۱۹۴۷ ء کے طلباء کو خراج عقیدت اور ان کا پیغام آج
کے دور کے طالب علموں کے نام !
عنایت اللہ
پیارے طالب علمو ! اور آنے والی نسلوں کے وارثو !
السلام علیکم !
مسلمانانِ ہندکے پروانو ! اور آزادی کی خوبصورت و دلکش اداؤں کے محورو ! حسن و جمال ،مہر و محبت ، محنت و جفاکشی کے جگمگاتے ستارو او ر جواں سال گوہر حیات کے جانبازو ! چاک و چوبند ، انتھک ، محنتی ، جوانمردوں اور سرفروشوں کے ہراول دستو ! صفات و کردار کی اصل روح کے مالکو ! اقبالؔ ؒ کی ذرا نم والی مٹی کے شاہکارو ! قائد کے جذبوں کے عکاسو ! بردباری اور جراتوں کے پیکرو ! آپ کو کس کس نام سے پکاروں ! کیا کیا نام دوں ! جناب قائد اعظم ؒ کے پیارے اور لاڈلے طالب علمو ! آپ نے ان کی قیادت اور سربراہی میں آزادی کی جنگ پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے بڑے پر تپاک ا ور بڑے منظم انداز میں ہراول دستے کی حیثیت سے لڑی ۔ انگریز اور ہندو جیسی شاطر اور مکار اقوام سے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے لئے ایک الگ ریاست (پاکستان ) حاصل کرنا کوئی سہل کام نہ تھا ۔
Read more: ۱۹۴۷ء کے طلباء کو خراج عقیدت اور ان کا پیغام آجکے دور کے طالب علموں کے نام
دین کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی کردار سازی کا آغاز
عنایت اللہ
ملت اسلامیہ اس دور کے ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ جہاں مصائب اور آلام کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیر ا ہے۔ حالات و واقعات کی گھناونی بجلیاں اس پر گرجتی، گرتیں اور ہر وقت اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہیں۔ ان عبرت ناک اذیتوں نے پوری ملت کا انحطاط کر رکھا ہے۔ کبھی بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی چیچنیا میں جدید ترین اسلحہ سے انسانی زندگیوں ، بستیوں کی مکمل تباہی ، کبھی اسرائیل کے فلسطینیوں پر حملے، کبھی امریکہ کی عراق پر بمباری، کبھی ہندوستان کی سات لاکھ فوج کا کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور مسلمانوں کا قتل عام ، کبھی افغانستان پر امریکہ کے راکٹوں کے حملے ، کبھی لیبیا دہشت گرد، کبھی ایران دہشت گرد، کبھی افغانستان دہشت گرد، کبھی کشمیر دہشت گرد اور کبھی پاکستان دہشت گرد۔کبھی مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش ، کبھی انڈونیشیا کا حصہ عیسائیوں کی ملکیت، کبھی قبلہ اوّل پر یہودیوں کا قبضہ ، کبھی خانہ کعبہ پر مرحلہ وائز امریکہ کا قبضہ، اس وقت ملت اسلامیہ کمزوری ، ضعیفی ، مجبوری ، بے بسی اور بے کسی کی ذلالت کا زہر بڑی اذیتوں سے نگلنے پر مجبور ہے۔
Read more: دین کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی کردار سازی کا آغاز
جمہوریت کی اکیڈمی کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کالے انگریز۔کالا نظام ، کالا سسٹم
عنایت اللہ
جمہو ر ی طرز حکومت، مغرب کے دانش وروں، قانون دانوں، معیشت دانوں، ماہرین سماجیات اور عدل و انصاف کے مفکرین نے اپنے اپنے ممالک میں ایسا نظام وضع کیا جس میں انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ، معاشی اور معاشرتی اعلیٰ اقدار کو قوانین و ضوابط کی شکل میں ڈھالا۔ بہترین عدل و انصاف کے اصول وضع کئے ۔ انسانیت کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے اصولوں کو اپنایا۔ اعتدال اور مساوات کے الفاظ کی حرمت کی پاسداری کا خیال رکھا۔ قوم کو محنت اور تجسس کا شعور عطا کیا۔ملکی قوانین و ضوابط کی روشنی میں انتظامیہ اور عدلیہ نے اپنا اپنا منصفانہ کردار ادا کیا۔ ٹیکسوں کا نظام قائم کیا۔ ان کا اطلاق اس طرح منظم طور پر نافذ کیا۔ کہ کوئی شخص بھی اس توازن کو نہ توڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اس سے غفلت برت سکتا ہے۔ اس طرح عوام سے اکٹھی کی ہوئی دولت کا تصرف اجتماعی، فلاحی استعمال میں ایمان داری سے لانے کا بندوبست کیا۔
Read more: جمہوریت کی اکیڈمی کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ کالے انگریز۔کالا نظام ، کالا سسٹم
جمہوریت اور اس کا طبقاتی مروجہ تعلیمی نظام
عنایت اللہ
کسی بھی نظام حکومت کو چلانے کے لئے اس کی نظریاتی اساس کے مطابق ایک مخصوص قسم کے اعلیٰ منتظمین، لا جواب عدلیہ ا یماندار ماہرین اور دیانتدار، جفا کش، تجربہ کار بہترین ورکروں کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن کے تعاون ، معاونت، اور نگرانی میں ملک اور معاشرے کے تمام انتظامی اور عدل و انصاف کے امور کے اصول و ضوابط کومرتب اورمروج کیاجاتاہے۔اورانکی روشنی میںملک میںاعتدال۔ مساوات او ر عدل و انصاف ، کا میزان قائم کیا جا تا ہے۔ اور پھر انہی عمدہ اور بہترین اقدار پر مبنی ، معاشرہ تشکیل اور ترتیب پاتا ہے ۔ اگر کسی قسم کی کوئی کوتاہی، غلطی، یا کمی بیشی اس نظام کو چلانے میں پیش آ ئے اور دقت کا سبب یا رکاوٹ بنے۔ اس کو حسب ضرورت اچھے یا بہتر انداز میں بدل دیا جاتا ہے ۔ تا کہ ملک یامعاشرے میں کسی قسم کا ہیجان ، دشواری،بد نظمی ، مشکل یا انارکی نہ پھیلے ۔
آئینہ وقت دکھلاؤں تجھے؟
عنایت اللہ
۱۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ ء کو قرار دا د پاکستان منظور ہوئی۔ ۲۳ مارچ کا دن پاکستان کے مقدر سے وابستہ ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے اسی دن ایک ملک پاکستان کا تصور پیش کیا۔ جس کی بنیاد ی وجہ یہ تھی۔ کہ مسلمانوں کاطرز حیات ہندوؤں کے طرز حیات سے مختلف ہی نہیں بلکہ متضاد ہے۔ ہندوؤں کا مذہب ان کے پیرو کاروں کو اپنا طرز حیات سکھاتا ہے۔ اور مسلمانوں کا مذہب جس میںتوحید، رسالت، نماز، حج، اور زکوۃ شامل ہیں۔ ایک مختلف طرز حیات کی تربیت کرتا ہے۔ دین اسلام مسلمانوں کو اپنے مخصوص قوانین اور ضوابط کی روشنی میں انفرادی زندگی سے لے کراجتماعی زندگی گزارنے تک کے تمام تر آداب سکھاتا ہے۔ دونوں مذاہب کے بنیادی اصولوں کا اختصاری موازنہ درج ذیل ہے :۔