علمائے دین اور مشائخ کرام کا جمہوریت پسند تصور اوراسکاامت محمدیﷺ کے
کریکٹرو کردار پر اثرات
عنایت اللہ
اسلام ایک نور کا خزانہ ہے ۔ قرآن پاک اس نور کی قندیلوں سے بھرا پڑا ہے۔ پوری انسانیت کے لئے رشد و ہدائت کے چراغ اسی سے روشن ہوتے ہیں۔ اس کتاب مقدس کو علمائے دین پڑھانے ، سمجھانے اور ضابطہ حیات کی حدود و قیود سے مخلوق خدا کو آگاہی اور آشنائی کرواتے چلے آ رہے ہیں ۔ حضورﷺ کی سیرت و سنت کا درس ،علم اور عمل کی روشنی کی کر نیں عام کئے جاتے ہیں۔ اب بھی اس اجڑے گلستان میں قلیل سی تعداد میں بلبلیں نالۂ سود وزیاں ، چھیڑے اسلام کے نفاذ کے لئے عمل پیرا اور جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Read more: علمائے دین اور مشائخ کرام کا جمہوریت پسند تصور اوراسکاامت محمدیﷺ کےکریکٹرو کردار پر اثرات
جمہوریت‘کالے انگریز وں کی کالی انتظامیہ‘کالی افسر شاہی
عنایت اللہ
ایک صدی کی غلامی کے بعد ۱۹۴۷ ء کو پاک و ہند آزاد ہوا ۔ انگریز ہندوستان کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ان کے جانے کے بعد حکومتی نظم و نسق چلانے کے لئے پاکستان میںانگریزوں کے مروجہ طریقہ کار اور سسٹم کو جوں کا توں چلایا گیا۔ انگریز وائسرائے اور تمام ایوانوں پر فا ئز ان کے مشیر، وزیر، گورنراور تمام اعلیٰ سرکاری عہدوں پر متعین منتظمین ملک چھوڑ کر انگلینڈ واپس چلے گئے۔
Read more: جمہوریت‘کالے انگریز وں کی کالی انتظامیہ‘کالی افسر شاہی
سرزمین وطن کسان، محنت کش، ہنر مند، اور مظلوم عوام
عنایت اللہ
سرزمین پاکستان ، فطرت کاانمول عطیہ، اس خطہ میں پہاڑ، میدان، صحرا، سمندر کا حسین سنگم،جہاں چاروں موسموں کا دلکش منظر۔ جہاں نہریں، دریا، کنوئیں، ٹیوب ویل، ڈیم جہاں بارشوں کی شکل میں آسمان سے ابر رحمت کا نزول، جہاں زمین کے اندر ٹھنڈے میٹھے پانی کے بے پناہ ذخائر، جہاں پہاڑوں میں اگلتے چشموں کے پانی، جہاں ندی نالوں کا شور، جہاں موسموں کے گلے ملنے اور سرد گرم ہواؤں کے دلکش سماں، جہاں یہ فیاض دھرتی انسانوں، حیوانوں کے لئے بہترین ، عمدہ، لذیز ، تروتازہ خوراک اگلتی رہتی ہے ۔ جہاں جنت کے پھلوں اور میوہ جات کے تحفے میسر رہتے ہیں۔جہاں گائے، بھینسیں، اونٹ، بکریاں، دودھ کی نہریں جاری رکھتی ہیں۔ جہاں بادلوں کی سیاہ گھنگور گھٹائیں چھائے رہتی ہیں۔ جہاں ان کے گرجنے ، برسنے، چمکنے اور ہوا کے کندھوںپر اڑنے، جھولا جھولنے کے دلربا اور دلکش منظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ جہاں میٹھی پون کے جام چلیں، جہاں فضائیں معطر و مشفق ہوں، جہاں کیف و سرور میں مست فصلیں لہرائیں۔ جہاں سرسبز درختوں کی شاخیں جھومیں۔ جہاں چرند، پرند، صبح و شام حمد و ثناء کے میٹھے، سہانے راگ الاپیں۔