“۔ (تفسیر الکبیر)

 نہیں بلکہ یہ دور کئی صدیوں سے مال اکٹھا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور باقاعدگی سے مصروف ہے۔ پانچ سالہ پلان، صد سالہ منصوبے باقاعدگی سے بنتے ہیں اور کام کرتے ہیں وقت کوبھی دولت تصّور کیا جاتا ہے۔

 (۳)”ہر طرح سے مال اکٹھا کرتا ہے اور مال اکٹھا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا “۔(تفسیر الکبیر)

 مال اکٹھا کرنے کے سینکڑوں طریقے اور سینکڑوں ذریعے اس دور نے ایجاد کر لئے ہیں، تلاش کر لئے ہیں۔ اس کی نگاہ ہر کونے میں گھومتی ہے۔اس کا ذہن بے حد رسا ہے۔ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ کوئی چیز ضائع نہیں ہونے دی جاتی۔

”(۴)  جمع کرتا ہے تہ بہ تہہ“۔(تفسیرالقرآن العظیم)۔

زرعی صنعتی تجارتی تہیں لگ رہی ہیں۔ نوٹوں کی تہیں لگ رہی ہیں۔ مادی ترقی کے منصوبوں کی تہیں لگ رہی ہیں۔ پروگراموں کی فائلوں کی تہیں لگ رہی ہیں۔

(۵) ۔”مال اکٹھا کرتا ہے اپنے علم میں رکھتا ہے گن گن کر رکھتا ہے“(تفسییر الکبیر) 

 پاس بکیں ہیں، چیک بکیں ہیں، اکاونٹ بکیں ہیں، روز ہی بینک بیلنس کا حساب لگایا جاتا ہے، ریکارڈ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کی تعداد ساری دنیا کی سطح پر گنی جاتی ہے۔ملک ملک اور دیس دیس کی دولت کے اندازے لگائے جاتے ہیں۔

(۶)  ”ہر طرح سے مال اکٹھا کرتا ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

ٹیکس لگتے ہیں، کسٹم ڈیوٹیاں لگتی ہیں، زمین کے اوپر کی دولت اکٹھی کی جاتی ہے، زمین کے نیچے کی دولت اکٹھی کی جاتی ہے حتٰی کہ چاند اور ستاروں سے بھی دولت درآمد کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔

(۷)  ”مال کو بڑھاتا ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

مال کو بڑھانا بھی اس اقتصادی دور کی ایک لازمی خصوصیت ہے۔ دولت کے حصول میں محض ضروریات کو مدِّنظر رکھ کر قناعت نہیں کر لی جاتی بلکہ دولت کو بڑھانا ایک لازمی معمول ہے اور انسانی ضروریات کی چونکہ کوئی حد نہیں لہٰذا دولت کی بڑھوتری کے ساتھ اسی نسبت سے ضروریات میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ کسی بھی انفرادی یا اجتماعی، اقتصادی یا معاشی مہم کو دیکھئے۔ زیادتی کی طرف مائل ہے۔ اس سال کی رپورٹ میں گذشتہ برس کے اعداد و شما ر کے مقابلے میں زیادتی ہونی لازم ہے   اور یہی روش اس دور کی بنیادی روش ہے جسے معراجِ کمال تک پہنچانے کی سعی ہمہ گیر ہے۔ کسی بھی ملک کے گذشتہ سو سال کے بجٹوں پر نظر ڈالئے۔ ہر بجٹ بتدریج بڑھتا نظر آئے گا۔

(۸) ”کثرتِِِ عدد کی وجہ سے جمَعَ  پر تشدید  پڑ گئی“۔ (تفسیر الکبیر)

کثرتِ اعداد کی کیا بات ہے۔ دولت کے اعداد و شمار کی حد وہاں جا پہنچی ہے جہاں ایک عدد کو دیکھ کر انسانی ذہن چکر کھا جاتا ہے۔ بات اربوں اور کھربوں سے بھی متجاوز ہو چکی ہے۔ آبادی کی کثرت ،جانوروں کی کثرت، رقوم کی کثر ت، مسائل کی کثرت ،کتابوں کی کثر ت ،علوم و فنون کی کثر ت ،دواؤں کی کثرت ،غرض ہر طرف کثرت ہی کثرت ہے۔

(۹)  ”دن کو سرتاپا اپنے مال میں غرق رہتا ہے اور جب رات ہوتی ہے تو بدبودار مردے کی طرح سو جاتاہے“(تفسیر القرآن العظیم)

 دیکھئے اس سے بہتر اس دور کی تفسیر نہیں ہوسکتی۔ دن بھر اکتسابِ زر اور جلبِ منفعت میں مصروف رہتا ہے اور رات کو اس طرح ہو جاتا ہے جیسے کہ عبادت کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ رات کو جاگتے رہیں مگر کوئی بھی رات کو عبادت کی غرض سے مسجد میں نہیں جاگتا۔اگر جاگتے ہیں تو کلبوں میں،   سینماؤں میں، تھیٹروں میں، شرابخانوں میں، قمار بازی کے اڈوں میں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت، موت کی یا د، آخرت کا خیال اس دور کے ذہن سے ہی اُ ڑ چکا ہے۔

(۱۰)  ”مال و دولت کو حوادثِ زمانہ کے لئے تیار کرکے رکھتا ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

 یہ بھی اس دور کی امتیازی خصوصیت ہے۔ توّ کل نام کی کوئی چیز باقی نہیں۔   دولت ہی کو حل المشکلات تصّور کیا جاتا ہے اور ہمیشہ ہی برے وقت کے لئے دولت ہی کو انبار کیا جاتا ہے۔ دولت کی یہ خاصیت پچھلے ادوار میں بھی مسّلم تھی مگر اُ ن زمانوں میں خُدا کا وجود بھی انسانی ذہن میں اُ جاگر رہتا تھا مگر اس موجودہ دور میں اس مشکل کشائی کی صفت میں خدا کو شریک نہیں کیاجاتا دولت ہی دولت کی اپنی خدائی ہے خدا کا وجود شامل نہیں۔

(۱۱)  ”اپنے جمع شدہ مال کا غرور اور یہ گمان کہ بزرگی فقط مال میں ہی ہے اُ س کے لئے دوسروں کو طعنہ زنی کرنے اور ان کی غیبت کرنے کا سبب بنتا ہے“۔(تفسیر الکبیر)

اگرچہ ہر انسانی دور میں دولت پر فخرو غرور کچھ نہ کچھ ا نسانوں میں موجود رہا ہے مگر اس موجودہ دور میں عزت و شرف نام رہ گیا ہے فقط دولت کااور چونکہ جمعِ دولت ہی کو مقصودِ زندگی تصّور کیا جاتا ہے اور جمع دولت ہی کوعظیم کامیابی مانا جاتا ہے۔ مفلس آدمی کے لئے عز ت کا کوئی تصّور ہی باقی نہیں رہا خواہ وہ بحرالعلوم ہی کیوں نہ ہو خواہ وہ قطب الاقطاب ہی کیوں نہ ہو خواہ وہ نیکی اور انسانیت کا پیکر ہی کیوں نہ ہو اس ھمزہ لمزہ دور میں جمع مال کے مقابلے میں غربت کو ایک انتہائی عیب گرداننا لازم ہے۔ غربت سےبڑھ کر کوئی عیب نہیں دولت سے بڑھ کرکوئی عزت نہیں۔

(۱۲) ”ایک آدمی کا مال تمام دنیا کے مال کی نسبت حقیر ہے تو کیسے مناسب ہو سکتا ہے کہ اس تھوڑے سے مال پر فخر کیا جا سکے“۔(تفسیر الکبیر)

یہ قول حضرت امام فخرالدین رازی علیہ الرحمہ کا ہے اور بروجہ تفسیر قرآنی ہے اور یہ ایسی بات ہے جو موجودہ دور کی سمجھ سے بالاتر ہے جب مال ہی فخر و مباہات کی بنیاد ہو تو پھر تھوڑا ہو تو بھی فخر و مباہات کے جواز سے کلّیتہً عاری نہ ہو گا۔ وجہ مباہات اس دور کی تسخیر ِکائنات برائے مادی بہبود ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔

(۱۳) ”جو مال خباثت اور فساد میں حد درجہ تک پہنچ گیا ہو عقلمند آدمی کے شایانِ شان کیسے ہو سکتا ہے کہ اس پر فخر کرے“۔(تفسیر الکبیر)

 اس دور کا مال اگرچہ خباثت اور فساد کی انتہائی حدود سے بھی متجاوز ہو رہا ہے   ایٹمی بموں سے بھسم ہو کر راکھ ہو جانے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ زندگی کا ہر پہلو ایک مستقل عذاب بن چکا ہے لیکن دولت پر فخر و مباہات کے جذبے میں کمی کے ابھی تک کوئی واضح آثار نہیں۔ ہر آنکھ پر پردہ پڑا ہے۔

             اس نئے مادی اور مادہ پرست دور کی بنیاد سائنس پر ہے اور سائنس کا یہ اصول ہے کہ کوئی چیز بھی اس وقت نہ مانی جائے جب تک اُ س کا مادی ثبوت مہیّا نہ ہو جائے لیکن انسانی زندگی کے بعض مسائل ایسے بھی ہیں جو انسان کی پانچ حِسوں کی گرفت میں نہیں آتے۔ اس طرح سائنس کی رُو سے اُ ن مسائل کا کچھ وجود ہی نہیں بلکہ محض واہمہ کی پیداوار ہیں لیکن ایسے مسائل انسان کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ مثلاً خدا پر ایما ن اور آخرت کایقین اور حیات بعدالموت لیکن سائنس ان حقائق کا مادی ثبوت طلب کرتی ہے اور نہ ہی سائنس ابھی تک اس قابل ہوئی ہے کہ ایسے باریک آلات ایجاد کرے جس سے روحانی امور کی تفتیش کر سکے نیز یہ کہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ یعنی نئے دور کی ابتدا ہی میں سائنس اور کلّیسا میں ایسی چپقلش شروع ہوئی جس نے سائنس کے پیروکاروں کو مذہب بیزاری کی راہوں پر چلا دیا اور اس طرح سائنس کی ترقی محض مادی ترقی میں محدود ہو کر رہ گئی اور اخلاقی، روحانی اور مذہبی پہلو قطعی طور پر چھوٹ جانے سے انسانی زندگی یکطرفہ اور غیر متوازن ہو گئی اور مادی بہبود ہی انسانی زندگی کا مقصد ٹھہر ا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ سائنس دین کی غلام ہوتی، دنیا آخرت کی کھیتی ہوتی مگر ایسا نہ ہُوا بلکہ سائنس کو مذہب کی نفی کے لئے استعمال کیا گیا اور سائنسی انکشافات کی روشنی میں اس زندگی کو محض اتفاق کا نتیجہ اور آخرت کے خیال کو محض ایک واہمہ قرار دے دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں حُطَمہ کی آگ بھڑک اٹھی اور انسانیت مشکلات میں گھر گئی۔ مسلمانو ں نے علم حاصل کیا مگر اُ نہوں نے اسے دین کا غلام بنایا۔ اس لئے ناقص علم کے نقصانات سے محفوظ رہے مگر مغرب نے علم کو شتِر بے مہار کر دیا۔ اس لئے گھاٹے میں پڑ گئے اور غلط راہوں پر چل نکلے۔

یحسب ان مالہ اخلدہ۔گمان کرتا ہے کہ اُ س کا مال اُ س کو ہمیشگی عطا کرے گا۔ اس کے متعلق تفسیریں مندرجہ ذیل ہیں:۔

 تفسیر ابن عباس:

”(یحسب) کافر گمان کرتا ہے۔(ان مالہ اخلدہ) ۔ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا“۔

(تفسیر الجلالین):

 (”قولہٗ یحسب ان مالہ)  یا تو یہ جملہ مستانفہ ہے اور ایک مقدر سوال کے جواب میں واقع ہو اہے۔ گویا کہ یوں کہا گیا ہے کیا وجہ ہے کہ وہ مال جمع کرتا ہے اور اس کا اس قدر اہتمام کرتا ہے؟ اور یایہ جملہ جمع فعل کے فاعل سے حال واقع ہوا ہے (یعنی یا تو یہ جملہ ازسرِنو بیان شروع کرنے کے لئے ہے جو اُ س پوشیدہ سوال کا جواب ہے جیسے کہا جائے کہ اُ س کو مال جمع کرنے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے اور اُ سے اس سارے اہتمام سے کیا فائدہ پہنچتا ہے یا پھر اس کی یہ صورت سامنے آتی ہے کہ اس طرح اُ س شخص کی حالت بیان کی جائے جو مال جمع کرنے میں مصروف رہا ہے)۔ (قولہٗ اخلدہ) یہ فعل ماضی دراصل مضارع کے معنوں میں مستعمل ہے یعنی وہ اپنی جہالت کی وجہ سے یوں گمان کرتا ہے کہ اس کا مال دنیا میں اس کو ہمیشہ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے پس وہ دنیا میں ہمیشہ رہے گا۔ مرے گانہیں یا وہ مکانات کی پختگی اور درختوں کی دیکھ بھال(درخت لگانا) اور زمین کی آباد کاری اس آدمی کی طرح کرتا ہے جس کا یہ گمان ہو کہ اُ س کا مال اسے زندہ باقی رکھے گا“۔

  تفسیر الکبیر:

”پھر اللہ تعالیٰ نے اس (مال اکٹھا کرنے والے) کو جہالت کی ایک اور قسم کے ساتھ موصوف کیا اور کہا۔(یحسب ان مالہ اخلدہ) اور جان لے کہ اخلد اور خلد ہم معنی  ہیں اور پھر تفسیر میں کئی وجوہ ہیں۔پہلی:احتمال ہے کہ معنی یوں ہوں۔ مال نے اُ س کی امُید کو لمبا کر دیا یہاں تک کہ فرطِ غفلت اور طولانی اُمید کی وجہ سے گمان کرنے لگا کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دے گا۔ (دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا)اور نہ مرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے(اخلدہ) فرمایا یخلدہ نہیں فرمایا۔ کیونکہ یہ انسان گمان کرتا ہے کہ مال اس کے دوام کا ضامن ہو چکا ہے اور اس کو موت سے امان دے دی ہے۔ گو یا کہ یوں سمجھئے کہ بس وہ فیصلہ ہو چکااور اسی وجہ سے ذکر ماضی میں فرمایا۔حسن نے فرمایا۔ میں نے موت کی طرح کسی یقینی بات کو نہیں دیکھاجس میں شک ہو جو اس شک کے مشابہ ہو جس میں یقین نہ ہو۔ دوسری: وہ دیوار(مکان) کو اینٹ اور چونا گچ کے ساتھ پختہ کرنے کے لئے جیسے کام کرتا ہے اور یہ اُ س آدمی کے کام ہیں جس کا گمان یہ ہو کہ وہ زندہ رہے گا یا اسوجہ سے وہ ایسے کام کرتا ہے کہ موت کے بعد ان کی وجہ سے اُ س کو یاد کیا جائے (یعنی اُ س کا نام زندہ رہے)۔ تیسری:اس نے مال کے ساتھ اتنی شدید محبت کی کہ اس کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ اگر اس کا مال کم ہو گیا تو وہ مر جائے گا۔ اسوجہ سے وہ مال کو کم ہونے سے بچاتا ہے تاکہ خود زندہ رہے اور یہ اعتقاد بخیل سے کچھ بعید نہیں ہے۔چوتھی: یہ کہ یہ عمل صالح کے ساتھ مقابلہ کی ایک صورت ہے کیونکہ وہ مال و دولت نہیں بلکہ عمل صالح ہے جو صالح کو ذکر جمیل سے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھتا ہے اور آخرت میں ابدی نعمتوں میں ہمیشہ رکھتا ہے“۔

  تفسیر طبری:

 ”اللہ تعالیٰ کا قول یحسب ان مالہ اخلدہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انسان گمان  کرتا ہے جس مال کو اُ س نے جمع کیا اور گن گن کر رکھا اور اُ س کے خرچ کرنے میں بخل کیا وہ مال اس کو دنیا میں ہمیشہ رکھنے اور موت کو اُ س سے زائل کرنے والا ہے اور کہا گیا ہے کہ(اخلدہ) کا معنی (یخلدہ) ہے جیسے کوئی آدمی ایسا کام کرتا ہے جو اُ س کی ہلاکت کا سبب ہو سکتا ہے۔ اُ س کے متعلق کہا جائے خدا کی قسم وہ تباہ ہوا۔ خدا کی قسم وہ ہلاک ہوا حالانکہ وہ ابھی تک نہ ہلاک ہوا اور نہ ہی تباہ ہوا اور جیسے کوئی گناہوں سے کوئی ایسا گناہ کرتا ہے جو ہلاک کر دینے والا ہے(تو اس کے متعلق کہا جاتا ہے) خدا کی قسم وہ آگ میں پڑا“۔

 تفسیر القرآن العظیم:

 ” یحسب ان مالہ اخلدہ یعنی وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اکٹھا کرنا اس د نیا  میں اُس کو ہمیشہ رکھے گا“۔  تفسیر ختم

تطبیق:

 بڑے بڑے نکتے:۔

(۱)  ”گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا“۔ (پانچوں مُفسر)

 (۲)  اس کا یہ گمان یقین میں بدل چکا ہے گویا کہ اُ س کو اُ س کے مال کی وجہ سے اس دنیا میں ہمیشگی حاصل ہو گئی۔(الجلالین،الکبیر، طبری)

(۳) ”وہ مکانات پختہ بناتا ہے، باغ لگاتا ہے اور زمین کو آباد کرتا ہے اس گمان سے کہ ان کی وجہ سے اُ س کا نام اس دنیا میں ہمیشہ رہے گا“۔(الجلالین، الکبیر،طبری)

اب ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس دور کا جائزہ لیجئے۔ بڑی بڑی بلڈنگیں کارخانے ہوٹل اس خیال سے بنائے جاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے رہیں اور اُ ن کے بنانے والے کا نام زندہ رکھیں اور یہ جو سیمنٹ ہے پختگی میں بے نظیر چیز ہےجس نے دنیا بھر میں پختہ عمارتوں کے شہروں کے شہر تیار کر دیئے ہیں اسی نئے دور کی پیداوار ہے گویا کہ اس دور میں مکانوں کی پختگی کا فن اپنے عروج کو پہنچا۔ پچھلے زمانوں کے چونے کو اس زمانے کے سیمنٹ سے کیا نسبت ہو سکتی ہے یہی نہیں بلکہ جس انسان کو خدا نے دو آنکھیں عطا کی ہیں دیکھ سکتا ہے اور جسے کان عطا کئے سُن سکتا ہے اور جسے تھوڑی سی ذہانت بھی عطا ہوئی ہے وہ جان سکتا ہے کہ اس دور میں موت کے خیال کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔یہ دور زندگی کی تگ و دو میں اور ضروریاتِ زندگی کے حصول اور مال و دولت جمع کرنے میں اس قدر غرق ہے کہ موت کا خیال اس کے ذہن سے خارج ہو چکا ہے اور آخرت محض ایک خیال کی صورت میں تحلیل ہو چکی ہے وہ لوگ جو اس دور میں قیامت پر یقین رکھتے ہیں وہ اس دور کے معیار کے مطابق محض توہم پرستی اور دورازکار باتوں کا شکار ہیں۔ قیامت کے لئے ا س دور کی لُغت میں واہمہ اور خبط کے سوا کوئی معنی نہیں۔موت کے معنی ا س میں یہ ہیں کہ کسی آدمی کی دولت میں کمی واقع ہو جائے۔ بے روزگاری کا سامنا ہو جائے اور قیامت کے معنی اس دور میں یہ ہیں کہ  کوئی ایسا سانحہ رونما ہو جائے یا کوئی ایسا انقلاب برپا ہو جائے جس کی بدولت دولت کو نقصان پہنچے مثلاً تیل کے ذخیروں کاختم ہو جانا یا لوہے کا ناپید ہو جانا اور ایسی قیامت کا خوف اس دور کے دل میں اس قدر ہے کہ تیل اور گیس کی عدم موجودگی میں ایٹمی توانائی جیسی تباہ کن چیز کو بھی اپنانے سے گریز نہیں کرتا۔ موت پر قابو پانے کا خبط اس دور کے ذہن میں ہر گھڑ ی موجود ہے پرانے زمانے میں پیدا ہونے والی وباؤں اور قحط کی بلاؤں سے تو اس نے بڑی حد تک نجات حاصل کر لی ہے اَلبَتَّہ انسان کو ہمیشہ کی زندگی عطا کرنے کی تجرباتی کوششوں میں مصروف ہے۔ اور یہ سب کچھ مال و دولت جمع کرنے کی غرض سے ہو رہا ہے حتٰی کہ دولت کو خدا کے بجائے خدائی کا مقام عطا کر دیا ہے۔

”کلّا  ہرگز نہیں ایسا ہرگز نہ ہو گا“۔ اس کے متعلق تفسیریں مندرجہ ذیل ہیں۔

تفسیر ابن عباس:

”یہ تردید ہے یعنی مال اُ س کو ہرگز ہمیشہ زندہ نہیں رکھے گا“۔

تفسیر الجلالین:

 ”(کلّا)قولہ ردع(اُ س کا قول رد کرنا) یعنی مذکورہ گمان کو رد کرنا اور اس کے معنی یوں ہوں گے کہ معاملہ یوں نہیں جیسا کہ وہ گمان کرتا ہے کہ اُ س کا مال اُس کو ہمیشہ زندہ رکھے گا اور کہا گیا ہے کہ کَلّا بمعنی‘ حقا بھی ہے“۔

تفسیر الکبیر:

 ”کَلّا اس میں دو وجہیں ہیں پہلی: اس کو گمان کرنے سے روکنا ہے یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ گمان کرتا ہے کہ مال اُ س کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔(نہیں) بلکہ یہ علم اور صلاح ہے جو انسان کو باقی رکھتے ہیں۔ اس امر میں حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ مال اکٹھا کرنے والے مر گئے اور علماء باقی ہیں۔ جب تک زمانہ باقی ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی”حقا“ ہیں۔(یعنی یہ بات حق ہے کہ اُ س مال کو پھینکا جائے گا)۔

(تفسیر طبری):

”اور اللہ تعالیٰ کا قول(کلّا) اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اس کا گمان تھا۔ اس کا مال اس کو ہمیشہ رکھنے والا نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔ بے شک ہلاک ہونے والا ہے اوردنیا میں وہ جو افعال اور نافرمانیاں کرتا تھاان کی  وجہ سے عذاب میں دیا جائے گا“۔

 تفسیر القرآن العظیم:

”(کلّا) یعنی معاملہ یوں نہیں جیسا کہ اُ س نے گمان یا خیال کیا “۔تفسیر ختم

تطبیق:

 کلّاکا کلمہ اس سورۃ کی عبارت میں بمنزلہء کریٹیکل پوائنٹCritical Point) (ہے اور یہ پوائنٹ اُ س مرحلے کو کہتے ہیں جب ایک عمل کے دوران کوئی چیز دوسری ہیئت اختیار کرنے کے قریب ہوتی ہے۔ مثلاً لوہا جب آگ کی تپش سے پگلنے کے قریب ہو تو کہا جائے گا کہ اب کریٹیکل پوائنٹ ہے۔ اسی طرح جو لوگ عیب جوئی کے چولہے پر حُطَمَہ کے دیگچے کو مال کی آگ دے کر ہمیشہ رہنے کے گمان سے ہوا دے رہے ہیں اُ نہیں جان لینا چاہیئے کہ عنقریب حُطَمَہ بھڑک اٹھے گا اور اُ ن کو اور اُ ن کے مال کو آگ کے شعلے سے ذرہ ذرہ کر ڈالے گا۔

( لینبذن فی الحطمہ)  پھینک دیا جائے گا اس کو حُطَمَہ میں۔ اس کے متعلق مندرجہ ذیل تفسیریں ہیں:۔

 تفسیر ابن عباس:

 ”لینبذن  وہ ضرور پھینکا جائے گا  فی الحطمہ (حطمہ)  میں“۔

 تفسیر الجلالین:

 ”(قول التی تحطم)  یعنی توڑ توڑ کے ذرہ ذرہ کردے حُطَمہ میں۔ حُطَمہ میں اُ س کے عمل کے ساتھ(یعنی ھمزہ لمزہ کے عمل کے ساتھ) لفظی اور معنوی مناسبت ہے کیونکہ وہ( حُطَمہ)  ھمزہ لمزہ کے وزن پر ہے“۔

 تفسیر الکبیر:

”(’لینبذن) میں لام قسم کے جواب میں واقع ہے جو یہاں پوشیدہ ہے مگر کلا کے لفظ میں معنوی طور پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قول یعنی لینبذن فی الحطمہ وما ادراک مالحطمہ۔ اللہ تعالیٰ نے لفظ نبذ(پھینکنا)کے ساتھ ذکر فرمایا جو کہ اہانت پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ کافر یہ عقیدہ رکھتاہے کہ وہ صاحبِ عظمت ہے اور(لَیُنبذانِ) بہ صیغۂتثنیہ بھی پڑھا گیا۔ یعنی مال اور صاحبِ مال دونوں کو (حُطمہ) میں پھینکا جائے گا اور (لینبذُ ن) بہ صیغہ جمع بھی پڑھا گیا ہے۔ یعنی اس کو اور اُ س کے مددگار وں کو بھی پھینکا جائے گا۔

(الحطمہ) مبرد نے کہا ہے یہ ایسی آگ ہے کہ جو شے بھی اس میں ڈالی جائے  اُ س کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے اور رَ جُل حُطَمہَ سخت پیٹو کو کہتے ہیں جو پوری قوم کی خوراک کو چٹ کر جاتا ہے۔ لغت میں حطم کے اصلی معنی کسر(توڑنے) کے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے بری بد دعا حُطَمہ کی ہے اور کہا جاتا ہے حُطمہ یا حطم قسم کا چرواہاگویا کہ وہ چارپایوں کو روند ڈالتا ہے یعنی ان کو ہانکتے وقت سختی کی وجہ سے توڑ دیتا ہے۔   مفسرین نے کہا حطمہ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ آگ کا دوسرا درجہ ہے۔ مقاتل نے کہا وہ (آگ) ہڈیوں کو توڑ ڈالتی ہے، گوشت کھا لیتی ہے حتٰی کہ دلوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور حضور ﷺسے مروی ہے۔آپ ﷺنے فرمایا  فرشتہ کافر کو پکڑے گا پھر اس کی پیٹھ کو توڑ دے گا جس طرح لکڑی گھٹنے پر رکھ کر توڑی جاتی ہے پھر اس کو آگ میں پھینک دے گا۔

واضح ہو کہ یہاں پر اس اسم کے ساتھ جہنم کو ذکر کرنے کی کئی وجوہ ہیں۔پہلی: صورتاً متحد ہونا گویا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ اگر تو چغل خور اور عیب لگانے والا ہے تو تیرے پیچھے حطمہ ہے دوسری: چغلخور۔(ھمزہ) آنکھ کو پست کرنے(یعنی آنکھ کے اشارے  سے)سے کسی کی قدر میں کمی کر تا ہے اور اُ سے پستی میں ڈال دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے تیرے پیچھے حطمہ(توڑنے والی) ہے۔(یعنی جس طرح تو کسرِ عین (آنکھ توڑنے، آنکھ سے اشارہ کرنے) سے کسی کو پستی میں گراتا ہےتو تجھ کو بھی کسر کرنے والا(توڑنے والا)تیرے پیچھے ہے اور حطمہ میں کسر(توڑنا ہے پس حطمہ تجھے توڑ دے گا اور تجھے جہنم کی پستی میں ڈال دے گا یعنی جو توڑے گا وہ توڑا جائے گا اور جو کسی کو ذلیل کرکے پستی میں ڈالے گا وہ ذلیل ہو کر پستی میں ڈالا جائے گا) لیکن ھمزہ تو آنکھ کے اشارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا لیکن حطمہ تو پیس کے رکھ دیتا ہے اور کچھ بھی نہیں چھوڑتا۔ تیسری:غیبت کرنے والا لوگوں کا گوشت کھاتا ہے اور حطمہ آگ کا نام بھی ہے اس حیثیت سے کہ وہ جِلد اور گوشت کو کھاتی ہے“۔

تفسیر طبری:

 ”اللہ تعالیٰ جل ثناء نے فرمایا۔ لینبذن فی الحطمہ۔اس کو قیامت کے دن ضرور حطمہ میں پھینکا جائے گا اور حطمہ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے کہ اس کو جہنم ،سقر اور لظی کہا گیا ہے۔ میرا گمان ہے کہ اس کا نام حطمہ اس لئے رکھا گیا کہ اس میں جو چیز ڈالی جائے اُ س کو زرہ زرہ کر ڈالتی ہے جس طرح پیٹو آدمی کوکہتے ہیں  رجل حطمہ اورحسن بصری کے متعلق مذکور ہے کہ اُ نہوں نے لَینَبذان فی الحطُمہ یعنی تثنیہ کا صیغہ استعمال کر کے پڑھا ہے یعنی الھمزہ لمزہ اور اس کے مال دونوں کو حُطَمَہ میں ڈالا جائے گا اور اس وجہ سے انہوں نے تثنیہ کاصیغہ پڑھا ہے“۔

تفسیر القرآن العظیم:

 ”لینبذن فی الحطمہ یعنی جس نے مال جمع کیا  پھر اس کو گنا۔ اس کو ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا  حُطمہ آگ کے ایک طبقے کانام ہے۔(اس کا نام حُطمہ اس لئے ہے) کہ جو بھی اس میں ہو اس کو پیس ڈالتی ہے“۔ تفسیر ختم

 تطبیق:

  اس تفسیر میں بڑے بڑے متعلقہ نکتے:۔

 (۱)۔  (”لینبذن) وہ ضرور پھینکا جائے گا حُطَمہ میں“۔( ابنِ عباس، طبری، ابن کثیر)

(۲)  لینبذن کی قرأت کو لینبذان (یعنی مالک اور مال دونوں کو ڈالا جائے گا) بھی پڑھا گیا ہے اور لینبذ ن بھی(یعنی اُ س کے ساتھ اُ س کے مددگاروں کو بھی ڈالا جائے گا)۔(تفسیر الکبیر)

(۳)  لینبذن میں نبذ کے لفظ کا استعمال اہانت پر دلالت کرتا ہے“ (تفسیرا لکبیر)

(۴)  ”وہ ضرور ڈالا جائے گا حطُمَہ میں“۔ (ابن عباس، طبری،  ابن کثیر)

ازمنہ وسطیٰ کے کیمیا گروں نے اپنی زندگیاں سونا بنانے کی کوشش میں صرف کر دیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر وہ سونا بنانے میں ناکام رہے لیکن جدید دور کے سائنس دان عناصر کی قلبِ ماہیت کرنے میں کامیاب ہو گئے مگر وہ کامیاب اُ سی وقت ہوئے جب اُ نہوں نے ایٹم کی اساسی ساخت کو زیرو زبر کرنے کی اہلیت حاصل کی مگر ایٹم کی اساسی ساخت کو بدلتے ہی ایٹمی آگ اور ایٹمی جہنم میں گھٹنوں تک دھنس چکے تھے اور ازمنہء وسطیٰ کے کیمیا گر اس لئے سونا بنانے میں ناکام رہے کہ اُس وقت حُطمہ کی پیدائش کی شرطیں نامکمل تھیں تو گویا کہ سونے کا بننا اور حُطمہ کی شرطیں متوازی نکلّیں یعنی سونا بنانے کی اہلیت حاصل کرنا حُطمہ میں گرنے کے مترادف تھا۔

جب حُطَمہ کی شرطیں مکمل ہوئیں تو قدرت کے غیبی ہاتھ نے سائنس دانوں کی آنکھ پرپٹی باندھ کے اُ ن کو حُطمہ کے راستے پر ڈال دیا۔ حالانکہ ایک ہی سرنگ ایسی تھی جس میں داخل ہوئے بغیر ایٹمی جہنم تک رسائی نا ممکن تھی مگر قدرت نے ان کو سب راہوں سے ہٹا کر اُ سی سرنگ میں داخل کردیا کیونکہ لَینُبذَ نَ فی ا لحُطَمہ کے مطابق اُ ن کو اُس سرنگ میں داخل ہونا تھا۔ جرمن سائنس دان روئنٹجن کو قدرت نے محض اتفاق کی بنا پر ایکس رے کے انکشاف پر لا ڈالا۔ اس انکشاف کی روشنی میں فرانسیسی سائنس دان بیکرل نے ایکس رے اور چمک کے درمیان باہمی رشتہ تلاش کرنا چاہا تو قدرت نے اُ س کا ہاتھ پکڑ کر یورانییم نائٹریٹ پر ڈال دیا اور اس طرح اُ س نے ریڈیو ایکٹوٹی(Radio-Activity) یعنی ریڈیائی تابکاری کا انکشاف کر ڈالا۔ یہ انکشاف ہونا تھا کہ سائنس دانوں کی گاڑی نے وہی پٹڑی پکڑلی جو سیدھی ایٹمی آگ کے جہنم میں جا گرتی تھی پھر قدرت نے ہٹلر کے منہ سے خفیہ ہتھیار کی دھمکی نکلوا دی۔ ہٹلر کے دباؤ سے جرمنی اور مغربی یورپ سے بھاگ کر امریکہ جانے والے بعض سائنس دان ایٹمی توانائی کی متوقع مبادیات ساتھ لے کر پہلے ہی امریکہ میں پہنچ چکے تھے۔ ادھر ہٹلر کی آواز ریڈیو پر گونجی ادھر امریکی حکومت نے اپنے وسائل ایٹمی سائنس دانوں کے ہاتھ میں دے دیئے اور ایٹمی جہنم کا دروازہ کھل گیا پھر روس نے ایٹمی دھماکہ کر لیا تو امریکہ نے ایٹم بم سے بڑھ کرہائیڈروجن بم جسے عرفِ عام میں ہیل بم (جہنمی بم) کہا جاتا ہے۔ تیار کر لیا اور لَیُبَذنَ والے قول کی تصدیق ہو گئی کہ اُ س کو ضرور ڈالا جائے گا حُطمہ میں۔ یہ جو حقائق ہم نے بیان کئے ہیں۔ واقعی حیران کن ہیں۔

اور اب دنیا کی ساری قوموں کی مجبوری ملاحظہ فرمایئے خواہ وہ چاہتے ہیں یا نہیں خواہ وہ اتنی سکت رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے سبھی مجبور ہو رہے ہیں اور کس طرح بھاگے پھرتے ہیں۔ اگر ایٹم بم نہیں بنانا چاہتے تو ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے لئے ایٹمی ری ایکٹر وں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں کہ جو ایٹم بم نہیں بنانا چاہتے نہ ایٹم بم بنانے کی سکت ہی رکھتے ہیں مگر مدّمخالف کے رویئے سے مجبور ہو کر ایٹم بم بنانے کی کوششوں میں لگے ہیں یا ایسا سوچ رہے ہیں کیونکہ لَینُبذَ نَ والا قول پورا ہونا ہے۔

  ایٹمی آگ کی ہلاکت آفرینیوں کو جانتے ہیں مگر اسے اپنانے پر مجبور ہیں:۔

 اور جب تک وہ خصلتیں جو حُطَمَہ کی پیدائش کا موجب ہیں ترک نہیں کی جاتیں۔ ایٹمی جہنم کی سزا لازماً بھگتنی پڑے گی۔ دیکھئے آج کون سا وہ سائنس دان یا سیاست دان یا سکالر یا فلسفی ہے جو ایٹمی آگ کی ہلاکت آفرینیوں سے آگاہ نہیں۔ آج کون سا وہ دیوانہ ہے جو یہ نہیں جانتا کہ ایٹمی آگ کی کسی بھی صورت میں مو جودگی لازماً انسانیت کو زود یا بدیر ایٹمی جہنم میں جھونک دے گی۔آج کون وہ اٹامسٹ یا کیمسٹ یا فززسٹ یا سائنٹسٹ ہے جو نہیں جانتا کہ ریڈیائی تابکاری ایٹمی آگ کا جزوِلاینفک ہے۔ ایٹمی آگ کی طبعی پیداوار ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایٹمی ری ایکٹروں سے ایٹمی توانائی پیدا کرنے کی غرض سے جو حفاظتی تدابیر ریڈیائی تابکاری کے خلاف کی جاتی ہیں یا کی جا سکتی ہیں وہ سو فیصد یقینی نہیں اور ایٹمی ری ایکٹر کا پھٹ کر سارے علاقے کو تابکار شعاؤں سے بھر دینا ممکن ہی نہیں بلکہ اغلب ہے۔ جوں جوں ایٹمی ری ایکٹر  پُرانے ہوں گے توں توں اُ ن کے پھٹ جانے کا خدشہ قریب سے قریب تر آتا جائے گاکیونکہ ری ایکٹر اپنی خدمت کا عرصہ گزار چکنے کے بعد کسی بھی وقت پھٹ کر فنا ہو جانے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔ کون ایسا اعلی ٰتعلیم یافتہ انسان ہے جو یہ نہیں جانتا کہ تابکاری اثرات کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

وَلَقَدْ ذَرَاَنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ۖ زلَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَاز وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَاز وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَآ ط اُولٰۤئِكَ كَٱلْاَنْعَـامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ط اُولٰۤئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَo ١٧٩

ترجمہ: ”ہم نے بہت سے جن اور آدمی دوزخ کے لئے پیدا کئے اُ ن کے دل تو ہیں مگر اُ ن سے سمجھتے نہیں۔ اُ ن کی آنکھیں تو ہیں مگر اُ ن سے دیکھتے نہیں۔ اور اُ ن کے کان تو ہیں مگر اُ ن سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ اُ ن سے بھی زیادہ بے راہ ،وہی لوگ غافل ہیں“۔

( 7 - الاعراف - 179)

اور کون نہیں جانتا کہ ایٹمی جنگ ہو یا ایٹمی توانائی برائے امن کا رواج لوگوں کی زندگی ایسی ہو گی جیسے پیپ کے گھونٹ۔پیپ کے وہ گھونٹ جو آگ اور تابکاری شعاؤں کے اثرات سے پیدا ہوں گے اور لوگ موت کے درمیان گھرے ہوں گے اور موت کو چاہیں گے مگرموت آئے گی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍلاo ١٦يَّتَجَرَّعُهٗ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍط وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌo ١٧

ترجمہ:۔”پیچھے اُ س کے دوزخ ہے اور پلائیں گے اُ س کو پانی پیپ کا گھونٹ گھونٹ پیتا ہے اس کو اور گلے سے اُ تار نہیں سکتا اور چلی آتی ہے اس پر موت ہر طرف سے اور وہ نہیں مرتا اور اس کے پیچھے عذاب ہے سخت“۔(14 -ابراھیم  17-16)

ایٹمی د ور کے لوگوں کا کیا ہی ٹھیک نقشہ ہے اورپھر وہ بڑے بڑے مادی کام جو اُنہوں نے ایٹمی آگ کا خطرہ مول لے کر کئے۔ وہ ایٹمی بموں کی آندھیوں میں   راکھ بن کر اُ ڑ جائیں گے جیسا کہ  قرآنِ حکیم نے فرمایا ہے۔

مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَـالُهُمْ كَرَمَادِ نِاشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍط لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَىْءٍط ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُo ١٨اَلَمْ تَرَاَنَّ اللهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِٱلْحَقِّ ط اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍلاo ١٩وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيْزٍo

ترجمہ:۔ ”وہ لوگ جو اپنے رب کے منکر ہوئے اُ ن  کے عمل اُ س راکھ کی طرح ہیں جس پر  آندھی کے دن زور کی ہوا چلے اور کچھ رہ   نہ جائے گااُ ن کے ہاتھ میں اپنی کمائی  سے۔یہی ہے بہک کر دور جا پڑنا۔اگر  چاہے تو تم کو لے جائے اور لائے کوئی  مخلوق نئی اور یہ بات اللہ کے لئے کوئی  مشکل نہیں“۔

 ( 14 –ابراہیم- 20-18)

اور جوکوئی ثبوت چاہے  لینبذن فی الحطمہ (یعنی وہ حطمہ میں ضرور پھینکا جائے گا تو اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس دور کے اہلِِِ علم اور صاحبِِِ اقتدار باوجود ایٹمی آگ کی قاتلانہ حیثیت کو سمجھتے ہوئے بھی اقتصادی اور دفاعی دباؤ سے مجبور ہو کر ایٹمی آگ کو اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

 ہم مندرجہ ذیل سوالنامہ پیش کرتے ہیں   دنیا کا کوئی بھی سائنس دان یہ برملا کہے کہ اس میں کوئی بات غلط ہے یا کسی قسم کی مبالغہء آرائی سے کام لیا گیا ہے۔

سائنس دان کے لئے سوال نامہ:

 (i)  ایٹمی توانائی برائے امن و بہبود کے جواز میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انسان ایک خاص مقدار ریڈیائی تابکاری کی اپنے جسم کے اندر رکھتے ہوئے تندرست زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو بھی کیا یہ یقین دہانی بھی کرائی جا سکتی ہے کہ ایٹمی توانائی کے ماحول میں رہتے ہوئے اُ س آدمی کے جسم میں مذکورہ مقدار سے مزید تابکاری داخل نہیں ہو سکے گی اور اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی کوئی یقین دہانی کرانی ممکن نہیں تو کیا اس کے معنی یہ نہیں کہ ایسی باتیں محض طفل تسلیاں ہیں۔ جو لوگ ایسی باتیں کہتے ہیں وہ اپنے ضمیر کو ٹٹولیں۔ کیا وہ انسانیت کو اور اُ س کے ساتھ خود اپنے آپ کو اور اپنی آل اولاد کو دھوکے میں مبتلا تو نہیں کر رہے؟

 (ii)  کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے ایٹمی توانائی خواہ یہ برائے جنگ ہو خواہ برائے امن اس طر ح پیدا کی جا سکے کہ ریڈیائی تابکاری اس کے ساتھ ساتھ نہ پیدا ہو سکے جواب ہے کوئی ایسا طریقہ نہیں ایسا کرنا ناممکنات میں سے ہے تو پھر کیا ایٹمی توانائی کو چھوٹی برائی (Lesser Evil) کے طور پر بھی اپنانے میں قباحتوں کا ایک جہنم پوشیدہ نہیں؟

(iii)  کیا ایٹمی توانائی برائے جنگ اور ایٹمی توانائی برائے امن میں کوئی بنیادی یا اصولی فرق ہے؟ یعنی کیا یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایٹمی توانائی برائے امن کو ایٹمی توانائی برائے جنگ میں کسی بڑی دقت کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جواب ہے  ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ا س کا رخ پاور ہاؤس کی جانب موڑ دو تو وہ برائے بہبود کہلائے گی اور اُ س کا رخ ایٹم بم فیکٹری کی جانب موڑ دو تو وہ ”برائے جنگ“ ہو جائے گی۔

(iv)  کیا ایٹمی توانائی برائے جنگ اور ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکار شعاؤں میں کسی قسم کا فرق ہے؟ جواب ہے بالکل نہیں وہی الفا وہی بی ٹا وہی گاما وہی نیوٹران اور وہی کینسر وہی سرطان وہی جریانِ خون افشاں۔

(v) کیا وہ حفاظتی تدابیر جو ایٹمی توانائی کی آفرینش میں بروئے کار لائی جاتی ہیں  اورجن پر ایسے مہلک امراض سے محفوظ رہنے کے لئے تکیہ کیا جاتا ہے۔ ایسی ہی یقینی ہیں کہ اُ ن پر کلّی یا جزوی تکیہ کیا جائے جواب ہے کوئی ایسی یقینی نہیں۔ ری ایکٹر کے لیکیج کو ظاہر کرنے والے آلات کسی بھی وقت خراب ہو سکتے ہیں۔ ری ایکٹروں اور ہر قسم کے ایٹمی پلانٹوں پر کام کرنے والے آدمی کسی وقت بھی سستی اور لاپرواہی کامظاہرہ کرکے اپنی عاقبت کو گہنا سکتے ہیں۔ اور ہر آدمی کے لئے خطرے کا باعث ہو سکتے ہیں اور پھر خود ری ایکٹر کسی بھی وقت پھٹ کر ارد گرد کے سارے علاقے کو ریڈیائی تابکاری کے سمندر میں تبدیل کر کے ابدی تباہی مچا سکتا ہے۔ دنیا کی چار ارب آبادی کے لئے تابکاری سے حفاظت کے لئے کچھ بھی کرنا ممکن نہیں۔

 (vi)کیا ایٹمی توانائی کی موجودگی میں ملکوں کے نو اٹامک وار(No Atomic War) عہدنامے امن و امان کے ضامن ہو سکتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ انسانی فطرت اور حالات کے دباؤ کی ہزار ہا پیچیدگیوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ملکوں کے باہمی ایٹمی جنگ نہ کرنے کے ضمانت نامے کسی بھروسے کے لائق بمشکل ہی تصّور کئے جا سکتے ہیں۔

(vii) کیا ایٹمی توانائی سے پیدا ہونے والی تابکار شعائیں سرطان پیدا کرتی ہیں  کیا یہ خون کو فساد زدہ کرکے اور اس کے سرخ اور سفید ذرات کو تباہ کرکے اس کی مزید پیدائش کو روک دیتی ہیں اور لیکیومیا جریانِ خون جیسے تکلیف دہ اور لاعلاج امراض پیدا کرتی ہیں اور کیا ان سے متاثرہ لوگوں کی اولاد عفریت کی صورت میں پیدا ہوتی ہے اور یہ عفریت موروثی ہوتی ہے۔کیا یہ باتیں معاشرے کو اضطراب میں ڈال کر اُسے تباہ کردینے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ جواب یہ ہے کہ یہ سب باتیں سر تا سر درست ہیں بلکہ حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہوں گے اور بڑے بڑے موذی امراض ہیں جو ریڈیائی تابکاری پیدا کرتی ہے اور تابکاری پر قطعاً کسی قسم کا کنٹرول ممکن ہے نہ کوئی علاج ہے۔

(viii) کہا جائے گا کہ لوگ دوسرے حادثات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور بعض صنعتوں میں مضر صحت حالات میں رہتے ہیں تو ایٹمی توانائی کے نقصان کو کیوں نہ برداشت کیا جائے۔یہ بالکل ایک نازیبا اور نہایت غلط دلیل ہے کسی بھی نقصان کو تابکاری نقصان کے مقابلے میں لانا سب سے بڑی ہٹ دھرمی یاجہالت کا ثبوت ہے   ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر میدانِ جنگ کی تکالیف ایٹمی توانائی کی موجودگی میں امن و امان اور مال و دولت کی آسائشوں سے کہیں قابلِ ترجیح ہیں اور ایٹمی توانائی کے معاشرے کی زندگی حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی موت سے کہیں بد تر ہے   ان حقیقتوں کی صداقت کی گواہی صر ف وہ لوگ دے سکیں گے جو ایٹمی توانائی کی فضا میں پلیں گے۔ یقیناً وہ لوگ قحط یا وباء میں مرجانے کو ایٹمی توانائی والی اندوہناک زندگی سے بہتر تصّور کریں گے۔ وہ ایک صحت مند فضا میں غربت کو ایک زہریلی فضاء کی دولت سے کہیں بہتر سمجھیں گے تاہم یہ الگ بات ہے وہ ایٹمی معاشرے کو چھوڑ نہ سکیں گے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اس ایٹمی دلدل میں اتنے نیچے چلے گئے ہوں کہ باہر آنے کی کوئی اُ مید باقی نہ ہو کیا یہ سب کچھ درست نہیں ہے؟

(ix) کیا جنگ ہمیشہ کے لئے بند ہو سکتی ہے؟ اور کیا اگر جنگ چھڑی تو ایٹم بم استعمال نہ ہوں گے؟ جواب ہے جنگ کا ہمیشہ کے لئے بند کر دینا ایک خلاف امر واقع ہے۔ جنگ کی برائی میں کسی کو کلام نہیں لیکن یہ کم بخت حالات کے چکر ہیں جو جنگیں شروع کرنے کا باعث ہوتے ہیں اور پھر جب جنگ کے شعلے ایک بار بھڑک اُ ٹھیں   اور جنگ بین الاقوامی صورت اختیار کر جائے تو پھر یہ کہنا بہت مُشکل ہو جاتا ہےکہ ایٹم بم استعمال نہ ہوں گے۔

 ”حطُمَہَ میں اُ س کو اور اُ س کے مال دونوں کو ڈالا جائے گا“۔ تفسیر الکبیر)

یہ بھی ایک بڑی واضح بات ہے سائنس دان حساب لگاتے رہتے ہیں کہ اتنی اتنی طاقت کا ایٹم بم اتنا اتنا نقصان املاک کو پہنچاتا ہے ،اتنے گھر تباہ کرتا ہے، اتنے لوگوں کو بے گھر کرتا ہے۔ ایٹم بموں کی بارش جب ہوتی ہے تو شہروں میں بسنے والے نفوس کے ساتھ اُ ن کا مال بھی ایٹمی بم کے شعلوں کی نذر ہو جاتا ہے یا دھماکے سے پیوندِ زمین ہو جاتا ہے اور وہ جو کہا گیا ہے لینبذن کہ اُ س کے ساتھ اُ س کے مددگاروں کو بھی حُطمہ میں ڈال دیا جائے گا سو یہ بھی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ کس طرح ایٹم بم نہ دوستوں کو چھوڑتا ہے نہ دشمنوں کو نہ مددگاروں کو۔ اعاذنا اللہ منہا ومن سائر وجوہ العذاب۔

(۳)  ”لینبذن میں  نبذ(پھینکنا)کا استعمال اہانت پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ وہ مال جمع کرنے والا کافر اپنے آپ کو صاحبِ عظمت سمجھتا ہے۔(تفسیر الکبیر)       آج دنیا میں امیر اور مہذب قومیں اپنے آپ کو بہت ہی معزز اور عظیم سمجھتی ہیں مگر جو مٹی ایٹمی حملے میں شہروں کی اور شہریوں کی پلید ہوتی ہے اُ س سے توبہ بھلی۔ ایٹم بم کا دھماکہ اس بری طرح سے لوگوں کو اُ چک کر پھینکتا ہے کہ کوئی کسی کو کیا پھینکے گا اور پھر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر جب طوفانی رفتار سے اِدھر اُدھر اُ ڑ کر لوگوں کے سروں اور چہروں پر لگتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چیلیں کسی پر کیا جھپٹیں گی۔آہ۔ بے چاری انسانیت یہ تھا تیرا انجام۔  افسوس۔ در۔ افسوس۔

  حُطَمَہ کے متعلق تفسیر ی نکات:

 (۱)  ”حُطمہ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جیسے کہ اسکو جہنم ،سقر اور لظی کہا گیا ہے“۔  (تفسیر الکبیر۔ تفسیر طبری)

 (۲)  ”حُطَمَہ آگ کے ایک طبقے کا نام ہے“۔(تفسیر القرآن العظیم)

(۳)  ”یہ آگ کا دوسرا درجہ ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

 (۴)   ”تحطم ای تکسر یعنی توڑ پھوڑ دیتی ہے“۔(تفسیر الجلالین)

(۵)  ”مبرد نے کہا یہ ایسی آگ ہے کہ جو شے بھی اس میں ڈالی جائے اُ سکو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہے“۔(تفسیر الکبیر)

(۶)  ”میرا گمان ہے کہ اس کا نام حُطَمَہ اس لئے رکھا گیا کہ اس میں جو چیز ڈالی جائے اُ سے زرہ زرہ کر ڈالتی ہے جس طرح کہ پیٹو آدمی کو کہتے ہیں رجل حطمہ“۔ (تفسیر طبری)

 (۷)   ”جو چیز بھی اس میں ہو اُ سے پیس ڈالتی ہے“۔(تفسیر القرآن العظیم)

(۸)   حضورﷺسے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا”فرشتہ کافر کو پکڑے گا پھر اس کی پیٹھ کو توڑ دے گا جس طرح لکڑی گھٹنے پررکھ کر توڑی جاتی ہے   پھر اس کو آگ میں پھینک دے گا“۔ (تفسیر الکبیر)

(۹)  ”مقاتل نے کہا۔ وہ آگ ہڈیوں کو توڑ ڈالتی ہے گوشت کھا لیتی ہے حتٰی کہ دلوں پر حملہ آور ہوتی ہے“۔(تفسیر الکبیر)

(۱۰)  ”رجل حطمہ سخت پیٹو آدمی کو کہتے ہیں جو پوری قوم کی خوراک چٹ کر جاتا ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

   ھمزہ اور حطمہ میں مشابہت:

 (۱)  ”فرمایا اگر تو ھمزہ لمزہ (چغلخور اور عیب جو) ہے تو تیرے پیچھے حطمہ ہے“۔

(ب)  ”ھمزہ لمزہ آنکھ توڑ کر(آنکھ سے اشارہ کرکے) لوگوں کو پستی میں گراتا ہے  اور حُطمہ ھمزہ کو توڑ کر جہنم کی پستی میں ڈالتا ہے“۔

(ج)  ”ھمزہ تو صرف آنکھ سے اشارہ ہوتا ہےمگر حُطمہ تو کچھ بھی نہیں چھوڑتا“۔

 (د)  ”ھمزہ(غیبت کرنے والا) لوگوں کا گوشت کھاتا ہے اور حُطمہ آگ کا نام بھی ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ جِلد اور گوشت کو کھاتی ہے“۔(تفسیر الکبیر)

تطبیق:

(ا)   ”حطمہ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے کہ اس کو جہنم ،سقر اور لظی کہا گیا ہے“۔(تفسیر الکبیر۔تفسیر طبری)

  حُطمہ آگ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کا نام ایٹمی آگ ہے۔  حُطَمَہ یعنی نارِ حِطمئی اور اس ترکیب یعنی نار حِطمئی کا ترجمہ ٹھیک ٹھیک ایٹمی آگ ہے جسے انگریزی میں اٹامک فائر (Atomic Fire) کہا جاتا ہے۔

 (۲)   ”حطمہ آگ کے ایک طبقے کانام ہے“۔(تفسیر القرآن العظیم)۔

 حُطمہ یعنی ایٹمی آگ واقعی آگ کا ایک طبقہ ہے اور عام آگ سے الگ خواص کاحامل ہے اس کی پیدائش عام آگ سے مختلف طریقے پرہوتی ہے۔ ایٹمی آگ کے ساتھ لازماً تابکاری شعائیں پیدا ہوتی ہیں جو عام آگ کا خاصہ نہیں۔ ایٹمی آگ کے دو حصوں میں سے پہلا حصہ جو ایٹمی دھماکہ ہوتے ہی ہیٹ فلیش(Heat Flash) شعاع کش شعلہ انسان کے سارے بدن کو جلانے کی مہلت نہیں پاتا صرف کھال کو جلاتا ہے مگر دل پر چڑھ کر انسان کو ہلاک کرتا ہے اور ایٹمی آگ کا دوسرا جزو یعنی تابکار شعائیں عام آگ سے بالکل مختلف خواص کی حامل ہیں۔ وہ ہڈی کے گودے میں داخل ہو کر خون کے راستے دل پر حملہ آور ہوتی ہیں۔

 (۳)  ”حطمہ آگ کا دوسرا درجہ ہے“۔(تفسیر الکبیر)

 ایٹمی آگ کا ٹمپریچر کروڑوں درجہ سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جو انسانی تخیل سے بالا کی چیز ہے۔

(۴)  ”تحطم ای تکسر یعنی توڑ پھوڑ دیتی ہے“۔(تفسیرالجلالین)

 ایٹمی آگ ایٹم اور خلیے اور ہر چیز کو توڑ پھوڑ ڈالتی ہے۔

(۵)   مبرد نے کہا۔ ”یہ ایسی آگ ہے کہ جو شے بھی اس میں ڈالی جائے اس کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہے“۔(تفسیر الکبیر)

جن لوگوں کو ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی حملے کے متعلق کچھ بھی معلومات ہیں وہ جانتے ہیں کہ کس طرح ایٹمی آگ جو چیز بھی اس میں ڈالی جائے۔ اُ سے زرہ زرہ کر ڈالتی ہے بلکہ یہ آگ مادے کے ایٹموں تک پہنچ کر ایٹموں کو زرہ زرہ کر دیتی ہے۔عام آگ کسی چیز کے ایٹموں کو نہیں توڑتی۔ کوئی ان شہروں کی بلڈنگوں کو ریزہ ریزہ ہو کر پیونِد زمین ہوتے یا ہوامیں اُ ڑتے دیکھے جن شہروں میں ایٹمی دھماکہ کیا جائے بلکہ لوہے کے شہتیروں کو گیس بن کر ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھے تو اُ سے ا ن مفسرینِ کرام کی اس تشریح کی صحیح سمجھ لگے کہ ایٹمی آگ کے زرہ زرہ کر دینے والی خاصیت کے متعلق جو اُنہوں نے فرمایا وہ حیرتناک حد تک حقیقت کی سچی تصویر ہے اور پھر وہ دیکھے کہ کس طرح یہ آگ زمین کے ایک ٹکڑے کو اکھاڑ کر آسمانی بلندیوں تک لے جاتی ہے اوروہاں سے نیچے پٹکتی ہے اور کس طرح سمندر ایک ہنڈیا کی طرح اُ بلنے لگتے ہیں تو اُ سے آج چودہ سو برس بعد ایٹمی دھماکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد اُ ن پیچیدہ ترین کوائف کا علم حاصل ہو گا جو چودہ سو برس پہلے ان تربیت یافتگانِ رسول ﷺنے روحانی صداقتوں کے آئینے میں جھانک لئے تھے۔

(۶)  اور اُ س کی حیرانی بجا ہو گی جب وہ طبری علیہ الرحمہ کو صدیوں پہلے یہ کہتے ہوئے سنے گا کہ”میرا گمان ہے کہ اس کا نام حُطَمہ اس لئے رکھا گیا کہ اس میں جو چیز ڈالی جائے اُ سے زرہ زرہ کر ڈالتی ہے جس طرح کہ پیٹو آدمی کو کہتے ہیں رجل حطمہ“۔    طبری علیہ الرحمہ کے اس قول سے جو بات مترشخ ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح قرآنی سمندر کا ہر قطرہ یعنی قرآنی عبارت کا ہر لفظ اپنی جگہ معانی کے لحاظ سے نگینے کی طرح جڑا ہُوا ہے   اور کس طرح مفسر حضرات ان الفاظ کی تحقیق و جستجو کیا کرتے  تھے۔

(۷)  ”جو چیز بھی اس میں ڈالو اُ سے پیس ڈالتی ہے“۔ (تفسیر القرآن العظیم)  اور اس کے پسینے کاانداز یہ ہے کہ گرمی کی شدت سے ہر چیز کی بنیادی ساخت کو توڑپھوڑ کر گیس کی صورت ہوا میں اڑا دیتی ہے اور ایٹمی ساخت کے باریک ترین ذروں یعنی ایٹم کے الیکٹرا نز ،پروٹانز اور نیوٹرانز کو گڈ مڈ کرکے کسی عنصر کی قلبِ ماہیت کر سکتی ہے۔

(۸)۔حضور اکرم ﷺسے مروی ہے فرشتہ کافر کو پکڑے گا پھر اس کی پیٹھ کو توڑ دے گا جس طرح لکڑی گھٹنے پر رکھ کر توڑی جاتی ہے پھر اس کو آگ میں پھینک دے گا“۔ (تفسیر الکبیر)