جہاں بلبلیں دیپک کا راگ، جہاں کوئل ملہار ، جہاں خمرے اللہ ھو کی تانیں، اور چڑیاں چیں چیں کا ساز، چھیڑیں ۔ جہاں یہ توحید و رسالت کے پر کیف گیت الاپیں ۔ جہاں یہ اپنی اپنی تسبیح بارگاہ الٰہی میں پیش کریں۔ جہاں پتے وجد میں رقص کریں۔ جہاں ستارے نیلگوں آسمان پر چمکتے دمکتے نوری جلوے مہیا کریں۔ جہاں سناٹے ھو کا ذکر چھیڑے رکھیں۔ جہاں رات شب بیداروں کے لئے دلہن بن کر اپنی آغوش میں روح اور روحانیت کا ملاپ کرائے۔ جہاں مرد صحرائی اور مرد کوہستانی کے روحانی سوتے پھوٹیں۔
Read more: سرزمین وطن کسان، محنت کش، ہنر مند، اور مظلوم عوام
مجال نہ تھی ! مگر ۔۔۔۔۔۔
میں ان تمام دوستوں ، بھائیوں اور بزرگوں کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں۔ جنہوں نے میری اس پہلی کاوش ، (’’ آئینۂ وقت ‘‘ ) پر اپنے اپنے خیالات، جذبات، اور شریعت محمدی کے نفاذ کے لئے قلم اٹھایا۔ انہوں نے اپنے اپنے ذہنوں، دلوں اور روحوں میں اسلام کی محبت سے سرشار ، مخمور اور دیئے ہوئے جذبوں کو خوبصورت اور دلکش الفاظ کا پیرہن پہنا کر اس کتابچے کے حسن کو دوبالا کیا۔ ان کے یہ رنگا رنگ خیالوں کے پرندے بارگاہ رسالت کے گلستان میں محو ترنم نظر آ رہے ہیں۔
انگریز کے ۱۸۵۷ء کے قائم کردہ عدل و انصاف کے کالے ادارے اور ان کے کالے منصف
عنایت اللہ
عدل و انصاف کے ادارے کسی معاشرے کے اخلاقی، معاشی،معاشرتی اقدار اور اس کے نظام کو انصاف اور اعتدال پر قائم رکھنے کے بنیادی عنصر یا جزو ہوتے ہیں ۔ یہ عدلیہ کا ادارہ ظلم ، زیادتی ، نا انصافی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبہ میں تمام جرائم کو ختم کرنے اورہر قسم کے استحصال کوجڑ سے نکال پھینکنے کااہم فریضہ ادا کرتا ہے ۔ اس عدلیہ کے شعبہ کے منصف معاشرے میں ہر قسم کی برائی اور جرائم کو قانون کی تلوار سے نیست و نابود کرکے ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بناتے ہیں ۔ جن اقوام ، ممالک یا سوسائٹیوں نے عدل و انصاف اور بنیادی حقوق کے فطرتی تقاضوں کے تمام اصول و ضوابط قائم اور مروج کر رکھے ہیں ۔ اوران کا اطلاق معاشرے کے ہر فرد پریکساں اور بلاتمیز قائم کیا ۔ وہ اقوام ، ممالک اور سوسائٹی جو ا ن معاشرتی اقدار کے تقدس کو قائم رکھتی ہیں ۔ وہ دنیا میں مہذب، اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار یا سربراہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں۔ وہی اقوام دنیا میں معاشی طور پر خوشحال اور معاشرتی طور پر پرسکون اور پر امن ہوتی ہیں ۔ اور اسی بنا پروہ ترقی کی منازل طے کر کے دنیا کی اقوام میں اعلیٰ مقام حاصل کرتی ہیں۔جس کی وہ مستحق ہوتی ہیں۔
Read more: انگریز کے ۱۸۵۷ء کے قائم کردہ عدل و انصاف کے کالے ادارے اور ان کے کالے منصف