اس مثال کی حقیقت کو کماحقہ سمجھنے کے لئے ہمیں بم کے دھماکے کے سائنسی اصول کو سمجھنا ہو گا کہ کس طرح دھماکہ چیزوں کو توڑتا ہے۔ دھماکے کی لہر کا اوّلین اثر کسی عمارت پر ایک بہت بڑے ہتھوڑے کی ضرب کا سا ہوتا ہے جب دھماکے کی لرزہ افگن لہر (SHOCK WAVE) عمارت کی دوسری جانب پہنچتی ہے تو عمارت مکمل طور پر لہر کے گھیرے میں ہوتی ہے۔ اس وقت دھماکے کے دباؤ کا کام اس عمارت کو دبا کر اسے کچل دینا ہوتا ہے۔ اب دیکھئے کہ دھماکے کا یہ عمل لکڑی کو گھٹنے پر رکھ کر توڑ دینے کے کتنا مشابہہ ہے۔ دھماکے کی لہریں عمارت اپنے گھٹنوں میں دبا کر توڑ دیتی ہے  عام بارودی بم کے دھماکے کی لہر انسان کی کمر کو توڑ نہیں سکتی کیونکہ آدمی کا جسم ہوا میں چلنے والی دھماکے کی لہر کے اثرات کو برداشت کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے  مگر بڑی قوت والے ایٹم بم محض دھماکے کی لہر سے انسانی جسم کو خطرناک نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انسان کے پھیپھڑوں سے خون جاری ہو جاتا ہے اور کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔ منہ اور ناک کے راستے خون رواں ہو جاتا ہے اور جسم کے اندر بھی جریانِ خون ہو جاتا ہے کیونکہ سارا جسم اندر سے کچلا جاتا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے۔

 (۹)مقاتل نے کہا ”وہ آگ ہڈیوں کو توڑ ڈالتی ہے، گوشت کھا لیتی ہے حتٰی کہ دلوں پر حملہ آور ہوتی ہے“۔ (تفسیر الکبیر)

 میرے خیال میں ایٹمی آگ کے دوسرے جز یعنی تابکار شعاؤں کے اثرات کی اس سے بہتر اور اس سے مکمل تفسیر ناممکن معلوم ہوتی ہے۔ سنئے:۔

 اگرچہ بم کے دھماکے سے گرنے والی عمارتوں میں موجود انسانوں کی ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں لیکن یہاں اس حقیقت کا نہیں بلکہ ایک اور حقیقت کا بیان مقصود ہے۔ ایٹمی توانائی اور ایٹمی دھماکے سے پیدا ہونے والی تابکار شعائیں طبعاً انسانی جسم کے اندر ہڈیوں پر حملہ آور ہوتی ہیں بلکہ سائنس دان ان شعاؤں کو بون سیکرز(Bone Seekers) یعنی ہڈی کو تلاش کرنے والی کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ شعائیں ہڈیوں کو باریک سوئیوں کی طرح چھید کر لاکھوں کی تعداد میں ہڈی کے گودے پر حملہ آور ہوتی ہیں اور گودے کو تہس نہس کر ڈالتی ہیں اور اُ سے بالکل ناکارہ کر دیتی ہیں۔ اب ہڈی کے گودے کا کام خون پیدا کرنا ہوتا ہے لیکن اس حملے کے بعد یہ گودا خون پیدا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ یہ شعائیں خون پر بھی حملہ آور ہوتی ہیں اور خون کے سرخ اور سفید ذروں کو تباہ کرکے خون کو بالکل مفسد بنا دیتی ہیں۔ یہ خون بدن کو پرورش کرنے والے مادے کی فراہمی نہیں کر سکتا  لہٰذا گوشت گلنا شروع ہو جاتا ہے اور انسان محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ہو کے رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ شعائیں دل پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ دل ایک شدید قسم کے عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ خون کی سپلائی صرف بند ہی نہیں ہو جاتی بلکہ جو مقدار خون کی اسے ملتی ہے وہ زہریلی ہوتی ہے اور اس طرح دل کے لئے سخت کوفت کا باعث ہوتی ہے۔

(۱۰)  ”رجل حطمہ“۔ حطمہ آدمی سخت پیٹو آدمی کو کہتے ہیں جو پوری قوم کی خوراک کو چٹ کر جاتا ہے“۔(تفسیر الکبیر)

حُطَمَہ( ایٹمی آگ) واقعی پیٹو ہوتا ہے اوریہ دور بھی سخت پیٹو دور ہے۔ پیٹو دور کے لئے پیٹو حُطَمہ بنا اور اس دور کے پیٹو ہونے میں کون سا شک باقی رہ گیا ہے۔ روئے زمین کا چپہ چپہ زیر کاشت ہے مگر پھر بھی بھوک نہیں مٹتی۔ وہ معادنی ذخائر جو جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے محفوظ پڑے تھے اور جو ہزاروں لاکھوں سال تک اگلے زمانوں کے خرچ کے مطابق انسانیت کے لئے کافی ہو سکتے تھے۔ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں خرچ ہو چکے ہیں۔ اب اندازے ہیں کوئی کہتا ہے تیل کے ذخائر دو سو پچاس سال کے اندر،تو کوئی کہتا ہے پچاس سال کے اندر ختم ہو جائیں گے۔ یہی حال دوسرے معدنی ذخائر کا ہے۔ جنگلی جانور جنگلوں سے معدوم ہو رہے ہیں۔ سمندر کی مچھلیاں خدا کی پناہ مانگ رہی ہیں۔ جنگلات ختم ہو گئے ہیں۔ دنیا میں لاکھوں دودھ دینے والے جانوروں کا دودھ ناکافی ہو رہا ہے۔ غرضیکہ جو چیز بھی دیکھو کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے اَلبَتَّہ دو چیزوں کی افراط ہے آبادی کی اور مسائل کی۔ اسی طرح حُطَمہ (ایٹمی جہنم) بھی سخت پیٹو ہے۔ایٹمی جنگ اس کے پیٹو ہونے کے کچھ ثبوت مہیّا کرے گی۔ یہ شہروں کے شہر ملکوں کے ملک کھا جاتا ہے اور ڈکار تک نہیں لیتا۔مٹی، زمین، پہا ڑ، جنگل جو بھی اس کی لپیٹ میں آتا ہے اس کے پیٹ میں اُ تر جاتا ہے اور یہ بات صرف ایٹم بم اور ایٹمی جنگ تک ہی محدود نہیں۔مجرد ایٹمی توانائی کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ اس کا رواج عام ہونے دیں آپ اس کے پیٹ کی وسعتوں کا کچھ اندازہ کر سکیں گے۔ بہت جلد دنیا کی آبادی کو یہ توانائی چن لے گی اَلبَتَّہ ساتھ ہی مسائل کی تعداد میں بھی کمی کر دے گی صرف ایک ہی مسئلہ انسانیت کے لئے رہ جائے گا اور وہ یہ کہ کس طرح اس عذاب زدہ زندگی سے رہائی پا کر اس ایٹمی دنیا کو خیر باد کہا جائے۔

(۱۱)” ھمزہ اور حطمہ میں مشابہت“(تفسیر الکبیر)

  ”اگر تو ھُمزہ ہے تو تیرے پیچھے حُطَمَہ ہے“۔

”اگر تو ھُمزہ ہے تو تیرے پیچھے حطمہ ہے“ کے معنی یہ ہیں کہ ھُمزہ سبب ہے اور حُطَمَہ اُ س کا نتیجہ ہے جیسے کہ کہا جائے اگر تو زہر کھائے تو تیرے لئے موت ہے جس طرح زہر کا تعلق موت سے اور جرم کا تعلق جیل سے ہے۔ اسی طرح ھمزہ کا تعلق حُطمہ سے ہے اور اگر آج کی انسانیت میں ھُمزہ والی صفت کے علاوہ مال جمع کرنے اور مال کو ہمیشہ رکھنے والا گمان کرنے کی صفت بھی موجود ہے تو یاد رکھئے دنیا کی کوئی طاقت اُسے ایٹمی جہنم سے نہیں بچا سکتی۔ الا آنکہ ان خصائل کی اصلاح کی جائے اور دولت کے بجائے دولت دینے والے خدا کو خدا مانا جائے۔

 (ب)  ’’ ھُمزہ آنکھ کو توڑتا ہے یعنی آنکھ سے اشارہ کرتا ہے اور اس طرح لوگوں کو پستی میں ڈالتا ہے اور اس کے بدلے میں حُطَمہ ھُمزہ کو توڑتا ہے اور جہنم کی پستی میں ڈالتا ہے“۔ یہی کچھ ایٹمی آگ کرتی ہے۔

(ج)  ” ھُمزہ تو صرف آنکھ سے اشارہ ہوتا ہے مگر حُطمہ تو کچھ بھی نہیں چھوڑتا“۔

ھُمزہ بھی آنکھ مارتا ہے اور ایٹم بم بھی آنکھ مارتا ہے لیکن ھُمزہ کی آنکھ سے تو معمولی نقصان ہوتا ہے اور ایٹم بم جب آنکھ بند کرکے کھولتا ہے تو کچھ بھی نہیں رہتا۔

    (د)  ” ھُمزہ غیبت کرنے والا لوگوں کا گوشت کھاتا ہے اور حُطمہ آگ کا نام بھی اس حیثیت سے ہے کہ وہ جِلد اور گوشت کو کھاتی ہے“۔

  حُطمہ کی آگ جلد اور گوشت کو کھاتی ہے  اور یہ خاصیت ایٹمی آگ کی ایک بنیادی امتیازی خاصیت ہے۔

تفسیر الجلالین میں حُطَمَہ کے بیان میں لکھاہے کہ حُطَمَہ کوھُمزہ سے لفظی اور معنوی مناسبت ہے۔ لفظی مناسبت اس طرح کہ ھُمزہ اور حُطمہ ہم وزن ہیں نیز تفسیر الکبیر میں لکھا ہے کہ ھُمزہ اور حُطمہ میں صوری  اتحاد ہے یعنی ھُمزہ اور حُطمہ ہم وزن ہیں اور یہ کہ اس آگ کا نام حُطمہ اس لئے رکھا گیا کہ ھُمزہ کی طرح یہ بھی آدمیوں کا گوشت کھاتی ہے۔ تفسیرِ طبری میں طبری علیہ الرحمہ نے لکھا ہے۔”کہ میرا گمان ہے اسے حُطمہ اس لئے کہا گیا ہے کہ جوکچھ اس میں ڈالا جاتا ہے اُ سے توڑ پھوڑ دیتی ہے جس طرح پیٹو کو الحطمہ کہا جاتا ہے“۔ یہ اشارے واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ حُطمہ کا نام حُطمہ رکھنے کی صوری اور معنوی وجوہ ہیں۔ حُطمہ کی جگہ کوئی دوسرا ہم معنی لفظ اس کی جگہ استعمال ہو سکتا تھا مثلاً کَسَرَ کا لفظ بھی وہی معنی دیتا ہے جو حُطمہ دیتا ہے اور ان دونوں لفظوں کی صرفی گردان بالکل متوازی چلتی ہے۔ حَطَمَ، کَسَر،َ حَطّمَ (ط پر شد)،کَسّر(س پر شد)، تحَطّمَ (ط پر شد)،تَکَسّر(َ س پر شد)، انحَطم َ انکَسر، َ انحَطام، انکسَا ر، حَاطم،ِ  کَاسرِ   حِطمہ،َ  کِسرہَ  اور یہ تمام الفاظ ایک دوسرے کے بالکل ہم معنی ہیں۔لہٰذا حُطَمَہ کی جگہ کُسَرہ کہا جا سکتا تھا لیکن اس طرح وہ صوری اور لفظی فائدہ جو حُطَمَہ کے استعمال سےھُمزہ اور حُطمہ میں صوتی مماثلت پیدا کرنے کے لئے متوقع تھا وہ حاصل نہ ہوتا۔ یہی مفسرین حضرات کی اس امر میں منشا ہے اور حکمت میں رچی بسی ہوئی ہے لیکن اس صوتی مماثلت کا ایک اور پہلو بھی ہے اور یہ پہلو مرورِ زمانہ کے ساتھ اور زندہ  حقائق کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔ حُطمہ کے لفظ کو اٹامک کے لفظ سے بھی قریبی مماثلت ہے اور یہ مماثلت صوتی بھی ہے اور معنوی بھی۔ حُطمہ کی ترکیب حطم سے مشتق ہے اور حطم سے اسم حطمہ بنتا ہے۔ حطمہ ایٹم کا ہم صوت ہی نہیں ہم معنی بھی ہے کیونکہ حطمہ کا معنی ذرہ ذرہ کرنا ہے جو ایٹم کامماثل ہے۔ حُطمہ کے لفظ کا استعمال اس مقام پر جہاں پر ہوا ہے۔  قرآنِ حکیم کا ایک کھلا معجزہ ہے۔ لوگوں نے ایٹم بم کی تخلیق کو سائنس کا ایک محیرالعقول معرکہ قرار دیا لیکن ایک معمولی فہم و ادراک کا مالک بھی یہ سمجھنے سے قاصر نہ ہو سکے گا کہ  قرآنِ حکیم کی ایٹم بم اور ایٹمی آگ کے بارے میں یہ پیشین گوئی سائنس کے اس معرکے سے بہت بڑھی ہوئی ہے اور یہ کہ یہ بات معرکہ نہیں اسے معرکہ کہنادرست نہیں یہ ایک کھلا ہوا معجزہ ہے جس سے انکار کی گنجائش صرف اُ س شخص کو ہو سکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی آیات اور اُ س کی تنبیہں بے اثر ہیں اور دوسری بات جو واضح ہے وہ یہ ہے کہ سائنس دان کے ایٹم بم سے قرآنِ حکیم کا ایٹمی توڑ کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ سائنس دان ایٹم بم کا رد نہیں بنا سکتے لیکن  قرآنِ حکیم نے اس کا موثر ترین رد پیش کر دیا ہے اور یہی اس انسانیت کی آخری اُ مید کی شعاع ہے اگر انسانیت کو ایٹمی تباہی سے کوئی طاقت بچا سکے گی تو وہ یہی   قرآنِ حکیم کی معجزانہ پیشین گوئی ہے۔ قارعینِ کرام کو ان اوّلین مفسرینِ کرام اور اللہ کے آخری رسول ﷺکے تربیت یافتہ صحابہ کرام  ؓ کے بصیرت افروز مقام کا بھی کچھ اندازہ ہو گیا ہو گا۔ یہ بات انہیں لوگوں پر صادق آتی ہے کہ مومن اللہ کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

یہ تو تھی حُطمہ اور اٹامک کے الفاظ کی صوتی اور صوری مماثلت باقی رہی۔ ان دونوں کی معنوی یگانگت تو اُ س کا ثبوت اُ ن خاصیتوں میں ملتا ہے جو قرآنِ حکیم نے حُطَمَہ کی بیان فرمادیں۔ خاصیتیں جو حُطمہ اور ایٹمی جہنم میں اس طرح مشترک ہیں کہ بال بھر بھی اُ ن میں فرق نہیں۔

 و ما ادرک ماالحطمہ  اور اے محمد ﷺ  آپ نے کیا جانا کہ حطمہ کیا ہے۔ ا س کے متعلق تفسیریں۔

تفسیر ابن عباس:

 ”اور کیا جانا اے محمد ﷺکہ حُطَمَہ کیا ہے۔ یہ فرمایا  حُطَمَہ کی عظمت جتلانے کو اور آگے حضور ﷺ کے سامنے اس کی حقیقت کو بیان فرمایا“۔

تفسیر الجلالین:

”اور کیا جانے تو اے محمد ﷺکیا ہے حُطَمَہ۔ یہ استفہام انکاری ہے اور نفی کے معنوں میں ہے یعنی تجھے معلوم نہیں اندازہ اُ س کی ھولناکی کا اور جو زبردست تنبیہ اُ س میں واضح ہے سوائے تیر ے رب کی وحی سے“۔

 تفسیر الکبیر:

”اور ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ھُمز اور لُمز کی دو صفتیں ذکر کیں اور ان کے مقابلے میں ایک اسم رکھا او ر فرمایا تم اپنی طرف سے دو کے مقابلے میں میری طرف سے ایک لو پس (یہ ایک) یہی کافی و وافی ہو گا تو گویا سائل پوچھتا ہے کس طرح ایک شے دو کے مقابلے میں پوری ہو سکتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔  وما ادراک ماالحطمہ۔تجھے کیا خبر کہ حُطَمہ کیا ہے۔ تو یہ بات اس لئے کہی کہ تجھے اس ایک کی حقیقت معلوم نہیں۔(تفسیر طبری)

 ”اور کیا جانے تو اے محمد ﷺ کیا ہے حُطمہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے محمدﷺکس چیز نے آپ کو آگاہ کیا کہ حُطمہ کیا ہے پھر خود اس کی حقیقت کے بارے میں اطلاع دی“۔(تفسیر القرآن العظیم)

 ”اور تو کیا جانے تو اے محمدﷺ کیا ہے حُطمہ“۔ تفسیر ختم۔

 تطبیق:

 یہ بات تو ہے آخرت میں پائے جانے والے حُطمہ کی اَلبَتَّہ اس دنیا میں پایا جانے والا ایٹمی جہنم بھی اس درجہ ھولناک ہے کہ اُ س کی ھولناکیوں کا بیان زبان وقلم کی دسترس سے باہر ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کے وہ بدنصیب جو ایٹمی بم سے موقع پر تو ہلاک نہ ہوئے وہ اس خوفناک سانحے کے بعد اس طرح ہو گئے گویا کہ گونگے ہیں، منہ میں زبان ہے مگر چلتی نہیں۔ جب اُ ن سے واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے کی غرض سے کوئی سوال پوچھتا تو وہ اس کی جانب اس طرح دیکھتے جیسے حیرت میں ڈوبے ہوئے موت کے منہ سے نکلے ہوئے بے زبان انسانوں کا ایک خوفزدہ گروہ ٹکٹکی باندھ کر شاکیانہ انداز سے دیکھتا ہے۔ وہ ہولناکی جو اُ نہوں نے دیکھی تھی اُ سے بیان کرنے کا اُنہیں یارا نہ تھا بھلا عذابِ الٰہی کو کون بیان کرے۔

 ایک اور سوال جو اس ضمن میں قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ بالفرض اگر قرآنِ حکیم ایٹم بم کا نام لے کر ایٹمی دھماکے کی تفصیلات بیان کرتا مثلاً یہ کہ وہ ایک مسالے سے چلے گا۔ مسالہ تھوڑی سی مقدار میں ہو گا اور اُ سے آ گ دکھانے کی ضرورت نہ ہو گی جب وہ مسالہ پھٹے گا تو اَ سی میل کے رقبے میں 80 میل سب عمارتوں کو پیونِد زمین کر دے گا اور دھماکے سے پورے علاقے کو ہلا کے رکھ دے گا اور قریب والی عمارتوں کو غبار کی طرح ہوا میں بکھیر دے گا اور ا ُ س ساری آبادی کو ختم کر دے گا۔ وہ دس میل کی بلندی تک اُ ٹھے گا اور پھر ا ُ س کا ستون دس میل اور اوپر اٹھ جائے گا۔ اُس میں سے اتنی آگ پیدا ہو گی کہ وہ شہروں کو بھسم کر کے رکھ دے گی۔ اُ س میں سے تابکاری شعائیں نکلیں گی جو انسان کے جسم میں داخل ہو کر اُ سے اندر سے ریزہ ریزہ کر دیں گی اور وہ ہوائی جہاز پر لاد کر لایا جائے گا۔ یہ جہاز چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر نو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُ ڑے گا۔ وہ ایسا زمانہ ہو گا کہ اُ س میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن ہوں گے۔ ریل گاڑیاں چلیں گی۔مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو گا کیمرے ہوں گے ٹیپ ریکارڈر ہوں گے۔ باتیں کرنے والی مشینیں ہو ں گی   جسے گراموفون کہا جائے گا توپیں ہوں گی، بندوقیں ہوں گی، تو پھر آپ ہی بتائیں کہ ایسی پیشین گوئی اُس دور میں اسلام کے لئے اور ایسی پیشین گوئی کرنے والے کے لئے کیا نتائج پیدا کرتی۔ وہاں تو صرف معراج کا معاملہ کئی ایک ضعیف العقیدہ مسلمانوں کے ارتداد کا باعث بنا اور ایسی باتیں جو ہم نے اوپر لکھی ہیں۔ بے شک ناقابلِ قبول اور مضحکہ خیز۔ نعوذ باللہ قرار دی جاتیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بات اس انداز میں کہی جیسے کسی چیز پر چادر کھینچ دی جاتی ہے کہ موجود بھی رہے پسِِ پردہ بھی رہےحتٰی کہ بعد میں اپنے وقت پر وہ چادر اُ ٹھ جائے اور نیچے سے اصلی حقیقت نمودار ہو جائے ۔

جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ ز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَo ٦٧

ترجمہ:۔ ”ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور تم جان لو گے“۔

(6 –الانعام-  67)

(ناراللّٰہ الموقد ۃ التي تطلع علی الافئدہ)(آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی  وہ جھانک لیتی ہے دل کو)  اس کے متعلق تفسیریں:۔

 تفسیر ابن عباس:

 نار اللہ الموقد ۃ التی تطلع علی الافئدہ۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو کافروں پر مسلّط کی گئی ہے جو دلوں پر اچانک چھا جاتی ہے۔ ہر شے کو کھا جاتی

ہے حتٰی کہ دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔

 تفسیر  الجلالین:

”اس کا قول اللہ کی آگ۔ آگ کی اضافت اللہ کی طرف آگ کی تفخیم اور عظمت کے لئے ہے۔ قولہ المسعرہ۔ اس کو تشدید اور تخفیف دونوں طریقوں سے پڑھا جا سکتا ہے یعنی ایسی سخت بھڑکائی ہوئی آگ ہے جس کے شعلے کبھی نہ بجھیں۔(قولہ التی تطلع علی الافئدۃ۔) یعنی دلوں پر چھا جاتی ہے اور ان کو باختہ کر دیتی ہے دلوں کا ذکر خاص کر اس لئے کیا کہ دل جسم میں سب سے زیادہ لطیف ہوتا ہے اور تھوڑی سی سختی عذاب سے بھی اس کو بہت زیادہ درد محسوس ہوتا ہے یا اس لئے دلوں کا خصوصی ذکر کیا کہ دل بدعقیدگی اور نیاتِ فاسدہ کا محل ہے اور بُرے اعمال کا منبع ہے۔(قولہ المھا) یعنی دل اور اس کے معنی یہ ہیں کہ دل بقیہ بدن کی نسبت زیادہ درد محسوس کرتا ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ جب درد(تکلیف)دل تک پہنچ جائے تو وہ آدمی مر جاتا ہے۔ پس وہ لوگ بھی (جن کو یہ دردناک عذاب پہنچے گا)۔ مرنے والوں کی طرح ہوں گے لیکن مریں گے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ آدمی دوزخ میں نہ مرے گا نہ زندہ رہے گا۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ آگ ان کے تمام جسم کو کھا جائے گی جب وہ دل تک پہنچے گی تو ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا پھر آگ ان کو کھانا شروع کر دے گی اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔

تفسیرالکبیر:

”اور اللہ تعالیٰ کا فرمان(ناراللہ) آگ کی اضافت تفخیم(عظمت)کے لئے ہے یعنی یہ ایسی آگ ہے جو دوسری تمام آگوں جیسی نہیں۔(الموقدہ) جو بھڑکائی گئی ہے جو کبھی نہ بجھے گی یا وہ آگ اس کے حکم سے بھڑکائی گئی ہے اور اُ س کی قدرت سے اور اس ضمن میں حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ تعجب ہے اس پر جو زمین پر اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور آگ اُ س کے نیچے بھڑک رہی ہے اور حدیث شریف میں ہے کہ جلایا گیا اس کو ہزار سال، یہاں تک کہ سُرخ ہو گئی، پھر اسے اور بھڑکایا گیا ہزار سال، یہاں تک کہ سفید ہو گئی، پھر اور ہزار سال بھڑکایا گیا یہاں تک کہ کالی سیاہ ہو گئی۔ اب وہ سخت سیاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول۔ التی تطلع علی الافئدہ۔ جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے۔ جان لے کہ طلع الجبل و اطلع علیہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اس پر بلند ہو(یعنی اوپر چلا جائے)۔ پھر اس آیت کی تفسیر میں دو وجہیں ہیں۔ پہلی: آگ ان کے پیٹ میں داخل ہو گی حتٰی کہ ان کے سینوں تک پہنچ جائے گی اور دلوں پر چڑھ جائے گی اور بدنِ انسانی میں دل سے زیادہ لطیف کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کوئی زیادہ درد محسوس کرنے والی شے ہے۔ جب کہ اسے تھوڑی سی تکلیف بھی پہنچے تو پھر خیال کیجئے کہ اس وقت کیا حال ہو گا جبکہ جہنم کی آگ دل پر چڑھ جائے گی اور اس کو گھیرلے گی پھر دل آگ سے مغلوب ہونے کے باوجود جلتا نہیں کیونکہ اگر جل جائے تو مر جائے اور یہی مراد اللہ تعالیٰ کے اس قول کی ہے(وہ دوزخ میں نہ مرے گا نہ زندہ رہے گا) اور اطلاع (تطلع) کا مطلب یہ ہے کہ آگ گوشت سے دل کی طرف اتر آئے۔(دوسری)  دل کو اس کے ساتھ مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دل کفر اور عقائدِ خبیثہ اور نیاتِ فاسدہ کی جگہ ہے اور جان لو کہ حضور اکرم ﷺنے فرمایا۔ ”بے شک آگ دوزخیوں کو کھائے گی جب اُ ن کے دلوں پر پہنچ جائے گی ختم ہو جائے گی پھر اللہ تعالیٰ دوبارہ ان کی ہڈیاں اور گوشت لوٹا دے گا“۔

 تفسیر طبری:

 ”نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدہ“۔ (اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو کہ دلوں پر چڑھ جاتی ہے)۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(کہ آگ ایسی ہے جس کا درد یا تکلیف یا تپش دلوں تک پہنچ جائے گی اور اطلاع اور بلوغ  (تطلع میں) دونوں ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

تفسیر القرآن العظیم:

”ناراللہ الموقد ۃالتی تطلع علی الافئدہ“  وہ اُ س کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے۔ ثابت بنانی نے کہا۔ وہ آگ ان کو دلوں تک جلا دے گی۔ حالانکہ وہ زندہ ہوں گے۔ پھر اُ س نے کہا۔ تحقیق اُ ن کو عذاب پہنچ گیا۔(سخت) پھر وہ رو دیا۔ محمد بن کعب نے کہا۔ آگ اُ س کے جسم سے ہر چیز کھاتی رہے گی۔ جب اس کے حلق کے برابر دل تک پہنچے گی تو اس کے جسم پر واپس لوٹ جائے گی۔  (تفسیر ختم)

  تطبیق:

ان تفسیروں میں بڑے بڑے نکتے مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱)  ”ناراللہ الموقد ۃ۔وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ (تفسیر ابن عباس)

اللہ کی بھڑکائی ہو ئی اس طرح ہے کہ اللہ کے اصولوں کی نافرمانی ہوئی اور نافرمانی ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث ہوئی۔ دوسری طرف وہ غلط خصلتیں جو ان لوگوں نے اختیار کیں۔ اُ نہوں نے ایندھن کی صورت اختیار کر لی۔ آج دیکھ لو۔

(۲) ناراللہ۔ اللہ کی آگ۔ آگ کی اضافت اللہ کی طرف آگ کی تفحیم کے لئے ہے۔ایسی شدید بھڑکائی ہوئی آگ ہے جس کے شعلے کبھی نہ بجھیں۔ (تفسیر الجلالین)۔

 تفحیم سے مراد یہاں ہولناکی کی شدت سے ہے۔ یہ ایسی آگ ہے جو کبھی نہ بجھے۔ اب آخرت میں جو حُطمہ ہو گا وہ تو آخرت کے خلود کے اصول کے ماتحت جب ایک بار بھڑکا دیا جائے گا تو کبھی بھی نہ بجھے گا مگر اس عارضی اور فانی دنیا میں بھڑکنے والا جہنم اس انداز میں تو ہمیشہ کے لئے نہیں بھڑکتا تاہم ایک لحاظ سے اس دنیا میں بھڑکنے والے ایٹمی جہنم کے شعلے بھی اسی اصول کو مدِّنظر رکھتے ہیں۔ وہ یوں کہ اگر ایک بار ایٹم بم کو چلا دیا جائے تو جب تک اُس کی آگ اپنا پورا عمل مکمل نہیں کر لیتی۔ اُسے بجھایا نہیں جا سکتا اور یہ عمل وہ زیادہ سے زیادہ دس سیکنڈ میں ختم کر لیتا ہے اور ایٹم بم کی آگ کا عمل یہ ہے کہ فوراً ابتدائی شعلہ ہیٹ فلیش (Heat Flash) نمودار ہوتا ہے۔ پھر دھماکہ ہوتا ہے جو آگ کا اثر ضرور لیکن ایٹم بم کی آگ کا حصہ نہیں۔ پھر تابکاری شعائیں پھوٹ پڑتی ہیں اور یہ سب کچھ دس سیکنڈ کے وقفے میں ختم ہو جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایٹمی دھماکے کے بعد خوفناک قسم کی آگ لگتی ہے جو شہروں کو بھسم کرکے رکھ دیتی ہیں لیکن یہ آگ اُ س گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو ایٹمی دھماکے کے ساتھ ہر طرف پھیلی اور اس کا تعلق ایٹمی آگ کے حقیقی اجزاء سے نہیں۔ دھماکہ بھی بم کے پھٹنے والی لہر سے پیدا ہوتا ہے اور شدت تو کروڑوں ڈگریوں کے ٹمپریچر سے واضح ہے۔

 (۳) ناراللہ۔  یہ ایسی آگ ہے جو تمام دوسری آگوں جیسی نہیں۔ (تفسیر الکبیر) ۔

واقعی ایٹمی آگ عام آگ سے قطعی مختلف چیز ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کی پیدائش ہی دوسری تمام آگوں سے مختلف طریقے پر ہوتی ہے۔ دوسری آگوں میں بالعموم کاربن یا کوئی گیس جلتی ہے لیکن ایٹمی توانائی ایٹم کے اجزاء کو بکھیرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا ٹمپریچر اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ کسی دوسری آگ کے بارے میں اُ س کا تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ایٹمی توانائی کا جزوِ لا ینفک یعنی ریڈیائی تابکاری صرف ایٹمی توانائی کا ہی خاصہ ہے۔ یہ بات کسی قسم کی توانائی مثلاً کیمیکل یا الیکٹریکل توانائی میں نہیں کیونکہ ان میں ریڈیا ئی تابکاری کا وجود نہیں ہے۔ یہ بات کسی دوسری آگ میں نہیں۔

 (۴) ”جلایا گیا اس (آگ) کو ہزار برس یہاں تک کہ سرخ ہوئی پھر ایک ہزار برس اور اس کو بھڑکایاگیا یہاں تک کہ سفید ہو گئی پھر ایک ہزا ر برس اور اسے بھڑکایا گیا   یہاں تک کہ کالی سیاہ ہو گئی“۔(تفسیر الکبیر)

یہ انکشاف بھی انتہائی تعجب خیز معلوم ہوتا ہے جس زمانے میں لوگوں کو چونے کی بھٹی میں جلنے والی سرخ آگ کے علاوہ کچھ علم نہ ہو اُ س زمانے میں ایسی بات کا کہنا ایک عجوبے سے کم نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ آگ کی رنگت کو ٹمپریچر کے درجے سے گہراتعلق ہے۔ ایک مشاق تھرموڈائنامیکل انجینئر آگ کی رنگت کو دیکھ کر ہی کسی حد تک آگ کے ٹمپریچر کا قیاس کر لیتا ہےلیکن یہ بات آج اس سائنس کے دور میں ہی ممکن ہوئی ہے۔  پُرانے زمانے میں یہ بات محال تھی۔ یہ ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہزار ڈگری ٹمپریچر پر آگ کی رنگت گدلی سرخ ہوتی ہے جب ٹمپریچر پندرہ سو سے اوپر اُ ٹھنا شروع ہوتا ہے تو آگ کی رنگت سفید ہو جاتی ہے اور پھر اُ س سے اوپر والا درجہ نیلی رنگت کا ہے۔ علیٰ ھذالقیاس اور آگ اپنے ٹمپریچر کی اُ ٹھان کے دوران کئی رنگ بدلتی ہے۔

 انھا علیھم موصدہ  فی عمد ممددہ۔  آگ ہے بند کی ہوئی ان پر لمبے لمبے ستونوں میں۔

(تفسیر ابن عباس):

”بند کی ہوئی ہے اُ ن پر لمبے لمبے ستونوں میں۔ فی عمدٍ ممدد ہ یعنی آگ کے ستون کافی گہرائی والے“۔

  تفسیر الجلالین:

”  آگ سلنڈر کی شکل کے ستونوں میں بھڑکائی جائے گی۔ گناہگاروں کو اُ ن کے بیچ میں ڈال دیا جائے گا  اور پھر سلنڈر ڈھانپ دیئے جائیں گے“۔

تفسیر طبری:

  ”انہا علیھم موصدہ “  (یہ آگ ہے اُ ن پر بند کی ہوئی)۔

 (۱)  دوزخ کے ایک حصے میں ایک آدمی ہو گا جو ہزار برس سے پکار رہا ہو گا یا حنان یا منان۔ اللہ اپنے رحم سے جبرائیل فرشتے سے کہے گا جاؤ اور اس میرے بندے کو آگ سے نکال دو۔ جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب جائے گا لیکن آگ کو اُن پر بند پا کر وہ واپس لوٹ آئے گا اور عرض کرے گا یا باری تعالیٰ آگ اُ ن پر بند ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ جاؤ اس کو کھول دو اور میرے بندے کو اس میں سے باہر نکال دو۔وہ آدمی اس طرح سے باہر نکال لیا جائے گا اور اُ سے جنت کے باہر ڈال دیا جائے گا حتٰی کہ اللہ تعالیٰ اُ س کے بال، گوشت اور خون کو پھر سے اُ گا دے گا۔

(۲)”مجرموں کو پہلے سلنڈروں میں ڈال دیا جاتا ہے پھر سلنڈر اوپر کی جانب بڑھائے جاتے ہیں“۔

فی عمدممددہ۔ (لمبے لمبے ستون)

یہ آگ کے بڑے بڑے ستون ہوں گے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺکے صحابی کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم(صحابی) حُطمہ کی بحث کرتے اور یہ رائے ظاہر کرتے تھے کہ وہ ایسے ستون ہوں گے جن کے ذریعے مجرموں کو آگ سے سزا دی جائے گی۔

  تفسیرالقرآن العظیم:

”فی عمد ممددہ“   لمبے لمبے ستون

بعض نے کہا کہ یہ ستون لوہے کے ہوں گے۔ دوسروں کی رائے یہ تھی کہ یہ آگ کے ہوں گے“۔

 تطبیق:

 اس جدید دور کے باشندوں کے لئے اُ ٹھی ہوئی چمنیوں، بموں کے دھماکوں اور ایٹم بم کے کئی میل اونچے کھچے ہوئے ستونوں میں کچھ زیادہ تعجب کی بات نہیں مگر چودہ سو برس پہلے عرب میں رہنے والے لوگوں کے ذہن کی کیفیت اس معاملے میں عجیب و غریب ہو گی۔ بہر حال اوپر کی جانب کھچتا ہوا ستون ایٹمی بم کے دھماکے کی ایک خاصیت ہے اور یہ جو حضرت جریر طبری ؒنے ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے کہ دوزخ میں اُ س کے بال جھڑ گئے تھے۔ گوشت کھایا گیا تھا اور خون خشک ہو چکا تھا۔ یہی علامتیں تابکاری کے اثر سے بھی پیدا ہوتی ہیں،بال جھڑ جاتے ہیں، گوشت کھایا جاتا ہے اور خون خشک ہو جاتا ہے۔

ایٹمی آگ ، ایٹمی توانائی  اور ایٹم بم کی پیدائش کے اسباب:

قرآنِ حکیم نے ایٹمی آگ کی پیدائش کے تین اسباب گِنوائے ہیں:۔

i  )  طعنہ زنی اور عیب جوئی۔

ii)  دنیاوی مال اور دولت اکٹھا کرنا اور گن گن کر رکھنا۔

iii )  دولت کی بے انتہاء محبت اور اُ س کی ہمیشگی میں اعتقاد۔

 بدقسمتی سے تینوں کے تینوں خواص دورِ حاضر کے بنیادی خواص ہیں۔ طعنہ زنی اور عیب جوئی کو پروپیگنڈے کا نام دے دیا گیا ہے۔ ہر وقت ہر جگہ اور مسلسل دنیاوی مال و ودلت کو جمع کرنا اس دور کی بنیادی خاصیت ہے۔ دولت کی اس حد تک پرستش کہ اسے لا فانیت کی خاصیت عطا کرنے کے اہل قرار دینا بھی اسی دور ِجدید کی اساسی خاصیتوں میں سے ایک ہے۔ دنیاوی مال و دولت کی آرزو اگرچہ انسان کی فطرت میں ودیعت ہے تاہم جس مخصوص انداز اور جس عدیم النظیر حد تک اس کے حصول اور اس کے جمع کرنے کا اہتمام اس ماڈرن مادہ پرست دور میں ہُوا ہےایسا کبھی بھی کسی بھی دور میں نہیں ہوا تھا۔ دولت کا اقتدار اس دور میں اس حد کو پہنچ چکاہے کہ دولت د ینے والے خدا کی جگہ دولت ہی کو لائقِ پرستش سمجھ لیا گیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ تینوں عیب جو ا ُ وپر بیان ہوئے ہیں۔ اس دور میں عیب ہی نہیں گردانے جاتے۔ اگر کسی سے کہا جائے کہ ان کی سزا ایٹمی جہنم ہے تو وہ بے چارہ ہرگز اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے گا اور وہ اپنے مذہب کی رُ وسے ضروریاتِ زندگی کے حصول کے جواز کی سندات پیش کرنے لگے گا۔ بہرحال یہ جان لیا جائے کہ ان تینوں متذکرہ بالا عوامل کی عدم موجودگی میں کبھی بھی  ایٹمی آگ کا انکشاف اور ایٹمی بم کی تعمیر نہ ہو سکتی۔ امریکی حکومت اگر رحم کی وجہ سے نہیں تو کم از کم دانشمندی کے تقاضوں کے طفیل کبھی بھی ایٹم بم جیسے غیر یقینی اور بے حد نامعقول پروجیکٹ کے لئے امریکی دولت وقف نہ کرتی۔ اگر اُ ن کے پیشِ نظر یہ خیال نہ ہوتا کہ غالباً جرمنی کی خفیہ ہتھیار کی دھمکی یہی ایٹم بم کی دھمکی تھی اور اگر جرمنی ایسا بم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو اتحادیوں کی تباہی اور شکست یقینی تھی۔ اس کے بعد امریکی حکومت کبھی بھی ہائیڈروجن بم بنانے کی کوشش نہ کرتی اگر اُ ن کویہ یقین نہ ہو گیا ہوتا کہ روس ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ یہ بات یقیناً پروپیگنڈے سے پیدا ہونے والے باہمی عدمِ اعتماد کا نتیجہ تھی اور مال ودولت کی خواہش اور حفاظت کے خیا ل کا بھی حصہ اس میں موجود تھا نیز امریکہ کی جمع در جمع اور انبار در انبار دولت اور اعلیٰ ترین فنی اور سائنسی صلاحیتوں کے بغیر کبھی بھی ایٹم بم نہ بن سکتا تھا۔ یہ مال و دولت کی بہتا ت ہی تھی جس نے ایٹم بم جیسی دولت طلب شے کا بننا ممکن بنا دیا اور اس طرح انسانیت کے نیست و نابود ہو جانے کاسامان مہیّا ہو گیا۔ ایٹم بم کیا بلا ہے۔ اس کا تھوڑا سا اندازہ جاپانی لو گو ں کو ہے اور ایٹمی آگ کیا بلا ہے۔ اس کا اندازہ اُ ن لوگوں کو ہو جائے گا جن کے درمیا ن یہ آگ  اپنی پوری  قوتوں کے ساتھ اپنی پوری صلاحیتوں کو اُ جاگر کر رہی ہو گی۔ ابھی تک لوگ اسے دو ر کی کو ڑی تصّور کرتے ہیں مگر سائنس نے دوریاں مٹا دی ہیں اور وقت کے شہسوار کوبرق رفتاری عطا کر دی ہے اوراگلی بات یہ ہے کہ لوگوں نے دولت کو لا فانیت عطا کرنے والا سمجھ لیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ لو گوں نے ایٹمی توانائی  برائے جنگ ا ور برائے امن کے مہلک اثرات کو سمجھنے کے باوجود ایٹمی توانائی اور ایٹمی بم سے آنے والی موت کے خیال کو پسِ پشت ڈال کر ایٹمی توانائی برائے امن سے استفادہ کرنے کاتہیّہ کر لیاہے۔ صرف اور صرف اس لیے کہ ایٹمی توانائی اُ ن کے دنیاوی مال و دولت میں ہونے والی متوقع کمی کو پورا کرنے کے امکانات کی حامل ہے۔ یہ ا لگ بات ہے کہ جس  زہریلے سمندر میں وہ کودنے کا ارادہ  رکھتے ہیں۔ وہ انہیں استفادے کی مہلت دے یا نہ دے۔

اس سے پہلے کہ ہم اس ضمن میں کچھ کہیں ایک خاص نکتہ جو بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایٹمی فنامینن (جو کہ ایٹم بم اور ایٹمی تباہی کی بنیاد ہے) کا انکشاف اس جدید سائنس کی مخصوص سٹرک پر ایک لازمی پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے لازمی اسی مقام پر ہی منکشف ہونا تھا اور اس جدید سائنس کی سڑک اس جدید ترقی کی مخصوص سڑک کے ساتھ مل کر اور متوازی انداز میں چلتی رہی ہے اوریہ دونوں ایک ہی پروگرام کے ماتحت باہمی طور پر ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہوئی ایک مخصوص  لازمی منطقی منزل کی جانب بڑھی ہیں۔ یہ راہ اور یہ منزل اس کے سوا کوئی دوسری نہیں ہو سکتی تھی جو ہے یعنی ایٹمی مادہ پرستی کی راہ اور ایٹمی تباہی کی منزل۔ سائنس نے وہی انکشاف کئےجو مادی ترقی میں معاون ہو سکتے تھے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے سہارے آگے بڑھیں۔

سائنس کی دنیا سے اب ہم  فلسفے کی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں تاکہ وہ خاصیتیں جو  قرآنِ حکیم نے اُ ن لوگوں کی بیان فرمائی ہیں جو ایٹمی جہنم کے مستحق ٹھہرے زیرِ بحث لائی جا سکیں یعنی وہ اسباب جن کی بنا پر ایٹم بم بنا بیان کئے جائیں۔ وہ اسباب جنہوں نے سائنس کے انکشافات کو ایسے دھاروں پر ڈال دیا جو منزل بہ منزل، پٹڑی بہ پٹٹری چلتے ہوئے بالآخر اپنی حقیقی منزل یعنی ایٹمی جہنم تک جا پہنچے۔ قرآنِ حکیم نے یہ اسباب اپنی پیشین گوئی کے شروع میں بیان کر دیئے لیکن ہم نے ارادتاً ان کو ایٹمی جہنم کے بیان کے بعد زیِر بحث لانا مناسب سمجھا تاکہ شائد قاری ایٹمی جہنم کے جملہ مظاہر سے کماحقہ واقفیت پیدا کر لینے کے بعد ان اسباب کو سمجھنے کے لئے آمادہ ہو جائے جو انجام کار اس درجہ تباہ کن امکانات کی صورت میں نمودار ہوئے جنہوں نے انسانیت کو ایک عالم گیر اور عدیم النظیر بربادی کے کنارے لا کھڑا کیا۔ ایسا کنارہ جہاں سے ایک قدم آگے نیچے ایٹمی جہنم بے چاری خوفزدہ انسانیت کو دیکھ دیکھ کر غُرا رہا ہے۔ ہاں وہی اسباب جو اِن خوفناک مظاہر کی عدم موجودگی میں بالکل معمولی اور کسی اہمیت کے حامل متصّور نہ ہوتے۔

ایٹمی آگ، ایٹمی توانائی کی پیدائش اور اس کے ثمر ایٹم بم کے ظہور کو ہرگز کوئی حادثاتی یا اتفاقی معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ آفت اسباب و علل کے ایک مسلسل اور غیر منقطع عمل کی پیداوار ہے۔ ایک ایسا سلسلہ جس کی ہر کڑی نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں نمایاں ہے۔ اٹامزم کی پچیس سو سالہ تاریخ میں صرف دو موقعے ایسے آئے ہیں جن میں حادثاتی یا اتفاقی ہونے کا ہلکا سا اشتباہ ہو سکتا ہے۔ ان دو موقعوں میں سے پہلا موقع ہے1895 ء میں جرمن فززسسٹ رونٹجن(Roentgen) کے ہاتھوں ایکس رے کا اتفاقیہ انکشاف۔ دوسرا موقع وہ ہے جب فرانسیسی فززسسٹ بیکرل  (Becquerel)نے اپنی تحقیق کے عنصر کے طور پر یورانیم نائٹریٹ  (Uranium Nitrate)کو اُ س وقت چُن لیا جب وہ ایکس رے اور اس سے پیدا ہونے والی چمک کے درمیان موجود تعلق کی تلاش میں مصروف تھا۔یہی چناؤ1896 ء میں ریڈیائی تابکاری کے انکشاف کا باعث ہوالیکن کیا واقعی یہ دونوں واقعے حادثاتی یا محض اتفاقی تھے۔ وہ فلسفی جو زمین اور زندگی کے ظہور کو اتفاقی یا حادثاتی بتاتا ہے وہ تو شائد ان متذکرہ بالا دو واقعوں کو بھی ا سی زمرے میں شامل کر لے گا لیکن ہمیں تو ان واقعوں میں اتفاق کا عنصر اس قدر ہی نظر آتا ہے جتنا کہ کبوتر پر باز کی جھپٹ کے پیچھے رہنما قوت کے کردار میں یا اُ س قوت میں جو جاسوس کُتے کو چور کے گھر کا پتہ دیتی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کیوں نہ اتفاق نے مسٹر رونٹجن یا مسٹر بیکرل کو کسی ایسی چیز کے چناؤ یا انکشاف کی جانب ڈال دیا جس میں غارت گری کے وہ خصائص موجود نہ ہوتے جو ایٹمی آگ میں موجود ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر جو تعلق ہم نے ایٹم بم اور اُس کی پیدائش کے اسباب کے متعلق لازم قرار دیئے ہیں وہ غلط قرار دیئے جاتے۔ایٹم بم بے شک اٹامزم کے اُ س درخت کا پھل ہے جو ڈیموکرٹس نے 500 قبل مسیح میں  لگایا تھا یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اٹامزم کی اُ س مرغی کا انڈا ہے جو ڈالٹن نے اُنیسویں صدی میں پالی تھی۔اس انڈے کی ساری سرگذشت اوّل سے آخر تک یعنی حمل سے وضع حمل تک ٹھیک ٹھیک  ڈیلٹن سے لے کر اوپن ہیمر تک سارے اٹامسٹوں کے انکشافات میں دیکھی جا سکتی ہے جب تک تو اٹامزم کے لئے جب یہ  2500سال منصہء شہود پر آیا۔ ماحول ناسازگار رہا تو یہ دبا رہا لیکن صدیوں بعد جب حالات نے پلٹا کھایا اور آب و ہوا اس کے لئے موافق ہو گئی تو اس کی نشوونما شروع ہو گئی اور یہ بڑھا اورپھل لایا۔ جب تک انسانی معاملات میں مذہب کا عمل دخل کافی رہا اور مذہب کی حیثیت ایک حکمران طاقت کی سی رہی ایٹامزم کے لئے کوئی موقع نہ تھا لیکن جوں جوں مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور مادہ پرستی کا قبضہ انسانی ذہن پر ہوتا گیا اور دولت جمع کرنے کی بڑھتی ہوئی ہوس نے دولت کی پرستش کا روپ دھار لیا اور ساتھ ہی طعنہ زنی اور عیب جوئی کی عادت اپنے کمال کی جانب رواں دواں ہو گئی تو اٹامزم کی مقبولیت کو چار چاند لگ گئے اور یہ اپنے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کی جانب تیزی سے اپنی منزلیں طے کرنے لگ گیا۔ وہ تین خصلتیں جو  قرآنِ حکیم نے ایٹمی جہنم (جس میں ایٹمی آگ اور ایٹم بم دونوں شامل ہیں) کی پیدائش کا سبب قرار دی ہیں اور جن کی اصلاح کر لینے سے ایٹمی تباہی کے اثرات سے بچا جا سکتا ہے اور ایٹم بم کے خطرات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے کیونکہ  قرآنِ حکیم کی پیشین گوئی قضائے مبرم اور مقدر کی صورت میں نہیں بلکہ ایک لحاظ سے ایک تنبیہ کی صورت میں ہے۔  قرآنِ حکیم نے فرمایا ہے:۔

(i)  ”ویل الکل الھمزہ لمزہ“  ”خرابی ہے ہر طعنہ زن، عیب  جو کی“۔  یہ سبب طعنہ زنی اور عیب جوئی کی عادت پر دلالت کرتا ہے اور اس دور کے انسانوں میں اکثر انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ عادت جاری  و ساری ہے۔

(ii)  ”جو دنیا کی دولت اکٹھی کرتا ہے اور اسے گِن گِن کر رکھتا ہے اور اسے باقاعدگی کے ساتھ بڑھاتا ہے“۔ اس کے معنی ہیں دولت جمع کرنے میں کلّی انجذاب اور اس بات سے انکار کس کو ہو سکتا ہے کہ یہ دور دولت جمع کرنے کے کلّی انجذاب کا دور ہے اور وہ کون ہے جو آج  دولت سمیٹنے کی فکر میں نہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ دولت دنیا میں جتنی بڑھ رہی ہے بھوک اور غریبی کا احساس اورحوادثِ زمانہ کا ڈر بھی ساتھ ساتھ اتنا ہی بڑھ رہا ہے۔

(iii)    قرآنِ حکیم کہتا ہے۔ ”وہ سمجھتا ہے کہ دولت اسے لا فانی بنا دے گی“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دولت کی حُب نے اُ سے اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ سمجھنے لگا ہے  کہ اُ س کی دولت اُ سے کبھی بھی مرنے نہ دے گی حالانکہ یہ طاقت تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ کسی کو لافانی کر دے اور یا پھر ا عمالِ صا لح کے صدقے میں صالح مرد کو اُ س کی موت کے بعد نیک نام سے یاد کیا جا تا ہے اور آخرت کو وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں میں رہے گا۔

 اب واضح ہے کہ طعنہ زنی اور عیب جوئی باہمی رواداری باہمی اعتماد اور باہمی ہمدردی کی قاتل ہے۔ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی دنیاوی معاملات میں کامل مشغولیت نہ تو اللہ کی یاد، موت کی یاد اور قیامت کی یاد کے لئے وقت ہی چھوڑتی ہے نہ ہی آرزو اور پھر خوب سوچئے اور بتائیے آج اس دنیا میں کتنے نفوس ہیں   جنہوں نے دنوں میں ،ہفتوں میں ،سالوں میں کبھی ایک بار بھی موت کو یاد کرکے ایک آنسو بہایا ہے۔ موت آج کس کو یاد ہے۔ اگر کوئی ایسا بشر روئے زمین پر موجود ہو   تو وہ زیارت کے قابل ہے۔ دولت پر اس درجہ اعتماد کہ اُ سے دیوی کا درجہ دے دیا جائے یقیناً دولت کے دینے والے خدا کی عظمت دل سے محو کر دے گا۔ مولانا رومؒ نے ایسے نہیں فرما دیا۔

ہم  خُدا    خواہی     و   ہم    دنیائے    دوں

ایں خیال است و محال است و جنوں

ترجمہ:۔ ”تو خُدابھی چاہتا ہے اور یہ دنیا بھی چاہتا ہے یہ خیال ہے یہ محال ہے یہ  جنوں  ہے“۔

            لوگ روائتی قارون کی طرح دولت کو اپنی اہلیت کا پھل سمجھنے لگ گئے ہیں اور دینے والے خُدا کا شکریہ دل میں نہیں لاتے اور پھر دولت کو اسی دنیا میں لافانی کردینے والی طاقت سمجھنے والے لازماً قیامت اور آخرت سے لا پرواہ ہو رہے ہیں اور جس نے قیامت کا انکار کیا اُ س کا ایمان کب مکمل ہو سکتا ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے۔

یہ تینوں خاصیتیں جو اوپر بیان ہو چکی ہیں۔ ہمیں افسوس سے برملا کہنا پڑتا ہے کہ اس موجودہ دور میں اس فراوانی سے اور اتنے مختلف رنگوں صورتوں اور شکلوں میں موجود ہیں کہ اس دور کا مقابلہ اس معاملے میں ہم کسی بھی گذشتہ عہد سے کریں تو اس دور پر ان کیفیتوں کی اتنی گہر ی، اتنی واضح اور اتنی مکمل چھاپ ہے کہ ہم بڑی احتیاط کے ساتھ ان کیفیتوں کو اس موجودہ دور کا خصوصی امتیاز تصّور کر سکتے ہیں لیکن اگر اس دور کے بندوں کو یہ حقیقت معلوم ہوتی کہ محض ان ہی خاصیتوں کی وجہ سے ان کا یہ مہذب دور ایٹمی جہنم کے کنارے کھڑا کانپ رہا ہے اورکل کلاں اگر ہوس کے ایک جھونکے نے ان کو ایٹمی جہنم میں دھکیل دیا تو کس قدر افسوس کھائیں گے اور کس تاسف کے ساتھ کہیں گے کاش ہم نے ہوش کیا ہوتا اور ہم ان خصلتوں سے دور رہے ہوتے   اور آج اس تباہی کا منہ نہ دیکھتے اور اے کاش ہم نے نہ ایٹمی توانائی ہی بنائی ہوتی   نہ ہی ایٹم بم بنائے ہوتے۔ تھوڑے پر شاکر رہتے اور زیادہ کی ہوس نہ کرتے اور کاش کہ آج اور ایٹمی جنگ کی ابتدا ء سے پہلے ہی وہ جان لیتے کہ وہ خاصیتیں جوقرآنِ حکیم نے اس امر میں بیان کر دیں اگر اِن لوگوں میں نہ ہوتیں تو ایٹم بم بنتا نہ ایٹمی   توانائی ہوتی۔ 

جان لیں کہ امریکہ کے لوگ کبھی بھی اتنے بے رحم ،اتنے سنگدل اور انسانیت سے اتنے بعید نہ تھے کہ خُدا کی مخلوق کی تباہی کے لئے ایٹم بم جیسا تباہ کن ہتھیار ایجاد کرتے۔(یہ بات اُ ن کو بہت بعد میں معلوم ہوئی کہ ایٹم بم خود اُ ن کو بھی تہس نہس کر دے گا اور ہو سکتا ہے کہ بم اُ ن کااپنا ہی چلایا ہوا ہو جو اُ نہوں نے دشمن کے ملک میں پھینکاہو)۔ یقیناً امریکہ کے لوگ اس درجہ ظالم اور سفاک نہ ہو سکتے تھے کہ عالم گیر بربادی کا اتنا مہلک طریقہ اختیار کرتے اگر اُ س وقت اُ ن کو یہ گمان نہ ہوتا کہ غالباً جرمنی ایٹمی بم بنانے کی تیاری میں مصروف ہے اوراگر اُ س نے یہ تباہی کادیو تیار کرلیا  تو پھر اتحادیوں کی خیر نہیں۔ نہ ہی امریکی ہایئڈروجن بم بناتے اگر اُ ن کو معلوم نہ ہو جاتا کہ اُ ن کے ایٹم بم کے مقابلے میں روس نے ایٹم بم تیار کر لیا ہے۔ نہ ہی روسیوں نے ایٹم بم جیسا خوفناک ہتھیار بنانے کی کوشش کی ہوتی اگر اُ نہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرتے نہ دیکھ لئے ہوتے۔ روسیوں نے امریکیوں کی یہ برتری توڑنے کے لئے سعی بسیار کے بعد ایٹم بم بنا لیا۔ اب آپ یہ اندازہ لگائیں کہ یہ ساری کاروائی باہمی بے اعتمادی کی بنا پر ہوئی اور باہمی بے اعتمادی ہی کے صدقے میں دنیا نے دنیا کا خطرناک ترین ہتھیار دیکھا اور باہمی بے اعتمادی ،طعنہ زنی اور عیب جوئی سے پیدا ہوتی ہے اور اس طرح  قرآنِ حکیم  کی بتائی ہوئی پہلی بات پایہء اثبات کو پہنچی۔ پھر جان لیں کہ امریکہ کی بے پناہ  بدوں از حد و شمار دولت کے بغیر کبھی بھی ایٹمی توانائی یا ایٹمی بم نہ بنایا جا سکتا۔ وہ دولت دن رات امریکی قوم نے جمع کی پھر بینکوں میں گِن گِن کر رکھی۔ پھر بڑے بڑے مادی منصوبے بنا ئے اور دن بدن اپنی دولت بڑھائی۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ماضی کے کسی بھی دور میں روئے زمین کے شہنشاہ، بادشاہ، رئیس اور سیٹھ ساری دولت کو اکٹھا  ڈھیر کردیتے اور چاہتے کہ اُ س سے تحقیق کے ذریعے ایٹمی توانائی کا گُر معلوم کیا جائے اور پھر ایٹم بم بنایا جائے تو وہ اُس ساری دولت سے ایٹم بم کا ایک پنجہ بھی نہ بنا پاتے اور یہ وہ دوسری بات ہے  جو  قرآنِ حکیم نے فرمائی اور پایہء اثبات کو پہنچی اور تیسری بات جو  قرآن ِ حکیم نے اس ضمن میں فرمائی ہے کہ دولت کا اعتبار الوہیت کے مدارج تک پہنچا ہوا ہو گا۔ اُ س کے متعلق اس قدر کہنا کافی ہے کہ یہ اُ سی اعتبار کی وجہ سے ہے کہ دولت ہمیں کبھی مرنے نہ دے گی کہ انسان ایٹمی توانائی اور ایٹم بم کی متوقع اور امکانی تباہ کاریوں کی حدود سے آشنا ہونے کے باوجود ایٹمی توانائی اورایٹمی بموں کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ یاد رکھیے۔ وہ خاصیتیں جو  قرآنِ حکیم نے اس ضمن میں بیان کی ہیں۔ اُ نہوں نے موجودہ انسانیت کو نشے میں دھت کرکے  اور زنجیروں میں جکڑ کر اندھا بھی اور مجبور بھی کردیا ہے حتٰی کہ انہیں ایٹمی جہنم نظر نہیں آ رہا اور یقیناً یہ لوگ ایسے ہی رہیں گے جب تک کہ یہ تین خصلتیں ان میں موجود رہیں گی اور بالآخر یا تو وہ ان خصلتوں کی اصلاح کر لیں گے اور یا پھر ایٹمی جہنم کے شعلوں کے نذر ہوجائیں گے اور وہ جو ایٹم بم کے شُعلوں اور دھماکوں سے بچ جائیں گے اُ ن کوایٹم بم کی ریڈیائی تابکاری کوہڑی کر کے چھوڑ دے گی ایک درد والا کہڑ اور کینسر لاعلاج پھر ان سائنس دانوں کو بلانا جو ،اَب طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ وہ خود یا تو لقمہ اجل بن کر نجات پا چکے ہوں گے اور یا کوہڑیوں، عجیب الخلقت مخلوق کے ٹولے میں شامل ہو کر کفِ افسوس مل رہے ہوں گے اور اپنی حماقتوں کو کوس رہے ہوں گے لیکن افسوس کہ آج اس دنیا والوں کو ایٹمی جہنم کے متعلق کچھ نصیحت کرنا ایسا ہی ہے  جیسے اُ س آدمی کو شراب کے بارے میں کچھ نصیحت کرنا جب کہ وہ نشے کی حالت میں ہو اور ہچکیاں لے رہا ہو اور ہچکیوں کے درمیان کبھی ڈی لارا لارا گا رہا ہو یا کسی مفروضہ دشمن کو گالیاں بک رہا ہو۔ نصیحت یا حد تو اُ س پر اُ سی وقت کارگر ہو گی جب وہ ہوش کی حالت کی جانب پلٹے گا لیکن ہیہات کہ ایٹمی جہنم کا یہ نشہ جس میں موجودہ دنیا مدہوش ہے۔ ایسا ہے کہ اگر اُترے گا  توایٹمی جہنم کے شُعلوں میں جا کر اُ ترے گا اَلبَتَّہ اگر اللہ تعالیٰ خود اپنی مہربانی سے کوئی معجزہ رونما کر دے اور یہ لوگ ہو ش میں آ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے لئے تو سب کچھ ممکن ہے  وگرنہ اب تو بقولِ حافظ۔”شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں حائل“والا معاملہ ہے اور ایٹمی جنگ کے شعلے ایک بار بھڑک اٹھے تو توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے۔

 بدقسمتی سے طعنہ زنی اور عیب جوئی کی عادت ہمارے اس موجودہ دور میں کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں۔ ہر آدمی ہر دوسرے آدمی کو طعنہ زنی کر رہا ہے۔ ہر دوسرا آدمی ہر تیسرے آدمی کی عیب جوئی میں مشغول ہے اور ہر طرف پروپیگینڈا ہے۔   انفرادی طور پر ،اجتماعی طور پر ،خفیہ انداز میں اور برملا اَلبَتَّہ ایک خاص بات جو ہمیں اس ضمن میں نظر آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ نئے دور کی نئی باتوں میں ایک بات یہ بھی ہے  کہ طعنہ زنی اور عیب جوئی کو بھی نیا انداز دیا گیا ہے یعنی طعنہ زنی اور عیب جوئی کو مہذب کر دیا گیا ہے۔ اسے جامہ ء تہذیب میں ملبوس کر دیا گیا ہے اور ایک خاص مہذب طریقے سے فرد فرد کے خلاف ،قبیلہ قبیلے کے خلاف، قوم قوم کے خلاف ،دنیا دین کے خلاف عیب جوئی میں مصروف نظر آتا ہے مگر کس لئے فقط اور فقط مال و دولت کے لئے  دنیوی جاہ و حشم کے لئے۔ اگر نظرِ غائر سے دیکھا جائے تو آج دنیا کے ہر گوشے میں کسی نہ کسی اندازمیں کسی نہ کسی کی عیب جوئی ہو رہی ہے۔ دور کیوں جایئے خود اپنے پاکستان میں حالات کو اس زاویہ سے دیکھئے اور کسی بھی اخبار کو اُ ٹھا کر پڑھئے  یہ دیکھئے یہ نوائے وقت کا 13 اکتوبر 1975 ء کا پرچہ ہمارے سامنے ہے۔ اس میں جناب مشیر کاظمی صاحب کی ایک نظم ہماری نظر پڑی۔ اس پر حلقہ نمبر6 لکھا ہے۔یہ کسی انتخابی حلقے کا نمبر معلوم ہوتا ہے۔ مشیر کاظمی صاحب نے ا س حلقے کی روداد کا نقشہ منظوم کیا ہے۔ اس میں سے چند شعر ہم قارعینِ کرام کی نذر کرتے ہیں۔ پھر اندازہ لگا لیجئے  اور کاظمی صاحب کے لئے دعائے خیر کیجئے۔فرماتے ہیں۔

ادھر بھیدی ہے گھر کا گھر کی باتیں کہنے نکلا ہے

وہ عقدے کھولتا جاتا ہے اور گھبرا رہے ہیں یہ

وہ کہتا ہے یہ چمچے ہیں بڑے صاحب کی ٹیبل کے

اُسی  کی  دیگ  کا  کڑچھا  اسے  بتلا  رہے  ہیں  یہ

حکومت اب بھی مل سکتی تھی مجھ کو اُس کا دعویٰ ہے

وہ  بھوکا  ہے  حکومت  کا   ادھر  فرما  رہے  ہیں  یہ

وہ کہتا ہے کہ نوابوں کا  یہ  دورِ حکومت  ہے

نمائندہ  وڈیروں   کا   اسے   بتلا   رہے   ہیں   یہ

سناتا ہے  وہ  افسانے  ادھر  جورِ  حکومت  کے

ستم اُس کی وزارت کے ادھر گِنوا رہے ہیں یہ

وہ کہتا ہے کہ میں اب دھاندلی ہونے نہیں دوں گا

تو  ٹیبلٹ  بکس  اُسکے  دور  کا  دکھلا  رہے ہیں یہ

وہ کہتا  ہے کہ  حق   مارا   گیا   پنجاب   والوں   کا

ٹکٹ  کا  ہے  یہ  سب چکر ادھر سمجھا رہے ہیں یہ

ادھر الزام  اس  پر  لگ رہا  ہے  غنڈہ گردی کا

ادھر بھی جھوٹے سچے کیس کچھ بنوا رہے ہیں یہ

اُسے  کہتے  ہیں  وہ  ہے  اژدھا  صوبہ  پرستی   کا

ادھر سوشل لزم کا زہر بھی پھیلا  رہے  ہیں  یہ

آخر میں کاظمی صاحب اس طعنہ زنی اور عیب جوئی کی عادت کو پاکستان کے لئے تباہ کُن سمجھتے ہوئے فرماتے ہیں۔

گھرا ہے آج پاکستان کیسی ہولناکی میں

کہاں منزل تھی اپنی اور کہاں لے جا رہے ہیں یہ

نیز16 اکتوبر کے نوائے وقت میں جناب حنیف رامے صاحب کا بیان پڑھیے۔    وہ فرماتے ہیں۔ ” پروپیگنڈے کا مقصد صرف جھوٹ پھیلانا ہے“۔ یہ ہیں وہ معنی جو اس دور کی عیب جوئی کی خاصیت نے اس بنیادی طور پر ایک نہایت ہی معصوم لفظ    ”پروپیگنڈا“ کو پہنا دیئے ہیں۔ ورنہ کسی بھی پہلے دور میں ہم یہ کہہ سکتے تھے وہ شخص اسلام کا پروپیگنڈا کر رہا ہے اور جب یہ کہتے تھے تو یہی سمجھا جاتا تھا کہ اسلام کی تبلیغ کر رہا ہے، روشنی پھیلا رہا ہے۔ 

 دولت کو  جمع کرنا، انبار کرنا، ڈھیر لگانا، بڑھانا اور اس کی پرستش کرنا

قرآنِ حکیم نے اُ ن لوگوں کی تین خاصیتیں جو بیان فرمائی ہیں اُ ن میں دو ہیں۔ دولت کو جمع کرنا اور پرستش کی حد تک اس پر اعتبار کرنا حتٰی کہ یہ گمان کرنا کہ اسے زندگی کو لازوال کردینے کی بھی قوت حاصل ہے۔ اب ہمیں کسی بیکن(Bacon) کسی مارکس(Marx) کسی میکالے(Macaulay) کی سوجھ بوجھ اس واضح ترین حقیقت کو سمجھنے کی خاطر اُ دھار مانگنے کی حاجت نہیں کہ دولت جمع کرنا اور دولت پر پرستش کی حد تک اعتماد کرنا اس ہمارے موجودہ مادی اور ایک خاص قسم کے مادی دور کی بنیادی خصوصیت ہے۔ایک عجیب بات جو آج اس دور کا ہر انسان اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر خوب سمجھتا ہے کہ آج اس دور میں کسی انسان کے لئے دولت کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں حتٰی کہ یہ دور کسی کوجنگل کی طرف بھاگ جانے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ یہ عجیب خاصیت اس دور کے خصوصی اقتصادی ڈھانچے اور قدرت کے مادی پہلو کو تسخیر کرنے کی خواہش اور جدوجہد کی بنا پر وجود میں آئی ہے اور اسی بنیادی قضیے کی بنا پربانڈ، انشورنس بینک، پاس بکیں، سیونگ اکاؤنٹ اور بیسیوں دوسری ایسی چیزیں وجود پذیر ہو گئی ہیں جو انفرادی اور اجتماعی صورتوں میں مستعمل ہیں اور قربان جایئے۔ قرآنِ حکیم کی بصیرت کے کہ جَمَّعَ کا لفظ جو اس نے ضمن میں استعمال کیا ہےاور جس کے انگریزی معنی اکیومولیشن(Accumulation) کے ہیں۔ آپ انگریزی ڈکشنری کو اٹھا کر دیکھئے۔ لکھا ہے کہ اس لفظ کے معنی ہیں دولت کو سود کے ذریعے سے بڑھانا اور کون نہیں جانتا کہ سود اس دور کے اقتصادی نظام کی بنیاد ہے اور اگر کسی پچھلے دور کا کوئی انسان آج اس دور میں آ کر اس نئے دور میں دولت کے حصول اور اس کے جمع کرنے کے طریقے دیکھے اور ساتھ ہی ان لوگوں کی بے تحاشا دوڑ دھوپ کا نظارہ کرےتو حیرت میں ڈوب کر رہ جائے لیکن وہ خوبصورت پردے جو اس دور نے ہر سرگرمی پر ڈال رکھے ہیں اور و ہ البیلے نام جو ہر تصویر کے لئے تجویز کر رکھے ہیں۔ اُ ن کے پیچھے چُھپی ہوئی بدنما حقیقتوں کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ظاہری علوم کی نہیں باطنی ایمان کی کفر دوز نگاہ کی ضرورت ہے اَلبَتَّہ دولت کی ہمیشگی کا اعتقاد پانچ سالہ منصوبوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

 بیکن نے یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کے اوائل میں جو نعرہ”قدرت کی طاقتوں کی تسخیر کی طرف“ دیا تھا۔ وہ جلد ہی”جمع دولت اور پرستشِ دولت“ کی صورت اختیار کر گیا۔ دولت ہی دل، دولت ہی دماغ، دولت ہی روح، دولت ہی جسم اور دولت ہی معبود قرار پاگئی مگر افسو س۔ ایک غلط دل، غلط دماغ، غلط روح، غلط جسم اور غلط معبود ثابت ہوئی۔ انسانیت ہر چیز سے آنکھ بند کر کے  دولت کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئی لیکن جب نمودار ہوئی تو بد حواسی کی ایک مجُسم صُورت، فکر و انتشار کی ایک مکمل تصویر، سانس پھولا ہوا، زبان لٹکی ہوئی، آنکھوں کے ڈھیلے آنکھ کے گڑھے سے باہر اُ بھرے ہوئے دولت دولت دولت پکار رہی تھی۔ آج جتنی دولت بڑھتی ہے اس کے ساتھ اتنی ہوس کی شدت، حرص کی حدت ،بھوک کا احساس، فقر و فاقے کا خوف اور دولت کے ضیاع کا ملال بڑھتا ہے۔ دولت کی ہوس کے تپ کی شدت کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ لوگ دولت کی خاطر اپنے آپ کو ،اپنے بیوی بچوں کو، اپنے دوست ،رشتہ دار، ہمسایہ کو، اپنے ملک و وطن کو بلکہ ساری انسانیت کو ایٹمی جہنم کے گڑھے میں دھکیلنے پر بھی کمر بستہ ہوں اور ایٹمی توانائی کی تباہ کن ریڈیائی شعاؤں کے بے پناہ مضر اثرات سے اس طرح آنکھیں بند کر لیں جس طرح شتر مرغ بھیڑیئے کے نمودار ہونے پر اپنا سر ریت میں ٹھونس لیتا ہے۔ اُنہیں دولت کی ضرورت ہے اور اُ نہیں بہر صورت حاصل کرنی ہے۔ یہی اس مادی دور کا دستور ہے۔ پچھلے زمانے میں چند لوگ اپنی اولاد کو افلاس کے ڈرسے ضائع کردیتے تھے۔ یہ بات سُن کر دل اُ داس ہو جاتے ہیں ،چہرے اُ تر جاتے ہیں لیکن آج اس مہذب دور میں افلاس کے ڈر سے نہیں بلکہ بالعموم دولت زیادہ کرنے کی ہوس میں آج کی جملہ انسانیت اپنے بچوں کو ایٹمی دیو کی بھٹی میں جھونک دینے پر تُلی ہوئی ہے۔ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں اور نہیں جانتا کہ میری ان کاوشوں کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا انسانیت کے لئے ایٹمی جہنم میں جھونکا جانا مقدر ہو چکا۔ کیا اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ان کو ہدایت کے راستے پر لا کر اس ابدی تباہی اور عدیم النظیر شرمساری سے بچا لے گا۔درحقیقت اس مہذب دور، اس علمی دور، اس سائنسی دور کے باشی اپنے رویئے سے اپنے آپ کو اُ ن گذشتہ ادوار کے باشندوں سے جنہیں یہ لوگ حقارت سے جنگلی، جاہل اور گنوار تصّور کرتے ہیں۔ کہیں زیادہ جنگلی کہیں زیادہ جاہل اور کہیں زیادہ گنوار ثابت کر رہے ہیں۔ بُرا ہو دولت کی اس درجہ ہوس کا بعض عرب جاہلیت کے دور میں اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردینے کے لئے بد نام ہیں مگر موجودہ دور کی ساری انسانیت کیا عرب ،کیا عجم، کیا گورے ،کیا کالے ،کیا کافر، کیا مُسلم سب کے سب ایٹمی جہنم کا گڑھا کھودنے میں مصروف ہیں۔ ایٹمی ایندھن جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ عنقریب سب کے سب  اس گڑھے میں بَھڑکی ہوئی آگ کی نذر ہو جائیں گے۔

 دولت کی دیوی کے یہ پرستار دولت کے بت کے یہ پجُاری جو اس گمان میں ہیں کہ دن بدن ان کی دولت بڑھتی جائے گی۔ پنچ سالہ منصوبے سے پنچ سالہ منصوبے تک ترقی ہوتی جائے گی حتٰی کہ ایک روز خود کفیل ہو جائیں گے اور اس طرح فکرِِِ معاش سے اور فکرِ فقر و افلاس سے نجات پا کر لازوال اور زندہ جاوید ہو جائیں گے  ۔یہ بھول رہے ہیں کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی چِتائیں تیار کر رہے ہیں۔ وہ باہمی نفرت، حسد، بغض اور خود غرضی جو اس دور کے بندوں کا وطیرہ بن چکی ہے۔ اس بات کی متقاضی ہے کہ از روئے انصاف ان کو ایسے ہی انجام سے ہمکنار کر دیا جائے۔  وَ ماَ ظلمونا ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ وہ اللہ پر نہیں بلکہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں۔ ایٹمی بم کا خطرہ ان پر مسلّط رہے اور ایٹم بموں کا جہنم بھڑکنے سے پہلے ایٹمی توانائی برائے امن کی ریڈیائی شعائیں اُ ن کی صحت کو غارت کرتی رہیں اور مُسلسل طاعُون بن کر اُ ن کو مبتلائے مصیبت رکھیں۔ ہر شخص ہر دوسرے شخص سے اس لئے متنفر ہو کہ شائد یہ شخص ریڈیائی تابکاری کا مریض ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ محض اپنے فضل و کرم سے اس دُ کھی اور مجبور انسانیت پر مہربانی فر ما کر انہیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے اور اپنے بچوں کے لئے ان کے دلوں میں ایسی شفقت پیدا ہو کہ اُ نہیں ایٹمی جہنم کی آگ کا ایندھن نہ بننے دیں۔

 اے اس دور کے دانشورو! انسانیت کے پاؤں کے نیچے کی زمین ایٹمی زلزلے سے جنبش کرتی ہوئی محسوس کرواوراس دلفریب جادوگرنی اس دولت کی دیوی کو دل کے مندر میں شانِ الوہیت سے جلوہ افروز دیکھو۔ الحق کہ ساری تاریخِ انسانی میں دولت کی ملکہ کی پرستش کبھی بھی اس اعتماد اور اس اتحاد سے نہیں ہوئی جتنی کہ آج ہو رہی ہے۔ آج موت کا لفظ انسانی ذہن کی لُغت سے نکل چکا ہے۔ آج قیامت کا یقین محض ایک خیال بن چکا ہے۔ خدا کا تصّور دلوں سے محو ہو چکا ہے لیکن اے فریب خوردہ لوگو! موت یقینی ہے ضرور آئے گی۔ موت کو روکنا دولت کے بس میں نہیں۔ قیامت ضرور برپا ہو گی۔ سزا و جزا کا مسئلہ اپنی جگہ اٹل ہے۔ خُدا ضرور موجود ہے۔ موجود تھا اور موجود رہے گا۔ صرف تمھیں چند روزہ ڈھیل دے کر تمھارا امتحان کر رہا ہے۔ قدرت کی تسخیر کے جوش میں قدرت والے کو بھلانے والو!قدرت تمھارے سارے منصوبوں کو بھسم کرکے راکھ بنا کر اُ ڑا دے گی لہٰذا  قدرت والے کے آگے جھُکو۔ قدرت نے جن رسولوں کو اپنا پیغامبر بنا کر تمھاری نصیحت کے لئے بھیجا اُ ن کی بات پر عمل کرو۔ تم کبھی بھی خدا کی دنیا سے بھاگ نہ سکو گے۔ تم کبھی بھی خُدا سے سرکشی کرکے فلاح نہ پا سکو گے۔ تم سے پہلے جو لوگ آئے اُ ن کا انجام دیکھ لو اور عبرت پکڑو۔

 جان لو کہ جب تک وہ تین بُری خصلتیں جو  قرآنِ حکیم نے ایٹم بم کی پیدائش کی بنیادی وجہیں قرار دی ہیں چھوڑ نہ دی جائیں گی اور جب تک دولت کی دیوی کے بُت کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ کی خدائی کومکمل طور پر تسلیم نہ کر لیا جائے گا اُ س وقت تک دنیا کی کوئی بھی طاقت تمھارا عقل و ہوش تمھارے امن کے عہدنامے، تمھاری عدمِ جنگ کی اپیلیں غرضیکہ کچھ بھی اس دردناک انجام ،اس قومِ لوط کے انجام، اس عاد و ثمود کے انجام اس خوفناک ایٹمی جنگ Nuclear War  (نیوکلر وار) کے انجام سے تمھیں نہیں بچا سکے گا۔ یہی دولت جسے تم نے زندگی کو ہمیشگی عطا کرنے والا سمجھ رکھا ہے۔یہی دولت تمھاری بربادی کے جھنڈے گاڑ دے گی۔ موت کا بُھولا ہُوا دروازہ کھول دیا جائے گا  اور موت ایک آندھی کی طرح تم پر لپکے گی اور تم کو چیخ و پکار کا موقع بھی نہیں مہیّا کرے گی۔ توبہ کے  دروازے بند ہو جائیں گے اور آخرت کا ہمیشہ رہنے والا ایٹمی جہنم اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیٹھ سے پیٹھ ملا کر کھڑا ہو گا تو کیا تم اب بھی اپنے ضمیر کے آئینے میں جھانکنے کی کوشش  نہ کروگے۔ کیا ابدی تباہی تمھارا مقدر ہو چکی ہے؟ کیا یہ تمھارا نشہ تمھیں قبر میں دھکیل دے گا؟ اور بے چارہ مسلمان! دوہرے عذاب کا مستوجب ٹھہرا۔ وہی ایمان جو اس کی نجات کا سبب ہو سکتا ہے۔ وہی ایمان اسے دوہرے عذاب کا مستحق ٹھہرائے گا۔ آپ پوچھیں گے وہ کیوں کر؟ میں کہتا ہوں۔وہ اس طرح کہ خود اسلامی شریعت میں آزاد کی سزا غلام سے دوگنی مقر ر ہوئی۔ دنیا کی قوموں کے درمیان امُتِ  مُسلمہ کا مقام آزاد کا ہے۔ اُ متِ مُسلمہ کا اللہ کے ساتھ عہد ہے،میثاق ہے۔ آخری اُ مت کا آخری میثاق ہے۔ خدا کی مخلوق کو ایٹمی جنگ سے بچانے کی ذمہ داری اُ متِ  مُسلمہ پر عائد ہوتی ہے۔ ہاں ضرور عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺنے فرمایا۔  بُرائی کو دیکھو تو ہاتھ سے روکو۔ ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو۔ایسا بھی نہیں کر سکتے تو ناپسندیدگی سے دوسری طرف دیکھو لیکن یہ آخری صورت ضعُفِ ایمان کی نشانی ہے۔ آج کا مسلمان اس دنیا کو ایٹم بم بنانے سے ہاتھ سے روکے۔ ہاتھ سے نہیں روک سکتا تو زبان سے روکے اور ایسا بھی نہیں کر سکتا تو کم از کم  قرآنِ حکیم کی یہ تنبیہ یہ پیشین گوئی جو ایٹمی بم کے متعلق ہے اسے دنیا کے کونے کونے میں پہنچا دے۔ ایٹمی طاقتوں کو برملا اس سے آگاہ کرے۔ ساری دنیا کو اس حقیقت سے روشناس کرائے۔ یہ بات بالخصوص اس پیشین گوئی تک محدود نہیں۔کیا  ہر مسلمان کا یہ فرض نہیں کہ دنیا کی ساری قوموں میں قرآنی تعلیمات کی تبلیغ کرے۔آپ کہاں سو رہے ہیں؟ کیوں غفلت کے پردے چھائے ہوئے ہیں؟ یاد رکھیئے۔ایٹمی جہنم قرآنِ حکیم کی رُو سے صرف کفار کے لئے نہیں اس میں مسلمان بھی گر سکتا ہے۔اس سورۃ  الھمزہ پر غور کریں اور مفسرین کی تفسیر پڑھیں اور للہ اپنی نجات کا کچھ سامان کریں۔ مسلمان کو دوزخ سے بالآخر نجات کا وعدہ ضرور ہے مگر وہاں تھوڑا سا عرصہ بھی رہنا کچھ قیامت سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنا فرض نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد مصطفّے ﷺکا صدقہ اُ متِ مُسلمہ پر رحم کرے اور نومولود بچے ؑ! تُو پیدا  ہوا  تو تُو رویا کہ ہائے افسوس میں اس دنیا میں ضروریاتِ زندگی کیسے پوری کر سکوں گا۔ اے معصوم بچے! کاش توُ سمجھ سکتاکہ تیرے والدین اور تیری طرح تجھ جیسے کروڑوں معصوم بچوں کے ماں باپ کس طرح دولت کی دیوی کے گرد ناچتے  ہوئے ایٹمی جہنم کی بھٹی کے لئے ایندھن جمع کر رہے ہیں جس میں تُو اور تیرے جیسے کروڑوں بچے ڈال کر بھون دیئے جائیں گے اور کاش کہ توُ ان شعلوں کو دیکھ سکتا جو غضبناک سانپوں کی طرح پُھنکار پُھنکار کر لپک رہے ہیں کہ کب یہ لوگ اور ان کے ساتھ ان کے معصوم بچے اس گڑھے میں گریں اور ان کے ڈنک کا نشانہ بنیں اور یہ سانپ اور یہ شعلے کیا ہیں؟ یہ وہی ہوس کی آگ ہے جو لوگوں کے دلوں میں بھڑ ک رہی ہے۔اسی آگ نے ایٹمی شعلوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔

 اور بے شک ان کی لاامتناہی ترقی کی اُ مید اور اُ ن کے پنج سالہ منصوبوں کے لا امتناہی سلسلوں کے خوش آئند تصّورات کی تصویر میں ہی ان کی ابدی زندگی کی آرزو گمان سے یقین کی صورت اختیار کرتی ہے۔ دولت کے بھروسے پر موت سے بے نیاز ہو کر اپنی روز افزوں اقتصادی ترقی کے مرحلے طے کرتے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ مرحلے وہ ابدالآباد تک اسی طرح طے کرتے جائیں گے اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو گا جیسا کہ قرآنِ حکیم نے فرمایا۔  یحَسبَُ َ  اَ نَ  مالہ اَ خلَدَ ہ    گمان کرتا ہے کہ اُ س کی دولت اُ سے ہمیشگی عطا کر دے گی مگر اے وائے  قرآنِ حکیم ان کے اس گمان کو غلط قرار دیتا ہے۔ اے بسا آرزو کہ خا ک شدہ  اور ان کا یہ دولت پرستی کا عمل ان کو ایٹمی جہنم میں جھونک کر ان کی ساری اُ میدوں پر پانی پھیر دے گا۔

جمع دولت کے متعلق قرآنِ حکیم کے نظریات

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰىهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَيْرًالَّهُمْط بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ط سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰـمَةِ ط وَلِلهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌعo

ترجمہ:۔ ”اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو اللہ نے ان کو دی ہے اپنے فضل سے کہ یہ بہتر ہے اُ ن کے حق میں بلکہ یہ بہت بُرا ہے اُن کے حق میں  قیامت کے روز وہ مال ان کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا جس میں بخل کیا تھا اور اللہ وارث ہے آسمان اور زمین کا   اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو“۔

(3 -آل عمران-  180)

وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللهِلا فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍلاo٣٤يَّوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ط هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَo ٣٥

ترجمہ: ”اور جو لوگ ذخیرہ کر چھوڑتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو نہیں خرچ کرتے اللہ کی راہ میں اُ ن کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دے جس روز کہ اُ س سونے اور چاندی پر آگ دہکائی جائے گی۔ دوزخ کی پھر داغے جائیں گے۔اس سے اُ ن کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں اور اُ ن سے کہا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے ذخیرہ کررکھا  تھا اپنے واسطے اب چکھو مزہ اپنے ذخیرے کا“۔

 (9 –التوبہ- 35-34)

اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِىْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ط ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ط فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌۭ مِّنْ رَّبِّهٖ فَٱنْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَط وَاَمْرُهٗۤ اِلَى اللهِط وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَo ٢٧٥يَمْحَقُ اللهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِى الصَّدَقٰتِ ط وَاللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْم٢ٍ٧o٦

ترجمہ ”جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کو اس طرح اُ ٹھیں گے جس طرح وہ شخص اُٹھتا ہے جس کے حواس جن نے لپٹ کر کھودیئے ہوں۔یہ حالت اُن کی اس واسطے ہوئی کہ اُنہوں نے کہا  سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسے کہ سود لینا حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری کو  اور حرام کیا ہے سود کو“۔

(2-البقرۃ-276-275)

 خاص کر مُندرجہ ذیل آیت ِکریمہ اس دور کے معاشرے کے بارے میں ہے۔ اسے  بڑے غور سے پڑھنا چا ہیئے۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍط حَتّٰۤي اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَo ٤٤فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاط وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo ٤٥

ترجمہ:۔”سخت ہو گئے دل ان کے اور شیطان نے وہ کام جو وہ کر رہے تھے بھلے کر دکھائے پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے اُ ن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے حتٰی کہ جب وہ اُ ن چیزوں پر خوش ہوئے جو اُ ن کو دی گئی پکڑ لیا ہم نے اُ ن کو اچانک پس اس وقت وہ رہ گئے نا اُمید“۔

(6-الانعام-45-44)

دولت کی پرستش نہ کرو۔

 وَاعْبُدُوْا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا۔

ترجمہ ”اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اُ س کا شریک نہ کرو“۔

(4-النساء-36)

دولت کی پرستش نہ کرو دولت دینے والے اللہ کی پرستش کرو۔

 لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلهِ الَّذِىْ خَلَقَهُنَّ۔ 

ترجمہ:۔ ”اور سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو اور  سجدہ کرو اللہ کو جس نے اُ ن کوبنایا“۔

(41 حم السجدہ 37)

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللهِط وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِط وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَلا اَنَّ اَلْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيْعًالا وَّاَنَّ اللهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِo ١٦٥

ترجمہ:۔ ”تاہم بعض لوگ وہ ہیں جو اوروں کو اللہ کے برابر بناتے ہیں ان کی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی اور ایمان والوں کو اس سے زیادہ تر محبت ہے اللہ کی   اور اگر دیکھ لیں یہ ظالم اس وقت کو جب کہ دیکھیں گے عذاب کہ قوت ساری اللہ ہی کے لئے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے“۔

(2 البقرہ  165)

بے اطمینانی کی آگ

 اس دور کا دل ایک ایسی بھٹی کی مانند ہے جس میں بے اطمینانی کی آگ اس طرح جل رہی ہے جس طرح کہ فژن چین ری ایکشن میں مبتلا ایک ایٹمی بھٹی جلتی ہے اور گرم سے گرم تر ہوتی جاتی ہے حتٰی کہ آگ کی شدت سے مجبور ہو کر ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ جاتی ہے۔ زندگی کی ظالم ضروریات، مادی آسائشوں کی دلگداز آرزوئیں،   بھوک اور افلاس کا خوف ایسے عوامل ہیں جو اس ایٹمی دور کی کمر توڑ رہے ہیں۔ اس دور کے مروّجہ نظریہ ء حیات یعنی ایٹمی نظریئے کے مادہ پرستانہ رویئے نے مسلسل اور روز افزوں تفکرات کی آگ بھڑ کا کر مفلوک الحال انسانیت کے دل کو ڈسنے کے لئے اقتصادی کوفت کے سارے افعی رہا کر دیئے ہیں اور مالی مشکلات کے ظالم اژدھاؤں کے سارے دانت تیز کر دیئے ہیں۔ مال و دولت کے انبار جتنے اونچے ہوتے جاتے ہیں بھوک کی آگ اتنی ہی تیز ہوتی جاتی ہے اور کوفت کی ٹیسیں اتنی ہی شدید ہوتی جاتی ہیں، افلاس و تفلیس کا خوف، بینک بیلنس کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کے ساتھ اُ سی نسبت سے بڑھتا ہے جس نسبت سے کہ بینک بیلنس کے اعدادو شمار بڑھتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی دولت اور بڑھتی ہوئی مادی آسائشوں میں اطمینانِ قلب ڈھونڈھنے والوں کی تمنائیں بالآخر ایک دلفریب سراب ثابت ہوتی ہیں۔ مادی   قلت کے کسی بھی پہلے دور میں ایسا اضطراب دیکھنے میں نہیں آیا جیسا کہ اس تسخیر ِکائنات کے مدعی دور میں ایسی ہمہ گیریت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اس عارضی دنیا کی پُر فریب نوعیت کے سبب اس سے نفور کا فلسفہ پہلے زمانوں میں انسان کی حرص کی آگ کو کسی حد تک قابو میں رکھتا تھا اور لوگ دنیا کی مشکلات کو کسی حد تک صبر سے برداشت کرنے کے عادی تھے مگر ایٹمی نظریئے والا یہ دور کسی بھی ایسے فلسفے کا مخالف ہے بلکہ اُ لٹا انسان کی حرص و طمع کی آگ کو بھڑکا تا ہے اور مال و دولت کے سراب میں مزید آگے بڑھنے پر اُ کساتا ہے اور اس طرح بے چینی کی آگ کو دلوں میں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے اور عنقریب انسانوں کے دلوں کو ایٹمی بموں کا خوف ہی نہیں ستائے گا بلکہ حقیقی ایٹمی توانائی سے اُ ٹھنے والی حقیقی تابکار شعائیں ایٹمی توانائی برائے امن و بہبود پیدا کرنے والے ایٹمی ری ایکٹروں سے نکل کر سیدھی انسان کے دل میں راہ پائیں گی اور وہ ایسا وقت ہو گا جب انسان زمین کے اوپر رہنے پر زمین کے نیچے رہنے کو ترجیح دیں گے اور ایٹمی بم کا شُعلہ اُ ن کواپنی انتہائی دُ کھی زندگی سے نجات دلانے کا ایک ذریعہ نظر آئے گا۔

ہر طرف ایٹمی ری ایکٹر ہوں گے۔ ہر جگہ ایٹمی توانائی استعمال ہو رہی ہو گی۔ بجلی گھروں میں، جہازوں میں،گاڑیوں میں، کارخانوں میں اور ہر ایٹمی پلانٹ چھوٹا ہو یا بڑا،تابکار شعائیں باہر پھینکنے کی کوشش میں ہو گا اور ایٹمی فضلہ ہر طرف پھیلا ہوا، پھینکا ہوا یا دبایا ہوا یا پانیوں میں بہایا ہوا اپنے تابکاری اثرات پھیلا رہا ہو گا۔ ایٹمی ری ایکٹر پھٹ کر سارے علاقوں کو تابکاری کی طغیانیوں کی لپیٹ میں لے رہے ہوں گے۔ اے وائے اور ہر شخص ہر جگہ اور ہر وقت ایک انجانے خوف میں مبتلا ہو گا   جس طرح آدمی اُ س گھاس میں چل رہا ہوتا ہے جس میں بے حد زہریلے اور بڑی تعداد میں سانپ موجود ہیں۔ آدمی کہے گا یہاں بھی تابکاری ہے، یہاں بھی تابکاری ہے اور تابکاری انسانی حس سے ماورا کی چیز ہے۔ ہر آدمی ہر دوسرے آدمی کو شبہے کی نگاہ سے دیکھے گا شائد وہ تابکاری اثرات لئے پھرتا ہے اور مجھے ملوث کر دے گا جس طرح لوگ کوڑھیوں سے دور بھاگتے ہیں۔ میاں کو بیوی پر تابکاری کا شبہہ ہو گا بیوی میاں کی تابکاری کے خوف سے ہلکان ہو گی۔ بچے ،ماں باپ سے اور ماں باپ بچوں سے خوفزدہ اور گریزاں ہوں گے۔ تابکاری کا ہَوّا ہر ایک کے ذہن پر سوار ہو گا اور تابکاری اپنے اثرات دکھائے گی۔ ایٹمی توانائی خواہ برائے امن اور برائے بہبود ہی کیوں نہ استعمال ہو رہی ہو لوگ کینسر اور کوڑھ میں مبتلا ہو جائیں گے۔ دن بدن کوڑھ اور کوڑھیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ انسانوں کے تناسلی اعضاء تابکاری سے فساد پذیر ہوں گے۔ باہمی تعلقات کشیدہ ہوں گے۔ بچے عفریت، نکمے، بے مغز اور اپاہج پیدا ہو رہے ہوں گے۔ ماں باپ کے لئے عذاب اور پھر ان عفرییتوں کی اولاد موروثی طور پر عفریت پیدا ہو گی۔ اس دنیا میں انسان نہیں بلکہ اعصاب ذدہ عفریت بسیں گے  ۔اُ س روز یہ دنیا حقیقی معنوں میں جہنم ہو گی۔ لوگ موت کی دُ عائیں مانگیں گے   ایٹمی توانائی کے عذاب سے رہائی پانے کی تمنا کریں گے مگر ایسا نہ کر سکیں گے اور اس دوران میں اگر ایٹمی جنگ بھڑک اُ ٹھی تو المیہ فوری طور پر اپنے عروج کو چُھولے گا   اور ایٹمی توانائی تو انسان کے معاشی دکھوں کا مداوا کبھی بھی نہ کر سکے گی بلکہ مسائل میں مزید اضافہ کرکے انسان کی زندگی کو تلخ تر کردے گی۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا کا وہ  منظر کسی کو نہ دکھلا ئے اُ س وقت لوگوں کوقرآنِ حکیم کی یہ پیشین گوئی یاد آئے گی۔ وہ دستِ تاسف ملیں گے، وہ آہ و زاری کریں گے ،وہ اپنی غفلت پر پچھتائیں گے مگر وہ پچھتاوا کس کام کا۔ اب سوچیں اگر یہ باتیں جو میں نے کی ہیں وہ سچی ہیں تو پھر پچھتاوا کریں اور میری باتیں یقیناً مبنی بر حق ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی حقیقی سائنس دان میری ان باتوں کی برملا گواہی دے گا جو کچھ میں نے کہا وہ عشرِِ عشیر بھی اُ س المیے کا نہیں جو ایٹمی توانائی برپا کرے گی۔ میں اُ س منظر کو بیان نہیں کر سکتا کوئی بھی نہیں کر سکتا مگر آہ اے مرد ِمسلمان! تو نہیں جانتا کہ تعزیریں کس پر لگ رہی ہیں؟ کاش کہ تو جانتا تو اس طرح خوابِ غفلت میں نہ سوتا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دُ عا ہے کہ تجھے ہوش میں لائے اور دنیا والے جان لیں کہ آج ایٹمی ری ایکٹروں کی طرف بھاگنے والے کل ایٹمی ری ایکٹروں سے دور بھاگنے والے ہوں گے مگر مسئلہ ایٹمی جہنم کا ہے۔ ایک بار ایٹمی بموں یا ایٹمی تابکاری نے حملہ کر دیا تو پھر معاملہ لا علاج ہے۔ توبہ کے دروازے بند   اور ایک دردناک زندگی اور ایک المناک موت اور ایٹمی جہنم کے مستحق لوگوں کے لئے اگلے ابدی جہان میں ابدی ایٹمی جہنم(حُطمہ) جس کی وجوہ وہی ہیں جو اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش کی ہیں۔ الامان۔

ایٹمی جہنم سے بچنے کی تدبیر:

ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر

پر تری رحمت نے گوارا نہ کیا

وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے ایٹمی جنگ کا خطرہ ہمیشہ کے لئے ٹالا جا سکتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں بستے ہیں۔ ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کا واحد ذریعہ اُ ن بنیادی خصلتوں کی اصلاح ہے جن کو  قرآنِ حکیم نے ایٹمی آگ کی پیدائش کا سبب قرار دیا ہے ورنہ دنیا کی کوئی طاقت موجودہ انسانیت کو اس عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ زود یا بدیر ایٹمی آگ ساری نوع ِانسانی کو بھون ڈالے گی۔ پچھلے ادوار میں کوئی شخص اگر افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو ضائع کر دیتا تو لوگوں کے دل لرز اُ ٹھتے اور اس مہذب دور میں انسانیت اپنے سارے بچوں کو آگ میں جھونکنے پر تُلی ہوئی ہے اور وہ لوگ جو اس خیال میں ہیں کہ ایٹمی توانائی برائے امن اس درجہ خطرناک نہیں کہ اس سے عالمی بہبود کے لئے فائدہ نہ اٹھایا جا سکے یا یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا ایٹمی توانائی کے مضر اثرات کے باوجود اس کے استعمال پر مجبور ہے اُ ن کے یہ خیال انسانیت کی خود کشی کے مترادف ہیں۔ ایٹمی توانائی موجود ہو تو ایٹم بم بھی بن سکتے ہیں ،بن سکتے ہیں تو استعمال بھی ہو سکتے ہیں اور ایٹم بموں سے صرفِ نظر ایٹمی توانائی بجائے خود ناگزیر تابکاری شعاؤں کے سبب ایک مہلک ترین چیز ہے۔تابکاری شعاؤں کو کسی بھی صورت میں ایٹمی توانائی سے الگ نہیں کیا جا سکتا نہ ہی ان سے بچاؤ کی کوئی سو فی صد موثر تدبیر ہے۔ ایٹمی جنگ سے دنیا تباہ ہو خواہ ایٹمی توانائی کی تابکاری شعاؤں سے۔ اگر یہ دنیا اُ س خدا کی ہے جس سے مسلمانوں کا عہد ہے   اور اگر  قرآنِ حکیم میں ایٹمی آگ کے بارے میں تنبیہ بھی اسی خدا کی ہے تو خدا کی دنیا کو خدا کے لئے بچانے کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ایک عجیب سی صورتِ حال ہے جو بالآخر پیدا ہو چکی ہے اور بے شک محیّرالعقول ہے تاہم ہر وہ شخص خواہ وہ کسی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتا ہو جو انسانیت کواس ایٹمی عذابِ الیم سے بچانے کی سعی کرے گا وہ انسانیت کے بارے میں اپنا فرض ادا کرے گا اور حقیقی فراست کا ثبوت دے گا۔

ایٹمی جہنم(خواہ ایٹمی توانائی برائے امن ہو خواہ ایٹمی بم برائے جنگ ہو) کی پیدائش کے لئے کسی خاص فرد یا کسی خاص قوم کو مطعون نہ کرو اَلبَتَّہ اس نظام کو قصور وار گردانو جس کے مخصوص ڈھانچے میں اسباب و نتائج کے طور پر بالآخر وہی کچھ نمودار ہو گیا جس نے نمودار ہونا تھا۔ ایک طویل منطقی عمل کا نتیجہ۔ ایٹمی دیووں کی عالم گیر تباہی کتنا حلیم کتنا مہذب نام ہے۔ نیوکلر انرجی(Nuclear Energy)  ولے کتنی سفاک، کیسی عیار کس قدر غیر مہذب مگر ایک نرم گو اور شیریں گفتار رحم اور ہمدردی کے جذبات سے عاری دور کے لوگوں کے لئے موزوں ترین سزا جو ایک مہذب نشے کی مستی میں دولت کا راگ الاپتے ہوئے موت کے کنوئیں کی جانب رواں دواں ہیں  لیکن کیا وہ سنیں گے؟ کیا وہ لمحہ بھر سوچنے کے لئے رُ کیں گے۔ کیا دولت کی ہوس کا نشہ انہیں ایسا کرنے کی مہلت دے گا؟

یہ درست ہے اور یہ درست کہا گیا ہے کہ وہ جو اپنی زندگی سائنس کے لئے وقف کرتا ہے اُ س کے لئے انکشافات سے بڑھ کرکوئی چیز مُسرت انگیز نہیں ہو سکتی لیکن اُ س کی خوشی کا جام صرف اُ سی صورت میں پُر ہوتاہے جب ا ُ س کے مطالعہ کے نتائج عملی طور پر مستعمل ہوتے ہیں لیکن ہم بڑے ہی افسوس کے ساتھ اس مبنی بر حقیقت مقولے میں اس قدر تبدیلی کرنے پر مجبور ہیں کہ ہر وہ شخص جو ایٹمی توانائی میں انکشافات کرنے کی حد تک بد نصیب ہو اگر اُ س کے انکشافات عملی طور پر مستعمل ہونے کی سعادت حاصل کر لیں تو  ا ُ س کے پیالے میں جو کچھ پڑے گا وہ افسوس اورندامت کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا اور اُ س کی قدردانی کے طور پر جو آواز بھی نکلے گی۔ وہ جلتے ہوئے لوگوں کی چیخ و پکار اور کینسر کے درد سے ہائے وائے کرنے والے بدنصیبوں کی آہ و بکا کے سوا کچھ نہ ہو گی۔ 

اٹامزم کا شیر اب آزاد کر دیا گیا ہے اور اُ سے پھر پنجرے میں بند کون کر سکے گا؟ کہتے ہیں کہ ایک بار ایک شیر کسی پنجرے میں پھنس گیا۔ اُ س نے بہتیری چیخ و پُکار، گونج گرج اور وائی دھائی کی۔ بہتیرا الُٹا سیدھا ہوا۔ بے قراری کے عالم میں اپنے ہی پنجوں کو اپنے دانتوں سے کاٹا مگر پنجرے نے نہ کھلنا تھا۔ نہ کھلا۔اتفاق سے ادھر ایک برہمن کا گذر ہوا۔ اسے دیکھ کر شیر گڑگڑایا کہ اے خدا ترس برہمن مجھے اس عذابِ ابدی سے نجات دلا۔ میرا پنجرہ کھول دے۔میں عمر بھر تمھارا غلام رہوں گا ۔ برہمن نے کہا۔ ارے توُ تو مجھے کھا جائے گا۔ شیر نے کہا ایسا کبھی ہو سکتا ہے توُ مجھ پر زندگی بھر کا احسان کرے اور میں تجھے کھا جاؤں۔ برہمن نے آگے بڑھ کر پنجرہ کھول دیا۔ شیر کا نکلنا تھا کہ گرجا اور کہا میں کئی روز سے بھوکا پیاسا اس پنجرے میں پڑا ہوں میں تجھے ضرور کھاؤں گا۔ اب تو برہمن کے ہوش ا ُ ڑ گئےلیکن عرض کی کہ اے شیر تو مجھے کھا لے لیکن کم از کم تین چیزوں کی گواہی تو ہونی چاہئے۔ شیر نے کہا۔ اچھا چلو چلتے ہیں۔ راستے میں اُ نہیں ایک درخت ملا۔ برہمن نے ماجرا بیان کیا تو درخت نے شیر سے کہا کہ دیر نہ کر اس آدم زاد کو کھا لے۔ یہ لوگ میری چھاؤں میں بیٹھتے ہیں۔ میرا پھل کھاتے ہیں اور پھر کلہاڑی سے میر ی شاخیں کاٹتے ہیں۔ آگے بڑھے تو ایک گدھا ملا۔ برہمن نے جب ماجرا بیان کیا تو گدھے نے کہا شیر۔ دیر نہ کر۔ اس آدم زاد کو کھالے ساری عمر میرے مالک نے مجھ سے کام لیا اور جو بڈھا ہو گیا تو ڈنڈے مار کر گھر سے نکال دیا۔ یہ آدم زاد اسی قابل ہیں تو ضرور اسے کھا جا۔ آگے چلے تو ایک گیدڑ ملا۔ برہمن نے سار ا ماجرا من و عن سنایا تو گیدڑ سٹپٹایا اور کہا مجھے تو بالکل یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ وہاں پنجرے کے پاس مجھے لے چلو۔ پنجرے کے پاس آئے تو گیدڑ نے شیر سے بیان دینے کو کہا اور جب شیر کا بیان سُن چکا تو کہاکہ مجھے اعتبار نہیں آتا کہ اتنا بڑا شیر اتنے چھوٹے سے پنجرے میں سما جائے مجھے تو یہ ساری بات ہی بناوٹ معلوم ہوتی ہے۔ شیر نے تاؤکھا کر آ ؤدیکھا نہ تاؤ اور پنجرے میں داخل ہو گیا۔گیدڑ نے برہمن کو اشارہ کیا۔ برہمن نے آگے بڑھ کر پنجرے کے دروازے کو چٹخنی لگا دی اور گیدڑ نے کہا۔ شیر صاحب یہ بات بہتر ہے کہ آپ اسی طرح رہیں اور جیسے ہیں ٹھیک ہیں۔

نکسن اور برزنیف ایٹمی شیر کو پنجرے میں بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس طرح اُ ن سے پہلے آئزن ہوور اور خروشیو یہ جتن کرتے کرتے دار فانی کو سدھار چکے ہیں اور اسی طرح یہ جتن وہ لوگ کرتے رہیں گے جو ان کے بعد آئیں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس آزاد ایٹمی شیر کو پنجرے میں بند کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔جب کہ نوعِ انسانی کاازلی دشمن حضرت شیطان دیوار پہ شہد کا ٹھپہ لگانے کے لئے موجود ہے اور پھر یہ ایٹمی شیر اگر پنجرے میں بند بھی کر دیا جائے تو اس کی ریڈیائی شعاؤں کو کون روک سکے گا اور شیطان جو انگلی سے د یوار پر شہد کا ڈب لگاتا ہے وہ بھی عجیب چیز ہے۔کہتے ہیں ایک روز ایک آدمی نے شیطان سے شکایت کی کہ توُ دنیا میں دنگا فساد کراتا ہے تو شیطان نے حیران ہو کر کہا کہ میں توفقط ایک انگلی سے شہد کا ہلکا سا ڈب دیوار پہ لگاتا ہوں باقی کام تو خود انسان کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ اس آدمی کو ساتھ لے کے چلا اور ایک حلوائی کی دکان پر آیا۔ چپکے سے شیرے کے کڑاہ میں چھنگلی ہلکے سے ڈبوئی اور ہلکے سے اندر کی دیوار پر ڈب کردی اور خود ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ شیرے پر مکھیاں اکٹھی ہوئیں۔مکھیوں پر چھپکلّی داؤ لگا کر بیٹھی۔ چھپکلّی پر حلوائی کی بلی نے نشانہ باندھا۔ اتنے میں ایک گاہک مٹھائی لینے آیا۔ اُ س کے ساتھ کتا تھا۔ دفعتہً چھپکلّی مکھیوں پر بلی چھپکلّی پر اور کُتا بلی پر لپکا حلوائی نے کتے پر اپنا کڑچھا پھینکا۔ کتے کے مالک نے اپنا ڈنڈا حلوائی کی چندیا پر رسید کیا اور حلوائی مر گیا۔ پولیس آئی۔

پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ شیطان آہستہ سے باہر آیا اور اپنے شکایت کرنے والے سے کہا۔ دیکھ لیا دوست میں نے تو سوائے اس کے کچھ نہیں کیا کہ شیرے کی انگلی سے دیوار پر ہلکے سے ڈُ ب لگایا۔ باقی کام توخود تم انسانوں نے خود کیا ہے۔ مجھے خواہ مخواہ بد نام کرتے ہو۔

میرا نظریہ یہ ہے کہ کبھی بھی کسی آدمی نے تکلیف کومحض اس کے تکلیف ہونے کی وجہ سے نہیں چاہا۔ نہ ہی کسی نے حظ سے محض اس کے حظ ہونے کی وجہ سے گریز کیا ہے۔ حظ کی آرزو اور تکلیف سے نفور انسان کی فطرت میں ودیعت ہو چکا ہے۔ آدمی یا تو حظِ حاضرہ تکلیف حاضرہ سے گریز کرنے کی خاطر حاصل کرتا ہے یا وہ لذتِ حاضرہ سے گریز اورتکلیف کی برداشت اس اُ مید پر کرتا ہے کہ اس طرح وہ بہتر حظ حاصل کرنے کے قابل ہو جا ئے گا تاہم اس اصول میں استثئاء کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تکلیف کی کئی قسمیں ہیں۔ خالص درد مثلاً دانت کا درد اسے کوئی بھی محض اس کی خاطر نہیں چاہتا۔ یا نقصان یا مصیبت کے احساس کی تکلیف اور اسے بھی کوئی محض اس کی خاطر نہیں چاہتا تاہم تکلیف کی قسمیں ایسی بھی ہیں جن کے ساتھ کچھ خوشگوار احساس بھی شامل ہوتا ہے۔ مثلاً عشق کا درد۔ یہ موضوع شاعروں کے ہاں بے حد مقبول ہے۔ یہ درد تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے مگر اس کے اندر کچھ کشش ضرور ہوتی ہے تاہم استثنائی شواہد بھی موجود ہو سکتے ہیں مثلاً ایسے لو گ بھی ہو سکتے ہیں جو غم یا خوشی کے احساس سے قطعاً عاری ہوں لیکن ہماری بحث یہاں خواص سے نہیں بلکہ عوام سے ہے۔ نہ ہی یہاں ہمارا ارادہ اس موضوع پر نفسیاتی نقطہء نگاہ سے کوئی مکمل رسالہ لکھنے کا ہے۔ بہرحال اہم بات اس ضمن میں وہ رویہ ہے جو لوگ حظ اور تکلیف کے بارے میں ظاہر کرتے ہیں۔آدمی ایسے بھی ہیں جو حظ کے پیچھے بھاگتے ہیں اور تکلیف سے اعراض کرتے ہیں۔ آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں جو حَظ سے اعراض کرتے ہیں اور تکلیف کو برداشت کرتے ہیں اور آدمی ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو تکلیف کی تلاش کرتے ہیں اور حَظ سے اجتناب کرتے ہیں۔ پہلی قسم کے آدمی ابناء الوقت ہیں۔ ہوا کے جھونکے ہیں۔ دوسری اور تیسری قسم کے لو گ اس اُ مید پر حَظ سے کنارہ کشی کرتے ہیں اورتکلیف کو لبیک کہتے ہیں کہ اس طرح وہ بہتر حَظ حاصل کر سکیں گے اور قلبی سکون کو پا سکیں گے۔ یہی اُ ن کا طریقہ ہے اور اسی لئے وہ موجودہ حَظ کو قربان کرتے ہیں اور موجودہ تکلیف کو برداشت کرتے ہیں۔ اس دوسری اور تیسری قسموں کو مزید دو گروہوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جن کی دل میں فقط اسی دنیا کا حظ اور اسی دنیا کی تکلیف ہوتی ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جن کی نگاہ میں اگلی دنیا یعنی آخرت کا حظ اور آخرت کی تکلیف ہوتی ہے۔

انسانی ذہن کی تاریخ پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ستون کی چوٹی کے ساتھ باندھی ہوئی ایک رسی کے ساتھ بندھے ہوئے ستون کے گرد بڑی تیزی سے اڑتا ہوا چکر لگا رہا ہے۔ اب یا تو حظ کی آرزو اس کے آگے آگے اُ ڑتی چلی جا رہی ہے اور تکلیف سے نفور اس کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے اور یا معاملہ اس کے اُ لٹ ہے یعنی تکلیف سے نفور آگے ہے اور حظ کی آرزو پیچھے ہےَ پہلی مثال حظ کے پیچھے بھاگنے والے اور تکلیف سے دوربھاگنے والے کی ہے دوسری مثال تکلیف اٹھانے اور حظ سے گریز کرنے والے کی ہے لیکن اس کے علاوہ دو اور صورتیں بھی ہیں۔ان صورتوں میں انسانی ذہن اسی ستون کے گرد ایک ہوائی جہاز کی صورت میں اُ ڑ رہا ہے اور پنکھے سے چل رہا ہے اس پنکھے کے ایک کنارے پر تکلیف ہے اور دوسرے کنار ے پر حظ ہے۔ پہلی صورت میں یہ پنکھا جہاز کے آگے ہے اور جہاز کو آگے کی جانب اڑا رہا ہے دوسری صورت میں پنکھا جہاز کی پچھلی جانب لگا ہے اور جہاز کو پیچھے کی جانب کھینچتا ہوا اُ لٹے پاؤں اُ ڑا رہا ہے۔ یہ دونوں صورتیں ایک ایسی متوازن زندگی کی ہیں جس میں تکلیف اور حظ کو متوازن کردیا گیا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ جس ذہن کا پنکھا اُسے آگے کی جانب یعنی سیدھے طور اُ ڑا رہا ہے اُ س ذہن کی نگاہ آخرت اور آخرت کی زندگی پر ہےلیکن جس ذہن کو پنکھا پیچھے کی جانب گھسیٹ کر اُ ڑا رہا ہے۔ اُ س ذہن کی نگاہ اسی عارضی دنیا میں محدود ہے۔ اب دیکھئے یہ تھوڑا سا فرق کتنا فرق ڈال دیتا ہے۔  ببین تفاوت راہ است از کجا تا بہ کجا!  لیکن یہ نہ بھولئے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی عبادت نہ دوزخ کے ڈر سے کرتے ہیں نہ جنت کی خاطر کرتے ہیں بلکہ وہ اللہ کی عبادت خالصاً لحب اللہ۔ خالصاً اللہ کی محبت کے لئے کرتے ہیں لیکن یہاں زیرِ بحث عوام ہیں خواص نہیں۔

اس عارضی دنیا کی عارضی چیزوں کے مقابلے میں ہمیشہ رہنے والی آخرت کے خیال نے انسانی تاریخ کے عظیم ترین انسانوں کے ذہن کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ حظ کی ہمیشگی کو حاصل کرنے کے لئے ان بزرگوں نے اس دنیا کے لذائز کو قربان کیا ہے اور اس دارلمحن کے رنج و غم یہ عارضی رنج و غم برضا ورغبت سہے ہیں اور لازوال انعام ہی اُ ن کامطمح نظر رہا ہے۔ اس عارضی چند روزہ زندگی کی نعمتیں اُ ن کی نگاہ میں تمام دُ کھ درد کی حقیقی بنیاد تھیں جبکہ اس کے برعکس اس عارضی دنیا کے د ُ کھ درد اُن کی نظر میں ساری خوشیوں کا سرچشمہ تھےجس طرح کہ بسیار خور کی بسیار خوری اسے معدے کی تکلیف اور بعض دوسرے امراض میں مبتلا کردیتی ہےلیکن روزہ دار کو روزے کی افطاری بیحساب خوشیوں سے ہمکنارکر دیتی ہے۔ اسی طرح اس دنیا کے لذائز میں پڑ جانے سے بے شمار جسمانی اور روحانی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اور ان لذائز سے کنارہ کشی کر کے زہدکی زندگی بسر کرنے والے جب اس فانی دنیا کو چھوڑ کر لافانی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں اُ ن کو افطاری کا سماں نظر آتا ہے۔ اسطرح اس چند روزہ زندگی کی عیش و عشرت کے عواقب اُ ن کے ذہن میں ہمیشہ اُ نہیں تنبیہ کرنے کے لئے موجود رہتے اور وہ کبھی بھی اس بے اعتبار دنیا اس مکار دنیا کے جال میں نہ لگتے اور اگر اس سے کلّی اجتناب نہ بھی برت سکتے توضرور اپنی زندگی کو متوازن رکھنے کی سعی کرتے۔ موت کی یاد ہر دم اُ ن کے ذہن میں رہتی اور آخرت کاخیال کبھی بھی اُ ن کے دل سے محو نہ ہوتا۔ اسی قبیل کا فلسفہ ہر مندر، مسجد ،کلّیسا اورمعبد میں جہاں تک تاریخ ہمیں بتاتی ہے سکھایا جاتا۔ یہی روئے زمین کے جملہ مذاہب کی تعلیم تھی۔ ذہن کو مادے پر روح کوجسم پر آخرت کو دنیا پر برتری حاصل تھی۔اس دنیاوی زندگی کو آخرت کی زندگی کے مقابلے میں متاع الغرور کا درجہ حاصل تھا زمانے کے آلام و مصائب اور حوادثِ دہر صبر سے برداشت کئے جاتے تھے۔ انسانیت اخلاقیات اور روحانیات کی راہ پر اسی طرح گامزن رہی حتٰی کہ یہ خصائص اپنے عروج پرپہنچتے ہوئے معلوم ہوئے۔ پھر زوال شروع ہو گیا۔ خود غرض لوگوں نے مذہب کی آڑ میں اپنی اغراض کی تکمیل شروع کر دی۔ شیطان سادھو سنت کی صورت میں نمودار ہو گیا۔  مذہب توہم پرستی اور فضول ظاہری رسومات کا ایک پلندہ بن کے رہ گیا۔ پھر ایک متوازن مذہب آیا  توہم پرستی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ فضول ظاہری رسومات کاقلع قمع ہو گیا۔ رہبانیت کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ ذہن اور مادے روح اور جسم دنیا اور آخرت کو اپنا اپنا مقام عطا ہوا۔ ہر شخص کو اپنے اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔انسانیت کوایک مکمل قانون ایک مکمل ضابطہ حیات تفویض کیا گیا۔ دین کی یہ صورت آخری اور مکمل صورت تھی۔ صدیوں بات اسی منوال پر چلتی رہی مگر پھر ایک بار الحاد نے سر اٹھایا  ، مذہب کو توہم پرستی کا نام دیا گیا اور اسے انسان کی مادی ترقی میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہوئے الگ کر دیا گیا۔ شک و شبہ کی فضا ہر طرف قائم ہو گئی۔ مذہب کو جنوں اور ہر مذہبی آدمی کو جنونی سمجھ لیا گیا۔ مادے اور ذہن کی وہ چپقلش جو انسانیت کی ابتدا میں شروع ہوئی تھی اور جو ہمیشہ ذہن کی فتح پر ہی منتج ہوتی تھی۔ اب مادے کی فتح میں بدل گئی۔ ذہن روح اور آخرت کو خیال سے نکال دیا گیا۔ اخلاقی اور روحانی قدروں کی جگہ سراپا مادی قدروں نے لے لی۔ موت سے بعد کی زندگی کو محض واہمے کا کرشمہ قرار دے دیا گیا۔ اس طرح انسانیت کی زندگی ایک بار پھر اپنا توازن کھو بیٹھی۔   فرق اتنا تھا کہ پہلے یہ توازن توہم پرستی کی وجہ سے بگڑا تھا اور اب کے یہ توازن خالصاً مادہ پرستی کی موجودگی اور روحانی قدروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے بگڑااور انسانیت کو اپنی راہ سے موڑ کر ایٹمی جہنم کی راہ پر چلا دیا حتٰی کہ اب ہم انسانیت کو ایٹمی جہنم کے دہانے پر کھڑا دیکھتے ہیں۔

اب روح اور مادے کے توازن کی انسانیت کو سخت ضرورت ہےکیونکہ یہ دونوں ہی ایسے اجزاء ہیں جن کے بغیر گذارہ نہیں چل سکتا۔ آج کی مادہ پرستی کو روحانیت کی اشد ضرورت ہے۔روحانیت کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مادے کی رہنمائی روحانیت نے کرنی ہے۔ جسم کو خوراک دے کر اسے اچھے کاموں کے لئے تیار کیا جائے۔بدی کے خلاف جنگ کے لئے تیار کیا جائے۔یہ جنگ غلاظت، جہالت اور بیماری سے لے کر حسد، بغض، غرور اور بد اعتقادی تک ہوتی ہے۔یہ جنگ استبداد اور بے انصافی کے خلاف ہوتی ہے۔یہ جنگ انسانوں میں باہمی جذبہ ء اخوت اور مساوات پیداکرنے کے لئے لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لئے لڑی جاتی ہے۔ ورنہ انسانی زندگی ایک عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ لیکن یہ نہ بھولا جائے کہ انسان کا اصلی ٹھکانہ آخرت ہے  یہ دنیا نہیں یہاں کا ٹھکانہ عارضی ہے اور جان لیجئے کہ موجودہ مادہ پرستی نے انسان کوایٹمی جہنم کے کنارے لا کھڑا کر دیا ہے اگر اس کی اصلاح نہ ہو سکی تو ایک تباہ کن انجام کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

انسانیت کو آج ایک متوازن قسم کے دین کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی زندگی جس میں ذہن اور مادہ، جسم اور روح، مادیت اور روحانیت، ارضی اور سماوی فضا، دنیا اور آخرت متوازن ہوں اور اپنے اپنے جائز مقام پر ہوں۔بدن روح کا غلام ہو  ، آخرت دنیا کی رہنمائی کرے ،یہ دنیا محض ایک کھیتی ہے اور یہ زندگی بونے کا موسم ہے   ایک ایسی کھیتی کے بونے کا جو آخرت کو کاٹی جائے گی اور ان سب کی رہنمائی دین اور ایمان کرے۔اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی صحیفوں پر ایمان، پیغمبروں پر ایمان اور آخرت پر ایمان بدن کو خوراک اور دوسری ضروریات مہیّا کی جائیں۔ اس شرط پر کہ یہ نیکی اور بدی کی جنگ میں نیکی کی مدد کرنیکے لئے آمادہ ہو۔لوگ معاشرے میں رہیں اور معاشرے میں رہ کر آسمانی جنت کی طرف انسانیت کے واحد خالق کے زیرِ سایہ اپنی آخری منزل کی جانب گامزن رہیں۔ دولت کو اس کے خدائی کے مقام سے اُ تار کر اسے اس کا اپنا مقام یعنی محض ضرورت کی چیز کا مقام دیا جائے اور اسے جوڑ جوڑ کر رکھنے اور بار بار گننے کی بجائے اچھے کاموں پر صرف کر دیا جائے۔ مذہب سکھایا جائے اور ہر آدمی کی دسترس میں لایا جائے۔ ہر شخص کو اُ س کی زندگی کی ضروریات بہم پہنچائی جائیں تاہم عیش و عشرت کی قربانی اور اس د نیا سے قلبی نفور کی روح کو مردہ نہ ہونے دیا جائے اور ہمیشہ روحانی اور اخلاقی اقدار ہی ہر کام میں ہر شخص کا مطمح نظر رہیں۔ لوگ اس دنیا سے صرف ظاہری طور پر ہی منسلک رہیں مگر اُ ن کا دل ہمیشہ اللہ اور آخرت سے منسلک رہے۔ لوگ دن کو سپاھیوں کی طرح اور رات کو زاہدوں کی طرح رہیں۔ ناجائز تعصّب سے اجتناب کریں۔ رواداری اور فراخدلی کاثبوت دیں  ، ہر کام میں میانہ روی کو اختیار کیا جائے اور انتہا پسندی سے گریز کیا جائے۔ علم کا حصول لازمی قرار دیا جائے مگر علم کو ہمیشہ دین اور ایمان کے ماتحت رکھا جائے ،  ہماری جدیدتعلیم کو اس اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ اس نے دین و ایمان کی عدم موجودگی میں انسانوں کے لئے ایک ایسا جہنم بھڑکا دیا ہےجس کی مثال دنیا کی ساری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس نے ایک ایسے خوفناک اور مہیب اور آتش نفس دیو کی صورت اختیار کر لی ہے جسے عرفِ عام میں ایٹم بم کادیو کہا جاتا ہے۔ کوئی ایسا ہی مذہب جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے انسانیت کی کھوئی ہوئی طمانیت کو واپس لا سکتا ہے   اور دنیا کو ایٹمی جہنم کی شعلہ خیزیوں سے بچا سکتا ہے اور اسلام ہی ایسا مذہب ہے۔

قرآنِ حکیم نے ایٹم بم کی پیشین گوئی بلکہ ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی کی لیکن قرآنِ حکیم صرف پیشینگوئیوں کی کتاب نہیں۔ یہ انسانیت کو ایک مکمل ضابطہء حیات دینے کا بھی مدّعی ہے۔ ایک ایسا ضابطہ حیات اور ایک ایسا صراطِ مستقیم جو انسانیت کو امن اورسلامتی کی راہوں سے اپنی آخری منزل کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور اطمینانِ قلبی اور سکونِِِ باطنی کا ضامن ہے۔ اگر انسانیت ان راہوں پر جو قرآنِ حکیم  نے انسانیت کے لئے متعیّن کی ہیں چلتی تو ایٹم بم کبھی نہ بنتا، نہ ہی انسانیت سے سکون و اطمینان کی نعمت چھنتی۔ قرآنِ حکیم  نے تین نشانیوں کی نشاندہی کی ہے جو ایٹمی جہنم کی آفر ینش کا باعث ہیں اور وہ ہیں طعنہ زنی اور عیب جوئی، دولت جمع کرنے جوڑ جوڑ کر اور گن گن کر رکھنے اور بڑھانے کا انتہائی اہتمام اور دولت کی بے تحاشا اور حدود سے متجاوز محبت احترام اور پرستش کی حد تک پہنچا ہوا اعتماد۔واضح ہے کہ یہ خاصتییں اسی صورت میں وجود پذیر ہو سکتی ہیں جب کہ مادہ پرستی کا دور دورہ ہو او روحانی اور اخلاقی اقدار کا فقدان ہو، دین کو مذاق سمجھا جائے اور قیامت پر یقین نہ ہو یا محض زبانی ہو حقیقی اور عملی نہ ہو۔ ان نقائص کو دور کرنے کے لئے لازم آتا ہے کہ ایمان میں پختگی پیدا کی جائے۔ ذہن اور مادے، جسم اور روح ،دنیا اور آخرت کو اپناصحیح مقام دیا جائے۔ عمل کی بنیاد آخرت پر رکھی جائے۔ مادے کو ذہن کا، جسم کو روح کا، دنیا کو آخرت کا اورعلم کو دین کا غلام کر دیا جائے۔ اس عارضی دنیا کی پُرفریب اور ناقابلِ اعتماد حقیقت کو سمجھ لیا جائے لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور اس طرح اس لحاظ سے ایک انتہائی اہمیت کی حامل ہے لہٰذا اس کی مختلف النوع کیفیتوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ایک مخصوص قسم کے راہ کی تلاش کرنی پڑتی ہے اور  قرآنِ حکیم  کایہی طرہ ء امتیاز ہے کہ اس باریک راہ کو واضح کرتا ہے اور ان باریکیوں کی وضاحت کرتا ہے جو اس راہ میں پائی جاتی ہیں۔

ہزار نکتہ باریک تر زمو اینجا است

نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند

اور اسی خصوصی روش کے سبب ہی سرسری نگاہ سے اسلام کا مطالعہ کرنے والے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اسلام ایک مادہ پرست مذہب ہے حالانکہ حقیقت یوں نہیں۔ اسلام اس دنیا کو عبور کرنے کا ایک سہل اور ہر شخص کے لئے قابلِ عمل طریقہ سمجھاتا ہے ورنہ یہ دنیا قطعاً اسلام کی نگاہ میں کسی محبت کے لائق نہیں۔ زندگی کے ہر پہلو میں انصاف کے ساتھ معاشی پہلو میں بھی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مساوات کی ضرورت کو بھی مدِّنظر رکھنا ہو گا۔ ہم اب وہ قرآنی ضابطہء حیات پیش کرنے والے ہیں جس پر عمل کرنے سے وہ تمام نقائص جو ایٹمی جہنم کی پیدائش کا سبب ہو سکتے ہیں خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔

سات طرفوں اور ستر قمقموں والا قرآنی روشنی کا مینار

قرآنِ حکیم  کے اس لائحہ عمل کو ہم نے ایک ایسا روشنی کا مینار تصّور کیا ہے جس کے ستر قمقمے ہیں۔ یہ مینار زندگی کے تیرہ و تاریک سمندر میں کشتیوں کی رہنمائی کے لئے کھڑا ہے لیکن وہ بدنصیب لوگ جو ایمان کی بصیرت سے عاری ہوں  اُ نہیں یہ مینار نظر نہیں آتااور اُ ن کی کشتی طو فانوں میں بھٹک کر کسی خوفناک چٹان سے ٹکرا جاتی ہے۔

مینار کی اطراف:۔

(i)  طرف نمبر ۱:    مینار کے سامنے والی طرف اس پر  قرآنِ حکیم  کی ایک آیت کریمہ جلی حروف میں کندہ ہے۔

(ii  )    طرف نمبر ۲  یہ اس دنیا کے متعلق ہے۔

(iii  )   طرف نمبر ۳  یہ آخرت کے متعلق ہے۔

(iv)    طرف نمبر ۴  یہ زندگی کی آزمائش کے متعلق ہے۔

(v)    طرف نمبر ۵  زندگی کی جائز ضروریات کے جواز اور شرائط کے متعلق ہے۔

( vi)    طر ف نمبر ۶  اسلام کے معاشی اصول کے متعلق ہے۔

(vii)   طرف نمبر ۷  ایمان کے متعلق ہے۔

مینار کے گردا گرد دور دور تک تاریک سمندر سے آوازیں اُ ٹھ رہی ہیں۔

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِo١

ترجمہ ”ا ے ہمارے رب دے ہم کو دنیا میں خوبی اور آخرت میں خوبی اور بچا ہم کو دوزخ کی آگ سے“۔  (2 –البقرہ- 201)

صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لاغَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ ع٧o

ترجمہ ”اور دکھا ہم کو سیدھی راہ راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے فضل فرمایا جن پر نہ تیرا غصہ ہوا اور نہ وہ گمراہ ہوئے“۔(1-  الفاتحہ- 6)

مینار کی چوٹی ان روشن آیات کے ساتھ گھوم رہی ہے۔

اِنَّ هٰـذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِىْ لِلَّتِيْ هِىَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصّٰـلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِيْرًالاo ٩

ترجمہ ”یہ قرآنِ حکیم  بتلاتا ہے وہ راہ جو  سب سے ہے سیدھی“۔(17 -بنی اسرائیل- 9)

وَهٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيْمًا۔ 

ترجمہ ”یہ ہے رستہ تیرے رب کا سیدھا “(6 –الانعام- 126)

وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِىْ مُسْتَقِيْمًا فَٱتَّبِعُوْهُ ج وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيْلِهٖط ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَo ١٥٣

ترجمہ ”اور حکم کیا کہ یہ ہے میری سیدھی راہ سو اس پر چلو اور مت چلو اور راستوں پر کہ وہ تم کو جدا کر دیں گے اللہ کے راستے  سے“۔

( 6 –الانعام- 153)

مینار کے باہر ایک تختی لگی ہے جس پر لکھا ہے۔

 اَللهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌط اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍط اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ يُوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍلا يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِیْٓ ءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌط نُّوْرٌ عَلٰى نُوْرٍط يَهْدِى اللهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ط وَيَضْرِبُ اللهُ الْاَمْثَـالَ لِلنَّاسِ ط وَاللهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ لا ٣٥o

ترجمہ:۔ ”اللہ نور ہے آسمانوں کااور زمین کا۔ مثال اس کے نور کی۔ جیسے ایک طاق۔اس میں ہے ایک چراغ۔وہ چراغ  دھرا ہوا ایک شیشے میں۔ وہ شیشہ ہے جیسے ایک تارا چمکتا ہوا اس میں جلتا ہے تیل برکت کے درخت کا زیتون ہے نہ شرقی نہ غربی قریب ہے روشن ہو جائے تیل اس کا  بغیر اس کے کہ اس میں لگی ہو آگ نور علی نور ہے راہ دکھلا دیتا ہے اللہ اپنے نور کی جس کو چاہے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے اور اللہ سب چیز جانتا ہے“۔ 

(24 –النور- 35)

طرف نمبر ۱                                                      قمقمہ نمبر۱"

وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَاطوَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ عo۔

ترجمہ”جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سمجھا دیں گے ان کو راہیں اپنی“۔(29 –العنکبوت- 69)

يٰۤايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِلا وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَo ٥٧قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْاط هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَo ٥٨

ترجمہ”اے لوگو تمھارے پاس آئی ہے  نصیحت تمھارے رب سے اور شفا دلوں   کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لئے کہہ اللہ کے فضل سے اوراس کی مہربانی سے سو اسی پر ان کو خوش ہونا چاہئے۔یہ بہتر ہے ان چیزوں سے (دنیاوی مال و دولت سے) جو جمع کرتے ہیں“۔

(10 –یونس- 58-57)

طرف نمبر     2                   یہ دنیا                      قمقمہ نمبر 2

اِعْلَمُوْاۤ اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِط كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَـامًاط وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌلا وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانٌط وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَـاعُ الْغُرُوْرِ o

ترجمہ:۔ ”جان رکھو کہ دنیا کی زندگانی یہی ہے۔کھیل اور تماشااور آرا ئش اور بڑائیاں کرنی آپس میں اور بہتات ڈھونڈھنی مال کی اور اولاد کی جس طرح مثال ہے بارش کی کہ سبزہ اس کا کھیتی کرنے والوں کوبڑا اچھا لگا پھر زور پکڑتا ہے  پھر تو دیکھے کہ زرد ہو گیا اور پھر ہو جاتا ہے روندا ہوا گھاس اور آخرت میں عذاب ہے سخت اور معافی بھی ہے اللہ سے اور رضامندی  اور کچھ بھی نہیں دنیا کی زندگانی مگر دغا کی پونجی“۔

(57 –الحدید-  20)

قمقمہ نمبر 3

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِيْنَ وَالْقَنَـاطِيْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَـامِ وَالْحَرْثِط ذٰلِكَ مَتَـاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ج وَاللهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَـاٰبِo ١٤

ترجمہ:۔ ”فریفتہ کیا ہے لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے جیسے عورتیں اور بیٹے اور خزانے جمع کئے ہوئے سونے اور چاندی کے اور گھوڑے نشان لگے ہوئے اور مویشی اور کھیتی یہ زندگی کی متاع ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانا ہے“۔

(3 -آل عمران-  14)

قمقمہ نمبر 4

مَّنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ط وَكَانَ اللهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًاعo ١٣٤

ترجمہ:۔ ”جو کوئی چاہتا ہو ثواب دنیا کا سواللہ کے یہاں ہے ثواب دنیا کا اور آخرت کا“۔

   (4 –النساء- 134)

قمقمہ نمبر 5

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِيْ حَرْثِهٖج وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَالا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِيْبٍ٢o

ترجمہ:۔”جو کوئی چاہتا ہو آخرت کی کھیتی بڑھا دیں گے ہم اس کے واسطے اس کی کھیتی اور جو کوئی چاہتا ہو دنیا کی کھیتی اس کو دیویں گے ہم کچھ اس میں سے اور اس کے لئے نہیں آخرت میں کچھ حصہ“۔

(42 -الشوریٰ - 20)

قمقمہ نمبر      6

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَـالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَo ١٥اُولـٰٓئِكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ صلے ز وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَo ١٦

ترجمہ:۔ ”جو کوئی چاہے دنیا کی زندگانی اور اس کی  زینت ہم اُ ن کے عمل دنیا میں اُ ن کوبھگتادیں گے اور اُ ن کو اس میں کچھ نقصان نہ ہو گا یہی ہیں وہ جن کے واسطے کچھ نہیں آخرت میں سوائے آگ کے  اور بربادہوا جو کچھ بنایا تھا یہاں اور باطل  ہے   جو کمایا تھا“۔

(11-ھود-16-15)

از راہِ کرم مندرجہ بالا آیات ِکریمہ کو بغور پڑھیئے۔ یہ آیات بلاواسطہ جدید میٹریل ازم  (Modern Materialism) یعنی اس دورِ حاضر کی مادہ پرستی کی کیفیت بیان کر رہی ہے۔ یہ لوگ مادی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوئے اور اُ ن کو اپنی اس جدوجہد کا ٹھیک ٹھیک بدلہ مل گیا لیکن چونکہ وہ مادی ترقی کے چکر میں اس بری طرح سے پھنسے کہ اُ ن کو قیامت، دین اور ایمان کی کوئی فکر نہ رہی تو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں فرما دیا اُن کے آخرت میں سوائے آگ کے کچھ نہیں اور ہم نے خود اپنی آنکھوں سے اس قولِ خداوندی کی صداقت کو دیکھ لیا۔ان مادہ پرستوں کے اندر بھی آگ ہے اور ان کے باہر بھی آگ ہے اور ایٹمی جہنم ان کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے ہر لمحے آمادہ ہے اور مرنے کے بعد والی آگ اس کے علاوہ ہے۔ یہاں تو آگ صرف اُ ن کو تذکرے کے طور پر دکھلا دی گئی ہے کیونکہ وہ آخرت اور آخرت کی سز اجزا کے منکر تھے ۔جو لوگ جدید دور کے مغربی فلسفے سے واقفیت رکھتے ہیں  اُن کے لئے ان آیات ِکریمہ میں کچھ خاص قسم کی دلچسپیاں موجود ہیں۔ آیتِ کریمہ کے عربی الفاظ ہیں۔ ”وحبط ما صنعوا فیھا و باطل ما کانوا یعملون“  صنعوا کے معنی ہیں Contrived) (یعنی کوئی مشین کی شکل کی چیز بنانا اور یعملون کے معنی ہیں عمل کرنا کام کرنا اور اس صنعت سے فائدہ اٹھانا۔ جن لوگوں نے فرانسس بیکن(جدید دور کا ڈھنڈورچی)کا فلسفہ پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہی دو لفظ    (Contrivance) اور فروٹ Fruit) )پھل اُ س کے فلسفے کی جان ہیں۔ وہ کہتا تھا   کہ تجربوں سے نئے نئے طریقے ایجاد کرو اور اُ ن سے مادی ثمرحاصل کرو۔ اب  قرآنِ حکیم  کو اس الہامی اندازِ بیان پر بے اختیار داد دینے کو کس کا جی نہیں چاہتا کہ ایک آیت میں اس نئے اور عجیب دور کی مشینوں اور ان کے عمل اور پھل کی تصویر کھینچ کے رکھ دی ہے اَلبَتَّہ بے چارے فرانسس بیکن نے مادی ترقی کے ساتھ روحانی اور اخلاقی قدروں کے وجود کی بھی سفارش کی تھی مگر کون سنتا ہے فغانِ درویش۔ ایک دفعہ مادی ترقی کی راہیں جو کھلیں تو سب کچھ فراموش ہو گیا اور صرف مادی اور مادی ترقی ہی کا ہوش باقی رہ گیا۔  مادی ترقی کے پہلے چند نوالے بڑے لذیز تھے اور مادی ترقی کے جھولے کے چند ہلاوے بے شک نشہ آور تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب لارڈ میکالے بیکن کے جدید فلسفے اور جدید مادی ترقی کی تعریف میں رطب اللسان تھامگر جلد ہی مادی ترقی کی مٹھاس میں تلخی کے آثار پیدا ہو گئے۔ اطمینان اور سکون کی جگہ فکر و تردّد اور سخت پریشانی نے لے لی۔بھوکی انسانیت کی بھوک نہ مٹنی تھی نہ مٹی بلکہ مزید ہوس کے ساتھ مزید بڑھتی گئی۔ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ ہوس نے بھی ترقی پائی اور ترقی کے چکر میں گھومتے ہوئے جھولے کی رفتار میں اس قدر بے تحاشا تیزی آتی گئی کہ سر چکرانے لگے اور اپنے آپ کو تھامنا مشکل ہو گیا اور ایسا ہی ہونا تھا جیسا کہ  قرآنِ حکیم نے مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں فرمایا:۔

قمقمہ نمبر7

اُولـٰٓئِكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُاالْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِٱلْاٰخِرَةِز فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُوْنَo ٨٦

ترجمہ:۔ ”یہ وہی ہیں جنہوں نے مول لی دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا ہو گا اُ ن پر عذاب اور نہ اُ ن کو مدد پہنچے گی“۔

(2 -     البقرہ-  86)

قمقمہ  نمبر8 

  ان کے دل کبھی تسلی نہ پائیں گے ۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ط وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيبُوْنَ لَهُمْ بِشَىْءٍ اِلَّا كَبَـاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَـالِغِهٖط وَمَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍo١٤

ترجمہ:۔”اُ سی کا (اللہ) کا پکارنا حق ہے اور جن لوگوں کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہ نہیں کام آتے اُ ن کے کچھ بھی مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف   کہ آ پہنچے اُ ن کے منہ تک اور وہ کبھی نہ پہنچے گا اس تک“۔

( 13 –الرعد- 14)

قمقمہ نمبر 9 

  ان کی دولت ان کے لئے وبال بن جائے گی۔

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَ وْلَادُهُمْ ط اِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَo ٥٥

ترجمہ:۔”سو تُو تعجب نہ کر اُ ن کے مال اور اولاد سے یہی چاہتا ہے اللہ کہ اُ ن کو عذاب میں رکھے ان چیزوں کی وجہ سے   دنیا کی زندگی میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں“۔

  (9 –التوبہ- 55)

قمقمہ نمبر 10  

ان کو اچانک دبوچ لیا جائے گا مگر پہلے ان پر ہر قسم کی ترقی کے دروازے کھولے جائیں گے:۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍط حَتّٰۤي اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَo ٤٤فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاط وَالْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo ٤٥

ترجمہ:۔”پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو اُ ن کو کی گئی تھی کھول دیئے ہم نے اُ ن پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں سے جو ا ُ ن کو دی گئیں پکڑ لیا ہم نے اُ ن کو اچانک پس اس وقت وہ رہ گئے نا امید“۔

(6 –الانعام- 45-44)

مغرب والوں نے دین کے درس کو بھلا دیا اور مادی ترقی پر بے تحاشاپل پڑے   چونکہ ان کا ایمان ہی اس مادی ترقی میں تھا لہٰذا اُ نہیں ہر مادی شعبے میں کمال ترقی ہوئی اور وہ دولت میں کھیلنے لگے۔ اب وقت آ گیا ہے اُ ن کی پکڑ کا۔ کسی بھی وقت جب اپنی ترقی کے پروگراموں کی کامیابیوں پر خوشیاں منا رہے ہوں گے کہ ریڈیو بولے گا   "ایٹمی جنگ چھڑ گئی  فلاں فلاں شہر صفحہء ہستی سے مٹا دیئے گئے اور یہ جنگ چند گھنٹوں میں اس ساری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتی ہے" پھر سارے ترقیوں کے منصوبے دھر ے کے دھرے رہ جائیں گے اَلبَتَّہ ابھی تک بھی ان لوگوں کے لئے موقع ہے سوچیں  ہوش میں آئیں  تو ہو سکتا ہے کہ المناک تباہی سے بچ جائیں۔

قمقمہ نمبر 11

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ط وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَـاعُ الْغُرُوْرِo ١٨٥

ترجمہ:۔ ”ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن پھر جو کوئی دورکیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں وہ کامیاب ہوا اور دنیا کی زندگانی تودھوکے کی پونجی ہے“۔

(3 -آل عمران - 185)

طرف نمبر 3  آخرت     قمقمہ  نمبر12 اور قیامت کے دن       ۔

وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ ج وَمَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكَـٰٓؤُاط لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ع ٩٤o

ترجمہ:۔ ”اَلبَتَّہ تم پاس آئے ایک ایک ہو کر  جیسے ہم نے تم کو پیداکیا تھا پہلی بار اورچھوڑ  آئے جو اسباب ہم نے تم کو دیاتھا اپنی پیٹھ کے پیچھے اور ہم نہیں دیکھتے  تمھارے ساتھ سفارش والوں کو جن کو تم  بتلایا کرتے تھے کہ اُ ن کا تم میں ساجھا ہے اَلبَتَّہ منقطع ہو گیا تمھارا ناطہ اور جاتے رہے جو دعوے کہ تم کیا کرتے تھے“۔

(  6 –الانعام- 94)

قمقمہ نمبر 13

وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo ١٦٩

ترجمہ ”اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے“۔

 (7 –الاعراف- 169)

قمقمہ نمبر 14

وَاَ مَّآ اِذَا مَا ا بْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗلا فَيَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَـانَنِجo ١٦كَلَّا  بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ لاo١٧ وَلَا تَحٰۤضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِلاo ١٨وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا ١٩لاoوَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ٢طoكَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّالاo ٢١وَّجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ٢٢جoوَجِاىْٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ لا يَوْمَئِذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَـانُ وَاَنّٰی لَهُ الذِّكْرٰىطo ٢٣يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِىْجo ٢٤فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَا بَهٗۤ اَحَدٌ لاo ٢٥وَّلَا يُوْثِقُ وَثَاقَهٗۤ اَحَدٌطo ٢٦يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُصلےقo ٢٧ارْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًجo ٢٨فَٱدْخُلِىْ فِيْ عِبٰدِىْلاo ٢٩وَادْخُلِىْ جَنَّتيْعo

ترجمہ: ۔”سوآدمی جو ہے جب اس کو اس کا   رب  جانچے پھر اس کو عزت دے اور اس     کو نعمت دے تو (وہ)کہے۔ میرے رب         نے مجھے عزت دی اور جب اُس کا رب     اُس کو جانچے اور پھر رزق کی اُ س سے کھینچ  کرے تو وہ کہے میرے رب نے مجھے       ذلیل کیا۔ کوئی نہیں پر تم یتیم کو عزت سے نہیں رکھتے اور آپس میں محتاج کے کھلانے کی تاکید نہیں کرتےاورمردے کا    سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال کو  جی بھر کر پیارکرتے ہو کوئی نہیں جب  زمین کو کوٹ  کوٹ کر پست کر دیاجائے گااور تیرا رب آئے اور فرشتے آئیں قطاردرقطار اور لائی جائے اُ س دن دوزخ اُس دن سوچے گا آدمی اور کہاں ملے اس  کوسوچنا کہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں کچھ اپنی زندگی میں آگے بھیج دیتا  پھر اُ س دن اللہ جیسا عذاب کوئی نہ دے اور نہ اُ س کی  طرح کوئی کس کر باندھے اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا واپس لوٹ اپنے رب کی طرف تو اُ س سے راضی اور وہ تجھ سے راضی پھر شامل ہو میرے بندوں میں   اور داخل ہو میری جنت میں“۔

( 89 -  الفجر- 30-16 )

طرف نمبر  4   زندگی  آزمائش ہے ۔

 قمقمہ نمبر                    15

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃ َلِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاطوَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُلاo

ترجمہ:۔ ”اللہ نے پیدا کی موت اور زندگی تاکہ تم کو جانچے کون تم میں سے اچھا کام کرتا ہے“۔

(67 – الملک-  2)

قمقمہ نمبر  16

وَهُوَ الَّذِىْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْط اِنَّ رَبَّكَ سَرِيْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌعo

ترجمہ:۔ ”اور اسی نے تم کو نائب کیا ہے زمین پر اور بلند کر دیئے تم میں درجے ایک کے ایک پر تاکہ آزمائے تم کواس میں جو تم کو دیا اسں نے۔ بیشک آپ کا رب(عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ(مغفرت کے اُمیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے“۔

(6 –الانعام- 165)

قمقمہ نمبر 17

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَيُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاo ٧

ترجمہ:۔ ”اور ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کی رونق تاکہ جانچیں لوگوں کو کون ان میں اچھا کرتا ہے کام“۔

(18 –الکہف- 7)

قمقمہ نمبر 18

وَلَوْ شَآءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰ تٰىكُمْ فَٱسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِط اِلَى اللهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَلاo ٤٨

ترجمہ:۔ ”اور اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی دین پر کردیتالیکن تم کو آزمانا چاہتاہے اپنے دیئے ہوئے حکموں میں سو تم دوڑ کر لو   خوبیاں۔ اللہ کے پاس تم سب کو پہنچنا ہے   پھر جتا دے گا جس بات میں اختلاف تھا“۔

( 5 –المائدہ- 48)

قمقمہ نمبر 19

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِo

ترجمہ:۔ ”اور میں نے جو بنائے جِن اور آدمی سو اپنی عبادت کو“۔

(51 - الذاریات - 56)

قمقمہ نمبر 20

وَلَوْلَاۤ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِٱلرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَلاo ٣٣وَلِبُيُوْتِهِمْ اَ بْوَابًا وَّسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِـُٔوْنَلاo ٣٤وَزُخْرُفًاط وَاِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَـاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ط وَالْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ عo٣٥

ترجمہ:۔ ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ  ہو جائیں ایک دین پر تو ہم دیتے اُ ن  لوگوں کو جو منکر ہیں رحمن سے اُ ن کےگھروں کے واسطے چھت چاندی کی اور سیڑھیاں جن پر چڑھیں اور اُ ن کے گھروں کے واسطے دروازے اور تخت جن پر تکیہ لگا کر بیٹھیں اور سونے کے اور سب کچھ نہیں مگر متاع اس زندگانی کی اور آخرت تیرے رب کے ہاں انہیں کے لئے جو ڈرتے ہیں“۔

  (43 – الزخرف-35-33)

قمقمہ  نمبر 21

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌط وَاللهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِيْمٌo١٥

ترجمہ:۔”اور تمھارے مال اورتمھاری اولاد یہی ہیں جانچنے کو اور اللہ جو ہے اُ س کے پاس ہے ثواب بڑ ا“۔

(64 – التغابن-  15)

قمقمہ نمبر 22

قُلْ اِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ عo ٣٦وَمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِٱلَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤی اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَـالِحًاز ۔

ترجمہ:۔” تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کر دیتا ہے روزی جس کی چاہے اور ماپ کر دیتا ہے لیکن بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے اور تمھارے مال اور تمھاری اولاد وہ نہیں  کہ ہمارے پاس تمھارا درجہ نزدیک کریں   پر جو کوئی یقین لایااور بھلا کام کیا“۔

(    34 –السباء- 37-36)

قمقمہ  نمبر 23

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَتْقٰىكُمْ ط اِنَّ اللهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ١٣o

ترجمہ:۔ ”اے آدمیو! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمھاری ذاتیں اور قبیلے تاکہ آ پس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کی بڑی ہے جو پرہیزگار ہو۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا  خوب خبر رکھنے والا ہے۔“

  ( 49 –الجرات- 13)

قمقمہ  نمبر  2   4

فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗلا يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِٱلْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِلا o٣٦رِجَالٌلا لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَـارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيْتَآءِ الزَّكٰوةِ ص لا يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَـارُلا o ٣٧لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖط وَاللهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ o ٣٨

ترجمہ :۔” ان گھروں میں (یعنی مسجدوں میں) کہ اللہ نے حکم دیا اُ ن کو بلند کرنے کا  اور وہاں اُ س کا نام پڑھنے کا یاد کرتے ہیں اُسکی وہاں صبح اور شام وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے اللہ کی یاد سے تجارت میں اور نہ فروخت کرنے میں اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوۃ دینے سے ڈرتے رہتے ہیں اُس دن سے جس دن اُلٹ دیئے جائیں گے دل اور آنکھیں تاکہ بدلہ دے ان کو اللہ ان کے بہتر سے بہتر کاموں کا اور زیادتی دے اُ ن کو اپنے فضل سے اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بے شمار“۔    

(24-النور -38-36)

قمقمہ نمبر 25

ترجمہ ”اے ایمان والو !غافل نہ کر دیں تم کو تمھارے مال اور تمھاری اولاد اللہ کی یاد سے اورجو کوئی یہ کام کرے تو وہی لو گ ہیں خسارے میں“۔

قمقمہ نمبر 26

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللهِط وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِط 

ترجمہ:۔ ”اور بعض لوگ وہ ہیں جو بناتے ہیں اللہ کے برابر اوروں کو ان کی محبت ایسی رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ کی“۔

(2 –البقرہ- 165)

نوٹ:۔ ان اوروں میں دولت بھی ہو سکتی ہے جسے آج کل اللہ کے برابر درجہ دیا جا رہا ہے بلکہ اللہ کو بھولا جا رہا ہے۔

قمقمہ نمبر 27

وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُج۔

ترجمہ:۔”اللہ کھول دیتا ہے روزی جس کو چاہے اپنے بندوں میں اور تنگ کر دیتا ہے “۔

 (28 –القصص-  82)

 وَلَوْ بَسَطَ اللهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ وَلٰـكِنْ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ط اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌo ٢٧

ترجمہ:۔”اور اگر پھیلا دے اللہ روزی اپنے بندوں کی تو فساد اٹھاویں ملک میں لیکن اتارتا ہے ماپ کر جتنی چاہے وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا ہے دیکھتا ہے“۔

(42 – الشورٰی- 27)

قمقمہ نمبر28

فَاسْتَبِقُواالْخَیْرٰتِ طاِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ لاo

ترجمہ :۔”سو تم دوڑ کر لو خوبیاں تم سب کو اللہ کے پاس پہنچنا ہے پھر جتا دے گا جس بات میں تم کو اختلاف تھا“۔

(5 –المائدہ- 48)

قمقمہ نمبر 29

وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاطوَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَo

ترجمہ:۔ ”اور ہر ایک کے لئے درجے ہیں اُن کے عمل کے اور تیرا رب بے خبر نہیں اُن  کے کام سے“۔

(6 –الانعام- 132)

طرف نمبر5 جائز ضروریات جائز حد تک جائز مگرمشروط    ۔

قمقمہ نمبر30

کُلُوْا وَاشْرَبُوْامِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَo

ترجمہ:۔ ”کھا ؤ اور پیو اللہ کی روزی اور نہ پھرو ملک میں فساد مچاتے“۔

(2 –البقرہ- 60)

قمقمہ  نمبر31

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًاصلے ز وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ط اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ o١٦٨

ترجمہ :۔”اے لوگو! کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے حلال پاکیز ہ اور پیروی نہ کرو شیطان کی بے شک وہ تمھارا دشمن ہے صریح“۔

(2 - البقر ہ-   168)

قمقمہ  نمبر 32

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْاط اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَo ٨٧

ترجمہ:۔”اے ایمان والومت حرام ٹھہرا ؤوہ لذیز چیزیں جواللہ نے تمھارے واسطے  حلال کر دیں اور حد سے نہ بڑھو بے شک اللہ نہیں پسند کرتا حد سے بڑھنے والوں کو“۔

(5 –المائدہ-  87)

قمقمہ نمبر 33

وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ حَلٰلًا طَيِّبًا ص وَّاتَّقُوْا اللهَ الَّذِىْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَo ٨٨

ترجمہ:۔ ”اور کھاؤ اللہ کے دیئے ہوئے میں سے جو چیز حلال پاکیزہ ہو اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو“۔

(5 -  المائدہ-  88)

قمقمہ  نمبر 34

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللهِج فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ط اِنَّ اللهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ o١٧٣

ترجمہ :۔”اس نے تم پر یہی حرام کیا ہے مردہ جانور اور لہو اور گوشت سور کا اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی بے اختیار ہو جائے نہ تو نافرمانی کرے نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں بے شک اللہ ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان“۔

(2 –البقرہ- 173)

قمقمہ نمبر 35

وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاْکُلُوْامِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ۔

ترجمہ:۔ ”اور کیا سبب ہے کہ تم نہیں کھاتے اس جانور میں سے کہ جس پر نام لیا گیا ہے اللہ کا“۔

( 6 ۔الانعام۔ 119)

قمقمہ  نمبر 36

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَٱجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ٩oاِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ج فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَo ٩١

ترجمہ:۔ ”اے ایمان والو! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور تیروں سے فال نکالنا سب گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو   تاکہ تم نجات پاؤ شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیر شراب اور جوئے کے ذریعے سے اور روکے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے سو اَب بھی تم باز آؤگے“۔

(5 ۔ المائدہ-  91-90)

قمقمہ  نمبر 37

 وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ط كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍo ٦

ترجمہ:۔ ”اور کوئی نہیں چلنے والا زمین پر مگر اللہ پرہے اس کی روزی اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں“۔

(11 ۔ھود۔ 6)

قمقمہ  نمبر 38

 يٰبَنِىْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْۤا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَعo ٣١

ترجمہ:۔”اے اولاد آدم کی لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیو اور بے جا خرچ نہ کرو اُ س کو خوش نہیں آتے بے جا خرچ کرنے والے“۔

(7 ۔الاعراف- 31)

قمقمہ  نمبر             39

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللهِ الَّتِيۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط قُلْ هِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ط كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَo ٣٢قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْىَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِٱللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَo ٣٣

ترجمہ:۔ ”کہہ کس نے حرام کیا اللہ کی زینت کو جو اُ س نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی تو کہہ  یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں خالص انہیں کے واسطے ہیں قیامت کے دن۔ اسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اُ ن کے لئے جو سمجھتے ہیں تو کہہ دے میرے رب نے حرام کیا ہے صرف بے حیائی کی باتوں کو جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو جس کی اُ س نے سند نہیں اتار ی اور اس بات کو لگا ؤاللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں“۔

(7 -الاعراف - 33-32)

قمقمہ نمبر 40

اَللهُ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْج وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖج وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَجo ٣٢وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ج وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَجo ٣٣وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ط وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوْهَاط  اِنَّ الْاِنْسَـانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌعo ٣٤

ترجمہ:۔”اللہ وہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور اُ تارا آسمان سے پانی پھر اس سے نکالی اس سے روزی تمھاری میوے اور مسخر کی کشتی کہ چلےتمہارے واسطے دریا میں اُ س کے حکم سے اور تمھارے کام میں  لگایا ندیوں کو اور تمھارے کام میں لگایا سورج اور چاند کو ایک برابر دستور پر اور   تمھارے کام میں لگایا رات اور دن کو اور  جو کچھ کہ تم نے مانگا اُ س میں سے تم کو دیا    اور اگر گِنو اللہ کے احسان تو تم گِن نہ سکو   بے شک آدمی بڑا بے انصاف ہے نا شکرا“۔

(14 – ابراھیم- 34-32)

قمقمہ  نمبر  41

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَـارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ لاوَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ط وَرَهْبَانِيَّةً نِ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ج فَـاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ ج وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَo ٢٧

ترجمہ:۔”عیسٰی ابن مریم کو دی ہم نے انجیل اور رکھ دی اُ س کے ساتھ چلنے والوں کے دل میں نرمی اورمہربا نی اور رہبانیت (ترک کر دینا دنیا کا) اُ نہوں نے نئی بات نکالی ہم نے نہیں لکھا تھا یہ اُ ن پر مگر کیا اللہ کی رضامندی چاہنے کو پھر نہ نبھایا اُ س کو جیسے چاہیئے تھا نبھانا پھر دیا ہم نے اُ ن کو جو اُ ن میں سے ایماندار تھے اُ ن کا بدلہ“۔

   ( 57 – الحدید- 27)

طرف نمبر ۶  قرآنِ حکیم کے معاشی اصول   ۔

قمقمہ نمبر 42

قُلْ اِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ عo ٣٦وَمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِٱلَّتِيْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤی اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَـالِحًاز فَاُولٰٓئِکَ لَھُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَھُمْ فِي الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَo

ترجمہ:۔” تو کہہ میرا رب ہے جو کشادہ کردیتا ہے روزی جس کی چاہے اور ماپ کر دیتا ہے لیکن بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے اور تمھارے مال اور تمھاری اولاد نہیں ہیں کہ نزدیک کر دیں ہمارے پاس درجہ تمھارا“۔

    (34 –السباء-37-36)

 اِنَّ اللهَ يَاْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَالْاِحْسَـانِ وَاِيْتَآئِ ذِى الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَo

ترجمہ:۔”اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کو دینے کااور منع کرتا ہے بے حیائی سے   اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو“۔

 (16 ۔النحل۔  90)

قمقمہ  نمبر 43

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِٱلْبَـاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَـارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنكُمْ قف وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ ط اِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًاo ٢٩

ترجمہ:۔ ”اے ایمان والو! نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کے آپس میں ناحق مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے اور نہ خون کرو آپس میں بے شک اللہ تم پر مہربان ہے“۔

( 4 –النساء- 29)

قمقمہ نمبر 44

كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ  اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰ تُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ صلے ز وَلَا تُسْرِفُوْاط اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ لاo ١٤١

ترجمہ:۔”کھا ؤان کے پھل میں سے جس وقت پھل لاویں اور ادا کرو ان کاحق جس دن ان کو کاٹو اور بے جا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بے جا خرچ کرنے  والے“ ۔

  (6 –الانعام- 141)

قمقمہ نمبر 45

وَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃ َ وَاٰتُواالزَّکٰوۃ َ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَo

ترجمہ ”قائم رکھو نماز اور دیا کرو زکو ۃاور جھکو نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ“۔

 (2 –البقرہ-  43)

قمقمہ نمبر 46

وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَایُنْفِقُوْنَ طقُلِ الْعَفْوَطکَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ لاoفِي الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط۔

ترجمہ:۔”اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کہہ دیجئے جو بچے اپنے خرچ سے اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے واسطے تاکہ تم فکر کرو دنیا اور آخرت کی باتوں میں“۔

(2 ۔البقرہ- 219)

قمقمہ نمبر 47

مَاۤ اَفَآءَ اللهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِى الْقُرْبٰی وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ لا كَىْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ط وَمَاۤ اٰ تٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ج وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوْا اللهَ ط اِنَّ اللهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ مo ٧

ترجمہ:۔ ”تاکہ نہ دولت گردش کرتی رہے تمہارے دولت مندوں کے درمیان۔ جو مال لوٹایا اللہ نے اپنے رسول پر بستیوں والوں سے سو اللہ کے واسطے اور رسول کے واسطے اور قرابت والے اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافر کے واسطے تاکہ نہ کرتی رہے گردش تمہارے دولت مندوں کے ہاتھوں میں اور جو دے تم کو رسول لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو اور ڈرتیراہو اللہ سے بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے“۔

(59 –الحشر- 7)

قمقمہ  نمبر 48

مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ط وَاللهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ ط وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ٢٦١o

ترجمہ:۔ ”مثال اُ ن لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے کہ ایک دانہ اس سے اُ گیں سات بالیں ہر بال میں سو سو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے   جس کے واسطے چاہے اور اللہ بے حدبخشش کرنے والا ہے سب کچھ جانتا ہے“۔

(2 –البقرہ- 261)

قمقمہ نمبر 49

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ ط بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ط سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ط وَلِلهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌعo

ترجمہ:۔”اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو اللہ نے اُ ن کو دی ہے اپنے فضل سے کہ بخل بہتر ہے اُ ن کے حق میں بلکہ یہ بہت بُرا ہے اُ  ن کے حق میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا اُ ن کے گلوں میں وہ مال جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن اور اللہ وارث ہے آسمان اورزمین کا اور اللہ جو کرتے ہو سو جانتا ہے“۔

(3-آل عمران- 180)

قمقمہ  نمبر 50

وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط۔

ترجمہ:۔”اور دلوں کے سامنے موجود ہے حرص“۔

  (4 –النساء- 128)

قمقمہ نمبر 51

وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۤئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ جo

ترجمہ:۔ ”اور جو بچایا گیا اپنے جی کے لالچ سے   سو وہی لوگ ہیں مراد پانے والے“۔

(  59 -  الحشر- 9)

قمقمہ  نمبر 52

وَمَنْ يّبْخَلْ فَاِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖط وَاللهُ الْغَنِىُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ ۚ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ لا ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْۤا اَمْثَـالَكُمْ ٣عo٨

ترجمہ:۔”اور جو کوئی بخل کنجوسی کرے گا وہ بخل  کرے گا اپنی جان کے ساتھ اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم پھر جاؤ گے تو بدل لے گا اور لوگ تمھارے سوائے  پھر وہ نہ ہوں گے تمھاری طرح کے“۔    

(47 –محمد- 38)

قمقمہ  نمبر 53

يَمْحَقُ اللهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِىْ الصَّدَقٰتِ ط وَاللهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ o٢٧٦

ترجمہ:۔”مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کواوراللہ خوش نہیں کسی ناشکرے گنہگار سے“۔

(2 -البقر ہ-  276)

قمقمہ نمبر 54

وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا ق صلےاللهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ صلے ز وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ٦o

ترجمہ:۔ ”اور کتنے جانور ہیں جو اُ ٹھا نہیں رکھتے اپنی روزی اللہ روزی دیتا ہے اُ ن کو اور تم کو بھی اور وہی ہے سننے والا جاننے والا“۔

(     29 –العنکبوت- 60)

قمقمہ  نمبر 55

وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللهِلا فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍلاo٣٤يَّوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوْبُهُمْ وَظُهُوْرُهُمْ ط هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَo ٣٥

ترجمہ :۔”اور جو لوگ ذخیرہ کر کے رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کوخرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو اُ ن کو خوشخبری سنا دے دردناک عذاب کی جس دن کہ آگ دہکائیں گے اس مال پر دوزخ کی پھر داغیں گے اس سے اُ ن کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں۔(کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے گاڑ کر رکھا تھا اپنے واسطے اب چکھو مزہ اپنے گاڑنے کا“۔

(9 –التوبہ- 35-34 )

قمقمہ  نمبر 56

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لِيَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ  ج وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌo

ترجمہ:۔”جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس ہو جو کچھ زمین میں ہے سارا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہوتاکہ اپنے قیامت کے عذاب سے دیں بدلے میں تو ان سے قبول نہ ہو گا اور اُ ن کے واسطے عذاب ہے دردناک“۔

(5 –المائدہ- 36)

قمقمہ  نمبر57

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ لاo ١٥اٰخِذِيْنَ مَاۤ اٰ تٰىهُمْ رَبُّهُمْ ط اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِيْنَ ١٦طo كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَo ١٧وَبِٱلْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَo ١٨وَفِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ o١٩

ترجمہ ”اَلبَتَّہ اللہ سے ڈرنے والے باغوں میں ہیں اور چشموں میں لیتے ہیں جودیا اُن کو اُ ن کے رب سے وہ تھے اس سے پہلے نیکی والے وہ تھے رات کو تھوڑا سوتے اور صبح کے وقتوں میں معافی مانگتے اور ان کے مالوں میں حصہ تھا مانگنے والوں کا اور محروم لوگوں کا“۔

(51 – الذاریات-  19-15)

قمقمہ  نمبر 58

اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِىْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ط ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوام وَاَحَلَّ ٱللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَٱنْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَط وَاَمْرُهٗۤ اِلَى اللهِ ط وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۤئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَo ٢٧٥

ترجمہ: ۔”وہ لوگ کھاتے ہیں سود نہیں اٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اٹھتا ہے وہ    شخص کہ جس کے حواس کھو دیے ہوں جن  نے لپٹ کر یہ حالت اُن کی اس واسطے ہو  گی کہ اُ نہوں نے کہا کہ سوداگری بھی توایسی ہے جیسے سودلینا حالانکہ اللہ نے حلال کر دیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو  پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آ گیا تو جوکچھ سود لے لیا لے لیا اور معاملہ اس کا اللہ کے حوالے ہے اور جوکوئی پھر سود لیوے تو وہی ہیں دوزخ والے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے“۔

(2 -البقر ہ-  275)

قمقمہ نمبر              59

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِهٖج وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ جلَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَo ٢٧٩ وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍط وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ  اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo

ترجمہ:۔ ”اے ایمان والوؑ ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤ لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسول ﷺسے اور اگر توبہ کرتے ہو تو تمھارے واسطے ہے اصل مال تمھارا نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر“۔

(2 –البقرہ- 280-279)

قمقمہ  نمبر60

یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَاقٰتِ ط۔

ترجمہ:۔ ”مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو“۔

  (2 –البقرہ-   276 )

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ا تَّقُوْا اللهَ وَذَرُوْا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَo ٢٧٨

ترجمہ:۔ ”اے ایمان والو  ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا“۔ (2 – البقرہ- 278 )

قمقمہ نمبر 61

وَمَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا  فِيْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللهِج وَمَاۤ اٰتَيْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللهِ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَo ٣٩

ترجمہ:۔”اورجو دیتے ہو سود پر کہ بڑ ھتا رہے لوگوں کے مال میں سو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے یہاں اور جو دیتے ہو زکوۃ (پاک دل سے) چاہتے ہوئے رضا مندی اللہ کی۔ سو یہ وہی ہیں جن کے بڑھتے ہیں کئی گنا“۔

(30-الروم- 39)

قمقمہ نمبر62

وَاَمَّا مَنْ اُوْتِىَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖلا فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِى لَمْ اُوْتَ كِتٰبِيَهْجo ٢٥وَلَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْجo ٢٦يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَجo ٢٧مَاۤ اَغْنٰى عَنِّىْ مَالِيَهْ جo ٢٨هَلَكَ عَنِّىْ سُلْطٰنِيَهْجo ٢خُذُوْهُ فَغُلُّوْہُ لاoثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُ لاo٣١ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَٱسْلُكُوْهُطo ٣٢اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِٱللهِ الْعَظِيْمِ لاo٣٣وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ٣٤ طoفَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌ٣لاo٥وَلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍلاo ٣٦لَّا يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخٰطِـُٔوْنَعo ٣٧

ترجمہ:۔”اور جس کو ملا اُ س کا لکھا(ریکارڈ  قیامت کو) بائیں ہاتھ میں وہ کہتا ہے کیا  اچھا ہوتا جو مجھ کو نہ ملتا میرا لکھا۔(ریکارڈ)  اور مجھ کو خبر نہ ہوتی کہ کیا ہے حساب میرا  کسی طرح وہی موت ہی ختم کر جاتی۔کچھ  کام نہ آیا مجھ کو میرا مال برباد ہوئی مجھ سےحکومت میری(حکم ہو گا) اس کو پکڑو پھر طوق ڈالو پھر آگ کے ڈھیر میں اس کو لے جاؤ پھر ایک زنجیرمیں جس کا طول ستر گز ہے اس کو جکڑ دو۔ وہ تھا کہ یقین نہ لاتا تھا اُ س اللہ پر جوسب سے بڑا ہے اور تاکید نہ کرتا تھا فقیر کے کھانے پر سو کوئی نہیں آج یہاں اس کا دوستدار اور نہ کچھ ملے کھانا مگر زخموں کا دھوون کوئی نہ کھائے اسکو مگر وہی گناہگار“۔

(69 –الحاقہ-37-25)

فَاَمَّا مَنْ اُوْتِىَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْجo ١٩اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْجoفَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ لاo ٢١فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ لاo ٢٢ قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌo ٢٣كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِیْٓئًا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِo ٢٤

ترجمہ:۔ ”سو جس کو ملا اس کا لکھا (ریکارڈ قیامت کے روز) اس کے دہانے ہاتھ میں وہ کہتا ہے  لیجیو ؑ پڑھیو میرا لکھا (ریکارڈ) میں نے خیال رکھا اس بات کا کہ مجھ کو ملے گا میرا حساب سو وہ ہیں من مانی گذران میں اونچے باغ میں جس کے میوے جھکے پڑے ہیں کھا ؤ اور پیو رچ کر بدلہ اس کاجو آگے بھیج چکے ہو تم پہلے دنوں میں“۔

(69 – الحاقہ- 24-19)

طرف نمبر ۷  ایمان۔(دولت کی نہیں رب کی پرستش کرو)

قمقمہ نمبر 63

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ لاo ٢١الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءًص وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْج فَلَا تَجْعَلُوْا لِلهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo ٢٢وَاِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُورَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖص وَادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَo ٢٣فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَٱتَّقُوْا النَّارَ الَّتِيْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ صلے ج اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَo ٢٤

ترجمہ:۔”اے لوگو بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اوراُ ن کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جا ؤ (وہ رب) جس نے بنایا واسطے زمین کو بچھونااور آسمان کو چھت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے میوے تمھارے کھانے کے واسطے سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے قابل اور تم تو جانتے ہو اور اگر تم  شکر کرتے ہو اس کلام میں جو اتارا ہم نے اپنے بندہ  پر تو لے آ ؤایک سورۃ اس جیسی اور بلا ؤاس کو جو تمھارا مددگار ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو پھر اگر ایسا نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو پھر بچو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار کی ہوئی ہے کافروں کے واسطے“۔

 (2 –البقرہ- 24-21)

قمقمہ  نمبر 64

وَالْعَصْرِ لاo اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ حُسْرٍ لاo اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُواالصّٰلٰحِتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ عo

ترجمہ :۔”قسم ہے عصر کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر جو لوگ کہ ایمان  لائے اور کئے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی“۔

(103 – العصر-3-1)

وَاعْبُدُوْا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا  وَّبِٱلْوَالِدَيْنِ اِحْسَنًا وَّبِذِى الْقُرْبٰی وَالْيَتٰمٰی وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِى الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِٱلْجَنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِلا وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَـانُكُمْ ط اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرًا لاo٣٦

ترجمہ:۔”اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور ییتموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ“  ۔

 (4 –النساء- 36)

قمقمہ  نمبر 66

 

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِٱللهِ وَرَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِىْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَالْكِتٰبِ الَّذِىْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ط وَمَنْ يَّكْفُرْ بِٱللهِ وَمَلَـٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًاo ١٣٦

ترجمہ:۔  ”اے ایمان والو ؑ یقین لاؤ اللہ پر اور اُ س کے رسول ﷺپر اور اُ س کی کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے اور جو کوئی یقین نہ رکھے اللہ پر اور اُ س کے فرشتوں پر اور کتابوں پر اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر وہ بہک کردور جا پڑا“۔

(4 –النساء- 136)

قمقمہ  نمبر 67               

خلوص ایمان کی بنیاد ہے۔

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِٱللهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖـنَج وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَا بْنَ السَّبِيْلِلا وَالسَّآئِلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِج وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَج وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عَاهَدُوْاج وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِط اُولٰۤئِكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْاط وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَo ١٧٧

ترجمہ:۔”نیکی کچھ یہی نہیں کہ منہ کرو اپنا مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف لیکن بڑی نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اُ س کی محبت پر رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں غلاموں کی اور قائم رکھے نماز اور دیا کرے زکو ۃ اور پورا کرنے والے اپنے  اقرار کو جب عہد کریں اور صبر کرنے  والے سختی میں اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت یہی لوگ ہیں سچے اور یہی ہیں پرہیزگار“۔

(2 –البقرہ-   177)

قمقمہ نمبر 68

يٰۤايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِلا وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَo ٥٧قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْاط هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَo ٥٨

ترجمہ:۔”اے لوگو! تمھارے پاس آئی ہے    نصیحت تمھارے رب سے اور شفاء  دلوں کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت    مسلمانوں کے واسطے کہہ اللہ کے فضل سے  اور اس کی مہربانی سے سو اسی پر اُ ن کو خوش    ہونا چاہییے یہ بہتر ہے اُ ن چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں“۔

(10-یونس-58-57)

قمقمہ نمبر69

اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ صلے جo ٦٢ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ طo ٦٣لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ط لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللهِط ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ طo٦٤

ترجمہ:۔”یا د رکھوجو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے اُ ن پر نہ وہ غمگین ہوں گے جو کہ ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے اُ ن کے لئے ہے خوشخبری دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں بدلتی نہیں اللہ کی باتیں یہی ہے بڑی کامیابی“۔

(10 -یونس – 64-62)

قمقمہ 70

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِىَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللهِ شَيْـًٔا ط وَاُولٰۤئِكَ هُمْ وَقُوْدُ النَّارِلاo

ترجمہ :۔”بے شک جو لوگ کافر ہیں ہرگز کام نہ آویں گے اُ ن کو اُ ن کے مال اور نہ اُ ن کی اولاد اللہ کے سامنے کچھ اور وہی ہیں ایندھن دوزخ کا“۔

 (3 -آل عمران- 10  )

وَاَ مَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی لاo فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰى طo ٤١

ترجمہ:۔ ”اور جو کوئی ڈرارب اپنے سے اور روکا ہو اُ س نے جی کو خواہش سے سو بہشت ہی ہے اُ س کا ٹھکانہ“۔

(79 –النزعت- 40-41 )

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ط اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ط وَاتَّقُوْا اللهَطاِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ o١٢

ترجمہ :۔ ”اے ایمان والو!بچے رہوبہت تہمتیں کرنے سے بے شک بعض تہمت  گناہ ہے اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا اور برا نہ کہو پیچھے ایک دوسرے کو بھلا خوش لگتا ہے تم میں کسی کو کہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جو مردہ ہو سو گھن آتا ہے تم کو اس سے اور ڈرتے رہو اللہ سے“۔

(49 -الحجر ات-12)

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِنِ                    الَّذِىْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ   يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ   كَلَّا  لَيُنْۢبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ  وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ   نَارُ اللّٰہِ الْمُوْقَدَةُ   الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٔدَةِ   اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ   فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ   

ترجمsہ:  ۔”خرابی ہے ہر طعنہ دینے والے    عیب چننے والے کی جس نے سمیٹا مال اور گِن گِن کر رکھا خیال کرتا ہے کہ اس کا مال سدا کو رہے گا اس کے ساتھ کوئی نہیں   وہ پھینکا جائے گا اس روندنے والی حطمہ     میں اور تو کیا سمجھا کون ہے وہ روندنے  والی ایک آگ ہے اللہ کی سلگائی ہوئی    وہ جھانک لیتی ہے دلوں کو ان کو اس میں  موند دیا ہے لمبے لمبے ستونوں میں“  ۔

(  104 –الھمزہ-9-1)

تمت بالخیر

 

Gharoor Toot Jay ga by Ahmad Deen Ahmad